34. Surah Saba

سبإSheba · 54 ayahsبصیرتِ قرآن

تعارف

تعارف

سورة نمبر ٣٤ سورة نمبر : ٣٤ کل رکوع : ٦ آیات : ٥٤ الفاظ و کلمات : ٨٩٦ حروف : ٣٦٣٦ مقام نزول : مکہ مکرمہ اللہ کا یہ اٹل قانون ہے کہ جن لوگوں نے اللہ کی اطاعت و فرمانبرداری کی اور دین کے بنیادی اصولوں کی پابندی اختیار کی اللہ نے ان کو دنیا میں بھی کامیاب کیا اور آخرت کی ہر نعمت ان کو دی جائے گی لیکن جن لوگوں نے اللہ اور اس کے رسولوں کی نافرمانی کا طریقہ اختیار کیا اور انہوں نے اپنی دولت اور عالی شان عمارتوں پر بےجا فخر و غرور کیا تو ان کو دنیا میں تو یہ سزا دی گئی کہ ان کا سب تباہ و برباد کردیا گیا اور آخرت میں ان کو سخت سزا دی جائے گی۔ رزق میں وسعت اور تنگی یہ دونوں اللہ کی طرف سے ہیں وہ جس کو چاہتا ہے اس کو رزق دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے اس کی روزی کو تنگ کردیتا ہے وہی سب سے بہتر رازق ہے وہی برے حالات کو بہتر حالات میں تبدیل کردیتا ہے۔ تعارف سورة سبا سورة سبا میں اللہ تعالیٰ نے حضرت دائود ، حضرت سلیمان (علیہ السلام) اور قوم سباد دونوں کے واقعات زندگی بیان کر کے کفار عرب کو آگاہ کیا ہے کہ وہ ان میں سے جس کی زندگی کو بھی اپنائیں گے دونوں کا انجام واضح ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان واقعات کے ذریعہ ہر ایک کے ضمیر سے ایک ہی سوال کیا ہے کہ وہ اس بات پر غور کرکے فیصلہ کرے جب اللہ کے فرما نبرداروں اور اور نافرمانوں کا ایک جیسا انجام نہیں ہے تو اب وہ ان دونوں میں سے کونسا راستہ اختیار کرکے کامیاب یا ناکام ہونا چاہتا ہے ۔ حضرت دائود اور ان کے صاحبزادے نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے زبردست حکومتیں اور سلطنتیں عطا فرمائی تھیں مگر انہوں نے اور ان کے ماننے والوں نے کفر و شرک اور غرور تکبر کے بجائے اللہ کا شکر اور مصائب پر صبر کرنے کو زندگی بنایا تو آج بھی ان کا نام عزت سے لیا جاتا ہے اور قیامت تک ان کو یہ عظمتیں حاصل رہیں گی۔ اس کے برخلاف قوم سبا جس کو اللہ نے ایک ہزار سال تک دنیا پر حکومت کرنے کا موقع عنایت فرمایا۔ سوکت، حشمت، عزت سر بلندی و دولت سے مالا مال فرمایا۔ ان کی ہدایت کے لئے بےسما انبیاء کرام کو بھیجا مگر انہوں نے اللہ سے بغاوت کرکے نافرمانی کا طریقہ اختیار کیا۔ بت پرستی اور جہالت کے ہزاروں وہ طریقے اختیار کیے جن سے اللہ کا غضب جوش میں آگیا اور ان کو اتنی سخت سزادی گئی کہ آج ان کا کوئی نام لیوا تک موجود نہیں ہے۔ ان کی عالی شان عمارتوں اور مکانات کے کھنڈرات بھی پکار کار کر کہہ رہے ہیں کہ اللہ تو اپنے بندوں پر بہت مہر بان ہے لیکن جو لوگ نافرمانی کا طریقہ اختیار کرتے ہیں ان کو دنیا سے اس طرح مٹا دیا جاتا ہے کہ پھر ان کا ذکرصرف قصے کہانیاں بن کر رہ جاتا ہے ۔ یہ اللہ کا ایسا دستور اور طریقہ ہے جو ہمیشہ سے جاری ہے اور ہمیشہ جاری رہے گا۔ فرمایا گیا ہے کہ شیطان جو انسان کا ازالی دشمن ہے وہ لوگوں کا بہکا کر غلط راستے پر ڈال دیتا ہے اور اس طرح وہ عذاب الہٰی کا شکا ہوجاتے ہیں لیکن جو اللہ کے نیک بندے ہیں وہ شیطان کے پھیلائے ہوئے جال میں کبھی نہیں پھستے۔ اس سورة میں اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن میدان حشر میں کفار و مشرکین اور ان بتوں کا ذکر کیا ہے جنہیں انہوں نے دنیا میں اپنا سفارشی اور معبود بنا رکھا تھا کہ وہ ایک دوسرے پر الزامات لگائیں گے اور لعنتیں بھیجیں گے مگر اس وقت ان کا پچھتانا ان کے کام نہ آسکے گا اور ان دونوں کو جہنم میں جھونک دیا جائے گا۔ نبی کری م (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کفار مکہ کی باتوں سے شدید رنج پہنچتا تھا اللہ نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ماننے والوں کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ اگر آج یہ کفار مشرکین اپنی ہٹ دھرمی اور ضد پر اڑے ہوئے ہیں اور آپ کی تعلیمات کع جھٹلا رہے ہیں تو یہ ایسی نئی بات نہیں ہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پہلے جتنے بھی انبیاء کرام (علیہ السلام) تشریف لائے ہیں ان کو اسی طرح جھٹلایا گیا ، تنگ کیا گیا مگر اللہ نے ان انبیاء کو اور ان کے ماننے والوں کو کامیاب فرمایا۔ آپ بھی اسی طرح کامیاب و با مراد ہوں گے فرمایا کہ جو لوگ اپنے مال و دولت اور چھوٹی چھوٹی سرداریوں پر اس قدر اترا رہے ہیں ان کو تاریخ سے سبق سیکھنا چاہیے کیونکہ اللہ کا دستور یہ ہے کہ اگر انہوں نے اللہ کی نافرمانی کا طریقہ اختیار کیا تو یہ مال و دولت اور حکومت و سلطنت ان کے کسی کام نہ آسکے گی اور اگر انہوں نے اللہ و رسول کا کہا مانا اور ان کے راستے پر چلے تو ان کے لیے جنت کے وہ بہترین اور حسین و خوبصورت باغات ہوں گے جن میں وہ آرام و سکون اور چین و اطمینان سے ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ ان کی ہر نیکی کا ان کو پورا پورا بدلہ دیا جائے گا لیکن جن لوگوں نے اپنے مال و دولت اور عظیم الشان عمارتوں پے بےجا فکر و غرور کرکے کفر و شرک کا راستہ اختیار کیا تو ان کو جہنم کی ابدی اور ہمیشہ رہنے والی آگ کا ایندھن بننا پڑے گا۔ فرمایا کہ رزق کی وسعت اور رزق میں تنگی یہ سب اللہ کر طرف سے ہے وہ جس کو چاہتا ہے رزق بہت زیادہ وسیع کردیتا ہے اور جس کا چاہتا ہے اس کے حالات کو اس پر تنگ اور محدود کردیتا ہے ۔ اگر کسی کو اللہ نے مال و دولت سے نوازا ہے تو یہ اس بات کی دلیل نیں ہے کہ وہ اللہ کا بہت پیارا ہے اور وہ اللہ کے ہاں بہت مقبول ہے ۔ اس سورة میں یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ کفار مکہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کبھی دیوانہ کبھی شاعر اور کبھی جادوگر کہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ کفار سب کے سب سر جوڑ کر بیٹھ جائیں اور پھر غور کریں کہ وہ جتنے الزامات نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر لگا رہے ہیں جنہوں نے پوری زندگی مکہ ہی میں گزاری ہے کیا ان میں سے ان کے متعلق ایک بات بھی درست اور صحیح ہے۔ اگر ان کے الزامات غلط اور بےبنیاد ہیں تو انہیں اللہ سے توبہ کرنا چاہیے تاکہ آخرت کی کامیابیاں انہیں نصیب ہوسکیں اگر انہوں نے ضد اور ہٹ دھرمی کا یہی انداز جاری رکھا تو پھر وہ دنیا و آخرت کی ہر نعمت سے محروم کردیئے جائیں گے۔

Ayahs 34:1–2

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ وَ لَهُ الْحَمْدُ فِی الْاٰخِرَةِ١ؕ وَ هُوَ الْحَكِیْمُ الْخَبِیْرُ Open ayah 34:1 in the Quran reader

تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں ۔ جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے وہ اسی کی ملکیت ہے ۔ اور آخرت کی ہر تعریف بھی اسی کے لئے ہے۔ وہی حکمت والا اور (ہر چیز کی) خبر رکھنے والا ہے۔

یَعْلَمُ مَا یَلِجُ فِی الْاَرْضِ وَ مَا یَخْرُجُ مِنْهَا وَ مَا یَنْزِلُ مِنَ السَّمَآءِ وَ مَا یَعْرُجُ فِیْهَا١ؕ وَ هُوَ الرَّحِیْمُ الْغَفُوْرُ Open ayah 34:2 in the Quran reader

جو چیز زمین میں داخل ہوتی ہے اور جو کچھ اس سے نکلتی ہے اور جو کچھ آسمانوں سے نازل ہوتا ہے اور جو کچھ اس میں چڑھتا ہے وہ ہر چیز سے واقف ہے ۔ وہ نہایت رحم کرنے والا بخشنے والا ہے۔

لغات القرآن : آیت نمبر 1 تا 2 یلج : داخل ہونا ہے یخرج : نکلتا ہے ینزل : اترتا ہے یعرج : چڑھتا ہے تشریح :ـ آیت نمبر 1 تا 2 اللہ جو کامل ہستی ہے اس نے اپنی قدرت کا مل سے اس کائنات کے ذرے ذرے کو پیدا کر کرے ہر چیز میں ایک ایسا حسن و خوبی ، کمال و جلال اور ان کے درمیان حسین تو ازن پیدا کیا ہے کہ اگر اس میں ذرا بھی غور و فکر کیا جائے تو انسان بےساختہ کہہ اٹھتا ہے فتبرک اللہ احسن الخالقین : وہ اللہ کتنی برکتوں والا ہے جو سارے پیدا کرنے والوں میں سب سے بہتر ین خالق ہے ۔ اللہ ہر چیز کی حکمت کو جانتا ہے اور وہ اپنی بنائی ہوئی کائنات سے بیخبر نہیں ہے۔ بلکہ وہ ہر چیز کی کیفیات اور حالات سے پوری طرح باخبر ہے ۔ اسے اپنی مخلوق کے بارے میں معلوم ہے کہ وہ کہاں اور کس حالت میں ہے۔ اس کی ضروریات کیا ہیں اور کیسے مہیا کی جاتی ہیں ۔ زمین میں بارش کے پانی کی طرح کیا چیز داخل ہورہی ہے ، درختوں ، کھیتوں ، پودوں ، مع دنیات اور سبزہ وغیرہ کیا کچھ چیزیں زمین کے اندر سے نکل رہی ہیں ۔ اسے معلوم ہے کہ جو فرشتے لوگوں کی دعائیں اور اعمال آسمانوں کی طرف بلند کررہے ہیں اور شریعت ، وحی اور دوسری چیزوں کی طرح کون کون سے احکامات نازل ہورہے ہیں۔ اللہ کو معلوم ہے کہ انسان کے لئے آخرت میں کون سی چیزیں اس کو فائدہ اور کون سی نقصان دینے والی ہیں۔ غرضیکہ کائنات اور آخرت کی زندگی کا کوئی پہلو ایسا نہیں ہے جو اس سے پوشیدہ ہو۔ کائنات میں جو بھی حسن و جمال ہے وہ اسی اللہ کی فرف سے ہے۔ وہی ہر طرح کی تعریفوں اور حمد و ثنا کا مستحق ہے ۔ اس کے علاوہ کوئی دوسری ہستی ایسی نہیں ہے جس کو اس کے برابر لا کھڑا کردیا جائے۔ وہی اللہ ہر طرح کی عبادتوں کا حقدار ہے۔ اللہ وہ ہے جو اپنے بندوں کے قصوروں ، گناہوں اور خطاؤں سے اچھی طرح واقف ہے وہ جانتا ہے کہ کون حسن عمل کا پیکر ہے اور کون نافرمانی کی زندگی گذار رہا ہے ۔ اللہ کے فیصلے انسانوں کے فیصلوں کی طرح نہیں ہوتے کیونکہ ہر صفت اور حکمت پر اس کی رحمت غالب ہے اس لئے وہ گناہ کاروں کو ایک دم سے نہیں پکڑتا بلکہ ان کو سنبھلنے ، سمجھنے اور اصلاح کے ہزاروں مواقعے عطا فرماتا ہے ۔ اگر کوئی شخص اپنے گناہوں اور خطاؤں پر نادم و شرمندہ ہو کر توبہ کرلیتا ہے تو اس سے زیادہ معاف کرنے والا اور درگزر کے والا کوئی نہیں ہے اور اگر وہ کسی کو پکڑلیتا ہے تو اس سے چھڑانے والا کوئی دوسرا نہیں ہے۔ غرضیکہ جو شخص بی اس کائنات اور اس کی پیدا کی ہوئی مخلوق میں غور فکرکرے گا وہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ ا کے جذبات سے سرشار ہوجائے گا اور اس کو یقین کرنا پڑے گا کہ کائنات کی ابتداء سے انتہاتک تمام تعریفوں اور عظمتوں کا صرف وہی مستحق ہے ۔ وہی دنیا اور آخرت میں ہر شخص کا مشکل کشا ہے۔
Ayahs 34:3–6

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَا تَاْتِیْنَا السَّاعَةُ١ؕ قُلْ بَلٰى وَ رَبِّیْ لَتَاْتِیَنَّكُمْ١ۙ عٰلِمِ الْغَیْبِ١ۚ لَا یَعْزُبُ عَنْهُ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَ لَا فِی الْاَرْضِ وَ لَاۤ اَصْغَرُ مِنْ ذٰلِكَ وَ لَاۤ اَكْبَرُ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍۗۙ Open ayah 34:3 in the Quran reader

کافر کہتے ہیں کہ قیامت نہیں آئے گی ۔ (اے نبی ﷺ آپ کہہ دیجئے کہ ہاں میرے رب کی قسم جو عالم الغیب ہے کہ تم پر قیامت ضرور آئے گی ۔ اس سے آسمانوں اور زمین میں ایک ذرہ بھی چھپا ہوا نہیں ہے ۔ اس سے کوئی چھوٹی بڑی چیز پوشیدہ نہیں ہے کیونکہ وہ ایک کھلی ہوئی کتاب (لوح محفوظ) میں موجود ہے ۔

لِّیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِیْمٌ Open ayah 34:4 in the Quran reader

تاکہ وہ لوگ جو ایمان لے آئے اور انہوں نے عمل صالح کئے ان کو بخشش ار عزت کا رزق دیا جائے۔

وَ الَّذِیْنَ سَعَوْ فِیْۤ اٰیٰتِنَا مُعٰجِزِیْنَ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مِّنْ رِّجْزٍ اَلِیْمٌ Open ayah 34:5 in the Quran reader

اور وہ لوگ جنہوں نے ہمیں ہماری آیتوں میں عاجز و بےبس کرنے کے لئے بھاگ دوڑ کی ان کے لئے سخت اور درد ناک عذاب ہے ۔

وَ یَرَى الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ هُوَ الْحَقَّ١ۙ وَ یَهْدِیْۤ اِلٰى صِرَاطِ الْعَزِیْزِ الْحَمِیْدِ Open ayah 34:6 in the Quran reader

اور جن لوگوں کو علم دیا گیا ہے وہ اس بات کو اچھی طرح جانتے ہیں کہ آپ کے رب کی طرف سے جو کچھ نازل کیا گیا ہے وہ برحق ہے اور اللہ جو تمام تعریفوں کا مستحق اور زبر دست طاقت و قوت والا ہے وہی سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کرتا ہے ۔

لغات القرآن : آیت نمبر 3 تا 6 لا یعزب : دور نہیں کرتا۔ دور نہیں ہے مثقال : برابر اصغر : چھوٹا رزق کریم : عزت کا رزق سعوا : انہوں نے کوشش کی معجزین : بےبس اور عاجز کرنے والے رجز : سخت عذاب یھدی : وہ ہدایت دیتا ہے تشریح : آیات نمبر 3 تا 6 کفار مکہ رسمی طور پر قیامت کا انکار نہیں کرتے تھے مگر اللہ تعالیٰ کے علم وقدرت کو اپنے قیاس کرکے اس بات کو ممکن سمجھتے تھے کہ جب انسان مرنے کے بعد گل سڑ جائے گا اور اس کے ذرات کائنات میں بکھر جائیں گے یا کائنات ٹوٹ پھوٹ کر بکھر جائے گی تو دوبارہ انسان اور کائنات کیسے پیدا ہوسکے گی ؟ وہ اپنی بےعقلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے انسان کے دوبارہ پیدا ہونے ، اس کے ذرات جمع ہونے اور دنیا کے دوبارہ بن جانے کے بارے میں کس طرح طرح کے شہبات کا شکار تھے اور کہتے تھے کہ یہ سب باتیں ناممکن ہیں قیامت کوئی چیز نہیں ہے سب کہنے کی باتیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اے نبی ﷺ ! آپ ان لوگوں سے کہہ دیجئے کہ میرے اس رب کی قسم جو عالم الغیب ہے کہ قیامت ضرور آئے گی اس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے۔ لیکن وہ قیامت کب آئے گی ؟ اس کا علم اللہ کے سوا کسی کو نہیں ہے۔ اللہ ہر غیب کا جاننے والا ہے وہ ایک ایک ذرے کی حالت سے اچھی طرح واقف ہے ، درخت سے ایک پتہ بھی گرتا ہے تو اس کا علم اللہ کو ہوجاتا ہے ۔ اس کو نظروں سے کوئی بات، کیفیت اور حالت پوشیدہ نہیں ہے۔ ہر چیز ” کتاب مبین “ یعنی لوح محفوظ میں موجود ہے ۔ جب عدل و انصاف کا وہ دن آئے گا جس کو قیامت کہتے ہیں تو کسی کے ساتھ کوئی زیادتی نہ ہوگی۔ جن لوگوں نے کفر و شرک ، ظلم و زیادتی اور لوگوں سے مکر و فریب کیا ہوگا نا کو سخت سزادی جائے گی اور جنہوں نے ایمان اور صالح اور نیکی کے ساتھ زندگی گذاری ہوگی اور اللہ و رسول کے تمام احکامات کی پابندی کی ہوگی ان کو ان کی محنت سے زیادہ بہتر اور اچھا بدلہ دیا جائے گا۔ انہیں مغفرت، سکون قلب اور عزت کے رزق سے نوازا جائیگا۔ فرمایا کہ جو لوگ علم رکھنے والے ہیں وہ اس بات کو اچھی طرح جانتے ہیں کہ حضرت محمد رسول ﷺ پر اللہ کیطرف سے جو کلام نازل کیا گیا ہے وہ برحق ہے اور وہی اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجا گیا ہے جو زبر دست اور تمام تعریفوں کا حق دار ہے ہدایت دینے والا ہے ۔ اس کی قدرت ہر چیز پر حاوی ہے وہ انسانی ذرات کو جب چاہے گا جمع کرکے پھر اس کو جیتا جاگتا انسان بنادے گا اور ایک ایسی نئی دنیا تعمیر فرمادے گا جس میں ہر انسان کے ہر عمل کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا ۔
Ayahs 34:7–9

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا هَلْ نَدُلُّكُمْ عَلٰى رَجُلٍ یُّنَبِّئُكُمْ اِذَا مُزِّقْتُمْ كُلَّ مُمَزَّقٍ١ۙ اِنَّكُمْ لَفِیْ خَلْقٍ جَدِیْدٍۚ Open ayah 34:7 in the Quran reader

اور کافروں نے کہا ہم تمہیں ایک ایسے آدمی کا پتہ بتائیں جو تمہیں یہ خبر بتا دیتا ہے کہ جب تم ریزہ ریزہ ہو جائو گے تم تمہیں نئے سرے سے پیدا کیا جائے گا۔

اَفْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَمْ بِهٖ جِنَّةٌ١ؕ بَلِ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ فِی الْعَذَابِ وَ الضَّلٰلِ الْبَعِیْدِ Open ayah 34:8 in the Quran reader

نہیں معلوم کہ اس نے اللہ پر جھوٹ گھڑا ہے یا اسے جنون ہے۔ ( اللہ نے فرمایا بات یہ ہے کہ ) جو آخرت پر ایمان نہیں لائے وہ عذاب میں مبتلا ہوں گے اور گمراہی میں دور جا پڑے ہیں ۔

اَفَلَمْ یَرَوْا اِلٰى مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اِنْ نَّشَاْ نَخْسِفْ بِهِمُ الْاَرْضَ اَوْ نُسْقِطْ عَلَیْهِمْ كِسَفًا مِّنَ السَّمَآءِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّكُلِّ عَبْدٍ مُّنِیْبٍ۠ Open ayah 34:9 in the Quran reader

کیا انہوں نے زمین و آسمان کی تخلق کی طرف دھیان نہیں دیا جو و ان کے سامنے اور ان کے پیچھے ہے۔ اگر ہم چاہیں تو ان کو زمین میں دھنسا دیں یا ان پر آسمان کا کوئی ٹکڑا گرا دیں۔ اس میں ہر اس شخص کے لئے نشانی ہے جو اللہ کی طرف رجوع کنے والا بندہ ہے ۔

لغات القرآن : آیت نمبر 7 تا 9 ندل : ہم بتائیں گے ینبی : وہ بتاتا ہے مزقتم : تم ریزہ ریزہ ہوگئے جنۃ : جنون۔ دیوانگی الضلال : گمراہی نخسف : ہم دھنسا دیں گے نسقط : ہم گرا دیں گے کسف : ایک ٹکڑا۔ ایک حصہ ایۃ : نشانی۔ نشان عبرت منیب : لوٹنے والا۔ رجوع کرنے والا تشریح : آیات 7 تا 9 بنیادی طور پر جانوروں اور انسان میں یہ فرق ہے کہ جانور فکر اور تدبر سے محروم ہے جب کہ انسان تفکر اور تدبر کرسکتا ہے ۔ مال و دولت اور دنیاوی اسباب میں کمی اتنی بڑی بد قسمتی اور محرومی نہیں ہے جتنی یہ بات کہ انسان فکر و تدبر اور ہدایت سے محروم ہوجائے۔ جب نبی کریم ﷺ مکہ کے کافروں سے یہ فرماتے تھے کہ ایک دن یہ دنیا اور اس میں بسنے والی مخلوق ختم کردی جائے گی اور انسان کو اپنی زندگی کے ایک ایک لمحے کا حساب دینا ہوگا تو کفار بڑی حقارت سے مذاق اڑاتے ہوئے کہتے تھے کہ لوگو ! آئو آج ہم تمہیں ایک حیرت انگیز بات بتاتے ہیں اور ایک ایسے شخص کے متعلق بتاتے ہیں جو یہ ان ہونی بات کہتا ہے کہ جب ہم ریزہ ریزہ ہوجائیں گے یا ہمارے بات دادا جن کے وجود کا آج پتہ بھی نہیں ہے وہ سب کے سب زندہ کئے جائیں گے۔ بھلا یہ کیسے ممکن ہے ؟ ایسا لگتا ہے کہ اس شخص نے یہ باتیں خود ہی گھڑلی ہیں یا وہ کسی جنون میں مبتلا ہے ۔ یہ سب باتیں وہ رسول ﷺ کا نام لئے بغیر کہا کرتے تھے ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اگر ان کا آخرت پر ایمان ہوتا تو وہ ایسی باتیں نہ کرتے ان کی ایسی باتوں کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ وہ شدید ترین عذاب میں بتلا کئے جائیں گے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو گمراہی میں بہت دور تک جاچکے ہیں۔ ان آیات سے معلوم ہوا کہ انسان کی سب سے بڑی بد نصیبی یہ ہے کہ وہ سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیتوں سے محروم ہوجائے تو اس کا انجام بڑا بھیانک ہوتا ہے۔ حالانکہ اگر وہ اپنے اردگرد پھیلی ہوئی کائنات اور اس کے نظام پر غور و فکر کرتا تو یہ بات اس کی سمجھ میں آسکتی تھی کہ اللہ نے اس نظام کائنات کو بنا کر اس میں ایک خاص تو ازن اور اعتدال پیدا کیا ہے ۔ اگر وہ اس تو ازن کو ذرا بھی ڈھیلا چھوڑ دے تو یہی زمین و آسمان جو انسان کے لئے راحت و آرام کا بہترین ذریعہ ہیں اس کے لئے قہر الہی بن سکتے ہیں ۔ فرمایا کہ وہ زمین جس سے انسان اپنی غذا اور لباس تک حاصل کرتا ہے اور وہ انسانوں کے بوجھ کو اٹھائے ہوئے ہے ہم اسی زمین کو ایسا بنا سکتے ہیں کہ اس زمین میں سارے انسان دھنس جائیں یا آسمان جو انسانی خیر و برکت کے لئے ایک چھت کی طرح ہے اس کے ایک ٹکڑے کو گرا کر ساری دنیا کو ختم کردیں۔ آخر میں فرمایا کہ یہ سب چیزیں عبرت و نصیحت حاصل کرنے کی نشانیاں ہیں لیکن ان سے وہی فائدہ حاصل کرتے ہیں جو ہر آن اللہ ہی سے امید لگا کر اس طرف متوجہ ہوتے ہیں۔
Ayahs 34:10–14

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ مِنَّا فَضْلًا١ؕ یٰجِبَالُ اَوِّبِیْ مَعَهٗ وَ الطَّیْرَ١ۚ وَ اَلَنَّا لَهُ الْحَدِیْدَۙ Open ayah 34:10 in the Quran reader

بیشک ہم نے دائود کو فضل و کرم عطا کیا تھا اور حکم دیا تھا کہ اے پہاڑو اور پرندو اس کے ساتھ تسبیح کرو۔ اور ہم نے ہی ان کے لئے لوہے کو نرم کردیا تھا

اَنِ اعْمَلْ سٰبِغٰتٍ وَّ قَدِّرْ فِی السَّرْدِ وَ اعْمَلُوْا صَالِحًا١ؕ اِنِّیْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 34:11 in the Quran reader

(اور کہہ دیا تھا کہ ) کشادہ زر ہیں بنائو اور زر ہوں کی کڑیاں جوڑنے میں اندازہ قائم رکھو عمل صالح کرتے رہو جو کچھھ کرتے ہو اسے میں دیکھنے والا ہوں

وَ لِسُلَیْمٰنَ الرِّیْحَ غُدُوُّهَا شَهْرٌ وَّ رَوَاحُهَا شَهْرٌ١ۚ وَ اَسَلْنَا لَهٗ عَیْنَ الْقِطْرِ١ؕ وَ مِنَ الْجِنِّ مَنْ یَّعْمَلُ بَیْنَ یَدَیْهِ بِاِذْنِ رَبِّهٖ١ؕ وَ مَنْ یَّزِغْ مِنْهُمْ عَنْ اَمْرِنَا نُذِقْهُ مِنْ عَذَابِ السَّعِیْرِ Open ayah 34:12 in the Quran reader

اور ہم نے ہی سلیمان (علیہ السلام) کے لئے ہو (کون ان کو تابع کردیا تھا) اس کی صبح کی منزل ایک مہینے کی ہوتی اور شام منزل بھی ایک مہینے کی ہوتی ۔ اور ہم نے ان کے لئے تانبے کا چشمہ بہادیا تھا اور جناب میں سے بعض اپنے رب کے حکم سے ان کے سامنے کام کرتے تھے اور ان میں سے جو بھی ہمارے حکم کی خلاف ورزی کرتا تو ہم اس کو سخت سزا کا مزہ چکھاتے تھے

یَعْمَلُوْنَ لَهٗ مَا یَشَآءُ مِنْ مَّحَارِیْبَ وَ تَمَاثِیْلَ وَ جِفَانٍ كَالْجَوَابِ وَ قُدُوْرٍ رّٰسِیٰتٍ١ؕ اِعْمَلُوْۤا اٰلَ دَاوٗدَ شُكْرًا١ؕ وَ قَلِیْلٌ مِّنْ عِبَادِیَ الشَّكُوْرُ Open ayah 34:13 in the Quran reader

اور سلیمان جو چاہتے وہ ان کے لئے قلعے ، تصویریں اور لگن جیسے بڑے بڑے حوض اور ایک جگہ جمی ہوئی بھاری دیگیں بنایا کرتے تھے۔ اے آل دائود تم شکر گذاری کے ساتھ عمل کرو اور میرے بندوں میں سے بہت کم شکر ادا کرتے ہیں۔

فَلَمَّا قَضَیْنَا عَلَیْهِ الْمَوْتَ مَا دَلَّهُمْ عَلٰى مَوْتِهٖۤ اِلَّا دَآبَّةُ الْاَرْضِ تَاْكُلُ مِنْسَاَتَهٗ١ۚ فَلَمَّا خَرَّ تَبَیَّنَتِ الْجِنُّ اَنْ لَّوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ الْغَیْبَ مَا لَبِثُوْا فِی الْعَذَابِ الْمُهِیْنِؕ Open ayah 34:14 in the Quran reader

اور پھر جب ہم نے ان پر موت کا حکم جاری کیا تو (جنات کو) ان کی موت کا پتہ نہ دیا مگر ایک گھن کی طرح کیڑا جو ان کے عصا کو کھا رہا تھا (اس نے ان کے عصا کو کھالیا) جب وہ گر پڑے تو جنوں پر حقیقت حال کھل گئی کہ اگر وہ غیب جانتے ہوتے تو ذلت کے اس عذاب میں مبتلا نہ ہوتے۔

لغات القرآن : آیت نمبر 10 تا 14 اوبی : چلو ۔ پڑھو النا : ہم نے نرم کردیا تھا الحدید : لوہا سبغت : کشادہ زرہیں قدر : اندازہ کر قدور (قدر) : دیگیں۔ پتیلے راسیت : ایک جگہ جمنے والیاں قضینا : ہم نے فیصلہ کردیا ما دل : نہیں بتایا دابۃ الارض : زمین کا جانور ۔ زمین کا کیڑا منساۃ : عصا۔ لاٹھی خر : وہ گر پڑا تبینت : واضح ہوگئی ۔ کھل گئی ما لبثوا : لگے نہ رہتے المھین : ذلت والا تشریح ُ : آیت نمبر 10 تا 14 زیر مطالعہ آیات سے پہلے اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ کائنات میں ہر طرف پھیلی ہوئی نشانیوں سے وہی عبرت و نصیحت حاصل کرتے ہیں جو ” عب منیب “ یعنی اللہ کے بندے جو ہر حال میں اللہ کی طرف جھکنے والے اس کی طرف رجوع کرنے والے اور اچھے یا برے جیسے بھی حالات ہوں اللہ کی عبادت و بندگی کے ساتھ شکر ادا کرتے رہتے ہیں ۔ ایسے لوگوں کی زندگیاں دنیا بھر کے لوگوں کے لئے ایک بہترین مثا ل ہوا کرتی ہیں ۔ حضرت دائود اور ان کے بیٹے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی مثالیں بیان کی گئی ہیں ۔ ان دونوں کو اللہ نے اتنی بڑی، بےمثال ہوا کرتی ہے ان کو زبور جیسی کتاب دی گئی تھی جو لوگوں کے لئے ہدایت و رہبری کا ذریعہ تھی۔ جب وہ اپنی خوبصورت آواز میں آیات کی تلاوت اور اللہ کا ذکر کرتے تو اللہ کے حکم سے پہاڑ اور پرندے بھی ان کے ہم نوا ہو کر جھومنے لگتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے لوہے کو اس قدر نرم بنادیا تھا کہ وہ لوہے کے تار بنا کر حلقے اور چھلے بناتے پھر ان کو جوڑ کر نہایت تناسب سے کشادہ زر ہیں بناتے تھے تاکہ جنگ میں کام آسکیں۔ یہی ان کا ذریعہ معاش بھی تھا جس وے وہ اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ بھرا کرتے تھے۔ جب حضرت دائود کے بیٹے حضرت سلمان (علیہ السلام) ان کے جانشین بنے تو اللہ نے ہوا کو ان کے لئے اس طرح مسخر کردیا تھا کہ وہ ان کے تخت کو ان کی مرضی کے مطابق ہوا کے دوش پر تیز رفتاری سے لے کر اڑجایا کرتا تھا اور جہان چاہتے وہ وہاں پہنچ جایا کرتے تھے۔ رفتار اس قدر تیز تھی کہ صبح سے دوپہر تک چلنے میں ایک مہینے کے سفر کے برابر فاصلہ طے کرلیتے تھے۔ پھر شام سے رات تک ایک مہینہ کی مسافت طے کرتے تھے اس طرح دو مہینے کا سفر ایک دن میں طے کرلیا کرتے تھے ۔ تانبہ ایک سخت دھات ہے لیکن اللہ نے ان کے لئے تانبے کو پانی کی طرح بہنے والا سیال بنا دیا تھا۔ وہ اتنا مناسب گر ہوتا تھا کہ آسانی سے اس کیے برتن بڑی بڑی دیگیں اور ضروریات کی دوسری چیزیں بنالی جاتی تھیں ۔ اللہ نے جنات کو اس طرح ان کے تابع کردیا تھا کہ وہ ان کے سامنے ان کے حکم سے بڑے سے بڑا کام سر انجام دیا کرتے تھے۔ وہ جنات کو جیسا حکم دیتے وہ ان کی تابع داری کرنے پر مجبور تھے۔ ان کے حکم کے خلاف چلنے والوں کو سخت سزا دی جاتی تھی۔ اونچی اونچی عمارتیں ، خوبصورت محل تانبے کی بنی ہوئی بڑی بڑی دیگیں جو چولہوں پر جمی رہتی تھیں پرندوں اور غیر جان داروں کی تصاویر بنا یا کرتے تھے ۔ بیت المقدس جیسی عظیم مسجد ان جنات کے ذریعہ تعمیر کرائی گئی۔ حضررت سلیمان (علیہ السلام) کا معمول یہ تھا کہ وہ ہر روز ایک عثا پر ٹیک لگا کر کھڑے ہوجاتے اور جنات کے کاموں کی نگرانی کیا کرتے تھے۔ ایک دن آپ اسی طرح بیت المقدس کی تعمیر کی نگرانی کر رہے تھے کہ ان کی وفات ہوگئی۔ چونکہ اللہ کو اس مسجد کی تعمیر کو مکمل کرانا تھا اس لے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی وفات کے باوجود اسی طرح عصا کے سہارے کھڑے رہے۔ جنات یہ سمجھتے رہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) ان کے کام کی نگرانی کر رہے ہیں ۔ جب بیت المقدس کی تعمیر مکمل ہوگئی تب ان کے عصا کو دیمک نے چاٹنا شروع کردیا اور اس عصا کو کھوکھلا کردیا جس سے حضرت سلیمان (علیہ السلام) گر پڑے۔ اس وقت جنات کو معلوم ہوا کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) وفات پاچکے ہیں ۔ وہ جنات کہنے لگے اگر ہمیں معلوم ہوجاتا کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) وفات پاچکے ہیں تو ہم اتنی ذلت اور سخت محنت کیوں برداشت کرتے ۔ کاش ہمیں غٰیب کا علم ہوتا ۔ خلاصلہ یہ ہے کہ اللہ نے حضرت دائود (علیہ السلام) اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو اس قدر نعمتوں سے نوازا تھا جس پر وہ تکبر اور غرور کرنے کے بجائے ہر وقت اللہ کا شکر ادا کیا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان کی آل اولا اد کو بھی اسی طرح شکر ادا کرنا چاہیے ۔ لیکن دیکھا یہ گیا ہے کہ اکثر لوگ نعمتیں پانے کے بعد ناشکری ہی کرتے ہیں۔ ان آیات کی مزید وضاحت کے لئے چند باتیں (1) گھریلوں زندگی میں خاص طور پر تقویٰ ، طہارت، پاکیزگی، عبادت، بندگی اور رزق حلال کی طلب اور تڑپ ایسی عظیم صفات ہیں جن کے بہترین اثرات نہ صرف اولاد اور گھروں پر پڑتے ہیں بل کی ان کی نیک خصلتوں کے لوازمات سے سارا ماحول خوش گوار اور روشن ومنور ہوجاتا ہے ۔ اس ماحول پر اللہ کی رحمتیں نازل ہوتی ہیں اور کائنات کی ماممکن قوتوں کو انسان کا خادم اور غلام بنادیا جاتا ہے۔ حضرت دائود (علیہ السلام) پغمبروں میں سے ہیں جن کے گھر میں یہی پاکیزگی اور شکر گزاری کا ماحول تھا۔ بنی اسرائیل نا فرمانیوں کی وجہ سے جب ساری دنیا میں ذلیل و خوار ہوگئے اور ظالم بادشاہوں اور حکمرانوں نے ان کا جینا حرام کردیا تب اللہ نے حضرت طالوت کو بنی اسرائیل کا سر براہ مقرر کای تاکہ جالوت جیسے ظالم اور طاقت ور بادشاہ سے مقابلہ کیا جاسکے جس نے بنی اسرائیل اور ان کی سلطلنت کی اینٹ سے اینٹ بجا کر رکھ دی تھی ۔ جالوت اور اس کے زبر دست لشکر سے مقابلہ ہوا ، جالوت جو ایک قوی ہیکل اور لمبا چوڑا آدمی تھا اس کے مقابلے سے ہر ایک گھبرا رہا تھا۔ حضرت دائود (علیہ السلام) جو اس وقت ایک غیر معروف نوجوان تھے انہوں نے جالوت پر اتنا زبردست حملہ کیا کہ اس کو ڈھیر کردیا جس سے جالوت کے لشکر کے قدم کھڑگئے اور انہوں نے میدان سے بھاگنا شروع کردیا۔ یہ اتنا بڑا کارنامہ تھا کہ حضرت دائود (علیہ السلام) بنی اسرائیل کی آنکھوں کا تارا بن گئے۔ حضرت طالوت نے اپنی بیٹی کا نکاح حضرت دائود سے کردیا جن سے حضرت سلیمان (علیہ السلام) پیدا ہوئے۔ حضرت طالوت کے بعد وہ سلطنت یہود کے سربراہ مقرر کردیئے گئے۔ پھر چند سال نہ گذرے تھے کہ پوری بنی اسرائیل کی قوم نے ان کو اپنا بادشاہ تسلیم کرلیا۔ حضرت دائود (علیہ السلام) نے زبر دست عزم و حوصلے سی قوم بنی اسرائیل کو ایک نئے جذبے سے سرشار کردیا جس سے ان کے قدم آگے بڑھتے چلے گئے۔ یرو شلم کر کرے اس کو سلطلنت بنی اسرائیل کا مرکز شہر بنادیا۔ اس طرح اتنی زبر دست سلطنت کے بادشاہ ہونے کے باوجود اپنے ہا تھ کی کمائی سے اپنا گذر بسر کرتے تھے ۔ وہ راتوں کو خاموشی سے سلطنت کے لوگوں کے حالات معلوم کرنے کے لئے گشت کرتے تاکہ کوئی حاکم کسی مظلوم پر کسی طرح ظلم و زیادتی نہ کرسکے۔ نبی کریم ﷺ نے حضرت دائود کا ذکر کرتے ہوئے فر مایا کہ انسان کا بہترین رزق اس کے اپنے ہاتھ کی کا کمائی سے حاصل ہونے والا رزق ہے اور بلاشبہ دائود اپنے ہاتھ کی کمائی سے اپنا اور اپنے بچوں کا گذارہ فرماتے تھے۔ آپنے دوسری جگہ فرمایا کہ نمازوں میں اللہ کے نزدیک پسندیدہ نماز حضرت دائود کی ہے جو آدھی رات سوتے پھر ایک تہائی رات کی عبادت و بندگی کرتے اور رات کے آخری حصے میں آپ آرام فرمایا کرتے تھے۔ فرمایا کہ سب روزوں میں محبوب ترین اللہ کے نزدیک حضرت دائود کے روزے ہیں جو ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن نہ رکھتے (قرطبی ) ۔ ان پر اللہ کا یہ خاص فضل و کرم تھا کہ اللہ نے ان کو علم و حکمت ، عدل و انصاف اور عام لوگوں کی خدمت کا ایک عظیم جذبہ عطا فرمایا تھا۔ آپ نے بیت المقدس کی تعمیرکا آغاز فرمایا جس کو ان کے صاحبزدے حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے تکمیل تک پہنچایا ۔ حضرت دائود نے اللہ کے فضل و کرم سے لوہے کی صنعت کو ایک خاص رخ دیا۔ اللہ نے ان کے ہاتھ میں لوہے کو موم کی طرح نرم کردیا تھا جس سے وہ نہایت باریک کڑیوں میں زر ہیں بناتے تھے ۔ جس کو لوگ جنگ میں لباس کے طور پر پہنتے تھے اور آسانی سے دشمن کے وار سے بچ کر مقابلہ کرسکتے تھے۔ پہلے اس صنعت سے لوگ واقف نہیں تھے ۔ اللہ نے فرشتوں کے ذریعے آپ کو علم سکھایا ۔ اللہ نے آل دائود سے فرمایا کہ ان خاندان کو اتنی عظیم نعمتوں سے نوازا گیا ہے لہذا وہ اس پر صرف زبان سے ہی نہیں بلکہ عمل سے بھی شکر ادا کریں ۔ حضرت دائود کے اہل خاندان نے قول و عمل سے اس طح شکر ادا کیا کہ ان کے گھر میں کوئی ایسا وقت نہ گذرتا تھا جس میں ان کے گھر کا کوئی فرد عبادت و بندگی میں لگا ہوا نہ ہوتا ۔ خاندان کے افراد پر دن رات کے اوقات کو اس طرح تقسیم کیا گیا تھا کہ حضرت دائود کا مصلی کسی وقت بھی نماز پر ھنے والوں سے خالی نہ رہتا تھا۔ اللہ نے آپ کو اس قدر خوبصورت آواز عطا فرمائی تھی کہ جب آپ زبور کی آیات کی تلاوت کرتے تو پہاڑ اور پرندے بھی آپ کے ساتھ تلاوت اور ذکر میں ہمنوا بن کر نغمہ سرا ہوجاتے تھے ۔ حضرت دائود کی پغمبرانہ شان اور ان کے گھریلو ماحول کا یہ اثر تھا کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے صرف تیرہ سال کی عمر میں ایک عظیم الشان سلطنت کی ذمہ داریاں سنبھال لی تھیں۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو اس سے بھی زیادہ نعمتیں عطا فرمائیں ۔ ہوا کو ان کے اس طرح تابع کردیا تھا کہ ہوا ان کے تخت کو ایک جگہ سے اڑا کر دوسری جگہ لے جاتی تھی ۔ تیز رفتاری کا یہ حال تھا کہ صبح و شام کے دومہینے کے سفر کو ایک دن میں مکمل کرلیا جاتا تھا۔ تانبہ جیسی سخت چھات کو ان کے لئے پانی کی طرح بہنے والا سیال بنادیا جاتا تھا کہ ان کے حکم سے یہ جنات بڑے بڑے کاموں کو انجام دیتے تھے ۔ ان کی خلاف ورزی کی کسی میں ہمت نہ تھی۔ اگر کوئی نافرمانی کرتا تو اس کو زبردست سزادی جاتی تھی۔ وہ جنات ان کے حکم سے اونچی اونچی عمارتیں ، مسجدیں ، غیر جانداروں کی تصاویر ، پانی بھرنے کے بڑے برتن چھوٹے حوض کے برابر پانی آسکتا تھا اور چولہوں پر جمی ہوئی بھاری بھاری دیگیں بنایا کرتے تھے۔ بیت المقدس کی تعمیر کا آغاز حضرت دائود نے کیا تھا جس کو حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے مکمل فرمایا۔ تعمیر کا کام جنات کے سپرد کردیا گیا تھا۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) ہر روز اس تعمیر کی نگرانی کرتے تھے۔ اپنے عصا کے سہارے کھڑے ہوجاتے اور کام کرنیوالے جنات کو دیکھتے رہتے تھے۔ ایک دن وہ اسی طرح عصا کے سہارے کھرے تھے کہ اللہ نے ان پر موت کو طاری کردیا لیکن وفات کے باوجود اس عصا کے سہارے اسی طرح رہے تاکہ بیت المقدس کا کام مکمل ہوجائے اور جنات جو ان کے خوف سے کام کر رہے تھے وہ فوراً کام نہ چھوڑ بیٹھیں۔ جب تعمیر بیت المقدس کا کام مکمل ہوگیا تو اللہ کے حکم سے گھن کے کیڑے (دیمک) نے عصائے سلیمانی کو اندر سے کھا کر اس طرح کھوکھلا کردیا تھا کہ ایک دن حضرت سلیمان (علیہ السلام) گر پڑے اس وقت جنات کو علم ہوا کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) وفات پاچکے ہیں۔ جنات کہنے لگے کہ اگر ہمیں غیب کا علم ہوتا تو ہم اتنی محنت ، مشقت اور ذلت کیوں اٹھاتے۔ اس میں کفار مکہ کے اس عقیدے کی تردید ہے کہ جنات کو غیب کا علم دیا گیا ہے ۔ (3) کفار اس بات کا انکار کرتے تھے کہ جب انسان مر کر مٹی ہوجائے گا اور اس کے اجزا کائنات میں بکھر جائیں گے تو وہ دوبارہ کیسے پیدا ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت دائود اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے واقعات اور ان کو دی گئی نعمتوں کے ذریعہ بتا یا ہے کہ جس طرح یہ لوگ اس بات کو ناممکن سمجھتے ہیں کہ لوہا موم کی طرح نرم ہوجائے، تانبہ سیال اور پانی کی طرح بہنے لگے، جنات اور ہوا حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے حکم کے تابع ہوجائیں ۔ بتایا گیا ہے کہ جو اللہ ایسی ممکن چیزوں کو ممکن بنا سکتا ہے کیا وہ انسانوں کے اجزاء کو جمع کرکے اس کو دوبارہ پیدا نہیں کرسکتا ؟ اللہ کی قدرت و طاقت سے کوئی چیز باہر نہیں ہے۔
Ayahs 34:15–21

لَقَدْ كَانَ لِسَبَاٍ فِیْ مَسْكَنِهِمْ اٰیَةٌ١ۚ جَنَّتٰنِ عَنْ یَّمِیْنٍ وَّ شِمَالٍ١ؕ۬ كُلُوْا مِنْ رِّزْقِ رَبِّكُمْ وَ اشْكُرُوْا لَهٗ١ؕ بَلْدَةٌ طَیِّبَةٌ وَّ رَبٌّ غَفُوْرٌ Open ayah 34:15 in the Quran reader

البتہ قوم سبا کے لئے ان کی آبادی میں ہی ایک نشانی موجود تھی۔ دو باغ دائیں اور بائیں ( اور ان سے کہا گیا تھا کہ ہم) اپنے پروردگار کے (رزق سے کھائو اور اس کا شکر ادا کرو، عمدہ اور پاکیزہ شہزادہ اور بخشنے والا پروردگار ہے۔

فَاَعْرَضُوْا فَاَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ سَیْلَ الْعَرِمِ وَ بَدَّلْنٰهُمْ بِجَنَّتَیْهِمْ جَنَّتَیْنِ ذَوَاتَیْ اُكُلٍ خَمْطٍ وَّ اَثْلٍ وَّ شَیْءٍ مِّنْ سِدْرٍ قَلِیْلٍ Open ayah 34:16 in the Quran reader

پھر انہوں نے نافرمانی کی تو ہم نے ان پر (بند توڑ کر ) ایک زبردست سیلاب بھیج دیا۔ اور ان کے باغوں کے دو ایسے باغوں سے بدل ڈالاجس میں بد مزہ اور کڑوے کسیلے پھل اور کچھ جھاڑ جھنکار اور تھوڑے سے بیریوں کے درخت تھے۔

ذٰلِكَ جَزَیْنٰهُمْ بِمَا كَفَرُوْا١ؕ وَ هَلْ نُجٰزِیْۤ اِلَّا الْكَفُوْرَ Open ayah 34:17 in the Quran reader

یہ ہم نے (ان کو ) ان کے کفر کی وجہ سے سزادی تھی اور ہم نا شکرے لوگوں کو ایسی ہی سزا دیا کرتے ہیں۔

وَ جَعَلْنَا بَیْنَهُمْ وَ بَیْنَ الْقُرَى الَّتِیْ بٰرَكْنَا فِیْهَا قُرًى ظَاهِرَةً وَّ قَدَّرْنَا فِیْهَا السَّیْرَ١ؕ سِیْرُوْا فِیْهَا لَیَالِیَ وَ اَیَّامًا اٰمِنِیْنَ Open ayah 34:18 in the Quran reader

اور ہم ان کے اور ان بستیوں کے درمیان برکتیں رکھ دی تھیں ۔ اور ان میں سفر کی مسافتوں کو ایک اندازے پر رکھ دیا تھا اور ان سے کہہ دیا تھا کہ تم دن رات بےخوف و خطر ان میں چلو پھرو۔

فَقَالُوْا رَبَّنَا بٰعِدْ بَیْنَ اَسْفَارِنَا وَ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فَجَعَلْنٰهُمْ اَحَادِیْثَ وَ مَزَّقْنٰهُمْ كُلَّ مُمَزَّقٍ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍ Open ayah 34:19 in the Quran reader

وہ کہنے لگے کہ اے ہمارے پروردگار ہمارے سفروں کے درمیان دوری پیدا کردے۔ اور جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا تھا تو ہم نے ان کو زندگی کو افسانہ بنا دیا اور ہم نے ان کو بری طرح توڑ کر رکھ دیا تھا۔ ان میں ہر ایک صبر وشکر کرنے والوں کے لئے نشانیاں ہیں

وَ لَقَدْ صَدَّقَ عَلَیْهِمْ اِبْلِیْسُ ظَنَّهٗ فَاتَّبَعُوْهُ اِلَّا فَرِیْقًا مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 34:20 in the Quran reader

البتہ ان پر ابلیس نے اپنا گمان سچا کر دکھایا ۔ مومنوں کے ایک گروہ کے علاوہ سب نے اس کی پیروی کی۔

وَ مَا كَانَ لَهٗ عَلَیْهِمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ اِلَّا لِنَعْلَمَ مَنْ یُّؤْمِنُ بِالْاٰخِرَةِ مِمَّنْ هُوَ مِنْهَا فِیْ شَكٍّ١ؕ وَ رَبُّكَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ حَفِیْظٌ۠ Open ayah 34:21 in the Quran reader

حالانکہ شیطان کا ان پر کوئی غلبہ نہ تھا ( مگر ہم چاہتے تھے کہ) جو آخرت پر ایمان رکھتا ہے اور بیشک میں مبتلا ہے دونوں کو اچھی طرح جان لیں۔ اور (اے نبی ﷺ آپ کا پروردگار ہر چیز پر نگہبان ہے۔

لغات القرآن : آیت نمبر 15 تا 21 مسکن : رہنے کی جگہ (آبادی) جنتن : دو باغ (دو رویہ باغ) یمین : داہنے شمال : بائیں طیبۃ : پاکیزہ ۔ صاف ستھری سیل : سیلاب العرم : بند۔ ڈیم اکل : پھل خمط : کڑوا۔ کسیلا اثل : جھاؤ سدر : بیری قرا : بستیاں ظاھرۃ : نظر آنے والی۔ کھلی ہوئی بعد : دور کردے۔ درازے کردے احادیث : باتیں صبار : بہت صبر کرنے والا صدق : سچ کر دکھایا سلطن : طاقتور ۔ زور دار تشریح نمبر 15 تا 21 نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ ” سبا “ عرب کے ایک شخص کا نام تھا جس کی نسل سے عرب میں کندہ ، ازد، اشعرمین، مذحج، عاملہ، جذام، لخم ، غسان اور انمار (جس کی دو شاخیں ہیں (خشم اور بخیلہ ) قبیلے تھے۔ ( ترمذی) قوم سبا جنوبی عرب یمن کی ایک بہت بڑی قوم کا نام ہے جو چند بڑے بڑے قبائل پر مشتمل تھی ۔ یہ قوم کفر و شرک میں مبتلا تھی جو سورج کو اپنا معبود سمجھ کر اس کی عبادت و بندگی کرتی تھی۔ اس قوم کی اصلاح کے لئے اللہ نے تقریباً تیرہ پغمبروں کو بھیجا۔ جب سب کی ملکہ بلقیس نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے دست مبارک پر اسلام قبول کیا تو ساری قوم تو حید پر آگئی اور انہوں نے کفر و شرک اور بت پرستی سے توبہ کرلی ۔ یہ گیارہ سو قبل مسیح کا زمانہ تھا بعد میں قوم پھر سے کفر و شرک کر طرف لوٹ گئی اور مال و دولت کی کثرت نے قوم سبا کو انتہائی مغرور اور متکبر بنادیا تھا۔ یہ قوم نہایت ذہین، دولت مند اور دنیاوی ترقیات میں بہت آگے تھی جس کی آبادی یمن میں پھیلی ہوئی تھی ۔ اس کا سب سے بڑا اور مشہور مارب تھا۔ وہ خشکی اور سمندری راستوں سے دنیا پر ایک ہزار سال تک حکومت کرتی رہی۔ ایک طرف تو وہ خشکی اور سمندری تجارت کے ذریعہ دنیا چھائے وہئے تھے اور دوسری طرف انہوں نے آس پاس کے علاقوں میں ایک سو سے زیادہ ایسے بند (DAM) تعمیر کئے ہوئے تھے جس سے پورے یمن کو پانی سپلائی کیا جاتا تھا۔ ہر طرف درختوں کی اتنی کثرت تھی کہ جہاں تک نظر جاتی باغ ہی باغ اور سرسبز شادابی نظر آتی تھی۔ انہوں نے مارب کے قریب چودہ سو میٹر اونچا اور چھ سو میٹر لمبا ایک زبر دست ڈیم بنا رکھا تھا جس میں ندی ، نالوں اور پہاڑوں سے آنے والے پانی کو روکنے کا بہترین انتظام کیا گیا تھا۔ جس سے نہریں نکال کر پانی کو ہر شہر تک پہنچایا جاتا تھا۔ یہ محض اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم تھا جس پر قوم سبا کا اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے تھا مگر وہ مال و دولت کی ریل یل ، عیش و عشرت کے اسباب و بلند وبالا بلڈنگوں اور شہروں کی خوبصورتی میں اتنے گم ہوچکے تھے کہ اللہ کو بھلا کر بےحقیقت بتوں کی عبادت اور طرح طرح کے شرک میں مبتلا ہوگئے تھے ۔ وہ اپنے گھروں میں سونے اور چاندی کے برتن استعمال کرتے۔ ہاتھی دانت جو افریقہ کے دور دراز علاقوں سے منگواتے اس سیاپنے مکانوں ، چھتوں ، دیواروں اور دروازوں کو مزین کرتے تھے ۔ وہ لکڑی کی جگہ دار چینی ، صندل ، عود اور خوشبو اور لکڑیوں کو جلاتے تھے ۔ انہوں نے بڑی اونچی اونچی بلڈنگیں بنانے میں ایک خاص مہارت حاصل کر رکھی تھی۔ ” قصر غمدان “ کے متعلق مورخین نے لکھا ہے کہ یہ بلڈنگ بیس منزلوں تک بلند تھی جس کی ہر منزل 13 فٹ اونچی تھی۔ غرضیکہ ان کا ملک بلند وبالا بلڈنگوں ، سر سبزی و شادابی ، باغات کی کثرت ، کھیتوں اور مویشیوں سے بھرا ہو اتھا۔ زراعت کی اس ترقی کے ساتھ ساتھ وہ تجارت کے ذریعہ ساری معلوم دنیا سے رابطہ رکھتے تھے۔ ان کی بند گاہ دنیا کے مالوں سے بھری ہوئی تھی ۔ چین، انڈونیشیا ، ہندوستان ، مالا بار، مصر ، شام ، اردن اور یونان کے جہاز بہترین اور قیمتی سامان لے کر دن رات آتے اور جاتے رہتے تھے ۔ ان کے بازار ساری دنیا کے جدید سمانوں سے بھرے ہوئے تھے۔ لیکن جب اس قوم کی نا فرمانیاں اور کفرو شرک حد سے زیادہ بڑھ گیا تو اللہ نے ان کے برے اعمال کے سبب ان کے ڈیموں پر ایسے اندھے چوہے مسلط کردیئے جنہوں نے ان کے ڈیموں کی بنیاد کو اندر سے اس قدر کھوکھلا اور کمزور کردیا تھا کہ جب پہاڑوں اور ندی نالوں سے تیز پانی آیا تو وہ ڈیم زیادہ پانی کے دبائو کو برداشت نہ کرسکے اور شہر مارب کے پاس بڑا بند (ڈیم) تھا جس کو سد مارب یا کمرم کہا جاتا تھا وہ بند ٹوٹ گیا۔ اس بڑے ڈیم کے ٹوٹنے سے نیچے کے تمام ڈیم ٹوٹتے چلے گئے ۔ یہ اتنا زبردست سیلاب تھا کہ ملک کا نظام آب پاشی تباہ ہو گر رہ گیا جو پھر کبھی بحال نہ ہوسکا۔ تمام پھلوں سے لدے ہوئے باغات ، ہر ے ، بھرے کھیت ، شہر کی بلند وبالا بلڈنگیں اور مکانات اس پانی میں ڈوب گئے۔ پھلوں سے لدے باغات اور شہر پانی میں غرق ہوگئے۔ ان میوہ اور درختوں کی جگہ کڑوے کسیلے پھل ، جھائو کے درخت رہ گئے۔ ان آبادیوں اجڑ گئیں ، ہر جگہ دھول اڑنے لگی ، گرم ہوائیں خاک دھول کے سوا کچھ بھی باقی نہ بچا اس طرح ان کی نا فرمانیوں کی وجہ سے ان کی تہذیب ، ان کا تمدن ، تجارت اور زراعت خاک میں مل گئے اور ان کا نام صرف ایک افسانہ بن کر رہ گیا۔ ان آیات میں دوسری بات یہ بیان کی گئی ہے کہا اللہ نے یمن سے شام تک کا وہ علاقہ جو نا ہموار پہاڑیوں اور غیر آبادصحرائو سے گذرتا تھا اس میں ایسی نمایاں بستیاں عطا کی تھیں جو شاہراہ عام پر واقع تھیں ۔ جن کے درمیان فاصلے نہ تھے ایک بستی ختم ہوتی تو دوسری بستی کی بلڈنگیں اور آبادی نظر آنے لگتی تھی اس طرح ایک مسافر کا سفر مسلسل آباد علاقوں کی وجہ سے انتہائی آسان اور خوش گو ار ہوگیا تھا۔ ہر طرف امن و سکون تھا۔ راستے میں خوب چہل پہل رہتی تھی کسی کو چوری ڈاکہ یا بھوک پیاس کا کوئی خطرہ نہ ہوتا تھا۔ یہ بھی ان کے لئے ایک عظیم الشان نعمت تھی جس پر شکر ادا کرنے کے بجائے وہ سفر کی ان سہولتوں سے اکتا گئے اور تکلیفیں مانگنے لگے۔ وہ یہاں تک کہنے لگے تھے کہ اے ہمارے رب ہمارے سفر کی منزلوں کے درمیانی فاصلوں کو اور بڑھا دیجئے۔ یعنی اس سفر میں کیا لطف ہے جس میں کوئی تکلیف نہ ہو۔ مزہ تو یہ ہے کہ سفر ہو اور اس میں کچھ مشقتیں اور تکلیفیں ہوں تاکہ ہم پوری طرح سفر سے لطف اندوز ہوسکیں ۔ قوم سبا کو اللہ نے ہر طرح کی نعمتوں سے نواز تھا اگر وہ ان پر اللہ کا شکر ادا کرتے اور اس کی بندگی کرتے تو ان کی نعمتوں میں اضافہ کردیا جاتا مگر وہ شیطان کے جال میں پھنس کر اپنی دنیا اور آخرت کو گنوا بیٹھے۔ کیونکہ شیطان کا کام ہی یہ ہے کہ وہ انسانوں کو بہکا کر ان کو اللہ کی یاد اور عبادت سے غافل کردیتا ہے اور اس عارضی دنیا کا اس کو دیوانہ بنا دیتا ہے لیکن وہ لوگ جو انبیا کی بات سن کر ان کی اطاعت و فرما برداری کرتے ہیں اور اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتے وہی کامیاب و با مراد ہوتے ہیں۔ ایسے لوگوں پر شیطان اپنا غلبہ حاصل نہیں کرسکتا اور اس طرح اللہ پر ایمان لانے والے نجات پالیتے ہیں اور اس کی نافرمانی کرنے والے اور اسکی ذات میں شرک کرنے والے دنیا سے مٹا دیئے جاتے ہیں اور ان کی زندگی صرف ایک قصہ کہانی بن کر رہ جاتی ہے ۔ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کی نگرانی اور حفاظت کرنے والا ہے ۔ وہ تمام انسانوں کے تمام اعمال و افعال سے پوری طرح واقف ہے۔
Ayahs 34:22–23

قُلِ ادْعُوا الَّذِیْنَ زَعَمْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ۚ لَا یَمْلِكُوْنَ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَ لَا فِی الْاَرْضِ وَ مَا لَهُمْ فِیْهِمَا مِنْ شِرْكٍ وَّ مَا لَهٗ مِنْهُمْ مِّنْ ظَهِیْرٍ Open ayah 34:22 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ آپ کہہ دیجئے کہ تم اللہ کے سوا جن کو اپنا معبود سمجھتے وہ ان کو پکارو۔ وہ تو ایک ذرہ برابر چیز کے بھی مالک نہیں ہیں ۔ نہ تو آسمانوں میں اور نہ زمین میں۔ نہ ان دونوں میں ان کا کوئی ساجھا (شرکت ) ہے۔ ۔ نہ ان میں سے کوئی اللہ کا مدد گار ہے۔

وَ لَا تَنْفَعُ الشَّفَاعَةُ عِنْدَهٗۤ اِلَّا لِمَنْ اَذِنَ لَهٗ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوْبِهِمْ قَالُوْا مَا ذَا١ۙ قَالَ رَبُّكُمْ١ؕ قَالُوا الْحَقَّ١ۚ وَ هُوَ الْعَلِیُّ الْكَبِیْرُ Open ayah 34:23 in the Quran reader

نہ اس کے پاس اس کی اجازت کے بغیر کسی کی سفارش کسی کے کام آسکتی ہے ۔ یہاں تک کہ جب ان کے دلوں سے گھبراہٹ دور کردی جائے گی تو وہ پوچھیں گے کہ تمہارے رب نے کیا جو اب دیا ہے ؟ تو (فرشتے) کہیں گے کہ سچ بات کا حکم دیا ہے ۔ وہی بلندو برتر ہے۔

لغات القرآن : آیت نمبر 22 تا 23 ادعوا : پکارو۔ بلاؤ زعمتم : تم نے گمان کیا۔ تم نے سمجھا ظھیر : مددگار فزع : گھبراہٹ دور کردی گئی الحق : سچ تشریح : آیات نمبر 22 تا 23 اللہ تعالیٰ نے حضرت دائود (علیہ السلام) اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا واقعہ اور اللہ کو ماننے اور اس کا شکر ادا کرنے والوں کا حال سنا کر بتایا ہے کہ جو لوگ صبر و شکر سے کام لیتے ہیں ان کو دنیا میں کیا صلہ اور بدلہ ملتا ہے اور آخرت میں ان کا کتنا عظیم مقام ہوگا ۔ اس کا وہ تصور بھی نہیں کرسکتے۔ اس کے بر خلاف قوم سبا کے واقعات زندگی کو سامنے رکھ کر فرمایا کہ جب وہ قوم جو ایک ہزار سال تک دنیا پر حکومت کرتی رہی تھی اس نے اللہ کے پغمبروں کی بات نہ سن کر اور شیطان کے جال میں پھنس کر اپنی دنیا اور آخرت کو برباد کر ڈالا تھا تو ان کا انجام کتنابھیانک ہوا تھا۔ در حقیقت ہمیشہ شیطان نے انسانوں کو اس دھوکے میں ڈالے رکھا ہے کہ وہ دنیا میں جو چاہیں کریں ۔ بس اپنے (من گھڑت) معبودوں کی عبادت و بندگی کرتے رہیں وہ ایسی عظمت وقدرت والی ہستیاں ہیں کہ اپنی سفارش سے جس کو چاہے بخشوالیں گی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ تو ان کے ہاتھوں کے بنائے ہوئے بےحقیقت بت ہیں جن کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ اللہ کے وہ فرشتے جو بہت قریب ہیں وہ بھی اس وقت تک سفارشی کی جرات نہیں کرسکتے جب تک ان کو اس کی اجازت نہ دے دی جائے گی۔ جب نبی کریم ﷺ نے کفار مکہ کے سامنے اللہ کے ایک ہونے اور اس کی قدرت و طاقت کو مان کر اسی کی عبادت و بندگی کرنے کی تعلیم دی تو کفار جو اللہ کی ذات کے متعلق طرح طرح کے گمان رکھتے تھے وہ کہتے تھے کہ یہ بت، فرشتے اور نیک لوگوں کی روحیں ہماری سفارش کر کے ہمیں ہر طرح عذاب اور تکلیفوں سے بچا لیں گی۔ ان نادانوں کا ایک خیال تو یہ تھا کہ ہمارے بت اللہ کے معاملات پوری طرح شریک اور مددگار ہیں اسی لئے ہم اپنی حاجتیں اور مرادیں ان مانگتے ہیں کچھ لوگوں کا خیال یہ تا کہ یہ بت ہمارے خالق و ماک تو نہیں ہیں البتہ ان کو اللہ کے ہاں بڑا مقام حاصل ہے اگر وہ ہماری سفارش کردیں گے تو ہمارا کام بن جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے ایسے نادانوں سے فر مایا ہے کہ اے نبی ﷺ آپ ان سے کہہ دیجئے کہ وہ اپنا معبود سمجھتے ہیں ان کو پکار کر تو دیکھیں ان پر حقیقت کھل جائے گی کہ وہ ذرہ برابر چیز بھی میں بھی شریک نہیں ہیں ۔ آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے میں نہ تو شریک ہیں اور نہ کسی طرح سے اللہ کے مدد گار ہیں کیونکہ اللہ نے ہی زمین وآسمان اور ساری مخلوق کو پیدا کیا ہے وہ ان تمام چیزوں میں کسی کے سہارے کا محتاج نہیں ہے ۔ رہا یہ گمان کہ فرشتے اور بت اس کے پاس ان لوگوں کی سفارش کریں گے تو اس بات کو غور سے سن لیں کہ وہ فرشتے جو اللہ کے مقرب فرشتے ہیں وہ بھی اس وقت تک سفارش کرنے کی جرات نہیں کرسکتے جب تک اللہ کی طرف سے ان کو اجازت نہ دی جائے گی ۔ فرمایا کہ جب اللہ کی ایسی نورانی مخلوق کی محال نہیں ہے کہ اس کی اجازت کے بغیر اپنے لب بھی ہلا سکیں تو ان بےحقیقت بتوں کی کیا حیثیت ہے۔ اللہ تعالیٰ کی عظمت اور اس کے جلال کے سامنے کسی کو دم مانے تک کی اجازت نہیں ہوگی۔ اس کے سامنے سب ہی سر جھکائے ہوئے ہیں فرشتے بھی اتنا ہی بول سکتے ہیں جتنی ان کو اجازت دی جائے گی ۔ فرشتوں کا کام یہ ہے کہ وہ تمام حالات کو اللہ کے سامنے رکھ دیتے ہیں اور اللہ کے حکم کے منتظر رہتے ہیں ۔ پھر جب حکم الہی نازل ہوتا ہے تو اس کی عظمت و جلال کی آہٹ سے ان کے دل لرز اٹھتے ہیں اور سجدے میں گر پڑتے ہیں ۔ اس کے بعد خوف اور رعب کا اثر دل پر سے اللہ کے حکم سے دور ہوجاتا ہے تو نیچے والے فرشتے اوپر والے فرشتوں سے پوچھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے کیا حکم دیا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ اللہ نے جو کچھ فر مایا وہ بالکل حق اور سچ فرمایا ہے اور بس۔ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ رب العالمیین جب کوئی حکم دیتے ہیں تو عرش کو اٹھانے ولے فرشتے اللہ کی تسبیح و تقدیس کرنے لگتے ہیں ۔ ان کی تسبیح کو سن کر ان کے قریب والے آسمان کے فرشتے بھی تسبیح پڑھنے لگتے ہیں یہاں تک کہ بات ” سماء دنیا “ یعنی نیچے کے فرشتوں تک پہنچ جاتی ہے (اور سب فرشتے اللہ کی تسبیح و تقدیس کرنے میں مشغول ہوجاتے ہیں ) پھر وہ فرشتے جو عرش الہی کو اٹھائے ہوئے ہیں ان کے قریب والے فرشتے پوچھتے ہیں آپ کے رب نے کیا فرمایا۔ وہ اللہ کے دیئے حکم کو بتا دیتے ہیں ۔ پھر اس طرح نیچے کے آسمان والے اوپر والوں سے سوال کرتے ہیں ۔ یہاں تک سوال و جواب کا سلسلہ ” سماء دنیا “ تک پہنچ جاتا ہے ۔ (صحیح مسلم)
Ayahs 34:24–30

قُلْ مَنْ یَّرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ قُلِ اللّٰهُ١ۙ وَ اِنَّاۤ اَوْ اِیَّاكُمْ لَعَلٰى هُدًى اَوْ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 34:24 in the Quran reader

اے نبی آپ کہہ دیجئے کہ آسمانوں اور زمین سے تمہیں کون رزق دیتا ہے ۔ آپ کہہ دیجئے کہ بیشک ہم یا تم دونوں میں سے کوئی ایک ہدایت پر ہے یا کھلی گمراہی میں پڑا ہوا ہے۔

قُلْ لَّا تُسْئَلُوْنَ عَمَّاۤ اَجْرَمْنَا وَ لَا نُسْئَلُ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 34:25 in the Quran reader

(آپ ان لوگوں) سے کہہ دیجئے کہ ( اگر ہم مجرم ہیں ) تو تم کرتے رہے ہو ۔

قُلْ یَجْمَعُ بَیْنَنَا رَبُّنَا ثُمَّ یَفْتَحُ بَیْنَنَا بِالْحَقِّ١ؕ وَ هُوَ الْفَتَّاحُ الْعَلِیْمُ Open ayah 34:26 in the Quran reader

آپ کہہ دیجئے کہ ہمارا پروردگار ( قیامت کے دن ) ہم سب کو جمع کرے گا۔ پھر وہ ہمارے درمیان ٹھیک ٹھیک فیصلہ کردے گا ۔ وہ بہترین فیصلہ کرنے والا اور سب کچھ جاننے والا ہے۔

قُلْ اَرُوْنِیَ الَّذِیْنَ اَلْحَقْتُمْ بِهٖ شُرَكَآءَ كَلَّا١ؕ بَلْ هُوَ اللّٰهُ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 34:27 in the Quran reader

آپ کہہ دیجئے جنہیں تم نے اللہ کے ساتھ شریک ٹھرا رکھا ہے ذرا مجھے بھی تو دکھائو۔ ہر گز نہیں۔ بلکہ اللہ ہی غالب ہے اور حکمت والا ہے

وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا كَآفَّةً لِّلنَّاسِ بَشِیْرًا وَّ نَذِیْرًا وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 34:28 in the Quran reader

اے نبی ﷺ ہم نے آپ کو تمام بنی نوع انسانی (کی ہدایت کے لئے) خوش خبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے ۔ مگر اکثر لوگ (اس بات ) کو نہیں جانتے۔

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 34:29 in the Quran reader

وہ پوچھتے ہیں کہ وہ (قیامت کا ) وعدہ کب پورا ہوگا۔ اگر تم سچے ہو ؟

قُلْ لَّكُمْ مِّیْعَادُ یَوْمٍ لَّا تَسْتَاْخِرُوْنَ عَنْهُ سَاعَةً وَّ لَا تَسْتَقْدِمُوْنَ۠ Open ayah 34:30 in the Quran reader

آپ کہہ دیجئے اس وعدہ کا ( ایک) دن مقرر ہے اس سے تم نہ تو ایک گھڑی پیچھے ہٹ سکتے ہو اور نہ تم آگے بڑھ سکتے ہو۔

لغات القرآن : آیت نمبر 24 تا 30 یرزق : وہ دیتا ہے انا : بیشک ہم ایاکم : تم ہی لا تسئلون : تم سوال نہ کیے جاؤ گے اجرمنا : ہم نے گناہ کیا یفتح : وہ کھولتا ہے الحقتم : تم نے ملا دیا کلا : ہرگز نہیں کافۃ : تمام۔ سب متی : کب ؟ میعا : مقرر لا تستاخرون : تم پیچھے نہ ہٹو گے لا تستقدمون : تم آگے نہ بڑھو گے تشریح : آیت نمبر 24 تا 30 کفار مکہ اللہ کا نام لیتے ، اس کی ہستی کو مانتے ، اس کے اختیا اور قدرت کے قائل تھے اور یہ بھی جانتے تھے کہ رزق کی تمام کنجیاں اس کے دست قدرت میں ہیں لیکن ان کا گمان یہ تھا کہ اللہ نے ساری دنیا اور اس کے نظام کو پیدا کر کے ا اس کو چلانے کا اختیار ان کے بتوں اور کاہنوں کو دے دیا ہے ۔ اب اگر ہم ان کے سامنے نذر و نیاز پیش کرتے رہیں گے تو وہ ہماری دنیا کے کام بنادیں گے اور آخرت میں بھی جہنم کے عذاب سے بچالیں گے۔ اس کر برخلاف نبی کریم ﷺ کی تعلیم یہ تھی کہ اس کائنات اور اس کے ذرے ذرے کا مالک اللہ ہے وہی سب کو رزق پہنچاتا ہے اور اس کے اختیارات وقدرت میں دوسرا کوئی شریک نہیں ہے۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے راہ سے بھٹکے ہوئے لوگوں کو سیدھے راستے پر لانے کے لئے نبی کریم ﷺ خطاب کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ اے بنی ﷺ ! آپ ان لوگوں کو یہ سمجھا ئیے کہ تمہیں زمین اور آسمان سے رزق دیتا ہے ؟ آپ صاف صاف کہہ دیجئے کہ یہ اللہ کے سوا کوئی دوسرا نہیں ہے جو رزق دیتا ہے وہی سب کا رازق ہے ۔ ہم تو اللہ کو ہر شریک سے پاک سمجھر اسی کی عبادت و بندگی کرتے ہیں اور تم اللہ کے ساتھ دوسروں کو شریک کرتے ہو ۔ اس واضح فرق کے بعد یہی ہو سکتا ہے کہ ہم میں سے کوئی ہم میں سے کوئی ایک ہی صراط مستقیم پر ہوگا اور دوسرا گمراہی کے راستے ، اب یہ سوچنا تمہارا کام ہے کہ دلیل اور حالات کس کے برحق ہونے کا فیصلہ کر رہے ہیں اور کون اس اصول کی موجودگی میں گمراہ ہے۔ ہر شخص اپنے اعمال کا ذمہ دار ہے ۔ اگر ہم گناہ کے راستے پر ہیں تو تم تم سے نہیں پوچھا جائے گا اور تم غلط راستے اور عقیدہ پر جمے ہوئے ہو تو ہم سے نہ پوچھا جائے گا ۔ اس کا فیصلہ اس دنیا میں تو ہونا مشکل ہے لیکن آخرت میں جب اللہ تعالیٰ سب کو جمع کر کے ان سے پوچھیں گے تو اس دن ٹھیک ٹھیک فیصلہ کردیا جائے گا کہ کون صحیح راستے پر تھا کون گمراہی کے گڑھے میں جا گرا تھا ۔ وہی ہر چیز کی حقیقت سے اچھی طرح واقف ہے وہی بہتر اور ٹوک فیصلہ فرما سکے گا۔ نبی کریم ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ آپ ان سے پوچئے کہ آخر میں بھی دیکھو کہ وہ کون ہیں جنہیں تم اللہ کا شریک بنائے ہوئے ہو ؟ فرمایا کہ ان مشرکین کا یہ کہنا ہی بہت گھٹیاں اور لچر بات ہے کہ اس کا کوئی شریک بھی ہو سکتا ہے یا اس نے کسی کو اپنے اختیارات میں شریک کر رکھا ہے یا وہ کائنات کے نظام کو چلانے میں کسی کا محتاج ہے ۔ اللہ کا کوئی شریک نہیں ہے وہی ساری قوتوں کا مالک ہے وہی رازق ہے اور وہی ہر چیز کی حکمت اور بھید سے واقف ہے۔ نبی کریم ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے فر مایا کہ ہم نے آپ کو موجودہ اور قیامت تک آنے والی نسلوں کے لئے پیام حق دے کر بھیجا ہے خواہ وہ انسان ہوں یا جنات ، عرب ہوں یا عجم ، کالے ہوں یا گورے ، ہر قوم ، ہر ملک اور تمام انسانی طبقوں کی ہدایت و رہنمائی کے لئے بھیجا ہے ۔ آپ کو اور انبیاء کی طرح کسی خاص ملک و قوم اور زمانے کے لئے نہیں بلکہ ساری انسانیت کے واسطے آخری نبی اور آخری رسول بنا کر بھیجا ہے اور آپ کی ہدایت کا یہ سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا ۔ اللہ نے آپ پر نازل کئے ہوئے قرآن کریم اور شریعت کی حفاظت کا ذمہ لوگوں کے بجائے اپنے ذمے لے رکھا ہت ۔ لہذا آپ کی نبوت و رسالت اور پیام حق و صداقت کے لئے کسی نئے نبی اور رسول کی ضرورت نہیں ہوگی ۔ بلکہ اگر آپ کے بعد کوئی اپنی نبوت کا دعویٰ کرتا ہے تو اس سے بڑا جھوٹا شخص دوسرا نہیں ہوسکتا کیونکہ جس طرح اس کائنات کے نظام کو چلانے میں کوئی اس کا شریک نہیں ہے وہ خود ہی اس نظام کائنات کی حفاظت فر ما رہا ہے وہ اللہ اپنے بھیجے ہوئے قرآن حکیم کو خود حفاظت فرماتا رہے گا اس میں بھی کوئی اس کا شریک نہیں ہے ۔ وہ جس سے چاہے گا اپنے وعدے کو پورا کراتا رہے گا۔ حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مجھے پانچ چیزیں ایسی عطا کی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی کو نہیں دی گئیں ( 1) میری مدد مجھے ایسا رعب اور دب دبا دے کر فرمائی کہ ایک مہینے کی مسافت تک لوگوں پر میرا رعب چھا جاتا ہے۔ (2) دوسری خصوصیت یہ ہے کہ میرے لئے پوری زمین کو مسجد اور پاک قرار دیا گیا ہے یعنی مجھ سے پہلی امتوں کو یہ حکم تھا کہ وہ اپنی خاص عبادت گاہوں میں بندگی کریں ۔ کھلے میدان اور گھروں میں عبادت نہ ہوتی تھی اللہ نے آپ کی امت کے لئے پوری روئے زمین کو اس معنی میں مسجد بنا دیا کہ ہر پاک زمین پر نماز ادا کی جاسکتی ہے اور پانی نہ ملنے کی صورت میں پاک مٹی پر مسح کر کے تییم کای جاکتا ہے جو وضو کے قائم مقام ہوگا۔ (3) تیسری خصوصیت یہ ہے کہ میرے لئے مال غنیمت کو حلال کردیا گیا ہے کیونکہ اس سے پہلی امتوں کے لئے مال غنیمت حلال نہ تھا بلکہ جب ان کو مال غنیمت ہاتھ آتا تو وہ اس کو ایک میدان میں جمع کردیتے آسمان سے ایک بجلی اس کو آکر کھا جاتی یہ اس بات کی علامت تھی کہ ان کا جہاد قبول کرلیا گیا ہے۔ (4) چوتھی خصوصیت یہ تھی کہ مجھے شفاعت کبریٰ کا مقام عطا کیا گیا ہے کیونکہ آپ سب کی شفاعت فرمائیں گے۔ (5) اور پانچویں خصوصیت یہ ہے کہ مجھ سے پہلے ہر نبی اور رسول کو کسی خاص قوم کی طرف بھیجا جاتا تھا لیکن مجھے دنیا کی تمام قوتوں کی طرف نبی بنا کر بھیجا گیا ہے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) ان حقائق کو موجودگی میں ان کفار کا یہ پوچھنا کہ قیامت کی وہ گھڑی جس کا وعدہ کیا گیا ہے کہ وہ کب آئے گی ؟ تو اس کا جواب یہ دیا گیا ہے کہ اللہ نے قیامت کے جس دن کا وعدہ کیا ہے وہ دن مقرر ہے جس کا علم اللہ کے سوا کسی کو نہیں ہے لیکن جب وہ گھڑی آئے گی تو وہ لوگ اس سے ایک گھڑی اور لمحے پیچھے نہ ہٹ سکیں گے اور نہ آگے بڑھ سکیں گے بلکہ اپنے وقت پر اللہ کے سامنے حاضر ہو کر اپن زندگی کے ایک ایک لمحے کا حساب دیں گے۔ نبی کریم ﷺ کی بعثت اور قیامت کے درمیان کوئی فاصلہ نہیں ہے بلکہ آپکی بعثت کے بعد صرف قیامت ہی کو آنا ہے اس کے لئے نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ میری بعثت اور قیامت اس طرح ہیں یہ فرماتے ہوئے آپ نے اپنی دو انگلیاں اٹھائیں ۔ (بخاری و مسلم) یعنی جس طرح ان دو انگلیوں کے درمیان کوئی تیسری انگلی نہیں ہے اسی طرح میرے اور قیامت کے درمیان بھی کوئی نبوت نہیں ہے ۔ میرے بعد قیامت ہے اور قیامت تک میں ہی نبی رہوں گا۔
Ayahs 34:31–33

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ بِهٰذَا الْقُرْاٰنِ وَ لَا بِالَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْهِ١ؕ وَ لَوْ تَرٰۤى اِذِ الظّٰلِمُوْنَ مَوْقُوْفُوْنَ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ۖۚ یَرْجِعُ بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضِ اِ۟لْقَوْلَ١ۚ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا لِلَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْا لَوْ لَاۤ اَنْتُمْ لَكُنَّا مُؤْمِنِیْنَ Open ayah 34:31 in the Quran reader

اور کافر کہتے ہیں کہ نہ تو ہم اس قرآن پر ایمان لائیں گے اور ہی ان کتابوں پر جو اس سے پہلے نازل کی گئی تھیں ۔ کاش آپ ظالموں کو اس وقت دیکھیں جب یہ اپنے پروردگار کے سامنے گھڑے کئے جائیں گے جب ان میں سے ہر ایک دوسرے پر بات ٹالتا ہوگا ۔ کمزور ور ناتواں لوگ غرور وتکبر اختیار کرنے والوں سے کہیں گے کہ اگر تم نہ ہوتے تو یقینا ہم صاحب ایمان ہوتے ۔

قَالَ الَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْا لِلَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْۤا اَنَحْنُ صَدَدْنٰكُمْ عَنِ الْهُدٰى بَعْدَ اِذْ جَآءَكُمْ بَلْ كُنْتُمْ مُّجْرِمِیْنَ Open ayah 34:32 in the Quran reader

وہ متکبرین کمزوروں سے کہیں گے کہ جب تمہارے پاس ہدایت آچکی تھی تو کیا ہم نے تمہیں (زبردستی اس سے ) روک رکھا تھا۔ اصل میں تم خود ہی مجرم ہو۔

وَ قَالَ الَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا لِلَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْا بَلْ مَكْرُ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ اِذْ تَاْمُرُوْنَنَاۤ اَنْ نَّكْفُرَ بِاللّٰهِ وَ نَجْعَلَ لَهٗۤ اَنْدَادًا١ؕ وَ اَسَرُّوا النَّدَامَةَ لَمَّا رَاَوُا الْعَذَابَ١ؕ وَ جَعَلْنَا الْاَغْلٰلَ فِیْۤ اَعْنَاقِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ هَلْ یُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 34:33 in the Quran reader

کمزور لوگ تکبر اور بڑائی اختیار کرنے والوں سے کہیں گے کہ تمہاری دن رات کو چالوں نے ہمیں روک رکھا تھا جب تم ہمیں سکھاتے تھے کہ ہم اللہ کے ساتھ کفر کریں اور اس کے ساتھ دوسرے معبودوں کو شریک کریں ۔ لیکن جب وہ (دونوں ) اللہ کے عذاب کو دیکھیں گے تو شرمندگی سے (اپنامنہ ) چھپا لیں گے اور ہم کافروں کے گلے میں طوق (زنجیریں) ڈال دیں گے اور جو کچھ وہ کرتے تھے اس کی ان کو سزا ملے گی

لغات القرآن : آیت نمبر 31 تا 33 موقوفون : کھڑے کیے گئے یرجع : وہ لوٹتا ہے استضعفوا : کمزور کردئے گئے لکنا : البتہ ہم ہوتے صددنا : ہم نے روک دیا تامرون : تم حکم دیتے ہو۔ تم سکھاتے ہو اسروا : انہوں نے چھپایا اغلال : طوق۔ زنجریں اعناق (عنق) : گردنیں تشریح : آیت نمبر 31 تا 33 جب نبی کریم ﷺ نے کفار عرب کے سامنے قرآن کریم کی آیات پیش کرکے بتایا کہ قرآن کریم اور اس سے پہلے نازل کی ہوئیں کتابیں توریت ، زبور اور انجیل وغیرہ یہ سب اللہ تعالیٰ نے انسانی ہدایت و رہنمائی کے لئے نازل فرمائی ہیں تو کفار بڑی ڈھٹائی اور بےشرمی سے کہتے تھے کہ ہم نہ تو اس قرآن کو مانتے ہیں اور نہ اس سے پہلی کتابوں کو مانتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ لوگ اس دنیا میں حقیقت کا انکار کر کے ایک بہت بڑے جرم کے مرتکب ہورہے ہیں ان کو انکار حق کے بھیانک انجام کا اندازہ نہیں ہے ۔ وہ دن کس قدر حسرت ناک ہوگا جب اللہ تعالیٰ سارے انسانون کو جمع کر کے ان سے ان کی زندگی کے ایک ایک لمحے کا حساب لے گا اس وقت چھوٹے بڑوں کو اور بڑے چھوٹوں کو الزام دیں گے اور ہر ایک دوسرے کو قصور وار ٹھہرائے گا عام لوگ جو اپنے رہبروں اور رہنمائی کی ہر بات کو آنکھیں بند کر کے مانتے تھے ان سے چیخ چیخ کرر کہیں گے کہ تم نے ہمیں راستے سے بھٹکایا تھا۔ ہماری ان مصیبتوں کے ذمہ دار تم ہو ۔ اگر تم ہمیں غلط راستے پر نہ ڈالتے تو ہم رسولوں کی بات مانتے اور آج کے دن ہم نجات پا لیتے ۔ جو ان کے بڑے لوگ ہوں گے وہ ان کو جواب دیں گے کہ اپنے آپ کو شرمندگی سے بچانے کے لئے ہمیں الزام نہ دو کیونکہ تمہیں تمہاری خواہشوں اور بری تمناؤں نے گمراہ کیا ہے ۔ تم نے اگر ہماری بات کو مانا تو اس کی وجہ یہ تھی کہ تمہاری یہی خواہش تھیں۔ وہ ہم نے تمہیں فراہم کردیں اس طرح تم نے خود ہی اپنے گلے میں اس پھندے کو ڈالا ہے ورنہ ہمارے پاس ایسی کون سی طاقت تھی کہ ہم زبردستی تمہاری گردنوں میں گمراہی کے پندے ڈال دیتے۔ اس طرح یہ لوگ ایک دوسرے کو الزم دے کر اپن شرمندگی کو مٹا رہے ہوں گے لیکن اپنے دیل میں اپنے کئے ہوئے غلط فیصلوں پر پچھتا رہے ہوں گے اور اپنے آپ کو قصور وار سمجھ رہے ہوں گے مگر شرم و ذلت کی وجہ سے ایک دوسرے پر ظاہر نہ ہونے دیں گے ۔ اس کے بعد اللہ کا فیصلہ آجائے گا اور ان سب کے ہاتھوں کو گردنوں سے ملا کر طوق اور زنجیروں سے جکڑ دیا جائے گا اور فرمایا جائے گا کہ اب ہر ایک کو اس کے اپنے کئے ہوئے اعمال کے مطابق بدلہ دیاجائے گا ۔ گمراہ کرنے والے ہوں یا گمراہ ہونے والے دونوں کو پورا پورا عذاب دیا جائے گا اور اس طرح سارے لوگ اپنے کیفر کردار کو پہنچ جائیں گے۔
Ayahs 34:34–38

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا فِیْ قَرْیَةٍ مِّنْ نَّذِیْرٍ اِلَّا قَالَ مُتْرَفُوْهَاۤ١ۙ اِنَّا بِمَاۤ اُرْسِلْتُمْ بِهٖ كٰفِرُوْنَ Open ayah 34:34 in the Quran reader

اور ہم نے جب بھی کسی بستی میں کسی ڈرانے والے کو بھیجا تو وہاں کے خوش حال لوگوں نے کہا کہ تم جو کچھ (ہدایت ) دے کر بھیجے گئے ہو ہم اس کو نہیں مانتے۔

وَ قَالُوْا نَحْنُ اَكْثَرُ اَمْوَالًا وَّ اَوْلَادًا١ۙ وَّ مَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِیْنَ Open ayah 34:35 in the Quran reader

اور انہوں نے کہا کہ ہم مال اور اولاد کی کثرت رکھتے ہیں۔ ہم (ان لوگوں میں سے) نہیں ہیں جنہیں عذاب دیا جائے گا۔

قُلْ اِنَّ رَبِّیْ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 34:36 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ آپ کہہ دیجئے کہ میرا پروردگار جس کے لئے چاہتا ہے رزق وسیع کردیتا ہے اور جس کے لئے چاہتا ہے رزق تنگ کردیتا ہے لیکن اکثر لوگ (اس حقیقت) کو نہیں مانتے ۔

وَ مَاۤ اَمْوَالُكُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُكُمْ بِالَّتِیْ تُقَرِّبُكُمْ عِنْدَنَا زُلْفٰۤى اِلَّا مَنْ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا١٘ فَاُولٰٓئِكَ لَهُمْ جَزَآءُ الضِّعْفِ بِمَا عَمِلُوْا وَ هُمْ فِی الْغُرُفٰتِ اٰمِنُوْنَ Open ayah 34:37 in the Quran reader

تمہارے مال اور تمہاری اولادیں ایسی چیزیں نہیں ہیں جو تمہیں ہم سے قریب کر دے گی ۔ البتہ جو ایمان لائے اور اور وہ (جنت کی) بلند عمارتوں میں اطمینان و سکون سے رہیں گے۔

وَ الَّذِیْنَ یَسْعَوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِنَا مُعٰجِزِیْنَ اُولٰٓئِكَ فِی الْعَذَابِ مُحْضَرُوْنَ Open ayah 34:38 in the Quran reader

اور جو لوگ ہماری آیتوں میں ہمیں عاجز و بےبس کرنے کی کوشش کرتے ہیں وہ لوگ ہیں جو عذاب میں حاضر کئے جائیں گے۔

لغات القرآن : آیت نمبر 34 تا 38 مترفون : مال دار۔ دیش پسند لوگ یبسط : وہ کھولتا ہے یقدر : اندازے سے دیتا ہے تقرب : قریب کردے گی زلفی : درجہ ۔ مقام الضعف : دوگنا الغرفات (غرفۃ): بالاخانہ۔ بلندو بالا معجزین : عاجز و بےکس کرنے والے تشریح : آیات نمبر 34 تا 38 جن لوگوں کے پاس دنیا کی قوت و طاقت، حکومت و سلطلنت اور مال و دولت ہوتی ہے اور اس وجہ سے ان کو عزت کی نظروں سے دیکھا جانے لگتا ہے تو ان کے اندر ایک غلط اور جھوٹا اعتماد سا آجاتا ہے اور وہ سمجھنے لگتے ہیں کہ جب انہیں دنیا کی دولت و حشمت اور مال وزراء اور عزت و سر بلندی دی گئی ہے تو وہ آخرت میں ذلیل و رسوا کیوں ہوں گے ؟ یہی وہ غلط اور گمراہ کن خیال ہوتا ہے جو ان کو دنیا میں اور پھر آخرت میں ہدایت میں ہدایت و نجات سے محروم کردیتا ہے۔ جب نبی کریم ﷺ نے اعلان نبوت فرمایا تو جن لوگوں پر دھن دولت، عیش و عشرت اور قوت و اقتدار کا نشہ سوار تھا انہوں نے آپ کی تحریک کی زبر دست مخالفت صرف اس بنا پر کی تھی کہ جب ان کے باس دنیا کی دولت و عزت ، سرداری اور رہنمائی کے تمام سامان و اسباب موجود ہیں تو آخر ان کو دوسری دنیا میں عذاب کیوں دیا جائے گا ؟ وہ دنیا اور آخرت کی تمام عزتوں کا مستحق اپنے آپ ہی کو سمجھتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ ان کی باتوں کی پرواہ نہ کیجئے کیونکہ یہ لوگ مال و دولت کے نشے میں بد مست ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ وہ ان چیزوں کی وجہ سے اللہ کے مقرب بندوں میں سے ہیں حالانکہ مال و دولت کی کثرت ، رزق میں وسعت اور پھیلائو اس بات کی علامت نہیں ہے کہ وہ اللہ کے پسندیدہ اور محبوب لوگ ہیں بلکہ ہوسکتا ہے کہ اگر وہ اپنے ان اعمال اور خوش فہمیوں میں مبتلا رہے تو اخرت میں سب سے زیادہ نقصان اٹھانے والے ہوں گے۔ اس کے بر خلاف وہ لوگ جو ایمان اور عمل صالح اختیار کرنے والے ہیں وہ آخرت میں جنت کے مستحق لوگوں میں سے ہوں گے جن کے لئے جنت کے بلند وبالا اور اطمینان و سکون اور عزت و سربلندی والے گھر تیار ہوں گے۔ ایسے لوگوں کے کئے ہوئے کاموں پر دوگنا اجر وثواب عطا کیا جائے گا ۔ لیکن جو لوگ اللہ اور اس کے محبوب پغمبر حضرت محمد ﷺ کو عاجز بےبس کردینا چاہتے ہیں ان کو یاد رکھنا چاہیے کہ وہ سب لوگ ایک دن اللہ کے عذاب میں گرفتار ہو کر برے انجام سے دوچار ہوں گے اور پکڑ کر اللہ کے سامنے پیش کئے جائیں گے ۔