Yaseen 36:52

Yaseen · from ayah 52

36:52

قَالُوْا یٰوَیْلَنَا مَنْ بَعَثَنَا مِنْ مَّرْقَدِنَا ؔٚۘ— هٰذَا مَا وَعَدَ الرَّحْمٰنُ وَصَدَقَ الْمُرْسَلُوْنَ ۟قَالُوۡا يٰوَيۡلَنَا مَنۡۢ بَعَثَنَا مِنۡ مَّرۡقَدِنَاۘؔ هٰذَا مَا وَعَدَ الرَّحۡمٰنُ وَصَدَقَ الۡمُرۡسَلُوۡنَ

کہیں گے اے ہے ہمیں ہماری خوابگاہوں سے کس نے (جگا) اُٹھایا؟ یہ وہی تو ہے جس کا خدا نے وعدہ کیا تھا اور پیغمبروں نے سچ کہا تھا

— Fateh Muhammad Jalandhari

They will say, "O woe to us! Who has raised us up from our sleeping place?" [The reply will be], "This is what the Most Merciful had promised, and the messengers told the truth."

— Saheeh International

Juz 23 · Ruku 4 of surah · Ruku 3 of juz

Read the whole surah · Surah Yaseen

All translations of 36:52

گھبرا کر کہیں گے: "ارے، یہ کس نے ہمیں ہماری خواب گاہ سے اُٹھا کھڑا کیا؟" "یہ وہی چیز ہے جس کا خدائے رحمان نے وعدہ کیا تھا اور رسولوں کی بات سچی تھی"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

کہیں گے اے ہے ہمیں ہماری خوابگاہوں سے کس نے (جگا) اُٹھایا؟ یہ وہی تو ہے جس کا خدا نے وعدہ کیا تھا اور پیغمبروں نے سچ کہا تھا

— مولانا فتح محمد جالندہری

کہیں گے ہائے ہائے! ہمیں ہماری خواب گاہوں سے کس نے اٹھا دیا۔ یہی ہے جس کا وعده رحمٰن نے دیا تھا اور رسولوں نے سچ سچ کہہ دیا تھا

— مولانا محمد جوناگڑہی

کہیں گے کہ : ہائے ہماری کم بختی ! ہمیں کس نے ہمارے مرقد سے اٹھا کھڑا کیا ہے ؟ (جواب ملے گا کہ) یہ وہی چیز ہے جس کا خدائے رحمن نے وعدہ کیا تھا، اور پیغمبروں نے سچی بات کہی تھی۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

کہیں گے ہائے ہماری خرابی کس نے ہمیں سوتے سے جگادیا یہ ہے وہ جس کا رحمٰن نے وعدہ دیا تھا اور رسولوں نے حق فرمایا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(روزِ محشر کی ہولناکیاں دیکھ کر) کہیں گے: ہائے ہماری کم بختی! ہمیں کس نے ہماری خواب گاہوں سے اٹھا دیا، (یہ زندہ ہونا) وہی تو ہے جس کا خدائے رحمان نے وعدہ کیا تھا اور رسولوں نے سچ فرمایا تھا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

کہیں گے ہائے ہماری بربادی ! کس نے ہمیں ہماری سونے کی جگہ سے اٹھا دیا ؟ یہ وہ ہے جو رحمان نے وعدہ کیا اور رسولوں نے سچ کہا تھا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

کہیں گے : افسوس ! ہمیں ہماری خواب گاہ سے کس نے اٹھا کھڑا کیا ؟ یہ تو وہی چیز ہے جس کا رحمن نے وعدہ کیا تھا اور رسولوں نے سچ کہا تھا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

وہ کہیں گے، ہائے ہماری بدبختی ! ہم کو ہماری قبر سے کس نے اٹھا کھڑا کیا ! یہ تو وہی چیز ہے جس کا خدائے رحمان نے وعدہ کیا تھا اور پیغمبروں کی بات سچی نکلی !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

تب یہ کہیں گے ہائے ہماری کم بختی ! کس نے اٹھایا ہمیں ہماری قبروں سے ؟ (جواب ملے گا کہ) یہی ہے وہ جس کا وعدہ فرمایا تھا (خدائے) رحمان نے اور سچ کہا تھا اس کے رسولوں نے بھی

— مولانا اسحاق مدنی

کہیں گے ہائے ہماری کم بختی کس نے ہم کو ہماری خواب گاہوں سے اٹھایا ؟ یہ وہی ہے جس کا (خدائے) رحمن نے وعدہ کیا تھا اور پیغمبروں نے سچ کہا تھا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

وہ کہیں گے : ہائے ہماری شامت ! ہمیں کس نے اٹھا دیا ہماری قبروں سے ؟ پھر خود ہی کہیں گے :) ارے یہ تو وہی (دن) ہے جس کا رحمن نے وعدہ کیا تھا اور پیغمبروں نے سچ کہا تھا

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

کہیں گے ”اے ہے ہمیں ہماری خوابگاہوں سے کس نے جگا اٹھایا“ ؟ یہ وہی تو ہے جس کا اللہ نے وعدہ کیا تھا اور پیغمبروں نے سچ کہا تھا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

(nervously) exclaiming. “Alas for us! Who roused us out of our sleeping-place?” “This is what the Merciful One had promised, and what (His) Messengers had said was true.”

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

They will say, :Woe to us! Who has raised us from our sleeping place? :This is what RaHman (the All-Merciful Allah) had promised, and the messengers had told the truth.

— Muhammad Taqi Usmani

They will say, :Woe to us! Who has raised us from our sleeping place? :This is what RaHman (the All-Merciful Allah) had promised, and the messengers had told the truth.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

They will say: "Woe to us! Who has raised us up from our place of sleep." (It will be said to them): "This is what the Most Gracious had promised, and the Messengers spoke truth!"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Crying: Woe upon us! Who hath raised us from our place of sleep? This is that which the Beneficent did promise, and the messengers spoke truth.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

They will say, "O woe to us! Who has raised us up from our sleeping place?" [The reply will be], "This is what the Most Merciful had promised, and the messengers told the truth."

— Saheeh International

They will say, "Woe to us! Who has raised us up from our graves? This is what the Beneficent God has promised. The Messengers have also spoke the truth".

— Muhammad Sarwar

They shall say: O woe to us! who has raised us up from our sleeping-place? This is what the Beneficent Allah promised and the apostles told the truth.

— Muhammad Habib Shakir

They will say: Ah woe Unto us! who hath roused us from our sleeping-place? This is that which the Compassionate had promised, and truly spake the sent ones.

— Abdul Majid Daryabadi

They will say: "Ah! Woe unto us! Who hath raised us up from our beds of repose?"... (A voice will say:) "This is what (Allah) Most Gracious had promised. And true was the word of the messengers!"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 36:52

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 51–54

ان آیتوں میں دوسرے نفخہ کا ذکر ہو رہا ہے۔ جس سے مردے جی اٹھیں گے۔ ینسلون کا مصدر نسلان سے ہے اور اس کے معنی تیز چلنے کے ہیں۔ جیسے اور آیت میں ہے (يَوْمَ يَخْرُجُوْنَ مِنَ الْاَجْدَاثِ سِرَاعًا كَاَنَّهُمْ اِلٰى نُصُبٍ يُّوْفِضُوْنَ 43؀ۙ) 70۔ المعارج :43) جس دن یہ قبروں سے نکل کر اس تیزی سے چلیں گے کہ گویا وہ کسی نشان منزل کی طرف لپکے جا رہے ہیں۔ چونکہ دنیا میں انہیں قبروں سے جی اٹھنے کا ہمیشہ انکار رہا تھا اس لئے آج یہ حالت دیکھ کر کہیں گے کہ ہائے افسوس ہمارے سونے کی جگہ سے ہمیں کس نے اٹھایا ؟ اس سے قبر کے عذاب کا نہ ہونا ثابت نہیں ہوتا اس لئے کہ جس ہول و شدت کو جس تکلیف اور مصیبت کو یہ اب…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 52–53

سورة یٰسٓ 48 یعنی اس وقت انہیں یہ احساس نہ ہوگا کہ وہ مر چکے تھے اور اب ایک مدت دراز کے بعد دوبارہ زندہ کر کے اٹھائے گئے ہیں، بلکہ وہ اس خیال میں ہوں گے کہ ہم سوئے پڑے تھے، اب یکایک کسی خوفناک حادثہ کی وجہ سے ہم جاگ اٹھے ہیں اور بھاگے جا رہے ہیں۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد سوم، ص 123۔ 199۔ 200۔) سورة یٰسٓ 49 یہاں اس امر کی کوئی تصریح نہیں ہے کہ یہ جواب دینے والا کون ہوگا۔ ہوسکتا ہے کہ کچھ دیر بعد خود انہی لوگوں کی سمجھ میں معاملہ کی اصل حقیقت آجائے اور وہ آپ ہی اپنے دلوں میں کہیں کہ ہائے ہماری کم بختی، یہ تو وہی چیز ہے جس کی خبر خدا کے رسول ہمیں دیتے تھے اور ہم اسے جھٹلایا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 52–54

(آیت) قالوا یا ویلنا من بعثنا من مرقدنا، کفار اگرچہ قبروں میں بھی عذاب قبر میں مبتلا تھے، وہاں کچھ آرام نہ تھا، مگر قیامت کے عذاب کے مقابلہ میں وہ پہلا عذاب کالعدم معلوم ہوگا اس لئے پکاریں گے کہ ہمیں کس نے قبروں سے نکال لیا، وہیں رہتے تو اچھا ہوتا۔ اس پر فرشتے یا عام مومنین جواب دیں گے۔ (آیت) ھذا ما وعدالرحمن وصدق المرسلون، یعنی یہ وہی قیامت ہے جس کا رحمن نے وعدہ کیا تھا، اور اس کے رسولوں نے اس کی سچی خبر تم کو سنائی تھی، تم نے توجہ نہ دی۔ اس مقام پر اللہ کی صفات میں سے لفظ رحمن اختیار کرنے میں اشارہ ہے کہ اس نے تو اپنی رحمت سے تمہارے لئے اس عذاب سے بچنے کے بہت سامان کئے تھے اور قبل از وقت اس…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

آیت 52 یعنی یہ مذاق اڑانے والے لوگ اس وقت گبھراہٹ اور سراسیمگی میں اپنے سر پیٹیں گے اور کہیں گے کہ یہ کس نے ہم کو ہماری قبروں سے اٹھا کھڑا کیا ! یہ سوال تحقیق کے لئے نہیں بلکہ اپنی بدبختی کے اظہار کے لئے وہ کریں گے کہ ہم تو یہ سمجھتے تھے کہ مرنے کے بعد اٹھنا نہیں ہوگا لیکن یہ تو واقعہ ثابت ہوا ! ’ ھذا ما وعد الرحمن وصدق المرسلون۔ ‘ یہ ان کے قول کا حصہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ تو وہی بات ہوئی جس کی خدائے رحمان کی طررف سے ہم کو آگاہی دی گئی تھی، رسولوں کی بات بالکل سچی نکلی۔ اور اس کا بھی امکان ہے کہ یہ بات فرشتوں کی زبانی، اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس وقت ان کی تذلیل کے لئے فرمائی جائے کہ اب اپنی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 52–54

52۔ 1 قبر کو خواب گاہ سے تعبیر کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ قبروں میں ان کو عذاب نہیں ہوگا، بلکہ بعد میں جو ہولناک مناظر اور عذاب کی شدت دیکھیں گے، اس کے مقابلے میں انہیں قبر کی زندگی ایک خواب ہی محسوس ہوگی۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 42–64

18: کشتی جیسی دوسری سواری کی تشریح عام طور سے مفسرین نے اونٹوں سے کی ہے، کیونکہ اہل عرب اونٹوں کو صحرا کا جہاز کہا کرتے تھے۔ لیکن قرآن کریم کے الفاظ عام ہیں جس میں کشتی کے مشابہ ہر طرح کی سواریاں داخل ہیں، بلکہ عربی قواعد کی رو سے آیت کا ترجمہ اس طرح بھی کیا جاسکتا ہے کہ : ہم نے ان کے لیے اسی جیسی اور چیزیں بھی پیدا کی ہیں جن پر یہ (آئندہ) سواری کریں گے۔ اس صورت میں وہ تمام سواریاں اس عبارت میں داخل ہوجاتی ہیں جو قیامت تک پیدا ہوں گی، مثلاً آبدوزیں، اور ہوائی جہاز جو اس لحاظ سے کشتی کے مشابہ ہیں کہ کشتی پانی پر تیرتی ہے، اور ہوائی جہاز ہوا پر تیرتا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 49–53

ما ینظرون الا۔۔۔۔۔۔ جمیع لدینا محضرون (49 – 53) “۔ “۔ جھٹلانے والوں کا سوال یہ تھا۔ ویقولون متی ھذا۔۔۔۔۔ صدقین (36: 48) ” یہ قیامت کی دھمکی کب پوری ہوگی ؟ بتاؤ اگر تم سچے ہو “۔ لہٰذا ان کا جواب اس منظر کی شکل میں دیا گیا۔ ما ینظرون الا۔۔۔۔ الی اھلھم یرجعون (36: 49 – 50) ” دراصل یہ جس چیز کی راہ تک رہے ہیں وہ بس ایک دھماکہ ہے جو یکایک انہیں عین اس حالت میں دھرلے گا جب یہ جھگڑ رہے ہوں گے اور اس وقت یہ وصیت تک نہ کرسکیں گے اور نہ اپنے گھروں کو پلٹ سکیں گے “۔ قیامت اچانک لوگوں کو اپنی گرفت میں لے لے گی ، اس وقت وہ اپنے دنیاوی جھگڑوں یا مذہبی مباحثوں میں مصروف ہوں گے اور ان کو وقوع قیامت کی امید…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

7 شاید نفخہ اولی اور نفخہ ثانیہ کے درمیان ان پر نیند کی حالت طاری کردی جائے۔ یا قیامت کا ہولناک منظر دیکھ کر عذاب قبر کو اہوں سمجھیں گے اور نیند سے تشبیہ دیں گے۔ یا " مرقد " بمعنی " مضجع " کے ہو۔ نیند کی کیفیت سے تجرید کرلی جائے۔ واللہ اعلم۔ 8 یہ جواب اللہ کی طرف سے اس وقت ملے گا یا مستقبل کو حاضر قرار دے کر اب جواب دے رہے ہیں۔ یعنی کیا پوچھتے ہو کس نے اٹھا دیا۔ ذرا آنکھیں کھولو۔ یہ وہ ہی اٹھانا ہے جس کا وعدہ خدائے رحمان کی طرف سے کیا گیا تھا اور پیغمبر جس کی خبر برابر دیتے رہے تھے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 52 { قَالُوْا یٰوَیْلَنَا مَنم بَعَثَنَا مِنْ مَّرْقَدِنَاسکۃ } ”وہ کہیں گے : ہائے ہماری شامت ! ہمیں کس نے اٹھا دیا ہماری قبروں سے ؟“ { ہٰذَا مَا وَعَدَ الرَّحْمٰنُ وَصَدَقَ الْمُرْسَلُوْنَ } ”پھر خود ہی کہیں گے : ارے یہ تو وہی دن ہے جس کا رحمن نے وعدہ کیا تھا اور پیغمبروں نے سچ کہا تھا۔“ پیغمبروں نے بعث بعد الموت کے بارے میں جو خبریں دی تھیں وہ سب کی سب سچ ثابت ہوئیں اور آج واقعی وہ دن آن پہنچا ہے جس کے بارے میں وہ ہمیں بار بار یاد دہانی کرایا کرتے تھے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

49 دوسری مرتبہ صور پھونکنے کا اثر :۔ نفخہ صور اول سے تمام لوگ بےہوش ہوجائیں گے اور اسی بےہوشی کے عالم میں ہی ان کی موت واقع ہوگی۔ پھر جب دوسری مرتبہ صور پھونکا جائے گا تو وہ قبروں سے اٹھ کھڑے ہوں گے۔ اس وقت انہیں یہ معلوم نہ ہوسکے گا کہ کیا حادثہ پیش آیا تھا اور وہ اس وقت کہاں کھڑے ہیں۔ جیسے کسی شخص کا بس سے ایکسیڈنٹ ہوجائے تو وہ بےہوش ہوجائے۔ اور اسے ہسپتال پہنچا دیا جاتا ہے۔ پھر جب وہ کچھ مدت بعد ہوش میں آتا اور آنکھیں کھولتا ہے تو اس وقت وہ یہ دیکھتا ہے کہ میں اس وقت کہاں ہوں اور کیسے یہاں پہنچ گیا ہوں ؟ اسے اپنی بےہوشی کی بھی کچھ خبر نہیں ہوتی یہی حال ان لوگوں کا ہوگا۔ وہ بالکل اجنبی اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 51–52

35۔ (چنانچہ یہ وقوع قیامت انھیں سچے وعدوں کا ظہور ہے) (آیت) ” ھذا ..... المرسلون “۔ یہ پورا ٹکڑا قیامت کے دن فرشتوں کی زبان سے ادا ہوگا۔ (آیت) ” نفخ فی الصور “۔ مراد صور کا نفخہ ثانی ہے۔ جب وہ از سر نو زندہ ہو کر اکٹھے ہوجائیں گے۔ (آیت) ” مرقدنا “۔ مرقد صورۃ واحد ہے، مراد جمع ہے۔ یراد بالمفرد الجمع اے مراقدنا (روح) برزخ کی درمیانی زندگی حشر برپا ہوجانے پر خواب کی زندگی معلوم ہوگی، اسی لئے اہل حشر اس کو مرقد سے تعبیر کریں گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 51–67

آیت نمبر 51 تا 67 ترجمہ : اور صور پھونکا جائے گا وہ (ایک) سینگ ہے، اور دوسرا صور زندہ کرنے کے لئے ہوگا اور دونوں نفخوں کے درمیان چالیس سال کا وقفہ ہوگا پھر جب وہ یعنی مردے قبروں سے نکل کر تیزی سے اپنے پروردگار کی طرف چلنے لگیں گے ان میں سے کافر کہیں گے، ہائے ہماری کمبختی یا تنبیہ کے لئے ہے ہائے ہماری ہلاکت، وَیْلٌ ایسا مصدر ہے کہ اس کا لفظی فعل نہیں آتا، کس نے ہم کو ہماری قبروں سے اٹھا یا ؟ اس لئے کہ وہ دونوں نفخوں کے درمیان سوئے ہوئے ہوں گے، ان کو عذاب نہ دیا جارہا ہوگا، یہ وہی (بعث) ہے جس کا رحمٰن نے وعدہ کیا تھا، اور رسول نے اس کے بارے میں سچ کہا تھا ایسے وقت اقرار کریں گے کہ ان کا اقرار…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قالوا یویلنا من بعثنا من مرقد نام . وہ کہیں گے : ہائے ہماری کم بختی ! ہم کو ہماری خوابگاہ سے کس نے اٹھا دیا۔ یعنی کافر کہیں گے۔ یقینی ہونے کی وجہ سے مستقبل کی جگہ قالُوْا ماضی کا صیغہ استعمال کیا۔ ویل مصدر ہے ‘ اس سے فعل مشتق نہیں ہوتا۔ صاحب قاموس نے ویل کا معنی حلول شر لکھا ہے۔ بعض اہل تحقیق کا قول ہے کہ لغت میں اس معنی کیلئے ویل کا لفظ وضع نہیں کیا گیا ‘ بلکہ یہ جہنم کی ایک وادی کا نام ہے۔ امام احمد ‘ ترمذی ‘ ابن جریر ‘ ابن ابی حاتم ‘ ابن حبان ‘ حاکم ‘ بیہقی ‘ ابن ابی الدنیا اور ہنّاد نے حضرت ابو سعید خدری کی روایت سے بیان کیا ہے اور حاکم نے اس حدیث کو صحیح بھی کہا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اور قبروں سے نکل کر کہیں گے ہائے ہماری کم بختی ہمیں ہماری خوب گاہوں سے کس نے بیدار کردیا تو ایک دوسرے سے کہیں گے کہ یہ وہی وقت ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے ہم سے دنیا میں وعدہ کیا تھا یا یہ کہ ان سے محافظ فرشتے کہیں گے کہ یہ وہی ہے جس کا انبیاء کرام کی زبانی دنیا میں وعدہ کیا تھا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

قَالُوْا يٰوَيْلَنَا مَنْۢ بَعَثَنَا مِنْ مَّرْقَدِنَا : یعنی اس وقت انھیں یہ احساس نہیں ہوگا کہ وہ مرچکے تھے اور اب زندہ کیے گئے ہیں، بلکہ سمجھیں گے کہ ہم سوئے ہوئے تھے اور کسی نے ہمیں جگا دیا ہے۔ گزری ہوئی لمبی مدت انھیں ایک لمحہ معلوم ہوگی۔ مزید دیکھیے سورة بنی اسرائیل (52) اور روم (55)۔ ۆھٰذَا مَا وَعَدَ الرَّحْمٰنُ وَصَدَقَ الْمُرْسَلُوْنَ : یہاں یہ ذکر نہیں کہ یہ بات کون کہے گا، عین ممکن ہے کہ خود ہی ان کی سمجھ میں آجائے کہ یہ تو وہی قیامت ہے جو رسول ہمیں بتایا کرتے تھے اور ہم اسے جھٹلاتے تھے، اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ مومن یا فرشتے انھیں یہ بات کہیں۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 51–54

و نفخ فی الصور یہ دوبارہ اٹھانے کے لئے دوسرا نفخہ ہے (1) ۔ سورة نمل میں ہم وضاحت کر آئے ہیں کہ نفحے دو ہیں تین نہیں ہیں ‘ یہ آیت اسی معنی پر دال ہے۔ مبارک بن فضالہ نے حضرت حسن بصری ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : دو نفخوں کے درمیان چالیس سال کا عرصہ ہوگا پہلے کے ساتھ اللہ تعالیٰ ہر زندہ چیز کو موت عطا فرمائے گا اور دوسرے کے ساتھ اللہ تعالیٰ ہر مرد چیز کو زندہ کرے گا “ (2) ۔ قتادہ نے کہا : صور ‘ صورۃ کی جمع ہے صورۃ اور صور اسی طرح ہیں جس طرح عمارت کی سورة ) دیوار ( اور سورة ہوا کرتی ہے۔ عجاج نے کہا : سرت الیہ فی اعالی السور میں اس کی طرف بلند دیواروں میں چلا۔ حضرت…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 52–54

5:۔ ابن الانباری نے المصاحف میں علی ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے پڑھا (آیت) ” یویلنا من بعثنا من مرقدنا “ 6:۔ ابن الانباری نے ابی بن کعب ؓ سے روایت کیا کہ دوبارہ اٹھائے جانے سے علیحدہ تھوڑا سوئیں گے تو اس میں راحت پائیں گے تو اس وقت وہ کہیں گے (آیت) ” یویلنا من بعثنا من مرقدنا “ (وہ کہیں گے اے ہماری کم بختی ہم کو ہمارے خوابگاہ سے کس نے اٹھادیا ) 7:۔ الفربی، عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابی بن کعب ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” من بعثنا من مرقدنا “ کہ وہ لوگ دوبارہ اٹھائے جانے سے پہلے تھوڑا سا سوئیں گے۔ 8:۔ ابن ابی شیبہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ کفار کے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

قَالُوْا [وہ کہیں گے ] يٰوَيْلَنَا [ہائے ہماری شامت ] مَنْۢ بَعَثَنَا [کسی نے اٹھایا ہم کو ] مِنْ مَّرْقَدِنَا ۆ[ہماری آرام گاہ سے ] ھٰذَا مَا [یہ وہ ہے جو ] وَعَدَ الرَّحْمٰنُ [وعدہ کیا رحمان نے ] وَصَدَقَ الْمُرْسَلُوْنَ [اور سچ کہا بھیجے ہوؤں (رسولوں) نے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 52–53

(اِِنْ کَانَتْ اِِلَّا صَیْحَۃً وَّاحِدَۃً فَاِِذَا ھُمْ جَمِیْعٌ لَّدَیْنَا مُحْضَرُوْنَ ) (بس وہ نفخہ ثانیہ ایک زور کی آواز ہوگی جس سے یکایک سب جمع ہو کر ہمارے پاس حاضر کیے جائیں گے) یہ جمع ہونا حساب کتاب کے لیے ہوگا، حساب ہونے پر جس کو جو سزا ملے گی اس میں کسی جان پر کچھ ظلم نہ ہوگا، نہ کسی کی کوئی نیکی کم کی جائے گی جو لائق ثواب ہو اور نہ کسی کے گناہوں میں کسی ناکردہ گناہ کا اضافہ ہوگا۔ سورة کہف میں فرمایا (وَوَجَدُوْا مَا عَمِلُوْا حَاضِرًا وَ لَا یَظْلِمُ رَبُّکَ اَحَدًا) (اور انہوں نے جو عمل کیے تھے ان کو حاضر پائیں گے اور آپ کا رب کسی پر ظلم نہیں کرے گا۔ )

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 48–76

منکرین حشر ونشر کی تہدید اور وعید قال اللہ تعالیٰ ویقولون متی ھذا الوعد۔۔۔ الی۔۔۔ انا نعلم ما یسرون وما یعلنون۔ (ربط) گذشتہ آیات میں زیادہ تر دلائل توحید کا ذکر تھا اور اس سے ذرا پہلے وان کل لما جمیع لدینا محضرون میں مسئلہ حشر ونشر کا ذکر تھا اب پھر مسئلہ حشرونشر کی طرف رجوع فرماتے ہیں اور ان کا ایک سوال نقل فرماتے ہیں ویقولون متی ھذا الوعد ان کنتم صدقین : یعنی یہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ قیامت کا وعدہ کب پورا ہوگا اللہ تعالیٰ نے اس کے جواب میں اس کے وقت کے اظہار سے مصلحۃً اعراض فرمایا اور اجمالی طور پر صرف اتنا بتا دیا کہ قیامت نا گہاں آئے گی جب لوگ اپنے کاروبار میں مصروف ہوں گے ناگہاں صور پھونکا…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 52–53

34:۔ ان کانت الخ :۔ یہ نفخہ ثانیہ کی طرف اشارہ ہے یعنی یہ نفخہ ایک ہولناک آواز ہوگی جس سے سب مردے زندہ ہو کر فورًا ہمارے سامنے حاضر ہوجائیں گے یعنی ان احیاءہم و بعثہم کان بصیحۃ واحدۃ (قرطبی ج 15 ص 42) ۔ فالیوم لا تظلم نفس الخ، یہ خطاب صرف کافروں سے ہوگا۔ یا مومنوں اور کافروں دونوں سے ہوگا۔ یعنی آج کسی فرد بشر سے نیک ہو یا بد ذرہ بھر بےانصافی نہیں ہوگی اور ہر ایک کو اس کے اپنے ہی اعمال کی جزاء و سزا ملے گی اور کسی کو ناکردہ گناہ کی سزا نہیں ملے گی۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 51–59

ربط آیات اپنی آیات قدرت بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے کفار و مشرکین کی مذمت بیان فرمائی اور یہ بھی کہ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ آگے پیش آنے والے حالات کے لیے کچھ تیاری کرلو ، اور جو اعمال پیچھے چھوڑ آئے ہو ان کے متعلق بھی غور و فکر کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے تو یہ لوگ نشانات قدرت دیکھ کر بھی ایمان نہیں لاتے بلکہ الٹا اعتراض کرنے لگتے ہیں۔ پھر اللہ نے ان میں سے مالداروں کی حالت کا ذکر بھی کیا کہ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ کی عطا کردہ روزی میں سے غرباء اور مساکین پر بھی خرچ کرو تو کہتے ہیں کہ جن کو خود خدا تعالیٰ بھوکا رکھنا چاہتا ہے یعنی ان کو نادار بنایا ہے ، بھلا ہم ان کی اعانت کریں۔ اللہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قَالُوْا يٰوَيْلَنَا مَنْۢ بَعَثَنَا مِنْ مَّرْقَدِنَا۝ 0ڄ ھٰذَا مَا وَعَدَ الرَّحْمٰنُ وَصَدَقَ الْمُرْسَلُوْنَ۝ 52 ويل قال الأصمعيّ : وَيْلٌ قُبْحٌ ، وقد يستعمل علی التَّحَسُّر . ووَيْسَ استصغارٌ. ووَيْحَ ترحُّمٌ. ومن قال : وَيْلٌ وادٍ في جهنّم، قال عز وجل : فَوَيْلٌ لَهُمْ مِمَّا كَتَبَتْ أَيْدِيهِمْ وَوَيْلٌ لَهُمْ مِمَّا يَكْسِبُونَ [ البقرة/ 79] ، وَوَيْلٌ لِلْكافِرِينَ [إبراهيم/ 2] ( و ی ل ) الویل اصمعی نے کہا ہے کہ ویل برے معنوں میں استعمال ہوتا ہے اور حسرت کے موقع پر ویل اور تحقیر کے لئے ویس اور ترحم کے ویل کا لفظ استعمال ہوتا ہے ۔ اور جن لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ ویل جہنم میں ایک وادی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

قالوا یا ویلنا من بعثنا من مرقدنا عذاب دیکھ کر حیران ہوں گے اور کہیں گے کس نے ہم کو خواب گاہوں سے بیدار کردیا۔ کفار کو مرنے کے بعد حشر تک قبر میں عذاب ہے، جیسا کہ احادیث صحیحہ میں آیا ہے اور اسی پر اہل سنت کا اتفاق ہے، پھر خواب سے جگا دینا جو کفار کہیں گے یا تو اس وجہ سے کہ ان کے حواس پریشان ہوں گے، اس بدحواسی میں وہ قبروں میں رہنے کو خواب سمجھیں گے۔ یا عذاب حشر کے مقابلہ میں قبر کا عذاب راحت اور خواب معلوم ہوگا۔ ابی بن کعب و ابن عباس ؓ و مجاہد و قتادہ کہتے ہیں کہ نفخہ اولیٰ سے لے کر نفخہ ثانیہ کے زمانہ میں ان سے عذاب دور کردیا جاوے گا، تب وہ آرام سے سوتے ہوں گے، پھر جب حشر برپا ہونے کا صور…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

قَالُوْا یٰـوَیْلَنَا مَنْ م بَعَثَنَا مِنْ مَّرْقَدِنَا سکتۃ م ھٰذَا مَاوَعَدَالرَّحْمٰنُ وَصَدَقَ الْمُرْسَلُوْنَ ۔ (یٰسٓ: 52) (وہ کہیں گے : ہائے ہماری بدبختی ! یہ کس نے ہمیں ہماری خوابگاہ سے اٹھا کھڑا کیا۔ یہ تو وہی چیز ہے جس کا خدائے رحمن نے وعدہ کیا تھا اور رسولوں نے سچ کہا تھا۔ ) اپنی خواب گاہوں سے اٹھنے والے سراسیمگی کے عالم میں چاروں طرف دیکھیں گے اور حیران ہو کر کہیں گے کہ ہمیں ہماری خواب گاہ سے کس نے اٹھا دیا ہے۔ وہ یہ گمان کررہے ہوں گے کہ ہم تو اپنی خواب گاہوں میں آرام کررہے تھے کہ شاید کسی خوفناک حادثے کی وجہ سے جاگ اٹھے ہیں۔ یہاں اس بات کی کوئی تصریح نہیں کہ ان کی اس بات کا جواب…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول معظم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ لوگ قیامت کے دن ننگے پاؤں ‘ ننگے بدن اور بلا ختنہ اٹھائے جائیں گے۔ میں نے کہا اے اللہ کے رسول کیا مرد اور عورتیں اکٹھے ہوں گے وہ ایک دوسرے کی طرف نہ دیکھیں گے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : اس دن معاملہ اس کے برعکس ہوگا یعنی کوئی ایک دوسرے کی طرف نہیں دیکھ سکے۔ “ (عَنْ حُذَیْفَۃَ بْنِ أَسِیدٍ عَنْ أَبِی ذَرٍّ قَالَ إِنَّ الصَّادِقَ الْمَصْدُوق ﷺ حَدَّثَنِی أَنَّ النَّاسَ یُحْشَرُونَ ثَلاَثَۃَ أَفْوَاجٍ فَوْجٌ رَاکِبِینَ طَاعِمِینَ کَاسِینَ وَفَوْجٌ تَسْحَبُہُمُ الْمَلاَءِکَۃُ عَلَی وُجُوہِہِمْ وَتَحْشُرُہُمُ النَّارُ وَفَوْجٌ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

بےوقت بعث کا اقرار : 52: قَالُوْا (وہ کہیں گے) یعنی کفار یٰوَیْلَنَا مَنْ 0 بَعَثَنَا (ہائے ہماری کم بختی ہم کو کس نے اٹھا دیا) بعثنابمعنی اَنْشَرْنَا ہے۔ مِنْ مَّرْقَدِنَا (ہماری قبروں سے) یعنی خواب گاہوں سے۔ قراءت : حفص کے نزدیک یہاں وقف لازم ہے۔ قولِ مجاہد (رح) : کفار کو نیند کا ایک جھٹکا محسوس ہوگا جس میں نیند کا ذائقہ پائیں گے۔ اسی وقت اچانک آواز دی جائے گی۔ اے اہل قبور ! وہ جواب دیں گے ہم کو کس نے زندہ کر کے اٹھا دیا ؟ ّ (وہ اپنے خیال کی تغلیط کر کے کہیں گے یہ نیند نہیں بلکہ انبیاء والی سچی قیامت ہے) ۔ ھٰذَا مَاوَعَدَ الرَّحْمٰنُ وَصَدَقَ الْمُرْسَلُوْنَ (یہ وہی ہے جس کا رحمان نے وعدہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

52، قالوایا ویلنا من بعثنا من مرقدنا، ابی بن کعب وابن عباس اور قتادہ کا قول ہے کہ کافرون کا یہ قول اس وجہ سے ہوگا کہ دونوں نفخوں کی درمیانی مدت ان پر سے عذاب اٹھالیاجائے گا اور وہ سوجائیں گے ۔ دوسری مرتبہ جب نفخہ صور کے بعد ان کوا ٹھایاجائے گا تو یہ کہیں گے اور قیامت کا معائنہ اپنی آنکھوں سے کرلیں گے، پھر وہ اپنے آپ کی ہلاکت کو پکاریں گے۔ بعض اہل معانی کا بیان ہے کہ جب کفار عذاب جہنم کا معائنہ کریں گے تو ان کو قبر کا عذاب خواب کی طرح محسوس ہوگا۔ اس وقت یہ کہیں گے کہ ہم کو خواب سے کس نے اٹھایا ۔ پھر ان کو کہا جائے گا۔ ، ھذاما وعد الرحمن وصدق المرسلون، یہ اس وقت اقرار کریں گے جب ان کو اقرار سے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 48–53

48 تا 52۔ جس طرح کوئی کسی چیز کا منتظر ہوتا ہے اس طرح کافر لوگ قیامت کا حال سن کر مسخرا پن اور تعجب سے یہ بات مسلمانوں سے بات مسلمانوں سے کہتے تھے کہ جو کچھ تم قیامت کا حال کہتے ہو کہ مر کر پھر جینا ہوگا اور وہاں آخرت میں ہم پر عذاب ہوگا اور تم بڑے عیش و آرام میں ہوجاؤگے اگر یہ تمہارا بیان سچ ہے تو آخر اس کا ظہور کب ہوگا اور قیامت کی ابتدا پہلے صور سے ہوگی جس کو نفخۃ الفزع کہتے ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کافروں کے جواب میں فرمایا کہ جب یہ لوگ ایک منتظر آدمی کی طرح قیامت کے انتظار میں ہیں تو ان کو ایک سخت آواز کا انتظار کرنا چاہئے کہ لوگ اپنے دنیا کے کاروبار میں معمول کے موافق اسی طرح مصروف…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 52–54

آیت 51 صور کی پہلی آواز گھبراہٹ اور موت کی آواز ہوگی اور یہ دوسری آواز مردوں کے زندہ ہونے اور اٹھنے کے لئے ہوگی۔ جب دوبارہ صور پھونکا جائے گا توہ اپنی قبروں سے نکل کر جلدی سے اپنے رب کے حضور حاضر ہوں گے اور وہ کسی قسم کی تاخیر اور دیر نہ کرسکیں گے۔ اس حال میں، رسولوں کی تکذیب کرنے والے بہت غم زدہ ہوں گے۔ وہ حسرت اور ندامت کا اظہار کرتے ہوئے کہیں گے : (یویلنا من بعثنا من مرقدنا) ” ہائے افسوس ! ہمیں ہماری خواب گاہوں سے کس نے اٹھایا ؟ “ یعنی ہمیں ہمارے قبروں میں نیند سے کس نے اٹھایا ؟ بعض احادیث میں وارد ہے کہ اہل قبور صور پھونکے جانے سے تھوڑی دیر پہلے تک سو رہے ہوں گے۔ ان کو جواب دیا جائے گا :…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 42–67

قول باری ہے (وخلقنا لھم من مثلہ ما یرکبون اور ہم نے ان کے لئے اسی کشتی جیسی چیزیں اور بھی پیدا کی ہیں جس پر یہ سوار ہوتے ہیں) حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے ” یعنی حضرت نوح (علیہ السلام) کی کشتی کے بعد دوسری کشتیاں “۔ حضرت ابن عباس ؓ سے ایک اور روایت بھی ہے اور مجاہد سے بھی کہ اونٹ خشکی کے جہاز ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

55 مذاق اڑانے والوں کا حال قیامت کے روز ۔ والعیاذ باللہ : ۔ سو اس ارشاد سے مذاق اڑانے والے کفار و منکرین کا حشر کے روز انتہائی یاس و حسرت کے اظہار و اعلان کو ذکر فرمایا گیا ہے۔ سو وہ انتہائی یاس وحسرت کے عالم میں کہیں گے " ہائے ہماری کم بختی۔ یہ کس نے اٹھا دیا ہمیں ہماری قبروں سے ؟ " جواب ملے گا " یہی ہے وہ کچھ جس کا وعدہ فرمایا تھا خدائے رحمن نے اور سچی ثابت ہوئی بات پیغمبروں کی "۔ یہ جواب ان کو فرشتوں کی طرف سے دیا جائے گا یا اہل ایمان کی طرف سے۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ خود ہی ایک دوسرے کو اس طرح جواب دیں۔ ابن جریر وغیرہ نے اسی کو اختیار کیا ہے۔ الفاظ میں بہرکیف ان سب ہی احتمالات کی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 48–74

حشر کا میدان اور نیک و بد کا انجام تشریح : یہاں کفار مکہ کا اور آج کل کے ملحد وغیرہ لوگوں کا ذکر ہے کہ وہ قیامت کو ناقابل یقین سمجھتے ہوئے کہتے ہیں کہ کب آئے گی قیامت ؟ قیامت جب آئے گی تو اتنی اچانک اور شدید ہوگی کہ کسی کو سمجھ میں ہی نہ آئے گا کہ کیا ہوگیا ہے۔ قیامت سے پہلے چھوٹی قیامت یں اور ہلکے پھلے عذاب تو انسانوں کی نافرمانی کی وجہ سے آتے رہتے ہیں جن کا مقصد انسانوں کو جھنجھوڑنا ہوتا ہے۔ کہیں طوفان بادو باراں، کہیں زلزلہ اور کہیں کسی دوسری شکل میں آفات ارضی و سماوی۔ اسی طرح بڑی اور فیصلہ کن قیامت پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی مگر یہ بھی صرف اس دنیا کی قیامت ہوگی پوری کائنات قائم و…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 51–67

رکوع نمبر 4 ۔ آیات 51 تا 67: اسرار و معارف : چنانچہ جب دوبارہ صور پھونکا جائے گا تو اپنی اپنی قبروں سے اٹھ کر اللہ کے حضور چل پڑیں گے یعنی وہ ایسا قادر ہے کہ ایک چنگھاڑ سے ہر شے تباہ کردے گا تو پھر ایک چنگھاڑ یا سخت آواز ہی سب مردہ جسموں کے ذرات کو یکجا کرکے زندہ بھی کردے گی اور ہر فرد چاہے یا نہ چاہے مگر رواں اللہ کی بارگاہ کی طرف ہی ہوگا جہاں سب کی پیشی ہوگی تب پریشان حال یہ کہہ رہے ہوں گے کہ ہمیں کس نے اٹھا دیا اگرچہ برزخ میں بھی کفار عذاب میں ہوں گے۔ مگر میدان حشر کی ہیبت کے سامنے کہیں گے یہاں سے وہاں ہی ٹھیک تھے یہ کس نے ہمیں ان ٹھکانوں سے نکال کھڑا کیا ہے تو جواب آئے گا فرشتے یا مومنین…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 52–53

(36:52) یویلنا۔ یا حرف ندا ویل۔ جہنم میں ایک وادی کا نام ہے ۔ بمعنی عذاب شدت عذاب۔ افسوس ، کم بختی، ویل مضاف نا ضمیر جمع متکلم مضاف الیہ۔ مضاف مضاف الیہ مل کر منادی۔ اے ہماری کم بختی۔ یہ کلمہ حسرت و ندامت ہے۔ من بعثنا۔ بعث ماضی واحد مذکر غائب نا ضمیر مفعول جمع متکلم۔ من استفہامیہ ہے۔ بعث یبعث بعث (باب فتح) جی اٹھنا۔ دوبارہ زندہ کرنا۔ اٹھا کھڑا کرنا۔ بھیجنا یہاں اٹھا کھڑا کرنے کے معنی میں ہے۔ کس نے ہم کو (دوبارہ زندہ کر کے ) اٹھا کھڑا کیا۔ من مرقدنا۔ مرقد ظرف مکان مضاف نا ضمیر جمع متکلم مضاف الیہ۔ ہماری خواب گاہ (قد یرقد) (باب نصر) رقاد ورقود، خوشگوار اور ہلکی سی نیند سونا۔ مرقد سونے کی جگہ۔…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 45–54

لغات القرآن : آیت نمبر 45 تا 54 :۔ بین ایدی ( سامنے) خلف ( پیچھے) انطعم (کیا ہم کھلائیں) صحیۃ (چنگھاڑ، زور دار آواز) یخصمون ( وہ جھگڑ رہے ہوں گے) الاجداث (قبریں) ینسلون ( وہ دوڑیں گے) لاتجزون ( بدلہ نہ دیئے جائیں گے) ۔ تشریح آیت نمبر 45 تا 54 :۔ نبی کریم ﷺ جب کفار و مشرکین سے کہتے کہ میں جن آیات اور کلام الٰہی کو لے کر آیا ہوں اس پر ایمان لائو۔ اللہ کا خوف اختیار کرو تا کہ تم پر دنیا میں اور آخرت میں رحم و کرم ناز ل کیا جائے اور اپنے سے غریب ، مفلس اور ضرورت مندوں پر اپنا مال خرچ کرو ۔ تو وہ اللہ کی آیات اور نبی کریم ﷺ کی باتوں کا مذاق اڑاتے اور جاہلانہ اعتراضات کر کے اپنے آپ کو مطمئن ظاہر کر…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 48–53

قیامت کس حالت میں قائم ہوگی۔ (ف 1) مشرکین مکہ کو جب پہلی قوموں کے حال سے ڈرنے کو کہاجاتا ہے اور ان کی گمراہی کے آئندہ کے نتیجہ کی انہیں یاد دلائی جاتی ہے تو بجائے راہ راست پر آنے کے یہ لوگ قرآن کی ان نصیحتوں کو ٹال دیتے تھے اسی طرح جب ان لوگوں سے یہ کہا جاتا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے تم کو خوشحال جو کیا ہے اس کے شکریہ میں غریب محتاج لوگوں کے ساتھ کچھ سلوک کیا کرو، تو اس کے جواب میں یہ لوگ کہتے تھے کہ کیا ان لوگوں کو کھانا کھلاویں اور کچھ خیرات دین جس کے اعتقاد میں یہ ہے کہ اللہ ہی ان کو رزق دے سکتا ہے تم لوگ جاباوجود اس بات کے کہ خدا کو رازق سمجھے ہوئے ہو اور پھر ہم سے کہتے کہ غریب اور محتاج…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 50–59

[20] یعنی قیامت ناگہاں آن پڑے گی اور لوگ اپنے معاملات میں غرق ہوں گے۔ جس وقت پہلے صور کی چنگھاڑ بلند ہوگی تمام انسان مر کر ڈھیر ہوجائیں گے۔ ان کو اتنی بھی فرصت نہ ملے گی کہ مرنے سے پہلے کسی کو کچھ کہنا چاہیں تو کہہ گزریں، یا جو گھر سے باہر تھے وہ گھر واپس جاسکیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 51–58

نرسنگا پھونکا جائے گا 1: نفحہ ثانثہ مردہ قالبوں میں زندگی پیدا کردے گا ۔ اور قرنوں سے تیل نکل کر خدا کے حضور میں پہنچنے لگیں گے ۔ اور قبروں سے تیل نکل کر خدا کے حضور میں پہنچنے لگیں گے ۔ اس وقت یہ لوگ حیرت وتعجب سے کہیں گے ، کہ ہم کو ان خواب گاہوں سے کس نے اٹھا دیا ۔ ارشاد ہوگا ۔ کہ یہ وہی قیامت ہے ۔ جس کا ہم سب سے رحمن نے وعدہ کیا تھا ۔ اور پیغمبر سچ کہتے تھے ۔ ہوسکتا ہے کہ صور کی آواز بذاتہ موت اور زندگی پیدا کرنے میں موثر ہو ۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے ۔ کہ یہ آواز محض ایک نوع کا اعلان ہو ۔ اور موخر دوسرے اسباب ہوں ۔ بہرحال جہاں تک قرآن حکیم کا تعلق ہے ۔ اس میں اس حقیقت شرعیہ کو تفصیل کے ساتھ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(52) کہتے ہوں گے ہائے خرابی ہماری ہم کو ہماری سونے کی جگہ سے کس نے جگا دیا جواب دیا جائے گا یہ وہی ہے جس کا رحمان نے وعدہ فرمایا تھا اور اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے پیغمبروں نے سچ کہا تھا۔ یا تو من بعثنا قول ہے مسلمانوں کا کیونکہ ان سے قبر میں کہا جاتا ہے۔ نم کنومۃ العروس اور اگر کفار کا قول ہے تو مطلب یہ ہے کہ قبور کے عذاب کو قیامت کے عذاب کے مقابلے میں نیند سمجھیں گے اور بعض حضرات کا قول ہے کہ قیامت کے نفحہ سے لے کر دوسرے نفحہ کے چالیس سال تک کفار سو جائیں گے۔ ھذا ما وعدالرحمن یا تو فرشتے کہیں گے یا یہ جواب مسلمانوں کی طرف سے ہوگا۔ رحمان نے جو وعدہ کیا تھا حشر و نشر کا سزا و جزا کا یہ وہی…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

وہ کہیں گے ہائے افسوس ہم کو ہماری خواب گاہوں سے ہم کو کون اٹھالایا : 52۔ یہ کہنے والے کون ہیں ؟ وہی جو قیامت کے واقع ہونے سے انکاری تھے جب ان کو لا کر میدان حشر میں کھڑا کردیا جائے گا اور وہ سارا منظر اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہوں گے تو ان کی جو حالت ہوگی اس کا ذکر اس جگہ کیا جا رہا ہے کہ وہ اس کو دیکھتے ہی اپنا سر پیٹ لیں گے اور کہیں گے یہ تو وہی دن ہے جس کی ہم کو اطلاع دی جاتی رہی اور ہم اس کا مسلسل انکار کیے جاتے رہے ۔ ہائے افسوس ہم کو ادھر کون لے آیا ؟ کس نے ہم کو ہماری خواب گاہوں سے جگا دیا اور اب ہمارا کیا ہوگا اور کہاں ہم کو لے جایا جائے گا اس طرح گزشتہ خیالات کے تحت ہی وہ زبان کھولتے ہوں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 52–54

In verse 52, it was said: قَالُوا يَا وَيْلَنَا مَن بَعَثَنَا مِن مَّرْ‌قَدِنَا (They will say, "Woe to us! Who has raised us from our sleeping place?" ). Though the disbelievers were already having their punishment in their graves with no sign of any relief, yet this punishment will appear as nothing when compared with the punishing circumstances of the day of Qiyamah, therefore, they will cry out as to why they had to be taken out of their graves, for it would have been better if they had stayed right there. A response to this will come from either the angels or the common believers. This…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 52–53

48 That is, "At that time they will not realize that they had been dead and had been raised back to life after a long period, but they will be thinking that they had fallen asleep, and had been woken up suddenly by some terrible catastrophe, and were running away from it." (For further explanation, sec Ta Ha: 103, AI-Hajj: 1-2). 49 Here, it is not clear as to who will give this answer. It may be that they themselves would realize after some time to their horror that it was the same thing of which the Messengers of God used to inform them and they used to belie them. It may also be that the…

Read the full tafseer →