Yaseen 36:49

Yaseen · from ayah 49

36:49

مَا یَنْظُرُوْنَ اِلَّا صَیْحَةً وَّاحِدَةً تَاْخُذُهُمْ وَهُمْ یَخِصِّمُوْنَ ۟مَا يَنۡظُرُوۡنَ اِلَّا صَيۡحَةً وَّاحِدَةً تَاۡخُذُهُمۡ وَهُمۡ يَخِصِّمُوۡنَ

یہ تو ایک چنگھاڑ کے منتظر ہیں جو ان کو اس حال میں کہ باہم جھگڑ رہے ہوں گے آپکڑے گی

— Fateh Muhammad Jalandhari

They do not await except one blast which will seize them while they are disputing.

— Saheeh International

Juz 23 · Ruku 3 of surah · Ruku 2 of juz

Read the whole surah · Surah Yaseen

All translations of 36:49

دراصل یہ جس چیز کی راہ تک رہے ہیں وہ بس ایک دھماکا ہے جو یکایک اِنہیں عین اُس حالت میں دھر لے گا جب یہ (اپنے دنیوی معاملات میں) جھگڑ رہے ہوں گے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

یہ تو ایک چنگھاڑ کے منتظر ہیں جو ان کو اس حال میں کہ باہم جھگڑ رہے ہوں گے آپکڑے گی

— مولانا فتح محمد جالندہری

انہیں صرف ایک سخت چیﺦ کاانتظار ہے جو انہیں آپکڑے گی اور یہ باہم لڑائی جھگڑے میں ہی ہوں گے

— مولانا محمد جوناگڑہی

(دراصل) یہ لوگ بس ایک چنگھاڑ کا انتظار کر رہے ہیں جو ان کی حجت بازی کے عین درمیان انہیں آپکڑے گی۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

راہ نہیں دیکھتے مگر ایک چیخ کی کہ انہیں آلے گی جب وہ دنیا کے جھگڑے میں پھنسے ہوں گے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

وہ لوگ صرِف ایک سخت چنگھاڑ کے ہی منتظر ہیں جو انہیں (اچانک) پکڑے گی اور وہ آپس میں جھگڑ رہے ہوں گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

وہ انتظار نہیں کر رہے مگر ایک ہی چیخ کا، جو انھیں پکڑلے گی جب کہ وہ جھگڑ رہے ہوں گے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

وہ صرف ایک دھماکے کا انتظار کر رہے ہیں جو انہیں آپکڑے گا جبکہ یہ آپس میں جھگڑ رہے ہوں گے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

یہ لوگ بس ایک ڈانٹ ہی کے منتظر ہی جو ان کو آپکڑے گی اور وہ جھگڑے ہی رہ جائیں گے !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

یہ لوگ تو بس ایک ایسی ہولناک آواز ہی کی راہ تک رہے ہیں جو ان کو یکایک عین اس وقت آپکڑے گی جب کہ یہ باہم جھگڑ رہے ہوں گے

— مولانا اسحاق مدنی

یہ لوگ بس ایک آواز سخت کے منتظر ہیں کہ وہ انہیں آپکڑے گی اور یہ لوگ آپس میں لڑجھگڑ رہے ہوں گے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یہ لوگ نہیں انتظار کر رہے مگر ایک چنگھاڑ کا وہ انہیں آپکڑے گی اور یہ (اسی طرح) جھگڑ رہے ہوں گے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

یہ تو ایک چنگھاڑ کے منتظر ہیں جو ان کے اس حال میں باہم جھگڑ رہے ہوں گے آپکڑے گی۔

— محترمہ رفعت اعجاز

The Truth is that they are waiting for nothing but a mighty Blast to seize them the while they are disputing (in their worldly affairs),

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

They are looking for nothing but for a single Cry that will seize them when they will be quarrelling.

— Muhammad Taqi Usmani

They are looking for nothing but for a single Cry that will seize them when they will be quarrelling.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

They await only but a single Sayhah which will seize them while they are disputing!

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

They await but one Shout, which will surprise them while they are disputing.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

They do not await except one blast which will seize them while they are disputing.

— Saheeh International

They will not have to wait long. When the Day of Judgment comes, it will only take a single blast of sound to strike them while they are quarrelling with one another.

— Muhammad Sarwar

They wait not for aught but a single cry which will overtake them while they yet contend with one another.

— Muhammad Habib Shakir

They await not but one shout, which shall lay hold of them while they are yet wrangling.

— Abdul Majid Daryabadi

They will not (have to) wait for aught but a single Blast: it will seize them while they are yet disputing among themselves!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 36:49

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 48–50

قیامت کے بعد کوئی مہلت نہ ملے گی۔ کافر چونکہ قیامت کے آنے کے قائل نہ تھے اس لئے وہ نبیوں سے اور مسلمانوں سے کہا کرتے تھے کہ پھر قیامت کو لاتے کیوں نہیں ؟ اچھا یہ تو بتاؤ کہ کب آئے گی ؟ اللہ تعالیٰ انہیں جواب دیتا ہے۔ کہ اس کے آنے کے لئے ہمیں کچھ سامان نہیں کرنے پڑیں گے، صرف ایک مرتبہ صور پھونک دیا جائے گا۔ دنیا کے لوگ روزمرہ کی طرح اپنے اپنے کام کاج میں مشغول ہوں گے جب اللہ تعالیٰ حضرت اسرافیل کو صور پھونکنے کا حکم دے گا وہیں لوگ ادھر ادھر گرنے شروع ہوجائیں گے اس آسمانی تیز و تند آواز سے سب کے سب محشر میں اللہ کے سامنے جمع کردیئے جائیں گے اس چیخ کے بعد کسی کو اتنی بھی مہلت نہیں ملنی کہ کسی سے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 48–49

سورة یٰسٓ 44 توحید کے بعد دوسرا مسئلہ جس پر نبی ﷺ اور کفار کے درمیان نزاع برپا تھی وہ آخرت کا مسئلہ تھا۔ اس کے متعلق عقلی دلائل تو آگے چل کر خاتمہ کلام پر دیے گئے ہیں۔ مگر دلائل دینے سے پہلے یہاں اس مسئلے کو لے کر عالم آخرت کا ایک عبرتناک نقشہ ان کے سامنے کھینچا گیا ہے تاکہ انہیں یہ معلوم ہو کہ جس چیز کا وہ انکار کر رہے ہیں وہ ان کے انکار سے ٹلنے والی نہیں ہے بلکہ لا محالہ ایک روز ان حالات سے انہیں دوچار ہونا ہے۔ سورة یٰسٓ 45 اس سوال کا مطلب یہ نہ تھا کہ وہ لوگ فی الواقع قیامت کے آنے کی تاریخ معلوم کرنا چاہتے تھے، اور اگر مثلاً ان کو یہ بتادیا جاتا کہ وہ فلاں سنہ میں فلاں مہینے کی فلاں تاریخ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

معارف و مسائل (آیت) ما ینظرون الاصیحة واحدة، یہ ان کفار کا ہے جواب ہے جو استہزاء و انکار کے طور پر مسلمانوں سے پوچھا کرتے تھے کہ تم جس قیامت کے آنے کے قائل ہو وہ کب کس سال اور کس تاریخ میں آئے گی۔ (آیت) یقولون متیٰ ھذا الوعد، ان لوگوں کا یہ سوال درحقیقت کسی تحقیق واقعہ کے لئے نہیں بلکہ تمسخر و استہزاء کے تھا اور بالفرض تحقیق کے لئے بھی ہوتا تو رب العالمین کی حکمت کا مقتضیٰ یہ ہے کہ قیامت کے سال اور تاریخ کا پورا یقینی علم کسی کو نہ دیں، یہاں تک کہ اپنے انبیاء و رسل کو بھی نہیں دیا۔ ان احمقوں کا یہ سوال بالفرض تحقیق طلبی ہی کے لئے ہو تو بھی لغو و مہمل تھا۔ اس لئے اس کے جواب میں قیامت کی تاریخ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 48–50

آیت 48۔ 50 یعنی اللہ کی جو آیتیں ان کو سنائی جاتی ہیں ان پر تو وہ کوئی دھیان نہیں کرتے، بس یہ مطالبہ ان کی طرف سے پیہم ہے کہ جس عذاب سے ان کو ڈرایا جا رہا ہے وہ ان کو دکھا دیا جائے۔ اس کے بغیر وہ اس کی خبر دینے والوں کو سچا ماننے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ ’ ما ینظرون الا صیحۃ واحدۃ الایۃ ‘۔ لفط ’ صیحۃ ‘ آیت 29 میں گزر چکا ہے۔ فرمایا کہ اس طنطنہ کے ساتھ وہ اس عذاب کے جو مطالبہ کر رہے ہیں تو کس برتے پر کر ہے ہیں ! خدا کو اس کے لئے کوئی سروسامان نہیں کرنا ہے۔ اس کی تو بس ایک ڈانٹ ہی ان کے لئے کافی ہوگی۔ وہ ان بحثوں ہی میں پرے ہوں گے کہ وہ ان کو دبوچ لے گی۔ مطلب یہ ہے کہ اگر وہ نہیں آرہا ہے تو اس کے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 49–50

49۔ 1 یعنی لوگ بازاروں میں خریدو فروخت اور حسب عادت بحث و تکرار میں مصروف ہونگے کہ اچانک صور پھونک دیا جائے گا اور قیامت برپا ہوجائے گی یہ نفخہ اولیٰ ہوگا جسے نفخہ فزع بھی کہتے ہیں کہا جاتا ہے کہ اس کے بعد دوسرا نفخہ ہوگا۔ نَفْخَۃُ الْصَّعْقِ جس سے اللہ تعالیٰ کے سوا سب موت کی آغوش میں چلے جائیں گے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 42–64

18: کشتی جیسی دوسری سواری کی تشریح عام طور سے مفسرین نے اونٹوں سے کی ہے، کیونکہ اہل عرب اونٹوں کو صحرا کا جہاز کہا کرتے تھے۔ لیکن قرآن کریم کے الفاظ عام ہیں جس میں کشتی کے مشابہ ہر طرح کی سواریاں داخل ہیں، بلکہ عربی قواعد کی رو سے آیت کا ترجمہ اس طرح بھی کیا جاسکتا ہے کہ : ہم نے ان کے لیے اسی جیسی اور چیزیں بھی پیدا کی ہیں جن پر یہ (آئندہ) سواری کریں گے۔ اس صورت میں وہ تمام سواریاں اس عبارت میں داخل ہوجاتی ہیں جو قیامت تک پیدا ہوں گی، مثلاً آبدوزیں، اور ہوائی جہاز جو اس لحاظ سے کشتی کے مشابہ ہیں کہ کشتی پانی پر تیرتی ہے، اور ہوائی جہاز ہوا پر تیرتا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 49–53

ما ینظرون الا۔۔۔۔۔۔ جمیع لدینا محضرون (49 – 53) “۔ “۔ جھٹلانے والوں کا سوال یہ تھا۔ ویقولون متی ھذا۔۔۔۔۔ صدقین (36: 48) ” یہ قیامت کی دھمکی کب پوری ہوگی ؟ بتاؤ اگر تم سچے ہو “۔ لہٰذا ان کا جواب اس منظر کی شکل میں دیا گیا۔ ما ینظرون الا۔۔۔۔ الی اھلھم یرجعون (36: 49 – 50) ” دراصل یہ جس چیز کی راہ تک رہے ہیں وہ بس ایک دھماکہ ہے جو یکایک انہیں عین اس حالت میں دھرلے گا جب یہ جھگڑ رہے ہوں گے اور اس وقت یہ وصیت تک نہ کرسکیں گے اور نہ اپنے گھروں کو پلٹ سکیں گے “۔ قیامت اچانک لوگوں کو اپنی گرفت میں لے لے گی ، اس وقت وہ اپنے دنیاوی جھگڑوں یا مذہبی مباحثوں میں مصروف ہوں گے اور ان کو وقوع قیامت کی امید…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 49–50

5 یعنی قیامت ناگہاں آپکڑے گی اور وہ اپنے معاملات میں غرق ہوں گے۔ جس وقت پہلا صور پھونکا جائے گا سب ہوش و حواس جاتے رہیں گے اور آخر مر کر ڈھیر ہوجائیں گے۔ اتنی فرصت بھی نہ ملے گی کہ فرض کرو مرنے سے پہلے کسی کو کچھ کہنا چاہیں تو کہہ گزریں یا جو گھر سے باہر تھے وہ گھر واپس جاسکیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 49 { مَا یَنْظُرُوْنَ اِلَّا صَیْحَۃً وَّاحِدَۃً تَاْخُذُہُمْ وَہُمْ یَخِصِّمُوْنَ } ”یہ لوگ نہیں انتظار کر رہے مگر ایک چنگھاڑ کا ‘ وہ انہیں آپکڑے گی اور یہ اسی طرح جھگڑ رہے ہوں گے۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

47 قیامت دفعتاً آجائے گی :۔ قیامت جب آئے گی تو وہ آہستہ آہستہ نہیں آئے گی جسے تم دیکھ کر سمجھ لو کہ آرہی ہے اور کچھ سنبھل جاؤ۔ بلکہ اس وقت تم اپنے اپنے کام کاج میں پوری طرح منہمک ہوگے، کوئی کاروبار کررہا ہوگا، کوئی سودا بازی کرتے ہوئے جھگڑ رہا ہوگا، اس وقت اچانک ایک زور کا دھماکہ ہوگا اور جو شخص جس حال میں بھی ہوگا وہیں دھر لیا جائے گا۔ چناچہ سیدنا ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا : کہ قیامت اس حال میں آئے گی کہ دو آدمی اپنا کپڑا بچھائے بیٹھے ہوں گے وہ اس کی سودا بازی اور کپڑا لپیٹنے سے ابھی فارغ نہ ہوں گے کہ قیامت آجائے گی اور آدمی اپنی اونٹنی کا دودھ لے کر چلے گا۔ ابھی اس کو پئے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 48–50

34۔ قیامت کے فوری وناگہانی وقوع اور اس کی ہولناکیوں کا بیان ہے۔ (آیت) ” ھذا الوعد “۔ یعنی وعدۂ قیامت۔ (آیت) ” متی .... صدقین “۔ سوال محض طنز وتعریض سے تھا۔ (آیت) ” صیحۃ واحدۃ “۔ مراد صورکا نفخہ اول ہیجب سب کے سب ہلاک ہوجائیں گے۔ (آیت) ” صحیۃ “۔ صیغہ نکرہ کی تنوین اظہار عظمت و جلالت کیلئے ہے۔ (آیت) ” توصیۃ “۔ یعنی کسی قسم کی بھی وصیت۔ وصیت کا اشارہ تک۔ التنکیر فی التوصیۃ للتعمیم اے لایقدر علی توصیۃ ما (کشاف)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 33–50

آیت نمبر 33 تا 50 ترجمہ : اور ایک نشانی ان کے لئے مرنے کے بعد زندہ ہونے پر مردہ زمین ہے اٰیۃٌ لھُمْ خبر مقدم ہے اَلْمیتۃُ تخفیف اور تشدید کے ساتھ ہے کہ ہم نے اس کو پانی کے ذریعہ زندہ کیا والارض الخ مبتداء مؤخر ہے، اور ہم نے اس زمین سے غلہ مثلاً گندم پیدا کیا سو اس سے یہ لوگ کھاتے ہیں اور (نیز) ہم نے زمین میں کھجوروں اور اناروں کے باغات پیدا کئے اور اس میں کچھ چشمے جاری کئے تاکہ لوگ اس کے پھل کھائیں، ثمَرہ میں یعنی (ث، م) دونوں میں فتحہ اور ضمہ ہے، یعنی تاکہ مذکورہ کھجور وغیرہ کے پھلوں میں سے کھائیں اور ان پھلوں کو ان کے ہاتھوں نے نہیں بنایا تو پھر یہ لوگ اپنے اوپر خدا تعالیٰ کے انعامات کا شکر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ما ینظرون الا صحیۃ واحدۃ تاخذہھم وھم یخصمون . یہ لوگ بس ایک سخت آواز کے منتظر ہیں جو ان کو آپکڑے گی ایسی حالت میں کہ وہ جھگڑ رہے ہوں گے۔ صَیْحَۃً وَّاحِدَۃً سے حضرت ابن عباس کے نزدیک پہلی بار صور پھونکاجانا مراد ہے۔ ایک شبہ : کافروں کا تو صور پھونکے جانے کا عقیدہ ہی نہ تھا ‘ پھر نفخۂ صور کا انتظار کرنے کا کیا معنی۔ الزالہ : انتظار کرنے سے مراد ہے گناہوں کو اس وقت تک ترک نہ کرنا کہ موت آجائے ‘ یا اچانک قیامت واقع ہوجائے۔ جب انہوں نے ساری عمر گناہ ترک نہ کئے تو درپردہ یہی معلوم ہوتا ہے کہ گناہوں کو چھوڑ دینے کیلئے گویا وہ صور کی آواز کے منتظر ہیں۔ وَھُمْ یَخِصِّمُوْنَ یعنی ایسی حالت میں صور کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

تو آپ کی قوم جب آپ کو جھٹلا رہی ہے تو یہ عذاب کے لیے صرف پہلے صور کے منتظر ہیں جو ان کو آپکڑے گا اور یہ اس وقت بازار میں باہمی جھگڑوں میں مصروف ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

مَا يَنْظُرُوْنَ اِلَّا صَيْحَةً وَّاحِدَةً : ان کے جواب میں یہ نہیں کہا گیا کہ قیامت فلاں وقت آئے گی، بلکہ ان کے سامنے قیامت کے چند ہولناک مناظر کا نقشہ پیش کردیا گیا ہے۔ اِلَّا صَيْحَةً وَّاحِدَةً : ایک ہی چیخ سے مراد اسرافیل ؑ کا پہلی دفعہ صور میں پھونکنا ہے، جس سے تمام مخلوق مرجائے گی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا، یہ لوگ جس قیامت کا انتظار کر رہے ہیں اس کے لیے ہمیں کسی لمبی چوڑی تیاری کی ضرورت نہیں، صرف ایک مرتبہ صور میں پھونک دیا جائے گا، جس کی چیخ کی آواز سے سب لوگ بےہوش ہو کر مرجائیں گے۔ تَاْخُذُهُمْ وَهُمْ يَخِصِّمُوْنَ : ”يَخِصِّمُوْنَ“ اصل میں ”یَخْتَصِمُوْنَ“ (افتعال) ہے۔ تاء کو صاد کے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 45–50

قتادہ نے کہا : ما بین ایدیکم سے مراد تم سے قبل کی امتوں کے واقعات ہیں (1) اور وما خلفکم سے مرادآخرت ہے۔ حضرت ابن عباس ‘ ابن جبیر اور ماجد نے کہا : ما بین ایدیکم سے مراد سابقہ گناہ ہیں (2) اور وما خلفکم سے مراد آنے والے گناہ ہیں حضرت حسن بصری نے کہا : ما بین ایدیکم سے مراد جو تمہاری عمر گزر چکی ہے (3) اور وما خلفکم سے مراد جو باقی ماندہ ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ما بین ایدیکم سے مراد دنیا ہے اور وما خلفکم سے مراد عذاب آخرت ہے ‘ یہ سفیان کا قول ہے۔ ثعلبی نے حضرت ابن عباس ؓ سے اس کے برعکس قول نقل کیا ہے کہ ما بین ایدیکم سے مراد امر آخرت اور اس کے لئے اعمال ہیں اور وما خلفکم سے مراد دنیاوی امور…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ماینظرون الا صیحۃ واحدۃ تاخذھم یخصمون “ (یہ لوگ بس ایک سخت آواز کے منتظر ہیں جو ان کو آکر پکڑے گی ایسی حالت میں کہ وہ جھگڑ رہے ہوں گے) یعنی ہمارے لئے یہ بیان کیا گیا کہ اللہ کے نبی ﷺ فرمایا کرتے تھے قیامت لوگوں تک آپہنچے گی (اس حال میں) کہ آدمی اپنے جانوروں کو پانی پلا رہا ہوگا اور ایک آدمی اپنے حوض کو ٹھیک کررہا ہوگا۔ اور ایک آدمی بازار میں اپنا سامان فروخت کررہا ہوگا۔ اور ایک آدمی اپنے ترازو کو اوپر نیچے کررہا ہوگا کہ قیامت اچانک آجائے گی اور وہ اسی طرح (کام کررہے ہوں گے) (آیت) ” فلایستطیعون توصیۃ ولا…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

مَا يَنْظُرُوْنَ [وہ انتظار نہیں کرتے ] اِلَّا صَيْحَةً وَّاحِدَةً [مگر ایک ایسی چنگھاڑ کا ] تَاْخُذُهُمْ [جو پکڑے گی ان کو ] وَهُمْ [اس حال میں کہ وہ ] يَخِصِّمُوْنَ [جھگڑ رہے ہوں گے ] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 49–51

نفخ صور کے وقت حیرانی اور پریشانی مزید فرمایا (وَنُفِخَ فِی الصُّورِ فَاِِذَا ھُمْ مِنَ الْاَجْدَاثِ اِِلٰی رَبِّہِمْ یَنْسِلُوْنَ ) (اور صور میں پھونکا جائے گا تو وہ اچانک قبروں سے نکل کر اپنے رب کی طرف (یعنی حساب کی جگہ کے لیے) جلدی جلدی چلنے لگیں گے۔ ) قبروں سے اٹھنے والے (جن کو اللہ تعالیٰ امن وامان نہ دے، گھبراہٹ سے محفوظ نہ فرمائے، وہ) کہیں گے (یٰوَیْلَنَا مَنْ بَعَثَنَا مِنْ مَّرْقَدِنَا) (ہائے ہماری کم بختی ہمیں لیٹنے کی جگہ سے کس نے اٹھا دیا) فرشتے جواب میں کہیں گے (ھٰذَا مَا وَعَدَ الرَّحْمٰنُ وَصَدَقَ الْمُرْسَلُوْنَ ) (یہ وہی قیامت کا دن ہے جس کا رحمن نے وعدہ فرمایا تھا اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 48–76

منکرین حشر ونشر کی تہدید اور وعید قال اللہ تعالیٰ ویقولون متی ھذا الوعد۔۔۔ الی۔۔۔ انا نعلم ما یسرون وما یعلنون۔ (ربط) گذشتہ آیات میں زیادہ تر دلائل توحید کا ذکر تھا اور اس سے ذرا پہلے وان کل لما جمیع لدینا محضرون میں مسئلہ حشر ونشر کا ذکر تھا اب پھر مسئلہ حشرونشر کی طرف رجوع فرماتے ہیں اور ان کا ایک سوال نقل فرماتے ہیں ویقولون متی ھذا الوعد ان کنتم صدقین : یعنی یہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ قیامت کا وعدہ کب پورا ہوگا اللہ تعالیٰ نے اس کے جواب میں اس کے وقت کے اظہار سے مصلحۃً اعراض فرمایا اور اجمالی طور پر صرف اتنا بتا دیا کہ قیامت نا گہاں آئے گی جب لوگ اپنے کاروبار میں مصروف ہوں گے ناگہاں صور پھونکا…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 49–51

33:۔ و نفخ فی الصور الخ :۔ یہ تخویف اخروی ہے۔ اجداث، جدث کی جمع ہے یعنی قبور ینسلون، یسرعون، دوڑ رہے ہوں گے۔ اس سے نفخہ ثانیہ مراد ہے جس سے تمام مردے جی اٹھیں گے اور میدان محشر کی طرف دوڑ پڑینگے۔ قالوا من بعثنا الخ، قیامت کا منظر ایسا ہولناک اور دہشت انگیز ہوگا کہ کفار قبروں کے عذاب کو بھول جائیں گے۔ اور سمجھیں کہ ہم ابتک سوئے رہے ہیں۔ اس لیے جب قبروں سے اٹھیں گے تو ایک دوسرے سے پوچھیں گے ہمیں نیند سے کس نے جگایا ہے۔ والقوم لاختلاط عقولہم ظنوا انہم کانو نیاما ولم یکن لہم ادراک لعذاب القبر لذلک فاستفہموا عن موقظہم (روح ج 23 ص 32) ۔ ھذا ما وعد الرحمن الخ، لیکن جب وہ دیکھیں گے کہ ہر طرف ٹڈی دل…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 41–50

ربط آیات گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کی نشانیوں کا ذکر کیا ہے۔ انہی نشانیوں سے وقوع قیامت پر بھی دلیل قائم ہوتی ہے اور ساتھ ساتھ اللہ کی وحدانیت بھی سمجھ میں آتی ہے۔ تمام نشانیوں کو پیدا کرنے والا صرف اللہ وحدہ لا شریک ہی ہے۔ اللہ نے سورج اور چاند کا ذکر کیا۔ ہر چیز کے جوڑے جوڑے بنانے کا تذکرہ کیا۔ جن میں انسان ، جانور اور نباتات وغیرہ سب شامل ہیں اور یہ ساری نشانیاں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کی دلیل ہیں۔ اب آج کی پہلی آیت میں اللہ نے کشتی کو اپنی قدرت کی نشانی کے طور پر متعارف کرایا۔ ارشاد ہوتا ہے۔ وایۃ لھم اور ان کے لیے ایک نشانی یہ بھی ہے انا حملنا ذریتھم فی الفلک المشحون کہ ہم نے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

مَا يَنْظُرُوْنَ اِلَّا صَيْحَۃً وَّاحِدَۃً تَاْخُذُہُمْ وَہُمْ يَخِصِّمُوْنَ۝ 49 نظر النَّظَرُ : تَقْلِيبُ البَصَرِ والبصیرةِ لإدرَاكِ الشیءِ ورؤيَتِهِ ، وقد يُرادُ به التَّأَمُّلُ والفَحْصُ ، وقد يراد به المعرفةُ الحاصلةُ بعد الفَحْصِ ، وهو الرَّوِيَّةُ. يقال : نَظَرْتَ فلم تَنْظُرْ. أي : لم تَتَأَمَّلْ ولم تَتَرَوَّ ، وقوله تعالی: قُلِ انْظُرُوا ماذا فِي السَّماواتِ [يونس/ 101] أي : تَأَمَّلُوا . والنَّظَرُ : الانْتِظَارُ. يقال : نَظَرْتُهُ وانْتَظَرْتُهُ وأَنْظَرْتُهُ. أي : أَخَّرْتُهُ. قال تعالی: وَانْتَظِرُوا إِنَّا مُنْتَظِرُونَ [هود/ 122] ، وقال : إِلى طَعامٍ غَيْرَ ناظِرِينَ إِناهُ […

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 47–50

تفسیر : واذا قیل لہم انفقوا یہ ان کی دوسری بدخاصیت بیان ہے کہ جب ان سے اللہ کی راہ میں دینے کو کہا جاتا ہے تو طعن کی راہ سے کہتے ہیں کہ اس کو اللہ ہی نے نہ دیا تو ہم کیوں دیں، اگر دینا ہوتا تو وہ خود نہ دیتا یعنی ان میں نہ تقویٰ ہے جو تعظیم امر اللہ ہے نہ رحم برخلق اللہ ہے باایں ہمہ دلیری یہ ہے کہ پوچھتے ہیں۔ متی ھذا الوعد کہ قیامت کب آوے گی ؟ اس کے جواب میں فرماتا ہے۔ ماینظرون الخ وہ جب آوے گی تو کچھ دیر نہ لگے گی، صرف اسرافیل ( علیہ السلام) کی ایک ہی چیخ ہوگی۔ نفخہ اولیٰ جس میں بےہوش ہو کر گر پڑیں گے، نہ کچھ اپنے دل کی کہ سکیں گے نہ گھر تک جاسکیں گے جو کوئی جس حال میں ہوگا، اس آواز کے سنتے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 48–50

وَیَقُوْلُوْنَ مَتٰی ھٰذَا الْوَعْدُ اِنْ کُنْـتُمْ صٰدِقِیْنَ ۔ مَا یَنْظُرُوْنَ اِلاَّ صَیْحَۃً وَّاحِدَۃً تَاْخُذُھُمْ وَھُمْ یَخِصِّمُوْنَ ۔ فَلاَ یَسْتَطِیْعُوْنَ تَوْصِیَۃً وَّلَآ اِلٰٓی اَھْلِھِمْ یَرْجِعُوْنَ ۔ (یٰسٓ: 48 تا 50) (اور وہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ یہ قیامت کی دھمکی کب پوری ہوگی، اگر تم لوگ سچے ہو۔ یہ لوگ بس ایک ڈانٹ ہی کے منتظر ہیں جو انہیں آپکڑے گی اس حال میں کہ وہ جھگڑ رہے ہوں گے۔ پس نہ تو وہ کوئی وصیت کرسکیں گے اور نہ اپنے اہل خانہ کی طرف پلٹ سکیں گے۔ ) الْوَعْدُ سے مراد ہم نے ترجمے میں اگرچہ الْوَعْدُ سے قیامت مراد لی ہے لیکن اس سے مراد عذاب بھی لیا جاسکتا ہے۔ کیونکہ آنحضرت…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 49–51

فہم القرآن ربط کلام : قیامت کے دن لوگ اپنی قبروں سے نکل کر محشر کے میدان کی طرف دوڑیں گے۔ دوسرے نفخہ کے بعد لوگ قبروں سے نکل کر محشر کے میدان کی طرف اس طرح جائیں گے جیسے شکاری شکار کی طرف دوڑتا ہے۔ اللہ کے باغی قبروں سے نکلتے ہی واویلا کریں گے۔ ہائے افسوس ! ہمیں کس نے قبروں سے نکال باہر کیا ہے۔ قیامت کی ہولناکیوں اور محشر کے میدان میں اکٹھے کیے جانے کا حال دیکھ کر انہیں یقین ہوجائے گا کہ یہی قیامت کا دن ہے جس کا ہمارے ساتھ ربِّ رحمن نے وعدہ کیا تھا اور جس کی پیغمبریاد دہانی کروایا کرتے تھے۔ جس قیامت کے بارے میں یہ لوگ جھگڑتے اور کہتے ہیں کہ یہ کبھی نہیں آئے گی وہ تو اسرافیل کی ایک پھونک کا…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

قیامت تو اسرافیل کی ایک صیحہ ہے : 49: مَا یَنْظُرُوْنَ (نہیں وہ منتظر) اِلَّا صَیْحَۃً وَّاحِدَۃً (مگر ایک زور کی آواز کے) اس سے نفخہ اولیٰ مراد ہے۔ تَاْ خُذُھُمْ یَخِصِّمُوْنَ (جو ان کو آپکڑے گی اور وہ سب باہم لڑ جھگڑ رہے ہونگے) ۔ قراءت : حمزہ نے سکون خاؔ ء و تخفیف صاد سے یَخْصِمُوْنَ پڑھا اور خصمہ سے قرار دیا۔ جبکہ وہ خصومت میں غلبہ پالے۔ باقی قراء نے تشدید صادؔ سے پڑھا ہے۔ ای یخصّمون تاء کو صاد میں مدغم کردیا مگر مکی نے خاء کا فتحہ پڑھا تاء ؔ مدغمہ کی حرکت کو نقل کر کے خاء کو دیا۔ اور مدنی نے سکون خاء اور یاءؔ اور خاؔ کے کسرہ سے پڑھا۔ یحییٰ نے یاء کو خاء کی اتباع میں کسرہ دیا اور دیگر قراء…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

49، ماینظرون، کہ وہ انتظار نہیں کررہے۔ ، الا صیحۃ واحدۃ، حضرت عباس ؓ کے نزدیک پہلی بار صور پھو نکا جانا مراد ہے۔ ، تاخذھم وھم یخصمون، یعنی وہ دنیا کے امور میں جھگڑتے ہیں خواہ ان کا تعلق بیع وشراء سے متعلق ہو یا کسی اور چیز کے متعلق ، وہ مجالس اور بازاروں میں بحث و مباحثہ کرتے تھے۔ حمزہ نے ، یخصمون، خاء کے سکون کے ساتھ پڑھا ہے اور صادبغیر تشدید کے، یعنی بعض کے ساتھ بحث و مباحثہ میں جھگڑے میں غالب آتے تھے اور دوسرے قراء نے صاد کی تشدید کے ساتھ ، یخصمون، پڑھا ہے۔ اصل میں ، یختصمو، تمھا تاء کو صاد میں مدغم کردیا۔ پھر ابن کثیر ، یعقوب وورش خاء کو فتحہ کے ساتھ پڑھتے ہیں۔ تاء کی حرکت کو نقل کرکے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 48–53

48 تا 52۔ جس طرح کوئی کسی چیز کا منتظر ہوتا ہے اس طرح کافر لوگ قیامت کا حال سن کر مسخرا پن اور تعجب سے یہ بات مسلمانوں سے بات مسلمانوں سے کہتے تھے کہ جو کچھ تم قیامت کا حال کہتے ہو کہ مر کر پھر جینا ہوگا اور وہاں آخرت میں ہم پر عذاب ہوگا اور تم بڑے عیش و آرام میں ہوجاؤگے اگر یہ تمہارا بیان سچ ہے تو آخر اس کا ظہور کب ہوگا اور قیامت کی ابتدا پہلے صور سے ہوگی جس کو نفخۃ الفزع کہتے ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کافروں کے جواب میں فرمایا کہ جب یہ لوگ ایک منتظر آدمی کی طرح قیامت کے انتظار میں ہیں تو ان کو ایک سخت آواز کا انتظار کرنا چاہئے کہ لوگ اپنے دنیا کے کاروبار میں معمول کے موافق اسی طرح مصروف…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 41–51

آیت 41 نیز یہ امر کی دلل ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی اکیلا معبود برحق ہے کیونکہ وہی اکیلا نعمتیں عطا کرتا ہے اور مصائب و شدائد کو دور کرتا ہے اور اس کی جملہ نعمتوں میں ایک نعمت یہ ہے کہ (انا حملنا ذریتھم) ” ہم نے ان کی اولاد کو سوار کیا۔ “ بہت سے مفسرین کی رائے ہے کہ اس سے مراد ان کے آباء و اجداد ہیں (وخلقنا لھم) ” اور ہم نے ان کے لئے پیدا کیں۔ “ یعنی موجود اور آنے والے لوگوں کے لئے (من مثلہ) ” ویسی ہی “ اس کشتی جیسی یعنی اس کی جنس میں سے (مایرکبون) ” جس پر یہ سواری کرتے ہیں۔ “ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے آباؤ اجداد پر اپنی نعمت کا ذکر فرمایا کہ اس نے ان کو کشتی میں سوار کرایا۔ ان پر نعمت کا فیضان…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 42–67

قول باری ہے (وخلقنا لھم من مثلہ ما یرکبون اور ہم نے ان کے لئے اسی کشتی جیسی چیزیں اور بھی پیدا کی ہیں جس پر یہ سوار ہوتے ہیں) حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے ” یعنی حضرت نوح (علیہ السلام) کی کشتی کے بعد دوسری کشتیاں “۔ حضرت ابن عباس ؓ سے ایک اور روایت بھی ہے اور مجاہد سے بھی کہ اونٹ خشکی کے جہاز ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

52 عذاب کا مطالبہ کرنے والوں کی تنبیہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " یہ لوگ انتظار نہیں کر رہے مگر ایک ہی ہولناک جھڑکی کی "۔ یعنی قیامت کی وہ قطعی اور یقینی گھڑی کوئی آہستہ آہستہ اور ان کو خبردار کرکے نہیں آئے گی۔ بلکہ وہ اس طرح اچانک آئے گی کہ ان لوگوں کو اس کا خیال تک نہیں ہوگا۔ سو وہ ایک ہی ہولناک جھڑکی اور خوفناک آواز ہوگی جو ان سب کو آپکڑے گی۔ اور اس طرح کہ یہ لوگ اپنے اپنے کاروبار اور اپنی لڑائی جھگڑوں میں اس طرح لگے ہوں گے کہ وہ اچانک ان پر آپہنچے گی۔ جیسا کہ قرآن و سنت کی دوسری بہت سی نصوص میں اس کی تصریح و توضیح فرمائی گئی ہے۔ جیسا کہ ایک دوسرے مقام پر فرمایا گیا ۔ { لَا تَاتِیْکُمْ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 48–74

حشر کا میدان اور نیک و بد کا انجام تشریح : یہاں کفار مکہ کا اور آج کل کے ملحد وغیرہ لوگوں کا ذکر ہے کہ وہ قیامت کو ناقابل یقین سمجھتے ہوئے کہتے ہیں کہ کب آئے گی قیامت ؟ قیامت جب آئے گی تو اتنی اچانک اور شدید ہوگی کہ کسی کو سمجھ میں ہی نہ آئے گا کہ کیا ہوگیا ہے۔ قیامت سے پہلے چھوٹی قیامت یں اور ہلکے پھلے عذاب تو انسانوں کی نافرمانی کی وجہ سے آتے رہتے ہیں جن کا مقصد انسانوں کو جھنجھوڑنا ہوتا ہے۔ کہیں طوفان بادو باراں، کہیں زلزلہ اور کہیں کسی دوسری شکل میں آفات ارضی و سماوی۔ اسی طرح بڑی اور فیصلہ کن قیامت پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی مگر یہ بھی صرف اس دنیا کی قیامت ہوگی پوری کائنات قائم و…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 33–50

رکوع نمبر 3: آیات 33 تا 50: اسرار و معارف : اللہ کی قدرت کاملہ کا ایک بڑا مظہر تو مردہ زمین ہے جس پر یہ رہتے بستے ہیں جب اس پہ خشک سالی آتی ہے تو وہ بالکل اجاڑ ہوجاتی ہے ہر طرف گرد اڑتی ہے مگر جب اللہ چاہتے ہیں تو اس کی گود زندگی سے بھر دیتے ہیں اور ذرے ذرے سے زندگی ابلتی ہے پھل پھول اناج پیدا ہو کر نہ صرف زمین کی زندگی کا ثبوت دیتے ہیں بلکہ خود انسانوں کو زندہ رکھنے کا سبب بن جاتے ہیں یہی تو ان کی روز مرہ کی غذا ہے۔ زمین کے بعض حصوں کو ہم نے سرسبزی عطا کردی ہے کہ یہ بھی ضروری نہیں کہ وہ خشک ہو کر ہری ہو ہم نے اس میں چشمے جاری کردئیے اور اس کا سینہ باغات سے سجا دیا کہ ان لوگوں کے پاس بھی ایسے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 48–49

ف 2 مراد نضخہ فزع یعنی نضخہ اولیٰ ہے واللہ اعلم۔ (ابن کثیر) 3 یعنی قیامت نا گہاں آئے گا اور وہ اپنے معاملات میں مشغول ہوں گے۔ ( موضح)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(36:49) ما ینظرون۔ ای ما ینتظرون۔ مضارع منفی جمع مذکر غائب وہ انتظار نہیں کر رہے ہیں۔ صیحۃ واحدۃ۔ چیخ۔ کڑک، ہولناک آواز، چنگھاڑ۔ صاح یصیح (ضرب) کا مصدر۔ بمعنی حاصل مصدر بھی آتا ہے۔ اصل میں لکڑی کے چرونے یا کپڑے کے پھٹنے سے جو زور کے جھراٹے کی آواز پیدا ہوتی ہے اس آواز کے نکلنے کو الصیاح کہتے ہیں۔ صیحۃ اسی سے ہے چونکہ زور کی آواز سے آدمی گھبرا اٹھتا ہے اسی لئے بمعنی گھبراہٹ اور عذاب کے بھی استعمال ہوتا ہے (نیز ملاحظہ ہو (36:29) ۔ یہاں صیحۃ سے مراد النفخۃ الاولی پہلی مرتبہ صور کا پھونکا جانا ہے جب سب کے سب ہلاک ہوجائیں گے۔ صیحۃ واحدۃ موصوف وصفت ہیں اور صیحۃ منصوب بوجہ ینظرون کے مفعول ہونے کے…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 45–54

لغات القرآن : آیت نمبر 45 تا 54 :۔ بین ایدی ( سامنے) خلف ( پیچھے) انطعم (کیا ہم کھلائیں) صحیۃ (چنگھاڑ، زور دار آواز) یخصمون ( وہ جھگڑ رہے ہوں گے) الاجداث (قبریں) ینسلون ( وہ دوڑیں گے) لاتجزون ( بدلہ نہ دیئے جائیں گے) ۔ تشریح آیت نمبر 45 تا 54 :۔ نبی کریم ﷺ جب کفار و مشرکین سے کہتے کہ میں جن آیات اور کلام الٰہی کو لے کر آیا ہوں اس پر ایمان لائو۔ اللہ کا خوف اختیار کرو تا کہ تم پر دنیا میں اور آخرت میں رحم و کرم ناز ل کیا جائے اور اپنے سے غریب ، مفلس اور ضرورت مندوں پر اپنا مال خرچ کرو ۔ تو وہ اللہ کی آیات اور نبی کریم ﷺ کی باتوں کا مذاق اڑاتے اور جاہلانہ اعتراضات کر کے اپنے آپ کو مطمئن ظاہر کر…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 48–53

قیامت کس حالت میں قائم ہوگی۔ (ف 1) مشرکین مکہ کو جب پہلی قوموں کے حال سے ڈرنے کو کہاجاتا ہے اور ان کی گمراہی کے آئندہ کے نتیجہ کی انہیں یاد دلائی جاتی ہے تو بجائے راہ راست پر آنے کے یہ لوگ قرآن کی ان نصیحتوں کو ٹال دیتے تھے اسی طرح جب ان لوگوں سے یہ کہا جاتا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے تم کو خوشحال جو کیا ہے اس کے شکریہ میں غریب محتاج لوگوں کے ساتھ کچھ سلوک کیا کرو، تو اس کے جواب میں یہ لوگ کہتے تھے کہ کیا ان لوگوں کو کھانا کھلاویں اور کچھ خیرات دین جس کے اعتقاد میں یہ ہے کہ اللہ ہی ان کو رزق دے سکتا ہے تم لوگ جاباوجود اس بات کے کہ خدا کو رازق سمجھے ہوئے ہو اور پھر ہم سے کہتے کہ غریب اور محتاج…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 47–49

[18] منکرین بطور تمسخر کہتے کہ وہ اللہ کی مشیت کے خلاف کرنا نہیں چاہتے۔ اگر اس کی مشیت ہوتی تو ان کو فقیر و محتاج اور ہمیں غنی و تونگر نہ بناتا۔ پھر ہم انہیں کیوں کھلائیں جنہیں اللہ نے کھانے کو نہیں دیا۔ ان کا یہ طنز نہایت مہمل تھا کیونکہ اللہ کی رزاقی بھی تو اس کی ہر صفت کی طرح اس عالم اسباب میں انسانوں ہی کے واسطے سے ظہور کرتی ہے۔ مسلمانوں نے یہ دعویٰ کب کیا تھا کہ اللہ تعالیٰ اس دنیا میں رزاق بلاواسطہ ہے۔ علاوہ ازیں یہ دنیا دارالامتحان ہے۔ فقیری اور امیری دونوں آزمائشیں ہیں۔ فقیر کی آزمائش صبر سے اور غنی کی اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے۔ [19] یعنی تم مسلمان خود صریح گمراہی میں پڑے ہو کہ ایسے…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 40–50

قرآن اور نظریات جدیدہ 2: یہ مسئلہ کہ آفتاب گھومتا ہے یا زمین اور چاند کی گردش کس نوع کی ہے ؟ اس کا تعلق مذہب کے ساتھ بالکل نہیں ہے ۔ یہ فلکیات کی بحث میں ہے اور مذہب کا موضوع بحث یہ ہے ۔ کہ کس طرح دلوں کو شرک کی آلودگیوں سے پاک کیا جاسکتا ہے ؟ اور کیونکر انسانوں کو فلاح و بہبود کا درس دیاجاسکتا ہے ۔ مذہب ان مسائل سے تعرض کرتا ہے ۔ کہ وہ کون تعلیمات ہیں ۔ جو لحمہ انسانی کے لئے باعث برکت وسعادت قرار پاسکتی ہیں ۔ اور وہ کون پیغام ہے جس کو اللہ کا پیغام کہا جاسکتا ہے ۔ یہ سائل کہ زمین پپٹی ہے گول ۔ ستاروں کی حرکت مداری ہے یا محوری آفتاب کی روشنی کس نوع کی ہے ۔ کسوف وخسوف کے واقعات کیوں ظہور پذیر…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(49) یہ لوگ صرف ایک ہولناک آواز اور چیخ کا انتظار کر رہے ہیں جو ان کو آپکڑے گی اور یہ سب اپنے معمول کے موافق کاروبار کے سلسلے میں جھگڑ رہے ہوں گے۔ یعنی کفار پر قیامت اچانک آجائے گی جبکہ یہ لوگ حسب معمول کاروبار اور لین دین کرتے ہوں گے اور باہم کاروبار کے وقت جو بہادر وغیرہ میں جھگڑے ہوا کرتے ہیں وہ جھگڑے بھی ہو رہے ہوں گے ہولناک آواز یعنی صور کے پھنکنے کی آواز۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی قیامت ناگہاں آوے گی اپنے معاملات میں غرق ہوں گے۔ خلاصہ : یہ ہے کہ جن کفار پر قیامت کا ظہور ہوگا تو اچانک ہی ہوگا اور جو وقوع قیامت سے قبل مریں گے تو ان کیلئے ان کی موت ہی قیامت ہوگی کیونکہ عالم آخرت…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 48–49

ف 2۔ اوپر مضمون توحید اور اس کے ساتھ ترہیب عذاب آخرت سے اجمالا مذکور تھا۔ اب احوال آخرت کسی قدر تفصیل کے ساتھ مذکور ہیں، اور اس کے اخیر میں لو نشاء لطمسنا سے احتمال عذاب دنیا سے تہدید ہے جس سے مابین ایدیکم کی ایک گونہ شرح ہوگئی۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

دراصل یہ لوگ اس چیلنج کا انتظار کر رہے ہیں جس چیلنج کی نذر پہلے لوگ ہوئے : 49۔ وہ جس گھڑی کے انتظار میں ہیں اسی کے انتظار میں ان کا کام تمام ہوجائے گا اور پھر ان کو اس دنیا میں آنے کا موقع قطعا نہیں دیا جائے گا اس کے بعد جب وہ گھڑی آئے گی تو ان کو لائن حاضر کرلیا جائے گا ۔ رہی یہ بات کہ وہ گھڑی کیوں نہیں بتا دی جاتی تو اس کی حکمت یہ ہے کہ اس کے آنے کا وقت ہم نے نہ تو اناؤنس کیا ہے اور نہ ہی اس کو اناؤنس کیا جائے گا کیونکہ اس کے اچانک آنے کا اعلان ہماری طرف سے پہلے کیا جا چکا ہے اور ہمارے ہاں ایک بات دو دو طریقوں سے نہیں کی جاتی ۔ ہاں ! ان کو یہ بات پہلے بھی بتائی گئی اور دوبارہ سہ بارہ بتائی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Commentary مَا يَنظُرُ‌ونَ إِلَّا صَيْحَةً وَاحِدَةً (They are looking for nothing but for a single Cry that will seize them - 36:49). The question of the disbelievers quoted here is the one they used to'-ask the Muslims by way of mockery, and the real purpose was to deny the Day of Judgment. It was not asked for finding out the truth, nor as a serious effort to reach the reality. It was simply a way of taunting the Muslims and making fun of them. And even if it were for finding out the true nature of the event, then, the mercy of the Lord of the universe requires that the full and precise…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 48–49

44 After Tauhid the other question about which a dispute was raging between the Holy Prophet and the disbelievers was the question of the Hereafter. Rational arguments about this have been given in the end of the discourse. Here, before giving the arguments, the Hereafter has been depicted with all its horrors so that the people should know that what they are refusing to believe in cannot be averted by their denial, but they have to meet and experience it one day inevitably. 45 The question did not mean that they wanted to know the exact date of the coming of the Hereafter, and if, for…

Read the full tafseer →