Explained with ayahs 37–40
گردش شمس و قمر۔
اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کی ایک اور نشانی بیان ہو رہی ہے اور وہ دن رات ہیں جو اجالے اور اندھیرے والے ہیں اور برابر ایک دوسرے کے پیچھے جا رہے ہیں جیسے فرمایا (يُغْشِي الَّيْلَ النَّهَارَ يَطْلُبُهٗ حَثِيْثًا 54) 7۔ الاعراف :54) رات سے دن کو چھپاتا ہے اور رات دن کو جلدی جلدی ڈھونڈتی آتی ہے۔ یہاں بھی فرمایا رات میں سے ہم دن کو کھینچ لیتے ہیں، دن تو ختم ہوا اور رات آگئی اور ہر طرف سے اندھیرا چھا گیا۔ حدیث میں ہے جب ادھر سے رات آجائے اور دن ادھر سے چلا جائے اور سورج غروب ہوجائے تو روزے دار افطار کرلے۔ ظاہر آیت تو یہی ہے لیکن حضرت قتادہ ؓ فرماتے ہیں کہ اس کا مطلب مثل آیت (يُوْلِجُ…
Read the full tafseer →سورة یٰسٓ 32
رات اور دن کی آمد و رفت بھی انہی پیش پا افتادہ حقائق میں سے ہے جنہیں انسان محض اس بنا پر کہ وہ معمولاً دنیا میں پیش آرہے ہیں، کسی التفات کا مستحق نہیں سمجھتا۔ حالانکہ اگر وہ اس بات پر غور کرے کہ دن کیسے گزرتا ہے اور رات کس طرح آتی ہے، اور دن کے جانے اور رات کے آنے میں کیا حکمتیں کار فرما ہیں تو اسے خود محسوس ہوجائے کہ یہ ایک رب قدیر و حکیم کے وجود اور اس کی یکتائی کی روشن دلیل ہے۔ دن کبھی نہیں جاسکتا اور رات کبھی نہیں آسکتی جب تک زمین کے سامنے سے سورج نہ ہٹے۔ دن کے ہٹنے اور رات کے آنے میں جو انتہائی باقاعدگی پائی جاتی ہے وہ اس کے بغیر ممکن نہ تھی کہ سورج اور زمین کو ایک ہی اٹل…
Read the full tafseer →وآیة لہم الیل نسلخ منہ النہار، زمینی مخلوقات میں قدرت خداوندی کی نشانیاں بیان فرمانے کے بعد آسمانی اور آفاقی مخلوقات کا ذکر ہے۔ سلخ کے لفظی معنی کھال اتارنے کے ہیں، کسی جانور کے اوپر سے کھال یا دوسری چیزوں پر سے غلاف اتار دیا جائے تو اندر کی چیز ظاہر ہوجاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس مثال میں اشارہ فرمایا ہے کہ اس جہان میں اصل تو ظلمت اور اندھیرا ہے، روشنی عارضی ہے جو سیارات اور ستاروں کے ذریعہ زمین پر چھا جاتی ہے۔ تقدیری نظام میں مقررہ وقت پر یہ روشنی جو دنیا کی اندھیری پر چھائی ہوئی ہوتی ہے اس کو اوپر سے ہٹا لیا جاتا ہے تو ظلمت واندھیری رہ جاتی ہے، اسی کو عرف میں رات کہا جاتا ہے۔
Read the full tafseer →آیت 37
فرمایا کہ اگر یہ لوگ غور کریں تو ان کے لئے رات بھی خدا کی قدرت، حکمت، ربوبیت اور توحید کی ایک بہت بڑی نشانی ہے۔ ہم اس کے اوپر ایک نور کی چادر اوڑھا دیتے ہیں تو ان کے لئے روشنِ دن نمودار ہوجاتا ہے جس میں وہ اپنے کام کاج انجام دیتے ہیں۔ پھر ہم اپنی یہ نورانی چادر اس سے کھینچ لیتے ہیں تو وہ تاریکی میں ہوجاتے ہیں جس میں وہ آرام کرتے ہیں۔ اگر ہم اپنی یہ نوراتنی چادر نہ اوڑھائیں تو ہمیشہ تاریکی ہی میں رہیں اور اگر اس چادر کو نہ کھینچیں تو ان کو کبھی شب کا سکون نہ میسر ہو۔ روز و شب کا یہ ایاب و ذہاب اور خلق کے مفاد کے لئے ان کی یہ سازگاری اس بات کی صاف دلیل ہے کہ یہ دنیا اضداد کی کوئی رزم گاہ…
Read the full tafseer →37۔ 1 یعنی اللہ کی قدرت کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ وہ دن کو رات سے الگ کردیتا ہے، جس سے فوراً اندھیرا چھا جاتا ہے۔ اسی طرح اللہ دن کو رات سے الگ کردیتا ہے۔ اَظْلَمَ کے معنی ہیں، اندھیرے میں داخل ہونا۔ جیسے اَصْبَحَ اور اَمْسَیٰ اور اَظْھَرَ کے معنی ہیں، صبح شام اور ظہر کے وقت میں داخل ہونا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–38
14: یہاں یہ حقیقت بیان فرمائی گئی ہے کہ کائنات میں اصل اندھیرا ہے، اللہ تعالیٰ نے اسے دور کرنے کے لیے سورج کی روشنی پیدا فرمائی ہے۔ جب سورج نکلتا ہے تو وہ اپنی روشنی کا ایک غلاف کائنات کے کچھ حصے پر چڑھا دیتا ہے جس سے روشنی ہوجاتی ہے۔ پھر جب سورج غروب ہوتا ہے تو روشنی کا یہ چھلکا اتر جاتا ہے، اور اندھیرا واپس آجاتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–38
یہ تو تھی مردہ زمین جس سے زندگی پھوٹ رہی ہے ۔ اب زمین سے آگے بڑھ کر قرآن آسمان کی طرف متوجہ ہوتا ہے ، آسمانی نطارے ہمارے سامنے پیش ہوتے ہیں اور یہ تمام نظارے دست قدرت کے عجوبے ہیں۔
وایۃ لھو الیل ۔۔۔۔۔۔ فی فلک یسبحون (37 – 40) ” “۔
رات کے آنے کا منظر ، روشنی ختم ہوجاتی ہے اور اندھیرا آہستہ آہستہ چھا جاتا ہے ۔ یہ وہ منظر ہے جسے تمام انسان 24 گھنٹوں میں دہرایا ہوا دیکھتے ہیں ، ماسوائے ان خطوں کے جہاں رات اور دن کا عمل چھ ماہ کے بعد دہرایا جاتا ہے۔ یعنی ان علاقوں میں جو قطبین کے بہت قریب ہیں۔ یہ عمل اگرچہ رات اور دن میں بار بار دہرایا جاتا ہے لیکن اگر اس پر غور کیا جائے تو یہ اللہ کی قدرت
کا ایک…
Read the full tafseer →4 " سلخ " کہتے ہیں جانور کی کھال اتارنے کو جس سے نیچے کا گوشت ظاہر ہوجائے۔ اسی طرح سمجھ لو رات کی تاریکی پر دن کی چادر پڑی ہوئی ہے۔ جس وقت یہ نور کی چادر اوپر سے اتار لی جاتی ہے لوگ اندھیرے میں پڑے رہ جاتے ہیں اس کے بعد پھر سورج اپنی مقررہ رفتار سے معین وقت پر آکر سب جگہ اجالا کرتا ہے۔ لیل و نہار کے ان تقلبات پر قیاس کر کے سمجھ لو کہ اسی طرح اللہ تعالیٰ عالم کو فنا کر کے دوبارہ زندہ کرسکتا ہے اور بیشک وہ ہی ایک خدا لائق پرستش ہے جس کے ہاتھ میں ان عظیم الشان انقلابات کی باگ ہے۔ جن سے ہم کو مختلف قسم کے فوائد پہنچتے ہیں۔ نیز جو قادر مطلق رات کو دن سے تبدیل کرتا ہے کیا کچھ بعید ہے کہ بذریعہ…
Read the full tafseer →آیت 37 { وَاٰیَۃٌ لَّہُمُ الَّیْلُج نَسْلَخُ مِنْہُ النَّہَارَ فَاِذَا ہُمْ مُّظْلِمُوْنَ } ”اور ان کے لیے ایک نشانی رات بھی ہے ‘ ہم کھینچ لیتے ہیں اس سے دن کو ‘ تو اس وقت یہ اندھیرے میں رہ جاتے ہیں۔“
یہ ایسے ہے جیسے ایک سیاہ چادر بچھی ہو ‘ جسے ایک چمکدار چادر نے ڈھانپ رکھا ہو۔ پھر اوپر والی سفید اور چمکدار چادر کھینچ لی جائے اور نیچے سے سیاہ چادر نمودار ہوجائے۔
Read the full tafseer →35 رات کا ذکر دن سے پہلے اور فطری تقویم :۔ قرآن کریم نے جب دن اور رات کا ذکر فرمایا تو پہلے رات کا ذکر فرمایا۔ اس سے دو باتوں کا پتہ چلتا ہے کہ ایک یہ کہ فطری تقویم یہ ہے کہ دن رات کی (یعنی ایک دن یا 24 گھنٹے) کی مدت کا شمار ایک دن سورج غروب ہونے سے لے کر دوسرے دن سورج غروب ہونے تک ہے۔ اور یہ مدت ہمیشہ 24 گھنٹے ہی رہتی ہے خواہ گرمیوں کا موسم ہو یا سردیوں کا اور اس میں ایک سیکنڈ کا بھی فرق نہیں پڑتا اور دوسرے یہ کہ اصل چیز رات اور تاریکی ہی تھی یہ اللہ کی رحمت ہے کہ اس نے تمہارے لئے سورج پیدا فرما کر روشنی کا بھی انتظام فرما دیا۔ اور اس میں تمہارے لئے اور بھی بیشمار فائدے رکھ دیئے۔ حتیٰ کہ اگر…
Read the full tafseer →24۔ رات اور دن، دونوں تمامتر امرالہی کے مسخر ہیں۔ خود کوئی دیوی دیوتا نہیں جیسا کہ بعض مشرک جاہلی قوموں نے سجھ رکھا ہے۔ ان کے درمیان یہ تقلب و تصرف سب قدرت الہی سے ہوتے رہتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–50
آیت نمبر 33 تا 50
ترجمہ : اور ایک نشانی ان کے لئے مرنے کے بعد زندہ ہونے پر مردہ زمین ہے اٰیۃٌ لھُمْ خبر مقدم ہے اَلْمیتۃُ تخفیف اور تشدید کے
ساتھ ہے کہ ہم نے اس کو پانی کے ذریعہ زندہ کیا والارض الخ مبتداء مؤخر ہے، اور ہم نے اس زمین سے غلہ مثلاً گندم پیدا کیا سو اس سے یہ لوگ کھاتے ہیں اور (نیز) ہم نے زمین میں کھجوروں اور اناروں کے باغات پیدا کئے اور اس میں کچھ چشمے جاری کئے تاکہ لوگ اس کے پھل کھائیں، ثمَرہ میں یعنی (ث، م) دونوں میں فتحہ اور ضمہ ہے، یعنی تاکہ مذکورہ کھجور وغیرہ کے پھلوں میں سے کھائیں اور ان پھلوں کو ان کے ہاتھوں نے نہیں بنایا تو پھر یہ لوگ اپنے اوپر خدا تعالیٰ کے انعامات کا شکر…
Read the full tafseer →وایۃ لھم الیل نسلخ منہ النھار فاذاھم مظلمون . اور ان کیلئے (ہماری قدرت کی) ایک نشانی رات ہے جس (کے اوپر) سے ہم دن کی (چڑھی ہوئی) کھال اتار لیتے ہیں تو وہ یکایک تاریکی میں رہ جاتے ہیں۔
اصل تاریکی ہے ‘ سورج نکلنے سے تاریکی پر دن کا خول چڑھ جاتا ہے۔ جب سورج ڈوب جاتا ہے تو گویا رات کے اوپر سے (روشنی کی) کھال اتر جاتی ہے اور تاریکی سامنے آجاتی ہے۔ سلخ کا معنی ہے کھال اتارنا ‘ اس جگہ بطور استعارہ اتار لینا مراد ہے۔ مطلب یہ کہ دن چلا جاتا ہے اور رات آجاتی ہے۔
Read the full tafseer →اور ان مکہ والوں کے استدلال کے لیے ایک نشانی اندھیری رات ہے اس رات پر ہم دن کو اتار لیتے ہیں تو وہ لوگ رات کی تاریکی میں رہ جاتے ہیں۔
Read the full tafseer →وَاٰيَةٌ لَّهُمُ الَّيْلُ : ”نَسْلَخُ“ ”سَلَخَ یَسْلَخُ“ (ف، ن) بکری کی کھال اتارنا۔ قیامت اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کے دلائل میں سے مکانی دلیل مردہ زمین بیان فرمائی ہے۔ اب زمانی دلیلوں کا ذکر ہوتا ہے کہ ان کے لیے ایک اور دلیل قیامت کی اور اس بات کی بھی کہ اللہ تعالیٰ جو چاہے کرسکتا ہے، رات ہے، جس پر دن کے نور کا پردہ چڑھا ہوا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی عظمت کے اظہار کے لیے اپنا ذکر جمع کے صیغے کے ساتھ کرتے ہوئے فرمایا : (نَسْلَخُ مِنْهُ النَّهَارَ) ہم اس رات سے دن کو کھینچ اتارتے ہیں تو اچانک وہ اندھیرے میں رہ جانے والے ہوتے ہیں۔ یعنی وہ جو اندھیرے کے بعد روشنی اور روشنی کے بعد اندھیرا لانے والا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–38
یہ اللہ تعالیٰ کی توحید ‘ اس کی قدرت اور اس کی اہمیت کے ثبوت پر علامت ہے سدخ کا معنی اتارنا ہے یہ جملہ بولا جاتا ہے : سلخہ اللہ من دینہ اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے دین سے الگ کردیا پھر یہ نکالنے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے روشنی جانے اور تاریکی کے آنے کو ‘ کسی شے سے چمڑے کو اتارنے اور جسم کے ظاہر ہونے کی طرح ہے پس یہ اشارہ ہے مظلون۔ وہ تاریکی میں داکل ہونے والے ہیں یہ جملہ بولا جاتا ہے : اظلمنا ہم رات کی تاریکی میں داخل ہوتے ہیں اظہرنا ہم ظہر کے وقت میں داکل ہوئے۔
ایک قول یہ کیا گیا منہ ‘ عنہ کے معنی میں ہے اس کا معنی ہے ہم نے اس سے دن کی روسنی کو الگ کردیا تو اچانک وہ تاریکی میں تھے کیونکہ دن کا…
Read the full tafseer →1:۔ ابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وایۃ لھم الیل، نسلخ منہ النھار “ (اور ان کے لئے ایک نشانی رات ہے جس کے اوپر سے ہم دن کی چڑھی ہوئی کھال اتارلیتے ہیں) یعنی ان دونوں میں سے ہر ایک دوسرے میں سے نکالتا ہے۔
2:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وایۃ لھم الیل، نسلخ منہ النھار “ (الحج آیت 61) (کہ ہم داخل کرتے ہیں رات کو دن میں، اور داخل کرتے ہیں دن کو رات میں۔
Read the full tafseer →وَاٰيَةٌ لَّهُمُ [اور ایک نشانی ہے ان کے لئے ] الَّيْلُ ښ [رات ] نَسْلَخُ [ہم کھینچ لیتے ہیں ] مِنْهُ النَّهَارَ [اس میں سے دن کو ] فَاِذَا هُمْ [تو جب ہی وہ لوگ ] مُّظْلِمُوْنَ [اندھیرے میں ہونے والے ہیں ]
Read the full tafseer →رات دن اور شمس و قمر اللہ تعالیٰ کے مظاہر قدرت میں سے ہیں
آیات سفلیہ بیان فرمانے کے بعد آیات علویہ کا بیان شروع ہو رہا ہے، رات اور دن کا تعلق چونکہ سورج کے طلوع اور غروب سے ہے اس لیے ان دونوں کو بھی آیات علویہ میں ذکر فرما دیا، ارشاد فرمایا کہ لوگوں کے لیے رات بھی ایک نشانی ہے رات کے آنے جانے سے بھی اپنے خالق کو پہچان سکتے ہیں، سب کو معلوم ہے کہ رات کے آنے جانے میں صرف اللہ تعالیٰ کے حکم تکوینی کو دخل ہے، فرمایا : (نَسْلَخُ مِنْہُ النَّہَارَ فَاِِذَا ھُمْ مُّظْلِمُوْنَ ) (ہم اس سے دن کو کھینچ لیتے ہیں سو وہ اچانک اندھیرے میں رہ جاتے ہیں) یعنی جس جگہ روشنی ہوتی ہے اور دن ہوتا ہے اس جگہ سے ہم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–40
دلیل دوم
قال تعالیٰ وایۃ لہم الیل نسلخ منہ النھار۔۔۔ الی۔۔۔ وکل فی فلک یسبحون۔
یہ اس کی قدرت کی دوسری دلیل ہے کہ اس نے لیل ونہار کو اور شمس و قمر کو پیدا کیا دن رات کا یکے بعد دیگرے آنا اور رات کا اندھیرا اور دن کی روشنی اور آفتاب وماہتاب کا ایک خاص روشنی پر رہنا جس میں نہ کبھی کمی ہوتی ہے اور نہ زیادتی یہ بھی اس کے کمال قدرت کی دلیل ہے جس کی حقیقت کے ادراک سے دنیا کی عقلیں حیران ہیں تمام عالم مل کر بھی اس پر قادر نہیں کہ لیل ونہار اور طلوع و غروب میں کوئی تغیر کرسکے۔
گذشتہ آیت میں زمین کی نشانی کا ذکر فرمایا جو باشندگان عالم کا مکان ہے اب آئندہ آیت میں لیل ونہار کی نشانی کو ذکر فرماتے ہیں جو…
Read the full tafseer →26:۔ وایۃ لہم الیل الخ :۔ یہ تیسری عقلی دلیل ہے۔ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کی ایک دلیل یہ ہے کہ یہ نظام شمسی اس کے قبضہ و تصرف میں ہے۔ دن رات کی آمد و رفت اسی کے اختیار میں ہے۔ جب دن کی روشنی غائب ہوجاتی ہے تو ہر طرف اندھیرا چھا جاتا ہے۔ والشمس تجری الخ اور سورج اپنی آخر حد اور منزل تک باقاعدگی کے ساتھ سفر کر رہا ہے۔ آخری منزل سے یا تو قیامت کا دن مراد ہے یا اس کے سالانہ دورے کی آخری منزل مراد ہے جہاں پہنچ کر وہ دوبارہ اسی جگہ سے اپنا سفر شروع کرتا ہے جہاں سے ایک سال قبل شروع کیا تھا۔ قال قتادۃ و مقاتل تجری الی وقت لہا لا تتعداہ۔ قال الواحدی وعلی ھذا مستقرھا انتہاء سیرھا عند انقضاء الدنیا (روح ج…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–40
ربط آیات
رسالت کے سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے ایک بستی والوں کا حال بیان کیا کہ ان کے پاس تین رسول آئے تاکہ ان کو توحید کی دعوت دیں مگر ان اہل بستی نے ان رسولوں یا مبلغین کے ساتھ سخت بدسلوکی کی حتی کہ ان کے قتل کے درپے ہوئے ان مرسلین کی تائید میں شہر کے پرلے کنارے سے ایک آدمی دوڑتا ہوا آیا اور قوم کو سمجھایا کہ ان رسولوں کی پیروی کرتے ہوئے شرک سے تائب ہو جائو اور توحید خداوندی کو اختیار کرو تو بستی والے اس مرد مومن کے بھی خلاف ہوگئے اور اسے قتل کر ڈالا ، پھر ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک خوفناک چیخ کی صورت میں عذاب آیا جس سے سارے بستی والے ہلاک ہوگئے۔ ضمناً اللہ تعالیٰ نے شرک کی تردید فرمائی…
Read the full tafseer →وَاٰيَۃٌ لَّہُمُ الَّيْلُ 0 ۚۖ نَسْلَخُ مِنْہُ النَّہَارَ فَاِذَا ہُمْ مُّظْلِمُوْنَ 37ۙ
الآية
والآية : هي العلامة الظاهرة، وحقیقته لکل شيء ظاهر، وهو ملازم لشیء لا يظهر ظهوره، فمتی أدرک مدرک الظاهر منهما علم أنه أدرک الآخر الذي لم يدركه بذاته، إذ کان حكمهما سواء، وذلک ظاهر في المحسوسات والمعقولات، فمن علم ملازمة العلم للطریق المنهج ثم وجد العلم علم أنه وجد الطریق، وکذا إذا علم شيئا مصنوعا علم أنّه لا بدّ له من صانع .
الایۃ ۔
اسی کے معنی علامت ظاہر ہ یعنی واضح علامت کے ہیں دراصل آیۃ ، ، ہر اس ظاہر شے کو کہتے ہیں جو دوسری ایسی شے کو لازم ہو جو اس کی طرح ظاہر نہ ہو مگر جب کوئی شخص اس ظاہر شے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–40
واٰیۃ لہم اللیل یہ دوسری دلیل ہے کہ رات اندھیری ہوتی ہے۔ اس میں سے ہم دن کو نکالتے ہیں جس سے اندھیرا ہوجاتا ہے۔ یعنی دن میں سے رات پیدا کرکے دنیا کو اندھیری کردیتے ہیں۔ آفتاب اپنی خاص چال پر چلتا ہے، جو اس کی چال مقرر کردی ہے، اس کے خلاف نہیں کرسکتا اور اسی طرح چاند کے لیے منزلیں مقرر کردی ہیں۔ مہینے بھر میں دورہ تمام کرکے پھر پتلی سوکھی خمدار ٹہنی کے طرح برآمد ہوتا ہے۔ عرجون بالضم درخت کژشدہ و شاخہائے بریدہ صراح، چاند کو کھجور کی سوکھی ہوئی ٹہنی سے تشبیہ دی ہے، اس کے باریک ہونے اور ٹیڑھے ہونے میں آفتاب ماہتاب کو نہیں پکڑسکتا نہ وہ اس کو نہ ایک دوسرے سے آگے بڑھ سکتا ہے، نہ رات دن سے پہلے…
Read the full tafseer →وَاٰیـَۃٌ لَّھُمُ الَّیْلُ صلے ج نَسْلَخُ مِنْہُ النَّھَارَ فَاِذَا ھُمْ مُّظْلِمُوْنَ ۔ (یٰسٓ: 37)
(اور ان کے لیے ایک اور نشانی رات ہے، ہم اس سے دن کو کھینچ لیتے ہیں، پس وہ اچانک اندھیرے میں رہ جاتے ہیں۔ )
رات اور دن کی نشانی سے استدلال
لوگوں کو توجہ دلانے کے لیے ایک اور نشانی کا ذکر فرمایا کہ جس طرح دن اللہ تعالیٰ کی ایک نشانی ہے اسی طرح رات بھی اللہ تعالیٰ کی نشانی ہے۔ حالانکہ اگر کبھی انسان اس بات پر غور کرے کہ دن کیسے گزرتا ہے اور رات کیسے آتی ہے اور دن کے جانے اور رات کے آنے میں کیا حکمتیں کارفرما ہیں۔ دن کو کس طرح نور کی چادر اڑھائی جاتی ہے تو لوگوں کے لیے روشن دن نمودار ہوجاتا ہے جس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–37
فہم القرآن
ربط کلام : نباتات اور لوگوں کے اپنے نفوس سے اپنی قدرت کی نشاندہی کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے انسان کی توجہ آفاق کی نشانیوں کی طرف مبذول کروائی ہے۔
انسان ہی نہیں دنیا میں بسنے والی ہر چیز کی زندگی، رات اور دن کے حساب سے شمار کی جاتی ہے۔ ہر ذی روح اور ہر چیز پر رات اور دن کے مثبت اور منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ دن کی روشنی اور اس کی تپش کے اپنے اثرات اور فوائد ہیں۔ رات کی تاریکی اور اس کی نم ناکی کے اپنے نتائج ہیں جو ہر متحرک اور غیر متحرک چیز پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ رات اور دن میں سب سے بڑی ” اللہ “ کی قدرت کی نشانی یہ ہے کہ رات کی تاریکی ہر چیز کو اپنے دامن میں چھپا لیتی ہے۔ ہر ذی روح…
Read the full tafseer →رات کی نشانی :
37: وَ ٰایَۃٌ لَّھُمُ الَّیْلُ نَسْلَخُ مِنْہُ النَّہَارَ (اور ایک نشانی ان کے لئے رات ہے کہ ہم اس پر سے دن کو اتار لیتے ہیں) ہم اس میں سے دن کو اس طرح نکال لیتے ہیں کہ دن کی روشنی میں سے کوئی چیز بھی اس کے ساتھ باقی نہیں رہتی، نمبر 2۔ اس سے روشنی کو ہم اس طرح کھینچ لیتے ہیں جیسے سفید قمیص کھینچی جاتی ہے پس نفس زمانہ اسی طرح ننگا ہوجاتا ہے جیسا سیاہ حبشی کیونکہ آسمان و زمین کے مابین سیاہ فضا ہے اس کے بعض حصے نے سورج کی روشنی اسی طرح پہن لی جیسا کہ اندھیرے گھر میں دیار وشن کردیا جائے۔ جب دیا غائب ہو تو پھر گھر پہلے کی طرح اندھیر ہوجاتا ہے۔ فَاِذَا ھُمْ مُّظْلِمُوْنَ (پس یکایک وہ…
Read the full tafseer →37، وایۃ لھم، یہ سب نشانیان اس کی قدرت کی نشانیاں ہیں۔ ، اللیل نسلخ ، کہ ہم اس سے اتاردیتے ہیں۔ ، منہ النھار فاذاھم مظلمون، وہ داخل ہوگئے اندھیروں میں یا اس کا معنی ہوگا کہ دن چلا گیا اور رات آگئی ، ظلمت اور نہاردوتوں اس میں داخل ہیں۔ جب سورج ڈوب جاتا ہے گویا رات کے اوپر سے (روشنی کی ) کھال اتر جاتی ہے اور تاریکی سامنے آجاتی ہے۔
Read the full tafseer →37۔ یہ ایک اور قدرت کی نشانی کا ذکر فرمایا کہ ایک نشانی ہماری قدرت کی ان کے واسطے رات ہے ادھیڑ لیتے ہیں ہم اس سے دن کو تو اس وقت وہ اندھیرے میں رہ جاتے ہیں رات کا اندھیرا اور دن کا اجالا دونوں خدا کی قدرت کو ہر روز بتاتے ہیں ایک دوسرے کے پیچھے لگا رہتا ہے رات آتی ہے تو دن چلا جاتا ہے اور جب دن آتا ہے تو رات چلی جاتی ہے رات کو انسان آرام پاتا ہے اور دن کو ہر طرح کام دھندہ کرتا ہے ‘ صحیح بخاری میں حذیفہ ؓ بن الہیمان سے روایت 2 ؎ ہے (2 ؎ مشکوۃ ص 208 باب مایقول عند الصباح والماء رد المنام) جس میں آنحضرت ﷺ نے نیند کو موت اور سو کر اٹھنے کو دوبارہ جینا فرمایا ہے نیند میں آدمی کے ہوش و ہو اس جاتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–40
آیت 37
(وایۃ لھم) ” اور ان کے لئے ایک نشانی “ یعنی اللہ تعالیٰ کی مشیت کے نفاذ، اس کی قدرت کے کمال، مردوں کو اس کے دوبارہ زندہ کرنے پر ایک دلیل (الیل نسلخ منہ النھار) ” رات ہے جس سے ہم دن کو کھینچ دیتے ہیں۔ “ یعنی ہم نے اس کی عظیم روشنی کو زائل کر کے، جس نے روئے زمین مو کمنور کر رکھا تھا، تاریکی سے بدل ڈالا، جسے ہم اس کے وقت پر نازل کرتے ہیں (فاذا ھم مظلمون) ” پس وہ اندھیروں میں ڈوب جاتے ہیں۔ “ اسی طرح ہم تاریکی کو زائل کرتے ہیں، جس نے ان کو ڈھانپ رکھا تھا۔ پس ہم سورج کو طلع کرتے ہیں، جس سے تمام زمین اپنے کناروں تک روشن ہوجاتی ہے اور مخلوق اپنے رزق کی تلاش اور اپنے مصالح کے حصول کے لئے روئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–38
40 رات کی نشانی میں غور وفکر کی دعوت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ان کے لیے ایک عظیم الشان نشانی یہ رات بھی ہے جس سے کھینچ نکالتے ہیں ہم دن کو "۔ " سلخ " دراصل جانور کی کھال اتارنے کو کہا جاتا ہے۔ یعنی جس طرح بکری وغیرہ کی کھال اتار دینے سے اس کے اندر کا سب کچھ سامنے آجاتا ہے اسی طرح رات کے اندھیرے کے اوپر سے جب دن کی نورانی چادر ہٹا دی جاتی ہے تو رات کا اندھیرا سب کو ڈھانپ لیتا ہے۔ سو رات کا اس طرح آنا اور جانا قدرت کی ایک عظیم الشان نشانی ہے جس میں طرح طرح کے عظیم الشان درسہائے عبرت و بصیرت ہیں۔ مگر رات دن کے یہ دونوں سلسلے چونکہ نہایت پر حکمت طریقے سے بےمثال پابندی اور باقاعدگی سے چلتے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–44
ﷲ تعالیٰ کے انعامات انسان کے لیے
تشریح : پچھلی آیات میں رسولوں اور انسانوں کا معاملہ کچھ اس طرح بیان کیا گیا ہے۔ کہ رسول اللہ کی طرف سے بہت بڑی رحمت ہوتے ہیں کیونکہ وہ ہمارے دلوں کے زنگ کو دور کرتے ہیں، جنت کے راستے کی رہنمائی کرتے ہیں۔ ہمیں ہر قسم کی جھاڑ جھنکار، اونچ نیچ اور کھائیوں سے بچاتے ہیں۔ کیونکہ ان کا پیغام بڑا پاکیزہ اور سادہ ہوتا ہے۔ وہ یہ کہ ” اللہ کو مانو رسول کو مانو اور آخرت پر یقین کرو “۔ مگر بدنصیب انسان ان سے نفرت کرتے ہیں ان پر ظلم و زیادتی کرتے ہیں۔ لیکن یہ ظلم و زیادتی اصل میں وہ خود اپنے اوپر کر رہے ہوتے ہیں۔ جب کہ نیک لوگ، ان سے محبت کرتے ہیں اور یوں اللہ کے محبوب بن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–50
رکوع نمبر 3: آیات 33 تا 50:
اسرار و معارف :
اللہ کی قدرت کاملہ کا ایک بڑا مظہر تو مردہ زمین ہے جس پر یہ رہتے بستے ہیں جب اس پہ خشک سالی آتی ہے تو وہ بالکل اجاڑ ہوجاتی ہے ہر طرف گرد اڑتی ہے مگر جب اللہ چاہتے ہیں تو اس کی گود زندگی سے بھر دیتے ہیں اور ذرے ذرے سے زندگی ابلتی ہے پھل پھول اناج پیدا ہو کر نہ صرف زمین کی زندگی کا ثبوت دیتے ہیں بلکہ خود انسانوں کو زندہ رکھنے کا سبب بن جاتے ہیں یہی تو ان کی روز مرہ کی غذا ہے۔
زمین کے بعض حصوں کو ہم نے سرسبزی عطا کردی ہے کہ یہ بھی ضروری نہیں کہ وہ خشک ہو کر ہری ہو ہم نے اس میں چشمے جاری کردئیے اور اس کا سینہ باغات سے سجا دیا کہ ان لوگوں کے پاس بھی ایسے…
Read the full tafseer →ف 3 یہ اثبات حشر پر دوسری دلیل ہے یعنی جس ہستی کے قبضہ ٔ قدرت میں یہ انقلاب عظیم ہے وہ مردوں کو بھی دوبارہ زندہ کرنے پر قادر ہے۔ ” سلخ “ کے اصل معنی جانور کی کھال کھینچنے کے ہیں یہاں رات کو دن سے ممیز کرنیکے لئے یہ لفظ بطور استعارہ استعمال ہوا ہے۔ دوسرے مقام پر اسی تبدیلی کو ” تکویر “ کے لفظ سے تعبیر فرمایا ہے۔ دیکھئے سورة زمر آیت 5( کبیر)
Read the full tafseer →(36:37) وایۃ لہم الیل وائو عطف کی ہے ایۃ مبتدا لہم متعلق ایۃ اور الیل خبر۔ یا الیل مبتدا اور ایۃ لہم خبر مقدم۔ الیل سے مراد کوئی خاص رات نہیں بلکہ جنس شب مراد ہے اور ان کے لئے رات (خدا کی قدرت کی ) ایک نشانی ہے۔
نسلخ مضارع جمع متکلم سلخ مصدر (باب نصرو فتح) میں نے اس کی کھال کھینچی تو وہ کھینچ گئی اسی سے استعارہ کے طور پر زرہ اتارنے اور مہینہ کے گذر جانے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے مثلاً دوسری جگہ قرآن مجید میں ہے فاذا انسلخ الاشھر الحرم (9:5) جب حرمت والے مہینے گذر جائیں۔
اور نسلخ منہ النھار کے معنی ہوئے ہم اس میں سے دن کو کھینچ لیتے ہیں۔ اصل تاریکی ہے۔ سورج نکلنے سے تاریکی پر دن کی روشنی کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–44
لغات القرآن : آیت نمبر 33 تا 44 :۔ حب ( دانہ) نخیل ( کھجور) اعناب ( عنب) (انگور) فجرنا ( ہم نے پھاڑ دیا) الازواج ( زوج) (جوڑے) العرجون ( کھجور کی ٹہنی ، شاخ) یرکبون (وہ سوار ہوتے ہیں) صریخ ( چیخ ، فریاد)
تشریح : آیت نمبر 33 تا 44 :۔ اللہ تعالیٰ نے اس کائنات میں اپنی بیشمار نعمتوں کو بکھیر رکھا ہے جو ایک ایسے نظام میں بندھے ہوئے ہیں کہ اپنی مرضی سے ایک قدم بھی نہیں بڑھا سکتے۔ یہ اللہ کی ایسی نشانیاں ہیں جنہیں دن رات آدمی دیکھتا ہے لیکن ان پر غور نہیں کرتا ۔ اگر وہ ان تمام نعمتوں پر غور و فکر سے کام لے تو اس کے دل میں اس کائنات کے خالق کی ایسی عظمت چھا جائے کہ پھر اس کے سوا کسی کی عظمت کی کوئی…
Read the full tafseer →رات اور دن قدرت کی نشانیاں۔
(ف 1) یہ ایک قدرت کی نشانی کا ذکر فرمایا کہ ایک نشانی ہمارے قدرت کی ان کے واسطے رات ہے فرمایا کہ ہم اس رات پر سے دن اتار لیتے ہیں وہ لوگ اندھیرے میں رہ جاتے ہیں راہ کا اندھیرا اور دن کا اجالادونوں خدا کی قدرت کی نشانی ہیں رات آتی ہے تو دن چلاجاتا ہے اور جب دن آتا ہے تورات چلی جاتی ہے رات کو انسان آرام پاتا ہے اور دن کو ہر طرح کا کام دھندہ کرتا ہے ۔ صحیح بخاری میں روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا نے نیند کو موت اور سوکراٹھنے کو دوبارہ جینا فرمایا ہے نیند میں آدمی کے ہوش و حواس جاتے رہتے ہیں اس لیے نبی نے فرمایا کہ رات کو سونا اور دن کو پھر جاگ اٹھنا حشر کا ایک نمونہ ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–37
[13] یعنی وہ تو دنیا کا عذاب تھا اور آخرت کی سزا الگ رہی۔ یہ نہ سمجھو کہ ہلاک ہو کر پھر ادھر واپس نہیں آتے تو بس قصہ ختم ہوا۔ نہیں، سب کو ایک دن اللہ کے سامنے حاضر ہونا ہے جہاں سب مجرم پکڑے ہوئے آئیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–39
ف 1: وہ کس قدر پاک اور بلند ذات ہے جس نے بوقلموں نباتات کو پدیا کیا ۔ اور گوناگوں انسانوں کو بنایا ہے ۔ اور ایسی چیزیں بھی پیدا کی ہیں ۔ جن کو عام لوگ نہیں جانتے ۔ سوچنے والوں کے لئے اس بات میں بھی بڑی نشانی ہے کہ وہ کیونکر رات کی تاریک فضا سے دن کو اجالا نمودار کرتا ہے اور دن پر سے جب اس کے سفید لبادے کو اتارر دیتا ہے ۔ تو کس طرح سے لوگ اندھیرے میں پڑے رہ جاتے ہیں ۔ آفتا کے لئے حرکت کا ایک اندازہ مقرر ہے ۔ اسی طرح چاند کی بھی منزلیں ہیں ۔ جن میں سے وہ گزرتا ہے کبھی ہلال ہوتا ہے کبھی بدر منیر ہوکر چمکتا ہے اور کبھی کھجور کی پرانی ٹہنی کی طرح باریک ہوجاتا ہے پھر اپنی اصلی حالت پر آجاتا ہے ۔…
Read the full tafseer →(37) اور ان لوگوں کے لئے نشان ہائے قدرت میں سے رات بھی ایک قدرت خداوندی کی نشانی ہے اس رات پر سے ہم دن کو کھینچ کر اتار لیتے ہیں پس یکایک یہ لوگ اندھیرے میں رہ جاتے ہیں۔
Read the full tafseer →ف 4۔ بوجہ اصل ہونے ظلمت کے گویا اصل وقت وہی تھا، اور عارض نور آفتاب سے گویا اس کو دن نے چھپا لیا تھا۔
Read the full tafseer →رات بھی تو اللہ کی نشانات میں سے ایک نشانی ہے جو دن کو مٹا دیتی ہے :
37۔ اللہ رب ذوالجلال والاکرام کے تکوینی نشانات میں سے ایک نشانی رات بھی ہے کہ دن تھا تو ہر طرف نور ہی نور پھیلا ہوا تھا لیکن رات آئی تو نور غائب ہوگیا اور ہر طرف اندھیرا ہی اندھیرا چھا گیا اگر ہمیشہ دن کا اجالا رہتا یا ہر وقت رات ہی کی تاریکی پھیلی رہتی تو یہ نظام عالم سارے کا سارا درہم برہم ہوجاتا ۔ نیرنگی فطرت کے کرشمے ختم ہوجاتے ۔ اللہ تعالیٰ نے اس عروس کائنات کو شب وروز کا تسلسل قائم کرکے کسی طرح سجا دیا اور یہ سجاوٹ پیدا ہی نہ ہوتی اگر فقط دن ہوتا یا فقط رات ہوتی اس اختلاف نے ہی تو اس مسند کرامت کو بچھایا اور حضرت انسان…
Read the full tafseer →In verse 37, it was said: وَآيَةٌ لَّهُمُ اللَّيْلُ نَسْلَخُ مِنْهُ النَّهَارَ (And a sign for them is the night. We strip the [ cover on day from it, and they are suddenly in darkness.). After having described the signs of Divine power in what was created on the earth, the text mentions cosmic creations. The word: سَلخ (salkh) literally means to skin. If the skin from an animal or the cover from things is removed, the thing inside becomes obvious. Allah Ta’ ala has, in this similitude, pointed out that the real element in this world is darkness. Light is transitory, for it spreads over the…
Read the full tafseer →32 The alternation of the night and day also is one of those realities which man dces not regard as worthy of much attention only because it is a phenomenon of daily occurrence and experience; whereas if he considers how the day passes and how the night falls, and what is the wisdom in the passing of the day and in the falling of the night, he will himself realize that this is an obvious sign of the existence of an All-Powerful and All-Wise Allah and of His being One and only One. The day cannot pass and the night cannot fall until the sun hides from the earth. The great regularity which is…
Read the full tafseer →