Explained with ayahs 55–58
جنت کے مناظر۔
جنتی لوگ میدان قیامت سے فارغ ہو کر جنتوں میں بہ صدا اکرام و بہ ہزار تعظیم پہنچائے جائیں گے اور وہاں کی گوناں گوں نعمتوں اور راحتوں میں اس طرح مشغول ہوں گے کہ کسی دوسری جانب نہ التفات ہوگا نہ کسی اور طرف کا خیال، یہ جہنم سے جہنم والوں سے بےفکر ہوں گے۔ اپنی لذتوں اور مزے میں منہمک ہوں گے۔ اس قدر مسرور ہوں گے کہ ہر ایک چیز سے بیخبر ہوجائیں گے نہایت ہشاش بشاش ہوں گے، کنواری حوریں انہیں ملی ہوئی ہوں گی، جن سے وہ لطف اندوز ہو رہے ہوں گے، طرح طرح کی راگ راگنیاں اور خوش کن آوازیں دلریبی سے ان کے دلوں کو لبھا رہی ہوں گیں۔ ان کے ساتھ ہی اس لطف و سرور میں ان کی بیویاں اور ان کی حوریں بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–58
سورة یٰسٓ 51
اس کلام کو سمجھنے کے لیے یہ بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ صالح اہل ایمان میدان حشر میں روک کر نہیں رکھے جائیں گے بلکہ ابتدا ہی میں ان کو بلا حساب، یا ہلکی حساب فہمی کے بعد جنت میں بھیج دیا جائے گا، کیونکہ ان کا ریکارڈ صاف ہوگا۔ انہیں دوران عدالت انتظار کی تکلیف دینے کی کوئی ضرورت نہ ہوگی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ میدان حشر میں جواب دہی کرنے والے مجرموں کو بتائے گا کہ دیکھو، جن صالح لوگوں کو تم دنیا میں بیوقوف سمجھ کر ان کا مذاق اڑاتے تھے، وہ اپنی عقلمندی کی بدولت آج جنت کے مزے لوٹ رہے ہیں، اور تم جو اپنے آپ کو بڑا زیرک و فرزانہ سمجھ رہے تھے، یہاں کھڑے اپنے جرائم کی جواب دہی کر رہے ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–58
(آیت) ولھم ما یدعون، یدعون دعوت سے مشتق ہے، جس کے معنی بلانے کے ہیں۔ یعنی اہل جنت جس چیز کو بلا دیں گے وہ ان کو مل جائے گی۔ قرآن کریم نے اس جگہ یسئلون کا لفظ نہیں فرمایا، کیونکہ کسی چیز کا سوال کر کے حاصل کرنا بھی ایک محنت مشقت ہے، جس سے جنت پاک ہے بلکہ وہاں ضرورت کی چیز حاضر و موجود ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–58
آیت 55۔ 58
اس دن اہل جنت کا جو حال ہوگا یہ اس کی تصویر ہے۔ فرمایا کہ اس دن اہل جنت اپنی خالص دلچسپی میں مگن ہوں گے۔ ’ شغل ‘ کی تنکیر تفحیم شان کے لئے ہے۔
’ ھم وازواجھم الایۃ ‘۔ یہ ان کی بیویوں کا ذکر آیا ہے کہ وہ بھی ان کی دلچسپیوں میں شریک ہوں گی۔ ان کا ذکر خاص اہتمام سے اس لئے ضروری ہوا کہ آدمی کی کوئی دلچسپی اس وقت تک مکمل نہیں ہوتی جب تک اس کے اہل و عیال بھی اس میں شریک نہ ہوں۔ علی الارائک متکون۔ ‘ یہ سب سے اعلیٰ نشست کی تصویر ہے۔ اس زمانے میں بادشاہ اور ملکہ مزین تختوں پر ٹیک لگا کر بیٹھتے تھے۔ اہلِ جنت اپنی ابدی بادشاہی میں اسی طرح بیٹھیں گے۔
’ لھم فیھا فاکھۃ الایۃ ‘ اس میں ان کے آگے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–57
55۔ 1 فَاکِھُونَ کے معنی ہیں فَرِحُون خوش مسرت کے ساتھ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–64
18: کشتی جیسی دوسری سواری کی تشریح عام طور سے مفسرین نے اونٹوں سے کی ہے، کیونکہ اہل عرب اونٹوں کو صحرا کا جہاز کہا کرتے تھے۔ لیکن قرآن کریم کے الفاظ عام ہیں جس میں کشتی کے مشابہ ہر طرح کی سواریاں داخل ہیں، بلکہ عربی قواعد کی رو سے آیت کا ترجمہ اس طرح بھی کیا جاسکتا ہے کہ : ہم نے ان کے لیے اسی جیسی اور چیزیں بھی پیدا کی ہیں جن پر یہ (آئندہ) سواری کریں گے۔ اس صورت میں وہ تمام سواریاں اس عبارت میں داخل ہوجاتی ہیں جو قیامت تک پیدا ہوں گی، مثلاً آبدوزیں، اور ہوائی جہاز جو اس لحاظ سے کشتی کے مشابہ ہیں کہ کشتی پانی پر تیرتی ہے، اور ہوائی جہاز ہوا پر تیرتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–58
ان اصحب الجنۃ۔۔۔۔۔۔۔۔ من رب رحیم (55 – 58) ” “۔
یہ عیش و عشرت میں مشغول ہوں گے ، ان پر اللہ کے انعامات کی بارش ہوگی اور نہایت ہی خوشگوار چھاؤں میں بیٹھے ہوں گے۔ آمنے سامنے تختوں پر تکیے لگائے ہوئے ہوں گے اور وہ جنت کے مالک ہوں گے اور ان کا یہ حق ہوگا کہ جو چاہیں گے ، مہیا ہوگا اور ان لذائذ کے اوپر مزید ان کے اہل خانہ بھی ان کے ساتھ ہوں گے۔ اور ان کی تکریم ہوگی کہ خود اللہ تعالیٰ ان کے نام سلام بھیجے گا ۔ یہ رب کریم کی طرف سے ان کا اعزاز ہوگا۔
سلم قولا من رب رحیم (36: 58) ” رب رحیم کی طرف سے ان کو سلام کہا گیا ہے “۔ رہے کفار تو ان کے ساتھ حساب و کتاب یہاں نہیں دکھایا گیا بلکہ یہاں محض سرزنش…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–57
1 بہشت میں ہر قسم کے عیش و نشاط کا سامان ہوگا۔ دنیا کی مکروہات سے چھوٹ کر آج یہ ہی ان کا مشغلہ ہوگا۔ وہ اور ان کی عورتیں آپس میں گھل مل کر اعلیٰ درجہ کے خوشگوار سایوں میں مسہریوں پر آرام کر رہے ہوں گے۔ ہمہ قسم کے میوے اور پھل وغیرہ ان کے لیے حاضر ہوں گے۔ بس خلاصہ یہ ہے کہ جس چیز کی جنتیوں کے دل میں طلب اور تمنا ہوگی وہ ہی دی جائے گی، اور منہ مانگی مرادیں ملیں گی۔ یہ تو جسمانی لذائذ کا حال ہوا، آگے روحانی نعمتوں کی طرف " سلام قولا من رب رحیم " سے اک ذرا سا اشارہ فرماتے ہیں۔
Read the full tafseer →آیت 57 { لَہُمْ فِیْہَا فَاکِہَۃٌ وَّلَہُمْ مَّا یَدَّعُوْنَ } ”اس میں ان کے لیے تمام میوے ہوں گے اور ان کے لیے ہر وہ شے ہوگی جو وہ طلب کریں گے۔“
Read the full tafseer →52 یہاں اللہ تعالیٰ نے اپنی سنت کے مطابق مجرموں کے ساتھ اپنے فرمانبرداروں کا اور ان کے حسن اجر کا ذکر فرمایا اور ساتھ ہی یہ فرما دیا کہ مجرموں سے ابھی جواب طلبی اور حساب لینے کا کام باقی ہوگا مگر اس وقت اہل جنت، جنت میں داخل ہوچکے ہوں گے۔ ان میں سے کچھ ایسے ہوں گے جو بلاحساب کتاب جنت میں داخل ہوں گے اور بعض دوسروں سے آسان اور سرسری سا حساب لے کر انہیں جنت میں داخل کیا جاچکا ہوگا۔ وہاں وہ خوشحال زندگی گزار رہے ہوں گے۔ ٹھنڈی چھاؤں میں ان کے تخت بچھائے گئے ہوں گے وہ اور ان کی بیویاں آمنے سامنے تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے۔ ہر قسم کے میوے اور پھل ان کے پاس حاضر ہوں گے۔ علاوہ ازیں جس چیز کی بھی وہ آرزو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–57
38۔ (بلکہ بلاطلب بھی پاتے رہیں گے) نقشہ جنت کی غیر فانی راحتوں اور لاثانی آسائشوں کا پیش ہورہا ہے۔ (آیت) ” فی شغل “۔ شغل سے ہر وہ دل پسند مشغلہ مراد ہے جو ذوق کو بالکل گھیر لے۔ العارض الذی یذھل الانسان (راغب) ھو الشان الذی یصدر المرء ویشغلہ عما سواہ من شؤنہ لکونہ اھم عندہ من الکل (روح) اور انسان کے دل پسندمشغلوں کا نہ حصرممکن ہے نہ شمار۔ اور لفظ شغل کے صیغہ نکرہ سے مقصود بھی لذتوں کی وسعت واہمیت کا اظہار ہے۔ (آیت) ” مایدعون “۔ کی وسعت اطلاق و جامعیت قابل لحاظ ہے۔ جسمانی، دماغی، روحانی، ہر قسم کی ہر ممکن لذت، راحت، مسرت نعمت اس کے عموم میں آگئی، اہل جنت جو کچھ بھی چاہیں گے، جو کچھ بھی مانگیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–67
آیت نمبر 51 تا 67
ترجمہ : اور صور پھونکا جائے گا وہ (ایک) سینگ ہے، اور دوسرا صور زندہ کرنے کے لئے ہوگا اور دونوں نفخوں کے درمیان چالیس سال کا وقفہ ہوگا پھر جب وہ یعنی مردے قبروں سے نکل کر تیزی سے اپنے پروردگار کی طرف چلنے لگیں گے ان میں سے کافر کہیں گے، ہائے ہماری کمبختی یا تنبیہ کے لئے ہے ہائے ہماری ہلاکت، وَیْلٌ ایسا مصدر ہے کہ اس کا لفظی فعل نہیں آتا، کس نے ہم کو ہماری قبروں سے اٹھا یا ؟ اس لئے کہ وہ دونوں نفخوں کے درمیان سوئے ہوئے ہوں گے، ان کو عذاب نہ دیا جارہا ہوگا، یہ وہی (بعث) ہے جس کا رحمٰن نے وعدہ کیا تھا، اور رسول نے اس کے بارے میں سچ کہا تھا ایسے وقت اقرار کریں گے کہ ان کا اقرار…
Read the full tafseer →لھم فیھا فاکھۃ ولھم ما یدعون . ان کیلئے وہاں (ہر قسم کے) میوے ہوں گے اور جو کچھ طلب کریں گے وہ ان
کو ملے گا۔
یعنی اپنے لئے جو کچھ مانگیں گے ان کو ملے گا۔ اس ترجمہ پر لفظ یدعون دعاء (طلب) سے ماخوذہو گا۔
مَا یَدَّعُوْنَ - اِدَّعَ عَلَیَّ مَا شِئت سے ماخوذ ہے ‘ یعنی جس چیز کی ان کو تمنا ہوگی ان کو ملے گی ‘ یا یہ مطلب ہے کہ دنیا میں جس جنت اور مراتب جنت کی آرزو اور طلب تھی وہ ان کو ملے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–58
(57۔ 58) ان کے لیے جنت میں ہر طرح کے پھل ہوں گے اور جو کچھ وہاں مانگیں گے اور جس چیز کی خواہش کریں گے وہ انہیں ملے گی اور ان کو پروردگار مہربان کی طرف سے سلام فرمایا جائے گا۔
Read the full tafseer →لَهُمْ فِيْهَا فَاكِهَةٌ وَّلَهُمْ مَّا يَدَّعُوْنَ : ”فَاكِهَةٌ“ میں تنوین تکثیر کے لیے ہے، یعنی ان کے لیے جنت میں بہت سے پھل ہوں گے اور انھیں ہر وہ چیز ملے گی جس کی وہ تمنا کریں گے اور مانگیں گے۔ یہ تو جسمانی لذتوں کا حال ہوگا، روحانی لذتوں میں سب سے اونچی لذت کا ذکر اگلی آیت میں فرمایا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–59
حضرت ابن مسعود ‘ حضرت ابن عباس ‘ قتادہ ارمجاہد نے کہا : باکرہ عورتوں کے ساتھ حقوق زوجیت نے انہیں غافل کردیا ہوگا۔ ترمذی حکیم نے اپنی کتاب ” مشکل القرآن “ میں یہ روایت ذکر کی ہے کہ ہمیں محمد بن حمیدرازی نے انہوں نے یعقوب قومی سے انہوں نے حفص بن حمید سے انہوں نے شمسر بن عطیہ سے ‘ انہوں نے شفیق بن سلمہ سے انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے یہ روایت نقل کی ہے کہ باکرہ بیویوں سے حقوق زوجیت نے انہین مشغول کر رکھا ہو (1) ۔
محمد بن حمید ‘ ہارون بن مغیرہ سے وہ نہشل سے وہ ضحاک سے وہ حضرت ابن عباس ؓ سے اس کی مثل روایت کرتے ہیں۔
ابو قلابہ نے کہا : اسی اثنا میں کہ ایک جنتی اپنے اہل کے ساتھ مصروف ہوگا کہ…
Read the full tafseer →1:۔ ابن ابی الدنیا نے صفۃ الجنۃ میں سند میں سند جید کے ساتھ ابوامامہ ؓ سے روایت کیا کہ جنت والوں میں سے ایک آدمی جنت کی شراب میں سے ایک شراب کی خواہش کرے گا تو اس کے پاس ایک لوٹا لایا جائے جو اس کے ہاتھ میں رکھادیا جائے گا وہ اس میں سے پیئے گا پھر وہ اپنی جگہ واپس لوٹ جائے گے۔
Read the full tafseer →لَهُمْ فِيْهَا [ان کے لئے ہوگا اس میں ] فَاكِهَةٌ [پھل ] وَّلَهُمْ مَّا [اور ان کے لئے ہوگاوہ جو ] يَدَّعُوْنَ [وہ مانگیں گے ] ۔
ک ہـ
(س) فکہا خوش طبع، ہنسنے ہنسانے والا ہونا۔
فکہ صفت ہے۔ خوش طبع۔ خود پسند۔ اکڑ باز۔ وَاِذَا انْقَلَبُوْٓا اِلٰٓى اَهْلِهِمُ انْقَلَبُوْا فَكِهِيْنَ (اور جب بھی وہ پلٹتے ہیں اپنے گھر والوں کی طرف پلٹتے ہوئے) 83/31 ۔
فاکہ اسم الفاعل ہے۔ ینسنے ہنسانے والا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 55
فاکہۃ ج فواکہ۔ یہ فاکہ کا مؤنث ہے۔ ہر قسم کا پھل جس کو کھا کر طبیعت خوش ہو۔ زیر مطالعہ آیت، 57 ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–57
مزید فرمایا (لَہُمْ فِیْہَا فَاکِہَۃٌ وَّلَہُمْ مَّا یَدَّعُوْنَ ) (اس میں ان کے لیے میوے ہوں گے اور جو کچھ طلب کریں گے انہیں وہ ملے گا) اس میں یہ بتادیا کہ اہل جنت کی جن نعمتوں کا صریح طور پر تذکرہ کردیا گیا ہے صرف انہی نعمتوں میں انحصار نہیں ہے، وہ لوگ وہاں جو کچھ بھی طلب کریں گے سب کچھ حاضر کردیا جائے گا۔ سورة الزخرف میں فرمایا (وَفِیْہَا مَا تَشْتَہِیْہِ الْاَنْفُسُ وَتَلَذُّ الْاَعْیُنُ ) (اور اس میں وہ چیزیں ملیں گی جن کی ان کے نفسوں کو خواہش ہوگی اور جن سے آنکھوں کو لذت ہوگی۔ )
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–76
منکرین حشر ونشر کی تہدید اور وعید
قال اللہ تعالیٰ ویقولون متی ھذا الوعد۔۔۔ الی۔۔۔ انا نعلم ما یسرون وما یعلنون۔
(ربط) گذشتہ آیات میں زیادہ تر دلائل توحید کا ذکر تھا اور اس سے ذرا پہلے وان کل لما جمیع لدینا محضرون میں مسئلہ حشر ونشر کا ذکر تھا اب پھر مسئلہ حشرونشر کی طرف رجوع فرماتے ہیں اور ان کا ایک سوال نقل فرماتے ہیں ویقولون متی ھذا الوعد ان کنتم صدقین : یعنی یہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ قیامت کا وعدہ کب پورا ہوگا اللہ تعالیٰ نے اس کے جواب میں اس کے وقت کے اظہار سے مصلحۃً اعراض فرمایا اور اجمالی طور پر صرف اتنا بتا دیا کہ قیامت نا گہاں آئے گی جب لوگ اپنے کاروبار میں مصروف ہوں گے ناگہاں صور پھونکا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–59
36:۔ وامتازو الخ :۔ یہ اہل جنت کے مقابلے میں اہل جہنم کا ذکر ہے اور تخویف اخروی ہے۔ میدان حشر میں کفار و مشرکین کو علی رؤوس الخلائق حکم ہوگا اے مجرمو ! نیک لوگوں سے الگ ہوجاؤ اور ایک طرف اپنی صفیں بنا لو۔ الم اعہد الخ، کفار و مشرکین کی حسرت و ندامت میں اضافہ کرنے کے لیے ان سے کہا جائے گا۔ اے اولادِ آدم ! کیا میں نے اپنے پیغمبروں کی وساطت سے تمہیں یہ پیغام نہیں دیا تھا کہ شیطان کی پیروی نہ کرنا اور اس کے فریب میں آ کر میرے ساتھ شرک نہ کرنا۔ کیونکہ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے اور صرف میری ہی عبادت کرنا اور میری عبادت اور پکار میں کسی کو شریک نہ کرنا اور کسی کو میرے یہاں شفیع غالب نہ سمجھنا۔ اعبدونی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–59
ربط آیات
اپنی آیات قدرت بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے کفار و مشرکین کی مذمت بیان فرمائی اور یہ بھی کہ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ آگے پیش آنے والے حالات کے لیے کچھ تیاری کرلو ، اور جو اعمال پیچھے چھوڑ آئے ہو ان کے متعلق بھی غور و فکر کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے تو یہ لوگ نشانات قدرت دیکھ کر بھی ایمان نہیں لاتے بلکہ الٹا اعتراض کرنے لگتے ہیں۔ پھر اللہ نے ان میں سے مالداروں کی حالت کا ذکر بھی کیا کہ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ کی عطا کردہ روزی میں سے غرباء اور مساکین پر بھی خرچ کرو تو کہتے ہیں کہ جن کو خود خدا تعالیٰ بھوکا رکھنا چاہتا ہے یعنی ان کو نادار بنایا ہے ، بھلا ہم ان کی اعانت کریں۔ اللہ…
Read the full tafseer →لَہُمْ فِيْہَا فَاكِہَۃٌ وَّلَہُمْ مَّا يَدَّعُوْنَ 57ۚۖ
فكه
الفَاكِهَةُ قيل : هي الثّمار کلها، وقیل : بل هي الثّمار ما عدا العنب والرّمّان . وقائل هذا كأنه نظر إلى اختصاصهما بالذّكر، وعطفهما علی الفاکهة . قال تعالی: وَفاكِهَةٍ مِمَّا يَتَخَيَّرُونَ
[ الواقعة/ 20] ، وَفاكِهَةٍ كَثِيرَةٍ [ الواقعة/ 32] ، وَفاكِهَةً وَأَبًّا [ عبس/ 31] ، فَواكِهُ وَهُمْ مُكْرَمُونَ [ الصافات/ 42] ، وَفَواكِهَ مِمَّا يَشْتَهُونَ [ المرسلات/ 42] ، والفُكَاهَةُ :
حدیث ذوي الأنس، وقوله : فَظَلْتُمْ تَفَكَّهُونَ«1» قيل : تتعاطون الفُكَاهَةَ ، وقیل :
تتناولون الْفَاكِهَةَ. وکذلک قوله : فاكِهِينَ بِما آتاهُمْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–61
فقال ان اصحب الجنۃ الخ کہ نیک لوگ بہشت میں عیش و آرام کریں گے۔ یہ جنت جسمانی کی طرف اشارہ تھا۔ سلم قولاً من رب رحیم یہ روحانی جنت کی طرف اشارہ ہے کہ اللہ کی طرف سے ان کو سلام پہنچے گا۔ ان پر تجلی ہوگی اور دیدار سے سرفرازی بخشی جاوے گی جو سرور ابدی ہے۔ اس کے بعد بدوں کا حال بیان فرماتا ہے۔ وامتازوا الیوم کہ مجرموں کو سزا دینے کے لیے جماعت سے الگ کردینے کا حکم ہوگا اور ان کو ملامت کی جاوے گی کہ دیکھو ہم نے تم سے کہلا بھیجا تھا کہ شیطان کا کہنا نہ ماننا، وہ تمہارا صریح دشمن ہے اور خاص میری عبادت کرنا یہ سیدھا رستہ ہے، مگر تم نے نہ مانا، آج اس بلا میں گرفتار ہوئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–58
اِنَّ اَصْحٰبَ الْجَنَّۃِ الْیَوْمَ فِیْ شُغُلٍ فٰـکِھُوْنَ ۔ ھُمْ وَاَزْوَاجُہُمْ فِیْ ظِلٰـلٍ عَلَی الْاَرَآئِکِ مُتَّـکِئُوْنَ ۔ لَہُمْ فِیْھَا فَاکِھَۃٌ وَّلَہُمْ مَّایَدَّعُوْن۔ سَلٰمٌ قف قَوْلًا مِّنْ رَّبٍّ رَّحِیْمٍ ۔ (یٰسٓ: 55 تا 58)
(بےشک آج جنت والے اپنی دلچسپیوں میں مشغول ہوں گے۔ وہ اور ان کی بیویاں گھنے سایوں میں تختوں پر تکیہ لگائے ہوئے ہوں گے۔ ان کے لیے اس میں میوے ہوں گے اور ان کے لیے وہ سب کچھ ہوگا جو وہ طلب کریں گے۔ ربِ رحیم کی طرف سے ان کے لیے سلام ہوگا۔ )
اہلِ جنت پر نوازشات
عدالت کی کارروائی شروع ہوگی تو سب سے پہلے ان مخلص وفاداروں کو یاد کیا جائے گا جنھوں نے زندگی کا ہر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–59
فہم القرآن
ربط کلام : جنتیوں کو جنت میں داخل کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ کا جہنمیوں کو خطاب۔
محشر کے میدان میں جہنمیوں کو جنتیوں سے الگ کردیا جائے گا۔ بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ اس موقعہ پر جہنمیوں کو ان کے جرائم کے مطابق گروہوں میں تقسیم کردیا جائے گا۔ قرآن مجید کی دوسری آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ اگلے مرحلے میں ہوگا۔ کیونکہ قرآن مجید کا سیاق وسباق بتلا رہا ہے کہ اس موقعہ پر تمام جہنمیوں کو اجتماعی خطاب ہوگا جس میں رب ذوالجلال انہیں وہ عہد یاد دلائیں گے جو عالم ارواح میں پوری بنی نوع انسان سے لیا تھا۔
” اور جب آپ کے رب نے آدم کے بیٹوں سے ان کی پشتوں میں سے ان کی اولاد کو نکالا اور انہیں خود ان کی…
Read the full tafseer →نمبر : 3
57: لَھُمْ فِیْھَا فَاکِھَۃٌ وَّ لَھُمْ مَّا یَدَّعُوْنَ (ان کے لئے وہاں میوے ہونگے اور جو کچھ مانگیں گے ان کو ملے گا) ۔
نحو وصرف : یدعون یہ باب افتعال از دعاء ہے جو اہل جنت مانگیں وہ ان کے پاس آجائے گا۔ یا جو وہ تمنا کریں گے اہل عرب کہتے ہیں۔ ادّع عَلَیّ ماشئت ای تمنہ علی۔ جو تمنا کرو۔ فراء نحوی کہتے ہیں : یہ الدعوی سے ہے وہ اس چیز سے نہ مانگیں گے جس کے حقدار نہ ہونگے۔
Read the full tafseer →57، لھم فیھا فاکھۃ ولھم مایدعون، وہ تمنا اور اس کو چاہتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–64
54 تا 64۔ اوپر دوسرے صور کی آواز سن کر اللہ تعالیٰ کے روبرو حاضر ہوجانے کا ذکر تھا اب اس کے نتیجے کا ذکر فرمایا۔ صحیح مسلم کے حوالہ سے ابوذر ؓ کی روایت سے حدیث قدسی کئی جگہ گزر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ظلم اپنی ذات پاک پر حرام کرلیا ہے اسی واسطے فرمایا کہ قیامت کے دن کسی پر کچھ ظلم نہ ہوگا مطلب یہ ہے کہ نیکیوں کے ثواب میں کمی نہ ہوگی اور بدی کی سزا جرم کی حیثیت سے بڑھ کر نہ دی جاویگی اب آگے جنتیوں اور دوزخیوں کا ذکر فرمایا کیوں کہ دنیا کا پیدا ہونا اور حشر کا قائم ہونا سب اسی نتیجہ کے لیے تھا۔ جنتیوں کے حال کا خلاصہ یہ ہے کہ وہ اور ان کی بیبیاں طرح طرح کی نعمتوں کے مشغلہ میں لگے ہوئے ہوں گے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–58
آیت 55
جب اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرما دیا کہ ہر شخص کو صرف اس کے اعملا کی جزا ملے گی تو دونوں ریقوں کی جزا اور سزا کا ذکر بھی کیا۔ پہلے اہل جنت کی جزا کا ذکر کرتے ہوئے آگاہ فرمایا کہ اہل جنت اس روز (فی شغل فکھون) ” لطف اٹھانے میں مشغول ہوں گے “ یعنی ایسے مشاغل میں مشغول ہوں گے جن سے نفس کو لطف اور لذت محسوس ہوگی، ہر ایسی چیز میں مشغول ہوں گے جو نفس چاہیں گے، آنکھیں جس سے لذت حاصل کریں گی اور تمنا کرنے والے تمنا کریں گے۔ ان نعمتوں میں خوبصورت دو شیزاؤں سے ملاقات شامل ہے، جیسا کہ فرمایا : (آیت) ” وہ اور ان کی بیویاں “ خوبصورت آنکھوں والی جو خوبصورت چہروں اور خوبصورت بدنوں والی ہونے کے ساتھ ساتھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–67
قول باری ہے (وخلقنا لھم من مثلہ ما یرکبون اور ہم نے ان کے لئے اسی کشتی جیسی چیزیں اور بھی پیدا کی ہیں جس پر یہ سوار ہوتے ہیں) حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے ” یعنی حضرت نوح (علیہ السلام) کی کشتی کے بعد دوسری کشتیاں “۔ حضرت ابن عباس ؓ سے ایک اور روایت بھی ہے اور مجاہد سے بھی کہ اونٹ خشکی کے جہاز ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–58
58 اہل جنت کے لیے ایک اور انعام واعزاز کا ذکر : سو اس سے اہل جنت کے لیے ربِّ رحیم کی طرف سے سلام کے ایک اور عظیم الشان اور بےمثال انعام و اکرام کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ انکو سلام کہا جائے گا ربِّ رحیم کی طرف سے ۔ سبحان اللہ !۔ کیا کہنے اس نعمت اور اس کرم کے۔ دنیا میں اگر کوئی بادشاہ کسی شخص کو سلام بھیج دے تو وہ خوشی سے پھولا نہیں سماتا۔ اور یہاں بات کسی بادشاہ کی نہیں بلکہ بادشاہوں کے بادشاہ ملک الملوک اور بادشاہ حقیقی کی طرف سے سلام کرنے کی ہے کہ ان کو وہاں پر اس احکم الحاکمین اور ربِّ رحیم کی طرف سے سلام فرمایا جائے گا ۔ فَشَرِّفْنَا بِہٖ یَا اَکْرَمَ الاکرمین ۔ سو یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–74
حشر کا میدان اور نیک و بد کا انجام
تشریح : یہاں کفار مکہ کا اور آج کل کے ملحد وغیرہ لوگوں کا ذکر ہے کہ وہ قیامت کو ناقابل یقین سمجھتے ہوئے کہتے ہیں کہ کب آئے گی قیامت ؟ قیامت جب آئے گی تو اتنی اچانک اور شدید ہوگی کہ کسی کو سمجھ میں ہی نہ آئے گا کہ کیا ہوگیا ہے۔ قیامت سے پہلے چھوٹی قیامت یں اور ہلکے پھلے عذاب تو انسانوں کی نافرمانی کی وجہ سے آتے رہتے ہیں جن کا مقصد انسانوں کو جھنجھوڑنا ہوتا ہے۔ کہیں طوفان بادو باراں، کہیں زلزلہ اور کہیں کسی دوسری شکل میں آفات ارضی و سماوی۔ اسی طرح بڑی اور فیصلہ کن قیامت پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی مگر یہ بھی صرف اس دنیا کی قیامت ہوگی پوری کائنات قائم و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–67
رکوع نمبر 4 ۔ آیات 51 تا 67:
اسرار و معارف :
چنانچہ جب دوبارہ صور پھونکا جائے گا تو اپنی اپنی قبروں سے اٹھ کر اللہ کے حضور چل پڑیں گے یعنی وہ ایسا قادر ہے کہ ایک چنگھاڑ سے ہر شے تباہ کردے گا تو پھر ایک چنگھاڑ یا سخت آواز ہی سب مردہ جسموں کے ذرات کو یکجا کرکے زندہ بھی کردے گی اور ہر فرد چاہے یا نہ چاہے مگر رواں اللہ کی بارگاہ کی طرف ہی ہوگا جہاں سب کی پیشی ہوگی تب پریشان حال یہ کہہ رہے ہوں گے کہ ہمیں کس نے اٹھا دیا اگرچہ برزخ میں بھی کفار عذاب میں ہوں گے۔ مگر میدان حشر کی ہیبت کے سامنے کہیں گے یہاں سے وہاں ہی ٹھیک تھے یہ کس نے ہمیں ان ٹھکانوں سے نکال کھڑا کیا ہے تو جواب آئے گا فرشتے یا مومنین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–59
ف 9 یعنی ان سے ہٹ کر کھڑے ہو تمہارا ان سے کوئی تعلق نہیں رہا۔ یا ( آپس میں ایک دوسرے سے) الگ ہوجائو “۔ چناچہ یہود و نصاریٰ ، مجوس اور مشرک سب ایک دوسرے سے الگ ہوجائیں گے۔ ( دیکھئے روم : 14، یونس 28)
Read the full tafseer →(36:57) ولہم ما یدعون۔ وائو عاطفہ ہے ما مبتدا موخر ما موصولہ ہے۔ اور بعد کا جملہ اس کا صلہ ہے لہم خبر مقدم یدعون مضارع کا صیغہ جمع مذکر غائب ہے ادعاء (افتعال) مصدر یدعون اصل میں ید تعیون تھا (بروزن یفتعلون) یا کا ضمہ ماقبل کر دے دیا یا اور وائو دو ساکن اکٹھے ہوگئے اجتماع ساکنین کی وجہ سے یا گرگئی تا کو دال سے بدلا اور دال کو دال میں مدغم کیا یدعون ہوگیا۔ الادعاء کے معنی کسی چیز کے متعلق دعوی کرنے کے ہیں کہ یہ میری ہے اور جنگ میں ادعاء کے معنی اپنے کو کسی کی طرف منسوب کرنے کے ہیں (کہ میں فلاں قوم سے ہوں یا فلاں کا بیٹا ہوں وغیرہ) ۔ یہاں یدعون بمعنی یدعون (افتعل بمعنی فعل استعمال ہوا ہے ) ای ما…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–68
لغات القرآن : آیت نمبر 55 تا 68 :۔ شغل ( مشغلے) فکھون ( دل لگی کرنے والے) متکون (تکیہ لگا کر بیٹھنے والے) یدعون ( وہ پکاریں گے ، خواہش کریں گے) امتازوا ( تم الگ ہو جائو) جبلا ( جماعت ، لوگوں کا گروہ) نختم ( ہم مہر لگا دیں گے) افواہ ( فوہ) (منہ) تشھد ( گواہی دیں گے) طمسنا ( ہم سجھائی دیتے) مضیا (چلنا) نعمرہ ( ہم زیادہ عمر دیتے ہیں اس کو) ننکسہ ( ہم اوندھا کردیتے ہیں اس کو)
تشریح : آیت نمبر 55 تا 68 :۔ جہنم والوں کی سزا بیان کرنے کے بعد اب جنت والوں کی جزا اور بدلہ کا بیان کیا جا رہا ہے کہ اہل جنت کس قدر خوش و خرم اور اللہ کی نعمتوں سے لطف اندوز ہو رہے ہوں گے ۔ جنت کیا ہے ؟ اس دنیا میں رہ کر اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–64
جنتیوں اور دوزخیوں کا انجام۔
(ف 2) ان آیتوں میں جنتیوں اور دوزخیوں کا ذکر فرمایا ، کیونکہ دنیا کا پیدا ہونا اور حشر کا قائم ہونا سب اسی کا نتیجہ کے لیے تھا جنتیوں کے حال کا خلاصہ یہ ہے کہ وہ اور ان کی بیبیاں طرح طرح کی نعمتوں کے مشغلہ میں لگے ہوئے ہوں گے جنت کے مکانوں اور درختوں کے سایہ کی ٹھنڈک میں چھپڑ کھٹوں کے گدوں ، یا ان کے فرشوں پر تکیہ لگائے ہوئے بیٹھے ہوں گے اور طرح طرح کے میوے اور جس چیز کو ان کو جی چاہے گا وہ سب کچھ وہاں موجود ہوجائے گا، اور ان کو پروردگار کی طرف سے السلام علیکم فرمایا جائے گا اور جس وقت کہ مسلمان اور گناہ گار جمع ہوں گے اس وقت اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائے گا کہ اے گناہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–59
[20] یعنی قیامت ناگہاں آن پڑے گی اور لوگ اپنے معاملات میں غرق ہوں گے۔ جس وقت پہلے صور کی چنگھاڑ بلند ہوگی تمام انسان مر کر ڈھیر ہوجائیں گے۔ ان کو اتنی بھی فرصت نہ ملے گی کہ مرنے سے پہلے کسی کو کچھ کہنا چاہیں تو کہہ گزریں، یا جو گھر سے باہر تھے وہ گھر واپس جاسکیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–58
نرسنگا پھونکا جائے گا
1: نفحہ ثانثہ مردہ قالبوں میں زندگی پیدا کردے گا ۔ اور قرنوں سے تیل نکل کر خدا کے حضور میں پہنچنے لگیں گے ۔ اور قبروں سے تیل نکل کر خدا کے حضور میں پہنچنے لگیں گے ۔ اس وقت یہ لوگ حیرت وتعجب سے کہیں گے ، کہ ہم کو ان خواب گاہوں سے کس نے اٹھا دیا ۔ ارشاد ہوگا ۔ کہ یہ وہی قیامت ہے ۔ جس کا ہم سب سے رحمن نے وعدہ کیا تھا ۔ اور پیغمبر سچ کہتے تھے ۔ ہوسکتا ہے کہ صور کی آواز بذاتہ موت اور زندگی پیدا کرنے میں موثر ہو ۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے ۔ کہ یہ آواز محض ایک نوع کا اعلان ہو ۔ اور موخر دوسرے اسباب ہوں ۔ بہرحال جہاں تک قرآن حکیم کا تعلق ہے ۔ اس میں اس حقیقت شرعیہ کو تفصیل کے ساتھ…
Read the full tafseer →(57) اہل جنت کیلئے اس جنت میں ہر قسم کے میوے ہوں گے اور وہ جو کھ مانگیں گے اور جس چیز کی وہ تمنا کریں گے وہ ان کو وہاں ملے گا اور میسر ہوگا۔ یعنی ہر چیز حسب طلب میسر ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–57
ف 5۔ ازواجھم میں حوریں اور ازواج مومنات دونوں مراد ہوسکتی ہیں۔
Read the full tafseer →ان کے لیے ہر طرح کے پھل ہوں گے اور وہ بھی جو وہ مانگیں گے :
57۔ (ادعا) اس مانگنے کو نہیں کہتے جس کے لیے کہیں درخواستیں دینی پڑیں اور منظوری حاصل کرنی پڑے ۔ (ادعا) وہ مانگنا ہے کہ طلب پیدا ہوئی اور جس چیز کی طلب پیدا ہوئی تو وہ اسی وقت حاضر ہوگئی ، زیر نظر آیت ہمیں بتا رہی ہے کہ ان کی خواہش میں جو چیز آئے گی ان کو حاضر کردی جائے اور جو وہ مانگیں گے وہ پیش کیا جائے گا اور یہ کسی کو معلوم نہیں کہ بعض اوقات انسان کی طلب اس میں خوشی محسوس کرتی ہے کہ کوئی اس کو پیش کرنے والا ہو اور کوئی ایسا مقام بھی ہوتا ہے کہ اس کی خواہش میں ہوتا ہے کہ اس تنہائی کے عالم میں کوئی بھی دوسرا پاس نہ ہو بس ہو تو وہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–58
The word: يَدَّعُونَ (yadda’ un) appearing in verse 57: وَلَهُم مَّا يَدَّعُونَ (wa lahum ma yadda un) is a derivation from: دَعوَیٰ (da'wah) which means to call, that is, the thing the people of Jannah will call or wish to have, will come to them. The Qur'an has not used the word: يَسْأَلُونَ Yas’ alun: they ask) at this place, because having something after having asked for it is also a sort of exertion, something the Jannah will be free from, in fact, it will be a place where everything needed will be ready and present.
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–58
51 To understand this one should remember that the righteous believers will not be withheld in the Plain of Resurrection, but in the very beginning they will be sent to Paradise without accountability, or after a mild reckoning, because their record will be clean. There will be no need to keep them waiting during the hearing by the Court. Therefore, Allah will tell the culprits, who will be required to render their accounts, in the Plain of Resurrection: "Look ! the righteous people whom you used to mock and regard as foolish in the world, are today enjoying the pleasures of Paradise because…
Read the full tafseer →