Explained with ayahs 41–44
سمندر کی تسخیر۔
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی قدرت کی ایک اور نشانی بتارہا ہے کہ اس نے سمندر کو مسخر کردیا ہے جس میں کشتیاں برابر آمد و رفت کر رہی ہیں۔ سب سے پہلی کشتی حضرت نوح ؑ کی تھی جس پر سوار ہو کر وہ خود اور ان کے ساتھ ایماندار بندے نجات پا گئے تھے باقی روئے زمین پر ایک انسان بھی نہ بچا تھا، ہم نے اس زمانے والے لوگوں کے آباؤ اجداد کو کشتی میں بٹھا لیا تھا جو بالکل بھرپور تھی۔ کیونکہ اس میں ضرورت اکل اسباب بھی تھا اور ساتھ ہی حیوانات بھی تھے جو اللہ کے حکم سے اس میں بٹھا لئے گئے تھے ہر قسم کے جانور کا ایک ایک جوڑا تھا، بڑا باوقار مضبوط اور بوجھل وہ جہاز تھا، یہ صفت بھی صحیح طور پر حضرت نوح کی…
Read the full tafseer →سورة یٰسٓ 38
بھری ہوئی کشتی سے مراد ہے حضرت نوح ؑ کی کشتی۔ اور نسل انسانی کو اس پر سوار کردینے کا مطلب یہ ہے کہ اس کشتی میں بظاہر تو حضرت نوح ؑ کے چند ساتھی ہی بیٹھے ہوئے تھے مگر درحقیقت قیامت تک پیدا ہونے والے تمام انسان اس پر سوار تھے۔ کیونکہ طوفان نوح ؑ میں ان کے سوا باقی پوری اولاد آدم کو غرق کردیا گیا تھا اور بعد کی انسانی نسل صرف انہی کشتی والوں سے چلی۔
Read the full tafseer →(آیت) وایة لہم انا حملنا ذریتہم فی الفلک المشحون وخلقنا لہم من مثلہ ما یرکبون، پہلے زمینی مخلوقات کا پھر آسمانی کا بیان اور ان میں اللہ تعالیٰ شانہ، کی حکمت وقدرت کے مظاہر کا بیان آ چکا ہے۔ اس آیت میں بحر اور اس سے متعلقہ اشیاء میں مظاہر قدرت کا ذکر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کشتیوں کو خود وزنی بوجھ سے بھری ہوئی ہونے کے باوجود پانی کی سطح پر چلنے کے قابل بنادیا کہ پانی ان کو غرق کرنے کے بجائے دور ملکوں تک پہنچاتا ہے۔ اور آیت میں ارشاد یہ ہے کہ ہم نے ان کی ذریت کو کشتیوں میں سوار کیا، حالانکہ سوار ہونے والے خود یہ لوگ تھے۔ ذریت کا ذکر شاید اس لئے کیا کہ انسان کا بڑا بوجھ اس کی اولاد و ذریت ہوتی ہے،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–44
آیت 41۔ 44
’ ذریتھم ‘ میں ’ ھم ‘ سے مراد مخاطب بحیثیت انسان ہیں اور ’ ذریۃ ‘ نسل کے مفہوم میں ہے۔ ’ مشحون ‘ بھری ہوئی کشتی کو کہتے ہیں۔ فرمایا کہ اگر ان کو مزید نشانی کی طلب ہو تو وہ اس بات کو دیکھیں کہ ہم نے نسل انسانی کے بحری سفر کے لئے یہ اہتمام کیا ہے کہ ان کی کشتیاں سمندر کے سینہ پر سے ہزاروں ٹن سامان لے کر چلتی ہیں اور نہیں ڈوبتیں۔
’ وخلقنالھم الایۃ ‘ فرمایا کہ جس طرح سمندر کے سفر کے لئے ہم نے کشتی بنائی ہے اسی طرح کی چیزیں ہم نے خشکی کے سفر کے لئے بھی بنائی ہیں مثلاً گھوڑے اور اونٹ وغیرہ۔ خاص طور پر اونٹ کو عرب میں سفینہ صحرا کی حیثیت حاصل تھی۔ اسی حکم میں وہ سورایاں بھی داخ ؒ ہیں جو…
Read the full tafseer →41۔ 1 اس میں اللہ تعالیٰ اپنے اس احسان کا تذکرہ فرما رہا ہے کہ اس نے سمندر میں کشتیوں کا چلنا آسان فرما دیا، حتٰی کہ تم اپنے ساتھ بھری ہوئی کشتیوں میں اپنے بچوں کو بھی لے جاتے ہو اور دوسرے معنی سے یہ مراد کشتی نوح ؑ ہے۔ یعنی سفینہ نوح ؑ میں لوگوں کو بٹھایا جن سے بعد میں نسل انسانی چلی۔ گویا نسل انسانی کے آبا اس میں سوار تھے۔
Read the full tafseer →17: اولاد کا ذکر خاص طور پر اس لیے فرمایا گیا ہے کہ اہل عرب اپنی جوان اولاد کو تجارت کی غرض سے سمندری سفر پر بھیجا کرتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
وایۃ لھم انا۔۔۔۔۔ الی حین (41 – 44) ۔ یہاں سیاق کلام میں ایک نہایت ہی لطیف مناسبت ہے ۔ ستارے اور سیارے بلند فضائے کا ئناتی میں تیر رہے ہیں اور کشتی اولاد آدم سے بھری ہے اور وہ پانیوں میں تیررہی ہے ۔ ان دونوں مناظر کے اندر ظاہری نسبت بھی ہے ، رفتار کی مناسبت بھی ہے ، اور یہ ربط بھی ہے کہ ان دونوں کو اللہ نے مسخر کرلیا ہے ۔ اور اللہ نے آسمانوں اور زمینوں کے اندر اپنی قدرت سے ان کو تھام رکھا ہے ۔
یہ دونوں مناظر انسانوں کی نظروں کے سامنے ہیں لیکن انسان ان پر غور نہیں کرتے۔ اگر انسان اپنے قلب کو کھول دے اور اپنے دماغ کو وسعت دے تو ان اور امور و تدبر کرکے وہ بڑی سہولت سے اللہ کی نشانیوں کو پاسکتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
8 یعنی حضرت نوح کے زمانہ میں جب طوفان آیا تو آدم کی نسل کو اس بھری ہوئی کشتی پر سوار کرلیا جو حضرت نوح نے بنائی تھی۔ ورنہ انسان کا تخم باقی نہ رہتا۔ پھر اسی کشتی کے نمونہ کی دوسری کشتیاں اور جہاز تمہارے لیے بنا دیے جن پر تم آج تک لدے پھرتے ہو۔ یا کشتیوں جیسی دوسری سواریاں پیدا کردیں جس پر سوار ہوتے ہو۔ مثلاً اونٹ، جن کو عرب " سفائن البر " (خشکی کی کشتیاں) کہا کرتے تھے۔
Read the full tafseer →آیت 41 { وَاٰیَۃٌ لَّہُمْ اَنَّا حَمَلْنَا ذُرِّیَّتَہُمْ فِی الْْفُلْکِ الْمَشْحُوْنِ } ”اور ان کے لیے ایک نشانی یہ بھی ہے کہ ہم نے ان کی نسل کو بھری ہوئی کشتی میں سوار کردیا۔“
اس بارے میں عام رائے یہی ہے کہ اس سے خاص طور پر حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی مراد ہے۔
Read the full tafseer →40 بھری ہوئی کشتی سے مراد وہ کشتی ہے جو سیدنا نوح نے اللہ تعالیٰ کی ہدایات کے مطابق طوفان سے پہلے بنائی تھی۔ جس میں سیدنا نوح کے علاوہ تمام ایماندار، ان کا سامان خوردونوش، ہر قسم کے جاندار کا ایک ایک جوڑا لدا ہوا تھا۔ جس سے یہ کشتی بھر گئی تھی اور اس میں گویا پوری بنی نوع انسان لدی ہوئی تھی وہ یوں کہ جتنے بھی انسان موجود ہیں سب کے سب ان کشتی میں سوار لوگوں کی اولاد ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
29۔ اللہ ہی نے اپنی قدرت و حکمت وشفقت سے بندوں کو اس عقل وتدبیر کی تعلیم دی جس سے اس نے دریا اور سمندر کے پانی سے سواری کا کام لینا۔ اس کے طول وعرض کا عبور کرنا، اس کے مناسب حال کشتی بنانا، پھر کشتی چلانا وغیرہ وغیرہ سیکھ لیا۔ (آیت) ” الفلک المشحون “۔ لدی پھندی کشتیوں سے صاف اشارہ بحری تجارت کی جانب ہے۔ بڑے بڑے تجارتی جہاز، اور سامان سے کھچا کھچ لدے ہوئے اسٹیمر سب اس کے تحت میں آجاتے ہیں۔ (آیت) ” من مثلہ “۔ کے اطلاق میں بڑی وسعت ہے، اسٹیمر، لائیز، کروز، آبدوز کشتیاں، غرض ہر قسم کی بحری سواریاں ہی نہیں، بلکہ اس کے علاوہ ریل، موٹر، لاری، طیارہ، ہوائی جہاز وغیرہ سب ہی کچھ اس کے تحت میں آسکتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–50
آیت نمبر 33 تا 50
ترجمہ : اور ایک نشانی ان کے لئے مرنے کے بعد زندہ ہونے پر مردہ زمین ہے اٰیۃٌ لھُمْ خبر مقدم ہے اَلْمیتۃُ تخفیف اور تشدید کے
ساتھ ہے کہ ہم نے اس کو پانی کے ذریعہ زندہ کیا والارض الخ مبتداء مؤخر ہے، اور ہم نے اس زمین سے غلہ مثلاً گندم پیدا کیا سو اس سے یہ لوگ کھاتے ہیں اور (نیز) ہم نے زمین میں کھجوروں اور اناروں کے باغات پیدا کئے اور اس میں کچھ چشمے جاری کئے تاکہ لوگ اس کے پھل کھائیں، ثمَرہ میں یعنی (ث، م) دونوں میں فتحہ اور ضمہ ہے، یعنی تاکہ مذکورہ کھجور وغیرہ کے پھلوں میں سے کھائیں اور ان پھلوں کو ان کے ہاتھوں نے نہیں بنایا تو پھر یہ لوگ اپنے اوپر خدا تعالیٰ کے انعامات کا شکر…
Read the full tafseer →وایۃ لھم انا حملنا ذریتھم فی الفلک المشخون۔ اور (ا اللہ کی قدرت کی) ان کیلئے ایک بڑی نشانی یہ ہے کہ ہم نے ان کی اولاد کو بھری ہوئی کشتی میں سوار کیا۔
Read the full tafseer →اور ان مکہ والوں کے لیے ایک نشانی یہ ہے کہ ہم نے ان کو ان کے آباء کی پشتوں میں حضرت نوح کی کشتی میں سوار کیا جو کہ سب کو لیے ہوئے پانی پر تھی اور کسی کو اس نے زمین پر باقی نہیں چھوڑا تھا۔
Read the full tafseer →وَاٰيَةٌ لَّهُمْ اَنَّا حَمَلْنَا ذُرِّيَّــتَهُمْ : ”ذُرِّیَّۃٌ“ کا لفظی معنی اولاد ہے۔ ”ذُرِّيَّــتَهُمْ“ میں ضمیر ”ھُمْ“ سے مراد انسان ہیں۔ ”الْمَشْحُوْنِ“ بھری ہوئی، مراد اس سے نوح ؑ کی کشتی ہے۔ یعنی ایک اور نشانی ان کے لیے یہ ہے کہ ہم نے نسل انسان کو بھری ہوئی کشتی میں سوار کیا اور وہ پانی جو لوہے کی سوئی اور لکڑی کے ایک ڈنڈے تک کو نہیں اٹھاتا، بلکہ غرق کردیتا ہے، اسی پانی نے ہمارے سکھانے کے مطابق لوہے یا لکڑی سے بنی ہوئی کشتی کو اٹھا لیا، جو آدمیوں سے اور ہر جانور کے ایک ایک جوڑے اور ان کی ضرورت کی اشیاء سے خوب بھری ہوئی تھی۔
یہاں ایک سوال ہے کہ کشتی میں اولاد ہی نہیں ان کے باپ بھی سوار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–44
الیۃ لھم من تین معانی کا احتمال ہے : (1) یہ ان کے لئے عبرت ہے کیونکہ آیات میں عبرتیں ہیں (2) ان پر نعمت ہے کیونکہ آیات میں انعام ہے (3) انہیں خبردار کرنا ہے کیونکہ آیات میں خبردار کرنے کا پہلو موجود ہوتا ہے (1) ۔
انا حملنا ذریتھم فی الفلک المشحون۔ سورت میں مشکل ترین آیت ہے کیونکہ انہیں ہی کشتی میں سوار کیا گیا تھا ‘ ایک قول یہ کیا گیا : اہل مکہ کے لئے نشانی ہے کہ ہم نے سابقہ قوموں کی اولادوں کو بھری کشتی میں سوار کیا۔ دونوں ضمیریں مختلف ہیں ‘ یہ مہدوی نے زکر کیا ہے۔ نحاس نے علی بن سلیمان کو کہتے ہوئے سنا ہے اور اس کی حکایت بیان کی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا : دونوں ضمیریں اہل مکہ کے لئے ہیں کہ…
Read the full tafseer →1:۔ عبد بن حمید (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابومالک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وایۃ لھم انا حملنا ذریتھم فی الفلک المشحون “ (اور ان کیلئے ایک بڑی نشانی یہ ہے کہ ہم نے ان کی اولاد کو بھری ہوئی کشتی میں سوار کیا) اس سے مراد نوح (علیہ السلام) کی کشتی ہے کہ انہوں نے اس میں ہر چیز کے دو بڑے جوڑے سوار کئے (آیت) ” وخلقنا لھم من مثلہ ما یرکبون “ (اور ہم نے ان کی اولاد کو بھری کشتی میں سوار کیا) ان سے مراد ہیں وہ کشتیاں جو سمندر اور دریاؤں میں ہوتی ہیں جن میں لوگ سوار ہوتے ہیں۔
Read the full tafseer →وَاٰيَةٌ لَّهُمْ [اور ایک نشانی ہے ان کے لئے ] اَنَّا حَمَلْنَا [کہ ہم نے سوار کیا ] ذُرِّيَّــتَهُمْ [ان کی اولاد (اولاد آدم) کو ] فِي الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِ [بھری کوئی کشتی میں ]
نوٹ۔ 1: بھری ہوئی کشتی سے مراد حضرت نوح کی کشتی ہے۔ اس کشتی میں بظاہر تو حضرت نوح (علیہ السلام) کے چند ساتھی ہی بیٹھے تھے، مگر در حقیقت قیامت تک پیدا ہونے والے تمام انسان اس پر سوار تھے۔ کیونکہ طوفان نوح میں ان کے سوا باقی پوری اولاد آدم کو غرق کردیا گیا تھا اور بعد کی انسانی نسل ان ہی کشتی والوں سے چلی ہے۔ (تفہیم القرآن)
Read the full tafseer →کشتی اللہ کی نعمت ہے، اللہ تعالیٰ حفاظت فرماتا ہے اور ڈوبنے سے بچاتا ہے
ان آیات میں کشتی کی سواری کا ذکر ہے، کشتیوں کا دریاؤں میں چلنا (مطلق کشتی ہر چھوٹے بڑے جہاز کو شامل ہے) انسانوں کا ان پر سوار ہونا اور سامان لادنا، ایک براعظم سے دوسرے براعظم تک سفر کرنا اس میں اللہ تعالیٰ کا انعام عظیم بھی ہے اور قدرت قاہرہ پر دلالت بھی ہے۔ کشتی کی سواری کے ساتھ یوں بھی فرما دیا۔ (وَخَلَقْنَا لَہُمْ مِّنْ مِّثْلِہٖ مَا یَرْکَبُوْنَ ) (اور ہم نے ان کے لیے کشتی جیسی ایسی چیزیں پیدا فرمائیں جن پر یہ لوگ سوار ہوتے ہیں) یہ سواریاں گھوڑے، خچر اور گدھے ہیں جن کا سورة النحل میں ذکر ہے (وَّالْخَیْلَ وَ الْبِغَالَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–44
دلیل سوم
قال اللہ تعالیٰ وایۃ لہم انا حملنا ذریتہم فی الفلک المشحون۔۔۔ الی۔۔۔ الا رحمۃ منا ومتاعا الی حین۔
یہ اس کی قدرت کی تیسری دلیل ہے کہ خدا تعالیٰ اپنی قدرت سے گراں بار کشتیوں کو دریا میں چلاتا ہے جن پر تم لمبے لمبے سفر کرتے ہو اگر وہ غرق کر دے تو کون ہے جو تمہاری فریاد رسی کرسکے یہ اس کی رحمت ہے کہ وہ تمہیں غرق نہیں کرتا یہ گراں بار کشتیاں اس کی قدرت کی بھی دلیل ہیں اور اس کی نعمت اور رحمت کی بھی دلیل ہیں ایک سمندر میں بڑے سے بڑے جہاز کی ایک تنکے کے برابر بھی حقیقت نہیں اللہ کی رحمت سے سہولت کے ساتھ سفر طے ہوجاتا ہے۔
چناچہ فرماتے ہیں اور ایک نشانی ان کے لئے یہ ہے کہ ہم نے ان کی ذریت کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–41
28:۔ وایۃ لہم انا الخ :۔ یہ چوتھی عقلی دلیل ہے۔ یہ بھی اللہ کی وحدانیت اور قدرت کاملہ کی دلیل ہے کہ ہم ان کو آدمیوں سے بھرپور کشتیوں میں سوار کر کے دریاؤں اور سمندروں سے صحیح سلامت پار اتارتے ہیں اور کشتیوں کے مانند اور بھی کئی چیزیں ہم نے ان کی سواری کیلئے پیدا کی ہیں اگر ہم چاہیں تو ان کو غرق کردیں اس وقت ان کے مزعومہ کارساز ان کی فریاد رسی نہ کرسکیں اور نہ انہیں غرق ہونے سے بچا سکیں مگر یہ کہ ہم خود ہی اپنی مہربانی سے ان کو بچا لیں اور ایک معین وقت (وقت موت) تک انہیں دنیوی نعمتوں سے فائدہ اٹھانے کی مہلت دیدیں۔ من مثلہ ما یرکبون سے مراد اونٹ ہیں جو خشکی میں سواری کے لیے پیدا کیے۔ روی عن ابن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–50
ربط آیات
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کی نشانیوں کا ذکر کیا ہے۔ انہی نشانیوں سے وقوع قیامت پر بھی دلیل قائم ہوتی ہے اور ساتھ ساتھ اللہ کی وحدانیت بھی سمجھ میں آتی ہے۔ تمام نشانیوں کو پیدا کرنے والا صرف اللہ وحدہ لا شریک ہی ہے۔ اللہ نے سورج اور چاند کا ذکر کیا۔ ہر چیز کے جوڑے جوڑے بنانے کا تذکرہ کیا۔ جن میں انسان ، جانور اور نباتات وغیرہ سب شامل ہیں اور یہ ساری نشانیاں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کی دلیل ہیں۔ اب آج کی پہلی آیت میں اللہ نے کشتی کو اپنی قدرت کی نشانی کے طور پر متعارف کرایا۔ ارشاد ہوتا ہے۔ وایۃ لھم اور ان کے لیے ایک نشانی یہ بھی ہے انا حملنا ذریتھم فی الفلک المشحون کہ ہم نے…
Read the full tafseer →وَاٰيَۃٌ لَّہُمْ اَنَّا حَمَلْنَا ذُرِّيَّــتَہُمْ فِي الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِ 41ۙ
الآية
والآية : هي العلامة الظاهرة، وحقیقته لکل شيء ظاهر، وهو ملازم لشیء لا يظهر ظهوره، فمتی أدرک مدرک الظاهر منهما علم أنه أدرک الآخر الذي لم يدركه بذاته، إذ کان حكمهما سواء، وذلک ظاهر في المحسوسات والمعقولات، فمن علم ملازمة العلم للطریق المنهج ثم وجد العلم علم أنه وجد الطریق، وکذا إذا علم شيئا مصنوعا علم أنّه لا بدّ له من صانع .
الایۃ ۔
اسی کے معنی علامت ظاہر ہ یعنی واضح علامت کے ہیں دراصل آیۃ ، ، ہر اس ظاہر شے کو کہتے ہیں جو دوسری ایسی شے کو لازم ہو جو اس کی طرح ظاہر نہ ہو مگر جب کوئی شخص اس ظاہر شے کا ادراک…
Read the full tafseer →واٰیۃ لہم انا حملنا ذریتہم فی الفلک المشحون یہ تیسری دلیل ہے کہ پانی کی سطح پر جو سینکڑوں گز گہرا ہے، ہم تم کو کس طرح سے کشتی میں سوار کرکے پھراتے ہیں۔ ذریتہم کی ضمیر عباد کی طرف پھرتی ہے اور ذریت سے مراد بچے ہیں۔ یہ زیادہ تعجب کی بات ہے کہ کمزور بچے یوں پانی پر سفر کریں۔ واحدی کہتے ہیں ذریت کا اطلاق آباد پر بھی ہوتا ہے، تب یہ معنی ہوں گے کہ ان کے باپ دادا کو نوح ( علیہ السلام) کی کشتی میں سوار کیا اور اس کے بعد اور اسی طرح کی کشتیاں بنانی سکھائیں۔ حضرت علی ؓ فرماتے ہیں، بھری کشتیوں سے مراد حاملہ عورتوں کے پیٹ میں تشبیہ کے طور سے اور ان میں بنی آدم کی ذریت یعنی بچوں کو خدا سوار کرتا ہے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–44
وَاٰیـَۃٌ لَّھُمْ اَنَّا حَمَلْنَا ذُرِّیَّتَھُمْ فِی الْفُلْکِ الْمَشْحُوْنَ ۔ وَخَلَقْنَا لَھُمْ مِّنْ مِّثْلِہٖ مَا یَرْکَبُوْنَ ۔ وَاِنْ نَّشَاْ نُغْرِقْھُمْ فَلاَ صَرِیْخَ لَھُمْ وَلاَ ھُمْ یُنْقَذُوْنَ ۔ اِلاَّ رَحْمَۃً مِّنَّا وَمَتَاعًا اِلٰی حِیْنٍ ۔ (یٰسٓ: 41 تا 44)
(اور ایک نشانی ان کے لیے یہ بھی ہے کہ ہم نے ان کی نسل کو بھری ہوئی کشتی میں سوار کیا۔ پھر ہم نے ان کے لیے پیدا کیں اسی کی مانند جن پر یہ سوار ہوتے ہیں۔ اور اگر ہم چاہیں تو ان کو غرق کردیں پھر نہ کوئی ان کا فریاد سننے والا ہو اور نہ وہ بچائے جاسکیں۔ پس ہماری رحمت ہے اور ایک وقت معین تک ان کو بہرہ مند کرنا ہے۔ )
صفتِ تخلیق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–41
فہم القرآن
ربط کلام : آفاق کی نشانیاں پیش کرنے کے بعد بحری نشانی کی طرف توجہ مبذول کروائی گئی ہے۔
دنیا میں بیشمار لوگ موجود رہے ہیں اور رہیں گے جو آمدروفت اور تجارت کی غرض سے بحری سفر اختیار کرتے ہیں۔ بحری سفر کرنے والے لوگوں کی حالت یہ ہے کہ جب وہ بھنور میں پھنستے ہیں تو صرف اور صرف ایک ” اللہ “ کو صدائیں دیتے ہیں۔ لیکن ساحل سمندر پر پہنچ کر شر کیہ کلمات ادا کرتے ہیں۔ کوئی خضر (علیہ السلام) کو نجات دہندہ قرار دیتا ہے اور کوئی بہاول حق کا نام لیتا ہے۔ یہاں نوح (علیہ السلام) کی کشتی کا اشارتاً ذکر فرما کر مشرکوں کے سامنے یہ حقیقت واضح کی ہے کہ قوم نوح (علیہ السلام) کی طرف دیکھیے جو ود، سواع،…
Read the full tafseer →41: وَ ٰایَۃٌ لَّھُمْ اَنَّا حَمَلْنَا ذُرِّیَّتَہُمْ (اور ایک نشانی ان کے لئے یہ ہے کہ ہم نے ان کی اولاد کو سوار کیا) ۔
قراءت : ذریا تھم مدنی و شامی نے پڑھا ہے۔
فِی الْفُلْکِ الْمَشْحُوْنِ (بھری کشتی میں) مشحون ؔ بھری ہوئی ذریتؔ سے مراد اولاد ہے۔ اور جن کا اٹھانا ان کو مقصود ہو۔ وہ ان کو خشکی و سمندر کی تجارتوں کیلئے بھیجتے تھے۔ نمبر 2۔ آباء مراد ہیں کیونکہ یہ اضداد میں سے ہے اس صورت میں فلک سے مراد سفینہنوح (علیہ السلام) ۔
ایک قول :
یہ ہے کہ اس کا معنی اللہ تعالیٰ نے ان کی اولاد کو اس میں سوار کردیا یعنی ان کے پہلے آباء و اجداد کو اس میں سوار کردیا جبکہ وہ اور ان کی اولادیں اپنے باپوں کی…
Read the full tafseer →41، وآیۃ لھم انا حملنا ذریتھم ، اہل مدینہ اور اہل شام اور یعقوب کے نزدیک ، ذریاتھم ، جمع کے صیغۃ کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے۔ دوسرے قراء نے ، ذریتھم ، واحد پڑھا ہے جن کے نزدیک جمع ہے وہ تاء کے کسرہ کے ساتھ پڑھتے ہیں اور جن کے نزدیک جمع نہیں وہ نصب کے ساتھ پڑھتے ہیں ، ذریۃ، سے مراد آباء و اجداد ہیں ۔ ، ذریۃ، کا اطلاق جس اولا دپر ہوتا ہے اسی طرح باپ داداپر بھی ہوتا ہے۔ ، فی الفلک المشحون، بھر اہواہونا ۔ سفینہ سے مراد حضرت نوح (علیہ السلام) کی کشتی ہے اور یہ انہی کی نسل سے ہے جو حضرت نوح (علیہ السلام) کے ساتھ کشتی میں سوار ہوئے اور وہانہی کی اصلاب (نسل) میں سے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–44
41 تا 44۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے مشحون کے معنے بوجھل کے بیان کئے ہیں اور قتادہ کا قول ہے کہ وہ کشتی نوح (علیہ السلام) کی ہے مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے دریا کو بھی تمہارا تا بعدار بنا دیا کہ تم اس میں اسباب کی کشتیاں لیے پھرتے ہو اگر حضرت نوح (علیہ السلام) کی اول کشتی نہ ہوتی تو دنیا میں کشتی کا رواج نہ ہوتا اللہ تعالیٰ نے نوح (علیہ السلام) سے وہ کشتی بنوائی جس سے کشتی کا رواج بھی پڑا اور نبی آدم کی نسل بھی آگے کو چلی ورنہ ‘ طوفان میں سب ہلاک ہوجاتے پھر فرمایا بنا دی ہم نے ان کے لیے مثل کشتی کے اور سواریاں جن پر سوار ہوتے ہیں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ من مثلہ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–51
آیت 41
نیز یہ امر کی دلل ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی اکیلا معبود برحق ہے کیونکہ وہی اکیلا نعمتیں عطا کرتا ہے اور مصائب و شدائد کو دور کرتا ہے اور اس کی جملہ نعمتوں میں ایک نعمت یہ ہے کہ (انا حملنا ذریتھم) ” ہم نے ان کی اولاد کو سوار کیا۔ “ بہت سے مفسرین کی رائے ہے کہ اس سے مراد ان کے آباء و اجداد ہیں (وخلقنا لھم) ” اور ہم نے ان کے لئے پیدا کیں۔ “ یعنی موجود اور آنے والے لوگوں کے لئے (من مثلہ) ” ویسی ہی “ اس کشتی جیسی یعنی اس کی جنس میں سے (مایرکبون) ” جس پر یہ سواری کرتے ہیں۔ “ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے آباؤ اجداد پر اپنی نعمت کا ذکر فرمایا کہ اس نے ان کو کشتی میں سوار کرایا۔ ان پر نعمت کا فیضان…
Read the full tafseer →کشتی نوح میں سوار کیا
قول باری ہے (وایۃ لھم انا حملنا ذریتھم فی الفلک المشحون اور ان کے لئے ایک نشانی یہ بھی ہے کہ ہم نے ان کی اولاد کو بھری ہوئی کشتی میں سوار کرایا) ضحاک اور قتادہ سے مروی ہے کہ اس سے کشتی نوح مراد ہے۔
ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ اولاد کی نسبت مخاطبین کی طرف کی گئی ہے اس لئے کہ مخاطبین بھی ان کی جنس میں سے ہیں گویا یوں فرمایا : ” ذریۃ الناس “ (لوگوں کی اولاد)
Read the full tafseer →43 بھری کشتی کی نشانی میں دعوت غور وفکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ایک اور عظیم الشان نشانی ان کیلئے یہ بھی ہے کہ ہم نے ان کو سوار کیا اس بھری کشتی میں "۔ یعنی کشتی نوح کہ وہ پہلی کشتی تھی جو آنجناب نے اللہ پاک کے حکم وارشاد سے بنائی تھی اور جس میں آپ نے اللہ پاک کے حکم کے مطابق ہر چیز کا ایک ایک جوڑا رکھ دیا تھا تاکہ بعد میں نسل چلے۔ اگر اللہ پاک کی عنایت سے ایسے نہ ہوتا تو ان لوگوں کا تخم بھی نہ رہتا۔ سو اس طرح قدرت کا یہ عظیم الشان انعام و احسان جو ان کے بڑوں پر ہوا تھا، وہ بالواسطہ ان لوگوں پر بھی ہوا۔ سو اس عظیم الشان انعام و احسان کا تقاضا یہ تھا اور ہے کہ یہ لوگ صدق دل سے اپنے خالق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–44
ﷲ تعالیٰ کے انعامات انسان کے لیے
تشریح : پچھلی آیات میں رسولوں اور انسانوں کا معاملہ کچھ اس طرح بیان کیا گیا ہے۔ کہ رسول اللہ کی طرف سے بہت بڑی رحمت ہوتے ہیں کیونکہ وہ ہمارے دلوں کے زنگ کو دور کرتے ہیں، جنت کے راستے کی رہنمائی کرتے ہیں۔ ہمیں ہر قسم کی جھاڑ جھنکار، اونچ نیچ اور کھائیوں سے بچاتے ہیں۔ کیونکہ ان کا پیغام بڑا پاکیزہ اور سادہ ہوتا ہے۔ وہ یہ کہ ” اللہ کو مانو رسول کو مانو اور آخرت پر یقین کرو “۔ مگر بدنصیب انسان ان سے نفرت کرتے ہیں ان پر ظلم و زیادتی کرتے ہیں۔ لیکن یہ ظلم و زیادتی اصل میں وہ خود اپنے اوپر کر رہے ہوتے ہیں۔ جب کہ نیک لوگ، ان سے محبت کرتے ہیں اور یوں اللہ کے محبوب بن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–50
رکوع نمبر 3: آیات 33 تا 50:
اسرار و معارف :
اللہ کی قدرت کاملہ کا ایک بڑا مظہر تو مردہ زمین ہے جس پر یہ رہتے بستے ہیں جب اس پہ خشک سالی آتی ہے تو وہ بالکل اجاڑ ہوجاتی ہے ہر طرف گرد اڑتی ہے مگر جب اللہ چاہتے ہیں تو اس کی گود زندگی سے بھر دیتے ہیں اور ذرے ذرے سے زندگی ابلتی ہے پھل پھول اناج پیدا ہو کر نہ صرف زمین کی زندگی کا ثبوت دیتے ہیں بلکہ خود انسانوں کو زندہ رکھنے کا سبب بن جاتے ہیں یہی تو ان کی روز مرہ کی غذا ہے۔
زمین کے بعض حصوں کو ہم نے سرسبزی عطا کردی ہے کہ یہ بھی ضروری نہیں کہ وہ خشک ہو کر ہری ہو ہم نے اس میں چشمے جاری کردئیے اور اس کا سینہ باغات سے سجا دیا کہ ان لوگوں کے پاس بھی ایسے…
Read the full tafseer →ف 7” بھری ہوئی کشتی “ سے مراد حضرت نوح ( علیہ السلام) کی کشتی ہے اور اس میں انسانی نسل کے لانے کا مطلب یہ ہے کہ کا اس میں حضرت نوح ( علیہ السلام) اور جو ان کے ساتھی سوار تھے۔ انہی سے بعد میں نسل انسانی چلی ہے گویا اس میں قیامت تک آنے والی تمام انسانی نسل سولر تھی۔ ( کبیر) ۔
Read the full tafseer →(36:41) انا۔ بیشک ہم۔ حرف مشبہ بفعل ہے ان اور نا ضمیر جمع متکلم سے مرکب ہے۔
ذریتہم۔ مضاف مضاف الیہ۔ ان کی ذریت یعنی ان کی اولاد۔ اصل میں چھوٹے چھوٹے بچوں کا نام ذریت ہے۔ مگر عرف میں چھوٹی اور بڑی اولاد سب کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ اگرچہ اصل میں جمع ہے لیکن واحد اور جمع دونوں کے لئے استعمال ہوتا ہے، ذریۃ کے بارہ میں مختلف اقوال ہیں :۔
(1) یہ ذرء سے مشتق ہے جس کے معنی پیدا کرنے اور پھیلانے کے ہیں اور اس کا ہمزہ متروک ہوگیا ہے جیسے کہ رویۃ اور بریۃ میں۔
(2) اس کی اصل ذرویۃ بروزن فعلیۃ ہے۔ اور ذر سے مشتق ہے۔ جیسے قریۃ قر سے۔
الفلک المشحون۔ موصوف وصفت، بھری ہوئی کشتی۔ الشحن کشتی یا جہاز میں سامان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–44
لغات القرآن : آیت نمبر 33 تا 44 :۔ حب ( دانہ) نخیل ( کھجور) اعناب ( عنب) (انگور) فجرنا ( ہم نے پھاڑ دیا) الازواج ( زوج) (جوڑے) العرجون ( کھجور کی ٹہنی ، شاخ) یرکبون (وہ سوار ہوتے ہیں) صریخ ( چیخ ، فریاد)
تشریح : آیت نمبر 33 تا 44 :۔ اللہ تعالیٰ نے اس کائنات میں اپنی بیشمار نعمتوں کو بکھیر رکھا ہے جو ایک ایسے نظام میں بندھے ہوئے ہیں کہ اپنی مرضی سے ایک قدم بھی نہیں بڑھا سکتے۔ یہ اللہ کی ایسی نشانیاں ہیں جنہیں دن رات آدمی دیکھتا ہے لیکن ان پر غور نہیں کرتا ۔ اگر وہ ان تمام نعمتوں پر غور و فکر سے کام لے تو اس کے دل میں اس کائنات کے خالق کی ایسی عظمت چھا جائے کہ پھر اس کے سوا کسی کی عظمت کی کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–47
(ف 2) ان آیتوں میں فرمایا کہ اور نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ ہم نے اپنی قدرت سے دریا کو بھی تمہارا تابعدار بنادیا کہ تم اس میں جو سامان واسباب کی کشتیاں لیے پھرتے ہو، فرمایا کہ ہم نے ان کے باپ دادوں کو نوح (علیہ السلام) کی کشتی کی مانند چھوٹی بڑی کشتیاں بھی پیدا کردیں جن پر وہ چڑھتے پھرتے ہیں اگر ہم چاہیں تو ان کو ڈبودیں ان کو جو کشتیوں میں سوار ہیں اور پھر کوئی ان کی فریاد کو پہنچنے والا نہیں جو انکو اس مصیبت سے نجات دیوے مگر ہم اپنی رحمت سے دریا اور خشکی میں سفر کراتے ہیں اور ایک وقت مقررہ تک تم کو ہر ایک آفت سے بچاتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–44
[15] اشارہ ہے کشتی نوح (علیہ السلام) کی طرف۔ جب طوفان آیا تو سارے انسان غرق ہوگئے سوائے ان چند افراد کے جو نوح (علیہ السلام) کے ساتھ کشتی پر سوار تھے۔ بعد کی انسانی نسل انہی کشتی والوں سے چلی۔ یعنی بظاہر تو چند افراد کشتی میں تھے لیکن درحقیقت قیامت تک پیدا ہونے والے تمام انسان کشتی پر سوار تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–50
قرآن اور نظریات جدیدہ
2: یہ مسئلہ کہ آفتاب گھومتا ہے یا زمین اور چاند کی گردش کس نوع کی ہے ؟ اس کا تعلق مذہب کے ساتھ بالکل نہیں ہے ۔ یہ فلکیات کی بحث میں ہے اور مذہب کا موضوع بحث یہ ہے ۔ کہ کس طرح دلوں کو شرک کی آلودگیوں سے پاک کیا جاسکتا ہے ؟ اور کیونکر انسانوں کو فلاح و بہبود کا درس دیاجاسکتا ہے ۔ مذہب ان مسائل سے تعرض کرتا ہے ۔ کہ وہ کون تعلیمات ہیں ۔ جو لحمہ انسانی کے لئے باعث برکت وسعادت قرار پاسکتی ہیں ۔ اور وہ کون پیغام ہے جس کو اللہ کا پیغام کہا جاسکتا ہے ۔ یہ سائل کہ زمین پپٹی ہے گول ۔ ستاروں کی حرکت مداری ہے یا محوری آفتاب کی روشنی کس نوع کی ہے ۔ کسوف وخسوف کے واقعات کیوں ظہور پذیر…
Read the full tafseer →(41) اور ان کے لئے قدرت خداوندی کی ایک قدرت اور نشانی یہ ہے کہ ہم نے ان کی اولاد کو بھری ہوئی کشتی میں سوار کردیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–46
ف 5۔ یہ عام ہے اس نقطہ کو بھی جہاں سے چل کر سالانہ دورہ کر کے پھر اسی نقطہ پر جا پہنچتا ہے، اور اس نقطہ افقیہ کو بھی کہ حرکت یومیہ میں وہاں پہنچ کر غروب ہوجاتا ہے۔
Read the full tafseer →انسانوں کے لیے نشانی ان کی اولاد سے بھری ہوئی کشتی میں بھی موجود ہے :
41۔ (فلک) کے معنی دراصل فتح ‘ جبر اور ضمہ تینوں سے آتا ہے جمع اس کی افلاک ہے اور کبھی یہ لفظ اسم جنس کے طور پر بھی استعمال ہوتا ہے اس طرح اس کو بطور مذکر بھی بولا جاتا اور مؤنث کے طور پر بھی ۔ معنی اس کے گھیرایا دائرہ کے ہیں اس پانی کو بھی کہتے ہیں جس پر ہوا کی وجہ سے گول گول دائرے پڑجاتے ہیں اور اس طرح اس کا اطلاق پانی پر چلنے والی یا ہوا میں چلنے والی چیز پر ہے اور ظاہر ہے کہ پانی پر چلنے والی کشتیاں بھی موجود ہیں جن کو پانی کے جہاز بھی کہا جاسکتا ہے اور ہوا میں چلنے والی کشتیاں بھی ہیں جن کو ہوائی جہاز سے تعبیر کیا جاتا…
Read the full tafseer →In verse 41 and 42, it was said: وَآيَةٌ لَّهُمْ أَنَّا حَمَلْنَا ذُرِّيَّتَهُمْ فِي الْفُلْكِ الْمَشْحُونِ وَخَلَقْنَا لَهُم مِّن مِّثْلِهِ مَا يَرْكَبُونَ (And a sign for them is that We boarded their children at the loaded ship, and created for them things similar to it on which they ride.). Mentioned earlier to these verses were manifestations of Divine power and wisdom in what was created on the earth and in the heavens in that order. In the present verses, Divine power over the sea and its adjuncts has been mentioned. It was said that Allah Ta’ ala has made heavily laden boats and…
Read the full tafseer →38 "A laden vessel" : the Ark of the Prophet Noah. As to boarding of the progeny of man in it, it means that although apparently a few companions of the Prophet Noah had boarded it, in reality all human beings who are to be born till Resurrection were boarding it; all the rest of mankind had been drowned in the Flood, all later human beings arc the children of those who were rescued in the Ark.
Read the full tafseer →