Explained with ayahs 45–47
کفار کا تکبر۔
کافروں کی سرکشی نادانی اور عناد تکبر بیان ہو رہا ہے کہ جب ان سے گناہوں سے بچنے کو کہا جاتا ہے کہ جو کرچکے ان پر نادم ہوجاؤ ان سے توبہ کرلو اور آئندہ کے لئے ان سے احتیاط کرو۔ اس سے اللہ تم پر رحم فرمائے گا اور تمہیں اپنے عذابوں سے بچا لے گا۔ تو وہ اس پر کار بند ہوا تو ایک طرف اور منہ پھلا لیتے ہیں، قرآن نے اس جملے کو بیان نہیں فرمایا کیونکہ آگے جو آیت ہے وہ اس پر صاف طور سے دلالت کرتی ہے۔ اس میں ہے کہ یہی ایک بات کیا ؟ ان کی تو عادت ہوگئی ہے کہ اللہ کی ہر بات سے منہ پھیر لیں۔ نہ اسکی توحید کو مانتے ہیں نہ رسولوں کو سچا جانتے ہیں نہ ان میں غور و خوض کی عادت نہ ان میں قبولیت کا…
Read the full tafseer →سورة یٰسٓ 41
یعنی جو تم سے پہلے کی قومیں دیکھ چکی ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–47
خلاصہ تفسیر
اور جب ان لوگوں سے (دلائل توحید اور اس کے نہ ماننے پر عذاب کی وعید سنا کر) کہا جاتا ہے کہ تم لوگ اس عذاب سے ڈرو جو تمہارے سامنے (یعنی دنیا میں آسکتا) ہے (جیسے اوپر کی (آیت) وان نشاء نغرقہم میں بیان فرمایا کہ کشتی کا صحیح سالم منزل پر پہنچانا اللہ کی قدرت و مشیت سے ہے، وہ چاہے تو غرق کرسکتا ہے۔ غرض دنیا میں غرق کا عذاب بھی آسکتا ہے اور دوسرے عذاب بھی) اور جو تمہارے (مرے) پیچھے (یعنی آخرت میں یقینی آنے والا) ہے، (مطلب یہ ہے کہ انکار توحید کی وجہ سے جو عذاب تم پر آنے والا ہے، خواہ صرف آخرت میں یا دنیا میں بھی، تم اس عذاب سے ڈرو اور ایمان لے آؤ) تاکہ تم پر رحمت کی جائے (تو وہ اس ترہیب…
Read the full tafseer →آیت 45
یعنی جب ان کو متنبہ کیا جاتا ہے کہ تمہارے آگے اور پیچھے جو آسمان و زمین ہیں ان سے ڈرو کہ زمین تمہارے سمیت دھنسانہ دی جائے اور آسمان سے تم پر ٹکڑے نہ گرا دیے جائیں تو وہ متنبہ ہونے کے بجائے اعراض کرتے اور عذاب کی نشانی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ’ اذا ‘ کا جواب یہاں بربنائے وضاحت قرینہ محذوف ہے اور مابین ایدیکم وما خلفکم کے بعد ’ من السماء والارض ‘ کے الفاط مخدوف ہیں۔ سورة سبا میں یہی مضمون اس طرح بیان ہوا ہے۔ ’ افلم یروا الی مابین ایدیھم وما خلفھم من السماء والارض ان نشا نخسف بھم الارض او نسقط علیھم کسغا من السماء (9) (کیا وہ اپنے آگے اور پیچھے کے آسمان اور زمین پر غور نہیں کرتے ! اگر ہم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–45
42۔ 1 اس سے مراد ایسی سواریاں ہیں جو کشتی کی طرح انسانوں اور سامان تجارت کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جاتی ہیں، اس میں قیامت تک پیدا ہونے والی چیزیں آگئیں۔ جیسے ہوائی جہاز، بحری جہاز، ریلیں، بسیں، کاریں اور دیگر نقل و حمل کی اشیاء۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–64
18: کشتی جیسی دوسری سواری کی تشریح عام طور سے مفسرین نے اونٹوں سے کی ہے، کیونکہ اہل عرب اونٹوں کو صحرا کا جہاز کہا کرتے تھے۔ لیکن قرآن کریم کے الفاظ عام ہیں جس میں کشتی کے مشابہ ہر طرح کی سواریاں داخل ہیں، بلکہ عربی قواعد کی رو سے آیت کا ترجمہ اس طرح بھی کیا جاسکتا ہے کہ : ہم نے ان کے لیے اسی جیسی اور چیزیں بھی پیدا کی ہیں جن پر یہ (آئندہ) سواری کریں گے۔ اس صورت میں وہ تمام سواریاں اس عبارت میں داخل ہوجاتی ہیں جو قیامت تک پیدا ہوں گی، مثلاً آبدوزیں، اور ہوائی جہاز جو اس لحاظ سے کشتی کے مشابہ ہیں کہ کشتی پانی پر تیرتی ہے، اور ہوائی جہاز ہوا پر تیرتا ہے۔
Read the full tafseer →واذا قیل لھم ۔۔۔۔۔ ان کنتم صٰدقین (48) ” ۔ “۔
یہ نشانیاں بھی ان کے دل و دماغ میں تجتس ، تدبر اور احساس خدا خوفی نہیں کرتیں ۔ حالانکہ اگر کسی انسان کا دل کھلا ہو تو یہ نشا نیاں اس کے اندر حرکت پیدا کرتی ہیں ، اسے جھنجھوڑتی ہیں اور اسے پرجوش رویہ اختیار کرنے پر آمادہ کرتی ہیں ۔ اور یہ نشانیاں اس قابل ہیں کہ انسان کو اس کائنات کے ساتھ ملا دیں۔ وہ کائنات جو ایک کھلی کتاب ہے اور اس کا ہر ایک صفحہ خالق کی عظمت کا کھلا ثبوت ہے۔ اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کی تدابیر بہت گہری اور اس کے اندازے نہایت ہی درست ہوتے ہیں۔ لیکن یہ لوگ جن کی فطرت اور بصیرت مسخ ہوچکی ہے۔ وہ ان نشانیوں کو نہیں دیکھ سکتے۔ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
1 سامنے آتا ہے جزاء کا دن اور پیچھے چھوڑے اپنے اعمال یعنی جب کہا جاتا ہے کہ قیامت کی سزا اور بداعمالیوں کی شامت سے بچنے کی فکر کرو تاکہ خدا کی رحمت تمہاری طرف متوجہ ہو تو نصیحت پر ذرا کان نہیں دھرتے۔ ہمیشہ خدائی احکام سے روگردانی کرتے رہتے ہیں۔
Read the full tafseer →آیت 45 { وَاِذَا قِیْلَ لَہُمُ اتَّقُوْا مَا بَیْنَ اَیْدِیْکُمْ وَمَا خَلْفَکُمْ لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُوْنَ } ”اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ سبق حاصل کرو اس سے جو تمہارے سامنے ہے اور جو تمہارے پیچھے ہے تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔“
یہاں پر اِتَّقُوْا بچنے اور ڈرنے کے بجائے سوچنے ‘ توجہ کرنے اور عبرت حاصل کرنے کے معنی میں آیا ہے۔ اس طرح نگاہوں کے سامنے سے مراد آیات آفاقیہ آلاء اللہ اور پیچھے سے مراد نسل انسانی کی پرانی تاریخ ایام اللہ ہے۔ مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو زیر مطالعہ سورة کی آیت 9 کی تشریح
Read the full tafseer →44 اس آیت کے دو مطلب ہیں ایک یہ کہ سابقہ قوموں کا یہ انجام بھی تمہارے سامنے ہے اور تم خود بھی ایسے ہی انجام کی طرف جارہے ہو کیونکہ جس قوم نے اللہ کی نافرمانی اور سرکشی کی راہ اختیار کی تو اللہ تعالیٰ نے اس کا زور توڑ کے رکھ دیا اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ آئندہ تم سے تمہارے اعمال کا محاسبہ کیا جانے والا ہے اس کو بھی مدنظر رکھو اور ان اعمال کو بھی جو تم کرچکے ہو۔ اگر تم اپنے برے انجام سے ڈر گئے اور کچھ سبق حاصل کرلیا تو پھر یہ توقع کی جاسکتی ہے کہ اللہ تم پر مہربانی فرمائے گا۔
Read the full tafseer →32۔ (اور تم قریب وبعید ہر قسم کے عذاب سے محفوظ ہوجاؤ) (آیت) ’ ’ ما بین ایدیکم “۔ وہ عذاب جو سامنے کا ہے۔ یعنی اس دنیا کا عذاب اور اس کا ہر وقت احتمال۔ (آیت) ” وما خلفکم “ وہ عذاب جو آخرت میں پیش آئے گا اور اس کا وقوع یقینی ہے۔ (آیت) ” لعلکم ترحمون “۔ دعوت تقوی اسی جلب رحمت کی غرض سے دی جارہی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–50
آیت نمبر 33 تا 50
ترجمہ : اور ایک نشانی ان کے لئے مرنے کے بعد زندہ ہونے پر مردہ زمین ہے اٰیۃٌ لھُمْ خبر مقدم ہے اَلْمیتۃُ تخفیف اور تشدید کے
ساتھ ہے کہ ہم نے اس کو پانی کے ذریعہ زندہ کیا والارض الخ مبتداء مؤخر ہے، اور ہم نے اس زمین سے غلہ مثلاً گندم پیدا کیا سو اس سے یہ لوگ کھاتے ہیں اور (نیز) ہم نے زمین میں کھجوروں اور اناروں کے باغات پیدا کئے اور اس میں کچھ چشمے جاری کئے تاکہ لوگ اس کے پھل کھائیں، ثمَرہ میں یعنی (ث، م) دونوں میں فتحہ اور ضمہ ہے، یعنی تاکہ مذکورہ کھجور وغیرہ کے پھلوں میں سے کھائیں اور ان پھلوں کو ان کے ہاتھوں نے نہیں بنایا تو پھر یہ لوگ اپنے اوپر خدا تعالیٰ کے انعامات کا شکر…
Read the full tafseer →واذا قیل لھم اتقوا ما بین ایدیکم وما خلفکم اور جب ان لوگوں سے کہا جاتا ہے کہ اس عذاب سے ڈور
جو تمہارے آگے ہے اور اس عذاب سے بھی جو تمہارے پیچھے ہے۔
حضرت ابن عباس نے فرمایا : مَا بَیْنَ اَیْدِیْکُمْ سے مراد ہے آخرت اور مَا خَلْفَکُمْ سے مراد ہے دنیا ‘ یعنی آخرت کیلئے عمل کرو اور دنیا سے محتاط رہو ‘ اس پر فریفتہ نہ ہو۔ قتادہ نے کہا : مَا بَیْنَ اَیْدِیْکُمْ سے مراد ہیں وہ بربادی اور تباہی کے واقعات جو گذشتہ امتوں کو پیش آئے اور مَا خَلْفَکُمْ سے مراد ہے عذاب آخرت۔ بعض نے کہا : حوادث سماوی و ارضی مراد ہیں۔ اللہ نے ایک اور آیت میں فرمایا ہے : اَوَلَمْ یَرَوْا اِلٰی مَا بَیْنَ اَیْدِیْھِمْ وَمَا…
Read the full tafseer →اور جس وقت ان مکہ والوں سے رسول اکرم نے فرمایا کہ آخرت سے ڈرو اس پر ایمان لاؤ اور اس کے لیے تیاری کرو اور امور دنیا سے ڈرو اور اس کی زیب وزینت سے دھوکا مت کھاؤ تاکہ آخرت میں تم پر رحمت کی جائے اور تمہیں عذاب نہ دیا جائے۔
Read the full tafseer →وَاِذَا قِيْلَ لَهُمُ اتَّقُوْا مَا بَيْنَ اَيْدِيْكُمْ : کائنات میں پھیلی ہوئی توحید اور آخرت کی نشانیوں اور دلیلوں کے ذکر کے بعد، جن سے مشرکین نے آنکھیں بند کر رکھی ہیں، اب نصیحت کرنے والوں کے ساتھ ان کے سلوک کا ذکر فرمایا۔ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ انھوں نے خیر خواہی کی ہر بات سے بھی کان بند کر رکھے ہیں۔ ”مَا بَيْنَ اَيْدِيْكُمْ“ سے مراد پہلے گناہ اور ”وَمَا خَلْفَكُمْ“ سے مراد بعد کے گناہ ہیں، یا ”مَا بَيْنَ اَيْدِيْكُمْ“ سے مراد دنیا کا عذاب اور ”وَمَا خَلْفَكُمْ“ سے مراد آخرت کا عذاب ہے۔ یعنی جب ان سے ان گناہوں سے بچنے کے لیے کہا جاتا ہے جو وہ کرچکے ہیں کہ ان پر نادم ہوجاؤ، ان سے توبہ کرلو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–50
قتادہ نے کہا : ما بین ایدیکم سے مراد تم سے قبل کی امتوں کے واقعات ہیں (1) اور وما خلفکم سے مرادآخرت ہے۔ حضرت ابن عباس ‘ ابن جبیر اور ماجد نے کہا : ما بین ایدیکم سے مراد سابقہ گناہ ہیں (2) اور وما خلفکم سے مراد آنے والے گناہ ہیں حضرت حسن بصری نے کہا : ما بین ایدیکم سے مراد جو تمہاری عمر گزر چکی ہے (3) اور وما خلفکم سے مراد جو باقی ماندہ ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ما بین ایدیکم سے مراد دنیا ہے اور وما خلفکم سے مراد عذاب آخرت ہے ‘ یہ سفیان کا قول ہے۔ ثعلبی نے حضرت ابن عباس ؓ سے اس کے برعکس قول نقل کیا ہے کہ ما بین ایدیکم سے مراد امر آخرت اور اس کے لئے اعمال ہیں اور وما خلفکم سے مراد دنیاوی امور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–48
7:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وخلقنا لھم من مثلہ ما یرکبون “ سے مراد چوپائے ہیں (آیت) ” وان نشانغرقھم فلا صریح “ (اگر ہم چاہیں تو ان کو ڈبودیں) پھر ان کی کوئی مدد کرنے والا نہ ہوگا جو اس کی مدد کرسکے۔
معذب قوم کے حالات سے عبرت حاصل کرو :
8:۔ عبد الرزاق (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فلاصریح لھم “ یعنی کوئی ان کی مدد کرنے والا نہ ہوگا (آیت) ” ومتاعا الی حین “ (یعنی نفع اٹھانا ہے موت تک) (آیت) ” واذا قیل لھم اتقوامابین ایدیکم “ (اور جب…
Read the full tafseer →وَاِذَا قِيْلَ لَهُمُ [اور جب کہا جاتا ہے ان سے ] اتَّقُوْا [تم لوگ بچو ] مَا بَيْنَ اَيْدِيْكُمْ [اس سے جو تمہارے آگے ہے ] وَمَا خَلْفَكُمْ [اور جو تمہارے پیچھے ہے ] لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ [شاید تم لوگوں پر رحم کیا جائے ] ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–45
اعراض کرنے والوں کی محرومی
پھر فرمایا (وَاِذَا قِیْلَ لَہُمُ اتَّقُوْا مَا بَیْنَ اَیْدِیْکُمْ وَمَا خَلْفَکُمْ لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُوْنَ ) اور جب مکذبین و منکرین سے کہا جاتا ہے کہ تم اس عذاب سے ڈرو جو تمہارے سامنے ہے (یعنی غرق کیا جانا یا زمین میں دھنسایا جانا یا مقتول ہونا وغیرہ) اور اس عذاب سے ڈرو جو تمہارے پیچھے ہے یعنی آخرت میں آنے والا ہے تمہارا یہ ڈرنا تم پر رحمت کا سبب بن جائے گا، تو وہ لوگ نصیحت پر کان نہیں دھرتے اور اس سے اعراض کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–47
کفار کی سرکشی اور سنگدلی کا بیان
قال اللہ تعالیٰ واذا قیل لہم اتقوا ما بین ایدیکم وما خلفکم۔۔۔ الی۔۔۔ ان انتم الا فی ضلل مبین۔
(ربط) گذشتہ آیات میں دلائل قدرت کو اور اپنی نعمتوں کو ذکر کیا کہ کفر اور شرک سے باز آجائیں اور منعم حقیقی کی طرف متوجہ ہوں اب آئندہ آیات میں کفار کے عناد اور ان کی سنگدلی کو بیان کرتے ہیں کہ بڑے ہی سرکش ہیں کتنے ہی دلائل بیان کرو مگر ان پر کچھ اثر نہیں ہوتا اپنی جہالت اور ضلالت پر سختی سے جمے ہوئے ہیں نہ آگے کی فکر ہے نہ پیچھے کی فکر ہے نہ پچھلے گناہوں کا خیال ہے اور نہ آئندہ گناہوں کی بد انجامی سے خطرہ ہے نوبت بایں جا رسید کہ ضد اور عناد میں ان چیزوں سے بھی اعراض…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–45
29:۔ واذا قیل الخ :۔ چار دلیلوں کے بعد مشرکین پر شکوی ہے اور اذا کا جواب محذوف ہے، ای اعرضوا (روح) ۔ ما بین ایدیکم، اقوامِ سابقہ پر نازل ہونے والا عذاب، وما خلفکم آخرت کا عذاب (خازن، معالم) ۔ جب ازراہِ خیر خواہی ان سے کہا جائے کہ اقوام گذشتہ ایسے انجام سے ڈرو کہیں تم بھی عذاب الٰہی سے ہلاک نہ کر دئیے جاؤ اور آخرت کے عذاب سے ڈرو جو معاندین کے لیے تیار کیا گیا ہے یعنی ایمان لے آؤ تاکہ تم اللہ کی رحمت کے مستحق ہوجاؤ تو وہ ایسی پند و نصیحت سے اعراض کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–50
ربط آیات
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کی نشانیوں کا ذکر کیا ہے۔ انہی نشانیوں سے وقوع قیامت پر بھی دلیل قائم ہوتی ہے اور ساتھ ساتھ اللہ کی وحدانیت بھی سمجھ میں آتی ہے۔ تمام نشانیوں کو پیدا کرنے والا صرف اللہ وحدہ لا شریک ہی ہے۔ اللہ نے سورج اور چاند کا ذکر کیا۔ ہر چیز کے جوڑے جوڑے بنانے کا تذکرہ کیا۔ جن میں انسان ، جانور اور نباتات وغیرہ سب شامل ہیں اور یہ ساری نشانیاں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کی دلیل ہیں۔ اب آج کی پہلی آیت میں اللہ نے کشتی کو اپنی قدرت کی نشانی کے طور پر متعارف کرایا۔ ارشاد ہوتا ہے۔ وایۃ لھم اور ان کے لیے ایک نشانی یہ بھی ہے انا حملنا ذریتھم فی الفلک المشحون کہ ہم نے…
Read the full tafseer →وَاِذَا قِيْلَ لَہُمُ اتَّقُوْا مَا بَيْنَ اَيْدِيْكُمْ وَمَا خَلْفَكُمْ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ 45
إذا
إذا يعبّر به عن کلّ زمان مستقبل، وقد يضمّن معنی الشرط فيجزم به، وذلک في الشعر أكثر، و «إذ» يعبر به عن الزمان الماضي، ولا يجازی به إلا إذا ضمّ إليه «ما» نحو : 11-إذ ما أتيت علی الرّسول فقل له
( اذ ا ) اذ ا
۔ ( ظرف زماں ) زمانہ مستقبل پر دلالت کرتا ہے کبھی جب اس میں شرطیت کا مفہوم پایا جاتا ہے تو فعل مضارع کو جزم دیتا ہے اور یہ عام طور پر نظم میں آتا ہے اور اذ ( ظرف ) ماضی کیلئے آتا ہے اور جب ما کے ساتھ مرکب ہو ( اذما) تو معنی شرط کو متضمن ہوتا ہے جیسا کہ شاعر نے کہا ع (11) اذمااتیت علی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
واذا قیل لہم یہاں سے ان کی سرکشی بیان ہوتی ہے۔ مابین ایدیکم سے مراد دنیاوی مصائب جو سرکشوں پر آیا کرتی ہیں۔ وماخلفکم سے دار آخرت کے مصائب (یہ سفیان کا قول ہے) ۔
Read the full tafseer →وَاِذَا قِیْلَ لَھُمُ اتَّقُوْا مَابَیْنَ اَیْدِیْکُمْ وَمَا خَلْفَکُمْ لَعَلَّـکُمْ تُرْحَمُوْنَ ۔ (یٰسٓ: 45)
(اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ ڈرو اس چیز سے جو تمہارے آگے اور پیچھے ہے، اور شاید کہ تم پر رحم کیا جائے۔ )
انسان کے بگاڑ کی مثال
انسان کے بگاڑ کی انتہا یہ ہے کہ وہ نہ دوسروں کے انجام سے عبرت حاصل کرتا ہے اور نہ آئندہ آنے والا انجام اس کے اندر تشویش پیدا کرتا ہے۔ حیوانوں کی طرح جب تک اسے چارہ کھانے کو ملتا رہتا ہے اسے کسی بات کی ہوش نہیں ہوتی۔ قریش چونکہ ایسی ہی صورتحال سے دوچار تھے اس لیے ان کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ انہیں گزشتہ اقوام کی تاریخ کے حوالے سے سمجھانے کی کوشش کی جاتی ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–45
فہم القرآن
ربط کلام : لوگوں کو مہلت پر مہلت دینے کا مقصد یہ ہے کہ لوگ اپنے اعمال کی درستگی کرلیں۔ مگر پھر بھی لوگ اعراض ہی کرتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ مشرکین کو اپنی قدرتیں بتلا اور دکھلا کر باربار سدھرنے کا موقع دیتا ہے مگر ان کی حالت یہ ہے کہ جونہی انہیں سمجھانے والا یہ بات سمجھاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور شرک سے باز آجاؤ۔ ورنہ جو کچھ تم اپنے آگے بھیج رہے ہو اور جو کچھ چھوڑ جاؤ گے وہ تمہاری ذلت و رسوائی کا سبب بنے گا لیکن مشرک اور نافرمان لوگ اپنے رب سے ڈرنے کی بجائے اس کی طرف سے دئیے جانے والے دلائل سے اعراض کرتے ہیں۔ جس کا نتیجہ یہ ہے کہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی مہربانی کے مستحق قرار پانے کی…
Read the full tafseer →اگلے پچھلے گناہوں سے ڈرو :
45: وَاِذَا قِیْلَ لَھُمُ اتَّقُوْا مَا بَیْنَ اَیْدِیْکُمْ (اور جب ان سے کہا جاتا ہے اس عذاب سے ڈرو جو تمہارے سامنے ہے) ۔ وَمَا خَلْفَکُمْ (اور جو تمہارے پیچھے ہے) یعنی جو گناہ کر کے آگے روانہ کرچکے اور جو ابھی کررہے ہو۔ یا ان وقائع سے ڈرو جن میں تم سے پہلی اقوام تکذیب انبیاء کے نتیجہ میں مبتلا ہوئیں۔ اور اس سے ڈرو جو تمہارے پیچھے قیامت والی گھڑی تیار کھڑی ہے۔ یا نمبر 3۔ دنیا کی آزمائش اور عقوبت آخرت سے ڈرو۔ لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُوْنَ (تاکہ تم پر رحم کیا جائے) تاکہ تم اللہ تعالیٰ کی رحمت کے امیدوار بن سکو۔
نحو : اذا کا جواب مضمر ہے تقدیر جواب یہ ہے اَعْرَضُوْا۔ اس کا…
Read the full tafseer →45، واذا قیل لھم اتقوا ما بین ایدیکم وما خلفکم، حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ، مابین یدیکم ، سے مراد آخرت ہے اور ، ماخلفکم، سے مراد ہے دنیا یعنی آخرت کے لیے عمل کرو اور دنیا سے اختیاکرو اور اس پر فریفتہ نہ ہو اور بعض نے کہا کہ ، مابین ایدیکم ، سے مراد ہیں وہ بربادی اور تباہی کے واقعات جو گزشتہ ومتوں کو پیش آئے اور ، ماخلقکم، سے مراد ہے آخرت کا عذاب ۔ یہ قول قتادہ اور مقاتل رحمہما اللہ کا ہے۔ ، لعلکم ترحمون، اس کا جواب محذوف ہے ۔ تقدیری عبارت یوں ہوگی ، اذا قیل لھم ھذا اعرضواعنہ، یعنی ان سے جب یہ بات کہی جاتی ہے تو وہ منہ پھیرلیتے ہیں ، پر واہ نہیں کرتے اس کی دلیل اگلی حدیث ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–47
45 تا 47۔ مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ مشرکین مکہ کو جب پہلی قوموں کے حال ڈرنے کو کہا جاتا اور ان کی گمراہی کے آئندہ کے نتیجہ کو انہیں یاد دلایا جاتا تھا تو بجائے راہ راست پر آنے کے یہ لوگ قرآن کی ان نصیحتوں کو ٹال دیتے تھے اسی طرح جب ان لوگوں سے یہ کہا جاتا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے تم کو خوشحال جو کیا ہے اس کے شکریہ میں غریب محتاج لوگوں کے ساتھ کچھ سلوک کیا کرو تو اس کے جواب میں یہ لوگ کہتے تھے کہ جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ غریب و محتاج رکھنا چاہتا ہے ان کے ساتھ سلوک کرنے کا تقاضا نادانی سے خالی نہیں ‘ صحیح قول یہی ہے کہ ان انتم الافی ضلال مبین مشرکین مکہ کا قول ہے اور مطلب اس کا وہی ہے جو اوپر بیان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–51
آیت 41
نیز یہ امر کی دلل ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی اکیلا معبود برحق ہے کیونکہ وہی اکیلا نعمتیں عطا کرتا ہے اور مصائب و شدائد کو دور کرتا ہے اور اس کی جملہ نعمتوں میں ایک نعمت یہ ہے کہ (انا حملنا ذریتھم) ” ہم نے ان کی اولاد کو سوار کیا۔ “ بہت سے مفسرین کی رائے ہے کہ اس سے مراد ان کے آباء و اجداد ہیں (وخلقنا لھم) ” اور ہم نے ان کے لئے پیدا کیں۔ “ یعنی موجود اور آنے والے لوگوں کے لئے (من مثلہ) ” ویسی ہی “ اس کشتی جیسی یعنی اس کی جنس میں سے (مایرکبون) ” جس پر یہ سواری کرتے ہیں۔ “ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے آباؤ اجداد پر اپنی نعمت کا ذکر فرمایا کہ اس نے ان کو کشتی میں سوار کرایا۔ ان پر نعمت کا فیضان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–67
قول باری ہے (وخلقنا لھم من مثلہ ما یرکبون اور ہم نے ان کے لئے اسی کشتی جیسی چیزیں اور بھی پیدا کی ہیں جس پر یہ سوار ہوتے ہیں) حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے ” یعنی حضرت نوح (علیہ السلام) کی کشتی کے بعد دوسری کشتیاں “۔ حضرت ابن عباس ؓ سے ایک اور روایت بھی ہے اور مجاہد سے بھی کہ اونٹ خشکی کے جہاز ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–45
47 اللہ کا عذاب کہیں سے بھی آسکتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم : سو ارشاد فرمایا گیا " اور ڈرو تم اس عذاب سے جو تمہارے پیچھے آنے والا ہے "۔ یعنی آخرت و قیامت کا عذاب ۔ " اَیْ اَمْرُ السَّاعَۃِ " ۔ (جامع وغیرہ) اور حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ ۔ { مَا بَیْنَ اَیْدیکُمْ } ۔ سے مراد آخرت کا عذاب ہے۔ یعنی اس سے بچاؤ کے لئے تیاری کرو۔ اور ۔ { خَلْفَکُمْ } ۔ سے مراد دنیا ہے۔ اور اس عذاب سے بچنے کا ذریعہ اور طریقہ ہے گناہوں سے بچنا۔ اسی لئے مجاہد نے اس کی تفسیر گناہوں سے کی ہے۔ (ابن کثیر، الجامع، الصفوۃ وغیرہ) ۔ سو گناہوں سے بچنا عذاب سے بچنا ہے اور گناہوں میں ملوث ہونا دراصل عذاب میں چھلانگ لگانا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–47
کفار کی فضول باتیں
تشریح : جب مسلمان کفار سے کہتے کہ دنیاوی اور اخروی عذاب سے ڈرو اور اللہ کے دیے ہوئے مال میں سے غریبوں محتاجوں کو دیا کرو تو وہ عجیب حجت بازی کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ” جب اللہ ان کو کھلانا نہیں چاہتا تو ہم کون ہیں کھلانے والے “ حالانکہ یہ کام تو صرف انسان کو آزمانے کے لیے کیا جاتا ہے۔ ” کہ کون انسانی ہمدردی کرتا ہے اور کون نہیں کرتا “۔ ورنہ رزق دینا اللہ کا کام ہے جس کو جتنا چاہے دے یا نہ دے اور پھر اس دنیا میں کسی کو مال و دولت دے کر آزمایا جا رہا ہے اور کسی کو بھوکا رکھ کر آزمایا جا رہا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ہر صورت اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے امیروں کو چاہیے اللہ کے دیے ہوئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–50
رکوع نمبر 3: آیات 33 تا 50:
اسرار و معارف :
اللہ کی قدرت کاملہ کا ایک بڑا مظہر تو مردہ زمین ہے جس پر یہ رہتے بستے ہیں جب اس پہ خشک سالی آتی ہے تو وہ بالکل اجاڑ ہوجاتی ہے ہر طرف گرد اڑتی ہے مگر جب اللہ چاہتے ہیں تو اس کی گود زندگی سے بھر دیتے ہیں اور ذرے ذرے سے زندگی ابلتی ہے پھل پھول اناج پیدا ہو کر نہ صرف زمین کی زندگی کا ثبوت دیتے ہیں بلکہ خود انسانوں کو زندہ رکھنے کا سبب بن جاتے ہیں یہی تو ان کی روز مرہ کی غذا ہے۔
زمین کے بعض حصوں کو ہم نے سرسبزی عطا کردی ہے کہ یہ بھی ضروری نہیں کہ وہ خشک ہو کر ہری ہو ہم نے اس میں چشمے جاری کردئیے اور اس کا سینہ باغات سے سجا دیا کہ ان لوگوں کے پاس بھی ایسے…
Read the full tafseer →ف 10 یعنی اگلے اور پچھلے گناہوں کے انجام سے بچنے کی فکر کرو یا سامنے سے مراد دینا ہے اور پیچھے سے مراد آخرت کا عذاب ہے۔ ( جامع) شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں سامنے آتا ہے جزا کا دن، پیچھے چھوڑے اپنے اعمال ( موضح)
Read the full tafseer →(36:45) اتقوا۔ فعل امر، جمع مذکر حاضر ، تم ڈرو، پرہیزگاری اختیار کرو، اتقاء (افتعال) مصدر۔ وقی مادہ۔ (لفیف مفروق) افتعلوا کے وزن پر اصل میں او تقیوا تھا۔ وائو کو ت میں بدلا۔ ت، ت میں مدغم ہوئی یا مضموم ما قبل مکسور، یا کا ضمہ ق کو دیا پھر یاء اجتماع ساکنین سے گرگئی اتقوا ہوگیا۔
ما بین ایدیکم (جو تمہارے سامنے ہے) وما خلفکم (اور جو تمہارے پیچھے ہے) اس کے مندرجہ ذیل معانی ہوسکتے ہیں :۔
(1) اس دنیا کا عذاب اور آخرت کا عذاب۔ یا اس کے برعکس۔
(2) سماوی وارضی بلیات، جیسے اور جگہ قرآن مجید میں ہے : اولم یروا الی ما بین ایدیہم وما خلفہم من السماء والارض (34:9)
(3) قتادہ کا قول ہے ما بین ایدیہم سے مراد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–54
لغات القرآن : آیت نمبر 45 تا 54 :۔ بین ایدی ( سامنے) خلف ( پیچھے) انطعم (کیا ہم کھلائیں) صحیۃ (چنگھاڑ، زور دار آواز) یخصمون ( وہ جھگڑ رہے ہوں گے) الاجداث (قبریں) ینسلون ( وہ دوڑیں گے) لاتجزون ( بدلہ نہ دیئے جائیں گے) ۔
تشریح آیت نمبر 45 تا 54 :۔ نبی کریم ﷺ جب کفار و مشرکین سے کہتے کہ میں جن آیات اور کلام الٰہی کو لے کر آیا ہوں اس پر ایمان لائو۔ اللہ کا خوف اختیار کرو تا کہ تم پر دنیا میں اور آخرت میں رحم و کرم ناز ل کیا جائے اور اپنے سے غریب ، مفلس اور ضرورت مندوں پر اپنا مال خرچ کرو ۔ تو وہ اللہ کی آیات اور نبی کریم ﷺ کی باتوں کا مذاق اڑاتے اور جاہلانہ اعتراضات کر کے اپنے آپ کو مطمئن ظاہر کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–47
(ف 2) ان آیتوں میں فرمایا کہ اور نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ ہم نے اپنی قدرت سے دریا کو بھی تمہارا تابعدار بنادیا کہ تم اس میں جو سامان واسباب کی کشتیاں لیے پھرتے ہو، فرمایا کہ ہم نے ان کے باپ دادوں کو نوح (علیہ السلام) کی کشتی کی مانند چھوٹی بڑی کشتیاں بھی پیدا کردیں جن پر وہ چڑھتے پھرتے ہیں اگر ہم چاہیں تو ان کو ڈبودیں ان کو جو کشتیوں میں سوار ہیں اور پھر کوئی ان کی فریاد کو پہنچنے والا نہیں جو انکو اس مصیبت سے نجات دیوے مگر ہم اپنی رحمت سے دریا اور خشکی میں سفر کراتے ہیں اور ایک وقت مقررہ تک تم کو ہر ایک آفت سے بچاتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
[16] اس دنیا کا عذاب۔
[17] یعنی وہ عذاب جو آخرت میں پیش آئے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–50
قرآن اور نظریات جدیدہ
2: یہ مسئلہ کہ آفتاب گھومتا ہے یا زمین اور چاند کی گردش کس نوع کی ہے ؟ اس کا تعلق مذہب کے ساتھ بالکل نہیں ہے ۔ یہ فلکیات کی بحث میں ہے اور مذہب کا موضوع بحث یہ ہے ۔ کہ کس طرح دلوں کو شرک کی آلودگیوں سے پاک کیا جاسکتا ہے ؟ اور کیونکر انسانوں کو فلاح و بہبود کا درس دیاجاسکتا ہے ۔ مذہب ان مسائل سے تعرض کرتا ہے ۔ کہ وہ کون تعلیمات ہیں ۔ جو لحمہ انسانی کے لئے باعث برکت وسعادت قرار پاسکتی ہیں ۔ اور وہ کون پیغام ہے جس کو اللہ کا پیغام کہا جاسکتا ہے ۔ یہ سائل کہ زمین پپٹی ہے گول ۔ ستاروں کی حرکت مداری ہے یا محوری آفتاب کی روشنی کس نوع کی ہے ۔ کسوف وخسوف کے واقعات کیوں ظہور پذیر…
Read the full tafseer →(45) اور جب ان منکروں سے کہا جاتا ہے کہ اس عذاب سے ڈرو جو تمہارے آگے ہے اور تمہارے پیچھے ہے تاکہ تم رحم کئے جائو تو وہ بالکل پروا نہیں کرتے جو تمہارے سامنے ہے یعنی غرق اور خسف اور قتل وغیرہ یہ دنیوی عذاب اور جو پیچھے ہے وہ آخرت کا عذاب ہے جو یقینا آنے والا ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں سامنے آتا ہے جزا کا دن اور پیچھے چھوڑے اعمال۔
حضرت ابن عباس کا قول ہے مابین ایدیکم سے مراد ہے آخرت اس کے لئے عمل کرو اور ماخلفکم سے مراد دنیا ہے تو دنیا سے بچو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–46
ف 5۔ یہ عام ہے اس نقطہ کو بھی جہاں سے چل کر سالانہ دورہ کر کے پھر اسی نقطہ پر جا پہنچتا ہے، اور اس نقطہ افقیہ کو بھی کہ حرکت یومیہ میں وہاں پہنچ کر غروب ہوجاتا ہے۔
Read the full tafseer →مخاطبین سے کہا جارہا ہے کہ گزشتہ سے نہیں تو موجودہ حالات ہی سے سبق حاصل کرو :
45۔ گزشتہ ساری قوموں سے یہ بات ہوتی چلی آرہی ہے اور اس وقت بھی موجودہ قوموں سے بدستور کی جا رہی ہے اور خصوصا اس میں مسلمانوں کو مخاطب کیا گیا ہے اور ان کو از راہ نصیحت کہا جا رہا ہے کہ اب تو ہوش کرو ‘ بہت مدت سو لیا تم نے اب تو سنھبل جاؤ ساری عمر گناہوں میں اور فسق وفجور میں ‘ لڈو اور پانسہ میں گزاری ‘ تم درباروں اور خانقاہوں کی راکھ چھانتے رہے تم دنیا کے وڈیروں اور اترانے والوں کے لئے وقف رہے ‘ تم پیروں اور فقیروں کی چوکھٹ پر سجدہ ریز رہے اب تو ہوش میں آؤ اور دیکھو کہ ان مداریوں نے آج تک تمہارا بھی کوئی فائدہ کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–48
Commentary
In the previous verses, through a description of Divine manifestations of power and wisdom in the creation of the heavens and the earth, people were invited to recognize their creator and believe that He alone is worthy of worship and, on the acceptance of this invitation, a promise of everlasting blessings was made along with a warning of severe punishment on its rejection. In the present verses and in the verses following these, there is a description of the disbelieving people of Makkah who were their direct addressees and who remained unmoved and unaffected either when…
Read the full tafseer →41 "Which you havc left behind": Which the peoples before you have seen and experienced.
Read the full tafseer →