Yaseen 36:53

Yaseen · from ayah 53

36:53

اِنْ كَانَتْ اِلَّا صَیْحَةً وَّاحِدَةً فَاِذَا هُمْ جَمِیْعٌ لَّدَیْنَا مُحْضَرُوْنَ ۟اِنۡ كَانَتۡ اِلَّا صَيۡحَةً وَّاحِدَةً فَاِذَا هُمۡ جَمِيۡعٌ لَّدَيۡنَا مُحۡضَرُوۡنَ

صرف ایک زور کی آواز کا ہونا ہوگا کہ سب کے سب ہمارے روبرو آحاضر ہوں گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

It will not be but one blast, and at once they are all brought present before Us.

— Saheeh International

Juz 23 · Ruku 4 of surah · Ruku 3 of juz

Read the whole surah · Surah Yaseen

All translations of 36:53

ایک ہی زور کی آواز ہو گی اور سب کے سب ہمارے سامنے حاضر کر دیے جائیں گے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

صرف ایک زور کی آواز کا ہونا ہوگا کہ سب کے سب ہمارے روبرو آحاضر ہوں گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

یہ نہیں ہے مگر ایک چیﺦ کہ یکایک سارے کے سارے ہمارے سامنے حاضر کر دیئے جائیں گے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور کچھ نہیں، بس ایک زور کی آواز ہوگی، جس کے بعد یہ سب کے سب ہمارے سامنے حاضر کردیے جائیں گے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

وہ تو نہ ہوگی مگر ایک چنگھاڑ جبھی وہ سب کے سب ہمارے حضور حاضر ہوجائیں گے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

یہ محض ایک بہت سخت چنگھاڑ ہوگی تو وہ سب کے سب یکایک ہمارے حضور لا کر حاضر کر دیئے جائیں گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

نہیں ہوگی مگر ایک ہی چیخ، تو اچانک وہ سب ہمارے پاس حاضر کیے ہوئے ہوں گے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

وہ بس ایک ہی گرجدار آواز ہوگی پھر وہ فوراً سب کے سب ہمارے حضور پیش کردیئے جائیں گے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

بس وہ ایک ڈانٹ ہوگی، بس وہ دفعتہ سب کے سب ہمارے حضور حاضر کردیے جائیں گے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

بس زور کی ایک ایسی آواز ہوگی جس کے نتیجے میں یہ سب کے سب یکایک ہمارے سامنے حاضر کردیئے جائیں گے

— مولانا اسحاق مدنی

وہ بس ایک زور کی آواز ہوگی جس سے سب یکایک جمع ہو کر ہمارے سامنے حاضر کردیئے جائیں گے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

پھر) ایک ہی چنگھاڑ ہوگی تو (اس کے نتیجے میں) وہ سب کے سب ہمارے حضور حاضر کردیے جائیں گے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

صرف ایک زور کی آواز کا ہونا ہوگا کہ سب کے سب ہمارے روبرو آحاضر ہوں گے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Then there will simply be one single Blast, and all will have gathered before Us.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

It will be no more than a single Cry, and in no time they will all be arraigned before Us.

— Muhammad Taqi Usmani

It will be no more than a single Cry, and in no time they will all be arraigned before Us.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

It will be but a single Sayhah, so behold they will all be brought up before Us!

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

It is but one Shout, and behold them brought together before Us!

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

It will not be but one blast, and at once they are all brought present before Us.

— Saheeh International

Only after a single blast of sound, they will all be brought into Our presence.

— Muhammad Sarwar

There would be naught but a single cry, when lo! they shall all be brought before Us;

— Muhammad Habib Shakir

It shall be but one shout; and lo! they shall all be brought together before us.

— Abdul Majid Daryabadi

It will be no more than a single Blast, when lo! they will all be brought up before Us!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 36:53

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 51–54

ان آیتوں میں دوسرے نفخہ کا ذکر ہو رہا ہے۔ جس سے مردے جی اٹھیں گے۔ ینسلون کا مصدر نسلان سے ہے اور اس کے معنی تیز چلنے کے ہیں۔ جیسے اور آیت میں ہے (يَوْمَ يَخْرُجُوْنَ مِنَ الْاَجْدَاثِ سِرَاعًا كَاَنَّهُمْ اِلٰى نُصُبٍ يُّوْفِضُوْنَ 43؀ۙ) 70۔ المعارج :43) جس دن یہ قبروں سے نکل کر اس تیزی سے چلیں گے کہ گویا وہ کسی نشان منزل کی طرف لپکے جا رہے ہیں۔ چونکہ دنیا میں انہیں قبروں سے جی اٹھنے کا ہمیشہ انکار رہا تھا اس لئے آج یہ حالت دیکھ کر کہیں گے کہ ہائے افسوس ہمارے سونے کی جگہ سے ہمیں کس نے اٹھایا ؟ اس سے قبر کے عذاب کا نہ ہونا ثابت نہیں ہوتا اس لئے کہ جس ہول و شدت کو جس تکلیف اور مصیبت کو یہ اب…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 52–53

سورة یٰسٓ 48 یعنی اس وقت انہیں یہ احساس نہ ہوگا کہ وہ مر چکے تھے اور اب ایک مدت دراز کے بعد دوبارہ زندہ کر کے اٹھائے گئے ہیں، بلکہ وہ اس خیال میں ہوں گے کہ ہم سوئے پڑے تھے، اب یکایک کسی خوفناک حادثہ کی وجہ سے ہم جاگ اٹھے ہیں اور بھاگے جا رہے ہیں۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد سوم، ص 123۔ 199۔ 200۔) سورة یٰسٓ 49 یہاں اس امر کی کوئی تصریح نہیں ہے کہ یہ جواب دینے والا کون ہوگا۔ ہوسکتا ہے کہ کچھ دیر بعد خود انہی لوگوں کی سمجھ میں معاملہ کی اصل حقیقت آجائے اور وہ آپ ہی اپنے دلوں میں کہیں کہ ہائے ہماری کم بختی، یہ تو وہی چیز ہے جس کی خبر خدا کے رسول ہمیں دیتے تھے اور ہم اسے جھٹلایا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 52–54

(آیت) قالوا یا ویلنا من بعثنا من مرقدنا، کفار اگرچہ قبروں میں بھی عذاب قبر میں مبتلا تھے، وہاں کچھ آرام نہ تھا، مگر قیامت کے عذاب کے مقابلہ میں وہ پہلا عذاب کالعدم معلوم ہوگا اس لئے پکاریں گے کہ ہمیں کس نے قبروں سے نکال لیا، وہیں رہتے تو اچھا ہوتا۔ اس پر فرشتے یا عام مومنین جواب دیں گے۔ (آیت) ھذا ما وعدالرحمن وصدق المرسلون، یعنی یہ وہی قیامت ہے جس کا رحمن نے وعدہ کیا تھا، اور اس کے رسولوں نے اس کی سچی خبر تم کو سنائی تھی، تم نے توجہ نہ دی۔ اس مقام پر اللہ کی صفات میں سے لفظ رحمن اختیار کرنے میں اشارہ ہے کہ اس نے تو اپنی رحمت سے تمہارے لئے اس عذاب سے بچنے کے بہت سامان کئے تھے اور قبل از وقت اس…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

آیت 53 یہ سب کچھ بالکل چشم زدن میں، محض ہماری ایک ڈانٹ سے ہوجائے گا۔ اس کے لئے نہ ہمیں دمدمے بنانے پڑیں گے، نہ توپیں نصب کرنی پڑیں گی۔ جس طرح ہم اپنے کلمہ ’ کن ‘ سے جو چیز چاہیں وجود میں لاسکتے ہیں۔ اسی طرح اپنی ایک ڈانٹ سے جو قیامت برپا کرنی چاہیں برپا کرسکتے ہیں۔ ’ جمیع ‘ تاکید کے لئے ہے۔ مطلب یہ ہے کہ کوئی اس غلط فہمی میں نہ رہے کہ پھر کوئی ہم سے بچ کے نکل سکے گا۔ اس کے بعد ان کے سب، چھوٹے اور بڑے، امیر اور مامور، عابد اور معبود پکڑ کر ہمارے حضور حاضر کردیے جائیں گے۔ ’ محضرون ‘ ان کی ذلت کی تصویر کے لئے ہے کہ وہ اس طرح ہمارے سامنے حاضر کیے جائیں گے جس طرح مجرم عدالت کے سامنے حاضر کیے جاتے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 52–54

52۔ 1 قبر کو خواب گاہ سے تعبیر کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ قبروں میں ان کو عذاب نہیں ہوگا، بلکہ بعد میں جو ہولناک مناظر اور عذاب کی شدت دیکھیں گے، اس کے مقابلے میں انہیں قبر کی زندگی ایک خواب ہی محسوس ہوگی۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 42–64

18: کشتی جیسی دوسری سواری کی تشریح عام طور سے مفسرین نے اونٹوں سے کی ہے، کیونکہ اہل عرب اونٹوں کو صحرا کا جہاز کہا کرتے تھے۔ لیکن قرآن کریم کے الفاظ عام ہیں جس میں کشتی کے مشابہ ہر طرح کی سواریاں داخل ہیں، بلکہ عربی قواعد کی رو سے آیت کا ترجمہ اس طرح بھی کیا جاسکتا ہے کہ : ہم نے ان کے لیے اسی جیسی اور چیزیں بھی پیدا کی ہیں جن پر یہ (آئندہ) سواری کریں گے۔ اس صورت میں وہ تمام سواریاں اس عبارت میں داخل ہوجاتی ہیں جو قیامت تک پیدا ہوں گی، مثلاً آبدوزیں، اور ہوائی جہاز جو اس لحاظ سے کشتی کے مشابہ ہیں کہ کشتی پانی پر تیرتی ہے، اور ہوائی جہاز ہوا پر تیرتا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 49–53

ما ینظرون الا۔۔۔۔۔۔ جمیع لدینا محضرون (49 – 53) “۔ “۔ جھٹلانے والوں کا سوال یہ تھا۔ ویقولون متی ھذا۔۔۔۔۔ صدقین (36: 48) ” یہ قیامت کی دھمکی کب پوری ہوگی ؟ بتاؤ اگر تم سچے ہو “۔ لہٰذا ان کا جواب اس منظر کی شکل میں دیا گیا۔ ما ینظرون الا۔۔۔۔ الی اھلھم یرجعون (36: 49 – 50) ” دراصل یہ جس چیز کی راہ تک رہے ہیں وہ بس ایک دھماکہ ہے جو یکایک انہیں عین اس حالت میں دھرلے گا جب یہ جھگڑ رہے ہوں گے اور اس وقت یہ وصیت تک نہ کرسکیں گے اور نہ اپنے گھروں کو پلٹ سکیں گے “۔ قیامت اچانک لوگوں کو اپنی گرفت میں لے لے گی ، اس وقت وہ اپنے دنیاوی جھگڑوں یا مذہبی مباحثوں میں مصروف ہوں گے اور ان کو وقوع قیامت کی امید…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 53 { اِنْ کَانَتْ اِلَّا صَیْحَۃً وَّاحِدَۃً فَاِذَا ہُمْ جَمِیْعٌ لَّدَیْنَا مُحْضَرُوْنَ } ”پھر ایک ہی چنگھاڑ ہوگی تو اس کے نتیجے میں وہ سب کے سب ہمارے حضور حاضر کردیے جائیں گے۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 53–56

51 جب انہیں صحیح صورت حال کا علم ہوجائے گا تو فرشتے انہیں دھکیل کر میدان محشر کی طرف لے جائیں گے اور وہ مجرموں کی طرح اللہ کے حضور جواب دہی کے لئے پیش کردیئے جائیں گے۔ اور ساتھ ہی انہیں یہ بتادیا جائے گا کہ تم دنیا میں جیسے اعمال کرکے آئے ہو ویسا ہی تمہیں بدلہ دیا جائے گا تاہم یہ یقین رکھو کہ تمہیں تمہارے جرائم سے زیادہ سزا نہیں دی جائے گی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

36۔ حق تعالیٰ کو قیامت برپا کرنے میں نہ کسی خاص اہتمام کی ضرورت ہوگی۔ نہ مشقت وتعب کی۔ بس ایک نفخ صور بالکل کافی ہوگا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 51–67

آیت نمبر 51 تا 67 ترجمہ : اور صور پھونکا جائے گا وہ (ایک) سینگ ہے، اور دوسرا صور زندہ کرنے کے لئے ہوگا اور دونوں نفخوں کے درمیان چالیس سال کا وقفہ ہوگا پھر جب وہ یعنی مردے قبروں سے نکل کر تیزی سے اپنے پروردگار کی طرف چلنے لگیں گے ان میں سے کافر کہیں گے، ہائے ہماری کمبختی یا تنبیہ کے لئے ہے ہائے ہماری ہلاکت، وَیْلٌ ایسا مصدر ہے کہ اس کا لفظی فعل نہیں آتا، کس نے ہم کو ہماری قبروں سے اٹھا یا ؟ اس لئے کہ وہ دونوں نفخوں کے درمیان سوئے ہوئے ہوں گے، ان کو عذاب نہ دیا جارہا ہوگا، یہ وہی (بعث) ہے جس کا رحمٰن نے وعدہ کیا تھا، اور رسول نے اس کے بارے میں سچ کہا تھا ایسے وقت اقرار کریں گے کہ ان کا اقرار…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ان کانت الا صیحۃ واحدۃ فاذاھم جمیع لدنیا محضرون وہ بس ایک چیخ ہوگی ‘ فوراً سب کے سب ہمارے سامنے حاضر کر دئیے جائیں گے۔ یعنی حشر کا واقعہ بڑا ہولناک ہوگا۔ دنیا میں تو بغیر اسباب کے کچھ نہیں ہوتا ‘ لیکن قیامت کے دن بعث و حشر کیلئے اسباب کی ضرورت نہیں ہوگی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اور پیغمبر بعث بعد الموت کے بارے میں سچ کہتے تھے بس وہ دوسری صور تو ایک زور کی آواز ہوگی جس سے یکایک سب حساب کے لیے ہمارے سامنے حاضر کردیے جائیں گے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اِنْ كَانَتْ اِلَّا صَيْحَةً وَّاحِدَةً : مراد صور میں دوسری دفعہ کی پھونک ہے، جس سے لمحہ بھر میں قیامت برپا ہوجائے گی۔ دیکھیے سورة نحل (77) اور نازعات (13، 14)۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 51–54

و نفخ فی الصور یہ دوبارہ اٹھانے کے لئے دوسرا نفخہ ہے (1) ۔ سورة نمل میں ہم وضاحت کر آئے ہیں کہ نفحے دو ہیں تین نہیں ہیں ‘ یہ آیت اسی معنی پر دال ہے۔ مبارک بن فضالہ نے حضرت حسن بصری ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : دو نفخوں کے درمیان چالیس سال کا عرصہ ہوگا پہلے کے ساتھ اللہ تعالیٰ ہر زندہ چیز کو موت عطا فرمائے گا اور دوسرے کے ساتھ اللہ تعالیٰ ہر مرد چیز کو زندہ کرے گا “ (2) ۔ قتادہ نے کہا : صور ‘ صورۃ کی جمع ہے صورۃ اور صور اسی طرح ہیں جس طرح عمارت کی سورة ) دیوار ( اور سورة ہوا کرتی ہے۔ عجاج نے کہا : سرت الیہ فی اعالی السور میں اس کی طرف بلند دیواروں میں چلا۔ حضرت…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 52–54

5:۔ ابن الانباری نے المصاحف میں علی ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے پڑھا (آیت) ” یویلنا من بعثنا من مرقدنا “ 6:۔ ابن الانباری نے ابی بن کعب ؓ سے روایت کیا کہ دوبارہ اٹھائے جانے سے علیحدہ تھوڑا سوئیں گے تو اس میں راحت پائیں گے تو اس وقت وہ کہیں گے (آیت) ” یویلنا من بعثنا من مرقدنا “ (وہ کہیں گے اے ہماری کم بختی ہم کو ہمارے خوابگاہ سے کس نے اٹھادیا ) 7:۔ الفربی، عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابی بن کعب ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” من بعثنا من مرقدنا “ کہ وہ لوگ دوبارہ اٹھائے جانے سے پہلے تھوڑا سا سوئیں گے۔ 8:۔ ابن ابی شیبہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ کفار کے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اِنْ كَانَتْ اِلَّا [نہیں ہوگی وہ مگر ] صَيْحَةً وَّاحِدَةً [ایک (ہی) چنگھاڑ ] فَاِذَا هُمْ [پھر جب ہی وہ لوگ ] جَمِيْعٌ [سب کے سب ] لَّدَيْنَا [ہمارے پاس ] مُحْضَرُوْنَ [حاضر کئے ہوئے ہوں گے ] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 52–53

(اِِنْ کَانَتْ اِِلَّا صَیْحَۃً وَّاحِدَۃً فَاِِذَا ھُمْ جَمِیْعٌ لَّدَیْنَا مُحْضَرُوْنَ ) (بس وہ نفخہ ثانیہ ایک زور کی آواز ہوگی جس سے یکایک سب جمع ہو کر ہمارے پاس حاضر کیے جائیں گے) یہ جمع ہونا حساب کتاب کے لیے ہوگا، حساب ہونے پر جس کو جو سزا ملے گی اس میں کسی جان پر کچھ ظلم نہ ہوگا، نہ کسی کی کوئی نیکی کم کی جائے گی جو لائق ثواب ہو اور نہ کسی کے گناہوں میں کسی ناکردہ گناہ کا اضافہ ہوگا۔ سورة کہف میں فرمایا (وَوَجَدُوْا مَا عَمِلُوْا حَاضِرًا وَ لَا یَظْلِمُ رَبُّکَ اَحَدًا) (اور انہوں نے جو عمل کیے تھے ان کو حاضر پائیں گے اور آپ کا رب کسی پر ظلم نہیں کرے گا۔ )

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 48–76

منکرین حشر ونشر کی تہدید اور وعید قال اللہ تعالیٰ ویقولون متی ھذا الوعد۔۔۔ الی۔۔۔ انا نعلم ما یسرون وما یعلنون۔ (ربط) گذشتہ آیات میں زیادہ تر دلائل توحید کا ذکر تھا اور اس سے ذرا پہلے وان کل لما جمیع لدینا محضرون میں مسئلہ حشر ونشر کا ذکر تھا اب پھر مسئلہ حشرونشر کی طرف رجوع فرماتے ہیں اور ان کا ایک سوال نقل فرماتے ہیں ویقولون متی ھذا الوعد ان کنتم صدقین : یعنی یہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ قیامت کا وعدہ کب پورا ہوگا اللہ تعالیٰ نے اس کے جواب میں اس کے وقت کے اظہار سے مصلحۃً اعراض فرمایا اور اجمالی طور پر صرف اتنا بتا دیا کہ قیامت نا گہاں آئے گی جب لوگ اپنے کاروبار میں مصروف ہوں گے ناگہاں صور پھونکا…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 52–53

34:۔ ان کانت الخ :۔ یہ نفخہ ثانیہ کی طرف اشارہ ہے یعنی یہ نفخہ ایک ہولناک آواز ہوگی جس سے سب مردے زندہ ہو کر فورًا ہمارے سامنے حاضر ہوجائیں گے یعنی ان احیاءہم و بعثہم کان بصیحۃ واحدۃ (قرطبی ج 15 ص 42) ۔ فالیوم لا تظلم نفس الخ، یہ خطاب صرف کافروں سے ہوگا۔ یا مومنوں اور کافروں دونوں سے ہوگا۔ یعنی آج کسی فرد بشر سے نیک ہو یا بد ذرہ بھر بےانصافی نہیں ہوگی اور ہر ایک کو اس کے اپنے ہی اعمال کی جزاء و سزا ملے گی اور کسی کو ناکردہ گناہ کی سزا نہیں ملے گی۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 51–59

ربط آیات اپنی آیات قدرت بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے کفار و مشرکین کی مذمت بیان فرمائی اور یہ بھی کہ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ آگے پیش آنے والے حالات کے لیے کچھ تیاری کرلو ، اور جو اعمال پیچھے چھوڑ آئے ہو ان کے متعلق بھی غور و فکر کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے تو یہ لوگ نشانات قدرت دیکھ کر بھی ایمان نہیں لاتے بلکہ الٹا اعتراض کرنے لگتے ہیں۔ پھر اللہ نے ان میں سے مالداروں کی حالت کا ذکر بھی کیا کہ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ کی عطا کردہ روزی میں سے غرباء اور مساکین پر بھی خرچ کرو تو کہتے ہیں کہ جن کو خود خدا تعالیٰ بھوکا رکھنا چاہتا ہے یعنی ان کو نادار بنایا ہے ، بھلا ہم ان کی اعانت کریں۔ اللہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِنْ كَانَتْ اِلَّا صَيْحَۃً وَّاحِدَۃً فَاِذَا ہُمْ جَمِيْعٌ لَّدَيْنَا مُحْضَرُوْنَ۝ 53 صاح الصَّيْحَةُ : رفع الصّوت . قال تعالی: إِنْ كانَتْ إِلَّا صَيْحَةً واحِدَةً [يس/ 29] ( ص ی ح ) الصیحۃ کے معنی آواز بلندکرنا کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ إِنْ كانَتْ إِلَّا صَيْحَةً واحِدَةً [يس/ 29] وہ تو صرف ایک چنگھاڑ تھی ( آتشین ۔ جمع الجَمْع : ضمّ الشیء بتقریب بعضه من بعض، يقال : جَمَعْتُهُ فَاجْتَمَعَ ، وقال عزّ وجل : وَجُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ [ القیامة/ 9] ، وَجَمَعَ فَأَوْعى [ المعارج/ 18] ، جَمَعَ مالًا وَعَدَّدَهُ [ الهمزة/ 2] ، ( ج م ع ) الجمع کے معنی ہیں متفرق چیزوں کو ایک دوسرے کے قریب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

ان کانت الاصیحۃ الخ کہ قیامت برپا ہونے میں کچھ بھی دیر نہ لگے گی، صرف اسرافیل ( علیہ السلام) کا صور پھونکنا ہوگا کہ برپا ہوجاوے گی اور سب حاضر ہوجاویں گے۔

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اِنْ کَانَتْ اِلاَّ صَیْحَۃً وَّاحِدَۃً فَاِذَا ھُمْ جَمِیْعٌ لَّدَیْنَا مُحْضَرُوْنَ ۔ (یٰسٓ: 53) (بس وہ ایک ڈانٹ ہوگی پھر وہ اچانک سب کے سب ہمارے سامنے حاضر کردیے جائیں گے۔ ) ایک غلط فہمی کا ازالہ اس سے پہلے مخالفین کی یہ غلط فہمی دور کی گئی ہے کہ وہ موت کے بعد ہمیشہ کی نیند سو جائیں گے اور کبھی انہیں ازسرنو اٹھنا نہیں ہوگا اور نہ وہ اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کیے جائیں گے۔ اب ان کی ایک اور غلط فہمی کا ازالہ کیا گیا ہے۔ وہ یہ کہ انہیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرایا جائے یا وقوع قیامت سے وہ صرف اس لیے اسے بعیدازعقل سمجھتے ہیں کہ ساری کائنات کا تباہ کرنا اور پھر ازسرنو انہیں زندہ کرنا اور سب سے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 53–55

فہم القرآن ربط کلام : جہنمی حواس باختہ، پریشان اور انتہائی ذلت میں ہوں گے۔ ان کے مقابلے میں جنتی چمکتے ہوئے چہروں کے ساتھ ہشاش بشاش اور خوش و خرم ہوں گے۔ مجرموں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ انہیں محشر کے میدان میں اکٹھا کیا جائے گا جن کے لیے اعلان ہوگا کہ آج تم پر کسی قسم کا کوئی ظلم نہیں ہوگا۔ جنتیوں کا ذکر کرتے ہوئے محشر کے دن کے مختلف مراحل کا ذکر چھوڑ کر انہیں خوشخبری سنائی گئی ہے کہ آج تمہیں جنت میں داخل کیا جاتا ہے جس میں تم ایک دوسرے کے سامنے صوفوں پر خوش و خرم بیٹھے ہوئے خوش گپیاں کرو گے اور جو چاہو گے وہ پاؤ گے۔ قبروں سے نکلتے ہی جہنمیوں اور جنتیوں کے درمیان واضح فرق دکھائی دے گا۔…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

53: اِنْ کَانَتْ (وہ بس) نفخہ اخیرہ اِلَّا صَیْحَۃً وَّاحِدَۃً فَاِذَا ھُمْ جَمِیْعٌ لَّدَیْنَا مُحْضَرُوْنَ (ایک زور کی آواز ہوگی جس سے یکایک سب جمع ہو کر ہمارے پاس حاضر کردیئے جائیں گے) حساب و کتاب کیلئے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 53–54

53، ان کانت، ان بمعنی ماکانت کے ہے۔ ، الا صیحۃ واحدۃ، اس سے دوسرا نفخہ مراد ہے۔ ، فاذا ھم جمیع لدینا محضرون،

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 48–53

48 تا 52۔ جس طرح کوئی کسی چیز کا منتظر ہوتا ہے اس طرح کافر لوگ قیامت کا حال سن کر مسخرا پن اور تعجب سے یہ بات مسلمانوں سے بات مسلمانوں سے کہتے تھے کہ جو کچھ تم قیامت کا حال کہتے ہو کہ مر کر پھر جینا ہوگا اور وہاں آخرت میں ہم پر عذاب ہوگا اور تم بڑے عیش و آرام میں ہوجاؤگے اگر یہ تمہارا بیان سچ ہے تو آخر اس کا ظہور کب ہوگا اور قیامت کی ابتدا پہلے صور سے ہوگی جس کو نفخۃ الفزع کہتے ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کافروں کے جواب میں فرمایا کہ جب یہ لوگ ایک منتظر آدمی کی طرح قیامت کے انتظار میں ہیں تو ان کو ایک سخت آواز کا انتظار کرنا چاہئے کہ لوگ اپنے دنیا کے کاروبار میں معمول کے موافق اسی طرح مصروف…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 52–54

آیت 51 صور کی پہلی آواز گھبراہٹ اور موت کی آواز ہوگی اور یہ دوسری آواز مردوں کے زندہ ہونے اور اٹھنے کے لئے ہوگی۔ جب دوبارہ صور پھونکا جائے گا توہ اپنی قبروں سے نکل کر جلدی سے اپنے رب کے حضور حاضر ہوں گے اور وہ کسی قسم کی تاخیر اور دیر نہ کرسکیں گے۔ اس حال میں، رسولوں کی تکذیب کرنے والے بہت غم زدہ ہوں گے۔ وہ حسرت اور ندامت کا اظہار کرتے ہوئے کہیں گے : (یویلنا من بعثنا من مرقدنا) ” ہائے افسوس ! ہمیں ہماری خواب گاہوں سے کس نے اٹھایا ؟ “ یعنی ہمیں ہمارے قبروں میں نیند سے کس نے اٹھایا ؟ بعض احادیث میں وارد ہے کہ اہل قبور صور پھونکے جانے سے تھوڑی دیر پہلے تک سو رہے ہوں گے۔ ان کو جواب دیا جائے گا :…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 42–67

قول باری ہے (وخلقنا لھم من مثلہ ما یرکبون اور ہم نے ان کے لئے اسی کشتی جیسی چیزیں اور بھی پیدا کی ہیں جس پر یہ سوار ہوتے ہیں) حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے ” یعنی حضرت نوح (علیہ السلام) کی کشتی کے بعد دوسری کشتیاں “۔ حضرت ابن عباس ؓ سے ایک اور روایت بھی ہے اور مجاہد سے بھی کہ اونٹ خشکی کے جہاز ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 53–54

56 قیامت کے روز ہر کسی کو اس کے اپنے اعمال ہی کا بدلہ ملے گا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اس روز کہا جائے گا کہ آج کسی شخص پر کوئی زیادتی نہیں ہوگی۔ تم لوگوں کو تمہارے انہی اعمال کا بدلہ دیا جا رہا ہے جو تم خود کرتے رہے تھے اپنی دنیاوی زندگی میں "۔ سو دوزخ اور اس کا عذاب انسان کو اپنے کئے کرائے کے نتیجے اور بدلے میں ملے گا ۔ والعیاذ باللہ ۔ اسی سے یہ بات نکالی گئی ہے کہ کفار کے چھوٹے بچوں کو دوزخ میں نہیں ڈالا جائے گا کیونکہ انہوں نے کوئی گناہ نہیں کیا کہ گناہ کا زمانہ اور اس کی عمر انہوں نے پائی ہی نہیں۔ بہرکیف حساب اور بدلے کے اس دن میں ہر کسی کو اپنے زندگی بھر کے کیے کرائے کا پورا پورا صلہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 48–74

حشر کا میدان اور نیک و بد کا انجام تشریح : یہاں کفار مکہ کا اور آج کل کے ملحد وغیرہ لوگوں کا ذکر ہے کہ وہ قیامت کو ناقابل یقین سمجھتے ہوئے کہتے ہیں کہ کب آئے گی قیامت ؟ قیامت جب آئے گی تو اتنی اچانک اور شدید ہوگی کہ کسی کو سمجھ میں ہی نہ آئے گا کہ کیا ہوگیا ہے۔ قیامت سے پہلے چھوٹی قیامت یں اور ہلکے پھلے عذاب تو انسانوں کی نافرمانی کی وجہ سے آتے رہتے ہیں جن کا مقصد انسانوں کو جھنجھوڑنا ہوتا ہے۔ کہیں طوفان بادو باراں، کہیں زلزلہ اور کہیں کسی دوسری شکل میں آفات ارضی و سماوی۔ اسی طرح بڑی اور فیصلہ کن قیامت پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی مگر یہ بھی صرف اس دنیا کی قیامت ہوگی پوری کائنات قائم و…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 51–67

رکوع نمبر 4 ۔ آیات 51 تا 67: اسرار و معارف : چنانچہ جب دوبارہ صور پھونکا جائے گا تو اپنی اپنی قبروں سے اٹھ کر اللہ کے حضور چل پڑیں گے یعنی وہ ایسا قادر ہے کہ ایک چنگھاڑ سے ہر شے تباہ کردے گا تو پھر ایک چنگھاڑ یا سخت آواز ہی سب مردہ جسموں کے ذرات کو یکجا کرکے زندہ بھی کردے گی اور ہر فرد چاہے یا نہ چاہے مگر رواں اللہ کی بارگاہ کی طرف ہی ہوگا جہاں سب کی پیشی ہوگی تب پریشان حال یہ کہہ رہے ہوں گے کہ ہمیں کس نے اٹھا دیا اگرچہ برزخ میں بھی کفار عذاب میں ہوں گے۔ مگر میدان حشر کی ہیبت کے سامنے کہیں گے یہاں سے وہاں ہی ٹھیک تھے یہ کس نے ہمیں ان ٹھکانوں سے نکال کھڑا کیا ہے تو جواب آئے گا فرشتے یا مومنین…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 52–53

(36:52) یویلنا۔ یا حرف ندا ویل۔ جہنم میں ایک وادی کا نام ہے ۔ بمعنی عذاب شدت عذاب۔ افسوس ، کم بختی، ویل مضاف نا ضمیر جمع متکلم مضاف الیہ۔ مضاف مضاف الیہ مل کر منادی۔ اے ہماری کم بختی۔ یہ کلمہ حسرت و ندامت ہے۔ من بعثنا۔ بعث ماضی واحد مذکر غائب نا ضمیر مفعول جمع متکلم۔ من استفہامیہ ہے۔ بعث یبعث بعث (باب فتح) جی اٹھنا۔ دوبارہ زندہ کرنا۔ اٹھا کھڑا کرنا۔ بھیجنا یہاں اٹھا کھڑا کرنے کے معنی میں ہے۔ کس نے ہم کو (دوبارہ زندہ کر کے ) اٹھا کھڑا کیا۔ من مرقدنا۔ مرقد ظرف مکان مضاف نا ضمیر جمع متکلم مضاف الیہ۔ ہماری خواب گاہ (قد یرقد) (باب نصر) رقاد ورقود، خوشگوار اور ہلکی سی نیند سونا۔ مرقد سونے کی جگہ۔…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 45–54

لغات القرآن : آیت نمبر 45 تا 54 :۔ بین ایدی ( سامنے) خلف ( پیچھے) انطعم (کیا ہم کھلائیں) صحیۃ (چنگھاڑ، زور دار آواز) یخصمون ( وہ جھگڑ رہے ہوں گے) الاجداث (قبریں) ینسلون ( وہ دوڑیں گے) لاتجزون ( بدلہ نہ دیئے جائیں گے) ۔ تشریح آیت نمبر 45 تا 54 :۔ نبی کریم ﷺ جب کفار و مشرکین سے کہتے کہ میں جن آیات اور کلام الٰہی کو لے کر آیا ہوں اس پر ایمان لائو۔ اللہ کا خوف اختیار کرو تا کہ تم پر دنیا میں اور آخرت میں رحم و کرم ناز ل کیا جائے اور اپنے سے غریب ، مفلس اور ضرورت مندوں پر اپنا مال خرچ کرو ۔ تو وہ اللہ کی آیات اور نبی کریم ﷺ کی باتوں کا مذاق اڑاتے اور جاہلانہ اعتراضات کر کے اپنے آپ کو مطمئن ظاہر کر…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 48–53

قیامت کس حالت میں قائم ہوگی۔ (ف 1) مشرکین مکہ کو جب پہلی قوموں کے حال سے ڈرنے کو کہاجاتا ہے اور ان کی گمراہی کے آئندہ کے نتیجہ کی انہیں یاد دلائی جاتی ہے تو بجائے راہ راست پر آنے کے یہ لوگ قرآن کی ان نصیحتوں کو ٹال دیتے تھے اسی طرح جب ان لوگوں سے یہ کہا جاتا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے تم کو خوشحال جو کیا ہے اس کے شکریہ میں غریب محتاج لوگوں کے ساتھ کچھ سلوک کیا کرو، تو اس کے جواب میں یہ لوگ کہتے تھے کہ کیا ان لوگوں کو کھانا کھلاویں اور کچھ خیرات دین جس کے اعتقاد میں یہ ہے کہ اللہ ہی ان کو رزق دے سکتا ہے تم لوگ جاباوجود اس بات کے کہ خدا کو رازق سمجھے ہوئے ہو اور پھر ہم سے کہتے کہ غریب اور محتاج…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 50–59

[20] یعنی قیامت ناگہاں آن پڑے گی اور لوگ اپنے معاملات میں غرق ہوں گے۔ جس وقت پہلے صور کی چنگھاڑ بلند ہوگی تمام انسان مر کر ڈھیر ہوجائیں گے۔ ان کو اتنی بھی فرصت نہ ملے گی کہ مرنے سے پہلے کسی کو کچھ کہنا چاہیں تو کہہ گزریں، یا جو گھر سے باہر تھے وہ گھر واپس جاسکیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 51–58

نرسنگا پھونکا جائے گا 1: نفحہ ثانثہ مردہ قالبوں میں زندگی پیدا کردے گا ۔ اور قرنوں سے تیل نکل کر خدا کے حضور میں پہنچنے لگیں گے ۔ اور قبروں سے تیل نکل کر خدا کے حضور میں پہنچنے لگیں گے ۔ اس وقت یہ لوگ حیرت وتعجب سے کہیں گے ، کہ ہم کو ان خواب گاہوں سے کس نے اٹھا دیا ۔ ارشاد ہوگا ۔ کہ یہ وہی قیامت ہے ۔ جس کا ہم سب سے رحمن نے وعدہ کیا تھا ۔ اور پیغمبر سچ کہتے تھے ۔ ہوسکتا ہے کہ صور کی آواز بذاتہ موت اور زندگی پیدا کرنے میں موثر ہو ۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے ۔ کہ یہ آواز محض ایک نوع کا اعلان ہو ۔ اور موخر دوسرے اسباب ہوں ۔ بہرحال جہاں تک قرآن حکیم کا تعلق ہے ۔ اس میں اس حقیقت شرعیہ کو تفصیل کے ساتھ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(53) وہ صور کا نفحۂ ثانیہ ایک تند اور زور کی آواز ہوگی جس سے وہ سب کے سب دفعتًہ ہمارے حضور میں حاضر کردیئے جائیں گے۔ یعنی اس نفحہ سے لوگ نکلنے شروع ہوجائیں گے اور نفحہ کے ختم ہونے تک سب لاحاضر کئے جائیں گے یعنی فرشتے گھیر کرلے آئیں گے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

بس ایک ہی آواز سے وہ سب ہمارے پاس حاضر ہوجائیں گے : 53۔ گھنٹی ایک ہی ہے اور ایک ہی طرح بجتی ہے لیکن کون نہیں جانتا کہ یہ سکول کھلنے کی گھنٹی ہے یا سکول بند ہونے کی ، ایک سائرن بجے گا تو وجو اس سائرن کے بعد ہونے والا ہے وہ خود بخود ہوتا چلا جائے گا نہ تو احداث ومراقد سے ان کو اپنے اختیار سے اٹھنا ہے کہ جس کا جی چاہا وہ اٹھا اور جس کا جی نہ چاہا وہ سویا رہا چلو زیادہ سے زیادہ یہی ہے کہ اس کی غیر حاضری ہوجائے گی نہیں ! یہ اختیار اور بس کا معاملہ ہی نہیں جس طرح اس دنیا میں موت بھی کسی انسان کی اختیاری چیز نہیں ہے اسی طرح وہاں اٹھایا جانا بھی اختیاری نہیں ہوگا بلکہ ایک آواز پیدا ہوگی اور اس کے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 52–54

In verse 52, it was said: قَالُوا يَا وَيْلَنَا مَن بَعَثَنَا مِن مَّرْ‌قَدِنَا (They will say, "Woe to us! Who has raised us from our sleeping place?" ). Though the disbelievers were already having their punishment in their graves with no sign of any relief, yet this punishment will appear as nothing when compared with the punishing circumstances of the day of Qiyamah, therefore, they will cry out as to why they had to be taken out of their graves, for it would have been better if they had stayed right there. A response to this will come from either the angels or the common believers. This…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 52–53

48 That is, "At that time they will not realize that they had been dead and had been raised back to life after a long period, but they will be thinking that they had fallen asleep, and had been woken up suddenly by some terrible catastrophe, and were running away from it." (For further explanation, sec Ta Ha: 103, AI-Hajj: 1-2). 49 Here, it is not clear as to who will give this answer. It may be that they themselves would realize after some time to their horror that it was the same thing of which the Messengers of God used to inform them and they used to belie them. It may also be that the…

Read the full tafseer →