Ayahs 34:1–5ترکیب : فی السٰموٰت متعلق یثبت فی الآخرۃ یجوزان یتعلق بالحمد یعلم مستانف وقیل حال موکدۃ عالم الغیب بالجر صفۃ لربی اوبدل و یقرء بالرفع اے ھو عالم اصغر بالرفع عطفاً علی مثقال، وبالجر عطفا علی ذرۃ، لیجزی متعلق بمعنی لایعزب فکانہ قال یحصی ذلک لیجزی، الیم بالجر صفۃ لرجزو بالرفع صفۃ لعذاب۔ والرجز مطلق العذاب۔
تفسیر : ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ سورة سبا مکہ میں نازل ہوئی ہے۔ اس قسم کی سورتیں کہ جن کے اول میں الحمدللہ ہے، پانچ ہیں ان میں سے دو نصف اول میں ہیں۔ انعام و کہف اور دو اخیر قرآن میں ہیں۔ ایک یہ دوسری ملائکہ، پانچویں الحمد کہ جس کو چاہو نصف اول میں شمار کرو خواہ نصف اخیر میں اور سر اس میں یہ ہے کہ خدا کی بیشمار نعمتیں دو قسم کی ہیں، ایک نعمت ایجاد ہے کہ اس نے معدوم سے ہم کو موجود کردیا، دوسری نعمت بقاء ہے کہ ہم کو باقی رکھا اور زندہ رہنے کے سامان عطاء کئے اور بندہ کی بھی دو حالتیں ہیں۔ ایک ابتداء جو اس عالم سے علاقہ رکھتی ہے دوسری اعادہ کہ بار دگر ہم کو زندہ کرکے وہاں کے سامان عطا کرے گا۔ پس ان پانچوں سورتوں میں کہیں ایجاد کی نعمتیں یاد دلائی ہیں۔ کہیں بقاء کی پھر کہیں اس عالم کی کہیں اس عالم کی، اس سورة میں بھی ما فی الارض تک تو نعمت بقاء کا ذکر ہے کہ جو اس عالم میں آسمانوں اور زمین کی چیزوں کو پیدا کرنے میں ہے، کیونکہ اگر آسمان و زمین کے اندر کی چیزیں بارش ‘ ہوا ‘ زرق وغیرہ نہ ہوں تو انسان زندہ نہیں رہ سکتا۔ ولہ الحمد فی الآخرۃ میں آخرت کی جمیع نعمتوں کی طرف اشارہ ہے۔ وھو الحکیم الخبیر میں اس طرف اشارہ ہے کہ اس عالم کی یہ نعمتیں کہ جن کو لوگ معمولی باتیں سمجھے ہیں، خود بخود پیدا نہیں ہوگئی ہیں نہ ان کو بےسوچے سمجھے خدا نے پیدا کیا ہے بلکہ ہر ایک کو حکمت و علم ہی بنایا ہے۔ یعلم مایلج فی الارض الخ میں اپنے علم و حکمت کو دکھاتا ہے کہ جو کچھ زمین میں گھستا ہے پانی ‘ اموات ‘ تخم وغیرہ ان کو بھی جانتا ہے اور جو اشیائِ زمین سے پھر باہر نکلتی ہیں جڑی بوٹیاں اور پانی چشموں کا اور جواہر اور معدنیات جو اسی کی اس اندھیرے میں کاری گریاں ہیں، ان کو بھی خوب جانتا ہے اور جو کچھ آسمان سے اترتا ہے۔ پانی اور ملائکہ اور وحی و دیگر برکات ان کو بھی جانتا ہے اور جو کچھ پھر آسمان کی طرف جاتا ہے۔ اعمال صالحہ اور ملائکہ سب کو جانتا ہے، یہ سب تدبیر و تصرف اسی کی رحمت سے ہے اور اسی کی مغفرت ہے کہ گناہوں سے ان چیزوں کو بند نہیں کرتا، اس میں اس کی کمال قدرت کا ثبوت ہے۔
اس کے بعد مشرکین مکہ کا قول نقل کرتا ہے کہ وہ کہتے ہیں قیامت برپا نہ ہوگی، اس کے جواب میں فرماتا ہے کہ کہہ دو خدا کی قسم وہ ضرور آوے گی اور پھر اس کے برپا کرنے کی قدرت کا اظہار کرتا ہے کہ اس سے آسمان و زمین کی کوئی چیز اور کوئی ذرہ غائب نہیں وہ تمہارے اجزائِ بدن اور اس کے ذرات کو جمع کردے گا، پھر قیامت کے برپا کرنے کی دلیل بیان فرماتا ہے کہ دنیا تو دار تکلیف ہے دار جزاء نہیں اور جزاء نیک و بد کی دینی اس کی خدائی کا لازمہ ہے۔ لیجزی الذین آمنوا سے لے کر من رجز الیم تک میں یہی ذکر ہے۔
Ayah 34:6ترکیب : ویری معطوف علی لیجزی ویمکن ان یکون مستا نفا الذی انزل مفعول اول الحق مفعول ثانی ھو الضمیر للفصل، وقری الحق بالرفع علی الابتداء والخبر، ویہدی فاعلہ الضمیر یرجع الی الذی انزل والمرادبہ القرآن ای القرآن یھدی، ویمکن ان یرجع الی اللہ ویمکن ان یعطف علی موضع الحق بتقدیران اذامزقتم عاملہ محذوف دل علیہ مابعدہ ای تبعثون ممزق مصدر بمعنی تمزیق و یحتمل ان یکون مکانا، جدید بمعنی فاعل من جد، افتری الھمزۃ للاستفہام و ہمزۃ الوصل حذفت استغناء اً ، افلم یرو والمعنی افلم ینظر وا الی ما احاطہ بجواتبھم من السماء والارض ولم یتفکروا اھم اشد خلقا امھی وانا ان نشاء نخسف بہم الارض او نسقط علیہم قطعۃ من السماء لتکذیبیھم الآیات۔
تفسیر : ویری الذین اس جملہ کو اگر لیجزی پر معطوف کہیں گے تو یہ معنی ہوں گے کہ قیامت برپا کرنے میں، ایک اور حکمت ہے۔ وہ یہ کہ اہل علم جو انبیاء پر نازل ہوئی باتوں کو صدق دل سے مانتے ہیں۔ جب قیامت کو برپا ہوتے دیکھیں گے تو ان کو اور بھی یقین کامل ہوجاوے گا اور عین الیقین کا مرتبہ حاصل ہوجاوے گا۔ جیسا کہ آیا ہے۔ لقد جاءت ربنا بالحق، ھذا ما وعد الرحمن وصدق المرسلون ‘ ویہدی کا عطف یری پر ہو کر یہ معنی ہوں گے کہ قیامت اس لیے برپا کریں گے کہ وہ (ایمانداروں کو معقول محذوف) خدا زبردست کا رستہ دکھا دے گا۔ یقین کامل پیدا کرے گا۔ پہلے جملہ کی تاکید ہے اور اگر اس کو جملہ مستانفہ کہیں تو یہ معنی ہوں گے کہ جو اللہ کی نازل کی ہوئی چیزوں کا علم رکھتے ہیں ان کو اللہ نے علم کتاب اللہ دیا ہے، وہ اس بات کو یعنی اللہ کے کلام کو برحق جانتے ہیں اور یہ بھی کہ یہ کلام اللہ زبردست خوبیوں والے کا رستہ دکھاتا ہے، کسی کے شبہ سے ان کے دل میں شبہ نہیں پڑتا۔ مطلب یہ کہ کفار تو آیات الٰہی کے مٹانے میں ساعی ہیں اور ایماندار اہل علم صحابہ وتابعین یا جو کوئی ہو ان کو برحق اور ہادی راہ خدا جانتے ہیں۔
Ayahs 34:7–9وقال الذین کفروا اس جگہ ان اہل علم و ایمان کے برخلاف احمق لوگوں کا قول نقل کرتا ہے کہ منکر یہ کہتے ہیں کہ ایسا شخص بھی دیکھا ہے کہ جو مرنے کے بعد جبکہ جسم کے ریزے ریزے ہوجاویں گے، دوبارہ زندگی ہونے کی خبر دیتا ہے۔ ایسے شخص سے ان کا اشارہ حضرت رسول کریم ﷺ کی طرف تھا، ھل ندلکم کہو تو ہم بتلادیں۔ یہ عرب کے محاورہ میں ایسی بات ہے کہ جس طرح ہماری زبان میں کہتے ہیں، کوئی ایسا بھی ہے ؟ یعنی وہ اس بات کے خبر دینے سے کہ مر کر زندہ ہوں گے، سخت تعجب کرتے ہیں اور رسول کو جھوٹا یا دیوانہ کہتے ہیں۔ افتراء بھی ایک قسم کا جھوٹ ہے، یعنی جان بوجھ کر جھوٹ بولنا اور ایک بات بنالینا، کوئی نئی قسم نہیں جس سے جھوٹ اور سچ میں کوئی واسطہ یعنی تیسری چیز اور ثابت ہوجاوے، ہر کلام کہ جس میں کسی بات کی خبر دی جاوے، اگر واقع کے مطابق ہے تو سچا کلام ہے ورنہ جھوٹا، کفار کا مقصد یہ تھا کہ یا تو یہ شخص جھوٹا ہے اور بڑا جھوٹا ہے جو عمداً جھوٹی بات کہتا ہے یا دیوانہ ہے، اس کے جواب میں فرماتا ہے کہ وہ تو ایسا نہیں بلکہ کافر عذاب دینے والی بات اور بڑی گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں۔
اس کے بعد امکان حشر پر ایک دلیل بیان فرماتا ہے۔ افلم یروا کہ وہ آسمان و زمین میں غور کرکے نہیں دیکھتے کہ جس نے ایسی چیزیں بنائی ہیں، کیا وہ قیامت برپا کرنے پر قادر نہیں ؟ ان کے انکار پر ہم صبر کرتے ہیں، اگر چاہیں تو ان کو زمین میں غرق کردیں یا کوئی آسمانی چیز ان پر ڈال کر ہلاک کردیں جو ان کو احاطہ کئے ہوئے ہیں۔
Ayahs 34:10–14ترکیب : داؤد مفعول اول فضلا مفعول ثانی لاتینا یاجبال تفسیر للفضل والطیر بالنصب لانہ معطوف علی محل جبال و فیہ وجوہ اخریٰ ، وبالرفع عطفا علی لفظہا ای جعلنا الجبال والطیور منقادین لامرہ فی نفاذ مشتیہ فیھما، ان اعمل ای امر ناہ ان اعمل وان مفرۃ و مصدریۃ۔ الریح بالنصب اے سخرنا الریح و بالرفع علی الابتداء غدوھا الغدو مصدر و لیس بزمان اے سیرہا من الغد بمعنی الصباح ای الزوال شھر والجملۃ فی موضع الحال من الریح، من یعمل من فی موضع نصب، منساتہ والمنساء العصی علی مفعالۃ کمیضاۃ من نسات البعیر اذ طردتہ لانھا تطردبھا۔
تفسیر … داؤد ( علیہ السلام) کا تذکرہ : پہلے فرمایا تھا، ان فی ذلک لآیۃ لکل عبد منیب اب اس جگہ بعض رجوع کرنے والوں بندوں کا ذکر کرتا ہے، جن کو عبد منیب کہتے ہیں۔ پھر یہ بھی بتلاتا ہے کہ ایسے بندوں پر ہمارے انعام و افضال بھی بےحد ہوتے ہیں۔ منجملہ ان کے ایک حضرت دائود ( علیہ السلام) ہیں۔ فرماتا ہے کہ دائود ( علیہ السلام) پر ہم نے بڑا فضل کیا تھا کہ پہاڑ اور پرند اس کے تسبیح کرنے میں شریک ہوتے تھے۔ ابن عباس ؓ و مجاہد وغیرہ علماء کہتے ہیں۔ اوبی کے معنی ہیں، سبحی کہ اس کے ساتھ تسبیح کیا کرو۔ لغت میں تاویب کے معنی ترجیح کے ہیں۔ اٹھارہویں زبور کے شروع میں حضرت دائود ( علیہ السلام) کا یہ قول مذکور ہے، میں نے تنگی کے وقت خداوند کو پکارا اور اپنے خدا کے آگے چلایا، اس نے میری آواز اپنے ہیکل میں سے سنی اور میری فریاد اس کے سامنے اس کے کانوں تک پہنچی، تب زمین کا نپی اور لرزی سارے پہاڑ جڑمول سے ہل گئے۔ الخ قرآن مجید میں دائود ( علیہ السلام) کی مناجات کا بیان ہے کہ اس کی مناجات کے وقت پہاڑ اور طیور موافقت کرتے تھے۔
بیضاوی فرماتے ہیں۔ وذلک اما بخلق صوت مثل صوتہ فیہا اوبحملہا ایاہ علی التسبیح اذا تامل مافیھا کہ یا تو پہاڑوں میں بھی دائود کی تسبیح کی آواز جیسی آواز پیدا ہوا کرتی تھی (یعنی پہاڑ گونج اٹھتے تھے) جیسا کہ کنویں یا گنبد میں آواز دینے سے ویسی ہی آواز سنائی دیا کرتی ہے، یا پہاڑوں میں غور کرنے سے دائود ( علیہ السلام) تسبیح کرنے پر آمادہ ہوتے تھے۔
اول بات قوی ہے کہ اس وقت پرندوں اور پہاڑوں پر بھی ایک حالت طاری ہوجاتی تھی۔ دائود ( علیہ السلام) کی تسبیح اور سوزدرونی کا ان پر بھی اثر پڑتا تھا، وہ بھی اس کے ساتھ اس میں شریک ہوجاتے تھے، اس سے دائود ( علیہ السلام) کا کمال اور خلوص اور تصرف باطنی ثابت ہوا اور اسی لیے اس کے فضائل میں یہ بات بیان ہوئی ورنہ پہاڑ تو ہر ایک بلند آواز سے گونج اٹھا کرتے ہیں۔
والنالہ الحدید یہ دائود کی دوسری فضیلت ہے کہ اس کے لیے لوہا نرم ہوگیا تھا، ان اعمل سابغات دروعاً سعات کہ بڑی لمبی چوڑی زرہیں، بنا وقدر فی السرد سرد رزدوختن اویم تسرید مثلہ و زرہ بافتن، والسرد اسم جامع للدروع و سائرالحلق، صراح کہ زرہ کے حلقے ایک اندازہ سے جوڑ، مطلب یہ کہ دائود ( علیہ السلام) کو زرہ بنانے کا علم دیا تھا، یعنی سامان جنگ بھی عطاء کئے تھے۔ جیسا کہ اسی زبور کے 23 درس میں آیا ہے، جس طرح ان کو کمالات درویشی عطا ہوئے تھے، اسی طرح شاہی اور جنگی قوت بھی دی گئی تھی۔ ان دونوں نعمتوں پر ان کو یہ حکم ہوا تھا۔ واعملوا صالحاً کہ نیک کام کیا کرو، کیونکہ انی بما تعملون بصیر ہم تمہارے کاموں کو دیکھ رہے ہیں، قوت و سلطنت پا کر شرارت اور بدکرداری نہ کرنا اور یہی نعمت کا شکریہ ہے۔
حضرت سلیمان ( علیہ السلام) کا تذکرہ : ولسلیمان الریح یہ دوسرے بندئہ خالص حضرت سلیمان ( علیہ السلام) کا ذکر ہے جو حضرت دائود ( علیہ السلام) کے بیٹے اور جانشین تھے۔ خدا تعالیٰ نے جس طرح ان کے باپ کیلئے لوہا مسخر کردیا تھا، ان کے لیے ہوا مسخر کردی تھی کہ غدوھا شہر ورواحہا شہر کہ وہ ہوا صبح سے لے کر دوپہر تک ایک مہینے بھر کی راہ طے کرتی تھی اور شام کو یعنی پچھلے پہر کو بھی مہینے بھر کا رستہ طے کرتی تھی۔
تخت سلیمان : دوم کتاب التواریخ کے نویں باب 17 درس میں لکھا ہے کہ سلیمان ( علیہ السلام) نے ہاتھی دانت کا ایسا تخت بنایا تھا کہ جو زمین کے سب بادشاہوں سے سبقت لے گیا تھا، پھر کچھ اس کے حالات لکھے ہیں۔ اگرچہ عہد عتیق و جدید سے نہیں ثابت ہوتا کہ یہ تخت سلیمان ( علیہ السلام) ہوا پر چلا کرتا تھا اور اول دن میں مہینے بھر کی راہ اور آخر میں مہینے بھر کی راہ طے کرتا تھا، مگر اہل اسلام کے اکثر مؤرخ اس بات کے قائل ہیں اور یہ کچھ تعجب کی بات نہیں، ریل کے جاری ہونے سے پہلے ریل کی یہ تیز روی اور اس قدر بار کشی اور بےبیل اور گھوڑوں کے روانگی نہایت عجیب بات معلوم ہوتی تھی۔ اب چند روز سے غبارہ اڑانے کا فن جاری ہوا ہے، اگر ترقی کر جاوے تو کیا کچھ ہوجاوے اور اس میں کوئی بھی شبہ نہ کرنا چاہیے کہ زمانہ نے بھی عجیب رنگ پلٹے ہیں، اس کا جزر و مد تواریخ اور زمین کے نیچے سے عجائب آلات اور مکانات برآمد ہونے سے بخوبی ثابت ہے، پھر کیا تعجب ہے کہ سلیمان ( علیہ السلام) کے عہد میں ایسے صناع لوگ پیدا ہوئے ہوں کہ تخت کو غبارہ کی طرح سے ہوا پر اڑا لے جانے کا علم جانتے ہوں، پھر جس طرح اور صدہا چیزیں اور سینکڑوں علوم و فنون مٹ گئے یہ بھی جاتا رہا اور کتاب التواریخ سے جو اہل کتاب کے نزدیک الہامی کتاب ہے یہ ثابت ہے کہ سلیمان ( علیہ السلام) کے عہد میں عمدہ صناعی اور دیگر فنون کا رواج تھا۔
ہمارے بعض 1 ؎ معاصر جو اپنی فہم شریف کے تابع تمام عجائب صنع باری کو کرتے ہیں، ان آیات کی یہ تاویل کرتے ہیں کہ ہوا کے مسخر ہونے سے اور اس قدر جلد چلنے سے جہازوں کے بیڑے کی طرف اشارہ ہے جو سلیمان ( علیہ السلام) کے لیے دور سے لکڑیاں وغیرہ چیزیں لاد کر لایا کرتے تھے۔ واسلنا لہ عین القطر، قطر بالکسر مس 2 ؎، صراح یہ دوسرا انعام ہے جو حضرت سلیمان ( علیہ السلام) کو ملا تھا۔ خدا تعالیٰ نے حضرت سلیمان ( علیہ السلام) کو جب بادشاہوں پر حکمران کیا تو ہیکل کی تعمیر شروع کی اور بڑے بڑے پیتل کے حوض اور ستون اور دیگر ظروف ڈھلوائے جیسا کہ دوسری کتاب التواریخ کے چوتھے باب میں مشروحاً مذکور ہے اور ان چیزوں کے ڈھالنے والے شہر صور کے کاریگر آئے تھے، جن کو شاہ حورام نے بھیجا تھا اور پھر ایک ڈھلا ہوا بحر بنایا جو اردگرد گول تھا۔ غرض ایک کنارہ سے دوسرے کنارہ تک دس ہاتھ تھا اور بلندی پانچ ہاتھ اور اس کا گھیر تیس ہاتھ اور اردگرد اس کے نیچے بیلوں کی صورتیں تھیں، وہ بارہ بیل ڈھلے ہوئے تھے جن پر وہ بحر قائم تھا اور اسی کتاب کے تیسرے باب میں ہے اور اس نے پاک ترین مکان میں دو کروبیوں کو تراش کر بنایا اور ہیکل بھی بنائی جس میں محرابیں اور پھاٹک اور کواڑ اور بڑی صناعی خرچ کی تھی اور سلیمان ( علیہ السلام) نے اسرائیل کے ملک میں پردیسیوں کو گنوایا تو ایک لاکھ تریپن ہزار چھ سو تھے، ان میں سے ستر ہزار کو باربرداری پر اور اسی ہزار کو سنگتراشی پر مقرر کیا اور تین ہزار ان کے افسر مقرر کئے کہ ان سے کام لیتے تھے۔
پیتل یا تانبے کے چشمے جاری کرنے کے یہ معنی ہیں کہ یہ پیتل اس کے لیے اتنا فراہم ہوا اور ڈھالا گیا کہ گویا اس کا چشمہ جاری ہو کر بہہ نکلا یہ ایک محاورہ کی بات ہے اور ممکن ہے کہ کسی پہاڑ میں سے یہ مادہ ان دنوں بہہ نکلا ہو جس کو سلیمان ( علیہ السلام) کے کاری گروں نے لے کر صرف کیا۔
ومن الجن من یعمل بین یدیہ باذن ربہ یہ ایک اور نعمت ہے کہ سلیمان ( علیہ السلام) کے آگے جن کام کرتے تھے۔ ومن یزغ منہم عن امرنا نذقہ من عذاب السعیر اور باوجود سرکشی کے کوئی نافرمانی نہ کرتا تھا اور جو کرتا تھا تو سخت سزا پاتا تھا۔ یعملون لہ مایشاء من محاریب، محاریب جمع محراب لغت عرب میں بلند مکان کو کہتے ہیں۔ ضحاک اور قتادہ کہتے ہیں، محاریب سے مراد بیت المقدس ہے۔ وتماثیل جمع تمثال یعنی مورتیں جیسا کہ آپ کو معلوم ہوا کہ کروبیوں اور بیلوں وغیرہ کی مورتیں پیتل کی ڈھالی گئی تھیں۔ سلیمان ( علیہ السلام) کی شریعت میں ان کا ڈھالنا اور زینت کے لیے مکان میں رکھنا ممنوع نہ تھا۔ شریعت مصطفوی میں بت پرستی کی جڑ مٹانے کے لیے منع ہوگیا۔ جیسا کہ احادیث صحیحہ میں آیا ہے۔ وجفان جمع جفتہ لگن، کالجواب جمع جابتہ وھو حفیرۃ وقیل الحوض الکبیر، یہ ان حوضوں اور بحر کے طرف اشارہ ہے۔ وقدور جمع قدر راسیات ثابتات اور بڑی بڑی دیگیں بھی بنائیں جو ایک ہی جگہ دھری رہتی تھیں، بڑی ہونے کی وجہ سے ہلتی نہ تھیں۔ ان نعمتوں پر ان کو حکم ہوا تھا۔ اعملوا آل داؤد شکرا اے دائود کے گھرانے اس کے شکریہ میں نیک کام کردیا۔ یہ معنی کہ اس کا شکر کرو وقلیل من عبادی الشکور مگر میرے بندوں میں سے شکر کرنے والے بہت کم لوگ ہیں۔
من الجن کے ظاہری معنی یہی بتلا رہے ہیں کہ قوم جن کے لوگ سلیمان ( علیہ السلام) کے آگے یہ کام کرتے تھے۔ وجودِ جن تسلیم کرنے کے بعد اس بات میں کچھ بھی تعجب نہیں رہتا کہ جن سلیمان ( علیہ السلام) کے مسخر تھے اور جو لوگ وجود نہیں مانتے وہ یہ تاویل کرتے ہیں کہ شہزوری اور غیرت کے اعتبار سے ان پردیسیوں کو جن سے تعبیر کیا ہے جو ان کاموں پر مامور تھے اور سخت اور قوی آدمی کو جن کہہ دینا ایک محاورہ کی بات ہے۔ مقدمہ تفسیر میں یہ بحث آچکی ہے۔
فلما قضینا علیہ الموت مادلہم علیٰ موتہ الا دابۃ الارض تاکل منساتہ فلما خرتبینت الجن ان لوکانوا یعملون الغیب مالبثوا فی العذاب المہین یہاں سے دنیا کی بےثباتی بیان کرنے کے لیے سلیمان ( علیہ السلام) کی موت اور اس کے جاہ و حشم کا اختتام بیان کرتا ہے کہ سلیمان ( علیہ السلام) مرگیا اور اس کی موت کا حال ایک کیڑے نے ظاہر کیا جو اس کے عصا کو کھاتا تھا، پھر جب سلیمان ( علیہ السلام) گر پڑے تو سب کو معلوم ہوگیا اور جنوں کو یہ بات معلوم ہوگئی کہ ہم غیب نہیں جانتے، اگر جانتے تو اب تک سلیمان ( علیہ السلام) کی قید میں نہ پڑے رہتے۔
مفسرین کے اس میں دو قول ہیں۔ اول عام مفسرین کا کہ حضرت سلیمان ( علیہ السلام) عبادت کے لیے مہینوں تخلیہ میں بیٹھا کرتے تھے، اخیر بار جو بیٹھے تو ٹھوڑی کے نیچے عصا لگا ہوا تھا۔ عبادت ہی میں روح نکل گئی، خدا تعالیٰ کی اس میں چند مصلحتیں تھیں کہ سلیمان ( علیہ السلام) کے جسم پر آثار موت ظاہر نہ ہونے دیے۔ از انجملہ یہ کہ لوگ جنوں کو غیب دان سمجھا کرتے تھے، ان کی غیب دانی پر پتھر پڑگئے۔ از انجملہ کچھ انتظام مملکت بنی اسرائیل سے تمام کرانا مقصود تھا۔ لوگ یہی سمجھا کئے کہ سلیمان ( علیہ السلام) زندہ ہیں، اندر کوئی جانے نہیں پاتا تھا، باہر سے بیٹھا ہوا آنکھ بند کئے لکڑی پر سہارا دے بیٹھا ہوا مشغول بحق دیکھتے تھے، کئی مہینوں کے بعد جب خدا کو اس بات کا اظہار منظور ہوا تو دیمک یا گھن نے لکڑی کو کاٹ ڈالا، سلیمان ( علیہ السلام) گر پڑے سب کو معلوم ہوگیا، مگر سلیمان ( علیہ السلام) کی موت کی بابت یہ بیان اہل کتاب کی کتب موجود میں نہیں۔
دوسرے معنی یہ ہیں کہ ہم نے سلیمان ( علیہ السلام) کی موت مقرر کردی تھی کہ فلاں وقت مریں گے، اس بات کو کوئی نہیں جانتا تھا مگر دابۃ الارض دیمک یا گھن سے معلوم ہوا جو سلیمان ( علیہ السلام) کے عصائے حیات کو کھا رہا تھا، پھر جب وقت خاص آگیا اور وہ عصائے حیات کٹ گیا۔ سلیمان ( علیہ السلام) گر پڑے تو سب نے جان لیا اور جنوں پر بھی ظاہر ہوگیا کہ ہم غیب دان نہیں، اگر سلیمان ( علیہ السلام) کی موت کا وقت معلوم ہوتا تو اس کی اطاعت میں نہ پڑے رہتے۔ دابۃ الارض سے مراد بطور استعارہ کے انقراض عمر ہے اور منساتہ سے اس کی عمر و اقبال جس کے زور پر حکومت کرتے تھے۔ افسوس ہر ایک کے عصائے حیات کو دیمک یا گھن لگ رہا ہو مگر عصا کٹ جانے سے پہلے ہم بیخبروں کو معلوم نہیں۔
1 ؎ صور کے بادشاہ حوارم کی طرف سے صنوبر اور سرو اور صندل کے لٹنے لبنان پہاڑ سے مسجد کی تعمیر کے لیے جہازوں میں لاد کر بحر شام سے آیا کرتے تھے اور یافہ میں بیڑا اترتا تھا وہاں سے یروسلم پہنچاتے تھے۔ 12 منہ
2 ؎ مجاہد کہتے ہیں قطر سے مراد صفر یعنی پیتل ہے 12 منہ
Ayah 34:15ترکیب : آیۃ اسم کان و جنتان بدل منھا او خبر مبتداء محذوف و قری بالنصب علی المدح، والمراد جماعتان من البساتین بلدۃ ای ھذہ بلدۃ و رب اے و ربکم رب غفور و قد یقرء بلدۃ وربا بالا لف شاذا علی انہ مفعول اشکروا، العرم جمع عرمۃ و ھو مایمسک الماء من بناء وغیرہ ای وقت حاجۃ (بند) خلط فی الصراح خمط نوعے ازاراک کہ میوہ دارد۔ والتقدیر اکل اکل خمط فحذف المضاف ای الاکل الثانی لان الخمط شجر والا کل ثمرۃ واقیم المضاف الیہ مقامہ ای خمط فی کونہ بدلا من الاکل الاول اوعطف بیان للاکل الاول و یقرء بالاضافۃ ھو ظاہر باعد و بعد علی السوال و یقرء بعد علی لفظ الماضی ممزق مصدر او مکان صدق بالتخفیف والتشدید ابلیس فاعلہ وظنہ مفعول من بمعنی الذی فینتصب بنعلم ویجوزان یکون استفہا مافی موضع رفع علی الابتداء منھا اما للتبیین ای الشک منھا و اما للحال من شک۔
تفسیر قصہ سباء : : شکر کرنے والے بندوں کے ذکر کے بعد ناشکری کرنے والوں اور ان کی مصیبت کا ذکر کرتا ہے، اس لیے سباء کا ذکر کرتا ہے۔ فقال لقد کان لسباء الخ ان آیات کی تفسیر ایک تاریخی واقعہ کے متعلق ہے جس کا خلاصہ یہ ہے۔ یمن کے ملک میں جو عرب کا جنوبی حصہ سمندر سے ملا ہوا ہے۔ قحطان بن عامر بادشاہ ہوا اس کے بعد اس کا بیٹا یعرب ہوا، اس کے بعد اس کا بیٹا یشجب ہوا۔ ابن سعید مغربی کہتے ہیں، اسی کو سباء کہتے ہیں اور مؤرخین کے نزدیک سباء اس کے بیٹے کا نام ہے، اسی کے نام سے اس کی اولاد نامزد ہوگئی، اس تمام خاندان یا قبیلہ کو سباء کہتے تھے۔ یہ لوگ متعدد مقامات میں بستے تھے، ان کی بستیوں کو اب مآرب کہتے ہیں۔ شہر صنعاء سے تین دن کے فاصلہ پر، احمد و عبد بن حمید و طبرانی و حاکم و ابن مردویہ وغیرہ نے ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ کسی نے پوچھا سباء ملک ہے یا کسی عورت کا نام ہے ؟ فرمایا نہ ملک کا نام ہے، نہ عورت کا بلکہ وہ ایک مرد تھا جس کے دس بیٹے تھے۔ چھ تو ان میں سے ملک یمن میں رہے اور چار شام میں جارہے۔ یمن میں جو بسے ان کے یہ نام ہیں۔ ازد ‘ اشعر ‘ حمیر ‘ کندہ ‘ مذحج ‘ انما اور شام والوں کے یہ نام ہیں۔ لحم، جذام، غسان، عاملہ ہر ایک کی اولاد اسی کے نام سے مشہور ہے اور ان کے قبیلوں کے یہی نام ہوگئے۔
بخاری و مسلم میں اسی طرح آیا ہے۔ حمیر کے خاندان میں ملک یمن کی سلطنت رہی۔ شداد بن الماطاطہ بن سباء بھی اس ملک کا بادشاہ ہوا جو بڑا جبار تھا، اس کے بعد اس کا بھائی لقمان بن عاد ہوا۔ (بعض نے اسی کو وہ لقمان کہا جس کا سورة لقمان میں ذکر ہے) اس کے بعد اس کا دوسرا بھائی ذوسدد تخت نشین ہوا، اس کے بعد اس کا بیٹا حارث الرایش بادشاہ ہوا، یہی تبع اول ہے، اس کے بعد اس کا بیٹا صعب ہوا، یہی ذوالقرنین ہے، اس کے بعد اس کا بیٹا ذوالمنار ابرہ ہوا، اس کے بعد اس کا بیٹا افریقن بادشاہ ہوا، اس کے بعد اس کا بھائی ذوالاغار اس کے بعد اس کا بھائی شرحبیل اس کے بعد اس کا بیٹا الہدہاد ہوا، اس کے بعد اس کی بیٹی بلقیس بادشاہ ہوئی جو حضرت سلیمان ( علیہ السلام) کے پاس آئی تھی۔ ابو الفداء۔
سباء کی اولاد میں سے جو یہ سلاطین گزرے ہیں، ان میں بعض خدا پرست اور نیک بھی تھے۔ جیسا کہ تبع اور ذوالقرنین اور بعض بت پرست اور بعض کی سلطنت عرب سے تجاوز کرکے مصر اور شام اور ایران اور ہند تک پھیلی تھی، ان شاہان تبع کے یادگار عمارات غمدان وغیرہ اب تک باقی ہیں۔ منجملہ ان کے ایک یہ بند ہے جس کی مفصل کیفیت مسلمانوں کی کتب جغرافیہ میں موجود ہے۔ کتاب المسالک والممالک اور کتاب البلدان اور احسن التقسیم فی معرفۃ الاقالیم اور مسالک الممالک وغیرہ کو دیکھو۔
اسی بند کی مجمل کیفیت یہ ہے کہ انہیں سلاطین میں سے کسی نے (کہ جس کو بعض بلقیس کہتے ہیں، بعض ذوالقرنین) برسات کا پانی روکنے کے لیے ایک مستحکم بند تیار کیا، تمام برساتی نالوں کا پانی یہاں سال بھر جمع رہتا تھا، پھر اس میں سے چھوٹی چھوٹی نہریں نکالیں جن سے ملک میں کھتیاں اور باغ سیراب ہوتے تھے اور سیدھے راستوں کے دو طرفہ باغ تھے اور پاس پاس بستیاں آباد تھیں اور یہ آبادی اور شادابی منزلوں تک تھی۔ سفر بھی ان بستیوں کی وجہ سے بڑے آرام سے ہوتا تھا اور امن عام بھی تھا، اس نعمت کو لوگوں نے ایک معمولی بات سمجھنا شروع کیا اور بدکاری اور کفر بکنے میں دلیر ہوئے۔ خدا تعالیٰ کے انتقام کا وقت آگیا، ایک بار اس بند سے پانی ٹوٹا اور تمام آبادیوں اور باغوں اور کھیتیوں کو غرق کردیا یا سب باغ برباد ہوگئے اور یہ حادثہ حضرت عیسیٰ اور محمد ( علیہ السلام) کے درمیان کے زمانہ میں گزرا ہے، پھر بجائے باغوں کے جھاؤ کے دیگر نکمے جھاڑ جھنکار درخت رہ گئے۔
اب ہم آیات کی تفسیر کرتے ہیں۔ لقد کان لسباء فی مسکنہم آیۃ کہ قوم سباء کے لیے ان کے مسکن یعنی وطن یا بستیوں میں اللہ کی طرف سے ایک بڑی نشانی تھی، وہ کیا جنتان عن یمین و شمال کہ ان کے رستوں کے دائیں اور بائیں باغوں کی دو قطاریں تھیں، اس لیے ان کو اجازت تھی۔ کلوامن رزق ربکم و اشکروا لہ اپنے رب کی عطاء کی ہوئی روزی کھاؤ اور اس کا شکر کرو، بلدۃ طیبۃ و رب غفور شہر کہ جس میں تم رہتے ہو۔ پاک ہے نہ اس میں کوئی بیماری ہے نہ اور کوئی پسو ‘ کھٹمل ‘ دشمن ‘ و باء وغیرہ کی مصیبت ہے اور رب تمہارا معاف کرنے والا ہے، تمہاری خطائوں اور قصوروں پر تم پر کوئی بلا نہیں بھیجتا ہے۔ یہ نہیں معلوم کہ اس عہد میں کون نبی وہاں تھا اور کس شریعت پر عمل تھا ؟ فاعرضوا پھر انہوں نے شکر گزاری سے انکار کیا، بجائے طاعت و نیکوکاری کے کفر و بدکاری میں مبتلا ہوگئے۔ کمبخت انسان کی عادت ہے کہ جب سختی کے بعد ان پر کوئی راحت آتی ہے تو چند روز کے بعد بھول جاتے ہیں۔ اس عیش و آرام میں پڑکر بدکاری کی طرف متوجہ ہوجاتے ہیں اور اس نعمت کو ایک معمولی بات اور اپنے باپ دادا کی میراث سمجھ لیتے ہیں۔
ہندوستان کے امراء اور ان کی بدکاری کو دیکھ لو، اس پر جو برباد ہوگئے ہیں اس سے عبرت نہیں بلکہ اور بھی غفلت ہے توبہ توبہ۔
1 ؎ جس کا نام عمرم ہے جو اب تک بےمرمت موجود ہے بڑے مربع ترشے ہوئے پتھروں سے بنا ہے چونے اور لوہے کی میخوں سے پتھروں کو جمایا ہے کئی میل تک طول اور تخمیناً اسی ہاتھ بلند ہے اور پندرہ بیس گز کا عرض ہے اس میں کہڑکیاں اوپر نیچے رکھیں ہوئی ہیں کہ پانی کے اتار چڑھاؤ سے وہ کہہ لی جاتی تھیں۔ 12 منہ۔ ابو عبد الحق
Ayah 34:16جب ان کا یہ حال ہوا تو فارسلنا علیہم سیل 2 ؎ العرم ان پر ہم نے بند کا پانی چھوڑا اور بند کو توڑ کر سخت رو آئی جس سے سینکڑوں ڈوب گئے اور باغ جن میں انگور اور طرح طرح کے میوے تھے برباد ہوگئے۔ و بدلناھم بجنتیہم جنتین ذواتی اکل خمط واثل وشیء من سدر قلیل اور ان کے ان دورویہ باغوں کے بدلہ میں ہم نے ان کو اور دو رویہ کڑوے بےمزہ اور جھاؤ اور کچھ بیریوں کے درخت دیے، یعنی ایسے نکمے درخت اگے اور ان پیڑوں کو باغ تہکم اور مشاکلت کے طریق پر فرمایا۔ جیسا ہمارے محاورے میں کہتے ہیں، پلاؤ قورمے کی دعوت کے بدلے جوتیوں اور لکڑیوں کی دعوت کی۔ اثل جھائو ‘ بعض کہتے ہیں۔ فراش، سدر بیری اور اس کی دو قسم ہیں، ایک بیری جو باغوں میں لگائی جاتی ہے، اس کے بیر عمدہ چیز ہوتے ہیں۔ ایک جنگلی بیری جس کو جھاڑی بوٹی یا جھڑ بیری کہتے ہیں، اس کے بیر کسیلے اور بےمزہ ہوتے ہیں، اس جگہ یہی مراد ہے اور اسی لیے سدرہ کے بعد قلیل کا لفظ آیا۔
2 ؎ قال السدے العرم السدد قال عطاء العرم اسم الحادی قال ابن الاعرابی العرم السیل الذی لایطاق وردی عنہ العرم من اسماء الفاء قال مجاہد العرم ماء احمراء سلہ اللہ فی السد فہدمہ شقع 12 منہ۔
Ayah 34:17ذلک جزیناھم بما کفروا ہم نے یہ سزا ان کو ان کے کفر اور ناشکری کے بدلہ میں دی، وھل نجازی الا الکفور اور ہم کافروں اور ناشکروں ہی کو ایسی سزا دیا کرتے ہیں۔ اس بات کا تجربہ ہوگیا ہے کہ جب خدا تعالیٰ کی کسی نعمت کی ناشکری کی گئی وہ نعمت اس سے چھین لی گئی، خواہ جلدی ‘ خواہ دیر میں، تاریخ کھول کر دیکھ جاؤ کہ اس ناشکری اور بدکاری کے سبب دنیا میں کتنے خاندان برباد ہوئے، حال میں شاہان دہلی اور ان کے عیاش امراء کو دیکھ لو کہ کیا انجام ہوا ؟ جن محلوں میں رقص اور زنا کاری اور شراب خوری کی محفلیں ہوتی تھیں، ان کو اکھیڑ کر بنیادوں سمیت گرادیا گیا اور ان کی نحوست سے اور بھی برباد ہوگئے۔ ان کے ننگ و ناموس برباد ہوئے، نان شبینہ سے محتاج ہوئے، بےرحمی سے مارے گئے۔
اس کے بعد ان کی آبادی اور سیر اور امن کی کیفیت بیان فرماتا ہے اور اس پر ان کی سرکشی سے جو بلا نازل ہوئی، اس کا بھی ذکر کرتا ہے۔
Ayah 34:18فقال وجعلنا بینہم و بین القری التی بارکنا فیہا قری ظاھرۃ کہ ہم نے ان کے وطن سے لے کر ان بستیوں تک کہ جن میں میوئوں اور باغوں کی وجہ سے برکت دے رکھی تھی، درمیان میں ظاہر بستیاں آباد کردی تھیں یعنی یہاں سے لے کر وہاں تک درمیان میں آباد گائوں تھے جو ایک گائوں سے دوسرا گائوں دکھائی دیتا تھا۔ آس پاس اور کثرت آبادی کی وجہ سے۔
اکثر مفسرین القری التی بارکنا فیہا سے مراد شام کی بستیاں لیتے ہیں کہ یمن سے شام تک جو وہ تجارت کے لیے جاتے تھے تو رستہ میں قریب قریب گائوں پڑتے تھے، مگر عرب کا نقشہ اور جغرافیہ سامنے رکھنے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ بیچ میں ریگستان کے جنگل اور خشک پہاڑ بھی منزلوں تک ہیں، جہاں آبادی کے نام و نشان بھی نہیں اور نہ وہاں آبادی ہوسکتی ہے۔ ہاں یہ ممکن ہے کہ اس زمانہ میں آب پاشی کی وجہ سے وہاں ایسی آبادی ہوگئی ہو مگر القری سے شام ہی کے قرا مراد لینا ایک رائے سے ممکن ہے کہ اس سے مسقط وغیرہ کے وہ گائوں مراد لیے جاویں جہاں کثرت سے باغات اور شادابی ہے۔ پس مآرب سے لے کر وہاں تک ایسی آبادی کا ہونا قرین قیاس ہے۔
ان کو زبان حال سے حکم ہوا تھا۔ سیروا فیہا لیالی و ایاما آمنین کہ ان بستیوں میں رات دن بےخوف پھرا کرو، کسی رہزن قزاق کا خطرہ نہ تھا، مگر انہوں نے اس نعمت کی قدر نہ کی۔
Ayah 34:19فقالوا ربنا باعدبین اسفارنا و ظلموا انفسہم تو کہنے لگے اے رب ! ہمارے سفروں میں درازی کردے۔ سفر کا مزہ نہیں ملتا، سفر میں دھوپ ‘ پیاس ‘ منزلوں ‘ بیابان ‘ دشمن اور درندے کا خوف نہ ہو تو کیا لطف سفر ہے اور طرح طرح کی بدکاری بھی شروع کی، فجعلناھم احادیث و فرقناھم کل ممزق 1 ؎ پھر ہم نے ان کو غارت کردیا کہ صرف ان کے تذکرے افسانے اور قصے کہانیاں ہی لوگوں کے زبان پر باقی رہ گئیں اور ان کو پریشان کردیا۔ ان فی ذلک لایات لکل صبار شکور اس میں صبر کرنے والوں شکر کرنے والوں کے لیے بڑی نشانیاں اور عبرت ہے۔
1 ؎ مزق جامہ پارہ کردن مزقناھم کل ممزق محاورہ ہے کہ ہم نے تباہ و پریشان کرنے والوں کو تباہ و برباد کردیا۔ حقانی
Ayah 34:20ولقد مصدق علیہم ابلیس ظنہ الخ کہ شیطان کو جو ان کی نسبت ظن تھا کہ میں بہکائوں گا تو میرے بہکانے میں آجاویں گے تو اس نے اپنے گمان کے مطابق پایا الافریقا من المؤمنین مگر ایمانداروں کی جماعت اس کے داؤ میں نہ آئی۔
Ayah 34:21وما کان لہ علیہم من سلطان اور شیطان کی ان پر کچھ زبردستی نہ تھی، اس کو صرف امتحان کے لیے چھوڑا گیا کہ کون آخرت پر ایمان لاکر ثابت رہتا ہے اور کون شک کرتا ہے اور اللہ ہر چیز کا محافظ ہے۔
Ayahs 34:22–30ترکیب : زعتمم ای زعتموھم الہۃ وھما مفعولا زعم حذف الاول لطول الموصول بصلۃ والثانی لقیام صفتہ مقامہ، قالوا قال القول الحق، لمن اذن یتعلق بالشفاعۃ فزع مالم یسم فاعلہ عن قلوبہم قائم مقام الفاعل۔ او ایاکم معطوف علی اسم ان و اما الخبر فیجب ان یکون 1 ؎ مکرا کقولک ان زید او عمرا قائم۔
تفسیر : شکر اور ناشکری کے نتائج بیان فرما کر عرب خصوصاً اہل مکہ کی ناشکری کا رد کرتا ہے۔ انسان کے لیے اس سے زیادہ اور کیا ناشکری ہے کہ وہ اپنے معبود حقیقی اور منعم کے ساتھ اوروں کو بھی شریک کرے، فقال قل ادعوا الذین زعمتم کہ بت پرستوں سے کہو کہ جن کو تم اس کا شریک سمجھتے ہو، ان کو پکارو، دیکھیں وہ تمہاری کہاں تک مدد کرسکتے ہیں ؟
اقسام شرک : مشرکوں کے اپنے معبودوں کی نسبت کئی طرح کے خیال تھے : (1) بعض یہ سمجھتے تھے کہ آسمانوں اور زمین کو پیدا تو اللہ ہی نے کیا ہے، مگر ان میں تصرفات کے اختیارات ہمارے معبودوں کو دے رکھے ہیں، اس لیے ہم ان کی دہائی دیتے نذر و نیاز کرتے ہیں۔ عموماً مشرکین اسی خیال باطل میں مبتلا ہیں، اس کے رد میں فرماتا ہے۔ لایملکون مثقال ذرۃ فی السٰموٰت ولا فی الارض کہ ان کا آسمانوں اور زمین میں کچھ بھی اختیار نہیں۔ (2) بعض یہ سمجھتے تھے کہ آسمان تو خدا تعالیٰ نے خود بنائے ہیں اور زمین اور وہاں کی چیزیں کواکب اور حرکات و طوالع کے وسیلہ سے بنائے ہیں اور اسی کے قریب قریب حکمائِ یونان کا خیال ہے کہ اس نے عقل اول کو بنایا، پھر اسی کے وسیلہ سے اور چیزیں اس کے رد میں فرماتا ہے۔ وما لہم فیہما من شرک سو ان کا ان میں کچھ بھی حصہ نہیں۔ (3) بعض یہ خیال کرتے تھے کہ ملائکہ اور علویات اور ارواح عالیہ خدا تعالیٰ کے پیدا کرنے سے اور روزی دینے اور مارنے وغیرہ حوادث میں مددگار ہیں، ان کی اعانت کی اس کو حاجت پڑتی ہے، اس لیے ان چیزوں کے نام سے تانبے اور پیتل اور پتھر اور دیگر فلزات کے بت بنا رکھے تھے اور ان کی پرستش اور نذر و نیاز کے دستورات بھی قائم کر رکھے تھے، ان کے رد میں فرماتا ہے۔ ومامنہم من ظہیر کہ اس کو کسی کی مدد کی حاجت نہیں نہ کوئی اس کا مددگار ہے، سب کچھ آپ ہی کرتا ہے۔ (4) بعض یہ سمجھتے تھے کہ یہ لوگ بلند مرتبہ ہیں۔ خدا تعالیٰ سے کہہ کر ہماری حاجات کو روا کروا دیتے ہیں، اس لیے ان کی نذر و نیاز اور پکارنا ضروری ہے، اس کے رد میں فرماتا ہے۔ ولا تنفع الشاعۃ عندہ الالمن اذن لہ کہ اس کی اجازت بغیر کوئی سفارش بھی نہیں کرسکتا۔ نبی ﷺ کو قیامت کے دن شفاعت کبریٰ کی اجازت ہوچکی ہے اور وہاں پھر بھی ہوگی۔ فرماتا ہے کہ جن ملائکہ اور روحانیات کو تم اس کے گھر کا مختار سمجھتے ہو، ان کی خود خوف کے مارے یہ حالت ہے کہ وہ جب کوئی حکم صادر ہوتا ہے تو گھبرا جاتے ہیں۔ اذن کے منتظر رہتے ہیں، جب وہ گھبراہٹ دور ہوجاتی ہے تو ایک دوسرے سے پوچھتا ہے کیا حکم صادر ہوا ان میں سے بعض بتلاتے ہیں کہ حق بات کا حکم ہوا یعنی فلاں حکم۔ بخاری و ابودائود و ترمذی و ابن ماجہ نے روایت کیا ہے کہ جب آسمانوں پر کوئی حکم صادر ہوتا ہے تو ڈر کے مارے فرشتے پر جھاڑنے لگتے ہیں، جب گھبراہٹ دور ہوتی ہو تو پوچھتے ہیں کیا حکم ہوا، فرشتے کہتے ہیں۔ حق، اکثر مفسرین اس بات کو ملائِ اعلیٰ اور ملائکہ کے بارے میں کہتے ہیں اور بعض کہتے ہیں شافع و مشفوع کے بارے میں ہے۔ قیامت کے روز قل من یرزقکم یہاں سے یہ بات سب مشرکوں کو بتاتا ہے کہ کسی کی عبادت اور نذر و نیاز کا کمتر فائدہ یہ ہے کہ رزق دے۔ سو یہ بھی اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ جس قدر روزی کے اسباب آسمانی یا زمینی ہیں سب اسی کے ہاتھ میں ہیں، بارش کا برسانا ‘ گرمی و سردی کا بدلنا۔ حجت تمام کرکے جاہل مخاطبوں کو قائل کرنے کا طریقہ ارشاد فرماتا ہے۔ وانا او ایاکم لعلی ھدٰی او فی ضلال مبین مخاطب کو اگر یوں کہا جاوے کہ تو غلطی میں ہے تو اس کو جوش آجاوے اور حق بات کی تحقیق چھوڑ کر مقابلہ کو آمادہ ہوجاوے۔ برخلاف اس کے جب اس کو یوں کہا جائے کہ ہم میں سے ایک نہ ایک تو ضرور غلطی پر ہے اور ہمیشہ غلطی میں پڑا رہنا اچھا نہیں، اس لیے غور کرنا چاہیے ایسی بات سے وہ امید ہے کہ غور کرے اور حق پر آجائے اس کو حسن کلام کہتے ہیں۔ اس بات پر اللہ نے اپنے رسول ﷺ کو مامور کیا کہ ان سے یوں کہو باوجودیکہ حضرت ﷺ کو اپنے ہادی و مہتدی ہونے میں کوئی بھی شبہ نہ تھا۔ قل لا تسئلون عما اجرمنا الخ یہ کلام اور بھی مخاطب کو نرم کرتا ہے، اس لیے جرم کو اپنی طرف منسوب کیا۔
اور یہ کہہ دیا کہ ہر ایک کو اپنے اعمال کی جواب دہی کرنی پڑے گی، پس حق کے تلاش کرنے میں اور بھی کوشش کرنی چاہیے۔ قل یجمع بیننا الخ یہ کلام اور بھی مخاطب کو حق کی طلب پر آمادہ کرتا ہے، صرف غلطی سے بچنا ہی مقصود نہیں جو ایک عمدہ بات ہے بلکہ قیامت کے دن خدا کے سامنے فیصلہ بھی ہونا ہے۔ قل ارونی الذین الخ پھر اصل مدعا کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ غیر اللہ کو یا دفع ضرر کے لیے پوجتے ہیں، سو اس کا رد پہلے کردیا تھا۔ بقولہ قل ادعو الذین کہ کوئی ضرر دور نہیں کرسکتا یا امید نفع کے لیے سو اس کا ابطال بھی کردیا۔ قل من یرزقکم کہ کوئی نافع نہیں اور بعض لوگ محض مستحق عبادت ہونے کی وجہ سے پوجتے ہیں۔ سو ان کا رد اس جگہ کرتا ہے کہ مجھے دکھانا وہ کون مستحق عبادت ہے ؟
وما ارسلنک توحید کا مسئلہ تمام کرکے یہاں سے مسئلہ رسالت شروع کرتا ہے۔ آپ کو ہم نے برائی بھلائی بتلانے کو بھیجا ہے، پھر جو آپ سے الجھتا ہے نادان ہے۔ کافۃ ای ارسالۃ کافۃ عامۃ لجمیع الناس، اویقال کافہ تکف الناس انت من الکفر و المعاصی والہاء للمبا لغۃ مسئلہ رسالت کے بعد مسئلہ حشر کا بیان کرتا ہے۔ ویقولون متی ہذا الوعد الخ کہ وہ جو اس دن کو پوچھتے اور جلدی کرتے ہیں، کہہ دیجئے وہ وقت مقرر ہے۔ ضرور آوے گا، پھر جلدی کرنا بےفائدہ ہے، اس کے لیے کچھ تیاری کرو۔
1 ؎ تقدیرہ ان زیدا قائم او ان عمردا قائم فعلی ھذا العلی ہدی خبر الاول داد فی صلال معطوف علیہ خبر الثانی وخبران محذوف ول علیہ المذکور 12 ابو محمد عبد الحق
Ayahs 34:31–36وقال الذین کفروا الخ یہاں سے یہ بات بتلاتا ہے کہ تیاری اور زاد آخرت حاصل کرنا تو درکنار وہ اس کی جگہ کفر بکتے ہیں کہ قرآن تو کیا ہم اس سے پہلی کسی کتاب کو بھی نہیں مانتے۔ یہ مشرکین کہ کا قول تھا، جہالت اور جوش میں آکر کہتے تھے۔ ولو تری اذا الظالمون الخ سے حشر کے دن پیش آنے والی مصیبت کا بیان کرتا ہے۔ وما ارسلنا فی قریۃ الخ سے آنحضرت ﷺ کو تسلی دیتا ہے کہ یہ انکار کوئی نئی بات نہیں، ہر نبی سے پیٹ بھرے ایسا ہی کرتے آئے ہیں جو اپنے حق پر ہونے کی دلیل دنیاوی جاہ و حشم بیان کرتے ہیں۔ کہہ دے یہ قبولیت کی دلیل نہیں یہ کم زیادہ مصلحت سے ہر ایک کو ملتا ہے۔