Explained with ayahs 7–9
کافروں کی جہالت۔
کافر اور ملحد جو قیامت کے آنے کو محال جانتے تھے اور اس پر اللہ کے نبی ﷺ کا مذاق اڑاتے تھے ان کے کفریہ کلمات کا ذکر ہو رہا ہے کہ وہ آپس میں کہتے تھے " لو اور سنو ہم میں ایک صاحب ہیں جو فرماتے ہیں کہ جب مر کر مٹی میں مل جائیں گے اور چورا چورا اور ریزہ ریزہ ہوجائیں گے اس کے بعد بھی ہم زندہ کئے جائیں گے، اس شخص کی نسبت دو ہی خیال ہوسکتے ہیں یا تو یہ کہ ہوش و حواس کی درستی میں وہ عمداً اللہ کے ذمے ایک جھوٹ بول رہا ہے اور جو اس نے نہیں فرمایا وہ اس کی طرف نسبت کرکے یہ کہہ رہا ہے اور اگر یہ نہیں تو اس کا دماغ خراب ہے، مجنوں ہے، بےسوچے سمجھے جو جی میں آئے کہہ دیتا ہے۔ " اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →سورة سَبـَا 12
یہ ان کی بات کا دوسرا جواب ہے۔ اس جواب کو سمجھنے کے لیے یہ حقیقت نگاہ میں رہنی چاہیے کہ کفار قریش جن وجوہ سے زندگی بعد موت کا انکار کرتے تھے ان میں تین چیزیں سب سے زیادہ نمایاں تھیں۔ ایک یہ کہ وہ خدا کے محاسبے اور باز پرس کو نہیں ماننا چاہتے تھے کیونکہ اسے مان لینے کے بعد دنیا میں من مانی کرنے کی آزادی ان سے چھن جاتی تھی۔ دوسرے یہ کہ وہ قیامت کے وقوع اور نظام عالم کے درہم برہم ہوجانے اور پھر سے ایک نئی کائنات بننے کو ناقابل تصور سمجھتے تھے۔ تیسرے یہ کہ جن لوگوں کو مرے ہوئے سینکڑوں ہزاروں برس گزر چکے ہوں اور جن کی ہڈیاں تک ریزہ ریزہ ہو کر زمین، ہوا اور پانی میں پراگندہ ہوچکی ہوں…
Read the full tafseer →(آیت) افلم یروا الی مابین ایدیہم وما خلفہم، الایة جیسا کہ خلاصہ تفسیر سے معلوم ہوچکا ہے اس آیت میں قیام قیامت کے دلائل بھی ہیں کہ آسمان و زمین کی مخلوقات میں غور کرنے اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کا مشاہدہ کرنے سے وہ استبعاد رفع ہوسکتا ہے جو منکرین قیامت کو اس کی تسلیم سے مانع تھا، اور ساتھ ہی منکرین کے لئے سزا کی دھمکی بھی ہے کہ یہ آسمان و زمین کی تمام مخلوقات عظیمہ جو تمہارے لئے بڑی نعمتیں ہیں، اگر ان کے مشاہدہ کے بعد بھی تم تکذیب و انکار پر جمے رہے تو اللہ کی قدرت میں یہ بھی ہے کہ انہی نعمتوں کو تمہارے لئے عذاب بنا دے کہ زمین تمہیں نگل جائے، یا آسمان ٹکڑے ٹکڑے ہو کر تم پر گر پڑے۔
Read the full tafseer →افلم یروا الی مابین ایدھیم وما خلفھم من السماء والارض ان نشا نخف بھم الارضی او نسقط علیھم کسفا من السماء ان فی ذلک لایۃ تکل عبد منیب (9)
اس مجموعہ آیات کی پہلی آیت میں جو مضمون بیان ہوا ہے مجموعہ کے آخر میں اسی مضمون کا ایک نئے اسلوب سے اعادہ ہے۔ پہل آیت میں فرمایا ہے کہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے سب خدا ہی کا ہے اس وجہ سے دنیا میں بھی شکر کا حقیقی سزاوار وہی ہے اور آخرت میں بھی اسی کی حمد ہوگی۔ یہاں فرمایا کہ کیا ان متکبرین نے اس حقیقت پر کبھی غور نہیں کیا کہ یہ آسمان جو ان کے سروں پر شامیانے کی طرح تنا ہوا ہے اور یہ زمین جو ان کے قدموں کے نیچے فرش کی طرح بچھی ہوئی ہے اور جن کے فوائد و…
Read the full tafseer →9۔ 1 یعنی اس پر غور نہیں کرتے ؟ اللہ تعالیٰ ان کی زجر و توبیخ کرتے ہوئے فرما رہا ہے کہ آخرت کا یہ انکار، آسمان اور زمین کی پیدائش میں غور و فکر نہ کرنے کا نتیجہ ہے، ورنہ جو ذات آسمان جیسی چیز، جس کی بلندی اور وسعت ناقابل بیان ہے اور زمین جیسی چیز، جس کا طول و عرض بھی ناقابل فہم ہے، پیدا کرسکتا ہے، اس کے لئے اپنی ہی پیدا کردہ چیز کا دوبارہ پیدا کردینا اور اسے دوبارہ اسی حالت میں لے آنا، جس میں وہ پہلے تھی، کیوں کر ناممکن ہے۔
9۔ 1 یعنی یہ آیت دو باتوں پر مشتمل ہے ایک اللہ کے کمال قدرت کا بیان جو ابھی مذکور ہوا دوسری کفار کے لیے تنبیہ و تہدید کہ جو اللہ آسمان و زمین کی تخلیق پر اس طرح قادر ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
2: یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کی مذکورہ بات کا جواب ہے۔ انہوں نے حضور اقدس ﷺ کے بارے میں دو احتمال ذکر کیے تھے۔ ایک یہ کہ (معاذ اللہ) آپ نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھا ہے جو اللہ تعالیٰ کے عذاب کو دعوت دینے مرادف ہے۔ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ آنحضرت ﷺ نے عذاب الٰہی کو دعوت دینے والا کوئی کام نہیں کیا، اس کے برعکس آخرت کے منکرین ضرور عذاب کا کام کر رہے ہیں۔ دوسرا احتمال کافروں نے یہ ذکر کیا تھا کہ (معاذ اللہ) آپ کو جنون لاحق ہوگیا ہے، اور جنون کی حالت میں اگرچہ عذاب نہیں ہوتا، لیکن مجنون راستے سے بھٹکا ہوا ضرور ہوتا ہے۔ اس کے جواب میں فرمایا گیا ہے کہ آپ نہیں، بلکہ منکرین…
Read the full tafseer →افلم یروا الی ۔۔۔۔۔۔ لکل عبد منیب (9) ” “۔
یہ ایک سخت ڈراؤنا کائناتی منظر ہے۔ یہ منظر ان کے مشاہدات سے ماخوذ ہے جن کو وہ رات اور دن دیکھتے رہتے ہیں۔ زمین کا دھنس جانا بھی انسانی مشاہدہ ہے اور قصص اور روایات میں بھی آتا ہے۔ اسی طرح شہاب ثاقب کے گرنے اور بجلیوں کے گرنے سے بھی آسمانی چیزیں گرتی رہی ہیں۔ یہ سب چیزیں ان کو دیکھی سنی ہیں۔ اس قدر خوفناک حالات کی طرف ان کو متوجہ کرکے ڈرایا جاتا ہے جو قیام قیامت کا انکار کرتے ہیں۔ اگر قیام قیامت سے پہلے ہی اللہ ان کو عذاب دینا چاہئے تو یہ کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ اسی زمین اور اسی آسمان میں ان کو یہ عذاب دے دیا جائے جو ان کے آگے پیچھے ان کو گھیرے ہوئے ہے…
Read the full tafseer →3 یعنی کیا یہ لوگ اندھے ہوگئے ہیں کہ آسمان و زمین بھی نظر نہیں آتے جو آگے پیچھے ہر طرف نظر ڈالنے سے نظر آسکتے ہیں۔ ان کو تو وہ بھی مانتے ہیں کہ اللہ نے بنایا ہے پھر جس نے بنایا اسے توڑنا کیا مشکل ہے اور جو ایسے عظیم الشان اجسام کو بنا سکتا اور توڑ پھوڑ سکتا ہے اسے انسانی جسم کا بگاڑ دینا اور بنانا کیا مشکل ہوگا۔ یہ لوگ ڈرتے نہیں کہ اسی کے آسمان کے نیچے اور زمین کے اوپر رہ کر ایسے گستاخانہ کلمات زبان سے نکالیں۔ حالانکہ خدا چاہے تو ابھی ان کو زمین میں دھنسا کر یا آسمان سے ایک ٹکڑا گرا کر نیست و نابود کر دے اور قیامت کا چھوٹا سا نمونہ دکھلا دے۔
4 یعنی جو بندے عقل و انصاف سے کام لے کر اللہ کی طرف…
Read the full tafseer →آیت 9 { اَفَلَمْ یَرَوْا اِلٰی مَا بَیْنَ اَیْدِیْہِمْ وَمَا خَلْفَہُمْ مِّنَ السَّمَآئِ وَالْاَرْضِ } ”تو کیا انہوں نے دیکھا نہیں جو ان کے سامنے ہے اور جو ان کے پیچھے ہے آسمان اور زمین میں سے !“
کیا یہ لوگ اس کائنات کا مشاہدہ نہیں کرتے جو ان کے سامنے ہے اور کیا یہ ان تاریخی شواہد و بصائر سے سبق حاصل نہیں کرتے جو ان کے پیچھے ہیں۔ گویا یہاں اس چھوٹے سے فقرے میں ”تذکیر بآلاء اللہ“ کا حوالہ بھی آگیا اور ”تذکیر بایام اللہ“ کا بھی۔
{ اِنْ نَّشَاْ نَخْسِفْ بِہِمُ الْاَرْضَ } ”اگر ہم چاہیں تو انہیں زمین میں دھنسا دیں“
{ اَوْ نُسْقِطْ عَلَیْہِمْ کِسَفًا مِّنَ السَّمَآئِ } ”یا ان پر آسمان کا کوئی ٹکڑا…
Read the full tafseer →12 وہ اس بات پر یقین رکھتے ہیں اس زمین و آسمان کو پیدا کرنے والا اور اس کائنات کا انتظام چلانے والا اللہ تعالیٰ ہے۔ اور یہی زمین و آسمان انھیں ہر طرف سے گھیرے ہوئے ہے۔ اس کی حدود سے وہ باہر نہیں جاسکتے۔ زمین کا مالک اللہ ہے وہ زمین کو حکم دے کر انھیں پکڑلے یا اندر جذب کرلے تو زمین کی مجال نہیں کہ وہ اللہ کے حکم سے سرتابی کرے۔ آسمان سے بھی وہ ان پر عذاب نازل کرسکتا ہے اور زمین کے نیچے سے بھی۔ پھر آخر یہ کس بوتے پر اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت پر تلے بیٹھے ہیں۔
13 نظام کائنات میں صرف ایک نشانی نہیں بیشمار نشانیاں ہیں۔ مگر یہ نشانیاں ہر ایک کے لئے نہیں بلکہ صرف اس شخص کے لئے جو عقل و انصاف اور…
Read the full tafseer →9۔ کہ وہی ان کے دل کو قدرت الہی کی عظمت کے دلائل سے لبریز کردینے کے لئے کافی ہیں۔ جو ایسے اجرام عظیمہ کا ابتداء پیدا کرنے والا ہے وہ کیا اجسام صغیرہ کے خلق ثانی پر قادر نہیں ؟
10۔ (آیت) ’ عبد منیب “۔ یعنی جس کے دل میں حق کی طلب اور اللہ کی طرف جھکاؤ ہے۔ مطلب یہ کہ دلیل تو قدرت الہیہ کی پوری پوری موجود ہے مگر ان لوگوں میں طلب ہی نہیں، اس لئے یہ محروم ہیں۔ (آیت) ” ان ..... السمآء “۔ لیکن حکمت مقتضی ہے تاخیر کو، اور اس لئے انہیں مہلت دے رکھی گئی ہے۔
11۔ (کہ انہیں زمین کی ایک بڑی مملکت کا حکمران بنادیا تھا) (آیت) ” فضلا “۔ صیغہ نکرہ اظہار عظمت واہمیت کے لئے ہے۔ وتنکیرہ للتفخیم (روح) (آیت) ” منا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
آیت نمبر 1 تا 9
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے، تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے سزاوار ہیں جس کی ملکیت میں وہ سب کچھ ہے جو آسمانوں اور زمین میں ہے، اللہ تبارک و تعالیٰ نے (اس کلام) کے ذریعہ اپنی تعریف فرمائی ہے، اور مراد اس کلام سے، اس کلام کے مضمون کے ذریعہ، کہ وہ ثبوت حمد ہے تعریف کرنا ہے، اور حمد اللہ تعالیٰ کے لئے صفات کمالیہ کا بیان کرنا ہے ملک کے اعتبار سے اور تخلیق کے اعتبار سے اور غلام ہونے کے اعتبار سے اور دنیا کے مانند آخرت میں بھی اسی کی حمد ہے، اس کے اولیاء جب جنت میں داخل ہوں گے تو اس کی حمد بیان کریں گے وہ اپنے فعل میں بڑی حکمتوں والا ہے اور…
Read the full tafseer →افلم یروا الی ما بین ایدیھم وما خلفھم من السمآء والارض ان نشانخسف بھم الارضاو
نقسط علیم سفًا من السمآء . کیا انہوں نے اپنے آگے پیچھے آسمان و زمین کو نہیں دیکھا کہ اگر ہم چاہیں تو ان کو زمین میں دھنسا دیں یا ان پر آسمان کے ٹکڑے گرا دیں ؟
مَا بَیْنَ اَیْدِیْھِمْ وَمَا خَلْفَھُمْ سے مراد ہیں وہ چیزیں جو ہر طرف محیط ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ مشاہدۂ کائنات ‘ صانع مختار کی قدرت کاملہ کو ثابت کر رہا ہے ‘ پھر ایسے قادر و مختار کیلئے دوبارہ زندہ کر کے اٹھانا کس طرح ناممکن ہوسکتا ہے۔ جو شخص بعث و حشر کی خبر دے رہا ہے ‘ اس کے عقلمند اور صادق ہونے کا انکار کس طرح کیا جاسکتا ہے ‘ جبکہ وہ پہلے سے عقلمند اور صادق…
Read the full tafseer →کیا ان کفار مکہ نے آسمان و زمین کی طرف نظر نہیں کی جو ان کے اوپر نیچے موجود ہے اگر ہم چاہیں تو ان کو زمین میں دھنسا دیں یا اگر چاہیں تو ان پر آسمان کے ٹکڑے گراکر ان کو ہلاک کردیں۔
آسمان و زمین کی مذکورہ دلیل میں قدرت خداوندی کی ہر اس بندہ کے لیے جو کہ اللہ تعالیٰ اور اس کی عبادت کی طرف متوجہ ہو پوری دلیل ہے۔
Read the full tafseer →اَفَلَمْ يَرَوْا اِلٰى مَا بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ مِ۔۔ : فرمایا، آخرت کا انکار زمین و آسمان کی پیدائش میں غور و فکر نہ کرنے کا نتیجہ ہے، ورنہ اگر یہ اپنے آگے اور پیچھے چاروں طرف پھیلے ہوئے آسمان اور زمین کے پیدا کرنے پر غور کرتے، جن کی وسعت ان کے خیال سے بھی زیادہ ہے تو زمین و آسمان کو پیدا کرنے والے کے لیے انسان کو دوبارہ پیدا کرنے پر نہ تعجب کرتے، نہ اس کا انکار کرتے، کیونکہ آسمان و زمین کی پیدائش کے مقابلے میں ان کی تخلیق تو کوئی حیثیت ہی نہیں رکھتی، جیسا کہ فرمایا : (ءانتم اشد خلقا ام السماء بنھا) [ النازعات : 27 ] ”کیا پیدا کرنے میں تم زیادہ مشکل ہو یا آسمان ؟ اس نے اسے…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ نے آگاہ کیا کہ وہ ذات پاک جو آسمانوں، زمین اور جو کچھ کے درمیان ہے ان کو پیدا کرنے پر قادر ہے تو وہ دوبارہ اٹھا نے اور انہیں جلد سزا دینے پر بھی قادر ہے۔ اپنی اس قدرت کے ساتھ ان پر استدالال کیا اور یہ بتایا کہ آسمان اور زمین اس کی ملک ہیں یہ دونوں ان کو ہر جانب سے گھیرے ہوئے ہیں تو وہ زمین میں دھنسائے جانے اور آسمان کا ٹکڑا گرائے جانے سے کیسے امن میں ہیں ؟ جس طرح اللہ تعالیٰ نے قارون اور اصحاب ایکہ کے ساتھ کیا۔ حمزہ اور کسائی نے ان یشاء یخسف بھم الارضاو یسقط میں تینوں فعل یاء کے ساتھ پڑھے ہیں، یعنی اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو اللہ تعالیٰ زمین کو حکم دے تو زمین ان کو دھنسا دے، آسمان کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
1۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے آیت وہوالحکیم الخبیر کے بارے میں روایت کیا کہ وہ حکیم ہے اپنے کام میں باخبر ہے اپنی مخلوق سے۔
2۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) روایت کیا کہ آیت یعلم مایلج فی الارض (وہ جانتا ہے جو چیز داخل ہوتی ہے زمین میں) یعنی بارش آیت وما یخرج منہا (اور جو چیز نکلتی ہے اس میں سے) یعنی سبزے میں سے آیت وما ینزل من السماء اور جو نازل ہوتا ہے آسمان سے یعنی فرشتے آیت وما یعرج فیہا اور جو اس میں چڑھتے ہیں یعنی فرشتہ۔
3۔ عبدالرزاق وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ رحمۃ الہ علیہ سے روایت کیا کہ آیت قل بل وربی لتاتینکم۔ علم الغیب کیوں نہیں اور میرا رب جو…
Read the full tafseer →اَفَلَمْ يَرَوْا [تو کیا ان لوگوں نے غور نہیں کیا ] اِلٰى مَا [اس کی طرف جو ] بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ [ان کے سامنے ہے ] وَمَا خَلْفَهُمْ [اور جو ان کے پیچھے ہے ] مِّنَ السَّمَاۗءِ وَالْاَرْضِ ۭ [آسمان اور زمین سے ] اِنْ نَّشَاْ [اگر ہم چاہتے ] نَخْسِفْ بِهِمُ [تو ہم دھنسا دیتے ان کو ] الْاَرْضَ [زمین میں ] اَوْ نُسْقِطْ عَلَيْهِمْ [یا ہم گرا دیتے ان پر ] كِسَفًا [کوئی ٹکڑا ] مِّنَ السَّمَاۗءِ ۭ [آسمان سے ] اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ [بیشک اس میں ] لَاٰيَةً [یقینا ایک نشانی ہے ] لِّكُلِّ عَبْدٍ مُّنِيْبٍ [ہر رجوع کرنے والے بندے کے لئے ] ۔
Read the full tafseer →پھر ان لوگوں کا تعجب دور کرنے کے لیے فرمایا (اَفَلَمْ یَرَوْا اِلٰی مَا بَیْنَ اَیْدِیْھِمْ وَ مَا خَلْفَھُمْ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ ) اس میں یہ بتایا کہ دیکھو تمہارے سامنے آسمان ہیں اور زمین ہے، تمہیں معلوم ہے کہ ان کا کتنا وجود ہے، کتنی وسعت ہے، یہ بھی مانتے ہو کہ انہیں اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمایا جس نے انہیں پیدا فرمایا اس کے بارے میں یہ غلط خیال کیسے کرنے لگے کہ وہ چھوٹی سی مخلوق کو یعنی تمہارے وجود کو دوبارہ پیدا نہ کرسکے گا۔ اسی کو سورة المومن میں یوں فرمایا (لَخَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اَکْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَلٰکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لاَ یَعْلَمُوْنَ ) (البتہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–9
اثبات معاد مقرون بہ قسم برائے تہدید اہل کفر وعناد
قال اللہ تعالی۔ وقال الذین کفروا لا تاتینا الساعۃ۔۔۔ الی۔۔۔ ان فی ذلک لایۃ لکل عبد منیب۔
(ربط) اوپر تحمید اور توحید کا ذکر تھا اب آئندہ آیت میں منکرین حشر کی ایک بیہودہ بات کا ذکر کر کے اس کا رد فرماتے ہیں اور بیہودگی پر تہدید بھی فرماتے ہیں۔ (شیخزادہ ص 79 ج 4)
اور یہ بتلاتے ہیں کہ قیامت ضرور آئے گی اور جو لوگ قیامت کے ساتھ استہزا کرتے ہیں ان کو ان کے اعمال کی ضرور سزا ملے گی چناچہ فرماتے ہیں اور کافر اور مشرک جو امانت کے ثواب اور خیانت کے عقاب کے منکر ہیں اور حیات دنیاوی پر بھروسہ کئے ہوئے ہیں یہ کہتے ہیں کہ ہم پر قیامت نہیں آئے گی ہمیں کسی…
Read the full tafseer →9:۔ افلم یروا الخ : یہ تخویف دنیوی ہے۔ یہ لوگ کس قدر بیباک اور نڈر ہیں اور کیسی ڈھٹائی سے اللہ کی کتاب، مسئلہ توحید، پیغمبر خدا ﷺ اور قیامت کے دن کی تکذیب کر رہے ہیں کیا انہوں نے آنکھیں کھول کر اپنے اوپر اور نیچے زمین و آسمان کو کبھی نہیں دیکھا جنہوں نے ان کو ہر طرف سے گھیر رکھا ہے ؟ ان کا انکار وعناد تو اس حد تک پہنچ چکا ہے کہ انہیں دنیا ہی میں ہولناک عذاب سے ہلاک کردیا جائے۔ اگر ہم چاہیں تو اقوام گذشتہ کی طرح انکار اور تکذیب کے جرم میں ان کو زمین میں دھنسا کر یا آسمان سے پتھر برسا کر تباہ و برباد کردیں۔ استئناف مسوق لتھویل ماجترء وا علیہ من تکذیب آیات اللہ تعالیٰ و استعظام ما قالوا فی حقہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
سورة سبا کی ابتداء خدا تعالیٰ کی حمد وثناء سے ہوئی۔ دنیا و آخرت میں اسی کے لیے تعریف ہے۔ اللہ تعالیٰ علیم کل ہے اور وہ ذرے ذرے کو جانتا ہے پھر اللہ نے قیامت کے متعلق فرمایا کہ کافر لوگ پختہ قسمیں اٹھا کر کہتے ہیں کہ قیامت نہیں آئے گی مگر اللہ نے اپنے نبی کو مخاطب کرکے فرمایا کہ آپ ان سے کہہ دیں کہ میرے رب کی قسم قیامت ضرور وارد ہوگی۔ خدا تعالیٰ عالم الغیب ہے آسمان و زمین کی ہر چھوٹی بڑی چیز اس کے علم میں ہے اور کوئی ذرہ برابر چیز بھی اس سے مخفی نہیں۔ اس کے علاوہ ہر چیز خدائی رجسٹر میں بھی محفوظ ہے۔ لہذا کسی چیز سے صرف نظر کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ فرمایا قیامت کی آمد اس لیے ضروری ہے تاکہ اہل…
Read the full tafseer →اَفَلَمْ يَرَوْا اِلٰى مَا بَيْنَ اَيْدِيْہِمْ وَمَا خَلْفَہُمْ مِّنَ السَّمَاۗءِ وَالْاَرْضِ 0 ۭ اِنْ نَّشَاْ نَخْسِفْ بِہِمُ الْاَرْضَ اَوْ نُسْقِطْ عَلَيْہِمْ كِسَفًا مِّنَ السَّمَاۗءِ 0 ۭ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيَۃً لِّكُلِّ عَبْدٍ مُّنِيْبٍ 9 ۧ
بين
بَيْن موضوع للخلالة بين الشيئين ووسطهما . قال تعالی: وَجَعَلْنا بَيْنَهُما زَرْعاً «1» [ الكهف/ 32] ، يقال : بَانَ كذا أي : انفصل وظهر ما کان مستترا منه، ولمّا اعتبر فيه معنی الانفصال والظهور استعمل في كلّ واحد منفردا، فقیل للبئر البعیدة القعر : بَيُون، لبعد ما بين الشفیر والقعر لانفصال حبلها من يد صاحبها .
( ب ی ن ) البین
کے معنی دو چیزوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
وقال الذین کفروا اس جگہ ان اہل علم و ایمان کے برخلاف احمق لوگوں کا قول نقل کرتا ہے کہ منکر یہ کہتے ہیں کہ ایسا شخص بھی دیکھا ہے کہ جو مرنے کے بعد جبکہ جسم کے ریزے ریزے ہوجاویں گے، دوبارہ زندگی ہونے کی خبر دیتا ہے۔ ایسے شخص سے ان کا اشارہ حضرت رسول کریم ﷺ کی طرف تھا، ھل ندلکم کہو تو ہم بتلادیں۔ یہ عرب کے محاورہ میں ایسی بات ہے کہ جس طرح ہماری زبان میں کہتے ہیں، کوئی ایسا بھی ہے ؟ یعنی وہ اس بات کے خبر دینے سے کہ مر کر زندہ ہوں گے، سخت تعجب کرتے ہیں اور رسول کو جھوٹا یا دیوانہ کہتے ہیں۔ افتراء بھی ایک قسم کا جھوٹ ہے، یعنی جان بوجھ کر جھوٹ بولنا اور ایک بات بنالینا، کوئی نئی قسم نہیں جس سے جھوٹ…
Read the full tafseer →اَفَلَمْ یَرَوْا اِلٰی مَابَیْنَ اَیْدِیْھِمْ وَمَا خَلْفَھُمْ مِّنَ السَّمَآئِ وَالْاَرْضِ ط اِنْ نَّشَاْنَخْسِفْ بِھِمُ الْاَرْضَ اَوْنُسْقِطْ عَلَیْہِمْ کِسَفًا مِّنَ السَّمَآئِ ط اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لِّـکُلِّ عَبْدٍمُّنِیْبٍ ۔ (السباء : 9)
(کیا انھوں نے اپنے آگے اور پیچھے آسمان اور زمین کو نہیں دیکھا، اگر ہم چاہیں تو ان کے سمیت زمین کو دھنسا دیں یا ان پر آسمان کے ٹکڑے گرا دیں، بیشک اس میں ایک بہت بڑی نشانی ہے ہر اس بندے کے لیے جو اللہ کی طرف رجوع کرنے والا ہو۔ )
مخالفین کی مخالفت کا اصل سبب
اسلام کے مخالفین اور معاندین کی تمام ترمخالفت اور عناد کے اصل سبب کو اس آیت کریمہ میں منکشف…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : گمراہ لوگوں کو انتباہ۔
یہاں منکرینٍ قیامت کو اس بات کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کیا یہ لوگ اس بات پر غور نہیں کرتے کہ انہیں اوپر نیچے اور آگے پیچھے سے زمین و آسمان نے گھیر رکھا ہے اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو ان کے کفر کی وجہ سے انہیں زمین میں دھنسا دے یا پھر آسمان سے کوئی آفت انہیں تہس نہس کردے اگر یہ غور کریں تو اس انتباہ میں ان کے لیے بڑی عبرت ہے۔ لیکن اس انتباہ سے وہی لوگ متنبہ ہوتے ہیں جو اپنے رب کی طرف رجوع کرنیوالے ہیں۔
آسمان کے حوالے سے ڈراتے ہوئے انہیں بتایا ہے کہ جس آسمان کی چھت کے تلے تم اللہ تعالیٰ کی بغاوت کرتے اور اپنی موت کے بعد زندہ ہونے کا انکار کرتے ہو اگر یہی…
Read the full tafseer →یہ تکذیب کر کے کیسے سے بچیں گے جب کہ آسمان و زمین اس کے گھیرے میں ہے :
9: اَفَلَمْ یَرَوْا اِلٰی مَابَیْنَ اَیْدِیْھِمْ وَمَا خَلْفَھُمْ مِّنَ السَّمَآ ئِ وَالْاَرْضِ اِنْ نَّشَاْ نَخْسِفْ بِہِمُ الْاَرْضَ (کیا انہوں نے آسمان و زمین کی طرف نظر نہیں کی جو ان کے آگے اور پیچھے موجود ہیں اگر ہم چاہیں تو ان کو زمین میں دھنسا دیں) اَوْتُسْقِطْ عَلَیْھِمْ کِسَفًا مِّنَ السَّمَآ ئِ (یا ان پر آسمان کا ٹکڑا گرا دیں) ۔
قراءت : نخسِفّ بھم علی نے ادغام سے پڑھا ہے۔ کیونکہ فاء اور باء میں تقارب پایا جاتا ہے۔ بعض نے اس کو اس لئے ضعیف کہا کیونکہ فاء کی آواز باء سے زائد ہے۔ نشأ نخسف اور نسقط ان تینوں کو یاء…
Read the full tafseer →9، افلم یروا الی مابین اید یھم وما خلفھم من السماء والا رض ، وہ اس بات کو جان لیں کہ جو کچھ زمین میں ہے اور جو کچھ آسمان میں ہے ان سب کو محیط ہے اس کے احاطہ سے کوئی نہیں نکل سکتا ۔ وہ سب پر قاد رہے ۔ ، ان نشانخسف بھم الارض، یہاں پر فاء کو باء میں مدغم کردیتے ہیں۔ ، اونسقط علیھم کسفا من السماء ، حمزہ اور کسائی نے اس کو پڑھا ہے۔ ان یاشا یخسف اویسقط، یاء کے ساتھ پڑ ھا ہے اور دوسرے قراء نے نون کے ساتھ پڑھا ہے۔ ، ان فی ذلک لایۃ ، زمین و آسمان میں ایسی نشانیاں موجود ہیں جو بعث پر دلالت کرتی ہیں۔ ، لکل عبید منیب، جو تا ئب ہوکر اللہ کی طرف لوٹنے والا ہے۔
Read the full tafseer →9۔ اس آیت میں انہی قیامت کے منکر لوگوں کو یوں سمجھایا گیا ہے کہ یہ لوگ کیا آنکھوں سے دیکھتے نہیں کہ ان کے آگے اور پیچھے آسمان اور زمین ہے کہ جہاں کہیں آتے جاتے ہیں آسمان اور کے سروں پر ہے اور نہ میں ان کے پیچھے ویہ دکھائی دیتے ہیں کیا وہ اندھے ہوگئے ہیں جو اتنا نہیں دیکھتے کہ یہ دونوں اللہ کی قدرت کی کتنی بڑی نشانیاں ہیں جب ان کے پیدا کرنے کی ہم میں پہلی دفعہ کی قدرت دیکھتے ہیں تو کیا ہم ان کو دوسری بار پیدا نہیں کرسکتے یا یہ سبب ان کے کفر اور جھٹلانے کے ان کے اوپر عذاب نازل نہیں کرسکتے اگر ہم چاہیں تو ان کو زمین میں دھسادیں یا گزری کریں ان پر آسمان سے ایک ٹکڑا لیکن ہم نے پانی بربادی کے سب سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–10
آیت 7
(وقال الذین کفروا) یعنی کفار تکیذب اور استہزاء کے طور پر اور دوبارہ زندگی کو نامکن قرار دیتے ہوئے ایک دوسرے سے کہتے ہیں : (آیت) ” کیا ہم تمہاری راہنمائی ایسے شخص کی طرف کریں جو تمہیں یہ خبر پہنچا رہا ہے کہ جب تم بالکل ہی ریزہ ریزہ ہوجاؤ گے تو تم پھر سے ایک نئی پیدائش میں آؤ گے۔ “ ان کی مراد رسول اللہ ﷺ ہیں۔ وہ آپ کے بارے میں کہتے ہیں کہ آپ ایک ایسے شخص ہیں جو ایک انوکھی چیز پیش کر رہے ہیں۔ ان کی نظر میں آپ ان کے لئے تفریح کا ایک ذریعہ ہیں اور ایک عجیب شے ہیں جن کا وہ مذاق اڑاتے ہیں اور تعجب کرتے ہیں کہ آپ کیسے یہ بات کہتے ہیں : ” جب تم بوسیدہ ہو کر ریزہ ریزہ ہوجاؤ گے تمہارا جوڑ جوڑ الگ…
Read the full tafseer →22 کائنات میں غور و فکر کی دعوت : سو حکمتوں اور عبرتوں بھری اس کائنات میں دعوت غور و فکر دیتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ کیا ان لوگوں نے کبھی اس عظیم الشان کائنات میں غور نہیں کیا جو ان کے آگے اور پیچھے ہر طرف پھیلی ہوئی ہے۔ اگر یہ لوگ آنکھیں کھول کر دیکھتے اور اپنے اردگرد پھیلی ہوئی ہماری اس حکمتوں بھری کائنات میں غور کرتے تو ان کے سامنے ان تمام باتوں کی معقولیت اور صداقت و حقانیت واضح ہوجاتی جن کی دعوت پیغمبر ان کو دے رہے ہیں۔ اور ان کو معلوم ہوجاتا کہ جس قادر مطلق نے آسمان و زمین کی اس عظیم الشان کائنات کو وجود بخشا، اس کے لئے ان کو دوبارہ پیدا کرنا آخر کیوں اور کیا مشکل ہوسکتا ہے ؟ جیسا کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–9
ﷲ کی قدرتیں اور کفار کی بےوقوفی اور ضد
تشریح : جیسا کہ پہلے اللہ کی حکمتوں کا ذکر ہوچکا ہے اور ہر مسلمان کا یہ عقیدہ ہے کہ اللہ سب سے بڑا ہے اور واحد ہے اس نے پوری کائنات کو تخلیق کیا تو اس کی ہر چیز کا حساب کتاب اس نے اپنے پاس لوح محفوظ میں محفوظ کر رکھا ہے یعنی پیدا ہونا پھولنا اور پھلنا پھر ختم ہو کر اللہ کی طرف ہی لوٹ جانا ہے کیونکہ اس نے کوئی چیز جاندار ہو یا بےجان بےمقصد پیدا نہیں کی۔ سب کی پیدائش کا ایک مقصد ہے۔ جو بھی اپنے مقصد سے ہٹ کر زندگی گزارے گا وہ ضرور دنیا میں تکلیف اٹھائے گا پھر اس امتحان کی زندگی کے بعد ایک دوسری زندگی آئے گی جو قیامت کے بعد شروع ہوگی اس وقت اس دنیا کے حساب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
سورة السبا
رکوع نمبر 1: آیات 1 تا 9:
اسرار و معارف :
تمام خوبیاں اور سب کمالات اللہ کو سزا وار ہیں کہ جو آسمانوں اور زمینوں کا اور ان میں موجود ہر ذرے کا خالق اور اکیلا مالک ہے اور وہ بہت ہی حکمت والا ہے اور ہر ذرے سے خوب واقف ہے اس جہان میں اور آخرت میں ہر ذرہ اس کی تاثیرات اور نتائج سب کا مالک وہی ہے۔ اللہ کو خوب علم ہے کہ زمین کے ذرات میں کس طرح بارش کا پانی سورج اور چاند کی کرنیں یا مختلف گیسیں داخل ہو کر کیا عمل کرتی ہیں اور پھر وہ ذرات کس طرح پھلوں پھولوں یا غذا میں تبدیل ہو کر نکلتے ہیں اور کون سا ذرہ کس جسم کی تعمیر کے لیے تیار کرکے کس کس طویل راستے سے اس بدن تک پہنچے گا نیز اللہ خوب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
ف 4 یعنی آسمان و زمین کی تخلیق، اللہ تعالیٰ کے کمال قدرت کی نشانی اور اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ دوبارہ زندہ کرنے پر قدرت رکھتا ہے۔ ( کبیر) ۔5 اس میں تہدید ہے کہ یہی چیزیں جن کو تم نفع بخش اور زندگی کا سبب سمجھتے ہو اللہ تعالیٰ اگر چاہے تو انہی چیزوں کو تمہاری ہلاکت کا جواب بنا سکتا ہے۔ ( کبیر) ۔6 کہ جس نے اتنا بڑا پر از حکمت نظام بنایا ہے وہ دوبارہ زندہ بھی کرسکتا ہے۔ ( کبیر) یا مطلب یہ ہے کہ اس کی عنایت و فضل سے ہم بچے ہوئے ہیں ورنہ وہ ایک دم میں ہمیں ہلاک کرسکتا ہے۔ یہ زمین بھی اسی کی ہے اور آسمان بھی اسی کے ہیں، بھاگ کر کہاں جام سکتے ہیں۔ ( وحیدی) اس کے بعد رجوع کرنے والے بندوں میں…
Read the full tafseer →(33:9) افلم یروا۔حرف عطف ہے ہمزہ استفہامیہ ہے عموما حروف استفہام (کیف، این ، انی، ھل، ای، ما، وغیرہ) حرف عطف کے بعد واقع ہوتے ہیں لیکن ہمزہ حرف عطف پر اس امر سے آگاہ کرنے کے لئے پہلے لایا جاتا ہے کہ صدر کلام میں آنے کے واسطے اصلی حرف یہی ہے۔ تو کیا انہوں نے نہیں دیکھا ۔ کیا وہ نہیں دیکھتے۔
من السماء والارض۔ من تبعیضیہ ہے۔ آسمان اور زمین میں سے جو ان کے اپنے آگے اور اپنے پیچھے ہے کیا یہ اس کو نہیں دیکھتے (جو اپنی جسامت ووسعت کے لحاظ سے ان کے دل کو قدرت الٰہی کی عظمت کے دلائل سے لبریز کردینے کے لئے کافی ہیں) جو ایسے اجسام عظیمہ کا ابتداء پیدا کرنے والا ہے کیا وہ اجسام صغیرہ کی خلق ثانی پر قادر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
لغات القرآن : آیت نمبر 7 تا 9
ندل : ہم بتائیں گے
ینبی : وہ بتاتا ہے
مزقتم : تم ریزہ ریزہ ہوگئے
جنۃ : جنون۔ دیوانگی
الضلال : گمراہی
نخسف : ہم دھنسا دیں گے
نسقط : ہم گرا دیں گے
کسف : ایک ٹکڑا۔ ایک حصہ
ایۃ : نشانی۔ نشان عبرت
منیب : لوٹنے والا۔ رجوع کرنے والا
تشریح : آیات 7 تا 9
بنیادی طور پر جانوروں اور انسان میں یہ فرق ہے کہ جانور فکر اور تدبر سے محروم ہے جب کہ انسان تفکر اور تدبر کرسکتا ہے ۔ مال و دولت اور دنیاوی اسباب میں کمی اتنی بڑی بد قسمتی اور محرومی نہیں ہے جتنی یہ بات کہ انسان فکر و تدبر اور ہدایت سے محروم ہوجائے۔ جب نبی کریم ﷺ مکہ کے کافروں سے یہ فرماتے تھے کہ ایک دن یہ دنیا اور اس میں…
Read the full tafseer →(ف 1) اس آیت میں انہی قیامت کے منکرلوگوں کو یوں سمجھایا گیا ہے کہ یہ لوگ کیا آنکھوں سے دیکھتے نہیں کہ ان کے آگے اور پیچھے آسمان اور زمین ہے کہ جہاں کہیں آتے جاتے ہیں آسمان ان کے سروں پر ہے اور زمین ان کے نیچے ہے مطلب یہ ہے کہ آسمان اور زمین ان کو گھیرے ہوئے ہیں آگے پیچھے وہی دکھائی دیتے ہیں کیا وہ اندھے ہوگئے ہیں جو اتنا نہیں دیکھ سکتے کہ یہ دونوں اللہ کی قدرت کی نشانیاں ہیں جب ان کو پیدا کرنے کی ہم میں پہلی دفعہ قدرت دیکھتے ہیں تو کیا ہم ان کو دوسری مرتبہ پیدا نہیں کرسکتے، یابہ سبب ان کے کفر اور جھٹلانے کے ان کے اوپر عذاب نہیں نازل کرسکتے، اگر ہم چاہیں تو ان کو زمین میں دھنسا دیں یا ان پر…
Read the full tafseer →[10] یعنی یہ لوگ عقل و انصاف سے کام لے کر اللہ کی طرف رجوع کرتے اور اس سے طالب ہدایت ہوتے ہیں ان کے لئے آسمان و زمین میں بڑی بھاری نشانی موجود ہے۔ وہ اس منظم اور پُر حکمت نظام کو دیکھ کر سمجھتے ہیں کہ یہ ضرور ایک دن کسی اعلیٰ و اکمل نتیجے پر پہنچنے والا ہے جس کا نام '' دارالاخرۃ '' ہے۔
Read the full tafseer →ف 2: یہ تہدیدی دلیل ہے ۔ غرض یہ ہے کہ یہ دنیائے فانی کو دائمی نہ سمجھیں ۔ اگر ہم چاہیں ۔ تو چشم زون میں اس کو تباہ کردیں ۔ اور پھر یہ دیکھیں کہ اس عالم کے متلق ان کے مرفوعات کس درجہ لغو اور غلط ہیں ۔
Read the full tafseer →(9) بھلا کیا انہوں نے آسمان اور زمین کی طرف نظر نہیں کی جو ان کے آگے بھی اور پیچھے بھی موجود ہیں اگر ہم چاہیں تو ان کو زمین میں دھنسا دیں یا اگر ہم چاہیں تو ان پر آسمان سے کوئی ٹکڑا گرا دیں۔ اس دلیل مذکور میں بڑی واضح اور سبق آموز دلیل ہے اس بندے کیلئے جو اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنیوالا ہے۔ یعنی آسمان و زمین جو ان کو دکھائی دیتے ہیں اور جہاں جائیں یہ ان کا احاطہ کئے ہوئے ہیں۔ ان زمین و آسمان پر نظر نہیں کرتے اور غور و فکر سے کام نہیں لیتے کہ زمین و آسمان کے گھیرے میں گھرے ہوئے انسانوں کی کیا بساط جب اللہ تعالیٰ چاہے زمین میں قارون کی طرح دھنسا دے اور چاہے تو ایکہ والوں کی طرح جو حضرت شعیب…
Read the full tafseer →ف 1۔ یعنی دلیل تو کافی ہے مگر ان کی طرف سے طلب نہیں اس لئے محروم ہیں۔
Read the full tafseer →کیا ان لوگوں کو معلوم نہیں ہے کہ وہ آسمان و زمین میں پابند کیے گئے ہیں۔
9 ۔ قیامت کے آنے سے تعجب کرنے والوں کو کیا یہ نظر نہیں آتا کہ وہ آسمان و زمین کے درمیان گھرے ہوئے ہیں اور آسمان و زمین کو پیدا کرنے والا اور اس کا نظام چلانے والا بھی وہی ہے جس نے محمد رسول اللہ ﷺ کو رسول بنا کر معبوث کیا اور ان پر اپنا پیغام نازل کیا ہے اس پیغام کو رسول پڑھ کر سنا رہا ہے جس کا یہ مذاق اڑا رہے ہیں اس لئے ان مذاق اڑانے والوں کو اگر وہ چاہے تو زمین میں دھنسا دے اور چاہے آسمان سے کوئی چیز گرا کر ان کو تہس نہس کر دے اس کے لئے آخر مشکل ہی کیا ہے۔ تعجب تو ان لوگوں پر ہے جو چاروں طرف سے گھرے ہوئے ہیں اور اگر یہ…
Read the full tafseer →The last verse (9): أَفَلَمْ يَرَوْا إِلَىٰ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُم (Have they not, then, looked to the sky and the earth that lies before them and behind them? ) carries two chastening messages:
(1) It proves that one can come to believe in the coming of the Qiyamah by pondering over what has been created in the heavens and the earth, and once the perfect power of Allah Ta’ ala becomes visible through observation, the element of improbability which prohibited its deniers from accepting it could stand removed.
(2) Then, right along with this positive invitation to see and…
Read the full tafseer →11 This is the first answer to their charge. It means: "O foolish people, it is you who have lost your reason. For you do not listen to the one who is informing you of the truth and arc recklessly galloping on the way that leads to Hell. But the height of your stupidity is that you are calling the one who is anxious for your salvation, mad."
12 This is the second answer to their charge. To understand it well one should bear in mind the fact that three things were most prominent among the reasons for which the disbelieving Quraish denied the life-after-death: (1) They did not want to believe…
Read the full tafseer →