Yaseen 36:40

Yaseen · from ayah 40

36:40

لَا الشَّمْسُ یَنْۢبَغِیْ لَهَاۤ اَنْ تُدْرِكَ الْقَمَرَ وَلَا الَّیْلُ سَابِقُ النَّهَارِ ؕ— وَكُلٌّ فِیْ فَلَكٍ یَّسْبَحُوْنَ ۟لَا الشَّمۡسُ يَنۡۢبَغِىۡ لَهَاۤ اَنۡ تُدۡرِكَ الۡقَمَرَ وَلَا الَّيۡلُ سَابِقُ النَّهَارِ‌ؕ وَكُلٌّ فِىۡ فَلَكٍ يَّسۡبَحُوۡنَ

نہ تو سورج ہی سے ہوسکتا ہے کہ چاند کو جا پکڑے اور نہ رات ہی دن سے پہلے آسکتی ہے۔ اور سب اپنے اپنے دائرے میں تیر رہے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

It is not allowable for the sun to reach the moon, nor does the night overtake the day, but each, in an orbit, is swimming.

— Saheeh International

Juz 23 · Ruku 3 of surah · Ruku 2 of juz

Read the whole surah · Surah Yaseen

All translations of 36:40

نہ سورج کے بس میں یہ ہے کہ وہ چاند کو جا پکڑے اور نہ رات دن پر سبقت لے جا سکتی ہے سب ایک ایک فلک میں تیر رہے ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

نہ تو سورج ہی سے ہوسکتا ہے کہ چاند کو جا پکڑے اور نہ رات ہی دن سے پہلے آسکتی ہے۔ اور سب اپنے اپنے دائرے میں تیر رہے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

نہ آفتاب کی یہ مجال ہے کہ چاند کو پکڑے اور نہ رات دن پرآگے بڑھ جانے والی ہے، اور سب کے سب آسمان میں تیرتے پھرتے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

نہ تو سورج کی یہ مجال ہے کہ وہ چاند کو جاپکڑے، اور نہ رات دن سے آگے نکل سکتی ہے، اور یہ سب اپنے اپنے مدار میں تیر رہے ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

سورج کو نہیں پہنچتا کہ چاند کو پکڑے اور نہ رات دن پر سبقت لے جائے اور ہر ایک، ایک گھیرے میں پیر رہا ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

نہ سورج کی یہ مجال کہ وہ (اپنا مدار چھوڑ کر) چاند کو جا پکڑے اور نہ رات ہی دن سے پہلے نمودار ہوسکتی ہے، اور سب (ستارے اور سیارے) اپنے (اپنے) مدار میں حرکت پذیر ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

نہ سورج، اس کے لیے لائق ہے کہ چاند کو جاپکڑے اور نہ رات ہی دن سے پہلے آنے والی ہے اور سب ایک ایک دائرے میں تیر رہے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

نہ تو سورج سے یہ ہوسکتا ہے کہ وہ چاند کو جا پکڑے اور نہ ہی رات دن پر سبقت لے جاسکتی ہے۔ سب اپنے اپنے مدار پر تیزی سے رواں دواں ہیں۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

نہ سورج کی مجال ہے کہ وہ چاند کو جا پکڑے اور نہ رات دن پر سبقت کرسکتی۔ ہر ایک اپنے خاص دائرے میں گردش کرتا ہے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

نہ سورج کے بس میں ہے کہ وہ چاند کو پکڑے اور نہ ہی رات سبقت لے جاسکتی ہے دن پر ہر ایک تیرے جا رہا ہے اپنے مستقل دائرے میں

— مولانا اسحاق مدنی

نہ آفتاب کی مجال ہے کہ چاند کو جاپکڑے اور نہ رات دن سے پہلے آسکتی ہے اور نہ سب ایک ایک دائرہ میں تیر رہے ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

نہ تو سورج کے لیے ممکن ہے کہ وہ چاند کو پکڑ لے اور نہ ہی رات دن سے آگے نکل سکتی ہے ور یہ سب اپنے اپنے دائرے میں تیر رہے ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

نہ تو سورج ہی سے ہوسکتا ہے کہ چاند کو جا پکڑے اور نہ رات ہی دن سے پہلے آسکتی ہے اور سب اپنے اپنے مدار میں گھوم رہے ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Neither does it lie in the sun's power to overtake the moon nor can the night outstrip the day. All glide along, each in its own orbit.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Neither it is for the sun to overtake the moon, nor can the night outpace the day. Each one is floating in an orbit.

— Muhammad Taqi Usmani

Neither it is for the sun to overtake the moon, nor can the night outpace the day. Each one is floating in an orbit.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

It is not for the sun to overtake the moon, nor does the night outstrip the day. They all float, each in an orbit.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

It is not for the sun to overtake the moon, nor doth the night outstrip the day. They float each in an orbit.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

It is not allowable for the sun to reach the moon, nor does the night overtake the day, but each, in an orbit, is swimming.

— Saheeh International

how the sun is not supposed to catch-up with the moon, nor is the night to precede the day. All of them are to float in a certain orbit;

— Muhammad Sarwar

Neither is it allowable to the sun that it should overtake the moon, nor can the night outstrip the day; and all float on in a sphere.

— Muhammad Habib Shakir

It is not permitted to the sun that it should overtake the moon, nor can the night outstrip the day: each in an orbit, they float.

— Abdul Majid Daryabadi

It is not permitted to the Sun to catch up the Moon, nor can the Night outstrip the Day: Each (just) swims along in (its own) orbit (according to Law).

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 36:40

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 37–40

گردش شمس و قمر۔ اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کی ایک اور نشانی بیان ہو رہی ہے اور وہ دن رات ہیں جو اجالے اور اندھیرے والے ہیں اور برابر ایک دوسرے کے پیچھے جا رہے ہیں جیسے فرمایا (يُغْشِي الَّيْلَ النَّهَارَ يَطْلُبُهٗ حَثِيْثًا 54؀) 7۔ الاعراف :54) رات سے دن کو چھپاتا ہے اور رات دن کو جلدی جلدی ڈھونڈتی آتی ہے۔ یہاں بھی فرمایا رات میں سے ہم دن کو کھینچ لیتے ہیں، دن تو ختم ہوا اور رات آگئی اور ہر طرف سے اندھیرا چھا گیا۔ حدیث میں ہے جب ادھر سے رات آجائے اور دن ادھر سے چلا جائے اور سورج غروب ہوجائے تو روزے دار افطار کرلے۔ ظاہر آیت تو یہی ہے لیکن حضرت قتادہ ؓ فرماتے ہیں کہ اس کا مطلب مثل آیت (يُوْلِجُ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة یٰسٓ 35 اس فقرے کے دو مطلب لیے جاسکتے ہیں اور دونوں صحیح ہیں۔ ایک یہ کہ سورج میں یہ طاقت نہیں ہے کہ چاند کو پکڑ کر اپنی طرف کھینچ لے، یا خود اس کے مدار میں داخل ہو کر اس سے جا ٹکرائے۔ دوسرا یہ کہ جو اوقات چاند کے طلوع و ظہور کے لیے مقرر کر دئیے گئے ہیں ان میں سورج کبھی نہیں آسکتا۔ یہ ممکن نہیں ہے کہ رات کو چاند چمک رہا ہو اور یکایک سورج افق پر آجائے۔ سورة یٰسٓ 36 یعنی ایسا بھی کبھی نہیں ہوتا کہ دن کی مقررہ مدت ختم ہونے سے پہلے رات آجائے اور جو اوقات دن کی روشنی کے لیے مقرر ہیں ان میں وہ اپنی تاریکیاں لیے ہوئے یکایک آموجود ہو۔ سورة یٰسٓ 37 فلک کا لفظ عربی زبان میں سیاروں کے مدار (Orbit)…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

(آیت) وکل فی فلک یسبحون، یعنی آفتاب و ماہتاب دونوں اپنے اپنے مدار میں تیرتے رہتے ہیں۔ فلک کے لفظی معنی آسمان کے نہیں بلکہ اس دائرہ کے ہیں جس میں کوئی سیاہ حرکت کرتا ہے۔ یہ آیت سورة انبیاء میں بھی گزر چکی ہے، جس میں یہ بتلایا گیا ہے کہ اس آیت سے معلوم ہوا کہ چاند کسی آسمان کے اندر مرکوز نہیں، جیسا کہ بطلیموسی نظریہ ہیئت میں ہے، بلکہ وہ آسمان کے نیچے ایک خاص مدار میں حرکت کرتا ہے، اور آج کل کی نئی تحقیقات اور چاند تک انسان کی رسائی کے واقعات نے اس کو بالکل یقینی بنادیا ہے۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

آیت 40 یعنی اس کائنات کا سارا نظام اس کے خالق نے اس طرح اپنے قابو میں کررکھا ہے نہ سورج کی مجال ہے کہ وہ اپنے مدار سے نکل کر چاند کے مدار میں جا گھسے اور اس کو پکڑ لے او نہ رات کی مجال ہے کہ ایک سکینڈ کے لئے بھی دن پر سبقت کر جائے بلکہ ان میں سے ہر ایک کو اپنے اپنے دائرے میں گردش کرتی پڑتی ہے۔ یہ اس بات کا نہایت واضح ثبوت ہے کہ اس کائنات کی ہر چیز کی باگ ایک ہی خدائے قدیر وعلیم کے ہاتھ میں ہے اور دیہی تنہا ہر چیز کا مالک و مختار ہے۔ اگر اس کے سوا کسی اور کا بھی اس میں کوئی دخل ہوتا تو یہ دنیا اپنے اضداد کے تصادم میں تباہ ہوجاتی ہے۔ خاص طور پر یہ حقیقت تو بالکل نمایاں ہے کہ جو چیزیں جتنی ہی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

40۔ 1 یعنی سورج کے لئے یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ چاند کو جا پکڑے جس سے اس کی روشنی ختم ہوجائے بلکہ دونوں کا اپنا اپنا راستہ اور الگ الگ حد ہے۔ سورج دن ہی کو اور چاند رات ہی کو طلوع ہوتا ہے اس کے برعکس کبھی نہیں ہوا، جو ایک مدبر کائنات کے وجود پر ایک بہت بڑی دلیل ہے۔ 40۔ 2 بلکہ یہ بھی ایک نظام میں بندھے ہوئے ہیں اور ایک دوسرے کے بعد آتے ہیں۔ 40۔ 3 کُل سے سورج، چاند یا اس کے ساتھ دوسرے کواکب مراد ہیں، سب اپنے اپنے مدار پر گھومتے ہیں، ان کا باہمی ٹکراؤ نہیں ہوتا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

16: اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ چاند اور سورج دونوں اپنے اپنے مدار میں چل رہے ہیں، سورج کی مجال نہیں ہے کہ وہ چاند کے مدار میں داخل ہوجائے۔ اور دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ سورج کے لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ رات کے وقت جب چاند افق پر موجود ہو، اس وقت نکل آئے، اور رات کو دن بنا دے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

اب اللہ ذرا اس عظیم کائنات اور ان عظیم اجرام فلکی کی لطیف تنظیم کی طرف اشارہ فرماتا ہے اور اس تنظیم اور ترتیب کی وجہ سے کیا کیا مظاہر پیدا ہوتے ہیں ؟ غور کیجئے ! لا الشمس ینبغی ۔۔۔۔۔ فلک یسبحون (36: 40) ” نہ سورج کے بس میں ہے کہ وہ چاند کو جا پکڑے اور نہ رات دن پر سبقت لے جاسکتی ہے۔ سب ایک ایک فلک میں تیر رہے ہیں “۔ ہر ستارے اور سیارے کے لیے ایک فلک ہے یا اس کا اپنا مدار ہے۔ اپنی رفتار اور گردش میں وہ اپنی حدود سے تجاوز نہیں کرسکتا۔ ستاروں اور سیاروں کے درمیان عظیم فاصلے ہیں۔ زمین سورج کے درمیان 73 ملین میل کا فاصلہ ہے اور چاند زمین سے 240 ملین میل دور ہے۔ لیکن یہ فاصلے بھی اپنی اس دوری کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

7 سورج کی سلطنت دن میں ہے اور چاند کی رات میں، یہ نہیں ہوسکتا کہ چاند کی نور افشانی کے وقت سورج اس کو آدبائے۔ یعنی دن آگے بڑھ کر رات کا کچھ حصہ اڑا لے یا رات سبقت کر کے دن کے ختم ہونے سے پہلے آجائے۔ جس زمانہ اور جس ملک میں جو اندازہ رات، دن کا رکھ دیا ہے ان کی رات کی مجال نہیں کہ ایک منٹ آگے پیچھے ہو سکیں۔ ہر ایک سیارہ اپنے اپنے مدار میں پڑا چکر کھا رہا ہے اس سے ایک قدم ادھر ادھر نہیں ہٹ سکتا اور باوجود اس قدر سریع حرکت اور کھلی ہوئی فضا کے نہ ایک دوسرے سے ٹکراتا ہے نہ مقررہ انداز سے زیادہ تیز یا سست ہوتا ہے کیا یہ اس کا واضح نشان نہیں کہ یہ سب عظیم الشان مشینیں اور ان کے تمام پرزے کسی ایک…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 40 { لَا الشَّمْسُ یَنْبَغِیْ لَہَآ اَنْ تُدْرِکَ الْقَمَرَ وَلَا الَّیْلُ سَابِقُ النَّہَارِ } ”نہ تو سورج کے لیے ممکن ہے کہ وہ چاند کو پکڑ لے اور نہ ہی رات دن سے آگے نکل سکتی ہے۔“ جب تک یہ دنیا قائم ہے یہ دونوں ایک دوسرے کے آگے پیچھے ہی چلتے رہیں گے۔ { وَکُلٌّ فِیْ فَلَکٍ یَّسْبَحُوْنَ } ”‘ اور یہ سب اپنے اپنے دائرے میں تیر رہے ہیں۔“ یہ تمام اجرامِ سماویہ بہت منظم انداز میں اپنے اپنے مدار کے اندر محو ِگردش ہیں۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

38 اس جملے کے دو مطلب ہیں ایک یہ کہ سورج چاند کی نسبت بڑا سیارہ ہے۔ اس کی کشش ثقل بھی چاند کی نسبت بہت زیادہ ہے تاہم یہ ممکن نہیں کہ سورج چاند کو اپنی طرف کھینچ لے نہ ہی یہ ممکن ہے کہ اس کے مدار میں جا داخل ہو۔ اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ یہ بھی ممکن نہیں کہ رات کو چاند چمک رہا ہو اور اسی وقت سورج طلوع ہوجائے۔ اسی طرح یہ بھی ممکن نہیں کہ دن کی مقررہ مدت ختم ہونے سے پہلے ہی رات آجائے۔ اور جتنا وقت دن کی روشنی کے لئے مقرر ہے ان میں رات یکایک اپنی تاریکیوں سمیت آموجود ہو۔ 39 سورج اور چاند کی گردش اور فلک کا مفہوم :۔ سَبَّحَ کے معنی پانی یا ہوا میں نہایت تیز رفتاری سے گزر جانا یا تیرنا۔ اور فلک کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

28۔ اور اپنے خالق ومالک کے حکم کے مسخر اپنی اپنی رفتار سے چل رہے ہیں۔ اور نظام معین سے باہر نہیں ہوسکتے کہ رات دن کے حساب میں کچھ بھی خلل پڑ سے۔ (آیت) ’ وکل “۔ کل سے مراد سارے ہی اجرام فلکی لئے گئے ہیں یعنی من الشمس والقمر والنجوم (قرطبی) (آیت) ” لا ...... القمر “۔ آفتاب کی یہ مجال نہیں کہ کسی دن قبل از وقت طلوع ہوجائے۔ یعنی خورشید خ اور بایں جاہ و جلال اور سورج دیوتا باوجود اپنی ” دیوتائیت “ کے تمامتر اسی قادر مطلق کے دست قدرت میں مسخر ہیں (آیت) ” ولا ..... النھار “۔ یعنی ظہور ظلمت کے وقت معین سے پہلے شب تار کے لئے یہ ممکن نہیں کہ وہ اپنے ارادہ و خواہش سے نور کو زائل کردے۔ (آیت) ” ولا ......…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 33–50

آیت نمبر 33 تا 50 ترجمہ : اور ایک نشانی ان کے لئے مرنے کے بعد زندہ ہونے پر مردہ زمین ہے اٰیۃٌ لھُمْ خبر مقدم ہے اَلْمیتۃُ تخفیف اور تشدید کے ساتھ ہے کہ ہم نے اس کو پانی کے ذریعہ زندہ کیا والارض الخ مبتداء مؤخر ہے، اور ہم نے اس زمین سے غلہ مثلاً گندم پیدا کیا سو اس سے یہ لوگ کھاتے ہیں اور (نیز) ہم نے زمین میں کھجوروں اور اناروں کے باغات پیدا کئے اور اس میں کچھ چشمے جاری کئے تاکہ لوگ اس کے پھل کھائیں، ثمَرہ میں یعنی (ث، م) دونوں میں فتحہ اور ضمہ ہے، یعنی تاکہ مذکورہ کھجور وغیرہ کے پھلوں میں سے کھائیں اور ان پھلوں کو ان کے ہاتھوں نے نہیں بنایا تو پھر یہ لوگ اپنے اوپر خدا تعالیٰ کے انعامات کا شکر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

لا الشمس ینبغی لھا ان تدرک القمر ولا الیل سابق النھار وکل فی فلک یسبحون نہ سورج کی مجال ہے کہ چاند کو جا پکڑے اور نہ (اگلی) رات دن سے پہلے آسکتی ہے اور دونوں (اپنے اپنے) دائرے میں تیر رہے ہیں۔ لَا الشَّمْسُ یَنْبَغِیْ لَھَا یعنی سورج کیلئے صحیح نہیں ‘ ممکن نہیں۔ اَنْ تُدْرِکَ الْقَمَرَ یعنی چاند کی تیزرفتاری کو سورج نہیں پہنچ سکتا۔ یہ تشریح بیضاوی نے کی ہے اور اس تشریح کی بناء فلاسفہ کے اس نظریہ پر ہے کہ چاند کی رفتار سورج کی رفتار سے بہت تیز ہے۔ چاند کا دورہ ایک ماہ میں پورا ہوجاتا ہے اور سورج کا دورہ ایک سال میں ہوتا ہے۔ میرے نزدیک واقعہ اس کے برعکس ہے ‘ آئندہ ہم اس کی تفصیل بیان کریں گے۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

نہ آفتاب کی مجال ہے کہ وہ چاند کے طلوع ہونے کے وقت طلوع کرے کہ جس سے چاند کی روشنی کو محو کردے اور اسی طرح نہ رات دن کے مقررہ وقت ختم ہونے سے پہلے آسکتی ہے کہ آکر اس کی روشنی ختم کردے۔ چاند و سورج اور ستارے ہر ایک اپنے اپنے دائرہ میں تیر رہے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

لَا الشَّمْسُ يَنْۢبَغِيْ لَهَآ اَنْ تُدْرِكَ الْقَمَرَ : یہ چوتھی دلیل ہے، یعنی چاند کی روشنی کے ظہور کا وقت رات ہے، یہ نہیں ہوسکتا کہ رات کو جب چاند چمک رہا ہو تو اچانک سورج طلوع ہوجائے۔ وَلَا الَّيْلُ سَابِقُ النَّهَارِ : اور نہ یہ ہوسکتا ہے کہ ابھی دن کا وقت باقی ہو اور یکایک رات چھا جائے۔ وَكُلٌّ فِيْ فَلَكٍ يَّسْبَحُوْنَ : ”سَبَحَ یَسْبَحُ“ (ف) کا معنی تیرنا ہے۔ یعنی کیا سورج، کیا چاند اور کیا ستارے (جن میں زمین بھی شامل ہے) ہر ایک کا اپنا اپنا فلک (مدار) ہے، جس میں وہ تیر رہا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اربوں ستاروں میں سے ہر ایک کا مدار دوسرے سے الگ بنایا ہے اور ایسا نظام قائم کیا ہے کہ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

لفظ الشمس کو رفع دیا گیا ہے کیونکہ یہ مبتدا ہے اور لا معرفہ میں عمل نہیں کرتا۔ علماء نے اس آیت کے معنی میں گفتگو کی ہے بعض نے کہا : اس کا معنی سورج چاند کو نہیں پا سکتا کہ اس کی ہقیقت اور افادیت کو باطل کر دے ہر ایک کی اپنے دائرہ کار میں حاکمیت ہے ان میں سے کوئی ایک بھی دائرے پر اس پر طرح داخل نہیں ہو سکتا کہ اس کی حکومت کو ختم کردے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں جو تدبیر فرمائی ہے اس کو باطل کردے تو سورج اس کے مغرب سے طلوع ہوجائے جس طرح اس کی وضاحت سورة الانعام میں گزر چکی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : جب سورج طلوع ہوتا ہے تو چاند کی روشنی نہیں ہوتی اور جب چاند طلوع ہوتا ہے تو سورج…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر وابن ابی حاتم (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” لا الشمس ینبغی لھا ان تدرک القمر “ (نہ سورج کی مجال ہے کہ چاند کو جا پکڑے) مشابہ نہیں ہوتی ان میں سے ایک کی روشنی دوسری کی روشنی سے اور یہ بات ان دونوں کے لائق بھی نہیں اور اسی کو فرمایا (آیت) ” ولا الیل سابق النہار “ (اور نہ اگلی رات دن سے پہلے آسکتی ہے) یعنی وہ دونوں جلدی سے ایک دوسرے کا پیچھا کرتے ہیں تو ان دونوں میں سے ایک دوسرے سے آگے نکل جاتا ہے۔ 2:۔ عبد بن حمید (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” لا الشمس ینبغی لھا ان تدرک القمرولا الیل سابق النھار “ یعنی ہر…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

لَا الشَّمْسُ [نہ سورج ہے ] يَنْۢبَغِيْ لَهَآ [(کہ) شایان شان ہو اس کے لئے ] اَنْ تُدْرِكَ [کہ وہ آن پکڑے ] الْقَمَرَ [چاند کو ] وَلَا الَّيْلُ [اور نہ رات کو ] سَابِقُ النَّهَارِ ۭ [دن کے آگے نکلنے والی ] وَكُلٌّ فِيْ فَلَكٍ [اور سب کسی مدار میں ] يَّسْبَحُوْنَ [تیرتے ہیں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

سورج چاند کو نہیں پکڑ سکتا اس کے بعد چاند اور سورج کی رفتار اور رات دن کی آمد کے نظام بےمثال کو بیان فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا : (لا الشَّمْسُ یَنْبَغِی لَہَا اَنْ تُدْرِکَ الْقَمَرَ وَلاَ الَّیْلُ سَابِقُ النَّہَارِ ) (کہ نہ سورج کی یہ مجال ہے کہ چاند کو جا کر پکڑ لے اور نہ رات دن سے پہلے آسکتی ہے) مطلب یہ ہے کہ آفتاب رات کو محو نہیں کرسکتا، جو چاند کے منور ہونے کا وقت ہے۔ اور دن کا جتنا وقت مقرر ہے اس وقت کے ختم ہونے سے پہلے رات نہیں آسکتی، رات آگے بڑھ کر دن کا کچھ حصہ اپنے اندر لے لے اور مقررہ نظام کے خلاف دن گھٹ جائے اور رات بڑھ جائے ایسا کوئی اختیار نہ رات کو ہے نہ دن کو ہے، (وَکُلٌّ فِیْ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 37–40

دلیل دوم قال تعالیٰ وایۃ لہم الیل نسلخ منہ النھار۔۔۔ الی۔۔۔ وکل فی فلک یسبحون۔ یہ اس کی قدرت کی دوسری دلیل ہے کہ اس نے لیل ونہار کو اور شمس و قمر کو پیدا کیا دن رات کا یکے بعد دیگرے آنا اور رات کا اندھیرا اور دن کی روشنی اور آفتاب وماہتاب کا ایک خاص روشنی پر رہنا جس میں نہ کبھی کمی ہوتی ہے اور نہ زیادتی یہ بھی اس کے کمال قدرت کی دلیل ہے جس کی حقیقت کے ادراک سے دنیا کی عقلیں حیران ہیں تمام عالم مل کر بھی اس پر قادر نہیں کہ لیل ونہار اور طلوع و غروب میں کوئی تغیر کرسکے۔ گذشتہ آیت میں زمین کی نشانی کا ذکر فرمایا جو باشندگان عالم کا مکان ہے اب آئندہ آیت میں لیل ونہار کی نشانی کو ذکر فرماتے ہیں جو…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 40–41

28:۔ وایۃ لہم انا الخ :۔ یہ چوتھی عقلی دلیل ہے۔ یہ بھی اللہ کی وحدانیت اور قدرت کاملہ کی دلیل ہے کہ ہم ان کو آدمیوں سے بھرپور کشتیوں میں سوار کر کے دریاؤں اور سمندروں سے صحیح سلامت پار اتارتے ہیں اور کشتیوں کے مانند اور بھی کئی چیزیں ہم نے ان کی سواری کیلئے پیدا کی ہیں اگر ہم چاہیں تو ان کو غرق کردیں اس وقت ان کے مزعومہ کارساز ان کی فریاد رسی نہ کرسکیں اور نہ انہیں غرق ہونے سے بچا سکیں مگر یہ کہ ہم خود ہی اپنی مہربانی سے ان کو بچا لیں اور ایک معین وقت (وقت موت) تک انہیں دنیوی نعمتوں سے فائدہ اٹھانے کی مہلت دیدیں۔ من مثلہ ما یرکبون سے مراد اونٹ ہیں جو خشکی میں سواری کے لیے پیدا کیے۔ روی عن ابن…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 33–40

ربط آیات رسالت کے سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے ایک بستی والوں کا حال بیان کیا کہ ان کے پاس تین رسول آئے تاکہ ان کو توحید کی دعوت دیں مگر ان اہل بستی نے ان رسولوں یا مبلغین کے ساتھ سخت بدسلوکی کی حتی کہ ان کے قتل کے درپے ہوئے ان مرسلین کی تائید میں شہر کے پرلے کنارے سے ایک آدمی دوڑتا ہوا آیا اور قوم کو سمجھایا کہ ان رسولوں کی پیروی کرتے ہوئے شرک سے تائب ہو جائو اور توحید خداوندی کو اختیار کرو تو بستی والے اس مرد مومن کے بھی خلاف ہوگئے اور اسے قتل کر ڈالا ، پھر ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک خوفناک چیخ کی صورت میں عذاب آیا جس سے سارے بستی والے ہلاک ہوگئے۔ ضمناً اللہ تعالیٰ نے شرک کی تردید فرمائی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

لَا الشَّمْسُ يَنْۢبَغِيْ لَہَآ اَنْ تُدْرِكَ الْقَمَرَ وَلَا الَّيْلُ سَابِقُ النَّہَارِ۝ 0 ۭ وَكُلٌّ فِيْ فَلَكٍ يَّسْبَحُوْنَ۝ 40 شمس الشَّمْسُ يقال للقرصة، وللضّوء المنتشر عنها، وتجمع علی شُمُوسٍ. قال تعالی: وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَها [يس/ 38] ، وقال : الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ بِحُسْبانٍ [ الرحمن/ 5] ، وشَمَسَ يومَنا، وأَشْمَسَ : صار ذا شَمْسٍ ، وشَمَسَ فلان شِمَاساً : إذا ندّ ولم يستقرّ تشبيها بالشمس في عدم استقرارها . ( ش م س ) الشمس کے معنی سورج کی نکیر یا وہوپ کے ہیں ج شموس قرآن میں ہے ۔ وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَها [يس/ 38] اور سورج اپنے مقرر راستے پر چلتا رہتا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 37–40

واٰیۃ لہم اللیل یہ دوسری دلیل ہے کہ رات اندھیری ہوتی ہے۔ اس میں سے ہم دن کو نکالتے ہیں جس سے اندھیرا ہوجاتا ہے۔ یعنی دن میں سے رات پیدا کرکے دنیا کو اندھیری کردیتے ہیں۔ آفتاب اپنی خاص چال پر چلتا ہے، جو اس کی چال مقرر کردی ہے، اس کے خلاف نہیں کرسکتا اور اسی طرح چاند کے لیے منزلیں مقرر کردی ہیں۔ مہینے بھر میں دورہ تمام کرکے پھر پتلی سوکھی خمدار ٹہنی کے طرح برآمد ہوتا ہے۔ عرجون بالضم درخت کژشدہ و شاخہائے بریدہ صراح، چاند کو کھجور کی سوکھی ہوئی ٹہنی سے تشبیہ دی ہے، اس کے باریک ہونے اور ٹیڑھے ہونے میں آفتاب ماہتاب کو نہیں پکڑسکتا نہ وہ اس کو نہ ایک دوسرے سے آگے بڑھ سکتا ہے، نہ رات دن سے پہلے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَالْقَمَرَ قَدَّرْنٰـہُ مَنَازِلَ حَتّٰی عَادَ کَالْعُرْجُوْنِ الْقَدِیْمِ ۔ لاَالشَّمْسُ یَنْبَغِیْ لَھَآ اَنْ تُدْرِکَ الْقَمَرَ وَلاَالَّیْلُ سَابِقُ النَّھَارِ ط وَکُلٌّ فِیْ فَلَکٍ یَّسْبَحُوْنَ ۔ (یٰسٓ: 39، 40) (اور چاند، ہم نے اس کی منزلیں مقرر کر رکھی ہیں یہاں تک کہ وہ کھجور کی پرانی ٹہنی کے مانند ہو کر رہ جاتا ہے۔ نہ سورج کی مجال ہے کہ وہ چاند کو جا پکڑے اور نہ رات دن پر سبقت لے جاسکتی ہے اور سب اپنے اپنے مدار میں گردش کررہے ہیں۔ ) چاند کی نشانی سے دلیل جس طرح خدائے عزیز وعلیم نے سورج کا ایک مستقر ٹھہرایا اور وہ اس کی طرف چل رہا ہے اسی طرح اس نے چاند کی بھی منزلیں مقرر کر رکھی ہیں۔…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 38–41

فہم القرآن ربط کلام : آفاق کی نشانیاں پیش کرنے کے بعد بحری نشانی کی طرف توجہ مبذول کروائی گئی ہے۔ دنیا میں بیشمار لوگ موجود رہے ہیں اور رہیں گے جو آمدروفت اور تجارت کی غرض سے بحری سفر اختیار کرتے ہیں۔ بحری سفر کرنے والے لوگوں کی حالت یہ ہے کہ جب وہ بھنور میں پھنستے ہیں تو صرف اور صرف ایک ” اللہ “ کو صدائیں دیتے ہیں۔ لیکن ساحل سمندر پر پہنچ کر شر کیہ کلمات ادا کرتے ہیں۔ کوئی خضر (علیہ السلام) کو نجات دہندہ قرار دیتا ہے اور کوئی بہاول حق کا نام لیتا ہے۔ یہاں نوح (علیہ السلام) کی کشتی کا اشارتاً ذکر فرما کر مشرکوں کے سامنے یہ حقیقت واضح کی ہے کہ قوم نوح (علیہ السلام) کی طرف دیکھیے جو ود، سواع،…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

وہ ایک دوسرے کو پکڑ نہ سکیں گے : 40: لَا الشَّمْسُ یَنْچبَغِیْ لَھَآ (نہ آفتاب کی مجال ہے) نہ سورج کو جائز درست و مناسب ہے۔ اَنْ تُدْرِکَ الْقَمَرَ (کہ چاند کو جا پکڑے) پس اس کے ساتھ ایک وقت میں جمع ہوجائے اور اس کی سلطنت میں مداخلت کر کے اس کے نور کو مٹا دے کیونکہ ہر دوسیاروں کو اپنے اپنے دائرے میں غلبہ ہے۔ سورج کو دن پر غلبہ اور چاند کا غلبہ رات پر ہے۔ وَلَا الَّیْلُ سَابِقُ النَّھَارِ (نہ رات دن سے پہلے آسکتی ہے) رات دن سے سبقت نہیں کرسکتی یعنی رات کی نشانی دن کی نشانی سے سبقت نہیں کرسکتی۔ یہ دونوں روشن سیارے اس ترتیب پر رہیں گے یہاں تک کہ قیامت آئے۔ پھر اللہ تعالیٰ سورج و چاند کو جمع…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر 40۔ ، لا الشمسی ینبنی لھا ان تدرک القمر، دن رات میں اس وقت تک داخل نہیں ہوسکتا جب اس کی مدت پوری نہ ہوجائے اور نہ ہی رات دن پر آجائے ۔ اس کے وقت پورا ہونے سے ، ولا الیل سابق النھار ، یہ دونوں ایک دوسرے کے پیچھے چلتے رہتے ہیں، انے وقت سے پہلے یہ نہیں آسکتے۔ بعض نے کہا کہ ان دونوں میں سے کوئی ایک دوسرے کی سلطنت میں نہیں آسکتا یا اس کا مطلب ہے کہ سورج رات کو طلوع نہیں ہوسکتا اور نہ ہی چانددن کو ۔ جب دونوں جمع ہوجائیں گے یا ایک دوسرے کو پالے گا تو قیامت آجائے گا۔ بعض نے کہا کہ اس کا معنی ہے کہ ایک آسمان میں دونوں جمع نہیں ہوسکتے ۔ ، ولا الیل سابق النھا ر ، کا مطلب ہے کہ ایک رات دوسرے رات کے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 39–40

39‘ 40۔ خطیب نے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت 1 ؎ کی ہے (1 ؎ مشکوۃ باب اعلامات میں یدی الساعۃ فصل اول) کہ اٹھائیس منزلیں ہیں جن کے اندر چاند ہر مہینے پر آتا ہے جب ان سب منزلوں کو چاند طے کر چکتا ہے تو پھر پرانی ٹہنی کی صورت میں اس طرح ہوجاتا ہے جس طرح اول مہینے میں تھا چاند کی اس چال سے مہینوں کا حساب سمجھا جاتا ہے اور پھر برسوں کا جس طرح کہ سورج سے رات اور دن کی پہچان ہوتی ہے۔ یہ خطیب بغدادی ابوبکر احمد بن علی ملک شام کے معتبر اور مشہور علماء میں ہیں ان کے وقت کے علماء ان کو دار قطنی ثانی کہا کرتے تھے ان کی وفات کے بعد اس وقت کے بعضے علماء نے خواب میں دیکھا کہ ان کی تصنیف کی بعض کتابیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 37–40

آیت 37 (وایۃ لھم) ” اور ان کے لئے ایک نشانی “ یعنی اللہ تعالیٰ کی مشیت کے نفاذ، اس کی قدرت کے کمال، مردوں کو اس کے دوبارہ زندہ کرنے پر ایک دلیل (الیل نسلخ منہ النھار) ” رات ہے جس سے ہم دن کو کھینچ دیتے ہیں۔ “ یعنی ہم نے اس کی عظیم روشنی کو زائل کر کے، جس نے روئے زمین مو کمنور کر رکھا تھا، تاریکی سے بدل ڈالا، جسے ہم اس کے وقت پر نازل کرتے ہیں (فاذا ھم مظلمون) ” پس وہ اندھیروں میں ڈوب جاتے ہیں۔ “ اسی طرح ہم تاریکی کو زائل کرتے ہیں، جس نے ان کو ڈھانپ رکھا تھا۔ پس ہم سورج کو طلع کرتے ہیں، جس سے تمام زمین اپنے کناروں تک روشن ہوجاتی ہے اور مخلوق اپنے رزق کی تلاش اور اپنے مصالح کے حصول کے لئے روئے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

سورج اور چاند اپنے مدار میں گردش کرتے ہیں قول باری ہے (لا الشمس ینبغی لھا ان تدرک القمر۔ نہ آفتاب کی مجال ہے کہ چاند کو جا پکڑے) ہمیں عبداللہ بن محمد نے روایت کی ہے، انہیں حسن بن ابی الربیع نے، انہیں عبدالرزاق نے، انہیں معمر نے حسن سے اس قول باری کی تفسیر میں نقل کیا ہے کہ ” یہ بات شب ہلال میں ہوتی ہے۔ “ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ۔ واللہ اعلم۔ اس سے ان کی مراد یہ ہے کہ سورج چاند کو اس طرح نہیں پکڑتا کہ اسے اپنی شعاعوں سے ڈھانپ لے اور پھر وہ نظرنہ آئے کیونکہ سورج اور چاند دونوں مسخر یعنی تابع فرمان ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے جو ترتیب مقرر کردی ہے اس پر چلنے پر مجبور ہیں۔ ان میں سے کسی کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 39–40

42 کائنات کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کے حکم وارشاد کی پابند : سو اس اعتبار سے سورج اور چاند کے طلوع و غروب میں عظیم الشان درسہائے عبرت و بصیرت ہیں۔ سو کبھی ایسے نہیں ہوسکتا کہ یہ دونوں ایک ہی وقت میں جمع ہوجائیں اور ان میں سے ایک دوسرے پر غالب آ کر اس کی روشنی کو مٹا دے۔ سو ایسے نہیں ہوتا بلکہ ہر ایک اپنے محدود و مقرر وقت میں آتا ہے اور ہر ایک اپنے رب کے حکم اور اپنے وقت کا پورا پابند ہے۔ دوسرا اس میں کسی طرح کا کوئی دخل نہیں دے سکتا۔ (روح، ابن کثیر، صفوہ، جامع، مراغی، قرطبی اور معارف وغیرہ) ۔ سو یہ اس وحدہ لاشریک خالق ومالک کی بےپایاں قدرت و عنایت اور حکمت بالغہ کا کس قدر عظیم الشان مظہر ہے مگر…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 33–44

ﷲ تعالیٰ کے انعامات انسان کے لیے تشریح : پچھلی آیات میں رسولوں اور انسانوں کا معاملہ کچھ اس طرح بیان کیا گیا ہے۔ کہ رسول اللہ کی طرف سے بہت بڑی رحمت ہوتے ہیں کیونکہ وہ ہمارے دلوں کے زنگ کو دور کرتے ہیں، جنت کے راستے کی رہنمائی کرتے ہیں۔ ہمیں ہر قسم کی جھاڑ جھنکار، اونچ نیچ اور کھائیوں سے بچاتے ہیں۔ کیونکہ ان کا پیغام بڑا پاکیزہ اور سادہ ہوتا ہے۔ وہ یہ کہ ” اللہ کو مانو رسول کو مانو اور آخرت پر یقین کرو “۔ مگر بدنصیب انسان ان سے نفرت کرتے ہیں ان پر ظلم و زیادتی کرتے ہیں۔ لیکن یہ ظلم و زیادتی اصل میں وہ خود اپنے اوپر کر رہے ہوتے ہیں۔ جب کہ نیک لوگ، ان سے محبت کرتے ہیں اور یوں اللہ کے محبوب بن…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 33–50

رکوع نمبر 3: آیات 33 تا 50: اسرار و معارف : اللہ کی قدرت کاملہ کا ایک بڑا مظہر تو مردہ زمین ہے جس پر یہ رہتے بستے ہیں جب اس پہ خشک سالی آتی ہے تو وہ بالکل اجاڑ ہوجاتی ہے ہر طرف گرد اڑتی ہے مگر جب اللہ چاہتے ہیں تو اس کی گود زندگی سے بھر دیتے ہیں اور ذرے ذرے سے زندگی ابلتی ہے پھل پھول اناج پیدا ہو کر نہ صرف زمین کی زندگی کا ثبوت دیتے ہیں بلکہ خود انسانوں کو زندہ رکھنے کا سبب بن جاتے ہیں یہی تو ان کی روز مرہ کی غذا ہے۔ زمین کے بعض حصوں کو ہم نے سرسبزی عطا کردی ہے کہ یہ بھی ضروری نہیں کہ وہ خشک ہو کر ہری ہو ہم نے اس میں چشمے جاری کردئیے اور اس کا سینہ باغات سے سجا دیا کہ ان لوگوں کے پاس بھی ایسے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 6 یعنی کیا سورج، کیا چاند اور کیا ستارے ( جن میں زمین بھی شامل ہے) ہر ایک کا اپنا ایک فلک ( مدار) ہے جس میں وہ تیر رہا ہے اور اللہ تعالیٰ نے کروڑوں ستاروں میں سے ہر ایک مدار دوسرے سے الگ بنایا ہے اور ایسا نظام قائم کیا ہے کہ کوئی ستارہ دوسرے کے مدار میں آ کر اس سے ٹکراتا نہیں اور باقاعدگی سے اپنے مدار میں گھوم رہا ہے اور یہ نظام قیامت تک چلتا رہے گا۔ یقینا یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کی بہت بڑی نشانی ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(36:40) لا ینبغی مضارع واحد مذکر غائب انبغاء مصدر (انفعال) ینبغی ان یکون کذا کا محاورہ دو طرح استعمال ہوتا ہے۔ (1) اس شے کے متعلق جو کسی فعل کے لئے مسخر ہو۔ جیسے النار ینبغی لھا ان تحرق الثوب یعنی کپڑے کو جلا ڈالنا آگ کا خاصہ ہے۔ انہی معنی پر محمول یہ آیۃ شریفہ ہے۔ وما علمنہ الشعر وما ینبغی لہ۔ (36:69) اور ہم نے ان کو شعر گوئی نہیں سکھائی اور نہ ہی ان کی فطرت میں یہ خاصہ ہے۔ اور انہی معنی میں آیۃ ہذا ہے لا الشمس ینبغی لھا ان تدرک القمر۔ سورج کی مجال نہیں کہ چاند کو جا پکڑے (یہ خاصیت اس میں ودیعت ہی نہیں کی گئی) ۔ (2) یہ کہ وہ اس شے کا اہل ہے یعنی اس کے لئے ایسا کرنا مناسب اور زیبا ہے جیسے…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 33–44

لغات القرآن : آیت نمبر 33 تا 44 :۔ حب ( دانہ) نخیل ( کھجور) اعناب ( عنب) (انگور) فجرنا ( ہم نے پھاڑ دیا) الازواج ( زوج) (جوڑے) العرجون ( کھجور کی ٹہنی ، شاخ) یرکبون (وہ سوار ہوتے ہیں) صریخ ( چیخ ، فریاد) تشریح : آیت نمبر 33 تا 44 :۔ اللہ تعالیٰ نے اس کائنات میں اپنی بیشمار نعمتوں کو بکھیر رکھا ہے جو ایک ایسے نظام میں بندھے ہوئے ہیں کہ اپنی مرضی سے ایک قدم بھی نہیں بڑھا سکتے۔ یہ اللہ کی ایسی نشانیاں ہیں جنہیں دن رات آدمی دیکھتا ہے لیکن ان پر غور نہیں کرتا ۔ اگر وہ ان تمام نعمتوں پر غور و فکر سے کام لے تو اس کے دل میں اس کائنات کے خالق کی ایسی عظمت چھا جائے کہ پھر اس کے سوا کسی کی عظمت کی کوئی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 39–40

چاند اور سورج قدرت کی عظیم نشانیاں۔ (ف 1) منجملہ دلائل کے ایک یہ بھی ہے کہ ہم نے چاند کے واسطے اٹھائیس منزلیں مقرر کیں ہیں کہ وہ ہر مال کی اٹھائیس رات دن میں ان میں سے گذرتا ہے اگر تیس کا مہینہ ہوتا ہے تو دودن غائب رہتا ہے اور جو انتیس روز کا مہینہ ہوتا ہے تو ایک روز غائب رہتا ہے یہاں تک کہ وہ پچھلی تاریخون میں بہ سبب باریکی اور زردی اور کجی مثل پتلی سوکھی خمدار ٹہنی کھجور کے ہوجاتا ہے پھر فرمایا کہ سورج کو نہیں لائق کی چاند کو پکڑلیوے، مطلب یہ ہے کہ چاند کی چال سے سورج کی چال کم ہے اس لیے سورج چاند کو پکڑ نہیں کرسکتا، اور رات بھی دن سے آگے بڑھنے والی نہیں ہے یہ نہیں ہوسکتا کہ دن تو آئے نہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 38–40

[14] یہ آیت منجملہ ان آیات میں سے ہے جن سے قرآن مجید کا منجانب اللہ ہونا ثابت ہے۔ پندرہویں صدی میں مشہور منجم نکولس کا پر نیکس ( Nicholas Copernicus 1473-1543 AD) نے یہ اعلان کر کے کہ سورج ساکن ہے اور زمین اس کے گرد گھوم رہی ہے دنیائے علم میں ایک زلزلہ سا ڈال دیا تھا۔ اس کی تائید جرمنی کے مشہور ہیئت دان کیپلر (Kepler 1571-1630 AD) نے بھی کی تو دنیا نے کا پر نیکس کے '' انکشاف '' کو ایک حقیقت سمجھ لیا۔ اور کیونکہ اس آیت کی رو سے سورج متحرک ہے اس لئے دنیائے اسلام میں اضطراب کی ایک لہر دوڑ گئی کیونکہ اس وقت مسلمانوں کے پاس نہ علم تھا نہ رصدگاہیں اور نہ فلک بین دوربینیں تھیں، اس لئے وہ اس ''…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 40–50

قرآن اور نظریات جدیدہ 2: یہ مسئلہ کہ آفتاب گھومتا ہے یا زمین اور چاند کی گردش کس نوع کی ہے ؟ اس کا تعلق مذہب کے ساتھ بالکل نہیں ہے ۔ یہ فلکیات کی بحث میں ہے اور مذہب کا موضوع بحث یہ ہے ۔ کہ کس طرح دلوں کو شرک کی آلودگیوں سے پاک کیا جاسکتا ہے ؟ اور کیونکر انسانوں کو فلاح و بہبود کا درس دیاجاسکتا ہے ۔ مذہب ان مسائل سے تعرض کرتا ہے ۔ کہ وہ کون تعلیمات ہیں ۔ جو لحمہ انسانی کے لئے باعث برکت وسعادت قرار پاسکتی ہیں ۔ اور وہ کون پیغام ہے جس کو اللہ کا پیغام کہا جاسکتا ہے ۔ یہ سائل کہ زمین پپٹی ہے گول ۔ ستاروں کی حرکت مداری ہے یا محوری آفتاب کی روشنی کس نوع کی ہے ۔ کسوف وخسوف کے واقعات کیوں ظہور پذیر…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(40) نہ آفتاب کی یہ مجال کہ وہ چاند کو جا پکڑے اور نہ رات ہی دن سے آگے بڑھ سکتی ہے اور ان میں سے ہر ایک اپنے اپنے دائرے میں چکر لگایا کرتے ہیں اور تیرتے رہتے ہیں۔ یعنی نہ آفتاب کو یہ طاقت کہ وہ چاند کو رات میں آپکڑے نہ رات کی یہ مجال کہ وہ قبل از وقت دن سے آگے آجائے۔ ان میں سے ہر ایک یعنی چاند سورج اور سیارے غرض تمام اجرام علویہ اپنے اپنے دائرے پر اس طرح چلتے رہتے ہیں جیسے وہ تیر رہے ہیں۔ شاید فلک کہنے سے افلاک سبعہ کی طرف اشارہ ہو کیونکہ اجرام علویہ کے دوائر مختلف افلاک میں بتاتے ہیں۔ (واللہ اعلم) غرض ! جملہ اجرام علویہ اور اجسام فلکیہ اس کے حکم کے ماتحت اور اس کے تابع ہیں۔ کسی نے کیا خوب…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 38–46

ف 5۔ یہ عام ہے اس نقطہ کو بھی جہاں سے چل کر سالانہ دورہ کر کے پھر اسی نقطہ پر جا پہنچتا ہے، اور اس نقطہ افقیہ کو بھی کہ حرکت یومیہ میں وہاں پہنچ کر غروب ہوجاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

سورج کبھی چاند کو پکڑ نہیں سکتا اور رات کبھی دن پر سبقت نہیں لے جاسکتی : 40۔ تمام اجرام فلکی میں سورج سب سے بڑا ہے اور چاند سورج کے مقابلہ میں بہت چھوٹا ، دنیا کے چھوٹے خود بخود دنیا کے بڑوں کی طرف مائل ہوجاتے ہیں اور یہ بھی کہ دنیا کے بڑے دنیا کے چھوٹوں کو اپنی طرف کھینچ لیتے ہیں بلکہ اگر ذرا غور کرو گے تو تم کو معلوم ہوگا کہ دنیا میں ہر بڑی چیز چھوٹی کو ہڑپ کرنے کے لئے تیار ہے ‘ ہر منہ آلہ ذبح ہے اور ہر پیٹ مذبح خانہ اس لئے یہ محاورہ ہمارے ہاں عام ہے کہ بڑی مچھلی چھوٹی مچھلی کو کھا جاتی ہے ، مچھلیاں تو خیر مچھلیاں ہی ہیں لیکن اگر ان مگرمچھوں کی زندگی پر کبھی غور کریں جن کو تم اپنی زبان میں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

In verse 40, it was said: وَكُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ (And each one is floating in an orbit - 40). Literally, the word: فَلَک (falak) does not mean the sky. Instead, it means the orbit in which some star moves. This verse has also appeared earlier in Surah Al-Anbiya' (21:33). It tells us that the moon is not contained within some sky as presumed by the astronomical theory of Ptolemy. Instead, it moves in a particular orbit in the space lower than it. Then, there are recent investigations as well as the human access to the moon that have made it certain.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

35 This sentence can have two meanings and both are correct: (1) The sun does not have the power that it should draw the moon into itself, or enter its orbit and collide with it; and (2) the sun cannot appear in the times which have been appointed for the rising and appearing of the moon. It is not possible that the sun should suddenly appear on the horizon when the moon is shining at night. 36 Nor does this happen either that the night should approach before the appointed period of the day comes to an end, and should start spreading its darkness suddenly during the time when the day is meant…

Read the full tafseer →