Yaseen 36:43

Yaseen · from ayah 43

36:43

وَاِنْ نَّشَاْ نُغْرِقْهُمْ فَلَا صَرِیْخَ لَهُمْ وَلَا هُمْ یُنْقَذُوْنَ ۟ۙوَاِنۡ نَّشَاۡ نُغۡرِقۡهُمۡ فَلَا صَرِيۡخَ لَهُمۡ وَلَا هُمۡ يُنۡقَذُوۡنَۙ

اور اگر ہم چاہیں تو ان کو غرق کردیں۔ پھر نہ تو ان کا کوئی فریاد رس ہوا اور نہ ان کو رہائی ملے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And if We should will, We could drown them; then no one responding to a cry would there be for them, nor would they be saved

— Saheeh International

Juz 23 · Ruku 3 of surah · Ruku 2 of juz

Read the whole surah · Surah Yaseen

All translations of 36:43

ہم چاہیں تو اِن کو غرق کر دیں، کوئی اِن کی فریاد سننے والا نہ ہو اور کسی طرح یہ نہ بچائے جا سکیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور اگر ہم چاہیں تو ان کو غرق کردیں۔ پھر نہ تو ان کا کوئی فریاد رس ہوا اور نہ ان کو رہائی ملے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور اگر ہم چاہتے تو انہیں ڈبو دیتے۔ پھر نہ تو کوئی ان کا فریاد رس ہوتا نہ وه بچائے جائیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور اگر ہم چاہیں تو انہیں غرق کر ڈالیں، جس کے بعد نہ تو کوئی ان کی فریاد کو پہنچے اور نہ ان کی جان بچائی جاسکے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور ہم چاہیں تو انہیں ڈبودیں تو نہ کوئی ان کی فریاد کو پہنچنے والا ہو اور نہ وہ بچائے جائیں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور اگر ہم چاہیں تو انہیں غرق کر دیں تو نہ ان کے لئے کوئی فریاد رَس ہوگا اور نہ وہ بچائے جاسکیں گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور اگر ہم چاہیں تو انھیں غرق کردیں، پھر نہ کوئی ان کی فریاد سننے والا ہو اور نہ وہ بچائے جائیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اگر ہم چاہیں تو انہیں غرق کردیں پھر نہ تو ان کا کوئی فریاد رس ہوگا اور نہ وہ بچائے جاسکیں گے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور اگر ہم چاہیں تو ان کو غرق کردیں پھر نہ ان کا کوئی فریاد رس ہوگا اور نہ ان کو نجات مل سکے گی۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور اگر ہم چاہیں تو ان کو اس طرح غرق کر کے رکھ دیں کہ نہ تو ان کا کوئی فریاد رس ہو اور نہ ہی ان کو کسی طرح بچایا جاسکے

— مولانا اسحاق مدنی

اور اگر ہم چاہیں انہیں غرق کردیں تو نہ انکا کوئی فریاد رس ہو اور نہ یہ رہائی پائیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور اگر ہم چاہیں تو انہیں غرق کردیں پھر نہ تو ان کا کوئی فریاد رس ہوگا اور نہ ہی وہ چھڑائے جائیں گے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور اگر ہم چاہیں تو ان کو غرق کردیں پھر نہ کوئی ان کی فریاد کو پہنچے اور نہ چھڑائے جائیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Should We so wish, We can drown them, and there will be none to heed their cries of distress, nor will they be rescued.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And if We so will, We can drown them; then no one will respond to their cry, nor will they be rescued,

— Muhammad Taqi Usmani

And if We so will, We can drown them; then no one will respond to their cry, nor will they be rescued,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And if We will, We shall drown them, and there will be no shout for them, nor will they be saved.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And if We will, We drown them, and there is no help for them, neither can they be saved;

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And if We should will, We could drown them; then no one responding to a cry would there be for them, nor would they be saved

— Saheeh International

Had We wanted, We could have drowned them and nothing would have been able to help or rescue them

— Muhammad Sarwar

And if We please, We can drown them, then there shall be no succorer for them, nor shall they be rescued

— Muhammad Habib Shakir

And if We list, We shall drown them, and there will be no shout for them, nor will they be saved.

— Abdul Majid Daryabadi

If it were Our Will, We could drown them: then would there be no helper (to hear their cry), nor could they be delivered,

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 36:43

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 41–44

سمندر کی تسخیر۔ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی قدرت کی ایک اور نشانی بتارہا ہے کہ اس نے سمندر کو مسخر کردیا ہے جس میں کشتیاں برابر آمد و رفت کر رہی ہیں۔ سب سے پہلی کشتی حضرت نوح ؑ کی تھی جس پر سوار ہو کر وہ خود اور ان کے ساتھ ایماندار بندے نجات پا گئے تھے باقی روئے زمین پر ایک انسان بھی نہ بچا تھا، ہم نے اس زمانے والے لوگوں کے آباؤ اجداد کو کشتی میں بٹھا لیا تھا جو بالکل بھرپور تھی۔ کیونکہ اس میں ضرورت اکل اسباب بھی تھا اور ساتھ ہی حیوانات بھی تھے جو اللہ کے حکم سے اس میں بٹھا لئے گئے تھے ہر قسم کے جانور کا ایک ایک جوڑا تھا، بڑا باوقار مضبوط اور بوجھل وہ جہاز تھا، یہ صفت بھی صحیح طور پر حضرت نوح کی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 42–43

سورة یٰسٓ 39 اس سے یہ اشارہ نکلتا ہے کہ تاریخ میں پہلی کشتی جو بنی وہ حضرت نوح ؑ والی کشتی تھی۔ اس سے پہلے انسان کو دریاؤں اور سمندروں کے عبور کرنے کا کوئی طریقہ معلوم نہ تھا۔ اس طریقے کی تعلیم سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح ؑ کو دی۔ اور جب ان کی بنائی ہوئی کشتی پر سوار ہو کر اللہ کے کچھ بندے طوفان سے بچ نکلے تو آئندہ ان کی نسل نے بحری سفروں کے لیے کشتیاں بنانے کا سلسلہ شروع کردیا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 42–44

قرآن میں ہوائی جہاز کا ذکر مگر یہ ظاہر ہے کہ قرآن نے اس جگہ اونٹ یا کسی خاص سواری کا نام نہیں لیا، بلکہ مبہم چھوڑا ہے، جس میں ہر ایسی سواری داخل ہے جو انسان اور اس کے اسباب و سامان کو زیادہ سے زیادہ اٹھا کر منزل مقصود پر پہنچا دے۔ اس زمانے کی نئی ایجاد ہوائی جہازوں نے یہ واضح کردیا کہ من مثلہ کا سب سے بڑا مصداق ہوائی جہاز ہیں، اور کشتی کے ساتھ اس کی تمثیل بھی اس کی زیادہ موید ہے، کہ جس طرح پانی کا جہاز پانی پر تیرتا ہے پانی اس کو غرق نہیں کرتا، ہوائی جہاز ہوا پر تیرتا ہے ہوا اس کو نیچے نہیں گراتی، اور عجب نہیں کہ قرآن حکیم نے اسی لئے من مثلہ ما یرکبون کو مبہم رکھا ہو تاکہ قیامت تک ایجاد ہونے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 41–44

آیت 41۔ 44 ’ ذریتھم ‘ میں ’ ھم ‘ سے مراد مخاطب بحیثیت انسان ہیں اور ’ ذریۃ ‘ نسل کے مفہوم میں ہے۔ ’ مشحون ‘ بھری ہوئی کشتی کو کہتے ہیں۔ فرمایا کہ اگر ان کو مزید نشانی کی طلب ہو تو وہ اس بات کو دیکھیں کہ ہم نے نسل انسانی کے بحری سفر کے لئے یہ اہتمام کیا ہے کہ ان کی کشتیاں سمندر کے سینہ پر سے ہزاروں ٹن سامان لے کر چلتی ہیں اور نہیں ڈوبتیں۔ ’ وخلقنالھم الایۃ ‘ فرمایا کہ جس طرح سمندر کے سفر کے لئے ہم نے کشتی بنائی ہے اسی طرح کی چیزیں ہم نے خشکی کے سفر کے لئے بھی بنائی ہیں مثلاً گھوڑے اور اونٹ وغیرہ۔ خاص طور پر اونٹ کو عرب میں سفینہ صحرا کی حیثیت حاصل تھی۔ اسی حکم میں وہ سورایاں بھی داخ ؒ ہیں جو…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 42–45

42۔ 1 اس سے مراد ایسی سواریاں ہیں جو کشتی کی طرح انسانوں اور سامان تجارت کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جاتی ہیں، اس میں قیامت تک پیدا ہونے والی چیزیں آگئیں۔ جیسے ہوائی جہاز، بحری جہاز، ریلیں، بسیں، کاریں اور دیگر نقل و حمل کی اشیاء۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 42–64

18: کشتی جیسی دوسری سواری کی تشریح عام طور سے مفسرین نے اونٹوں سے کی ہے، کیونکہ اہل عرب اونٹوں کو صحرا کا جہاز کہا کرتے تھے۔ لیکن قرآن کریم کے الفاظ عام ہیں جس میں کشتی کے مشابہ ہر طرح کی سواریاں داخل ہیں، بلکہ عربی قواعد کی رو سے آیت کا ترجمہ اس طرح بھی کیا جاسکتا ہے کہ : ہم نے ان کے لیے اسی جیسی اور چیزیں بھی پیدا کی ہیں جن پر یہ (آئندہ) سواری کریں گے۔ اس صورت میں وہ تمام سواریاں اس عبارت میں داخل ہوجاتی ہیں جو قیامت تک پیدا ہوں گی، مثلاً آبدوزیں، اور ہوائی جہاز جو اس لحاظ سے کشتی کے مشابہ ہیں کہ کشتی پانی پر تیرتی ہے، اور ہوائی جہاز ہوا پر تیرتا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 43–44

وان نشا ۔۔۔۔۔ الٰی حین (36: 44) ” ہم چاہیں تو ان کو غرق کردیں ، کوئی ان کی فریاد سننے والانہ ہو ، اور کسی طرح یہ نہ بچائے جاسکیں۔ بس ہماری رحمت ہی ہے جو انہیں پار لگاتی اور ایک وقت خاص تک زندگی سے متمتع ہونے کا موقعہ دیتی ہے “۔ گہرے سمندروں میں کشتی کی حقیقت وہی ہوتی ہے جس طرح طوفان میں ایک پر کی ہوتی ہے ۔ جس قدر بھی کشتی بھاری اور بڑی ہو ، اور چاہے وہ بہت ہی اعلیٰ سائنسی اصولوں کے مطابق بنی ہو۔ اگر ان کشتیوں کے ساتھ اللہ کی رحمت اور شفقت نہ ہو تو وہ رات یا دن کے کسی بھی لمحے میں تباہ ہوجائیں ۔ وہ لوگ جنہوں نے سمندروں کا سفر چھوٹے بجرے میں ہواہویا بڑے بحری جہاز میں۔۔۔۔ وہ سمندر کی ہولناکی کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 43–44

9 یعنی یہ مشت استخواں انسان ! دیکھو کیسے خوفناک سمندروں کو کشتی کے ذریعہ عبور کرتا ہے۔ جہاں بڑے بڑے جہازوں کی حقیقت ایک تنکے کے برابر نہیں۔ اگر اللہ اس وقت غرق کرنا چاہے تو کون بچا سکتا ہے اور کون ہے جو فریاد کو پہنچے۔ مگر یہ اس کی مہربانی اور مصلحت ہے کہ اس طرح سب بحری سواریوں کو غرق نہیں کردیتا۔ کیونکہ اس کی رحمت و حکمت مقتضی ہے کہ ایک معین وقت تک دنیا کا کام چلتا رہے۔ افسوس ہے کہ بہت لوگ ان نشانیوں کو نہیں سمجھتے نہ اس کی نعمتوں کو قدر کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 43 { وَاِنْ نَّشَاْ نُغْرِقْہُمْ فَلَا صَرِیْخَ لَہُمْ وَلَا ہُمْ یُنْقَذُوْنَ } ”اور اگر ہم چاہیں تو انہیں غرق کردیں ‘ پھر نہ تو ان کا کوئی فریاد رس ہوگا اور نہ ہی وہ چھڑائے جائیں گے۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

42 سمندر میں غرقابی کا حسرتناک منظر :۔ سمندر میں انسان کے کشتی پر سوار ہو کر سفر کرنے کے منظر کو قرآن نے متعدد مقامات پر اپنی نشانی کے طور پر پیش کیا ہے اگر کسی نے سمندری سفر کیا ہو تو وہی اس منظر کو اچھی طرح سمجھ سکتا ہے کہ سمندر کے عین درمیان جہاز چل رہا ہے اوپر دیکھیں تو صرف نیلا آسمان نظر آتا ہے کوئی پرندہ تک نظر نہیں آتا، نیچے دیکھیں تو حد نگاہ تک سیاہ پانی نظر آتا ہے۔ پھر جب سمندر کی موجیں اور تیز ہوائیں جہاز کو ڈگمگا دیتی ہیں تو ہر مسافر سہما سہما نظر آنے لگتا ہے۔ نزدیک کوئی خشکی نہیں، کوئی بستی نہیں جہاز میں سوار تمام مسافروں کی زندگی کا انجام بس اتنا ہی ہوتا ہے کہ ایک شدید جھٹکا لگے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

30۔ نہ کوئی جل دیوتا ہے اور نہ کوئی اور فریاد رس، جو غرق ہونے سے بچا سکے اور موت سے چھڑا سکے .... آیت میں تریدد اس سلسلہ کے تمام مشرکانہ خیالات کی آگئی۔ یہ تو اخباروں میں آئے دن خبریں ہوائی جہازوں اور طیاروں کی، گرگر کر پاش پاش ہونے کی چھپتی رہتی ہیں آیت ان پر کتنی منطبق ہے ! وایرلس (لاسلکی) وغیرہ کے آلات سب دھرے کے دھرے رہ جاتے اور کوئی مدد تو تو کیا آئے خبر بھی باہر والوں کو مدتوں نہیں پہنچ پاتی، اور پھر لاشوں کو سمندر کی گہرائیوں سے، یا پہاڑوں پر جمی ہوئی برف کے تودوں کے اندر سے کھود کھود کر یا گھنے جنگلوں کے اندر سے ڈھونڈ ڈھونڈ کرنکالنے کے مرحلے تو اور بھی صعب تر ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 33–50

آیت نمبر 33 تا 50 ترجمہ : اور ایک نشانی ان کے لئے مرنے کے بعد زندہ ہونے پر مردہ زمین ہے اٰیۃٌ لھُمْ خبر مقدم ہے اَلْمیتۃُ تخفیف اور تشدید کے ساتھ ہے کہ ہم نے اس کو پانی کے ذریعہ زندہ کیا والارض الخ مبتداء مؤخر ہے، اور ہم نے اس زمین سے غلہ مثلاً گندم پیدا کیا سو اس سے یہ لوگ کھاتے ہیں اور (نیز) ہم نے زمین میں کھجوروں اور اناروں کے باغات پیدا کئے اور اس میں کچھ چشمے جاری کئے تاکہ لوگ اس کے پھل کھائیں، ثمَرہ میں یعنی (ث، م) دونوں میں فتحہ اور ضمہ ہے، یعنی تاکہ مذکورہ کھجور وغیرہ کے پھلوں میں سے کھائیں اور ان پھلوں کو ان کے ہاتھوں نے نہیں بنایا تو پھر یہ لوگ اپنے اوپر خدا تعالیٰ کے انعامات کا شکر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وان نشاء نغرقھم . اور اگر ہم چاہیں تو ان کو ڈبو دیں۔ فلا صریخ لھم . پھر ان کا کوئی فریاد رس بھی نہ ہوگا جو غرق ہونے سے بچا سکے ‘ یا چیخ سے مراد ہے استغاثۂ فریاد ‘ یعنی فریاد بھی نہ کرسکیں گے۔ ولاھم ینقذون اور نہ (ڈوبنے سے) وہ نجات پاسکیں گے۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : کوئی بھی ان کو میرے عذاب سے نہ بچا سکے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 43–44

(43۔ 44) اور اگر ہم چاہیں تو ان کو سمندر میں غرق کردیں اور پھر غرق ہونے سے ان کو کوئی بچانے والا نہ ہو اور نہ یہ ڈوبنے سے بچائے جائیں مگر یہ ہماری مہربانی ہے کہ ہم انہیں غرق ہونے سے بچا لیتے ہیں اور ایک مقررہ وقت تک یعنی ان کو موت اور ہلاکت تک فائدہ دینا منظور ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَاِنْ نَّشَاْ نُغْرِقْهُمْ فَلَا صَرِيْخَ لَهُمْ : یعنی یہ ہمارا احسان ہے کہ ہم نے پانی میں بحری جہاز اٹھانے کی خوبی رکھی اور انسان کو کشتیاں اور جہاز بنانے کا سلیقہ سکھایا، پھر ہمارا ہی احسان ہے کہ ہم انھیں سلامتی کے ساتھ منزل پر پہنچا دیتے ہیں۔ اگر ہم چاہیں تو انھیں غرق کردیں، پھر نہ کوئی ان کی مدد کو پہنچ سکتا ہے اور نہ وہ خود اپنے آپ کو غرق ہونے سے بچا سکتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 41–44

الیۃ لھم من تین معانی کا احتمال ہے : (1) یہ ان کے لئے عبرت ہے کیونکہ آیات میں عبرتیں ہیں (2) ان پر نعمت ہے کیونکہ آیات میں انعام ہے (3) انہیں خبردار کرنا ہے کیونکہ آیات میں خبردار کرنے کا پہلو موجود ہوتا ہے (1) ۔ انا حملنا ذریتھم فی الفلک المشحون۔ سورت میں مشکل ترین آیت ہے کیونکہ انہیں ہی کشتی میں سوار کیا گیا تھا ‘ ایک قول یہ کیا گیا : اہل مکہ کے لئے نشانی ہے کہ ہم نے سابقہ قوموں کی اولادوں کو بھری کشتی میں سوار کیا۔ دونوں ضمیریں مختلف ہیں ‘ یہ مہدوی نے زکر کیا ہے۔ نحاس نے علی بن سلیمان کو کہتے ہوئے سنا ہے اور اس کی حکایت بیان کی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا : دونوں ضمیریں اہل مکہ کے لئے ہیں کہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 43–48

7:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وخلقنا لھم من مثلہ ما یرکبون “ سے مراد چوپائے ہیں (آیت) ” وان نشانغرقھم فلا صریح “ (اگر ہم چاہیں تو ان کو ڈبودیں) پھر ان کی کوئی مدد کرنے والا نہ ہوگا جو اس کی مدد کرسکے۔ معذب قوم کے حالات سے عبرت حاصل کرو : 8:۔ عبد الرزاق (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فلاصریح لھم “ یعنی کوئی ان کی مدد کرنے والا نہ ہوگا (آیت) ” ومتاعا الی حین “ (یعنی نفع اٹھانا ہے موت تک) (آیت) ” واذا قیل لھم اتقوامابین ایدیکم “ (اور جب…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَاِنْ نَّشَاْ [اور اگر ہم چاہیں ] نُغْرِقْهُمْ [تو ہم غرق کردیں ان کو ] فَلَا صَرِيْخَ لَهُمْ [پھر کوئی بھی فریاد رس نہ ہوگا ان کے لئے ] وَلَا هُمْ يُنْقَذُوْنَ [اور نہ وہ بچائے جائیں گے ] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 42–43

مزید فرمایا کہ یہ لوگ جو جہازوں اور کشتیوں میں امن وامان کے ساتھ سفر کرتے ہیں، یہ امن وامان سے رکھنا اور ڈوبنے سے حفاظت کرنا ہمارا ہی انعام ہے۔ (وَاِِنْ نَّشَاْ نُغْرِقْہُمْ فَلاَ صَرِیْخَ لَہُمْ ) (اور اگر ہم چاہیں تو انہیں غرق کردیں پھر انہیں کوئی فریاد رس نہ ملے) (وَلاَ ھُمْ یُنْقَذُوْنَ ) (اور نہ انہیں خلاصی دی جائے) (اِِلَّا رَحْمَۃً مِّنَّا وَمَتَاعًا اِِلٰی حِیْنٍ ) (مگر یہ کہ ہماری مہربانی ہوجائے اور ایک وقت معین تک انہیں فائدہ دینا منظور ہو) اللہ تعالیٰ اپنی مہربانی سے محفوظ فرماتا ہے اور وقت معین تک فائدہ پہنچاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 41–44

دلیل سوم قال اللہ تعالیٰ وایۃ لہم انا حملنا ذریتہم فی الفلک المشحون۔۔۔ الی۔۔۔ الا رحمۃ منا ومتاعا الی حین۔ یہ اس کی قدرت کی تیسری دلیل ہے کہ خدا تعالیٰ اپنی قدرت سے گراں بار کشتیوں کو دریا میں چلاتا ہے جن پر تم لمبے لمبے سفر کرتے ہو اگر وہ غرق کر دے تو کون ہے جو تمہاری فریاد رسی کرسکے یہ اس کی رحمت ہے کہ وہ تمہیں غرق نہیں کرتا یہ گراں بار کشتیاں اس کی قدرت کی بھی دلیل ہیں اور اس کی نعمت اور رحمت کی بھی دلیل ہیں ایک سمندر میں بڑے سے بڑے جہاز کی ایک تنکے کے برابر بھی حقیقت نہیں اللہ کی رحمت سے سہولت کے ساتھ سفر طے ہوجاتا ہے۔ چناچہ فرماتے ہیں اور ایک نشانی ان کے لئے یہ ہے کہ ہم نے ان کی ذریت کو…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 42–45

29:۔ واذا قیل الخ :۔ چار دلیلوں کے بعد مشرکین پر شکوی ہے اور اذا کا جواب محذوف ہے، ای اعرضوا (روح) ۔ ما بین ایدیکم، اقوامِ سابقہ پر نازل ہونے والا عذاب، وما خلفکم آخرت کا عذاب (خازن، معالم) ۔ جب ازراہِ خیر خواہی ان سے کہا جائے کہ اقوام گذشتہ ایسے انجام سے ڈرو کہیں تم بھی عذاب الٰہی سے ہلاک نہ کر دئیے جاؤ اور آخرت کے عذاب سے ڈرو جو معاندین کے لیے تیار کیا گیا ہے یعنی ایمان لے آؤ تاکہ تم اللہ کی رحمت کے مستحق ہوجاؤ تو وہ ایسی پند و نصیحت سے اعراض کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 41–50

ربط آیات گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کی نشانیوں کا ذکر کیا ہے۔ انہی نشانیوں سے وقوع قیامت پر بھی دلیل قائم ہوتی ہے اور ساتھ ساتھ اللہ کی وحدانیت بھی سمجھ میں آتی ہے۔ تمام نشانیوں کو پیدا کرنے والا صرف اللہ وحدہ لا شریک ہی ہے۔ اللہ نے سورج اور چاند کا ذکر کیا۔ ہر چیز کے جوڑے جوڑے بنانے کا تذکرہ کیا۔ جن میں انسان ، جانور اور نباتات وغیرہ سب شامل ہیں اور یہ ساری نشانیاں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کی دلیل ہیں۔ اب آج کی پہلی آیت میں اللہ نے کشتی کو اپنی قدرت کی نشانی کے طور پر متعارف کرایا۔ ارشاد ہوتا ہے۔ وایۃ لھم اور ان کے لیے ایک نشانی یہ بھی ہے انا حملنا ذریتھم فی الفلک المشحون کہ ہم نے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاِنْ نَّشَاْ نُغْرِقْہُمْ فَلَا صَرِيْخَ لَہُمْ وَلَا ہُمْ يُنْقَذُوْنَ۝ 43ۙ نشأ النَّشْءُ والنَّشْأَةُ : إِحداثُ الشیءِ وتربیتُهُ. قال تعالی: وَلَقَدْ عَلِمْتُمُ النَّشْأَةَ الْأُولی [ الواقعة/ 62] . يقال : نَشَأَ فلان، والنَّاشِئُ يراد به الشَّابُّ ، وقوله : إِنَّ ناشِئَةَ اللَّيْلِ هِيَ أَشَدُّ وَطْئاً [ المزمل/ 6] يريد القیامَ والانتصابَ للصلاة، ومنه : نَشَأَ السَّحابُ لحدوثه في الهواء، وتربیته شيئا فشيئا . قال تعالی: وَيُنْشِئُ السَّحابَ الثِّقالَ [ الرعد/ 12] والإنْشَاءُ : إيجادُ الشیءِ وتربیتُهُ ، وأكثرُ ما يقال ذلک في الحَيَوانِ. قال تعالی: قُلْ هُوَ الَّذِي أَنْشَأَكُمْ وَجَعَلَ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 42–44

وخلقنا لہم من مثلہ ما یرکبون سے بعض کے نزدیک اونٹ وغیرہ دیگر بار کش چیزیں ہیں، جن کو خشکی کی کشتی کہنا چاہیے، جس میں چھکڑے اور ریل گاڑی بھی آگئی۔ یہ سب اس کی عنایت و رحمت ہے۔

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 41–44

وَاٰیـَۃٌ لَّھُمْ اَنَّا حَمَلْنَا ذُرِّیَّتَھُمْ فِی الْفُلْکِ الْمَشْحُوْنَ ۔ وَخَلَقْنَا لَھُمْ مِّنْ مِّثْلِہٖ مَا یَرْکَبُوْنَ ۔ وَاِنْ نَّشَاْ نُغْرِقْھُمْ فَلاَ صَرِیْخَ لَھُمْ وَلاَ ھُمْ یُنْقَذُوْنَ ۔ اِلاَّ رَحْمَۃً مِّنَّا وَمَتَاعًا اِلٰی حِیْنٍ ۔ (یٰسٓ: 41 تا 44) (اور ایک نشانی ان کے لیے یہ بھی ہے کہ ہم نے ان کی نسل کو بھری ہوئی کشتی میں سوار کیا۔ پھر ہم نے ان کے لیے پیدا کیں اسی کی مانند جن پر یہ سوار ہوتے ہیں۔ اور اگر ہم چاہیں تو ان کو غرق کردیں پھر نہ کوئی ان کا فریاد سننے والا ہو اور نہ وہ بچائے جاسکیں۔ پس ہماری رحمت ہے اور ایک وقت معین تک ان کو بہرہ مند کرنا ہے۔ ) صفتِ تخلیق…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 42–45

فہم القرآن ربط کلام : لوگوں کو مہلت پر مہلت دینے کا مقصد یہ ہے کہ لوگ اپنے اعمال کی درستگی کرلیں۔ مگر پھر بھی لوگ اعراض ہی کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ مشرکین کو اپنی قدرتیں بتلا اور دکھلا کر باربار سدھرنے کا موقع دیتا ہے مگر ان کی حالت یہ ہے کہ جونہی انہیں سمجھانے والا یہ بات سمجھاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور شرک سے باز آجاؤ۔ ورنہ جو کچھ تم اپنے آگے بھیج رہے ہو اور جو کچھ چھوڑ جاؤ گے وہ تمہاری ذلت و رسوائی کا سبب بنے گا لیکن مشرک اور نافرمان لوگ اپنے رب سے ڈرنے کی بجائے اس کی طرف سے دئیے جانے والے دلائل سے اعراض کرتے ہیں۔ جس کا نتیجہ یہ ہے کہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی مہربانی کے مستحق قرار پانے کی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

43: وَاِنْ نَّشَاْ نُغْرِقْھُمْ (اور اگر ہم چاہیں تو ان کو غرق کردیں) سمندر میں فَلاَ صَرِیْخَ لَھُمْ (پھر نہ تو ان کا کوئی فریادرس ہو) صریخ کا معنی فریاد کو پہنچنے والا۔ یا صریخ مصدری معنی میں ہے فریاد رسی۔ وَلَا ھُمْ یُنْقَذُوْنَََ (اور نہ یہ نجات پاسکیں گے) نجات دیے جائیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر 43، وان نشاء نغرقھم فلا صریخ، ان کا کوئی مددگارنہ ہوگا۔ ، لھم ولا ھم ینقذون، جوان کو غرق ہونے سے بچا لے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کوئی بھی ان کو میرے عذاب سے نہ بچاسکے گا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 41–44

41 تا 44۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے مشحون کے معنے بوجھل کے بیان کئے ہیں اور قتادہ کا قول ہے کہ وہ کشتی نوح (علیہ السلام) کی ہے مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے دریا کو بھی تمہارا تا بعدار بنا دیا کہ تم اس میں اسباب کی کشتیاں لیے پھرتے ہو اگر حضرت نوح (علیہ السلام) کی اول کشتی نہ ہوتی تو دنیا میں کشتی کا رواج نہ ہوتا اللہ تعالیٰ نے نوح (علیہ السلام) سے وہ کشتی بنوائی جس سے کشتی کا رواج بھی پڑا اور نبی آدم کی نسل بھی آگے کو چلی ورنہ ‘ طوفان میں سب ہلاک ہوجاتے پھر فرمایا بنا دی ہم نے ان کے لیے مثل کشتی کے اور سواریاں جن پر سوار ہوتے ہیں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ من مثلہ سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 41–51

آیت 41 نیز یہ امر کی دلل ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی اکیلا معبود برحق ہے کیونکہ وہی اکیلا نعمتیں عطا کرتا ہے اور مصائب و شدائد کو دور کرتا ہے اور اس کی جملہ نعمتوں میں ایک نعمت یہ ہے کہ (انا حملنا ذریتھم) ” ہم نے ان کی اولاد کو سوار کیا۔ “ بہت سے مفسرین کی رائے ہے کہ اس سے مراد ان کے آباء و اجداد ہیں (وخلقنا لھم) ” اور ہم نے ان کے لئے پیدا کیں۔ “ یعنی موجود اور آنے والے لوگوں کے لئے (من مثلہ) ” ویسی ہی “ اس کشتی جیسی یعنی اس کی جنس میں سے (مایرکبون) ” جس پر یہ سواری کرتے ہیں۔ “ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے آباؤ اجداد پر اپنی نعمت کا ذکر فرمایا کہ اس نے ان کو کشتی میں سوار کرایا۔ ان پر نعمت کا فیضان…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 42–67

قول باری ہے (وخلقنا لھم من مثلہ ما یرکبون اور ہم نے ان کے لئے اسی کشتی جیسی چیزیں اور بھی پیدا کی ہیں جس پر یہ سوار ہوتے ہیں) حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے ” یعنی حضرت نوح (علیہ السلام) کی کشتی کے بعد دوسری کشتیاں “۔ حضرت ابن عباس ؓ سے ایک اور روایت بھی ہے اور مجاہد سے بھی کہ اونٹ خشکی کے جہاز ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

45 حفظ وامان کی نعمت میں سامان غور و فکر : سو اس ارشاد سے واضح فرمایا گیا کہ انکو حفظ وامان کی نعمت بھی قدرت کی رحمت و عنایت ہی سے میسر ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اگر ہم چاہیں تو انکو غرق کردیں "۔ یعنی پانی میں سفر کے دوران یا کسی بھی اور صورت میں اور کسی بھی دوسرے موقع پر۔ کہ نہ تو ایسا کرنا ہماری قدرت سے خارج ہے اور کچھ بعید ہے اور نہ ہی یہ لوگ کبھی بھی اور کسی بھی طور پر ہماری گرفت اور پکڑ سے باہر ہوسکتے ہیں۔ سو یہ ہماری رحمت و عنایت اور ہمارے فضل و کرم کا نتیجہ ہے کہ یہ لوگ اس طرح امن وامان اور سکون و اطمینان کے ساتھ چل پھر رہے ہیں ورنہ ہم انکو کہیں بھی اور کسی بھی طرح پکڑ سکتے ہیں۔ اور…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 33–44

ﷲ تعالیٰ کے انعامات انسان کے لیے تشریح : پچھلی آیات میں رسولوں اور انسانوں کا معاملہ کچھ اس طرح بیان کیا گیا ہے۔ کہ رسول اللہ کی طرف سے بہت بڑی رحمت ہوتے ہیں کیونکہ وہ ہمارے دلوں کے زنگ کو دور کرتے ہیں، جنت کے راستے کی رہنمائی کرتے ہیں۔ ہمیں ہر قسم کی جھاڑ جھنکار، اونچ نیچ اور کھائیوں سے بچاتے ہیں۔ کیونکہ ان کا پیغام بڑا پاکیزہ اور سادہ ہوتا ہے۔ وہ یہ کہ ” اللہ کو مانو رسول کو مانو اور آخرت پر یقین کرو “۔ مگر بدنصیب انسان ان سے نفرت کرتے ہیں ان پر ظلم و زیادتی کرتے ہیں۔ لیکن یہ ظلم و زیادتی اصل میں وہ خود اپنے اوپر کر رہے ہوتے ہیں۔ جب کہ نیک لوگ، ان سے محبت کرتے ہیں اور یوں اللہ کے محبوب بن…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 33–50

رکوع نمبر 3: آیات 33 تا 50: اسرار و معارف : اللہ کی قدرت کاملہ کا ایک بڑا مظہر تو مردہ زمین ہے جس پر یہ رہتے بستے ہیں جب اس پہ خشک سالی آتی ہے تو وہ بالکل اجاڑ ہوجاتی ہے ہر طرف گرد اڑتی ہے مگر جب اللہ چاہتے ہیں تو اس کی گود زندگی سے بھر دیتے ہیں اور ذرے ذرے سے زندگی ابلتی ہے پھل پھول اناج پیدا ہو کر نہ صرف زمین کی زندگی کا ثبوت دیتے ہیں بلکہ خود انسانوں کو زندہ رکھنے کا سبب بن جاتے ہیں یہی تو ان کی روز مرہ کی غذا ہے۔ زمین کے بعض حصوں کو ہم نے سرسبزی عطا کردی ہے کہ یہ بھی ضروری نہیں کہ وہ خشک ہو کر ہری ہو ہم نے اس میں چشمے جاری کردئیے اور اس کا سینہ باغات سے سجا دیا کہ ان لوگوں کے پاس بھی ایسے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(36:43) وان نشا نغرقہم واو عاطفہ ہے ان شرطیہ نشا مضارع مجزوم بوجہ عمل ان۔ جمع متکلم ۔ اور اگر ہم چاہیں ۔ شیء ومشیۃ مصدر (باب فتح) ۔ نغرقہم نغرق مضارع مجزوم (بوجہ جواب شرط) صیغہ جمع متکلم۔ اغراق (افعال) مصدر ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب ان کو ہم غرق کردیں۔ فلا۔ برفا برائے عطف وتقیب لا نفی جنس کے لئے ہے۔ صریخ اس کی دو صورتیں ہیں :۔ صرخ یصرخ (نصر) سے مصدر ہے جس کے معنی فریاد کرنا۔ چلانا۔ مدد کے لئے پکارنا کے ہیں۔ اس صورت میں ترجمہ ہوگا :۔ پس وہ کوئی فریاد نہ کرسکیں گے۔ اور اگر یہ بروزن فعیل بمعنی فاعل ہے تو یہ اضداد میں سے ہے اور اس کے معنی ہوں گے فریاد رس (فریاد کو پہنچنے والا) یا فریاد دی ،…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 33–44

لغات القرآن : آیت نمبر 33 تا 44 :۔ حب ( دانہ) نخیل ( کھجور) اعناب ( عنب) (انگور) فجرنا ( ہم نے پھاڑ دیا) الازواج ( زوج) (جوڑے) العرجون ( کھجور کی ٹہنی ، شاخ) یرکبون (وہ سوار ہوتے ہیں) صریخ ( چیخ ، فریاد) تشریح : آیت نمبر 33 تا 44 :۔ اللہ تعالیٰ نے اس کائنات میں اپنی بیشمار نعمتوں کو بکھیر رکھا ہے جو ایک ایسے نظام میں بندھے ہوئے ہیں کہ اپنی مرضی سے ایک قدم بھی نہیں بڑھا سکتے۔ یہ اللہ کی ایسی نشانیاں ہیں جنہیں دن رات آدمی دیکھتا ہے لیکن ان پر غور نہیں کرتا ۔ اگر وہ ان تمام نعمتوں پر غور و فکر سے کام لے تو اس کے دل میں اس کائنات کے خالق کی ایسی عظمت چھا جائے کہ پھر اس کے سوا کسی کی عظمت کی کوئی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 41–47

(ف 2) ان آیتوں میں فرمایا کہ اور نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ ہم نے اپنی قدرت سے دریا کو بھی تمہارا تابعدار بنادیا کہ تم اس میں جو سامان واسباب کی کشتیاں لیے پھرتے ہو، فرمایا کہ ہم نے ان کے باپ دادوں کو نوح (علیہ السلام) کی کشتی کی مانند چھوٹی بڑی کشتیاں بھی پیدا کردیں جن پر وہ چڑھتے پھرتے ہیں اگر ہم چاہیں تو ان کو ڈبودیں ان کو جو کشتیوں میں سوار ہیں اور پھر کوئی ان کی فریاد کو پہنچنے والا نہیں جو انکو اس مصیبت سے نجات دیوے مگر ہم اپنی رحمت سے دریا اور خشکی میں سفر کراتے ہیں اور ایک وقت مقررہ تک تم کو ہر ایک آفت سے بچاتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 41–44

[15] اشارہ ہے کشتی نوح (علیہ السلام) کی طرف۔ جب طوفان آیا تو سارے انسان غرق ہوگئے سوائے ان چند افراد کے جو نوح (علیہ السلام) کے ساتھ کشتی پر سوار تھے۔ بعد کی انسانی نسل انہی کشتی والوں سے چلی۔ یعنی بظاہر تو چند افراد کشتی میں تھے لیکن درحقیقت قیامت تک پیدا ہونے والے تمام انسان کشتی پر سوار تھے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 40–50

قرآن اور نظریات جدیدہ 2: یہ مسئلہ کہ آفتاب گھومتا ہے یا زمین اور چاند کی گردش کس نوع کی ہے ؟ اس کا تعلق مذہب کے ساتھ بالکل نہیں ہے ۔ یہ فلکیات کی بحث میں ہے اور مذہب کا موضوع بحث یہ ہے ۔ کہ کس طرح دلوں کو شرک کی آلودگیوں سے پاک کیا جاسکتا ہے ؟ اور کیونکر انسانوں کو فلاح و بہبود کا درس دیاجاسکتا ہے ۔ مذہب ان مسائل سے تعرض کرتا ہے ۔ کہ وہ کون تعلیمات ہیں ۔ جو لحمہ انسانی کے لئے باعث برکت وسعادت قرار پاسکتی ہیں ۔ اور وہ کون پیغام ہے جس کو اللہ کا پیغام کہا جاسکتا ہے ۔ یہ سائل کہ زمین پپٹی ہے گول ۔ ستاروں کی حرکت مداری ہے یا محوری آفتاب کی روشنی کس نوع کی ہے ۔ کسوف وخسوف کے واقعات کیوں ظہور پذیر…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(43) اور اگر ہم چاہیں تو ان کو غرق کردیں پھر نہ تو ان کا کوئی فریاد رس ہو جو غرق سے بچا سکے اور نہ یہ موت سے خلاصی حاصل کرسکیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 38–46

ف 5۔ یہ عام ہے اس نقطہ کو بھی جہاں سے چل کر سالانہ دورہ کر کے پھر اسی نقطہ پر جا پہنچتا ہے، اور اس نقطہ افقیہ کو بھی کہ حرکت یومیہ میں وہاں پہنچ کر غروب ہوجاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اگر ہم چاہیں تو ان کو اپنے قانون کے مطابق غرق کر کے رکھ دیں : 43۔ جلال خداوندی نے اپنا جلال دکھانے کے لیے ان ترقی پر ترقی حاصل کرنے والوں کو ساتھ ہی چیلنج بھی سنا دیا کہ ان ترقیوں کے زعم میں وہ زیادہ بےلگام نہ ہوجائیں اور جدید سے جدید معلومات پر زیادہ نازاں نہ ہوں اور ان ساری ترقیوں کے باوجود اگر ہم چاہیں تو ان کے غبارہ سے یکدم ہوا خارج کردیں اور اس طرح سے ان گھمنڈ کرنے والوں کی ایک ایسی چیخ نکلے کہ اس کے ساتھ ہی وہ بھسم ہو کر رہ جائیں اور ان کو کوئی بچانے والا نہ ہو اس لئے کہ تاریخ شاہد ہے کہ اس زمانہ کے اندر ایک بار نہیں کئی بار ایسا عروج آیا کہ یہ عروج حاصل کرنے والے اپنے عروج پر نازاں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 42–44

No wonder if the Qur'an is alluding to the aeroplane! But, it is obvious that the Qur'an has not specifically named a camel or some other particular mode of conveyance at this place. This includes every such means of transportation that carries people and their baggage, accompanied or unaccompanied, right up to their desired destination. In our time, the invention of aeroplanes has made it amply clear that aeroplanes are the greatest substantiation of the Qur'anic statement: مِّن مِّثْلِهِ (mim-mithlihi: things similar to it). Then, its similarity with boat or ship is strongly supportive of…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 42–43

39 This indicates that the first vessel ever to be made in the world was the one made by the Prophet Noah. Before that time man did not know any method of crossing the rivers and the seas. This method was first of all taught by Allah to the Prophet Noah, and when some servants, of Allah were rescued in it from the Flood, their future generations started making boats and ships for their sea journeys.

Read the full tafseer →