Explained with ayahs 37–40
گردش شمس و قمر۔
اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کی ایک اور نشانی بیان ہو رہی ہے اور وہ دن رات ہیں جو اجالے اور اندھیرے والے ہیں اور برابر ایک دوسرے کے پیچھے جا رہے ہیں جیسے فرمایا (يُغْشِي الَّيْلَ النَّهَارَ يَطْلُبُهٗ حَثِيْثًا 54) 7۔ الاعراف :54) رات سے دن کو چھپاتا ہے اور رات دن کو جلدی جلدی ڈھونڈتی آتی ہے۔ یہاں بھی فرمایا رات میں سے ہم دن کو کھینچ لیتے ہیں، دن تو ختم ہوا اور رات آگئی اور ہر طرف سے اندھیرا چھا گیا۔ حدیث میں ہے جب ادھر سے رات آجائے اور دن ادھر سے چلا جائے اور سورج غروب ہوجائے تو روزے دار افطار کرلے۔ ظاہر آیت تو یہی ہے لیکن حضرت قتادہ ؓ فرماتے ہیں کہ اس کا مطلب مثل آیت (يُوْلِجُ…
Read the full tafseer →سورة یٰسٓ 33
ٹھکانے سے مراد وہ جگہ بھی ہو سکتی ہے جہاں جا کر سورج کو آخر کار ٹھر جانا ہے اور وہ وقت بھی ہوسکتا ہے جب وہ ٹھر جائے گا۔ اس آیت کا صحیح مفہوم انسان اسی وقت متعین کرسکتا ہے جبکہ اسے کائنات کے حقائق کا ٹھیک ٹھیک علم حاصل ہوجائے۔ لیکن انسانی علم کا حال یہ ہے کہ وہ ہر زمانہ میں بدلتا رہا ہے اور آج جو کچھ اسے بظاہر معلوم ہے اس کے بدل جانے کا ہر وقت امکان ہے۔ سورج کے متعلق قدیم زمانے کے لوگ عینی مشاہدے کی بنا پر یہ یقین رکھتے تھے کہ وہ زمین کے گرد چکر لگا رہا ہے۔ پھر مزید تحقیق و مشاہدہ کے بعد یہ نظریہ قائم کیا گیا کہ وہ اپنی جگہ ساکن ہے اور نظام شمسی کے سیارے اس کے گرد گھوم رہے ہیں۔…
Read the full tafseer →(آیت) والشمس تجری لمستقرلہا ذلک تقدیر العزیز العلیم، آیت کا مفہوم یہ ہے کہ آفتاب چلتا رہتا ہے، اپنے مستقر کی طرف مستقر جائے قرار کو بھی کہا جاتا ہے، اور وقت قرار کو بھی یعنی مستقر زمانی بھی ہوسکتا ہے مکانی بھی۔ اور لفظ مستقر منتہائے سیر و سفر کے معنی میں بھی آتا ہے۔ اگرچہ اس کے ساتھ ہی بلا کسی وقفہ اور سکون کے دوسرا دورہ سفر شروع ہوجائے۔ (ذکرہ ابن کثیر)
بعض حضرات مفسرین نے تو اس جگہ مستقر سے مستقر زمانی مراد لیا ہے، یعنی وہ وقت جبکہ آفتاب اپنی حرکت مقررہ پوری کر کے ختم کر دے گا، اور وہ وقت قیامت کا دن ہے۔ اس تفسیر پر معنی آیت کے یہ ہیں کہ آفتاب اپنے مدار پر ایسے محکم اور مضبوط نظام کے ساتھ…
Read the full tafseer →آیت 38
یہ دن کے اندر ظاہر ہونے والی سب سے بڑی نشانی کی طرف توجہ دلائی کہ اس سورج کو دیکھیں کہ یہ پوری پابندی کے ساتھ اپنے ایک معین محور و مدار پر گردش کرتا ہے۔ مجال نہیں کہ اپنے محور و مدار سے ذرا ہٹ سکے یا اس کی پابندی اوقات میں منٹ یا سکینڈ کا بھی فرق پیدا ہوسکے۔ کیا یہ اس بات کی شہادت ہے کہ اس دنیا میں جو کچھ ہو رہا ہے آپ سے آپ ہو رہا ہے، اس کے پیچھے کوئی مدبر اور کار فرما طاقت نہیں ہے ؟ یا اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کے پیچھے ایک قاہر و مقتدر اور علیم و حکیم ہستی ہے جس کے ہاتھ میں ہر چیز کی باگ ہے اور وہ اپنے بنائے ہوئے نقشہ اور اپنے قرار دادہ منصوبہ کے مطابق ہر چیز کو استعمال کر رہی ہے ؟ اس…
Read the full tafseer →(1) یعنی اپنے اس مدار (فلک) پر چلتا رہتا ہے، جو اللہ نے اس کے لیے مقرر کردیا ہے، اسی سے اپنی سیر کا آغاز کرتا ہے اور وہیں پر ختم کرتا ہے۔ علاوہ ازیں اس سے ذرا ادھر ادھر نہیں ہوتا، کہ کسی دوسرے سیارے سے ٹکرا جائے۔ دوسرے معنی ہیں، اپنے ٹھہرنے کی جگہ تک، اور اس کا یہ مقام قرار عرش کے نیچے ہے، جیسا کہ حدیث میں ہے کہ سورج روزانہ غروب کے بعد عرش کے نیچے جاکر سجدہ کرتا ہے اور پھر وہاں سے طلوع ہونے کی اجازت طلب کرتا ہے (صحیح بخاری، تفسیر سورة یسین) دونوں مفہوم کے اعتبار سے لمستقر میں لام، علت کے لئے ہے۔ ای۔ لأجل مستقرلھا بعض کہتے ہیں کہ لام، الی کے معنی میں ہے، پھر مستقر یوم قیامت ہوگا۔ یعنی سورج کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–38
14: یہاں یہ حقیقت بیان فرمائی گئی ہے کہ کائنات میں اصل اندھیرا ہے، اللہ تعالیٰ نے اسے دور کرنے کے لیے سورج کی روشنی پیدا فرمائی ہے۔ جب سورج نکلتا ہے تو وہ اپنی روشنی کا ایک غلاف کائنات کے کچھ حصے پر چڑھا دیتا ہے جس سے روشنی ہوجاتی ہے۔ پھر جب سورج غروب ہوتا ہے تو روشنی کا یہ چھلکا اتر جاتا ہے، اور اندھیرا واپس آجاتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–38
یہ تو تھی مردہ زمین جس سے زندگی پھوٹ رہی ہے ۔ اب زمین سے آگے بڑھ کر قرآن آسمان کی طرف متوجہ ہوتا ہے ، آسمانی نطارے ہمارے سامنے پیش ہوتے ہیں اور یہ تمام نظارے دست قدرت کے عجوبے ہیں۔
وایۃ لھو الیل ۔۔۔۔۔۔ فی فلک یسبحون (37 – 40) ” “۔
رات کے آنے کا منظر ، روشنی ختم ہوجاتی ہے اور اندھیرا آہستہ آہستہ چھا جاتا ہے ۔ یہ وہ منظر ہے جسے تمام انسان 24 گھنٹوں میں دہرایا ہوا دیکھتے ہیں ، ماسوائے ان خطوں کے جہاں رات اور دن کا عمل چھ ماہ کے بعد دہرایا جاتا ہے۔ یعنی ان علاقوں میں جو قطبین کے بہت قریب ہیں۔ یہ عمل اگرچہ رات اور دن میں بار بار دہرایا جاتا ہے لیکن اگر اس پر غور کیا جائے تو یہ اللہ کی قدرت
کا ایک…
Read the full tafseer →5 سورج کی چال اور راستہ مقرر ہے اسی پر چلا جاتا ہے۔ ایک انچ یا ایک منٹ اس سے ادھر ادھر نہیں ہوسکتا۔ جس کام پر لگا دیا ہے ہر وقت اس میں مشغول ہے۔ کسی دم قرار نہیں۔ رات دن کی گردش اور سال بھر کے چکر میں جس جس ٹھکانہ پر اسے پہنچنا ہے پہنچتا ہے۔ پھر وہاں سے باذن خداوندی نیا دورہ شروع کرتا ہے۔ قرب قیامت تک اسی طرح کرتا رہے گا۔ تاآنکہ ایک وقت آئے گا جب اس کو حکم ہوگا کہ جدھر سے غروب ہوا ہے ادھر سے واپس آئے یہی وقت ہے جب باب توبہ بند کردیا جائے گا۔ کما ورد فی الحدیث الصحیح۔ بات یہ ہے کہ اس کے طلوع و غریب کا یہ سب نظام اس زبردست اور باخبر ہستی کا قائم کیا ہوا ہے جس کے انتظام کو کوئی دوسرا شکست نہیں…
Read the full tafseer →آیت 38 { وَالشَّمْسُ تَجْرِیْ لِمُسْتَقَرٍّ لَّہَا } ”اور سورج چلتا رہتا ہے اپنے مقررہ راستے پر۔“
یعنی اپنے ایک معین مدار پر گردش کرتا ہے۔
{ ذٰلِکَ تَقْدِیْرُ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِ } ”یہ اندازہ مقرر کیا ہوا ہے اس کا جو بہت زبردست ‘ بہت علم والا ہے۔“
Read the full tafseer →36 اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ جس طرح فضا میں دوسرے تمام سیارے اپنے اپنے مدار پر گردش کررہے ہیں اسی طرح سورج بھی اپنے مدار یا اپنی مقررہ گزر گاہ پر چل رہا ہے اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ جب تک اللہ تعالیٰ جو ہر چیز پر غالب اور اپنی مخلوقات کے تمام تر حالات سے واقف ہے چاہے گا یہ سورج اسی طرح اپنی مقررہ گزر گار پر چلتا رہے گا جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے :
سورج کا عرش الٰہی کے نیچے سجدہ ریز ہونا :۔ ایک دفعہ خود رسول اللہ نے سیدنا ابوذر ؓ سے پوچھا : جانتے ہو کہ سورج غروب ہونے کے بعد کہاں جاتا ہے ؟ سیدنا ابوذر ؓ کہنے لگے : اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں آپ نے فرمایا : سورج غروب ہونے پر اللہ…
Read the full tafseer →25۔ (اپنی حرکت یومیہ میں بھی اور دورۂ سالانہ میں بھی)
26۔ (جس کے اندازہ میں دخل نہ بخت واتفاق کو ہوسکتا ہے اور نہ ظن وتخمین کو، بلکہ اس کا ہر قانون اپنی جگہ پر مستحکم اور اٹل ہوتا ہے اور حکمت ومصلحت پر مبنی بھی)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–50
آیت نمبر 33 تا 50
ترجمہ : اور ایک نشانی ان کے لئے مرنے کے بعد زندہ ہونے پر مردہ زمین ہے اٰیۃٌ لھُمْ خبر مقدم ہے اَلْمیتۃُ تخفیف اور تشدید کے
ساتھ ہے کہ ہم نے اس کو پانی کے ذریعہ زندہ کیا والارض الخ مبتداء مؤخر ہے، اور ہم نے اس زمین سے غلہ مثلاً گندم پیدا کیا سو اس سے یہ لوگ کھاتے ہیں اور (نیز) ہم نے زمین میں کھجوروں اور اناروں کے باغات پیدا کئے اور اس میں کچھ چشمے جاری کئے تاکہ لوگ اس کے پھل کھائیں، ثمَرہ میں یعنی (ث، م) دونوں میں فتحہ اور ضمہ ہے، یعنی تاکہ مذکورہ کھجور وغیرہ کے پھلوں میں سے کھائیں اور ان پھلوں کو ان کے ہاتھوں نے نہیں بنایا تو پھر یہ لوگ اپنے اوپر خدا تعالیٰ کے انعامات کا شکر…
Read the full tafseer →والشمس تجری لمستقر لھا ذلک تقدیر العزیز العلیم اور (قدرت کی ایک نشانی) سورج ہے جو
اپنے ٹھکانے کی طرف چلتا رہتا ہے۔ یہ اندازہ مقرر کیا ہوا اس اللہ کا ہے جو غالب (اور) باعلم ہے۔
وَالشَّمْسُ تَجْرِیْیعنی اپنے دائرہ کے اندر سورج اس طرح چلتارہتا ہے جیسے پانی میں مچھلی۔ یہ شب و روز کی پیدائش کی علت کا بیان ہے۔
مُسْتَقَرِّلَّھَا ‘ مستقر مصدر میمی ہے یعنی ایک طریقہ کی رفتار پر برقرار رہنے کیلئے ‘ یا مستقر ظرف ہے ‘ یعنی دورے کا آخری نقطہ (جہاں ایک دورہ ختم ہوتا ہے) آفتاب کی سیر کو مسافر کی رفتار سے تشبیہ دی۔ جس طرح مسافر اپنا سفر طے کرتا ہے ‘ اسی طرح سورج بھی اپنی رفتار جاری رکھتا ہے ‘ یا مستقر سے…
Read the full tafseer →اور سورج بھی اپنی منزلوں میں چلتا رہتا ہے یا یہ کہ رات اور دن چلتے رہتے ہیں کوئی ان کے ٹھہرنے کی جگہ نہیں یہ اس ذات کی طرف سے اندازہ مقرر کیا ہوا ہے جو کافر کو سزا دینے میں زبردست اور اپنی مخلوق اور ان کی تدابیر سے واقف ہے۔
Read the full tafseer →وَالشَّمْسُ تَجْرِيْ لِمُسْتَــقَرٍّ لَّهَا : ”مُسْتَقَرٌّ“ باب استفعال سے اسم ظرف ہے، قرار کی جگہ یا وقت۔ یہ دوسری دلیل ہے، یعنی سورج کا روزانہ غروب ہونے کے بعد طلوع ہونا موت کے بعد زندگی کی دلیل ہے۔ اس آیت کے دو معنی ہیں اور دونوں معنی ایک وقت میں مراد ہوسکتے ہیں اور یہ قرآن کا اعجاز ہے۔ ایک معنی یہ کہ سورج اپنی اس جگہ چل رہا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے مقرر فرما دی ہے اور وہ عرش کے نیچے ہے۔ اس صورت میں ”لِمُسْتَــقَرٍّ“ میں ”لام“ ”عَلٰی“ یا ”فِيْ“ کے معنی میں ہوگا، جیسا کہ شاہ عبد القادر ؓ نے ترجمہ کیا ہے : ”اور سورج چلا جاتا ہے اپنے ٹھہرے ہوئے راستے پر۔“ اس معنی کی دلیل ابوذر ؓ کی یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–38
یہ اللہ تعالیٰ کی توحید ‘ اس کی قدرت اور اس کی اہمیت کے ثبوت پر علامت ہے سدخ کا معنی اتارنا ہے یہ جملہ بولا جاتا ہے : سلخہ اللہ من دینہ اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے دین سے الگ کردیا پھر یہ نکالنے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے روشنی جانے اور تاریکی کے آنے کو ‘ کسی شے سے چمڑے کو اتارنے اور جسم کے ظاہر ہونے کی طرح ہے پس یہ اشارہ ہے مظلون۔ وہ تاریکی میں داکل ہونے والے ہیں یہ جملہ بولا جاتا ہے : اظلمنا ہم رات کی تاریکی میں داخل ہوتے ہیں اظہرنا ہم ظہر کے وقت میں داکل ہوئے۔
ایک قول یہ کیا گیا منہ ‘ عنہ کے معنی میں ہے اس کا معنی ہے ہم نے اس سے دن کی روسنی کو الگ کردیا تو اچانک وہ تاریکی میں تھے کیونکہ دن کا…
Read the full tafseer →1:۔ عبد بن حمید (رح) والبخاری والترمذی وابن ابی حاتم (رح) وابوالشیخ فی العظمہ، ابن مردویہ اور بیہقی نے الاسماء والصفات میں ابوذر ؓ سے روایت کیا کہ میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ مسجد میں تھا سورج کے غروب ہونے کے وقت آپ نے فرمایا اے ابوذر کیا تو جانتا ہے کہ سورج کہاں غروب ہوتا ہے میں کہا اللہ اور اس کا رسول ہی زیادہ جانتے ہیں آپ نے فرمایا یہ جاتا ہے اور عرش کے نیچے سجدہ کرتا ہے اسی کو فرمایا (آیت) ” والشمس تجری لمستقرلھا “ (اور سورج جو اپنے ٹھکانے کی طرف چلتا رہتا ہے) یعنی اس کا ٹھکانہ عرش کے نیچے سے۔
2:۔ سعید بن منصور، احمد و بخاری ومسلم و ابوداؤد والترمذی والنسائی وابن ابی حاتم (رح) وابوالشیخ وابن…
Read the full tafseer →وَالشَّمْسُ [اور سورج ] تَجْرِيْ [وہ رواں ہے ] لِمُسْتَــقَرٍّ لَّهَا ۭ [اپنے ٹھہرنے کی جگہ کے لئے ] ذٰلِكَ تَــقْدِيْرُ الْعَزِيْزِ الْعَلِــيْمِ [یہ علم والے بالادست کا طے شدہ امر ہے ] ۔
نوٹ۔ 2: آیت 38 میں مستقر سے مراد وہ جگہ بھی ہوسکتی ہے جہاں جاکر سورج کو آخر کار ٹھہرجانا ہے اور وہ وقت بھی ہوسکتا ہے جب وہ ٹھہر جائے گا۔ اس آیت کا صحیح مفہوم انسان اس وقت متعین کرسکتا ہے جب اسے کائنات کے حقائق کا ٹھیک ٹھیک علم حاصل ہوجائے۔ لیکن انسانی علم کا حال یہ ہے کہ وہ ہر زمانے میں بدلتارہا ہے۔ آج جو کچھ اسے معلوم اس کے بدل جانے کا ہر وقت امکان ہے۔ سورج کے متعلق قدیم زمانے کے لوگ عینی مشاہدے کی بنا پر…
Read the full tafseer →سورج کی رفتار میں مظاہر قدرت ہے
(وَالشَّمْسُ تَجْرِیْ لِمُسْتَقَرٍّ لَّہَا) (اور سورج اپنے ٹھکانے کی طرف چلتا ہے) سورج بھی اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہے، اس کا وجود مستقل نشانی ہے اور اس کی روشنی مستقل نشانی ہے پھر اس کا اپنے ٹھکانہ کے لیے چلنا یہ بھی مستقل نشانی ہے، اس کی رفتار اور اس کے محور پر چلنا، ادھر ادھر نہ ہونا یہ سب اللہ تعالیٰ کی قدرت قاہرہ کی نشانی ہے۔ (ذٰلِکَ تَقْدِیْرُ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِ ) (یہ اس کا مقرر کیا ہوا ہے جو زبردست ہے علم والا ہے) سورج پابند ہے کہ اپنے محور پر چلے اور اسی رفتار پر چلے جو اس کی رفتار مقرر ہے، گرمیوں کے زمانہ میں سورج خط استواء پر چلتا ہے اور سردیوں میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–40
دلیل دوم
قال تعالیٰ وایۃ لہم الیل نسلخ منہ النھار۔۔۔ الی۔۔۔ وکل فی فلک یسبحون۔
یہ اس کی قدرت کی دوسری دلیل ہے کہ اس نے لیل ونہار کو اور شمس و قمر کو پیدا کیا دن رات کا یکے بعد دیگرے آنا اور رات کا اندھیرا اور دن کی روشنی اور آفتاب وماہتاب کا ایک خاص روشنی پر رہنا جس میں نہ کبھی کمی ہوتی ہے اور نہ زیادتی یہ بھی اس کے کمال قدرت کی دلیل ہے جس کی حقیقت کے ادراک سے دنیا کی عقلیں حیران ہیں تمام عالم مل کر بھی اس پر قادر نہیں کہ لیل ونہار اور طلوع و غروب میں کوئی تغیر کرسکے۔
گذشتہ آیت میں زمین کی نشانی کا ذکر فرمایا جو باشندگان عالم کا مکان ہے اب آئندہ آیت میں لیل ونہار کی نشانی کو ذکر فرماتے ہیں جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
27:۔ والقمر الخ : اور چاند کی ہم نے منزلیں مقرر کی ہیں جن سے گذرتا ہوا وہ ایک ماہ میں اپنا دورہ پورا کرلیتا ہے اور جب وہ اپنی آخری منزل میں پہنچتا ہے تو خشک اور خمیدہ ٹہنی کی مانند باریک اور منحنی نظر آتا ہے۔ چاند کی اٹھائیس منزلیں ہیں اور وہ کم و بیش ایک دن رات میں ایک منزل میں سفر کرتا ہے لا الشمس ینبغی لہ الخ، سورج اور چاند کی حکوت رات کو ہوتی ہے یہ دونوں اپنی حدود کے پابند ہیں کہ ایک دوسرے کے دائرہ حکومت میں دخل نہیں دے سکتے اور دونوں اپنی اپنی راہ پر گامزن ہیں یہ سارا نظام اللہ کی تدبیر و تقدیر سے رواں دواں ہے۔ اگر مشرکین کے مزعومہ معبود واقعی کارساز اور شفیع غالب ہیں تو وہ اس نظام میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–40
ربط آیات
رسالت کے سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے ایک بستی والوں کا حال بیان کیا کہ ان کے پاس تین رسول آئے تاکہ ان کو توحید کی دعوت دیں مگر ان اہل بستی نے ان رسولوں یا مبلغین کے ساتھ سخت بدسلوکی کی حتی کہ ان کے قتل کے درپے ہوئے ان مرسلین کی تائید میں شہر کے پرلے کنارے سے ایک آدمی دوڑتا ہوا آیا اور قوم کو سمجھایا کہ ان رسولوں کی پیروی کرتے ہوئے شرک سے تائب ہو جائو اور توحید خداوندی کو اختیار کرو تو بستی والے اس مرد مومن کے بھی خلاف ہوگئے اور اسے قتل کر ڈالا ، پھر ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک خوفناک چیخ کی صورت میں عذاب آیا جس سے سارے بستی والے ہلاک ہوگئے۔ ضمناً اللہ تعالیٰ نے شرک کی تردید فرمائی…
Read the full tafseer →وَالشَّمْسُ تَجْرِيْ لِمُسْتَــقَرٍّ لَّہَا 0 ۭ ذٰلِكَ تَــقْدِيْرُ الْعَزِيْزِ الْعَلِــيْمِ 38ۭ
شمس
الشَّمْسُ يقال للقرصة، وللضّوء المنتشر عنها، وتجمع علی شُمُوسٍ. قال تعالی: وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَها [يس/ 38] ، وقال :
الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ بِحُسْبانٍ [ الرحمن/ 5] ، وشَمَسَ يومَنا، وأَشْمَسَ : صار ذا شَمْسٍ ، وشَمَسَ فلان شِمَاساً : إذا ندّ ولم يستقرّ تشبيها بالشمس في عدم استقرارها .
( ش م س ) الشمس
کے معنی سورج کی نکیر یا وہوپ کے ہیں ج شموس قرآن میں ہے ۔ وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَها [يس/ 38] اور سورج اپنے مقرر راستے پر چلتا رہتا ہے ۔ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–40
واٰیۃ لہم اللیل یہ دوسری دلیل ہے کہ رات اندھیری ہوتی ہے۔ اس میں سے ہم دن کو نکالتے ہیں جس سے اندھیرا ہوجاتا ہے۔ یعنی دن میں سے رات پیدا کرکے دنیا کو اندھیری کردیتے ہیں۔ آفتاب اپنی خاص چال پر چلتا ہے، جو اس کی چال مقرر کردی ہے، اس کے خلاف نہیں کرسکتا اور اسی طرح چاند کے لیے منزلیں مقرر کردی ہیں۔ مہینے بھر میں دورہ تمام کرکے پھر پتلی سوکھی خمدار ٹہنی کے طرح برآمد ہوتا ہے۔ عرجون بالضم درخت کژشدہ و شاخہائے بریدہ صراح، چاند کو کھجور کی سوکھی ہوئی ٹہنی سے تشبیہ دی ہے، اس کے باریک ہونے اور ٹیڑھے ہونے میں آفتاب ماہتاب کو نہیں پکڑسکتا نہ وہ اس کو نہ ایک دوسرے سے آگے بڑھ سکتا ہے، نہ رات دن سے پہلے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
وَالشَّمْسُ تَجْرِیْ لِمُسْتَقَرٍّلَّھَا ط ذٰلِکَ تَقْدِیْرُالْعَزِیْزِالْعَلِیْمِ ۔ (یٰسٓ: 38)
(اور سورج اپنے ایک معین مدار پر گردش کرتا ہے، یہ زبردست علیم ہستی کا باندھا ہوا حساب ہے۔ )
سورج کی نشانی سے استدلال
دن کے وقت ظاہر ہونے والی سب سے بڑی نشانی سورج ہے۔ آفتاب پرستوں کو توجہ دلائی جارہی ہے کہ ذرا اس آفتاب کو دیکھو اپنے حجم، اپنی طاقت، اپنی افادیت اور اپنی وسعت کے باوجود وہ کس قدر نیازمندی کے ساتھ اپنے مدار میں گردش کرتا رہتا ہے۔ کیا مجال کہ اپنے محور و مدار سے ذرا ہٹ سکے یا اس کی پابندیِ اوقات میں منٹ یا سیکنڈ کا بھی فرق پیدا ہوسکے۔ اگر آفتاب اپنے ارادے میں آزاد ہوتا، وہ ایک مضبوط…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–41
فہم القرآن
ربط کلام : آفاق کی نشانیاں پیش کرنے کے بعد بحری نشانی کی طرف توجہ مبذول کروائی گئی ہے۔
دنیا میں بیشمار لوگ موجود رہے ہیں اور رہیں گے جو آمدروفت اور تجارت کی غرض سے بحری سفر اختیار کرتے ہیں۔ بحری سفر کرنے والے لوگوں کی حالت یہ ہے کہ جب وہ بھنور میں پھنستے ہیں تو صرف اور صرف ایک ” اللہ “ کو صدائیں دیتے ہیں۔ لیکن ساحل سمندر پر پہنچ کر شر کیہ کلمات ادا کرتے ہیں۔ کوئی خضر (علیہ السلام) کو نجات دہندہ قرار دیتا ہے اور کوئی بہاول حق کا نام لیتا ہے۔ یہاں نوح (علیہ السلام) کی کشتی کا اشارتاً ذکر فرما کر مشرکوں کے سامنے یہ حقیقت واضح کی ہے کہ قوم نوح (علیہ السلام) کی طرف دیکھیے جو ود، سواع،…
Read the full tafseer →سورج کا مقصد :
38: وَالشَّمْسُ تَجْرِیْ (اور سورج چلتا رہتا ہے) اور ان کے لئے سورج کا چلنا نشانی ہے۔ لِمُسْتَقَرٍّلَّھَا (اپنے ٹھکانے کی طرف) اپنی اس حد کی طرف پہنچتا ہے، نمبر 1۔ سورج کو مسافر کے مستقر سے تشبیہ دی جبکہ وہ اپنا فاصلہ طے کرے۔ نمبر 2۔ اپنی حد کیلئے جیسا کہ ہر روز اپنی آنکھوں سے اس کا چلنا دیکھتے ہیں اور وہ مستقر مغرب ہے۔ نمبر 3۔ اپنے معاملے کی انتہاء کیلئے دنیا کے اختتام تک۔ ذٰلِکَ (یہ) اس اندازے سے چلنا اور دقیق حسابتَقْدِیْرُ الْعَزِیْزِ (اندازہ باندھا ہوا ہے اس کا جو زبردست) اپنی قدرت کے ساتھ ہر مقدور پر غالب ہے۔ الْعَلِیْمِ (علم والا ہے) ہر معلوم کا۔
Read the full tafseer →38، والشمس تجری لمستقرلھا، اس کے ٹھکانے کی طرف ۔ بعض نے اس کا ترجمہ یوں کیا ہے۔ یعنی دنیا کی آخری مدت ختم ہونے پر اپنے ٹھکانے پر پہنچ جاتا ہے اور وہ وقت قیامت کا ہے اور بعض نے کہا کہ وہ چلتا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ غروب ہونے کی جگہ پہنچ جاتا ہے ۔ پھر وہ لوٹتا ہے۔ یہ جگہ اس کا مستقر ہے کیوں کہ وہ اس سے آگے نہیں بڑھ سکتا اور بعض نے کہا مستقر سے مراد ہے گرمی کے موسم میں انہتائی بلندی پر پہنچ جانے کا اور سردی کے موسم میں آخری ہبوط پر آجانے کا مقام ہے اور یہ روایت اصح ہے جس میں آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اس کا ٹھکانہ عرش کے نیچے ہے۔
حضرت ابوذرؓ کی روایت ہے کہ جس وقت سورج غروب ہواتو رسول اللہ ﷺ نے…
Read the full tafseer →38۔ حسن بصری (رح) اور سلف کے قول کے موافق سورج کہ تین سو ساٹھ مطلع اور چاند کی اٹھائیس منزلیں مقرر ہیں سورج کے مطلع پورے ہونے سے ایک سال اور چاند کی منزلیں پوری ہونے سے ایک مہینہ پورا ہوتا ہے اس آیت میں رات دن کے ذکر کی مناسبت سے سورج کے دورہ کا اور آگے کی آیت میں چاند کے دورہ کا ذکر ہے سورج کے دورہ کے علمائے مفسرین نے دو مطلب بیان کئے ہیں ایک تو یہ کہ ہر روز مشرق سے مغرب کی طرف جو سورج جاتا ہے تو کہاں جاتا ہے اس مطلب کی تفصیل اور تفسیر صحیح حدیثوں میں آئی ہے صحیح بخاری مسلم ترمذی نسائی مسند امام احمد 3 ؎ وغیرہ میں جو حدیثیں ہیں (3 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 571 ج 3 و تفسیر الدر المنثور ص 263 ج 5) ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–40
آیت 37
(وایۃ لھم) ” اور ان کے لئے ایک نشانی “ یعنی اللہ تعالیٰ کی مشیت کے نفاذ، اس کی قدرت کے کمال، مردوں کو اس کے دوبارہ زندہ کرنے پر ایک دلیل (الیل نسلخ منہ النھار) ” رات ہے جس سے ہم دن کو کھینچ دیتے ہیں۔ “ یعنی ہم نے اس کی عظیم روشنی کو زائل کر کے، جس نے روئے زمین مو کمنور کر رکھا تھا، تاریکی سے بدل ڈالا، جسے ہم اس کے وقت پر نازل کرتے ہیں (فاذا ھم مظلمون) ” پس وہ اندھیروں میں ڈوب جاتے ہیں۔ “ اسی طرح ہم تاریکی کو زائل کرتے ہیں، جس نے ان کو ڈھانپ رکھا تھا۔ پس ہم سورج کو طلع کرتے ہیں، جس سے تمام زمین اپنے کناروں تک روشن ہوجاتی ہے اور مخلوق اپنے رزق کی تلاش اور اپنے مصالح کے حصول کے لئے روئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
سورج کی روانی دلیل ربانی ہے
قول باری ہے (والشمس تجری لمستقرلھا۔ اور ایک نشانی سورج بھی ہے جو اپنے ٹھکانے کی طرف رواں دواں رہتا ہے) ۔
قیامت کی نشانیاں
ہمیں عبداللہ بن محمد نے روایت بیان کی، انہیں حسن بن ابی الربیع نے، انہیں معمر نے ابواسحق سے انہوں نے وہب بن جبار سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے اس آیت کی تفسیر میں روایت کی ہے کہ سورج طلوع ہوتا ہے اور انسان اس کا مشاہدہ کرتا ہے پھر ایک دن ایسا آئے گا کہ سورج غروب ہوجائے گا اور اللہ اسے جب تک چاہے گا روکے رکھے گا پھر اسے حکم ہوگا کہ جہاں وہ پہنچاسکے گا۔ یعنی قیامت کا دن اس موقعہ پر حضرت عمر ؓ نے اس مضمون کی پوری آیت کی تلاوت کی۔
معمر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–38
40 رات کی نشانی میں غور وفکر کی دعوت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ان کے لیے ایک عظیم الشان نشانی یہ رات بھی ہے جس سے کھینچ نکالتے ہیں ہم دن کو "۔ " سلخ " دراصل جانور کی کھال اتارنے کو کہا جاتا ہے۔ یعنی جس طرح بکری وغیرہ کی کھال اتار دینے سے اس کے اندر کا سب کچھ سامنے آجاتا ہے اسی طرح رات کے اندھیرے کے اوپر سے جب دن کی نورانی چادر ہٹا دی جاتی ہے تو رات کا اندھیرا سب کو ڈھانپ لیتا ہے۔ سو رات کا اس طرح آنا اور جانا قدرت کی ایک عظیم الشان نشانی ہے جس میں طرح طرح کے عظیم الشان درسہائے عبرت و بصیرت ہیں۔ مگر رات دن کے یہ دونوں سلسلے چونکہ نہایت پر حکمت طریقے سے بےمثال پابندی اور باقاعدگی سے چلتے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–44
ﷲ تعالیٰ کے انعامات انسان کے لیے
تشریح : پچھلی آیات میں رسولوں اور انسانوں کا معاملہ کچھ اس طرح بیان کیا گیا ہے۔ کہ رسول اللہ کی طرف سے بہت بڑی رحمت ہوتے ہیں کیونکہ وہ ہمارے دلوں کے زنگ کو دور کرتے ہیں، جنت کے راستے کی رہنمائی کرتے ہیں۔ ہمیں ہر قسم کی جھاڑ جھنکار، اونچ نیچ اور کھائیوں سے بچاتے ہیں۔ کیونکہ ان کا پیغام بڑا پاکیزہ اور سادہ ہوتا ہے۔ وہ یہ کہ ” اللہ کو مانو رسول کو مانو اور آخرت پر یقین کرو “۔ مگر بدنصیب انسان ان سے نفرت کرتے ہیں ان پر ظلم و زیادتی کرتے ہیں۔ لیکن یہ ظلم و زیادتی اصل میں وہ خود اپنے اوپر کر رہے ہوتے ہیں۔ جب کہ نیک لوگ، ان سے محبت کرتے ہیں اور یوں اللہ کے محبوب بن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–50
رکوع نمبر 3: آیات 33 تا 50:
اسرار و معارف :
اللہ کی قدرت کاملہ کا ایک بڑا مظہر تو مردہ زمین ہے جس پر یہ رہتے بستے ہیں جب اس پہ خشک سالی آتی ہے تو وہ بالکل اجاڑ ہوجاتی ہے ہر طرف گرد اڑتی ہے مگر جب اللہ چاہتے ہیں تو اس کی گود زندگی سے بھر دیتے ہیں اور ذرے ذرے سے زندگی ابلتی ہے پھل پھول اناج پیدا ہو کر نہ صرف زمین کی زندگی کا ثبوت دیتے ہیں بلکہ خود انسانوں کو زندہ رکھنے کا سبب بن جاتے ہیں یہی تو ان کی روز مرہ کی غذا ہے۔
زمین کے بعض حصوں کو ہم نے سرسبزی عطا کردی ہے کہ یہ بھی ضروری نہیں کہ وہ خشک ہو کر ہری ہو ہم نے اس میں چشمے جاری کردئیے اور اس کا سینہ باغات سے سجا دیا کہ ان لوگوں کے پاس بھی ایسے…
Read the full tafseer →ف 4( لام بمعنی الیٰ ہے) یعنی قیامت تک چناچہ جب قیامت آجائے گی تو وہ ٹھہر جائے گا اور اس میں کوئی حرکت نہ رہے گی یا اس کے معنی ہیں۔” اپنے ٹھہرنے کے مقام تک “ اور اس کے ٹھہرنے کا قیام، جیسا کہ حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ کے عرش کے نیچے ہے جیسا کہ ایک حدیث میں حضرت ابو ذر ؓ کے جواب میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا : (مستقفرھا تحت العرش) کہ اس کے ٹھہرنے کا مقام عرش کے نیچے ہے۔ اور ایک روایت میں ہے کہ سورج ہر روز عرش کے نیچے اللہ تعالیٰ کے سامنے سجدہ ریز ہوتا ہے اور طلوع کے لئے اذن چاہتا ہے چناچہ اسے اذن دے دیا جاتا ہے حتیٰ کہ ایک وقت آئے گا کہ اسے حکم ہوگا ” ارجیع من حیث جنت “ کہ جدھر سے آئے ہو ادھر پلٹ جائو…
Read the full tafseer →(36:38) مستقر۔ ظرف مکان مجرور استقرار (استفعال) مصدر بمعنی قرار گاہ ٹھہرنے کی جگہ۔ ٹھکانہ۔ والشمس تجری لمستقرلھا۔ اور سورج ہے کہ اپنے ٹھکانے کی طرف چلتا رہتا ہے۔ ذلک۔ اشارہ ہے سورج کا اپنے مستقر کی طرف چلنے کی طرف۔
تقدیر۔ قدر یقدر سے تفعیل کے وزن پر مصدر ہے اگرچہ یہ لفظ کثیر المعانی ہے مگر یہاں اس سے مراد اندازہ کرنا ہے اور العزیز العلیم کا مضاف ہے۔ ایک زبردست گرامی قدر ( العزیز) بڑے دانا اور خوب جاننے والے العلیم کا اندازہ کردہ نظام۔ یعنی سورج کی اپنے مقرر شدہ مقام کی طرف لگاتار حرکت ایک عزیز وعلیم کے اندازہ کردہ نظام الاوقات کے تحت ہے۔ اس کے طلوع و غروب، ارتفاع و انخفاض تاب وتپش، سفر وراہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–44
لغات القرآن : آیت نمبر 33 تا 44 :۔ حب ( دانہ) نخیل ( کھجور) اعناب ( عنب) (انگور) فجرنا ( ہم نے پھاڑ دیا) الازواج ( زوج) (جوڑے) العرجون ( کھجور کی ٹہنی ، شاخ) یرکبون (وہ سوار ہوتے ہیں) صریخ ( چیخ ، فریاد)
تشریح : آیت نمبر 33 تا 44 :۔ اللہ تعالیٰ نے اس کائنات میں اپنی بیشمار نعمتوں کو بکھیر رکھا ہے جو ایک ایسے نظام میں بندھے ہوئے ہیں کہ اپنی مرضی سے ایک قدم بھی نہیں بڑھا سکتے۔ یہ اللہ کی ایسی نشانیاں ہیں جنہیں دن رات آدمی دیکھتا ہے لیکن ان پر غور نہیں کرتا ۔ اگر وہ ان تمام نعمتوں پر غور و فکر سے کام لے تو اس کے دل میں اس کائنات کے خالق کی ایسی عظمت چھا جائے کہ پھر اس کے سوا کسی کی عظمت کی کوئی…
Read the full tafseer →(ف 2) ایک اور قدرت کی نشانی کا ذکر فرمایا کہ آفتاب کے دورہ کا یہ ہے کہ قیامت تک مشرک سے نکلنے اور مغرب میں غروب ہونے کا دورہ جو اللہ تعالیٰ نے اس کے پیچھے لگادیا ہے وہی اسکا دور ہے قیامت کے دن اس کی حرکت جاتی رہے گی نبی ﷺ نے ایک روز حضرت ابوذر ؓ سے پوچھا کہ یہ سورج جو غروب ہوتا ہے تو تم کو معلوم ہے کہ یہ کہا جاتا ہے انہوں نے کہا کچھ معلوم نہیں آپ نے فرمایا یہ عرش معلی کے بیچ میں اللہ تعالیٰ کی درگاہ میں سجدہ کرتا ہے اور معمول کے موافق مشرق سے نکلنے کی اس کا اجازت ملتی ہے جب قیامت آنے کو ہوگی تو مغرب کی طرف سے نکلنے کا اس کو حکم ہوجائے گا پھر کسی کا ایمان قبول نہ ہوگا، اور سورج مغرب سے نکلتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–40
[14] یہ آیت منجملہ ان آیات میں سے ہے جن سے قرآن مجید کا منجانب اللہ ہونا ثابت ہے۔ پندرہویں صدی میں مشہور منجم نکولس کا پر نیکس ( Nicholas Copernicus 1473-1543 AD) نے یہ اعلان کر کے کہ سورج ساکن ہے اور زمین اس کے گرد گھوم رہی ہے دنیائے علم میں ایک زلزلہ سا ڈال دیا تھا۔ اس کی تائید جرمنی کے مشہور ہیئت دان کیپلر (Kepler 1571-1630 AD) نے بھی کی تو دنیا نے کا پر نیکس کے '' انکشاف '' کو ایک حقیقت سمجھ لیا۔ اور کیونکہ اس آیت کی رو سے سورج متحرک ہے اس لئے دنیائے اسلام میں اضطراب کی ایک لہر دوڑ گئی کیونکہ اس وقت مسلمانوں کے پاس نہ علم تھا نہ رصدگاہیں اور نہ فلک بین دوربینیں تھیں، اس لئے وہ اس ''…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–39
ف 1: وہ کس قدر پاک اور بلند ذات ہے جس نے بوقلموں نباتات کو پدیا کیا ۔ اور گوناگوں انسانوں کو بنایا ہے ۔ اور ایسی چیزیں بھی پیدا کی ہیں ۔ جن کو عام لوگ نہیں جانتے ۔ سوچنے والوں کے لئے اس بات میں بھی بڑی نشانی ہے کہ وہ کیونکر رات کی تاریک فضا سے دن کو اجالا نمودار کرتا ہے اور دن پر سے جب اس کے سفید لبادے کو اتارر دیتا ہے ۔ تو کس طرح سے لوگ اندھیرے میں پڑے رہ جاتے ہیں ۔ آفتا کے لئے حرکت کا ایک اندازہ مقرر ہے ۔ اسی طرح چاند کی بھی منزلیں ہیں ۔ جن میں سے وہ گزرتا ہے کبھی ہلال ہوتا ہے کبھی بدر منیر ہوکر چمکتا ہے اور کبھی کھجور کی پرانی ٹہنی کی طرح باریک ہوجاتا ہے پھر اپنی اصلی حالت پر آجاتا ہے ۔…
Read the full tafseer →(38) اور آفتاب بھی قدرت خداوندی کی ایک نشانی ہے جو اپنی ٹھہری راہ اور اپنے ٹھکانے کی طرف چلتا رہتا ہے یہ اس خدا تعالیٰ کا مقرر کردہ نظام ہے جو کمال قوت اور کمال حکمت کا مالک ہے۔
جس طرح کسی جانور کا پوست اور اس کی کھال سے اس کا اندرونی حصہ چھپا رہتا ہے اور کھال اتارنے سے وہ اندرونی حصہ ظاہر ہوجاتا ہے اس طرح رات کی تاریکی پر دن کی روشنی چھائی رہتی ہے جہاں وہ چھائی ہوئی روشنی اتاری گئی اور چھپی ہوئی تاریکی نمایاں ہوئی اور لوگوں پر اندھیرا چھا گیا اورو ہ اندھیرے میں ہوگئے۔ یہ کھال کھچ جانے کی مثال سے شب و روز کے انقلاب کی تصویر سمجھائی اسی طرح آفتاب کو بھی قدرت کی ایک نشانی بتایا کہ اتنا بڑا کرہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–46
ف 5۔ یہ عام ہے اس نقطہ کو بھی جہاں سے چل کر سالانہ دورہ کر کے پھر اسی نقطہ پر جا پہنچتا ہے، اور اس نقطہ افقیہ کو بھی کہ حرکت یومیہ میں وہاں پہنچ کر غروب ہوجاتا ہے۔
Read the full tafseer →سورج کا اپنے محور پر ہر وقت رواں دواں رہنا بھی قدرت کی نشانات سے ہے :
38۔ غور کرو کہ سورج کتنا بڑا سیارہ ہے ؟ اتنا بڑا کہ تمہاری اتنی بڑی زمین کو اس نے ڈھانکا ہوا ہے گویا اس پوری زمین سے کئی گنا بڑا ہے اور پھر دیکھو کہ یہ کس طرح اپنے مستقر پر محو حرکت کردیا گیا ہے اور اس کی مجال ہی نہیں کہ وہ اپنی اس گردش میں ذرا بھر کمی بیشی کرے اس بوڑھی دنیا کو کروڑوں سال گرزگئے کہ یہ اسی طرح چل رہی ہے اور چلتی ہی جا رہی ہے اللہ رب ذوالجلال والاکرام نے جو مدار اس سورج کے لئے مقرر کردیا ہے جس کے تحت ہم اس کو طلوع اور غروب کے لفظ سے تعبیر کرتے ہیں اس لئے کہ ہماری نظریں اس طرح اس کا مشاہدہ کرتی ہیں لہذا ہم اس…
Read the full tafseer →In verse 38, it was said: وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَّهَا ۚ ذَٰلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ (And the sun is quickly proceeding towards its resting place. That is the designing of the All-Mighty, the All-Knowing. 36:38). The word: لِمُسْتَقَر mustaqarr) is used to denote place of rest as well as time of rest, that is, it could be time-oriented and, space-oriented too. Then, this word is also employed in the sense of the end or destination of a course or journey - even if another journey begins immediately after it without any break or stillness (as mentioned by Ibn…
Read the full tafseer →33 "Place of rest" may either mean the place where the sun will ultimately come to a halt, or the time when it will come to a halt. The true meaning of this verse can be determined only when man has attained the full and exact knowledge of the realities of the universe. But man's knowledge is such that it has boon changing in every age and what he seems to know today might change tomorrow. The people of the ancient times on the basis of their observations of the sun believed that it was moving round the earth. Then after further research and observation the view became that the sun was…
Read the full tafseer →