Explained with ayahs 41–44
سمندر کی تسخیر۔
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی قدرت کی ایک اور نشانی بتارہا ہے کہ اس نے سمندر کو مسخر کردیا ہے جس میں کشتیاں برابر آمد و رفت کر رہی ہیں۔ سب سے پہلی کشتی حضرت نوح ؑ کی تھی جس پر سوار ہو کر وہ خود اور ان کے ساتھ ایماندار بندے نجات پا گئے تھے باقی روئے زمین پر ایک انسان بھی نہ بچا تھا، ہم نے اس زمانے والے لوگوں کے آباؤ اجداد کو کشتی میں بٹھا لیا تھا جو بالکل بھرپور تھی۔ کیونکہ اس میں ضرورت اکل اسباب بھی تھا اور ساتھ ہی حیوانات بھی تھے جو اللہ کے حکم سے اس میں بٹھا لئے گئے تھے ہر قسم کے جانور کا ایک ایک جوڑا تھا، بڑا باوقار مضبوط اور بوجھل وہ جہاز تھا، یہ صفت بھی صحیح طور پر حضرت نوح کی…
Read the full tafseer →سورة یٰسٓ 40
پچھلی نشانیوں کا ذکر دلائل توحید کی حیثیت سے کیا گیا تھا، اور اس نشانی کا ذکر یہ احساس دلانے کے لیے فرمایا گیا ہے کہ انسان کو فطرت کی طاقتوں پر تصرف کے جو اختیارات بھی حاصل ہیں وہ اللہ کے دیے ہوئے ہیں، اس کے اپنے حاصل کیے ہوئے نہیں ہیں۔ اور ان طاقتوں پر تصرف کے جو طریقے اس نے دریافت کیے ہیں وہ بھی اللہ کی رہنمائی سے اس کے علم میں آئے ہیں، اس کے اپنے معلوم کیے ہوئے نہیں ہیں۔ انسان کا اپنا بل بوتا یہ نہ تھا کہ اپنے زور سے وہ ان عظیم طاقتوں کو مسخر کرتا اور نہ اس میں یہ صلاحیت تھی کہ خود اسرار فطرت کا پتہ چلا لیتا اور ان قوتوں سے کام لینے کے طریقے جان سکتا۔ پھر جن قوتوں پر بھی اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–44
قرآن میں ہوائی جہاز کا ذکر
مگر یہ ظاہر ہے کہ قرآن نے اس جگہ اونٹ یا کسی خاص سواری کا نام نہیں لیا، بلکہ مبہم چھوڑا ہے، جس میں ہر ایسی سواری داخل ہے جو انسان اور اس کے اسباب و سامان کو زیادہ سے زیادہ اٹھا کر منزل مقصود پر پہنچا دے۔ اس زمانے کی نئی ایجاد ہوائی جہازوں نے یہ واضح کردیا کہ من مثلہ کا سب سے بڑا مصداق ہوائی جہاز ہیں، اور کشتی کے ساتھ اس کی تمثیل بھی اس کی زیادہ موید ہے، کہ جس طرح پانی کا جہاز پانی پر تیرتا ہے پانی اس کو غرق نہیں کرتا، ہوائی جہاز ہوا پر تیرتا ہے ہوا اس کو نیچے نہیں گراتی، اور عجب نہیں کہ قرآن حکیم نے اسی لئے من مثلہ ما یرکبون کو مبہم رکھا ہو تاکہ قیامت تک ایجاد ہونے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–44
آیت 41۔ 44
’ ذریتھم ‘ میں ’ ھم ‘ سے مراد مخاطب بحیثیت انسان ہیں اور ’ ذریۃ ‘ نسل کے مفہوم میں ہے۔ ’ مشحون ‘ بھری ہوئی کشتی کو کہتے ہیں۔ فرمایا کہ اگر ان کو مزید نشانی کی طلب ہو تو وہ اس بات کو دیکھیں کہ ہم نے نسل انسانی کے بحری سفر کے لئے یہ اہتمام کیا ہے کہ ان کی کشتیاں سمندر کے سینہ پر سے ہزاروں ٹن سامان لے کر چلتی ہیں اور نہیں ڈوبتیں۔
’ وخلقنالھم الایۃ ‘ فرمایا کہ جس طرح سمندر کے سفر کے لئے ہم نے کشتی بنائی ہے اسی طرح کی چیزیں ہم نے خشکی کے سفر کے لئے بھی بنائی ہیں مثلاً گھوڑے اور اونٹ وغیرہ۔ خاص طور پر اونٹ کو عرب میں سفینہ صحرا کی حیثیت حاصل تھی۔ اسی حکم میں وہ سورایاں بھی داخ ؒ ہیں جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–45
42۔ 1 اس سے مراد ایسی سواریاں ہیں جو کشتی کی طرح انسانوں اور سامان تجارت کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جاتی ہیں، اس میں قیامت تک پیدا ہونے والی چیزیں آگئیں۔ جیسے ہوائی جہاز، بحری جہاز، ریلیں، بسیں، کاریں اور دیگر نقل و حمل کی اشیاء۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–64
18: کشتی جیسی دوسری سواری کی تشریح عام طور سے مفسرین نے اونٹوں سے کی ہے، کیونکہ اہل عرب اونٹوں کو صحرا کا جہاز کہا کرتے تھے۔ لیکن قرآن کریم کے الفاظ عام ہیں جس میں کشتی کے مشابہ ہر طرح کی سواریاں داخل ہیں، بلکہ عربی قواعد کی رو سے آیت کا ترجمہ اس طرح بھی کیا جاسکتا ہے کہ : ہم نے ان کے لیے اسی جیسی اور چیزیں بھی پیدا کی ہیں جن پر یہ (آئندہ) سواری کریں گے۔ اس صورت میں وہ تمام سواریاں اس عبارت میں داخل ہوجاتی ہیں جو قیامت تک پیدا ہوں گی، مثلاً آبدوزیں، اور ہوائی جہاز جو اس لحاظ سے کشتی کے مشابہ ہیں کہ کشتی پانی پر تیرتی ہے، اور ہوائی جہاز ہوا پر تیرتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
وان نشا ۔۔۔۔۔ الٰی حین (36: 44) ” ہم چاہیں تو ان کو غرق کردیں ، کوئی ان کی فریاد سننے والانہ ہو ، اور کسی طرح یہ نہ بچائے جاسکیں۔ بس ہماری رحمت ہی ہے جو انہیں پار لگاتی اور ایک وقت خاص تک زندگی سے متمتع ہونے کا موقعہ دیتی ہے “۔ گہرے سمندروں میں کشتی کی حقیقت وہی ہوتی ہے جس طرح طوفان میں ایک پر کی ہوتی ہے ۔ جس قدر بھی کشتی بھاری اور بڑی ہو ، اور چاہے وہ بہت ہی اعلیٰ سائنسی اصولوں کے مطابق بنی ہو۔ اگر ان کشتیوں کے ساتھ اللہ کی رحمت اور شفقت نہ ہو تو وہ رات یا دن کے کسی بھی لمحے میں تباہ ہوجائیں ۔ وہ لوگ جنہوں نے سمندروں کا سفر چھوٹے بجرے میں ہواہویا بڑے بحری جہاز میں۔۔۔۔ وہ سمندر کی ہولناکی کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
9 یعنی یہ مشت استخواں انسان ! دیکھو کیسے خوفناک سمندروں کو کشتی کے ذریعہ عبور کرتا ہے۔ جہاں بڑے بڑے جہازوں کی حقیقت ایک تنکے کے برابر نہیں۔ اگر اللہ اس وقت غرق کرنا چاہے تو کون بچا سکتا ہے اور کون ہے جو فریاد کو پہنچے۔ مگر یہ اس کی مہربانی اور مصلحت ہے کہ اس طرح سب بحری سواریوں کو غرق نہیں کردیتا۔ کیونکہ اس کی رحمت و حکمت مقتضی ہے کہ ایک معین وقت تک دنیا کا کام چلتا رہے۔ افسوس ہے کہ بہت لوگ ان نشانیوں کو نہیں سمجھتے نہ اس کی نعمتوں کو قدر کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →آیت 44 { اِلَّا رَحْمَۃً مِّنَّا وَمَتَاعًا اِلٰی حِیْنٍ } ”مگر یہ ہماری طرف سے رحمت ہے اور فائدہ اٹھانا ہے ایک وقت ِمعین ّتک کے لیے۔“
ہم نے اپنی خصوصی رحمت سے اس زمین کے ماحول کو انسانی زندگی کے لیے سازگار بنایا ہے اور اس میں انسانوں کے رہنے اور بسنے کے لیے ضرورت کا تمام سازوسامان فراہم کردیا ہے۔
Read the full tafseer →43 یہ بس اللہ کی رحمت ہی کا نتیجہ ہوتا ہے کہ وہ سمندر اور ہواؤں کی سرکش اور بےپناہ قوت کو کنٹرول میں رکھتا ہے اور مسافر اور تاجر اکثر اوقات صحیح و سلامت دوسرے کنارے پر جا اترتے ہیں۔ اگر اللہ کی رحمت شامل حال نہ ہو تو بنی نوع انسان کی ایک کثیر تعداد سمندر کا لقمہ اجل بن جائے۔
Read the full tafseer →31۔ (چنانچہ اسی لیے اس قادر مطلق و حکیم برحق نے مہلت دے رکھی ہے) بےبس اور بےکس بندوں کے لئے کتنا بڑا سہارا (آیت) ” الا رحمۃ منا “۔ کا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–50
آیت نمبر 33 تا 50
ترجمہ : اور ایک نشانی ان کے لئے مرنے کے بعد زندہ ہونے پر مردہ زمین ہے اٰیۃٌ لھُمْ خبر مقدم ہے اَلْمیتۃُ تخفیف اور تشدید کے
ساتھ ہے کہ ہم نے اس کو پانی کے ذریعہ زندہ کیا والارض الخ مبتداء مؤخر ہے، اور ہم نے اس زمین سے غلہ مثلاً گندم پیدا کیا سو اس سے یہ لوگ کھاتے ہیں اور (نیز) ہم نے زمین میں کھجوروں اور اناروں کے باغات پیدا کئے اور اس میں کچھ چشمے جاری کئے تاکہ لوگ اس کے پھل کھائیں، ثمَرہ میں یعنی (ث، م) دونوں میں فتحہ اور ضمہ ہے، یعنی تاکہ مذکورہ کھجور وغیرہ کے پھلوں میں سے کھائیں اور ان پھلوں کو ان کے ہاتھوں نے نہیں بنایا تو پھر یہ لوگ اپنے اوپر خدا تعالیٰ کے انعامات کا شکر…
Read the full tafseer →الا رحمۃ منا ومتاعا الی حین . مگر ہماری رحمت سے اور ایک مقرر وقت تک فائدہ اٹھانے کیلئے۔
حِیْنٍ سے مراد ہے مدت زندگی جو اللہ نے مقرر کردی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
(43۔ 44) اور اگر ہم چاہیں تو ان کو سمندر میں غرق کردیں اور پھر غرق ہونے سے ان کو کوئی بچانے والا نہ ہو اور نہ یہ ڈوبنے سے بچائے جائیں مگر یہ ہماری مہربانی ہے کہ ہم انہیں غرق ہونے سے بچا لیتے ہیں اور ایک مقررہ وقت تک یعنی ان کو موت اور ہلاکت تک فائدہ دینا منظور ہے۔
Read the full tafseer →اِلَّا رَحْمَةً مِّنَّا وَمَتَاعًا اِلٰى حِيْنٍ : یہ بس ہماری رحمت اور زندگی کی مقررہ مدت تک مہلت دینے ہی کا نتیجہ ہے کہ ہم سمندر اور ہواؤں کی سرکش اور بےپناہ قوتوں کو اپنے کنٹرول میں رکھتے ہیں، جس سے مسافر اور تاجر صحیح سلامت دوسرے کنارے پر جا اترتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–44
الیۃ لھم من تین معانی کا احتمال ہے : (1) یہ ان کے لئے عبرت ہے کیونکہ آیات میں عبرتیں ہیں (2) ان پر نعمت ہے کیونکہ آیات میں انعام ہے (3) انہیں خبردار کرنا ہے کیونکہ آیات میں خبردار کرنے کا پہلو موجود ہوتا ہے (1) ۔
انا حملنا ذریتھم فی الفلک المشحون۔ سورت میں مشکل ترین آیت ہے کیونکہ انہیں ہی کشتی میں سوار کیا گیا تھا ‘ ایک قول یہ کیا گیا : اہل مکہ کے لئے نشانی ہے کہ ہم نے سابقہ قوموں کی اولادوں کو بھری کشتی میں سوار کیا۔ دونوں ضمیریں مختلف ہیں ‘ یہ مہدوی نے زکر کیا ہے۔ نحاس نے علی بن سلیمان کو کہتے ہوئے سنا ہے اور اس کی حکایت بیان کی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا : دونوں ضمیریں اہل مکہ کے لئے ہیں کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–48
7:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وخلقنا لھم من مثلہ ما یرکبون “ سے مراد چوپائے ہیں (آیت) ” وان نشانغرقھم فلا صریح “ (اگر ہم چاہیں تو ان کو ڈبودیں) پھر ان کی کوئی مدد کرنے والا نہ ہوگا جو اس کی مدد کرسکے۔
معذب قوم کے حالات سے عبرت حاصل کرو :
8:۔ عبد الرزاق (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فلاصریح لھم “ یعنی کوئی ان کی مدد کرنے والا نہ ہوگا (آیت) ” ومتاعا الی حین “ (یعنی نفع اٹھانا ہے موت تک) (آیت) ” واذا قیل لھم اتقوامابین ایدیکم “ (اور جب…
Read the full tafseer →اِلَّا رَحْمَةً [سوائے رحمت ہوتے ہوئے ] مِّنَّا [ہمارے پاس سے ] وَمَتَاعًا [اور سامان ہوتے ہوئے ] اِلٰى حِيْنٍ [ایک وقت تک ] ۔
آیت 44 میں واضح کردیا گیا کہ انسان کو یہ جو کچھ بھی حاصل ہے، نہ اس کے باپ دادا کی میراث ہے اور نہ اس کی اپنی قابلیت کا کرشمہ بلکہ یہ محض خدا کا فضل اور اس کی رحمت ہے جس سے یک خاص وقت تک کے لئے اس نے انسان کو بہر مند کیا ہے۔ بالآخر وہ وقت آنے والا ہے جب اللہ تعالیٰ ن تمام نعمتوں کے متعلق پرسش کرے گا کہ ان کا شکر اور حق ادا کیا تھا یا نہیں ۔ (تدبر قرآن)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–45
اعراض کرنے والوں کی محرومی
پھر فرمایا (وَاِذَا قِیْلَ لَہُمُ اتَّقُوْا مَا بَیْنَ اَیْدِیْکُمْ وَمَا خَلْفَکُمْ لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُوْنَ ) اور جب مکذبین و منکرین سے کہا جاتا ہے کہ تم اس عذاب سے ڈرو جو تمہارے سامنے ہے (یعنی غرق کیا جانا یا زمین میں دھنسایا جانا یا مقتول ہونا وغیرہ) اور اس عذاب سے ڈرو جو تمہارے پیچھے ہے یعنی آخرت میں آنے والا ہے تمہارا یہ ڈرنا تم پر رحمت کا سبب بن جائے گا، تو وہ لوگ نصیحت پر کان نہیں دھرتے اور اس سے اعراض کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–44
دلیل سوم
قال اللہ تعالیٰ وایۃ لہم انا حملنا ذریتہم فی الفلک المشحون۔۔۔ الی۔۔۔ الا رحمۃ منا ومتاعا الی حین۔
یہ اس کی قدرت کی تیسری دلیل ہے کہ خدا تعالیٰ اپنی قدرت سے گراں بار کشتیوں کو دریا میں چلاتا ہے جن پر تم لمبے لمبے سفر کرتے ہو اگر وہ غرق کر دے تو کون ہے جو تمہاری فریاد رسی کرسکے یہ اس کی رحمت ہے کہ وہ تمہیں غرق نہیں کرتا یہ گراں بار کشتیاں اس کی قدرت کی بھی دلیل ہیں اور اس کی نعمت اور رحمت کی بھی دلیل ہیں ایک سمندر میں بڑے سے بڑے جہاز کی ایک تنکے کے برابر بھی حقیقت نہیں اللہ کی رحمت سے سہولت کے ساتھ سفر طے ہوجاتا ہے۔
چناچہ فرماتے ہیں اور ایک نشانی ان کے لئے یہ ہے کہ ہم نے ان کی ذریت کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–45
29:۔ واذا قیل الخ :۔ چار دلیلوں کے بعد مشرکین پر شکوی ہے اور اذا کا جواب محذوف ہے، ای اعرضوا (روح) ۔ ما بین ایدیکم، اقوامِ سابقہ پر نازل ہونے والا عذاب، وما خلفکم آخرت کا عذاب (خازن، معالم) ۔ جب ازراہِ خیر خواہی ان سے کہا جائے کہ اقوام گذشتہ ایسے انجام سے ڈرو کہیں تم بھی عذاب الٰہی سے ہلاک نہ کر دئیے جاؤ اور آخرت کے عذاب سے ڈرو جو معاندین کے لیے تیار کیا گیا ہے یعنی ایمان لے آؤ تاکہ تم اللہ کی رحمت کے مستحق ہوجاؤ تو وہ ایسی پند و نصیحت سے اعراض کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–50
ربط آیات
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کی نشانیوں کا ذکر کیا ہے۔ انہی نشانیوں سے وقوع قیامت پر بھی دلیل قائم ہوتی ہے اور ساتھ ساتھ اللہ کی وحدانیت بھی سمجھ میں آتی ہے۔ تمام نشانیوں کو پیدا کرنے والا صرف اللہ وحدہ لا شریک ہی ہے۔ اللہ نے سورج اور چاند کا ذکر کیا۔ ہر چیز کے جوڑے جوڑے بنانے کا تذکرہ کیا۔ جن میں انسان ، جانور اور نباتات وغیرہ سب شامل ہیں اور یہ ساری نشانیاں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کی دلیل ہیں۔ اب آج کی پہلی آیت میں اللہ نے کشتی کو اپنی قدرت کی نشانی کے طور پر متعارف کرایا۔ ارشاد ہوتا ہے۔ وایۃ لھم اور ان کے لیے ایک نشانی یہ بھی ہے انا حملنا ذریتھم فی الفلک المشحون کہ ہم نے…
Read the full tafseer →اِلَّا رَحْمَۃً مِّنَّا وَمَتَاعًا اِلٰى حِيْنٍ 44
رحم
والرَّحْمَةُ رقّة تقتضي الإحسان إلى الْمَرْحُومِ ، وقد تستعمل تارة في الرّقّة المجرّدة، وتارة في الإحسان المجرّد عن الرّقّة، وعلی هذا قول النّبيّ صلّى اللہ عليه وسلم ذاکرا عن ربّه «أنّه لمّا خلق الرَّحِمَ قال له : أنا الرّحمن، وأنت الرّحم، شققت اسمک من اسمي، فمن وصلک وصلته، ومن قطعک بتتّه» فذلک إشارة إلى ما تقدّم، وهو أنّ الرَّحْمَةَ منطوية علی معنيين : الرّقّة والإحسان، فركّز تعالیٰ في طبائع الناس الرّقّة، وتفرّد بالإحسان، فصار کما أنّ لفظ الرَّحِمِ من الرّحمة، فمعناه الموجود في الناس من المعنی الموجود لله تعالی، فتناسب معناهما تناسب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–44
وخلقنا لہم من مثلہ ما یرکبون سے بعض کے نزدیک اونٹ وغیرہ دیگر بار کش چیزیں ہیں، جن کو خشکی کی کشتی کہنا چاہیے، جس میں چھکڑے اور ریل گاڑی بھی آگئی۔ یہ سب اس کی عنایت و رحمت ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–44
وَاٰیـَۃٌ لَّھُمْ اَنَّا حَمَلْنَا ذُرِّیَّتَھُمْ فِی الْفُلْکِ الْمَشْحُوْنَ ۔ وَخَلَقْنَا لَھُمْ مِّنْ مِّثْلِہٖ مَا یَرْکَبُوْنَ ۔ وَاِنْ نَّشَاْ نُغْرِقْھُمْ فَلاَ صَرِیْخَ لَھُمْ وَلاَ ھُمْ یُنْقَذُوْنَ ۔ اِلاَّ رَحْمَۃً مِّنَّا وَمَتَاعًا اِلٰی حِیْنٍ ۔ (یٰسٓ: 41 تا 44)
(اور ایک نشانی ان کے لیے یہ بھی ہے کہ ہم نے ان کی نسل کو بھری ہوئی کشتی میں سوار کیا۔ پھر ہم نے ان کے لیے پیدا کیں اسی کی مانند جن پر یہ سوار ہوتے ہیں۔ اور اگر ہم چاہیں تو ان کو غرق کردیں پھر نہ کوئی ان کا فریاد سننے والا ہو اور نہ وہ بچائے جاسکیں۔ پس ہماری رحمت ہے اور ایک وقت معین تک ان کو بہرہ مند کرنا ہے۔ )
صفتِ تخلیق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–45
فہم القرآن
ربط کلام : لوگوں کو مہلت پر مہلت دینے کا مقصد یہ ہے کہ لوگ اپنے اعمال کی درستگی کرلیں۔ مگر پھر بھی لوگ اعراض ہی کرتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ مشرکین کو اپنی قدرتیں بتلا اور دکھلا کر باربار سدھرنے کا موقع دیتا ہے مگر ان کی حالت یہ ہے کہ جونہی انہیں سمجھانے والا یہ بات سمجھاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور شرک سے باز آجاؤ۔ ورنہ جو کچھ تم اپنے آگے بھیج رہے ہو اور جو کچھ چھوڑ جاؤ گے وہ تمہاری ذلت و رسوائی کا سبب بنے گا لیکن مشرک اور نافرمان لوگ اپنے رب سے ڈرنے کی بجائے اس کی طرف سے دئیے جانے والے دلائل سے اعراض کرتے ہیں۔ جس کا نتیجہ یہ ہے کہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی مہربانی کے مستحق قرار پانے کی…
Read the full tafseer →44: اِلَّا رَحْمَۃً مِّنَّا وَمَتَا عًا اِلٰی حِیْنٍ (مگر یہ ہماری ہی مہربانی ہے۔ اور ان کو ایک وقت معین تک فائدہ دینا ہے) ای لا ینقذون الا لرحمۃ منا۔ یعنی رحمت کی وجہ سے ان کو بچایا جارہا ہے اور اس لئے بھی تاکہ وقت مقررہ تک دنیا کے سازوسامان سے فائدہ اٹھائیں۔
نحو : رحمۃ اور متاعًا مفعول لہ ہونے کی وجہ سے منصوب ہیں۔
Read the full tafseer →44، الا رحمۃ منا ومتا عا الی حین، ا ن کی مدت زندگی مکمل ہونے تک ۔ یعنی ہماری رحمت سے جوان پر کی اور ایک مقررہ مدت تک فائد ہ اٹھا نے کے لیے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–44
41 تا 44۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے مشحون کے معنے بوجھل کے بیان کئے ہیں اور قتادہ کا قول ہے کہ وہ کشتی نوح (علیہ السلام) کی ہے مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے دریا کو بھی تمہارا تا بعدار بنا دیا کہ تم اس میں اسباب کی کشتیاں لیے پھرتے ہو اگر حضرت نوح (علیہ السلام) کی اول کشتی نہ ہوتی تو دنیا میں کشتی کا رواج نہ ہوتا اللہ تعالیٰ نے نوح (علیہ السلام) سے وہ کشتی بنوائی جس سے کشتی کا رواج بھی پڑا اور نبی آدم کی نسل بھی آگے کو چلی ورنہ ‘ طوفان میں سب ہلاک ہوجاتے پھر فرمایا بنا دی ہم نے ان کے لیے مثل کشتی کے اور سواریاں جن پر سوار ہوتے ہیں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ من مثلہ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–51
آیت 41
نیز یہ امر کی دلل ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی اکیلا معبود برحق ہے کیونکہ وہی اکیلا نعمتیں عطا کرتا ہے اور مصائب و شدائد کو دور کرتا ہے اور اس کی جملہ نعمتوں میں ایک نعمت یہ ہے کہ (انا حملنا ذریتھم) ” ہم نے ان کی اولاد کو سوار کیا۔ “ بہت سے مفسرین کی رائے ہے کہ اس سے مراد ان کے آباء و اجداد ہیں (وخلقنا لھم) ” اور ہم نے ان کے لئے پیدا کیں۔ “ یعنی موجود اور آنے والے لوگوں کے لئے (من مثلہ) ” ویسی ہی “ اس کشتی جیسی یعنی اس کی جنس میں سے (مایرکبون) ” جس پر یہ سواری کرتے ہیں۔ “ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے آباؤ اجداد پر اپنی نعمت کا ذکر فرمایا کہ اس نے ان کو کشتی میں سوار کرایا۔ ان پر نعمت کا فیضان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–67
قول باری ہے (وخلقنا لھم من مثلہ ما یرکبون اور ہم نے ان کے لئے اسی کشتی جیسی چیزیں اور بھی پیدا کی ہیں جس پر یہ سوار ہوتے ہیں) حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے ” یعنی حضرت نوح (علیہ السلام) کی کشتی کے بعد دوسری کشتیاں “۔ حضرت ابن عباس ؓ سے ایک اور روایت بھی ہے اور مجاہد سے بھی کہ اونٹ خشکی کے جہاز ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–45
47 اللہ کا عذاب کہیں سے بھی آسکتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم : سو ارشاد فرمایا گیا " اور ڈرو تم اس عذاب سے جو تمہارے پیچھے آنے والا ہے "۔ یعنی آخرت و قیامت کا عذاب ۔ " اَیْ اَمْرُ السَّاعَۃِ " ۔ (جامع وغیرہ) اور حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ ۔ { مَا بَیْنَ اَیْدیکُمْ } ۔ سے مراد آخرت کا عذاب ہے۔ یعنی اس سے بچاؤ کے لئے تیاری کرو۔ اور ۔ { خَلْفَکُمْ } ۔ سے مراد دنیا ہے۔ اور اس عذاب سے بچنے کا ذریعہ اور طریقہ ہے گناہوں سے بچنا۔ اسی لئے مجاہد نے اس کی تفسیر گناہوں سے کی ہے۔ (ابن کثیر، الجامع، الصفوۃ وغیرہ) ۔ سو گناہوں سے بچنا عذاب سے بچنا ہے اور گناہوں میں ملوث ہونا دراصل عذاب میں چھلانگ لگانا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–44
ﷲ تعالیٰ کے انعامات انسان کے لیے
تشریح : پچھلی آیات میں رسولوں اور انسانوں کا معاملہ کچھ اس طرح بیان کیا گیا ہے۔ کہ رسول اللہ کی طرف سے بہت بڑی رحمت ہوتے ہیں کیونکہ وہ ہمارے دلوں کے زنگ کو دور کرتے ہیں، جنت کے راستے کی رہنمائی کرتے ہیں۔ ہمیں ہر قسم کی جھاڑ جھنکار، اونچ نیچ اور کھائیوں سے بچاتے ہیں۔ کیونکہ ان کا پیغام بڑا پاکیزہ اور سادہ ہوتا ہے۔ وہ یہ کہ ” اللہ کو مانو رسول کو مانو اور آخرت پر یقین کرو “۔ مگر بدنصیب انسان ان سے نفرت کرتے ہیں ان پر ظلم و زیادتی کرتے ہیں۔ لیکن یہ ظلم و زیادتی اصل میں وہ خود اپنے اوپر کر رہے ہوتے ہیں۔ جب کہ نیک لوگ، ان سے محبت کرتے ہیں اور یوں اللہ کے محبوب بن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–50
رکوع نمبر 3: آیات 33 تا 50:
اسرار و معارف :
اللہ کی قدرت کاملہ کا ایک بڑا مظہر تو مردہ زمین ہے جس پر یہ رہتے بستے ہیں جب اس پہ خشک سالی آتی ہے تو وہ بالکل اجاڑ ہوجاتی ہے ہر طرف گرد اڑتی ہے مگر جب اللہ چاہتے ہیں تو اس کی گود زندگی سے بھر دیتے ہیں اور ذرے ذرے سے زندگی ابلتی ہے پھل پھول اناج پیدا ہو کر نہ صرف زمین کی زندگی کا ثبوت دیتے ہیں بلکہ خود انسانوں کو زندہ رکھنے کا سبب بن جاتے ہیں یہی تو ان کی روز مرہ کی غذا ہے۔
زمین کے بعض حصوں کو ہم نے سرسبزی عطا کردی ہے کہ یہ بھی ضروری نہیں کہ وہ خشک ہو کر ہری ہو ہم نے اس میں چشمے جاری کردئیے اور اس کا سینہ باغات سے سجا دیا کہ ان لوگوں کے پاس بھی ایسے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
ف 9” ایک وقت “ سے مراد موت کا وقت ہے یا قیامت
Read the full tafseer →(36:44) الا۔ حرف استثناء (استثناء مفرغ) ۔ الا رحمۃ منا ومتاعا الی حین۔ ای ولا ینقذون الا لرحمۃ منا ولتمتیع بالحیاۃ الی انقضاء الاجل۔ اور نہ وہ چھٹکارا پاسکیں گے مگر ہماری رحمت سے اور ایک مقررہ وقت تک زندگی کا فائدہ اٹھانے کے لئے۔ حین ایک مقررہ وقت تک۔ مراد مدت حیات جو اللہ نے مقرر کر رکھی ہے۔ رحمۃ اور متاعا بوجہ مفعول لہ ہونے کے منصوب ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–44
لغات القرآن : آیت نمبر 33 تا 44 :۔ حب ( دانہ) نخیل ( کھجور) اعناب ( عنب) (انگور) فجرنا ( ہم نے پھاڑ دیا) الازواج ( زوج) (جوڑے) العرجون ( کھجور کی ٹہنی ، شاخ) یرکبون (وہ سوار ہوتے ہیں) صریخ ( چیخ ، فریاد)
تشریح : آیت نمبر 33 تا 44 :۔ اللہ تعالیٰ نے اس کائنات میں اپنی بیشمار نعمتوں کو بکھیر رکھا ہے جو ایک ایسے نظام میں بندھے ہوئے ہیں کہ اپنی مرضی سے ایک قدم بھی نہیں بڑھا سکتے۔ یہ اللہ کی ایسی نشانیاں ہیں جنہیں دن رات آدمی دیکھتا ہے لیکن ان پر غور نہیں کرتا ۔ اگر وہ ان تمام نعمتوں پر غور و فکر سے کام لے تو اس کے دل میں اس کائنات کے خالق کی ایسی عظمت چھا جائے کہ پھر اس کے سوا کسی کی عظمت کی کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–47
(ف 2) ان آیتوں میں فرمایا کہ اور نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ ہم نے اپنی قدرت سے دریا کو بھی تمہارا تابعدار بنادیا کہ تم اس میں جو سامان واسباب کی کشتیاں لیے پھرتے ہو، فرمایا کہ ہم نے ان کے باپ دادوں کو نوح (علیہ السلام) کی کشتی کی مانند چھوٹی بڑی کشتیاں بھی پیدا کردیں جن پر وہ چڑھتے پھرتے ہیں اگر ہم چاہیں تو ان کو ڈبودیں ان کو جو کشتیوں میں سوار ہیں اور پھر کوئی ان کی فریاد کو پہنچنے والا نہیں جو انکو اس مصیبت سے نجات دیوے مگر ہم اپنی رحمت سے دریا اور خشکی میں سفر کراتے ہیں اور ایک وقت مقررہ تک تم کو ہر ایک آفت سے بچاتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–44
[15] اشارہ ہے کشتی نوح (علیہ السلام) کی طرف۔ جب طوفان آیا تو سارے انسان غرق ہوگئے سوائے ان چند افراد کے جو نوح (علیہ السلام) کے ساتھ کشتی پر سوار تھے۔ بعد کی انسانی نسل انہی کشتی والوں سے چلی۔ یعنی بظاہر تو چند افراد کشتی میں تھے لیکن درحقیقت قیامت تک پیدا ہونے والے تمام انسان کشتی پر سوار تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–50
قرآن اور نظریات جدیدہ
2: یہ مسئلہ کہ آفتاب گھومتا ہے یا زمین اور چاند کی گردش کس نوع کی ہے ؟ اس کا تعلق مذہب کے ساتھ بالکل نہیں ہے ۔ یہ فلکیات کی بحث میں ہے اور مذہب کا موضوع بحث یہ ہے ۔ کہ کس طرح دلوں کو شرک کی آلودگیوں سے پاک کیا جاسکتا ہے ؟ اور کیونکر انسانوں کو فلاح و بہبود کا درس دیاجاسکتا ہے ۔ مذہب ان مسائل سے تعرض کرتا ہے ۔ کہ وہ کون تعلیمات ہیں ۔ جو لحمہ انسانی کے لئے باعث برکت وسعادت قرار پاسکتی ہیں ۔ اور وہ کون پیغام ہے جس کو اللہ کا پیغام کہا جاسکتا ہے ۔ یہ سائل کہ زمین پپٹی ہے گول ۔ ستاروں کی حرکت مداری ہے یا محوری آفتاب کی روشنی کس نوع کی ہے ۔ کسوف وخسوف کے واقعات کیوں ظہور پذیر…
Read the full tafseer →(44) مگر یہ ہماری مہربانی ہے اور ایک وقت معین تک ان کو فائدہ پہنچانا ہے۔ یعنی اگر ہم چاہیں تو کشتی کو ان کی غرق کردیں پھر ان کے مزعومہ اور خودساختہ شرکاء میں نہ ان کی کوئی فریاد رسی کرنیوالا ہو اور نہ یہ قوت سے چھڑائے جاسکیں مگر ہماری مہربانی سے کشتی غرق سے محفوظ رہتی ہے۔ نیز ان کو موت کے معین وقت تک فائدہ پہنچانا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–46
ف 5۔ یہ عام ہے اس نقطہ کو بھی جہاں سے چل کر سالانہ دورہ کر کے پھر اسی نقطہ پر جا پہنچتا ہے، اور اس نقطہ افقیہ کو بھی کہ حرکت یومیہ میں وہاں پہنچ کر غروب ہوجاتا ہے۔
Read the full tafseer →لیکن آخر ڈھیل پر ڈھیل کب تک دی جائے گی اور کب تک اس سے فائدہ اٹھائیں گے :
44۔ یہ چار دن کی زندگی جو ان کو ادھار دی گئی جس کا انحصار خالصتا اللہ تعالیٰ کی رحمت پر ہے کہ جب تک وہ کسی کو یہ مہلت دیئے رکھے کیونکہ اس کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ کسی قوم کے لیے کتنی مہلت رکھی گئی ہے اور اس مہلت کے اندر ان کی کتنی نسلیں در نسلیں جاری رہیں گی ، ہمیں معلوم ہے کہ یہ لوگ بعض اوقات بہت جلدی کرتے ہیں کہ جلد جلد ہو تاکہ اس کا کھڑاک ہم بھی سنیں لیکن یہ اتنے نادان ہیں کہ ان کو معلوم ہے کہ یہ لوگ بعض اوقات بہت جلدی کرتے ہیں کہ جلد جلد ہو تاکہ اس کا کھڑاک ہم بھی سنیں لیکن یہ اتنے نادان ہیں کہ ان کو معلوم ہی نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–44
No wonder if the Qur'an is alluding to the aeroplane!
But, it is obvious that the Qur'an has not specifically named a camel or some other particular mode of conveyance at this place. This includes every such means of transportation that carries people and their baggage, accompanied or unaccompanied, right up to their desired destination. In our time, the invention of aeroplanes has made it amply clear that aeroplanes are the greatest substantiation of the Qur'anic statement: مِّن مِّثْلِهِ (mim-mithlihi: things similar to it). Then, its similarity with boat or ship is strongly supportive of…
Read the full tafseer →40 The signs till now were mentioned as arguments for Tauhid. This sign has been mentioned to make man realize that whatever powers he has been given over the forces of nature, have been given him by AIlah and are not of his own acquirement. And whatever methods he has discovered of exploiting these forces; have been discovered also through the guidance of Allah and not solely by himself. Man did not havc the power and strength to have subdued these great forces by his own power, nor the capability to have discovered the secrets of nature himself and known the methods of taking service from…
Read the full tafseer →