Yaseen 36:63

Yaseen · from ayah 63

36:63

هٰذِهٖ جَهَنَّمُ الَّتِیْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ ۟هٰذِهٖ جَهَنَّمُ الَّتِىۡ كُنۡتُمۡ تُوۡعَدُوۡنَ‏

یہی وہ جہنم ہے جس کی تمہیں خبر دی جاتی ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

This is the Hellfire which you were promised.

— Saheeh International

Juz 23 · Ruku 4 of surah · Ruku 3 of juz

Read the whole surah · Surah Yaseen

All translations of 36:63

یہ وہی جہنم ہے جس سے تم کو ڈرایا جاتا رہا تھا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

یہی وہ جہنم ہے جس کی تمہیں خبر دی جاتی ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

یہی وه دوزخ ہے جس کا تمہیں وعده دیا جاتا تھا

— مولانا محمد جوناگڑہی

یہ ہے وہ جہنم جس سے تمہیں ڈرایا جاتا تھا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

یہ ہے وہ جہنم جس کا تم سے وعدہ تھا،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

یہ وہی دوزخ ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا رہا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

یہ ہے وہ جہنم جس کا تم وعدہ دیے جاتے تھے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

یہ ہے وہ جہنم جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

یہ ہے وہ جہنم جس سے تم کو ڈرایا جاتا رہا ہے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

یہ ہے وہ جہنم جس سے تم کو ڈرایا جاتا تھا

— مولانا اسحاق مدنی

یہی ہے جہنم جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اب یہ جہنم حاضر ہے جس کا تم کو وعدہ دیا جاتا تھا

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

یہی وہ جہنم ہے جس کی تمہیں خبر دی جاتی تھی۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Now this is the Hell of which you were warned.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

(Now) this is the Jahannam of which you were consistently warned.

— Muhammad Taqi Usmani

(Now) this is the Jahannam of which you were consistently warned.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

This is Hell which you were promised!

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

This is hell which ye were promised (if ye followed him).

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

This is the Hellfire which you were promised.

— Saheeh International

This is hell with which you were threatened.

— Muhammad Sarwar

This is the hell with which you were threatened.

— Muhammad Habib Shakir

Yonder is Hell, which ye were promised.

— Abdul Majid Daryabadi

"This is the Hell of which ye were (repeatedly) warned!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 36:63

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 63–67

اعضاء کی گواہی۔ جہنم بھڑکتی ہوئی اور شعلے مارتی ہوئی چیختی ہوئی اور چلاتی ہوئی سامنے ہوگی اور کفار سے کہا جائے گا کہ یہی وہ جہنم ہے جس کا ذکر میرے رسول کیا کرتے تھے جس سے وہ ڈرایا کرتے تھے اور تم انہیں جھٹلاتے تھے۔ لو اب اپنے اس کفر کا مزہ چکھو اٹھو اس میں کود پڑو، چناچہ اور آیت میں ہے (یوم یدعون) الخ، جس دن یہ جہنم کی طرف دھکیلے جائیں گے اور کہا جائے گا یہی وہ دوزخ ہے جس کا انکار کرتے رہے ہو۔ بتاؤ تو یہ جادو ہے ؟ یا تم اندھے ہوگئے ہو ؟ قیامت والے دن جب یہ کفار اور منافقین اپنے گناہوں کا انکار کریں گے اور اس پر قسمیں کھا لیں گے تو اللہ ان کی زبانوں کو بند کر دے گا اور ان کے بدن کے اعضاء سچی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 62–64

سورة یٰسٓ 54 یعنی اگر تم عقل سے محروم رکھے گئے ہوتے اور پھر اپنے رب کو چھوڑ کر اپنے دشمن کی بندگی کرتے تو تمہارے لیے عذر کی کوئی گنجائش تھی۔ لیکن تمہارے پاس تو خدا کی دی ہوئی عقل موجود تھی جس سے تم اپنے دنیا کے سارے کام چلا رہے تھے۔ اور تمہیں خدا نے اپنے پیغمبروں کے ذریعہ سے متنبہ بھی کردیا تھا۔ اس پر بھی جب تم اپنے دشمن کے فریب میں آئے اور وہ تمہیں گمراہ کرنے میں کامیاب ہوگیا تو اپنی اس حماقت کی ذمہ داری سے تم کسی طرح بری نہیں ہو سکتے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 60–64

(آیت) الم اعھد الکم بینی آدم ان لا تعبدوالشیطن، یعنی تمام بنی آدم کو (بلکہ جناب کو بھی) مخاطب کر کے قیامت میں کہا جائے گا کہ کیا میں نے دنیا میں تم کو یہ ہدایت نہ کی تھی کہ تم شیطان کی عبادت نہ کرنا۔ یہاں سوال یہ ہوتا ہے کہ کفار عموماً شیطان کی تو عبادت نہ کرتے بتوں کو یا دوسری چیزوں کو پوجتے تھے، اس لئے ان پر عبادت شیطان کا الزام کیسے عائد ہوا ؟ جواب یہ ہے کہ کسی کی اطاعت مطلقہ کرنا کہ ہر کام ہر حال میں اس کا کہنا مانے اسی کا نام عبادت ہے چونکہ ان لوگوں نے ہمیشہ شیطانی تعلیم ہی کی پیروی کی، اس لئے ان کو عابد شیطان کہا گیا۔ جیسا کہ حدیث میں اس شخص کو جو مال یا بیوی کی محبت میں آ کر ہر وہ کام…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 63–65

آیت 63۔ 64 یعنی اگر تم نے میرے عہد اور میری تنبیہ کو یاد نہیں رکھا تو اس کا انجام اب اس جہنم کی صورت میں تمہارے سامنے ہے۔ اس سے میرے رسول اور میرے نیک بندے تم کو ڈراتے رہے لیکن تم برابر ان کی باتوں کا انکار کرتے رہے۔ اب اس میں داخل ہو، یہی تمہارا ٹھکانا ہے۔ آیت 65 اوپر کی آیات میں اسلوبِ کلام خطاب کا تھا، اس آیت میں غائب کا ہوگیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اوپر کی آیات میں زجرو ملامت ہے جس کے لئے موزوں اسلوب خطاب ہی کا ہے اور اس آیت میں ان کی بےبسی کی تصویر ہے جس کے لئے غائب کا اسلوب زیادہ موزوں ہے۔ فرمایا کہ آج کے دن ہم ان کے مونہوں پر مہر کردیں گے اور ان کے ہاتھ اور پائوں کو ناطق بنا دیں گے جو…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 62–63

62۔ 1 یعنی اتنی عقل بھی تمہارے اندر نہیں کہ شیطان تمہارا دشمن ہے، اس کی اطاعت نہیں کرنی چاہئے۔ اور میں تمہارا رب ہوں، میں ہی تمہیں روزی دیتا ہوں اور میں ہی تمہاری رات دن حفاظت کرتا ہوں لہذا تمہیں میری نافرمانی نہیں کرنی چاہیے۔ تم شیطان کی عداوت کو اور میرے حق عبادت کو نہ سمجھ کر نہایت بےعقلی اور نادانی کا مظاہرہ کر رہے ہو۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 42–64

18: کشتی جیسی دوسری سواری کی تشریح عام طور سے مفسرین نے اونٹوں سے کی ہے، کیونکہ اہل عرب اونٹوں کو صحرا کا جہاز کہا کرتے تھے۔ لیکن قرآن کریم کے الفاظ عام ہیں جس میں کشتی کے مشابہ ہر طرح کی سواریاں داخل ہیں، بلکہ عربی قواعد کی رو سے آیت کا ترجمہ اس طرح بھی کیا جاسکتا ہے کہ : ہم نے ان کے لیے اسی جیسی اور چیزیں بھی پیدا کی ہیں جن پر یہ (آئندہ) سواری کریں گے۔ اس صورت میں وہ تمام سواریاں اس عبارت میں داخل ہوجاتی ہیں جو قیامت تک پیدا ہوں گی، مثلاً آبدوزیں، اور ہوائی جہاز جو اس لحاظ سے کشتی کے مشابہ ہیں کہ کشتی پانی پر تیرتی ہے، اور ہوائی جہاز ہوا پر تیرتا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 59–64

وامتاز والیوم ایھا۔۔۔۔ بما کنتم تکفرون (59 – 64) “۔ ان لوگوں کی تواضع حقارت اور توہین سے کی جائے گی۔ وامتازوالیوم ایھا المجرمون (36: 59) ” اور اے مجرمو ، آج تم چھٹ کر الگ ہو جاؤ “۔ تم اہل ایمان سے دور ہو کر الگ ہوجاؤ۔ الم اعھد۔۔۔۔ عدو مبین (36: 60) ” آدم کے بچو ، کیا میں نے تم کو ہدایت نہ کی تھی کہ شیطان کی بندگی نہ کرو ، وہ تمہارا کھلا دشمن ہے “۔ ” آدم کے بچو ! “ کے الفاظ سے پکار کر ان کو شرمندہ کیا گیا ہے ، اس لیے کہ شیطان نے ان کے باپ کو جنت سے نکالا تھا ، اس کے باوجود تم اس کی بندگی کرتے ہو حالانکہ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔ وانہ اعبدونی ۔۔۔ مستقیم (36: 61) ” میری بندگی کرو ، یہ سیدھا راستہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 62–64

5 یعنی افسوس اتنی نصیحت و فہمائش پر بھی تم کو عقل نہ آئی اور اس ملعون نے ایک خلقت کو گمراہ کر چھوڑا کیا تمہیں اتنی سمجھ نہ تھی کہ دوست دشمن میں تمیز کرسکتے۔ اور اپنے نفع و نقصان کو پہچانتے۔ دنیا کے کاموں میں تو اس قدر ہوشیاری اور ذہانت دکھلاتے تھے مگر آخرت کے معاملہ میں اتنے غبی بن گئے کہ موٹی موٹی باتوں کے سمجھنے کی لیاقت نہ رہی۔ اب اپنی حماقتوں کا خمیازہ بھگتو۔ یہ دوزخ تیار ہے جس کا بصورت کفر اختیار کرنے کے تم سے وعدہ کیا گیا تھا۔ کفر کا ٹھکانہ یہ ہی ہے۔ چاہیے کہ اپنے ٹھکانے پر پہنچ جاؤ۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 63 { ہٰذِہٖ جَہَنَّمُ الَّتِیْ کُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ } ”اب یہ جہنم حاضر ہے جس کا تم کو وعدہ دیا جاتا تھا۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 62–64

57 باوجود اس کے کہ اللہ تعالیٰ نے تمام بنی آدم سے عہد لیا تھا، اور یہ عہد ألَسْتُ بِرَبِّکُمْتھا، پھر اللہ نے سمجھنے سوچنے کے لئے تمہیں عقل بھی دی تھی، پھر اللہ تعالیٰ اس عہد کی یاددہانی کے لئے اپنے رسول اور کتابیں بھی بھیجتا رہا پھر یہی شیطان بنی آدم کی ایک کثیر تعداد کو گمراہ کرنے میں کامیاب ہوگیا۔ لہذا اے عہد فراموش مجرمو ! تم نے اپنی عقل سے کچھ بھی کام نہ لیا تو اب اس کا نتیجہ تمہارے سامنے ہے۔ جہنم تمہاری منتظر ہے۔ رسولوں کی دعوت سے انکار اور ضد کی سزا یہی ہے کہ اب اس جہنم میں داخل ہوجاؤ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 63–65

42۔ (غرض یہ کہ ان کی کل روئد اد زندگی رتی رتی حق تعالیٰ کے سامنے انھیں کے ہاتھوں پیروں کی زبانی پیش ہوگی) (آیت) ” نختم علی افواھھم “۔ یہ منہ پر مہر لگنا یوں ہوگا کہ وہ کوئی جھوٹی داستان تصنیف کرکے پیش ہی نہ کرسکیں۔ (آیت) ” تکلمنا ...... یکسبون “۔ سورة النور میں اس سے ملتے ہوئے مضمون کی آیت تشھد علیھم السنتھم پر حاشیہ گزر چکا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 51–67

آیت نمبر 51 تا 67 ترجمہ : اور صور پھونکا جائے گا وہ (ایک) سینگ ہے، اور دوسرا صور زندہ کرنے کے لئے ہوگا اور دونوں نفخوں کے درمیان چالیس سال کا وقفہ ہوگا پھر جب وہ یعنی مردے قبروں سے نکل کر تیزی سے اپنے پروردگار کی طرف چلنے لگیں گے ان میں سے کافر کہیں گے، ہائے ہماری کمبختی یا تنبیہ کے لئے ہے ہائے ہماری ہلاکت، وَیْلٌ ایسا مصدر ہے کہ اس کا لفظی فعل نہیں آتا، کس نے ہم کو ہماری قبروں سے اٹھا یا ؟ اس لئے کہ وہ دونوں نفخوں کے درمیان سوئے ہوئے ہوں گے، ان کو عذاب نہ دیا جارہا ہوگا، یہ وہی (بعث) ہے جس کا رحمٰن نے وعدہ کیا تھا، اور رسول نے اس کے بارے میں سچ کہا تھا ایسے وقت اقرار کریں گے کہ ان کا اقرار…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

هٰذِهٖ جَهَنَّمُ الَّتِيْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ (دوزخ کے قریب پہنچ جائیں گے تو ان سے کہا جائے کہ یہ جہنم ہے جس سے تم کو ڈر ایا جاتا تھا

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 63–64

(63۔ 64) سو یہ جہنم ہے جس کا تم سے دنیا میں وعدہ کیا جاتا تھا۔ آج اپنے اس انکار کے بدلہ میں جو تم جہنم کا اور کتاب و رسول کا انکار کیا کرتے تھے اس میں داخل ہوجاؤ۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 63–64

هٰذِهٖ جَهَنَّمُ الَّتِيْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ : ”اِصْلَوْهَا“ ”صَلِيَ یَصْلٰی (ع) النَّارَ“ کا اصل معنی آگ سینکنا ہے۔ انھیں یہ بات بطور طنز و استہزا کہی جائے گی۔ (التحریر) اور اس حکم کے ساتھ ہی انھیں دھکیل کر جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔ سورة طور میں فرمایا : (يَوْمَ يُدَعُّوْنَ اِلٰى نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّا۔ هٰذِهِ النَّارُ الَّتِيْ كُنْتُمْ بِهَا تُكَذِّبُوْنَ) [ الطور : 13، 14 ]”جس دن انھیں جہنم کی آگ کی طرف دھکیلا جائے گا، سخت دھکیلا جانا۔ یہی ہے وہ آگ جسے تم جھٹلاتے تھے۔“

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 60–64

آیت کریم میں عہد سے مراد وصیت ہے کیا میں نے تم کو وصیت نہیں کی اور رسولوں کی زبانوں پر تمہیں پیغام حق نہیں پہنچایا کہ تم میری نافرمانی کرتے ہوئے شیطان کی اطاعت نہیں کرو گے۔ کسائی نہیں کہا لا نہی کے لئے ہے ان اعبدونی یہ نون کے کسرہ کے ساتھ اپنے اصل پر ہے جس نے اسے ضمہ دیا ہے اس نے کسرہ کے بعد ضمہ کو ناپسند کیا ہے۔ اضل کا معنی اغوی ہے یعنی اس نے گمراہ کیا جبلا کا معنی مخلوق ہے ‘ یہ مجاہد کا قول ہے۔ قتادہ نے کہا : اس کا معنی جموعا کثیرہ ہے۔ مکی نے کہا : اس کا معزنی امما کثیرہ ہے معنی سب کا ایک ہی ہے۔ اہل مدینہ اور عاصم نے جبلا پڑھا ہے ابوعمرو اور ابن ععامر نے جبلا پڑھا ہے باقی قراء نے جبلا پڑھا…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 60–64

1:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” الم اعھد الیکم “ (کیا میں نے تم کو تاکید نہیں کی تھی) یعنی کیا میں نے تم کو منع نہیں کیا تھا۔ 2:۔ ابن المنذر (رح) نے مکحول (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ان لا تعبدوا الشیطن “ (کہ تم شیطان کی عبادت نہ کرو) یعنی اس کی عبادت (گویا) اس کی اطاعت ہے۔ 3:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے ابن ابی حاتم (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” جبلا کثیرا “ سے مراد بہت مخلوق۔ 4:۔ عبد بن حمید (رح) نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” جبلا کثیرا “ کو جیم کے کسرہ اور لام کی تشدید کے ساتھ پڑھا (آیت ) ’ ’ افلا تکونوا…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

هٰذِهٖ جَهَنَّمُ الَّتِيْ [یہ وہ جہنم ہے جس سے ] كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ [تم لوگ ڈرائے جاتے تھے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 60–65

مجرمین کے خلاف ان کے اعضاء کی گواہی کافروں کی سزا بیان فرمانے کے بعد ارشاد فرمایا (اَلْیَوْمَ نَخْتِمُ عَلٰٓی اَفْوَاھِہِمْ ) (ہم آج کے دن ان کے مونہوں پر مہر لگا دیں گے) (وَتُکَلِّمُنَآ اَیْدِیْہِمْ ) (اور ہم سے ان کے ہاتھ کلام کریں گے) (وَتَشْہَدُ اَرْجُلُہُمْ بِمَا کَانُوْا یَکْسِبُوْنَ ) اور ان کے پاؤں ان کاموں کی گواہی دیں گے جو وہ کیا کرتے تھے۔ ) اس آیت سے معلوم ہوا کہ مجرمین کی زبانوں پر مہر لگا دی جائے گی اور ہاتھ پاؤں ان کے اعمال بد کی گواہی دیں گے۔ اور سورة النور میں فرمایا (یَوْمَ تَشْہَدُ عَلَیْہِمْ اَلْسِنَتُہُمْ وَاَیْدِیْہِمْ وَاَرْجُلُہُمْ بِمَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ) اس سے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 48–76

منکرین حشر ونشر کی تہدید اور وعید قال اللہ تعالیٰ ویقولون متی ھذا الوعد۔۔۔ الی۔۔۔ انا نعلم ما یسرون وما یعلنون۔ (ربط) گذشتہ آیات میں زیادہ تر دلائل توحید کا ذکر تھا اور اس سے ذرا پہلے وان کل لما جمیع لدینا محضرون میں مسئلہ حشر ونشر کا ذکر تھا اب پھر مسئلہ حشرونشر کی طرف رجوع فرماتے ہیں اور ان کا ایک سوال نقل فرماتے ہیں ویقولون متی ھذا الوعد ان کنتم صدقین : یعنی یہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ قیامت کا وعدہ کب پورا ہوگا اللہ تعالیٰ نے اس کے جواب میں اس کے وقت کے اظہار سے مصلحۃً اعراض فرمایا اور اجمالی طور پر صرف اتنا بتا دیا کہ قیامت نا گہاں آئے گی جب لوگ اپنے کاروبار میں مصروف ہوں گے ناگہاں صور پھونکا…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

38:۔ ھذا الخ :۔ توبیخ و تبکیت کے بعد ارشاد ہوگا لو اب دیکھو یہ وہی جہنم ہے جس کا پیغمبروں کی زبانی تم سے وعدہ کیا گیا تھا۔ اصلوھا الیوم الخ، آج اس میں داخل ہوجاؤ اور یہ تمہارے کفر و شرک اور تکذیب انبیاء کی سزا ہے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 60–68

گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے کفار و مشرکین کا رد اور روز محشر کا کچھ حال بیان فرمایا تھا۔ جب صور ثانی پھونکا جائے گا تو لوگ اپنی قبروں سے حساب کتاب کے لیے نکلیں گے۔ پھر ہر ایک کا محاسبہ ہوگا۔ ہر شخص کے لیے اس کے عقیدے اور عمل کے مطابق جزا یا سزا کا یصلہ ہوگا اور کسی کے ساتھ کوئی زیادتی نہیں ہوگی۔ پھر جن لوگوں کے لیے جنت کا فیصلہ ہوگا وہ نہایت ہی آرام و راحت میں ہوں گے اور انہیں ان کی ہر مطلوبہ چیز مہیا کی جائے گی۔ اس کے علاوہ ان پر ان کے پروردگار کی طرف سے سلام ہوگا۔ برخلاف اس کے اس روز مجرموں اور گنہگاروں کو حکم ہوگا کہ تم الگ ہو جائو اور اپنی علیحدہ صف بنالو۔ پھر ان کے بارے میں فیصلہ کیا…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

ہٰذِہٖ جَہَنَّمُ الَّتِيْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ۝ 63 جهنم جَهَنَّم اسم لنار اللہ الموقدة، قيل : وأصلها فارسيّ معرّب جهنام وقال أبو مسلم : كهنّام ( ج ھ ن م ) جھنم ۔ دوزخ کا نام ہے بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہ اصل فارسی لفظ جنام سے معرب ہی واللہ علم ۔ وعد الوَعْدُ يكون في الخیر والشّرّ. يقال وَعَدْتُهُ بنفع وضرّ وَعْداً ومَوْعِداً ومِيعَاداً ، والوَعِيدُ في الشّرّ خاصّة . يقال منه : أَوْعَدْتُهُ ، ويقال : وَاعَدْتُهُ وتَوَاعَدْنَا . قال اللہ عزّ وجلّ : إِنَّ اللَّهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِ [إبراهيم/ 22] ، أَفَمَنْ وَعَدْناهُ وَعْداً حَسَناً فَهُوَ لاقِيهِ [ القصص/ 61] ، ( وع د ) الوعد ( وعدہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 62–65

ترکیب : اللام موطتہ للقسم والجملۃ مستانفۃ للتوبیخ ای واللہ لقد اضل جبلا فیہا لغات متعددۃ وھی جمع جبلۃ بمعنی الخلق وقیل الجبلۃ والجبل و احد افلم الھمزۃ للتوبیخ و الفاء للعطف علی مقدر ای کنتم تشاہدون اما کنتم تعقلون ولو کلمۃ الشرط نشاء شرط مفعولہ محذوف ای ان نطمس لطمسنا جو ابہ ای اذھبنا اعینھم اے اعینا ھم فاستبقوا معطوف علی لطمسنا و کذا قولہ تعالیٰ ولو نشاء لمسخنہم وسیظہرلک المعنی فی التفسیر۔ تفسیر : ولقد اضل سے لے کر یکسبون تک اسی گفتگو کا تتمہ ہے جو قیامت کے روز منکرین سے بطور الزام کے کی جاوے گی کہ تم میں سے یہ شیطان بہت خلق کو گمراہ کرچکا تھا، جن کی گمراہی اور بدکاری سے دنیا میں بھی ان پر…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 63–64

ھٰذِہٖ جَھَنَّمُ الَّتِیْ کُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ ۔ اِصْلَوْھَا الْیَوْمَ بِمَا کُنْتُمْ تَـکْفُرُوْنَ ۔ (یٰسٓ: 63، 64) (یہ ہے وہ جہنم جس سے تمہیں ڈرایا جاتا رہا ہے۔ جو کفر تم دنیا میں کرتے رہے ہو اس کی پاداش میں آج اس میں داخل ہوجاؤ۔ ) میرے رسول میری طرف سے برابر تمہیں تمہارا عہد یاد دلاتے رہے۔ شیطان کی دشمنی کو تمہارے سامنے مبرہن کرتے رہے اور اس کی بندگی اور پیروی کے انجام سے تمہیں باخبر کرتے رہے۔ لیکن تم نے ان کی ایک بھی سن کر نہ دی۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ شیطان ایک خلق کثیر کو تم میں گمراہ کرنے میں کامیاب ہوگیا۔ تو اب جہنم کی صورت میں اس کا انجام تمہارے سامنے ہے۔ اس لیے اب اس کے سوا تمہارے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 63–65

فہم القرآن ربط کلام : جہنم کے داخلے کا اعلان سنتے ہی مجرموں کی حالت۔ محشر میں ایک مرحلہ ایسا آئے گا کہ مجرم اپنے اعمال نامے اور دوسری شہادتوں کا انکار کردیں گے۔ اس پر ان کے مونہوں پر مہریں لگا دی جائیں گی۔ حکم ہوگا کہ آج تمہارے ہاتھ اور پاؤں ہمارے حضور گواہی دیں گے۔ دوسرے مقام پر ہے کہ مجرموں کے ہاتھ پاؤں گواہی دینے کے ساتھ ساتھ ان کی آنکھیں، کان اور جسم کا ایک ایک رونگٹا بول پڑے گا کہ خدایا اس کی زبان جھوٹ بول رہی ہے اس شخص نے ہمارے ذریعے یہ تمام جرم کیے ہیں جو اس کے اعمال نامے میں درج ہیں ( حٰمٓ السجدۃ : 20، 21) اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو دنیا میں بھی مجرموں کے اعضاء ختم اور ان کی آنکھیں مسخ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

63: ھٰذِہٖ جَھَنَّمُ الَّتِیْ کُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ (یہ جہنم ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا) ای توعدون بھا،

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 63–64

63، ھذہ جھنم التی کنتم تو عدون، دنیا کے اندرجوتم سے عدہ کیا گیا تھا ۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 54–64

54 تا 64۔ اوپر دوسرے صور کی آواز سن کر اللہ تعالیٰ کے روبرو حاضر ہوجانے کا ذکر تھا اب اس کے نتیجے کا ذکر فرمایا۔ صحیح مسلم کے حوالہ سے ابوذر ؓ کی روایت سے حدیث قدسی کئی جگہ گزر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ظلم اپنی ذات پاک پر حرام کرلیا ہے اسی واسطے فرمایا کہ قیامت کے دن کسی پر کچھ ظلم نہ ہوگا مطلب یہ ہے کہ نیکیوں کے ثواب میں کمی نہ ہوگی اور بدی کی سزا جرم کی حیثیت سے بڑھ کر نہ دی جاویگی اب آگے جنتیوں اور دوزخیوں کا ذکر فرمایا کیوں کہ دنیا کا پیدا ہونا اور حشر کا قائم ہونا سب اسی نتیجہ کے لیے تھا۔ جنتیوں کے حال کا خلاصہ یہ ہے کہ وہ اور ان کی بیبیاں طرح طرح کی نعمتوں کے مشغلہ میں لگے ہوئے ہوں گے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 59–67

آیت 59 اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہل تقویٰ کی جزا کا ذکر کرنے کے بعد مجرموں کی سزا بیان کی ہے۔ (و) ” اور “ ان کو قیامت کے ورز کہا جائے گا : (امتا زوا الیوم ایھا المجرمون) اے مجرمو ! تم الہ ایمان سے الگ ہوجاؤ۔ یہ حکم اس لئے ہوگا تاکہ اللہ تعالیٰ انہیں جہنم میں داخل کرنے سے قبل برسر عام زجر و توبیخ کرے اور ان سے کہے : (الم اعھد الیکم) یعنی کیا میں نے اپنے رسولوں کے ذریعے سے تمہیں حکم نہیں دیا تھا اور تمہیں وصیت نہیں کی تھی اور تم سے یہ نہیں کہا تھا : (آیت) ” اے آدم کی اولاد ! شیطان کی عبادت نہ کرنا۔ “ یعنی اس کی اطاعت نہ کرو، یہ زجر و توبیخ ہے اور اس میں ہر قسم کے کفر و معصیت پر زجر و توبیخ داخل…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 42–67

قول باری ہے (وخلقنا لھم من مثلہ ما یرکبون اور ہم نے ان کے لئے اسی کشتی جیسی چیزیں اور بھی پیدا کی ہیں جس پر یہ سوار ہوتے ہیں) حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے ” یعنی حضرت نوح (علیہ السلام) کی کشتی کے بعد دوسری کشتیاں “۔ حضرت ابن عباس ؓ سے ایک اور روایت بھی ہے اور مجاہد سے بھی کہ اونٹ خشکی کے جہاز ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 63–65

64 مجرموں کے مونہوں پر مہر ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " آج ہم مہر لگادیں گے انکے مونہوں پر " اور اس وقت ہوگا جب کہ یہ مجرم لوگ اپنے اعمال کا انکار کردیں گے کہ ہم نے تو یہ جرم کیے ہی نہیں۔ جیسا کہ بعض روایات میں وارد ہے کہ وہ کہیں گے کہ اس پر کوئی گواہ ہی نہیں۔ (المراغی وغیرہ) ۔ تو اس پر ان کے مونہوں پر مہر کردی جائے گی جس سے ان کی بولتی بند ہوجائے گی اور ان کے ہاتھ پاؤں خود گواہی دینے لگیں ان سب کاموں کی جو یہ لوگ کرتے رہے تھے ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہِ الْعَظِیْمِ مِنْ کُلِّ سُوْئٍ وَّ مَکْرُوْہٍ ۔ بہرکیف فصل وتمیز کے اس دن میں ان لوگوں کے مونہوں پر مہر کردی جائے گی جس سے ان کی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 48–74

حشر کا میدان اور نیک و بد کا انجام تشریح : یہاں کفار مکہ کا اور آج کل کے ملحد وغیرہ لوگوں کا ذکر ہے کہ وہ قیامت کو ناقابل یقین سمجھتے ہوئے کہتے ہیں کہ کب آئے گی قیامت ؟ قیامت جب آئے گی تو اتنی اچانک اور شدید ہوگی کہ کسی کو سمجھ میں ہی نہ آئے گا کہ کیا ہوگیا ہے۔ قیامت سے پہلے چھوٹی قیامت یں اور ہلکے پھلے عذاب تو انسانوں کی نافرمانی کی وجہ سے آتے رہتے ہیں جن کا مقصد انسانوں کو جھنجھوڑنا ہوتا ہے۔ کہیں طوفان بادو باراں، کہیں زلزلہ اور کہیں کسی دوسری شکل میں آفات ارضی و سماوی۔ اسی طرح بڑی اور فیصلہ کن قیامت پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی مگر یہ بھی صرف اس دنیا کی قیامت ہوگی پوری کائنات قائم و…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 51–67

رکوع نمبر 4 ۔ آیات 51 تا 67: اسرار و معارف : چنانچہ جب دوبارہ صور پھونکا جائے گا تو اپنی اپنی قبروں سے اٹھ کر اللہ کے حضور چل پڑیں گے یعنی وہ ایسا قادر ہے کہ ایک چنگھاڑ سے ہر شے تباہ کردے گا تو پھر ایک چنگھاڑ یا سخت آواز ہی سب مردہ جسموں کے ذرات کو یکجا کرکے زندہ بھی کردے گی اور ہر فرد چاہے یا نہ چاہے مگر رواں اللہ کی بارگاہ کی طرف ہی ہوگا جہاں سب کی پیشی ہوگی تب پریشان حال یہ کہہ رہے ہوں گے کہ ہمیں کس نے اٹھا دیا اگرچہ برزخ میں بھی کفار عذاب میں ہوں گے۔ مگر میدان حشر کی ہیبت کے سامنے کہیں گے یہاں سے وہاں ہی ٹھیک تھے یہ کس نے ہمیں ان ٹھکانوں سے نکال کھڑا کیا ہے تو جواب آئے گا فرشتے یا مومنین…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 63–65

ف 2 یہ صورت حال ان کفار اور منافقین کو پیش آئے گی جو اپنے جرائم کا اقبال کرنے سے انکار کریں گے۔ فرشتوں کی گواہی اور نامہ اعمال کی صحت کو جھٹلائیں گے تو ان کے ہاتھ پائوں ان کے خلاف شہادت دیں گے۔ دوسری آیات میں آنکھ، کان، زبان اور چمڑوں کی شہادت کا بھی ذکر ہے۔ ( دیکھئے سورة نور 24، حم السجدہ آیت 20) حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ بندہ قیامت کے دن اپنے برے اعمال سے انکار کرے گا اور عرض کردے گا کہ ” اے اللہ ! میں تو اپنے خلاف صرف اسی کی گواہی قبول کروں گا جو میرا اپنا ہو “۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا۔ تیرے خلاف خود تیری اور تجھ پر مقررفرشتوں کی گواہی کافی ہے “۔ پھر اس کے منہ پر مہر لگا دی جائے گی اور اس کے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(36:63) کنتم توعدون۔ ماضی استمراری جمع مذکر حاضر ہے۔ (جس کا) تم سے وعدہ کیا جاتا تھا۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 55–68

لغات القرآن : آیت نمبر 55 تا 68 :۔ شغل ( مشغلے) فکھون ( دل لگی کرنے والے) متکون (تکیہ لگا کر بیٹھنے والے) یدعون ( وہ پکاریں گے ، خواہش کریں گے) امتازوا ( تم الگ ہو جائو) جبلا ( جماعت ، لوگوں کا گروہ) نختم ( ہم مہر لگا دیں گے) افواہ ( فوہ) (منہ) تشھد ( گواہی دیں گے) طمسنا ( ہم سجھائی دیتے) مضیا (چلنا) نعمرہ ( ہم زیادہ عمر دیتے ہیں اس کو) ننکسہ ( ہم اوندھا کردیتے ہیں اس کو) تشریح : آیت نمبر 55 تا 68 :۔ جہنم والوں کی سزا بیان کرنے کے بعد اب جنت والوں کی جزا اور بدلہ کا بیان کیا جا رہا ہے کہ اہل جنت کس قدر خوش و خرم اور اللہ کی نعمتوں سے لطف اندوز ہو رہے ہوں گے ۔ جنت کیا ہے ؟ اس دنیا میں رہ کر اس…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 56–64

جنتیوں اور دوزخیوں کا انجام۔ (ف 2) ان آیتوں میں جنتیوں اور دوزخیوں کا ذکر فرمایا ، کیونکہ دنیا کا پیدا ہونا اور حشر کا قائم ہونا سب اسی کا نتیجہ کے لیے تھا جنتیوں کے حال کا خلاصہ یہ ہے کہ وہ اور ان کی بیبیاں طرح طرح کی نعمتوں کے مشغلہ میں لگے ہوئے ہوں گے جنت کے مکانوں اور درختوں کے سایہ کی ٹھنڈک میں چھپڑ کھٹوں کے گدوں ، یا ان کے فرشوں پر تکیہ لگائے ہوئے بیٹھے ہوں گے اور طرح طرح کے میوے اور جس چیز کو ان کو جی چاہے گا وہ سب کچھ وہاں موجود ہوجائے گا، اور ان کو پروردگار کی طرف سے السلام علیکم فرمایا جائے گا اور جس وقت کہ مسلمان اور گناہ گار جمع ہوں گے اس وقت اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائے گا کہ اے گناہ…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 59–64

ف 1: جنت والوں کی زندگی کا جو نقشہ کھینچا اس کا مطلب محض یہ ہے کہ وہ ہر طرح بہترین حالت میں ہوں گے ۔ اور کلفتوں اور مصیبتوں سے آزاد ہوں گے ۔ اس دن ان میں اور مجرموں میں ایک قسم کا امتیاز ہوگا ۔ کہا جائے گا ۔ چونکہ تم لوگوں نے خدا کی پرستش نہیں کی ہے ۔ اور دنیا میں شیطان کی پیروی کو اپنا شعار بنایا ہے ۔ اس لئے آج تمہاری یہ سزا ہے ۔ کہ جہنم میں اپنا مسکن بناؤ حل لغات :۔ فاذاھم ۔ مفاجاۃ کے لئے ۔ یعنی غیر متوقع ۔ یکایک الارائک ۔ الغی کہ کی جمع ہے ۔ بمعنی تخت ہائے آراستہ ۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

یہ وہی دوزخ ہے جس کا تم کو وعدہ دیا جاتا رہا تھا : 63۔ اہل دوزخ سے کہا جارہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تم کو عقل وفکر دی اور تم کو ہر ممکن باور کرایا کہ عقل وفکر تم کو اس لیے دی گئی کہ تم اس کو استعمال کرو اور حق وناحق کو سمجھو اور اگر تم نے عقل سے کام نہ لیا اور حق وناحق کو سمجھنے کی کوشش نہ کی بلکہ دوسروں کی تقلید پر انحصار کیا اور جو کسی نے کہا بغیر عقل وفکر سے کام لیے اس کو مان لیا تو تمہارا یہی حال ہوگا کہ انجام کار تم کو دوزخ میں ڈال دیا جائے گا پھر تم نے وہی کیا جس سے تم کو منع کیا گیا تھا اور آج اپنی آنکھوں سے دیکھ لو اور اپنے جسم پر آزما لو یہی ہے وہ دوزخ جس کا تم کو وعدہ دیا گیا تھا

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 60–64

In verse 60, it was said: أَلَمْ أَعْهَدْ إِلَيْكُمْ يَا بَنِي آدَمَ أَن لَّا تَعْبُدُوا الشَّيْطَانَ (Did I not direct you, 0 children of 'Adam, that you must not worship the Shaitan, (because) he is an open enemy for you,- 36:60). In other words, this would be said on the day of Qiyamah to all human beings, (even to the Jinn). But, the question remains that the disbelievers did not generally worship the Shaitan. They worshipped idols or other things. Therefore, how does this blame fall on them? The answer is that submitting before some entity in the absolute sense and to obey that entity in…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 62–64

54 That is, "If you had been deprived of reason and you had served your enemy instead of your Lord, you could have the reason to offer an excuse. But you, in fact, had been blessed with reason by Allah and you were using it to advantage in all the affairs of the world, and you had been warned by Allah through the Prophets as well, yet, when you were deceived by your enemy and he succeeded in leading you astray, you could not be excused from the responsibility of your folly."

Read the full tafseer →