Explained with ayahs 59–62
نیک و بد علیحدہ علیحدہ کردیئے جائیں گے۔
فرماتا ہے کہ نیک کاروں سے بدکاروں کو چھانٹ دیا جائے گا، کافروں سے کہہ دیا جائے گا کہ مومنوں سے دور ہوجاؤ، پھر ہم ان میں امتیاز کردیں گے انہیں الگ الگ کردیں گے۔ اسی طرح سورة یونس میں ہے (ترجمہ) جس روز قیامت قائم ہوگی اس روز سب کے سب جدا جدا ہوجائیں گے۔ یعنی ان کے دو گروہ بن جائیں گے۔ سورة والصافات میں فرمان ہے (اُحْشُرُوا الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا وَاَزْوَاجَهُمْ وَمَا كَانُوْا يَعْبُدُوْنَ 22ۙ) 37۔ الصافات :22) یعنی ظالموں کو اور ان جیسوں کو اور ان کے جھوٹے معبودوں کو جنہیں وہ اللہ کے سوا پوجتے تھے جمع کرو اور انہیں جہنم کا راستہ دکھاؤ۔ جنتیوں پر جو طرح طرح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–60
سورة یٰسٓ 52
اس کے دو مفہوم ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ مومنین صالحین سے الگ ہوجاؤ، کیونکہ دنیا میں چاہے تم ان کی قوم اور ان کے کنبے اور برادری کے لوگ رہے ہو، مگر یہاں اب تمہارا ان کا کوئی رشتہ باقی نہیں ہے۔ اور دوسرا مفہوم یہ کہ تم آپس میں الگ الگ ہوجاؤ۔ اب تمہارا کوئی جتھا قائم نہیں رہ سکتا۔ تمہاری سب پارٹیاں توڑ دی گئیں۔ تمہارے تمام رشتے اور تعلقات کاٹ دیے گئے۔ تم میں سے ایک ایک شخص کو اب تنہا اپنی ذاتی حیثیت میں اپنے اعمال کی جواب دہی کرنی ہوگی۔
Read the full tafseer →(آیت) وامتاز وا الیوم ایھا المجرمون، میدان حشر میں اول جب لوگ اپنی قبروں سے اٹھیں گے تو سب گڈ مڈ منتشر ہوں گے، جیسا کہ قرآن میں فرمایا کانھم جواد منتشر، یعنی وہ منتشر ٹڈیوں کے دل کی طرح ہوں گے۔ مگر بعد میں ان کے گروہ گروہ اپنے اعمال کے اعتبار سے الگ کردیئے جائیں گے، کفار ایک جگہ مومن دوسری جگہ، فجار فساق الگ، صلحاء اور مقبول بندے الگ۔ جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا ہے (آیت) واذ النفوس زوجت یعنی جبکہ نفوس جوڑ جوڑ کردیئے جائیں گے۔ آیت مذکورہ میں بھی اسی امتیاز کا بیان ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–62
بریں مژدہ گرجاں فشانم رواست !
آیت 59۔ 62
اہل جنت کا حال بیان کرنے کے بعد اب یہ مجرموں کا حشر بیان ہو رہا ہے۔ ان کو حکم ہوگا کہ اے مجرمو ! دنیا میں تو تم میرے باایمان بندوں کے ساتھ ملے رہے ا لئے کہ دنیا دار لا امتحان تھی لیکن اب جزائے اعمال کا دن آگیا۔ اس وجہ سے اب تم میرے باایمان بندوں سے الگ ہو جائو اور اپنے اعمال کی سزا بھگتو۔ اب تمہاری دنیا الگ اور ان کی دنیا الگ ہے۔
’ الم اعھد الیکم یبی ادم الایۃ۔ ’ عھد ‘ کا صلہ جب ’ الی ‘ کے ساتھ آتا ہے تو اس کے معنی ضامن اور ذمہ دار بنانے کے ہوتے ہیں۔ مثلاً وعھدنا الی ابراھیم واسمعیل ان طھرابیتی للطائفین (البقرۃ : 125) (اور ہم نے ابراہیم و اسماعیل کو اس…
Read the full tafseer →59۔ 1 یعنی اہل ایمان سے الگ ہو کر کھڑے ہو۔ یعنی میدان محشر میں اہل ایمان و اطاعت اور اہل کفر و معصیت الگ الگ کردیئے جائیں گے، دوسرا مطلب یہ ہے کہ مجرمین کو ہی مختلف گروہوں میں الگ الگ کردیا جائے گا۔ مثلًا یہودیوں کا گروہ، عیسائیوں کا گروہ، صائبین اور مجوسیوں کا گروہ، زانیوں کا گروہ، شرابیوں کا گروہ وغیرہ وغیرہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–64
18: کشتی جیسی دوسری سواری کی تشریح عام طور سے مفسرین نے اونٹوں سے کی ہے، کیونکہ اہل عرب اونٹوں کو صحرا کا جہاز کہا کرتے تھے۔ لیکن قرآن کریم کے الفاظ عام ہیں جس میں کشتی کے مشابہ ہر طرح کی سواریاں داخل ہیں، بلکہ عربی قواعد کی رو سے آیت کا ترجمہ اس طرح بھی کیا جاسکتا ہے کہ : ہم نے ان کے لیے اسی جیسی اور چیزیں بھی پیدا کی ہیں جن پر یہ (آئندہ) سواری کریں گے۔ اس صورت میں وہ تمام سواریاں اس عبارت میں داخل ہوجاتی ہیں جو قیامت تک پیدا ہوں گی، مثلاً آبدوزیں، اور ہوائی جہاز جو اس لحاظ سے کشتی کے مشابہ ہیں کہ کشتی پانی پر تیرتی ہے، اور ہوائی جہاز ہوا پر تیرتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–64
وامتاز والیوم ایھا۔۔۔۔ بما کنتم تکفرون (59 – 64) “۔ ان لوگوں کی تواضع حقارت اور توہین سے کی جائے گی۔
وامتازوالیوم ایھا المجرمون (36: 59) ” اور اے مجرمو ، آج تم چھٹ کر الگ ہو جاؤ “۔ تم اہل ایمان سے دور ہو کر الگ ہوجاؤ۔
الم اعھد۔۔۔۔ عدو مبین (36: 60) ” آدم کے بچو ، کیا میں نے تم کو ہدایت نہ کی تھی کہ شیطان کی بندگی نہ کرو ، وہ تمہارا کھلا دشمن ہے “۔ ” آدم کے بچو ! “ کے الفاظ سے پکار کر ان کو شرمندہ کیا گیا ہے ، اس لیے کہ شیطان نے ان کے باپ کو جنت سے نکالا تھا ، اس کے باوجود تم اس کی بندگی کرتے ہو حالانکہ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔
وانہ اعبدونی ۔۔۔ مستقیم (36: 61) ” میری بندگی کرو ، یہ سیدھا راستہ…
Read the full tafseer →3 یعنی جنتیوں کے عیش و آرام میں تمہارا کوئی حصہ نہیں۔ تمہارا مقام دوسرا ہے جہاں رہنا ہوگا۔
Read the full tafseer →آیت 59 { وَامْتَازُوا الْیَوْمَ اَیُّہَا الْمُجْرِمُوْنَ } ”اور اعلان کیا جائے گا : اے مجرمو ! آج تم الگ ہو جائو۔“
پھر تمام کافر اور مشرک لوگوں کو چھانٹ کر الگ کرلیا جائے گا اور انہیں مخاطب کر کے پوچھا جائے گا :
Read the full tafseer →54 اس کے دو مطلب ہوسکتے ہیں ایک یہ کہ دنیا میں مجرم اور فرمانبردار سب ملے جلے رہتے ہیں اور ایسا ہی ممکن ہے کہ باپ مجرم اور بیٹا اللہ کا فرمانبردار ہو اور وہ ایک ہی جگہ رہتے ہوں۔ وہاں یہ صورت نہیں ہوگی۔ نہ وہاں نسب کا لحاظ ہوگا۔ بلکہ مجرموں کو حکم دیا جائے گا کہ وہ اللہ کے فرمانبرداروں سے الگ ہوجائیں اور جن لوگوں کا وہ دنیا میں مذاق اڑایا کرتے تھے بچشم خود دیکھ لیں کہ آج ان کو کیسی کیسی نعمتیں اور آرام مہیا ہیں۔ اور دوسرا یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ اے گروہ مجرمین ! تم باہم مل کر نہ رہو۔ بلکہ الگ الگ کھڑے ہوجاؤ۔ کیونکہ تم سے انفرادی طور پر ٹھیک ٹھاک باز پرس ہونے والی ہے۔
Read the full tafseer →40۔ (اہل ایمان سے) (آیت) ” المجرمون “۔ مجرموں سے مراد کفر وشرک کے مجرم ہیں۔ (آیت) ” الیوم “۔ سے ظاہر ہے کہ یوم حشر مراد ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–67
آیت نمبر 51 تا 67
ترجمہ : اور صور پھونکا جائے گا وہ (ایک) سینگ ہے، اور دوسرا صور زندہ کرنے کے لئے ہوگا اور دونوں نفخوں کے درمیان چالیس سال کا وقفہ ہوگا پھر جب وہ یعنی مردے قبروں سے نکل کر تیزی سے اپنے پروردگار کی طرف چلنے لگیں گے ان میں سے کافر کہیں گے، ہائے ہماری کمبختی یا تنبیہ کے لئے ہے ہائے ہماری ہلاکت، وَیْلٌ ایسا مصدر ہے کہ اس کا لفظی فعل نہیں آتا، کس نے ہم کو ہماری قبروں سے اٹھا یا ؟ اس لئے کہ وہ دونوں نفخوں کے درمیان سوئے ہوئے ہوں گے، ان کو عذاب نہ دیا جارہا ہوگا، یہ وہی (بعث) ہے جس کا رحمٰن نے وعدہ کیا تھا، اور رسول نے اس کے بارے میں سچ کہا تھا ایسے وقت اقرار کریں گے کہ ان کا اقرار…
Read the full tafseer →وامتازوا الیوم ایھا المجرمون . اور اے مجرمو ! آج الگ ہوجاؤ۔ مقاتل ‘ سدی اور زجاج نے کہا : یعنی صالحین
سے الگ ہوجاؤ۔ مطلب یہ ہے کہ مؤمنوں کو جنت کی طرف اور مجرموں کو دوزخ کی طرف بھیج دیا جائے گا۔
ضحاک نے کہا : ہر کافر کا دوزخ میں ایک گھر ہوگا جس میں وہ داخل ہوجائے گا اور داخلہ کے بعد آگ کے دروازہ ہمیشہ ہمیشہ کیلئے بند کردیا جائے گا ‘ نہ (اندر سے باہر) دیکھ سکے گا ‘ نہ اس کو دیکھا جاسکے گا۔
ابن جریر ‘ ابن ابی حاتم ‘ ابن ابی الدنیا اور بیہقی نے حضرت ابن مسعود کی روایت سے بیان کیا ہے کہ جب دوزخ کے اندر ان لوگوں کو جو ہمیشہ وہاں رہنے والے ہیں ‘ ڈال دیا جائے گا تو (اس کی صورت یہ ہوگی کہ) ان کو لوہے…
Read the full tafseer →اور اللہ تعالیٰ فرمائے گا اے کافرو آج کے دن علیحدہ ہوجاؤ چناچہ اللہ تعالیٰ ان کفار کو اہل ایمان سے جدا کردے گا۔
Read the full tafseer →وَامْتَازُوا الْيَوْمَ اَيُّهَا الْمُجْرِمُوْنَ : جنتیوں کی ہر لحاظ سے تکریم اور رب رحیم کی طرف سے سلام کے ذکر کے بعد بتایا کہ جہنمیوں سے کیا کہا جائے گا، یعنی ان سے کہا جائے گا کہ اے مجرمو ! تم جنتیوں سے الگ ہوجاؤ۔ دنیا میں بیشک تم اکٹھے رہے، مگر آج تمہارا ان سے کوئی تعلق نہیں رہا۔ چناچہ یہود و نصاریٰ ، مجوس اور مشرکین سب الگ ہوجائیں گے (دیکھیے یونس : 28۔ روم : 14 تا 16) اور جو جس کی پرستش کرتا تھا اس کے پیچھے چلا جائے گا، صرف موحد باقی رہ جائیں گے۔ دیکھیے سورة قلم کی آیت (42) (يَوْمَ يُكْشَفُ عَنْ سَاقٍ) کی تفسیر۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–59
حضرت ابن مسعود ‘ حضرت ابن عباس ‘ قتادہ ارمجاہد نے کہا : باکرہ عورتوں کے ساتھ حقوق زوجیت نے انہیں غافل کردیا ہوگا۔ ترمذی حکیم نے اپنی کتاب ” مشکل القرآن “ میں یہ روایت ذکر کی ہے کہ ہمیں محمد بن حمیدرازی نے انہوں نے یعقوب قومی سے انہوں نے حفص بن حمید سے انہوں نے شمسر بن عطیہ سے ‘ انہوں نے شفیق بن سلمہ سے انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے یہ روایت نقل کی ہے کہ باکرہ بیویوں سے حقوق زوجیت نے انہین مشغول کر رکھا ہو (1) ۔
محمد بن حمید ‘ ہارون بن مغیرہ سے وہ نہشل سے وہ ضحاک سے وہ حضرت ابن عباس ؓ سے اس کی مثل روایت کرتے ہیں۔
ابو قلابہ نے کہا : اسی اثنا میں کہ ایک جنتی اپنے اہل کے ساتھ مصروف ہوگا کہ…
Read the full tafseer →1:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ جب قیامت کا دن ہوگا تو اللہ تعالیٰ سب لوگوں کو ایک اونچے ٹیلے پر جمع فرمائیں گے پھر ایک آواز دینے والا آواز دے گا : اے مجرم لوگو ! آج کے دن الگ ہوجاؤ۔
2:۔ ابن ابی حاتم نے روادبن جراح (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ جب قیامت کا دن ہوگا تو ایک آواز دینے والا آواز دے گا کہ مسلمان کو مجرمین سے الگ کرلو مگر خواہشات پر چلنے والوں کو (الگ نہ کرو) یعنی خواہشات پر چلنے والے کو مجرموں کے ساتھ چھوڑ دیا جائے گا۔
3:۔ ابن ابی حاتم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے یہ آیت پڑھی (آیت) ” وامتازوالیوم ایھا المجرمون “ اور الگ ہو کر رونے لگے اور فرمایا کہ…
Read the full tafseer →وَامْتَازُوا الْيَوْمَ [اور تم لوگ الگ ہوجاؤ آج کے دن ] اَيُّهَا الْمُجْرِمُوْنَ [اے جرم کرنے والو ] ۔
Read the full tafseer →مجرمین سے خطاب اور ان کے عذاب کا تذکرہ
اہل جنت کا اکرام اور انعام بیان فرمانے کے بعد اہل دوزخ کی تباہی اور بربادی کو بیان فرمایا جو قیامت کے دن ان کے سامنے آئے گی۔ اول تو یہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا ان سے خطاب ہوگا کہ اے مجرمو ! آج تم علیحدہ ہوجاؤ، دنیا میں تم اہل ایمان کے ساتھ ملے جلے رہتے تھے اور قبروں سے نکل کر بھی میدان حشر میں اکٹھے جمع ہوئے ہو اب تم ان سے علیحدہ ہوجاؤ کیونکہ ان کو جنت میں جانا ہے اور تم کو دوزخ میں جانا ہے۔ (یہ آیت بہت زیادہ فکر مند بنانے والی ہے، حضرت امام ابوحنیفہ ؓ ایک مرتبہ پوری رات نفل نماز میں کھڑے رہے اور اسی آیت مبارکہ کو پڑھتے رہے) اس میں فکر کی بات یہ ہے کہ جس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–76
منکرین حشر ونشر کی تہدید اور وعید
قال اللہ تعالیٰ ویقولون متی ھذا الوعد۔۔۔ الی۔۔۔ انا نعلم ما یسرون وما یعلنون۔
(ربط) گذشتہ آیات میں زیادہ تر دلائل توحید کا ذکر تھا اور اس سے ذرا پہلے وان کل لما جمیع لدینا محضرون میں مسئلہ حشر ونشر کا ذکر تھا اب پھر مسئلہ حشرونشر کی طرف رجوع فرماتے ہیں اور ان کا ایک سوال نقل فرماتے ہیں ویقولون متی ھذا الوعد ان کنتم صدقین : یعنی یہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ قیامت کا وعدہ کب پورا ہوگا اللہ تعالیٰ نے اس کے جواب میں اس کے وقت کے اظہار سے مصلحۃً اعراض فرمایا اور اجمالی طور پر صرف اتنا بتا دیا کہ قیامت نا گہاں آئے گی جب لوگ اپنے کاروبار میں مصروف ہوں گے ناگہاں صور پھونکا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–59
36:۔ وامتازو الخ :۔ یہ اہل جنت کے مقابلے میں اہل جہنم کا ذکر ہے اور تخویف اخروی ہے۔ میدان حشر میں کفار و مشرکین کو علی رؤوس الخلائق حکم ہوگا اے مجرمو ! نیک لوگوں سے الگ ہوجاؤ اور ایک طرف اپنی صفیں بنا لو۔ الم اعہد الخ، کفار و مشرکین کی حسرت و ندامت میں اضافہ کرنے کے لیے ان سے کہا جائے گا۔ اے اولادِ آدم ! کیا میں نے اپنے پیغمبروں کی وساطت سے تمہیں یہ پیغام نہیں دیا تھا کہ شیطان کی پیروی نہ کرنا اور اس کے فریب میں آ کر میرے ساتھ شرک نہ کرنا۔ کیونکہ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے اور صرف میری ہی عبادت کرنا اور میری عبادت اور پکار میں کسی کو شریک نہ کرنا اور کسی کو میرے یہاں شفیع غالب نہ سمجھنا۔ اعبدونی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–59
ربط آیات
اپنی آیات قدرت بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے کفار و مشرکین کی مذمت بیان فرمائی اور یہ بھی کہ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ آگے پیش آنے والے حالات کے لیے کچھ تیاری کرلو ، اور جو اعمال پیچھے چھوڑ آئے ہو ان کے متعلق بھی غور و فکر کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے تو یہ لوگ نشانات قدرت دیکھ کر بھی ایمان نہیں لاتے بلکہ الٹا اعتراض کرنے لگتے ہیں۔ پھر اللہ نے ان میں سے مالداروں کی حالت کا ذکر بھی کیا کہ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ کی عطا کردہ روزی میں سے غرباء اور مساکین پر بھی خرچ کرو تو کہتے ہیں کہ جن کو خود خدا تعالیٰ بھوکا رکھنا چاہتا ہے یعنی ان کو نادار بنایا ہے ، بھلا ہم ان کی اعانت کریں۔ اللہ…
Read the full tafseer →وَامْتَازُوا الْيَوْمَ اَيُّہَا الْمُجْرِمُوْنَ 59
ميز
المَيْزُ والتَّمْيِيزُ : الفصل بين المتشابهات، يقال : مَازَهُ يَمِيزُهُ مَيْزاً ، ومَيَّزَهُ تَمْيِيزاً ، قال تعالی:
لِيَمِيزَ اللَّهُ [ الأنفال/ 37] ، وقرئ : لِيَمِيزَ اللَّهُ الْخَبِيثَ مِنَ الطَّيِّبِ والتَّمْيِيزُ يقال تارة للفصل، وتارة للقوّة التي في الدّماغ، وبها تستنبط المعاني، ومنه يقال : فلان لا تمييز له، ويقال : انْمَازَ وامْتَازَ ، قال : وَامْتازُوا الْيَوْمَ [يس/ 59] وتَمَيَّزَ كذا مطاوعُ مَازَ. أي : انْفَصَلَ وانْقَطَعَ ، قال تعالی: تَكادُ تَمَيَّزُ مِنَ الْغَيْظِ [ الملک/ 8] .
( م ی ز ) المیر والتمیز کے معنی متشابہ اشیاء کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–61
فقال ان اصحب الجنۃ الخ کہ نیک لوگ بہشت میں عیش و آرام کریں گے۔ یہ جنت جسمانی کی طرف اشارہ تھا۔ سلم قولاً من رب رحیم یہ روحانی جنت کی طرف اشارہ ہے کہ اللہ کی طرف سے ان کو سلام پہنچے گا۔ ان پر تجلی ہوگی اور دیدار سے سرفرازی بخشی جاوے گی جو سرور ابدی ہے۔ اس کے بعد بدوں کا حال بیان فرماتا ہے۔ وامتازوا الیوم کہ مجرموں کو سزا دینے کے لیے جماعت سے الگ کردینے کا حکم ہوگا اور ان کو ملامت کی جاوے گی کہ دیکھو ہم نے تم سے کہلا بھیجا تھا کہ شیطان کا کہنا نہ ماننا، وہ تمہارا صریح دشمن ہے اور خاص میری عبادت کرنا یہ سیدھا رستہ ہے، مگر تم نے نہ مانا، آج اس بلا میں گرفتار ہوئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–62
وَامْتَازُوا الْیَوْمَ اَیُّھَا الْمُجْرِمُوْنَ ۔ اَلَمْ اَعْہَدْ اِلَیْکُمْ یٰـبَنِیْٓ اٰدَمَ اَنْ لاَّ تَعْبُدُوا الشَّیْطٰنَ ج اِنَّـہٗ لَـکُمْ عَدُوٌّمُّبِیْنٌ۔ وَّاَنِ اعْبُدُوْنِیْ ط ھٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ۔ وَلَقَدْ اَضَلَّ مِنْـکُمْ جِبِلاًّ کَثِیْرًا ط اَفَلَمْ تَـکُوْنُوْا تَعْقِلُوْنَ ۔ (یٰسٓ: 59، 62)
(اور اے مجرمو ! آج الگ ہوجاؤ۔ اور اے آدم کے بیٹو ! کیا میں نے تم کو ہدایت نہ کی تھی کہ شیطان کی بندگی نہ کرو، بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔ اور یہ کہ میری ہی بندگی کرو، یہ سیدھا راستہ ہے۔ اور اس نے تم میں سے ایک بڑی مخلوق کو گمراہ کردیا، تو کیا تم عقل نہیں رکھتے۔ )
مجرموں کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–59
فہم القرآن
ربط کلام : جنتیوں کو جنت میں داخل کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ کا جہنمیوں کو خطاب۔
محشر کے میدان میں جہنمیوں کو جنتیوں سے الگ کردیا جائے گا۔ بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ اس موقعہ پر جہنمیوں کو ان کے جرائم کے مطابق گروہوں میں تقسیم کردیا جائے گا۔ قرآن مجید کی دوسری آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ اگلے مرحلے میں ہوگا۔ کیونکہ قرآن مجید کا سیاق وسباق بتلا رہا ہے کہ اس موقعہ پر تمام جہنمیوں کو اجتماعی خطاب ہوگا جس میں رب ذوالجلال انہیں وہ عہد یاد دلائیں گے جو عالم ارواح میں پوری بنی نوع انسان سے لیا تھا۔
” اور جب آپ کے رب نے آدم کے بیٹوں سے ان کی پشتوں میں سے ان کی اولاد کو نکالا اور انہیں خود ان کی…
Read the full tafseer →کافر و مومن کی علیحدگی :
59: وَامْتَازُوا الْیَوْمَ اَیُّھَا الْمُجْرِمُوْنََ (اے مجرمو ! آج الگ ہوجائو) ۔ مجرمو ! مؤمنین سے الگ ہوجائو۔ یہ اس وقت ہوگا۔ جب میدان محشر میں مؤمنوں کو جنت کی طرف لے جایاجائے گا۔
قولِ ضحاک :
ہر کافر کا جہنم میں ایک گھر ہوگا جس میں وہ رہے گا۔ نہ وہ کسی کو ہمیشہ کیلئے دیکھ پائے گا اور نہ اس کو کوئی دیکھے گا۔ قیامت کے دن کفار کو کہا جائے گا۔
Read the full tafseer →59، وامتازوا الیوم ایھا المجرمون ، مقاتل کا قول ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ صالحین سے الگ ہوجاؤ۔ ابو العالیہ فرماتے ہیں کہ ان کو ممیز کردیں گے اور سدی کا قول ہے وہ سب اعلیٰ ہوجائیں گے۔ زجاج کا قول ہے ۔ آج وہ مؤمنین سے جدا ہوجائیں گے۔ ضحاک نے کہاہر کافر کا دوزخ میں ایک گھر ہوگا جس میں وہ داخل ہوجائے گا اور داخلہ کے بعد آگ کا دروازہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بندہوجائے گا، نہ اس کو دیکھ سکے گا اور نہ اس کو دیکھا جاسکے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–64
54 تا 64۔ اوپر دوسرے صور کی آواز سن کر اللہ تعالیٰ کے روبرو حاضر ہوجانے کا ذکر تھا اب اس کے نتیجے کا ذکر فرمایا۔ صحیح مسلم کے حوالہ سے ابوذر ؓ کی روایت سے حدیث قدسی کئی جگہ گزر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ظلم اپنی ذات پاک پر حرام کرلیا ہے اسی واسطے فرمایا کہ قیامت کے دن کسی پر کچھ ظلم نہ ہوگا مطلب یہ ہے کہ نیکیوں کے ثواب میں کمی نہ ہوگی اور بدی کی سزا جرم کی حیثیت سے بڑھ کر نہ دی جاویگی اب آگے جنتیوں اور دوزخیوں کا ذکر فرمایا کیوں کہ دنیا کا پیدا ہونا اور حشر کا قائم ہونا سب اسی نتیجہ کے لیے تھا۔ جنتیوں کے حال کا خلاصہ یہ ہے کہ وہ اور ان کی بیبیاں طرح طرح کی نعمتوں کے مشغلہ میں لگے ہوئے ہوں گے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–67
آیت 59
اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہل تقویٰ کی جزا کا ذکر کرنے کے بعد مجرموں کی سزا بیان کی ہے۔ (و) ” اور “ ان کو قیامت کے ورز کہا جائے گا : (امتا زوا الیوم ایھا المجرمون) اے مجرمو ! تم الہ ایمان سے الگ ہوجاؤ۔ یہ حکم اس لئے ہوگا تاکہ اللہ تعالیٰ انہیں جہنم میں داخل کرنے سے قبل برسر عام زجر و توبیخ کرے اور ان سے کہے : (الم اعھد الیکم) یعنی کیا میں نے اپنے رسولوں کے ذریعے سے تمہیں حکم نہیں دیا تھا اور تمہیں وصیت نہیں کی تھی اور تم سے یہ نہیں کہا تھا : (آیت) ” اے آدم کی اولاد ! شیطان کی عبادت نہ کرنا۔ “ یعنی اس کی اطاعت نہ کرو، یہ زجر و توبیخ ہے اور اس میں ہر قسم کے کفر و معصیت پر زجر و توبیخ داخل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–67
قول باری ہے (وخلقنا لھم من مثلہ ما یرکبون اور ہم نے ان کے لئے اسی کشتی جیسی چیزیں اور بھی پیدا کی ہیں جس پر یہ سوار ہوتے ہیں) حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے ” یعنی حضرت نوح (علیہ السلام) کی کشتی کے بعد دوسری کشتیاں “۔ حضرت ابن عباس ؓ سے ایک اور روایت بھی ہے اور مجاہد سے بھی کہ اونٹ خشکی کے جہاز ہیں۔
Read the full tafseer →59 حشر میں مجرموں کے حال کا ذکر وبیان : اہل جنت کا حال بیان کرنے کے بعد اب مجرموں کا حشر اور ان حال بیان فرمایا جا رہا ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " فیصلے کے اس دن حکم ہوگا کہ الگ ہوجاؤ اب تم اے مجرمو ! "۔ یعنی اہل ایمان سے کہ دنیا میں اگرچہ تم ان کے ساتھ رہتے بستے اور چلتے پھرتے رہے کہ وہ دارالامتحان تھا جس کا تقاضا یہی ہوتا ہے۔ مگر اب فصل وتمیز کے اس دن میں تم ان سے الگ ہوجاؤ کہ یہ دارالجزاء ہے۔ یہاں تمہارا انجام الگ ہے، ان کا الگ۔ ان کا ٹھکانا جنت ہے اور تمہارا دوزخ۔ نیز الگ ہوجانے کے حکم میں یہ بھی داخل ہے کہ اب تم اپنی وہ تمام جماعتیں، گروپ اور دھڑے چھوڑ دو جو تم نے دنیا میں قائم کر رکھے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–74
حشر کا میدان اور نیک و بد کا انجام
تشریح : یہاں کفار مکہ کا اور آج کل کے ملحد وغیرہ لوگوں کا ذکر ہے کہ وہ قیامت کو ناقابل یقین سمجھتے ہوئے کہتے ہیں کہ کب آئے گی قیامت ؟ قیامت جب آئے گی تو اتنی اچانک اور شدید ہوگی کہ کسی کو سمجھ میں ہی نہ آئے گا کہ کیا ہوگیا ہے۔ قیامت سے پہلے چھوٹی قیامت یں اور ہلکے پھلے عذاب تو انسانوں کی نافرمانی کی وجہ سے آتے رہتے ہیں جن کا مقصد انسانوں کو جھنجھوڑنا ہوتا ہے۔ کہیں طوفان بادو باراں، کہیں زلزلہ اور کہیں کسی دوسری شکل میں آفات ارضی و سماوی۔ اسی طرح بڑی اور فیصلہ کن قیامت پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی مگر یہ بھی صرف اس دنیا کی قیامت ہوگی پوری کائنات قائم و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–67
رکوع نمبر 4 ۔ آیات 51 تا 67:
اسرار و معارف :
چنانچہ جب دوبارہ صور پھونکا جائے گا تو اپنی اپنی قبروں سے اٹھ کر اللہ کے حضور چل پڑیں گے یعنی وہ ایسا قادر ہے کہ ایک چنگھاڑ سے ہر شے تباہ کردے گا تو پھر ایک چنگھاڑ یا سخت آواز ہی سب مردہ جسموں کے ذرات کو یکجا کرکے زندہ بھی کردے گی اور ہر فرد چاہے یا نہ چاہے مگر رواں اللہ کی بارگاہ کی طرف ہی ہوگا جہاں سب کی پیشی ہوگی تب پریشان حال یہ کہہ رہے ہوں گے کہ ہمیں کس نے اٹھا دیا اگرچہ برزخ میں بھی کفار عذاب میں ہوں گے۔ مگر میدان حشر کی ہیبت کے سامنے کہیں گے یہاں سے وہاں ہی ٹھیک تھے یہ کس نے ہمیں ان ٹھکانوں سے نکال کھڑا کیا ہے تو جواب آئے گا فرشتے یا مومنین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–59
ف 9 یعنی ان سے ہٹ کر کھڑے ہو تمہارا ان سے کوئی تعلق نہیں رہا۔ یا ( آپس میں ایک دوسرے سے) الگ ہوجائو “۔ چناچہ یہود و نصاریٰ ، مجوس اور مشرک سب ایک دوسرے سے الگ ہوجائیں گے۔ ( دیکھئے روم : 14، یونس 28)
Read the full tafseer →(36:59) امتازوا۔ امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر امتیاز (افتعال) مصدر، جس کے معنی الگ ہونے اور ممیز ہوجانے کے ہیں۔ تم الگ ہو جائو۔ یعنی اوپر جو اہل جنت اور ان کے انعامات کا ذکر ہے اب مجرموں سے مخاطب ہو کر فرمایا جا رہا ہے۔ اے مجرمو ! تم ادھر الگ آجائو۔
الیوم۔ آج۔ آج کے دن ۔ منصوب بوجہ مفعول ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–68
لغات القرآن : آیت نمبر 55 تا 68 :۔ شغل ( مشغلے) فکھون ( دل لگی کرنے والے) متکون (تکیہ لگا کر بیٹھنے والے) یدعون ( وہ پکاریں گے ، خواہش کریں گے) امتازوا ( تم الگ ہو جائو) جبلا ( جماعت ، لوگوں کا گروہ) نختم ( ہم مہر لگا دیں گے) افواہ ( فوہ) (منہ) تشھد ( گواہی دیں گے) طمسنا ( ہم سجھائی دیتے) مضیا (چلنا) نعمرہ ( ہم زیادہ عمر دیتے ہیں اس کو) ننکسہ ( ہم اوندھا کردیتے ہیں اس کو)
تشریح : آیت نمبر 55 تا 68 :۔ جہنم والوں کی سزا بیان کرنے کے بعد اب جنت والوں کی جزا اور بدلہ کا بیان کیا جا رہا ہے کہ اہل جنت کس قدر خوش و خرم اور اللہ کی نعمتوں سے لطف اندوز ہو رہے ہوں گے ۔ جنت کیا ہے ؟ اس دنیا میں رہ کر اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–64
جنتیوں اور دوزخیوں کا انجام۔
(ف 2) ان آیتوں میں جنتیوں اور دوزخیوں کا ذکر فرمایا ، کیونکہ دنیا کا پیدا ہونا اور حشر کا قائم ہونا سب اسی کا نتیجہ کے لیے تھا جنتیوں کے حال کا خلاصہ یہ ہے کہ وہ اور ان کی بیبیاں طرح طرح کی نعمتوں کے مشغلہ میں لگے ہوئے ہوں گے جنت کے مکانوں اور درختوں کے سایہ کی ٹھنڈک میں چھپڑ کھٹوں کے گدوں ، یا ان کے فرشوں پر تکیہ لگائے ہوئے بیٹھے ہوں گے اور طرح طرح کے میوے اور جس چیز کو ان کو جی چاہے گا وہ سب کچھ وہاں موجود ہوجائے گا، اور ان کو پروردگار کی طرف سے السلام علیکم فرمایا جائے گا اور جس وقت کہ مسلمان اور گناہ گار جمع ہوں گے اس وقت اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائے گا کہ اے گناہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–59
[20] یعنی قیامت ناگہاں آن پڑے گی اور لوگ اپنے معاملات میں غرق ہوں گے۔ جس وقت پہلے صور کی چنگھاڑ بلند ہوگی تمام انسان مر کر ڈھیر ہوجائیں گے۔ ان کو اتنی بھی فرصت نہ ملے گی کہ مرنے سے پہلے کسی کو کچھ کہنا چاہیں تو کہہ گزریں، یا جو گھر سے باہر تھے وہ گھر واپس جاسکیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–64
ف 1: جنت والوں کی زندگی کا جو نقشہ کھینچا اس کا مطلب محض یہ ہے کہ وہ ہر طرح بہترین حالت میں ہوں گے ۔ اور کلفتوں اور مصیبتوں سے آزاد ہوں گے ۔ اس دن ان میں اور مجرموں میں ایک قسم کا امتیاز ہوگا ۔ کہا جائے گا ۔ چونکہ تم لوگوں نے خدا کی پرستش نہیں کی ہے ۔ اور دنیا میں شیطان کی پیروی کو اپنا شعار بنایا ہے ۔ اس لئے آج تمہاری یہ سزا ہے ۔ کہ جہنم میں اپنا مسکن بناؤ
حل لغات :۔ فاذاھم ۔ مفاجاۃ کے لئے ۔ یعنی غیر متوقع ۔ یکایک الارائک ۔ الغی کہ کی جمع ہے ۔ بمعنی تخت ہائے آراستہ ۔
Read the full tafseer →(59) اور اے مجرمو ! تم آج کے دن جدا ہو جائو۔ یعنی میدان محشر میں جب مومنین کو جنت میں داخل کرنے کا حکم ہوگا تو گناہگاروں کو حکم دیا جائے گا کہ تم الگ ہو جائو آج کے دن اے مجرمو ! یعنی مومنین سے الگ ہو جائو کیونکہ ان کو جنت میں بھیجنا ہے اور تمہارا ٹھکانا دوزخ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–60
ف 7۔ کیونکہ ان کو جنت میں بھیجنا ہے اور تم کو دوزخ میں۔
Read the full tafseer →یہ وہ دن ہے کہ مجرموں کو ان پاکبازوں سے بالکل الگ کردیا جائے گا :
59۔ اہل جنت کے ہاتھ میں تو جنت کے انعامات ہوں گے اور وہ جتنے جتنے حصے کے مالک اور وارث قرار پائیں گے وہ ان انعامات میں بہت خوش وخرم ہوں گے لیکن مجرموں کو تو ان اہل جنت سے الگ کردیا جائے گا اس لیے کہ مجرم تو جنت کی خوشبو بھی نہیں سونگھ سکیں گے ہاں ! ان کی آنکھیں ان کا ضرور نظارہ کرتی ہوں گی لیکن اہل جہنم کے سارے گروہوں کو بھی الگ الگ کردیا جائے گا تاکہ جو کوئی جس حصہ جہنم میں سزا پانے کے قابل ہوگا اس حصہ میں اس کو ڈالا جاسکے اور یہ بھی کہ اہل جہنم میں سے وہ بھی ہیں جن کو ایک مدت عذاب میں مبتلا رکھنے کے بعد نکالا جائے گا لہذا ان…
Read the full tafseer →In verse 59, it was said: وَامْتَازُوا الْيَوْمَ أَيُّهَا الْمُجْرِمُونَ (And get apart (from the believers) today 0 the guilty ones.- 36:59) On the plains of the Resurrection, initially when people rise from their graves, they will be scattered all mixed up as said in the Qur'an: كَأَنَّهُمْ جَرَادٌ مُّنتَشِرٌ- (kaannahum jaradum-muntashir: as if they are scattered locusts - Al-Qamar, 54:7). But, later on, group by group, they will be separated in terms of their deeds - disbelievers at one place and the believers, at another, and sinners at one place and the righteous and the accepted, at…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–60
52 This can have two meanings:(1) "Get you apart from the righteous believer:, for in the world even if you belonged to the same community and the same clan and the same brotherhood, here you have no connection and relationship left with them;" and (2) "get you apart from one another: now you can no longer remain a group: all your parties have been disbanded: all your relations and connections have been severed. Now each of you will be held answerable in your personal capacity for your actions and deeds."
Read the full tafseer →