34. Surah Saba
سبإSheba · 54 ayahsبصیرتِ قرآن
تعارف
تعارف
سورة نمبر ٣٤ سورة نمبر : ٣٤ کل رکوع : ٦ آیات : ٥٤ الفاظ و کلمات : ٨٩٦ حروف : ٣٦٣٦ مقام نزول : مکہ مکرمہ اللہ کا یہ اٹل قانون ہے کہ جن لوگوں نے اللہ کی اطاعت و فرمانبرداری کی اور دین کے بنیادی اصولوں کی پابندی اختیار کی اللہ نے ان کو دنیا میں بھی کامیاب کیا اور آخرت کی ہر نعمت ان کو دی جائے گی لیکن جن لوگوں نے اللہ اور اس کے رسولوں کی نافرمانی کا طریقہ اختیار کیا اور انہوں نے اپنی دولت اور عالی شان عمارتوں پر بےجا فخر و غرور کیا تو ان کو دنیا میں تو یہ سزا دی گئی کہ ان کا سب تباہ و برباد کردیا گیا اور آخرت میں ان کو سخت سزا دی جائے گی۔ رزق میں وسعت اور تنگی یہ دونوں اللہ کی طرف سے ہیں وہ جس کو چاہتا ہے اس کو رزق دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے اس کی روزی کو تنگ کردیتا ہے وہی سب سے بہتر رازق ہے وہی برے حالات کو بہتر حالات میں تبدیل کردیتا ہے۔ تعارف سورة سبا سورة سبا میں اللہ تعالیٰ نے حضرت دائود ، حضرت سلیمان (علیہ السلام) اور قوم سباد دونوں کے واقعات زندگی بیان کر کے کفار عرب کو آگاہ کیا ہے کہ وہ ان میں سے جس کی زندگی کو بھی اپنائیں گے دونوں کا انجام واضح ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان واقعات کے ذریعہ ہر ایک کے ضمیر سے ایک ہی سوال کیا ہے کہ وہ اس بات پر غور کرکے فیصلہ کرے جب اللہ کے فرما نبرداروں اور اور نافرمانوں کا ایک جیسا انجام نہیں ہے تو اب وہ ان دونوں میں سے کونسا راستہ اختیار کرکے کامیاب یا ناکام ہونا چاہتا ہے ۔ حضرت دائود اور ان کے صاحبزادے نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے زبردست حکومتیں اور سلطنتیں عطا فرمائی تھیں مگر انہوں نے اور ان کے ماننے والوں نے کفر و شرک اور غرور تکبر کے بجائے اللہ کا شکر اور مصائب پر صبر کرنے کو زندگی بنایا تو آج بھی ان کا نام عزت سے لیا جاتا ہے اور قیامت تک ان کو یہ عظمتیں حاصل رہیں گی۔ اس کے برخلاف قوم سبا جس کو اللہ نے ایک ہزار سال تک دنیا پر حکومت کرنے کا موقع عنایت فرمایا۔ سوکت، حشمت، عزت سر بلندی و دولت سے مالا مال فرمایا۔ ان کی ہدایت کے لئے بےسما انبیاء کرام کو بھیجا مگر انہوں نے اللہ سے بغاوت کرکے نافرمانی کا طریقہ اختیار کیا۔ بت پرستی اور جہالت کے ہزاروں وہ طریقے اختیار کیے جن سے اللہ کا غضب جوش میں آگیا اور ان کو اتنی سخت سزادی گئی کہ آج ان کا کوئی نام لیوا تک موجود نہیں ہے۔ ان کی عالی شان عمارتوں اور مکانات کے کھنڈرات بھی پکار کار کر کہہ رہے ہیں کہ اللہ تو اپنے بندوں پر بہت مہر بان ہے لیکن جو لوگ نافرمانی کا طریقہ اختیار کرتے ہیں ان کو دنیا سے اس طرح مٹا دیا جاتا ہے کہ پھر ان کا ذکرصرف قصے کہانیاں بن کر رہ جاتا ہے ۔ یہ اللہ کا ایسا دستور اور طریقہ ہے جو ہمیشہ سے جاری ہے اور ہمیشہ جاری رہے گا۔ فرمایا گیا ہے کہ شیطان جو انسان کا ازالی دشمن ہے وہ لوگوں کا بہکا کر غلط راستے پر ڈال دیتا ہے اور اس طرح وہ عذاب الہٰی کا شکا ہوجاتے ہیں لیکن جو اللہ کے نیک بندے ہیں وہ شیطان کے پھیلائے ہوئے جال میں کبھی نہیں پھستے۔ اس سورة میں اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن میدان حشر میں کفار و مشرکین اور ان بتوں کا ذکر کیا ہے جنہیں انہوں نے دنیا میں اپنا سفارشی اور معبود بنا رکھا تھا کہ وہ ایک دوسرے پر الزامات لگائیں گے اور لعنتیں بھیجیں گے مگر اس وقت ان کا پچھتانا ان کے کام نہ آسکے گا اور ان دونوں کو جہنم میں جھونک دیا جائے گا۔ نبی کری م (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کفار مکہ کی باتوں سے شدید رنج پہنچتا تھا اللہ نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ماننے والوں کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ اگر آج یہ کفار مشرکین اپنی ہٹ دھرمی اور ضد پر اڑے ہوئے ہیں اور آپ کی تعلیمات کع جھٹلا رہے ہیں تو یہ ایسی نئی بات نہیں ہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پہلے جتنے بھی انبیاء کرام (علیہ السلام) تشریف لائے ہیں ان کو اسی طرح جھٹلایا گیا ، تنگ کیا گیا مگر اللہ نے ان انبیاء کو اور ان کے ماننے والوں کو کامیاب فرمایا۔ آپ بھی اسی طرح کامیاب و با مراد ہوں گے فرمایا کہ جو لوگ اپنے مال و دولت اور چھوٹی چھوٹی سرداریوں پر اس قدر اترا رہے ہیں ان کو تاریخ سے سبق سیکھنا چاہیے کیونکہ اللہ کا دستور یہ ہے کہ اگر انہوں نے اللہ کی نافرمانی کا طریقہ اختیار کیا تو یہ مال و دولت اور حکومت و سلطنت ان کے کسی کام نہ آسکے گی اور اگر انہوں نے اللہ و رسول کا کہا مانا اور ان کے راستے پر چلے تو ان کے لیے جنت کے وہ بہترین اور حسین و خوبصورت باغات ہوں گے جن میں وہ آرام و سکون اور چین و اطمینان سے ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ ان کی ہر نیکی کا ان کو پورا پورا بدلہ دیا جائے گا لیکن جن لوگوں نے اپنے مال و دولت اور عظیم الشان عمارتوں پے بےجا فکر و غرور کرکے کفر و شرک کا راستہ اختیار کیا تو ان کو جہنم کی ابدی اور ہمیشہ رہنے والی آگ کا ایندھن بننا پڑے گا۔ فرمایا کہ رزق کی وسعت اور رزق میں تنگی یہ سب اللہ کر طرف سے ہے وہ جس کو چاہتا ہے رزق بہت زیادہ وسیع کردیتا ہے اور جس کا چاہتا ہے اس کے حالات کو اس پر تنگ اور محدود کردیتا ہے ۔ اگر کسی کو اللہ نے مال و دولت سے نوازا ہے تو یہ اس بات کی دلیل نیں ہے کہ وہ اللہ کا بہت پیارا ہے اور وہ اللہ کے ہاں بہت مقبول ہے ۔ اس سورة میں یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ کفار مکہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کبھی دیوانہ کبھی شاعر اور کبھی جادوگر کہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ کفار سب کے سب سر جوڑ کر بیٹھ جائیں اور پھر غور کریں کہ وہ جتنے الزامات نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر لگا رہے ہیں جنہوں نے پوری زندگی مکہ ہی میں گزاری ہے کیا ان میں سے ان کے متعلق ایک بات بھی درست اور صحیح ہے۔ اگر ان کے الزامات غلط اور بےبنیاد ہیں تو انہیں اللہ سے توبہ کرنا چاہیے تاکہ آخرت کی کامیابیاں انہیں نصیب ہوسکیں اگر انہوں نے ضد اور ہٹ دھرمی کا یہی انداز جاری رکھا تو پھر وہ دنیا و آخرت کی ہر نعمت سے محروم کردیئے جائیں گے۔
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ وَ لَهُ الْحَمْدُ فِی الْاٰخِرَةِ١ؕ وَ هُوَ الْحَكِیْمُ الْخَبِیْرُ Open ayah 34:1 in the Quran reader
تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں ۔ جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے وہ اسی کی ملکیت ہے ۔ اور آخرت کی ہر تعریف بھی اسی کے لئے ہے۔ وہی حکمت والا اور (ہر چیز کی) خبر رکھنے والا ہے۔
یَعْلَمُ مَا یَلِجُ فِی الْاَرْضِ وَ مَا یَخْرُجُ مِنْهَا وَ مَا یَنْزِلُ مِنَ السَّمَآءِ وَ مَا یَعْرُجُ فِیْهَا١ؕ وَ هُوَ الرَّحِیْمُ الْغَفُوْرُ Open ayah 34:2 in the Quran reader
جو چیز زمین میں داخل ہوتی ہے اور جو کچھ اس سے نکلتی ہے اور جو کچھ آسمانوں سے نازل ہوتا ہے اور جو کچھ اس میں چڑھتا ہے وہ ہر چیز سے واقف ہے ۔ وہ نہایت رحم کرنے والا بخشنے والا ہے۔
وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَا تَاْتِیْنَا السَّاعَةُ١ؕ قُلْ بَلٰى وَ رَبِّیْ لَتَاْتِیَنَّكُمْ١ۙ عٰلِمِ الْغَیْبِ١ۚ لَا یَعْزُبُ عَنْهُ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَ لَا فِی الْاَرْضِ وَ لَاۤ اَصْغَرُ مِنْ ذٰلِكَ وَ لَاۤ اَكْبَرُ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍۗۙ Open ayah 34:3 in the Quran reader
کافر کہتے ہیں کہ قیامت نہیں آئے گی ۔ (اے نبی ﷺ آپ کہہ دیجئے کہ ہاں میرے رب کی قسم جو عالم الغیب ہے کہ تم پر قیامت ضرور آئے گی ۔ اس سے آسمانوں اور زمین میں ایک ذرہ بھی چھپا ہوا نہیں ہے ۔ اس سے کوئی چھوٹی بڑی چیز پوشیدہ نہیں ہے کیونکہ وہ ایک کھلی ہوئی کتاب (لوح محفوظ) میں موجود ہے ۔
لِّیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِیْمٌ Open ayah 34:4 in the Quran reader
تاکہ وہ لوگ جو ایمان لے آئے اور انہوں نے عمل صالح کئے ان کو بخشش ار عزت کا رزق دیا جائے۔
وَ الَّذِیْنَ سَعَوْ فِیْۤ اٰیٰتِنَا مُعٰجِزِیْنَ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مِّنْ رِّجْزٍ اَلِیْمٌ Open ayah 34:5 in the Quran reader
اور وہ لوگ جنہوں نے ہمیں ہماری آیتوں میں عاجز و بےبس کرنے کے لئے بھاگ دوڑ کی ان کے لئے سخت اور درد ناک عذاب ہے ۔
وَ یَرَى الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ هُوَ الْحَقَّ١ۙ وَ یَهْدِیْۤ اِلٰى صِرَاطِ الْعَزِیْزِ الْحَمِیْدِ Open ayah 34:6 in the Quran reader
اور جن لوگوں کو علم دیا گیا ہے وہ اس بات کو اچھی طرح جانتے ہیں کہ آپ کے رب کی طرف سے جو کچھ نازل کیا گیا ہے وہ برحق ہے اور اللہ جو تمام تعریفوں کا مستحق اور زبر دست طاقت و قوت والا ہے وہی سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کرتا ہے ۔
وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا هَلْ نَدُلُّكُمْ عَلٰى رَجُلٍ یُّنَبِّئُكُمْ اِذَا مُزِّقْتُمْ كُلَّ مُمَزَّقٍ١ۙ اِنَّكُمْ لَفِیْ خَلْقٍ جَدِیْدٍۚ Open ayah 34:7 in the Quran reader
اور کافروں نے کہا ہم تمہیں ایک ایسے آدمی کا پتہ بتائیں جو تمہیں یہ خبر بتا دیتا ہے کہ جب تم ریزہ ریزہ ہو جائو گے تم تمہیں نئے سرے سے پیدا کیا جائے گا۔
اَفْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَمْ بِهٖ جِنَّةٌ١ؕ بَلِ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ فِی الْعَذَابِ وَ الضَّلٰلِ الْبَعِیْدِ Open ayah 34:8 in the Quran reader
نہیں معلوم کہ اس نے اللہ پر جھوٹ گھڑا ہے یا اسے جنون ہے۔ ( اللہ نے فرمایا بات یہ ہے کہ ) جو آخرت پر ایمان نہیں لائے وہ عذاب میں مبتلا ہوں گے اور گمراہی میں دور جا پڑے ہیں ۔
اَفَلَمْ یَرَوْا اِلٰى مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اِنْ نَّشَاْ نَخْسِفْ بِهِمُ الْاَرْضَ اَوْ نُسْقِطْ عَلَیْهِمْ كِسَفًا مِّنَ السَّمَآءِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّكُلِّ عَبْدٍ مُّنِیْبٍ۠ Open ayah 34:9 in the Quran reader
کیا انہوں نے زمین و آسمان کی تخلق کی طرف دھیان نہیں دیا جو و ان کے سامنے اور ان کے پیچھے ہے۔ اگر ہم چاہیں تو ان کو زمین میں دھنسا دیں یا ان پر آسمان کا کوئی ٹکڑا گرا دیں۔ اس میں ہر اس شخص کے لئے نشانی ہے جو اللہ کی طرف رجوع کنے والا بندہ ہے ۔
وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ مِنَّا فَضْلًا١ؕ یٰجِبَالُ اَوِّبِیْ مَعَهٗ وَ الطَّیْرَ١ۚ وَ اَلَنَّا لَهُ الْحَدِیْدَۙ Open ayah 34:10 in the Quran reader
بیشک ہم نے دائود کو فضل و کرم عطا کیا تھا اور حکم دیا تھا کہ اے پہاڑو اور پرندو اس کے ساتھ تسبیح کرو۔ اور ہم نے ہی ان کے لئے لوہے کو نرم کردیا تھا
اَنِ اعْمَلْ سٰبِغٰتٍ وَّ قَدِّرْ فِی السَّرْدِ وَ اعْمَلُوْا صَالِحًا١ؕ اِنِّیْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 34:11 in the Quran reader
(اور کہہ دیا تھا کہ ) کشادہ زر ہیں بنائو اور زر ہوں کی کڑیاں جوڑنے میں اندازہ قائم رکھو عمل صالح کرتے رہو جو کچھھ کرتے ہو اسے میں دیکھنے والا ہوں
وَ لِسُلَیْمٰنَ الرِّیْحَ غُدُوُّهَا شَهْرٌ وَّ رَوَاحُهَا شَهْرٌ١ۚ وَ اَسَلْنَا لَهٗ عَیْنَ الْقِطْرِ١ؕ وَ مِنَ الْجِنِّ مَنْ یَّعْمَلُ بَیْنَ یَدَیْهِ بِاِذْنِ رَبِّهٖ١ؕ وَ مَنْ یَّزِغْ مِنْهُمْ عَنْ اَمْرِنَا نُذِقْهُ مِنْ عَذَابِ السَّعِیْرِ Open ayah 34:12 in the Quran reader
اور ہم نے ہی سلیمان (علیہ السلام) کے لئے ہو (کون ان کو تابع کردیا تھا) اس کی صبح کی منزل ایک مہینے کی ہوتی اور شام منزل بھی ایک مہینے کی ہوتی ۔ اور ہم نے ان کے لئے تانبے کا چشمہ بہادیا تھا اور جناب میں سے بعض اپنے رب کے حکم سے ان کے سامنے کام کرتے تھے اور ان میں سے جو بھی ہمارے حکم کی خلاف ورزی کرتا تو ہم اس کو سخت سزا کا مزہ چکھاتے تھے
یَعْمَلُوْنَ لَهٗ مَا یَشَآءُ مِنْ مَّحَارِیْبَ وَ تَمَاثِیْلَ وَ جِفَانٍ كَالْجَوَابِ وَ قُدُوْرٍ رّٰسِیٰتٍ١ؕ اِعْمَلُوْۤا اٰلَ دَاوٗدَ شُكْرًا١ؕ وَ قَلِیْلٌ مِّنْ عِبَادِیَ الشَّكُوْرُ Open ayah 34:13 in the Quran reader
اور سلیمان جو چاہتے وہ ان کے لئے قلعے ، تصویریں اور لگن جیسے بڑے بڑے حوض اور ایک جگہ جمی ہوئی بھاری دیگیں بنایا کرتے تھے۔ اے آل دائود تم شکر گذاری کے ساتھ عمل کرو اور میرے بندوں میں سے بہت کم شکر ادا کرتے ہیں۔
فَلَمَّا قَضَیْنَا عَلَیْهِ الْمَوْتَ مَا دَلَّهُمْ عَلٰى مَوْتِهٖۤ اِلَّا دَآبَّةُ الْاَرْضِ تَاْكُلُ مِنْسَاَتَهٗ١ۚ فَلَمَّا خَرَّ تَبَیَّنَتِ الْجِنُّ اَنْ لَّوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ الْغَیْبَ مَا لَبِثُوْا فِی الْعَذَابِ الْمُهِیْنِؕ Open ayah 34:14 in the Quran reader
اور پھر جب ہم نے ان پر موت کا حکم جاری کیا تو (جنات کو) ان کی موت کا پتہ نہ دیا مگر ایک گھن کی طرح کیڑا جو ان کے عصا کو کھا رہا تھا (اس نے ان کے عصا کو کھالیا) جب وہ گر پڑے تو جنوں پر حقیقت حال کھل گئی کہ اگر وہ غیب جانتے ہوتے تو ذلت کے اس عذاب میں مبتلا نہ ہوتے۔
لَقَدْ كَانَ لِسَبَاٍ فِیْ مَسْكَنِهِمْ اٰیَةٌ١ۚ جَنَّتٰنِ عَنْ یَّمِیْنٍ وَّ شِمَالٍ١ؕ۬ كُلُوْا مِنْ رِّزْقِ رَبِّكُمْ وَ اشْكُرُوْا لَهٗ١ؕ بَلْدَةٌ طَیِّبَةٌ وَّ رَبٌّ غَفُوْرٌ Open ayah 34:15 in the Quran reader
البتہ قوم سبا کے لئے ان کی آبادی میں ہی ایک نشانی موجود تھی۔ دو باغ دائیں اور بائیں ( اور ان سے کہا گیا تھا کہ ہم) اپنے پروردگار کے (رزق سے کھائو اور اس کا شکر ادا کرو، عمدہ اور پاکیزہ شہزادہ اور بخشنے والا پروردگار ہے۔
فَاَعْرَضُوْا فَاَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ سَیْلَ الْعَرِمِ وَ بَدَّلْنٰهُمْ بِجَنَّتَیْهِمْ جَنَّتَیْنِ ذَوَاتَیْ اُكُلٍ خَمْطٍ وَّ اَثْلٍ وَّ شَیْءٍ مِّنْ سِدْرٍ قَلِیْلٍ Open ayah 34:16 in the Quran reader
پھر انہوں نے نافرمانی کی تو ہم نے ان پر (بند توڑ کر ) ایک زبردست سیلاب بھیج دیا۔ اور ان کے باغوں کے دو ایسے باغوں سے بدل ڈالاجس میں بد مزہ اور کڑوے کسیلے پھل اور کچھ جھاڑ جھنکار اور تھوڑے سے بیریوں کے درخت تھے۔
ذٰلِكَ جَزَیْنٰهُمْ بِمَا كَفَرُوْا١ؕ وَ هَلْ نُجٰزِیْۤ اِلَّا الْكَفُوْرَ Open ayah 34:17 in the Quran reader
یہ ہم نے (ان کو ) ان کے کفر کی وجہ سے سزادی تھی اور ہم نا شکرے لوگوں کو ایسی ہی سزا دیا کرتے ہیں۔
وَ جَعَلْنَا بَیْنَهُمْ وَ بَیْنَ الْقُرَى الَّتِیْ بٰرَكْنَا فِیْهَا قُرًى ظَاهِرَةً وَّ قَدَّرْنَا فِیْهَا السَّیْرَ١ؕ سِیْرُوْا فِیْهَا لَیَالِیَ وَ اَیَّامًا اٰمِنِیْنَ Open ayah 34:18 in the Quran reader
اور ہم ان کے اور ان بستیوں کے درمیان برکتیں رکھ دی تھیں ۔ اور ان میں سفر کی مسافتوں کو ایک اندازے پر رکھ دیا تھا اور ان سے کہہ دیا تھا کہ تم دن رات بےخوف و خطر ان میں چلو پھرو۔
فَقَالُوْا رَبَّنَا بٰعِدْ بَیْنَ اَسْفَارِنَا وَ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فَجَعَلْنٰهُمْ اَحَادِیْثَ وَ مَزَّقْنٰهُمْ كُلَّ مُمَزَّقٍ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍ Open ayah 34:19 in the Quran reader
وہ کہنے لگے کہ اے ہمارے پروردگار ہمارے سفروں کے درمیان دوری پیدا کردے۔ اور جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا تھا تو ہم نے ان کو زندگی کو افسانہ بنا دیا اور ہم نے ان کو بری طرح توڑ کر رکھ دیا تھا۔ ان میں ہر ایک صبر وشکر کرنے والوں کے لئے نشانیاں ہیں
وَ لَقَدْ صَدَّقَ عَلَیْهِمْ اِبْلِیْسُ ظَنَّهٗ فَاتَّبَعُوْهُ اِلَّا فَرِیْقًا مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 34:20 in the Quran reader
البتہ ان پر ابلیس نے اپنا گمان سچا کر دکھایا ۔ مومنوں کے ایک گروہ کے علاوہ سب نے اس کی پیروی کی۔
وَ مَا كَانَ لَهٗ عَلَیْهِمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ اِلَّا لِنَعْلَمَ مَنْ یُّؤْمِنُ بِالْاٰخِرَةِ مِمَّنْ هُوَ مِنْهَا فِیْ شَكٍّ١ؕ وَ رَبُّكَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ حَفِیْظٌ۠ Open ayah 34:21 in the Quran reader
حالانکہ شیطان کا ان پر کوئی غلبہ نہ تھا ( مگر ہم چاہتے تھے کہ) جو آخرت پر ایمان رکھتا ہے اور بیشک میں مبتلا ہے دونوں کو اچھی طرح جان لیں۔ اور (اے نبی ﷺ آپ کا پروردگار ہر چیز پر نگہبان ہے۔
قُلِ ادْعُوا الَّذِیْنَ زَعَمْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ۚ لَا یَمْلِكُوْنَ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَ لَا فِی الْاَرْضِ وَ مَا لَهُمْ فِیْهِمَا مِنْ شِرْكٍ وَّ مَا لَهٗ مِنْهُمْ مِّنْ ظَهِیْرٍ Open ayah 34:22 in the Quran reader
(اے نبی ﷺ آپ کہہ دیجئے کہ تم اللہ کے سوا جن کو اپنا معبود سمجھتے وہ ان کو پکارو۔ وہ تو ایک ذرہ برابر چیز کے بھی مالک نہیں ہیں ۔ نہ تو آسمانوں میں اور نہ زمین میں۔ نہ ان دونوں میں ان کا کوئی ساجھا (شرکت ) ہے۔ ۔ نہ ان میں سے کوئی اللہ کا مدد گار ہے۔
وَ لَا تَنْفَعُ الشَّفَاعَةُ عِنْدَهٗۤ اِلَّا لِمَنْ اَذِنَ لَهٗ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوْبِهِمْ قَالُوْا مَا ذَا١ۙ قَالَ رَبُّكُمْ١ؕ قَالُوا الْحَقَّ١ۚ وَ هُوَ الْعَلِیُّ الْكَبِیْرُ Open ayah 34:23 in the Quran reader
نہ اس کے پاس اس کی اجازت کے بغیر کسی کی سفارش کسی کے کام آسکتی ہے ۔ یہاں تک کہ جب ان کے دلوں سے گھبراہٹ دور کردی جائے گی تو وہ پوچھیں گے کہ تمہارے رب نے کیا جو اب دیا ہے ؟ تو (فرشتے) کہیں گے کہ سچ بات کا حکم دیا ہے ۔ وہی بلندو برتر ہے۔
قُلْ مَنْ یَّرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ قُلِ اللّٰهُ١ۙ وَ اِنَّاۤ اَوْ اِیَّاكُمْ لَعَلٰى هُدًى اَوْ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 34:24 in the Quran reader
اے نبی آپ کہہ دیجئے کہ آسمانوں اور زمین سے تمہیں کون رزق دیتا ہے ۔ آپ کہہ دیجئے کہ بیشک ہم یا تم دونوں میں سے کوئی ایک ہدایت پر ہے یا کھلی گمراہی میں پڑا ہوا ہے۔
قُلْ لَّا تُسْئَلُوْنَ عَمَّاۤ اَجْرَمْنَا وَ لَا نُسْئَلُ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 34:25 in the Quran reader
(آپ ان لوگوں) سے کہہ دیجئے کہ ( اگر ہم مجرم ہیں ) تو تم کرتے رہے ہو ۔
قُلْ یَجْمَعُ بَیْنَنَا رَبُّنَا ثُمَّ یَفْتَحُ بَیْنَنَا بِالْحَقِّ١ؕ وَ هُوَ الْفَتَّاحُ الْعَلِیْمُ Open ayah 34:26 in the Quran reader
آپ کہہ دیجئے کہ ہمارا پروردگار ( قیامت کے دن ) ہم سب کو جمع کرے گا۔ پھر وہ ہمارے درمیان ٹھیک ٹھیک فیصلہ کردے گا ۔ وہ بہترین فیصلہ کرنے والا اور سب کچھ جاننے والا ہے۔
قُلْ اَرُوْنِیَ الَّذِیْنَ اَلْحَقْتُمْ بِهٖ شُرَكَآءَ كَلَّا١ؕ بَلْ هُوَ اللّٰهُ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 34:27 in the Quran reader
آپ کہہ دیجئے جنہیں تم نے اللہ کے ساتھ شریک ٹھرا رکھا ہے ذرا مجھے بھی تو دکھائو۔ ہر گز نہیں۔ بلکہ اللہ ہی غالب ہے اور حکمت والا ہے
وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا كَآفَّةً لِّلنَّاسِ بَشِیْرًا وَّ نَذِیْرًا وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 34:28 in the Quran reader
اے نبی ﷺ ہم نے آپ کو تمام بنی نوع انسانی (کی ہدایت کے لئے) خوش خبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے ۔ مگر اکثر لوگ (اس بات ) کو نہیں جانتے۔
وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 34:29 in the Quran reader
وہ پوچھتے ہیں کہ وہ (قیامت کا ) وعدہ کب پورا ہوگا۔ اگر تم سچے ہو ؟
قُلْ لَّكُمْ مِّیْعَادُ یَوْمٍ لَّا تَسْتَاْخِرُوْنَ عَنْهُ سَاعَةً وَّ لَا تَسْتَقْدِمُوْنَ۠ Open ayah 34:30 in the Quran reader
آپ کہہ دیجئے اس وعدہ کا ( ایک) دن مقرر ہے اس سے تم نہ تو ایک گھڑی پیچھے ہٹ سکتے ہو اور نہ تم آگے بڑھ سکتے ہو۔
وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ بِهٰذَا الْقُرْاٰنِ وَ لَا بِالَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْهِ١ؕ وَ لَوْ تَرٰۤى اِذِ الظّٰلِمُوْنَ مَوْقُوْفُوْنَ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ۖۚ یَرْجِعُ بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضِ اِ۟لْقَوْلَ١ۚ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا لِلَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْا لَوْ لَاۤ اَنْتُمْ لَكُنَّا مُؤْمِنِیْنَ Open ayah 34:31 in the Quran reader
اور کافر کہتے ہیں کہ نہ تو ہم اس قرآن پر ایمان لائیں گے اور ہی ان کتابوں پر جو اس سے پہلے نازل کی گئی تھیں ۔ کاش آپ ظالموں کو اس وقت دیکھیں جب یہ اپنے پروردگار کے سامنے گھڑے کئے جائیں گے جب ان میں سے ہر ایک دوسرے پر بات ٹالتا ہوگا ۔ کمزور ور ناتواں لوگ غرور وتکبر اختیار کرنے والوں سے کہیں گے کہ اگر تم نہ ہوتے تو یقینا ہم صاحب ایمان ہوتے ۔
قَالَ الَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْا لِلَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْۤا اَنَحْنُ صَدَدْنٰكُمْ عَنِ الْهُدٰى بَعْدَ اِذْ جَآءَكُمْ بَلْ كُنْتُمْ مُّجْرِمِیْنَ Open ayah 34:32 in the Quran reader
وہ متکبرین کمزوروں سے کہیں گے کہ جب تمہارے پاس ہدایت آچکی تھی تو کیا ہم نے تمہیں (زبردستی اس سے ) روک رکھا تھا۔ اصل میں تم خود ہی مجرم ہو۔
وَ قَالَ الَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا لِلَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْا بَلْ مَكْرُ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ اِذْ تَاْمُرُوْنَنَاۤ اَنْ نَّكْفُرَ بِاللّٰهِ وَ نَجْعَلَ لَهٗۤ اَنْدَادًا١ؕ وَ اَسَرُّوا النَّدَامَةَ لَمَّا رَاَوُا الْعَذَابَ١ؕ وَ جَعَلْنَا الْاَغْلٰلَ فِیْۤ اَعْنَاقِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ هَلْ یُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 34:33 in the Quran reader
کمزور لوگ تکبر اور بڑائی اختیار کرنے والوں سے کہیں گے کہ تمہاری دن رات کو چالوں نے ہمیں روک رکھا تھا جب تم ہمیں سکھاتے تھے کہ ہم اللہ کے ساتھ کفر کریں اور اس کے ساتھ دوسرے معبودوں کو شریک کریں ۔ لیکن جب وہ (دونوں ) اللہ کے عذاب کو دیکھیں گے تو شرمندگی سے (اپنامنہ ) چھپا لیں گے اور ہم کافروں کے گلے میں طوق (زنجیریں) ڈال دیں گے اور جو کچھ وہ کرتے تھے اس کی ان کو سزا ملے گی
وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا فِیْ قَرْیَةٍ مِّنْ نَّذِیْرٍ اِلَّا قَالَ مُتْرَفُوْهَاۤ١ۙ اِنَّا بِمَاۤ اُرْسِلْتُمْ بِهٖ كٰفِرُوْنَ Open ayah 34:34 in the Quran reader
اور ہم نے جب بھی کسی بستی میں کسی ڈرانے والے کو بھیجا تو وہاں کے خوش حال لوگوں نے کہا کہ تم جو کچھ (ہدایت ) دے کر بھیجے گئے ہو ہم اس کو نہیں مانتے۔
وَ قَالُوْا نَحْنُ اَكْثَرُ اَمْوَالًا وَّ اَوْلَادًا١ۙ وَّ مَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِیْنَ Open ayah 34:35 in the Quran reader
اور انہوں نے کہا کہ ہم مال اور اولاد کی کثرت رکھتے ہیں۔ ہم (ان لوگوں میں سے) نہیں ہیں جنہیں عذاب دیا جائے گا۔
قُلْ اِنَّ رَبِّیْ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 34:36 in the Quran reader
(اے نبی ﷺ آپ کہہ دیجئے کہ میرا پروردگار جس کے لئے چاہتا ہے رزق وسیع کردیتا ہے اور جس کے لئے چاہتا ہے رزق تنگ کردیتا ہے لیکن اکثر لوگ (اس حقیقت) کو نہیں مانتے ۔
وَ مَاۤ اَمْوَالُكُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُكُمْ بِالَّتِیْ تُقَرِّبُكُمْ عِنْدَنَا زُلْفٰۤى اِلَّا مَنْ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا١٘ فَاُولٰٓئِكَ لَهُمْ جَزَآءُ الضِّعْفِ بِمَا عَمِلُوْا وَ هُمْ فِی الْغُرُفٰتِ اٰمِنُوْنَ Open ayah 34:37 in the Quran reader
تمہارے مال اور تمہاری اولادیں ایسی چیزیں نہیں ہیں جو تمہیں ہم سے قریب کر دے گی ۔ البتہ جو ایمان لائے اور اور وہ (جنت کی) بلند عمارتوں میں اطمینان و سکون سے رہیں گے۔
وَ الَّذِیْنَ یَسْعَوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِنَا مُعٰجِزِیْنَ اُولٰٓئِكَ فِی الْعَذَابِ مُحْضَرُوْنَ Open ayah 34:38 in the Quran reader
اور جو لوگ ہماری آیتوں میں ہمیں عاجز و بےبس کرنے کی کوشش کرتے ہیں وہ لوگ ہیں جو عذاب میں حاضر کئے جائیں گے۔