Ayahs 34:1–2آغاز سورت بہ تحمید و توحید خداوند رب العزت
قال اللہ تعالی۔ الحمد للہ الذی لہ ما فی السموت وما فی الارض۔۔۔ الی۔۔۔ وھو الرحیم الغفور۔
حق جل شانہ نے قرآن کریم میں پانچ سورتوں کو الحمد سے شروع فرمایا۔ (1) سورة فاتحہ۔ (2) سورة الانعام۔ (3) سورة کہف۔ (4) چوتھی سورت یہ سورة سبا ہے۔ (5) پانچویں سورت جو اس کے بعد آنے والی ہے یعنی سورة فاطر۔ جسے سورة ملائکہ بھی کہتے ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ حق تعالیٰ کی نعمتیں بیشمار ہیں لیکن بظاہر وہ نعمتیں دو قسم کی ہیں ایک نعمت ایجاد اور ایک نعمت بقا ایجاد کے معنی معدوم کو موجود کرنے کے ہیں اور بقا کے معنی موجود کو باقی اور زندہ رکھنے کے اور زندہ رہنے کے سامان عطا کرنے کے ہیں اور پھر ایجاد اور بقا کی دو قسمیں ہیں ایک دنیوی اور ایک اخروی اور ایک روحانی اور ایک جسمانی پس ان پانچ سورتوں میں اللہ تعالیٰ نے کہیں ایجاد کی نعمتیں اور کہیں بقا کی نعمتیں ذکر کیں اور کہیں دنیاوی اور جسمانی نعمتوں اور کہیں اخروی اور روحانی نعمتوں کا ذکر کیا جس سے ہر جگہ شکر کی ترغیب دینا مقصود ہے اس سورت کے شروع میں اول عالم دنیا کی نعمتوں کا ذکر فرمایا اور اس کے بعد عالم آخرت کی نعمت مغفرت اور ان کے رزق کریم کا اور دیگر معنوی نعمتوں کا ذکر فرمایا اور ان لوگوں کی مذمت کی جو اخروی نعمتوں کے منکر ہیں۔ چناچہ فرماتے ہیں کہ تمام تعریفیں اسی خدائے برحق کے لئے سزاوار ہیں کہ جس کے ہاتھ میں ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور آخرت میں بھی اسی کے لئے حمد وثنا ہے غرض یہ کہ دنیا اور آخرت میں وہی حمد و ثنا کا مستحق اور سزاوار ہے۔ فرق اتنا ہے کہ دنیا میں ظاہرا کسی اور کی بھی تعریف ہوجاتی ہے مگر وہ در حقیقت اللہ ہی کے فعل کا پردہ ہوتی ہے اور آخرت میں کوئی پردہ نہیں اور نہ کوئی واسطہ ہے آخرت میں جو کچھ بھی ہے وہ سب اسی کی طرف سے ہے اور درمیان میں کوئی واسطہ نہیں نیز دنیا اور آخرت کی حمد میں ایک فرق یہ ہے کہ دنیا میں اللہ کی حمد بطور عبادت ہے اور اختیاری ہے اور آخرت میں اللہ کی حمد بطور لذت و فرحت ہے اور بمنزلہ سانس کے غیر اختیاری ہے اور وہی ہے حکمتوں والا جس نے آسمان اور زمین کو اپنی نعمتوں کا واسطہ اور پردہ بنایا اور سب چیزوں سے باخبر ہے وہ خوب جانتا ہے جو چیز زمین میں داخل ہوتی ہے اور جو چیز زمین سے نکلتی ہے اور وہ خوب جانتا ہے جو کچھ آسمان سے اترتا ہے اور جو آسمان میں چڑھتا ہے جیسے بندوں کے اعمال اور ان کی دعائیں اور ان کے کلمات طیبہ اور ارواح طاہرہ اور وہ بڑا مہربان ہے اور کوتاہیوں کو معاف کرنے والا ہے۔ بندوں کے گناہوں اور کوتاہیوں کو رحمت کے پردہ میں چھپاتا ہے۔
Ayahs 34:3–9اثبات معاد مقرون بہ قسم برائے تہدید اہل کفر وعناد
قال اللہ تعالی۔ وقال الذین کفروا لا تاتینا الساعۃ۔۔۔ الی۔۔۔ ان فی ذلک لایۃ لکل عبد منیب۔
(ربط) اوپر تحمید اور توحید کا ذکر تھا اب آئندہ آیت میں منکرین حشر کی ایک بیہودہ بات کا ذکر کر کے اس کا رد فرماتے ہیں اور بیہودگی پر تہدید بھی فرماتے ہیں۔ (شیخزادہ ص 79 ج 4)
اور یہ بتلاتے ہیں کہ قیامت ضرور آئے گی اور جو لوگ قیامت کے ساتھ استہزا کرتے ہیں ان کو ان کے اعمال کی ضرور سزا ملے گی چناچہ فرماتے ہیں اور کافر اور مشرک جو امانت کے ثواب اور خیانت کے عقاب کے منکر ہیں اور حیات دنیاوی پر بھروسہ کئے ہوئے ہیں یہ کہتے ہیں کہ ہم پر قیامت نہیں آئے گی ہمیں کسی عذاب اور حساب کا ڈر نہیں اے پیغمبر ﷺ آپ ان منکرین قیامت سے کہہ دیجئے کہ کیوں نہیں قسم ہے میرے پروردگار کی وہ قیامت تم پر ضرور آئے گی اور وہ قیامت کے لانے پر قادر ہے کیونکہ وہ ایسا پروردگار ہے کہ جو ایسا غیب دان ہے کہ آسمان اور زمین کا کوئی ذرہ اور کوئی چھوٹی بڑی چیز اس سے پوشیدہ نہیں مگر وہ سب لوح محفوظ میں ثبت ہے اور اس میں لکھی ہوئی ہے ہڈیاں اگرچہ ریزہ ریزہ ہوگئیں مگر سب اس کے علم اور قدرت سے غائب نہیں پہلی مرتبہ کی طرح پھر دوبارہ سب کو جمع کر کے زندہ کرے گا تاکہ ثواب عطا فرمائے ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک کام کئے سو ایسے لوگوں کے لئے مغفرت ہے اور بہشت میں عزت کی روزی ہے بلا رنج و محنت ان کو روزی ملے گی۔ مغفرت تو بوجہ ایمان کے ہے اور عزت کی روزی عمل صالح کی وجہ سے ہے گویا کہ رزق کریم اطاعت کا انعام ہے۔ (تفسیر کبیر ص 4 ج 7)
اور جو لوگ ہماری آیتوں کا مقابلہ کرنے کے لئے دوڑتے ہیں اور ان کے باطل کرنے کی کوشش کرتے ہیں ان کے لئے سخت قسم کا درد ناک عذاب ہے۔ امانت میں خیانت کی سزا ان کے سامنے آجائے گی اور جن لوگوں کو علم دیا گیا یعنی صحابہ کرام یا علماء اہل کتاب وہ خوب جانتے ہیں کہ جو قرآن من جانب اللہ آپ کی طرف اتارا گیا کہ وہ بلاشبہ حق ہے اور ایسے خدا کی راہ دکھاتا ہے جو غالب ہے اور خوبیوں والا ہے یعنی جو اس قرآن کی ہدایت پر چلے گا وہ خدا تک پہنچ جائے گا یا یہ معنی ہیں کہ اہل علم اور اہل ایمان قیامت کے دن اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے کہ قرآن نے جس ثواب اور عقاب کی خبر دی تھی وہ بالکل حق ہے اور جو لوگ کافر ہیں وہ آپس میں بطور مضحکہ اور تمسخر یہ کہتے ہیں کہ کیا ہم تم کو ایسا شخص بتلا دیں کہ جو تم کو یہ خبر دیتا ہے کہ جب تم ریزہ ریزہ ہو کر پوری طرح پراگندہ ہوجاؤ گے تو تم پھر از سر نو پیدا ہو گے بھلا یہ کیونکر ممکن ہے یہ شخص تو ایک ناممکن اور محال کی خبر دیتا ہے کیا اس شخص نے خدا پر قصدا جھوٹ باندھا ہے یا اس کو کسی قسم کا جنون ہے کہ جو کہتا ہے اس کو سمجھتا نہیں بلا قصد اس سے ایسی باتیں نکل رہی ہیں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔ دونوں باتیں غلط ہیں بلکہ جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے وہی عذاب میں اور دور دراز گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں اور بہکی ہوئی باتیں کرتے ہیں اور حقیقت کو سمجھتے نہیں اور دوبارہ زندہ ہونے کو محال سمجھتے ہیں اس لئے آئندہ آیت میں امکان حشر کی ایک دلیل بیان کرتے ہیں۔ پس کیا ان لوگوں نے آسمان اور زمین کی طرف نہیں دیکھا جو ان کو سامنے سے اور پیچھے سے محیط ہے اور یہ سب ان دونوں میں محبوس ہیں چاروں طرف سے ان کو گھیرے ہوئے ہیں بھاگنے اور نکلنے کا کوئی راستہ نہیں پھر بھی ہماری قدرت کے قائل نہیں ہوتے ہم تو ان کی سزا پر ہر وقت قادر ہیں چاہیں تو قارون کی طرح ان کو زمین میں دھنسا دیں یا اگر چاہیں تو قوم لوط کی طرح ان پر آسمان سے پتھر کے ٹکڑے گرا دیں اور ان کو ہلاک کردیں اور ابھی ان پر قیامت قائم کر کے سب کو تباہ اور برباد کردیں پھر بھی یہ لوگ ہماری آیتوں کی تکذیب کرتے ہیں بیشک اس میں یعنی آسمان و زمین میں عبرت ہے ہر اس بندہ کے لئے جو خدا کی طرف رجوع کرنے والا ہو کہ جو خداوند قدیر آسمان سے پتھر برسانے اور زمین میں دھنسانے پر قادر ہو۔ اسے دوبارہ زندہ کرنا کیا مشکل ہے پورا عالم اس کی خدائی یعنی آسمان و زمین میں محصور ہے اور محبوس ہے کسی کی مجال نہیں کہ اس کی قدرت کے دائرہ سے باہر نکل سکے عجیب بات ہے کہ یہ منکرین قیامت جس کے انگشت قدرت میں بند ہیں اسی کی قدرت کے منکر بنے ہوئے ہیں۔
Ayahs 34:10–14قصہء دواؤد وسلیمان علیہما الصلاۃ والسلام
قال اللہ تعالی۔ ولقد اتینا داود منا فضلا۔۔۔ الی۔۔۔ ما لبثوا فی العذاب المھین۔
(ربط) گزشتہ آیات میں آسمان و زمین کی پیدائش کا ذکر کر کے فرمایا۔ ان فی ذلک لایۃ لکل عبد منیب یعنی آسمان و زمین کی پیدا میں خدا کی قدرت کی نشانی ہے ہر عبد منیب کے لئے یعنی ہر اس بندہ کے لئے جو خدا کی طرف متوجہ اور ملتفت ہو اب ان آیات میں میں دو خاص عبد منیب کا قصہ ذکر کرتے ہیں جو خدا کی طرف خاص طور پر متوجہ اور ملتفت ہو اب ان آیات میں دو خاص عبد منیب اللہ کے وہ خاص بندے تھے جن پر اللہ نے ظاہری اور باطنی نعمتیں مکمل فرمائیں اور نبوت کے ساتھ ان کو بےمثال سلطنت بھی عطا کی مگر باجود دین ودنیا کی نعمتوں کے جمع ہونے کے منعم حقیقی کے شکر سے غافل نہیں ہوئے اور اگر کسی وقت ذرا غفلت ہوئی تو سجدہ میں گر گئے اور استغفار کرنے لگے چناچہ داود (علیہ السلام) کے قصہ میں ہے فاستغفر ربہ وخر راکعا واناب اور سلیمان (علیہ السلام) کے حق میں ہے۔ والقینا علی کرسیہ جسدا ثم اناب۔
نیز اس قصہ میں منکرین قیامت کا بھی جواب ہے کہ جب خدائے برتر اپنے کسی بندہ کے لئے پہاڑوں کو مسخر کرسکتا ہے اور لوہے کو موم کی طرح نرم بنا سکتا ہے تو کیا وہ خدائے قادر استخوا نہائے انسانی اور عظام جسمانی یعنی انسانی ہڈیوں کو مع ان کے قوائے طبیعی اور انسانی کے دوبارہ زندہ کرنے پر قادر نہیں چناچہ فرماتے ہیں اور البتہ تحقیق ہم نے داؤد (علیہ السلام) کو اپنی طرف سے ایک خاص بزرگی عطا کی کہ نبوت کے ساتھ ان کو سلطنت اور اس کا سازوسامان بھی عطا کیا ہم نے ان کو جو نعمتیں عطا کیں ان میں ہر نعمت ان کی فضیلت اور کرامت اور ان کی نبوت کی دلیل تھی اور ہماری کمال قدرت کی بھی دلیل تھی۔
چناچہ ہم نے پہاڑوں کو حکم دیا کہ اے پہاڑو تم بھی داؤد کے ساتھ اللہ کی تسبیح کرو اور اللہ کی طرف رجوع کرو کہ جب داؤد (علیہ السلام) کا ذکر کریں اور اس کی تسبیح میں مشغول ہوں تو تم بھی ان کے ساتھ اللہ کی تسبیح اور اس کے ذکر میں مشغول ہوجاؤ اور اسی طرح پرندوں کو بھی یہی حکم دیا کہ تم بھی ان کے ساتھ تسبیح کیا کرو۔ کما قال تعالیٰ انا سخرنا الجبال معہ یسبحن بالعشی والاشراق والطیر محشورۃ۔
جب داؤد (علیہ السلام) اللہ کی تسبیح پڑھتے تو پہاڑی بھی حقیقۃً بآواز بلند ان کے ساتھ تسبیح پڑھتے اور پرندے بھی ان کے ساتھ حقیقۃ تسبیح پڑھتے اور یہ تسبیح حقیقی تھی بزبان حال یا صدائے باز گشت نہ تھی یہ سب داؤد (علیہ السلام) کا معجزہ تھا اور خدا کی قدرت کا کرشمہ تھا کہ جو خدا بےجان اور زبان چیزوں کو گویائی عطا کرسکتا ہے وہ مردوں کے بےجان اور بےزبان ریزوں کو کیوں دوبارہ زندہ نہیں کرسکتا۔
اللہ تعالیٰ نے داؤد (علیہ السلام) کو حسن صورت یعنی خوش آوازی کا معجزہ عطا فرمایا تھا کہ دنیا کی کوئی آواز اس کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔ داؤد (علیہ السلام) جب زبور پڑھتے یا اللہ کی تسبیح کرتے تو در و دیوار اور درخت اور پہاڑ ان کے ساتھ حقیقۃً تسبیح کرتے اور پرندے ان کے گرد جمع ہوجاتے اور ان کی طرح آواز کرتے محض صدائے باز گشت نہ تھی اس لئے کہ ولقد اتینا داود منا فضلا سے حضرت داؤد (علیہ السلام) کی خاص فضیلت اور بزرگی کا بیان کرنا مقصود ہے پہاڑوں کی تسبیح سے محض ان کی آواز باز گشت مراد لینا بالکل بےمعنی ہے۔ صدائے باز گشت فضیلت اور بزرگی کی چیز نہیں قرآن کریم میں ہے وان من شیء الا یسبح بحمدہ ولکن لا تفقھون تسبیحہم۔ یعنی ہر چیز حقیقۃً اللہ کی تسبیح وتحمید کرتی ہے مگر تم سمجھتے نہیں۔ اور اسی ناسمجھی کی وجہ سے کبھی اس کو تسبیح حالی کہتے ہیں اور کبھی صدائے باز گشت۔ اللہ ان لوگوں کو عقل دے۔
اللہ تعالیٰ نے یوسف (علیہ السلام) کو حسن و جمال کا معجزہ عطا فرمایا اور داؤد (علیہ السلام) کو حسن صوت یعنی خوش آوازی کا معجزہ عطا فرمایا داؤد (علیہ السلام) اللہ کے خاص عبد منیب تھے جب خوش الحانی کے ساتھ زبور پڑھتے یا تسبیح پڑھتے تو ان کی منیبانہ اور خاشعانہ اور معجزانہ آواز سے پہاڑ اور درودیوار اور پرند بھی عبد منیب (خدا کی طرف رجوع کرنے والے) ہوجاتے اور ان کے ساتھ حقیقۃً تسبیح کرنے لگتے اور چرند اور پرند اور پہاڑوں کی تسبیح وتحمید سب حقیقی تھی جیسے ستون حنانہ کا رونا حقیقی تھا۔ اور حضور پر نور ﷺ کا معجزہ تھا۔ اسی طرح داؤد (علیہ السلام) کی تسبیح وتحمید سے جمادات اور حیوانات کی تسبیح وتحمید داؤد (علیہ السلام) کا معجزہ تھی۔
زصوت دلکشش جاں تازہ گشتے رواں ذوق بےاندازہ گشتے
سپہر چنگ پشت از عنون ساز ازاں پر حال تر نشنودہ آواز
داؤد (علیہ السلام) کی دوسری فضیلت کا ذکر
اور ایک فضیلت و کرامت ہم نے داؤد (علیہ السلام) کو یہ عطا کی کہ داؤد (علیہ السلام) کے لئے لوہے کو بلا سبب ظاہری موم کی طرح نرم کردیا اور یہ حکم دیا کہ تم اس لوہے سے کشادہ زرہیں بناؤ اور کڑیوں کے جوڑنے میں اندازہ کا لحاظ رکھو کہ نہ بہت بھاری ہو اور نہ بہت ہلکی ہو اور ایسی مضبوط ہو کہ اس کا پہننے والا تیر اور تلوار سے بچ سکے۔ یہ بھی داؤد (علیہ السلام) کا معجزہ تھا کہ لوہا بغیر آگ میں ڈالے اور بغیر ہتھوڑے کے کوٹے ان کے ہاتھ میں موم کی طرح نرم ہوجاتا اور تاگے کی طرح اس کو بٹ کر زرہ بنا لیتے تاکہ جہاد میں کام آویں اور اے آل داؤد کافروں کے مقابلہ اور ان کے وار کو روکنے کے لئے تو تم نے کشادہ زرہیں تیار کرلیں مگر نفس اور شیطان کا وار روکنے کے لئے بھی زرہیں تیار رکھو یعنی تم سب نیک عمل کرتے رہو کہ جس میں نفسانیت کا شائبہ نہ ہو تحقیق میں تمہارے عمل کو خوب دیکھتا ہوں کہ اس میں کوئی کمزوری تو نہیں کہ نفس و شیطان کے مقابلہ میں کہیں کمزور زرہ ثابت نہ ہو۔
حکایت : داؤد (علیہ السلام) زمانہ بادشاہت میں ہیئت بدل کر ملک میں پھرتے اور لوگوں سے بادشاہ کا حال دریافت کرتے تاکہ اگر کسی کو کوئی شکایت ہو تو اس کی اصلاح کرسکیں جس شخص سے بھی پوچھتے تو وہ داؤد (علیہ السلام) کی عبادت اور ان کی نیک خلقی اور عدل و انصاف کی تعریف کرتا ایک دن ایک فرشتہ انسان کی صورت میں ملا تو داؤد (علیہ السلام) نے اس کو اپنے سے انجان سمجھ کر اس سے اپنا حال پوچھا اس نے کہا داؤد (علیہ السلام) سب آدمیوں سے بہتر ہے اور بہت اچھا ہے لیکن اس میں ایک خصلت ہے اگر وہ نہ ہوتی تو زیادہ بہتر ہوتا داؤد (علیہ السلام) نے پوچھا وہ کیا بات ہے اس نے کہا کہ وہ خود بھی مسلمانوں کے بیت المال سے کھاتا ہے اور اپنے اہل و عیال کو بھی اس میں سے کھلاتا ہے اگر وہ خود اپنی محنت اور ہاتھ کی کمائی سے کھاتا تو بہتر ہوتا۔ داؤد (علیہ السلام) نے بارگاہ خداوندی میں دعا شروع کی کہ مجھے کوئی ایسی حرفت سکھا دیں جس سے میں اور میرے اہل و عیال مستغنی ہوجائیں پس اللہ تعالیٰ نے ان کو زرہ بنانے کی صنعت سکھا دی جیسا کہ سورة انبیاء میں گذرا وعلمناہ صنعۃ لبوس لکم کہ اللہ عزوجل نے لوہا ان کے لئے نرم کردیا اور زرہ بنانے کی صنعت ان کو سکھلا دی چناچہ داؤد (علیہ السلام) زرہ بناتے اور اس کو فروخت کرتے اس میں سے ایک تہائی صدقہ کردیتے اور ایک تہائی اہل و عیال پر خرچ کردیتے اور ایک تہائی آئندہ زرہ بنانے کے لئے ذخیرہ رکھ چھوڑتے۔ بیان کیا جاتا ہے کہ ایک زرہ چار ہزار درہم میں فروخت ہوتی۔
(تفسیر قرطبی ص 266 ج 14 وروح المعانی ص 107 ج 22)
دوسری عبد منیب کا ذکر
ولسلیمن الریح غدوھا شھر ورواحھا شھر۔
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے داؤد (علیہ السلام) پر اپنے فضل وانعام کا ذکر فرمایا اب ان آیات میں ان کے فرزند ارجمند سلیمان (علیہ السلام) پر اپنے فضل وانعام کا ذکر فرماتے ہیں باپ اور بیٹے دونوں ہی عبد منیب تھے پہلی آیت میں منیب باپ کا ذکر فرمایا اب دوسری آیت میں منیب بیٹے کا ذکر کرتے ہیں ان دونوں کے ذکر سے مقصود عبدیت اور انابت الی اللہ کی برکات اور ثمرات کا بیان کرنا ہے اور یہ بتلانا ہے کہ دنیا اور آخرت کی سعادت کا سرمایہ عبدیت اور انابت الی اللہ ہے چناچہ فرماتے ہیں اور داؤد (علیہ السلام) کے بعد ہم نے ان کے بیٹے سلیمان (علیہ السلام) کے لئے ہوا کو مسخر کردیا جس کی صبح کی رفتار ایک مہینہ تھی اور شام کی رفتار ایک مہینہ تھی اللہ تعالیٰ نے سلیمان (علیہ السلام) کے لئے ہوا کو مسخر کردیا تھا۔ ہوا کو جیسا حکم دیتے اس کے مطابق وہ چلتی۔ وسخرنا لہ الریح تجری بامرہ اس طرح ہوا کا مسخر ہونا یہ سلیمان (علیہ السلام) کا معجزہ تھا اور ان کی فضیلت اور کرامت تھی۔
حسن بصری (رح) فرماتے ہیں کہ صبح کو دمشق سے اپنے تخت اور بساط پر بیٹھ کر ہوا میں روانہ ہوتے اور اصطخر فارس میں اتر کر قیلولہ کرتے اور دمشق اور اصطخر کے درمیان تیز رفتاری کے ساتھ کامل ایک ماہ کی مسافت ہے پھر شام کو اصطخر سے روانہ ہوتے اور رات کا بل میں بسر کرتے اور اصطخر سے کابل تک تیز رفتاری کے ساتھ ایک ماہ کی مسافت ہے۔ غرض یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ہوا کو حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے لئے ایسا مسخر کردیا تھا کہ ایک دن میں دو مہینہ کی پیدل مسافت طے کرتے تھے (تفسیر قرطبی ص 269 ج 14) غرض یہ کہ ہوا کو اور خلا کو سلیمان (علیہ السلام) کی سیروسیاحت کے لئے مسخر کردیا گیا تھا یہ منجانب اللہ ان کو ایک معجزہ عطا کیا گیا تھا۔ اور ایک فضیلت ہم نے سلیمان (علیہ السلام) کو یہ عطا کی کہ ان کے لئے تانبے کا ایک چشمہ رواں کردیا یعنی تانبے کی کان میں سے بہتا ہوا تانبا نکلتا تاکہ جو چاہیں اس سے بنا سکیں اللہ تعالیٰ نے بطور معجزہ صفاء کے قریب ملک یمن میں پگھلے ہوئے تانبے کا ایک چشمہ نکالا تاکہ سانچوں میں ڈھال کر جو چاہیں اس سے بنا سکیں جس طرح اللہ تعالیٰ نے داؤد (علیہ السلام) کے لئے لوہے کو نرم کردیا تھا اسی طرح اللہ تعالیٰ نے سلیمان (علیہ السلام) کے لئے تانبے کو نرم کردیا اور اس کا چشمہ جاری کردیا۔
اور ایک فضیلت اور کرامت ہم نے سلیمان (علیہ السلام) کو یہ عطا کی کہ جنات کو ان کے تابع فرمان کردیا چناچہ جنوں میں سے کتنے ایسے تھے کہ سلیمان (علیہ السلام) کے سامنے اللہ کے حکم سے کام کرتے تھے یعنی جنات بحکم خداوندی سلیمان (علیہ السلام) کے لئے مسخر تھے اور سلیمان (علیہ السلام) کے حکم کے مطابق وہ خدمت اور محنت کرتے تھے اور کسی جن کی یہ مجال نہ تھی کہ وہ سلیمان (علیہ السلام) کے حکم سے سر تابی کرسکے اور جنوں میں جو ہمارے حکم سے سرکشی کرتا یعنی سلیمان (علیہ السلام) کی اطاعت اور فرمانبرداری سے روگردانی کرتا تو ہم اس کو چکھاتے آگ کی مار یعنی اللہ کی طرف سے ایک فرشتہ معین تھا جس کے ہاتھ میں آگ کا کوڑا ہوتا تھا جو جن حکم عدولی کرتا تو فرشتہ اس کو آگ کا کوڑا مارتا جس سے وہ جن جل جاتا اس خوف سے جنات سلیمان (علیہ السلام) کے مطیع اور فرمانبر دار تھے۔
الغرض اللہ تعالیٰ نے جنوں کو سلیمان (علیہ السلام) کے لئے مسخر فرمایا تھا۔ بناتے تھے وہ ان کے لئے جو کچھ وہ چاہتے تھے قلعے اور بڑی بڑی عمارتیں اور تصویریں اور پیتل اور تانبے سے طرح طرح کی مورتیں۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی شریعت میں مورتیں بنانا جائز تھا لیکن ہماری شریعت میں جاندار کی مورت بنانا ناجائز ہوگیا اور بعض کہتے ہیں کہ وہ تماثیل (مورتیں) جاندار کی نہ تھیں بلکہ درختوں وغیرہ کی مورتیں تھیں اور بعض کہتے ہیں کہ نیک لوگوں کی مورتیں تھیں تاکہ لوگ ان کو دیکھ کر آخرت کی تیاری میں زیادہ کر شش کریں اور اس طرح کی تصویریں بنانا ان کی شریعت میں جائز تھا مگر ہماری پاکیزہ شریعت میں منسوخ کردیا گیا۔
اور بناتے تھے ان کے لئے تالاب جیسے بڑے بڑے لگن اور ایسی بڑی بڑی دیگیں بناتے کہ جو اپنی جگہ پر جمع ہوئی رکھی رہتیں کہ کوئی ان کو اپنی جگہ سے ہلا نہ سکے۔ اللہ تعالیٰ نے یمن کی طرف پگھلے ہوئے تانبے کا چشمہ جاری کردیا تھا جس کو جنات سانچوں میں ڈھال کر بڑی بڑی دیگیں تیار کرتے جس میں ایک لشکر کا کھانا پک سکے۔
اللہ تعالیٰ نے سلیمان (علیہ السلام) کو ایسی سلطنت عطا فرمائی کہ ملکی عمارات اور صنعتوں کے لئے جنات کو ان کے لئے مسخر کردیا کہ سلیمان (علیہ السلام) جس قسم کی عمارت کا اور جس قسم کی صنعت کا حکم دیں اس کو بےچون وچرا انجام دیں اور سلیمان (علیہ السلام) یہ تمام کام مسلمانوں سے نہیں لیتے تھے بلکہ جنات سے لیتے تھے اور بلا اجرت اور بلا تنخواہ کے لیتے تھے کسی جن کی یہ مجال نہ تھی کہ وہ سلیمان (علیہ السلام) سے کوئی مطالبہ کرسکے اور ہڑتال کا خیال تو بالکل ہی ناممکن اور محال تھا جیسا کہ ومن یزغ منہم عن امرنا نذقہ من عذاب السعیر کی تفسیر میں گذرا تمام جنات بحکم خداوندی سلیمان (علیہ السلام) کے لئے مسخر تھے کسی کی مجال نہ تھی کہ حکم سلیمانی سے سرتابی کرسکے۔
غرض یہ کہ ہم نے آل داؤد کو یہ فضیلتیں اور نعمتیں عطا کیں اور ان کو یہ حکم دیا کہ اے آل داؤد شکر کے کام لگے رہو اور میرے بندوں میں سے شکر گذار بہت کم ہیں شکر سے نعمت باقی بھی رہتی ہے اور زیادہ بھی ہوتی ہے۔
خلاصہ کلام یہ کہ اللہ تعالیٰ نے جنات کو سلیمان (علیہ السلام) کے لئے مسخر کردیا تھا ان کے حکم کے مطابق وہ خدمت انجام دیتے تھے جب سلیمان (علیہ السلام) کی موت کا وقت آیا تو اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ ان کی موت کو جنات پر مستور اور مبہم رکھیں تاکہ جن اسی کام کرتے رہیں۔ پس جب ہم نے سلیمان (علیہ السلام) پر موت کا حکم جاری کیا تو ایسے طور پر ان پر موت واقع ہوئی کہ جنات کو اس کی خبر نہ ہوئی جس کی صورت یہ ہوئی کہ جنات تعمیر کے کام مشغول تھے۔ سلیمان (علیہ السلام) حسب دستور ہیکل میں داخل ہوئے اور عصا کو دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر کھڑے ہوگئے جنات یہ سمجھے کہ یہ ہماری نگرانی کر رہے ہیں اسی حالت میں آپ (علیہ السلام) کی روح قبض ہوگئی اور اسی طرح سال بھر تک عصا کے سہارے کھڑے رہے جنات یہ سمجھتے رہے کہ آپ ہمارے سامنے کھڑے ہوئے ہیں۔ کام میں لگے رہے۔ یہاں تک کہ عصائے سلیمان کو کسی دیمک کے کیڑے نے کھایا وہ لکڑی ٹوٹی اور آپ (علیہ السلام) گر پڑے اب تک جنوں کو کسی نے سلیمان (علیہ السلام) کی موت کی خبر دی نہ دی تھی مگر گھن کے کیڑے نے جو ان کے عصا کو کھا رہا تھا۔
پس جب اس عصا کے گر جانے سے سلیمان (علیہ السلام) گر پڑے تب جنوں پر حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی موت کا حال کھلا اور یہ بات گھن کے کیڑے کے کھانے کے حساب اور تخمینہ سے معلوم ہوئی کہ وفات پائے ہوئے ایک سال ہوا اور سلیمان (علیہ السلام) کے گرنے سے جنوں نے یہ بھی جان لیا کہ اگر وہ غیب دان ہوتے تو اتنی مدت تک ذلت و خواری کی تکلیف میں نہ رہتے۔ جنوں کا گمان تھا کہ وہ غیب کو جانتے ہیں۔ اور لوگوں کے سامنے ایسا ہی ظاہر کرتے اور بہت سے جاہل آدمی بھی یہی گمان رکھتے تھے پس جب سلیمان (علیہ السلام) اس طرح سے گرے تو لوگوں کو معلوم ہوگیا کہ اگر جن غیب دان ہوتے تو سال بھر تک اس عذاب و خواری میں کیوں پڑے رہتے بلکہ جس روز انتقال ہوا تھا اسی روز بھاگ جاتے اور اس محنت اور مشقت سے چھٹکارا پا جاتے۔ سلیمان (علیہ السلام) مسجد اقصیٰ کی تعمیر میں مشغول تھے تعمیر ہنوز نامکمل تھی کہ وقت آپہنچا اللہ تعالیٰ نے ان کو اس تدبیر سے کھڑا رکھا تاکہ ان کی موت کے بعد ان کے باقی ماندہ کام کی تکمیل ہوجائے۔
Ayahs 34:15–21قصہء قوم سبا
قال اللہ تعالی۔ لقد کان لسبا فی مسکنہم ایۃ۔۔۔ الی۔۔۔ وربک علی کل شیء حفیظ۔
(ربط) گزشتہ آیات میں منیبین اور شاکرین کا قصہ ذکر فرمایا جو بندے اللہ کی نعمتوں کا شکر کرتے ہیں اب اس کے بالمقابل غیر منیبین اور غیر شاکرین کا ایک قصہ ذکر کرتے ہیں جو خدا کے ناسپاس اور ناشکرے تھے تاکہ لوگ اس سے نصیحت اور عبرت پکڑیں یعنی اہل سبا کا قصہ عبرت بیان کرتے ہیں تاکہ معلوم ہوجائے کہ ناسپاسی اور ناشکری اور عدم انابت الی اللہ کا کیا انجام ہوتا ہے بعض عدم انابت کا وبال دنیا ہی میں ظاہر ہوجاتا ہے۔ اہل سبا کا قصہ بھی آیات قیامت میں سے ہے کہ حق جل شانہ نے ان کو جو سرسبز و شاداب باغات عطا کئے تھے وہ نمونہ جنت وبہشت تھے کفران نعمت کی وجہ سے نمونہ دوزخ بنا دئیے گئے ناشکری اور ناسپاسی کی سزا میں اہل سبا کی جنت (باغ) کو جہنم سے بدل دیا گیا۔
غرض یہ کہ گذشتہ آیات میں داؤد (علیہ السلام) اور سلیمان (علیہ السلام) کا حال بیان کر کے کفار کو آگاہ کردیا کہ خدا کے نیک بندے دنیا کے طالب نہیں ہوتے بلکہ مولیٰ کے طالب ہوتے ہیں اور اس کے فرمانبردار اور شکر گزار بندے ہوتے ہیں اب آئندہ آیات میں نا شکروں کا حال بیان کرتے ہیں چناچہ فرماتے ہیں تحقیق قوم سبا کے لئے ان کے مکانات میں خدا کے لطف وکرم کی عظیم نشانی موجود تھی ہر طرف راحت کا سامان تھا تکلیف کا نام ونشان نہ تھا یعنی ان کی بستی کے دائیں اور بائیں جانب باغوں کی دو مسلسل قطاریں تھیں کہ میلوں تک اسی طرح چلی گئی تھیں دو طرفہ متصل باغات چلے گئے تھے کہ ہر جانب کی قطار حکم میں ایک باغ کے تھی۔ قرب اور اتصال کی وجہ سے ہر قطار مثل ایک باغ کے معلوم ہوتی تھی۔
علامہ زمخشری (رح) فرماتے ہیں کہ ” جنتان “ کا مطلب نہیں کہ اس بستی کے یمین و شمال میں صرف دو باغ تھے۔ عراق میں بھی بہت سی ایسی بستیاں ہیں کہ جہاں صرف دو باغ نہیں بلکہ متعدد باغ ہیں صرف دو باغ کا ہونا قوم سبا کے لئے مخصوص نہیں بلکہ مطلب یہ ہے کہ اس بستی کے یمین و شمال میں باغوں کی دو قطاریں متصل اور مسلسل میلوں تک اس طرح چلی گئی تھیں کہ ایک باغ دوسرے باغ سے متصل تھا اور ہر جانب کی ایک قطار بمنزلہ ایک باغ کے معلوم ہوتی تھی غرض یہ کہ یہ خطہ خدا کی رحمت سے نہایت سرسبز اور شاداب تھا آب وہوا نہایت عمدہ تھی کیڑوں اور مکوڑوں اور مکھیوں اور مچھروں کا نام ونشان نہ تھا راستے پر امن تھے غرض یہ کہ راحت اور آرام کا اور ترقی اور تمدن کا کوئی دقیقہ باقی نہ رہا تھا اور یہ تنعم اور خوشحالی سوائے قوم سبا کے اور کسی کو حاصل نہ تھی اور اس بےمثل لطف و عنایت کے بعد انبیاء اور وارثان انبیاء کی معرفت بطور تلطف ان کو یہ حکم ہوا کہ اپنے پروردگار کے دئیے ہوئے رزق سے کھاؤ اور اس کا شکر کرو کہ اس نے بلا طلب کے اور بلا محنت اور مشقت کے تم کو کیسی کیسی نعمتیں دیں۔ کیا خوب پاکیزہ شہر ہے اور کیسا رب غفور ہے جس نے تم پر رحمتیں اور نعمتیں مبذول کیں اور تمہاری کوتاہیوں پر مواخذہ نہیں کرتا اس پر ایمان لاؤ اور اس کا شکر کرو۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف رسول بھیجے کہ ان کو حکم دیں کہ ایک اللہ کی عبادت کریں اور اس کا شکر کریں پس ان لوگوں نے اللہ کی توحید سے اور اس کی عبادت سے اور اس کے شکر سے اعراض کیا اور اس سے منہ موڑا اور بجائے شکر گذاری اور اطاعت شعاری کے عیش و عشرت اور بدکاری کی طرف متوجہ ہوگئے پس اس اعراض اور روگردانی کے سزا میں ہم نے ان پر عذاب بھیجا اور جو انعام ان پر کیا تھا وہ ان سے واپس لے لیا اور عرم بند کا سیلاب ان پر چھوڑ دیا۔ ” عرم “ دو پہاڑوں کے درمیان ایک بڑا بند تھا جہاں تمام وادیوں کا پانی روکا گیا تھا کہ دور دور تک زمین اس سے سیراب ہوتی رہے اور اس بند کے تین دروازے تھے۔ اول اوپر کے دروازے سے پانی دیتے پھر دوسرے سے اور پھر تیسرے سے جیسی اور جتنی ضرورت ہوتی۔ قہر خداوندی سے جب وہ بند ٹوٹا تو سیلاب سے وہ تمام باغات غارت ہوگئے جو پہلے اس پانی سے سیراب ہوتے تھے اور یہ بند ملکہ بلقیس نے بنایا تھا جس کو سد مارب کہتے تھے۔ اور پھر ہم نے ان دو رویہ باغوں کے بدلے میں جو عجیب و غریب فواکہ اور ثمرات پر مشتمل تھے ان کو بطور سزا ایسے دو باغ دے دئیے جن میں کوئی خیر اور خوبی نہ تھی جو ایسے تلخ اور بدمزہ تھے کہ جن کا کھانا ممکن نہ تھا اور ان میں کچھ جھاؤ کے درخت اور کچھ بیری کے جھاڑ تھے، اور یہ تبدیلی اس کفران نعمت کی جزا تھی جس کی وجہ سے انہوں نے شکر سے منہ موڑا تھا اور ہم ناشکروں کو ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں کہ پھلدار میوے کے درخت ہٹا کر پیلو اور جھاؤ اور جھڑ بیر کے درخت پیدا کر دئیے اور ناشکری کی سزا میں اپنی نعمت ان سے چھین لی۔ خواہ دیر میں یا سویر میں۔
اب آئندہ آیات میں اہل سبا کی کثرت نعمت اور ان کی عیش و عشرت کو بیان کرتے ہیں کہ کس طرح ان پر نعمت کے دروازے کھلے ہوئے تھے اور پھر وہ کس طرح ان پر بند ہوئے چناچہ فرماتے ہیں اور ہم نے اہل سبا اور ان بستیوں کے درمیان جن میں ہم نے برکت رکھی تھی ایسی بستیاں آباد کر رکھی تھیں جو سرراہ ہونے کی وجہ سے نظر آتی تھیں قریٰ مبارکہ سے سر زمین شام کی بستیاں مراد ہیں جن کی برکت سب کو معلوم ہے جو سر راہ ہونے کی وجہ سے دکھائی دیتی تھیں اور پاس پاس ہونے کی وجہ سے ایک دوسرے سے باہم ملی ہوئی تھیں کہا جاتا ہے کہ ملک سبا سے شام تک چار ہزار سات سو دیہات آباد تھے۔
اور ہم نے ان درمیانی بستیوں میں چلنے والوں کے لئے رفتار کی ایک حد اور اس کا ایک اندازہ رکھ دیا تھا کہ صبح کے وقت ایک بستی سے چلے اور قیلولہ کے وقت دوسری بستی میں پہنچ جائے اور وہاں پہنچ کر آرام سے کھا پی سکے اور ہم نے ان سے کہہ دیا کہ ان بستیوں میں راتوں اور دنوں میں جہاں چاہو بےخوف وخطر چلو پھرو۔ سو ان نعمتوں اور راحتوں کا مقتضی تو یہ تھا کہ اللہ کی شکر گذاری کرتے مگر ان کو اس عیش و آرام میں مستی سوجھی اور کہنے لگے کہ اے ہمارے پروردگار ہمارے سفروں میں دوری ڈال دے یعنی سفر کی منزلوں میں فاصلہ پیدا کر دے ایک منزل سے دوسری منزل تک پہنچنے میں مباعدت پیدا کر دے بستیوں کے متصل ہونے سے سفر کا مزہ نہیں آتا جیسے بنی اسرائیل کو من وسلویٰ میں مستی سوجھی اور بقل اور قثاء اور فوم اور عدس کی درخواست شروع کردی ایسے ہی ان کو اس آرام میں یہ مستی سوجھی اور یہ درخواست شروع کی کہ ہمارے سفروں کو دراز کر دے اور یہ درخواست کر کے انہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا آدمی کو جب نعمت خوب ملنے لگتی ہے تو اس سے اکتا جاتا ہے نتیجہ یہ ہوا کہ سب تباہ اور برباد ہوئے۔
پس ہم نے اہل سبا کو لوگوں کے لئے کہانیاں بنا دیا کہ لوگ ان کی تباہی اور بربادی کے افسانے اور قصے بیان کریں اور ان متکبرین کے ہم نے پرخچے اڑادئیے اور ان کو پارہ پارہ کردیا پورے طور پر پارہ پارہ کردینا۔ عیش و عشرت کا تمام سامان ختم ہوا اور صرف زبانی افسانہ رہ گیا۔ قوم سبا کو اللہ تعالیٰ نے دو نعمتیں عطا کی تھیں ایک مکانات اور باغات کی راحت اور خوشحالی اور ایک سفر کی راحتیں کہ منزلیں قریب قریب تھیں۔ پہلی نعمت کی ناسپاسی کی وجہ سے سیل عرم نے مکانات اور باغات کو اجاڑ دیا اور دوسری نعمت کی ناسپاسی کی وجہ سے تتر بتر کر دئیے گئے اور دور دراز پھینک دئیے گئے ایک کہیں اور دوسرا کہیں۔ بیشک اس واقعہ میں ہر سبر کرنے والے کے لئے بہت سی عبرتیں ہیں کہ خدا جب چاہتا ہے تو نعمت اور راحت کو ذلت اور مصیبت سے بدل دیتا ہے یہاں تک اللہ تعالیٰ نے اہل سبا کے کفر اور شرک اور نفس و شیطان کی پیروی کا ذکر فرمایا اب آگے شیطان کی طرف سے ان کے متعلق ایک خبر دیتے ہیں کہ شیطان نے ان کے متعلق جو گمان کیا تھا وہ سچ نکلا چناچہ فرماتے ہیں اور تحقیق شیطان نے اپنا گمان ان کے حق میں سچ پایا۔ شیطان جب بارگاہ خداوندی سے مردود ہوا تو اس نے یہ کہا تھا کہ میں اولاد آدم کے بہکانے میں کوئی دقیقہ اٹھا نہ رکھوں گا اور اس کا گمان یہ تھا کہ میں شہوت اور غصہ کی راہ سے انسان پر قابو پالوں گا یہ اس کا گمان تھا یقین نہ تھا آئندہ کا حال تو کوئی نہیں جان سکتا لیکن اس نے اپنے دل میں یہ گمان باندھا اور دنیا میں آنے کے بعد اس نے اپنے اس گمان کو اولاد آدم پر سچا پایا سو لوگوں نے اس کی پیروی کی اور اس کی راہ پر ہوئے مگر ایمان والوں کا ایک گروہ سو وہ اس کی پیروی سے بچا رہا۔
شیطان نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو جب سجدہ کرنے سے انکار کیا تو اس وقت یہ کہا۔ ارایتک ھذا الذی کر مت علی۔۔۔ الی۔۔۔ ذریتہ الا قلیلا اور یہ کہا ثم لاتینہم من بین ایدیہم ومن خلفہم وعن ایمانہم وعن شمائلہم ولا تجد اکثرہم شاکرین سو شیطان نے اپنے اس گمان کو سچا پایا اور جن لوگوں کے بارے میں ابلیس کا گمان پورا ہوا تو ابلیس کا ان لوگوں پر کچھ زور نہ تھا یعنی ابلیس نے ان کو کفر وشرک پر مجبور نہیں کیا تھا ان کے دل میں محض وسوسہ ڈالا تھا اور ظاہر نظر میں اس چیز کو ان کی نظر میں خوبصور کر کے دکھلایا تھا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ شیطان کو جو ہم نے وسوسہ ڈالنے کی قدرت عطا کی تو اس سے مقصود بندوں کا امتحان اور آزمائش ہے ہم نے حق کو براہین قاطعہ اور دلائل ساطعہ سے خوب روشن کردیا اور بندہ کو عمل صالح کرنے کی پوری قوت اور قدرت عطا کی۔ لیکن شیطان کو صرف وسوسہ ڈالنے کی قدرت عطا کی تاکہ بندوں کا امتحان کریں اور آخرت پر ایمان لانے والوں کو ایسے لوگوں سے جدا اور ممتاز کردیں جو آخرت کی طرف سے شک اور شبہ میں پڑے ہوئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کو پہلے ہی سے معلوم تھا کہ کون آخرت پر ایمان لائے گا اور کون اس کا انکار کرے گا لیکن دنیا کو اس کا علم نہ تھا اللہ نے شیطان کو وسوسہ ڈالنے کی قدرت دی تاکہ لوگوں کو معلوم ہوجائے کہ کون مومن ہے اور کون کافر ہے اور تیرا پروردگار ہر چیز کا نگہبان ہے وہاں تک کسی کی رسائی نہیں۔
Ayahs 34:22–27اثبات توحید وتوبیخ وتجہیل مشرکین
قال اللہ تعالیٰ قل ادعوا الذین زعمتم من دون اللہ۔۔۔ الی۔۔۔ بل ھو اللہ العزیز الحکیم۔
(ربط) شروع سورت میں تحمید اور دلائل توحید کا ذکر فرمایا اور پھر داؤد اور سلیمان (علیہما السلام) پر اپنے انعامات کا اور ان کی شکر گذاری کا ذکر کیا اور بعد ازاں اہل سبا کا قصہ ذکر کیا کہ خدا تعالیٰ نے ان کو بڑی نعمتیں عطا کی تھیں مگر کفر اور شرک اور کفران نعمت کی وجہ سے ان کی عزت و راحت مبدل بہ ذلت و مصیبت ہوگئی۔ پس جب شاکرین اور کافرین کا حال بیان ہوچکا تو اب ان آیات میں مشرکین کی توبیخ اور تجہیل فرماتے ہیں کہ کیسے نادان ہیں کہ جن بتوں میں ذرہ برابر قدرت نہیں ان کو خدا اور معبود اور منعم حقیقی کا شریک بنائے ہوئے ہیں۔ (شیخزادہ ص 89 ج 4)
غرض یہ کہ اس سے پہلے جو قوم سبا کا قصہ ذکر فرمایا اس سے مقصود مشرکین کی تنبیہ تھی اب آگے پھر مشرکین کو خطاب فرماتے ہیں کہ آڑے وقت میں سوائے خدا کے کوئی کام نہیں آتا۔
چناچہ فرماتے ہیں اے نبی آپ ان مشرکین سے جن کی عبرت اور نصیحت کے لئے قوم سبا کا قصہ بیان کیا گیا یہ کہہ دیجئے کہ جن کو تم خدا کے سوا معبود گمان کئے ہوئے ہو اپنی کسی حاجت کے لئے ذرا ان کو پکارو تو سہی اور دیکھو کہ یہ کسی بات کا جواب بھی دے سکتے ہیں اور تمہارے کام آسکتے ہیں یا نہیں قوم سبا کے لوگ کافر اور مشرک تھے خدا کے قہر سے ان کو ان کا کوئی معبود نہ بچا سکا جن کو تم معبود گمان کرتے ہو یہ ذرہ برابر بھی آسمان اور زمین میں کسی چیز کے مالک نہیں اور جو چیزیں آسمان و زمین سے باہر ہیں ان کی ملکیت کا تو تصور بھی نہیں ہوسکتا پس جب کسی چیز کی ملکیت ہی نہیں رکھتے تو الوہیت کہاں سے رکھیں گے اور نہ ان میں سے زمین و آسمان کی تخلیق وتدبیر میں کوئی خدا تعالیٰ کا شریک ہے کہ اس کی بھی زمین و آسمان کی تخلیق میں کوئی شرکت ہو اور نہ ان میں سے کوئی خدا کا معین اور مددگار ہے تو ایسے خیالی اور فرضی معبود تمہارے کیا کام آسکتے ہیں۔ لہٰذا اس کو معبود بنانا اور حاجت روائی کے لئے ان کو پکارنا ” ایں خیال است ومحال است وجنوں “۔ کا مصداق ہے اور اگر ان مشرکین کا یہ گمان ہے کہ اگرچہ ہمارے معبود کسی چیز کے مالک نہ ہوں مگر عند اللہ یہ ہمارے شفعاء ہیں یعنی سفارشی ہیں ان کی سفارش ہم کو نفع پہنچا سکتی ہے تو مشرکین کا یہ گمان بھی غلط ہے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک کسی کے لئے شفاعت اور سفارش اور درخواست کی اجازت نہیں مگر جس کے لئے خدا تعالیٰ شفاعت کرنے کی اجازت دیں۔ بغیر اس کی اجازت کے وہاں کسی کو دم مارنے کی مجال نہیں وہاں تو کسی کو سفارش کرنے کا بھی اختیار نہیں۔ مستقل خود مختار ہونے کا تو تصور بھی نہیں ہوسکتا۔
غرض یہ کہ مشرکین جن کو ھولاء شفعاء نا عند اللہ کہتے ہیں وہ بذات خودان کے کام نہیں آسکتے اور نہ بزور خدا سے کہہ کر ان کا کوئی کام کرا سکتے ہیں قیامت کے روز تمام اہل محشر مضطرب اور پریشان یعنی خوفزدہ اور گھبرائے ہوئے ہوں گے کہ دیکھئے کیا حکم ہوتا ہے شفاعت کی اجازت ہوتی ہے یا نہیں اسی اضطراب اور پریشانی کی حالت میں حکم کے منتظر ہوں گے کہ دیکھئے بارگاہ رب العزت سے کیا حکم ہوتا ہے اور اسی انتظار میں رہیں گے۔
یہاں تک کہ جب ان کے دلوں سے اضطراب اور پریشانی دور کردی جائے گی اور ان کو شفاعت کی اجازت دے دیں گے اور وہ اپنی اصلی حالت پر آجائیں گے تو باہم ایک دوسرے سے کہیں گے کہ شفاعت کے بارے میں تمہارے پروردگار نے کیا فرمایا اور کیا حکم دیا تو ملا اعلیٰ کے فرشتے جواب میں کہیں گے کہ اللہ نے نہایت حق اور درست حکم دیا ہے جو شفاعت کے مستحق ہیں ان کے لئے شفاعت کی اجازت دی ہے یعنی صرف اہل ایمان کے لئے شفاعت کی اجازت ہوئی ہے جن کے دل کفر اور شرک سے پاک ہیں۔ کافروں کے لئے شفاعت کی اجازت نہیں ہوئی یہ حکم ہوا ہے کہ مومنوں کی شفاعت کرو نہ کہ کافروں کی۔ اس لئے ہم کفار اور مشرکین کی شفاعت نہیں کرسکتے کافروں کے لئے شفاعت ممنوع اور بیکار ہے بتوں کو تو کچھ اختیار ہی نہیں اور فرشتے جن کی مورتیں بنا کر یہ ان کو پوجتے ہیں وہ فرشتے بھی بغیر خدا کی اجازت کے کسی کی شفاعت نہیں کرسکتے۔ لہٰذا فرشتوں کی شفاعت سے بھی ان کو فائدہ نہ ہوگا اور وہی ہے سب سے بلند اور برتر اس دن کسی ملک مقرب اور نبی مرسل کی یہ مجال نہیں کہ بغیر اس کی اجازت کے اس کی بارگاہ عالی میں لب کشائی کرسکے اور اس کی اجازت کے بغیر سفارش کرسکے اس کی عظمت اور ہیبت کی کوئی انتہا نہیں وہ جو چاہے اپنے بندوں میں حکم جاری کرے۔
قیامت کے دن آنحضرت ﷺ کو شفاعت کبریٰ کی اجازت ہوگی اس کے بعد انبیاء اور صلحاء اور ملائکہ کو مختلف قسم کی شفاعت کی اجازت ہوگی جو بھی شفاعت ہوگی وہ خدا کی اجازت سے ہوگی بالآخر گنہگار مسلمانوں کے حق میں شفاعت کی اجازت ہوگی اور جس کے دل میں کچھ بھی ایمان ہوگا وہ انبیاء اور ملائکہ کی شفاعت سے جہنم سے نکال لیا جائے گا اور جو کفرو شرک میں مبتلا رہے ان کے لئے اجازت نہ ہوگی۔
خلاصہ کلام یہ کہ بتوں میں تو شفاعت کی صلاحیت ہی نہیں۔ رہے فرشتے سو وہ بغیر اذن خداوندی کے شفاعت نہیں کرسکتے۔
فائدہ : اس رکوع میں سات قل مذکور ہیں اور اس کے بعد آخر سورت میں پانچ قل مذکور ہیں گویا کہ یہ سورت قلہا ہے۔
حضرت شاہ ولی اللہ قدس اللہ سرہ فتح الرحمن میں لکھتے ہیں۔ ” وسود نکند درخواست نزدیک اللہ تعالیٰ مگر برائے کسی کہ دستوری دادہ باشد برائے او اہل محشر مضطرب شوند تا آنگاہ کہ اضطراب دور کردہ آید از دل ایشاں گویند چہ فرمودہ است پروردگار شما ملا اعلیٰ گویند کہ فرمودہ است سخن راست (یعنی اذن شفاعت داد) اوست بلند مرتبہ بزرگ قدر “ انتہٰی۔
اور شاہ عبد العزیز قدس اللہ سرہ فرماتے ہیں۔ ” سود نکند درخواست نزدیک اللہ تعالیٰ مگر برائے کسی کہ دستوری داوہ باشد برائے او۔ اہل محشر مضطرب شوند تا آنگاہ کہ اضطراب دور کردہ آیداز دل ایشاں گوبند چہ چیز فرمودہ است پروردگار شما ملا اعلیٰ گویند فرمودہ است سخن راست یعنی اذن شفاعت داد واوست بلند مرتبہ بزرگ قدر “ انتہی الکلام۔
حاصل کلام یہ کہ اس آیت میں قیامت کے دن کے ایک واقعہ کا ذکر ہے اور حتی اذا فزع عن قلوبہم۔ کی ضمیر اہل محشر کی طرف راجع ہے جیسا کہ سورة نباء کی یہ آیت یوم یقوم الروح والملئکۃ صفا لا یتکلمون الا من اذن لہ الرحمن وقال صوابا۔ اس پر دلالت کرتی ہے کہ یہ واقعہ قیامت کے دن پیش آئے گا اور اس آیت میں تقدیر کلام اس طرح ہے۔ لا تنفع الشفاعۃ عندہ یوم القیمۃ الا لمن اذن لہ ففزع ماورد علی القلوب من المھابۃ اذا ذھب الفزع عن قلوبہم سال بعضہم بعضا۔ دیکھو صاوی حاشیہ جلالین ص 299 ج 3۔
اور بعض علماء یہ کہتے ہیں کہ آیت میں جس حکم کا ذکر ہے وہ آخرت کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ دنیا سے بھی متعلق ہے جیسا کہ احادیث کثیرہ سے معلوم اور مفہوم ہوتا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ اس آیت سے مقصود اللہ تعالیٰ کے مقام عظمت و رفعت کو بیان کرنا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ فرشتوں کو کوئی حکم دیتا ہے اور ان سے کلام کرتا ہے تو فرشتے اللہ کا کلام سن کر ہیبت کے مارے تھرا اٹھتے ہیں اور گھبرا جاتے ہیں اور ان پر ایک غشی کی سی کیفیت طاری ہوجاتی ہے پھر جب وہ گھبراہٹ دور ہوجاتی ہے تو بعض بعض سے پوچھتے ہیں کہ تمہارے رب نے کیا فرمایا تو حاملان عرش اور ملا اعلیٰ کے فرشتے اپنے سے نیچے والے فرشتوں کو خبر دیتے ہیں کہ اللہ نے جو حکم دیا ہے وہ حق اور بجا اور درست ہے اور حتی اذا فزع عن قلوبہم۔ کی ضمیر فرشتوں کی طرف راجع ہے اور فزع سے اس خوف اور ہیبت کا دور ہونا مراد ہے کہ جو فرشتوں کو کلام الٰہی اور حکم خداوندی کے سننے کے وقت لا حق ہوتی ہے۔
دیکھو حاشیہ (ف 1) صادی علی تفسیر الجلالین ص 299 ج 3 وحاشیہ شیخزادہ علی تفسیر البیضاوی ص 88 ج 4۔
پس جب ملائکہ مقربین کی یہ حالت ہے تو مشرکین بتوں سے کیا امید رکھتے ہیں اور آیت کی یہ دوسری تفسیر عبد اللہ بن مسعود ؓ اور مسروق (رح) سے منقول ہے اور اسی کو ابن جریر ؓ اور ابن کثیر (رح) نے اختیار کیا ہے۔ اور حافظ عسقلانی (رح) نے فتح الباری ص 381 ج 13 کتاب التوحید باب قول اللہ تعالی۔ ولا تنفع الشفاعۃ عندہ الا لمن اذن لہ میں اسی قول کو اختیار کیا ہے اور آیت کی تفسیر میں راجح قول بھی یہی ہے اور قلوبہم کی ضمیر ملائکہ کی طرف راجع ہے اور فزع سے اس خوف اور دہشت اور گھبراہٹ کا دور ہونا مراد ہے جو فرشتوں پر کلام الٰہی کے سماع کے وقت طاری ہوتی ہے اور باقی اقوال جو آیت کی تفسیر میں وارد ہوتے ہیں وہ ان احادیث صحیحہ مذکور کے خلاف ہیں۔
لیکن اس ناچیز اور ہیچمداں کے نزدیک سب سے زیادہ راجح قول اول ہے جس کو حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی (رح) اور حضرت شاہ عبد العزیز (رح) نے اختیار فرمایا کہ یہ آیت واقعہ آخرت سے متعلق ہے اس لئے کہ آیت کے سیاق وسباق کے زیادہ مناسب یہی ہے کہ اس کو آخرت و قیامت کا واقعہ قرار جائے کیونکہ اس آیت کا تمام سیاق وسباق مشرکین کے اس قول کی تکذیب وتردید میں ہے جو یہ کہتے تھے۔ قالوا ھؤلاء شفعاء نا عند اللہ۔
1 قال الصاوی اختلف (المذکور فی الایۃ) ھل ھذا الامر فی الاخرۃ اوالدنیا فقیل فی الاخرۃ ویؤیدہ ما فی سورة النباء۔ یوم یقوم الروح والملئکۃ صفالا یتکلمون الا من اذن لہ الرحمن وقال صوابا وعلی ھذا فیکون فی الکلام حذف والتقدیر لا تنفع الشفاعۃ عندہ یوم القیامۃ الا لمن اذن لہ ففزع ماورد علی القلوب من المہابۃ حتی اذا ذھب الفزع عن قلوبہم سال بعضہم بعض وقیل فی الدنیا ویؤیدہ ما ورد عن النبی ﷺ ان اللہ تعالیٰ اذا اراد ان یوحی یامر وتکلم بالوحی اخذت السموت والارض منہ رجفۃ اور عدۃ شیدیدۃ خوفا من اللہ تعالیٰ فاذا سمع اھل السموت ذلک صعقوا وخروا للہ سجدا فیکون اول من یرفع راسہ جبریل فیکلمہ اللہ تعالیٰ ویقول لہ من وجیہ ما اراد ثم یمر جبریل بالملائکۃ کلمام بسماء سالہ ملائکتھا ما ذا قال ربنا یا جبریل فیقول جبریل قال الحق وھو العلی الکبیر قال فیقول کلہم کما قال جبریل فینتہی جبریل بالوحی حیث امرہ اللہ تعالیٰ الی اخر ما قال کذا فی حاشیہ الصاوی علی تفسیر الجلالین ص 299 ج 3 وھکذا قال ابن الشیخ فی حاشیتہ علی تفسیر حیث۔ وقیل انما یریحون من غشیۃ تصیبہم عند سماع کلام اللہ تعالیٰ لماروی ابو ہریرۃ عنہ (علیہ السلام) انہ قال اذا قضی اللہ الامر فی السماء ضربت الملائکۃ باجنح تھا ھسا لقولہ کانہ سلسلۃ علی صفوان فاذا فزع عن قلوبہم قالوا ما ذا قال ربکم قالوا الحق ثم ذکر ابن الشیخ الحدیث الذی ذکرہ الصاوی) (حاشیہ شیخزادہ علی تفسیر البیضاوی ص 90 ج 4 ) ۔
اور اس کے جواب میں حق جل شانہ کا یہ ارشاد لا تنفع الشفاعۃ عندہ الا لمن اذن لہ دوسری آیتوں سے ملتا جلتا ہے۔ کما قال تعالیٰ من ذا الذی یشفع عندہ الا باذنہ وقال تعالیٰ وکم من ملک فی السموت لا تغنی شفاعتہم شیئا الا من بعد ان یاذن اللہ لمن یشاء ویرضی۔ وقال تعالیٰ ولا یشفعون الا من ارتضی وھم من خشیۃ مشفقون۔
آیت میں اصل مقصود آخرت کا واقعہ بیان کرنا ہے لیکن آیت اپنے ظاہری الفاظ اور ظاہری مدلول کے اعتبار سے عام ہے دنیا اور آخرت دونوں کی متحمل ہے دونوں معنی کی اس میں گنجائش ہے۔ پس جن احادیث میں وحی کے وقت فرشتوں کا ہیبت زدہ ہونا مذکور ہے وہ اس عموم کا ایک فرد ہے اس کے منافی اور مخالف نہیں دیکھو حاشیہ (ف 1) صاوی علی تفسیر الجلالین ص 299 ج 3 و تفسیر مظہری ص 26 ج 8۔
نکتہ : ملائکہ مقربین۔ سوال کرنے والے فرشتوں کے جواب میں اجمالا اتنا کہہ دیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جو حکم دیا ہے وہ حق اور درست ہے اور اس کی تفصیل اور تصریح نہیں کرتے وجہ اس کی یہ ہے کہ ان کی غرض اور ان کا مقصود اس جواب سے ان کے خوف اور گھبراہٹ کو دور کرنا ہے کہ تم گھبراؤ مت۔ اس لئے ملائکہ مقربین اس اجمال پر اکتفا کرتے ہیں اور حکم کی تفصیل نہیں بتلاتے۔ واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم۔ گذشتہ آیات میں مشرکین سے بطور تبکیت وتوبیخ ایک سوال کا حکم تھا اب آئندہ آیات میں مشرکین سے ایک دوسری توبیخ وتبکیت کے سوال کا حکم ہے۔ قل من یرزقکم من السموت والارض قل اللہ الخ بل ھو اللہ العزیز الحکیم۔
1 علامہ صاوی (رح) نے حاشیہ جلالین میں اول دو قول نقل کیے ہیں (جن کا ذکر کرچکے ہیں) پھر اخیر میں فرماتے ہیں فتحصل ان الفزع علی القول بانہ فی الاخرۃ یکون من جمیع الخلق وعلی القول بانہ فی الدنیا والاخرۃ فرد اللہ علیہم بھذہ الایۃ الشامنۃ للامرین فتدبر۔ انتہی کلامہ ص 299 ج 3 اور علی ھذا قاضی ثناء اللہ نے اپنی تفسیر میں قول اول کو اختیار فرمایا اور اس کو ذکر کر کے دوسرے قول کو اس عنوان سے ذکر کیا۔ قلت وکذلک یاخذہم الخشیۃ کلما قضی اللہ امرا کما روی البخاری اذا قضی اللہ الامر فی السماء ضربت الملائکۃ باجنح تھا اسی عموم کی طرف مشیر معلوم ہوتا ہے واللہ سبحانہ وتعالی اعلم اور حافظ ابن کثیر (رح) کا احادیث کو نقل کر کے آخر میں یہ فرمانا ولا شک ان ھذا اولی ما دخل فی ھذہ الایۃ ص 537 ج 3 بھی اسی عموم کی طرف مشیر معلوم ہوتا ہے۔
اے نبی ﷺ آپ ان سے سوال کیجئے۔ اچھا بتلاؤ کہ تم کو روزی کون دیتا ہے آسمانوں سے کون تمہارے لئے مینہ برساتا ہے اور زمین سے کون تمہارے لئے سبزہ اگاتا ہے۔ آپ کہہ دیجئے کہ اللہ ہی روزی دیتا ہے۔ روزی کے جس قدر آسمانی یا زمینی اسباب ہیں وہ سب اسی کے ہاتھ میں ہیں اس سوال کا جواب اس کے سوا کچھ نہیں اگرچہ کافر الزام کے ڈر سے زبان سے اس کا اقرار نہ کریں اور ان سے یہ بھی کہہ دیجئے کہ اس مسئلہ توحید میں تحقیق ہم یا تم میں سے ایک فریق یا تو صریح ہدایت پر ہیں یا کھلی گمراہی میں ہیں یہ تو ممکن نہیں کہ دونوں حق پر ہوں۔ اہل توحید اور اہل شرک دونوں حق پر ہوں یا دونوں غلطی پر ہوں۔ لامحالہ ایک حق پر ہوگا وہ ہدایت یافتہ ہوگا اور دوسرا باطل پر ہوگا اور وہ گمراہ ہوگا اور دلائل سے توحید کا حق ہونا روز روشن کی طرح واضح ہے۔
لہٰذا اب آپ ﷺ ان سے یہ کہہ دیجئے کہ جب شرک کا باطل ہونا اور مشرک کا مجرم ہونا ثابت ہوگیا تو سن لو کہ قیامت کے دن تم سے ہمارے جرائم کی باز پرس نہ ہوگی اور ہم سے تمہارے اعمال کے متعلق باز پرس نہ ہوگی۔ ہر ایک اپنے اپنے عمل کا ذمہ دار ہوگا۔ اور کہہ دیجئے کہ قیامت کے دن ہمارا پروردگار ہم سب کو جمع کرے گا پھر ہمارے اور تمہارے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کرے گا اور وہی ٹھیک ٹھیک فیصلہ کرنے والا اور سب کچھ جاننے والا ہے کوئی چیز اس سے پوشیدہ نہیں اور اس کے فیصلہ میں غلطی کا امکان نہیں۔ یہاں تک مشرکین کے شبہات کے جوابات سے فراغت ہوئی۔ اب بطور زجرو توبیخ فرماتے ہیں۔ اے نبی آپ ﷺ ان مشرکین سے کہئے کہ اچھا جن کو تم نے خدا کا شریک ٹھہرا کر خدا کے ساتھ ملا رکھا ہے۔ ذرا مجھے یہ بھی تو دکھاؤ کہ وہ کہاں ہیں اور کیسے ہیں۔ ہرگز کوئی خدا کا شریک نہیں بلکہ وہ معبود برحق صرف ایک اللہ ہے جو غالب ہے اور حکمت والا ہے جس کے سامنے کسی کو دم مارنے کی مجال نہیں اور اس کے احکام کی حکمت کی کوئی حد نہیں اور عزیز و حکیم کا شریک بنانا تمہاری صریح غلطی اور سینہ زوری ہے۔