Yaseen 36:51

Yaseen · from ayah 51

36:51

وَنُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَاِذَا هُمْ مِّنَ الْاَجْدَاثِ اِلٰی رَبِّهِمْ یَنْسِلُوْنَ ۟وَنُفِخَ فِى الصُّوۡرِ فَاِذَا هُمۡ مِّنَ الۡاَجۡدَاثِ اِلٰى رَبِّهِمۡ يَنۡسِلُوۡنَ

اور (جس وقت) صور پھونکا جائے گا یہ قبروں سے (نکل کر) اپنے پروردگار کی طرف دوڑ پڑیں گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And the Horn will be blown; and at once from the graves to their Lord they will hasten.

— Saheeh International

Juz 23 · Ruku 4 of surah · Ruku 3 of juz

Read the whole surah · Surah Yaseen

All translations of 36:51

پھر ایک صور پھونکا جائے گا اور یکایک یہ اپنے رب کے حضور پیش ہونے کے لیے اپنی قبروں سے نکل پڑیں گے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور (جس وقت) صور پھونکا جائے گا یہ قبروں سے (نکل کر) اپنے پروردگار کی طرف دوڑ پڑیں گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

تو صور کے پھونکے جاتے ہی سب کے سب اپنی قبروں سے اپنے پروردگار کی طرف (تیز تیز) چلنے لگیں گے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور صور پھونکا جائے گا تو یکایک یہ اپنی قبروں سے نکل کر اپنے پروردگار کی طرف تیزی سے روانہ ہوجائیں گے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور پھونکا جائے گا صور جبھی وہ قبروں سے اپنے رب کی طرف دوڑتے چلیں گے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور (جس وقت دوبارہ) صُور پھونکا جائے گا تو وہ فوراً قبروں سے نکل کر اپنے رب کی طرف دوڑ پڑیں گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور صور میں پھونکا جائے گا تو اچانک وہ قبروں سے اپنے رب کی طرف تیزی سے دوڑ رہے ہوں گے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور (جب) صور پھونکا جائے گا تو وہ فوراً اپنی قبروں سے (نکل کر) اپنے پروردگار کی طرف دوڑ پڑیں گے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور صور پھونکا جائے گا تو وہ دفعتہ قبروں سے نکل کر اپنے رب کی طرف چل پڑیں گے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور جب پھونک مار دی جائے گی صور میں (دوسری مرتبہ) تو یہ سب یکایک اپنی قبروں سے نکل نکل کر دوڑے چلے جا رہے ہوں گے اپنے رب کی طرف

— مولانا اسحاق مدنی

اور صورپھونکا جائے گا سو وہ لوگ یک بیک قبروں سے (نکل نکل) اپنے پروردگار کی طرج جلدی جلدی چلنے لگیں گے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور صور پھونکا جائے گا تو وہ یکایک قبروں سے (نکل کر) اپنے رب کی طرف دوڑ پڑیں گے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور جس وقت صور پھونکا جائے گا یہ قبروں سے نکل کر اپنے رب کی طرف دوڑ پڑیں گے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Then the Trumpet shall be blown and lo! they will come out of their graves and be on the move towards their Lord,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And the Horn will be blown, and suddenly they will be rushing from their graves towards their Lord.

— Muhammad Taqi Usmani

And the Horn will be blown, and suddenly they will be rushing from their graves towards their Lord.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And the Trumpet will be blown and behold from the graves they will come out quickly to their Lord.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And the trumpet is blown and lo! from the graves they hie unto their Lord,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And the Horn will be blown; and at once from the graves to their Lord they will hasten.

— Saheeh International

When the trumpet is sounded, they will be driven out of their grave into the presence of their Lord.

— Muhammad Sarwar

And the trumpet shall be blown, when lo! from their graves they shall hasten on to their Lord.

— Muhammad Habib Shakir

And the trumpet shall be blown, and lo! from the tombs Unto their Lord they shall be hastening.

— Abdul Majid Daryabadi

The trumpet shall be sounded, when behold! from the sepulchres (men) will rush forth to their Lord!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 36:51

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 51–54

ان آیتوں میں دوسرے نفخہ کا ذکر ہو رہا ہے۔ جس سے مردے جی اٹھیں گے۔ ینسلون کا مصدر نسلان سے ہے اور اس کے معنی تیز چلنے کے ہیں۔ جیسے اور آیت میں ہے (يَوْمَ يَخْرُجُوْنَ مِنَ الْاَجْدَاثِ سِرَاعًا كَاَنَّهُمْ اِلٰى نُصُبٍ يُّوْفِضُوْنَ 43؀ۙ) 70۔ المعارج :43) جس دن یہ قبروں سے نکل کر اس تیزی سے چلیں گے کہ گویا وہ کسی نشان منزل کی طرف لپکے جا رہے ہیں۔ چونکہ دنیا میں انہیں قبروں سے جی اٹھنے کا ہمیشہ انکار رہا تھا اس لئے آج یہ حالت دیکھ کر کہیں گے کہ ہائے افسوس ہمارے سونے کی جگہ سے ہمیں کس نے اٹھایا ؟ اس سے قبر کے عذاب کا نہ ہونا ثابت نہیں ہوتا اس لئے کہ جس ہول و شدت کو جس تکلیف اور مصیبت کو یہ اب…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة یٰسٓ 47 صور کے متعلق تفصیلی کلام کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد سوم، ص 122۔ پہلے اور دوسرے صور کے درمیان کتنا زمانہ ہوگا، اس کے متعلق کوئی معلومات ہمیں حاصل نہیں ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ یہ زمانہ سینکڑوں اور ہزاروں برس طویل ہو۔ حدیث میں حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا اسرافیل صور پر منہ رکھے عرش کی طرف دیکھ رہے ہیں اور منتظر ہیں کہ کب پھونک مارنے کا حکم ہوتا ہے۔ یہ صور تین مرتبہ پھونکا جائے گا۔ پہلا نفخۃ الفَزَع، جو زمین و آسمان کی ساری مخلوق کو سہما دے گا۔ دوسرا نفخۃ الصَّعق جسے سنتے ہی سب ہلاک ہو کر گر جائیں گے۔ پھر جب اللہ واحد صمد کے سوا کوئی ذرا سی سلوٹ تک نہ رہے گی۔ پھر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

(آیت) ونفخ فی الصور فاذا ھم من الاجداث الیٰ ربھم ینسلون، اجداث حدیث کی جمع ہے، بمعنے قبر اور ینسلون نسلان سے مشتق ہے جس کے معنی تیز چلنے کے ہیں، جیسا کہ ایک دوسری آیت میں یخرجون من الاجداث سراعاً ، آیا ہے کہ یہ لوگ اپنی قبروں سے جلدی کرتے ہوئے نکلیں گے۔ اور ایک آیت میں جو ارشاد ہے (آیت) فاذاھم قیام ینظرون، یعنی حشر کے وقت لوگ اپنی قبروں سے اٹھ کر کھڑے دیکھتے رہیں گے، یہ اس کے منافی نہیں۔ کیونکہ ابتداً حیرت سے کھڑے ہو کر دیکھنے کا واقعہ ہو اور بعد میں تیزی سے محشر کی طرف دوڑنا، ان دونوں میں کوئی تضاد نہیں۔ اور جیسا کہ آیات قرآن سے ثابت ہے کہ فرشتے ان سب کو پکار کر میدان حشر میں لائیں گے۔ اس سے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

6۔ آگے کا مضمون۔ آیات 51۔ 67 آگے واضح فرمایا ہے کہ جس طرح اس دنیا میں کوئی عذاب لانے کے لئے ہماری ایک ہی ڈانٹ کا فی ہے اسی طرح جب ہم قیامت لانی چاہیں گے تو اس کے لئے بھی ہمیں کوئی خاص اہتمام نہیں کرنا ہوگا بلکہ ایک ہی نفیخ صور میں سب اٹھ کھڑے ہوں گے۔ اس کے بعد روز قیامت کی تصویر ہے کہ اہل ایمان اس دن اپنی دلچسپیوں میں مگن ہوں گے اور کفار اپنے نتائج اعمال سے دو چار ہوں گے۔ اس دن کسی کو زبان سے کچھ بولنے کی اجازت نہیں ہوگی بلکہ ہر شخص کے ہاتھ پائوں خود اس کے خلاف گواہی دیں گے۔ پھر دھمکی دی ہے یہ لوگ اس ڈھٹائی کے ساتھ جو عذاب کا مطالبہ کر رہے ہیں تو یادر کھیں کہ یہ ہمارے لئے ذرا بھی مشکل نہیں…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

51۔ 1 پہلے قول کی بنا پر یہ نفخہ ثانیہ اور دوسرے قول کی بنا پر یہ نفخہ ثالثہ ہوگا، جسے نَفْخَۃُ الْبَعْثِ وَالنُّشُور کہتے ہیں، اس سے لوگ قبروں سے زندہ ہو کر اٹھ کھڑے ہونگے۔ (ابن کثیر)

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 42–64

18: کشتی جیسی دوسری سواری کی تشریح عام طور سے مفسرین نے اونٹوں سے کی ہے، کیونکہ اہل عرب اونٹوں کو صحرا کا جہاز کہا کرتے تھے۔ لیکن قرآن کریم کے الفاظ عام ہیں جس میں کشتی کے مشابہ ہر طرح کی سواریاں داخل ہیں، بلکہ عربی قواعد کی رو سے آیت کا ترجمہ اس طرح بھی کیا جاسکتا ہے کہ : ہم نے ان کے لیے اسی جیسی اور چیزیں بھی پیدا کی ہیں جن پر یہ (آئندہ) سواری کریں گے۔ اس صورت میں وہ تمام سواریاں اس عبارت میں داخل ہوجاتی ہیں جو قیامت تک پیدا ہوں گی، مثلاً آبدوزیں، اور ہوائی جہاز جو اس لحاظ سے کشتی کے مشابہ ہیں کہ کشتی پانی پر تیرتی ہے، اور ہوائی جہاز ہوا پر تیرتا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 49–53

ما ینظرون الا۔۔۔۔۔۔ جمیع لدینا محضرون (49 – 53) “۔ “۔ جھٹلانے والوں کا سوال یہ تھا۔ ویقولون متی ھذا۔۔۔۔۔ صدقین (36: 48) ” یہ قیامت کی دھمکی کب پوری ہوگی ؟ بتاؤ اگر تم سچے ہو “۔ لہٰذا ان کا جواب اس منظر کی شکل میں دیا گیا۔ ما ینظرون الا۔۔۔۔ الی اھلھم یرجعون (36: 49 – 50) ” دراصل یہ جس چیز کی راہ تک رہے ہیں وہ بس ایک دھماکہ ہے جو یکایک انہیں عین اس حالت میں دھرلے گا جب یہ جھگڑ رہے ہوں گے اور اس وقت یہ وصیت تک نہ کرسکیں گے اور نہ اپنے گھروں کو پلٹ سکیں گے “۔ قیامت اچانک لوگوں کو اپنی گرفت میں لے لے گی ، اس وقت وہ اپنے دنیاوی جھگڑوں یا مذہبی مباحثوں میں مصروف ہوں گے اور ان کو وقوع قیامت کی امید…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

6 یعنی دوسری مرتبہ صور پھونکا جائے گا تو سب زندہ ہو کر اپنی قبروں سے اٹھ کھڑے ہوں گے اور فرشتے ان کو جلد جلد دھکیل کر میدان حشر میں لے جائیں گے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 51 { وَنُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَاِذَا ہُمْ مِّنَ الْاَجْدَاثِ اِلٰی رَبِّہِمْ یَنْسِلُوْنَ } ”اور صور پھونکا جائے گا تو وہ یکایک قبروں سے نکل کر اپنے رب کی طرف دوڑ پڑیں گے۔“ وہ چار ونا چار ‘ کشاں کشاں اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہونے کے لیے بھاگے چلے جا رہے ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 50–51

48 قیامت آگئی تو پھر انہیں اتنی مہلت نہیں ملے گی کہ وہ کچھ وصیت ہی کرسکیں یا جو باہر ہیں وہ اپنے گھر واپس جاسکیں بلکہ جہاں کہیں بھی کوئی موجود ہوگا وہیں اس کا کام تمام کردیا جائے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 51–52

35۔ (چنانچہ یہ وقوع قیامت انھیں سچے وعدوں کا ظہور ہے) (آیت) ” ھذا ..... المرسلون “۔ یہ پورا ٹکڑا قیامت کے دن فرشتوں کی زبان سے ادا ہوگا۔ (آیت) ” نفخ فی الصور “۔ مراد صور کا نفخہ ثانی ہے۔ جب وہ از سر نو زندہ ہو کر اکٹھے ہوجائیں گے۔ (آیت) ” مرقدنا “۔ مرقد صورۃ واحد ہے، مراد جمع ہے۔ یراد بالمفرد الجمع اے مراقدنا (روح) برزخ کی درمیانی زندگی حشر برپا ہوجانے پر خواب کی زندگی معلوم ہوگی، اسی لئے اہل حشر اس کو مرقد سے تعبیر کریں گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 51–67

آیت نمبر 51 تا 67 ترجمہ : اور صور پھونکا جائے گا وہ (ایک) سینگ ہے، اور دوسرا صور زندہ کرنے کے لئے ہوگا اور دونوں نفخوں کے درمیان چالیس سال کا وقفہ ہوگا پھر جب وہ یعنی مردے قبروں سے نکل کر تیزی سے اپنے پروردگار کی طرف چلنے لگیں گے ان میں سے کافر کہیں گے، ہائے ہماری کمبختی یا تنبیہ کے لئے ہے ہائے ہماری ہلاکت، وَیْلٌ ایسا مصدر ہے کہ اس کا لفظی فعل نہیں آتا، کس نے ہم کو ہماری قبروں سے اٹھا یا ؟ اس لئے کہ وہ دونوں نفخوں کے درمیان سوئے ہوئے ہوں گے، ان کو عذاب نہ دیا جارہا ہوگا، یہ وہی (بعث) ہے جس کا رحمٰن نے وعدہ کیا تھا، اور رسول نے اس کے بارے میں سچ کہا تھا ایسے وقت اقرار کریں گے کہ ان کا اقرار…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ونفخ فی الصور فاذا ھم من الاجداث الی ربھم ینسلون . اور (دوبارہ) صور پھونکا جائے گا سو وہ سب یکدم قبروں سے نکل نکل کر اپنے رب کی طرف جلدی جلدی چلنے لگیں گے۔ چونکہ صور کا پھونکا جانا یقینی ہے ‘ اسلئے نُفِخَ ماضی کا صیغہ استعمال کیا۔ یعنی لوگ مرجائیں گے ‘ پھر دوبارہ صور پھونکا جائے گا۔ پہلی اور دوسری مرتبہ نفخۂ صور کے درمیان چالیس سال کا فصل ہوگا۔ ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس کی طرف اس قول کی نسبت کی ہے۔ صحیحین میں حضرت ابوہریرہ کی روایت سے بیان کیا گیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : دونوں نفخوں میں چالیس کی مدت ہوگی۔ حاضرین نے حضرت ابوہریرہ سے پوچھا : کیا چالیس دن کی ہوگی ؟ حضرت ابوہریرہ نے کہا…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اور پھر دوسری مرتبہ صور پھونکا جائے گا تو سب قبروں سے نکل نکل کر اپنے پروردگار کی طرف چلنے لگیں گے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَنُفِخَ فِي الصُّوْرِ فَاِذَا هُمْ مِّنَ الْاَجْدَاثِ : ”الْاَجْدَاثِ“ ”جَدَثٌ“ کی جمع ہے، جیسے ”فَرَسٌ“ کی جمع ”أَفْرَاسٌ“ ہے۔ ”يَنْسِلُوْنَ“ ”نَسَلَ“ (ن، ض) نَسْلاً ، نَسَلًا وَ نَسَلَانًا فِيْ مَشْیِہِ“ دوڑنا۔ یعنی صور میں دوسری دفعہ پھونکا جائے گا تو اچانک سب لوگ اپنی قبروں سے نکل کر اپنے رب کی طرف دوڑ رہے ہوں گے۔ (دیکھیے قمر : 6 تا 8۔ معارج : 43) صور میں کتنی دفعہ پھونکا جائے گا اور دو دفعہ پھوکنے کے درمیان کتنا عرصہ ہوگا، اس تفصیل کے لیے سورة نمل کی آیت (87) کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 51–54

و نفخ فی الصور یہ دوبارہ اٹھانے کے لئے دوسرا نفخہ ہے (1) ۔ سورة نمل میں ہم وضاحت کر آئے ہیں کہ نفحے دو ہیں تین نہیں ہیں ‘ یہ آیت اسی معنی پر دال ہے۔ مبارک بن فضالہ نے حضرت حسن بصری ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : دو نفخوں کے درمیان چالیس سال کا عرصہ ہوگا پہلے کے ساتھ اللہ تعالیٰ ہر زندہ چیز کو موت عطا فرمائے گا اور دوسرے کے ساتھ اللہ تعالیٰ ہر مرد چیز کو زندہ کرے گا “ (2) ۔ قتادہ نے کہا : صور ‘ صورۃ کی جمع ہے صورۃ اور صور اسی طرح ہیں جس طرح عمارت کی سورة ) دیوار ( اور سورة ہوا کرتی ہے۔ عجاج نے کہا : سرت الیہ فی اعالی السور میں اس کی طرف بلند دیواروں میں چلا۔ حضرت…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ونفخ فی الصور فاذا ھم من الاجداث “ (اور صور میں پھونکا جائے گا، وہ سب یکدم قبروں سے نکل کھڑے ہوں گے) سے مراد ہے دوسری مرتبہ صور پھونکا جائے گا۔ 2:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” فاذا ھم من الاجداث “ یعنی قبروں سے (آیت) ” الی ربھم ینسلون “ (اپنے رب کی طرف جلدی جلدی چلنے لگیں گے) یعنی وہ نکلیں گے۔ 3:۔ عبد بن حمید (رح) نے قتادہ ؓ سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ 4:۔ الطستی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ازرق نے ان سے پوچھا کہ اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” من الاجداث “ کے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَنُفِخَ فِي الصُّوْرِ [اور پھونکا جائے گا صور میں ] فَاِذَا هُمْ [تو جب ہی وہ لوگ ] مِّنَ الْاَجْدَاثِ [قبروں سے ] اِلٰى رَبِّهِمْ [اپنے رب کی طرف ] يَنْسِلُوْنَ [دوڑتے ہوں گے ] ج د ث ثلاثی مجرد سے فعل نہیں آتا۔ جدث ج اجداث۔ قبر ۔ زیر مطالعہ آیت۔ 51

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 49–51

نفخ صور کے وقت حیرانی اور پریشانی مزید فرمایا (وَنُفِخَ فِی الصُّورِ فَاِِذَا ھُمْ مِنَ الْاَجْدَاثِ اِِلٰی رَبِّہِمْ یَنْسِلُوْنَ ) (اور صور میں پھونکا جائے گا تو وہ اچانک قبروں سے نکل کر اپنے رب کی طرف (یعنی حساب کی جگہ کے لیے) جلدی جلدی چلنے لگیں گے۔ ) قبروں سے اٹھنے والے (جن کو اللہ تعالیٰ امن وامان نہ دے، گھبراہٹ سے محفوظ نہ فرمائے، وہ) کہیں گے (یٰوَیْلَنَا مَنْ بَعَثَنَا مِنْ مَّرْقَدِنَا) (ہائے ہماری کم بختی ہمیں لیٹنے کی جگہ سے کس نے اٹھا دیا) فرشتے جواب میں کہیں گے (ھٰذَا مَا وَعَدَ الرَّحْمٰنُ وَصَدَقَ الْمُرْسَلُوْنَ ) (یہ وہی قیامت کا دن ہے جس کا رحمن نے وعدہ فرمایا تھا اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 48–76

منکرین حشر ونشر کی تہدید اور وعید قال اللہ تعالیٰ ویقولون متی ھذا الوعد۔۔۔ الی۔۔۔ انا نعلم ما یسرون وما یعلنون۔ (ربط) گذشتہ آیات میں زیادہ تر دلائل توحید کا ذکر تھا اور اس سے ذرا پہلے وان کل لما جمیع لدینا محضرون میں مسئلہ حشر ونشر کا ذکر تھا اب پھر مسئلہ حشرونشر کی طرف رجوع فرماتے ہیں اور ان کا ایک سوال نقل فرماتے ہیں ویقولون متی ھذا الوعد ان کنتم صدقین : یعنی یہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ قیامت کا وعدہ کب پورا ہوگا اللہ تعالیٰ نے اس کے جواب میں اس کے وقت کے اظہار سے مصلحۃً اعراض فرمایا اور اجمالی طور پر صرف اتنا بتا دیا کہ قیامت نا گہاں آئے گی جب لوگ اپنے کاروبار میں مصروف ہوں گے ناگہاں صور پھونکا…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 49–51

33:۔ و نفخ فی الصور الخ :۔ یہ تخویف اخروی ہے۔ اجداث، جدث کی جمع ہے یعنی قبور ینسلون، یسرعون، دوڑ رہے ہوں گے۔ اس سے نفخہ ثانیہ مراد ہے جس سے تمام مردے جی اٹھیں گے اور میدان محشر کی طرف دوڑ پڑینگے۔ قالوا من بعثنا الخ، قیامت کا منظر ایسا ہولناک اور دہشت انگیز ہوگا کہ کفار قبروں کے عذاب کو بھول جائیں گے۔ اور سمجھیں کہ ہم ابتک سوئے رہے ہیں۔ اس لیے جب قبروں سے اٹھیں گے تو ایک دوسرے سے پوچھیں گے ہمیں نیند سے کس نے جگایا ہے۔ والقوم لاختلاط عقولہم ظنوا انہم کانو نیاما ولم یکن لہم ادراک لعذاب القبر لذلک فاستفہموا عن موقظہم (روح ج 23 ص 32) ۔ ھذا ما وعد الرحمن الخ، لیکن جب وہ دیکھیں گے کہ ہر طرف ٹڈی دل…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 51–59

ربط آیات اپنی آیات قدرت بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے کفار و مشرکین کی مذمت بیان فرمائی اور یہ بھی کہ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ آگے پیش آنے والے حالات کے لیے کچھ تیاری کرلو ، اور جو اعمال پیچھے چھوڑ آئے ہو ان کے متعلق بھی غور و فکر کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے تو یہ لوگ نشانات قدرت دیکھ کر بھی ایمان نہیں لاتے بلکہ الٹا اعتراض کرنے لگتے ہیں۔ پھر اللہ نے ان میں سے مالداروں کی حالت کا ذکر بھی کیا کہ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ کی عطا کردہ روزی میں سے غرباء اور مساکین پر بھی خرچ کرو تو کہتے ہیں کہ جن کو خود خدا تعالیٰ بھوکا رکھنا چاہتا ہے یعنی ان کو نادار بنایا ہے ، بھلا ہم ان کی اعانت کریں۔ اللہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَنُفِخَ فِي الصُّوْرِ فَاِذَا ہُمْ مِّنَ الْاَجْدَاثِ اِلٰى رَبِّہِمْ يَنْسِلُوْنَ۝ 51 نفخ النَّفْخُ : نَفْخُ الرِّيحِ في الشیءِّ. قال تعالی: يَوْمَ يُنْفَخُ فِي الصُّورِ [ طه/ 102] ، وَنُفِخَ فِي الصُّورِ [ الكهف/ 99] ، ثُمَّ نُفِخَ فِيهِ أُخْرى[ الزمر/ 68] ، وذلک نحو قوله : فَإِذا نُقِرَ فِي النَّاقُورِ [ المدثر/ 8] ومنه نَفْخُ الرُّوح في النَّشْأَة الأُولی، قال : وَنَفَخْتُ فِيهِ مِنْ رُوحِي [ الحجر/ 29] ( نخ ) النفخ کے معنی کسی چیز میں پھونکنے کے ہیں جیسے فرمایا : ۔ يَوْمَ يُنْفَخُ فِي الصُّورِ [ طه/ 102] ، اور جس دن صور پھونکا جائیگا ۔ وَنُفِخَ فِي الصُّورِ [ الكهف/ 99] اور جس وقت ) صؤر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

ترکیب : ھذا مبتداء وعد الرحمن خبرہ و ما مصدریۃ او موصولہ محذوفۃ العائد و یمکن ان یکون ہذا صفۃ لمرقدنا وما وعد خبر مبتداء محذوف او یکون مبتداء و خبرہ حق محذوف ہم مبتداء و ازواجہم معطوف علی ہم للمشارکۃ فی النعماء فی ظلال حال من المعطوف علیہ متکئون خبر علی الارائک صلۃ لہ مایدعون من باب الافتعال من الدعاء وما موصولۃ او موصوفۃ با لابتداء ولہم خبر ھا سلام بدل منھا اور صفۃ اُخریٰ قولا منصوب علی انہ مصدر لفعل محذوف اے قال لھم اللہ ذلک قولا۔ کس لطف کے ساتھ مبدء کے بعد مسئلہ معاد کا ذکر کیا ہے۔ ونفخ فی الصور یہاں سے نفخہ ثانیہ کا ذکر ہے کہ دنیا کے فنا ہونے کے بعد پھر اسرافیل ( علیہ السلام) صور پھونکیں…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَنُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَاِذَا ھُمْ مِّنَ الْاَجْدَاثِ اِلٰی رَبِّھِمْ یَنْسِلُوْنَ ۔ (یٰسٓ: 51) (اور صور پھونکا جائے گا تو وہ اچانک قبروں سے نکل کر اپنے رب کی طرف چل پڑیں گے۔ ) نفخہ ثانیہ کے بعد کی کیفیت پیشِ نظر آیت کریمہ میں آخری نفخہکا ذکر معلوم ہوتا ہے۔ اس سے پہلے ہر چیز تباہ و برباد ہوچکی ہوگی، ہر طرف زندگی کے آثار ختم ہو کر موت کا سناٹا ہوگا۔ پھر اچانک صور پھونکا جائے گا اور جہاں کہیں کوئی شخص دفن ہوا تھا یا موت کا شکار ہوا تھا اسے وہیں سے اٹھایا جائے گا اور وہ اٹھتے ہی میدانِ حشر میں اپنے رب کے سامنے حاضری کے لیے بےساختہ چل پڑے گا۔

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 49–51

فہم القرآن ربط کلام : قیامت کے دن لوگ اپنی قبروں سے نکل کر محشر کے میدان کی طرف دوڑیں گے۔ دوسرے نفخہ کے بعد لوگ قبروں سے نکل کر محشر کے میدان کی طرف اس طرح جائیں گے جیسے شکاری شکار کی طرف دوڑتا ہے۔ اللہ کے باغی قبروں سے نکلتے ہی واویلا کریں گے۔ ہائے افسوس ! ہمیں کس نے قبروں سے نکال باہر کیا ہے۔ قیامت کی ہولناکیوں اور محشر کے میدان میں اکٹھے کیے جانے کا حال دیکھ کر انہیں یقین ہوجائے گا کہ یہی قیامت کا دن ہے جس کا ہمارے ساتھ ربِّ رحمن نے وعدہ کیا تھا اور جس کی پیغمبریاد دہانی کروایا کرتے تھے۔ جس قیامت کے بارے میں یہ لوگ جھگڑتے اور کہتے ہیں کہ یہ کبھی نہیں آئے گی وہ تو اسرافیل کی ایک پھونک کا…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

51: وَنُفِخَ فِی الصُّوْرِ (اور صور میں پھونک ماردی جائے گی) یہ نفخہ ثانیہ ہے۔ الصور۔ قرن کو کہتے ہیں۔ یا نمبر 2۔ جمع صورۃ ہے۔ فَاِذَا ھُمْ مِّنَ الْاَجْدَاثِ اِلٰی رَبِّھِمْ یَنْسِلُوْنَ (پس وہ یکایک قبروں سے اپنے رب کی طرف جلدی جلدی چلنے لگیں گے) ۔ اجداث جمع جدث وقبر کو کہتے ہیں۔ یَنْسِلُوْن۔ (تیزی سے دوڑیں گے۔ ) قراءت : ینسِلُوْن۔ سین کے کسرہ اور ضمہ دونوں کے ساتھ پڑھا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

51، ونفخ فی الصور، اس سے مراد نفخہ ثانیہ ہے۔ نفخہ اولی اور نفخہ ثانیہ کے درمیان چالیس سال کا عرصہ ہوگا۔ ، فاذاھم من الاجداث، اس سے مراد قبروں سے اٹھنا ہے۔ اجداث جمع ہے جدث کی۔ ، الی ربھم ینسلون، ان کو قبروں سے زندہ کرکے اٹھایا جائے گا ۔ اسی وجہ سے لڑکے کے لیے کہاجاتا ہے کہ وہ ماں کے پیٹ سے پیدا ہوتی ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 48–53

48 تا 52۔ جس طرح کوئی کسی چیز کا منتظر ہوتا ہے اس طرح کافر لوگ قیامت کا حال سن کر مسخرا پن اور تعجب سے یہ بات مسلمانوں سے بات مسلمانوں سے کہتے تھے کہ جو کچھ تم قیامت کا حال کہتے ہو کہ مر کر پھر جینا ہوگا اور وہاں آخرت میں ہم پر عذاب ہوگا اور تم بڑے عیش و آرام میں ہوجاؤگے اگر یہ تمہارا بیان سچ ہے تو آخر اس کا ظہور کب ہوگا اور قیامت کی ابتدا پہلے صور سے ہوگی جس کو نفخۃ الفزع کہتے ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کافروں کے جواب میں فرمایا کہ جب یہ لوگ ایک منتظر آدمی کی طرح قیامت کے انتظار میں ہیں تو ان کو ایک سخت آواز کا انتظار کرنا چاہئے کہ لوگ اپنے دنیا کے کاروبار میں معمول کے موافق اسی طرح مصروف…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 41–51

آیت 41 نیز یہ امر کی دلل ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی اکیلا معبود برحق ہے کیونکہ وہی اکیلا نعمتیں عطا کرتا ہے اور مصائب و شدائد کو دور کرتا ہے اور اس کی جملہ نعمتوں میں ایک نعمت یہ ہے کہ (انا حملنا ذریتھم) ” ہم نے ان کی اولاد کو سوار کیا۔ “ بہت سے مفسرین کی رائے ہے کہ اس سے مراد ان کے آباء و اجداد ہیں (وخلقنا لھم) ” اور ہم نے ان کے لئے پیدا کیں۔ “ یعنی موجود اور آنے والے لوگوں کے لئے (من مثلہ) ” ویسی ہی “ اس کشتی جیسی یعنی اس کی جنس میں سے (مایرکبون) ” جس پر یہ سواری کرتے ہیں۔ “ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے آباؤ اجداد پر اپنی نعمت کا ذکر فرمایا کہ اس نے ان کو کشتی میں سوار کرایا۔ ان پر نعمت کا فیضان…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 42–67

قول باری ہے (وخلقنا لھم من مثلہ ما یرکبون اور ہم نے ان کے لئے اسی کشتی جیسی چیزیں اور بھی پیدا کی ہیں جس پر یہ سوار ہوتے ہیں) حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے ” یعنی حضرت نوح (علیہ السلام) کی کشتی کے بعد دوسری کشتیاں “۔ حضرت ابن عباس ؓ سے ایک اور روایت بھی ہے اور مجاہد سے بھی کہ اونٹ خشکی کے جہاز ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

54 قیامت کی تذکیر و یاددہانی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جب صور میں پھونک مار دی جائے گی تو سب لوگ اپنی اپنی قبروں سے نکل نکل کر اپنے رب کی طرف دوڑے چلے جا رہے ہوں گے "۔ " یَنْسِلُوْن "، " نَسْلان " سے ماخوذ ہے۔ جس کے معنیٰ دوڑنے اور تیز چلنے کے ہیں۔ (ابن جریر، ابن کثیر، جامع، صفوۃ، مراغی وغیرہ) ۔ سو اس روز ایک جھڑکی ملتے ہی یہ منکرین و مکذبین بغیر کسی ٹال مٹول اور حیل و حجت کے اپنے خالق ومالک کے حضور حاضری کے لئے دوڑ پڑیں گے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { یَوْمَ یَخْرُجُوْنَ مِنَ الاَجْدَاثِ سِرَاعًا کَاَنَّہُمْ اِلٰی نُصُبٍ یُّوْفِضُوْنَ } ۔ (المعارج : 43) اور ان کی وہ تمام…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 48–74

حشر کا میدان اور نیک و بد کا انجام تشریح : یہاں کفار مکہ کا اور آج کل کے ملحد وغیرہ لوگوں کا ذکر ہے کہ وہ قیامت کو ناقابل یقین سمجھتے ہوئے کہتے ہیں کہ کب آئے گی قیامت ؟ قیامت جب آئے گی تو اتنی اچانک اور شدید ہوگی کہ کسی کو سمجھ میں ہی نہ آئے گا کہ کیا ہوگیا ہے۔ قیامت سے پہلے چھوٹی قیامت یں اور ہلکے پھلے عذاب تو انسانوں کی نافرمانی کی وجہ سے آتے رہتے ہیں جن کا مقصد انسانوں کو جھنجھوڑنا ہوتا ہے۔ کہیں طوفان بادو باراں، کہیں زلزلہ اور کہیں کسی دوسری شکل میں آفات ارضی و سماوی۔ اسی طرح بڑی اور فیصلہ کن قیامت پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی مگر یہ بھی صرف اس دنیا کی قیامت ہوگی پوری کائنات قائم و…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 51–67

رکوع نمبر 4 ۔ آیات 51 تا 67: اسرار و معارف : چنانچہ جب دوبارہ صور پھونکا جائے گا تو اپنی اپنی قبروں سے اٹھ کر اللہ کے حضور چل پڑیں گے یعنی وہ ایسا قادر ہے کہ ایک چنگھاڑ سے ہر شے تباہ کردے گا تو پھر ایک چنگھاڑ یا سخت آواز ہی سب مردہ جسموں کے ذرات کو یکجا کرکے زندہ بھی کردے گی اور ہر فرد چاہے یا نہ چاہے مگر رواں اللہ کی بارگاہ کی طرف ہی ہوگا جہاں سب کی پیشی ہوگی تب پریشان حال یہ کہہ رہے ہوں گے کہ ہمیں کس نے اٹھا دیا اگرچہ برزخ میں بھی کفار عذاب میں ہوں گے۔ مگر میدان حشر کی ہیبت کے سامنے کہیں گے یہاں سے وہاں ہی ٹھیک تھے یہ کس نے ہمیں ان ٹھکانوں سے نکال کھڑا کیا ہے تو جواب آئے گا فرشتے یا مومنین…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 5 ابن کثیر میں ہے کہ اس سے مراد نفخہ ثالثہ یعنی نفخہ بعث ہے۔ ایک حدیث میں ہے کہ دونوں صو وں کے درمیان چالیس برس کا فاصلہ ہوگا۔ ( وحیدی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(36:51) ونفخ فی الصور۔ ھی نفخۃ ثانیۃ اس سے مراد صور کا دوسری دفعہ پھونکا جانا ہے جب سب دوبارہ زندہ کر کے اٹھائے جائیں گے ۔ نفخ (ماضی مجہول واحد مذکر غائب) ماضی کا صیغہ اس لئے استعمال کیا گیا ہے کہ صور کا پھونکا جانا ایک یقینی امر ہے گویا کہ پھونکا ہی گیا ہے نفخہ اول اور نفخہ ثانی میں چالیس سال کا فاصلہ ہوگا۔ اس کے متعلق مختلف اقوال ہیں :۔ فاذا۔ فا تعقیب کا ہے اذا مفاجاتیہ ہے۔ تو یکا یک، سو فورا۔ الاجداث قبریں۔ جدث واحد۔ ینسلون۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ نسل ینسل نسلا (باب ضرب) النسل کے معنی کسی چیز سے الگ ہوجانے کے ہیں جیسے نسل الوبر عن البعیر اون اونٹ سے الگ ہوگئی۔ النسل اولاد کو بھی کہتے ہیں…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 45–54

لغات القرآن : آیت نمبر 45 تا 54 :۔ بین ایدی ( سامنے) خلف ( پیچھے) انطعم (کیا ہم کھلائیں) صحیۃ (چنگھاڑ، زور دار آواز) یخصمون ( وہ جھگڑ رہے ہوں گے) الاجداث (قبریں) ینسلون ( وہ دوڑیں گے) لاتجزون ( بدلہ نہ دیئے جائیں گے) ۔ تشریح آیت نمبر 45 تا 54 :۔ نبی کریم ﷺ جب کفار و مشرکین سے کہتے کہ میں جن آیات اور کلام الٰہی کو لے کر آیا ہوں اس پر ایمان لائو۔ اللہ کا خوف اختیار کرو تا کہ تم پر دنیا میں اور آخرت میں رحم و کرم ناز ل کیا جائے اور اپنے سے غریب ، مفلس اور ضرورت مندوں پر اپنا مال خرچ کرو ۔ تو وہ اللہ کی آیات اور نبی کریم ﷺ کی باتوں کا مذاق اڑاتے اور جاہلانہ اعتراضات کر کے اپنے آپ کو مطمئن ظاہر کر…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 48–53

قیامت کس حالت میں قائم ہوگی۔ (ف 1) مشرکین مکہ کو جب پہلی قوموں کے حال سے ڈرنے کو کہاجاتا ہے اور ان کی گمراہی کے آئندہ کے نتیجہ کی انہیں یاد دلائی جاتی ہے تو بجائے راہ راست پر آنے کے یہ لوگ قرآن کی ان نصیحتوں کو ٹال دیتے تھے اسی طرح جب ان لوگوں سے یہ کہا جاتا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے تم کو خوشحال جو کیا ہے اس کے شکریہ میں غریب محتاج لوگوں کے ساتھ کچھ سلوک کیا کرو، تو اس کے جواب میں یہ لوگ کہتے تھے کہ کیا ان لوگوں کو کھانا کھلاویں اور کچھ خیرات دین جس کے اعتقاد میں یہ ہے کہ اللہ ہی ان کو رزق دے سکتا ہے تم لوگ جاباوجود اس بات کے کہ خدا کو رازق سمجھے ہوئے ہو اور پھر ہم سے کہتے کہ غریب اور محتاج…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 50–59

[20] یعنی قیامت ناگہاں آن پڑے گی اور لوگ اپنے معاملات میں غرق ہوں گے۔ جس وقت پہلے صور کی چنگھاڑ بلند ہوگی تمام انسان مر کر ڈھیر ہوجائیں گے۔ ان کو اتنی بھی فرصت نہ ملے گی کہ مرنے سے پہلے کسی کو کچھ کہنا چاہیں تو کہہ گزریں، یا جو گھر سے باہر تھے وہ گھر واپس جاسکیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 51–58

نرسنگا پھونکا جائے گا 1: نفحہ ثانثہ مردہ قالبوں میں زندگی پیدا کردے گا ۔ اور قرنوں سے تیل نکل کر خدا کے حضور میں پہنچنے لگیں گے ۔ اور قبروں سے تیل نکل کر خدا کے حضور میں پہنچنے لگیں گے ۔ اس وقت یہ لوگ حیرت وتعجب سے کہیں گے ، کہ ہم کو ان خواب گاہوں سے کس نے اٹھا دیا ۔ ارشاد ہوگا ۔ کہ یہ وہی قیامت ہے ۔ جس کا ہم سب سے رحمن نے وعدہ کیا تھا ۔ اور پیغمبر سچ کہتے تھے ۔ ہوسکتا ہے کہ صور کی آواز بذاتہ موت اور زندگی پیدا کرنے میں موثر ہو ۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے ۔ کہ یہ آواز محض ایک نوع کا اعلان ہو ۔ اور موخر دوسرے اسباب ہوں ۔ بہرحال جہاں تک قرآن حکیم کا تعلق ہے ۔ اس میں اس حقیقت شرعیہ کو تفصیل کے ساتھ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(51) اور صور میں پھونکا جائے گا سو وہ سب دفعتًہ قبروں سے نکل کر اپنے پروردگار کی طرف چل پڑیں گے۔ یعنی پہلی مرتبہ صور وقوع قیامت کے لئے پھونکا جائے گا اور اس کے چالیس برس کے بعد یہ دوسری مرتبہ صور پھونکا جائے گا تو سب لوگ زندہ ہو کر اپنی اپنی قبروں سے نکل کر جلدی جلدی اپنے پروردگار کی طرف چلیں گے جو شخص جہاں ہوگا اور جس کے ذرات جہاں ہوں گے وہی اس کی قبر ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

دوسرا صور پھونکا جائے گا تو ہر انسان رب کریم کے سامنے حاضر کرلیا جائے گا : 51۔ دنیا کو تباہ وبرباد کرنے کے لئے جو آواز پیدا ہوگی جس کو صیحہ سے موسوم کیا گیا ہے بعض جگہ یہ آواز قرنا وصور ہی کی مذکور ہے اگرچہ یہ ساری باتیں تفہیم انسانی ہی کے لیے ہیں جن کی حقیقت اللہ رب کریم ہی جانتا ہے کہ اصل میں کیا ہوگی بحث تو ماحصل سے ہے اور ماحصل یہ ہے کہ ساری کائنات کا نظام بدل جائے گا ‘ نہ زمین یہ زمین ہوگی اور نہ آسمان یہ آسمان رہیں گے اور اسی طرح اجرام فلکی وسماوی کی حیثیت بھی بدل دی جائے گی اور سب کا سب ٹوٹ پھوٹ کر رہ جائے گا انسان وحیوان ‘ نباتات و جمادات بلکہ ہر ایک چیز کو ہلاک وفنا کردیا جائے گا ۔…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

After that, it was said: وَنُفِخَ فِي الصُّورِ‌ فَإِذَا هُم مِّنَ الْأَجْدَاثِ إِلَىٰ رَ‌بِّهِمْ يَنسِلُونَ (And the Horn will be blown, and suddenly they will be rushing from their graves towards their Lord. (36:51). Here, the word: أَجْدَاثِ (ajdath) is the plural form of: جَدَث (jadath) which means a grave. And: يَنسِلُونَ (yansilun) is a derivation from: نَسلان (nasalan) which means to walk swiftly as it appears in another verse: يَخْرُ‌جُونَ مِنَ الْأَجْدَاثِ سِرَ‌اعًا (they will come out of their graves in haste - Al-Ma۔ arij, 70:43). As for what is said in another verse: فَإِذَا هُمْ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

47 For the explanation of the blowing of the "Trumpet" , see E. N . 78 of Surah Ta Ha. As for the length of the interval between the first blowing of the Trumpet and its second blowing, we have no information. The interval maybe of hundreds and thousands of years. Hadrat Abu Hurairah has related that the Holy Prophet said: "Israfil has put the Trumpet to his mouth and is looking up to the Divine Throne, awaiting orders for blowing it. The Trumpet will be blown thrice: On the first blowing (called nafakhat al-faza) everything in the earth and heavens will be struck with terror. On the second…

Read the full tafseer →