Explained with ayahs 45–47
کفار کا تکبر۔
کافروں کی سرکشی نادانی اور عناد تکبر بیان ہو رہا ہے کہ جب ان سے گناہوں سے بچنے کو کہا جاتا ہے کہ جو کرچکے ان پر نادم ہوجاؤ ان سے توبہ کرلو اور آئندہ کے لئے ان سے احتیاط کرو۔ اس سے اللہ تم پر رحم فرمائے گا اور تمہیں اپنے عذابوں سے بچا لے گا۔ تو وہ اس پر کار بند ہوا تو ایک طرف اور منہ پھلا لیتے ہیں، قرآن نے اس جملے کو بیان نہیں فرمایا کیونکہ آگے جو آیت ہے وہ اس پر صاف طور سے دلالت کرتی ہے۔ اس میں ہے کہ یہی ایک بات کیا ؟ ان کی تو عادت ہوگئی ہے کہ اللہ کی ہر بات سے منہ پھیر لیں۔ نہ اسکی توحید کو مانتے ہیں نہ رسولوں کو سچا جانتے ہیں نہ ان میں غور و خوض کی عادت نہ ان میں قبولیت کا…
Read the full tafseer →سورة یٰسٓ 43
اس سے یہ بتانا مقصود ہے کہ کفر نے صرف ان کی عقل ہی اندھی نہیں کی ہے بلکہ ان کی اخلاقی حس کو بھی مردہ کردیا ہے۔ وہ نہ خدا کے بارے میں صحیح تفکر سے کام لیتے ہیں، نہ خلق کے ساتھ صحیح طرز عمل اختیار کرتے ہیں۔ ان کے پاس ہر نصیحت کا الٹا جواب ہے۔ ہر گمراہی اور بد اخلاقی کے لیے ایک اوندھا فلسفہ ہے۔ ہر بھلائی سے فرار کے لیے ایک گھڑا گھڑایا بہانا موجود ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–47
خلاصہ تفسیر
اور جب ان لوگوں سے (دلائل توحید اور اس کے نہ ماننے پر عذاب کی وعید سنا کر) کہا جاتا ہے کہ تم لوگ اس عذاب سے ڈرو جو تمہارے سامنے (یعنی دنیا میں آسکتا) ہے (جیسے اوپر کی (آیت) وان نشاء نغرقہم میں بیان فرمایا کہ کشتی کا صحیح سالم منزل پر پہنچانا اللہ کی قدرت و مشیت سے ہے، وہ چاہے تو غرق کرسکتا ہے۔ غرض دنیا میں غرق کا عذاب بھی آسکتا ہے اور دوسرے عذاب بھی) اور جو تمہارے (مرے) پیچھے (یعنی آخرت میں یقینی آنے والا) ہے، (مطلب یہ ہے کہ انکار توحید کی وجہ سے جو عذاب تم پر آنے والا ہے، خواہ صرف آخرت میں یا دنیا میں بھی، تم اس عذاب سے ڈرو اور ایمان لے آؤ) تاکہ تم پر رحمت کی جائے (تو وہ اس ترہیب…
Read the full tafseer →آیت 47
اوپر والی آیت میں ان کی جس بےحسی اور سنگدلی کی طرف اشارہ ہے یہ اس کی ایک مثال بیان ہوئی ہے کہ جب ان کو شکر کی دعوت دی جاتی ہے، جیسا کہ اوپر آیات 35 میں ہے۔ ’ لیاکلوا من ثمرہ وما عملتہ ایدیھم افلا یشکرون ‘ تو یہ رعونت کے ساتھ اس کا مذاق اڑاتے ہیں۔ چناچہ جب ان سے کہا جتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو رزق و فضل تم کو بخشا ہے اس کا حق یہ ہے کہ اس میں سے اللہ کی راہ میں خرچ کرو اور ان غریبوں کی مدد کرو جو مدد کے محتاج ہیں تو وہ مسلمانوں کو یہ جواب دیتے ہیں کہ یہ تمہاری صریح گمراہی ہے کہ جن کو اللہ نے محروم رکھنا چاہا ہے ان کو تم کھلانا چاہتے ہو۔ اگر اللہ ان کو بھی ہماری طرح کھلانا پہنانا چاہتا تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–48
47۔ 1 یعنی غربا مساکین اور ضرورت مندوں کو دو۔
47۔ 2 یعنی اللہ چاہتا تو ان کو غریب ہی نہ کرتا، تاہم ان کو دے کر اللہ کی مشیت کے خلاف کیوں کریں۔ یعنی یہ کہہ کر، غربا کی مدد کرو، کھلی غلطی کا مظاہرہ کر رہے ہو۔ یہ بات تو ان کی صحیح تھی کہ غربت و ناداری اللہ کی مشیت ہی سے تھی، لیکن اس کو اللہ کے حکم سے اعراض کا جواز بنا لینا غلط تھا، آخر انکی امداد کرنے کا حکم دینے والا بھی تو اللہ ہی تھا، اس لیے اسکی رضا تو اسی میں ہے کہ غرباء و مساکین کی امداد کی جائے۔ اس لیے کہ مشیت اور چیز ہے اور رضا اور چیز مشیت کا تعلق امور تکوینی سے ہے جس کے تحت جو کچھ بھی ہوتا ہے، اس کی حکمت و مصلحت اللہ کے سوا کوئی نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–64
18: کشتی جیسی دوسری سواری کی تشریح عام طور سے مفسرین نے اونٹوں سے کی ہے، کیونکہ اہل عرب اونٹوں کو صحرا کا جہاز کہا کرتے تھے۔ لیکن قرآن کریم کے الفاظ عام ہیں جس میں کشتی کے مشابہ ہر طرح کی سواریاں داخل ہیں، بلکہ عربی قواعد کی رو سے آیت کا ترجمہ اس طرح بھی کیا جاسکتا ہے کہ : ہم نے ان کے لیے اسی جیسی اور چیزیں بھی پیدا کی ہیں جن پر یہ (آئندہ) سواری کریں گے۔ اس صورت میں وہ تمام سواریاں اس عبارت میں داخل ہوجاتی ہیں جو قیامت تک پیدا ہوں گی، مثلاً آبدوزیں، اور ہوائی جہاز جو اس لحاظ سے کشتی کے مشابہ ہیں کہ کشتی پانی پر تیرتی ہے، اور ہوائی جہاز ہوا پر تیرتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–47
واذا قیل لھم۔۔۔۔ عنھا معرضین (36: 45 – 46) ” ان لوگوں سے جب کہا جاتا ہے کہ بچو اس انجام سے جو تمہارے آگے آرہا ہے اور تمہارے پیچھے گزر چکا ہے ، شاید کہ تم پر رحم کیا جائے (تو یہ سنی ان سنی کر جاتے ہیں) ۔ ان کے سامنے ان کے رب کی آیات میں سے جو آیت بھی آتی ہے ، یہ اس کی طرف التفات نہیں کرتے “۔
اور اگر ان لوگوں سے کہا جاتا ہے کہ تم اپنی دولت میں سے کچھ فقراء پر بھی خرچ کرو تو وہ مزاح کرتے ہوئے کہتے ہیں۔
انطعم من ۔۔۔۔۔ ضلل مبین (36: 48) ” کیا ہم ان کو کھلائیں جنہیں اگر اللہ چاہتا تو خود کھلاتا ؟ تم تو بالکل ہی بہک گئے ہو “۔ مزاح کے علاوہ یہ لوگ ان لوگوں پر گمراہی کا الزام لگاتے جو ان کو دعوت انفاق…
Read the full tafseer →2 یعنی اور احکام الٰہی تو کیا مانتے، فقیروں مسکینوں پر خرچ کرنا تو ان کے نزدیک بھی کار ثواب ہے لیکن یہ ہی مسلم بات جب پیغمبر اور مومنین کی طرف سے کہی جاتی ہے تو نہایت بھونڈے طریقہ سے تمسخر کے ساتھ یہ کہہ کر اس کا انکار کردیتے ہیں کہ جنہیں خود اللہ میاں نے کھانے کو نہیں دیا ہم انہیں کیوں کھلائیں۔ ہم تو اللہ کی مشیت کے خلاف کرنا نہیں چاہتے اگر اس کی مشیت ہوتی تو ان کو فقیر و محتاج اور ہمیں غنی و تونگر نہ بناتا۔ خیال کرو اس حماقت اور بےحیائی کا کیا ٹھکانہ ہے۔ کیا خدا کسی کو دینا چاہے تو اس کی یہ ہی ایک صورت ہے کہ خود بلا واسطہ رزق اس کے ہاتھ پر رکھ دے۔ اگر وسائط سے دلانا بھی اس کی مشیت سے ہے تو…
Read the full tafseer →آیت 47 { وَاِذَا قِیْلَ لَہُمْ اَنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقَکُمُ اللّٰہُ } ”اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ خرچ کرو اس میں سے جو اللہ نے تمہیں دیا ہے“
یعنی اللہ کے دیے ہوئے رزق میں سے غریبوں کی حاجت روائی کرو ‘ بھوکوں کو کھلائو ‘ یتیموں کی سرپرستی کرو ‘ خلق ِخدا کی بہبود اور بھلائی کے دوسرے کاموں میں خرچ کرو۔
{ قَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَنُطْعِمُ مَنْ لَّوْ یَشَآئُ اللّٰہُ اَطْعَمَہٗٓ} ”تو یہ کافر کہتے ہیں اہل ِ ایمان سے کہ کیا ہم انہیں کھلائیں جنہیں اللہ چاہتا تو خود کھلا دیتا !“
اس کے جواب میں ان کی دلیل یہ ہوتی ہے کہ اللہ تو ہرچیز پر قادر ہے۔ وہ اگر چاہتا کہ یہ لوگ بھوکے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–48
46 مشیئت کا سہارا اس وقت لیا جاتا ہے جب جرم اپنا ہو :۔ یہ ہے ان کج بحث اور ہٹ دھرم لوگوں کی خوے بدرا بہانہ بسیار والی بات یعنی وہ خوب جانتے ہیں کہ غریبوں کی مدد کرنا بڑا اچھا اور نیک کام ہے۔ امیری ہو یا غریبی اللہ ہر حال میں سب کی آزمائش کرتا ہے۔ امیروں کی اس طرح کہ وہ غریبوں کو کچھ دیتے ہیں یا نہیں اور غریبوں کی اس طرح کہ وہ اس حال میں صبر اور اللہ کا شکر کرتے ہیں یا نہیں۔ اصل مشیئت تو اللہ کی یہ ہے کہ کسی کو امیر اور کسی کو غریب بنا کر دونوں کی آزمائش کرے جبکہ ان لوگوں کا استدلال یہ ہے کہ اگر اللہ چاہتا تو انہیں خود ہی اپنے پاس سے دے دیتا۔ اور ان کی واضح گمراہی یا ان کا یہ استدلال باطل اسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–47
33۔ یہ بیان ہے منکرین کی مستقل قساوت قلب اور عدم تاثر کا۔ (آیت) ” من ایۃ ‘ من زائدہ تاکید واستغراق کے لئے ہے۔ متکبرین رؤساء قریش سے جب کہا جاتا تھا کہ غریبوں مسکینوں کی اعانت کرو (جو عموما مسلمان ہی تھے) تو وہ طنزیہ جواب یہ دیتے تھے کہ ہم سے ان غریبوں کی اعانت کو کہتے ہو۔ حالانکہ تمہیں یہ بھی کہتے ہو کہ تمہارا خدا رزاق مطلق ہے، وہ جس کو چاہے روزی دے، تو خود وہ کیوں نہیں انہیں روزی دیتا۔ طنز عجیب مہمل تھا۔ خدا کی رزاقی بھی تو اسی کی ہر صفت کی طرح اسی عالم اسباب میں انسانوں ہی کے واسطہ سے ظہور کرتی ہے۔ مسلمانوں کا یہ دعوی کب تھا کہ اللہ تعالیٰ اس دنیا میں عادۃ رزاق بلاواسطہ اور بلاذریعہ اسباب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–50
آیت نمبر 33 تا 50
ترجمہ : اور ایک نشانی ان کے لئے مرنے کے بعد زندہ ہونے پر مردہ زمین ہے اٰیۃٌ لھُمْ خبر مقدم ہے اَلْمیتۃُ تخفیف اور تشدید کے
ساتھ ہے کہ ہم نے اس کو پانی کے ذریعہ زندہ کیا والارض الخ مبتداء مؤخر ہے، اور ہم نے اس زمین سے غلہ مثلاً گندم پیدا کیا سو اس سے یہ لوگ کھاتے ہیں اور (نیز) ہم نے زمین میں کھجوروں اور اناروں کے باغات پیدا کئے اور اس میں کچھ چشمے جاری کئے تاکہ لوگ اس کے پھل کھائیں، ثمَرہ میں یعنی (ث، م) دونوں میں فتحہ اور ضمہ ہے، یعنی تاکہ مذکورہ کھجور وغیرہ کے پھلوں میں سے کھائیں اور ان پھلوں کو ان کے ہاتھوں نے نہیں بنایا تو پھر یہ لوگ اپنے اوپر خدا تعالیٰ کے انعامات کا شکر…
Read the full tafseer →واذا قیل لھم انفقوا مما رزقکم اللہ قال الذین کفروا للذین امنوا نطعم من لو یشاء اللہ اطعمہ
اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ نے جو مال تم کو عطا فرمایا ہے ‘ اس میں سے کچھ راہ خدا میں خرچ کرو تو یہ کافر مسلمانوں سے کہتے ہیں : کیا ہم ایسے لوگوں کو کھانے کو دیں کہ اگر اللہ چاہے تو ان کو کھانے کو دے دے ؟
اَنْفِقُوْا یعنی غریبوں کو دو ۔
اَنُطْعِمُ مَنْ لَّوْ یَشَآءُ اللہ اَطْعَمَہْٓ یعنی اللہ نے باوجود قدرت رکھنے کے ان کو کھانے کو نہیں دیا۔ معلوم ہوتا ہے کہ اس کی مشیت ہی نہیں ہے کہ ان کو کھانے کو دیا جائے ‘ اسلئے اللہ کی مشیت کے موافق ہم بھی ان کو کچھ نہیں دیتے۔ بعض روایات میں آیا ہے کہ غریب…
Read the full tafseer →اور جب ان مکہ والوں سے فقراء مومنین کے لیے کہا جاتا ہے کہ جو کچھ تمہیں اللہ نے مال دیا ہے اس میں سے ان فقراء پر خرچ کرو تو یہ کفار مکہ ان فقراء مومنین کے بارے میں یوں کہتے ہیں کیا ہم ایسے ولگوں کو کھانے کو دیں جن کو اگر اللہ چاہے تو خود کھانے کو دے دے۔
اے گروہ مومنین تم تو کھلی غلطی میں گرفتار ہو یا یہ کہ قول اہل ایمان کا ہے کہ انہوں نے کفار سے یہ کہا۔ کہا گیا ہے کہ یہ آیت مبارکہ قریش کے زندیق لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔
Read the full tafseer →وَاِذَا قِيْلَ لَهُمْ اَنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ : یعنی جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں جو کچھ دیا ہے، اس میں فقراء اور مساکین کے جو حقوق ہیں وہ بھی ادا کرو، تو جواب یہ دیتے ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ کا ارادہ ہوتا تو وہ ان فقراء و مساکین کو خود ہی دے دیتا۔ جب اللہ تعالیٰ ہی کا ارادہ انھیں دینے کا نہیں تو ہم انھیں کیوں دیں ؟ تم مسلمان تو صاف گمراہی میں پڑے ہوئے ہو کہ ایسے لوگوں کا پیٹ بھرنا چاہتے ہو جن کا پیٹ اللہ نہیں بھرنا چاہتا۔
مشرکین کی یہ بات محض کٹ حجتی ہے، کیونکہ وہ خود بھی خوب جانتے تھے کہ غریبوں کی مدد کرنا بہت اچھا کام ہے۔ رہا اللہ کے چاہنے کا بہانہ، تو یہ محض…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–50
قتادہ نے کہا : ما بین ایدیکم سے مراد تم سے قبل کی امتوں کے واقعات ہیں (1) اور وما خلفکم سے مرادآخرت ہے۔ حضرت ابن عباس ‘ ابن جبیر اور ماجد نے کہا : ما بین ایدیکم سے مراد سابقہ گناہ ہیں (2) اور وما خلفکم سے مراد آنے والے گناہ ہیں حضرت حسن بصری نے کہا : ما بین ایدیکم سے مراد جو تمہاری عمر گزر چکی ہے (3) اور وما خلفکم سے مراد جو باقی ماندہ ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ما بین ایدیکم سے مراد دنیا ہے اور وما خلفکم سے مراد عذاب آخرت ہے ‘ یہ سفیان کا قول ہے۔ ثعلبی نے حضرت ابن عباس ؓ سے اس کے برعکس قول نقل کیا ہے کہ ما بین ایدیکم سے مراد امر آخرت اور اس کے لئے اعمال ہیں اور وما خلفکم سے مراد دنیاوی امور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–48
7:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وخلقنا لھم من مثلہ ما یرکبون “ سے مراد چوپائے ہیں (آیت) ” وان نشانغرقھم فلا صریح “ (اگر ہم چاہیں تو ان کو ڈبودیں) پھر ان کی کوئی مدد کرنے والا نہ ہوگا جو اس کی مدد کرسکے۔
معذب قوم کے حالات سے عبرت حاصل کرو :
8:۔ عبد الرزاق (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فلاصریح لھم “ یعنی کوئی ان کی مدد کرنے والا نہ ہوگا (آیت) ” ومتاعا الی حین “ (یعنی نفع اٹھانا ہے موت تک) (آیت) ” واذا قیل لھم اتقوامابین ایدیکم “ (اور جب…
Read the full tafseer →وَاِذَا قِيْلَ لَهُمْ [اور جب کہا جاتا ہے ان سے ] اَنْفِقُوْا [تم لوگ خرچ کرو ] مِمَّا رَزَقَكُمُ [اس میں سے جو روزی دی تم کو ] اللّٰهُ ۙ [اللہ نے ] قَالَ الَّذِيْنَ [تو کہتے ہیں وہ لوگ جنہوں نے ] كَفَرُوْا [انکار کیا ] لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا [ان لوگوں سے جو ایمان لائے ] اَنُطْعِمُ [کیا ہم کھلائیں ] مَنْ [انھیں ] لَّوْ يَشَاۗءُ اللّٰهُ [اگر چاہے گا اللہ ] اَطْعَمَهٗٓ ڰ [تو وہ کھلائے گا ان کو ] اِنْ اَنْتُمْ [نہیں ہو تم لوگ ] اِلَّا فِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ [مگر ایک کھلی گمراہی میں ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–48
منکرین بعث کا قول اور ان کی تردید
توحید کے دلائل اور منکرین کے اعراض کا بیان فرمانے کے بعد وقوع قیامت کے یقینی ہونے کا اور منکرین کے استبعاد کا تذکرہ فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا (وَیَقُوْلُوْنَ مَتٰی ھٰذَا الْوَعْدُ اِِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ ) (اور وہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ وعدہ کب ہوگا اگر تم سچے ہو) یعنی تم جو یوں کہتے ہو کہ قیامت آئے گی ہمارے خیال میں یہ تمہاری باتیں ہی باتیں ہیں آتی ہوتی تو کب کی آچکی ہوتی، اس کے واقع ہونے کی جو تم خبر دے رہے ہو اگر تم اس خبر میں سچے ہو تو وقت طے کردو کہ قیامت فلاں وقت آئے گی، یہ بات کہنے سے ان کا مقصود وقوع قیامت کا انکار کرنا تھا، اس انکار کو انہوں نے استفہام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–47
کفار کی سرکشی اور سنگدلی کا بیان
قال اللہ تعالیٰ واذا قیل لہم اتقوا ما بین ایدیکم وما خلفکم۔۔۔ الی۔۔۔ ان انتم الا فی ضلل مبین۔
(ربط) گذشتہ آیات میں دلائل قدرت کو اور اپنی نعمتوں کو ذکر کیا کہ کفر اور شرک سے باز آجائیں اور منعم حقیقی کی طرف متوجہ ہوں اب آئندہ آیات میں کفار کے عناد اور ان کی سنگدلی کو بیان کرتے ہیں کہ بڑے ہی سرکش ہیں کتنے ہی دلائل بیان کرو مگر ان پر کچھ اثر نہیں ہوتا اپنی جہالت اور ضلالت پر سختی سے جمے ہوئے ہیں نہ آگے کی فکر ہے نہ پیچھے کی فکر ہے نہ پچھلے گناہوں کا خیال ہے اور نہ آئندہ گناہوں کی بد انجامی سے خطرہ ہے نوبت بایں جا رسید کہ ضد اور عناد میں ان چیزوں سے بھی اعراض…
Read the full tafseer →31:۔ واذا قیل الخ :۔ یہ شکوی ہے، اس سے معاندین کے عناد و تعنت کی طرف اشارہ ہے۔ جب ان سے کہا جاتا ہے۔ اللہ نے تمہیں جو رزق عطا فرمایا ہے اس میں سے کچھ اللہ کی راہ میں غرباء و مساکین کو بھی دیا کرو۔ قال الذین کفروا الخ، تو وہ ازراہِ عناد و تمسخر جواب دیتے ہیں کہ ہم اللہ کی مشیت اور اس کے معاملات میں دخل دینے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ غریبوں اور مسکینوں کو خود خدا ہی نے محتاج بنایا ہے اگر وہ چاہتا تو ان کو دولت مند بنا دیتا جب اس نے خود ہی ان کو دولت مند نہیں بنایا تو اس کے کام میں دخل دے کر ہم ان مسکینوں کو کیوں دولت مند بنائیں۔ عن ابن عباس ؓ کان بمکۃ زنادقۃ فاذا امروا بالصدقۃ علی المساکین قالوا لا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–50
ربط آیات
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کی نشانیوں کا ذکر کیا ہے۔ انہی نشانیوں سے وقوع قیامت پر بھی دلیل قائم ہوتی ہے اور ساتھ ساتھ اللہ کی وحدانیت بھی سمجھ میں آتی ہے۔ تمام نشانیوں کو پیدا کرنے والا صرف اللہ وحدہ لا شریک ہی ہے۔ اللہ نے سورج اور چاند کا ذکر کیا۔ ہر چیز کے جوڑے جوڑے بنانے کا تذکرہ کیا۔ جن میں انسان ، جانور اور نباتات وغیرہ سب شامل ہیں اور یہ ساری نشانیاں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کی دلیل ہیں۔ اب آج کی پہلی آیت میں اللہ نے کشتی کو اپنی قدرت کی نشانی کے طور پر متعارف کرایا۔ ارشاد ہوتا ہے۔ وایۃ لھم اور ان کے لیے ایک نشانی یہ بھی ہے انا حملنا ذریتھم فی الفلک المشحون کہ ہم نے…
Read the full tafseer →وَاِذَا قِيْلَ لَہُمْ اَنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللہُ 0 ۙ قَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَنُطْعِمُ مَنْ لَّوْ يَشَاۗءُ اللہُ اَطْعَمَہٗٓ 0 ۤۖ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا فِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ 47
نفق
نَفَقَ الشَّيْءُ : مَضَى ونَفِدَ ، يَنْفُقُ ، إِمَّا بالبیع نحو : نَفَقَ البَيْعُ نَفَاقاً ، ومنه : نَفَاقُ الأَيِّم، ونَفَقَ القَوْمُ : إذا نَفَقَ سُوقُهُمْ ، وإمّا بالمَوْتِ نحو : نَفَقَتِ الدَّابَّةُ نُفُوقاً ، وإمّا بالفَنَاءِ نحو : نَفِقَتِ الدَّرَاهِمُ تُنْفَقُ وأَنْفَقْتُهَا . والإِنْفَاقُ قد يكون في المَالِ ، وفي غَيْرِهِ ، وقد يكون واجباً وتطوُّعاً ، قال تعالی:…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–50
تفسیر : واذا قیل لہم انفقوا یہ ان کی دوسری بدخاصیت بیان ہے کہ جب ان سے اللہ کی راہ میں دینے کو کہا جاتا ہے تو طعن کی راہ سے کہتے ہیں کہ اس کو اللہ ہی نے نہ دیا تو ہم کیوں دیں، اگر دینا ہوتا تو وہ خود نہ دیتا یعنی ان میں نہ تقویٰ ہے جو تعظیم امر اللہ ہے نہ رحم برخلق اللہ ہے باایں ہمہ دلیری یہ ہے کہ پوچھتے ہیں۔ متی ھذا الوعد کہ قیامت کب آوے گی ؟ اس کے جواب میں فرماتا ہے۔ ماینظرون الخ وہ جب آوے گی تو کچھ دیر نہ لگے گی، صرف اسرافیل ( علیہ السلام) کی ایک ہی چیخ ہوگی۔ نفخہ اولیٰ جس میں بےہوش ہو کر گر پڑیں گے، نہ کچھ اپنے دل کی کہ سکیں گے نہ گھر تک جاسکیں گے جو کوئی جس حال میں ہوگا، اس آواز کے سنتے…
Read the full tafseer →وَاِذَا قِیْلَ لَہُمْ اَنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقَـکُمُ اللّٰہُ لا قَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَنُطْعِمُ مَنْ لَّوْیَشَآئُ اللّٰہُ اَطْعَمَہٗٓ صلے ق اِنْ اَنْـتُمْ اِلاَّ فِیْ ضَلٰـلٍ مُّبِیْنٍ ۔ (یٰسٓ: 47)
(اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ نے جو رزق تمہیں عطا کیا ہے اس میں سے کچھ اللہ کی راہ میں خرچ کرو، جن لوگوں نے کفر کیا ہے وہ ایمان لانے والوں سے کہتے ہیں کہ کیا ہم ان لوگوں کو کھلائیں جنھیں اگر اللہ چاہتا تو خود کھلا دیتا، تم تو بالکل ایک صریح گمراہی میں پڑگئے ہو۔ )
اخلاقی کج روی اور بےحسی
گزشتہ آیات میں ان کے اعراض کے حوالے سے ان کی سنگدلی کو نمایاں کیا گیا کہ کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–47
فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی نشانیوں سے اعراض کرنے والوں کا انفاق فی سبیل اللہ کے بارے میں رویہ۔
جب کوئی شخص اللہ تعالیٰ کے احکام اور اس کی قدرت کی نشانیوں سے اعراض کرنے کا رویہ اختیار کرلے تو وہ اس بات کو فراموش کردیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو مجھے رزق عطا فرمایا ہے۔ اس میں کسی غریب کا حق بھی پایا جاتا ہے۔ دنیادار مال کی محبت میں اس حد تک مبتلا ہوجاتا ہے کہ اگر اسے انفاق فی سبیل اللہ کی تلقین کی جائے تو وہ کسی غریب پر خرچ کرنے کی بجائے یہ کہتا ہے کہ میں اسے کیوں دوں ؟ جسے اللہ نے کچھ نہیں دیا۔ اگر اللہ تعالیٰ کو اس کی تونگری منظور ہوتی تو وہ خود اسے رزق کی فروانی سے ہمکنار کرتا۔ جب…
Read the full tafseer →یہ پیدائشی فقیر ہیں ‘ ہم ان کو کیوں دیں ؟
47: وَاِذَا قِیْلَ لَھُمْ (اور جب ان سے کہا جاتا ہے) اور جب مشرکین مکہ کو کہا جاتا ہے۔ اَنْفِقُوْا مِمَّارَزَقَکُمُ اللّٰہُ (تم اس میں سے خرچ کرو۔ جو اللہ تعالیٰ نے تمہیں رزق دے رکھا ہے) فقراء پر صدقہ کرو۔ قَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ ٰامَنُوْا اَنُطْعِمُ مَنْ لَّوْ یَشَآ ئُ اللّٰہُ اَطْعَمَہٗ (کافر مسلمانوں کو کہتے ہیں۔ کیا ہم ایسے لوگوں کو کھانا دیں جن کو اللہ تعالیٰ اگر چاہے تو کھانے کو دیدے)
قول ابن عباس ؓ :
مکہ میں کچھ زندیق لوگ تھے جب ان کو مساکین پر خرچ کرنے کیلئے کہا جاتا تو کہتے لا واللہ۔ نہیں اللہ کی قسم ! کیا اللہ تعالیٰ ان کو…
Read the full tafseer →47، واذا قیل لھم انفقوامما رزقکم اللہ ، اللہ نے تمہیں عطا کیا ہے۔ ، قال الذین کفروا للذین امنوا اتطعم، اس سے مراد رزق ہے۔ ، من لویشاء اللہ اطعمہ ، مسلمانوں نے کفارم کہ سے کہا کہ مسکینوں پر خرچ کرو، جن کے متعلق تم گمان کرتے ہو کہ ان کے پاس تمہارے اموال میں سے ہیں جو اللہ کی طرف سے دیئے ہیں اور وہ اللہ کے لیے نہیں دیتے خواہ کھیتیوں میں سے ہوں یا جانورں میں سے ۔ تو وہ کہنے لگے کہ کیا ہم ان کو رزق دیں جس کو اللہ چاہے کہ وہ اس کو رزق دے ، یعنی اللہ نے باوجو دقدت رکھنے کے ان کو کھانا نہیں دیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ اس کی مشیت ہی نہیں ہے کہ ان کو کھا نے کو دیاجائے ۔ اس لیے اللہ کی مشیت کے موافق ہم بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–47
45 تا 47۔ مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ مشرکین مکہ کو جب پہلی قوموں کے حال ڈرنے کو کہا جاتا اور ان کی گمراہی کے آئندہ کے نتیجہ کو انہیں یاد دلایا جاتا تھا تو بجائے راہ راست پر آنے کے یہ لوگ قرآن کی ان نصیحتوں کو ٹال دیتے تھے اسی طرح جب ان لوگوں سے یہ کہا جاتا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے تم کو خوشحال جو کیا ہے اس کے شکریہ میں غریب محتاج لوگوں کے ساتھ کچھ سلوک کیا کرو تو اس کے جواب میں یہ لوگ کہتے تھے کہ جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ غریب و محتاج رکھنا چاہتا ہے ان کے ساتھ سلوک کرنے کا تقاضا نادانی سے خالی نہیں ‘ صحیح قول یہی ہے کہ ان انتم الافی ضلال مبین مشرکین مکہ کا قول ہے اور مطلب اس کا وہی ہے جو اوپر بیان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–51
آیت 41
نیز یہ امر کی دلل ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی اکیلا معبود برحق ہے کیونکہ وہی اکیلا نعمتیں عطا کرتا ہے اور مصائب و شدائد کو دور کرتا ہے اور اس کی جملہ نعمتوں میں ایک نعمت یہ ہے کہ (انا حملنا ذریتھم) ” ہم نے ان کی اولاد کو سوار کیا۔ “ بہت سے مفسرین کی رائے ہے کہ اس سے مراد ان کے آباء و اجداد ہیں (وخلقنا لھم) ” اور ہم نے ان کے لئے پیدا کیں۔ “ یعنی موجود اور آنے والے لوگوں کے لئے (من مثلہ) ” ویسی ہی “ اس کشتی جیسی یعنی اس کی جنس میں سے (مایرکبون) ” جس پر یہ سواری کرتے ہیں۔ “ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے آباؤ اجداد پر اپنی نعمت کا ذکر فرمایا کہ اس نے ان کو کشتی میں سوار کرایا۔ ان پر نعمت کا فیضان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–67
قول باری ہے (وخلقنا لھم من مثلہ ما یرکبون اور ہم نے ان کے لئے اسی کشتی جیسی چیزیں اور بھی پیدا کی ہیں جس پر یہ سوار ہوتے ہیں) حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے ” یعنی حضرت نوح (علیہ السلام) کی کشتی کے بعد دوسری کشتیاں “۔ حضرت ابن عباس ؓ سے ایک اور روایت بھی ہے اور مجاہد سے بھی کہ اونٹ خشکی کے جہاز ہیں۔
Read the full tafseer →49 منکرین کی بےحسی اور مت ماری کا ایک نمونہ : سو اس سے ان منکرین کی بےحسی، ہٹ دھرمی اور مت ماری کا ایک نمونہ و مظہرسامنے آتا ہے کہ جب ان سے اللہ کے دیے ہوئے میں سے کچھ خرچ کرنے کو کہا جاتا ہے جس میں خود انہی کا بھلا ہوتا ہے تو یہ اس کے جواب میں اس طرح کہتے ہیں۔ یعنی ان کی ہٹ دھرمی کا یہ عالم ہے کہ غریبوں پر خرچ کرنا جو کہ ان کے نزدیک بھی نیکی کا کام ہے، جب اس کے بارے میں ان سے کہا جاتا ہے تو اس کے جواب میں یہ لوگ تقدیر کے حیلے و حوالے سے انکار کردیتے ہیں۔ تو پھر ان سے قبول حق کی کیا امید ہوسکتی ہے ؟ ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو ایسے لوگ انفاق فی سبیل اللہ کے حکم وارشاد کے جواب میں کہتے ہیں کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–47
کفار کی فضول باتیں
تشریح : جب مسلمان کفار سے کہتے کہ دنیاوی اور اخروی عذاب سے ڈرو اور اللہ کے دیے ہوئے مال میں سے غریبوں محتاجوں کو دیا کرو تو وہ عجیب حجت بازی کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ” جب اللہ ان کو کھلانا نہیں چاہتا تو ہم کون ہیں کھلانے والے “ حالانکہ یہ کام تو صرف انسان کو آزمانے کے لیے کیا جاتا ہے۔ ” کہ کون انسانی ہمدردی کرتا ہے اور کون نہیں کرتا “۔ ورنہ رزق دینا اللہ کا کام ہے جس کو جتنا چاہے دے یا نہ دے اور پھر اس دنیا میں کسی کو مال و دولت دے کر آزمایا جا رہا ہے اور کسی کو بھوکا رکھ کر آزمایا جا رہا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ہر صورت اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے امیروں کو چاہیے اللہ کے دیے ہوئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–50
رکوع نمبر 3: آیات 33 تا 50:
اسرار و معارف :
اللہ کی قدرت کاملہ کا ایک بڑا مظہر تو مردہ زمین ہے جس پر یہ رہتے بستے ہیں جب اس پہ خشک سالی آتی ہے تو وہ بالکل اجاڑ ہوجاتی ہے ہر طرف گرد اڑتی ہے مگر جب اللہ چاہتے ہیں تو اس کی گود زندگی سے بھر دیتے ہیں اور ذرے ذرے سے زندگی ابلتی ہے پھل پھول اناج پیدا ہو کر نہ صرف زمین کی زندگی کا ثبوت دیتے ہیں بلکہ خود انسانوں کو زندہ رکھنے کا سبب بن جاتے ہیں یہی تو ان کی روز مرہ کی غذا ہے۔
زمین کے بعض حصوں کو ہم نے سرسبزی عطا کردی ہے کہ یہ بھی ضروری نہیں کہ وہ خشک ہو کر ہری ہو ہم نے اس میں چشمے جاری کردئیے اور اس کا سینہ باغات سے سجا دیا کہ ان لوگوں کے پاس بھی ایسے…
Read the full tafseer →ف 1 یعنی یہ کافربجائے اس کے کہ کسی نصیحت کرنے والے کی نصیحت قبول کریں کٹ حجتیاں کرتے ہیں۔ چناچہ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ غریبوں اور مسکینوں کے جو حقوق تمہارے سوال پر عائد ہوتے ہیں ان کو ادا کرو تو وہ تقدیر کا سہارا لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جس کو اللہ تعالیٰ نے باوجود قدرت کے روزی نہیں دی ہم بھی اس کو نہیں دیں گے کیونکہ ہم اللہ تعالیٰ کی مشیت کے خلاف نہیں کرسکتے۔ ( جامع البیان)
Read the full tafseer →(36:47) انطعم میں الف ہمزہ استفہامیہ ہے نطعم مضارع کا صیغہ جمع متکلم ہے کیا ہم کھلائیں ۔ کیا ہم کھانے کو دیں۔
من موصولہ ہے بمعنی الذی۔ لو یشاء اللہ۔ جملہ شرطیہ ہے اطعمہ جواب شرط۔ جس کو اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو خود کھلا دیتا۔
ان انتم الا فی ضلل مبین۔ ان نافیہ الا حرف شرط۔ ضلل مبین موصوف وصفت کھلی گمراہی۔ تم تو صریح گمراہی میں پڑے ہوئے ہو۔ یہ جملہ بھی کافروں کے قول کا تتمہ ہے۔ اگرچہ بعض نے اسے اللہ کی طرف سے کافروں کی بات کا جواب کہا ہے لیکن سیاق وسباق سے قول اول ہی زیادہ صحیح ہے !
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–54
لغات القرآن : آیت نمبر 45 تا 54 :۔ بین ایدی ( سامنے) خلف ( پیچھے) انطعم (کیا ہم کھلائیں) صحیۃ (چنگھاڑ، زور دار آواز) یخصمون ( وہ جھگڑ رہے ہوں گے) الاجداث (قبریں) ینسلون ( وہ دوڑیں گے) لاتجزون ( بدلہ نہ دیئے جائیں گے) ۔
تشریح آیت نمبر 45 تا 54 :۔ نبی کریم ﷺ جب کفار و مشرکین سے کہتے کہ میں جن آیات اور کلام الٰہی کو لے کر آیا ہوں اس پر ایمان لائو۔ اللہ کا خوف اختیار کرو تا کہ تم پر دنیا میں اور آخرت میں رحم و کرم ناز ل کیا جائے اور اپنے سے غریب ، مفلس اور ضرورت مندوں پر اپنا مال خرچ کرو ۔ تو وہ اللہ کی آیات اور نبی کریم ﷺ کی باتوں کا مذاق اڑاتے اور جاہلانہ اعتراضات کر کے اپنے آپ کو مطمئن ظاہر کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–47
(ف 2) ان آیتوں میں فرمایا کہ اور نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ ہم نے اپنی قدرت سے دریا کو بھی تمہارا تابعدار بنادیا کہ تم اس میں جو سامان واسباب کی کشتیاں لیے پھرتے ہو، فرمایا کہ ہم نے ان کے باپ دادوں کو نوح (علیہ السلام) کی کشتی کی مانند چھوٹی بڑی کشتیاں بھی پیدا کردیں جن پر وہ چڑھتے پھرتے ہیں اگر ہم چاہیں تو ان کو ڈبودیں ان کو جو کشتیوں میں سوار ہیں اور پھر کوئی ان کی فریاد کو پہنچنے والا نہیں جو انکو اس مصیبت سے نجات دیوے مگر ہم اپنی رحمت سے دریا اور خشکی میں سفر کراتے ہیں اور ایک وقت مقررہ تک تم کو ہر ایک آفت سے بچاتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–49
[18] منکرین بطور تمسخر کہتے کہ وہ اللہ کی مشیت کے خلاف کرنا نہیں چاہتے۔ اگر اس کی مشیت ہوتی تو ان کو فقیر و محتاج اور ہمیں غنی و تونگر نہ بناتا۔ پھر ہم انہیں کیوں کھلائیں جنہیں اللہ نے کھانے کو نہیں دیا۔ ان کا یہ طنز نہایت مہمل تھا کیونکہ اللہ کی رزاقی بھی تو اس کی ہر صفت کی طرح اس عالم اسباب میں انسانوں ہی کے واسطے سے ظہور کرتی ہے۔ مسلمانوں نے یہ دعویٰ کب کیا تھا کہ اللہ تعالیٰ اس دنیا میں رزاق بلاواسطہ ہے۔ علاوہ ازیں یہ دنیا دارالامتحان ہے۔ فقیری اور امیری دونوں آزمائشیں ہیں۔ فقیر کی آزمائش صبر سے اور غنی کی اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے۔
[19] یعنی تم مسلمان خود صریح گمراہی میں پڑے ہو کہ ایسے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–50
قرآن اور نظریات جدیدہ
2: یہ مسئلہ کہ آفتاب گھومتا ہے یا زمین اور چاند کی گردش کس نوع کی ہے ؟ اس کا تعلق مذہب کے ساتھ بالکل نہیں ہے ۔ یہ فلکیات کی بحث میں ہے اور مذہب کا موضوع بحث یہ ہے ۔ کہ کس طرح دلوں کو شرک کی آلودگیوں سے پاک کیا جاسکتا ہے ؟ اور کیونکر انسانوں کو فلاح و بہبود کا درس دیاجاسکتا ہے ۔ مذہب ان مسائل سے تعرض کرتا ہے ۔ کہ وہ کون تعلیمات ہیں ۔ جو لحمہ انسانی کے لئے باعث برکت وسعادت قرار پاسکتی ہیں ۔ اور وہ کون پیغام ہے جس کو اللہ کا پیغام کہا جاسکتا ہے ۔ یہ سائل کہ زمین پپٹی ہے گول ۔ ستاروں کی حرکت مداری ہے یا محوری آفتاب کی روشنی کس نوع کی ہے ۔ کسوف وخسوف کے واقعات کیوں ظہور پذیر…
Read the full tafseer →(47) اور جب ان دین حق کے منکروں سے کہا جاتا ہے کہ جو کچھ تم کو اللہ تعالیٰ نے دیا ہے اس میں سے کچھ خیرات بھی کرو اور خدا کی راہ میں خرچ کرو تو یہ منکر اہل حق سے یوں کہتے ہیں کیا ہم ایسے لوگوں کو کھانا کھلائیں جن کو اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو کھانا کھلا دے تم لوگ محض گمراہی میں مبتلا ہو۔
یعنی اللہ تعالیٰ نے جو روزی تم کو اپنے کرم اور اپنی عنایت سے دی ہے اس میں سے کچھ مساکین کو بھی دیا کرو تو یہ جواب دیتے ہیں کہ جن کو خدا نے نہیں دیا ان کو ہم کیا دے سکتے ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو ان کو بہت کچھ کھانے کو دے سکتا تھا لیکن جب خدا ہی نے ان کو نہیں دیا تو ہم کیوں دیں۔
ظاہر ہے کہ یہ جواب انتہائی بخل…
Read the full tafseer →ف 1۔ غرض نہ ترہیب سے وہ ایمان لاویں نہ ترغیب سے۔
Read the full tafseer →ان کو جب راہ الہی میں خرچ کرنے کو کہا جاتا ہے تو وہ ناک بھوں چڑھانے لگتے ہیں :
47۔ سرمایہ داری اور غربت ومفلسی کا چولی دامن کا ساتھ ہے ۔ آج تک جتنے سرمایہ داروں کا ذکر قرآن وحدیث میں کیا گیا چند معدودے انسانوں کے سوا اکثریت نے غربت ومفلسی کو کبھی برداشت نہیں کیا اور نہ ہی ان کی انسانیت کا احترام کرنے کی کوشش کی بلکہ ہمیشہ غریبوں اور مفلسوں کو مزید غریب اور مفلس بنانے کا کام کیا ۔ ان کے لیڈروں نے ہمیشہ یہی اعلان کیا کہ ہم غربت ومفلسی کو ختم کرنے کے لیے آئے ہیں تو انہوں نے نتیجۃ غریبوں اور مفلسوں کو ختم کرنے کی کوشش کی تاکہ نہ رہے بانس اور نہ بجے بانسری جب کوئی غریب ہی نہ رہے گا تو ان کے خیال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–48
Commentary
In the previous verses, through a description of Divine manifestations of power and wisdom in the creation of the heavens and the earth, people were invited to recognize their creator and believe that He alone is worthy of worship and, on the acceptance of this invitation, a promise of everlasting blessings was made along with a warning of severe punishment on its rejection. In the present verses and in the verses following these, there is a description of the disbelieving people of Makkah who were their direct addressees and who remained unmoved and unaffected either when…
Read the full tafseer →43 This means to show that disbelief has not only blinded their intellect but has destroyed their moral sense, too. They neither have the right thought about Allah nor do they adopt the right attitude towards the people. They react adversely to every admonition, follow a perverse philosophy in respite of every deviation and immorality and have a ready made pretence for escape from every good.
Read the full tafseer →