34. Surah Saba

سبإSheba · 54 ayahsمعارف القرآن

Ayahs 34:28–33

وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا كَآفَّةً لِّلنَّاسِ بَشِیْرًا وَّ نَذِیْرًا وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 34:28 in the Quran reader

اور (اے محمد ﷺ ہم نے تم کو تمام لوگوں کے لئے خوشخبری سنانے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 34:29 in the Quran reader

اور کہتے ہیں اگر تم سچے ہو تو یہ (قیامت کا) وعدہ کب وقوع میں آئے گا ؟

قُلْ لَّكُمْ مِّیْعَادُ یَوْمٍ لَّا تَسْتَاْخِرُوْنَ عَنْهُ سَاعَةً وَّ لَا تَسْتَقْدِمُوْنَ۠ Open ayah 34:30 in the Quran reader

کہہ دو کہ تم سے ایک دن کا وعدہ ہے جس سے نہ ایک گھڑی پیچھے رہو گے نہ آگے بڑھو گے

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ بِهٰذَا الْقُرْاٰنِ وَ لَا بِالَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْهِ١ؕ وَ لَوْ تَرٰۤى اِذِ الظّٰلِمُوْنَ مَوْقُوْفُوْنَ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ۖۚ یَرْجِعُ بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضِ اِ۟لْقَوْلَ١ۚ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا لِلَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْا لَوْ لَاۤ اَنْتُمْ لَكُنَّا مُؤْمِنِیْنَ Open ayah 34:31 in the Quran reader

اور جو کافر ہیں وہ کہتے ہیں کہ ہم نہ تو اس قرآن کو مانیں گے اور نہ ان (کتابوں) کو جو اس سے پہلے کی ہیں اور کاش (ان) ظالموں کو تم اس وقت دیکھو جب یہ اپنے پروردگار کے سامنے کھڑے ہوں گے اور ایک دوسرے کو ردوکد کر رہے ہوں گے جو لوگ کمزور سمجھے جاتے تھے وہ بڑے لوگوں سے کہیں گے کہ اگر تم نہ ہوتے تو ہم ضرور مومن ہوجاتے

قَالَ الَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْا لِلَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْۤا اَنَحْنُ صَدَدْنٰكُمْ عَنِ الْهُدٰى بَعْدَ اِذْ جَآءَكُمْ بَلْ كُنْتُمْ مُّجْرِمِیْنَ Open ayah 34:32 in the Quran reader

بڑے لوگ کمزوروں سے کہیں گے کہ بھلا ہم نے تم کو ہدایت سے جب وہ تمہارے پاس آچکی تھی روکا تھا ؟ (نہیں) بلکہ تم ہی گنہگار تھے

وَ قَالَ الَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا لِلَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْا بَلْ مَكْرُ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ اِذْ تَاْمُرُوْنَنَاۤ اَنْ نَّكْفُرَ بِاللّٰهِ وَ نَجْعَلَ لَهٗۤ اَنْدَادًا١ؕ وَ اَسَرُّوا النَّدَامَةَ لَمَّا رَاَوُا الْعَذَابَ١ؕ وَ جَعَلْنَا الْاَغْلٰلَ فِیْۤ اَعْنَاقِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ هَلْ یُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 34:33 in the Quran reader

اور کمزور لوگ بڑے لوگوں سے کہیں گے (نہیں) بلکہ (تمہاری) رات دن کی چالوں نے (ہمیں روک رکھا تھا) جب تم ہم سے کہتے تھے کہ ہم خدا سے کفر کریں اور اس کا شریک بنائیں اور جب وہ عذاب دیکھیں گے تو دل میں پشیمان ہوں گے اور ہم کافروں کی گردنوں میں طوق ڈال دیں گے بس جو عمل وہ کرتے تھے انہی کا ان کو بدلہ ملے گا

اثبات رسالت محمدیہ وعموم بعثت و اثبات قیامت قال اللہ تعالی۔ وما ارسلنک الا کافۃ للناس۔۔۔ الی۔۔۔ اھل یجزون الا ما کانوا یعملون۔ (ربط) اوپر کی آیات میں اللہ تعالیٰ کی الوہیت اور اس کی رازقیت کا ذکر تھا اب آگے رسالت محمد یہ کا مضمون ذکر کرتے ہیں اور یہ بتلاتے ہیں کہ آپ ﷺ کی بعثت فقط عرب کے لئے مخصوص نہیں بلکہ آپ ﷺ کی بعثت تمام عالم کے لئے ہے۔ انبیاء سابقین کی طرح کسی قوم کے ساتھ مخصوص نہیں اور یہ بتلاتے ہیں کہ بعثت سے مقصود ہی توحید اور تذکیر آخرت ہے اس لئے آئندہ آیات میں منکرین واحدانیت اور منکرین رسالت اور منکرین قیامت کا حال اور مآل بیان کرتے ہیں۔ (حاشیہ شیخزادہ علی تفسیر البیضاوی ص 92 ج 4) آئندہ آیات میں اول رسالت عامہ کا اعلان فرمایا اور پھر منکرین قیامت کا رد فرمایا۔ نیز گزشتہ آیات میں رزق حسی کا ذکر تھا اور ان آیات میں رزق معنوی کا ذکر ہے اس لئے کہ جو ہدایت نبی کے واسطے سے لوگوں کو پہنچی وہ اللہ کا رزق معنوی ہے اور ان کی روحانی اور ابدی حیات کا سامان ہے گذشتہ کتابوں میں تحریف ہوگئی مگر یہ قرآن ابدی حیات کا سامان ہے قیامت تک اسی شان کے ساتھ محفوظ رہے گا چناچہ فرماتے ہیں اور اے نبی ہم عزیز اور حکیم ہیں ہمارا کوئی کام حکمت سے خالی نہیں ہم نے آپ کو تمام آدمیوں کی طرف رسول بنا کر بھیجا ہے نہ کہ کسی خاص قوم اور خاص حصہ ملک کی طرف۔ جب کہ آپ ﷺ سے پہلے دیگر انبیا کرام کو خاص خاص قوموں اور خاص خاص مقامات کی طرف بھیجا گیا اور یہ فضیلت خاص آنحضرت ﷺ کی ہے کہ آپ ﷺ تمام جن اور انس اور عرب اور عجم سب کی طرف مبعوث ہوئے۔ ترا و ادند منشور سعادت وزاں پس نوع انساں آفرید ند پری راجملہ درخیل تو کردند پس آنگا ہے سلیماں آفریدند ایمان لانے پر ہماری رضا اور ثواب کی خوشخبری دینے والا اور ایمان نہ لانے پر ہمارے غضب اور قہر سے ڈرانے والا لیکن اکثر لوگ جانتے اور سمجھتے نہیں جانوروں کی طرح بےعقل ہیں ثواب اور عقاب کو نہیں سمجھتے اور جہالت کی حالت یہ ہے کہ یہ لوگ جب آپ ﷺ سے ثواب اور عقاب اور قیامت کا ذکر سنتے ہیں تو بطور تمسخر آپ ﷺ کو جھوٹا ثابت کرنے کے لئے یہ کہتے ہیں کہ یہ ثواب اور عذاب یا قیامت کا وعدہ کب پورا ہوگا ہمیں اس کا وقت بتلاؤ اگر تم سچے ہو آپ ان کے جواب میں کہہ دیجئے کہ تم سے ایک خاص دن کا پختہ وعدہ ہے جس کو اللہ نے کسی حکمت سے پوشیدہ رکھا ہے مگر اس کے علم میں معین ہے اس دن سے تم نہ ایک گھڑی پیچھے رہو گے اور نہ آگے بڑھو گے۔ ایک لمحہ کی اس میں تقدیم وتاخیر نہ ہوگی۔ جمہور علما کے نزدیک اس سے یوم قیامت مراد ہے اور بعض علما کہتے ہیں کہ موت کا وقت مراد ہے اللہ نے نہ کسی کو کسی کی موت کا وقت بتلایا اور نہ قیامت کا وقت بتلایا۔ اللہ نے کسی حکمت سے قیامت اور موت کے وقت کو پوشیدہ رکھا ہے خوب سمجھ لو کہ قیامت کا انکار اور حساب و کتاب سے بےفکری یہی کفر کی جڑ ہے۔ اب آئندہ آیات میں کفار کے عناد کو بیان کرتے ہیں کہ ان کو قیامت کے انکار پر کس درجہ اصرار ہے چناچہ فرماتے اور جو لوگ کافر بنے ہیں جب وہ اس قسم کی آیتیں قل یجمع بیننا ربنا ثم یفتح بیننا بالحق سنتے ہیں وہ یہ کہتے ہیں کہ ہم ہرگز اس قرآن پر ایمان نہیں لائیں گے جو آخرت اور قیامت کی باتیں بیان کرتا ہے اور نہ اس کتاب پر ایمان لائیں گے جو قرآن سے پہلے موجود ہے جن میں جنت اور جہنم کا ذکر ہے کافروں کی یہ ساری زورا زوری اور شورا شوری دنیا ہی میں ہے وہاں جا کر یہ سب باتیں ختم ہوجائیں گی۔ اور کاش آپ اس وقت کی حالت کو دیکھتے کہ جب یہ ظالم اپنے رب کے سامنے کھڑے کئے جائیں گے تو اس وقت ان پر ایک سخت خوف کی کیفیت طاری ہوگی کہ آپ میں سوال و جواب کریں گے اور ایک دوسرے پر بات ڈالے گا جب کام بگڑ جاتا ہے تو ایک دوسرے پر الزام رکھتا ہے اس وقت کمزور متکبرین سے کہیں گے کہ تم ہماری بربادی اور تباہی کا سبب بنے اگر تم منحوس نہ ہوتے تو ہم مسلمان ہوجاتے اور متکبرین یعنی کفر کے سردار کمزوروں سے جو ان کے پیرو بنے ہوئے تھے جواب میں یہ کہیں گے کہ کیا ہم نے تم کو زبردستی ہدایت سے روکا تھا جب کہ ہدایت تمہارے پاس پہنچ گئی تھی اور حق تم پر واضح ہوگیا تھا ہرگز نہیں بلکہ تم خود ہی مجرم بنے اپنے اختیار سے تم نے حق کو ٹھکرایا ہم نے تم کو مجبور نہیں کیا بلکہ ظاہر میں بہکایا اور پھسلایا تھا اپنے خود کردہ کا الزام ہمارے سر کیوں لگاتے ہو اور اس کے جواب میں کمزور اپنے سرکشوں سے یہ کہیں گے بیشک تم نے ہم کو مجبور نہیں کیا بلکہ دن رات کی تمہاری مکاریوں اور چالاکیوں نے ہم کو ہدایت سے باز رکھا کہ تم دن رات ہم کو یہی حکم دیتے تھے کہ ہم اللہ کو نہ مانیں اور اس کے لئے شریک اور ہمسر ٹھہرائیں اور دن رات تم ہم سے یہی کہتے تھے کہ یہ دنیا ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ اسی طرح رہے گی۔ مر کر خاک ہوجائیں گے نہ ثواب اور نہ عذاب جو کچھ کرنا ہے اس کے لئے کرلو آخرت کا نام نہ لو اور دونوں گروہ اس کہنے سننے کے بعد پشیمان ہوں گے اور جب عذاب کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے تو شماتت سے بچنے کے لئے اپنی پشیمانی کو ایک دوسرے سے چھپائیں گے اور ہم ان سب کافروں کی گردنوں میں طوق ڈال دیں گے تاکہ ایک دوسرے کو اچھی طرح دیکھ لیں اور پھر سب کو ایک دوسرے کے روبرو ایک ساتھ جہنم میں جھونک دیں گے۔ اور نہیں سزا ئیے جائیں گے مگر ان کے اعمال کے مطابق ہر ایک کو اس کے عمل کے مطابق سزا ملے گی جس درجہ کا کفر اور مکر ہوگا اسی درجہ کی سزا ہوگی اور عذر کی کسی کو گنجائش نہ ہوگی۔
Ayahs 34:34–45

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا فِیْ قَرْیَةٍ مِّنْ نَّذِیْرٍ اِلَّا قَالَ مُتْرَفُوْهَاۤ١ۙ اِنَّا بِمَاۤ اُرْسِلْتُمْ بِهٖ كٰفِرُوْنَ Open ayah 34:34 in the Quran reader

اور ہم نے کسی بستی میں کوئی ڈرانے والا نہیں بھیجا مگر وہاں کے خوشحال لوگوں نے کہا کہ جو چیز دے کر تم بھیجے گئے ہو ہم اسکے قائل نہیں

وَ قَالُوْا نَحْنُ اَكْثَرُ اَمْوَالًا وَّ اَوْلَادًا١ۙ وَّ مَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِیْنَ Open ayah 34:35 in the Quran reader

اور (یہ بھی) کہنے لگے کہ ہم بہت سا مال اور اولاد رکھتے ہیں اور ہم کو عذاب نہیں ہوگا

قُلْ اِنَّ رَبِّیْ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 34:36 in the Quran reader

کہہ دو کہ میرا رب جس کے لئے چاہتا ہے روزی فراخ کردیتا ہے اور (جس کے لئے چاہتا ہے تنگ) کردیتا ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے

وَ مَاۤ اَمْوَالُكُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُكُمْ بِالَّتِیْ تُقَرِّبُكُمْ عِنْدَنَا زُلْفٰۤى اِلَّا مَنْ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا١٘ فَاُولٰٓئِكَ لَهُمْ جَزَآءُ الضِّعْفِ بِمَا عَمِلُوْا وَ هُمْ فِی الْغُرُفٰتِ اٰمِنُوْنَ Open ayah 34:37 in the Quran reader

اور تمہارا مال اور اولاد ایسی چیز نہیں کہ تم کو ہمارا مقرب بنادیں ہاں (ہمارا مقرب وہ ہے) جو ایمان لایا اور عمل نیک کرتا رہا ایسے ہی لوگوں کو ان کے اعمال کے سبب دگنا بدلا ملے گا اور وہ خاطر جمع سے بالا خانوں میں بیٹھے ہوں گے

وَ الَّذِیْنَ یَسْعَوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِنَا مُعٰجِزِیْنَ اُولٰٓئِكَ فِی الْعَذَابِ مُحْضَرُوْنَ Open ayah 34:38 in the Quran reader

اور جو لوگ ہماری آیتوں میں کوشش کرتے ہیں کہ ہمیں ہرا دیں وہ عذاب میں حاضر کئے جائیں گے

قُلْ اِنَّ رَبِّیْ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ وَ یَقْدِرُ لَهٗ١ؕ وَ مَاۤ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ شَیْءٍ فَهُوَ یُخْلِفُهٗ١ۚ وَ هُوَ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ Open ayah 34:39 in the Quran reader

کہہ دو کہ میرا پروردگار اپنے بندوں میں سے جس کے لئے چاہتا ہے روزی فراخ کردیتا ہے اور (جس کے لئے چاہتا ہے) تنگ کردیتا ہے اور تم جو چیز خرچ کرو گے وہ اس کا (تمہیں) عوض دے گا اور وہ سب سے بہتر رزق دینے والا ہے

وَ یَوْمَ یَحْشُرُهُمْ جَمِیْعًا ثُمَّ یَقُوْلُ لِلْمَلٰٓئِكَةِ اَهٰۤؤُلَآءِ اِیَّاكُمْ كَانُوْا یَعْبُدُوْنَ Open ayah 34:40 in the Quran reader

اور جس دن وہ ان سب کو جمع کرے گا پھر فرشتوں سے فرمائے گا کیا یہ لوگ تم کو پوجا کرتے تھے ؟

قَالُوْا سُبْحٰنَكَ اَنْتَ وَلِیُّنَا مِنْ دُوْنِهِمْ١ۚ بَلْ كَانُوْا یَعْبُدُوْنَ الْجِنَّ١ۚ اَكْثَرُهُمْ بِهِمْ مُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 34:41 in the Quran reader

وہ کہیں گے تو پاک ہے تو ہی ہمارا دوست ہے نہ یہ بلکہ یہ جنات کو پوجا کرتے تھے ؟ اور اکثر انہی کو مانتے تھے

فَالْیَوْمَ لَا یَمْلِكُ بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ نَّفْعًا وَّ لَا ضَرًّا١ؕ وَ نَقُوْلُ لِلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا ذُوْقُوْا عَذَابَ النَّارِ الَّتِیْ كُنْتُمْ بِهَا تُكَذِّبُوْنَ Open ayah 34:42 in the Quran reader

تو آج تم میں سے کوئی کسی کو نفع اور نقصان پہنچانے کا اختیار نہیں رکھتا اور ہم ظالموں سے کہیں گے کہ دوزخ کے عذاب کا جس کو تم جھوٹ سمجھتے تھے مزہ چکھو

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ قَالُوْا مَا هٰذَاۤ اِلَّا رَجُلٌ یُّرِیْدُ اَنْ یَّصُدَّكُمْ عَمَّا كَانَ یَعْبُدُ اٰبَآؤُكُمْ١ۚ وَ قَالُوْا مَا هٰذَاۤ اِلَّاۤ اِفْكٌ مُّفْتَرًى١ؕ وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلْحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمْ١ۙ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 34:43 in the Quran reader

اور جب ان کو ہماری روشن آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو کہتے ہیں یہ ایک (ایسا) شخص ہے جو چاہتا ہے کہ جن چیزوں کی تمہارے باپ دادا پرستش کیا کرتے تھے ان سے تم کو روک دے اور (یہ بھی) کہتے ہیں کہ یہ (قرآن) محض جھوٹ ہے جو اپنی طرف سے بنا لیا گیا ہے اور کافروں کے پاس جب حق آیا تو اس کے بارے میں کہنے لگے کہ یہ تو صریح جادو ہے

وَ مَاۤ اٰتَیْنٰهُمْ مِّنْ كُتُبٍ یَّدْرُسُوْنَهَا وَ مَاۤ اَرْسَلْنَاۤ اِلَیْهِمْ قَبْلَكَ مِنْ نَّذِیْرٍؕ Open ayah 34:44 in the Quran reader

اور ہم نے نہ تو ان (مشرکوں) کو کتابیں دیں جن کو یہ پڑھتے ہیں اور نہ تم سے پہلے ان کی طرف کوئی ڈرانے والا بھیجا مگر انہوں نے تکذیب کی

وَ كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ۙ وَ مَا بَلَغُوْا مِعْشَارَ مَاۤ اٰتَیْنٰهُمْ فَكَذَّبُوْا رُسُلِیْ١۫ فَكَیْفَ كَانَ نَكِیْرِ۠ Open ayah 34:45 in the Quran reader

اور جو لوگ ان سے پہلے تھے انہوں نے تکذیب کی تھی اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا تھا یہ اس کے دسویں حصے کو بھی نہیں پہنچے تو انہوں نے میرے پیغمبروں کو جھٹلایا سو میرا عذاب کیسا ہوا ؟

عیش پرستوں کے ایک شبہ کا جواب قال اللہ تعالی۔ وما ارسلنا فی قریۃ من نذیر الا قال مترفوھا۔۔۔ الی۔۔۔ فکیف کان نکیر۔ (ربط) اوپر کی آیتوں میں ان عیش پرستوں کے وبال اور نکال کا ذکر تھا کہ جو نبوت کے منکر تھے اب ان آیات میں ان عیش پرستوں کا ایک شبہ ذکر کر کے اس کا جواب دیتے ہیں اور آنحضرت ﷺ کو تسلی دیتے ہیں کہ آپ ﷺ متکبرین کی اس قسم کی باتوں سے رنجیدہ اور ملول نہ ہوں۔ مشرکین اور کفار اپنے مال و دولت کی کثرت پر فخر کرتے تھے اور اس کو اپنی مقبولیت کی دلیل قرار دیتے تھے ان آیات میں ان کے اس شبہ کو نقل کر کے اس کا جواب دیا گیا کہ مال و دولت اور جاہ و حشمت اور کثرت اولاد کو اپنی مقبولیت اور افضلیت کی دلیل نہ سمجھیں مال و دولت کی قلت اور کثرت عزت اور حقارت کی دلیل نہیں چناچہ فرماتے ہیں اور اہل کفر کا یہ قدیم دستور ہے کہ وہ اپنی دنیاوی خوشحالی سے عذاب آخرت کی نفی پر استدلال کرتے رہے ہیں۔ کما قال تعالیٰ وما اظن الساعۃ قائمۃ ولئن رجعت الی ربی ان لی عندہ للحسنی نہیں بھیجا ہم نے کسی بستی میں عذاب آخرت سے کوئی ڈرانے والا پیغمبر مگر یہی ہوا کہ وہاں کے دولت مندوں نے یہی کہا کہ ہم اس پیغام کو نہیں مانتے جو تم دے کر بھیجے گئے ہو اور کہنے لگے کہ ہم لوگ مال اور اولاد میں سب سے زیادہ ہیں اللہ نے ہم کو مال و دولت اور عزت ووجاہت دی ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ ہم اللہ کے مقبول بندے ہیں۔ اور ہم تو کبھی بھی عذاب نہیں دئیے جائیں گے۔ مال واولاد کی کثرت اس امر کی دلیل ہے کہ ہم اللہ کے نزدیک بڑے مرتبہ والے ہیں اے نبی آپ ان کے جواب میں کہہ دیجئے کہ تحقیق میرا پروردگار جس کے لئے چاہتا ہے رزق کو کشادہ کردیتا ہے اور جس کے لئے چاہتا ہے تنگ کردیتا ہے لیکن اکثر لوگ سمجھتے نہیں۔ ناسمجھی کی بنا پر دنیاوی رزق کی وسعت اللہ کے راضی ہونے کی دلیل سمجھتے ہیں دنیاوی رزق کی فراخی اور تنگی کا داررومدار اللہ کی حکمت اور مشیت پر ہے دنیا میں اللہ تعالیٰ نے کسی رزق زیادہ دیا اور کسی کو کم۔ مقصود بندوں کا امتحان ہے دنیاوی رزق کی فراخی اور تنگی آخرت کی سعادت اور شقاوت کی دلیل نہیں اور اے منکرین آخرت خوب سمجھ لو کہ تمہارے مال اور تمہاری اولاد ایسی چیز نہیں جو تم کو ہمارا مقرب بنا دے لیکن ہمارا مقرب وہ شخص ہے جو ایمان لایا اور جس نے نبی کی ہدایت کے مطابق نیک کام کئے ایمان اور عمل صالح یہ دونوں چیزیں ہمارے قرب کا ذریعہ ہیں نہ کہ مال و دولت اور کثرت اولاد سو ایسے لوگوں کے لئے ہماری بارگاہ سے دوہری جزا ہے بمقابلہ ان کاموں کے جو انہوں نے کئے اور وہ بہشت کے بالاخانوں میں بےخوف وخطر بیٹھے ہوں گے ان کو نہ کسی عذاب کا خوف ہوگا اور نہ نعمت کے منقطع ہونے کا ڈر ہوگا اور جو لوگ ہماری آیتوں کی رد کی کوشش میں اور ہمارے نبی کے ہرانے اور عاجز کرنے کی فکر میں رہے ایسے ہی لوگ عذاب میں حاضر کئے جائیں گے اور دائمی عذاب میں مبتلا رہیں گے اور دنیاوی مال و دولت ان کو اللہ کے عذاب سے بچا نہیں سکے گا۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اہل دنیا کے ایک عام خیال کی تردید فرمائی ہے وہ یہ کہ عموما اہل دنیا مال و دولت اور جاہ و حشمت اور کثرت اولاد کو باعث افضلیت خیال کرتے ہیں جیسا کہ ہمیشہ سے اہل دنیا انبیاء ومرسلین سے کہتے رہے کہ ہم مال و دولت اور اولاد رکھتے ہیں ہمیں کیوں عذاب ہونے لگا۔ اللہ تعالیٰ نے اس خیال کی تردید فرمائی کہ اے پیغمبر آپ ان سے کہہ دیجئے کہ اللہ جس کی چاہتا ہے روزی وسیع کرتا ہے اور جس کی چاہتا ہے تنگ کرتا ہے مگر اکثر لوگ سمجھتے نہیں کہ مال واولاد لوگوں کو اللہ کے نزدیک کچھ عزت حاصل نہیں کرا سکتا بجز اس کے کہ جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کئے وہ اللہ کے مقرب بنے مال اور اولاد قرب خداوندی کا ذریعہ نہیں بلکہ ایمان اور عمل صالح قرب خداوندی کا ذریعہ ہیں بلکہ بعض اوقات مال واولاد عذاب اور مصیبت بن جاتے ہیں۔ کما قال تعالیٰ فلا تعجبک اموالہم ولا اولادہم انما یرید اللہ لیعذبہم بھا فی الحیوۃ الدنیا وتزھق انفسہم وہم کفرون۔ وقال تعالی۔ ایحسبون انما نمدہم بہ من مال وبنین نسارع لہم فی الخیرت بل لا یشعرون۔ بسا اوقات بعض لوگوں کو دیکھتے ہیں کہ ان کے پاس بنگلہ بھی ہے اور موٹر بھی ہے مگر پریشانیوں میں اور مقدمات میں مبتلا ہیں۔ یہ لوگ قابل رحم ہیں بہرحال قرب خداوندی کا ذریعہ اور وسیلہ ایمان اور عمل صالح ہے ایمان سے اللہ تعالیٰ سے تعلق درست ہوتا ہے اور عمل صالح سے عبدیت کا تعلق درست ہوتا ہے ہاں اگر مال و دولت کو اللہ کی راہ میں لگا دے تو اس سے اللہ کے یہاں عزت حاصل ہوسکتی ہے باقی محض مال اور اولاد کو عزت کا ذریعہ سمجھنا خیال خام ہے اسلام نے افضلیت کا اصل اصول ایمان اور اعمال صالحہ کو قرار دیا ہے جو مہاجرین اولین میں علی سبیل الکمال والتمام پایا جاتا رہا کہ اللہ تعالیٰ کے لئے مال اور اولاد سب کو چھوڑ کر ہجرت کر گئے کسی نے کیا خوب کہا ہے۔ مال واولادت بمعنی دشمنند گرچہ نزدیکت دو چشم روشنند انما اموالکم راہ یاد گیر مال وملک ایں جہاں برباد گیر اے نبی آپ ﷺ مومنین سے کہہ دیجئے کہ تحقیق میرا پروردگار اپنے بندوں میں سے جس کے لئے چاہتا ہے روزی فراخ کرتا ہے اور جس کے لئے چاہتا ہے تنگ کرتا ہے رزق کی فراخی اور تنگی اس کی مشیت اور حکمت کے تابع ہے فضیلت کی دلیل نہیں اور جو چیز تم خدا کی راہ میں خرچ کرو۔ سو خدا تعالیٰ تم کو دنیا یا آخرت میں اس کا عوض اور بدلہ دے گا۔ اور اس سے بہتر دے گا اور اللہ بہتر روزی دینے والا ہے جو خدا کے لئے خرچ کرو گے خدا اس کے عوض کا ذمہ دار ہے جن لوگوں نے مال و دولت کو ایمان اور ہدایت نبی کے مطابق خرچ کیا آخرت میں ان کو نفع دے گا۔ اور جن لوگوں نے اپنا مال و دولت ہماری آیتوں کے رد کرنے میں اور نبی کے مقابلہ میں خرچ کیا۔ ویوم یحشرہم جمیعا ثم یقول للملئکۃ اھؤلاء ایاکم کانوا یعبدون قیامت کے دن اس کی ذلت اور فضیحت ان کے سامنے آجائے گی۔ چناچہ فرماتے ہیں اور جس دن اللہ سب لوگوں کو جمع کرے گا پھر فرشتوں کو کہے گا کہ کیا یہ کافر تمہاری پرستش کیا کرتے تھے مشرکین کی غلطی ظاہر کرنے کے لئے فرشتوں سے سوال ہوگا۔ فرشتے جواب میں کہیں گے۔ اے اللہ تعا پاک ہے اس سے کہ تیری سوا کسی کو معبود بنایا جائے تو ہی ہمارا کارساز ہے نہ کہ یہ لوگ ان سے ہمارا کوئی تعلق نہیں یہ لوگ ہماری عبادت نہیں کرتے تھے بلکہ در حقیقت شیاطین کی عبادت کرتے تھے ان میں کے اکثر شیاطین کے معتقد ہیں ان کے کہنے پر چلتے ہیں اللہ تعالیٰ فرمائیں گے پس آج کے دن کسی کو کسی نفع اور نقصان کا کوئی اختیار نہیں کسی معبود باطل کو اپنے پرستش کرنے والے کے واسطے نہ نفع پہنچانے کی قدرت ہے اور نہ نقصان دور کرنے کی طاقت ہے۔ اور اس دن ہم ان لوگوں سے جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا کہ بےمحل عبادت کو رکھ کر نقصان اٹھایا یہ کہیں گے کہ جس آگ کی تم تکذیب کرتے تھے اور اس کو جھوٹ جانتے تھے آج اس کے عذاب کا مزہ چکھو اور بلاشہ یہ لوگ اس عذاب کے مستحق ہیں دنیا میں ہمارے پیغمبروں کا مذاق اڑایا کرتے تھے جب ان کے سامنے ہماری کھلی آیتیں پڑھی جاتی تھیں تو یہ لوگ یہ کہا کرتے تھے کہ نہیں ہے یہ شخص جو قرآن پڑھتا ہے مگر تم جیسا ایک مرد ہے چاہتا یہ ہے کہ تم کو ان چیزوں کی عبادت سے روک دے جن کو تمہارے آباء و اجداد وقدیم زمانہ سے پرستش کرتے چلے آرہے تھے یعنی اس مرد کا مدعا یہ ہے کہ تم کو بت پرستی سے روک دے اور اپنے خود ساختہ آئین کا تم کو تابع بنائے اور یہ کہ نہیں ہے یہ کلام جو یہ مرد پڑھتا ہے مگر جھوٹ اپنی طرف سے بنا کر خدا کی طرف منسوب کردیا گیا ہے حالانکہ ان کو تو چاہئے تھا کہ اس میں نعمت غیر مترقبہ اور اس علم وہدایت کی قدر کرتے اس لئے کہ ہم نے اس قرآن سے پہلے کفار مکہ کو ایسی کتابیں نہیں دی تھیں جنہیں یہ پڑھتے ہوں اور اسے پڑھ کر شریعت الٰہی کا علم ہوا اور نہ آپ سے پہلے ان کی جانب کوئی ڈرانے والا بھیجا جو ان کو حق کی دعوت دیتا اور عذاب الٰہی سے ڈراتا۔ بنی اسرائیل کی طرف تو رسول بھی آئے اور ان کی ہدایت کے لئے کتابیں بھی نازل ہوئی۔ مشرکین عرب کے حق میں تو نبی کی بعثت اور قرآن کا نزول بالکل ایک نئی نعمت اور دولت تھی ان کو چاہئے تھا کہ اس کی قدر کرتے اور اس پر ایمان لاتے مگر ان لوگوں نے اس کی قدر نہ کی اور جو ان سے پہلے تھے انہوں نے بھی انبیا کی تکذیب کی اور یہ مشرکین عرب تو اس کے دسویں حصہ کو بھی نہیں پہنچے جو ہم نے اگلے کافروں کو دیا تھا یعنی جو مال و دولت اور اولاد کی کثرت اور جسمانی قدرت ان کو دی تھی مشرکین عرب کو ان کا دسواں حصہ بھی نہیں دیا۔ پس اگلے کافروں نے میرے پیغمبروں کی تکذیب کی پس دیکھ لو کہ ان پر کیسا عذاب آیا کہ بالکل نیست ونابود کر دئیے گئے ان کی اجڑی ہوئی بستیوں سے عبرت پکڑو۔
Ayahs 34:46–54

قُلْ اِنَّمَاۤ اَعِظُكُمْ بِوَاحِدَةٍ١ۚ اَنْ تَقُوْمُوْا لِلّٰهِ مَثْنٰى وَ فُرَادٰى ثُمَّ تَتَفَكَّرُوْا١۫ مَا بِصَاحِبِكُمْ مِّنْ جِنَّةٍ١ؕ اِنْ هُوَ اِلَّا نَذِیْرٌ لَّكُمْ بَیْنَ یَدَیْ عَذَابٍ شَدِیْدٍ Open ayah 34:46 in the Quran reader

کہہ دو کہ میں تمہیں صرف ایک بات کی نصیحت کرتا ہوں کہ تم خدا کے لئے دو دو اور اکیلے اکیلے کھڑے ہوجاؤ پھر غور کرو تمہارے رفیق کو مطلق سودا نہیں وہ تم کو عذاب سخت (کے آنے) سے پہلے صرف ڈرانے والے ہیں

قُلْ مَا سَاَلْتُكُمْ مِّنْ اَجْرٍ فَهُوَ لَكُمْ١ؕ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ١ۚ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدٌ Open ayah 34:47 in the Quran reader

کہہ دو کہ میں نے تم سے کچھ صلہ مانگا ہو تو وہ تمہارا میرا صلہ خدا ہی کے ذمے ہے اور وہ ہر چیز سے خبردار ہے

قُلْ اِنَّ رَبِّیْ یَقْذِفُ بِالْحَقِّ١ۚ عَلَّامُ الْغُیُوْبِ Open ayah 34:48 in the Quran reader

کہہ دو کہ میرا پروردگار اوپر سے حق اتارتا ہے اور وہ غیب کی باتوں کا جاننے والا ہے

قُلْ جَآءَ الْحَقُّ وَ مَا یُبْدِئُ الْبَاطِلُ وَ مَا یُعِیْدُ Open ayah 34:49 in the Quran reader

کہہ دو کہ حق آچکا اور (معبود) باطل نہ تو پہلی بار پیدا کرسکتا ہے اور نہ دوبارہ پیدا کرے گا

قُلْ اِنْ ضَلَلْتُ فَاِنَّمَاۤ اَضِلُّ عَلٰى نَفْسِیْ١ۚ وَ اِنِ اهْتَدَیْتُ فَبِمَا یُوْحِیْۤ اِلَیَّ رَبِّیْ١ؕ اِنَّهٗ سَمِیْعٌ قَرِیْبٌ Open ayah 34:50 in the Quran reader

کہہ دو کہ اگر میں گمراہ ہوں تو میری گمراہی کا ضرر مجھی کو ہے اور اگر ہدایت پر ہوں تو یہ اس کا طفیل ہے جو میرا پروردگار میری طرف وحی بھیجتا ہے بیشک وہ سننے والا (اور) نزدیک ہے

وَ لَوْ تَرٰۤى اِذْ فَزِعُوْا فَلَا فَوْتَ وَ اُخِذُوْا مِنْ مَّكَانٍ قَرِیْبٍۙ Open ayah 34:51 in the Quran reader

اور کاش تم دیکھو جب یہ گھبرائیں گے تو (عذاب سے) بچ نہیں سکیں گے اور نزدیک ہی سے پکڑ لئے جائیں گے

وَّ قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِهٖ١ۚ وَ اَنّٰى لَهُمُ التَّنَاوُشُ مِنْ مَّكَانٍۭ بَعِیْدٍۚۖ Open ayah 34:52 in the Quran reader

اور کہیں گے کہ ہم اس پر ایمان لے آئے اور (اب) اتنی دور سے ان کا ہاتھ ایمان کے لینے کو کیونکر پہنچ سکتا ہے

وَّ قَدْ كَفَرُوْا بِهٖ مِنْ قَبْلُ١ۚ وَ یَقْذِفُوْنَ بِالْغَیْبِ مِنْ مَّكَانٍۭ بَعِیْدٍ Open ayah 34:53 in the Quran reader

اور پہلے تو اس سے انکار کرتے رہے اور بن دیکھے دور ہی سے (ظن کے) تیر چلاتے رہے

وَ حِیْلَ بَیْنَهُمْ وَ بَیْنَ مَا یَشْتَهُوْنَ كَمَا فُعِلَ بِاَشْیَاعِهِمْ مِّنْ قَبْلُ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا فِیْ شَكٍّ مُّرِیْبٍ۠ Open ayah 34:54 in the Quran reader

اور ان میں اور ان کی خواہش کی چیزوں میں پردہ حائل کردیا گیا جیسا کہ پہلے ان کے ہم جنسوں سے کیا گیا وہ بھی الجھن میں ڈالنے والے شک میں پڑے ہوئے تھے

خاتمہء سورت برکلمہء حکمت وموعظت قال اللہ تعالی۔ قل انما اعظکم بواحدۃ۔۔۔ الی۔۔۔ انہم کانوا فی شک مریب۔ (ربط) ابتدائے سورت سے یہاں تک توحید اور رسالت اور قیامت تینوں مضمون بیان ہوئے اب سورت کو ایک نصیحت پر ختم فرماتے ہیں جس سے توحید اور رسالت اور قیامت یعنی دین کے اصول ثلاثہ کی حقانیت واضح ہوجائے۔ ان تقوموا للہ سے توحید کی طرف اشارہ ہے اور ما بصحبکم من جنۃ ان ھو الا نذیر لکم۔ سے رسالت کی طرف اشارہ ہے اور بین یدی عذاب شدید سے یوم آخرت کی طرف اشارہ ہے تفسیر کبیر ص 24 ج 7۔ اور قل ما سالتکم من اجر سے مشرکین کے اس شبہ کو قطع کرنا ہے کہ آپ ﷺ کا فرمانا کسی طمع اور غرض پر مبنی نہیں بلکہ فقط تمہاری ہدایت اور اصلاح مقصود ہے۔ اور اس ذیل میں کافروں کے گزشتہ شبہ کا جواب بھی دے دیا گیا کہ مال اور اولاد کی کثرت کسی کو اللہ کے قہر اور عذاب سے نہیں بچا سکتی۔ مال و دولت والے ہلاک ہوئے اور خدا کے رسول غالب ہوئے ان واقعات کے بیان کرنے کے بعد کافروں کو غور وفکر کرنے کی نصیحت کرتے ہیں تاکہ کافروں پر نبی کریم ﷺ کی حقانیت اور صداقت واضح ہو چناچہ فرماتے ہیں اے نبی آپ ﷺ ان کافروں سے جو آپ ﷺ کی نبوت کے منکر ہیں کہہ دیجئے کہ میں تم کو ایک مختصر بات کی نصیحت کرتا ہوں وہ یہ کہ تم محض خدا کے لئے دو دو یا ایک ایک کھڑے ہو پھر خدا کی طرف متوجہ ہو کر غور وفکر کرو اور ابتدا سے لے کر اس وقت تک میرے تمام احوال اور اطوار کو یاد کرو۔ تاکہ تمہیں معلوم ہوجائے تمہارے اس ساتھی میں جنون کا نام ونشان نہیں جیسا کہ تم بغیر سوچے سمجھے گمان کئے ہوئے ہو اس کا حال دیکھو اور اس کا قال سنو اس کی ہر بات سے کمال عقل ظاہر ہے اس کی ہر بات حکمت اور ہدایت سے لبریز ہے وہ نہ مفتری ہے اور نہ دیوانہ ہے صرف خدا کا رسول ہے اس کی کچھ شان نہیں سوائے اس کے کہ وہ تم کو آئندہ کے سخت عذاب سے ڈرانے والا ہے اور آئندہ کی مصیبت اور آفت سے ڈرانا کمال عاقبت اندیشی ہے اور ناصح حقیقی ہونے کی دلیل ہے اے نبی آپ ﷺ ان سے یہ بھی کہہ دیجئے کہ میں تم سے اس نصیحت پر کچھ بدلہ اور صلہ نہیں چاہتا جو کچھ کہتا ہوں اس میں سرا سر تمہارا ہی فائدہ ہے اور اس پر یہ کہتا ہوں کہ میں تم سے جو کچھ عوض اور بدلہ مانگوں وہ سب تمہارے واسطے ہے وہ تم ہی رکھو مجھے تم سے اجر کی طلب اور آرزو نہیں میرا اجر میرے اللہ پر ہے۔ اور وہ ہر چیز سے باخبر ہے وہی مجھے میرے کام کا اجر دے گا اب بھی تم اگر نہ مانو تو تم جانو وہ میری نبوت اور صداقت اور اخلاص اور بےغرضی پر گواہ ہے اور آپ ان سے یہ بھی کہہ دیجئے کہ تحقیق میر اپروردگار اوپر سے مجھ پر حق پھینکتا جاتا ہے اور باطل پر گراتا جاتا ہے۔ تاکہ باطل پاش پاش ہوجاوے وہ علام الغیوب ہے اس کو پہلے ہی سے معلوم تھا کہ وہ حق کو اوپر سے اتارے گا اور باطل پر گرائے گا اور حق کے گرنے سے وہ باطل چور چور ہوجائے گا۔ اے نبی آپ ﷺ کہہ دیجئے کہ اب حق آگیا اور اب اس کے سامنے باطل فروغ نہ پائے گا اور باطل کو نہ پہلی بار ظہور ہوتا ہے اور نہ دوسری بار۔ اب دن بدن باطل مٹتا چلا جائے گا اسی سے تم کو میری صداقت اور نبوت کا یقین ہوجانا چاہئے۔ کہہ دیجئے کہ اگر تمہارے گمان میں اس پر بھی میں گمراہ ہوں تو سوائے اس کے کچھ نہیں کہ میں اپنی ذات پر گمراہ ہوں اس گمراہی کا ضرر مجھ کو ہی پہنچے گا۔ میری گمراہی سے تم کیوں اس قدر بیتاب اور پریشان ہو اور اگر میں ہدایت پر ہوں تو اس سبب سے ہے کہ میرا پروردگار مجھ پر وحی بھیجتا ہے تحقیق میرا پروردگار سننے والا ہے اور میرے نزدیک ہے اس کی رحمت اور عنایت کبھی مجھ سے جدا نہیں ہوتی۔ تتمہ تہدید منکرین ومکذبین (ربط) گزشتہ آیت میں منکرین اور مکذبین کی تہدید اور توبیخ تھی۔ کما قال تعالیٰ وکذب الذین من قبلہم وما بلغوا معشا رما اتیناہم اب ان آیات میں تہدید اور توبیخ کا تتمہ ہے۔ شیخزادہ ص 87 ج 4۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ منکرین اور مکذبین کو یہ معلوم رہنا چاہئے کہ خدا تعالیٰ اس پر قادر ہے کہ جب چاہے ان کو قریبی جگہ سے اور ان کے قدموں سے پکڑ کر زمین کے اندر پہنچا دے (ذکر روایت ابن عباس ؓ بقصہ عجیبہ تفسیر عزیزی ص 233) اس لئے اب آئندہ آیات میں کافروں کے حسرتناک انجام کو بیان فرماتے ہیں۔ اے پیغمبر کاش آپ اس وقت کو دیکھیں کہ جب یہ لوگ بروز قیامت یا بوقت موت گھبرائیں گے اور بھاگنے کی کوشش کریں گے پس بھاگ نہیں سکیں گے۔ عذاب سے بچ جانے کا کوئی مفر نہ ہوگا کسی طرف بھاگ کر نہیں نکل سکیں گے اور قریب ہی جگہ سے پکڑ لئے جاویں گے یعنی بہت ہی آسانی کے ساتھ فورا گرفتار کرلیے جائیں گے اور اس وقت یہ کہیں گے کہ ہم دین حق پر ایمان لے آئے اور یقین کرلیا کہ تیرے پیغمبروں نے جو کہا تھا وہ سب حق تھا اور تمنا کریں گے کہ ہم کو دنیا میں لوٹا دیا جائے۔ حق تعالیٰ فرماتے ہیں اور اتنی دور جگہ سے ایمان کا پکڑنا اور وہاں تک ان کا ہاتھ پہنچنا کیسے ممکن ہے ایمان کے پکڑنے کی قریبی جگہ تو دنیا تھی اب جب کہ دنیا سے چل کر دار آخرت میں پہنچ گئے تو یہ تو دار الجزا ہے جو بہت ہی دور ہے اتنی دور سے ایمان کو کیسے پکڑ سکتے ہیں اور حال یہ ہے کہ وہ پہلے اس حق کا انکار کرتے تھے اور اس سے پہلے دنیا میں بےدیکھے دور جگہ سے اٹکل کے تیر چلاتے تھے اللہ نبی کو ساحر اور شاعر اور مجنون بتلاتے تھے اور بعث اور حشر ونشر کا انکار کرتے تھے اور شہوات کے نشہ میں چور تھے اب آنکھیں کھلیں تو ایمان کی سوجھی خوب سمجھ لو کہ اب تم ایمان کی جگہ سے بہت دور آگئے ہو اتنی دور جگہ سے ایمان تک ہاتھ پہنچنا محال ہے اور اب ان کے اور ان کی خواہشوں کے درمیان پردہ ڈال دیا گیا ہے قبول ایمان کے بارے میں ان کی آرزو پوری نہ ہوگی ایمان حاصل کرنے کی جگہ دنیا تھی وہ دور ہوگئی ف۔ سدا دور دوراں دکھاتا نہیں گیا وقت پھر ہاتھ آتا نہیں جیسا کہ ان کے ہم مشرب کافروں کے ساتھ بھی یہی سلوک کیا گیا جو ان سے پہلے کفر کرچکے ان میں اور ان کی خواہشوں میں پردہ ڈال دیا گیا کہ ان کی آرزو پوری نہ ہوئی اور آخرت میں بھی ان کا ایمان مقبول نہ ہوگا۔ تحقیق یہ سب لوگ جب دنیا میں تھے تو ایسے دریائے شک میں غرق تھے کہ جو ان کو چین نہیں لینے دیتا تھا۔ اللہ اور رسول کی ہر بات میں ان کو شک رہتا تھا اب جب کہ خدا اور رسول کی باتوں اور خبروں کو آنکھوں سے دیکھ لیا اور پردہ اٹھ گیا تو ایمان کی باتیں کرنے لگے جب ایمان کا وقت تھا تو سخت شک اور اضطراب میں پڑے رہے لہٰذا اب ایمان قبول نہ ہوگا۔ ربنا لا تزغ قلوبنا بعد اذ ھدیتنا وھب لنا من الدنک رحمۃ انک انت الوھاب۔ الحمد للہ آج بتاریخ 26 جمادی الاولیٰ 1393 ھ یوم پنجشنبہ بو وقت 7 بجے صبح سورة سبا کی تفسیر سے فراغت ہوئی۔ فللہ الحمد حمدا کثیرا کثیرا۔ اے اللہ اپنی رحمت سے اس کو قبول فرما اور باقی تفسیر کے اتمام اور اکمال کی توفیق عطا فرما اور اپنی عبدیت اور انابت اور شکر نعمت سے سرفراز فرما اور خاتمہ بالخیر فرما آمین یا رب العالمین۔ و صلی اللہ تعالیٰ خیر خلقہ سیدنا ومولانا محمد وعلی الہ و اصحابہ اجمعین وعلینا معہم یا ارہم۔