Yaseen 36:48

Yaseen · from ayah 48

36:48

وَیَقُوْلُوْنَ مَتٰی هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ ۟وَيَقُوۡلُوۡنَ مَتٰى هٰذَا الۡوَعۡدُ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰدِقِيۡنَ

اور کہتے ہیں اگر تم سچ کہتے ہو تو یہ وعدہ کب (پورا) ہوگا؟

— Fateh Muhammad Jalandhari

And they say, "When is this promise, if you should be truthful?"

— Saheeh International

Juz 23 · Ruku 3 of surah · Ruku 2 of juz

Read the whole surah · Surah Yaseen

All translations of 36:48

یہ لوگ کہتے ہیں کہ "یہ قیامت کی دھمکی آخر کب پوری ہو گی؟ بتاؤ اگر تم سچے ہو"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور کہتے ہیں اگر تم سچ کہتے ہو تو یہ وعدہ کب (پورا) ہوگا؟

— مولانا فتح محمد جالندہری

وه کہتے ہیں کہ یہ وعده کب ہوگا، سچے ہو تو بتلاؤ

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور کہتے ہیں کہ : یہ (قیامت کا) وعدہ کب پورا ہوگا ؟ (مسلمانو) بتاؤ، اگر تم سچے ہو۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور کہتے ہیں کب آئے گا یہ وعدہ اگر تم سچے ہو

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور وہ کہتے ہیں کہ یہ وعدۂ (قیامت) کب پورا ہوگا اگر تم سچے ہو،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور وہ کہتے ہیں یہ وعدہ کب (پورا) ہوگا، اگر تم سچے ہو ؟

— مولانا عبد السلام بھٹوی

نیز وہ کہتے ہیں کہ : اگر تم سچے ہو تو یہ وعدہ (قیامت) کب پورا ہوگا ؟

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور وہ پوچھتے ہیں کہ یہ دھمکی کب پوری ہوگی اگر تم لوگ سچے ہو !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور کہتے ہیں کہ آخر کب پوری ہوگی تمہاری یہ دھمکی اگر تم سچے ہو ؟

— مولانا اسحاق مدنی

اور یہ کہتے ہیں کہ (آخر) یہ وعدہ کب (پورا) ہوگا اگر تم سچے ہو

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ وعدہ کب پورا ہوگا اگر تم لوگ سچے ہو !

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور کہتے ہیں ”اگر تم سچ کہتے ہو تو یہ وعدہ کب پورا ہوگا“ ؟

— محترمہ رفعت اعجاز

They say: “When will this threat (of Resurrection) come to pass? Tell us if indeed you are truthful.”

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And they say, :When will this promise come true, if you are truthful?

— Muhammad Taqi Usmani

And they say, :When will this promise come true, if you are truthful?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And they say: "When will this promise be fulfilled, if you are truthful"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And they say: When will this promise be fulfilled, if ye are truthful?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And they say, "When is this promise, if you should be truthful?"

— Saheeh International

The unbelievers say, "When will the Day of Judgment come if what you say is at all true?"

— Muhammad Sarwar

And they say: When will this threat come to pass, if you are truthful?

— Muhammad Habib Shakir

And they say: when will this promise be fulfilled if ye say sooth?

— Abdul Majid Daryabadi

Further, they say, "When will this promise (come to pass), if what ye say is true?"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 36:48

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 48–50

قیامت کے بعد کوئی مہلت نہ ملے گی۔ کافر چونکہ قیامت کے آنے کے قائل نہ تھے اس لئے وہ نبیوں سے اور مسلمانوں سے کہا کرتے تھے کہ پھر قیامت کو لاتے کیوں نہیں ؟ اچھا یہ تو بتاؤ کہ کب آئے گی ؟ اللہ تعالیٰ انہیں جواب دیتا ہے۔ کہ اس کے آنے کے لئے ہمیں کچھ سامان نہیں کرنے پڑیں گے، صرف ایک مرتبہ صور پھونک دیا جائے گا۔ دنیا کے لوگ روزمرہ کی طرح اپنے اپنے کام کاج میں مشغول ہوں گے جب اللہ تعالیٰ حضرت اسرافیل کو صور پھونکنے کا حکم دے گا وہیں لوگ ادھر ادھر گرنے شروع ہوجائیں گے اس آسمانی تیز و تند آواز سے سب کے سب محشر میں اللہ کے سامنے جمع کردیئے جائیں گے اس چیخ کے بعد کسی کو اتنی بھی مہلت نہیں ملنی کہ کسی سے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 48–49

سورة یٰسٓ 44 توحید کے بعد دوسرا مسئلہ جس پر نبی ﷺ اور کفار کے درمیان نزاع برپا تھی وہ آخرت کا مسئلہ تھا۔ اس کے متعلق عقلی دلائل تو آگے چل کر خاتمہ کلام پر دیے گئے ہیں۔ مگر دلائل دینے سے پہلے یہاں اس مسئلے کو لے کر عالم آخرت کا ایک عبرتناک نقشہ ان کے سامنے کھینچا گیا ہے تاکہ انہیں یہ معلوم ہو کہ جس چیز کا وہ انکار کر رہے ہیں وہ ان کے انکار سے ٹلنے والی نہیں ہے بلکہ لا محالہ ایک روز ان حالات سے انہیں دوچار ہونا ہے۔ سورة یٰسٓ 45 اس سوال کا مطلب یہ نہ تھا کہ وہ لوگ فی الواقع قیامت کے آنے کی تاریخ معلوم کرنا چاہتے تھے، اور اگر مثلاً ان کو یہ بتادیا جاتا کہ وہ فلاں سنہ میں فلاں مہینے کی فلاں تاریخ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر اور یہ (کافر) لوگ (پیغمبر ﷺ اور آپ کے متبعین سے بطور انکار) کہتے ہیں کہ یہ وعدہ (قیامت کا جو اوپر آیت میں مذکور ہے اور ویسے بھی اکثر اس کی خبر دیا کرتے ہو وہ) کب ہوگا اگر تم (اس دعوے میں) سچے ہو (تو بتلاؤ، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ یہ جو بار بار پوچھ رہے ہیں تو گویا) یہ لوگ بس ایک آواز سخت (یعنی نفخہ اولیٰ) کے منتظر ہیں جو ان کو (یعنی مطلق کفار کو) آپکڑے گی اور وہ سب (اس وقت) باہم (عام معمول کے مطابق اپنے معاملات میں) لڑ جھگڑ رہے ہوں گے سو (اس آواز کے ساتھ معاً اس طرح فنا ہوجائیں گے) نہ تو وصیت کرنے کی فرصت ہوگی، اور نہ اپنے گھر والوں کے پاس لوٹ کر جاسکیں گے (بلکہ جو جس حال میں…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 48–50

آیت 48۔ 50 یعنی اللہ کی جو آیتیں ان کو سنائی جاتی ہیں ان پر تو وہ کوئی دھیان نہیں کرتے، بس یہ مطالبہ ان کی طرف سے پیہم ہے کہ جس عذاب سے ان کو ڈرایا جا رہا ہے وہ ان کو دکھا دیا جائے۔ اس کے بغیر وہ اس کی خبر دینے والوں کو سچا ماننے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ ’ ما ینظرون الا صیحۃ واحدۃ الایۃ ‘۔ لفط ’ صیحۃ ‘ آیت 29 میں گزر چکا ہے۔ فرمایا کہ اس طنطنہ کے ساتھ وہ اس عذاب کے جو مطالبہ کر رہے ہیں تو کس برتے پر کر ہے ہیں ! خدا کو اس کے لئے کوئی سروسامان نہیں کرنا ہے۔ اس کی تو بس ایک ڈانٹ ہی ان کے لئے کافی ہوگی۔ وہ ان بحثوں ہی میں پرے ہوں گے کہ وہ ان کو دبوچ لے گی۔ مطلب یہ ہے کہ اگر وہ نہیں آرہا ہے تو اس کے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 47–48

47۔ 1 یعنی غربا مساکین اور ضرورت مندوں کو دو۔ 47۔ 2 یعنی اللہ چاہتا تو ان کو غریب ہی نہ کرتا، تاہم ان کو دے کر اللہ کی مشیت کے خلاف کیوں کریں۔ یعنی یہ کہہ کر، غربا کی مدد کرو، کھلی غلطی کا مظاہرہ کر رہے ہو۔ یہ بات تو ان کی صحیح تھی کہ غربت و ناداری اللہ کی مشیت ہی سے تھی، لیکن اس کو اللہ کے حکم سے اعراض کا جواز بنا لینا غلط تھا، آخر انکی امداد کرنے کا حکم دینے والا بھی تو اللہ ہی تھا، اس لیے اسکی رضا تو اسی میں ہے کہ غرباء و مساکین کی امداد کی جائے۔ اس لیے کہ مشیت اور چیز ہے اور رضا اور چیز مشیت کا تعلق امور تکوینی سے ہے جس کے تحت جو کچھ بھی ہوتا ہے، اس کی حکمت و مصلحت اللہ کے سوا کوئی نہیں…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 42–64

18: کشتی جیسی دوسری سواری کی تشریح عام طور سے مفسرین نے اونٹوں سے کی ہے، کیونکہ اہل عرب اونٹوں کو صحرا کا جہاز کہا کرتے تھے۔ لیکن قرآن کریم کے الفاظ عام ہیں جس میں کشتی کے مشابہ ہر طرح کی سواریاں داخل ہیں، بلکہ عربی قواعد کی رو سے آیت کا ترجمہ اس طرح بھی کیا جاسکتا ہے کہ : ہم نے ان کے لیے اسی جیسی اور چیزیں بھی پیدا کی ہیں جن پر یہ (آئندہ) سواری کریں گے۔ اس صورت میں وہ تمام سواریاں اس عبارت میں داخل ہوجاتی ہیں جو قیامت تک پیدا ہوں گی، مثلاً آبدوزیں، اور ہوائی جہاز جو اس لحاظ سے کشتی کے مشابہ ہیں کہ کشتی پانی پر تیرتی ہے، اور ہوائی جہاز ہوا پر تیرتا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

ویقولون متی۔۔۔۔ صدقین (36: 48) ” یہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ قیامت کی دھمکی آخر کب پوری ہوگی ؟ بتاؤ اگر تم سچے ہو “۔ اللہ نے قیامت کے واقع ہونے کے لیے جو وقت مقرر کر رکھا ہے وہ انسانوں کی جلد بازی یا مطالبے کی وجہ سے وقت سے پہلے نہیں آسکتا۔ اور اگر لوگ یہ امید کریں کہ وہ اپنے مقررہ وقت سے ذرا اوپر کرکے واقع ہوگا تو یہ بھی نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ اللہ کے نزدیک ہر شے ایک مقدار کے مطابق ہے۔ اور ہر واقعہ اپنے مقررہ وقت پر ہوتا ہے۔ تمام واقعات اپنے وقت پر ہوتے ہیں جس طرح اللہ نے ان کے بارے میں فیصلہ ازل میں کر رکھا ہے اور اپنی حکمت کے مطابق کر رکھا ہے۔ اس دنیا کا ہر واقعہ اپنے وقت پر نظام قضا و قدر کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

4 یعنی یہ قیامت اور عذاب کی دھمکیاں کب پوری ہوں گی۔ اگر سچے ہو تو جلد پوری کر کے دکھلا دو ۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 48 { وَیَقُوْلُوْنَ مَتٰی ہٰذَا الْوَعْدُ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ } ”اور وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ وعدہ کب پورا ہوگا ‘ اگر تم لوگ سچے ہو !“ یہاں وعدے سے قیامت کا وعدہ بھی مراد ہوسکتا ہے اور عذاب آنے کا وعدہ بھی۔ یعنی آپ کا دعویٰ تو یہ ہے کہ ایمان نہ لانے کی پاداش میں ہم پر اللہ کا عذاب ٹوٹ پڑے گا۔ چناچہ ہم آپ کی دعوت کا انکار تو کرچکے ہیں ‘ اب وہ عذاب ہم پر آخر کب آئے گا ؟ یا اگر قیامت کے بارے میں آپ کا دعویٰ سچا ہے تو ذرا یہ بھی بتادیں کہ قیامت آخر کب برپا ہوگی ؟

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 47–48

46 مشیئت کا سہارا اس وقت لیا جاتا ہے جب جرم اپنا ہو :۔ یہ ہے ان کج بحث اور ہٹ دھرم لوگوں کی خوے بدرا بہانہ بسیار والی بات یعنی وہ خوب جانتے ہیں کہ غریبوں کی مدد کرنا بڑا اچھا اور نیک کام ہے۔ امیری ہو یا غریبی اللہ ہر حال میں سب کی آزمائش کرتا ہے۔ امیروں کی اس طرح کہ وہ غریبوں کو کچھ دیتے ہیں یا نہیں اور غریبوں کی اس طرح کہ وہ اس حال میں صبر اور اللہ کا شکر کرتے ہیں یا نہیں۔ اصل مشیئت تو اللہ کی یہ ہے کہ کسی کو امیر اور کسی کو غریب بنا کر دونوں کی آزمائش کرے جبکہ ان لوگوں کا استدلال یہ ہے کہ اگر اللہ چاہتا تو انہیں خود ہی اپنے پاس سے دے دیتا۔ اور ان کی واضح گمراہی یا ان کا یہ استدلال باطل اسی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 48–50

34۔ قیامت کے فوری وناگہانی وقوع اور اس کی ہولناکیوں کا بیان ہے۔ (آیت) ” ھذا الوعد “۔ یعنی وعدۂ قیامت۔ (آیت) ” متی .... صدقین “۔ سوال محض طنز وتعریض سے تھا۔ (آیت) ” صیحۃ واحدۃ “۔ مراد صورکا نفخہ اول ہیجب سب کے سب ہلاک ہوجائیں گے۔ (آیت) ” صحیۃ “۔ صیغہ نکرہ کی تنوین اظہار عظمت و جلالت کیلئے ہے۔ (آیت) ” توصیۃ “۔ یعنی کسی قسم کی بھی وصیت۔ وصیت کا اشارہ تک۔ التنکیر فی التوصیۃ للتعمیم اے لایقدر علی توصیۃ ما (کشاف)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 33–50

آیت نمبر 33 تا 50 ترجمہ : اور ایک نشانی ان کے لئے مرنے کے بعد زندہ ہونے پر مردہ زمین ہے اٰیۃٌ لھُمْ خبر مقدم ہے اَلْمیتۃُ تخفیف اور تشدید کے ساتھ ہے کہ ہم نے اس کو پانی کے ذریعہ زندہ کیا والارض الخ مبتداء مؤخر ہے، اور ہم نے اس زمین سے غلہ مثلاً گندم پیدا کیا سو اس سے یہ لوگ کھاتے ہیں اور (نیز) ہم نے زمین میں کھجوروں اور اناروں کے باغات پیدا کئے اور اس میں کچھ چشمے جاری کئے تاکہ لوگ اس کے پھل کھائیں، ثمَرہ میں یعنی (ث، م) دونوں میں فتحہ اور ضمہ ہے، یعنی تاکہ مذکورہ کھجور وغیرہ کے پھلوں میں سے کھائیں اور ان پھلوں کو ان کے ہاتھوں نے نہیں بنایا تو پھر یہ لوگ اپنے اوپر خدا تعالیٰ کے انعامات کا شکر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ویقولون متی ھذا الوعد ان کنتم صدقین . اور کافر کہتے ہیں کہ (قیامت آنے کا) یہ وعدہ کب پورا ہوگا ؟ اگر سچے ہو تو اس کے آنے کا وقت بتاؤ۔ کافروں کا یہ خطاب رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں سے تھا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اور یہ کفار مکہ رسول اکرم سے کہتے ہیں کہ یہ وعدہ کب پورا ہوگا اگر تم اپنے اس دعوی میں کہ مرنے کے بعد زندہ ہونا ہے سچے ہو۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَيَقُوْلُوْنَ مَتٰى ھٰذَا الْوَعْدُ : کفار چونکہ قیامت کو نہیں مانتے تھے، اس لیے وہ نبی ﷺ اور مسلمانوں سے کہا کرتے تھے کہ پھر تم قیامت لاتے کیوں نہیں ؟ اچھا، یہ بتاؤ کہ وہ کب آئے گی ؟ اس سے ان کا مقصود تاریخ معلوم ہونے پر اس کی تیاری نہ تھا، بلکہ محض جھٹلانا اور مذاق اڑانا تھا کہ جب وہ فوراً قیامت نہ لاسکیں گے تو ہم کہیں گے قیامت وغیرہ کچھ نہیں۔ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ : یہ الفاظ ابھارنے کے لیے اور جھوٹا ثابت کرنے میں زور پیدا کرنے کے لیے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 45–50

قتادہ نے کہا : ما بین ایدیکم سے مراد تم سے قبل کی امتوں کے واقعات ہیں (1) اور وما خلفکم سے مرادآخرت ہے۔ حضرت ابن عباس ‘ ابن جبیر اور ماجد نے کہا : ما بین ایدیکم سے مراد سابقہ گناہ ہیں (2) اور وما خلفکم سے مراد آنے والے گناہ ہیں حضرت حسن بصری نے کہا : ما بین ایدیکم سے مراد جو تمہاری عمر گزر چکی ہے (3) اور وما خلفکم سے مراد جو باقی ماندہ ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ما بین ایدیکم سے مراد دنیا ہے اور وما خلفکم سے مراد عذاب آخرت ہے ‘ یہ سفیان کا قول ہے۔ ثعلبی نے حضرت ابن عباس ؓ سے اس کے برعکس قول نقل کیا ہے کہ ما بین ایدیکم سے مراد امر آخرت اور اس کے لئے اعمال ہیں اور وما خلفکم سے مراد دنیاوی امور…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 43–48

7:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وخلقنا لھم من مثلہ ما یرکبون “ سے مراد چوپائے ہیں (آیت) ” وان نشانغرقھم فلا صریح “ (اگر ہم چاہیں تو ان کو ڈبودیں) پھر ان کی کوئی مدد کرنے والا نہ ہوگا جو اس کی مدد کرسکے۔ معذب قوم کے حالات سے عبرت حاصل کرو : 8:۔ عبد الرزاق (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فلاصریح لھم “ یعنی کوئی ان کی مدد کرنے والا نہ ہوگا (آیت) ” ومتاعا الی حین “ (یعنی نفع اٹھانا ہے موت تک) (آیت) ” واذا قیل لھم اتقوامابین ایدیکم “ (اور جب…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَيَقُوْلُوْنَ [اور وہ لوگ کہتے ہیں ] مَتٰى [کب ہے ] ھٰذَا الْوَعْدُ [یہ وعدہ ] اِنْ كُنْتُمْ [اگر تم لوگ ہو ] صٰدِقِيْنَ [سچ کہنے والے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 47–48

منکرین بعث کا قول اور ان کی تردید توحید کے دلائل اور منکرین کے اعراض کا بیان فرمانے کے بعد وقوع قیامت کے یقینی ہونے کا اور منکرین کے استبعاد کا تذکرہ فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا (وَیَقُوْلُوْنَ مَتٰی ھٰذَا الْوَعْدُ اِِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ ) (اور وہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ وعدہ کب ہوگا اگر تم سچے ہو) یعنی تم جو یوں کہتے ہو کہ قیامت آئے گی ہمارے خیال میں یہ تمہاری باتیں ہی باتیں ہیں آتی ہوتی تو کب کی آچکی ہوتی، اس کے واقع ہونے کی جو تم خبر دے رہے ہو اگر تم اس خبر میں سچے ہو تو وقت طے کردو کہ قیامت فلاں وقت آئے گی، یہ بات کہنے سے ان کا مقصود وقوع قیامت کا انکار کرنا تھا، اس انکار کو انہوں نے استفہام…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 48–76

منکرین حشر ونشر کی تہدید اور وعید قال اللہ تعالیٰ ویقولون متی ھذا الوعد۔۔۔ الی۔۔۔ انا نعلم ما یسرون وما یعلنون۔ (ربط) گذشتہ آیات میں زیادہ تر دلائل توحید کا ذکر تھا اور اس سے ذرا پہلے وان کل لما جمیع لدینا محضرون میں مسئلہ حشر ونشر کا ذکر تھا اب پھر مسئلہ حشرونشر کی طرف رجوع فرماتے ہیں اور ان کا ایک سوال نقل فرماتے ہیں ویقولون متی ھذا الوعد ان کنتم صدقین : یعنی یہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ قیامت کا وعدہ کب پورا ہوگا اللہ تعالیٰ نے اس کے جواب میں اس کے وقت کے اظہار سے مصلحۃً اعراض فرمایا اور اجمالی طور پر صرف اتنا بتا دیا کہ قیامت نا گہاں آئے گی جب لوگ اپنے کاروبار میں مصروف ہوں گے ناگہاں صور پھونکا…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

32:۔ ویقولون الخ :۔ یہ تخویف اخروی ہے۔ اور اس کے ضمن میں شکوی ہے۔ مشرکین کہتے ہیں یہ قیامت والا وعدہ کب پورا ہوگا ؟ اگر تم سچے ہو تو اس کے وقوع کا صحیح صحیح وقت بتاؤ ؟ ما ینظرون الخ، یہ ان کے سوال کا جواب ہے کہ قیامت قائم ہونے کا معین وقت اللہ کے سوا کسی کو معلوم نہیں اور اللہ کی حکمت بالغہ کا تقاضا بھی یہی ہے کہ اس کے معین وقت کو پوشیدہ رکھا جائے اور اس کا وقوع اچانک ہو، چناچہ جس چیز کا وہ انتظار کر رہے ہیں وہ اچانک ایک ہولناک چیخ کی صورت میں ظاہر ہوگی جو اچانک سب کو پکڑ لے گی جبکہ وہ دنیا کے جھگڑوں میں مصروف ہوں گے۔ فلا یستطیعون الخ، اس ہولناک آواز کے بعد سب فورًا ہی مرجائیں گے اور انہیں…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 41–50

ربط آیات گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کی نشانیوں کا ذکر کیا ہے۔ انہی نشانیوں سے وقوع قیامت پر بھی دلیل قائم ہوتی ہے اور ساتھ ساتھ اللہ کی وحدانیت بھی سمجھ میں آتی ہے۔ تمام نشانیوں کو پیدا کرنے والا صرف اللہ وحدہ لا شریک ہی ہے۔ اللہ نے سورج اور چاند کا ذکر کیا۔ ہر چیز کے جوڑے جوڑے بنانے کا تذکرہ کیا۔ جن میں انسان ، جانور اور نباتات وغیرہ سب شامل ہیں اور یہ ساری نشانیاں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کی دلیل ہیں۔ اب آج کی پہلی آیت میں اللہ نے کشتی کو اپنی قدرت کی نشانی کے طور پر متعارف کرایا۔ ارشاد ہوتا ہے۔ وایۃ لھم اور ان کے لیے ایک نشانی یہ بھی ہے انا حملنا ذریتھم فی الفلک المشحون کہ ہم نے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَيَقُوْلُوْنَ مَتٰى ھٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ۝ 48 قول القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ، ( ق و ل ) القول القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔ متی مَتَى: سؤال عن الوقت . قال تعالی: مَتى هذَا الْوَعْدُ [يونس/ 48] ، ( م ت ی ) متی ۔ یہ اسم استفہام ہے اور کسی کام کا وقت دریافت کرنے کے لئے بولا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے ۔ مَتى هذَا الْوَعْدُ [يونس/ 48] یہ وعدہ کب ( پورا ہوگا ) وعد الوَعْدُ يكون في الخیر والشّرّ. يقال…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 47–50

تفسیر : واذا قیل لہم انفقوا یہ ان کی دوسری بدخاصیت بیان ہے کہ جب ان سے اللہ کی راہ میں دینے کو کہا جاتا ہے تو طعن کی راہ سے کہتے ہیں کہ اس کو اللہ ہی نے نہ دیا تو ہم کیوں دیں، اگر دینا ہوتا تو وہ خود نہ دیتا یعنی ان میں نہ تقویٰ ہے جو تعظیم امر اللہ ہے نہ رحم برخلق اللہ ہے باایں ہمہ دلیری یہ ہے کہ پوچھتے ہیں۔ متی ھذا الوعد کہ قیامت کب آوے گی ؟ اس کے جواب میں فرماتا ہے۔ ماینظرون الخ وہ جب آوے گی تو کچھ دیر نہ لگے گی، صرف اسرافیل ( علیہ السلام) کی ایک ہی چیخ ہوگی۔ نفخہ اولیٰ جس میں بےہوش ہو کر گر پڑیں گے، نہ کچھ اپنے دل کی کہ سکیں گے نہ گھر تک جاسکیں گے جو کوئی جس حال میں ہوگا، اس آواز کے سنتے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 48–50

وَیَقُوْلُوْنَ مَتٰی ھٰذَا الْوَعْدُ اِنْ کُنْـتُمْ صٰدِقِیْنَ ۔ مَا یَنْظُرُوْنَ اِلاَّ صَیْحَۃً وَّاحِدَۃً تَاْخُذُھُمْ وَھُمْ یَخِصِّمُوْنَ ۔ فَلاَ یَسْتَطِیْعُوْنَ تَوْصِیَۃً وَّلَآ اِلٰٓی اَھْلِھِمْ یَرْجِعُوْنَ ۔ (یٰسٓ: 48 تا 50) (اور وہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ یہ قیامت کی دھمکی کب پوری ہوگی، اگر تم لوگ سچے ہو۔ یہ لوگ بس ایک ڈانٹ ہی کے منتظر ہیں جو انہیں آپکڑے گی اس حال میں کہ وہ جھگڑ رہے ہوں گے۔ پس نہ تو وہ کوئی وصیت کرسکیں گے اور نہ اپنے اہل خانہ کی طرف پلٹ سکیں گے۔ ) الْوَعْدُ سے مراد ہم نے ترجمے میں اگرچہ الْوَعْدُ سے قیامت مراد لی ہے لیکن اس سے مراد عذاب بھی لیا جاسکتا ہے۔ کیونکہ آنحضرت…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : بخیل اور گمراہ شخص آخرت کے بارے میں شک کرتا ہے۔ مال کی محبت ایک حد سے آگے بڑھ جائے تو انسان میں بخل پیدا ہوجاتا ہے۔ بخیل انسان عملاً قیامت کا منکر ہوتا ہے مکہ کے اکثر سردار قیامت کے منکر تھے جس وجہ سے وہ نبی ﷺ سے بار بار سوال کرتے کہ جس قیامت کا ہمارے ساتھ وعدہ کیا جاتا ہے وہ وعدہ کب پورا ہوگا ؟ اگر تم سچے ہو تو اس وعدے کے بارے میں بتلاؤ کہ وہ کون سے سال، کس مہینے اور کس دن پورا ہوگا ؟ سورۃ الاعراف کی آیت 187 میں کفار کے اس سوال کا یہ جواب دیا ہے کہ یہ آپ سے قیامت کے بارے میں سوال کرتے ہیں کہ کب نازل ہوگی ؟ ان سے فرمائیں ! اس کا علم میرے رب کے پاس ہے۔ وہ اپنے وقت پر ہر…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

48: وَیَقُوْلُوْنَ مَتٰی ھٰذَا الْوَعْدُ (وہ کہتے ہیں کب ہوگا یہ وعدہ) الوعد سے وعدئہ بعث بعد الموت اور قیامت مراد ہے۔ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ (اگر تم اپنی بات میں سچے ہو) ۔ اس میں رسول اللہ ﷺ اور صحابہ ؓ کو مخاطب کیا گیا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

48۔۔۔۔۔۔۔۔ ، ویقولون متی ھذا الو عد، یعنی قیامت اور بعث کا وقت کب ہوگا۔ ، ان کنتم صادقین،۔۔۔۔۔۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 48–53

48 تا 52۔ جس طرح کوئی کسی چیز کا منتظر ہوتا ہے اس طرح کافر لوگ قیامت کا حال سن کر مسخرا پن اور تعجب سے یہ بات مسلمانوں سے بات مسلمانوں سے کہتے تھے کہ جو کچھ تم قیامت کا حال کہتے ہو کہ مر کر پھر جینا ہوگا اور وہاں آخرت میں ہم پر عذاب ہوگا اور تم بڑے عیش و آرام میں ہوجاؤگے اگر یہ تمہارا بیان سچ ہے تو آخر اس کا ظہور کب ہوگا اور قیامت کی ابتدا پہلے صور سے ہوگی جس کو نفخۃ الفزع کہتے ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کافروں کے جواب میں فرمایا کہ جب یہ لوگ ایک منتظر آدمی کی طرح قیامت کے انتظار میں ہیں تو ان کو ایک سخت آواز کا انتظار کرنا چاہئے کہ لوگ اپنے دنیا کے کاروبار میں معمول کے موافق اسی طرح مصروف…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 41–51

آیت 41 نیز یہ امر کی دلل ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی اکیلا معبود برحق ہے کیونکہ وہی اکیلا نعمتیں عطا کرتا ہے اور مصائب و شدائد کو دور کرتا ہے اور اس کی جملہ نعمتوں میں ایک نعمت یہ ہے کہ (انا حملنا ذریتھم) ” ہم نے ان کی اولاد کو سوار کیا۔ “ بہت سے مفسرین کی رائے ہے کہ اس سے مراد ان کے آباء و اجداد ہیں (وخلقنا لھم) ” اور ہم نے ان کے لئے پیدا کیں۔ “ یعنی موجود اور آنے والے لوگوں کے لئے (من مثلہ) ” ویسی ہی “ اس کشتی جیسی یعنی اس کی جنس میں سے (مایرکبون) ” جس پر یہ سواری کرتے ہیں۔ “ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے آباؤ اجداد پر اپنی نعمت کا ذکر فرمایا کہ اس نے ان کو کشتی میں سوار کرایا۔ ان پر نعمت کا فیضان…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 42–67

قول باری ہے (وخلقنا لھم من مثلہ ما یرکبون اور ہم نے ان کے لئے اسی کشتی جیسی چیزیں اور بھی پیدا کی ہیں جس پر یہ سوار ہوتے ہیں) حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے ” یعنی حضرت نوح (علیہ السلام) کی کشتی کے بعد دوسری کشتیاں “۔ حضرت ابن عباس ؓ سے ایک اور روایت بھی ہے اور مجاہد سے بھی کہ اونٹ خشکی کے جہاز ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

51 منکرین کی طرف سے مطالبہ عذاب ۔ والعیاذ باللہ : سو اس ارشاد سے واضح فرمایا گیا کہ یہ لوگ دعوت حق کے لیے کان دھرنے اور حق کو قبول کرنے کی بجائے مذاق و استہزا کے طور پر کہتے کہ آخر کب پوری ہوگی تمہاری یہ دھمکی اگر تم سچے ہو ؟۔ اور یہ استفہام کوئی جاننے اور ماننے کے لئے نہیں تھا کہ اگر ہمیں اس کا صحیح وقت اور تاریخ بتادی جائے تو ہم اس پر ایمان لے آئیں گے بلکہ ان کا یہ پوچھنا دراصل تکذیب و استہزاء کے طور پر تھا کہ عذاب اور قیامت وغیرہ کچھ ہونے کا نہیں۔ یہ سب کچھ محض دھمکی اور خام خیالی ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو یہ ان کی بےحسی اور بدبختی کی انتہاء ہے اور یہ اللہ پاک ہی کا حلم اور کرم ہے کہ وہ انکو…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 48–74

حشر کا میدان اور نیک و بد کا انجام تشریح : یہاں کفار مکہ کا اور آج کل کے ملحد وغیرہ لوگوں کا ذکر ہے کہ وہ قیامت کو ناقابل یقین سمجھتے ہوئے کہتے ہیں کہ کب آئے گی قیامت ؟ قیامت جب آئے گی تو اتنی اچانک اور شدید ہوگی کہ کسی کو سمجھ میں ہی نہ آئے گا کہ کیا ہوگیا ہے۔ قیامت سے پہلے چھوٹی قیامت یں اور ہلکے پھلے عذاب تو انسانوں کی نافرمانی کی وجہ سے آتے رہتے ہیں جن کا مقصد انسانوں کو جھنجھوڑنا ہوتا ہے۔ کہیں طوفان بادو باراں، کہیں زلزلہ اور کہیں کسی دوسری شکل میں آفات ارضی و سماوی۔ اسی طرح بڑی اور فیصلہ کن قیامت پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی مگر یہ بھی صرف اس دنیا کی قیامت ہوگی پوری کائنات قائم و…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 33–50

رکوع نمبر 3: آیات 33 تا 50: اسرار و معارف : اللہ کی قدرت کاملہ کا ایک بڑا مظہر تو مردہ زمین ہے جس پر یہ رہتے بستے ہیں جب اس پہ خشک سالی آتی ہے تو وہ بالکل اجاڑ ہوجاتی ہے ہر طرف گرد اڑتی ہے مگر جب اللہ چاہتے ہیں تو اس کی گود زندگی سے بھر دیتے ہیں اور ذرے ذرے سے زندگی ابلتی ہے پھل پھول اناج پیدا ہو کر نہ صرف زمین کی زندگی کا ثبوت دیتے ہیں بلکہ خود انسانوں کو زندہ رکھنے کا سبب بن جاتے ہیں یہی تو ان کی روز مرہ کی غذا ہے۔ زمین کے بعض حصوں کو ہم نے سرسبزی عطا کردی ہے کہ یہ بھی ضروری نہیں کہ وہ خشک ہو کر ہری ہو ہم نے اس میں چشمے جاری کردئیے اور اس کا سینہ باغات سے سجا دیا کہ ان لوگوں کے پاس بھی ایسے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 48–49

ف 2 مراد نضخہ فزع یعنی نضخہ اولیٰ ہے واللہ اعلم۔ (ابن کثیر) 3 یعنی قیامت نا گہاں آئے گا اور وہ اپنے معاملات میں مشغول ہوں گے۔ ( موضح)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(36:48) ھذا الوعد۔ یہ وعدہ ۔ یعنی یہ قیامت کے آنے کا وعدہ۔ ان کنتم صدقین۔ ان شرطیہ ہے ای ھاتوا برھانکم ان کنتم صدقین کوئی دلیل لائو اگر تم سچے ہو کہ قیامت ضرور آئے گی

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 45–54

لغات القرآن : آیت نمبر 45 تا 54 :۔ بین ایدی ( سامنے) خلف ( پیچھے) انطعم (کیا ہم کھلائیں) صحیۃ (چنگھاڑ، زور دار آواز) یخصمون ( وہ جھگڑ رہے ہوں گے) الاجداث (قبریں) ینسلون ( وہ دوڑیں گے) لاتجزون ( بدلہ نہ دیئے جائیں گے) ۔ تشریح آیت نمبر 45 تا 54 :۔ نبی کریم ﷺ جب کفار و مشرکین سے کہتے کہ میں جن آیات اور کلام الٰہی کو لے کر آیا ہوں اس پر ایمان لائو۔ اللہ کا خوف اختیار کرو تا کہ تم پر دنیا میں اور آخرت میں رحم و کرم ناز ل کیا جائے اور اپنے سے غریب ، مفلس اور ضرورت مندوں پر اپنا مال خرچ کرو ۔ تو وہ اللہ کی آیات اور نبی کریم ﷺ کی باتوں کا مذاق اڑاتے اور جاہلانہ اعتراضات کر کے اپنے آپ کو مطمئن ظاہر کر…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 48–53

قیامت کس حالت میں قائم ہوگی۔ (ف 1) مشرکین مکہ کو جب پہلی قوموں کے حال سے ڈرنے کو کہاجاتا ہے اور ان کی گمراہی کے آئندہ کے نتیجہ کی انہیں یاد دلائی جاتی ہے تو بجائے راہ راست پر آنے کے یہ لوگ قرآن کی ان نصیحتوں کو ٹال دیتے تھے اسی طرح جب ان لوگوں سے یہ کہا جاتا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے تم کو خوشحال جو کیا ہے اس کے شکریہ میں غریب محتاج لوگوں کے ساتھ کچھ سلوک کیا کرو، تو اس کے جواب میں یہ لوگ کہتے تھے کہ کیا ان لوگوں کو کھانا کھلاویں اور کچھ خیرات دین جس کے اعتقاد میں یہ ہے کہ اللہ ہی ان کو رزق دے سکتا ہے تم لوگ جاباوجود اس بات کے کہ خدا کو رازق سمجھے ہوئے ہو اور پھر ہم سے کہتے کہ غریب اور محتاج…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 47–49

[18] منکرین بطور تمسخر کہتے کہ وہ اللہ کی مشیت کے خلاف کرنا نہیں چاہتے۔ اگر اس کی مشیت ہوتی تو ان کو فقیر و محتاج اور ہمیں غنی و تونگر نہ بناتا۔ پھر ہم انہیں کیوں کھلائیں جنہیں اللہ نے کھانے کو نہیں دیا۔ ان کا یہ طنز نہایت مہمل تھا کیونکہ اللہ کی رزاقی بھی تو اس کی ہر صفت کی طرح اس عالم اسباب میں انسانوں ہی کے واسطے سے ظہور کرتی ہے۔ مسلمانوں نے یہ دعویٰ کب کیا تھا کہ اللہ تعالیٰ اس دنیا میں رزاق بلاواسطہ ہے۔ علاوہ ازیں یہ دنیا دارالامتحان ہے۔ فقیری اور امیری دونوں آزمائشیں ہیں۔ فقیر کی آزمائش صبر سے اور غنی کی اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے۔ [19] یعنی تم مسلمان خود صریح گمراہی میں پڑے ہو کہ ایسے…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 40–50

قرآن اور نظریات جدیدہ 2: یہ مسئلہ کہ آفتاب گھومتا ہے یا زمین اور چاند کی گردش کس نوع کی ہے ؟ اس کا تعلق مذہب کے ساتھ بالکل نہیں ہے ۔ یہ فلکیات کی بحث میں ہے اور مذہب کا موضوع بحث یہ ہے ۔ کہ کس طرح دلوں کو شرک کی آلودگیوں سے پاک کیا جاسکتا ہے ؟ اور کیونکر انسانوں کو فلاح و بہبود کا درس دیاجاسکتا ہے ۔ مذہب ان مسائل سے تعرض کرتا ہے ۔ کہ وہ کون تعلیمات ہیں ۔ جو لحمہ انسانی کے لئے باعث برکت وسعادت قرار پاسکتی ہیں ۔ اور وہ کون پیغام ہے جس کو اللہ کا پیغام کہا جاسکتا ہے ۔ یہ سائل کہ زمین پپٹی ہے گول ۔ ستاروں کی حرکت مداری ہے یا محوری آفتاب کی روشنی کس نوع کی ہے ۔ کسوف وخسوف کے واقعات کیوں ظہور پذیر…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(48) اور یہ منکرین قیامت کہتے ہیں اگر تم سچے ہو تو بتائو یہ وعدہ کب پورا ہوگا۔ یعنی آخر یہ قیامت کب واقع ہوگی اور ہمارے عذاب کا وعدہ کب ظہور پذیر ہوگا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 48–49

ف 2۔ اوپر مضمون توحید اور اس کے ساتھ ترہیب عذاب آخرت سے اجمالا مذکور تھا۔ اب احوال آخرت کسی قدر تفصیل کے ساتھ مذکور ہیں، اور اس کے اخیر میں لو نشاء لطمسنا سے احتمال عذاب دنیا سے تہدید ہے جس سے مابین ایدیکم کی ایک گونہ شرح ہوگئی۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

وہ کہتے ہیں کہ وہ وعدہ کب آئے گا ؟ ایک بات کرو اگر تم سچے ہو : 48۔ یہ سوال بھی ان کا کوئی نیا سوال نہیں بلکہ یہ وہی سوال ہے جو اس سے پہلے ساری قومیں کرتی رہیں اور اپنے اپنے نبی سے یہ مطالبہ جاری رکھا کہ تم جو ہم کو ایک برے دن کے عذاب سے ڈراتے ہو تو وہ برے دن کا عذاب اور برا دن آخر آئے گا کب ؟ اگر تم سچے ہو تو اس کا جواب جلدی فراہم کرو اور اس سوال سے ان کا مدعا ؟ بلاشبہ ان کا مدعا اصلاح کا نہیں تھا بلکہ وہ مذاقا اس طرح پوچھا کرتے تھے اور ان لوگوں نے بھی یہ بطور مذاق ہی سوال کیا ہے گویا یہ بات کو سمجھنا نہیں چاہتے بلکہ الجھنا چاہتے ہیں اور اسلام اپنے ماننے والوں کو الجھنے سے روکتا اور منع کرتا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 45–48

Commentary In the previous verses, through a description of Divine manifestations of power and wisdom in the creation of the heavens and the earth, people were invited to recognize their creator and believe that He alone is worthy of worship and, on the acceptance of this invitation, a promise of everlasting blessings was made along with a warning of severe punishment on its rejection. In the present verses and in the verses following these, there is a description of the disbelieving people of Makkah who were their direct addressees and who remained unmoved and unaffected either when…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 48–49

44 After Tauhid the other question about which a dispute was raging between the Holy Prophet and the disbelievers was the question of the Hereafter. Rational arguments about this have been given in the end of the discourse. Here, before giving the arguments, the Hereafter has been depicted with all its horrors so that the people should know that what they are refusing to believe in cannot be averted by their denial, but they have to meet and experience it one day inevitably. 45 The question did not mean that they wanted to know the exact date of the coming of the Hereafter, and if, for…

Read the full tafseer →