Yaseen 36:55

Yaseen · from ayah 55

36:55

اِنَّ اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ الْیَوْمَ فِیْ شُغُلٍ فٰكِهُوْنَ ۟ۚاِنَّ اَصۡحٰبَ الۡجَـنَّةِ الۡيَوۡمَ فِىۡ شُغُلٍ فٰكِهُوۡنَ‌ۚ

اہل جنت اس روز عیش ونشاط کے مشغلے میں ہوں گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Indeed the companions of Paradise, that Day, will be amused in [joyful] occupation -

— Saheeh International

Juz 23 · Ruku 4 of surah · Ruku 3 of juz

Read the whole surah · Surah Yaseen

All translations of 36:55

آج جنتی لوگ مزے کرنے میں مشغول ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اہل جنت اس روز عیش ونشاط کے مشغلے میں ہوں گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

جنتی لوگ آج کے دن اپنے (دلچسﭗ) مشغلوں میں ہشاش بشاش ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

جنت والے لوگ اس دن یقینا اپنے مشغلے میں مگن ہوں گے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بیشک جنت والے آج دل کے بہلاووں میں چین کرتے ہیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

بے شک اہلِ جنت آج (اپنے) دل پسند مشاغل (مثلاً زیارتوں، ضیافتوں، سماع اور دیگر نعمتوں) میں لطف اندوز ہو رہے ہوں گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

بیشک جنت کے رہنے والے آج ایک شغل میں خوش ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

آج اہل جنت مزے اڑانے میں مشغول ہوں گے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

بیشک اہل جنت آج اپنی دلچسپیوں میں مگن ہوں گے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

جنت والے بلاشبہ اس دن دل پسند چیزوں میں خوش ہو رہے ہوں گے

— مولانا اسحاق مدنی

اہل جنت بیشک اس روز اپنے مشغلہ میں خوش دل ہوں گے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یقینا اہل ِجنت اس دن مزے کرنے میں مشغول ہوں گے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اہل جنت اس دن عیش و نشاط میں مشغول ہوں گے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Indeed, the people of Paradise will be busy enjoying themselves:

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

The people of the Paradise are engaged today in (their) activities, happily enjoying (them).

— Muhammad Taqi Usmani

The people of the Paradise are engaged today in (their) activities, happily enjoying (them).

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Verily, the dwellers of the Paradise, that Day, will be busy with joyful things.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Lo! those who merit paradise this day are happily employed,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Indeed the companions of Paradise, that Day, will be amused in [joyful] occupation -

— Saheeh International

The dwellers of Paradise on that day will enjoy themselves.

— Muhammad Sarwar

Surely the dwellers of the garden shall on that day be in an occupation quite happy.

— Muhammad Habib Shakir

Verily the fellows of the Garden to-day shall be happily employed.

— Abdul Majid Daryabadi

Verily the Companions of the Garden shall that Day have joy in all that they do;

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 36:55

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 55–58

جنت کے مناظر۔ جنتی لوگ میدان قیامت سے فارغ ہو کر جنتوں میں بہ صدا اکرام و بہ ہزار تعظیم پہنچائے جائیں گے اور وہاں کی گوناں گوں نعمتوں اور راحتوں میں اس طرح مشغول ہوں گے کہ کسی دوسری جانب نہ التفات ہوگا نہ کسی اور طرف کا خیال، یہ جہنم سے جہنم والوں سے بےفکر ہوں گے۔ اپنی لذتوں اور مزے میں منہمک ہوں گے۔ اس قدر مسرور ہوں گے کہ ہر ایک چیز سے بیخبر ہوجائیں گے نہایت ہشاش بشاش ہوں گے، کنواری حوریں انہیں ملی ہوئی ہوں گی، جن سے وہ لطف اندوز ہو رہے ہوں گے، طرح طرح کی راگ راگنیاں اور خوش کن آوازیں دلریبی سے ان کے دلوں کو لبھا رہی ہوں گیں۔ ان کے ساتھ ہی اس لطف و سرور میں ان کی بیویاں اور ان کی حوریں بھی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 55–58

سورة یٰسٓ 51 اس کلام کو سمجھنے کے لیے یہ بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ صالح اہل ایمان میدان حشر میں روک کر نہیں رکھے جائیں گے بلکہ ابتدا ہی میں ان کو بلا حساب، یا ہلکی حساب فہمی کے بعد جنت میں بھیج دیا جائے گا، کیونکہ ان کا ریکارڈ صاف ہوگا۔ انہیں دوران عدالت انتظار کی تکلیف دینے کی کوئی ضرورت نہ ہوگی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ میدان حشر میں جواب دہی کرنے والے مجرموں کو بتائے گا کہ دیکھو، جن صالح لوگوں کو تم دنیا میں بیوقوف سمجھ کر ان کا مذاق اڑاتے تھے، وہ اپنی عقلمندی کی بدولت آج جنت کے مزے لوٹ رہے ہیں، اور تم جو اپنے آپ کو بڑا زیرک و فرزانہ سمجھ رہے تھے، یہاں کھڑے اپنے جرائم کی جواب دہی کر رہے ہو۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

(آیت) ان اصحب الجنة الیوم فی شغل فاکھون، اصحاب جہنم کی پریشانیوں کا ذکر کرنے کے بعد قیامت میں اصحاب جنت کا حال ذکر فرمایا کہ وہ اپنی تفریحات میں مشغول ہوں گے۔ فاکہوں فاکہ کی جمع ہے، خوش دل خوش حال کو کہا جاتا ہے، اور اس سے پہلے فی شغل کا یہ مفہوم بھی ہوسکتا ہے کہ وہ اصحاب جہنم کو پیش آنے والی پریشانیوں سے بالکل بےغم ہوں گے۔ (کماقالہ بعض المفسرین) اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس جگہ یہ لفظ فی شغل اس خیال کے دفع کرنے کے لئے بڑھایا ہو کہ جنت میں جبکہ نہ کوئی عبادت ہوگی نہ کوئی فرض و واجب اور نہ کسب معاش کا کوئی کام، تو کیا اس بیکاری میں آدمی کا جی نہ گھبرائے گا ؟ اس لئے فرمایا کہ ان کو اپنی تفریحات ہی…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 55–58

آیت 55۔ 58 اس دن اہل جنت کا جو حال ہوگا یہ اس کی تصویر ہے۔ فرمایا کہ اس دن اہل جنت اپنی خالص دلچسپی میں مگن ہوں گے۔ ’ شغل ‘ کی تنکیر تفحیم شان کے لئے ہے۔ ’ ھم وازواجھم الایۃ ‘۔ یہ ان کی بیویوں کا ذکر آیا ہے کہ وہ بھی ان کی دلچسپیوں میں شریک ہوں گی۔ ان کا ذکر خاص اہتمام سے اس لئے ضروری ہوا کہ آدمی کی کوئی دلچسپی اس وقت تک مکمل نہیں ہوتی جب تک اس کے اہل و عیال بھی اس میں شریک نہ ہوں۔ علی الارائک متکون۔ ‘ یہ سب سے اعلیٰ نشست کی تصویر ہے۔ اس زمانے میں بادشاہ اور ملکہ مزین تختوں پر ٹیک لگا کر بیٹھتے تھے۔ اہلِ جنت اپنی ابدی بادشاہی میں اسی طرح بیٹھیں گے۔ ’ لھم فیھا فاکھۃ الایۃ ‘ اس میں ان کے آگے…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 42–64

18: کشتی جیسی دوسری سواری کی تشریح عام طور سے مفسرین نے اونٹوں سے کی ہے، کیونکہ اہل عرب اونٹوں کو صحرا کا جہاز کہا کرتے تھے۔ لیکن قرآن کریم کے الفاظ عام ہیں جس میں کشتی کے مشابہ ہر طرح کی سواریاں داخل ہیں، بلکہ عربی قواعد کی رو سے آیت کا ترجمہ اس طرح بھی کیا جاسکتا ہے کہ : ہم نے ان کے لیے اسی جیسی اور چیزیں بھی پیدا کی ہیں جن پر یہ (آئندہ) سواری کریں گے۔ اس صورت میں وہ تمام سواریاں اس عبارت میں داخل ہوجاتی ہیں جو قیامت تک پیدا ہوں گی، مثلاً آبدوزیں، اور ہوائی جہاز جو اس لحاظ سے کشتی کے مشابہ ہیں کہ کشتی پانی پر تیرتی ہے، اور ہوائی جہاز ہوا پر تیرتا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 55–58

ان اصحب الجنۃ۔۔۔۔۔۔۔۔ من رب رحیم (55 – 58) ” “۔ یہ عیش و عشرت میں مشغول ہوں گے ، ان پر اللہ کے انعامات کی بارش ہوگی اور نہایت ہی خوشگوار چھاؤں میں بیٹھے ہوں گے۔ آمنے سامنے تختوں پر تکیے لگائے ہوئے ہوں گے اور وہ جنت کے مالک ہوں گے اور ان کا یہ حق ہوگا کہ جو چاہیں گے ، مہیا ہوگا اور ان لذائذ کے اوپر مزید ان کے اہل خانہ بھی ان کے ساتھ ہوں گے۔ اور ان کی تکریم ہوگی کہ خود اللہ تعالیٰ ان کے نام سلام بھیجے گا ۔ یہ رب کریم کی طرف سے ان کا اعزاز ہوگا۔ سلم قولا من رب رحیم (36: 58) ” رب رحیم کی طرف سے ان کو سلام کہا گیا ہے “۔ رہے کفار تو ان کے ساتھ حساب و کتاب یہاں نہیں دکھایا گیا بلکہ یہاں محض سرزنش…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 55–57

1 بہشت میں ہر قسم کے عیش و نشاط کا سامان ہوگا۔ دنیا کی مکروہات سے چھوٹ کر آج یہ ہی ان کا مشغلہ ہوگا۔ وہ اور ان کی عورتیں آپس میں گھل مل کر اعلیٰ درجہ کے خوشگوار سایوں میں مسہریوں پر آرام کر رہے ہوں گے۔ ہمہ قسم کے میوے اور پھل وغیرہ ان کے لیے حاضر ہوں گے۔ بس خلاصہ یہ ہے کہ جس چیز کی جنتیوں کے دل میں طلب اور تمنا ہوگی وہ ہی دی جائے گی، اور منہ مانگی مرادیں ملیں گی۔ یہ تو جسمانی لذائذ کا حال ہوا، آگے روحانی نعمتوں کی طرف " سلام قولا من رب رحیم " سے اک ذرا سا اشارہ فرماتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 55 { اِنَّ اَصْحٰبَ الْجَنَّۃِ الْیَوْمَ فِیْ شُغُلٍ فٰـکِہُوْنَ } ”یقینا اہل ِجنت اس دن مزے کرنے میں مشغول ہوں گے۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 53–56

51 جب انہیں صحیح صورت حال کا علم ہوجائے گا تو فرشتے انہیں دھکیل کر میدان محشر کی طرف لے جائیں گے اور وہ مجرموں کی طرح اللہ کے حضور جواب دہی کے لئے پیش کردیئے جائیں گے۔ اور ساتھ ہی انہیں یہ بتادیا جائے گا کہ تم دنیا میں جیسے اعمال کرکے آئے ہو ویسا ہی تمہیں بدلہ دیا جائے گا تاہم یہ یقین رکھو کہ تمہیں تمہارے جرائم سے زیادہ سزا نہیں دی جائے گی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 55–57

38۔ (بلکہ بلاطلب بھی پاتے رہیں گے) نقشہ جنت کی غیر فانی راحتوں اور لاثانی آسائشوں کا پیش ہورہا ہے۔ (آیت) ” فی شغل “۔ شغل سے ہر وہ دل پسند مشغلہ مراد ہے جو ذوق کو بالکل گھیر لے۔ العارض الذی یذھل الانسان (راغب) ھو الشان الذی یصدر المرء ویشغلہ عما سواہ من شؤنہ لکونہ اھم عندہ من الکل (روح) اور انسان کے دل پسندمشغلوں کا نہ حصرممکن ہے نہ شمار۔ اور لفظ شغل کے صیغہ نکرہ سے مقصود بھی لذتوں کی وسعت واہمیت کا اظہار ہے۔ (آیت) ” مایدعون “۔ کی وسعت اطلاق و جامعیت قابل لحاظ ہے۔ جسمانی، دماغی، روحانی، ہر قسم کی ہر ممکن لذت، راحت، مسرت نعمت اس کے عموم میں آگئی، اہل جنت جو کچھ بھی چاہیں گے، جو کچھ بھی مانگیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 51–67

آیت نمبر 51 تا 67 ترجمہ : اور صور پھونکا جائے گا وہ (ایک) سینگ ہے، اور دوسرا صور زندہ کرنے کے لئے ہوگا اور دونوں نفخوں کے درمیان چالیس سال کا وقفہ ہوگا پھر جب وہ یعنی مردے قبروں سے نکل کر تیزی سے اپنے پروردگار کی طرف چلنے لگیں گے ان میں سے کافر کہیں گے، ہائے ہماری کمبختی یا تنبیہ کے لئے ہے ہائے ہماری ہلاکت، وَیْلٌ ایسا مصدر ہے کہ اس کا لفظی فعل نہیں آتا، کس نے ہم کو ہماری قبروں سے اٹھا یا ؟ اس لئے کہ وہ دونوں نفخوں کے درمیان سوئے ہوئے ہوں گے، ان کو عذاب نہ دیا جارہا ہوگا، یہ وہی (بعث) ہے جس کا رحمٰن نے وعدہ کیا تھا، اور رسول نے اس کے بارے میں سچ کہا تھا ایسے وقت اقرار کریں گے کہ ان کا اقرار…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ان اصحب الجنۃ الیوم فی شغل فکھون اہل جنت اس دن بلاشبہ (اپنے) مشغلوں میں خوش دل ہوں گے۔ شغل سے کیا مراد ہے ‘ اہل تفسیر کا اس میں اختلاف ہے۔ دوشیزہ عورتوں سے صحبت مراد ہے (حضرت ابن عباس) یا سماع مراد ہے (وکیع بن جراح) شغل سے مراد یہ ہے کہ دوزخیوں کی اور ان کے احوال کی ان کو پرواہ نہ ہوگی ‘ وہ دوزخیوں کو یاد بھی نہیں کریں گے (کلبی) جنت کی نعمتوں اور راحتوں میں ایسے مشغول ہوں گے کہ دوزخیوں کے عذاب کا ان کو خیال بھی نہ ہوگا (حسن) سب اللہ کی مہمانی میں ہوں گے اور باہم ملاقاتیں کریں گے (ابن کیسان) اولیٰ یہ ہے کہ (کوئی خاص مشغلہ نام زد نہ کیا جائے بلکہ یوں) کہا جائے کہ اپنے اپنے پسندیدہ مرغوب کاموں…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 55–56

(55۔ 56) اور جنتی قیامت کے دن دوزخیوں کا حال دیکھ کر اپنے مشغلوں میں جو ان کو کنواری لڑکیاں ملیں گی خوش دل ہوں گے اور وہ اپنی بیویوں میں درختوں کے سایہ میں مسہریوں پر تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اِنَّ اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ الْيَوْمَ : یہ ذکر کرنے کے بعد کہ ہر ایک کو اس کے عمل ہی کی جزا ملے گی، پہلے اہل جنت کی جزا ذکر فرمائی کہ آج کے دن وہ ایک عظیم مشغولیت میں خوش ہوں گے۔ ”شُغُلٍ“ کا معنی ایسا کام ہے جو انسان کو دوسرے کاموں سے روک دے۔ اس میں تنوین تعظیم کی ہے، مراد یہ ہے کہ وہ اپنی بیویوں سے اور جنت کی دوسری نعمتوں سے لذت اٹھانے میں ایسے مگن ہوں گے کہ انھیں کسی اور چیز کا خیال تک نہیں آئے گا، کیونکہ جنت کی وہ نعمتیں ایسی ہوں گی جو انسان کے وہم و گمان سے بھی بالا ہیں۔ دیکھیے سورة سجدہ (17) ”الْيَوْمَ“ (آج) کے لفظ سے معلوم ہوا کہ اہل جنت جلد ہی جنت میں چلے جائیں گے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 55–59

حضرت ابن مسعود ‘ حضرت ابن عباس ‘ قتادہ ارمجاہد نے کہا : باکرہ عورتوں کے ساتھ حقوق زوجیت نے انہیں غافل کردیا ہوگا۔ ترمذی حکیم نے اپنی کتاب ” مشکل القرآن “ میں یہ روایت ذکر کی ہے کہ ہمیں محمد بن حمیدرازی نے انہوں نے یعقوب قومی سے انہوں نے حفص بن حمید سے انہوں نے شمسر بن عطیہ سے ‘ انہوں نے شفیق بن سلمہ سے انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے یہ روایت نقل کی ہے کہ باکرہ بیویوں سے حقوق زوجیت نے انہین مشغول کر رکھا ہو (1) ۔ محمد بن حمید ‘ ہارون بن مغیرہ سے وہ نہشل سے وہ ضحاک سے وہ حضرت ابن عباس ؓ سے اس کی مثل روایت کرتے ہیں۔ ابو قلابہ نے کہا : اسی اثنا میں کہ ایک جنتی اپنے اہل کے ساتھ مصروف ہوگا کہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 55–56

1:۔ الفریابی، وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ان اصحب الجنۃ الیوم فی شغل فکھون “ (اہل جنت اس دن اپنے شغلوں میں خوش دل ہوں گے) یعنی وہ خوش ہوں گے۔ 2:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ان اصحب الجنۃ الیوم فی شغل فکھون “ یعنی نعمتیں ان کو اس عذاب سے غافل کردیں گی جس میں دوزخی مبتلا ہوں گے۔ 3:۔ ابن ابی شیبہ (رح) وابن ابی الدنیا فی صفۃ الجنۃ وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) وابن مردویہ ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” فی شغل فکھون “ سے مراد ہے کہ وہ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اِنَّ اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ [بیشک جنت والے ] الْيَوْمَ فِيْ شُغُلٍ [آج کے دن کسی مشغلہ میں ] [فٰكِــهُوْنَ : ہنسنے ہنسانے والے ہوں گے ] ش غ ل (ف) شغلا کام میں لگانا۔ مصروف رکھنا ۔ شَغَلَتْنَآ اَمْوَالُنَا وَاَهْلُوْنَا (ہمیں مصروف رکھا ہمارے اموال نے اور ہمارے گھر والوں نے) 48/11 شغل مصروفیت۔ شغل، زیر مطالعہ آیت۔ 55 نوٹ۔ 1: آیت 55 کو سمجھنے کے لئے یہ بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ صالح اہل ایمان میدان حشر میں روک کر نہیں رکھے جائیں گے بلکہ ابتدا ہی میں ان کو بلا حساب، یا ہلکی حساب فہمی کے بعد جنت میں بھیج دیا جائے گا کیونکہ ان کا ریکارڈ صاف ہوگا۔ انہیں دوران عدالت انتظار کی تکلیف دینے کی ضرورت نہ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 54–55

اہل جنت کی نعمتوں کا تذکرہ، وہ اپنی بیویوں کے ساتھ سایوں میں تکیے لگائے بیٹھے ہوں گے ان آیات میں اہل جنت کی بعض نعمتوں کا تذکرہ فرمایا، اول تو یہ فرمایا کہ یہ لوگ اپنے اپنے مشغلوں میں خوش ہوں گے۔ صاحب روح المعانی لکھتے ہیں : (والمراد بہ ما ھم فی من النعیم الذی شغلھم عن کل ما یخطر بالبال) یعنی شغل سے وہاں کی نعمتوں میں مشغول رہنا مراد ہے، وہاں کی نعمتیں ہر اس چیز کے تصور سے بےپرواہ کردیں گی جن کا تصور آسکتا ہو۔ (فَاکِھُوْنَ ) کا ایک ترجمہ تو وہی ہے جو اوپر لکھا گیا ہے یعنی وہ اپنی نعمتوں میں خوش ہوں گے۔ اور بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ اس سے تمتع اور تلذذ مراد ہے اور مطلب یہ ہے کہ ان کے پاس میوے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 48–76

منکرین حشر ونشر کی تہدید اور وعید قال اللہ تعالیٰ ویقولون متی ھذا الوعد۔۔۔ الی۔۔۔ انا نعلم ما یسرون وما یعلنون۔ (ربط) گذشتہ آیات میں زیادہ تر دلائل توحید کا ذکر تھا اور اس سے ذرا پہلے وان کل لما جمیع لدینا محضرون میں مسئلہ حشر ونشر کا ذکر تھا اب پھر مسئلہ حشرونشر کی طرف رجوع فرماتے ہیں اور ان کا ایک سوال نقل فرماتے ہیں ویقولون متی ھذا الوعد ان کنتم صدقین : یعنی یہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ قیامت کا وعدہ کب پورا ہوگا اللہ تعالیٰ نے اس کے جواب میں اس کے وقت کے اظہار سے مصلحۃً اعراض فرمایا اور اجمالی طور پر صرف اتنا بتا دیا کہ قیامت نا گہاں آئے گی جب لوگ اپنے کاروبار میں مصروف ہوں گے ناگہاں صور پھونکا…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 54–55

35:۔ ان اصحاب الخ :۔ یہ بشارت اخروی ہے۔ اہل جنت، جنت کی پرسکون فضا میں عیش و طرب کی مصروفیتوں میں خوش وخرم ہوں گے۔ وہ اپنی بیویوں کے ساتھ ٹھنڈی چھاؤں میں عالیشان تختوں پر تکیہ لگائے آرام کریں گے۔ اور جنت میں انہیں نہ صرف ہر میوہ ملے گا بلکہ ہر وہ چیز جس کی وہ تمنا کریں گے اور جو چیز وہ طلب کریں گے، انہیں ملے گی۔ سلم قولا من رب رحیم۔ سلام خبر مقدم محذوف کا مبتدا ہے ای لہم اور قولا فعل مقدر کا مفعول مطلق ہے اور یہ جملہ سلام کی صفت ہے۔ اہل جنت کا یہ سب سے بڑا اعزاز ہوگا کہ باری تعالیٰ خود انہیں سلام فرمائیگا ای سلام یقال لہم قولا من جہۃ رب رحیم ای بسلام علہم من جہتہ تعالیٰ بلا واسطۃ تعظیما لہم…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 51–59

ربط آیات اپنی آیات قدرت بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے کفار و مشرکین کی مذمت بیان فرمائی اور یہ بھی کہ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ آگے پیش آنے والے حالات کے لیے کچھ تیاری کرلو ، اور جو اعمال پیچھے چھوڑ آئے ہو ان کے متعلق بھی غور و فکر کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے تو یہ لوگ نشانات قدرت دیکھ کر بھی ایمان نہیں لاتے بلکہ الٹا اعتراض کرنے لگتے ہیں۔ پھر اللہ نے ان میں سے مالداروں کی حالت کا ذکر بھی کیا کہ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ کی عطا کردہ روزی میں سے غرباء اور مساکین پر بھی خرچ کرو تو کہتے ہیں کہ جن کو خود خدا تعالیٰ بھوکا رکھنا چاہتا ہے یعنی ان کو نادار بنایا ہے ، بھلا ہم ان کی اعانت کریں۔ اللہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِنَّ اَصْحٰبَ الْجَنَّۃِ الْيَوْمَ فِيْ شُغُلٍ فٰكِــہُوْنَ۝ 5 5ۚ صحب الصَّاحِبُ : الملازم إنسانا کان أو حيوانا، أو مکانا، أو زمانا . ولا فرق بين أن تکون مُصَاحَبَتُهُ بالبدن۔ وهو الأصل والأكثر۔ ، أو بالعناية والهمّة، ويقال للمالک للشیء : هو صاحبه، وکذلک لمن يملک التّصرّف فيه . قال تعالی: إِذْ يَقُولُ لِصاحِبِهِ لا تَحْزَنْ [ التوبة/ 40] ( ص ح ب ) الصاحب ۔ کے معنی ہیں ہمیشہ ساتھ رہنے والا ۔ خواہ وہ کسی انسان یا حیوان کے ساتھ رہے یا مکان یا زمان کے اور عام اس سے کہ وہ مصاحبت بدنی ہو جو کہ اصل اور اکثر ہے یا بذریعہ عنایت اور ہمت کے ہو جس کے متعلق کہ شاعر نے کہا ہے ( الطوایل ) ( اگر تو میری…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 55–61

فقال ان اصحب الجنۃ الخ کہ نیک لوگ بہشت میں عیش و آرام کریں گے۔ یہ جنت جسمانی کی طرف اشارہ تھا۔ سلم قولاً من رب رحیم یہ روحانی جنت کی طرف اشارہ ہے کہ اللہ کی طرف سے ان کو سلام پہنچے گا۔ ان پر تجلی ہوگی اور دیدار سے سرفرازی بخشی جاوے گی جو سرور ابدی ہے۔ اس کے بعد بدوں کا حال بیان فرماتا ہے۔ وامتازوا الیوم کہ مجرموں کو سزا دینے کے لیے جماعت سے الگ کردینے کا حکم ہوگا اور ان کو ملامت کی جاوے گی کہ دیکھو ہم نے تم سے کہلا بھیجا تھا کہ شیطان کا کہنا نہ ماننا، وہ تمہارا صریح دشمن ہے اور خاص میری عبادت کرنا یہ سیدھا رستہ ہے، مگر تم نے نہ مانا، آج اس بلا میں گرفتار ہوئے۔

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 55–58

اِنَّ اَصْحٰبَ الْجَنَّۃِ الْیَوْمَ فِیْ شُغُلٍ فٰـکِھُوْنَ ۔ ھُمْ وَاَزْوَاجُہُمْ فِیْ ظِلٰـلٍ عَلَی الْاَرَآئِکِ مُتَّـکِئُوْنَ ۔ لَہُمْ فِیْھَا فَاکِھَۃٌ وَّلَہُمْ مَّایَدَّعُوْن۔ سَلٰمٌ قف قَوْلًا مِّنْ رَّبٍّ رَّحِیْمٍ ۔ (یٰسٓ: 55 تا 58) (بےشک آج جنت والے اپنی دلچسپیوں میں مشغول ہوں گے۔ وہ اور ان کی بیویاں گھنے سایوں میں تختوں پر تکیہ لگائے ہوئے ہوں گے۔ ان کے لیے اس میں میوے ہوں گے اور ان کے لیے وہ سب کچھ ہوگا جو وہ طلب کریں گے۔ ربِ رحیم کی طرف سے ان کے لیے سلام ہوگا۔ ) اہلِ جنت پر نوازشات عدالت کی کارروائی شروع ہوگی تو سب سے پہلے ان مخلص وفاداروں کو یاد کیا جائے گا جنھوں نے زندگی کا ہر…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 53–55

فہم القرآن ربط کلام : جہنمی حواس باختہ، پریشان اور انتہائی ذلت میں ہوں گے۔ ان کے مقابلے میں جنتی چمکتے ہوئے چہروں کے ساتھ ہشاش بشاش اور خوش و خرم ہوں گے۔ مجرموں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ انہیں محشر کے میدان میں اکٹھا کیا جائے گا جن کے لیے اعلان ہوگا کہ آج تم پر کسی قسم کا کوئی ظلم نہیں ہوگا۔ جنتیوں کا ذکر کرتے ہوئے محشر کے دن کے مختلف مراحل کا ذکر چھوڑ کر انہیں خوشخبری سنائی گئی ہے کہ آج تمہیں جنت میں داخل کیا جاتا ہے جس میں تم ایک دوسرے کے سامنے صوفوں پر خوش و خرم بیٹھے ہوئے خوش گپیاں کرو گے اور جو چاہو گے وہ پاؤ گے۔ قبروں سے نکلتے ہی جہنمیوں اور جنتیوں کے درمیان واضح فرق دکھائی دے گا۔…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

جنتیوں کے کچھ احوال : 55: اِنَّ اَصْحٰبَ الْجَنَّۃِالْیَوْمَ فِی شُغُلٍ فٰکِھُوْنَ (اہل جنت بیشک اس روز اپنے مشغلوں میں خوش دل ہونگے) قراءت : شُغُلکو کوفی، شامی نے دو ضموں سے پڑھا۔ اور مکی نے شُغْل ضمہ اور سکون سے پڑھا نافع و ابو عمرو نے بھی ان کا ساتھ دیا۔ مطلب یہ ہے کیا خوب مشغولیت میں اور ایسی مشغولیت جس کو بیان نہیں کیا جاسکتا۔ اور وہ ضیافت ملک الجبار یا جنت کی سروں کا سننا، یا نہروں کے کنارے درختوں کے نیچے حوروں سے ہم خوابی۔ نحو : فاکھون یہ خبر ثانی ہے۔ یزید نے فَکِھُوْن پڑھا۔ الفاکہ والف کہ خوش عیثی کی چیز جس سے تلذذ حاصل کیا جائے۔ اسی سے الفکاھۃ خوش گپی ہے کیونکہ اس سے بھی تلذذ لیا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

55، ان اصحاب الجنۃ الیوم فی شغل ، ابن کثیر نافع اور ابوعمرونے ، فی شغل، غین کے سکون کے ساتھ اور دوسرے قراء نے غین کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے اور اس میں دولغتیں ہیں۔ یہ ، سحت اور سحت، کی طرح ہے۔ ، شغل ، کے معنی میں مفسرین کرام کا آپس میں اختلاف ہے۔ ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ اس کا معنی ہے کہ وہ خوشی سے پھولے نہ جائیں گے یا دوشیزاؤں سے محبت مراد ہے۔ وکیع بن جراح کا قول ہے کہ اس سے سماع مراد ہے۔ کلبی کا بیان ہے کہ دوزخیوں کے اور ان کے احوال کی ان کو پرواہ نہیں ہوگی ، وہ دوزخیوں کو بھی یاد نہیں کریں گے۔ حسن کا قول ہے کہ وہ جنت کی نعمتوں میں ایسے مشغول ہوں گے کہ دوزخیوں کے عذاب کا ان کو خیال بھی نہ ہوگا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 54–64

54 تا 64۔ اوپر دوسرے صور کی آواز سن کر اللہ تعالیٰ کے روبرو حاضر ہوجانے کا ذکر تھا اب اس کے نتیجے کا ذکر فرمایا۔ صحیح مسلم کے حوالہ سے ابوذر ؓ کی روایت سے حدیث قدسی کئی جگہ گزر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ظلم اپنی ذات پاک پر حرام کرلیا ہے اسی واسطے فرمایا کہ قیامت کے دن کسی پر کچھ ظلم نہ ہوگا مطلب یہ ہے کہ نیکیوں کے ثواب میں کمی نہ ہوگی اور بدی کی سزا جرم کی حیثیت سے بڑھ کر نہ دی جاویگی اب آگے جنتیوں اور دوزخیوں کا ذکر فرمایا کیوں کہ دنیا کا پیدا ہونا اور حشر کا قائم ہونا سب اسی نتیجہ کے لیے تھا۔ جنتیوں کے حال کا خلاصہ یہ ہے کہ وہ اور ان کی بیبیاں طرح طرح کی نعمتوں کے مشغلہ میں لگے ہوئے ہوں گے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 55–58

آیت 55 جب اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرما دیا کہ ہر شخص کو صرف اس کے اعملا کی جزا ملے گی تو دونوں ریقوں کی جزا اور سزا کا ذکر بھی کیا۔ پہلے اہل جنت کی جزا کا ذکر کرتے ہوئے آگاہ فرمایا کہ اہل جنت اس روز (فی شغل فکھون) ” لطف اٹھانے میں مشغول ہوں گے “ یعنی ایسے مشاغل میں مشغول ہوں گے جن سے نفس کو لطف اور لذت محسوس ہوگی، ہر ایسی چیز میں مشغول ہوں گے جو نفس چاہیں گے، آنکھیں جس سے لذت حاصل کریں گی اور تمنا کرنے والے تمنا کریں گے۔ ان نعمتوں میں خوبصورت دو شیزاؤں سے ملاقات شامل ہے، جیسا کہ فرمایا : (آیت) ” وہ اور ان کی بیویاں “ خوبصورت آنکھوں والی جو خوبصورت چہروں اور خوبصورت بدنوں والی ہونے کے ساتھ ساتھ…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 42–67

قول باری ہے (وخلقنا لھم من مثلہ ما یرکبون اور ہم نے ان کے لئے اسی کشتی جیسی چیزیں اور بھی پیدا کی ہیں جس پر یہ سوار ہوتے ہیں) حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے ” یعنی حضرت نوح (علیہ السلام) کی کشتی کے بعد دوسری کشتیاں “۔ حضرت ابن عباس ؓ سے ایک اور روایت بھی ہے اور مجاہد سے بھی کہ اونٹ خشکی کے جہاز ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

57 اہل جنت کے آرام و راحت اور ان کی نعمتوں کی تصویر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اہل جنت اپنی دلچسپیوں میں محو ہوں گے "۔ یعنی جنت کی نعمتوں میں۔ ان کی خوشحالیوں اور فارغ البالیوں کا یہ عالم ہوگا کہ دوزخیوں کی ان کربناکیوں کا بھی ان کو کوئی پتہ اور احساس نہیں ہوگا تاکہ اس طرح ان کے تنعم میں کوئی فرق نہ آئے پائے ۔ فَاجْعَلنَا مِنْہُمْ یَا اَرْحَمَ الرّاحِمِیْن بِمَحْضِ مَنِّکَ وکَرَمِک فَاِنَّکَ اَکْرَمُ الاکرمین ۔ " شغل " کی تنکیر تعظیم و تفخیم کیلئے ہے۔ یعنی یہ خوش نصیب لوگ وہاں کے عظیم الشان مشاغل اور بےمثال دلچسپیوں میں مشغول ہوں گے ۔ اللہ نصیب فرمائے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔ بہرکیف اس…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 48–74

حشر کا میدان اور نیک و بد کا انجام تشریح : یہاں کفار مکہ کا اور آج کل کے ملحد وغیرہ لوگوں کا ذکر ہے کہ وہ قیامت کو ناقابل یقین سمجھتے ہوئے کہتے ہیں کہ کب آئے گی قیامت ؟ قیامت جب آئے گی تو اتنی اچانک اور شدید ہوگی کہ کسی کو سمجھ میں ہی نہ آئے گا کہ کیا ہوگیا ہے۔ قیامت سے پہلے چھوٹی قیامت یں اور ہلکے پھلے عذاب تو انسانوں کی نافرمانی کی وجہ سے آتے رہتے ہیں جن کا مقصد انسانوں کو جھنجھوڑنا ہوتا ہے۔ کہیں طوفان بادو باراں، کہیں زلزلہ اور کہیں کسی دوسری شکل میں آفات ارضی و سماوی۔ اسی طرح بڑی اور فیصلہ کن قیامت پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی مگر یہ بھی صرف اس دنیا کی قیامت ہوگی پوری کائنات قائم و…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 51–67

رکوع نمبر 4 ۔ آیات 51 تا 67: اسرار و معارف : چنانچہ جب دوبارہ صور پھونکا جائے گا تو اپنی اپنی قبروں سے اٹھ کر اللہ کے حضور چل پڑیں گے یعنی وہ ایسا قادر ہے کہ ایک چنگھاڑ سے ہر شے تباہ کردے گا تو پھر ایک چنگھاڑ یا سخت آواز ہی سب مردہ جسموں کے ذرات کو یکجا کرکے زندہ بھی کردے گی اور ہر فرد چاہے یا نہ چاہے مگر رواں اللہ کی بارگاہ کی طرف ہی ہوگا جہاں سب کی پیشی ہوگی تب پریشان حال یہ کہہ رہے ہوں گے کہ ہمیں کس نے اٹھا دیا اگرچہ برزخ میں بھی کفار عذاب میں ہوں گے۔ مگر میدان حشر کی ہیبت کے سامنے کہیں گے یہاں سے وہاں ہی ٹھیک تھے یہ کس نے ہمیں ان ٹھکانوں سے نکال کھڑا کیا ہے تو جواب آئے گا فرشتے یا مومنین…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 8 شغل دھندے سے مراد وہ لذتیں ہیں جن میں اہل جنت اپنے جی بہلا رہے ہونگے اور ان میں ایسے مگن ہوں گے کہ ” ماسوا “ کا خیال تک نہیں آئے گا۔ حدیث میں ہے ” جنت میں تو وہ وہ نعمتیں حاصل ہوں گی جنہیں نہ کسی آنکھ نے دیکھا نہ کسی کان نے سنا اور نہ کسی کے دل میں ان کا خیال گزارا ہوگا۔ ( ابن کثیر)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(36:55) الیوم۔ اس روز۔ قیامت کے دن۔ شغل واحد ہے اس کی جمع اشغال وشغول ہے۔ مشغلہ ایسی مصروفیت جس کی وجہ سے انسان دوسرے کاموں کی طرف توجہ نہ دے سکے شغل تنوین تنکیر اظہار عظمت کے لئے ہے یعنی ایسی عظیم الشان خوشی کہ نہ احاطہ فہم میں آسکے اور نہ الفاظ میں بیان کی جاسکے۔ فکھون۔ اسم فاعل جمع مذکر۔ فاکھۃ واحد آرام پانے والے۔ راحت پانے والے فرحاں و شاداں۔ فکہ یف کہ (سمع) فکاھۃ مصدر سے۔ ہنسنے ہنسانے خوش طبعی والا ہونا۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 55–68

لغات القرآن : آیت نمبر 55 تا 68 :۔ شغل ( مشغلے) فکھون ( دل لگی کرنے والے) متکون (تکیہ لگا کر بیٹھنے والے) یدعون ( وہ پکاریں گے ، خواہش کریں گے) امتازوا ( تم الگ ہو جائو) جبلا ( جماعت ، لوگوں کا گروہ) نختم ( ہم مہر لگا دیں گے) افواہ ( فوہ) (منہ) تشھد ( گواہی دیں گے) طمسنا ( ہم سجھائی دیتے) مضیا (چلنا) نعمرہ ( ہم زیادہ عمر دیتے ہیں اس کو) ننکسہ ( ہم اوندھا کردیتے ہیں اس کو) تشریح : آیت نمبر 55 تا 68 :۔ جہنم والوں کی سزا بیان کرنے کے بعد اب جنت والوں کی جزا اور بدلہ کا بیان کیا جا رہا ہے کہ اہل جنت کس قدر خوش و خرم اور اللہ کی نعمتوں سے لطف اندوز ہو رہے ہوں گے ۔ جنت کیا ہے ؟ اس دنیا میں رہ کر اس…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 54–55

(ف 1) اوپر دوسرے صور کی آواز سن کر اللہ تعالیٰ کے روبرو حاضر ہوجانے کا ذکر تھا اب اس کے نیتجہ کا ذکر فرمایا اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات پاک پر ظلم حرام کرلیا ہے ، اسی واسطے فرمایا کہ قیامت کے دن کسی پر کچھ ظلم نہ ہوگا، مطلب یہ ہے کہ نیکیوں کے ثواب میں کمی نہ ہوگی اور بدی کو سزاجرم کی حیثیت سے بڑھ کر نہ دی جائے گی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 50–59

[20] یعنی قیامت ناگہاں آن پڑے گی اور لوگ اپنے معاملات میں غرق ہوں گے۔ جس وقت پہلے صور کی چنگھاڑ بلند ہوگی تمام انسان مر کر ڈھیر ہوجائیں گے۔ ان کو اتنی بھی فرصت نہ ملے گی کہ مرنے سے پہلے کسی کو کچھ کہنا چاہیں تو کہہ گزریں، یا جو گھر سے باہر تھے وہ گھر واپس جاسکیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 51–58

نرسنگا پھونکا جائے گا 1: نفحہ ثانثہ مردہ قالبوں میں زندگی پیدا کردے گا ۔ اور قرنوں سے تیل نکل کر خدا کے حضور میں پہنچنے لگیں گے ۔ اور قبروں سے تیل نکل کر خدا کے حضور میں پہنچنے لگیں گے ۔ اس وقت یہ لوگ حیرت وتعجب سے کہیں گے ، کہ ہم کو ان خواب گاہوں سے کس نے اٹھا دیا ۔ ارشاد ہوگا ۔ کہ یہ وہی قیامت ہے ۔ جس کا ہم سب سے رحمن نے وعدہ کیا تھا ۔ اور پیغمبر سچ کہتے تھے ۔ ہوسکتا ہے کہ صور کی آواز بذاتہ موت اور زندگی پیدا کرنے میں موثر ہو ۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے ۔ کہ یہ آواز محض ایک نوع کا اعلان ہو ۔ اور موخر دوسرے اسباب ہوں ۔ بہرحال جہاں تک قرآن حکیم کا تعلق ہے ۔ اس میں اس حقیقت شرعیہ کو تفصیل کے ساتھ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(55) بلاشبہ اہل جنت اس دن ایک خاص شغل میں خوش اور لذت اندوز ہیں۔ یعنی اپنی بیویوں سے یا آپس میں ایک دوسرے سے ملاقات یا جنت کے نغمات اور گانے سننے میں لگے ہوئے ہوں گے۔ بہرحال جو شغل اور جو دھندا بھی ہوگا وہ بلا مشقت اور محض خوش طبعی کا شغل ہوگا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

جنت میں داخل ہونے والے میووں میں خوش ہوں گے : 55۔ (شغل) وہی چیز ہے جو انسان کو کسی حالت میں مشغول کردیتی ہے فرمایا جا رہا ہے کہ جنت کی اجازت ملنے والوں کو اتنی خوشی ہوگی کہ وہ جنت کے میووں سے مشغول ہوجائیں گے اور یہ میوے اور پھل ان کی چاہت کے مطابق ہوں گے اور اس وقت کسی کی کیا چاہت ہوگی اس وقت اس کے متعلق جو کہا جائے گا وہ بطور تفہیم یا بطور عقل وفہم ہی کہا جائے گا اور یہ بھی کہ اس خوشی کے عالم میں عین ممکن ہے کہ سب سے پہلے انسان ان لوگوں کی طرف نظر پھراتا ہے جو اس کے جاننے والوں اور رشتہ داروں میں سے ہوں گے کیونکہ ایسی حالت میں یہ خوشی بھی ساری خوشیوں سے بڑھ کر ہے کہ بعض اوقات کسی عزیز کے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Then, in verse 55, it was said:إِنَّ أَصْحَابَ الْجَنَّةِ الْيَوْمَ فِي شُغُلٍ فَاكِهُونَ (The people of the Paradise are engaged today in (their) activities, happily enjoying [ them ]) - 36:55). After having mentioned the worries of the people of Jahannam, described here is the state of the people of Paradise on the day of Qiyamah that they will be enjoying themselves. The word: فَاكِهُونَ (fakihun) is the plural form of: فَاکِہُ (fakih). It signifies happiness of the heart as well as happiness out of one's surroundings. As for the expression: فِي شُغُلٍ (fi shughul) appearing before it, it…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 55–58

51 To understand this one should remember that the righteous believers will not be withheld in the Plain of Resurrection, but in the very beginning they will be sent to Paradise without accountability, or after a mild reckoning, because their record will be clean. There will be no need to keep them waiting during the hearing by the Court. Therefore, Allah will tell the culprits, who will be required to render their accounts, in the Plain of Resurrection: "Look ! the righteous people whom you used to mock and regard as foolish in the world, are today enjoying the pleasures of Paradise because…

Read the full tafseer →