34. Surah Saba

سبإSheba · 54 ayahsتفسیرِ عثمانی

Ayah 34:1

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ وَ لَهُ الْحَمْدُ فِی الْاٰخِرَةِ١ؕ وَ هُوَ الْحَكِیْمُ الْخَبِیْرُ Open ayah 34:1 in the Quran reader

سب خوبی اللہ کی ہے جس کا ہے جو کچھ کہ ہے آسمان اور زمین میں اور اسی کی تعریف ہے آخرت میں اور وہی ہے حکمتوں والا سب کچھ جاننے والاف 1

1 یعنی سب خوبیاں اور تعریفیں اس خدا کے لیے ہیں جو اکیلا بلا شریک غیرے تمام آسمانی و زمینی چیزوں کا مالک و خالق اور نہایت حکمت و خبرداری سے ان کی تدبیر کرتا ہے اس نے یہ سلسلہ بیکار پیدا نہیں کیا۔ ایسے حکیم و دانا کی نسبت یہ گمان نہیں ہوسکتا۔ ضرور ہے کہ یہ نظام آخر میں کسی اعلیٰ نتیجہ پر منتہی ہو، اسی کو آخرت کہتے ہیں۔ اور جس طرح دنیا میں وہ اکیلا تمام تعریفوں کا مستحق ہے، آخرت میں بھی صرف اسی کی تعریف ہوگی۔ بلکہ یہاں تو بظاہر اور کسی کی بھی تعریف ہوجاتی تھی کیونکہ مخلوق کا فعل خالق کے فعل کا پردہ اور اس کا کمال اس کے کمال حقیقی کا پردہ تو ہے لیکن وہاں سب وسائط اور پردے اٹھ جائیں گے جو کچھ ہوگا سب دیکھیں گے کہ اس کی طرف سے ہو رہا ہے۔ اس لیے صورۃ و حقیقۃ ہر حیثیت سے تنہا اسی محمود مطلق کی تعریف رہ جائے گی۔
Ayah 34:2

یَعْلَمُ مَا یَلِجُ فِی الْاَرْضِ وَ مَا یَخْرُجُ مِنْهَا وَ مَا یَنْزِلُ مِنَ السَّمَآءِ وَ مَا یَعْرُجُ فِیْهَا١ؕ وَ هُوَ الرَّحِیْمُ الْغَفُوْرُ Open ayah 34:2 in the Quran reader

جانتا ہے جو کچھ کہ اندر گھستا ہے زمین کے اور جو کچھ کہ نکلتا ہے اس سے اور جو اترتا ہے آسمان سے اور جو چڑھتا ہے اس میں2 اور وہی ہے رحم والا بخشنے والاف 3

2 یعنی آسمان و زمین کی کوئی چھوٹی بڑی چیز اس کے علم سے باہر نہیں۔ جو چیز زمین کے اندر چلی جاتی ہے۔ مثلا جانور کیڑے مکوڑے نباتات کا بیج، بارش کا پانی، مردہ کی لاش، اور جو اس کے اندر سے نکلتی ہے مثلا کھیتی، سبزہ، معدنیات وغیرہ اور جو اوپر چڑھتی ہے مثلا روح، دعاء، عمل اور ملائکہ وغیرہ ان سب انواع و جزئیات پر اللہ کا علم محیط ہے۔ 3 یعنی یہ سب بستی اور چہل پہل اس کی رحمت اور بخشش سے ہے ورنہ بندوں کی ناشکری اور حق ناشناسی پر اگر ہاتھوں ہاتھ گرفت ہونے لگے تو ساری رونق ایک لمحہ میں ختم کردی جائے۔ (وَلَوْ يُؤَاخِذُ اللّٰهُ النَّاسَ بِمَا كَسَبُوْا مَا تَرَكَ عَلٰي ظَهْرِهَا مِنْ دَاۗبَّةٍ ) 35 ۔ فاطر :45)
Ayah 34:3

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَا تَاْتِیْنَا السَّاعَةُ١ؕ قُلْ بَلٰى وَ رَبِّیْ لَتَاْتِیَنَّكُمْ١ۙ عٰلِمِ الْغَیْبِ١ۚ لَا یَعْزُبُ عَنْهُ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَ لَا فِی الْاَرْضِ وَ لَاۤ اَصْغَرُ مِنْ ذٰلِكَ وَ لَاۤ اَكْبَرُ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍۗۙ Open ayah 34:3 in the Quran reader

اور کہنے لگے منکر نہ آئے گی ہم پر قیامت4 تو کہہ کیوں نہیں قسم ہے میرے رب کی البتہ آئے گی تم پر5 اس عالم الغیب کی غائب نہیں ہوسکتا اس سے کچھ ذرہ بھر آسمانوں میں اور نہ زمین میں اور کوئی چیز نہیں اس سے چھوٹی اور نہ اس سے بڑی جو نہیں ہے کھلی کتاب میں6

4 کیوں نہیں آئے گی۔ اس کا منشاء آگے آتا ہے۔ " اِذَا مُزِّقْتُمْ كُلَّ مُمَزَّقٍ ۙ اِنَّكُمْ لَفِيْ خَلْقٍ جَدِيْدٍ ۔ " 5 یعنی وہ معصوم و مقدس انسان جس کے صدق و امانت کا اقرار سب کو پہلے سے تھا اور اب براہین ساطعہ سے اس کی صداقت پوری طرح روشن ہوچکی، مؤکد قسم کھا کر اللہ کی طرف سے خبر دیتا ہے کہ قیامت ضرور آئے گی، پھر تسلیم نہ کرنے کی کیا وجہ، ہاں اگر کوئی محال یا خلاف حکمت بات کہتا تو انکار کی گنجائش ہوسکتی تھی لیکن نہ یہ محال ہے نہ خلاف حکمت۔ پھر انکار کرنا ہٹ دھرمی نہیں تو کیا ہے۔ 6 یعنی اس عالم الغیب کی قسم جس کے علم محیط سے آسمان و زمین کا کوئی ذرہ یا ذرہ سے چھوٹی بڑی کوئی چیز بھی غائب نہیں۔ شاید یہ اس لیے فرمایا کہ قیامت کے وقت کی تعیین ہم نہیں کرسکتے۔ اس کا علم اسی کو ہے جس کے علم سے کوئی چیز باہر نہیں۔ ہم کو جتنی خبر دی گئی بلاکم وکاست پہنچا دی۔ اور اس کا جواب بھی ہوگیا جو کہتے تھے (وَقَالُوْٓا ءَاِذَا ضَلَلْنَا فِي الْاَرْضِ ) 32 ۔ السجدہ :10) یعنی جب ہمارے ذرات منتشر ہو کر مٹی میں مل گئے پھر کیسے دوبارہ اکٹھے کیے جائیں گے، تو بتلا دیا کہ کوئی ذرہ اس کے علم سے غائب نہیں۔ اور پہلے بتلایا جا چکا کہ آسمان و زمین کی ہر چیز پر قبضہ اسی کا ہے، لہذا اس کو کیا مشکل ہے کہ تمام منتشر ذرات کو ایک دم میں اکٹھا کر دے۔ (تنبیہ) کھلی کتاب سے " لوح محفوظ " مراد ہے جس میں ہر چیز اللہ کے علم کے مطابق ثبت ہے۔
Ayahs 34:4–5

لِّیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِیْمٌ Open ayah 34:4 in the Quran reader

تاکہ بدلہ دے ان کو جو یقین لائے اور کئے بھلے کام وہ لوگ جو ہیں ان کے لیے ہے معافی اور عزت کی روزی

وَ الَّذِیْنَ سَعَوْ فِیْۤ اٰیٰتِنَا مُعٰجِزِیْنَ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مِّنْ رِّجْزٍ اَلِیْمٌ Open ayah 34:5 in the Quran reader

اور جو لوگ دوڑے ہماری آیتوں کے ہرانے کو ان کو بلا کا عذاب ہے دردناک7

7 یعنی قیامت کا آنا اس لیے ضروری ہے کہ لوگوں کو ان کی نیکی اور بدی کا پھل دیا جائے اور حق تعالیٰ کی جملہ صفات کا کامل ظہور ہو (تنبیہ) " جو لوگ دوڑے ہماری آیتوں کے ہرانے کو۔ " یعنی ہماری آیتوں کے ابطال اور لوگوں کو قولا و فعلا ان سے روکنے کے لیے کھڑے ہوئے۔ گویا وہ (العیاذ باللہ) اللہ کو عاجز کرنا اور ہرانا چاہتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اس کے ہاتھ نہیں آئیں گے۔
Ayah 34:6

وَ یَرَى الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ هُوَ الْحَقَّ١ۙ وَ یَهْدِیْۤ اِلٰى صِرَاطِ الْعَزِیْزِ الْحَمِیْدِ Open ayah 34:6 in the Quran reader

اور دیکھ لیں جن کو ملی ہے سمجھ کہ جو تجھ پر اترا تیرے رب سے وہی ٹھیک ہے اور سجھاتا ہے راہ اس زبردست خوبیوں والے کی8

8 یعنی اس واسطے قیامت آنی ہے کہ جن لوگوں کو یقین تھا کہ انھیں عین الیقین حاصل ہوجائے اور آنکھوں سے دیکھ لیں کہ قرآن کی خبریں موبہ مو صحیح و درست ہیں اور بیشک قرآن ہی وہ کتاب ہے جو اس زبردست خوبیوں والے خدا تک پہنچنے کا ٹھیک راستہ بتاتی ہے۔ بعض مفسرین نے " ویری الذین " الخ کا مطلب یہ لیا ہے کہ (وَالَّذِيْنَ سَعَوْ فِيْٓ اٰيٰتِنَا مُعٰجِزِيْنَ ) 34 ۔ سبأ :5) کے برخلاف جو اہل علم ہیں (خواہ مسلمان یا اہل کتاب) وہ جانتے ہیں اور دیکھ رہے ہیں کہ قیامت وغیرہ کے متعلق قرآن کریم کا بیان بالکل صحیح ہے اور وہ آدمی کو وصولی الیٰ اللہ کے ٹھیک راستہ پر لے جاتا ہے۔
Ayahs 34:7–8

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا هَلْ نَدُلُّكُمْ عَلٰى رَجُلٍ یُّنَبِّئُكُمْ اِذَا مُزِّقْتُمْ كُلَّ مُمَزَّقٍ١ۙ اِنَّكُمْ لَفِیْ خَلْقٍ جَدِیْدٍۚ Open ayah 34:7 in the Quran reader

اور کہنے لگے منکر ہم بتلائیں تم کو ایک مرد کہ تم کو خبر دیتا ہے جب تم پھٹ کر ہوجاؤ ٹکڑے ٹکڑے تم کو پھر نئے سرے سے بننا ہے

اَفْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَمْ بِهٖ جِنَّةٌ١ؕ بَلِ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ فِی الْعَذَابِ وَ الضَّلٰلِ الْبَعِیْدِ Open ayah 34:8 in the Quran reader

کیا بنا لایا ہے اللہ پر جھوٹ یا اس کو سودا ہے1 کچھ بھی نہیں پر جو یقین نہیں رکھتے آخرت کا آفت میں ہیں اور دور جا پڑے غلطی میں 2

1 کفار قریش نبی کریم ﷺ کی شان میں یہ گستاخی کرتے تھے۔ یعنی آؤ تمہیں ایک شخص دکھلائیں جو کہتا ہے کہ تم گل سڑ کر اور ریزہ ریزہ ہو کر جب خاک میں مل جاؤ گے، پھر تم کو ازسر نو بھلا چنگا بنا کر کھڑا کردیا جائے گا۔ بھلا ایسی مہمل بات کون قبول کرسکتا ہے۔ دو حال سے خالی نہیں۔ یا تو یہ شخص جان بوجھ کر اللہ پر جھوٹ لگاتا ہے کہ اس نے ایسی خبر دی۔ نہیں تو سودائی ہے۔ دماغ ٹھکانے نہیں دیوانوں کی سی بےتکی باتیں کرتا ہے۔ (العیاذ باللہ) 2 یعنی نہ جھوٹ ہے نہ جنون۔ البتہ یہ لوگ عقل و دانش اور صدق و صواب کے راستہ سے بھٹک کر بہت دور جا پڑے ہیں۔ اور بیہودہ بکواس کر کے اپنے کو آفت میں پھنسا رہے ہیں۔ فی الحقیقت یہ بڑا عذاب ہے کہ آدمی کا دماغ اس قدر مختل ہوجائے کہ وہ خدا کے پیغمبروں کو مفتری یا مجنون کہنے لگے۔ (العیاذ باللہ)
Ayah 34:9

اَفَلَمْ یَرَوْا اِلٰى مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اِنْ نَّشَاْ نَخْسِفْ بِهِمُ الْاَرْضَ اَوْ نُسْقِطْ عَلَیْهِمْ كِسَفًا مِّنَ السَّمَآءِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّكُلِّ عَبْدٍ مُّنِیْبٍ۠ Open ayah 34:9 in the Quran reader

کیا دیکھتے نہیں جو کچھ ان کے آگے ہے اور پیچھے ہے آسمان اور زمین سے اگر ہم چاہیں دھنسا دیں ان کو زمین میں یا گرا دیں ان پر ٹکڑا آسمان سے3 تحقیق اس میں نشانی ہے ہر بندے رجوع کرنے والے کے واسطے4

3 یعنی کیا یہ لوگ اندھے ہوگئے ہیں کہ آسمان و زمین بھی نظر نہیں آتے جو آگے پیچھے ہر طرف نظر ڈالنے سے نظر آسکتے ہیں۔ ان کو تو وہ بھی مانتے ہیں کہ اللہ نے بنایا ہے پھر جس نے بنایا اسے توڑنا کیا مشکل ہے اور جو ایسے عظیم الشان اجسام کو بنا سکتا اور توڑ پھوڑ سکتا ہے اسے انسانی جسم کا بگاڑ دینا اور بنانا کیا مشکل ہوگا۔ یہ لوگ ڈرتے نہیں کہ اسی کے آسمان کے نیچے اور زمین کے اوپر رہ کر ایسے گستاخانہ کلمات زبان سے نکالیں۔ حالانکہ خدا چاہے تو ابھی ان کو زمین میں دھنسا کر یا آسمان سے ایک ٹکڑا گرا کر نیست و نابود کر دے اور قیامت کا چھوٹا سا نمونہ دکھلا دے۔ 4 یعنی جو بندے عقل و انصاف سے کام لے کر اللہ کی طرف رجوع ہوتے ہیں، اسی آسمان و زمین میں ان کے لیے بڑی بھاری نشانی موجود ہے وہ اس منظم اور پُر حکمت نظام کو دیکھ کر سمجھتے ہیں کہ ضرور یہ ایک دن کسی اعلیٰ و اکمل نتیجہ پر پہنچنے والا ہے جس کا نام " دارالآخرت " ہے۔ یہ تصور کر کے وہ بیش از بیش اپنے مالک و خالق کی طرف جھکتے ہیں اور جو آسمانی و زمینی نعمتیں ان کو پہنچتی ہیں، تہ دل سے اس کے شکر گزار ہوتے ہیں، ان میں سے بعض بندوں کا ذکر آگے آتا ہے۔
Ayah 34:10

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ مِنَّا فَضْلًا١ؕ یٰجِبَالُ اَوِّبِیْ مَعَهٗ وَ الطَّیْرَ١ۚ وَ اَلَنَّا لَهُ الْحَدِیْدَۙ Open ayah 34:10 in the Quran reader

اور ہم نے دی ہے داؤد کو اپنی طرف سے بڑائی5 اے پہاڑو خوش آوازی سے پڑھو اس کے ساتھ اور اڑتے جانوروں کو6 اور نرم کردیا ہم نے اس کے آگے لوہا

5 یعنی نبوت کے ساتھ غیر معمولی سلطنت عنایت فرمائی۔ 6 حضرت داؤد (علیہ السلام) کبھی کبھی جنگل میں نکلتے، خدا کو یاد کرتے، خوف الٰہی سے روتے، تسبیح و تہلیل میں مشغول رہتے اور اپنی ضرب المثل خوش آوازی سے زبور پڑھتے، اس کی عجیب و غریب تاثیر سے پہاڑ بھی ان کے ساتھ تسبیح پڑھنے لگتے تھے اور پرندے ان کے گرد جمع ہو کر اسی طرح آواز کرتے۔ حق تعالیٰ نے اپنے فضل سے ان کو یہ خاص بزرگی عطا فرمائی تھی۔ ورنہ پہاڑوں کی تسبیح سے مراد محض ان کی آواز بازگشت ہو، یا وہ عام تسبیح جو ہر چیز زبان حال یا قال سے کرتی رہتی ہے تو حضرت داؤد کے مخصوص فضل و شرف کے ذیل میں اس چیز کا ذکر کرنا محض بےمعنی ہوگا۔ (العیاذ باللہ) " یاجبال اوبی معہ " کا حکم تکوینی ہے۔
Ayah 34:11

اَنِ اعْمَلْ سٰبِغٰتٍ وَّ قَدِّرْ فِی السَّرْدِ وَ اعْمَلُوْا صَالِحًا١ؕ اِنِّیْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 34:11 in the Quran reader

کہ بنا زرہیں کشادہ اور اندازے سے جوڑ کڑیاں7 اور کرو تم سب کام بھلا میں جو کچھ تم کرتے ہو دیکھتا ہوں8

7 یعنی حضرت داؤد (علیہ السلام) کے حق میں ہم نے لوہے کو موم کی طرح نرم کردیا۔ بدون آگ اور آلات صناعیہ کے لوہے کو جس طرح چاہتے ہاتھ سے توڑ موڑ لیتے تھے اور اس کی زرہیں تیار کر کے فروخت کرتے تاکہ قوت بازو سے کما کر کھائیں۔ بیت المال پر اپنا بار نہ ڈالیں۔ کہتے ہیں کہ کڑیوں کی زرہ پہلے ان ہی سے نکلی کہ کشادہ رہے۔ حق تعالیٰ نے ان کو ہدایت فرمائی کہ فراخ و کشادہ زرہیں تیار کرو اور اس کے حلقے اور کڑیاں ٹھیک اندازہ سے جوڑو جو بڑی چھوٹی اور پتلی موٹی ہونے کے اعتبار سے متناسب ہوں۔ 8 یعنی ان صنائع میں پڑ کر منعم حقیقی کی طرف سے غفلت نہ ہونے پائے۔ ہمیشہ عمل صالح کرتے رہو اور یاد رکھو کہ اللہ سب کام دیکھتا ہے۔
Ayah 34:12

وَ لِسُلَیْمٰنَ الرِّیْحَ غُدُوُّهَا شَهْرٌ وَّ رَوَاحُهَا شَهْرٌ١ۚ وَ اَسَلْنَا لَهٗ عَیْنَ الْقِطْرِ١ؕ وَ مِنَ الْجِنِّ مَنْ یَّعْمَلُ بَیْنَ یَدَیْهِ بِاِذْنِ رَبِّهٖ١ؕ وَ مَنْ یَّزِغْ مِنْهُمْ عَنْ اَمْرِنَا نُذِقْهُ مِنْ عَذَابِ السَّعِیْرِ Open ayah 34:12 in the Quran reader

اور سلیمان کے آگے ہوا کو صبح کی منزل اس کی ایک مہینہ کی اور شام کی منزل ایک مہینہ کی اور بہا دیا ہم نے اس کے واسطے چشمہ پگھلے ہوئے تانبے کا9 اور جنوں میں کتنے لوگ تھے جو محنت کرتے اس کے سامنے اس کے رب کے حکم سے اور جو کوئی پھرے ان میں سے ہمارے حکم سے چکھائیں ہم اس کو آگ کا عذاب10

9 حضرت سلیمان کا تخت تھا جو فضا میں اڑتا۔ ہوا اس کو شام سے یمن اور یمن سے شام لے چلتی۔ اللہ تعالیٰ نے ہوا کو ان کے لیے مسخر کردیا تھا، ایک مہینہ کی مسافت ہوا کے ذریعہ سے آدھے دن میں طے ہوتی تھی۔ سورة " انبیاء " اور سورة " نمل " میں اس کا کچھ بیان گزر چکا ہے اور آگے سورة " ص " میں آئے گا اور پگھلے ہوئے تانبے کا چشمہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے یمن کی طرف نکال دیا تھا۔ اس کو سانچوں میں ڈال کر جنات بڑے بڑے برتن (دیگیں اور لگن وغیرہ) تیار کرتے تھے جن میں ایک لشکر کا کھانا پکتا اور کھلایا جاتا۔ 10 یعنی بہت سے جن جنہیں دوسری جگہ شیاطین سے تعبیر فرمایا ہے معمولی قلیوں اور خدمت گاروں کی طرح ان کے کام میں لگے رہتے تھے۔ اللہ کا حکم تھا کہ سلیمان کی اطاعت کریں ذرا سرکشی کی تو آگ میں پھونک دیا جائے گا۔
Ayah 34:13

یَعْمَلُوْنَ لَهٗ مَا یَشَآءُ مِنْ مَّحَارِیْبَ وَ تَمَاثِیْلَ وَ جِفَانٍ كَالْجَوَابِ وَ قُدُوْرٍ رّٰسِیٰتٍ١ؕ اِعْمَلُوْۤا اٰلَ دَاوٗدَ شُكْرًا١ؕ وَ قَلِیْلٌ مِّنْ عِبَادِیَ الشَّكُوْرُ Open ayah 34:13 in the Quran reader

بناتے اس کے واسطے جو کچھ چاہتا قلعے اور تصویریں اور لگن جیسے تالاب اور دیگیں چولہوں پر جمی ہوئی1 کام کرو اے داؤد کے گھر والو احسان مان کر اور تھوڑے ہیں میرے بندوں میں احسان ماننے والے2

1 یعنی بڑے بڑے محل، مسجدیں اور قلعے جنات تعمیر کرتے اور مجسم تصویریں بناتے (جو ان کی شریعت میں ممنوع نہیں ہوں گی، شریعت محمدیہ نے منع کردیا) اور تانبے کے بڑے بڑے لگن بناتے جیسے حوض یا تالاب اور دیگیں تیار کرتے جو اپنی جگہ سے ہل نہ سکتی تھیں۔ ایک ہی جگہ رکھی رہتیں۔ 2 یعنی ان عظیم الشان انعامات و احسانات کا شکر ادا کرتے رہو، محض زبان سے نہیں بلکہ عمل سے وہ کام کرو جن سے حق تعالیٰ کی شکر گزاری ٹپکتی ہو۔ بات یہ ہے کہ احسان تو خدا کم و بیش سب پر کرتا ہے لیکن پورے شکر گزار بندے بہت تھوڑے ہیں، جب تھوڑے ہیں تو قدر زیادہ ہوگی۔ لہذا کامل شکر گزار بن کر اپنی قدر و منزلت بڑھاؤ۔ یہ خطاب داؤد کے کنبے اور گھرانے کو ہے، کیونکہ علاوہ مستقل احسانات کے داؤد پر احسان من وجہ سب پر احسان۔ کہتے ہیں کہ داؤد (علیہ السلام) نے تمام گھر والوں پر اوقات تقسیم کردیئے تھے۔ دن رات کے چوبیس گھنٹوں میں کوئی وقت ایسا نہ تھا جب ان کے گھر میں کوئی نہ کوئی شخص عبادت الٰہی میں مشغول نہ رہتا ہو۔
Ayah 34:14

فَلَمَّا قَضَیْنَا عَلَیْهِ الْمَوْتَ مَا دَلَّهُمْ عَلٰى مَوْتِهٖۤ اِلَّا دَآبَّةُ الْاَرْضِ تَاْكُلُ مِنْسَاَتَهٗ١ۚ فَلَمَّا خَرَّ تَبَیَّنَتِ الْجِنُّ اَنْ لَّوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ الْغَیْبَ مَا لَبِثُوْا فِی الْعَذَابِ الْمُهِیْنِؕ Open ayah 34:14 in the Quran reader

پھر جب مقرر کیا ہم نے اس پر موت کو نہ جتلایا ان کو اس کا مرنا مگر کیڑے نے گھن کے کھاتا رہا اس کا عصا پھر جب وہ گرپڑا معلوم کیا جنوں نے کہ اگر خبر رکھتے ہوتے غیب کی نہ رہتے ذلت کی تکلیف میں3

3 حضرت سلیمان (علیہ السلام) جنوں کے ہاتھوں مسجد بیت المقدس کی تجدید کرا رہے تھے جب معلوم کیا کہ میری موت آپہنچی جنوں کو نقشہ بتا کر آپ ایک شیشہ کے مکان میں دربند کر کے عبادت الٰہی میں مشغول ہوگئے جیسا کہ آپ کی عادت تھی کہ مہینوں خلوت میں رہ کر عبادت کیا کرتے تھے۔ اسی حالت میں فرشتہ نے روح قبض کرلی اور آپ کی نعش مبارک لکڑی کے سہارے کھڑی رہی۔ کسی کو آپ کی وفات کا احساس نہ ہوسکا۔ وفات کے بعد مدت تک جن بدستور تعمیر کرتے رہے۔ جب تعمیر پوری ہوگئی جس عصا پر ٹیک لگا رہے تھے گھن کے کھانے سے گرا، تب سب کو وفات کا حال معلوم ہوا۔ اس سے جنات کو خود اپنی غیب دانی کی حقیت کھلی گئی اور ان کے معتقد انسانوں کو بھی پتہ لگ گیا کہ اگر انھیں غیب کی خبر رہتی تو کیا اس ذلت آمیز تکلیف میں پڑے رہتے۔ حضرت سلیمان کی وفات کو محسوس کرتے ہی کام چھوڑ دیتے۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہوگیا کہ شیاطین وغیرہ کی تسخیر کچھ حضرت سلیمان کا کسبی کمال نہ تھا محض فضل ایزدی تھا۔ جو اللہ چاہے تو موت کے بعد ایک لاش کے حق میں بھی قائم رکھ سکتا ہے۔ نیز سلیمان (علیہ السلام) پر زندگی میں جو انعامات ہوئے تھے یہ اس کی تکمیل ہوئی کہ موت کے بعد بھی ایک ضروری حد تک انھیں جاری رکھا گیا۔ اور بتلا دیا کہ پیغمبروں کے اٹھائے ہوئے کاموں کو اللہ تعالیٰ کس کس تدبیر سے پورا کراتا ہے۔ (ربط) یہاں تک بعض منیب اور شکر گزار بندوں کا ذکر تھا۔ آگے ایک معرض و ناسپاس قوم (سبا) کا ذکر کیا جاتا ہے۔ جو بڑے عیش و رفاہیت اور خوشحالی و فارغ البالی کے بعد کفر و ناسپاسی کی سزا میں تباہ کی گئی۔ یہ قوم یمن کی بڑی ددلت مند اور ذی اقتدار قوم تھی جو صدیوں تک بڑے جاہ و جلال سے ملک پر حکومت کرتی رہی۔ ان ہی میں ایک وہ ملکہ تھی (بلقیس) جس کا حضرت سلیمان کی بارگاہ میں حاضر ہونا سورة " نمل " میں گزر چکا ہے۔ شاید یہاں سلیمان کے بعد " سبا " کا ذکر اس مناسبت سے بھی ہوا ہو۔
Ayah 34:15

لَقَدْ كَانَ لِسَبَاٍ فِیْ مَسْكَنِهِمْ اٰیَةٌ١ۚ جَنَّتٰنِ عَنْ یَّمِیْنٍ وَّ شِمَالٍ١ؕ۬ كُلُوْا مِنْ رِّزْقِ رَبِّكُمْ وَ اشْكُرُوْا لَهٗ١ؕ بَلْدَةٌ طَیِّبَةٌ وَّ رَبٌّ غَفُوْرٌ Open ayah 34:15 in the Quran reader

تحقیق قوم سبا کو تھی ان کی بستی میں نشانی دو باغ داہنے اور بائیں4 کھاؤ روزی اپنے رب کی اور اس کا شکر کرو5 شہر ہے پاکیزہ اور رب ہے گناہ بخشنے والاف 6

4 یعنی باغوں کے دو طویل سلسلے داہنے اور بائیں میلوں تک چلے گئے تھے۔ اگر سمجھتے تو خدا کی رحمت وقدرت کی یہ ہی نشانی ایمان لانے اور شکر گزار بننے کے لئے کافی تھی۔ 5 گویا وہ نشانی زبان حال سے کہہ رہی تھی کہ اپنے رب کی دی ہوئی نعمتوں سے بہرہ اندوز ہو اور اس منعم حقیقی کا شکر ادا کرو۔ کفر و عصیان اختیار کر کے ناشکرے مت بنو۔ یا جیسا کہ بعض سلف کا قول ہے انبیاء کی زبانی اللہ تعالیٰ نے یہ ہدایت فرمائی ہوگی۔ کہتے ہیں تیرہ نبی اس قوم کی طرف بھیجے گئے۔ اگر یہ صحیح ہے تو حضرت مسیح سے پہلے آئے ہوں گے اور ان کے وارث بعد کو بھی اس قوم کی بربادی کے وقت تک سمجھاتے رہے ہوں گے۔ واللہ علم۔ 6 مصنف " ارض القرآن "،" سبا " کی عمارتوں کا ذکر کرتے ہوئے لکھتا ہے " اسی سلسلہ عمارات میں ایک چیز بند آب ہے جس کو عرب حجاز " سد " اور عرب یمن " عرم " کہتے ہیں۔ عرب کے ملک میں کوئی دائمی دریا نہیں۔ پانی پہاڑوں سے بہہ کر ریگستانوں میں خشک اور ضائع ہوجاتا ہے۔ زراعت کے مصرف میں نہیں آتا۔ " سبا " مختلف مناسب موقعوں پر پہاڑوں اور وادیوں کے بیچ میں بڑے بڑے بند باندھ دیتے تھے کہ پانی رک جائے اور بقدر ضرورت زراعت کے کام میں آئے۔ مملکت " سبا " میں اس طرح کے سینکڑوں بند تھے۔ ان میں سب سے زیادہ مشہور " سد مارب " ہے جو ان کے دارالحکومت " مارب " میں واقع تھا۔ شہر مارب کے جنوب میں داہنے بائیں دو پہاڑ ہیں جن کا نام کوہ ابلق ہے۔ سبا نے ان دو پہاڑوں کے بیچ میں تقریبا 800 ق م میں " سد باب " کی تعمیر کی تھی۔ یہ بند تقریبا ایک سو پچاس فٹ لمبی اور پچاس فٹ چوڑی ایک دیوار ہے۔ اس کا اکثر حصہ تو اب افتادہ ہے تاہم ایک ثلث دیوار اب بھی باقی ہے۔ " ارناڈ " ایک یورپین سیاح نے اس کے موجودہ حالات پر ایک مضمون فرنچ ایشاٹک سوسائٹی کے جرنل میں لکھا ہے اس کا موجودہ نقشہ نہایت عمدگی سے تیار کیا ہے۔ اس دیوار پر جابجا کتبات ہیں وہ بھی پڑھے گئے۔ اس سد میں اوپر نیچے بہت سی کھڑکیاں تھیں جو حسب ضرورت کھولی اور بند کی جاسکتی تھیں۔ " سد " کے دائیں بائیں مشرق و مغرب میں دو بڑے بڑے دروازے تھے جن سے پانی تقسیم ہو کر چپ و راست کی زمینوں کو سیراب کرتا تھا۔ اس نظام آب رسانی سے چپ و راست دونوں جانب اس ریگستانی اور شور ملک کے اندر تین سو میل مربع میں سینکڑوں کوس تک بہشت زار تیار ہوگئی تھی جس میں انواع و اقسام کے میوے اور خوشبودار درخت تھے۔ قرآن کریم " جتنن عن یمین وشمال " کہہ کر ان ہی باغوں کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ یونانی مورخ " اگاتھر شیڈس " جو 145 ق م میں " سبا " کا معاصر تھا بیان کرتا ہے۔ " سبا عرب کے سرسبز و آباد حصہ میں رہتے ہیں جہاں بہت اچھے اچھے بیشمار میوے ہوتے ہیں۔ دریا کے کنارے جو زمین ہے اس میں نہایت خوبصورت درخت ہوتے ہیں۔ اندرون ملک میں بخورات، دارچینی اور چھوارے کے نہایت بلند درختوں کے گنجان جنگل ہیں اور ان درختوں سے نہایت شیریں خوشبو پھیلا کرتی ہے۔ درختوں کے اقسام کی کثرت و تنوع کے سبب سے ہر قسم کا نام و وصف مشکل ہے جو خوشبو اس میں سے اڑتی ہے وہ جنت کی خوشبو سے کم نہیں اور جس کی تعریف لفظوں میں ادا نہیں ہوسکتی۔ جو اشخاص زمین سے دور ساحل سے گزرتے ہیں، وہ بھی جب ساحل کی طرف سے ہوا چلتی ہے تو اس خوشبو سے محظوظ ہوتے ہیں۔ وہ گویا آب حیات کا لطف اٹھاتے ہیں۔ اور یہ تشبیہ بھی اس کی قوت و لطافت کے مقابل میں ناقص ہے۔ " آرٹی میڈروس جو " سبا " کے عہد آخر میں تھا لکھتا ہے۔ " سبا " کا بادشاہ اور اس کا ایوان " مارب " میں ہے جو ایک پر اشجار پہاڑ پر عیش و مسرت (زمانہ خوشحالی) میں واقع ہے۔ " غرض باعتبار سرسبزی، خوشحالی، سامان عیش اور اعتدال آب و ہوا کے " مارب " اسی کا مصداق تھا۔ " بلدۃ طیبۃ ورب غفور "، " رب غفور " سے ادھر اشارہ کردیا کہ اپنی طرف سے شگر گزار بنو۔ اگر بمقتضائے بشریت کچھ تقصیر رہ جائے گی تو اللہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر ایسا سخت نہیں پکڑتا۔ اپنی مہربانی سے معاف فرما دے گا۔ اس کی نعمتوں کا شکر کما حقہ کس سے ادا ہوسکتا ہے۔
Ayah 34:16

فَاَعْرَضُوْا فَاَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ سَیْلَ الْعَرِمِ وَ بَدَّلْنٰهُمْ بِجَنَّتَیْهِمْ جَنَّتَیْنِ ذَوَاتَیْ اُكُلٍ خَمْطٍ وَّ اَثْلٍ وَّ شَیْءٍ مِّنْ سِدْرٍ قَلِیْلٍ Open ayah 34:16 in the Quran reader

سو دھیان میں نہ لائے پھر چھوڑ دیا ہم نے ان پر ایک نالہ زور کا اور دیئے ہم نے ان کو بدلے میں ان دو باغوں کے دو اور باغ جن میں کچھ میوہ کسیلا تھا اور جھاؤ اور کچھ بیر تھوڑے سے7

7 یعنی نصیحتوں کو خاطر میں نہ لائے اور منعم حقیقی کی شکر گزاری سے منہ موڑے رہے تب ہم نے پانی کا عذاب بھیج دیا۔ وہ بند ٹوٹا تمام باغات اور زمینیں غرقاب ہوگئیں۔ اور ان اعلیٰ درجہ کے نفیس میووں اور پھلوں کی جگہ نکمے درخت اور جھاڑ جھنکاڑ رہ گئے جہاں انگور چھوارے اور قسم قسم کی نعمتیں پیدا ہوتی تھیں اب وہاں پیلو، جھاؤ، کسیلے اور بدمزہ پھل والے درختوں کے سوا کچھ نہ تھا۔ جن میں بہترین چیز تھوڑی سی جھڑ بیریوں کو سمجھ لو۔ یہ واقعہ حضرت مسیح اور نبی کریم ﷺ کے درمیانی عہد کا ہے محققین آثار قدیمہ کو ابرہتہ الاشرم کے زمانہ کا ایک بہت بڑا کتبہ سد عرم کی بقیہ دیوار پر ملا ہے اس میں بھی اس بند کے ٹوٹنے کا ذکر ہے۔ مگر یہ غالبا اس واقعہ کے بعد ہوا جس کا ذکر قرآن میں ہے واللہ اعلم۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " جب اللہ نے چاہا عذاب بھیجے، گھونس پیدا ہوئی اس پانی کے بند میں اس کی جڑ کرید ڈالی، ایک بار پانی نے زور کیا۔ بند کو توڑ ڈالا، وہ پانی عذاب کا تھا جس زمین پر پھر گیا کام سے جاتی رہی کہتے ہیں کہ بند ٹوٹنے کی پیشنگوئی ایک کاہن نے کی تھی اس پر بہت لوگ وطن چھوڑ کر ادھر ادھر چلے گئے، جو باقی رہے انھیں ان باغوں کے بدلے یہ نکمی اور کڑوی کسیلی چیزیں ملیں۔ واللہ اعلم۔
Ayah 34:17

ذٰلِكَ جَزَیْنٰهُمْ بِمَا كَفَرُوْا١ؕ وَ هَلْ نُجٰزِیْۤ اِلَّا الْكَفُوْرَ Open ayah 34:17 in the Quran reader

یہ بدلہ دیا ہم نے ان کو اس پر کہ ناشکری کی اور ہم یہ بدلہ اسی کو دیتے ہیں جو ناشکر ہو8

8 ایسی سخت سزا بڑے ناشکروں کو دی جاتی ہے۔ کفر سے بڑھ کر کیا ناشکری ہوگی۔ سورة " نمل " میں گزر چکا (وَجَدْتُّهَا وَقَوْمَهَا يَسْجُدُوْنَ للشَّمْسِ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطٰنُ اَعْمَالَهُمْ فَصَدَّهُمْ عَنِ السَّبِيْلِ فَهُمْ لَا يَهْتَدُوْنَ ) 27 ۔ النمل :24) بظاہر اس قسم کا شرک اس قوم میں بلقیس کے بعد بھی باقی رہا ہوگا۔
Ayah 34:18

وَ جَعَلْنَا بَیْنَهُمْ وَ بَیْنَ الْقُرَى الَّتِیْ بٰرَكْنَا فِیْهَا قُرًى ظَاهِرَةً وَّ قَدَّرْنَا فِیْهَا السَّیْرَ١ؕ سِیْرُوْا فِیْهَا لَیَالِیَ وَ اَیَّامًا اٰمِنِیْنَ Open ayah 34:18 in the Quran reader

اور رکھی تھیں ہم نے ان میں اور ان بستیوں میں جہاں ہم نے برکت رکھی ہے ایسی بستیاں جو راہ پر نظر آتی تھیں اور منزلیں مقرر کردیں ہم نے ان میں آنے جانے کی پھر وان میں راتوں کو اور دنوں کو امن سے9

9 برکت والی بستیاں ملک شام کی ہیں یعنی ان کے ملک سے شام تک راستے مامون تھے۔ سڑک کے کنارے کنارے دیہات کا سلسلہ ایسے اندازے اور تناسب سے چلا گیا تھا کہ مسافر کو ہر منزل پر کھانا، پانی اور آرام کرنے کا موقع ملتا تھا۔ آبادیوں کے قریب ہونے اور جلد جلد نظر آنے سے مسافر کا جی نہیں گھبراتا تھا، نہ چوروں ڈاکوؤں کا خوف تھا۔ سفر کیا تھا ایک طرح کی سیر تھی۔ مصنف ارض القرآن لکھتا ہے۔ " سبا " کی دولت و ثروت کی اساس صرف تجارت تھی۔ یمن ایک طرف سواحل ہندوستان کے مقابل واقع ہے۔ اور دوسری طرف سواحل افریقہ کے۔ سونا، بیش قیمت پتھر، مسالہ، خوشبوئیں، ہاتھی دانت، یہ چیزیں حبش اور ہندوستان سے ٹھیک یمن آکر اترتی تھیں، وہاں سے سبا اونٹوں پر لاد کر بحراحمر کے کنارے خشکی حجاز سے گزر کر شام و مصر لاتے تھے۔ قرآن مجید نے اس راستہ کو " امام مبین " (کھلا راستہ) اور اسی سفر کا نام " رحلۃ الشتاء والصیف " رکھا ہے جس کو قریش نے جاری کیا تھا۔ ان تجارتی کاروانوں کی آمد و رفت کے سبب یمن سے شام تک آبادیوں کی ایک قطار قائم تھی۔ جہاں بےخوف و خطر سفر ہوسکتا تھا۔ " یونانی مورخ اراؤ ستہنس 194 ق م بیان کرتا ہے، کہ " حضر موت " سے سبا کے ملک تک چالیس روز کا راستہ ہے اور معین سے سوداگر ستردن میں ایلہ (عقبہ) پہنچتے ہیں۔
Ayah 34:19

فَقَالُوْا رَبَّنَا بٰعِدْ بَیْنَ اَسْفَارِنَا وَ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فَجَعَلْنٰهُمْ اَحَادِیْثَ وَ مَزَّقْنٰهُمْ كُلَّ مُمَزَّقٍ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍ Open ayah 34:19 in the Quran reader

پھر کہنے لگے اے رب دراز کردے ہمارے سفروں کو10 اور آپ اپنا برا کیا پھر کر ڈالا ہم نے ان کو کہانیاں اور کر ڈالا چیر کر ٹکڑے ٹکڑے1 اس میں پتے کی باتیں ہیں ہر صبر کرنے والے شکر گزار کو2

10 زبان حال سے کہا ہوگا اور ممکن ہے زبان قال سے کہنے لگے ہوں کہ اے اللہ ! اس طرح سفر کا لطف نہیں آتا۔ منزلیں دور ہوں، آس پاس آبادیاں نہ ملیں، بھوک پیاس ستائے، تب سفر کا مزہ ہے۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " آرام میں مستی آئی لگے تکلیف مانگنے کہ جیسے اور ملکوں کی خبر سنتے ہیں سفروں میں پانی نہیں ملتا، آبادی نہیں ملتی۔ ویسا ہم کو بھی ہو۔ یہ بڑی ناشکری ہوئی۔ جیسے بنی اسرائیل نے من وسلویٰ سے اکتا کر لہسن و پیاز کی طلب کی تھی۔ 1 یعنی ہم نے شیرازہ بکھیر دیا اور ان کو پارہ پارہ کر ڈالا۔ اکثر خاندان ادھر ادھر منتشر ہوگئے کوئی ایک طرف کوئی دوسری طرف نکل گیا۔ آبادیوں کے نام و نشان حرف غلط کی طرف مٹ گئے۔ اب ان کی صرف کہانیاں باقی رہ گئیں کہ لوگ سنیں اور عبرت پکڑیں۔ ان کا وہ عظیم الشان تمدن اور شان و شکوہ سب خاک میں مل گیا۔ صاحب " ارض القرآن " ان کے زوال و سقوط کی توجیہ اس طرح کرتا ہے کہ یونانیوں اور رومیوں نے مصر و شام پر قبضہ پا کر ہندوستان و افریقہ کی تجارت کو بری راست سے بحری راستہ کی طرف منتقل کردیا اور تمام مال کشیتوں کے ذریعہ سے بحر احمر کی راہ مصر و شام کے سواحل پر اترنے لگا۔ اس طریق سفر نے یمن سے شام تک خاک اڑا دی اور سبا کی نو آبادیاں تباہ ہو کر رہ گئیں۔ " مصنف موصوف نے یہ توجیہ مولر کی تحریر سے اخذ کی ہے ممکن ہے تباہی اور انتشار کا ایک ظاہری سبب یہ بھی ہو۔ مگر اس پر حصر کردینا صحیح نہیں۔2 یعنی ان حالات کو سن کر چاہیے عقلمند عبرت حاصل کریں جب اللہ فراخی اور عیش دے خوب شکر ادا کرتے رہیں اور تکلیف و مصیبت آئے تو صبر و تحمل اختیار کر کے اللہ سے مدد مانگیں۔
Ayah 34:20

وَ لَقَدْ صَدَّقَ عَلَیْهِمْ اِبْلِیْسُ ظَنَّهٗ فَاتَّبَعُوْهُ اِلَّا فَرِیْقًا مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 34:20 in the Quran reader

اور سچ کر دکھلائی ان پر ابلیس نے اپنی اٹکل، پھر اسی کی راہ چلے، مگر تھوڑے سے ایمان دار3

3 پہلے دن ابلیس نے تخمینہ کر کے کہا تھا (لَاَحْتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهٗٓ اِلَّا قَلِيْلًا) 17 ۔ الاسراء :62) اور (ثُمَّ لَاٰتِيَنَّهُمْ مِّنْۢ بَيْنِ اَيْدِيْهِمْ وَمِنْ خَلْفِهِمْ وَعَنْ اَيْمَانِهِمْ وَعَنْ شَمَاۗىِٕلِهِمْ ۭ وَلَا تَجِدُ اَكْثَرَهُمْ شٰكِرِيْنَ ) 7 ۔ الاعراف :17)
Ayah 34:21

وَ مَا كَانَ لَهٗ عَلَیْهِمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ اِلَّا لِنَعْلَمَ مَنْ یُّؤْمِنُ بِالْاٰخِرَةِ مِمَّنْ هُوَ مِنْهَا فِیْ شَكٍّ١ؕ وَ رَبُّكَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ حَفِیْظٌ۠ Open ayah 34:21 in the Quran reader

اور اس کا ان پر کچھ زور نہ تھا مگر اتنے واسطے کہ معلوم کرلیں ہم اس کو جو یقین لاتا ہے آخرت پر جدا کر کے اس سے جو رہتا ہے آخرت کی طرف سے دھوکے میں، اور تیرا رب ہر چیز پر نگہبان ہے4

4 یعنی شیطان کو یہ قدرت نہ تھی کہ لاٹھی لے کر ان کو زبردستی راہ حق سے روک دیتا۔ ہاں بہکاتا پھسلاتا ہے اور اتنی قدرت بھی اس لیے دی گئی کہ بندوں کا امتحان و ابتلاء منظور تھا۔ دیکھیں کون آخرت پر یقین کر کے خدا کو یاد رکھتا ہے اور کون دنیا میں پھنس کر انجام سے غافل ہوجاتا ہے اور بیوقوف بن کر شک یا دھوکہ میں پڑجاتا ہے۔ اللہ کی حکمت کا مقتضاء یہی یہ تھا کہ دنیا میں انسان کے لیے دونوں طرف جانے کے راستے کشادہ رکھیں۔ جیسا کہ پہلے کئی جگہ اس کی تقریر ہوچکی ہے ایسا نہیں کہ (معاذ اللہ) خدا کو خبر نہ ہو۔ بیخبر ی میں شیطان کسی بندے کو اچک لے جائے۔ خوب سمجھ لو کہ ہر چیز اللہ کی نگاہ میں ہے اور تمام احوال و شؤن کی دیکھ بھال وہ ہی ہمہ وقت کرتا ہے جس کو جتنی آزادی دے رکھی ہے وہ عجز و سفہ سے نہیں، حکمت و مصلحت کی بناء پر ہے۔
Ayah 34:22

قُلِ ادْعُوا الَّذِیْنَ زَعَمْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ۚ لَا یَمْلِكُوْنَ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَ لَا فِی الْاَرْضِ وَ مَا لَهُمْ فِیْهِمَا مِنْ شِرْكٍ وَّ مَا لَهٗ مِنْهُمْ مِّنْ ظَهِیْرٍ Open ayah 34:22 in the Quran reader

تو کہہ پکارو ان کو جن کو گمان کرتے ہو سوائے اللہ کے5 وہ مالک نہیں ایک ذرہ بھر کے آسمانوں میں اور نہ زمین میں اور نہ ان کا ان دونوں میں کچھ ساجھا اور نہ ان میں کوئی اس کا مددگار

5 یہاں سے مشرکین مکہ کو خطاب ہے جن کی تنبیہ کے لیے " سبا " کا قصہ سنایا تھا۔ یعنی اللہ کے سوا جن چیزوں پر تم کو خدائی کا گمان ہے ذرا کسی آڑے وقت میں ان کو پکارو تو سہی دیکھیں وہ کیا کام کرتے ہیں۔
Ayah 34:23

وَ لَا تَنْفَعُ الشَّفَاعَةُ عِنْدَهٗۤ اِلَّا لِمَنْ اَذِنَ لَهٗ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوْبِهِمْ قَالُوْا مَا ذَا١ۙ قَالَ رَبُّكُمْ١ؕ قَالُوا الْحَقَّ١ۚ وَ هُوَ الْعَلِیُّ الْكَبِیْرُ Open ayah 34:23 in the Quran reader

اور کام نہیں آتی سفارش اس کے پاس مگر اس کو کہ جس کے واسطے حکم کر دے6 یہاں تک کہ جب گھبراہٹ دور ہوجائے ان کے دل سے کہیں کیا فرمایا تمہارے رب نے وہ کہیں فرمایا جو واجبی ہے اور وہی ہے سب سے اوپر بڑا7

6 یعنی یہ مسکین کیا کام آتے جنہیں آسمان و زمین میں نہ ایک ذرہ کا مستقل اختیار ہے (بلکہ بتوں کو تو غیر مستقل بھی نہیں) نہ آسمان و زمین میں ان کی کچھ شرکت نہ خدا کو کسی کام میں مدد کی ضرورت، جو یہ اس کے معین و مددگار بن کر ہی کچھ حقوق جتلاتے۔ اس کی بارگاہ تو وہ ہے جہاں بڑے بڑے مقربین کی یہ بھی طاقت نہیں کہ بدون اذن و رضا کے کسی کی نسبت ایک حرف سفارش ہی زبان سے نکال سکیں۔ انبیاء و اولیاء اور ملائکۃ اللہ کی شفاعت بھی صرف انہی کے حق میں نافع ہوگی جن کے لیے ادھر سے سفارش کا حکم مل جائے۔ 7 یہ فرشتوں کا حال فرمایا جو ہمہ وقت اس بارگاہ کے حاضر باش ہیں۔ جب اوپر سے اللہ کا حکم اترتا ہے ایسی آواز آتی ہے جیسے صاف چکنے پتھر پر زنجیر کھینچی جائے۔ (شاید اتصال و بساطت کو قریب الی الفہم کرنے کے لیے یہ تشبیہ دی گئی) فرشتے دہشت اور خوف و رعب سے تھرا جاتے ہیں اور تسبیح کرتے ہوئے سجدہ میں گرپڑتے ہیں۔ جب یہ حالت رفع ہو کر دل کو تسکین ہوئی اور کلام اتر چکا۔ ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں کیا حکم ہوا۔ اوپر والے فرشتے نیچے والوں کو درجہ بدرجہ بتاتے ہیں جو اللہ کی حکمت کے موافق ہے اور آگے سے قائدہ معلوم ہے وہ ہی حکم ہوا۔ ظاہر ہے وہاں معقول اور واجبی بات کے سوا کیا چیز ہوسکتی ہے۔ پس جس کے علو و عظمت کی یہ کیفیت ہو کہ حکم دے تو مقربین کا مارے ہیبت وجلال کے یہ حال ہوجائے وہاں کس کی ہمت ہے کہ از خود سعی و سفارش کے لیے کھڑا ہوجائے (تنبیہ) آیت کی اور تفسیریں بھی کی گئی ہیں جن کی نسبت حافظ ابن حجر لکھتے ہیں " وجمیع ذلک مخالف لہذا الحدیث الصحیح (الذی فی البخاری) ولا حادیث کثیرۃ تو یدہ (فتحالباری صفحہ 13/381)
Ayah 34:24

قُلْ مَنْ یَّرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ قُلِ اللّٰهُ١ۙ وَ اِنَّاۤ اَوْ اِیَّاكُمْ لَعَلٰى هُدًى اَوْ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 34:24 in the Quran reader

تو کہہ کون روزی دیتا ہے تم کو آسمان سے اور زمین سے بتلا دے کہ اللہ8 اور یا ہم یا تم بیشک ہدایت پر ہیں یا پڑے ہیں گمراہی میں صریح9

8 یعنی آسمان و زمین سے روزی کے سامان بہم پہنچانا صرف اللہ کے قبضہ میں ہے اس کا اقرار مشرکین بھی کرتے تھے لہذا آپ بتلا دیں کہ یہ تم کو بھی مسلم ہے پھر الوہیت میں دوسرے شریک کہاں سے ہوگئے۔ 9 یعنی دونوں فرقے تو سچ نہیں کہتے (ورنہ اجتماع نقیضین لازم آجائے) یقینا دونوں میں ایک سچا اور ایک جھوٹا ہے تو لازم ہے کہ سوچو اور غور کر کے سچی بات قبول کرو۔ اس میں ان کا جواب ہے جو بعض لوگ کہہ دیتے ہیں کہ میاں ! دونوں فرقے ہمیشہ سے چلے آئے ہیں کیا ضروری ہے جھگڑنا۔ تو بتلا دیا کہ ایک یقینا خطا کار اور گمراہ ہے۔ باقی تعیین نہ کرنے میں حکیمانہ حسن خطاب ہے یعنی لوہم اپنی طرف سے کچھ نہیں کہتے۔ بہرحال ایک تو یقینا غلطی پر ہوگا۔ اب اوپر کے دلائل سن کر تم ہی خود فیصلہ کرلو کہ کون غلطی پر ہے۔ گویا مخالف کو نرمی سے بات کر کے اپنے نفس میں غور کرنے کا موقع دیا جاتا ہے
Ayahs 34:25–26

قُلْ لَّا تُسْئَلُوْنَ عَمَّاۤ اَجْرَمْنَا وَ لَا نُسْئَلُ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 34:25 in the Quran reader

تو کہہ تم سے پوچھ نہ ہوگی اس کی جو ہم نے گناہ کیا اور ہم سے پوچھ نہ ہوگی اس کی جو تم کرتے ہو

قُلْ یَجْمَعُ بَیْنَنَا رَبُّنَا ثُمَّ یَفْتَحُ بَیْنَنَا بِالْحَقِّ١ؕ وَ هُوَ الْفَتَّاحُ الْعَلِیْمُ Open ayah 34:26 in the Quran reader

تو کہہ جمع کرے گا ہم سب کو رب ہمارا پھر فیصلہ کرے گا ہم میں انصاف کا اور وہی ہے قصہ چکانے والا سب کچھ جاننے والاف 1

1 یعنی ہر ایک کو اپنی عاقبت کی فکر کرنی چاہیے۔ کوئی شخص دوسرے کے قصور اور غلطی کا جواب دہ نہ ہوگا اگر اتنی صاف باتیں سننے کے بعد بھی تم اپنی حالت میں غور کرنے کے لیے تیار نہیں تو یاد رکھو ہم حجت تمام کرچکے۔ اور کلمہ حق پہنچا چکے۔ اب تم اپنے اعمال کے خود جواب دہ ہو گے ہم پر کوئی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی۔ نہ ایسی حالت میں ہمارا تمہارا کوئی واسطہ۔ خدا کے یہاں حاضر ہونے کے لیے ہر ایک اپنی اپنی فکر کر رکھے۔ وہ سب کو اکٹھا کر کے ٹھیک ٹھیک انصاف کا فیصلہ کر دے گا۔
Ayah 34:27

قُلْ اَرُوْنِیَ الَّذِیْنَ اَلْحَقْتُمْ بِهٖ شُرَكَآءَ كَلَّا١ؕ بَلْ هُوَ اللّٰهُ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 34:27 in the Quran reader

تو کہہ مجھ کو دکھلاؤ تو سہی جن کو اس سے ملاتے ہو ساجھی قرار دیکر2 کوئی نہیں وہی اللہ ہے زبردست حکمتوں والاف 3

2 یعنی ذرا سامنے تو کرو کون سی ہستی ہے جو اس کی خدائی میں ساجھا رکھتی ہے ؟ ہم بھی تو دیکھیں کہ اس کے کیا کچھ اختیارات ہیں۔ کیا ان پتھر کی بیجان اور خود تراشیدہ مورتوں کو پیش کرو گے۔ 3 یعنی ہرگز تم ایسی کوئی ہستی پیش نہیں کرسکتے۔ وہ تو اکیلا ایک ہی خدا ہے جو زبردست، غالب و قاہر اور اعلیٰ درجہ کی حکمت و دانائی رکھنے والا ہے۔ سب اس کے سامنے مغلوب و مقہور ہیں۔
Ayah 34:28

وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا كَآفَّةً لِّلنَّاسِ بَشِیْرًا وَّ نَذِیْرًا وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 34:28 in the Quran reader

اور تجھ کو جو ہم نے بھیجا سو سارے لوگوں کے واسطے خوشی اور ڈر سنانے کو لیکن بہت لوگ نہیں سمجھتے4

4 یہ توحید کے ساتھ رسالت کا ذکر کردیا۔ یعنی آپ ﷺ کا فرض اور آپ ﷺ کی بعثت کی غرض یہ ہی ہے کہ نہ صرف عرب بلکہ تمام دنیا کے لوگوں کو ان کے نیک و بد سے آگاہ کردیں سو کردیا۔ جو نہیں سمجھتے وہ جانیں۔ سمجھدار آدمی تو اپنے نفع نقصان کو سوچ کر آپ ﷺ کی بات کو ضرور مانیں گے۔ ہاں دنیا میں کثرت جاہلوں اور ناسمجھوں کی ہے۔ ان کے دماغوں میں کہاں گنجائش ہے کہ کار آمد باتوں کی قدر کریں۔
Ayah 34:29

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 34:29 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کب ہے یہ وعدہ اگر تم سچے ہو5

5 یعنی جس گھڑی سے ڈراتے ہو وہ کب آئے گی۔ اگر سچے ہو تو جلدی لا کر دکھلا دو ۔
Ayah 34:30

قُلْ لَّكُمْ مِّیْعَادُ یَوْمٍ لَّا تَسْتَاْخِرُوْنَ عَنْهُ سَاعَةً وَّ لَا تَسْتَقْدِمُوْنَ۠ Open ayah 34:30 in the Quran reader

تو کہہ تمہارے لیے وعدہ ہے ایک دن کا نہ دیر کرو گے اس سے ایک گھڑی نہ جلدی6

6 یعنی گھبراؤ نہیں۔ جس دن کا وعدہ ہے ضرور آکر رہے گا۔ جب آئے گا تو ایک منٹ کی مہلت نہ ملے گی۔ جلدی مچانے کے بجائے اس کی ضرورت ہے کہ اس وقت کے آنے سے پہلے کچھ تیاری کر رکھو۔
Ayah 34:31

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ بِهٰذَا الْقُرْاٰنِ وَ لَا بِالَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْهِ١ؕ وَ لَوْ تَرٰۤى اِذِ الظّٰلِمُوْنَ مَوْقُوْفُوْنَ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ۖۚ یَرْجِعُ بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضِ اِ۟لْقَوْلَ١ۚ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا لِلَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْا لَوْ لَاۤ اَنْتُمْ لَكُنَّا مُؤْمِنِیْنَ Open ayah 34:31 in the Quran reader

اور کہنے لگے منکر ہم ہرگز نہ مانیں گے اس قرآن کو اور نہ اس سے اگلے کو 7 اور کبھی تو دیکھے جب کہ گناہگار کھڑے کئے جائیں اپنے رب کے پاس ایک دوسرے پر ڈالتا ہے بات کو8 کہتے ہیں وہ لوگ جو کمزور سمجھے جاتے تھے بڑائی کرنے والوں کو اگر تم نہ ہوتے تو ہم ایمان دار ہوتے9

7 یعنی ہم نہ قرآن کو مانیں نہ اگلی کتابوں کو جنہیں تم آسمانی کتابیں بتلاتے ہو۔ مثلا تورات و انجیل وغیرہ یہ سب ایک ہی تھیلی کے چٹے بٹے ہیں جہاں دیکھو وہ ہی حساب کتاب اور قیامت کا مضمون ہے۔ سو ان چیزوں کو ہم ہرگز تسلیم کرنے والے نہیں۔ 8 یعنی جیسے ناکامیابی کے وقت ہوتا ہے کہ ہر ایک دوسرے کو ناکامیابی کا سبب گردانتا ہے۔ محشر میں بھی کفار ایک دوسرے کو مورد الزام بنائیں گے جس کی تفصیل آگے آتی ہے۔ 9 دنیا میں جو لوگ نیچے کے طبقہ میں شمار ہوتے تھے اور دوسروں کے پیچھے چلتے تھے وہ اپنے بڑے سرداروں کو الزام دیں گے کہ تم نے ہمیں اس مصیبت میں پھنسوایا۔ تمہاری روک نہ ہوتی تو ہم ضرور پیغمبروں کی بات مان لیتے اور یہ دن دیکھنا نہ پڑتا۔
Ayah 34:32

قَالَ الَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْا لِلَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْۤا اَنَحْنُ صَدَدْنٰكُمْ عَنِ الْهُدٰى بَعْدَ اِذْ جَآءَكُمْ بَلْ كُنْتُمْ مُّجْرِمِیْنَ Open ayah 34:32 in the Quran reader

کہنے لگے بڑائی کرنے والے ان سے جو کہ کمزور گنے گئے تھے کیا ہم نے روکا تم کو حق بات سے تمہارے پاس پہنچ چکنے کے بعد کوئی نہیں تم ہی تھے گناہگار10

10 یعنی جب تمہارے پاس حق بات پہنچ گئی اور سمجھ میں آگئی تھی کیوں قبول نہ کی کیا ہم نے زبردستی تمہارے دلوں کو ایمان و یقین سے روک دیا تھا چاہیے تھا کہ کسی کی پروا نہ کر کے حق کو قبول کرلیتے۔ اب اپنا جرم دوسروں کے سر کیوں رکھتے ہو ؟
Ayah 34:33

وَ قَالَ الَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا لِلَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْا بَلْ مَكْرُ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ اِذْ تَاْمُرُوْنَنَاۤ اَنْ نَّكْفُرَ بِاللّٰهِ وَ نَجْعَلَ لَهٗۤ اَنْدَادًا١ؕ وَ اَسَرُّوا النَّدَامَةَ لَمَّا رَاَوُا الْعَذَابَ١ؕ وَ جَعَلْنَا الْاَغْلٰلَ فِیْۤ اَعْنَاقِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ هَلْ یُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 34:33 in the Quran reader

اور کہنے لگے وہ لوگ جو کمزور گنے گئے تھے بڑائی کرنے والوں کو کوئی نہیں پرفریب سے رات دن کے جب تم ہم کو حکم کیا کرتے کہ ہم نہ مانیں اللہ کو اور ٹھہرائیں اس کے ساتھ برابر کے ساجھی1 اور چھپے چھپے پچتانے لگے جب دیکھ لیا عذاب2 اور ہم نے ڈالے ہیں طوق گردنوں میں منکروں کے3 وہی بدلہ پاتے ہیں جو عمل کرتے تھے4

1 یعنی بیشک تم نے زبردستی مجبور تو نہ کیا تھا۔ مگر رات دن مکرو فریب اور مغویانہ تدبیر سے ہم کو بہکاتے پھسلاتے رہتے تھے۔ جب ملے یہ تلقین کی کہ ہم پیغمبروں کے ارشاد کے موافق خدا کو ایک نہ مانیں۔ بلکہ بعض مخلوقات کو بھی اس کا مماثل اور برابر کا شریک سمجھیں۔ آخر تمہاری شب و روز کی ترغیب و ترہیب کا کہاں تک اثر نہ ہوتا۔ 2 یعنی جس وقت ہولناک عذاب سامنے آئے گا تابعین اور متبوعین دونوں اپنے اپنے دل میں پچھتائیں گے۔ ہر ایک محسوس کرے گا کہ واقعی میں مجرم اور قصور وار ہوں۔ لیکن شرم کے مارے ایک دوسرے پر ظاہر نہ کریں گے اور شدید اضطراب و خوف سے شاید بولنے کی قدرت بھی نہ ہو۔ 3 گردنوں میں طوق اور ہاتھ پاؤں میں زنجیریں پڑی ہوں گی۔ 4 یعنی جو عمل کیے تھے آج وہ اس سزا کی صورت میں ظاہر ہو رہے ہیں جیسا کرنا ویسا بھرنا۔
Ayah 34:34

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا فِیْ قَرْیَةٍ مِّنْ نَّذِیْرٍ اِلَّا قَالَ مُتْرَفُوْهَاۤ١ۙ اِنَّا بِمَاۤ اُرْسِلْتُمْ بِهٖ كٰفِرُوْنَ Open ayah 34:34 in the Quran reader

اور نہیں بھیجا ہم نے کسی بستی میں کوئی ڈرانے والا مگر کہنے لگے ہیں وہاں کے آسودہ لوگ جو تمہارے ہاتھ بھیجا گیا ہم اس کو نہیں مانتے5

5 یہ حضور ﷺ کو تسلی دی گئی کہ آپ رؤسائے مکہ کے انحراف و سرکشی سے مغموم نہ ہوں۔ ہر زمانہ میں پیغمبروں کا مقابلہ ایسے ہی بدبخت رئیسوں نے کیا ہے۔ دولت و ثروت کا نشہ اور اقتدار طلبی کا جذبہ آدمی کو اندھا کردیتا ہے۔ وہ کسی کے سامنے گردن جھکانا اور چھوٹے آدمیوں کے برابر بیٹھنا گوارا نہیں کرتا۔ اسی لیے انبیاء کے اول متبعین عموما ضعیف و مسکین لوگ ہوتے ہیں کما ورد فی حدیث ہرقل۔
Ayah 34:35

وَ قَالُوْا نَحْنُ اَكْثَرُ اَمْوَالًا وَّ اَوْلَادًا١ۙ وَّ مَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِیْنَ Open ayah 34:35 in the Quran reader

اور کہنے لگے ہم زیادہ ہیں مال اور اولاد میں اور ہم پر آفت نہیں آنے والی6

6 یعنی معلوم ہوا خدا ہم سے خوش اور راضی ہے ورنہ اتنا مال و اولاد کیوں دیتا۔ جب وہ خوش ہے تو ہم کو کسی آفت کا اندیشہ نہیں۔ تم فضول عذاب کی دھمکیاں دیتے ہو۔
Ayah 34:36

قُلْ اِنَّ رَبِّیْ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 34:36 in the Quran reader

تو کہہ میرا رب ہے جو کشادہ کردیتا ہے روزی جس کو چاہے اور ناپ کردیتا ہے لیکن بہت لوگ سمجھ نہیں رکھتے7

7 یعنی روزی کی فراخی یا تنگی اللہ کے خوش یا ناخوش ہونے کی دلیل نہیں۔ دیکھتے نہیں۔ دنیا میں کتنے بدمعاش، شریر، دہریے ملحد (ناستک) مزے اڑاتے ہیں حالانکہ ان کو کوئی مذہب بھی اچھا نہیں کہتا۔ اور بہت سے خدا پرست پرہیزگار اور نیک بندے بظاہر فاقے کھینچتے ہیں، تو معلوم ہوا کہ دولت و افلاس یا تنگی و فراخی کسی کے محبوب و مقبول عند اللہ ہونے کی دلیل نہیں۔ یہ معاملات تو دوسری مصالح اور حکمتوں پر مبنی ہیں جن کو اللہ ہی جانتا ہے مگر بہت لوگ اس نکتہ کو نہیں سمجھتے ومن الدلیل علی القضاء وحکمہ بؤس اللبیب وطیب عیش الاحمق
Ayah 34:37

وَ مَاۤ اَمْوَالُكُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُكُمْ بِالَّتِیْ تُقَرِّبُكُمْ عِنْدَنَا زُلْفٰۤى اِلَّا مَنْ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا١٘ فَاُولٰٓئِكَ لَهُمْ جَزَآءُ الضِّعْفِ بِمَا عَمِلُوْا وَ هُمْ فِی الْغُرُفٰتِ اٰمِنُوْنَ Open ayah 34:37 in the Quran reader

اور تمہارے مال اور تمہاری اولاد وہ نہیں کہ نزدیک کردیں ہمارے پاس تمہارا درجہ پر جو کوئی یقین لایا اور بھلا کام کیا8 سو ان کے لیے ہے بدلہ دونا کیے کام کا9 اور وہ جھروکوں میں بیٹھے ہیں دل جمعی سے

8 یعنی مال و اولاد کی کثرت نہ قرب الٰہی کی علامت ہے جیسا کہ اوپر کی آیت میں گزرا ہے۔ اور نہ قرب حاصل کرنے کا سبب ہے۔ بلکہ اس کے برعکس کافر کے حق میں زیادت بعد کا سبب بن جاتا ہے۔ ہاں مومن اگر مال و دولت اور شائستہ بنائے، ایسا مال و اولاد ایک درجہ میں قرب الٰہی کا سبب بنتا ہے۔ بہرحال وہاں مال و اولاد کی پوچھ نہیں۔ محض ایمان و عمل صالح کی پرسش ہے۔ 9 یعنی کام پر جتنے اجر کا استحقاق ہے اس سے زائد بدلہ ملے گا۔ کم از کم دس گنا اور زیادہ سے ہو تو سات سو گنا بلکہ اللہ چاہے تو اس سے بھی زیادہ جس کی کوئی حد نہیں۔ ( ۭوَاللّٰهُ يُضٰعِفُ لِمَنْ يَّشَاۗءُ ۭ وَاللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِيْمٌ) 2 ۔ البقرۃ :261) یہاں ضعف سے مطلقا زیادت مراد ہے۔
Ayah 34:38

وَ الَّذِیْنَ یَسْعَوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِنَا مُعٰجِزِیْنَ اُولٰٓئِكَ فِی الْعَذَابِ مُحْضَرُوْنَ Open ayah 34:38 in the Quran reader

اور جو لوگ دوڑتے ہیں ہماری آیتوں کے ہرانے کو وہ عذاب میں پکڑے ہوئے آتے ہیں10

10 یعنی جو بدبخت اللہ کی آیات کو رد کرتے اور ان پر طعن کر کے لوگوں کو ادھر سے روکتے ہیں گویا سمجھتے ہیں کہ ہم اللہ و رسول کو ہرا دیں گے۔ وہ سب عذاب میں گرفتار ہو کر حاضر کیے جائیں گے ایک بھی چھوٹ کر نہ بھاگ سکے گا۔
Ayah 34:39

قُلْ اِنَّ رَبِّیْ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ وَ یَقْدِرُ لَهٗ١ؕ وَ مَاۤ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ شَیْءٍ فَهُوَ یُخْلِفُهٗ١ۚ وَ هُوَ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ Open ayah 34:39 in the Quran reader

تو کہہ میرا رب ہے جو کشادہ کردیتا ہے روزی جس کو چاہے اپنے بندوں میں اور ناپ کردیتا ہے اور جو خرچ کرتے ہو کچھ چیز وہ اس کا عوض دیتا ہے اور وہ بہتر ہے روزی دینے والاف 1

1 یہ مسلمانوں کو سنایا کہ تم وجوہ خیر میں خرچ کرتے وقت تنگی اور افلاس سے نہ ڈرنا۔ خرچ کرنے سے رزق کم نہیں ہوجاتا جو مقدر ہے پہنچ کر رہے گا۔ اللہ اپنی حکمت سے جس کو جتنا دینا چاہے اس میں تمہارے خرچ کرنے نہ کرنے سے فرق نہیں پڑتا بلکہ وجوہ خیر میں خرچ کرنے سے برکت ہوتی ہے اور حق تعالیٰ اس کا عوض دیتا ہے خواہ مال کی صورت میں یا قناعت و غنائے قلبی کی شکل میں اور آخرت میں بدلہ ملنا تو یقینی ہے۔ غرض اس کے ہاں کچھ کمی نہیں۔ مسلمان کو چاہیے کہ اللہ کے ساتھ حسن ظن رکھے اور اس کی مرضی کے سامنے فقر و فاقہ کا اندیشہ دل میں نہ لائے۔ " وَلا تخشَ مِن ذِی العرش اقلالاً " (تنبیہ) آیت میں گویا اس طرف بھی اشارہ فرما دیا کہ جس طرح دنیا میں تنگی اور فراخی کے اعتبار سے لوگوں کا حال متفاوت ہے، آخرت میں بھی باعتبار مراتب ثواب و عذاب کے ایسا ہی تفاوت ہوگا۔
Ayah 34:40

وَ یَوْمَ یَحْشُرُهُمْ جَمِیْعًا ثُمَّ یَقُوْلُ لِلْمَلٰٓئِكَةِ اَهٰۤؤُلَآءِ اِیَّاكُمْ كَانُوْا یَعْبُدُوْنَ Open ayah 34:40 in the Quran reader

اور جس دن جمع کرے گا ان سب کو پھر کہے گا فرشتوں کو کیا یہ لوگ تم کو پوجا کرتے تھے2

2 بہت مشرکین فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں کہتے تھے۔ بہت ان کے ہیاکل بنا کر پرستش کرتے تھے بلکہ بعض نے لکھا ہے کہ اصنام پرستی کی ابتداء ملائکہ پرستی ہی سے ہوئی۔ اور عمرو بن لحی یہ رسم قبیح شام سے حجاز میں لایا۔ بہرحال قیامت کے دن کفار کو سنا کر فرشتوں سے سوال کریں گے کہ کیا یہ لوگ تم کو پوجتے تھے ؟ شاید یہ مطلب ہو کہ تم نے تو ان سے ایسا نہیں کہا۔ یا تم ان کے فعل سے خوش تو نہیں ہوئے۔ جیسے حضرت مسیح (علیہ السلام) سے سوال ہوگا۔ (ءَاَنْتَ قُلْتَ للنَّاسِ اتَّخِذُوْنِيْ وَاُمِّيَ اِلٰــهَيْنِ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ ) 5 ۔ المائدہ :116) اور سورة فرقان میں ہے ( ءَ اَنْتُمْ اَضْلَلْتُمْ عِبَادِيْ هٰٓؤُلَاۗءِ ) 25 ۔ الفرقان :17)