Yaseen 36:58

Yaseen · from ayah 58

36:58

سَلٰمٌ ۫— قَوْلًا مِّنْ رَّبٍّ رَّحِیْمٍ ۟سَلٰمٌ قَوۡلًا مِّنۡ رَّبٍّ رَّحِيۡمٍ

پروردگار مہربان کی طرف سے سلام (کہا جائے گا)

— Fateh Muhammad Jalandhari

[And] "Peace," a word from a Merciful Lord.

— Saheeh International

Juz 23 · Ruku 4 of surah · Ruku 3 of juz

Read the whole surah · Surah Yaseen

All translations of 36:58

رب رحیم کی طرف سے ان کو سلام کہا گیا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

پروردگار مہربان کی طرف سے سلام (کہا جائے گا)

— مولانا فتح محمد جالندہری

مہربان پروردگار کی طرف سے انہیں سلام کہا جائے گا

— مولانا محمد جوناگڑہی

رحمت والے پروردگار کی طرف سے انہیں سلام کہا جائے گا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

ان پر سلام ہوگا، مہربان رب کا فرمایا ہوا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(تم پر) سلام ہو، (یہ) ربِّ رحیم کی طرف سے فرمایا جائے گا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

سلام ہو۔ اس رب کی طرف سے کہا جائے گا جو بےحد مہربان ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

مہربان پروردگار فرمائے گا (تم پر) سلامتی ہو۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

ان کو سلام کہلایا جائے گا پروردگارِ رحیم کی طرف سے !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

(مزید ایک اور بڑا انعام ان کے لئے یہ ہوگا کہ) ان کو سلام کہا جائے گا رب رحیم کی طرف سے

— مولانا اسحاق مدنی

سلام انہیں کہا جائے گا پروردگار مہربان کی طرف سے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

سلام کہا جائے گا ربّ ِرحیم کی طرف سے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

رب مہربان کی طرف سے سلام کہا جائے گا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

“Peace” shall be the word conveyed to them from their Merciful Lord.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

:Salam (Peace upon you) is the word (they receive) from Merciful Lord.

— Muhammad Taqi Usmani

:Salam (Peace upon you) is the word (they receive) from Merciful Lord.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

(It will be said to them): "Salam (Peace!)" -- a Word from the Lord, Most Merciful.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

The word from a Merciful Lord (for them) is: Peace!

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

[And] "Peace," a word from a Merciful Lord.

— Saheeh International

"Peace be with you," will be a greeting for them from the Merciful Lord.

— Muhammad Sarwar

Peace: a word from a Merciful Lord.

— Muhammad Habib Shakir

Peace shall be the word from the Lord Merciful.

— Abdul Majid Daryabadi

"Peace!" - a word (of salutation) from a Lord Most Merciful!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 36:58

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 55–58

جنت کے مناظر۔ جنتی لوگ میدان قیامت سے فارغ ہو کر جنتوں میں بہ صدا اکرام و بہ ہزار تعظیم پہنچائے جائیں گے اور وہاں کی گوناں گوں نعمتوں اور راحتوں میں اس طرح مشغول ہوں گے کہ کسی دوسری جانب نہ التفات ہوگا نہ کسی اور طرف کا خیال، یہ جہنم سے جہنم والوں سے بےفکر ہوں گے۔ اپنی لذتوں اور مزے میں منہمک ہوں گے۔ اس قدر مسرور ہوں گے کہ ہر ایک چیز سے بیخبر ہوجائیں گے نہایت ہشاش بشاش ہوں گے، کنواری حوریں انہیں ملی ہوئی ہوں گی، جن سے وہ لطف اندوز ہو رہے ہوں گے، طرح طرح کی راگ راگنیاں اور خوش کن آوازیں دلریبی سے ان کے دلوں کو لبھا رہی ہوں گیں۔ ان کے ساتھ ہی اس لطف و سرور میں ان کی بیویاں اور ان کی حوریں بھی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 55–58

سورة یٰسٓ 51 اس کلام کو سمجھنے کے لیے یہ بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ صالح اہل ایمان میدان حشر میں روک کر نہیں رکھے جائیں گے بلکہ ابتدا ہی میں ان کو بلا حساب، یا ہلکی حساب فہمی کے بعد جنت میں بھیج دیا جائے گا، کیونکہ ان کا ریکارڈ صاف ہوگا۔ انہیں دوران عدالت انتظار کی تکلیف دینے کی کوئی ضرورت نہ ہوگی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ میدان حشر میں جواب دہی کرنے والے مجرموں کو بتائے گا کہ دیکھو، جن صالح لوگوں کو تم دنیا میں بیوقوف سمجھ کر ان کا مذاق اڑاتے تھے، وہ اپنی عقلمندی کی بدولت آج جنت کے مزے لوٹ رہے ہیں، اور تم جو اپنے آپ کو بڑا زیرک و فرزانہ سمجھ رہے تھے، یہاں کھڑے اپنے جرائم کی جواب دہی کر رہے ہو۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 57–58

(آیت) ولھم ما یدعون، یدعون دعوت سے مشتق ہے، جس کے معنی بلانے کے ہیں۔ یعنی اہل جنت جس چیز کو بلا دیں گے وہ ان کو مل جائے گی۔ قرآن کریم نے اس جگہ یسئلون کا لفظ نہیں فرمایا، کیونکہ کسی چیز کا سوال کر کے حاصل کرنا بھی ایک محنت مشقت ہے، جس سے جنت پاک ہے بلکہ وہاں ضرورت کی چیز حاضر و موجود ہوگی۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 55–58

آیت 55۔ 58 اس دن اہل جنت کا جو حال ہوگا یہ اس کی تصویر ہے۔ فرمایا کہ اس دن اہل جنت اپنی خالص دلچسپی میں مگن ہوں گے۔ ’ شغل ‘ کی تنکیر تفحیم شان کے لئے ہے۔ ’ ھم وازواجھم الایۃ ‘۔ یہ ان کی بیویوں کا ذکر آیا ہے کہ وہ بھی ان کی دلچسپیوں میں شریک ہوں گی۔ ان کا ذکر خاص اہتمام سے اس لئے ضروری ہوا کہ آدمی کی کوئی دلچسپی اس وقت تک مکمل نہیں ہوتی جب تک اس کے اہل و عیال بھی اس میں شریک نہ ہوں۔ علی الارائک متکون۔ ‘ یہ سب سے اعلیٰ نشست کی تصویر ہے۔ اس زمانے میں بادشاہ اور ملکہ مزین تختوں پر ٹیک لگا کر بیٹھتے تھے۔ اہلِ جنت اپنی ابدی بادشاہی میں اسی طرح بیٹھیں گے۔ ’ لھم فیھا فاکھۃ الایۃ ‘ اس میں ان کے آگے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

(1) اللہ کا سلام، فرشتے اہل جنت کو پہنچائیں گے۔ بعض کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ خود سلام سے نوازے گا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 42–64

18: کشتی جیسی دوسری سواری کی تشریح عام طور سے مفسرین نے اونٹوں سے کی ہے، کیونکہ اہل عرب اونٹوں کو صحرا کا جہاز کہا کرتے تھے۔ لیکن قرآن کریم کے الفاظ عام ہیں جس میں کشتی کے مشابہ ہر طرح کی سواریاں داخل ہیں، بلکہ عربی قواعد کی رو سے آیت کا ترجمہ اس طرح بھی کیا جاسکتا ہے کہ : ہم نے ان کے لیے اسی جیسی اور چیزیں بھی پیدا کی ہیں جن پر یہ (آئندہ) سواری کریں گے۔ اس صورت میں وہ تمام سواریاں اس عبارت میں داخل ہوجاتی ہیں جو قیامت تک پیدا ہوں گی، مثلاً آبدوزیں، اور ہوائی جہاز جو اس لحاظ سے کشتی کے مشابہ ہیں کہ کشتی پانی پر تیرتی ہے، اور ہوائی جہاز ہوا پر تیرتا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 55–58

ان اصحب الجنۃ۔۔۔۔۔۔۔۔ من رب رحیم (55 – 58) ” “۔ یہ عیش و عشرت میں مشغول ہوں گے ، ان پر اللہ کے انعامات کی بارش ہوگی اور نہایت ہی خوشگوار چھاؤں میں بیٹھے ہوں گے۔ آمنے سامنے تختوں پر تکیے لگائے ہوئے ہوں گے اور وہ جنت کے مالک ہوں گے اور ان کا یہ حق ہوگا کہ جو چاہیں گے ، مہیا ہوگا اور ان لذائذ کے اوپر مزید ان کے اہل خانہ بھی ان کے ساتھ ہوں گے۔ اور ان کی تکریم ہوگی کہ خود اللہ تعالیٰ ان کے نام سلام بھیجے گا ۔ یہ رب کریم کی طرف سے ان کا اعزاز ہوگا۔ سلم قولا من رب رحیم (36: 58) ” رب رحیم کی طرف سے ان کو سلام کہا گیا ہے “۔ رہے کفار تو ان کے ساتھ حساب و کتاب یہاں نہیں دکھایا گیا بلکہ یہاں محض سرزنش…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

2 یعنی اس مہربان پروردگار کی طرف سے جنتیوں کو سلام بولا جائے گا خواہ فرشتوں کے ذریعہ سے یا جیسا کہ ابن ماجہ کی ایک روایت میں ہے بلاواسطہ خود رب کریم سلام ارشاد فرمائیں گے اس وقت کی عزت و لذت کا کیا کہنا۔ اللہم ارقنا ھذہ النعمۃ العظمی بحرمتہ نبیک محمد ﷺ ۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 58 { سَلٰمٌقف قَوْلًا مِّنْ رَّبٍّ رَّحِیْمٍ } ”سلام کہا جائے گا ربّ ِرحیم کی طرف سے۔“ جنت میں اللہ کی طرف سے ان کے لیے سلامتی کے پیغامات آتے رہیں گے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

53 ان اہل جنت کے مہربان پروردگار کی طرف سے انہیں سلام کہا جائے گا۔ خواہ یہ اللہ کی طرف سے سلام فرشتوں کی وساطت سے ہو۔ یا بلاواسطہ اللہ تعالیٰ ان سے خطاب فرمائیں۔ کیونکہ عالم آخرت کے احوال عالم دنیا جیسے نہیں ہوں گے۔ اس دنیا میں کوئی شخص اللہ تعالیٰ کو اپنی ظاہری آنکھوں سے دیکھ نہیں سکتا۔ مگر جنت میں اہل جنت اللہ تعالیٰ کو یوں دیکھ سکیں گے جیسے یہاں ہم چاند کی طرف دیکھ سکتے ہیں اور ہمیں راحت محسوس ہوتی ہے۔ اس دنیا میں اللہ کو کسی نے نہیں دیکھا البتہ اللہ تعالیٰ نے سیدنا موسیٰ سے براہ راست بلاواسطہ کلام ضرور کیا ہے۔ لہذا عالم آخرت میں اللہ تعالیٰ کا اہل جنت سے اور اہل جنت کا اللہ تعالیٰ سے ہم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

39۔ یعنی حق تعالیٰ کریم ورحیم کی طرف سے انہیں سلام پہنچتا رہے گا، خواہ فرشتوں کے واسطہ سے خواہ بلاواسطہ وبراہ راست ....... اہل جنت کا یہ انتہائی اکرام ہے۔ اکرام کا کوئی درجہ اس کے بعد ممکن بھی کیا ہے۔ والمعنی ان اللہ یسلم علیھم بواسطۃ الملائکۃ اوبغیر واسطۃ مبالغۃ فی تعظیمھم (کشاف) ھو اکمل الاشیاء وھو اخرھا الذی لاشیء فوقہ (کبیر)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 51–67

آیت نمبر 51 تا 67 ترجمہ : اور صور پھونکا جائے گا وہ (ایک) سینگ ہے، اور دوسرا صور زندہ کرنے کے لئے ہوگا اور دونوں نفخوں کے درمیان چالیس سال کا وقفہ ہوگا پھر جب وہ یعنی مردے قبروں سے نکل کر تیزی سے اپنے پروردگار کی طرف چلنے لگیں گے ان میں سے کافر کہیں گے، ہائے ہماری کمبختی یا تنبیہ کے لئے ہے ہائے ہماری ہلاکت، وَیْلٌ ایسا مصدر ہے کہ اس کا لفظی فعل نہیں آتا، کس نے ہم کو ہماری قبروں سے اٹھا یا ؟ اس لئے کہ وہ دونوں نفخوں کے درمیان سوئے ہوئے ہوں گے، ان کو عذاب نہ دیا جارہا ہوگا، یہ وہی (بعث) ہے جس کا رحمٰن نے وعدہ کیا تھا، اور رسول نے اس کے بارے میں سچ کہا تھا ایسے وقت اقرار کریں گے کہ ان کا اقرار…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

سلمٌ قولا من رب رحیم . ان کو رحمت والے رب کی طرف سے سلام فرمایا جائے گا۔ یعنی اللہ براہ راست ان کو سلام فرمائے گا ‘ یا ملائکہ کے ذریعہ سے اللہ کا سلام ان کو پہنچے گا اور یہی ان کا مقصود اور تمنا ہوگی۔ ابن ماجہ ‘ ابن ابی الدنیا ‘ اجری اور دارقطنی نے حضرت جابر کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اہل جنت اپنے عیش میں ہوں گے ‘ اسی اثناء میں ایک نور ان پر جلوہ انداز ہوگا۔ اہل جنت سر اٹھا کر دیکھیں گے تو اور سے باری تعالیٰ جلوہ ڈالتا نظر آئے گا اور فرمائے گا : اے اہل جنت ! تم پر سلام ہو۔ یہی (بیان ہے آیت) سَلٰمٌ قَوْلاً مِّنْ رَّبِّ رَّحِیْمٍ (میں ہے) حضور ﷺ نے فرمایا : اہل جنت اس کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 57–58

(57۔ 58) ان کے لیے جنت میں ہر طرح کے پھل ہوں گے اور جو کچھ وہاں مانگیں گے اور جس چیز کی خواہش کریں گے وہ انہیں ملے گی اور ان کو پروردگار مہربان کی طرف سے سلام فرمایا جائے گا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

سَلٰمٌ ۣ قَوْلًا مِّنْ رَّبٍّ رَّحِيْمٍ : یعنی اس بیحد مہربان رب کی طرف سے جنتیوں کو سلام کہا جائے گا۔ دوسری آیات میں ہے کہ انھیں اللہ تعالیٰ کا دیدار بھی ہوگا۔ رب رحیم کے دیدار اور اس کی طرف سے سلام کے بعد انھیں ہر لحاظ سے سلامتی حاصل ہوگی اور ایسا تحفہ اور ایسی نعمت ملے گی جس سے بڑا تحفہ اور بڑی نعمت کوئی نہیں، کیونکہ اس سے انھیں اس کی ابدی رضا حاصل ہوجائے گی، جس کے بعد وہ کبھی ان پر ناراض نہیں ہوگا۔ دیکھیے سورة توبہ (72) اور سورة یونس (26)۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 55–59

حضرت ابن مسعود ‘ حضرت ابن عباس ‘ قتادہ ارمجاہد نے کہا : باکرہ عورتوں کے ساتھ حقوق زوجیت نے انہیں غافل کردیا ہوگا۔ ترمذی حکیم نے اپنی کتاب ” مشکل القرآن “ میں یہ روایت ذکر کی ہے کہ ہمیں محمد بن حمیدرازی نے انہوں نے یعقوب قومی سے انہوں نے حفص بن حمید سے انہوں نے شمسر بن عطیہ سے ‘ انہوں نے شفیق بن سلمہ سے انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے یہ روایت نقل کی ہے کہ باکرہ بیویوں سے حقوق زوجیت نے انہین مشغول کر رکھا ہو (1) ۔ محمد بن حمید ‘ ہارون بن مغیرہ سے وہ نہشل سے وہ ضحاک سے وہ حضرت ابن عباس ؓ سے اس کی مثل روایت کرتے ہیں۔ ابو قلابہ نے کہا : اسی اثنا میں کہ ایک جنتی اپنے اہل کے ساتھ مصروف ہوگا کہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1:۔ ابن ماجہ وابن ابی الدنیا فی صفۃ الجنۃ والبزار وابن ابی حاتم (رح) والآجری فی الرؤیۃ اور ابن مردویہ نے جابر ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا اس درمیان کے اہل جنت اپنی نعمتوں میں ہوں گے، اچانک ان پر روشنی پھیل جائے، وہ اپنے سروں کو اٹھائنگے وہ رب تعالیٰ ہوں گے جو ان کے اوپر سے جلوا افروز ہوں گے اور فرمائیں گے اے جنت والو السلام علیکم یہ اللہ تعالیٰ کا قول ہے (آیت) ” سلم قولا من رب رحیم “ تو دیکھیں گے وہ جنت کی کسی نعمت کی طرف توجہ نہیں کریں گے جب تک وہ اپنے رب کا دیدار کرتے رہیں گے یہاں تک کہ رب تعالیٰ ان سے (خود ہی) پردہ فرمالیں گے اور اللہ تعالیٰ کا نور اور اس کی برکت ان کے اور ان کے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

سَلٰمٌ ۣ [سلامتی ہے ] قَوْلًا [قل ہوتے ہوئے ] مِّنْ رَّبٍّ رَّحِيْمٍ [ایک رحیم رب سے ] نوٹ۔ 2: آیت 58 میں اس سب سے بڑی سرفرازی کا ذکر ہے، جو اہل جنت کو جنت میں حاصل ہوگی کہ رب رحیم کی طرف سے ان کو سلام کہلایا جائے گا۔ احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ فرشتے جنت کے تمام دروازوں سے داخل ہوں گے اور اہل جنت کو اللہ تعالیٰ کا سلام پہنچائیں گے۔ (تدبر قرآن)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

اور ان سب سے بڑھ کر یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے سلام آئے گا جسے (سَلٰمٌ قَوْلًا مِّنْ رَّبٍّ رَّحِیْمٍ ) فرما کر بتایا ہے، کیا کہنے ان بندوں کے لیے کہ ان کے رب کا سلام آئے۔ حضرت جابر ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اس کے درمیان کہ اہل جنت اپنی نعمتوں میں ہوں گے اچانک ایک نور کی چمک ہوگی اوپر کو اپنے سر اٹھائیں گے تو دیکھیں گے کہ رب جل شانہٗ نے ان پر توجہ فرمائی ہے، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہوگا۔ (اَلسَّلاَمُ عَلَیْکُمْ یَا اَھْلَ الْجَنَّۃِ ) (مشکوٰۃ المصابیح ص 502 از ابن ماجہ)

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 48–76

منکرین حشر ونشر کی تہدید اور وعید قال اللہ تعالیٰ ویقولون متی ھذا الوعد۔۔۔ الی۔۔۔ انا نعلم ما یسرون وما یعلنون۔ (ربط) گذشتہ آیات میں زیادہ تر دلائل توحید کا ذکر تھا اور اس سے ذرا پہلے وان کل لما جمیع لدینا محضرون میں مسئلہ حشر ونشر کا ذکر تھا اب پھر مسئلہ حشرونشر کی طرف رجوع فرماتے ہیں اور ان کا ایک سوال نقل فرماتے ہیں ویقولون متی ھذا الوعد ان کنتم صدقین : یعنی یہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ قیامت کا وعدہ کب پورا ہوگا اللہ تعالیٰ نے اس کے جواب میں اس کے وقت کے اظہار سے مصلحۃً اعراض فرمایا اور اجمالی طور پر صرف اتنا بتا دیا کہ قیامت نا گہاں آئے گی جب لوگ اپنے کاروبار میں مصروف ہوں گے ناگہاں صور پھونکا…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 56–59

36:۔ وامتازو الخ :۔ یہ اہل جنت کے مقابلے میں اہل جہنم کا ذکر ہے اور تخویف اخروی ہے۔ میدان حشر میں کفار و مشرکین کو علی رؤوس الخلائق حکم ہوگا اے مجرمو ! نیک لوگوں سے الگ ہوجاؤ اور ایک طرف اپنی صفیں بنا لو۔ الم اعہد الخ، کفار و مشرکین کی حسرت و ندامت میں اضافہ کرنے کے لیے ان سے کہا جائے گا۔ اے اولادِ آدم ! کیا میں نے اپنے پیغمبروں کی وساطت سے تمہیں یہ پیغام نہیں دیا تھا کہ شیطان کی پیروی نہ کرنا اور اس کے فریب میں آ کر میرے ساتھ شرک نہ کرنا۔ کیونکہ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے اور صرف میری ہی عبادت کرنا اور میری عبادت اور پکار میں کسی کو شریک نہ کرنا اور کسی کو میرے یہاں شفیع غالب نہ سمجھنا۔ اعبدونی…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 51–59

ربط آیات اپنی آیات قدرت بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے کفار و مشرکین کی مذمت بیان فرمائی اور یہ بھی کہ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ آگے پیش آنے والے حالات کے لیے کچھ تیاری کرلو ، اور جو اعمال پیچھے چھوڑ آئے ہو ان کے متعلق بھی غور و فکر کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے تو یہ لوگ نشانات قدرت دیکھ کر بھی ایمان نہیں لاتے بلکہ الٹا اعتراض کرنے لگتے ہیں۔ پھر اللہ نے ان میں سے مالداروں کی حالت کا ذکر بھی کیا کہ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ کی عطا کردہ روزی میں سے غرباء اور مساکین پر بھی خرچ کرو تو کہتے ہیں کہ جن کو خود خدا تعالیٰ بھوکا رکھنا چاہتا ہے یعنی ان کو نادار بنایا ہے ، بھلا ہم ان کی اعانت کریں۔ اللہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

سَلٰمٌ۝ 0 ۣ قَوْلًا مِّنْ رَّبٍّ رَّحِيْمٍ۝ 58 سلام السِّلْمُ والسَّلَامَةُ : التّعرّي من الآفات الظاهرة والباطنة، قال : بِقَلْبٍ سَلِيمٍ [ الشعراء/ 89] ، أي : متعرّ من الدّغل، فهذا في الباطن، وقال تعالی: مُسَلَّمَةٌ لا شِيَةَ فِيها [ البقرة/ 71] ، فهذا في الظاهر، وقد سَلِمَ يَسْلَمُ سَلَامَةً ، وسَلَاماً ، وسَلَّمَهُ الله، قال تعالی: وَلكِنَّ اللَّهَ سَلَّمَ [ الأنفال/ 43] ، وقال : ادْخُلُوها بِسَلامٍ آمِنِينَ [ الحجر/ 46] ، أي : سلامة، وکذا قوله : اهْبِطْ بِسَلامٍ مِنَّا[هود/ 48] . والسّلامة الحقیقيّة ليست إلّا في الجنّة، إذ فيها بقاء بلا فناء، وغنی بلا فقر، وعزّ بلا ذلّ ، وصحّة بلا سقم،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 55–61

فقال ان اصحب الجنۃ الخ کہ نیک لوگ بہشت میں عیش و آرام کریں گے۔ یہ جنت جسمانی کی طرف اشارہ تھا۔ سلم قولاً من رب رحیم یہ روحانی جنت کی طرف اشارہ ہے کہ اللہ کی طرف سے ان کو سلام پہنچے گا۔ ان پر تجلی ہوگی اور دیدار سے سرفرازی بخشی جاوے گی جو سرور ابدی ہے۔ اس کے بعد بدوں کا حال بیان فرماتا ہے۔ وامتازوا الیوم کہ مجرموں کو سزا دینے کے لیے جماعت سے الگ کردینے کا حکم ہوگا اور ان کو ملامت کی جاوے گی کہ دیکھو ہم نے تم سے کہلا بھیجا تھا کہ شیطان کا کہنا نہ ماننا، وہ تمہارا صریح دشمن ہے اور خاص میری عبادت کرنا یہ سیدھا رستہ ہے، مگر تم نے نہ مانا، آج اس بلا میں گرفتار ہوئے۔

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 55–58

اِنَّ اَصْحٰبَ الْجَنَّۃِ الْیَوْمَ فِیْ شُغُلٍ فٰـکِھُوْنَ ۔ ھُمْ وَاَزْوَاجُہُمْ فِیْ ظِلٰـلٍ عَلَی الْاَرَآئِکِ مُتَّـکِئُوْنَ ۔ لَہُمْ فِیْھَا فَاکِھَۃٌ وَّلَہُمْ مَّایَدَّعُوْن۔ سَلٰمٌ قف قَوْلًا مِّنْ رَّبٍّ رَّحِیْمٍ ۔ (یٰسٓ: 55 تا 58) (بےشک آج جنت والے اپنی دلچسپیوں میں مشغول ہوں گے۔ وہ اور ان کی بیویاں گھنے سایوں میں تختوں پر تکیہ لگائے ہوئے ہوں گے۔ ان کے لیے اس میں میوے ہوں گے اور ان کے لیے وہ سب کچھ ہوگا جو وہ طلب کریں گے۔ ربِ رحیم کی طرف سے ان کے لیے سلام ہوگا۔ ) اہلِ جنت پر نوازشات عدالت کی کارروائی شروع ہوگی تو سب سے پہلے ان مخلص وفاداروں کو یاد کیا جائے گا جنھوں نے زندگی کا ہر…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 56–59

فہم القرآن ربط کلام : جنتیوں کو جنت میں داخل کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ کا جہنمیوں کو خطاب۔ محشر کے میدان میں جہنمیوں کو جنتیوں سے الگ کردیا جائے گا۔ بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ اس موقعہ پر جہنمیوں کو ان کے جرائم کے مطابق گروہوں میں تقسیم کردیا جائے گا۔ قرآن مجید کی دوسری آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ اگلے مرحلے میں ہوگا۔ کیونکہ قرآن مجید کا سیاق وسباق بتلا رہا ہے کہ اس موقعہ پر تمام جہنمیوں کو اجتماعی خطاب ہوگا جس میں رب ذوالجلال انہیں وہ عہد یاد دلائیں گے جو عالم ارواح میں پوری بنی نوع انسان سے لیا تھا۔ ” اور جب آپ کے رب نے آدم کے بیٹوں سے ان کی پشتوں میں سے ان کی اولاد کو نکالا اور انہیں خود ان کی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

نمبر : 4 58: سَلٰـمٌ قَوْلًا مِّنْ رَّبٍّ رَّحِیْمٍ (ان کو پروردگار مہربان کی طرف سے سلام دیا جائے گا) سلام یہ ما یدعون سے بدل ہے گویا اس طرح ان کو فرمایا سلام یقال لھم سلام ان کو کہا جائے گا۔ مطلب یہ ہے اللہ تعالیٰ ملائکہ کے واسطہ سے ان کو سلام فرمائے گا۔ نمبر 2۔ بغیر واسطہ کے ان کی عظمت کے لئے اللہ تعالیٰ سلام فرمائیں گے۔ یہ اہل جنت کی منتہی تمنا ہے اور ان کے لئے اس سے روک نہ ہوگی۔ قول ابن عباس ؓ ہے کہ فرشتے ان کے پاس رب العالمین کی طرف سے تحفہ سلام لے کر حاضر ہونگے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

58، سلام قولا من رب رحیم، یعنی اللہ تعالیٰ ان سے کلام فرمائے گا۔ حضرت جابرؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ، اہل جنت اپنے عیش میں ہوں گے ۔ اسی اثناء میں ایک نوران پر جلوہ افر وزہوگا ۔ اہل جنت سراٹھا کر دیکھیں گے تو اوپر سے اللہ عزوجل جلوہ افروزنظر آئیں گے اور فرمائے گا اے اہل جنت ! تم سلام ہو۔ یہی اس آیت میں ، سلم قولا من رب رحیم، حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا، اہل جنت اس کی طرف دیکھیں گی اور وہ اہل جنت کا نظارہ کرے گا۔ ایسی حالت میں جنت والے کسی اور برکت ان کے گھروں میں باقی رہے گا۔ بعض نے کہا کہ ان کو ان کے گھروں میں سلامتی بھیجی جائے گی اور بعض نے کہا ہے کہ فرشتے ان کو رب…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 54–64

54 تا 64۔ اوپر دوسرے صور کی آواز سن کر اللہ تعالیٰ کے روبرو حاضر ہوجانے کا ذکر تھا اب اس کے نتیجے کا ذکر فرمایا۔ صحیح مسلم کے حوالہ سے ابوذر ؓ کی روایت سے حدیث قدسی کئی جگہ گزر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ظلم اپنی ذات پاک پر حرام کرلیا ہے اسی واسطے فرمایا کہ قیامت کے دن کسی پر کچھ ظلم نہ ہوگا مطلب یہ ہے کہ نیکیوں کے ثواب میں کمی نہ ہوگی اور بدی کی سزا جرم کی حیثیت سے بڑھ کر نہ دی جاویگی اب آگے جنتیوں اور دوزخیوں کا ذکر فرمایا کیوں کہ دنیا کا پیدا ہونا اور حشر کا قائم ہونا سب اسی نتیجہ کے لیے تھا۔ جنتیوں کے حال کا خلاصہ یہ ہے کہ وہ اور ان کی بیبیاں طرح طرح کی نعمتوں کے مشغلہ میں لگے ہوئے ہوں گے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 55–58

آیت 55 جب اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرما دیا کہ ہر شخص کو صرف اس کے اعملا کی جزا ملے گی تو دونوں ریقوں کی جزا اور سزا کا ذکر بھی کیا۔ پہلے اہل جنت کی جزا کا ذکر کرتے ہوئے آگاہ فرمایا کہ اہل جنت اس روز (فی شغل فکھون) ” لطف اٹھانے میں مشغول ہوں گے “ یعنی ایسے مشاغل میں مشغول ہوں گے جن سے نفس کو لطف اور لذت محسوس ہوگی، ہر ایسی چیز میں مشغول ہوں گے جو نفس چاہیں گے، آنکھیں جس سے لذت حاصل کریں گی اور تمنا کرنے والے تمنا کریں گے۔ ان نعمتوں میں خوبصورت دو شیزاؤں سے ملاقات شامل ہے، جیسا کہ فرمایا : (آیت) ” وہ اور ان کی بیویاں “ خوبصورت آنکھوں والی جو خوبصورت چہروں اور خوبصورت بدنوں والی ہونے کے ساتھ ساتھ…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 42–67

قول باری ہے (وخلقنا لھم من مثلہ ما یرکبون اور ہم نے ان کے لئے اسی کشتی جیسی چیزیں اور بھی پیدا کی ہیں جس پر یہ سوار ہوتے ہیں) حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے ” یعنی حضرت نوح (علیہ السلام) کی کشتی کے بعد دوسری کشتیاں “۔ حضرت ابن عباس ؓ سے ایک اور روایت بھی ہے اور مجاہد سے بھی کہ اونٹ خشکی کے جہاز ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 56–58

58 اہل جنت کے لیے ایک اور انعام واعزاز کا ذکر : سو اس سے اہل جنت کے لیے ربِّ رحیم کی طرف سے سلام کے ایک اور عظیم الشان اور بےمثال انعام و اکرام کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ انکو سلام کہا جائے گا ربِّ رحیم کی طرف سے ۔ سبحان اللہ !۔ کیا کہنے اس نعمت اور اس کرم کے۔ دنیا میں اگر کوئی بادشاہ کسی شخص کو سلام بھیج دے تو وہ خوشی سے پھولا نہیں سماتا۔ اور یہاں بات کسی بادشاہ کی نہیں بلکہ بادشاہوں کے بادشاہ ملک الملوک اور بادشاہ حقیقی کی طرف سے سلام کرنے کی ہے کہ ان کو وہاں پر اس احکم الحاکمین اور ربِّ رحیم کی طرف سے سلام فرمایا جائے گا ۔ فَشَرِّفْنَا بِہٖ یَا اَکْرَمَ الاکرمین ۔ سو یہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 48–74

حشر کا میدان اور نیک و بد کا انجام تشریح : یہاں کفار مکہ کا اور آج کل کے ملحد وغیرہ لوگوں کا ذکر ہے کہ وہ قیامت کو ناقابل یقین سمجھتے ہوئے کہتے ہیں کہ کب آئے گی قیامت ؟ قیامت جب آئے گی تو اتنی اچانک اور شدید ہوگی کہ کسی کو سمجھ میں ہی نہ آئے گا کہ کیا ہوگیا ہے۔ قیامت سے پہلے چھوٹی قیامت یں اور ہلکے پھلے عذاب تو انسانوں کی نافرمانی کی وجہ سے آتے رہتے ہیں جن کا مقصد انسانوں کو جھنجھوڑنا ہوتا ہے۔ کہیں طوفان بادو باراں، کہیں زلزلہ اور کہیں کسی دوسری شکل میں آفات ارضی و سماوی۔ اسی طرح بڑی اور فیصلہ کن قیامت پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی مگر یہ بھی صرف اس دنیا کی قیامت ہوگی پوری کائنات قائم و…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 51–67

رکوع نمبر 4 ۔ آیات 51 تا 67: اسرار و معارف : چنانچہ جب دوبارہ صور پھونکا جائے گا تو اپنی اپنی قبروں سے اٹھ کر اللہ کے حضور چل پڑیں گے یعنی وہ ایسا قادر ہے کہ ایک چنگھاڑ سے ہر شے تباہ کردے گا تو پھر ایک چنگھاڑ یا سخت آواز ہی سب مردہ جسموں کے ذرات کو یکجا کرکے زندہ بھی کردے گی اور ہر فرد چاہے یا نہ چاہے مگر رواں اللہ کی بارگاہ کی طرف ہی ہوگا جہاں سب کی پیشی ہوگی تب پریشان حال یہ کہہ رہے ہوں گے کہ ہمیں کس نے اٹھا دیا اگرچہ برزخ میں بھی کفار عذاب میں ہوں گے۔ مگر میدان حشر کی ہیبت کے سامنے کہیں گے یہاں سے وہاں ہی ٹھیک تھے یہ کس نے ہمیں ان ٹھکانوں سے نکال کھڑا کیا ہے تو جواب آئے گا فرشتے یا مومنین…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 56–59

ف 9 یعنی ان سے ہٹ کر کھڑے ہو تمہارا ان سے کوئی تعلق نہیں رہا۔ یا ( آپس میں ایک دوسرے سے) الگ ہوجائو “۔ چناچہ یہود و نصاریٰ ، مجوس اور مشرک سب ایک دوسرے سے الگ ہوجائیں گے۔ ( دیکھئے روم : 14، یونس 28)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(36:58) سلام۔ سلامتی۔ امان ۔ سلام، یہ سلم یسلم (سمع) کا مصدر ہے سلامۃ بھی مصدر ہے۔ سلم من عیب او افۃ کسی عیب یا آفت سے محفوظ ہونا۔ قولا من رب رحیم۔ قولا مفعول مطلق (فعل محذوف کا اور جملہ من رب رحیم ، قولا کی صفت ہے ای سلام یقال لہم قولا من جھۃ رب رحیم۔ سلام۔ تم پر سلامتی ہو۔ یہ قول ان کو کہا جائے گا اپنے رب رحیم کی طرف سے۔ صاحب تفسیر حقانی تحریر فرماتے ہیں :۔ ان اصحب الجنۃ ۔۔ الخ نیک لوگ بہشت میں عیش و آرام کریں گے۔ یہ جنت جسمانی کی طرف اشارہ ہے قولا من رب رحیم یہ روحانی جنت کی طرف اشارہ ہے کہ اللہ کی طرف سے ان کو سلام پہنچے گا ان پر تجلی ہوگی اور دیدار سے سرفرازی بخشی جائے گی جو سرور ابدی ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 55–68

لغات القرآن : آیت نمبر 55 تا 68 :۔ شغل ( مشغلے) فکھون ( دل لگی کرنے والے) متکون (تکیہ لگا کر بیٹھنے والے) یدعون ( وہ پکاریں گے ، خواہش کریں گے) امتازوا ( تم الگ ہو جائو) جبلا ( جماعت ، لوگوں کا گروہ) نختم ( ہم مہر لگا دیں گے) افواہ ( فوہ) (منہ) تشھد ( گواہی دیں گے) طمسنا ( ہم سجھائی دیتے) مضیا (چلنا) نعمرہ ( ہم زیادہ عمر دیتے ہیں اس کو) ننکسہ ( ہم اوندھا کردیتے ہیں اس کو) تشریح : آیت نمبر 55 تا 68 :۔ جہنم والوں کی سزا بیان کرنے کے بعد اب جنت والوں کی جزا اور بدلہ کا بیان کیا جا رہا ہے کہ اہل جنت کس قدر خوش و خرم اور اللہ کی نعمتوں سے لطف اندوز ہو رہے ہوں گے ۔ جنت کیا ہے ؟ اس دنیا میں رہ کر اس…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 56–64

جنتیوں اور دوزخیوں کا انجام۔ (ف 2) ان آیتوں میں جنتیوں اور دوزخیوں کا ذکر فرمایا ، کیونکہ دنیا کا پیدا ہونا اور حشر کا قائم ہونا سب اسی کا نتیجہ کے لیے تھا جنتیوں کے حال کا خلاصہ یہ ہے کہ وہ اور ان کی بیبیاں طرح طرح کی نعمتوں کے مشغلہ میں لگے ہوئے ہوں گے جنت کے مکانوں اور درختوں کے سایہ کی ٹھنڈک میں چھپڑ کھٹوں کے گدوں ، یا ان کے فرشوں پر تکیہ لگائے ہوئے بیٹھے ہوں گے اور طرح طرح کے میوے اور جس چیز کو ان کو جی چاہے گا وہ سب کچھ وہاں موجود ہوجائے گا، اور ان کو پروردگار کی طرف سے السلام علیکم فرمایا جائے گا اور جس وقت کہ مسلمان اور گناہ گار جمع ہوں گے اس وقت اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائے گا کہ اے گناہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 50–59

[20] یعنی قیامت ناگہاں آن پڑے گی اور لوگ اپنے معاملات میں غرق ہوں گے۔ جس وقت پہلے صور کی چنگھاڑ بلند ہوگی تمام انسان مر کر ڈھیر ہوجائیں گے۔ ان کو اتنی بھی فرصت نہ ملے گی کہ مرنے سے پہلے کسی کو کچھ کہنا چاہیں تو کہہ گزریں، یا جو گھر سے باہر تھے وہ گھر واپس جاسکیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 51–58

نرسنگا پھونکا جائے گا 1: نفحہ ثانثہ مردہ قالبوں میں زندگی پیدا کردے گا ۔ اور قرنوں سے تیل نکل کر خدا کے حضور میں پہنچنے لگیں گے ۔ اور قبروں سے تیل نکل کر خدا کے حضور میں پہنچنے لگیں گے ۔ اس وقت یہ لوگ حیرت وتعجب سے کہیں گے ، کہ ہم کو ان خواب گاہوں سے کس نے اٹھا دیا ۔ ارشاد ہوگا ۔ کہ یہ وہی قیامت ہے ۔ جس کا ہم سب سے رحمن نے وعدہ کیا تھا ۔ اور پیغمبر سچ کہتے تھے ۔ ہوسکتا ہے کہ صور کی آواز بذاتہ موت اور زندگی پیدا کرنے میں موثر ہو ۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے ۔ کہ یہ آواز محض ایک نوع کا اعلان ہو ۔ اور موخر دوسرے اسباب ہوں ۔ بہرحال جہاں تک قرآن حکیم کا تعلق ہے ۔ اس میں اس حقیقت شرعیہ کو تفصیل کے ساتھ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(58) ان کو وہاں پروردگار بڑی مہربانی کرنیوالے کی جانب سے سلام ہوگا۔ حضرت حق تعالیٰ کی جانب سے بواسطۂ ملائکہ یا بلاواسطہ سلام یعنی السلام علیکم یا اھل الجنۃ کہا جائے گا اور سلام کا تحفہ اہل جنت کو دیا جائے گا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 6۔ یعنی حق تعالیٰ خود فرمادیں گے السلام علیکم یا اھل الجنة۔ (فائدہ) مقصود سلام سے جنت میں یا محض اکرام ہے، یا بشارت و اخبار ہے سلامت دائمی سے، پس یہ شبہ نہ رہا کہ انشاء و دعائے سلامت تحصیل حاصل ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ہر طرف سے سلامتی ہی سلامتی کی صدائیں ہوں گی جو رب رحیم کی طرف سے ہوں گی : 58۔ وہاں کی ساری خوشیاں اور ساری راحتیں بجا لیکن رب کریم غفور رحیم جو اصل محبوب ہے جس کی رضا جو ئیوں کے لیے دنیا میں جو کیا وہی کیا کہ اس کا دیدار نصیب ہوجائے جس کی خاطر دنیا کی ہر مصیبت کو آسانی سے برداش کیا گیا وہ وہاں براہ راست خطاب کرتا ہوا دکھایا جائے گا تو اس وقت بلاشبہ ساری مسرتوں اور عزت افزائیوں کی انتہا ہوجائے گی اللہ کے رسول محمد رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ یہ لوگ یعنی اہل جنت اللہ رب ذوالجلال والاکرام کو اس طرح دیکھیں گے جس طرح چودہویں کی رات کے چاند کو دیکھا جاتا ہے کہ کسی دیکھنے والے کو کوئی دیکھنے کے لیے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 57–58

The word: يَدَّعُونَ (yadda’ un) appearing in verse 57: وَلَهُم مَّا يَدَّعُونَ (wa lahum ma yadda un) is a derivation from: دَعوَیٰ (da'wah) which means to call, that is, the thing the people of Jannah will call or wish to have, will come to them. The Qur'an has not used the word: يَسْأَلُونَ Yas’ alun: they ask) at this place, because having something after having asked for it is also a sort of exertion, something the Jannah will be free from, in fact, it will be a place where everything needed will be ready and present.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 55–58

51 To understand this one should remember that the righteous believers will not be withheld in the Plain of Resurrection, but in the very beginning they will be sent to Paradise without accountability, or after a mild reckoning, because their record will be clean. There will be no need to keep them waiting during the hearing by the Court. Therefore, Allah will tell the culprits, who will be required to render their accounts, in the Plain of Resurrection: "Look ! the righteous people whom you used to mock and regard as foolish in the world, are today enjoying the pleasures of Paradise because…

Read the full tafseer →