Explained with ayahs 51–54
ان آیتوں میں دوسرے نفخہ کا ذکر ہو رہا ہے۔ جس سے مردے جی اٹھیں گے۔ ینسلون کا مصدر نسلان سے ہے اور اس کے معنی تیز چلنے کے ہیں۔ جیسے اور آیت میں ہے (يَوْمَ يَخْرُجُوْنَ مِنَ الْاَجْدَاثِ سِرَاعًا كَاَنَّهُمْ اِلٰى نُصُبٍ يُّوْفِضُوْنَ 43ۙ) 70۔ المعارج :43) جس دن یہ قبروں سے نکل کر اس تیزی سے چلیں گے کہ گویا وہ کسی نشان منزل کی طرف لپکے جا رہے ہیں۔ چونکہ دنیا میں انہیں قبروں سے جی اٹھنے کا ہمیشہ انکار رہا تھا اس لئے آج یہ حالت دیکھ کر کہیں گے کہ ہائے افسوس ہمارے سونے کی جگہ سے ہمیں کس نے اٹھایا ؟ اس سے قبر کے عذاب کا نہ ہونا ثابت نہیں ہوتا اس لئے کہ جس ہول و شدت کو جس تکلیف اور مصیبت کو یہ اب…
Read the full tafseer →سورة یٰسٓ 50
یہ وہ خطاب ہے جو اللہ تعالیٰ کفار و مشرکین اور فساق و مجرمین سے اس وقت فرمائے گا جب وہ اس کے سامنے حاضر کیے جائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–54
(آیت) قالوا یا ویلنا من بعثنا من مرقدنا، کفار اگرچہ قبروں میں بھی عذاب قبر میں مبتلا تھے، وہاں کچھ آرام نہ تھا، مگر قیامت کے عذاب کے مقابلہ میں وہ پہلا عذاب کالعدم معلوم ہوگا اس لئے پکاریں گے کہ ہمیں کس نے قبروں سے نکال لیا، وہیں رہتے تو اچھا ہوتا۔ اس پر فرشتے یا عام مومنین جواب دیں گے۔
(آیت) ھذا ما وعدالرحمن وصدق المرسلون، یعنی یہ وہی قیامت ہے جس کا رحمن نے وعدہ کیا تھا، اور اس کے رسولوں نے اس کی سچی خبر تم کو سنائی تھی، تم نے توجہ نہ دی۔ اس مقام پر اللہ کی صفات میں سے لفظ رحمن اختیار کرنے میں اشارہ ہے کہ اس نے تو اپنی رحمت سے تمہارے لئے اس عذاب سے بچنے کے بہت سامان کئے تھے اور قبل از وقت اس…
Read the full tafseer →آیت 54
اس آیت میں تصویرِ حال کا اسلوب ہے۔ گویا وہ دن سامنے ہے اور مخاطب سے یہ بات کہی جاری ہے۔ قرآن میں اس کی مثالیں بہت ہیں۔
فرمایا کہ آج عدل کامل کے ظہور کا دن ہے۔ آج کسی جان پر ذرہ برابر ظلم نہیں ہوگا۔ ’ ولا تجزون الا ما کنتم تعملون۔ ‘ یہ اسی عدل کامل کا بیان ہے کہ آج جس اصول پر لوگوں کے ساتھ معاملہ ہوگا وہ یہ ہے کہ جس نے جو کچھ کیا ہوگا وہی وہ بدلے میں پائے گا۔ ظاہر ہے کہ جب اپنی ہی کمائی سامنے آنے ولای ہے تو اس میں کسی ظلم و ناانصافی کا کوئی امکان نہیں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–54
52۔ 1 قبر کو خواب گاہ سے تعبیر کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ قبروں میں ان کو عذاب نہیں ہوگا، بلکہ بعد میں جو ہولناک مناظر اور عذاب کی شدت دیکھیں گے، اس کے مقابلے میں انہیں قبر کی زندگی ایک خواب ہی محسوس ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–64
18: کشتی جیسی دوسری سواری کی تشریح عام طور سے مفسرین نے اونٹوں سے کی ہے، کیونکہ اہل عرب اونٹوں کو صحرا کا جہاز کہا کرتے تھے۔ لیکن قرآن کریم کے الفاظ عام ہیں جس میں کشتی کے مشابہ ہر طرح کی سواریاں داخل ہیں، بلکہ عربی قواعد کی رو سے آیت کا ترجمہ اس طرح بھی کیا جاسکتا ہے کہ : ہم نے ان کے لیے اسی جیسی اور چیزیں بھی پیدا کی ہیں جن پر یہ (آئندہ) سواری کریں گے۔ اس صورت میں وہ تمام سواریاں اس عبارت میں داخل ہوجاتی ہیں جو قیامت تک پیدا ہوں گی، مثلاً آبدوزیں، اور ہوائی جہاز جو اس لحاظ سے کشتی کے مشابہ ہیں کہ کشتی پانی پر تیرتی ہے، اور ہوائی جہاز ہوا پر تیرتا ہے۔
Read the full tafseer →فالیوم لا تظلم ۔۔۔۔ تعملون (54) ” یہاں نہایت تیزی کے ساتھ تین مناظر کی جھلک دکھائی جاتی ہے اور ان لوگوں کے شکوک اور خلجانات کا رد کردیا جاتا ہے جو خواہ مخواہ وقوع قیامت میں شک کرتے ہیں اور نہایت ہی ترتیب کے ساتھ۔ اب یہاں اہل ایمان کے ستاھ حساب و کتاب کا حال بھی چند لمحوں میں لپیٹ لیا جاتا ہے اور ان کا انجام بھی تیزی کے ساتھ دکھا دیا جاتا ہے۔
Read the full tafseer →10 یعنی نہ کسی کی نیکی ضائع ہوگی نہ جرم کی حیثیت سے زیادہ سزا ملے گی۔ ٹھیک ٹھیک انصاف ہوگا اور جو نیک و بد کرتے تھے فی الحقیقت عذاب وثواب کی صورت میں وہ ہی سامنے آجائے گا۔
Read the full tafseer →آیت 54 { فَالْیَوْمَ لَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَیْئًا وَّلَا تُجْزَوْنَ اِلَّا مَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ } ”پس آج کے دن کسی جان پر کوئی ظلم نہیں کیا جائے گا اور تمہیں بدلے میں نہیں دیا جائے گا مگر وہی کچھ جو تم عمل کرتے رہے تھے۔“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–56
51 جب انہیں صحیح صورت حال کا علم ہوجائے گا تو فرشتے انہیں دھکیل کر میدان محشر کی طرف لے جائیں گے اور وہ مجرموں کی طرح اللہ کے حضور جواب دہی کے لئے پیش کردیئے جائیں گے۔ اور ساتھ ہی انہیں یہ بتادیا جائے گا کہ تم دنیا میں جیسے اعمال کرکے آئے ہو ویسا ہی تمہیں بدلہ دیا جائے گا تاہم یہ یقین رکھو کہ تمہیں تمہارے جرائم سے زیادہ سزا نہیں دی جائے گی۔
Read the full tafseer →37۔ وہ دن عدل کامل کے ظہور کا ہوگا۔ دودھ کا دودھ، پانی کا پانی، ہر ایک معاملہ کا الگ ہو کر رہے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–67
آیت نمبر 51 تا 67
ترجمہ : اور صور پھونکا جائے گا وہ (ایک) سینگ ہے، اور دوسرا صور زندہ کرنے کے لئے ہوگا اور دونوں نفخوں کے درمیان چالیس سال کا وقفہ ہوگا پھر جب وہ یعنی مردے قبروں سے نکل کر تیزی سے اپنے پروردگار کی طرف چلنے لگیں گے ان میں سے کافر کہیں گے، ہائے ہماری کمبختی یا تنبیہ کے لئے ہے ہائے ہماری ہلاکت، وَیْلٌ ایسا مصدر ہے کہ اس کا لفظی فعل نہیں آتا، کس نے ہم کو ہماری قبروں سے اٹھا یا ؟ اس لئے کہ وہ دونوں نفخوں کے درمیان سوئے ہوئے ہوں گے، ان کو عذاب نہ دیا جارہا ہوگا، یہ وہی (بعث) ہے جس کا رحمٰن نے وعدہ کیا تھا، اور رسول نے اس کے بارے میں سچ کہا تھا ایسے وقت اقرار کریں گے کہ ان کا اقرار…
Read the full tafseer →فالیوم لا تظلم نفس شیءًا ولا تجزون الا ما کنتم تعلمون . سو اس روز کسی پر کوئی ظلم نہ ہوگا اور اسی کا تم کو بدلہ دیا جائے گا جو تم کرتے تھے۔
قیامت کے دن جو بات ان سے کہی جائے گی ‘ اس کو نقل کیا گیا تاکہ اللہ نے جو کچھ وعدہ کیا ہے ‘ اس کی تصویر کشی ہوجائے اور دلوں میں اس کا تصور جم جائے۔
Read the full tafseer →اور پھر اس قیامت کے دن کسی کی نیکیوں میں سے ذرہ برابر کمی نہیں کی جائے گی اور نہ اس کے گناہوں میں اضافہ کیا جائے گا اور تمہیں بس آخرت میں انہیں کاموں کا بدلہ ملے گا جو تم دنیا میں کیا کرتے تھے۔
Read the full tafseer →فَالْيَوْمَ لَا تُــظْلَمُ نَفْسٌ شَـيْــــًٔا : یعنی اس وقت اعلان ہوگا کہ آج کسی جان پر کچھ بھی ظلم نہیں کیا جائے گا، نہ یہ کہ ان کی نیکیوں میں کوئی کمی کی جائے اور نہ یہ کہ وہ گناہ اس کے ذمے ڈال دیے جائیں جو اس نے نہیں کیے، بلکہ صرف انھی اعمال کی جزا ملے گی جو وہ کرتے رہے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–54
و نفخ فی الصور یہ دوبارہ اٹھانے کے لئے دوسرا نفخہ ہے (1) ۔ سورة نمل میں ہم وضاحت کر آئے ہیں کہ نفحے دو ہیں تین نہیں ہیں ‘ یہ آیت اسی معنی پر دال ہے۔ مبارک بن فضالہ نے حضرت حسن بصری ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : دو نفخوں کے درمیان چالیس سال کا عرصہ ہوگا پہلے کے ساتھ اللہ تعالیٰ ہر زندہ چیز کو موت عطا فرمائے گا اور دوسرے کے ساتھ اللہ تعالیٰ ہر مرد چیز کو زندہ کرے گا “ (2) ۔ قتادہ نے کہا : صور ‘ صورۃ کی جمع ہے صورۃ اور صور اسی طرح ہیں جس طرح عمارت کی سورة ) دیوار ( اور سورة ہوا کرتی ہے۔ عجاج نے کہا :
سرت الیہ فی اعالی السور
میں اس کی طرف بلند دیواروں میں چلا۔
حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–54
5:۔ ابن الانباری نے المصاحف میں علی ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے پڑھا (آیت) ” یویلنا من بعثنا من مرقدنا “
6:۔ ابن الانباری نے ابی بن کعب ؓ سے روایت کیا کہ دوبارہ اٹھائے جانے سے علیحدہ تھوڑا سوئیں گے تو اس میں راحت پائیں گے تو اس وقت وہ کہیں گے (آیت) ” یویلنا من بعثنا من مرقدنا “ (وہ کہیں گے اے ہماری کم بختی ہم کو ہمارے خوابگاہ سے کس نے اٹھادیا )
7:۔ الفربی، عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابی بن کعب ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” من بعثنا من مرقدنا “ کہ وہ لوگ دوبارہ اٹھائے جانے سے پہلے تھوڑا سا سوئیں گے۔
8:۔ ابن ابی شیبہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ کفار کے…
Read the full tafseer →فَالْيَوْمَ [تو آج کے دن ] لَا تُــظْلَمُ نَفْسٌ [ظلم نہیں کیا جائے گا کسی جان پر ] شَـيْــــًٔا [ذرا بھی ] وَّلَا تُجْـزَوْنَ [اور تم لوگوں کو بدلہ نہیں دیا جائے گا ] اِلَّا مَا [سوائے اس کے جو ] [كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ : تم سب کرتے ہو ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–55
اہل جنت کی نعمتوں کا تذکرہ، وہ اپنی بیویوں کے ساتھ سایوں میں تکیے لگائے بیٹھے ہوں گے
ان آیات میں اہل جنت کی بعض نعمتوں کا تذکرہ فرمایا، اول تو یہ فرمایا کہ یہ لوگ اپنے اپنے مشغلوں میں خوش ہوں گے۔ صاحب روح المعانی لکھتے ہیں : (والمراد بہ ما ھم فی من النعیم الذی شغلھم عن کل ما یخطر بالبال) یعنی شغل سے وہاں کی نعمتوں میں مشغول رہنا مراد ہے، وہاں کی نعمتیں ہر اس چیز کے تصور سے بےپرواہ کردیں گی جن کا تصور آسکتا ہو۔ (فَاکِھُوْنَ ) کا ایک ترجمہ تو وہی ہے جو اوپر لکھا گیا ہے یعنی وہ اپنی نعمتوں میں خوش ہوں گے۔ اور بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ اس سے تمتع اور تلذذ مراد ہے اور مطلب یہ ہے کہ ان کے پاس میوے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–76
منکرین حشر ونشر کی تہدید اور وعید
قال اللہ تعالیٰ ویقولون متی ھذا الوعد۔۔۔ الی۔۔۔ انا نعلم ما یسرون وما یعلنون۔
(ربط) گذشتہ آیات میں زیادہ تر دلائل توحید کا ذکر تھا اور اس سے ذرا پہلے وان کل لما جمیع لدینا محضرون میں مسئلہ حشر ونشر کا ذکر تھا اب پھر مسئلہ حشرونشر کی طرف رجوع فرماتے ہیں اور ان کا ایک سوال نقل فرماتے ہیں ویقولون متی ھذا الوعد ان کنتم صدقین : یعنی یہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ قیامت کا وعدہ کب پورا ہوگا اللہ تعالیٰ نے اس کے جواب میں اس کے وقت کے اظہار سے مصلحۃً اعراض فرمایا اور اجمالی طور پر صرف اتنا بتا دیا کہ قیامت نا گہاں آئے گی جب لوگ اپنے کاروبار میں مصروف ہوں گے ناگہاں صور پھونکا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–55
35:۔ ان اصحاب الخ :۔ یہ بشارت اخروی ہے۔ اہل جنت، جنت کی پرسکون فضا میں عیش و طرب کی مصروفیتوں میں خوش وخرم ہوں گے۔ وہ اپنی بیویوں کے ساتھ ٹھنڈی چھاؤں میں عالیشان تختوں پر تکیہ لگائے آرام کریں گے۔ اور جنت میں انہیں نہ صرف ہر میوہ ملے گا بلکہ ہر وہ چیز جس کی وہ تمنا کریں گے اور جو چیز وہ طلب کریں گے، انہیں ملے گی۔ سلم قولا من رب رحیم۔ سلام خبر مقدم محذوف کا مبتدا ہے ای لہم اور قولا فعل مقدر کا مفعول مطلق ہے اور یہ جملہ سلام کی صفت ہے۔ اہل جنت کا یہ سب سے بڑا اعزاز ہوگا کہ باری تعالیٰ خود انہیں سلام فرمائیگا ای سلام یقال لہم قولا من جہۃ رب رحیم ای بسلام علہم من جہتہ تعالیٰ بلا واسطۃ تعظیما لہم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–59
ربط آیات
اپنی آیات قدرت بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے کفار و مشرکین کی مذمت بیان فرمائی اور یہ بھی کہ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ آگے پیش آنے والے حالات کے لیے کچھ تیاری کرلو ، اور جو اعمال پیچھے چھوڑ آئے ہو ان کے متعلق بھی غور و فکر کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے تو یہ لوگ نشانات قدرت دیکھ کر بھی ایمان نہیں لاتے بلکہ الٹا اعتراض کرنے لگتے ہیں۔ پھر اللہ نے ان میں سے مالداروں کی حالت کا ذکر بھی کیا کہ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ کی عطا کردہ روزی میں سے غرباء اور مساکین پر بھی خرچ کرو تو کہتے ہیں کہ جن کو خود خدا تعالیٰ بھوکا رکھنا چاہتا ہے یعنی ان کو نادار بنایا ہے ، بھلا ہم ان کی اعانت کریں۔ اللہ…
Read the full tafseer →فَالْيَوْمَ لَا تُــظْلَمُ نَفْسٌ شَـيْــــًٔا وَّلَا تُجْـزَوْنَ اِلَّا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ 54
ظلم
وَالظُّلْمُ عند أهل اللّغة وكثير من العلماء : وضع الشیء في غير موضعه المختصّ به، إمّا بنقصان أو بزیادة، وإمّا بعدول عن وقته أو مکانه،
قال بعض الحکماء : الظُّلْمُ ثلاثةٌ:
الأوّل : ظُلْمٌ بين الإنسان وبین اللہ تعالی،
وأعظمه : الکفر والشّرک والنّفاق، ولذلک قال :إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ [ لقمان/ 13]
والثاني : ظُلْمٌ بينه وبین الناس،
وإيّاه قصد بقوله : وَجَزاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ إلى قوله : إِنَّهُ لا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ وبقوله : إِنَّمَا السَّبِيلُ عَلَى الَّذِينَ يَظْلِمُونَ…
Read the full tafseer →فالیوم لاتظلم الخ اس دن کسی پر کچھ ظلم ہوگا، اپنے کئے کا پورا بدلہ پاوے گا۔ آگے بدلہ کا بیان ہے اور سب سے پہلے نیک لوگوں کا بدلہ ذکر کرتا ہے۔
Read the full tafseer →فَالْیَوْمَ لاَ تُظْلَمُ نَفْسٌ شَیْئًا وَّلاَ تُجْزَوْنَ اِلاَّ مَاکُنْـتُمْ تَعْمَلُوْنَ ۔ (یٰسٓ: 54)
(پس آج کسی نفس پر ذرہ برابر ظلم نہ کیا جائے گا، اور تمہیں ویسا ہی بدلہ دیا جائے گا جیسے تم عمل کرتے رہے ہو۔ )
پروردگار کی طرف سے اظہارِحقیقت
عدالت کے آغاز میں پروردگارِعالم یہ پالیسی بیان جاری فرمائیں گے کہ آج ہماری عدالت میں ہر طرح کے لوگ موجود ہیں۔ انبیاء و اولیاء اور عباد و زہاد بھی اور فساق و فجار اور طواغیت و کفار بھی سب کے ساتھ یکساں انصاف ہوگا۔ آج عدل کامل کے ظہور کا دن ہے۔ ہر شخص اپنے اعمال کے ترازو میں تولا جائے گا۔ آج نسبتوں کی بجائے اعمال اور کردار کی عظمتیں اجاگر ہوں گی۔ ہر ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–55
فہم القرآن
ربط کلام : جہنمی حواس باختہ، پریشان اور انتہائی ذلت میں ہوں گے۔ ان کے مقابلے میں جنتی چمکتے ہوئے چہروں کے ساتھ ہشاش بشاش اور خوش و خرم ہوں گے۔
مجرموں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ انہیں محشر کے میدان میں اکٹھا کیا جائے گا جن کے لیے اعلان ہوگا کہ آج تم پر کسی قسم کا کوئی ظلم نہیں ہوگا۔ جنتیوں کا ذکر کرتے ہوئے محشر کے دن کے مختلف مراحل کا ذکر چھوڑ کر انہیں خوشخبری سنائی گئی ہے کہ آج تمہیں جنت میں داخل کیا جاتا ہے جس میں تم ایک دوسرے کے سامنے صوفوں پر خوش و خرم بیٹھے ہوئے خوش گپیاں کرو گے اور جو چاہو گے وہ پاؤ گے۔
قبروں سے نکلتے ہی جہنمیوں اور جنتیوں کے درمیان واضح فرق دکھائی دے گا۔…
Read the full tafseer →54: پھر وہ ذکر کیا جو اس دن ان کو کہا جائے گا۔ فَالْیَوْمَ لَاتُظْلَمُ نَفْسٌ شَیْئًا وَّلَاتُجْزَوْنَ اِلَّا مَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ (پھر اس دن کسی شخص پر ذرا ظلم نہ ہوگا۔ اور تم کو بس انہی کاموں کا بدلہ ملے گا جو تم کیا کرتے تھے) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–54
53، ان کانت، ان بمعنی ماکانت کے ہے۔ ، الا صیحۃ واحدۃ، اس سے دوسرا نفخہ مراد ہے۔ ، فاذا ھم جمیع لدینا محضرون،
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–64
54 تا 64۔ اوپر دوسرے صور کی آواز سن کر اللہ تعالیٰ کے روبرو حاضر ہوجانے کا ذکر تھا اب اس کے نتیجے کا ذکر فرمایا۔ صحیح مسلم کے حوالہ سے ابوذر ؓ کی روایت سے حدیث قدسی کئی جگہ گزر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ظلم اپنی ذات پاک پر حرام کرلیا ہے اسی واسطے فرمایا کہ قیامت کے دن کسی پر کچھ ظلم نہ ہوگا مطلب یہ ہے کہ نیکیوں کے ثواب میں کمی نہ ہوگی اور بدی کی سزا جرم کی حیثیت سے بڑھ کر نہ دی جاویگی اب آگے جنتیوں اور دوزخیوں کا ذکر فرمایا کیوں کہ دنیا کا پیدا ہونا اور حشر کا قائم ہونا سب اسی نتیجہ کے لیے تھا۔ جنتیوں کے حال کا خلاصہ یہ ہے کہ وہ اور ان کی بیبیاں طرح طرح کی نعمتوں کے مشغلہ میں لگے ہوئے ہوں گے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–54
آیت 51
صور کی پہلی آواز گھبراہٹ اور موت کی آواز ہوگی اور یہ دوسری آواز مردوں کے زندہ ہونے اور اٹھنے کے لئے ہوگی۔ جب دوبارہ صور پھونکا جائے گا توہ اپنی قبروں سے نکل کر جلدی سے اپنے رب کے حضور حاضر ہوں گے اور وہ کسی قسم کی تاخیر اور دیر نہ کرسکیں گے۔ اس حال میں، رسولوں کی تکذیب کرنے والے بہت غم زدہ ہوں گے۔ وہ حسرت اور ندامت کا اظہار کرتے ہوئے کہیں گے : (یویلنا من بعثنا من مرقدنا) ” ہائے افسوس ! ہمیں ہماری خواب گاہوں سے کس نے اٹھایا ؟ “ یعنی ہمیں ہمارے قبروں میں نیند سے کس نے اٹھایا ؟ بعض احادیث میں وارد ہے کہ اہل قبور صور پھونکے جانے سے تھوڑی دیر پہلے تک سو رہے ہوں گے۔ ان کو جواب دیا جائے گا :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–67
قول باری ہے (وخلقنا لھم من مثلہ ما یرکبون اور ہم نے ان کے لئے اسی کشتی جیسی چیزیں اور بھی پیدا کی ہیں جس پر یہ سوار ہوتے ہیں) حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے ” یعنی حضرت نوح (علیہ السلام) کی کشتی کے بعد دوسری کشتیاں “۔ حضرت ابن عباس ؓ سے ایک اور روایت بھی ہے اور مجاہد سے بھی کہ اونٹ خشکی کے جہاز ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–54
56 قیامت کے روز ہر کسی کو اس کے اپنے اعمال ہی کا بدلہ ملے گا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اس روز کہا جائے گا کہ آج کسی شخص پر کوئی زیادتی نہیں ہوگی۔ تم لوگوں کو تمہارے انہی اعمال کا بدلہ دیا جا رہا ہے جو تم خود کرتے رہے تھے اپنی دنیاوی زندگی میں "۔ سو دوزخ اور اس کا عذاب انسان کو اپنے کئے کرائے کے نتیجے اور بدلے میں ملے گا ۔ والعیاذ باللہ ۔ اسی سے یہ بات نکالی گئی ہے کہ کفار کے چھوٹے بچوں کو دوزخ میں نہیں ڈالا جائے گا کیونکہ انہوں نے کوئی گناہ نہیں کیا کہ گناہ کا زمانہ اور اس کی عمر انہوں نے پائی ہی نہیں۔ بہرکیف حساب اور بدلے کے اس دن میں ہر کسی کو اپنے زندگی بھر کے کیے کرائے کا پورا پورا صلہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–74
حشر کا میدان اور نیک و بد کا انجام
تشریح : یہاں کفار مکہ کا اور آج کل کے ملحد وغیرہ لوگوں کا ذکر ہے کہ وہ قیامت کو ناقابل یقین سمجھتے ہوئے کہتے ہیں کہ کب آئے گی قیامت ؟ قیامت جب آئے گی تو اتنی اچانک اور شدید ہوگی کہ کسی کو سمجھ میں ہی نہ آئے گا کہ کیا ہوگیا ہے۔ قیامت سے پہلے چھوٹی قیامت یں اور ہلکے پھلے عذاب تو انسانوں کی نافرمانی کی وجہ سے آتے رہتے ہیں جن کا مقصد انسانوں کو جھنجھوڑنا ہوتا ہے۔ کہیں طوفان بادو باراں، کہیں زلزلہ اور کہیں کسی دوسری شکل میں آفات ارضی و سماوی۔ اسی طرح بڑی اور فیصلہ کن قیامت پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی مگر یہ بھی صرف اس دنیا کی قیامت ہوگی پوری کائنات قائم و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–67
رکوع نمبر 4 ۔ آیات 51 تا 67:
اسرار و معارف :
چنانچہ جب دوبارہ صور پھونکا جائے گا تو اپنی اپنی قبروں سے اٹھ کر اللہ کے حضور چل پڑیں گے یعنی وہ ایسا قادر ہے کہ ایک چنگھاڑ سے ہر شے تباہ کردے گا تو پھر ایک چنگھاڑ یا سخت آواز ہی سب مردہ جسموں کے ذرات کو یکجا کرکے زندہ بھی کردے گی اور ہر فرد چاہے یا نہ چاہے مگر رواں اللہ کی بارگاہ کی طرف ہی ہوگا جہاں سب کی پیشی ہوگی تب پریشان حال یہ کہہ رہے ہوں گے کہ ہمیں کس نے اٹھا دیا اگرچہ برزخ میں بھی کفار عذاب میں ہوں گے۔ مگر میدان حشر کی ہیبت کے سامنے کہیں گے یہاں سے وہاں ہی ٹھیک تھے یہ کس نے ہمیں ان ٹھکانوں سے نکال کھڑا کیا ہے تو جواب آئے گا فرشتے یا مومنین…
Read the full tafseer →ف 7 یعنی نہ ان کی نیکیوں میں کمی کی جائے گی اور نہ ان پر کوئی ناکردہ گناہ لا دا جائے گا۔ اس میں مومن کے لئے خوش خبری اور کافر کے لیے وعید ہے۔ ( کبیر)
Read the full tafseer →(36:54) فالیوم سے مراد یوم قیامت ہے منصوب بوجہ الظرف یا مفعول فیہ ہونے کے۔
شیئا۔ شاء یشائ۔ شیء ومشیئۃ ومشاء ۃ (باب فتح) مصدر۔ ارادہ کرنا۔ چاہنا۔ شیء چیز ۔ کچھ ۔ جو چیز جانی پہچانی جائے اور اس کی خبر دی جاسکے شیء کہلاتی ہے اس کی جمع اشیاء ہے نصب بوجہ مصدر کے ہے۔
لا تجزون مضارع منفی مجہول جمع مذکر حاضر۔ جزاء (باب ضرب) مصدر تم جزا دئیے جائو گے۔ تم بدلہ دئیے جائو گے۔ تمہیں بدلہ ملے گا۔
ما۔ موصولہ ہے بطور مضاف الیہ ہے جس کا مضاف محذوف ہے اور مضاف الیہ ہی قائم مقام مضاف کے ہے۔ ای الاجزاء ما کنتم تعملونہ فی الدنیا علی الاستمرار۔ یعنی سوائے اس عمل کے بدلہ کے جو تم دنیا میں کرتے رہے تھے۔ کنتم تعلمون…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–54
لغات القرآن : آیت نمبر 45 تا 54 :۔ بین ایدی ( سامنے) خلف ( پیچھے) انطعم (کیا ہم کھلائیں) صحیۃ (چنگھاڑ، زور دار آواز) یخصمون ( وہ جھگڑ رہے ہوں گے) الاجداث (قبریں) ینسلون ( وہ دوڑیں گے) لاتجزون ( بدلہ نہ دیئے جائیں گے) ۔
تشریح آیت نمبر 45 تا 54 :۔ نبی کریم ﷺ جب کفار و مشرکین سے کہتے کہ میں جن آیات اور کلام الٰہی کو لے کر آیا ہوں اس پر ایمان لائو۔ اللہ کا خوف اختیار کرو تا کہ تم پر دنیا میں اور آخرت میں رحم و کرم ناز ل کیا جائے اور اپنے سے غریب ، مفلس اور ضرورت مندوں پر اپنا مال خرچ کرو ۔ تو وہ اللہ کی آیات اور نبی کریم ﷺ کی باتوں کا مذاق اڑاتے اور جاہلانہ اعتراضات کر کے اپنے آپ کو مطمئن ظاہر کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–55
(ف 1) اوپر دوسرے صور کی آواز سن کر اللہ تعالیٰ کے روبرو حاضر ہوجانے کا ذکر تھا اب اس کے نیتجہ کا ذکر فرمایا اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات پاک پر ظلم حرام کرلیا ہے ، اسی واسطے فرمایا کہ قیامت کے دن کسی پر کچھ ظلم نہ ہوگا، مطلب یہ ہے کہ نیکیوں کے ثواب میں کمی نہ ہوگی اور بدی کو سزاجرم کی حیثیت سے بڑھ کر نہ دی جائے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–59
[20] یعنی قیامت ناگہاں آن پڑے گی اور لوگ اپنے معاملات میں غرق ہوں گے۔ جس وقت پہلے صور کی چنگھاڑ بلند ہوگی تمام انسان مر کر ڈھیر ہوجائیں گے۔ ان کو اتنی بھی فرصت نہ ملے گی کہ مرنے سے پہلے کسی کو کچھ کہنا چاہیں تو کہہ گزریں، یا جو گھر سے باہر تھے وہ گھر واپس جاسکیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–58
نرسنگا پھونکا جائے گا
1: نفحہ ثانثہ مردہ قالبوں میں زندگی پیدا کردے گا ۔ اور قرنوں سے تیل نکل کر خدا کے حضور میں پہنچنے لگیں گے ۔ اور قبروں سے تیل نکل کر خدا کے حضور میں پہنچنے لگیں گے ۔ اس وقت یہ لوگ حیرت وتعجب سے کہیں گے ، کہ ہم کو ان خواب گاہوں سے کس نے اٹھا دیا ۔ ارشاد ہوگا ۔ کہ یہ وہی قیامت ہے ۔ جس کا ہم سب سے رحمن نے وعدہ کیا تھا ۔ اور پیغمبر سچ کہتے تھے ۔ ہوسکتا ہے کہ صور کی آواز بذاتہ موت اور زندگی پیدا کرنے میں موثر ہو ۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے ۔ کہ یہ آواز محض ایک نوع کا اعلان ہو ۔ اور موخر دوسرے اسباب ہوں ۔ بہرحال جہاں تک قرآن حکیم کا تعلق ہے ۔ اس میں اس حقیقت شرعیہ کو تفصیل کے ساتھ…
Read the full tafseer →(54) پھر اس دن کسی جی پر اور کسی شخص پر ذرا سا بھی ظلم اور زیادتی نہ ہوگی اور تم کو صرف انہی اعمال کا بدلا دیا جائے گا جو تم کیا کرتے تھے یعنی زیادتی کچھ نہ ہوگی بلکہ وہی بدلا پائو گے جو تم کیا کرتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–55
ف 4۔ اس لئے کہ یہاں کی نسبت سے تو وہاں ہی راحت میں تھے۔
Read the full tafseer →کسی کے ساتھ ایک ذرہ بھر بھی ظلم نہیں ہوگا اور کیے کا پورا پورا بدلہ ملے گا :
54۔ یہ دن تو دنیا میں ایک دوسرے پر کیے گئے مظالم کے بدلہ کا ہوگا اور پھر ظاہر ہے کہ جب کسی ظالم کو اس کے ظلم کا بدلہ ملتا ہے تو دیکھنے والوں کو جن کو معلوم نہیں ہوتا کہ اس کو کس چیز کی سزا مل رہی ہے تو وہی کچھ کہیں گے جو دیکھیں گے اور مال سے تو ہر ایک آگاہ نہیں ہوتا اس لئے عام ضابطے کا اعلان کیا جا رہا ہے کہ وہاں کے مناظر سے یہ نہ سمجھا جائے کہ شاید کسی کے ساتھ کوئی زیادتی ہورہی ہے ‘ نہیں ! ہرگز نہیں جس کے کان پکڑا کر جوتے لگائے جا رہے ہوں یا جس کو الٹا لٹکایا گیا ہو یا جس کے ساتھ جو بھی کیا جا رہا ہوگا وہ اس کے کئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–54
In verse 52, it was said: قَالُوا يَا وَيْلَنَا مَن بَعَثَنَا مِن مَّرْقَدِنَا (They will say, "Woe to us! Who has raised us from our sleeping place?" ). Though the disbelievers were already having their punishment in their graves with no sign of any relief, yet this punishment will appear as nothing when compared with the punishing circumstances of the day of Qiyamah, therefore, they will cry out as to why they had to be taken out of their graves, for it would have been better if they had stayed right there. A response to this will come from either the angels or the common believers.
This…
Read the full tafseer →50 This is what AIlah will tell the disbelievers and the polytheists, the sinners and the culprits, when they will be presented before Him.
Read the full tafseer →