Yaseen 36:46

Yaseen · from ayah 46

36:46

وَمَا تَاْتِیْهِمْ مِّنْ اٰیَةٍ مِّنْ اٰیٰتِ رَبِّهِمْ اِلَّا كَانُوْا عَنْهَا مُعْرِضِیْنَ ۟وَمَا تَاۡتِيۡهِمۡ مِّنۡ اٰيَةٍ مِّنۡ اٰيٰتِ رَبِّهِمۡ اِلَّا كَانُوۡا عَنۡهَا مُعۡرِضِيۡنَ

اور ان کے پاس ان کے پروردگار کی کوئی نشانی نہیں آتی مگر اس سے منہ پھیر لیتے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

And no sign comes to them from the signs of their Lord except that they are from it turning away.

— Saheeh International

Juz 23 · Ruku 3 of surah · Ruku 2 of juz

Read the whole surah · Surah Yaseen

All translations of 36:46

اِن کے سامنے اِن کے رب کی آیات میں سے جو آیت بھی آتی ہے یہ اس کی طرف التفات نہیں کرتے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور ان کے پاس ان کے پروردگار کی کوئی نشانی نہیں آتی مگر اس سے منہ پھیر لیتے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور ان کے پاس تو ان کے رب کی نشانیوں میں سے کوئی نشانی ایسی نہیں آئی جس سے یہ بے رخی نہ برتتے ہوں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور ان کے پروردگار کی نشانیوں میں سے کوئی نشانی ایسی نہیں آتی جس سے وہ منہ نہ موڑ لیتے ہوں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور جب کبھی ان کے رب کی نشانیوں سے کوئی نشانی ان کے پاس آتی ہے تو اس سے منہ پھیرلیتے ہیں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور اُن کے رب کی نشانیوں میں سے کوئی (بھی) نشانی اُن کے پاس نہیں آتی مگر وہ اس سے رُوگردانی کرتے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور ان کے پاس ان کے رب کی نشانیوں میں سے کوئی نشانی نہیں آتی مگر وہ اس سے منہ پھیرنے والے ہوتے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور جب بھی ان کے پاس ان کے پروردگار کی نشانیوں میں سے کوئی نشانی آتی ہے تو وہ اس سے اعراض ہی کر جاتے ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور ان کے رب کی نشانیوں میں سے جو نشانی بھی ان کے پاس آتی ہے وہ اس سے اعراض ہی کرنے والے بنے رہتے ہیں۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور ان کے پاس جو بھی کوئی نشانی ان کے رب کی نشانیوں میں سے آتی ہے تو یہ اس سے اعراض (اور سرتابی) ہی کرتے ہیں

— مولانا اسحاق مدنی

اور ان کے پروردگار کی نشانیوں میں سے کوئی بھی نشان ایسا ان کے پاس نہیں آتا کہ یہ اس سے ترتابی نہ کرتے ہوں

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور نہیں آتی ان کے پاس کوئی نشانی ان کے رب کی نشانیوں میں سے مگر یہ اس سے اعراض ہی کرتے ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور ان کے پاس ان کے رب کی طرف سے کوئی نشانی نہیں آئی مگر اس سے منہ پھیر لیتے ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Never does any Sign of their Lord come to them, but they turn away from it.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

There comes to them no sign from the signs of your Lord, but they turn averse to it.

— Muhammad Taqi Usmani

There comes to them no sign from the signs of your Lord, but they turn averse to it.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And never came an Ayah from among the Ayat of their Lord to them, but they did turn away from it.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Never came a token of the tokens of their Lord to them, but they did turn away from it!

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And no sign comes to them from the signs of their Lord except that they are from it turning away.

— Saheeh International

and whenever a revelation out of their Lord's revelations comes to them, they ignore it.

— Muhammad Sarwar

And there comes not to them a communication of the communications of their Lord but they turn aside from it.

— Muhammad Habib Shakir

And not a sign cometh Unto them of the signs of their Lord, but they are ever backsliders therefrom.

— Abdul Majid Daryabadi

Not a Sign comes to them from among the Signs of their Lord, but they turn away therefrom.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 36:46

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 45–47

کفار کا تکبر۔ کافروں کی سرکشی نادانی اور عناد تکبر بیان ہو رہا ہے کہ جب ان سے گناہوں سے بچنے کو کہا جاتا ہے کہ جو کرچکے ان پر نادم ہوجاؤ ان سے توبہ کرلو اور آئندہ کے لئے ان سے احتیاط کرو۔ اس سے اللہ تم پر رحم فرمائے گا اور تمہیں اپنے عذابوں سے بچا لے گا۔ تو وہ اس پر کار بند ہوا تو ایک طرف اور منہ پھلا لیتے ہیں، قرآن نے اس جملے کو بیان نہیں فرمایا کیونکہ آگے جو آیت ہے وہ اس پر صاف طور سے دلالت کرتی ہے۔ اس میں ہے کہ یہی ایک بات کیا ؟ ان کی تو عادت ہوگئی ہے کہ اللہ کی ہر بات سے منہ پھیر لیں۔ نہ اسکی توحید کو مانتے ہیں نہ رسولوں کو سچا جانتے ہیں نہ ان میں غور و خوض کی عادت نہ ان میں قبولیت کا…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة یٰسٓ 42 آیات سے مراد کتاب اللہ کی آیات بھی ہیں جن کے ذریعہ سے انسان کو نصیحت کی جاتی ہے، اور وہ آیات بھی مراد ہیں جو آثار کائنات اور خود انسان کے وجود اور اس کی تاریخ میں موجود ہیں جو انسان کو عبرت دلاتی ہیں، بشرطیکہ وہ عبرت حاصل کرنے کے لیے تیار ہو۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 45–47

خلاصہ تفسیر اور جب ان لوگوں سے (دلائل توحید اور اس کے نہ ماننے پر عذاب کی وعید سنا کر) کہا جاتا ہے کہ تم لوگ اس عذاب سے ڈرو جو تمہارے سامنے (یعنی دنیا میں آسکتا) ہے (جیسے اوپر کی (آیت) وان نشاء نغرقہم میں بیان فرمایا کہ کشتی کا صحیح سالم منزل پر پہنچانا اللہ کی قدرت و مشیت سے ہے، وہ چاہے تو غرق کرسکتا ہے۔ غرض دنیا میں غرق کا عذاب بھی آسکتا ہے اور دوسرے عذاب بھی) اور جو تمہارے (مرے) پیچھے (یعنی آخرت میں یقینی آنے والا) ہے، (مطلب یہ ہے کہ انکار توحید کی وجہ سے جو عذاب تم پر آنے والا ہے، خواہ صرف آخرت میں یا دنیا میں بھی، تم اس عذاب سے ڈرو اور ایمان لے آؤ) تاکہ تم پر رحمت کی جائے (تو وہ اس ترہیب…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

آیت 46 یعنی یہ اعراض و انکار اس طرح ان پر مستولی ہوگیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو آیت بھی ان کی تعلیم و تذکیر کے لئے آتی ہے وہ بالکل بےسود ہو کے رہ گئی ہے۔ کوئی چیز بھی ان کے اوپر کارگر نہیں ہوتی۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

46۔ 1 یعنی توحید اور صداقت رسول کی نشانی بھی ان کے سامنے آتی، اس میں یہ غور ہی نہیں کرتے کہ جس سے ان کو فائدہ ہو، ہر نشانی سے اعراض ان کا شیوہ ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 42–64

18: کشتی جیسی دوسری سواری کی تشریح عام طور سے مفسرین نے اونٹوں سے کی ہے، کیونکہ اہل عرب اونٹوں کو صحرا کا جہاز کہا کرتے تھے۔ لیکن قرآن کریم کے الفاظ عام ہیں جس میں کشتی کے مشابہ ہر طرح کی سواریاں داخل ہیں، بلکہ عربی قواعد کی رو سے آیت کا ترجمہ اس طرح بھی کیا جاسکتا ہے کہ : ہم نے ان کے لیے اسی جیسی اور چیزیں بھی پیدا کی ہیں جن پر یہ (آئندہ) سواری کریں گے۔ اس صورت میں وہ تمام سواریاں اس عبارت میں داخل ہوجاتی ہیں جو قیامت تک پیدا ہوں گی، مثلاً آبدوزیں، اور ہوائی جہاز جو اس لحاظ سے کشتی کے مشابہ ہیں کہ کشتی پانی پر تیرتی ہے، اور ہوائی جہاز ہوا پر تیرتا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 46–47

واذا قیل لھم۔۔۔۔ عنھا معرضین (36: 45 – 46) ” ان لوگوں سے جب کہا جاتا ہے کہ بچو اس انجام سے جو تمہارے آگے آرہا ہے اور تمہارے پیچھے گزر چکا ہے ، شاید کہ تم پر رحم کیا جائے (تو یہ سنی ان سنی کر جاتے ہیں) ۔ ان کے سامنے ان کے رب کی آیات میں سے جو آیت بھی آتی ہے ، یہ اس کی طرف التفات نہیں کرتے “۔ اور اگر ان لوگوں سے کہا جاتا ہے کہ تم اپنی دولت میں سے کچھ فقراء پر بھی خرچ کرو تو وہ مزاح کرتے ہوئے کہتے ہیں۔ انطعم من ۔۔۔۔۔ ضلل مبین (36: 48) ” کیا ہم ان کو کھلائیں جنہیں اگر اللہ چاہتا تو خود کھلاتا ؟ تم تو بالکل ہی بہک گئے ہو “۔ مزاح کے علاوہ یہ لوگ ان لوگوں پر گمراہی کا الزام لگاتے جو ان کو دعوت انفاق…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 45–46

1 سامنے آتا ہے جزاء کا دن اور پیچھے چھوڑے اپنے اعمال یعنی جب کہا جاتا ہے کہ قیامت کی سزا اور بداعمالیوں کی شامت سے بچنے کی فکر کرو تاکہ خدا کی رحمت تمہاری طرف متوجہ ہو تو نصیحت پر ذرا کان نہیں دھرتے۔ ہمیشہ خدائی احکام سے روگردانی کرتے رہتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 46 { وَمَا تَاْتِیْہِمْ مِّنْ اٰیَۃٍ مِّنْ اٰیٰتِ رَبِّہِمْ اِلَّا کَانُوْا عَنْہَا مُعْرِضِیْنَ } ”اور نہیں آتی ان کے پاس کوئی نشانی ان کے رب کی نشانیوں میں سے مگر یہ اس سے اعراض ہی کرتے ہیں۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

45 نشانی سے مراد خرق عادت یا معجزہ بھی ہوسکتا ہے اور قرآن کی آیات بھی کہ قرآن کی ہر آیت بذات خود ایک معجزہ ہے۔ اور آفاق وانفس کی آیات بھی یعنی جب بھی کوئی نشانی ان کے سامنے آتی یا لائی جاتی ہے تو اس میں غور و فکر کرنا بلکہ اسے توجہ سے سننا یا دیکھنا بھی گوارا نہیں کرتے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 46–47

33۔ یہ بیان ہے منکرین کی مستقل قساوت قلب اور عدم تاثر کا۔ (آیت) ” من ایۃ ‘ من زائدہ تاکید واستغراق کے لئے ہے۔ متکبرین رؤساء قریش سے جب کہا جاتا تھا کہ غریبوں مسکینوں کی اعانت کرو (جو عموما مسلمان ہی تھے) تو وہ طنزیہ جواب یہ دیتے تھے کہ ہم سے ان غریبوں کی اعانت کو کہتے ہو۔ حالانکہ تمہیں یہ بھی کہتے ہو کہ تمہارا خدا رزاق مطلق ہے، وہ جس کو چاہے روزی دے، تو خود وہ کیوں نہیں انہیں روزی دیتا۔ طنز عجیب مہمل تھا۔ خدا کی رزاقی بھی تو اسی کی ہر صفت کی طرح اسی عالم اسباب میں انسانوں ہی کے واسطہ سے ظہور کرتی ہے۔ مسلمانوں کا یہ دعوی کب تھا کہ اللہ تعالیٰ اس دنیا میں عادۃ رزاق بلاواسطہ اور بلاذریعہ اسباب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 33–50

آیت نمبر 33 تا 50 ترجمہ : اور ایک نشانی ان کے لئے مرنے کے بعد زندہ ہونے پر مردہ زمین ہے اٰیۃٌ لھُمْ خبر مقدم ہے اَلْمیتۃُ تخفیف اور تشدید کے ساتھ ہے کہ ہم نے اس کو پانی کے ذریعہ زندہ کیا والارض الخ مبتداء مؤخر ہے، اور ہم نے اس زمین سے غلہ مثلاً گندم پیدا کیا سو اس سے یہ لوگ کھاتے ہیں اور (نیز) ہم نے زمین میں کھجوروں اور اناروں کے باغات پیدا کئے اور اس میں کچھ چشمے جاری کئے تاکہ لوگ اس کے پھل کھائیں، ثمَرہ میں یعنی (ث، م) دونوں میں فتحہ اور ضمہ ہے، یعنی تاکہ مذکورہ کھجور وغیرہ کے پھلوں میں سے کھائیں اور ان پھلوں کو ان کے ہاتھوں نے نہیں بنایا تو پھر یہ لوگ اپنے اوپر خدا تعالیٰ کے انعامات کا شکر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وما تاتیھم من ایۃ من ایات ربھم الا کانوا عنھا معرضین . اور ان کے رب کی آیات میں سے کوئی آیت ان کے سامنے نہیں آتی ‘ مگر یہ اس کی طرف سے روگرداں ہوجاتے ہیں۔ یہ آیت سابق آیت کی علت کے طور پر ذکر کی گئی ہے ‘ یعنی جب ان سے ڈرنے کیلئے کہا جاتا ہے تو وہ رخ پھیر لیتے ہیں جس کا ثبوت یہ ہے کہ رب کی ہر آیت سے وہ اعراض کرتے ہیں ‘ یعنی اعراض کرنے اور رخ پھیرنے کے عادی ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اور ان کفار مکہ کے پاس ان کے پروردگار کی نشانیوں میں سے کوئی نشانی ایسی نہیں آئی جس کی یہ تکذیب نہ کرتے ہوں جیسا کہ انشقاق قمر کسوف شمس بعثت رسول اکرم اور نزول کریم۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَمَا تَاْتِيْهِمْ مِّنْ اٰيَةٍ : یعنی صرف اس نصیحت ہی سے نہیں، ان کے پاس ان کے رب کی آیات میں سے جو آیت بھی آتی ہے وہ اس سے منہ پھیر لیتے ہیں، خواہ وہ ان کی ذات یا پوری کائنات میں پھیلی ہوئی آیات اور نشانیاں ہوں اور خواہ اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ آیات ہوں۔ چناچہ وہ نہ اس کی توحید کو مانتے ہیں اور نہ اس کے رسولوں پر ایمان لاتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 45–50

قتادہ نے کہا : ما بین ایدیکم سے مراد تم سے قبل کی امتوں کے واقعات ہیں (1) اور وما خلفکم سے مرادآخرت ہے۔ حضرت ابن عباس ‘ ابن جبیر اور ماجد نے کہا : ما بین ایدیکم سے مراد سابقہ گناہ ہیں (2) اور وما خلفکم سے مراد آنے والے گناہ ہیں حضرت حسن بصری نے کہا : ما بین ایدیکم سے مراد جو تمہاری عمر گزر چکی ہے (3) اور وما خلفکم سے مراد جو باقی ماندہ ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ما بین ایدیکم سے مراد دنیا ہے اور وما خلفکم سے مراد عذاب آخرت ہے ‘ یہ سفیان کا قول ہے۔ ثعلبی نے حضرت ابن عباس ؓ سے اس کے برعکس قول نقل کیا ہے کہ ما بین ایدیکم سے مراد امر آخرت اور اس کے لئے اعمال ہیں اور وما خلفکم سے مراد دنیاوی امور…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 43–48

7:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وخلقنا لھم من مثلہ ما یرکبون “ سے مراد چوپائے ہیں (آیت) ” وان نشانغرقھم فلا صریح “ (اگر ہم چاہیں تو ان کو ڈبودیں) پھر ان کی کوئی مدد کرنے والا نہ ہوگا جو اس کی مدد کرسکے۔ معذب قوم کے حالات سے عبرت حاصل کرو : 8:۔ عبد الرزاق (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فلاصریح لھم “ یعنی کوئی ان کی مدد کرنے والا نہ ہوگا (آیت) ” ومتاعا الی حین “ (یعنی نفع اٹھانا ہے موت تک) (آیت) ” واذا قیل لھم اتقوامابین ایدیکم “ (اور جب…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَمَا تَاْتِيْهِمْ [اور نہیں پہنچتی ان کے پاس ] مِّنْ اٰيَةٍ [کوئی بھی نشانی ] مِّنْ اٰيٰتِ رَبِّهِمْ [ان کے رب کی نشانیوں میں سے ] اِلَّا كَانُوْا [مگر وہ لوگ ہیں ] عَنْهَا [ان سے ] مُعْرِضِيْنَ [اعراض کرنے والے ] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

(وَمَا تَاْتِیْہِمْ مِّنْ اٰیَۃٍ مِّنْ اٰیٰتِ رَبِّہِمْ اِِلَّا کَانُوْا عَنْہَا مُعْرِضِیْنَ ) (اور ان کے پاس ان کے رب کی نشانیوں میں سے جو بھی نشانی آتی ہے اس سے اعراض کرنے والے بن جاتے ہیں۔ ) یہ تو ان کا معاملہ عقیدہ توحید کے ساتھ ہوا جسے وہ قبول کرنے کو تیار نہیں۔ آگے مالی انعامات ہوتے ہوئے جو کنجوسی اور ناشکری کرتے تھے اس کا تذکرہ فرمایا کہ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ جو کچھ اللہ نے تمہیں دیا ہے اس میں سے مسکینوں اور حاجت مندوں پر خرچ کرو، تو خرچ کرنے کی بجائے شرارت سے اور مذاق اڑانے کی نیت سے کافروں نے یوں کہا کیا ہم ان لوگوں کو کھلائیں جو تمہارے ساتھ ایمان قبول کرچکے ہیں اللہ چاہے تو انہیں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 45–47

کفار کی سرکشی اور سنگدلی کا بیان قال اللہ تعالیٰ واذا قیل لہم اتقوا ما بین ایدیکم وما خلفکم۔۔۔ الی۔۔۔ ان انتم الا فی ضلل مبین۔ (ربط) گذشتہ آیات میں دلائل قدرت کو اور اپنی نعمتوں کو ذکر کیا کہ کفر اور شرک سے باز آجائیں اور منعم حقیقی کی طرف متوجہ ہوں اب آئندہ آیات میں کفار کے عناد اور ان کی سنگدلی کو بیان کرتے ہیں کہ بڑے ہی سرکش ہیں کتنے ہی دلائل بیان کرو مگر ان پر کچھ اثر نہیں ہوتا اپنی جہالت اور ضلالت پر سختی سے جمے ہوئے ہیں نہ آگے کی فکر ہے نہ پیچھے کی فکر ہے نہ پچھلے گناہوں کا خیال ہے اور نہ آئندہ گناہوں کی بد انجامی سے خطرہ ہے نوبت بایں جا رسید کہ ضد اور عناد میں ان چیزوں سے بھی اعراض…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

30:۔ وما تاتیہم الخ :۔ ان کی عادت ہی یہی ہے کہ جب بھی انہیں اللہ کی آیتیں، جو اس کی توحید اور کمال قدرت پر دلالت کرتی ہیں، سنائی جاتی ہیں تو وہ ان سے اعراض کرتے ہیں۔ اور ان میں غور و فکر کر کے انہیں سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے۔ ای ما ظہرت لہم ایۃ من الایات التی من جملتہا ما ذکر من شئونہ تعالیٰ الشاھدۃ بوحدانیتہ سبحانہ وتفردہ تعالیٰ بالالوھیۃ الا کانوا عنہا معرضین تارکین النظر الصیح فیہا المؤدی الی الایمان بہ عزو جل (روح ج 23 ص 29) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 41–50

ربط آیات گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کی نشانیوں کا ذکر کیا ہے۔ انہی نشانیوں سے وقوع قیامت پر بھی دلیل قائم ہوتی ہے اور ساتھ ساتھ اللہ کی وحدانیت بھی سمجھ میں آتی ہے۔ تمام نشانیوں کو پیدا کرنے والا صرف اللہ وحدہ لا شریک ہی ہے۔ اللہ نے سورج اور چاند کا ذکر کیا۔ ہر چیز کے جوڑے جوڑے بنانے کا تذکرہ کیا۔ جن میں انسان ، جانور اور نباتات وغیرہ سب شامل ہیں اور یہ ساری نشانیاں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کی دلیل ہیں۔ اب آج کی پہلی آیت میں اللہ نے کشتی کو اپنی قدرت کی نشانی کے طور پر متعارف کرایا۔ ارشاد ہوتا ہے۔ وایۃ لھم اور ان کے لیے ایک نشانی یہ بھی ہے انا حملنا ذریتھم فی الفلک المشحون کہ ہم نے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَمَا تَاْتِيْہِمْ مِّنْ اٰيَۃٍ مِّنْ اٰيٰتِ رَبِّہِمْ اِلَّا كَانُوْا عَنْہَا مُعْرِضِيْنَ۝ 46 أتى الإتيان : مجیء بسهولة، ومنه قيل للسیل المارّ علی وجهه : أَتِيّ وأَتَاوِيّ «5» ، وبه شبّه الغریب فقیل : أتاويّ «6» . والإتيان يقال للمجیء بالذات وبالأمر وبالتدبیر، ويقال في الخیر وفي الشر وفي الأعيان والأعراض، نحو قوله تعالی: إِنْ أَتاكُمْ عَذابُ اللَّهِ أَوْ أَتَتْكُمُ السَّاعَةُ [ الأنعام/ 40] ، وقوله تعالی: أَتى أَمْرُ اللَّهِ [ النحل/ 1] ، وقوله : فَأَتَى اللَّهُ بُنْيانَهُمْ مِنَ الْقَواعِدِ [ النحل/ 26] ، أي : بالأمر والتدبیر، نحو : وَجاءَ رَبُّكَ [ الفجر/ 22] ، وعلی هذا النحو قول الشاعر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 45–46

واذا قیل لہم یہاں سے ان کی سرکشی بیان ہوتی ہے۔ مابین ایدیکم سے مراد دنیاوی مصائب جو سرکشوں پر آیا کرتی ہیں۔ وماخلفکم سے دار آخرت کے مصائب (یہ سفیان کا قول ہے) ۔

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَمَا تَاْتِیْہِمْ مِّنْ اٰیـَۃٍ مِّنْ اٰیٰتِ رَبِّہِمْ اِلاَّ کَانُوْا عَنْھَا مُعْرِضِیْنَ ۔ (یٰسٓ: 46) (ان کے رب کی نشانیوں میں سے جو نشانی بھی ان کے سامنے آتی ہے وہ اس سے اعراض کرتے ہیں۔ ) بگاڑ کی انتہا اللہ تعالیٰ کی ذات اور اللہ تعالیٰ کے دین سے روگردانی ان کی اس حد تک طبیعتِ ثانیہ بن چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی کتاب کی آیات میں سے کوئی آیت بھی ان کی نصیحت کے لیے پڑھی جائے یا اس کی نشانیوں میں سے کوئی نشانی انہیں متنبہ کرنے کے لیے آجائے تو یہ بجائے اس کی طرف التفات کرنے کے اس سے اعراض کرتے ہیں۔ نہ آثار کائنات کی کوئی بات ان پر اثرانداز ہوتی ہے، نہ کوئی معجزہ اپنا اثر چھوڑتا ہے اور نہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 46–47

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی نشانیوں سے اعراض کرنے والوں کا انفاق فی سبیل اللہ کے بارے میں رویہ۔ جب کوئی شخص اللہ تعالیٰ کے احکام اور اس کی قدرت کی نشانیوں سے اعراض کرنے کا رویہ اختیار کرلے تو وہ اس بات کو فراموش کردیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو مجھے رزق عطا فرمایا ہے۔ اس میں کسی غریب کا حق بھی پایا جاتا ہے۔ دنیادار مال کی محبت میں اس حد تک مبتلا ہوجاتا ہے کہ اگر اسے انفاق فی سبیل اللہ کی تلقین کی جائے تو وہ کسی غریب پر خرچ کرنے کی بجائے یہ کہتا ہے کہ میں اسے کیوں دوں ؟ جسے اللہ نے کچھ نہیں دیا۔ اگر اللہ تعالیٰ کو اس کی تونگری منظور ہوتی تو وہ خود اسے رزق کی فروانی سے ہمکنار کرتا۔ جب…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

46: وَمَا تَاْتِیْھِمْ مِّنْ ٰایَۃٍ مِّنْ اٰیٰتِ رَبِّھِمْ اِلَّا کَانُوْا (اور ان کے پاس ان کے رب کی طرف سے کوئی آیت ان کے رب کی آیات میں سے نہیں آئی) عَنْھَامُعْرِضِیْنَ (جس سے یہ سرتابی نہ کرتے ہوں) ۔ نحو : پہلا مِنْ تاکیدنفی کیلئے ہے۔ اور دوسرا تبعیض کیلئے ہے۔ یعنی ان کی عادات ثانیہ ہے کہ ہر موعظت و نصیحت کے وقت اعراض کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

46، وماتاتیھم من آیۃ من آیاتت ربھم ، یہ آپ ﷺ کی سچائی پر دلالت کرتی ہے ۔ ، الا کانوا عنھا معرضین،

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 45–47

45 تا 47۔ مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ مشرکین مکہ کو جب پہلی قوموں کے حال ڈرنے کو کہا جاتا اور ان کی گمراہی کے آئندہ کے نتیجہ کو انہیں یاد دلایا جاتا تھا تو بجائے راہ راست پر آنے کے یہ لوگ قرآن کی ان نصیحتوں کو ٹال دیتے تھے اسی طرح جب ان لوگوں سے یہ کہا جاتا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے تم کو خوشحال جو کیا ہے اس کے شکریہ میں غریب محتاج لوگوں کے ساتھ کچھ سلوک کیا کرو تو اس کے جواب میں یہ لوگ کہتے تھے کہ جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ غریب و محتاج رکھنا چاہتا ہے ان کے ساتھ سلوک کرنے کا تقاضا نادانی سے خالی نہیں ‘ صحیح قول یہی ہے کہ ان انتم الافی ضلال مبین مشرکین مکہ کا قول ہے اور مطلب اس کا وہی ہے جو اوپر بیان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 41–51

آیت 41 نیز یہ امر کی دلل ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی اکیلا معبود برحق ہے کیونکہ وہی اکیلا نعمتیں عطا کرتا ہے اور مصائب و شدائد کو دور کرتا ہے اور اس کی جملہ نعمتوں میں ایک نعمت یہ ہے کہ (انا حملنا ذریتھم) ” ہم نے ان کی اولاد کو سوار کیا۔ “ بہت سے مفسرین کی رائے ہے کہ اس سے مراد ان کے آباء و اجداد ہیں (وخلقنا لھم) ” اور ہم نے ان کے لئے پیدا کیں۔ “ یعنی موجود اور آنے والے لوگوں کے لئے (من مثلہ) ” ویسی ہی “ اس کشتی جیسی یعنی اس کی جنس میں سے (مایرکبون) ” جس پر یہ سواری کرتے ہیں۔ “ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے آباؤ اجداد پر اپنی نعمت کا ذکر فرمایا کہ اس نے ان کو کشتی میں سوار کرایا۔ ان پر نعمت کا فیضان…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 42–67

قول باری ہے (وخلقنا لھم من مثلہ ما یرکبون اور ہم نے ان کے لئے اسی کشتی جیسی چیزیں اور بھی پیدا کی ہیں جس پر یہ سوار ہوتے ہیں) حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے ” یعنی حضرت نوح (علیہ السلام) کی کشتی کے بعد دوسری کشتیاں “۔ حضرت ابن عباس ؓ سے ایک اور روایت بھی ہے اور مجاہد سے بھی کہ اونٹ خشکی کے جہاز ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

48 ۔ اعراض و روگردانی محرومیوں کی محرومی، والعیاذ باللہ۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ جب ان کے پاس ان کے رب کی آیتوں اور نشانیوں میں سے کوئی آیت اور نشانی آتی ہے تو یہ اس سے اعراض اور روگردانی ہی برتتے ہیں اور اس سے نہ موڑے ہی رہتے ہیں، تو پھر ایسے میں ان کو حق و ہدایت کی کوئی روشنی ملے تو کیسے ملے ؟ جبکہ اس کے لیے اصل اور اولیں شرط طلب صادق ہے، سو اعراض و روگردانی اور دعوت حق و ہدایت سے منہ موڑنا اور اعراض و روگردانی برتنا محرومیوں کی محرومی اور خرابیوں کی خرابی ہے، والعیاذ باللہ۔ پس صلاح وف لاح کی اصل اور اساس ہے سننا اور ماننا، اور کائنات کے ا ندر بھی یہی نظام کارفرما ہے، اسی لیے قرآن حکیم میں…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 45–47

کفار کی فضول باتیں تشریح : جب مسلمان کفار سے کہتے کہ دنیاوی اور اخروی عذاب سے ڈرو اور اللہ کے دیے ہوئے مال میں سے غریبوں محتاجوں کو دیا کرو تو وہ عجیب حجت بازی کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ” جب اللہ ان کو کھلانا نہیں چاہتا تو ہم کون ہیں کھلانے والے “ حالانکہ یہ کام تو صرف انسان کو آزمانے کے لیے کیا جاتا ہے۔ ” کہ کون انسانی ہمدردی کرتا ہے اور کون نہیں کرتا “۔ ورنہ رزق دینا اللہ کا کام ہے جس کو جتنا چاہے دے یا نہ دے اور پھر اس دنیا میں کسی کو مال و دولت دے کر آزمایا جا رہا ہے اور کسی کو بھوکا رکھ کر آزمایا جا رہا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ہر صورت اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے امیروں کو چاہیے اللہ کے دیے ہوئے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 33–50

رکوع نمبر 3: آیات 33 تا 50: اسرار و معارف : اللہ کی قدرت کاملہ کا ایک بڑا مظہر تو مردہ زمین ہے جس پر یہ رہتے بستے ہیں جب اس پہ خشک سالی آتی ہے تو وہ بالکل اجاڑ ہوجاتی ہے ہر طرف گرد اڑتی ہے مگر جب اللہ چاہتے ہیں تو اس کی گود زندگی سے بھر دیتے ہیں اور ذرے ذرے سے زندگی ابلتی ہے پھل پھول اناج پیدا ہو کر نہ صرف زمین کی زندگی کا ثبوت دیتے ہیں بلکہ خود انسانوں کو زندہ رکھنے کا سبب بن جاتے ہیں یہی تو ان کی روز مرہ کی غذا ہے۔ زمین کے بعض حصوں کو ہم نے سرسبزی عطا کردی ہے کہ یہ بھی ضروری نہیں کہ وہ خشک ہو کر ہری ہو ہم نے اس میں چشمے جاری کردئیے اور اس کا سینہ باغات سے سجا دیا کہ ان لوگوں کے پاس بھی ایسے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 11 آیات سے مراد قرآن حکیم کی آیات بھی ہوسکتی ہے اور وہ عام نشانات قدرت بھی جو لوگوں کے اپنے اندر اور باہر دوسری کائنات میں پائے جاتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(36:46) وما تاتیہم من ایۃ من ایت ربہم۔ وائو عاطفہ ہے ما نافیہ ہے تاتی مضارع واحد مؤنث غائب ہم ضمیر جمع مذکر غائب جس کا مرجع کفار مکہ ہیں۔ من زائدہ ہے۔ اور تاکید کے لئے لایا گیا ہے من ایت میں من تبعیضیہ ہے ایت مضاف ہے ربہم مضاف مضاف الیہ مل کر ایت کا مضاف الیہ ہے ان کے رب کی آیات ترجمہ ہوگا : اور ان کے پروردگار کی نشانیوں میں سے کوئی بھی نشانی (ایسی ) ان کے پاس آئی۔ الا کانوا عنھا معرضین۔ الا حرف استثناء کانوا معرضین ماضی استمراری معرضین اسم فاعل جمع مذکر منصوب بوجہ خبر کانوا۔ عنھا میں ضمیر واحد مؤنث غائب کا مرجع ایۃ ہے ! مگر یہ کہ وہ اس سے روگردانی ہی کیا کرتے تھے۔ آیت ہذا سابق آیت کی علت…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 45–54

لغات القرآن : آیت نمبر 45 تا 54 :۔ بین ایدی ( سامنے) خلف ( پیچھے) انطعم (کیا ہم کھلائیں) صحیۃ (چنگھاڑ، زور دار آواز) یخصمون ( وہ جھگڑ رہے ہوں گے) الاجداث (قبریں) ینسلون ( وہ دوڑیں گے) لاتجزون ( بدلہ نہ دیئے جائیں گے) ۔ تشریح آیت نمبر 45 تا 54 :۔ نبی کریم ﷺ جب کفار و مشرکین سے کہتے کہ میں جن آیات اور کلام الٰہی کو لے کر آیا ہوں اس پر ایمان لائو۔ اللہ کا خوف اختیار کرو تا کہ تم پر دنیا میں اور آخرت میں رحم و کرم ناز ل کیا جائے اور اپنے سے غریب ، مفلس اور ضرورت مندوں پر اپنا مال خرچ کرو ۔ تو وہ اللہ کی آیات اور نبی کریم ﷺ کی باتوں کا مذاق اڑاتے اور جاہلانہ اعتراضات کر کے اپنے آپ کو مطمئن ظاہر کر…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 41–47

(ف 2) ان آیتوں میں فرمایا کہ اور نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ ہم نے اپنی قدرت سے دریا کو بھی تمہارا تابعدار بنادیا کہ تم اس میں جو سامان واسباب کی کشتیاں لیے پھرتے ہو، فرمایا کہ ہم نے ان کے باپ دادوں کو نوح (علیہ السلام) کی کشتی کی مانند چھوٹی بڑی کشتیاں بھی پیدا کردیں جن پر وہ چڑھتے پھرتے ہیں اگر ہم چاہیں تو ان کو ڈبودیں ان کو جو کشتیوں میں سوار ہیں اور پھر کوئی ان کی فریاد کو پہنچنے والا نہیں جو انکو اس مصیبت سے نجات دیوے مگر ہم اپنی رحمت سے دریا اور خشکی میں سفر کراتے ہیں اور ایک وقت مقررہ تک تم کو ہر ایک آفت سے بچاتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 40–50

قرآن اور نظریات جدیدہ 2: یہ مسئلہ کہ آفتاب گھومتا ہے یا زمین اور چاند کی گردش کس نوع کی ہے ؟ اس کا تعلق مذہب کے ساتھ بالکل نہیں ہے ۔ یہ فلکیات کی بحث میں ہے اور مذہب کا موضوع بحث یہ ہے ۔ کہ کس طرح دلوں کو شرک کی آلودگیوں سے پاک کیا جاسکتا ہے ؟ اور کیونکر انسانوں کو فلاح و بہبود کا درس دیاجاسکتا ہے ۔ مذہب ان مسائل سے تعرض کرتا ہے ۔ کہ وہ کون تعلیمات ہیں ۔ جو لحمہ انسانی کے لئے باعث برکت وسعادت قرار پاسکتی ہیں ۔ اور وہ کون پیغام ہے جس کو اللہ کا پیغام کہا جاسکتا ہے ۔ یہ سائل کہ زمین پپٹی ہے گول ۔ ستاروں کی حرکت مداری ہے یا محوری آفتاب کی روشنی کس نوع کی ہے ۔ کسوف وخسوف کے واقعات کیوں ظہور پذیر…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(46) اور ان کے پروردگار کی نشانیوں میں سے کوئی نشانی اور ان کے پروردگار کے احکام میں سے کوئی حکم ان کے پاس نہیں آتا مگر یہ کہ وہ اس سے روگردانی کرتے ہیں اور منہ پھیر لیتے ہیں۔ یعنی ان کے عناد اور سرکشی کا یہ عالم ہے کہ جو حکم بھی ان کو دیا جاتا ہے اس سے ہی اعراض اور روگردانی کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 38–46

ف 5۔ یہ عام ہے اس نقطہ کو بھی جہاں سے چل کر سالانہ دورہ کر کے پھر اسی نقطہ پر جا پہنچتا ہے، اور اس نقطہ افقیہ کو بھی کہ حرکت یومیہ میں وہاں پہنچ کر غروب ہوجاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ان کے پاس جتنی نشانیاں آئیں ان سے ہمیشہ منہ ہی پھیرا اور مزید کا تقاضا کیا : 46۔ ان کا طریقہ پیچھے سے یہی چلتا آرہا ہے کہ ان کے پاس جب بھی کوئی نشانی آئی تو انہوں نے اس کو دیکھتے ہی اس سے منہ پھیرلیا اور روگردانی کرنے لگے اور نئے ماحول کے نئے تقاضوں کی رٹ انہوں نے لگائی ان کی اس ناجائز اور بیوقوفانہ رٹ نے نہ تو پچھلوں کو کوئی فائدہ دیا اور نہ ہی ان کو کوئی فائدہ ہوگا ‘ پچھلوں نے اپنی دی گئی مہلت کو ضائع کیا اور یہ لوگ اپنی مہلت کو ضائع کر رہے ہیں اور کرتے رہیں گے مثل ہے کہ ” لاتوں کے بھوت باتوں کو نہیں مانتے ۔ “

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 45–48

Commentary In the previous verses, through a description of Divine manifestations of power and wisdom in the creation of the heavens and the earth, people were invited to recognize their creator and believe that He alone is worthy of worship and, on the acceptance of this invitation, a promise of everlasting blessings was made along with a warning of severe punishment on its rejection. In the present verses and in the verses following these, there is a description of the disbelieving people of Makkah who were their direct addressees and who remained unmoved and unaffected either when…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

42 "Revelations" : Verses of the Divine Book by which man is admonished, and the Signs which are found in the universe and in man's own self and in his history which serve as object lessons for man, provided he is inclined to learn any lesson.

Read the full tafseer →