Yaseen 36:42

Yaseen · from ayah 42

36:42

وَخَلَقْنَا لَهُمْ مِّنْ مِّثْلِهٖ مَا یَرْكَبُوْنَ ۟وَخَلَقۡنَا لَهُمۡ مِّنۡ مِّثۡلِهٖ مَا يَرۡكَبُوۡنَ‏

اور ان کے لئے ویسی ہی اور چیزیں پیدا کیں جن پر وہ سوار ہوتے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

And We created for them from the likes of it that which they ride.

— Saheeh International

Juz 23 · Ruku 3 of surah · Ruku 2 of juz

Read the whole surah · Surah Yaseen

All translations of 36:42

اور پھر اِن کے لیے ویسی ہی کشتیاں اور پیدا کیں جن پر یہ سوار ہوتے ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور ان کے لئے ویسی ہی اور چیزیں پیدا کیں جن پر وہ سوار ہوتے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور ان کے لئے اسی جیسی اور چیزیں پیدا کیں جن پر یہ سوار ہوتے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور ہم نے ان کے لیے اسی جیسی اور چیزیں بھی پیدا کیں جن پر یہ سواری کرتے ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور ان کے لیے ویسی ہی کشتیاں بنادیں جن پر سوار ہوتے ہیں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور ہم نے اُن کے لئے اس (کشتی) کے مانند ان (بہت سی اور سواریوں) کو بنایا جن پر یہ لوگ سوار ہوتے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور ہم نے ان کے لیے اس جیسی کئی اور چیزیں بنائیں جن پر وہ سوار ہوتے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

پھر ان کے لئے ایسی ہی اور چیزیں پیدا کیں جن پر وہ سوار ہوتے ہیں۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور ان کے لئے اسی کے مانند (خشکی میں بھی) چیزیں پیدا کیں جن پر وہ سوار ہوتے ہیں۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور ان کے لئے اسی جیسی اور بھی ایسی چیزیں پیدا کیں جن پر یہ سوار ہوتے ہیں

— مولانا اسحاق مدنی

اور ہم نے انکے لئے اسی (کشتی) جیسی چیزیں (اور بھی) پیدا کیں جن پر یہ لوگ سوار ہوتے ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور ہم نے ان کے لیے اسی طرح کی اور چیزیں بھی پیدا کردیں جن پر یہ لوگ سواری کرتے ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور ان کے لیے ویسی ہی اور چیزیں پیدا کیں جن پر وہ سوار ہوتے ہیں (اور ہوں گے)

— محترمہ رفعت اعجاز

and then created for them other vessels like those on which they ride.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

and created for them things similar to it on which they ride.

— Muhammad Taqi Usmani

and created for them things similar to it on which they ride.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And We have created for them of the like thereunto, on which they ride.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And have created for them of the like thereof whereon they ride.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And We created for them from the likes of it that which they ride.

— Saheeh International

and created for them similar things to ride.

— Muhammad Sarwar

And We have created for them the like of it, what they will ride on.

— Muhammad Habib Shakir

And We have created for them of the like thereUnto whereon they ride.

— Abdul Majid Daryabadi

And We have created for them similar (vessels) on which they ride.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 36:42

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 41–44

سمندر کی تسخیر۔ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی قدرت کی ایک اور نشانی بتارہا ہے کہ اس نے سمندر کو مسخر کردیا ہے جس میں کشتیاں برابر آمد و رفت کر رہی ہیں۔ سب سے پہلی کشتی حضرت نوح ؑ کی تھی جس پر سوار ہو کر وہ خود اور ان کے ساتھ ایماندار بندے نجات پا گئے تھے باقی روئے زمین پر ایک انسان بھی نہ بچا تھا، ہم نے اس زمانے والے لوگوں کے آباؤ اجداد کو کشتی میں بٹھا لیا تھا جو بالکل بھرپور تھی۔ کیونکہ اس میں ضرورت اکل اسباب بھی تھا اور ساتھ ہی حیوانات بھی تھے جو اللہ کے حکم سے اس میں بٹھا لئے گئے تھے ہر قسم کے جانور کا ایک ایک جوڑا تھا، بڑا باوقار مضبوط اور بوجھل وہ جہاز تھا، یہ صفت بھی صحیح طور پر حضرت نوح کی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 42–43

سورة یٰسٓ 39 اس سے یہ اشارہ نکلتا ہے کہ تاریخ میں پہلی کشتی جو بنی وہ حضرت نوح ؑ والی کشتی تھی۔ اس سے پہلے انسان کو دریاؤں اور سمندروں کے عبور کرنے کا کوئی طریقہ معلوم نہ تھا۔ اس طریقے کی تعلیم سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح ؑ کو دی۔ اور جب ان کی بنائی ہوئی کشتی پر سوار ہو کر اللہ کے کچھ بندے طوفان سے بچ نکلے تو آئندہ ان کی نسل نے بحری سفروں کے لیے کشتیاں بنانے کا سلسلہ شروع کردیا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 42–44

قرآن میں ہوائی جہاز کا ذکر مگر یہ ظاہر ہے کہ قرآن نے اس جگہ اونٹ یا کسی خاص سواری کا نام نہیں لیا، بلکہ مبہم چھوڑا ہے، جس میں ہر ایسی سواری داخل ہے جو انسان اور اس کے اسباب و سامان کو زیادہ سے زیادہ اٹھا کر منزل مقصود پر پہنچا دے۔ اس زمانے کی نئی ایجاد ہوائی جہازوں نے یہ واضح کردیا کہ من مثلہ کا سب سے بڑا مصداق ہوائی جہاز ہیں، اور کشتی کے ساتھ اس کی تمثیل بھی اس کی زیادہ موید ہے، کہ جس طرح پانی کا جہاز پانی پر تیرتا ہے پانی اس کو غرق نہیں کرتا، ہوائی جہاز ہوا پر تیرتا ہے ہوا اس کو نیچے نہیں گراتی، اور عجب نہیں کہ قرآن حکیم نے اسی لئے من مثلہ ما یرکبون کو مبہم رکھا ہو تاکہ قیامت تک ایجاد ہونے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 41–44

آیت 41۔ 44 ’ ذریتھم ‘ میں ’ ھم ‘ سے مراد مخاطب بحیثیت انسان ہیں اور ’ ذریۃ ‘ نسل کے مفہوم میں ہے۔ ’ مشحون ‘ بھری ہوئی کشتی کو کہتے ہیں۔ فرمایا کہ اگر ان کو مزید نشانی کی طلب ہو تو وہ اس بات کو دیکھیں کہ ہم نے نسل انسانی کے بحری سفر کے لئے یہ اہتمام کیا ہے کہ ان کی کشتیاں سمندر کے سینہ پر سے ہزاروں ٹن سامان لے کر چلتی ہیں اور نہیں ڈوبتیں۔ ’ وخلقنالھم الایۃ ‘ فرمایا کہ جس طرح سمندر کے سفر کے لئے ہم نے کشتی بنائی ہے اسی طرح کی چیزیں ہم نے خشکی کے سفر کے لئے بھی بنائی ہیں مثلاً گھوڑے اور اونٹ وغیرہ۔ خاص طور پر اونٹ کو عرب میں سفینہ صحرا کی حیثیت حاصل تھی۔ اسی حکم میں وہ سورایاں بھی داخ ؒ ہیں جو…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 42–45

42۔ 1 اس سے مراد ایسی سواریاں ہیں جو کشتی کی طرح انسانوں اور سامان تجارت کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جاتی ہیں، اس میں قیامت تک پیدا ہونے والی چیزیں آگئیں۔ جیسے ہوائی جہاز، بحری جہاز، ریلیں، بسیں، کاریں اور دیگر نقل و حمل کی اشیاء۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 42–64

18: کشتی جیسی دوسری سواری کی تشریح عام طور سے مفسرین نے اونٹوں سے کی ہے، کیونکہ اہل عرب اونٹوں کو صحرا کا جہاز کہا کرتے تھے۔ لیکن قرآن کریم کے الفاظ عام ہیں جس میں کشتی کے مشابہ ہر طرح کی سواریاں داخل ہیں، بلکہ عربی قواعد کی رو سے آیت کا ترجمہ اس طرح بھی کیا جاسکتا ہے کہ : ہم نے ان کے لیے اسی جیسی اور چیزیں بھی پیدا کی ہیں جن پر یہ (آئندہ) سواری کریں گے۔ اس صورت میں وہ تمام سواریاں اس عبارت میں داخل ہوجاتی ہیں جو قیامت تک پیدا ہوں گی، مثلاً آبدوزیں، اور ہوائی جہاز جو اس لحاظ سے کشتی کے مشابہ ہیں کہ کشتی پانی پر تیرتی ہے، اور ہوائی جہاز ہوا پر تیرتا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 41–42

وایۃ لھم انا۔۔۔۔۔ الی حین (41 – 44) ۔ یہاں سیاق کلام میں ایک نہایت ہی لطیف مناسبت ہے ۔ ستارے اور سیارے بلند فضائے کا ئناتی میں تیر رہے ہیں اور کشتی اولاد آدم سے بھری ہے اور وہ پانیوں میں تیررہی ہے ۔ ان دونوں مناظر کے اندر ظاہری نسبت بھی ہے ، رفتار کی مناسبت بھی ہے ، اور یہ ربط بھی ہے کہ ان دونوں کو اللہ نے مسخر کرلیا ہے ۔ اور اللہ نے آسمانوں اور زمینوں کے اندر اپنی قدرت سے ان کو تھام رکھا ہے ۔ یہ دونوں مناظر انسانوں کی نظروں کے سامنے ہیں لیکن انسان ان پر غور نہیں کرتے۔ اگر انسان اپنے قلب کو کھول دے اور اپنے دماغ کو وسعت دے تو ان اور امور و تدبر کرکے وہ بڑی سہولت سے اللہ کی نشانیوں کو پاسکتا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 41–42

8 یعنی حضرت نوح کے زمانہ میں جب طوفان آیا تو آدم کی نسل کو اس بھری ہوئی کشتی پر سوار کرلیا جو حضرت نوح نے بنائی تھی۔ ورنہ انسان کا تخم باقی نہ رہتا۔ پھر اسی کشتی کے نمونہ کی دوسری کشتیاں اور جہاز تمہارے لیے بنا دیے جن پر تم آج تک لدے پھرتے ہو۔ یا کشتیوں جیسی دوسری سواریاں پیدا کردیں جس پر سوار ہوتے ہو۔ مثلاً اونٹ، جن کو عرب " سفائن البر " (خشکی کی کشتیاں) کہا کرتے تھے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 42 { وَخَلَقْنَا لَہُمْ مِّنْ مِّثْلِہٖ مَا یَرْکَبُوْنَ } ”اور ہم نے ان کے لیے اسی طرح کی اور چیزیں بھی پیدا کردیں جن پر یہ لوگ سواری کرتے ہیں۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

41 من مثلہ سے مراد یہ بھی لی جاسکتی ہے کہ سیدنا نوح کی کشتی جیسی کشتی بنانا انسان نے سیکھ لیا جس کی تعلیم اللہ نے دی تھی۔ اس لحاظ سے سیدنا نوح ہی کشتی یا جہاز کے موجد ہیں اور یہ مراد بھی لی جاسکتی ہے کہ کشتی جیسی کوئی اور چیز یا چیزیں بھی پیدا کیں اور اس سے مراد وہ تمام سواریاں لی جاسکتی ہیں جو سمندر یا خشکی یا فضا میں چلتی ہیں اور انسان ان پر سوار ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 41–42

29۔ اللہ ہی نے اپنی قدرت و حکمت وشفقت سے بندوں کو اس عقل وتدبیر کی تعلیم دی جس سے اس نے دریا اور سمندر کے پانی سے سواری کا کام لینا۔ اس کے طول وعرض کا عبور کرنا، اس کے مناسب حال کشتی بنانا، پھر کشتی چلانا وغیرہ وغیرہ سیکھ لیا۔ (آیت) ” الفلک المشحون “۔ لدی پھندی کشتیوں سے صاف اشارہ بحری تجارت کی جانب ہے۔ بڑے بڑے تجارتی جہاز، اور سامان سے کھچا کھچ لدے ہوئے اسٹیمر سب اس کے تحت میں آجاتے ہیں۔ (آیت) ” من مثلہ “۔ کے اطلاق میں بڑی وسعت ہے، اسٹیمر، لائیز، کروز، آبدوز کشتیاں، غرض ہر قسم کی بحری سواریاں ہی نہیں، بلکہ اس کے علاوہ ریل، موٹر، لاری، طیارہ، ہوائی جہاز وغیرہ سب ہی کچھ اس کے تحت میں آسکتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 33–50

آیت نمبر 33 تا 50 ترجمہ : اور ایک نشانی ان کے لئے مرنے کے بعد زندہ ہونے پر مردہ زمین ہے اٰیۃٌ لھُمْ خبر مقدم ہے اَلْمیتۃُ تخفیف اور تشدید کے ساتھ ہے کہ ہم نے اس کو پانی کے ذریعہ زندہ کیا والارض الخ مبتداء مؤخر ہے، اور ہم نے اس زمین سے غلہ مثلاً گندم پیدا کیا سو اس سے یہ لوگ کھاتے ہیں اور (نیز) ہم نے زمین میں کھجوروں اور اناروں کے باغات پیدا کئے اور اس میں کچھ چشمے جاری کئے تاکہ لوگ اس کے پھل کھائیں، ثمَرہ میں یعنی (ث، م) دونوں میں فتحہ اور ضمہ ہے، یعنی تاکہ مذکورہ کھجور وغیرہ کے پھلوں میں سے کھائیں اور ان پھلوں کو ان کے ہاتھوں نے نہیں بنایا تو پھر یہ لوگ اپنے اوپر خدا تعالیٰ کے انعامات کا شکر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وخلقنا لھم من مثلہ ما یرکبون اور پیدا کیا ہم نے ان کے لیے اس کی مثل دوسری سواریاں بظاہر ذریت سے مراد لڑکے ہیں جو تجارتی سفر میں ساتھ جاتے ہیں ‘ یا بچے اور عورتیں مراد ہیں جن کو لوگ اپنے ساتھ سفر میں لے جاتے ہیں۔ ذریت کا اطلاق عورتوں پر بھی ہوتا ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ ایک عورت کو مقتول پا کر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : یہ تو لڑنے کی اہل نہ تھی۔ خالد سے جا کر کہہ دو کہ ذریت کو اور مزدوروں کو قتل نہ کرے۔ چونکہ عورت کو مقتول پا کر رسول اللہ ﷺ نے یہ فرمایا تھا ‘ اسلئے ذریت سے مراد عورتیں ہی ہیں۔ حضرت عمر نے فرمایا تھا : ذریت کے ساتھ حج کرو ‘ ان کی روزی نہ کھاؤ اور نہ ان کی گردنوں میں پڑی ہوئی رسیاں…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَخَلَقْنَا لَهُمْ مِّنْ مِّثْلِهٖ مَا يَرْكَبُوْنَ : اس سے معلوم ہوا کہ اس سے پہلے انسان کو کشتی بنانے کا علم نہ تھا۔ نوح ؑ کی بنائی ہوئی کشتی کے ذریعے سے طوفان سے بچ نکلنے والوں نے بحری سفر کے لیے کشتیاں بنانے کا سلسلہ شروع کردیا جو عام کشتیوں سے باد بانی جہازوں تک پہنچا، پھر انجن والے جہاز ایجاد ہوئے، جن کا سلسلہ ایٹمی ایندھن سے چلنے والے طیارہ بردار جہازوں اور آبدوزوں تک جا پہنچا ہے۔ آگے دیکھیے کیا کچھ ایجاد ہوتا ہے۔ بعض مفسرین نے اس آیت سے مراد یہ لیا ہے کہ ہم نے ان کے لیے کشتی کی طرح اور سواریاں بھی پیدا کی ہیں، مثلاً اونٹ جو صحرا کا جہاز کہلاتا ہے، اسی طرح موٹر، ریل اور ہوائی جہاز…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 41–44

الیۃ لھم من تین معانی کا احتمال ہے : (1) یہ ان کے لئے عبرت ہے کیونکہ آیات میں عبرتیں ہیں (2) ان پر نعمت ہے کیونکہ آیات میں انعام ہے (3) انہیں خبردار کرنا ہے کیونکہ آیات میں خبردار کرنے کا پہلو موجود ہوتا ہے (1) ۔ انا حملنا ذریتھم فی الفلک المشحون۔ سورت میں مشکل ترین آیت ہے کیونکہ انہیں ہی کشتی میں سوار کیا گیا تھا ‘ ایک قول یہ کیا گیا : اہل مکہ کے لئے نشانی ہے کہ ہم نے سابقہ قوموں کی اولادوں کو بھری کشتی میں سوار کیا۔ دونوں ضمیریں مختلف ہیں ‘ یہ مہدوی نے زکر کیا ہے۔ نحاس نے علی بن سلیمان کو کہتے ہوئے سنا ہے اور اس کی حکایت بیان کی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا : دونوں ضمیریں اہل مکہ کے لئے ہیں کہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے ابو صالح (رح) سے کیا کہ (آیت) ” وایۃ لھم انا حملنا ذریتھم فی الفلک المشحون “ سے مراد ہے نوح (علیہ السلام) کی کشتی، (آیت) ” وخلقنا لھم من مثلہ ما یرکبون “ اس سے مراد ہو کشتیاں ہیں جو اس کی لکڑی اور اس کی صنعت کی طرح ہیں۔ 3:۔ ابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وخلقنا لھم من مثلہ ما یرکبون “ اس سے مراد وہ کشتیاں ہیں جو حضرت نوح (علیہ السلام) کی کشتی کے بعد اس جیسی کشتیاں بنائی گئی۔ 4:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وخلقنا لھم من مثلہ ما یرکبون “ سے مراد چھوٹی کشتیاں ہیں اور حسن (رح) نے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَخَلَقْنَا لَهُمْ [اور ہم نے پیدا کیا ان کے لئے ] مِّنْ مِّثْلِهٖ [اس (کشتی) جیسی ] مَا [وہ (سواریاں) جس پر ] يَرْكَبُوْنَ [یہ لوگ سواری کرتے ہیں ] آیت 42 سے یہ اشارہ نکلتا ہے کہ تاریخ میں پہلی کشتی جو بنی وہ حضرت نوح (علیہ السلام) والی کشتی تھی۔ اس سے پہلے انسان کو دریاؤں سمندروں کو عبور کرنے کا طریقہ معلوم نہ تھا۔ اس طریقے کی تعلیم سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح کو دی پھر آئندہ ان کی نسل نے بحری سفر کے لئے کشتیاں بنانے کا سلسلہ شروع کردیا۔ (تفہیم القرآن) ایک رائے یہ کہ من مثلہ کے معنی یہ ہیں کہ انسان کی سواری اور باربرداری کے لئے صرف کشتی ہی نہیں بلکہ اور بھی سواری بنائی ہے۔ اس سے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 42–43

مزید فرمایا کہ یہ لوگ جو جہازوں اور کشتیوں میں امن وامان کے ساتھ سفر کرتے ہیں، یہ امن وامان سے رکھنا اور ڈوبنے سے حفاظت کرنا ہمارا ہی انعام ہے۔ (وَاِِنْ نَّشَاْ نُغْرِقْہُمْ فَلاَ صَرِیْخَ لَہُمْ ) (اور اگر ہم چاہیں تو انہیں غرق کردیں پھر انہیں کوئی فریاد رس نہ ملے) (وَلاَ ھُمْ یُنْقَذُوْنَ ) (اور نہ انہیں خلاصی دی جائے) (اِِلَّا رَحْمَۃً مِّنَّا وَمَتَاعًا اِِلٰی حِیْنٍ ) (مگر یہ کہ ہماری مہربانی ہوجائے اور ایک وقت معین تک انہیں فائدہ دینا منظور ہو) اللہ تعالیٰ اپنی مہربانی سے محفوظ فرماتا ہے اور وقت معین تک فائدہ پہنچاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 41–44

دلیل سوم قال اللہ تعالیٰ وایۃ لہم انا حملنا ذریتہم فی الفلک المشحون۔۔۔ الی۔۔۔ الا رحمۃ منا ومتاعا الی حین۔ یہ اس کی قدرت کی تیسری دلیل ہے کہ خدا تعالیٰ اپنی قدرت سے گراں بار کشتیوں کو دریا میں چلاتا ہے جن پر تم لمبے لمبے سفر کرتے ہو اگر وہ غرق کر دے تو کون ہے جو تمہاری فریاد رسی کرسکے یہ اس کی رحمت ہے کہ وہ تمہیں غرق نہیں کرتا یہ گراں بار کشتیاں اس کی قدرت کی بھی دلیل ہیں اور اس کی نعمت اور رحمت کی بھی دلیل ہیں ایک سمندر میں بڑے سے بڑے جہاز کی ایک تنکے کے برابر بھی حقیقت نہیں اللہ کی رحمت سے سہولت کے ساتھ سفر طے ہوجاتا ہے۔ چناچہ فرماتے ہیں اور ایک نشانی ان کے لئے یہ ہے کہ ہم نے ان کی ذریت کو…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 42–45

29:۔ واذا قیل الخ :۔ چار دلیلوں کے بعد مشرکین پر شکوی ہے اور اذا کا جواب محذوف ہے، ای اعرضوا (روح) ۔ ما بین ایدیکم، اقوامِ سابقہ پر نازل ہونے والا عذاب، وما خلفکم آخرت کا عذاب (خازن، معالم) ۔ جب ازراہِ خیر خواہی ان سے کہا جائے کہ اقوام گذشتہ ایسے انجام سے ڈرو کہیں تم بھی عذاب الٰہی سے ہلاک نہ کر دئیے جاؤ اور آخرت کے عذاب سے ڈرو جو معاندین کے لیے تیار کیا گیا ہے یعنی ایمان لے آؤ تاکہ تم اللہ کی رحمت کے مستحق ہوجاؤ تو وہ ایسی پند و نصیحت سے اعراض کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 41–50

ربط آیات گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کی نشانیوں کا ذکر کیا ہے۔ انہی نشانیوں سے وقوع قیامت پر بھی دلیل قائم ہوتی ہے اور ساتھ ساتھ اللہ کی وحدانیت بھی سمجھ میں آتی ہے۔ تمام نشانیوں کو پیدا کرنے والا صرف اللہ وحدہ لا شریک ہی ہے۔ اللہ نے سورج اور چاند کا ذکر کیا۔ ہر چیز کے جوڑے جوڑے بنانے کا تذکرہ کیا۔ جن میں انسان ، جانور اور نباتات وغیرہ سب شامل ہیں اور یہ ساری نشانیاں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کی دلیل ہیں۔ اب آج کی پہلی آیت میں اللہ نے کشتی کو اپنی قدرت کی نشانی کے طور پر متعارف کرایا۔ ارشاد ہوتا ہے۔ وایۃ لھم اور ان کے لیے ایک نشانی یہ بھی ہے انا حملنا ذریتھم فی الفلک المشحون کہ ہم نے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَخَلَقْنَا لَہُمْ مِّنْ مِّثْلِہٖ مَا يَرْكَبُوْنَ۝ 42 خلق الخَلْقُ أصله : التقدیر المستقیم، ويستعمل في إبداع الشّيء من غير أصل ولا احتذاء، قال : خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] ، أي : أبدعهما، ( خ ل ق ) الخلق ۔ اصل میں خلق کے معنی ( کسی چیز کو بنانے کے لئے پوری طرح اندازہ لگانا کسے ہیں ۔ اور کبھی خلق بمعنی ابداع بھی آجاتا ہے یعنی کسی چیز کو بغیر مادہ کے اور بغیر کسی کی تقلید کے پیدا کرنا چناچہ آیت کریمہ : ۔ خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] اسی نے آسمانوں اور زمین کو مبنی بر حکمت پیدا کیا میں خلق بمعنی ابداع ہی ہے مثل والمَثَلُ عبارة عن قول في شيء يشبه قولا في شيء…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 42–44

وخلقنا لہم من مثلہ ما یرکبون سے بعض کے نزدیک اونٹ وغیرہ دیگر بار کش چیزیں ہیں، جن کو خشکی کی کشتی کہنا چاہیے، جس میں چھکڑے اور ریل گاڑی بھی آگئی۔ یہ سب اس کی عنایت و رحمت ہے۔

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 41–44

وَاٰیـَۃٌ لَّھُمْ اَنَّا حَمَلْنَا ذُرِّیَّتَھُمْ فِی الْفُلْکِ الْمَشْحُوْنَ ۔ وَخَلَقْنَا لَھُمْ مِّنْ مِّثْلِہٖ مَا یَرْکَبُوْنَ ۔ وَاِنْ نَّشَاْ نُغْرِقْھُمْ فَلاَ صَرِیْخَ لَھُمْ وَلاَ ھُمْ یُنْقَذُوْنَ ۔ اِلاَّ رَحْمَۃً مِّنَّا وَمَتَاعًا اِلٰی حِیْنٍ ۔ (یٰسٓ: 41 تا 44) (اور ایک نشانی ان کے لیے یہ بھی ہے کہ ہم نے ان کی نسل کو بھری ہوئی کشتی میں سوار کیا۔ پھر ہم نے ان کے لیے پیدا کیں اسی کی مانند جن پر یہ سوار ہوتے ہیں۔ اور اگر ہم چاہیں تو ان کو غرق کردیں پھر نہ کوئی ان کا فریاد سننے والا ہو اور نہ وہ بچائے جاسکیں۔ پس ہماری رحمت ہے اور ایک وقت معین تک ان کو بہرہ مند کرنا ہے۔ ) صفتِ تخلیق…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 42–45

فہم القرآن ربط کلام : لوگوں کو مہلت پر مہلت دینے کا مقصد یہ ہے کہ لوگ اپنے اعمال کی درستگی کرلیں۔ مگر پھر بھی لوگ اعراض ہی کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ مشرکین کو اپنی قدرتیں بتلا اور دکھلا کر باربار سدھرنے کا موقع دیتا ہے مگر ان کی حالت یہ ہے کہ جونہی انہیں سمجھانے والا یہ بات سمجھاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور شرک سے باز آجاؤ۔ ورنہ جو کچھ تم اپنے آگے بھیج رہے ہو اور جو کچھ چھوڑ جاؤ گے وہ تمہاری ذلت و رسوائی کا سبب بنے گا لیکن مشرک اور نافرمان لوگ اپنے رب سے ڈرنے کی بجائے اس کی طرف سے دئیے جانے والے دلائل سے اعراض کرتے ہیں۔ جس کا نتیجہ یہ ہے کہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی مہربانی کے مستحق قرار پانے کی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

تمام جدید سواریاں : 42: وَخَلَقْنَا لَہُمْ مِّنْ مِّثْلِہٖ (اور ہم نے ان کے لئے کشتی جیسی اور چیزیں پیدا کردیں) ہٗ کی ضمیر کشتی کی طرف راجع ہے۔ مَایَرْکَبُوْنَ (جن پر یہ سواری کرتے ہیں) جیسے اونٹ جو کہ سفائن صحراء کہلاتے ہیں۔ (اب تو بیشمار قسم کی جدید سواریاں اسی قرآنی اشارے کا مصداق ہیں)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

42، وخلقنالھم من مثلہ مایرکبون، اس سے مراد کشتی ہے جو حضرت نوح (علیہ السلام) کی کشتی کے بعد کشتیوں پر تجارت وغیرہ کے لیے سمندروں پر سفر کیا جاتا ہے اور بعض نے کہا کہ اس سے مرادوہ کشتیاں ہیں جو نہروں پر چلتی ہیں جیسے بڑی کشتیاں سمندروں پر چلتی ہیں۔ قول قتادہ اور ضحاک رحمہما اللہ کا ہے۔ ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا، وما خلقنا لھم من مثلہ یرکبون، اس سے مراد اونٹ ہیں خشکی میں اونٹ اس طرح چلتے ہیں گویا سمندر میں کشتیاں ۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 41–44

41 تا 44۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے مشحون کے معنے بوجھل کے بیان کئے ہیں اور قتادہ کا قول ہے کہ وہ کشتی نوح (علیہ السلام) کی ہے مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے دریا کو بھی تمہارا تا بعدار بنا دیا کہ تم اس میں اسباب کی کشتیاں لیے پھرتے ہو اگر حضرت نوح (علیہ السلام) کی اول کشتی نہ ہوتی تو دنیا میں کشتی کا رواج نہ ہوتا اللہ تعالیٰ نے نوح (علیہ السلام) سے وہ کشتی بنوائی جس سے کشتی کا رواج بھی پڑا اور نبی آدم کی نسل بھی آگے کو چلی ورنہ ‘ طوفان میں سب ہلاک ہوجاتے پھر فرمایا بنا دی ہم نے ان کے لیے مثل کشتی کے اور سواریاں جن پر سوار ہوتے ہیں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ من مثلہ سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 41–51

آیت 41 نیز یہ امر کی دلل ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی اکیلا معبود برحق ہے کیونکہ وہی اکیلا نعمتیں عطا کرتا ہے اور مصائب و شدائد کو دور کرتا ہے اور اس کی جملہ نعمتوں میں ایک نعمت یہ ہے کہ (انا حملنا ذریتھم) ” ہم نے ان کی اولاد کو سوار کیا۔ “ بہت سے مفسرین کی رائے ہے کہ اس سے مراد ان کے آباء و اجداد ہیں (وخلقنا لھم) ” اور ہم نے ان کے لئے پیدا کیں۔ “ یعنی موجود اور آنے والے لوگوں کے لئے (من مثلہ) ” ویسی ہی “ اس کشتی جیسی یعنی اس کی جنس میں سے (مایرکبون) ” جس پر یہ سواری کرتے ہیں۔ “ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے آباؤ اجداد پر اپنی نعمت کا ذکر فرمایا کہ اس نے ان کو کشتی میں سوار کرایا۔ ان پر نعمت کا فیضان…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 42–67

قول باری ہے (وخلقنا لھم من مثلہ ما یرکبون اور ہم نے ان کے لئے اسی کشتی جیسی چیزیں اور بھی پیدا کی ہیں جس پر یہ سوار ہوتے ہیں) حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے ” یعنی حضرت نوح (علیہ السلام) کی کشتی کے بعد دوسری کشتیاں “۔ حضرت ابن عباس ؓ سے ایک اور روایت بھی ہے اور مجاہد سے بھی کہ اونٹ خشکی کے جہاز ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

44 سواریوں کی نعمت میں سامان غور و فکر : سو ارشاد فرمایا گیا " اور ہم نے ان کیلئے اسی جیسی اور بھی ایسی چیزیں پیدا کی ہیں جن پر یہ سوار ہوتے ہیں "۔ جیسے مختلف جانور اور طرح طرح کی دوسری سواریاں جن پر انسان سوار ہوتا اور سفر کرتا ہے۔ اور اس میں انسانی عمل و محنت کا جو دخل ہے وہ بھی سراسر اللہ پاک ہی کی عنایت ہے کہ اسی کے الہام وتعلیم سے انسان اس قابل ہوا ہے ۔ وَھِی اْلِابلُ وَسَائرُ المْرکُوبَاتِ- (صفوہ وغیرہ) ۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَالْخَیْلَ وَالْبِغَالَ وَالْحَمِیْرَ لِتَرْکَبُوْہَا وَ زِیْنَۃً وَّیَخْلُقُ مَا لاَ تَعْلَمُوْنَ } ۔ (النحل : 8) اور اسی حکم میں طرح طرح…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 33–44

ﷲ تعالیٰ کے انعامات انسان کے لیے تشریح : پچھلی آیات میں رسولوں اور انسانوں کا معاملہ کچھ اس طرح بیان کیا گیا ہے۔ کہ رسول اللہ کی طرف سے بہت بڑی رحمت ہوتے ہیں کیونکہ وہ ہمارے دلوں کے زنگ کو دور کرتے ہیں، جنت کے راستے کی رہنمائی کرتے ہیں۔ ہمیں ہر قسم کی جھاڑ جھنکار، اونچ نیچ اور کھائیوں سے بچاتے ہیں۔ کیونکہ ان کا پیغام بڑا پاکیزہ اور سادہ ہوتا ہے۔ وہ یہ کہ ” اللہ کو مانو رسول کو مانو اور آخرت پر یقین کرو “۔ مگر بدنصیب انسان ان سے نفرت کرتے ہیں ان پر ظلم و زیادتی کرتے ہیں۔ لیکن یہ ظلم و زیادتی اصل میں وہ خود اپنے اوپر کر رہے ہوتے ہیں۔ جب کہ نیک لوگ، ان سے محبت کرتے ہیں اور یوں اللہ کے محبوب بن…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 33–50

رکوع نمبر 3: آیات 33 تا 50: اسرار و معارف : اللہ کی قدرت کاملہ کا ایک بڑا مظہر تو مردہ زمین ہے جس پر یہ رہتے بستے ہیں جب اس پہ خشک سالی آتی ہے تو وہ بالکل اجاڑ ہوجاتی ہے ہر طرف گرد اڑتی ہے مگر جب اللہ چاہتے ہیں تو اس کی گود زندگی سے بھر دیتے ہیں اور ذرے ذرے سے زندگی ابلتی ہے پھل پھول اناج پیدا ہو کر نہ صرف زمین کی زندگی کا ثبوت دیتے ہیں بلکہ خود انسانوں کو زندہ رکھنے کا سبب بن جاتے ہیں یہی تو ان کی روز مرہ کی غذا ہے۔ زمین کے بعض حصوں کو ہم نے سرسبزی عطا کردی ہے کہ یہ بھی ضروری نہیں کہ وہ خشک ہو کر ہری ہو ہم نے اس میں چشمے جاری کردئیے اور اس کا سینہ باغات سے سجا دیا کہ ان لوگوں کے پاس بھی ایسے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 8 اس سے مراد وہ بحری جہاز ہیں جو حضرت نوح ( علیہ السلام) کے جہاز کے بعد بنائے گئے یا جہاز کے علاوہ دوسری سواری کی چیزیں مراد ہیں جیسے اونٹ، ریل گاڑی وغیرہ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(36:42) من مثلہ۔ من بیانیہ بھی ہوسکتا ہے اور تبعیضیہ بھی۔ ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع الفلک ہے مثل۔ مانند، اسی طرح کے، اس جیسے، یعنی کشتی کی طرح کے کشتی کی مانند۔ شکل وساخت کے لحاظ سے یا استعمال کے لحاظ سے مثلاً بحری جہاز ، پرانی ونئی قسم کے ۔ بادبانوں سے چلنے والے یا انجنوں سے چلنے والے۔ پانی میں چلنے والے یا ہوا میں اڑنے والے۔ ہوائی جہاز وغیرہ یا خشکی پر چلنے والے موٹر۔ ریل گاڑی وغیرہ۔ من مثلہ سے مراد کل ما یرکب۔ ہر وہ چیز جان دار یا بےجان ، تیرنے والی اڑنے والی، زمین پر چلنے والی جو ساری یا سامان کی نقل و حرکت کے کام آسکے۔ ما یرکبون ” ما “ موصولہ ہے یرکبون مضارع جمع مذکر غائب۔ جن پر وہ…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 33–44

لغات القرآن : آیت نمبر 33 تا 44 :۔ حب ( دانہ) نخیل ( کھجور) اعناب ( عنب) (انگور) فجرنا ( ہم نے پھاڑ دیا) الازواج ( زوج) (جوڑے) العرجون ( کھجور کی ٹہنی ، شاخ) یرکبون (وہ سوار ہوتے ہیں) صریخ ( چیخ ، فریاد) تشریح : آیت نمبر 33 تا 44 :۔ اللہ تعالیٰ نے اس کائنات میں اپنی بیشمار نعمتوں کو بکھیر رکھا ہے جو ایک ایسے نظام میں بندھے ہوئے ہیں کہ اپنی مرضی سے ایک قدم بھی نہیں بڑھا سکتے۔ یہ اللہ کی ایسی نشانیاں ہیں جنہیں دن رات آدمی دیکھتا ہے لیکن ان پر غور نہیں کرتا ۔ اگر وہ ان تمام نعمتوں پر غور و فکر سے کام لے تو اس کے دل میں اس کائنات کے خالق کی ایسی عظمت چھا جائے کہ پھر اس کے سوا کسی کی عظمت کی کوئی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 41–47

(ف 2) ان آیتوں میں فرمایا کہ اور نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ ہم نے اپنی قدرت سے دریا کو بھی تمہارا تابعدار بنادیا کہ تم اس میں جو سامان واسباب کی کشتیاں لیے پھرتے ہو، فرمایا کہ ہم نے ان کے باپ دادوں کو نوح (علیہ السلام) کی کشتی کی مانند چھوٹی بڑی کشتیاں بھی پیدا کردیں جن پر وہ چڑھتے پھرتے ہیں اگر ہم چاہیں تو ان کو ڈبودیں ان کو جو کشتیوں میں سوار ہیں اور پھر کوئی ان کی فریاد کو پہنچنے والا نہیں جو انکو اس مصیبت سے نجات دیوے مگر ہم اپنی رحمت سے دریا اور خشکی میں سفر کراتے ہیں اور ایک وقت مقررہ تک تم کو ہر ایک آفت سے بچاتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 41–44

[15] اشارہ ہے کشتی نوح (علیہ السلام) کی طرف۔ جب طوفان آیا تو سارے انسان غرق ہوگئے سوائے ان چند افراد کے جو نوح (علیہ السلام) کے ساتھ کشتی پر سوار تھے۔ بعد کی انسانی نسل انہی کشتی والوں سے چلی۔ یعنی بظاہر تو چند افراد کشتی میں تھے لیکن درحقیقت قیامت تک پیدا ہونے والے تمام انسان کشتی پر سوار تھے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 40–50

قرآن اور نظریات جدیدہ 2: یہ مسئلہ کہ آفتاب گھومتا ہے یا زمین اور چاند کی گردش کس نوع کی ہے ؟ اس کا تعلق مذہب کے ساتھ بالکل نہیں ہے ۔ یہ فلکیات کی بحث میں ہے اور مذہب کا موضوع بحث یہ ہے ۔ کہ کس طرح دلوں کو شرک کی آلودگیوں سے پاک کیا جاسکتا ہے ؟ اور کیونکر انسانوں کو فلاح و بہبود کا درس دیاجاسکتا ہے ۔ مذہب ان مسائل سے تعرض کرتا ہے ۔ کہ وہ کون تعلیمات ہیں ۔ جو لحمہ انسانی کے لئے باعث برکت وسعادت قرار پاسکتی ہیں ۔ اور وہ کون پیغام ہے جس کو اللہ کا پیغام کہا جاسکتا ہے ۔ یہ سائل کہ زمین پپٹی ہے گول ۔ ستاروں کی حرکت مداری ہے یا محوری آفتاب کی روشنی کس نوع کی ہے ۔ کسوف وخسوف کے واقعات کیوں ظہور پذیر…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(42) اور ہم نے کشتی ہی کی طرح کی اور چیزیں بھی ان کے لئے پیدا کیں جن پر یہ سوار ہوتے ہیں۔ یعنی ان کو بحری اور بری سفر کی آسانیاں دیں کہ ان کی اولاد کشتی میں جو مسافروں سے بھری ہوتی ہے سفر کرتی پھرتی ہے اور تجارت کرتی ہے۔ بری سفر کے لئے ان کو گھوڑے اور اونٹ دیئے جن پر سوار ہو کر یہ جنگل کا سفر کرتے ہیں اور زندگی کے منافع حاصل کرتے ہیں۔ بعض مفسرین نے فرمایا کہ کشتی سے حضرت نوح (علیہ السلام) کی کشتی مراد ہے جس میں اہل عرب کے آبائو اجداد سوار ہو کر بچے تھے۔ ذریۃ کا لفظ اضداد میں سے جس طرح اولاد پر یہ لفظ بولا جاتا ہے اسی طرح آبائو اجداد پر بولا جاتا ہے۔ (واللہ اعلم) بہرحال ! ان کے بزرگوں پر احسان…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 38–46

ف 5۔ یہ عام ہے اس نقطہ کو بھی جہاں سے چل کر سالانہ دورہ کر کے پھر اسی نقطہ پر جا پہنچتا ہے، اور اس نقطہ افقیہ کو بھی کہ حرکت یومیہ میں وہاں پہنچ کر غروب ہوجاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ان کے لئے ہم نے اور بھی اس طرح کی سوار ہونے والی چیزیں رکھی ہیں : 42۔ (مثلہ) سے مراد مفسرین نے نوح (علیہ السلام) کی کشتی کے علاوہ جو کشتیاں ہیں وہ لی ہیں اور ان کو اس کشتی کے مشابہ یا مثل قرار دیا ہے اور اس سے پہلے گزشتہ مفسرین نے اس سے اونٹ بھی مراد لیا ہے اور اس کو صحرائی کشتی کہا ہے اور آج کل چونکہ پانی کے جہاز ہیں وہ بھی اس ضمن میں آسکتے ہیں اور اگر مزید سواری کی چیزیں جو ان جہازوں سے بھاری وزن اٹھائیں اور تیز رفتاری سے چلیں مشاہدہ میں آسکتی ہیں اور یہ بھی کہ ان سے مراد دوسرے سیارگان ہوں جن پر ابھی تک انسانوں کی آبادی نہیں ہے اور اس سلسلہ میں جو کوششیں ہو رہی ہیں وہ مثبت ثابت ہوں اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 42–44

No wonder if the Qur'an is alluding to the aeroplane! But, it is obvious that the Qur'an has not specifically named a camel or some other particular mode of conveyance at this place. This includes every such means of transportation that carries people and their baggage, accompanied or unaccompanied, right up to their desired destination. In our time, the invention of aeroplanes has made it amply clear that aeroplanes are the greatest substantiation of the Qur'anic statement: مِّن مِّثْلِهِ (mim-mithlihi: things similar to it). Then, its similarity with boat or ship is strongly supportive of…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 42–43

39 This indicates that the first vessel ever to be made in the world was the one made by the Prophet Noah. Before that time man did not know any method of crossing the rivers and the seas. This method was first of all taught by Allah to the Prophet Noah, and when some servants, of Allah were rescued in it from the Flood, their future generations started making boats and ships for their sea journeys.

Read the full tafseer →