Yaseen 36:39

Yaseen · from ayah 39

36:39

وَالْقَمَرَ قَدَّرْنٰهُ مَنَازِلَ حَتّٰی عَادَ كَالْعُرْجُوْنِ الْقَدِیْمِ ۟وَالۡقَمَرَ قَدَّرۡنٰهُ مَنَازِلَ حَتّٰى عَادَ كَالۡعُرۡجُوۡنِ الۡقَدِيۡمِ

اور چاند کی بھی ہم نے منزلیں مقرر کردیں یہاں تک کہ (گھٹتے گھٹتے) کھجور کی پرانی شاخ کی طرح ہو جاتا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And the moon - We have determined for it phases, until it returns [appearing] like the old date stalk.

— Saheeh International

Juz 23 · Ruku 3 of surah · Ruku 2 of juz

Read the whole surah · Surah Yaseen

All translations of 36:39

اور چاند، اُس کے لیے ہم نے منزلیں مقرر کر دی ہیں یہاں تک کہ ان سے گزرتا ہوا وہ پھر کھجور کی سوکھی شاخ کے مانند رہ جاتا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور چاند کی بھی ہم نے منزلیں مقرر کردیں یہاں تک کہ (گھٹتے گھٹتے) کھجور کی پرانی شاخ کی طرح ہو جاتا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور چاند کی ہم نے منزلیں مقررکر رکھی ہیں، یہاں تک کہ وه لوٹ کر پرانی ٹہنی کی طرح ہو جاتا ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور چاند ہے کہ ہم نے اس کی منزلیں ناپ تول کر مقرر کردی ہیں، یہاں تک کہ وہ جب (ان منزلوں کے دورے سے) لوٹ کر آتا ہے تو کھجور کی پرانی ٹہنی کی طرح (پتلا) ہو کر رہ جاتا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور چاند کے لیے ہم نے منزلیں مقرر کیں یہاں تک کہ پھر ہوگیا جیسے کھجور کی پرانی ڈال (ٹہنی)

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور ہم نے چاند کی (حرکت و گردش کی) بھی منزلیں مقرر کر رکھی ہیں یہاں تک کہ (اس کا اہلِ زمین کو دکھائی دینا گھٹتے گھٹتے) کھجور کی پرانی ٹہنی کی طرح ہوجاتا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور چاند، ہم نے اس کی منزلیں مقرر کردیں، یہاں تک کہ وہ دوبارہ پرانی (کھجور کی) ٹیڑھی ڈنڈی کی طرح ہوجاتا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور چاند کی ہم نے منزلیں مقرر کردی ہیں تاآنکہ وہ کھجور کی پرانی ٹہنی کی طرح رہ جاتا ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور چاند کے لئے ہم نے منزلیں ٹھہرا دی ہیں یہاں تک کہ وہ کھجور کی پرانی ٹہنی کے مانند ہو کے رہ جاتا ہے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور چاند کے لئے ہم نے منزلیں مقرر کردیں یہاں تک کہ وہ (ان سے گزرتا ہوا آخرکار) کھجور کی پرانی شاخ کی طرح ہو کر رہ جاتا ہے

— مولانا اسحاق مدنی

اور (نشانی) چاند بھی کہ ہم نے اس کے لئے منزلیں مقرر کی ہیں یہاں تک کہ وہ ایسا رہ جاتا ہے جیسے کھجور کی پرانی ٹہنی۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور چاند کی ہم نے منزلیں مقرر کردی ہیں یہاں تک کہ وہ پھر کھجور کی پرانی سوکھی ٹہنی کی طرح ہوجاتا ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور چاند کی بھی ہم نے منزلیں مقرر کردیں۔ یہاں تک کہ گھٹتے گھٹتے کھجور کی پرانی شاخ کی طرح ہوجاتا ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

We have appointed stages for the moon till it returns in the shape of a dry old branch of palm-tree.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And for the moon We have appointed measured phases, until it turned (pale, curved and fine) like an old branch of date palm.

— Muhammad Taqi Usmani

And for the moon We have appointed measured phases, until it turned (pale, curved and fine) like an old branch of date palm.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And the moon, We have decreed for it stages, till it returns like the old dried curved date stalk.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And for the moon We have appointed mansions till she return like an old shrivelled palm-leaf.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And the moon - We have determined for it phases, until it returns [appearing] like the old date stalk.

— Saheeh International

how We ordained the moon to pass through certain phases until it seems eventually to be like a bent twig;

— Muhammad Sarwar

And (as for) the moon, We have ordained for it stages till it becomes again as an old dry palm branch.

— Muhammad Habib Shakir

And the moon! For it We have decreed mansions till it reverteth like the old branch of a palm-tree.

— Abdul Majid Daryabadi

And the Moon,- We have measured for her mansions (to traverse) till she returns like the old (and withered) lower part of a date-stalk.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 36:39

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 37–40

گردش شمس و قمر۔ اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کی ایک اور نشانی بیان ہو رہی ہے اور وہ دن رات ہیں جو اجالے اور اندھیرے والے ہیں اور برابر ایک دوسرے کے پیچھے جا رہے ہیں جیسے فرمایا (يُغْشِي الَّيْلَ النَّهَارَ يَطْلُبُهٗ حَثِيْثًا 54؀) 7۔ الاعراف :54) رات سے دن کو چھپاتا ہے اور رات دن کو جلدی جلدی ڈھونڈتی آتی ہے۔ یہاں بھی فرمایا رات میں سے ہم دن کو کھینچ لیتے ہیں، دن تو ختم ہوا اور رات آگئی اور ہر طرف سے اندھیرا چھا گیا۔ حدیث میں ہے جب ادھر سے رات آجائے اور دن ادھر سے چلا جائے اور سورج غروب ہوجائے تو روزے دار افطار کرلے۔ ظاہر آیت تو یہی ہے لیکن حضرت قتادہ ؓ فرماتے ہیں کہ اس کا مطلب مثل آیت (يُوْلِجُ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة یٰسٓ 34 یعنی مہینے کے دوران میں چاند کی گردش ہر روز بدلتی رہتی ہے۔ ایک دن وہ ہلال بن کر طلوع ہوتا ہے۔ پھر روز بروز بڑھتا چلا جاتا ہے، یہاں تک کہ چودھویں رات کو بدر کامل بن جاتا ہے۔ اس کے بعد روز گھٹتا چلا جاتا ہے۔ حتی کہ آخر کار پھر اپنی ابتدائی ہلالی شکل پر واپس پہنچ جاتا ہے۔ یہ چکر لاکھوں برس سے پوری باقاعدگی کے ساتھ چل رہا ہے اور چاند کی ان مقررہ منزلوں میں بھی فرق نہیں آتا۔ اسی وجہ سے انسان حساب لگا کر ہمیشہ یہ معلوم کرسکتا ہے کہ کس روز چاند کس منزل میں ہوگا۔ اگر اس کی حرکت کسی ضابطہ کی پابند نہ ہوتی تو یہ حساب لگانا ممکن نہ ہوتا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

(آیت) والقمر قدرناہ منازل حتی عاد کالعرجون القدیم، عرجون، کھجور کے درخت کی خشک شاخ کو کہا جاتا ہے جو مڑ کر کمان جیسی ہوجاتی ہے۔ منازل قمر منازل، منزل کی جمع ہے، جائے نزول کو منزل کہا جاتا ہے۔ حق تعالیٰ نے چاند اور سورج دونوں کی رفتار کے لئے خاص حدود مقرر فرمائی ہیں جن میں سے ہر ایک کو منزل کہا جاتا ہے۔ چاند چونکہ اپنا دورہ ایک مہینہ میں پورا کرلیتا ہے اس لئے اس کی منزلیں تیس یا انتیس ہوتی ہیں، مگر چونکہ ہر مہینہ میں چاند کم از کم ایک دن غائب رہتا ہے، اس لئے عموماً اس کی منزلیں اٹھائیس کہی جاتی ہیں۔ اہل ہیئت ویرضاء نے ان منزلوں کے خاص خاص نام ان ستاروں کی مناسبت سے رکھ دیئے ہیں جو ان منازل کی…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

آیت 39 فرمایا کہ یہی حال اس دنیا کی دوسرے سب سے بڑی نشانی۔ چاند کا ہے وہ بھی نہ خود کار ہے، نہ خود مختار بلکہ ہم نے اس کے لئے منزلیں ٹھہرا رکھی ہیں جو ہر ماہ اس کو طے کرنی پڑتی ہیں یہاں تک کہ یہ منزلیں طے کرتے کرتے وہ بالاخر کھجور کی پرانی ٹہنی کے مانند ہو کے رہ جاتا ہے۔ ’ عرجون ‘ کھجور کی اس ٹہنی کو کہتے ہیں جس میں خوشے لگتے ہیں۔ یہ ٹہنیاں خشک ہونے کے بعد خمدار ہو کر بالکل وہ شکل اختیار کرلیتی ہیں جو شکل آخری اور ابتدائی تاریخوں میں چاند کی ہوتی ہے۔ یہ تشبیہ اس بات کی طرف اشارہ کر رہی ہے کہ جس چاند کو نادان لوگ پوجتے ہیں اس غریب کی بےبسی کا یہ حال ہے کہ ہر ماہ اس کو مختلف منازل فلکی طے کرنی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

39۔ 1 چاند کی 28 منزلیں ہیں، روزانہ ایک منزل طے کرتا ہے، پھر غائب رہ کر تیسری رات کو نکل آتا ہے 39۔ 2 یعنی جب آخری منزل پر پہنچتا ہے تو بالکل باریک اور چھوٹا ہوجاتا ہے جیسے کھجور کی پرانی ٹہنی ہو، جو سوکھ کر ٹیڑھی ہوجاتی ہے۔ چاند کی انہی گردشوں سے اپنے دنوں مہینوں اور سالوں کا حساب اور اپنے اوقات عبادات کا تعین کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

15: یعنی پورے مہینے کا دورہ مکمل کرنے کے بعد آخر میں ایک یا دو راتوں میں تو وہ غائب رہتا ہے، پھر جب دوسرا دورہ شروع کرتا ہے تو وہ اتنا پتلا، ٰخم دار اور پیلی ہوجاتی ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

والقمر قدرنہ۔۔۔۔۔ القدیم (36: 39) ” چاند ، اس کے لیے ہم نے منزلیں مقرر کردی ہیں یہاں تک کہ ان سے گزرتا ہوا وہ پھر کھجور کی سوکھی شاخ کی مانند رہ جاتا ہے “۔ لوگ چاند کو تو اپنی ان منزلوں میں دیکھ سکتے ہیں ۔ وہ ہلال کی طرح نمودار ہوتا ہے اور اس کے بعد وہ بڑھتا جاتا ہے یہاں تک کہ وہ گول ہو کر بدر ہوجاتا ہے۔ اس کے بعد گھٹنا شروع ہوتا ہے اور پھر وہ ہلال کی طرح ہوجاتا ہے اور یوں نظر آتا ہے جس طرح کھجور کی پرانی خشک شاخ۔ العرجون اس شاخ کو کہتے ہیں جس میں کھجور کی قسم ” بلح “ ہوتی ہے۔ جو لوگ چاند کو ہر رات دیکھتے ہیں وہ قرآن کریم کی اس انداز تعبیر کا لطف اٹھا سکتے ہیں۔ عاد کالعرجون القدیم (36: 39) ”…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

6 سورج کی طرح چاند ہمیشہ ایک طرح نہیں رہتا بلکہ روزانہ گھٹتا بڑھتا۔ اس کی اٹھائیس منزلیں اللہ نے مقرر کردی ہیں۔ ان کو ایک معین نظام کے ساتھ درجہ بدرجہ طے کرتا ہے۔ پہلی آیت میں رات دن کا بیان تھا، پھر سورج کا ذکر کیا جس سے سالوں اور فصلوں کی تشکیل ہوتی ہے۔ اب چاند کا تذکرہ کرتے ہیں جس کی رفتار سے قمری مہینوں کا وجود وابستہ ہے۔ چاند سورج مہینہ کے آخر میں ملتے ہیں تو چاند چھپ جاتا ہے جب آگے بڑھتا ہے تو نظر آتا ہے۔ پھر منزل بہ منزل بڑھتا چلا جاتا اور چودھویں شب کو پورا ہو کر بعد میں گھٹنا شروع ہوتا ہے آخر رفتہ رفتہ اسی پہلی حالت پر آپہنچتا اور کھجور کی پرانی ٹہنی کی طرح پتلا، خمدار اور بےرونق سا…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 39 { وَالْقَمَرَ قَدَّرْنٰـہُ مَنَازِلَ حَتّٰی عَادَ کَالْعُرْجُوْنِ الْقَدِیْمِ } ”اور چاند کی ہم نے منزلیں مقرر کردی ہیں ‘ یہاں تک کہ وہ پھر کھجور کی پرانی سوکھی ٹہنی کی طرح ہوجاتا ہے۔“ ستائیسویں شب کی صبح کو دیکھیں تو چاند واقعی ایک سوکھی ہوئی ٹہنی کی طرح دکھائی دیتا ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

37 اشکال قمر اور منازل قمر :۔ سورج ہمیشہ مشرق سے طلوع ہو کر شام کو مغرب میں غروب ہوجاتا ہے۔ اور اس کی شکل بھی ایک ہی جیسی رہتی ہے لہذا اس کے معمول میں کبھی فرق نہیں آتا۔ جبکہ چاند کا مسئلہ اس سے یکسر مختلف ہے۔ وہ کسی بھی قمری مہینے کی ابتدا میں مغرب کی سمت نمودار ہوتا ہے اور بالکل ایک پھانک سی نظر آتا ہے جسے قرآن نے کھجور کی پرانی اور خشک ٹہنی سے تشبیہ دی ہے اور اسے ہلال کہتے ہیں۔ دوسرے دن یہ ذرا موٹا بھی ہوجاتا ہے اور مشرق کی طرف ہٹ کر نمودار ہوتا ہے۔ اسی طرح یہ روز موٹا ہوتا جاتا ہے اور شکلیں بدلتا رہتا ہے۔ اور چاند بنتا جاتا ہے حتیٰ کہ سات دن بعد عین سر پر طلوع ہوتا ہے اور نصف دائرہ کی شکل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

27۔ (کہ پتلی اور خمدار ہونے میں ضرب المثل ہے) تشبیہ میں ممکن ہے کہ زردی رنگ بھی شامل ہو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 33–50

آیت نمبر 33 تا 50 ترجمہ : اور ایک نشانی ان کے لئے مرنے کے بعد زندہ ہونے پر مردہ زمین ہے اٰیۃٌ لھُمْ خبر مقدم ہے اَلْمیتۃُ تخفیف اور تشدید کے ساتھ ہے کہ ہم نے اس کو پانی کے ذریعہ زندہ کیا والارض الخ مبتداء مؤخر ہے، اور ہم نے اس زمین سے غلہ مثلاً گندم پیدا کیا سو اس سے یہ لوگ کھاتے ہیں اور (نیز) ہم نے زمین میں کھجوروں اور اناروں کے باغات پیدا کئے اور اس میں کچھ چشمے جاری کئے تاکہ لوگ اس کے پھل کھائیں، ثمَرہ میں یعنی (ث، م) دونوں میں فتحہ اور ضمہ ہے، یعنی تاکہ مذکورہ کھجور وغیرہ کے پھلوں میں سے کھائیں اور ان پھلوں کو ان کے ہاتھوں نے نہیں بنایا تو پھر یہ لوگ اپنے اوپر خدا تعالیٰ کے انعامات کا شکر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

والقمر قدرنہ منازل حتی عاد کالعرجون القدیم . اور چاند کیلئے ہم نے سڑکیں مقرر کیں یہاں تک کہ ایسا رہ جاتا ہے جیسے کھجور کی پرانی ٹہنی۔ یعنی ہم نے چاند کی سیر گاہ مقرر کی۔ اللہ نے چاند کی 28 منزلیں مقرر کی ہیں۔ ہر رات ایک منز میں اترتا ہے ‘ کبھی اپنی منزل سے نہیں چوکتا ‘ نہ منزل تک پہنچنے سے قاصر رہتا ہے۔ آخری منزل پر باریک اور خمیدہ ایسا ہوجاتا ہے جیسے کھجور کی پرانی خمیدہ ٹہنی۔ پھر محاق کی تاریخ کو سورج کی شعاعوں کے نیچے آجاتا ہے (بالکل چھپ جاتا ہے) ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اور سورج کی طرح ہم نے چاند کے لیے منازل مقرر کیں کہ وہ گھٹتا اور بڑھتا رہتا ہے حتی کہ سال کے آخر میں کھجور کی پرانی ٹہنی کی طرح خمد اور پتلا رہ جاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَالْقَمَرَ قَدَّرْنٰهُ مَنَازِلَ حَتّٰى عَادَ كَالْعُرْجُوْنِ الْقَدِيْمِ : ”اَلْعُرْجُوْنَ“ بروزن ”فُعْلُوْنَ“ جمع ”عَرَاجِیْنُ“ یہ ”اَلْعِرَاجُ“ سے مشتق ہے، جس کا معنی ٹیڑھا ہونا ہے۔ کھجور کے گچھے کی وہ ٹیڑھی میڑھی ڈنڈیاں جن کے ساتھ کھجوریں لگی ہوتی ہیں۔ یہ تیسری دلیل ہے، سورج کی طرح چاند ہمیشہ ایک شکل کا نہیں رہتا، بلکہ روزانہ گھٹتا بڑھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی اٹھائیس منزلیں مقرر فرمائیں جن میں وہ نظر آتا ہے۔ پھر ایک دن یا دو دن غائب رہ کر دوبارہ طلوع ہوجاتا ہے۔ پہلی رات وہ پتلی ٹیڑھی سی لکیر کی طرح ہوتا ہے جس کی روشنی بھی مدھم ہوتی ہے، پھر وہ بڑھتا ہوا چودھویں رات کو پورا روشن ہوجاتا…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

اس میں تین مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1 ۔ والقمر اس کی تقدیر کلام یوں ہے و ایۃ لھم القمر۔ یہ بھی جائز ہے کہ القمر مبتدا ہونے کی حیثیت سے مرفوع ہو کر فیوں نے اسے والقمر منصوب پڑھا ہے کیونکہ فعل مضمر ہے ‘ یہ ابو عبیدہ کا پسندیدہ مسلک ہے ‘ اس نے کہا : اس سے قبل نسلخ فعل ہے اور اس کے بعد قدرناہ فعل ہے۔ وہ ھاء میں عامل ہے۔ ابو حاتم نے کہا : اس میں رفع بہتر ہے کیونکہ تو نے ضمیر کی وجہ سے فعل کو اس سے غافل کردیا ہے تو اسے رفع دے گا۔ یہ قول کیا جاتا ہے : چاند کی منازل نہیں ہوتیں تو پھر کیسے ارشاد فرمایا : قدرنہ منازل اس بارے میں دو جواب ہیں : (1) اس سے مراد ہم نے اسے منازل والا بنا دیا ہے جس طرح وسل…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابوالشیخ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” والقمر قدرنہ منازل “ (اور ہم نے یہ چاند کی مزلیں مقرر کیں) یعنی اللہ تعالیٰ نے چاند کی منزلیں مقرر فرمادی ہیں تو وہ کم ہوتا جاتا ہے یہاں تک کہ وہ کھجور کی ٹہنی کی طرح ہوجاتا ہے اسی وجہ سے عرجون کے ساتھ اس کو تشبیہ دی۔ چاند کی منزلیں مقرر ہیں : 2:۔ الخطیب نے کتاب النجوم میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” والقمر قدرنہ منازل حتی عاد کالعرجون القدیم “ (اور چاند کے لئے ہم نے منزلیں مقرر کیں یہاں تک کہ وہ ایسا رہ جاتا ہے جیسے کھجور کی پرانی ٹہنی) یعنی چاند کی اٹھائیس منزلوں ہیں جن میں چاند ایک ماہ میں ٹھہرتا ہے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَالْقَمَرَ [اور چاند ] قَدَّرْنٰهُ [ہم نے مقرر کیں اس کی ] مَنَازِلَ [منزلیں ] حَتّٰى عَادَ [یہاں تک کہ وہ پھر سے ہوجائے ] كَالْعُرْجُوْنِ الْقَدِيْمِ [پرانی ٹہنی کی مانند ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

منازل قمر کا تذکرہ یہ بتانے کے بعد کہ آفتاب کا اپنے مستقر تک جانا اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانی ہے چاند کے بارے میں فرمایا (وَالْقَمَرَ قَدَّرْنٰہُ مَنَازِلَ حَتّٰی عَادَ کَالْعُرْجُوْنِ الْقَدِیْمْ ) (اور ہم نے چاند کی منزلیں مقرر کیں یہاں تک کہ وہ کھجور کی پرانی ٹہنی کی طرح رہ جاتا ہے) یعنی جس طرح کھجور کی پرانی ٹہنی ٹیڑھی ہوجاتی ہے اسی طرح مہینے کے اول میں اور آخر میں نظر کے سامنے بظاہر خمدار نظر آتا ہے، چاند کی جو منزلیں اللہ تعالیٰ نے مقرر فرمائی ہیں ترتیب کے ساتھ انہیں میں چلتا رہتا ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 37–40

دلیل دوم قال تعالیٰ وایۃ لہم الیل نسلخ منہ النھار۔۔۔ الی۔۔۔ وکل فی فلک یسبحون۔ یہ اس کی قدرت کی دوسری دلیل ہے کہ اس نے لیل ونہار کو اور شمس و قمر کو پیدا کیا دن رات کا یکے بعد دیگرے آنا اور رات کا اندھیرا اور دن کی روشنی اور آفتاب وماہتاب کا ایک خاص روشنی پر رہنا جس میں نہ کبھی کمی ہوتی ہے اور نہ زیادتی یہ بھی اس کے کمال قدرت کی دلیل ہے جس کی حقیقت کے ادراک سے دنیا کی عقلیں حیران ہیں تمام عالم مل کر بھی اس پر قادر نہیں کہ لیل ونہار اور طلوع و غروب میں کوئی تغیر کرسکے۔ گذشتہ آیت میں زمین کی نشانی کا ذکر فرمایا جو باشندگان عالم کا مکان ہے اب آئندہ آیت میں لیل ونہار کی نشانی کو ذکر فرماتے ہیں جو…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 38–39

27:۔ والقمر الخ : اور چاند کی ہم نے منزلیں مقرر کی ہیں جن سے گذرتا ہوا وہ ایک ماہ میں اپنا دورہ پورا کرلیتا ہے اور جب وہ اپنی آخری منزل میں پہنچتا ہے تو خشک اور خمیدہ ٹہنی کی مانند باریک اور منحنی نظر آتا ہے۔ چاند کی اٹھائیس منزلیں ہیں اور وہ کم و بیش ایک دن رات میں ایک منزل میں سفر کرتا ہے لا الشمس ینبغی لہ الخ، سورج اور چاند کی حکوت رات کو ہوتی ہے یہ دونوں اپنی حدود کے پابند ہیں کہ ایک دوسرے کے دائرہ حکومت میں دخل نہیں دے سکتے اور دونوں اپنی اپنی راہ پر گامزن ہیں یہ سارا نظام اللہ کی تدبیر و تقدیر سے رواں دواں ہے۔ اگر مشرکین کے مزعومہ معبود واقعی کارساز اور شفیع غالب ہیں تو وہ اس نظام میں…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 33–40

ربط آیات رسالت کے سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے ایک بستی والوں کا حال بیان کیا کہ ان کے پاس تین رسول آئے تاکہ ان کو توحید کی دعوت دیں مگر ان اہل بستی نے ان رسولوں یا مبلغین کے ساتھ سخت بدسلوکی کی حتی کہ ان کے قتل کے درپے ہوئے ان مرسلین کی تائید میں شہر کے پرلے کنارے سے ایک آدمی دوڑتا ہوا آیا اور قوم کو سمجھایا کہ ان رسولوں کی پیروی کرتے ہوئے شرک سے تائب ہو جائو اور توحید خداوندی کو اختیار کرو تو بستی والے اس مرد مومن کے بھی خلاف ہوگئے اور اسے قتل کر ڈالا ، پھر ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک خوفناک چیخ کی صورت میں عذاب آیا جس سے سارے بستی والے ہلاک ہوگئے۔ ضمناً اللہ تعالیٰ نے شرک کی تردید فرمائی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَالْقَمَرَ قَدَّرْنٰہُ مَنَازِلَ حَتّٰى عَادَ كَالْعُرْجُوْنِ الْقَدِيْمِ۝ 39 قمر القَمَرُ : قَمَرُ السّماء . يقال عند الامتلاء وذلک بعد الثالثة، قيل : وسمّي بذلک لأنه يَقْمُرُ ضوء الکواکب ويفوز به . قال : هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِياءً وَالْقَمَرَ نُوراً [يونس/ 5] ( ق م ر ) القمر ۔ چاند جب پورا ہورہا ہو تو اسے قمر کہا جاتا ہے اور یہ حالت تیسری رات کے بعد ہوتی ہے ۔ بعض نے کہا ہے کہ چاندکو قمر اس لئے کہا جاتا ہے کہ وہ ستاروں کی روشنی کو خیاہ کردیتا ہے اور ان پر غالب آجا تا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِياءً وَالْقَمَرَ نُوراً [يونس/ 5] وہی تو ہے جس نے سورج کو روشن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 37–40

واٰیۃ لہم اللیل یہ دوسری دلیل ہے کہ رات اندھیری ہوتی ہے۔ اس میں سے ہم دن کو نکالتے ہیں جس سے اندھیرا ہوجاتا ہے۔ یعنی دن میں سے رات پیدا کرکے دنیا کو اندھیری کردیتے ہیں۔ آفتاب اپنی خاص چال پر چلتا ہے، جو اس کی چال مقرر کردی ہے، اس کے خلاف نہیں کرسکتا اور اسی طرح چاند کے لیے منزلیں مقرر کردی ہیں۔ مہینے بھر میں دورہ تمام کرکے پھر پتلی سوکھی خمدار ٹہنی کے طرح برآمد ہوتا ہے۔ عرجون بالضم درخت کژشدہ و شاخہائے بریدہ صراح، چاند کو کھجور کی سوکھی ہوئی ٹہنی سے تشبیہ دی ہے، اس کے باریک ہونے اور ٹیڑھے ہونے میں آفتاب ماہتاب کو نہیں پکڑسکتا نہ وہ اس کو نہ ایک دوسرے سے آگے بڑھ سکتا ہے، نہ رات دن سے پہلے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 38–39

وَالشَّمْسُ تَجْرِیْ لِمُسْتَقَرٍّلَّھَا ط ذٰلِکَ تَقْدِیْرُالْعَزِیْزِالْعَلِیْمِ ۔ (یٰسٓ: 38) (اور سورج اپنے ایک معین مدار پر گردش کرتا ہے، یہ زبردست علیم ہستی کا باندھا ہوا حساب ہے۔ ) سورج کی نشانی سے استدلال دن کے وقت ظاہر ہونے والی سب سے بڑی نشانی سورج ہے۔ آفتاب پرستوں کو توجہ دلائی جارہی ہے کہ ذرا اس آفتاب کو دیکھو اپنے حجم، اپنی طاقت، اپنی افادیت اور اپنی وسعت کے باوجود وہ کس قدر نیازمندی کے ساتھ اپنے مدار میں گردش کرتا رہتا ہے۔ کیا مجال کہ اپنے محور و مدار سے ذرا ہٹ سکے یا اس کی پابندیِ اوقات میں منٹ یا سیکنڈ کا بھی فرق پیدا ہوسکے۔ اگر آفتاب اپنے ارادے میں آزاد ہوتا، وہ ایک مضبوط…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 38–41

فہم القرآن ربط کلام : آفاق کی نشانیاں پیش کرنے کے بعد بحری نشانی کی طرف توجہ مبذول کروائی گئی ہے۔ دنیا میں بیشمار لوگ موجود رہے ہیں اور رہیں گے جو آمدروفت اور تجارت کی غرض سے بحری سفر اختیار کرتے ہیں۔ بحری سفر کرنے والے لوگوں کی حالت یہ ہے کہ جب وہ بھنور میں پھنستے ہیں تو صرف اور صرف ایک ” اللہ “ کو صدائیں دیتے ہیں۔ لیکن ساحل سمندر پر پہنچ کر شر کیہ کلمات ادا کرتے ہیں۔ کوئی خضر (علیہ السلام) کو نجات دہندہ قرار دیتا ہے اور کوئی بہاول حق کا نام لیتا ہے۔ یہاں نوح (علیہ السلام) کی کشتی کا اشارتاً ذکر فرما کر مشرکوں کے سامنے یہ حقیقت واضح کی ہے کہ قوم نوح (علیہ السلام) کی طرف دیکھیے جو ود، سواع،…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

منازلِ قمر : 39: وَالْقَمَرَ قَدَّرْنٰہُ (اور چاند کیلئے منازل مقرر کیں) نحو : قراءت القمر : اس فعل کی وجہ سے منصوب ہے جس کی تفسیر قدرناؔ کررہا ہے۔ مکی، نافع، ابو عمرو، سہل نے اس کو مرفوع پڑھا اور مبتدأ قرار دیا اور قدرناؔ کو خبر بنایا یا ایۃ لھم کو مبتدأ اور القمر خبر یا عکس مان کر مرفوع پڑھا گیا۔ مَنَازِلَ (منزلیں) وہ اٹھائیس منزلیں ہیں۔ جن میں سے ہر ایک منزل میں ہر رات کو چاند اترتا ہے نہ اس کو عبور کرتا ہے اور نہ اس سے پیچھے رہتا ہے ابتدائی رات سے لے کر برابر انداز سے اٹھائیسویں منزل تک چلتا رہتا ہے۔ پھر دو راتیں چھپ جاتا ہے۔ جبکہ مہینہ کامل ہو اور اگر مہینہ ناقص ہو تو ایک رات چھپتا ہے۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

39، والقمرقدرناہ، ہم نے ان کے لیے مقدر کردی ہیں ۔ ابن کثیر نافع اہل بصرہ کے نزدیک المقمر میں رفع کے ساتھ ہے۔ ، وآیۃ لھم الیل والشمس والقمر، دوسرے حضرات نے نصب کے ساتھ پڑھا ہے۔ ، قدرناہ، چاند کی منازل مقررکردی ہے۔ ، منازل ، مسورۃ یونس میں ان منازل کے نام مذکور ہیں ۔ جب سورج تمام منزلیں طے کرلیتا ہے تو ایک ٹکیہ بن جاتی ہے۔ ، حتی عاد کالعرجون القدیم،

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 39–40

39‘ 40۔ خطیب نے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت 1 ؎ کی ہے (1 ؎ مشکوۃ باب اعلامات میں یدی الساعۃ فصل اول) کہ اٹھائیس منزلیں ہیں جن کے اندر چاند ہر مہینے پر آتا ہے جب ان سب منزلوں کو چاند طے کر چکتا ہے تو پھر پرانی ٹہنی کی صورت میں اس طرح ہوجاتا ہے جس طرح اول مہینے میں تھا چاند کی اس چال سے مہینوں کا حساب سمجھا جاتا ہے اور پھر برسوں کا جس طرح کہ سورج سے رات اور دن کی پہچان ہوتی ہے۔ یہ خطیب بغدادی ابوبکر احمد بن علی ملک شام کے معتبر اور مشہور علماء میں ہیں ان کے وقت کے علماء ان کو دار قطنی ثانی کہا کرتے تھے ان کی وفات کے بعد اس وقت کے بعضے علماء نے خواب میں دیکھا کہ ان کی تصنیف کی بعض کتابیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 37–40

آیت 37 (وایۃ لھم) ” اور ان کے لئے ایک نشانی “ یعنی اللہ تعالیٰ کی مشیت کے نفاذ، اس کی قدرت کے کمال، مردوں کو اس کے دوبارہ زندہ کرنے پر ایک دلیل (الیل نسلخ منہ النھار) ” رات ہے جس سے ہم دن کو کھینچ دیتے ہیں۔ “ یعنی ہم نے اس کی عظیم روشنی کو زائل کر کے، جس نے روئے زمین مو کمنور کر رکھا تھا، تاریکی سے بدل ڈالا، جسے ہم اس کے وقت پر نازل کرتے ہیں (فاذا ھم مظلمون) ” پس وہ اندھیروں میں ڈوب جاتے ہیں۔ “ اسی طرح ہم تاریکی کو زائل کرتے ہیں، جس نے ان کو ڈھانپ رکھا تھا۔ پس ہم سورج کو طلع کرتے ہیں، جس سے تمام زمین اپنے کناروں تک روشن ہوجاتی ہے اور مخلوق اپنے رزق کی تلاش اور اپنے مصالح کے حصول کے لئے روئے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 38–39

سورج کی روانی دلیل ربانی ہے قول باری ہے (والشمس تجری لمستقرلھا۔ اور ایک نشانی سورج بھی ہے جو اپنے ٹھکانے کی طرف رواں دواں رہتا ہے) ۔ قیامت کی نشانیاں ہمیں عبداللہ بن محمد نے روایت بیان کی، انہیں حسن بن ابی الربیع نے، انہیں معمر نے ابواسحق سے انہوں نے وہب بن جبار سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے اس آیت کی تفسیر میں روایت کی ہے کہ سورج طلوع ہوتا ہے اور انسان اس کا مشاہدہ کرتا ہے پھر ایک دن ایسا آئے گا کہ سورج غروب ہوجائے گا اور اللہ اسے جب تک چاہے گا روکے رکھے گا پھر اسے حکم ہوگا کہ جہاں وہ پہنچاسکے گا۔ یعنی قیامت کا دن اس موقعہ پر حضرت عمر ؓ نے اس مضمون کی پوری آیت کی تلاوت کی۔ معمر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 39–40

42 کائنات کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کے حکم وارشاد کی پابند : سو اس اعتبار سے سورج اور چاند کے طلوع و غروب میں عظیم الشان درسہائے عبرت و بصیرت ہیں۔ سو کبھی ایسے نہیں ہوسکتا کہ یہ دونوں ایک ہی وقت میں جمع ہوجائیں اور ان میں سے ایک دوسرے پر غالب آ کر اس کی روشنی کو مٹا دے۔ سو ایسے نہیں ہوتا بلکہ ہر ایک اپنے محدود و مقرر وقت میں آتا ہے اور ہر ایک اپنے رب کے حکم اور اپنے وقت کا پورا پابند ہے۔ دوسرا اس میں کسی طرح کا کوئی دخل نہیں دے سکتا۔ (روح، ابن کثیر، صفوہ، جامع، مراغی، قرطبی اور معارف وغیرہ) ۔ سو یہ اس وحدہ لاشریک خالق ومالک کی بےپایاں قدرت و عنایت اور حکمت بالغہ کا کس قدر عظیم الشان مظہر ہے مگر…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 33–44

ﷲ تعالیٰ کے انعامات انسان کے لیے تشریح : پچھلی آیات میں رسولوں اور انسانوں کا معاملہ کچھ اس طرح بیان کیا گیا ہے۔ کہ رسول اللہ کی طرف سے بہت بڑی رحمت ہوتے ہیں کیونکہ وہ ہمارے دلوں کے زنگ کو دور کرتے ہیں، جنت کے راستے کی رہنمائی کرتے ہیں۔ ہمیں ہر قسم کی جھاڑ جھنکار، اونچ نیچ اور کھائیوں سے بچاتے ہیں۔ کیونکہ ان کا پیغام بڑا پاکیزہ اور سادہ ہوتا ہے۔ وہ یہ کہ ” اللہ کو مانو رسول کو مانو اور آخرت پر یقین کرو “۔ مگر بدنصیب انسان ان سے نفرت کرتے ہیں ان پر ظلم و زیادتی کرتے ہیں۔ لیکن یہ ظلم و زیادتی اصل میں وہ خود اپنے اوپر کر رہے ہوتے ہیں۔ جب کہ نیک لوگ، ان سے محبت کرتے ہیں اور یوں اللہ کے محبوب بن…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 33–50

رکوع نمبر 3: آیات 33 تا 50: اسرار و معارف : اللہ کی قدرت کاملہ کا ایک بڑا مظہر تو مردہ زمین ہے جس پر یہ رہتے بستے ہیں جب اس پہ خشک سالی آتی ہے تو وہ بالکل اجاڑ ہوجاتی ہے ہر طرف گرد اڑتی ہے مگر جب اللہ چاہتے ہیں تو اس کی گود زندگی سے بھر دیتے ہیں اور ذرے ذرے سے زندگی ابلتی ہے پھل پھول اناج پیدا ہو کر نہ صرف زمین کی زندگی کا ثبوت دیتے ہیں بلکہ خود انسانوں کو زندہ رکھنے کا سبب بن جاتے ہیں یہی تو ان کی روز مرہ کی غذا ہے۔ زمین کے بعض حصوں کو ہم نے سرسبزی عطا کردی ہے کہ یہ بھی ضروری نہیں کہ وہ خشک ہو کر ہری ہو ہم نے اس میں چشمے جاری کردئیے اور اس کا سینہ باغات سے سجا دیا کہ ان لوگوں کے پاس بھی ایسے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 5 اٹھائیں منزلیں ہیں اور ہر منزل میں ایک رات ٹھہرتا ہے اور پھر ایک دو رات مخفی رہنے کے بعد پھر ہلال بن کر نظر آتا ہے اور اس گردش کے حساب سے چل رہا ہے۔ ( شوکانی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(36:39) والقمر قدرنہ منازل۔ واو عاطفہ ہے القمر منصوب بوجہ فعل مضمر کے ہے۔ ای قدرنا القمر اور قدرنا فعل ماضی جمع متکلم ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع القمر ہے یہ ہ مضاف الیہ جس کا مضاف محذوف ہے ای قدرنا مسیرہ منازل۔ مضاف محذوف (مسیر) قدرنا کا مفعول اول ہے اور منازل مفعول چانی۔ قدرنا بمعنی صیرنا (ایک حالت یا شکل سے دوسری حالت یا شکل میں بدل دینا) ہے مطلب یہ کہ ہم نے چاند کا بھی ایک ضابطہ مقرر کیا ہے اور اس کی مسافت کو منزلوں یا حالتوں میں بانٹ دیا ہے کہ وہ ان منزلوں سے گذرتا ہوا ہلال سے بدر اور بدر سے پھر اپنی پہلی ہلالی شکل میں آجاتا ہے۔ عاد۔ ماضی واحد مذکر غائب عود مصدر ( باب نصر) سے جس کے…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 33–44

لغات القرآن : آیت نمبر 33 تا 44 :۔ حب ( دانہ) نخیل ( کھجور) اعناب ( عنب) (انگور) فجرنا ( ہم نے پھاڑ دیا) الازواج ( زوج) (جوڑے) العرجون ( کھجور کی ٹہنی ، شاخ) یرکبون (وہ سوار ہوتے ہیں) صریخ ( چیخ ، فریاد) تشریح : آیت نمبر 33 تا 44 :۔ اللہ تعالیٰ نے اس کائنات میں اپنی بیشمار نعمتوں کو بکھیر رکھا ہے جو ایک ایسے نظام میں بندھے ہوئے ہیں کہ اپنی مرضی سے ایک قدم بھی نہیں بڑھا سکتے۔ یہ اللہ کی ایسی نشانیاں ہیں جنہیں دن رات آدمی دیکھتا ہے لیکن ان پر غور نہیں کرتا ۔ اگر وہ ان تمام نعمتوں پر غور و فکر سے کام لے تو اس کے دل میں اس کائنات کے خالق کی ایسی عظمت چھا جائے کہ پھر اس کے سوا کسی کی عظمت کی کوئی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 39–40

چاند اور سورج قدرت کی عظیم نشانیاں۔ (ف 1) منجملہ دلائل کے ایک یہ بھی ہے کہ ہم نے چاند کے واسطے اٹھائیس منزلیں مقرر کیں ہیں کہ وہ ہر مال کی اٹھائیس رات دن میں ان میں سے گذرتا ہے اگر تیس کا مہینہ ہوتا ہے تو دودن غائب رہتا ہے اور جو انتیس روز کا مہینہ ہوتا ہے تو ایک روز غائب رہتا ہے یہاں تک کہ وہ پچھلی تاریخون میں بہ سبب باریکی اور زردی اور کجی مثل پتلی سوکھی خمدار ٹہنی کھجور کے ہوجاتا ہے پھر فرمایا کہ سورج کو نہیں لائق کی چاند کو پکڑلیوے، مطلب یہ ہے کہ چاند کی چال سے سورج کی چال کم ہے اس لیے سورج چاند کو پکڑ نہیں کرسکتا، اور رات بھی دن سے آگے بڑھنے والی نہیں ہے یہ نہیں ہوسکتا کہ دن تو آئے نہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 38–40

[14] یہ آیت منجملہ ان آیات میں سے ہے جن سے قرآن مجید کا منجانب اللہ ہونا ثابت ہے۔ پندرہویں صدی میں مشہور منجم نکولس کا پر نیکس ( Nicholas Copernicus 1473-1543 AD) نے یہ اعلان کر کے کہ سورج ساکن ہے اور زمین اس کے گرد گھوم رہی ہے دنیائے علم میں ایک زلزلہ سا ڈال دیا تھا۔ اس کی تائید جرمنی کے مشہور ہیئت دان کیپلر (Kepler 1571-1630 AD) نے بھی کی تو دنیا نے کا پر نیکس کے '' انکشاف '' کو ایک حقیقت سمجھ لیا۔ اور کیونکہ اس آیت کی رو سے سورج متحرک ہے اس لئے دنیائے اسلام میں اضطراب کی ایک لہر دوڑ گئی کیونکہ اس وقت مسلمانوں کے پاس نہ علم تھا نہ رصدگاہیں اور نہ فلک بین دوربینیں تھیں، اس لئے وہ اس ''…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 36–39

ف 1: وہ کس قدر پاک اور بلند ذات ہے جس نے بوقلموں نباتات کو پدیا کیا ۔ اور گوناگوں انسانوں کو بنایا ہے ۔ اور ایسی چیزیں بھی پیدا کی ہیں ۔ جن کو عام لوگ نہیں جانتے ۔ سوچنے والوں کے لئے اس بات میں بھی بڑی نشانی ہے کہ وہ کیونکر رات کی تاریک فضا سے دن کو اجالا نمودار کرتا ہے اور دن پر سے جب اس کے سفید لبادے کو اتارر دیتا ہے ۔ تو کس طرح سے لوگ اندھیرے میں پڑے رہ جاتے ہیں ۔ آفتا کے لئے حرکت کا ایک اندازہ مقرر ہے ۔ اسی طرح چاند کی بھی منزلیں ہیں ۔ جن میں سے وہ گزرتا ہے کبھی ہلال ہوتا ہے کبھی بدر منیر ہوکر چمکتا ہے اور کبھی کھجور کی پرانی ٹہنی کی طرح باریک ہوجاتا ہے پھر اپنی اصلی حالت پر آجاتا ہے ۔…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(39) اور چاند بھی اس کے لئے قدرت خداوندی کی ایک نشانی ہے جس کے لئے ہم نے منزلیں مقرر کردی ہیں یہاں تک کہ وہ آخر میں ایسا رہ جاتا ہے جیسے کھجور کی پرانی ٹہنی۔ یعنی چاند کی چال کے لئے منزلیں مقرر ہیں ہر دن میں ایک مقررہ مسافت کو قطع کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ آخر میں ایسا رہ جاتا ہے جیسے خشک ٹہنی کھجور کی یعنی پتلا اور مڑا ہوا جیسے خم دار ٹہنی کھجور کی۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں چاند اور سورج ملتے ہیں مہینے کے آخر تو چاند چھپ گیا جب آگے بڑھا تو نظر آیا پھر منزل منزل بڑھتا چلا جب تک پھر اسی جگہ جا پہنچا ٹہنی سا نظر آیا پھر ٹہنی سا ہو کر چھپا بیچ میں بڑھ کر پورا ہوا اور گھٹا اور منزلیں ہیں…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 38–46

ف 5۔ یہ عام ہے اس نقطہ کو بھی جہاں سے چل کر سالانہ دورہ کر کے پھر اسی نقطہ پر جا پہنچتا ہے، اور اس نقطہ افقیہ کو بھی کہ حرکت یومیہ میں وہاں پہنچ کر غروب ہوجاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

چاند کا گھٹنا بڑھنا بھی اور ان سیاروں کے ساتھ گردش میں ہونا بھی نشانات الہی میں ہے : 39۔ جب سے یہ نظام قائم ہے اس وقت سے چاند کے لئے 29 یا 30 منزلیں ہر مہینے میں قائم ہیں اور اسی طرح ہر روز اس کی گردش بدلتی رہتی ہے ۔ ایک وہ وقت ہوتا ہے کہ وہ ہلال بن کر طلوع ہوتا ہے اور پھر چودہ کو وہ کامل بدر ہو کر چمکنے لگتا ہے اور پھر اس کے بعد کم ہونا شروع ہوجاتا ہے حتی کہ آخر کار اپنی اسی ہلالی شکل میں چلا جاتا ہے اس کا یہ کم وبیش ہونا محض دکھائی دینے کے باعث ہے ورنہ وہ فی نفسہ کم وبیش نہیں ہوتا اس کی راتیں اس طرح مقرر کی گئی ہیں کہ کبھی ان میں کمی بیشی ممکن نہیں ہوتی ‘ چاند کے لحاظ سے ایک سال کو 355 دن…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

The text now turns to: وَالْقَمَرَ‌ قَدَّرْ‌نَاهُ مَنَازِلَ حَتَّىٰ عَادَ كَالْعُرْ‌جُونِ الْقَدِيمِ (And for the moon, We have appointed measured phases, until it turned [ pale, curved and fine ] like an old branch of date-palm.- 36:39). The dried bough of a date tree that gets bent like a bow is called: عُرْ‌جُونِ (` urjun). The stages of the moon The word: مَنَازِلَ (manazil) is the plural of: مَنزِل (manzil) and denotes the place one arrives at. Allah Ta` la has bound the movement of the sun and the moon both with particular points, each of which is known as a Manzil or stage. Since the…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

34 That is, the phases of the moon go on changing throughout the month. 1t begins as a crescent, then goes on waxing every. day till it becomes the full moon on the 14th of the month. Then it starts waning every day till at last it returns to its original shape of the crescent. The same has been happening for millions of years with perfect regularity, and no change has ever occurred in the phases of the moon. That is why one can always calculate and find out exactly in what phase the moon will be on a particular day. If the movement of the moon had not been bound in a system, estimation of…

Read the full tafseer →