Explained with ayahs 48–50
قیامت کے بعد کوئی مہلت نہ ملے گی۔
کافر چونکہ قیامت کے آنے کے قائل نہ تھے اس لئے وہ نبیوں سے اور مسلمانوں سے کہا کرتے تھے کہ پھر قیامت کو لاتے کیوں نہیں ؟ اچھا یہ تو بتاؤ کہ کب آئے گی ؟ اللہ تعالیٰ انہیں جواب دیتا ہے۔ کہ اس کے آنے کے لئے ہمیں کچھ سامان نہیں کرنے پڑیں گے، صرف ایک مرتبہ صور پھونک دیا جائے گا۔ دنیا کے لوگ روزمرہ کی طرح اپنے اپنے کام کاج میں مشغول ہوں گے جب اللہ تعالیٰ حضرت اسرافیل کو صور پھونکنے کا حکم دے گا وہیں لوگ ادھر ادھر گرنے شروع ہوجائیں گے اس آسمانی تیز و تند آواز سے سب کے سب محشر میں اللہ کے سامنے جمع کردیئے جائیں گے اس چیخ کے بعد کسی کو اتنی بھی مہلت نہیں ملنی کہ کسی سے…
Read the full tafseer →سورة یٰسٓ 46
یعنی ایسا نہیں ہوگا کہ قیامت آہستہ آہستہ آ رہی ہے اور لوگ دیکھ رہے ہیں کہ وہ آ رہی ہے۔ بلکہ وہ اس طرح آئے گی کہ لوگ پورے اطمینان کے ساتھ اپنی دنیا کے کاروبار چلا رہے ہیں اور ان کے حاشیہ خیال میں بھی یہ تصور موجود نہیں ہے کہ دنیا کے خاتمہ کی گھڑی آپہنچی ہے۔ اس حالت میں اچانک ایک زور کا کڑاکا ہوگا اور جو جہاں تھا وہیں دھرا کا دھرا رہ جائے گا۔ حدیث میں حضرت عبداللہ بن عمرو اور حضرت ابوہریرہ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ لوگ راستوں پر چل رہے ہوں گے، بازاروں میں خریدو فروخت کر رہے ہوں گے، اپنی مجلسوں میں بیٹھے گفتگوئیں کر رہے ہوں گے۔ ایسے میں یکایک صور پھونکا جائے گا۔ کوئی کپڑا خرید رہا…
Read the full tafseer →(آیت) فلا یستطیعون توصیة ولا الیٰ اھلہم یرجعون، یعنی اس وقت جو لوگ مجتمع ہوں گے وہ آپس میں کسی کو کسی کام کی وصیت کرنے کی مہلت نہیں پائیں گے اور جو گھروں سے باہر ہوں گے وہ اپنے گھروں میں واپس آنے کی بھی مہلت نہیں پائیں گے، اسی جگہ مرے کے مرے رہ جائیں گے۔ یہ بیان قیامت کے نفخہ اولیٰ کا ہے، جس سے سارا عالم زمین و آسمان تباہ ہوجائیں گے۔
اس کے بعد فرمایا
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–50
آیت 48۔ 50
یعنی اللہ کی جو آیتیں ان کو سنائی جاتی ہیں ان پر تو وہ کوئی دھیان نہیں کرتے، بس یہ مطالبہ ان کی طرف سے پیہم ہے کہ جس عذاب سے ان کو ڈرایا جا رہا ہے وہ ان کو دکھا دیا جائے۔ اس کے بغیر وہ اس کی خبر دینے والوں کو سچا ماننے کے لئے تیار نہیں ہیں۔
’ ما ینظرون الا صیحۃ واحدۃ الایۃ ‘۔ لفط ’ صیحۃ ‘ آیت 29 میں گزر چکا ہے۔ فرمایا کہ اس طنطنہ کے ساتھ وہ اس عذاب کے جو مطالبہ کر رہے ہیں تو کس برتے پر کر ہے ہیں ! خدا کو اس کے لئے کوئی سروسامان نہیں کرنا ہے۔ اس کی تو بس ایک ڈانٹ ہی ان کے لئے کافی ہوگی۔ وہ ان بحثوں ہی میں پرے ہوں گے کہ وہ ان کو دبوچ لے گی۔ مطلب یہ ہے کہ اگر وہ نہیں آرہا ہے تو اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–50
49۔ 1 یعنی لوگ بازاروں میں خریدو فروخت اور حسب عادت بحث و تکرار میں مصروف ہونگے کہ اچانک صور پھونک دیا جائے گا اور قیامت برپا ہوجائے گی یہ نفخہ اولیٰ ہوگا جسے نفخہ فزع بھی کہتے ہیں کہا جاتا ہے کہ اس کے بعد دوسرا نفخہ ہوگا۔ نَفْخَۃُ الْصَّعْقِ جس سے اللہ تعالیٰ کے سوا سب موت کی آغوش میں چلے جائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–64
18: کشتی جیسی دوسری سواری کی تشریح عام طور سے مفسرین نے اونٹوں سے کی ہے، کیونکہ اہل عرب اونٹوں کو صحرا کا جہاز کہا کرتے تھے۔ لیکن قرآن کریم کے الفاظ عام ہیں جس میں کشتی کے مشابہ ہر طرح کی سواریاں داخل ہیں، بلکہ عربی قواعد کی رو سے آیت کا ترجمہ اس طرح بھی کیا جاسکتا ہے کہ : ہم نے ان کے لیے اسی جیسی اور چیزیں بھی پیدا کی ہیں جن پر یہ (آئندہ) سواری کریں گے۔ اس صورت میں وہ تمام سواریاں اس عبارت میں داخل ہوجاتی ہیں جو قیامت تک پیدا ہوں گی، مثلاً آبدوزیں، اور ہوائی جہاز جو اس لحاظ سے کشتی کے مشابہ ہیں کہ کشتی پانی پر تیرتی ہے، اور ہوائی جہاز ہوا پر تیرتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–53
ما ینظرون الا۔۔۔۔۔۔ جمیع لدینا محضرون (49 – 53) “۔ “۔ جھٹلانے والوں کا سوال یہ تھا۔
ویقولون متی ھذا۔۔۔۔۔ صدقین (36: 48) ” یہ قیامت کی دھمکی کب پوری ہوگی ؟ بتاؤ اگر تم سچے ہو “۔ لہٰذا ان کا جواب اس منظر کی شکل میں دیا گیا۔
ما ینظرون الا۔۔۔۔ الی اھلھم یرجعون (36: 49 – 50) ” دراصل یہ جس چیز کی راہ تک رہے ہیں وہ بس ایک دھماکہ ہے جو یکایک انہیں عین اس حالت میں دھرلے گا جب یہ جھگڑ رہے ہوں گے اور اس وقت یہ وصیت تک نہ کرسکیں گے اور نہ اپنے گھروں کو پلٹ سکیں گے “۔ قیامت اچانک لوگوں کو اپنی گرفت میں لے لے گی ، اس وقت وہ اپنے دنیاوی جھگڑوں یا مذہبی مباحثوں میں مصروف ہوں گے اور ان کو وقوع قیامت کی امید…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–50
5 یعنی قیامت ناگہاں آپکڑے گی اور وہ اپنے معاملات میں غرق ہوں گے۔ جس وقت پہلا صور پھونکا جائے گا سب ہوش و حواس جاتے رہیں گے اور آخر مر کر ڈھیر ہوجائیں گے۔ اتنی فرصت بھی نہ ملے گی کہ فرض کرو مرنے سے پہلے کسی کو کچھ کہنا چاہیں تو کہہ گزریں یا جو گھر سے باہر تھے وہ گھر واپس جاسکیں۔
Read the full tafseer →آیت 50 { فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ تَوْصِیَۃً وَّلَآ اِلٰٓی اَہْلِہِمْ یَرْجِعُوْنَ } ”پھر نہ تو وہ کوئی وصیت ہی کرسکیں گے اور نہ ہی اپنے گھر والوں کی طرف لوٹ کر جاسکیں گے۔“
وہ معاملہ اس قدر اچانک ہوگا کہ جو کوئی جس حالت میں ہوگا اسی حالت میں اس کا شکار ہوجائے گا۔ قبل ازیں اسی سورت میں اس منظر اور کیفیت کا ایک نقشہ ان الفاظ میں کھینچا گیا ہے : { اِنْ کَانَتْ اِلاَّ صَیْحَۃً وَّاحِدَۃً فَاِذَا ہُمْ خٰمِدُوْنَ } ”وہ تو بس ایک زور دار چنگھاڑ تھی ‘ تو جبھی وہ سب بجھ کر رہ گئے۔“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–51
48 قیامت آگئی تو پھر انہیں اتنی مہلت نہیں ملے گی کہ وہ کچھ وصیت ہی کرسکیں یا جو باہر ہیں وہ اپنے گھر واپس جاسکیں بلکہ جہاں کہیں بھی کوئی موجود ہوگا وہیں اس کا کام تمام کردیا جائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–50
34۔ قیامت کے فوری وناگہانی وقوع اور اس کی ہولناکیوں کا بیان ہے۔ (آیت) ” ھذا الوعد “۔ یعنی وعدۂ قیامت۔ (آیت) ” متی .... صدقین “۔ سوال محض طنز وتعریض سے تھا۔ (آیت) ” صیحۃ واحدۃ “۔ مراد صورکا نفخہ اول ہیجب سب کے سب ہلاک ہوجائیں گے۔ (آیت) ” صحیۃ “۔ صیغہ نکرہ کی تنوین اظہار عظمت و جلالت کیلئے ہے۔ (آیت) ” توصیۃ “۔ یعنی کسی قسم کی بھی وصیت۔ وصیت کا اشارہ تک۔ التنکیر فی التوصیۃ للتعمیم اے لایقدر علی توصیۃ ما (کشاف)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–50
آیت نمبر 33 تا 50
ترجمہ : اور ایک نشانی ان کے لئے مرنے کے بعد زندہ ہونے پر مردہ زمین ہے اٰیۃٌ لھُمْ خبر مقدم ہے اَلْمیتۃُ تخفیف اور تشدید کے
ساتھ ہے کہ ہم نے اس کو پانی کے ذریعہ زندہ کیا والارض الخ مبتداء مؤخر ہے، اور ہم نے اس زمین سے غلہ مثلاً گندم پیدا کیا سو اس سے یہ لوگ کھاتے ہیں اور (نیز) ہم نے زمین میں کھجوروں اور اناروں کے باغات پیدا کئے اور اس میں کچھ چشمے جاری کئے تاکہ لوگ اس کے پھل کھائیں، ثمَرہ میں یعنی (ث، م) دونوں میں فتحہ اور ضمہ ہے، یعنی تاکہ مذکورہ کھجور وغیرہ کے پھلوں میں سے کھائیں اور ان پھلوں کو ان کے ہاتھوں نے نہیں بنایا تو پھر یہ لوگ اپنے اوپر خدا تعالیٰ کے انعامات کا شکر…
Read the full tafseer →فلا یستطیعون توصیۃ ولا الی اھلھم یرجعون . پھر وہ کوئی وصیت بھی نہ کرسکیں اور نہ اپنے گھروں کے
پاس لوٹ پائیں گے۔
عبدا اللہ بن احمد نے زوائد الزہد میں حضرت زبیر بن عوام کی روایت سے بیان کیا ہے کہ قیامت ایسی حالت میں برپا ہوجائے گی کہ (کوئی) آدمی کپڑا ناپ رہا ہوگا اور (کوئی) آدمی اونٹنی کو دوہ رہا ہوگا ‘ پھر آپ نے یہ آیت پڑھی : فَلاَ یَسْتَطِیْعُوْنَ تَوْصِیَۃً وَّلَآ اِلآی اَھْلِھِمْ یَرْجِعُوْنَ ۔
بعض لوگ اپنے کسی معاملہ میں وصیت بھی نہ کرسکیں گے اور گھر بھی لوٹ نہ پائیں گے کہ گھر والوں کی حالت دیکھ سکیں ‘ بلکہ صور کی آواز سنتے ہی مرجائیں گے۔
Read the full tafseer →سو اس وقت نہ تو ان کو وصیت اور کلام کی فرصت ملے گی اور نہ بازار سے واپسی کی یا یہ کہ نہ اپنے گھروں تک لوٹ آنے کی بلکہ اسی حال میں مرے کے مرے رہ جائیں گے۔
Read the full tafseer →فَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ تَوْصِيَةً : ”تَوْصِيَةً“ ”وَصّٰی یُوَصِّيْ“ (تفعیل) کا مصدر ہے، وصیت کرنا۔ یعنی اس چیخ کے بعد انھیں اتنی مہلت نہیں ملے گی کہ وہ کچھ وصیت کرسکیں، یا جو باہر ہیں وہ اپنے گھر واپس جاسکیں، بلکہ جو کوئی جہاں موجود ہوگا وہیں دھر لیا جائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–50
قتادہ نے کہا : ما بین ایدیکم سے مراد تم سے قبل کی امتوں کے واقعات ہیں (1) اور وما خلفکم سے مرادآخرت ہے۔ حضرت ابن عباس ‘ ابن جبیر اور ماجد نے کہا : ما بین ایدیکم سے مراد سابقہ گناہ ہیں (2) اور وما خلفکم سے مراد آنے والے گناہ ہیں حضرت حسن بصری نے کہا : ما بین ایدیکم سے مراد جو تمہاری عمر گزر چکی ہے (3) اور وما خلفکم سے مراد جو باقی ماندہ ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ما بین ایدیکم سے مراد دنیا ہے اور وما خلفکم سے مراد عذاب آخرت ہے ‘ یہ سفیان کا قول ہے۔ ثعلبی نے حضرت ابن عباس ؓ سے اس کے برعکس قول نقل کیا ہے کہ ما بین ایدیکم سے مراد امر آخرت اور اس کے لئے اعمال ہیں اور وما خلفکم سے مراد دنیاوی امور…
Read the full tafseer →قیامت اچانک ہی قائم ہوگی :
5:۔ عبدالرزاق (رح) والفریابی وعبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) وابن مردویہ نے ابوہریرہ ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ قیامت اس حال میں قائم ہوگی کہ لوگ اپنے بازاروں میں خریدو فروخت کررہے ہوں گے۔ اور کپڑوں کو ناپ رہے ہوں گے اور اونٹنیوں کو دوہ رہے ہوں گے، اور اپنے کام کاج میں لگے ہوئے ہوں گے (پھر فرمایا) (آیت) ” فلایستطیعون توصیۃ ولا الی اھلھم یرجعون “ (50)
6:۔ عبد بن حمید (رح) و عبداللہ اور احمد نے زوائد الزھد میں اور ابن المنذر (رح) نے زبیر بن عوام (رح) سے روایت کیا کہ قیامت (اس حال میں) قائم ہوگی کہ آدمی کپڑے کو ناپ رہا ہوگا اور آدمی اونٹنی کو دوہ رہا ہوگا۔…
Read the full tafseer →فَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ [تو انھیں استطاعت نہ ہوگی ] تَوْصِيَةً [کوئی وصیت کرنے کی ] وَّلَآ اِلٰٓى اَهْلِهِمْ [اور نہ اپنے گھر والوں کی طرف ] يَرْجِعُوْنَ [وہ لوٹیں گے ] ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–51
نفخ صور کے وقت حیرانی اور پریشانی
مزید فرمایا (وَنُفِخَ فِی الصُّورِ فَاِِذَا ھُمْ مِنَ الْاَجْدَاثِ اِِلٰی رَبِّہِمْ یَنْسِلُوْنَ ) (اور صور میں پھونکا جائے گا تو وہ اچانک قبروں سے نکل کر اپنے رب کی طرف (یعنی حساب کی جگہ کے لیے) جلدی جلدی چلنے لگیں گے۔ )
قبروں سے اٹھنے والے (جن کو اللہ تعالیٰ امن وامان نہ دے، گھبراہٹ سے محفوظ نہ فرمائے، وہ) کہیں گے (یٰوَیْلَنَا مَنْ بَعَثَنَا مِنْ مَّرْقَدِنَا) (ہائے ہماری کم بختی ہمیں لیٹنے کی جگہ سے کس نے اٹھا دیا) فرشتے جواب میں کہیں گے (ھٰذَا مَا وَعَدَ الرَّحْمٰنُ وَصَدَقَ الْمُرْسَلُوْنَ ) (یہ وہی قیامت کا دن ہے جس کا رحمن نے وعدہ فرمایا تھا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–76
منکرین حشر ونشر کی تہدید اور وعید
قال اللہ تعالیٰ ویقولون متی ھذا الوعد۔۔۔ الی۔۔۔ انا نعلم ما یسرون وما یعلنون۔
(ربط) گذشتہ آیات میں زیادہ تر دلائل توحید کا ذکر تھا اور اس سے ذرا پہلے وان کل لما جمیع لدینا محضرون میں مسئلہ حشر ونشر کا ذکر تھا اب پھر مسئلہ حشرونشر کی طرف رجوع فرماتے ہیں اور ان کا ایک سوال نقل فرماتے ہیں ویقولون متی ھذا الوعد ان کنتم صدقین : یعنی یہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ قیامت کا وعدہ کب پورا ہوگا اللہ تعالیٰ نے اس کے جواب میں اس کے وقت کے اظہار سے مصلحۃً اعراض فرمایا اور اجمالی طور پر صرف اتنا بتا دیا کہ قیامت نا گہاں آئے گی جب لوگ اپنے کاروبار میں مصروف ہوں گے ناگہاں صور پھونکا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–51
33:۔ و نفخ فی الصور الخ :۔ یہ تخویف اخروی ہے۔ اجداث، جدث کی جمع ہے یعنی قبور ینسلون، یسرعون، دوڑ رہے ہوں گے۔ اس سے نفخہ ثانیہ مراد ہے جس سے تمام مردے جی اٹھیں گے اور میدان محشر کی طرف دوڑ پڑینگے۔ قالوا من بعثنا الخ، قیامت کا منظر ایسا ہولناک اور دہشت انگیز ہوگا کہ کفار قبروں کے عذاب کو بھول جائیں گے۔ اور سمجھیں کہ ہم ابتک سوئے رہے ہیں۔ اس لیے جب قبروں سے اٹھیں گے تو ایک دوسرے سے پوچھیں گے ہمیں نیند سے کس نے جگایا ہے۔ والقوم لاختلاط عقولہم ظنوا انہم کانو نیاما ولم یکن لہم ادراک لعذاب القبر لذلک فاستفہموا عن موقظہم (روح ج 23 ص 32) ۔ ھذا ما وعد الرحمن الخ، لیکن جب وہ دیکھیں گے کہ ہر طرف ٹڈی دل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–50
ربط آیات
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کی نشانیوں کا ذکر کیا ہے۔ انہی نشانیوں سے وقوع قیامت پر بھی دلیل قائم ہوتی ہے اور ساتھ ساتھ اللہ کی وحدانیت بھی سمجھ میں آتی ہے۔ تمام نشانیوں کو پیدا کرنے والا صرف اللہ وحدہ لا شریک ہی ہے۔ اللہ نے سورج اور چاند کا ذکر کیا۔ ہر چیز کے جوڑے جوڑے بنانے کا تذکرہ کیا۔ جن میں انسان ، جانور اور نباتات وغیرہ سب شامل ہیں اور یہ ساری نشانیاں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کی دلیل ہیں۔ اب آج کی پہلی آیت میں اللہ نے کشتی کو اپنی قدرت کی نشانی کے طور پر متعارف کرایا۔ ارشاد ہوتا ہے۔ وایۃ لھم اور ان کے لیے ایک نشانی یہ بھی ہے انا حملنا ذریتھم فی الفلک المشحون کہ ہم نے…
Read the full tafseer →فَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ تَوْصِيَۃً وَّلَآ اِلٰٓى اَہْلِہِمْ يَرْجِعُوْنَ 50ۧ
الاستطاعۃ
. وَالاسْتِطَاعَةُ : استفالة من الطَّوْعِ ، وذلک وجود ما يصير به الفعل متأتّيا، الاسْتِطَاعَةُ أخصّ من القدرة . قال تعالی: لا يَسْتَطِيعُونَ نَصْرَ أَنْفُسِهِمْ [ الأنبیاء/ 43]
( ط و ع ) الطوع
الاستطاعۃ ( استفعال )
یہ طوع سے استفعال کے وزن پر ہے اور اس کے معنی ہیں کسی کام کو سر انجام دینے کے لئے جن اسباب کی ضرورت ہوتی ہے ان سب کا موجہ ہونا ۔ اور استطاعت قدرت سے اخص ہے ۔ قرآن میں ہے ۔ لا يَسْتَطِيعُونَ نَصْرَ أَنْفُسِهِمْ [ الأنبیاء/ 43] وہ نہ تو آپ اپنی مدد کرسکتے ہیں ۔
وصی
الوَصِيَّةُ : التّقدّمُ إلى…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–50
تفسیر : واذا قیل لہم انفقوا یہ ان کی دوسری بدخاصیت بیان ہے کہ جب ان سے اللہ کی راہ میں دینے کو کہا جاتا ہے تو طعن کی راہ سے کہتے ہیں کہ اس کو اللہ ہی نے نہ دیا تو ہم کیوں دیں، اگر دینا ہوتا تو وہ خود نہ دیتا یعنی ان میں نہ تقویٰ ہے جو تعظیم امر اللہ ہے نہ رحم برخلق اللہ ہے باایں ہمہ دلیری یہ ہے کہ پوچھتے ہیں۔ متی ھذا الوعد کہ قیامت کب آوے گی ؟ اس کے جواب میں فرماتا ہے۔ ماینظرون الخ وہ جب آوے گی تو کچھ دیر نہ لگے گی، صرف اسرافیل ( علیہ السلام) کی ایک ہی چیخ ہوگی۔ نفخہ اولیٰ جس میں بےہوش ہو کر گر پڑیں گے، نہ کچھ اپنے دل کی کہ سکیں گے نہ گھر تک جاسکیں گے جو کوئی جس حال میں ہوگا، اس آواز کے سنتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–50
وَیَقُوْلُوْنَ مَتٰی ھٰذَا الْوَعْدُ اِنْ کُنْـتُمْ صٰدِقِیْنَ ۔ مَا یَنْظُرُوْنَ اِلاَّ صَیْحَۃً وَّاحِدَۃً تَاْخُذُھُمْ وَھُمْ یَخِصِّمُوْنَ ۔ فَلاَ یَسْتَطِیْعُوْنَ تَوْصِیَۃً وَّلَآ اِلٰٓی اَھْلِھِمْ یَرْجِعُوْنَ ۔ (یٰسٓ: 48 تا 50)
(اور وہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ یہ قیامت کی دھمکی کب پوری ہوگی، اگر تم لوگ سچے ہو۔ یہ لوگ بس ایک ڈانٹ ہی کے منتظر ہیں جو انہیں آپکڑے گی اس حال میں کہ وہ جھگڑ رہے ہوں گے۔ پس نہ تو وہ کوئی وصیت کرسکیں گے اور نہ اپنے اہل خانہ کی طرف پلٹ سکیں گے۔ )
الْوَعْدُ سے مراد
ہم نے ترجمے میں اگرچہ الْوَعْدُ سے قیامت مراد لی ہے لیکن اس سے مراد عذاب بھی لیا جاسکتا ہے۔ کیونکہ آنحضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–51
فہم القرآن
ربط کلام : قیامت کے دن لوگ اپنی قبروں سے نکل کر محشر کے میدان کی طرف دوڑیں گے۔
دوسرے نفخہ کے بعد لوگ قبروں سے نکل کر محشر کے میدان کی طرف اس طرح جائیں گے جیسے شکاری شکار کی طرف دوڑتا ہے۔ اللہ کے باغی قبروں سے نکلتے ہی واویلا کریں گے۔ ہائے افسوس ! ہمیں کس نے قبروں سے نکال باہر کیا ہے۔ قیامت کی ہولناکیوں اور محشر کے میدان میں اکٹھے کیے جانے کا حال دیکھ کر انہیں یقین ہوجائے گا کہ یہی قیامت کا دن ہے جس کا ہمارے ساتھ ربِّ رحمن نے وعدہ کیا تھا اور جس کی پیغمبریاد دہانی کروایا کرتے تھے۔ جس قیامت کے بارے میں یہ لوگ جھگڑتے اور کہتے ہیں کہ یہ کبھی نہیں آئے گی وہ تو اسرافیل کی ایک پھونک کا…
Read the full tafseer →قیامت آنے پر ذرا فرصت نہ ملے گی :
50: فَلاَ یَسْتَطِیْعُوْنَ تَوْصِیَۃً (پس ان کو وصیت کرنے کی فرصت نہ ہوگی) اپنے معاملات میں سے کسی کے سلسلہ میں وصیت کرنے کی بھی ان کو طاقت نہ رہے گی۔ وَّ لَآ اِلٰٓی اَھْلِہِمْ یَرْجِعُوْنَ (اور نہ وہ اپنے گھر والوں کی طرف لوٹ کر جاسکیں گے) ۔ نہ ہی اپنے مکانات کی طرف واپس لوٹنے کی قدرت رہے گی بلکہ جہاں آواز کو سن پائیں گے وہیں موت سے ڈھیر ہوجائیں گے۔
Read the full tafseer →تفسیر 50۔ ، فلا یستطیعون تو صیۃ، وہ وصیت کرنے پر بھی قادر نہیں ہوں گے ۔ مقاتل کا قول ہے کہ وصیت کرنے سے جلدی کریں کہ موت نہ پہنچ جائے۔ ، ولا الی اھلھم یرجعون، کہ وہ قیامت اتنی جلدی آجائے گی کہ کسی چیز کی مہلت نہیں ملے گی ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–53
48 تا 52۔ جس طرح کوئی کسی چیز کا منتظر ہوتا ہے اس طرح کافر لوگ قیامت کا حال سن کر مسخرا پن اور تعجب سے یہ بات مسلمانوں سے بات مسلمانوں سے کہتے تھے کہ جو کچھ تم قیامت کا حال کہتے ہو کہ مر کر پھر جینا ہوگا اور وہاں آخرت میں ہم پر عذاب ہوگا اور تم بڑے عیش و آرام میں ہوجاؤگے اگر یہ تمہارا بیان سچ ہے تو آخر اس کا ظہور کب ہوگا اور قیامت کی ابتدا پہلے صور سے ہوگی جس کو نفخۃ الفزع کہتے ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کافروں کے جواب میں فرمایا کہ جب یہ لوگ ایک منتظر آدمی کی طرح قیامت کے انتظار میں ہیں تو ان کو ایک سخت آواز کا انتظار کرنا چاہئے کہ لوگ اپنے دنیا کے کاروبار میں معمول کے موافق اسی طرح مصروف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–51
آیت 41
نیز یہ امر کی دلل ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی اکیلا معبود برحق ہے کیونکہ وہی اکیلا نعمتیں عطا کرتا ہے اور مصائب و شدائد کو دور کرتا ہے اور اس کی جملہ نعمتوں میں ایک نعمت یہ ہے کہ (انا حملنا ذریتھم) ” ہم نے ان کی اولاد کو سوار کیا۔ “ بہت سے مفسرین کی رائے ہے کہ اس سے مراد ان کے آباء و اجداد ہیں (وخلقنا لھم) ” اور ہم نے ان کے لئے پیدا کیں۔ “ یعنی موجود اور آنے والے لوگوں کے لئے (من مثلہ) ” ویسی ہی “ اس کشتی جیسی یعنی اس کی جنس میں سے (مایرکبون) ” جس پر یہ سواری کرتے ہیں۔ “ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے آباؤ اجداد پر اپنی نعمت کا ذکر فرمایا کہ اس نے ان کو کشتی میں سوار کرایا۔ ان پر نعمت کا فیضان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–67
قول باری ہے (وخلقنا لھم من مثلہ ما یرکبون اور ہم نے ان کے لئے اسی کشتی جیسی چیزیں اور بھی پیدا کی ہیں جس پر یہ سوار ہوتے ہیں) حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے ” یعنی حضرت نوح (علیہ السلام) کی کشتی کے بعد دوسری کشتیاں “۔ حضرت ابن عباس ؓ سے ایک اور روایت بھی ہے اور مجاہد سے بھی کہ اونٹ خشکی کے جہاز ہیں۔
Read the full tafseer →53 عذاب کے موقع پر منکرین کی بےبسی کی تصویر : سو ان متکبر منکروں کی عذاب کے آنے کے موقع پر بےبسی کی تصویر پیش کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ وہ ہولناک آواز انکو ایسا اچانک آدبوچے گی کہ نہ یہ کوئی وصیت کرسکیں گے اور نہ اپنے گھروں کو لوٹ سکیں گے۔ اس طور پر ان کو پکڑے گی کہ یہ کچھ بھی کرنے کی سکت نہیں رکھتے ہوں گے۔ پس جو جہاں اور جس حال میں ہوگا وہیں اور اسی حال میں دھر لیا جائے گا۔ اگر کوئی بات کرنا چاہے گا تو اس کی کوئی فرصت نہ پائے گا۔ اگر کوئی اپنے گھر سے باہر کسی کام میں ہوگا تو وہاں سے واپس اپنے گھر لوٹنے کا موقع بھی نہ پا سکے گا۔ اس لئے عقل و خرد کا تقاضا یہ ہے کہ انسان اس کے لئے ہر وقت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–74
حشر کا میدان اور نیک و بد کا انجام
تشریح : یہاں کفار مکہ کا اور آج کل کے ملحد وغیرہ لوگوں کا ذکر ہے کہ وہ قیامت کو ناقابل یقین سمجھتے ہوئے کہتے ہیں کہ کب آئے گی قیامت ؟ قیامت جب آئے گی تو اتنی اچانک اور شدید ہوگی کہ کسی کو سمجھ میں ہی نہ آئے گا کہ کیا ہوگیا ہے۔ قیامت سے پہلے چھوٹی قیامت یں اور ہلکے پھلے عذاب تو انسانوں کی نافرمانی کی وجہ سے آتے رہتے ہیں جن کا مقصد انسانوں کو جھنجھوڑنا ہوتا ہے۔ کہیں طوفان بادو باراں، کہیں زلزلہ اور کہیں کسی دوسری شکل میں آفات ارضی و سماوی۔ اسی طرح بڑی اور فیصلہ کن قیامت پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی مگر یہ بھی صرف اس دنیا کی قیامت ہوگی پوری کائنات قائم و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–50
رکوع نمبر 3: آیات 33 تا 50:
اسرار و معارف :
اللہ کی قدرت کاملہ کا ایک بڑا مظہر تو مردہ زمین ہے جس پر یہ رہتے بستے ہیں جب اس پہ خشک سالی آتی ہے تو وہ بالکل اجاڑ ہوجاتی ہے ہر طرف گرد اڑتی ہے مگر جب اللہ چاہتے ہیں تو اس کی گود زندگی سے بھر دیتے ہیں اور ذرے ذرے سے زندگی ابلتی ہے پھل پھول اناج پیدا ہو کر نہ صرف زمین کی زندگی کا ثبوت دیتے ہیں بلکہ خود انسانوں کو زندہ رکھنے کا سبب بن جاتے ہیں یہی تو ان کی روز مرہ کی غذا ہے۔
زمین کے بعض حصوں کو ہم نے سرسبزی عطا کردی ہے کہ یہ بھی ضروری نہیں کہ وہ خشک ہو کر ہری ہو ہم نے اس میں چشمے جاری کردئیے اور اس کا سینہ باغات سے سجا دیا کہ ان لوگوں کے پاس بھی ایسے…
Read the full tafseer →ف 4 بلکہ بازاروں اور راستوں میں جہاں ہونگے صور کی آواز سن کر فوراً ختم ہوجائیں گے۔ حدیث میں ہے کہ ” قیامت اس طرح ( یکایک) آئے گی کہ کہیں دو آدمیوں نے ( خریدو فروخت کیلئے) کپڑا پھیلا رکھا ہوگا مگر وہ اس کی خریدو فروخت نہ کر پائیں گے حتیٰ کہ ایک شخص نے لقمہ اٹھا رکھا ہوگا مگر اسے منہ میں رکھنے نہ پائے گا۔ (فتح البیان) ۔
Read the full tafseer →(36:50) لا یستطیعون۔ مضارع منفی جمع مذکر غائب۔ استطاعۃ (استفعال) مصدر طوع مادہ یستطیع اصل میں یستطوع تھا وائو کا کسرہ ما قبل کو دیا اب وائو ساکن ما قبل مکسور وائو کو یاء میں بدلا۔ یستطیع ہوگیا۔ لا یستطیعون وہ طاقت نہیں رکھنے ہیں، وہ قدرت نہیں رکھتے ہیں۔
الاستطاعۃ کے اصل معنی ہیں کسی کام کو سرانجام دینے کے لئے جن اسباب کی ضرورت ہوتی ہے ان سب کا موجود ہونا۔ مگر محققین کے نزدیک استطاعۃ نام ہے ان اسباب و ذرائع اور صلاحیتوں کا جن کے ذریعے انسان کو کسی کام کے کرنے پر قدرت ہوجائے۔ اس کی ضد عجز ہے۔
توصیۃ وصیت کرنا۔ بروزن تفعلۃ باب تفعیل کا مصدر ہے منصوب بوجہ یستطیعون کے مفعول بہ ہونے کے ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–54
لغات القرآن : آیت نمبر 45 تا 54 :۔ بین ایدی ( سامنے) خلف ( پیچھے) انطعم (کیا ہم کھلائیں) صحیۃ (چنگھاڑ، زور دار آواز) یخصمون ( وہ جھگڑ رہے ہوں گے) الاجداث (قبریں) ینسلون ( وہ دوڑیں گے) لاتجزون ( بدلہ نہ دیئے جائیں گے) ۔
تشریح آیت نمبر 45 تا 54 :۔ نبی کریم ﷺ جب کفار و مشرکین سے کہتے کہ میں جن آیات اور کلام الٰہی کو لے کر آیا ہوں اس پر ایمان لائو۔ اللہ کا خوف اختیار کرو تا کہ تم پر دنیا میں اور آخرت میں رحم و کرم ناز ل کیا جائے اور اپنے سے غریب ، مفلس اور ضرورت مندوں پر اپنا مال خرچ کرو ۔ تو وہ اللہ کی آیات اور نبی کریم ﷺ کی باتوں کا مذاق اڑاتے اور جاہلانہ اعتراضات کر کے اپنے آپ کو مطمئن ظاہر کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–53
قیامت کس حالت میں قائم ہوگی۔
(ف 1) مشرکین مکہ کو جب پہلی قوموں کے حال سے ڈرنے کو کہاجاتا ہے اور ان کی گمراہی کے آئندہ کے نتیجہ کی انہیں یاد دلائی جاتی ہے تو بجائے راہ راست پر آنے کے یہ لوگ قرآن کی ان نصیحتوں کو ٹال دیتے تھے اسی طرح جب ان لوگوں سے یہ کہا جاتا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے تم کو خوشحال جو کیا ہے اس کے شکریہ میں غریب محتاج لوگوں کے ساتھ کچھ سلوک کیا کرو، تو اس کے جواب میں یہ لوگ کہتے تھے کہ کیا ان لوگوں کو کھانا کھلاویں اور کچھ خیرات دین جس کے اعتقاد میں یہ ہے کہ اللہ ہی ان کو رزق دے سکتا ہے تم لوگ جاباوجود اس بات کے کہ خدا کو رازق سمجھے ہوئے ہو اور پھر ہم سے کہتے کہ غریب اور محتاج…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–59
[20] یعنی قیامت ناگہاں آن پڑے گی اور لوگ اپنے معاملات میں غرق ہوں گے۔ جس وقت پہلے صور کی چنگھاڑ بلند ہوگی تمام انسان مر کر ڈھیر ہوجائیں گے۔ ان کو اتنی بھی فرصت نہ ملے گی کہ مرنے سے پہلے کسی کو کچھ کہنا چاہیں تو کہہ گزریں، یا جو گھر سے باہر تھے وہ گھر واپس جاسکیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–50
قرآن اور نظریات جدیدہ
2: یہ مسئلہ کہ آفتاب گھومتا ہے یا زمین اور چاند کی گردش کس نوع کی ہے ؟ اس کا تعلق مذہب کے ساتھ بالکل نہیں ہے ۔ یہ فلکیات کی بحث میں ہے اور مذہب کا موضوع بحث یہ ہے ۔ کہ کس طرح دلوں کو شرک کی آلودگیوں سے پاک کیا جاسکتا ہے ؟ اور کیونکر انسانوں کو فلاح و بہبود کا درس دیاجاسکتا ہے ۔ مذہب ان مسائل سے تعرض کرتا ہے ۔ کہ وہ کون تعلیمات ہیں ۔ جو لحمہ انسانی کے لئے باعث برکت وسعادت قرار پاسکتی ہیں ۔ اور وہ کون پیغام ہے جس کو اللہ کا پیغام کہا جاسکتا ہے ۔ یہ سائل کہ زمین پپٹی ہے گول ۔ ستاروں کی حرکت مداری ہے یا محوری آفتاب کی روشنی کس نوع کی ہے ۔ کسوف وخسوف کے واقعات کیوں ظہور پذیر…
Read the full tafseer →(50) قیامت کے اچانک آنے کی یہ حالت ہوگی کہ نہ تو کچھ وصیت کرسکیں گے اور نہ اپنے اہل خانہ کی طرف واپس ہی لوٹ سکیں گے۔ یعنی نہ اتنی مہلت ہوگی کہ کوئی وصیت کرسکیں اور کچھ کہہ مریں اور نہ اتنی فرصت ہوگی کہ گھر تک پہنچ سکیں بلکہ جہاں ہوں گے وہیں رہ جائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–51
ف 3۔ یعنی جو جس حال میں ہوگا مر کر رہ جاوے گا۔
Read the full tafseer →اس وقت نہ تو ان کو کوئی وصیت کا موقعہ ملے گا اور نہ ہی وہ اپنے لوگوں میں جاسکیں گے :
50۔ اچانک اس طرح کی افراتفری پھیل جائے گی کہ کسی کی سمجھ میں کچھ نہیں آئے گا کہ میں نے کیا کرنا ہے اور کدھر کو جانا ہے گویا اوسان خطا ہوجائیں گے اور اس عالم میں نہ تو ان میں سے کوئی کسی کی وصیت کرسکے گا اور نہ ہی وہ اپنے اپنے لوگوں میں واپس جاسکیں گے اور جہاں وہ ہوں گے اس جگہ ان کو وہ چیخ دبوچ لے گی اور وہیں بلکہ اسی جگہ پر وہ ڈھیر ہوجائیں گے ۔
Read the full tafseer →In verse 50, it was said فَلَا يَسْتَطِيعُونَ تَوْصِيَةً وَلَا إِلَىٰ أَهْلِهِمْ يَرْجِعُونَ (So they will not be able to make a bequest, nor will they return to their household.), that is, people who are gathered there will not have the respite to make a will among themselves to do something on their behalf, and those who are still outside their houses will not find the respite even to go into their houses. They will lie dead in the very state in which they would be at that time. This is a description of the first blowing of the Horn of the day of Qiyamah as a result of which the entire…
Read the full tafseer →46 That is, "The Resurrection will not take place piecemeal so that the people may leisurely watch its coming, but it will come all of a sudden when thepeople will be engaged in their daily business and they will have no idea whatever that the end of the world had approached. There will be a terrible blast and everyone will fall dead at the spot. " Hadrat 'Abdullah bin 'Amr and Hadrat Abu Hurairah have related a Hadith from the Holy Prophet saying: "The people will be walking on the roads as astral, will be buying and selling in the markets, will be disputing matters in their assemblies, when…
Read the full tafseer →