34. Surah Saba

سبإSheba · 54 ayahsاسرار التنزیل

Ayahs 34:1–9

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ وَ لَهُ الْحَمْدُ فِی الْاٰخِرَةِ١ؕ وَ هُوَ الْحَكِیْمُ الْخَبِیْرُ Open ayah 34:1 in the Quran reader

سب تعریف اللہ ہی کو سزاوار ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے ، کا مالک ہے اور آخرت میں بھی اسی کی تعریف ہے اور وہ حکمت والا خبر رکھنے والا ہے

یَعْلَمُ مَا یَلِجُ فِی الْاَرْضِ وَ مَا یَخْرُجُ مِنْهَا وَ مَا یَنْزِلُ مِنَ السَّمَآءِ وَ مَا یَعْرُجُ فِیْهَا١ؕ وَ هُوَ الرَّحِیْمُ الْغَفُوْرُ Open ayah 34:2 in the Quran reader

جو کچھ زمین میں داخل ہوتا ہے (مثلاً بارش) اور جو اس سے نکلتا ہے (مثلاً نباتات) اور جو آسمان سے اترتا ہے اور جو اس میں چڑھتا ہے سب اس کو معلوم ہے اور وہ مہربان (اور) بخشنے والا ہے

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَا تَاْتِیْنَا السَّاعَةُ١ؕ قُلْ بَلٰى وَ رَبِّیْ لَتَاْتِیَنَّكُمْ١ۙ عٰلِمِ الْغَیْبِ١ۚ لَا یَعْزُبُ عَنْهُ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَ لَا فِی الْاَرْضِ وَ لَاۤ اَصْغَرُ مِنْ ذٰلِكَ وَ لَاۤ اَكْبَرُ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍۗۙ Open ayah 34:3 in the Quran reader

اور یہ کافر کہتے ہیں کہ ہم پر قیامت نہ آئے گی آپ فرمادیجئے کہ کیوں نہیں ، قسم ہے اپنے پروردگار کی وہ تم پر ضرور آئے گی (وہ اللہ) پوشیدہ باتوں کا جاننے والا ہے ، اس (کے علم) سے کوئی ذرہ بھر بھی پوشیدہ نہیں (نہ) آسمانوں میں اور نہ زمین میں اور نہ اس سے کوئی چھوٹی (چیز) اور نہ بڑی مگر یہ سب واضح کتاب (لوح محفوظ) میں (لکھی) ہے

لِّیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِیْمٌ Open ayah 34:4 in the Quran reader

تاکہ وہ (اللہ) ان لوگوں کو صلہ دے جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام کیے (سو) ایسے لوگوں کے لئے بخشش اور عزت کی روزی ہے

وَ الَّذِیْنَ سَعَوْ فِیْۤ اٰیٰتِنَا مُعٰجِزِیْنَ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مِّنْ رِّجْزٍ اَلِیْمٌ Open ayah 34:5 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے ہماری آیات کو ناکام کرنے کی کوشش کی ایسے لوگوں کے لئے سختی کا درد ناک عذاب ہوگا

وَ یَرَى الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ هُوَ الْحَقَّ١ۙ وَ یَهْدِیْۤ اِلٰى صِرَاطِ الْعَزِیْزِ الْحَمِیْدِ Open ayah 34:6 in the Quran reader

اور جن لوگوں کو (آسمانی کتابوں کا) علم دیا گیا وہ اس (قرآن) کو جو آپ کے پروردگار کی طرف سے آپ کے پاس بھیجا گیا ہے سمجھتے ہیں کہ وہ حق ہے اور وہ (قرآن) غالب سزاوار تعریف (اللہ) کا راستہ بتاتا ہے

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا هَلْ نَدُلُّكُمْ عَلٰى رَجُلٍ یُّنَبِّئُكُمْ اِذَا مُزِّقْتُمْ كُلَّ مُمَزَّقٍ١ۙ اِنَّكُمْ لَفِیْ خَلْقٍ جَدِیْدٍۚ Open ayah 34:7 in the Quran reader

اور کافر کہتے ہیں کیا ہم تم کو ایک ایسا آدمی بتائیں جو تم کو یہ خبر دیتا ہے کہ جب تم (مر کر) بالکل ریزہ ریزہ ہوجاؤ گے تو یقینا نئے سرے سے پیدا ہوگے

اَفْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَمْ بِهٖ جِنَّةٌ١ؕ بَلِ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ فِی الْعَذَابِ وَ الضَّلٰلِ الْبَعِیْدِ Open ayah 34:8 in the Quran reader

(یا تو) اس نے اللہ پر (جان بوجھ کر) بہتان باندھ رکھا ہے یا اس کو کسی طرح کا جنون ہے بلکہ جو لوگ آخرت پر یقین نہیں رکھتے عذاب اور دور کی گمراہی میں (مبتلا) ہیں

اَفَلَمْ یَرَوْا اِلٰى مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اِنْ نَّشَاْ نَخْسِفْ بِهِمُ الْاَرْضَ اَوْ نُسْقِطْ عَلَیْهِمْ كِسَفًا مِّنَ السَّمَآءِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّكُلِّ عَبْدٍ مُّنِیْبٍ۠ Open ayah 34:9 in the Quran reader

تو کیا انہوں نے آسمان اور زمین میں نظریں نہیں کیں جو ان کے آگے (بھی) ہے اور ان کے پیچھے (بھی موجود) ہے۔ اگر ہم چاہیں تو ان کو زمین میں دھنسا دیں یا ہم ان پر آسمان کے ٹکڑے گرا دیں۔ بیشک اس میں (قدرت الٰہیہ کی) پوری دلیل ہے ہر (اس) بندے کے لئے جو (اللہ کی طرف) رجوع کرنے والا ہے

سورة السبا رکوع نمبر 1: آیات 1 تا 9: اسرار و معارف : تمام خوبیاں اور سب کمالات اللہ کو سزا وار ہیں کہ جو آسمانوں اور زمینوں کا اور ان میں موجود ہر ذرے کا خالق اور اکیلا مالک ہے اور وہ بہت ہی حکمت والا ہے اور ہر ذرے سے خوب واقف ہے اس جہان میں اور آخرت میں ہر ذرہ اس کی تاثیرات اور نتائج سب کا مالک وہی ہے۔ اللہ کو خوب علم ہے کہ زمین کے ذرات میں کس طرح بارش کا پانی سورج اور چاند کی کرنیں یا مختلف گیسیں داخل ہو کر کیا عمل کرتی ہیں اور پھر وہ ذرات کس طرح پھلوں پھولوں یا غذا میں تبدیل ہو کر نکلتے ہیں اور کون سا ذرہ کس جسم کی تعمیر کے لیے تیار کرکے کس کس طویل راستے سے اس بدن تک پہنچے گا نیز اللہ خوب واقف ہے کہ آسمان سے کیا نازل فرماتا ہے اور انسان کے لیے اس پر عمل کس حد تک ممکن ہے نیز جو اعمال انسان اختیار کرتے ہیں اور ان احکام کا جو جواب بندوں کی طرف سے جاتا ہے اس کا علم بھی اللہ کو ہے یہ اس کی رحمت ہے کہ مہتل دیتا ہے اور اگر کوئی توبہ کرلے تو وہ بہت بڑا بخشنے والا ہے۔ رب کی قسم : کفار کہتے ہیں کہ انہیں قیامت کا حادثہ پیش نہ آئے گا۔ ان سے کہیے میرے رب کی قسم یعنی اللہ کی صفت ربوبیت اس بات پر گواہ ہے اور اس کا تقاضا ہے لہذا تم پر قیامت ضرور واقع ہوگی۔ کب ہوگی یہ حقیقت ان غائب امور میں سے ہے جن سے صرف اللہ واقف ہے۔ یہاں رب کی قسم سے ربوبیت کو گواہ بنایا گیا ہے کہ جس کی قسم دی جائے اس سے مراد اس واقعہ پر اس کی شہادت ہوتی ہے اسی وجہ سے اللہ کے علاوہ کسی کی قسم دینا جائز نہیں ہے۔ اللہ کے علوم اس قدر وسیع ہیں کہ انسانی عقل اندازہ تک کرنے سے معذور و قاصر ہے کہ ارض و سما کا ہر ذرہ یا اس سے بھی چھوٹا وجود یا کوئی بڑے سے بڑی شے سب کچھ تو لوح محفوظ میں ہے جو ایک کتاب ہے پھر اللہ کے علوم کی وسعت کا انداز کیسے ممکن ہے اور یہ سارا نظام اس نے اس لیے ترتیب دیا ہے کہ جو لوگ ایمان لائیں اور اطاعت کی راہ اختیار کریں ان پر اس کی بخشش اور کرم و احسان ہو اور وہ ایک خوبصورت زندگی اور بہت شاندار طریق زندگی حاصل کریں اور جو لوگ اللہ کے احکام کو نافذ ہونے سے روکیں ان پر عمل کرنے کی بجائے دوسروں کو بھی منع کریں ان کے لیے اس کے نتیجے میں دردناک عذاب ہو یہ سب کچھ اس علیم وخبیر کے اس نظام کے فطری نتائج ہیں۔ جن لوگوں کو پہلی کتابوں کا علم عطا ہوا ہے وہ اچھی طرح پرکھ سکتے ہیں کہ جو کچھ آپ پر نازل ہوا ہے یہ حق ہے اور اللہ کی طرف راہنمائی کرتا ہے وہ اللہ جو زبردست طاقت کا مالک اور تمام کمالات کا مالک ہے۔ اس خوبصورت نظام تخلیق کے ہوتے ہوئے کفار اخروی زندگی کا انکار کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ دوبارہ ذرات کو جوڑ کر انسان بنانا یا زندہ کرنا ممکن نہیں اس لیے لوگوں سے کہتے ہیں آؤ تمہیں ایک ایسے بندے کی بات سنائیں جو یہ کہتا ہے کہ جب تم مر کر مٹی میں مل جاؤگے اور تمہارے ذرات منتشر ہوچکے ہوں گے تو تمہیں پھر نئے سرے سے زندہ کیا جائے گا یوں لگتا ہے کہ ایسا کہنے والا بندہ اللہ پر بھی جھوٹ بول رہا ہے یا پھر اسے کسی جن نے پکڑا ہے اور جو منہ میں آتا ہے کہے جا رہا ہے بھلا ایسے ممکن ہے حالانکہ اپنی جہالت کی وجہ سے وہ خود آخرت کا انکار کرکے گمراہی میں مبتلا ہیں جس کے سبب سخت عذاب میں مبتلا ہوں گے اور حق سے بہت دور ہوچکے ہیں۔ دعوت فکر یعنی سائنس کی تحقیقات : ایسے جاہل ہیں کہ خود ان کے گردا گرد زمین و آسمان میں ہر لمحہ اور ہر گھڑی تخلیق ، حیات اور موت کا نظام اس بات پہ گواہ ہے کہ اللہ جو چاہے کرسکتا ہے اور یہی سائنس ہے کہ اشیاء کے وجود اور خواص کا تجزیہ کیا جائے اور اس سے عظمت باری پہ دلیل حاصل ہو۔ بلکہ انہیں تو سمجھ آجانی چاہیے کہ ہر شے اللہ کی قدرت سے قائم ہے اللہ چاہے تو زمین کفار کا بوجھ اٹھانے کی بجائے ان سمیت دھنس جائے یا آسمان پھٹ کر گر پڑے اور یہ اسی کفر کی حالت میں تباہ و برباد ہوجائیں کہ ان سائنسی تجزیوں میں بھی ہر اس بندے کے لیے جو اللہ کی طرف متوجہ ہو بیشمار دلائل موجود ہیں۔
Ayahs 34:10–21

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ مِنَّا فَضْلًا١ؕ یٰجِبَالُ اَوِّبِیْ مَعَهٗ وَ الطَّیْرَ١ۚ وَ اَلَنَّا لَهُ الْحَدِیْدَۙ Open ayah 34:10 in the Quran reader

اور یقینا ہم نے داؤد (علیہ السلام) کو اپنی طرف سے بزرگی بخشی تھی (کہ) اے پہاڑو ! ان کے ساتھ تسبیح کیا کرو اور پرندوں کو (مسخر فرمایا) اور ہم نے ان کے لئے لوہے کو نرم فرمادیا

اَنِ اعْمَلْ سٰبِغٰتٍ وَّ قَدِّرْ فِی السَّرْدِ وَ اعْمَلُوْا صَالِحًا١ؕ اِنِّیْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 34:11 in the Quran reader

کہ کشادہ زرہیں بنائیں اور کڑیوں کو اندازے سے جوڑیں اور نیک کام کریں۔ بیشک ہم تمہارے سب کاموں کو دیکھ رہے ہیں

وَ لِسُلَیْمٰنَ الرِّیْحَ غُدُوُّهَا شَهْرٌ وَّ رَوَاحُهَا شَهْرٌ١ۚ وَ اَسَلْنَا لَهٗ عَیْنَ الْقِطْرِ١ؕ وَ مِنَ الْجِنِّ مَنْ یَّعْمَلُ بَیْنَ یَدَیْهِ بِاِذْنِ رَبِّهٖ١ؕ وَ مَنْ یَّزِغْ مِنْهُمْ عَنْ اَمْرِنَا نُذِقْهُ مِنْ عَذَابِ السَّعِیْرِ Open ayah 34:12 in the Quran reader

اور سلیمان (علیہ السلام) کے لئے ہوا کو (مسخر فرما دیا) کہ اس (ہوا) کی صبح کی منزل ایک مہینہ بھر کی (راہ) ہوتی تھی اور اس کی شام کی منزل ایک مہینہ بھر کی (راہ) ہوتی تھی اور ہم نے ان کے لئے تانبے کا چشمہ بہادیا اور جنات میں سے بعضے وہ تھے جو ان کے پروردگار کے حکم سے ان کے آگے کام کرتے تھے اور جو کوئی ان میں سے ہمارے حکم سے پھرے گا تو اس کو ہم (جہنم کی) آگ کے عذاب کا مزہ چکھائیں گے

یَعْمَلُوْنَ لَهٗ مَا یَشَآءُ مِنْ مَّحَارِیْبَ وَ تَمَاثِیْلَ وَ جِفَانٍ كَالْجَوَابِ وَ قُدُوْرٍ رّٰسِیٰتٍ١ؕ اِعْمَلُوْۤا اٰلَ دَاوٗدَ شُكْرًا١ؕ وَ قَلِیْلٌ مِّنْ عِبَادِیَ الشَّكُوْرُ Open ayah 34:13 in the Quran reader

ان کے لئے وہ چیزیں جو وہ بنوانا چاہتے ، بناتے تھے (جیسے) بڑی بڑی عمارتیں اور مورتیں اور لگن (ایسے بڑے) جیسے حوض اور (بڑی بڑی) دیگیں (جو) ایک ہی جگہ رکھی رہیں۔ اے داؤد (علیہ السلام) کی اولاد (میرا) شکر ادا کرو اور میرے بندوں میں شکرگزار تھوڑے ہیں

فَلَمَّا قَضَیْنَا عَلَیْهِ الْمَوْتَ مَا دَلَّهُمْ عَلٰى مَوْتِهٖۤ اِلَّا دَآبَّةُ الْاَرْضِ تَاْكُلُ مِنْسَاَتَهٗ١ۚ فَلَمَّا خَرَّ تَبَیَّنَتِ الْجِنُّ اَنْ لَّوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ الْغَیْبَ مَا لَبِثُوْا فِی الْعَذَابِ الْمُهِیْنِؕ Open ayah 34:14 in the Quran reader

پھر جب ہم نے ان کے لئے موت کا حکم صادر فرمایا تو (جنات کو) کسی چیز سے ان کے مرنے کی خبر نہ ہوسکی یہاں تک کہ گھن کے کیڑے نے جو ان کے عصا کو کھاتا رہا۔ سو جب وہ گر پڑے تب جنات کو حقیقت معلوم ہوئی کہ اگر وہ غیب جانتے ہوتے تو اس ذلت کی مصیبت میں نہ رہتے

لَقَدْ كَانَ لِسَبَاٍ فِیْ مَسْكَنِهِمْ اٰیَةٌ١ۚ جَنَّتٰنِ عَنْ یَّمِیْنٍ وَّ شِمَالٍ١ؕ۬ كُلُوْا مِنْ رِّزْقِ رَبِّكُمْ وَ اشْكُرُوْا لَهٗ١ؕ بَلْدَةٌ طَیِّبَةٌ وَّ رَبٌّ غَفُوْرٌ Open ayah 34:15 in the Quran reader

یقینا سبا (کی قوم) کے لئے ان کے وطن میں نشانی (موجود) تھی (یعنی) وہ باغ (ایک) دائیں اور (ایک) بائیں طرف۔ اپنے پروردگار کے دیئے ہوئے رزق میں سے کھاؤ اور اس کا شکر کرو۔ (کیا) عمدہ شہر اور بخشنے والا پروردگار (اللہ)

فَاَعْرَضُوْا فَاَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ سَیْلَ الْعَرِمِ وَ بَدَّلْنٰهُمْ بِجَنَّتَیْهِمْ جَنَّتَیْنِ ذَوَاتَیْ اُكُلٍ خَمْطٍ وَّ اَثْلٍ وَّ شَیْءٍ مِّنْ سِدْرٍ قَلِیْلٍ Open ayah 34:16 in the Quran reader

سو انہوں نے سرتابی کی تو ہم نے ان پر بند کا سیلاب چھوڑ دیا اور ہم نے ان کے ان دو رویہ باغات کو ان دو باغوں میں بدل دیا جن میں (یہ چیزیں رہ گئی تھیں) بدمزہ پھل اور جھاؤ اور قدرے قلیل بیری

ذٰلِكَ جَزَیْنٰهُمْ بِمَا كَفَرُوْا١ؕ وَ هَلْ نُجٰزِیْۤ اِلَّا الْكَفُوْرَ Open ayah 34:17 in the Quran reader

یہ ہم نے ان کو ان کی ناشکری کی سزا دی اور ہم ناشکرے کو یہی سزا دیا کرتے ہیں

وَ جَعَلْنَا بَیْنَهُمْ وَ بَیْنَ الْقُرَى الَّتِیْ بٰرَكْنَا فِیْهَا قُرًى ظَاهِرَةً وَّ قَدَّرْنَا فِیْهَا السَّیْرَ١ؕ سِیْرُوْا فِیْهَا لَیَالِیَ وَ اَیَّامًا اٰمِنِیْنَ Open ayah 34:18 in the Quran reader

اور ہم نے ان کے اور ان بستیوں کے درمیان جہاں ہم نے برکت کر رکھی ہے گاؤں آباد کر رکھے تھے جو نظر آتے تھے اور ہم نے ان کے درمیان سفر کا (ایک خاص) انداز رکھا تھا کہ ان میں رات اور دن بےخوف وخطر چلتے رہو

فَقَالُوْا رَبَّنَا بٰعِدْ بَیْنَ اَسْفَارِنَا وَ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فَجَعَلْنٰهُمْ اَحَادِیْثَ وَ مَزَّقْنٰهُمْ كُلَّ مُمَزَّقٍ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍ Open ayah 34:19 in the Quran reader

تو انہوں نے کہا اے ہمارے پروردگار ! ہماری مسافتوں میں لمبائی بڑھا دے اور انہوں نے اپنے حق میں زیادتی کی سو ہم نے ان کو فسانہ بنادیا اور انہیں بالکل تتر بتر کردیا۔ بیشک اس میں ہر صبر کرنے والے (اور) شکر کرنے والے کے لئے نشانیاں ہیں

وَ لَقَدْ صَدَّقَ عَلَیْهِمْ اِبْلِیْسُ ظَنَّهٗ فَاتَّبَعُوْهُ اِلَّا فَرِیْقًا مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 34:20 in the Quran reader

اور واقعی ابلیس نے ان لوگوں کے بارے میں اپنا گمان صحیح پایا پھر ایمان والوں کی ایک جماعت کے علاوہ وہ اس کے پیچھے چل دیئے

وَ مَا كَانَ لَهٗ عَلَیْهِمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ اِلَّا لِنَعْلَمَ مَنْ یُّؤْمِنُ بِالْاٰخِرَةِ مِمَّنْ هُوَ مِنْهَا فِیْ شَكٍّ١ؕ وَ رَبُّكَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ حَفِیْظٌ۠ Open ayah 34:21 in the Quran reader

اور اس (ابلیس) کا ان پر کچھ زور نہ تھا مگر (مقصود یہ تھا) کہ جو لوگ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں ہم ان کو ان لوگوں سے الگ کریں جو اس میں شک رکھتے ہیں۔ اور آپ کا پروردگار ہر چیز پر نگہبان ہے

رکوع نمبر 2: آیات 10 تا 21: اسرار و معارف : داود (علیہ السلام) کو ہم نے بہت زیادہ نعمتیں عطا کیں۔ یہاں تک کہ پہاڑوں اور پرندوں تک کو حکم دی ا کہ ان کے ساتھ میری تسبیح کرو۔ مفسرین کے مطابق پہاڑ اور پرندے داود (علیہ السلام) کے ساتھ اس طرح ذکر کرتے تھے کہ عام سننے والا بھی سنتا تھا اور یہ اس تسبیح کے علاوہ تھی جو ہر شے کرتی ہے یعنی اگر کسی کے ساتھ بہت سے افراد اللہ کا ذکر کرنے لگ جائیں تو یہ اللہ کا بہت بڑا انعام ہے جو اس کے خاص بندوں کو نصیب ہوتا ہے نیز ان کے لیے بطور معجزہ لوہے کو نرم کردیا کہ لوہے کی زرہیں بنا کر تیار کریں اور حکم دیا کہ زرہ کی کڑیاں خوبصورت انداز میں جوڑیں۔ سب سے پہلے سامان جنگ میں لوہے کا لباس حضرت داود (علیہ السلام) نے ایجاد کیا اور انہیں خوبصورت انداز میں بنانے کا حکم بھی اس بات پر گواہ ہے کہ تخلیق باری میں تحقیق کرکے انسانی فلاح کے لیے نئی اور خوبصورت اور مفید اشیاء ایجاد کرنا عین اسلام ہے اور ان تمام نعمتوں سے آپ کی گردن اور جھک جائے اور نیکی کے کام کریں یعنی انسان کو اگر اللہ کی نعمتیں میسر ہوں تو شکر ادا کرنے کے لیے اطاعت اور عبادت میں زیادہ کوشش کرے اس لیے کہ جو کچھ بھی تم کرتے ہو اللہ اسے دیکھ رہا ہے۔ اور سلیمان (علیہ السلام) کے ک لیے ہوا کو مسخر کردیا جو اس کے لیے صبح و شام مہینہ مہینہ بھر کی مسافت طے کردیتی تھی۔ یعنی ہوائی جہاز کی صنعت سلیمان (علیہ السلام) کو عطا ہوئی تھی اور وہ اس پر سوار ہو کر ایک روز میں دو ماہ کی مسافت طے فرمایا کرتے تھے مفسرین کرام کے مطابق وہ اپنے لاؤ لشکر سمیت سفر کرتے تھے تو خواہ آج کی طرح انجن نہ ہوں صرف ان کے حکم پر ہوا لے اڑتی ہو تو بھی اس کی کوئی صورت تو ہوگی جس پر اس قدر لوگ آرام سے سوار ہوتے ہوں گے اور تیز ہوا اور موسمی اثرات سے محفوظ اپنی منزل پر پہنچ پاتے ہوں گے یعنی ہوائی جہاز کی ایجاد حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے فرمائی۔ دوسرا بڑا معجزہ یہ تھا کہ ان کے لیے تانبے کا چشمہ جاری فرما دیا۔ زمین سے پگھلا ہوا تانبہ ابلتا تھا جس سے وہ مختلف اشیا بنوایا کرتے تھے اور جنات کو ان کے لیے مسخر کردیا تھا کہ ان کے حکم پر ان کی خدمت کرتے اور بہت سے کام کردیا کرتے تھے اور اگر کوئی ان کے حکم سے سرتابی کی جرات کرتا جبکہ اللہ نے اطاعت کرنے کا حکم دیا تھا تو وہ جہنم کے عذاب کا مستحق قرار پاتا۔ تسخیر جنات اور عامل حضرات : تسخیر جنات بھی اللہ کی طرف سے معجزہ تھا کسی عمل یا وظیفہ کا نتیجہ نہ تھا اسی طرح بطور کرامت صحابہ کرام میں سے بہت سے نام تفسیر سراج منیر میں نقل فرمائے گئے ہیں کہ جنات جن کی خدمت کرتے اور ان کے ذاتی کام کردیا کرتے تھے مثلاً حضرت عمر بن الخطاب ، ابو ایوب انصاری ، زید بن ثابت ، معاذ بن جبل ، ابی ابن کعب اور حضرت ابوہریرہ ؓ مگر یہ بھی کسی عمل کا نتیجہ نہ تھا محض اللہ نے مسخر کردئیے تھے اسی طرح اولیاء اللہ سے بھی ثابت ہے ، رہے عامل تو عاملوں کی اکثریت اعمال بد اور کفریہ کلمات سے شیاطین کو مسخر کرنے میں لگی رہتی ہے جو ان کفریہ کلمات کے باعث کچھ نہ کچھ کام ضرور کردیتے ہیں اس طرح اس عامل سے مخلوق کو گمراہ کرنے کا کام لیتے ہیں گویا جنات کی بجائے خود عامل ان کا غلام بن جاتا ہے جب کہ کاملین کسی تسخیری عمل ک کے محتاج نہیں ہوتے محض اللہ کی عطا سے ان کی اطاعت کرتے ہیں اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو اللہ نے یہ طاقت بخشی کہ وہ جنات سے حکماً اور جبراً بھی بیگار لے سکتے تھے مگر ان کی اطاعت کرنے کا حکم تشریعی طور پر بھی تھا کہ جنات میں سے جو ان کی اطاعت نہ کرے گا اگرچہ وہ اس سے بیگار لینے پر تو قادر ہوں گے مگر خود وہ اللہ کے عذاب کی گرفت میں آجائے گا۔ صاحب معارف القرآن نقل فرماتے ہیں کہ جنات کی تسخیر اگر بغیر کسی قصد و عمل کے منجانب اللہ ہوجائے جیسا کہ سلیمان (علیہ السلام) اور بعض صحابہ کرام کے متعلق ثابت ہے تو وہ معجزہ یا کرامت میں داخل ہے اور جو تسخیر عملیات کے ذریعہ کی جاتی ہے اگر اس میں کلمات کفریہ یا اعمال کفریہ ہوں تو کفر اور صرف معصیت پہ مشتمل ہوں تو گناہ کبیرہ ہے۔ اور جن عملیات میں ایسے الفاظ استعمال کیے جائیں جن کے معنی معلوم نہیں ان کو بھی فقہا نے ناجائز کہا ہے۔ آگے چل کر لکھتے ہیں کہ اگر یہ عمل تسخیر اسماء الہیہ یا آیات قرآن کے ذریعہ ہو اور نجاست وغیرہ کے استعمال جیسی کوئی معصیت نہ ہو وہ بھی اس شرط کے ساتھ جائز ہے کہ مقصود اس سے جنات کی ایذا سے خود بچنا یا دوسرے مسلمانوں کو بچانا ہو یعنی دفع مضرت مقصود ہو جلب منفعت مقصود نہ ہو کیونکہ اگر اس کو کسب مال کا پیشہ بنایا گیا تو جائز نہیں۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) جس کام کا ارشاد فرماتے جنات خدمت کے لیے کمر بستہ رہتے تھے اور ان سے تع میرات کا کام لیتے نیز بڑے بڑے برتن تانبے وغیرہ کے بنواتے جو ہلائے نہ ہلیں جن میں لاؤ لشکر کے لیے کھانا تیار ہوتا اور نقش و نگار اور مکانات اور کمروں کی سجاوٹ کے لیے مختلف تصاویر بناتے کہ تخت سلیمان (علیہ السلام) پر بھی پرندوں کی تصاویر ہونا ملتا ہے۔ اور یہ سب ان کی شریعت میں یقیناً جائز تھا۔ اسلام میں تصویر بنانا صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ حرام ہے۔ نیز اس میں دو رائے ہیں جن پر دونوں طرف دلائل موجود ہیں کہ یہاں تمثیل ارشاد ہے ایسے ہی حدیث شریف میں بھی اور تمثیل مجسمہ ہوتی ہے جیسے کسی پرندے یا جانور کا بت بنایا جائے اور یہ ناجائز ہے جبکہ نقش پہ یہ حکم لاگو نہیں ہوتا۔ اسی جواز کی بنا پر مسجد نبوی ، حرم اور حج وغیرہ کی تصاویر لی جاتی ہیں یا ٹی وی کیمرے نصب ہیں اور دوسری رائے نقش کے بھی خلاف ہے کہ یہ سب حرام ہے مگر آج کل کی ضرورت کہ شناختی کارڈ پر یا مجرموں کی شناخت وغیرہ اور دوسرے امور کے لیے تو حرج نہیں اور اگر اس میں تقدس سمجھا جائے تو درست نہ ہوگا۔ واللہ اعلم۔ یہ سب ارشاد فرما کر فرمایا کہ اولاد داود (علیہ السلام) میں نے تم پر بہت احسانات فرمائے لہذا میرا شکر ادا کیا کرو کہ میرے بندوں میں کم ہی ایسے ہوں گے جنہیں شکر کرنا نصیب ہو۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ اس حقیقت کا اعتراف کہ یہ نعمت اللہ نے عطا کی ہے اس حد تک کہ اس نعمت کو اس کی مرضی کے مطابق صرف کرے دولت ہو طاقت و اقتدار یا علم تو یہ شکر ہے۔ منقول ہے کہ حضرت داود (علیہ السلام) نے عرض کیا بار الہہ میرا شکر کرنا بھی تو تیری دی ہوئی توفیق سے ہے پھر شکر کیسے ادا ہو تو فرمایا کہ اب تو نے شکر کیا ہے کہ اکثر انسان نعمتوں کا حصول اپنا ذاتی کمال سمجھتے ہیں اور اپنی پسند سے خرچ اور استعمال کرتے ہیں یہی بہت بڑی ناشکری ہے۔ دنیا پر حکومت پرندوں حیوانوں ہواؤں اور جنات پر تسلط رکھنے والے سلیمان (علیہ السلام) کو بھی دنیا سے رخصت ہونا تھا اور ان کی یہ رخصتی بھی عجیب تھی کہ بیت المقدس کی تعمیر حضرت داود (علیہ السلام) نے شروع کی تھی پھر سلیمان (علیہ السلام) کے عہد میں بھی کام ہوتا رہا۔ حتی کہ آپ کا وقت رخصت آ گیا ہنوز کام باقی تھا جن ایک سرکش قوم تھی کہ اگر انہیں آپ کے وصال کی خبر ہوتی تو کام چھوڑ جاتے چناچہ اللہ کے حکم سے آپ اپنے اس حجرہ میں جو شیشہ سے بنا تھا اور جہاں سے کام کا معائنہ فرمایا کرتے تھے اپنی لاتھی کے سہارے کھڑے ہوگئے اور روح قبض ہوگئی انبیاء (علیہ السلام) کی موت میں قبض روح سے مراد ہوتا ہے کہ اس کا تعلق اس عالم سے بدل کر برزخ سے جڑ جاتا ہے ورنہ قیام اسی جسم میں زندوں کی طرح ہوتا ہے اس پر حضرت مولانا اللہ یار خان (رح) کا رسالہ حیات النبی دیکھیے۔ اور وجود مبارک کھڑا رہا جب معائنہ فرمانے کا وقت ہوتا تو پردے ہٹا دئیے جاتے اور سب کو پتہ چلتا کہ آپ کھڑے ہو کر ملاحظہ فرما رہے ہیں کسی جن تک کو بھی آنکھ اٹھانے کی یا قریب جانے کی جرات نہ ہوتی نہ ہی سوائے چند خواص کے اہل دربار کو پتہ چلا اور یوں مزید ایک سال میں تعمیر مکمل ہوئی تب آپ کی لاٹھی کو دیمک نے کھالیا اور وجود مبارک گر گیا تب جنات کو پتہ چلا کہ آپ کا تو وصال ہوچکا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے کہ اگر جنات کو غیب کا پتہ ہوتا تو سال بھر اس مشقت کی ذلت میں کیوں گرفتار رہتے۔ جنات اور علم غیب جنات چونکہ لمحوں میں لمبی لمبی مسافتیں قطع کرسکتے ہیں نیز بہت گھومتے بھی ہیں تو دور دراز کی خبریں جب لوگوں کو دیتے تو یہ اعتقاد بن گیا کہ یہ غیب جانتے ہیں جو کہ درست نہ تھا لہذا یہاں نفی فرما دی کہ اگر غیب جانتے تو سال بھر مشقت میں مبتلا نہ رہتے۔ قوم سبا کا تذکرہ : قوم سبا جن میں سے ملکہ بلقیس بھی تھیں بڑی خوشحال وقوم تھی اللہ کریم نے انہیں بہت سی نعمتوں سے نوازا تھا کہ ان کا علاقہ پہاڑوں اور وادیوں سے بھرا تھا چناچہ شہر مارب سے اوپر انہوں نے بہت بڑا بند باندھا جو بارش کے پانی سے بھر جاتا اور سال بھر اس سے نہریں جاری رہاتیں جو راستوں کے ساتھ ساتھ چلتی تھیں اور راستوں کے دونوں طرف باغات کو سیراب کرتی تھیں چناچہ سال بھر کے ہر موسم کے پھل مسافر تک کو نصیب رہتے اور ان کے شہر بہت خوبصورت اور صاف ستھرے تھے ظاہر ہے جہاں اسباب معیشت مضبوط ہوں گے آبادیاں یقیناً خوبصورت ہوں گی اور ان سب نعمتوں کے ساتھ سب بڑی نعمت اللہ کی مغفرت تھی کہ اس کو یاد کرتے اس کی عظمت کا اقرار کرتے رہتے تو بتقاضائے بشریت اگر خطا بھی ہوجاتی تو اس کی مغفرت اور بخشش ان کی دستگیری کو موجود تھی ، مگر آہستہ آہستہ یہ خوشحالی ان کو راس نہ آئی اور اللہ کی اطاعت سے دور لے گئی چناچہ انہوں نے اعراض کیا یعنی عظمت الہی کو بھول گئے اور خاطر تک میں نہ لائے تو وہی بند اور پانی جو نعمتوں کا سبب تھا عذاب کا باعث بن گیا اللہ نے چوہے مسلط کردئیے تھے وہاں ویرانیاں باقی بچ رہیں اور جنگلی جھاڑ جھنکار پیدا ہوگئے شہر اور آبادیاں ویران ہوگئیں قوم ہلاک ہوگئی اور رونقیں اجڑ کر عبرت کا سامان بن گئیں۔ یہ سب سزا انہیں ان کے کفر اور ناشکری کی وجہ سے ملی اور ناشکری کا بدلہ اس کے سوا ہو بھی کیا سکتا ہے لہذا گستاخوں کو ایسی ہی سزا اور یہی انجام نصیب ہوتا ہے ورنہ ان پر صرف یہی بلکہ اللہ کا یہ احسان تھا کہ دور دراز کے شہروں تک راستوں میں مناسب فاصلوں پر ان کی آبادیاں موجود تھیں اور ان میں امن وامان تھا کہ دوران سفر ٹھنڈی سڑکیں ، پھل ، پانی کی نہریں اور ٹھہرنے کیلئے جگہ جگہ آبادیاں موجود تھیں نہ چور کا خطرہ نہ ڈاکو کا ڈر گویا یہ سب بہت بڑئے انعامات ہوں اگر کسی کو بھی نصیب ہوں اور قیام امن اور آبادی و خوشحالی کے لیے کوشش کرنا گویا حصول برکات کے لیے محنت شمار ہوتی ہے مگر ناشکری دیکھیے کہ کہتے تھے ہمیں تو سفر کا مزہ ہی نہیں ملتا راستے ویران ہوتے بھوک پیاس لگتی اس کا سامان کرنا پڑتا تو مزہ آتا پھر چور کا ڈر نہ ڈاکو کا خطرہ تو بھلا سفر کا لطف ہی کیا اور دعا کرتے کہ خدایا یہ ایک سی زندگی مزیدار نہیں ہے اسے تبدیل کردے ہمارے سفر لمبے اور ویران راستوں پر ہوں اور خطرات کا مقابلہ ہو تو زندگی کا پتہ چلے یہ کہہ کر انہوں نے خود اپنے ساتھ زیادتی کی اور امن اور خوشحالی جیسی نعمت کو ٹھکرا دیا جس پر عذاب الہی وارد ہوا اور انہیں تباہ و برباد کردیا اور جو بچ گئے وہ ٹکڑوں میں بٹ کر محض افسانوں میں بس گئے کہ سبا کا دادا جس کا نام عبد شمس تھا یہی وہ شاہ یمن تھا جس نے مکہ مکرمہ پر قبضہ کرکے اہل مکہ کو قید کرلیا تھا اور پھر بیماری میں مبتلا ہونے کے باعث انہیں آزاد کیا عزت دی اور تحقیق کتب سے پتہ چلایا کہ یہاں نبی آخر الزماں مبعوث ہوں گے تو اسی نے کچھ علماء کو یثرب آباد کرنے کا حکم دیا اور آپ ﷺ کے نام خط دیا جس میں آرزو کی کہ اگر میں آپ کا زمانہ پاؤں تو خدمت کرکے سعادت حاصل کروں جو ہجرت مدینہ پر آپ کو حضرت ابو ایوب انصاری نے پیش کردیا تھا یہ سب اس کی اولاد اور بڑے دبدبے والے لوگ تھے مگر بہت سے ادھر ادھر بھاگ گئے اور شام اور عرب کی وادیوں میں جا بسے اور بہت سے سیلاب میں بہہ گئے یوں سلطنت آبادیاں اور سب رعب و دبدبہ رخصت ہو کر تباہ و برباد حال ہوگئے۔ ان کی داستان باعث عبرت بن گئی بلکہ صبر اور شکر کرنے والوں کے لیے تو اس میں بہت بڑا سبق ہے کہ اللہ کی طرف سے مشکل حالات آئیں تو صبر کرے لیکن خوشحالی میں بھی شکر ضروری ہے جو مصیبت پر صبر سے مشکل ہے اور صبر و شکر کرنیوالے ہی اللہ کی رضا کو پانے والے ہیں۔ یہ تو ایسے نالائق ثابت ہوئے کہ ابلیس کا گمان جو اس نے روز ازل سے کیا تھا کہ اولاد آدم (علیہ السلام) میری بات مانے گی انہوں نے سچ کردکھایا اور واقعی اس کے پیروکار بن گئے سوائے چند خوش نصیبوں کے جو ایمان پر قائم رہے حالانکہ شیطان ان سے زبردستی ایسا نہیں کرواسکتا تھا سوائے اس کے کہ یہ تو خود ہماری طرف سے آزمائش ہے کہ سامنے آجائے اور واضح ہوجائے کہ کون آخرت پر یقین رکھتا ہے اور کون ہے جو مھض ماننے کی بات کرتا حالانکہ اسے یقین نہیں بلکہ دل میں شک رکھتا ہے ورنہ اے بندے تیرا پروردگار ہر شے سے حفاظت کرنے پر قادر ہے ابلیس ہو یا برائی کی کوئی طاقت تیرا کچھ بگاڑ نہیں سکتی جب تک تو خود اپنے پروردگار کو چھوڑ کر اس کے پیچھے نہ چل دے۔
Ayahs 34:22–30

قُلِ ادْعُوا الَّذِیْنَ زَعَمْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ۚ لَا یَمْلِكُوْنَ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَ لَا فِی الْاَرْضِ وَ مَا لَهُمْ فِیْهِمَا مِنْ شِرْكٍ وَّ مَا لَهٗ مِنْهُمْ مِّنْ ظَهِیْرٍ Open ayah 34:22 in the Quran reader

آپ فرمادیجئے کہ جن کو تم اللہ کے سوا (معبود) خیال کرتے ہو۔ ان کو پکارو۔ وہ آسمانوں اور زمین میں ذرہ بھر چیز کے بھی مالک نہیں اور نہ ان کی ان دونوں میں شرکت ہے اور نہ ان میں سے (اللہ) کا (کسی کام میں) کوئی مددگار ہے

وَ لَا تَنْفَعُ الشَّفَاعَةُ عِنْدَهٗۤ اِلَّا لِمَنْ اَذِنَ لَهٗ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوْبِهِمْ قَالُوْا مَا ذَا١ۙ قَالَ رَبُّكُمْ١ؕ قَالُوا الْحَقَّ١ۚ وَ هُوَ الْعَلِیُّ الْكَبِیْرُ Open ayah 34:23 in the Quran reader

اور اس کے ہاں (کسی کے لئے) سفارش فائدہ نہ دے گی مگر سوائے اس کے کہ جس کے لئے وہ اجازت بخشیں یہاں تک کہ جب ان (فرشتوں) کے دلوں سے گھبراہٹ دور کردی جاتی ہے تو ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں تمہارے پروردگار نے کیا حکم فرمایا وہ (فرشتے) کہتے ہیں کہ حق فرمایا اور وہ عالیرتبہ اور گرامی قدر ہے

قُلْ مَنْ یَّرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ قُلِ اللّٰهُ١ۙ وَ اِنَّاۤ اَوْ اِیَّاكُمْ لَعَلٰى هُدًى اَوْ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 34:24 in the Quran reader

فرمادیجئے تم کو آسمانوں اور زمین میں سے کون رزق دیتا ہے۔ فرما دیجئے کہ اللہ (ہی دیتے ہیں) اور ہم یا تم (یا تو) ضرور سیدھے راستے پر ہیں یا بہت واضح گمراہی میں

قُلْ لَّا تُسْئَلُوْنَ عَمَّاۤ اَجْرَمْنَا وَ لَا نُسْئَلُ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 34:25 in the Quran reader

فرمادیجئے کہ ہمارے گناہوں کی تم سے پرسش نہ ہوگی اور نہ تمہارے اعمال کی پرسش ہم سے ہوگی

قُلْ یَجْمَعُ بَیْنَنَا رَبُّنَا ثُمَّ یَفْتَحُ بَیْنَنَا بِالْحَقِّ١ؕ وَ هُوَ الْفَتَّاحُ الْعَلِیْمُ Open ayah 34:26 in the Quran reader

فرمادیجئے کہ ہمارا پروردگار ہم کو جمع فرمائے گا پھر ہمارے درمیان انصاف سے فیصلہ کر دے گا اور وہ بہتر فیصلہ کرنے والا (اور) علم والا ہے

قُلْ اَرُوْنِیَ الَّذِیْنَ اَلْحَقْتُمْ بِهٖ شُرَكَآءَ كَلَّا١ؕ بَلْ هُوَ اللّٰهُ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 34:27 in the Quran reader

فرمائیے (ذرا) مجھے دکھاؤ تو جن کو تم نے شریک بنا کر اس (اللہ) کے ساتھ ملارکھا ہے۔ ہرگز نہیں (اس کا کوئی شریک نہیں) بلکہ وہی (اکیلے) اللہ غالب (اور) حکمت والے ہیں

وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا كَآفَّةً لِّلنَّاسِ بَشِیْرًا وَّ نَذِیْرًا وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 34:28 in the Quran reader

اور ہم نے آپ کو تمام لوگوں کے لئے خوشخبری سنانے والے اور ڈرنے والے بنا کر بھیجا ہے و لیکن بہت سے لوگ نہیں جانتے

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 34:29 in the Quran reader

اور وہ کہتے ہیں کہ یہ وعدہ کب (پورا) ہوگا اگر آپ (نبی ﷺ اور ان کے پیرو) سچ فرماتے ہیں تو

قُلْ لَّكُمْ مِّیْعَادُ یَوْمٍ لَّا تَسْتَاْخِرُوْنَ عَنْهُ سَاعَةً وَّ لَا تَسْتَقْدِمُوْنَ۠ Open ayah 34:30 in the Quran reader

آپ فرما دیجئے کہ تمہارے لئے ایک (خاص) دن کا وعدہ (مقرر) ہے کہ تم اس سے نہ ایک ساعت پیچھے ہٹ سکتے ہو اور نہ تم آگے بڑھ سکتے ہو

رکوع نمبر 3 ۔ آیات 22 تا 30: اسرار و معارف : آپ اپنے مخاطبین سے بھی فرما دیجیے کہ اپنے مشرکانہ عقاید میں اللہ کے علاوہ جن بتوں سے تم نے امیدیں وابستہ کر رکھی ہیں ان کی بھی کوئی حیثیت نہیں کہ اگر پہلی امتوں پر آنے والے عذاب کو کوئی نہیں ٹال سکا تو تمہارے معبودان باطلہ بھی تمہیں کوئی مدد نہ پہنچا سکیں گے اس لیے کہ کائنات میں وہ کسی ذرہ بھر شئے کے مالک نہیں نہ ان کی ذات باری کی ملکیت میں کسی طرح کی کوئی شراکت ہے اور نہ ہی ان میں یہ استعداد ہے کہ کسی کی مدد کرسکیں گے اگر تمہارا یہ عقیدہ ہے کہ ان کی شراکت تو نہیں لیکن یہ اللہ کریم کے نزدیک سفارش کرسکتے ہیں تو ان میں سفارش کرنے کی بھی استعداد نہیں کہ ان کی کوئی حیثیت ہی نہیں جبکہ اس کی بارگاہ میں سفارش کرسکتے ہیں تو ان میں سفارش کرنے کی بھی استعداد نہیں کہ ان کی کوئی حیثیت ہی نہیں جبکہ اس کی بارگاہ میں سرارش بھی ہر کوئی نہیں کرسکتا صرف اس کی بارگاہ کی مقبول ہوستیاں اور وہ بھی تب جب انہیں کسی معاملہ میں سفارش کی اجازت عطا ہو کرسکتی ہیں اس کے باوجود اس بارگاہ کے مقرب فرشتے تک لرزاں و ترساں رہتے ہیں کہ جب کبھی انہیں اس بارگاہ عالی سے کچھ ارشاد ہوتا ہے تو عظمت الہی سے مدہوش ہوجاتے ہیں تا آنکہ تا آنکہ جب ان کے دلوں سے ہیبت دور ہوچکے تو آپس میں ایک دوسرے سے مشورہ کرتے ہیں کہ بارگاہ عالی سے کیا ارشاد ہوا تھا اور تحقیق کے بعد تعمیل ارشاد پر کمر باندھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس کا ارشاد حق ہے اور وہ بہت عالی ہے سب سے اوپر۔ اور یہ ایسی روشن حقیقت ہے کہ یہ خود بھی جانتے ہیں بھلا ان سے پوچھیے کہ ارض و سما میں کو ایسی ہستی ہے جو سب کو رزق پہنچا رہی ہے جو اب ان کے پاس اس کے سوا نہ ہوگا کہ صرف اللہ تو آپ بھی فرما دیجیے کہ سب کا پروردگار صرف اللہ ہے کہ اور کوئی ہو ہی نہیں سکتا۔ اب تمہارا عقیدہ مختلف ہے کہ تم اللہ کے علاوہ بھی دوسروں کی پوجا کرتے ہو اور ان سے امیدویں وابستہ کر رکھی ہیں جبکہ ہمارا سب بھروسہ ایک ذات پر ہے یعنی صرف اللہ پر اور دنوں باتیں بیک وقت درست ثابت نہیں ہوسکتیں کہ توحید بھی درست اور شرک بھی صحیح لہذا ایک فریق یقیناً گمراہ ہے خود اندازہ کرلو کہ کون ہوسکتا ہے یہاں اصول مناظرہ واضح ہوگیا کہ دلائل عقلی و نقلی سے حق کو ثابت کردیا جائے نہ کہ محض مقابل کی شکست ہی مطلوب ہو اور پھر اپنی بات دوروں پہ مسلط نہ کی جائے لہذا ارشاد ہوتا ہے کہ اگر تمہارے گمان کے مطابق ہم غلطی پر ہیں تو ہمارے جرائم کی پرسش تم لوگوں سے نہ ہوگی کہ تم کوئی جھگڑا کھڑا کرو اور اگر تم غلطی پر ہو تو اس کا خمیازہ تم ہی بھگتو گے لہذا ہمیں اس کی فکر نہ چاہیے رہی یہ بات کہ حق واضح ہونا چاہیے تو وہ وقت بھی بہت جلدی آ رہا ہے جب ہمارا پروردگار ہم تم سب کو یکجا جمع فرم اکر خود حق و باطل کا فیصلہ فرما دے گا کہ وہی حقیقتاً فیصلہ کرنے والا ہے جسے ہر شے اور ہر بات کا علم ہے بھلا جن باطل معبودوں کو تم اللہ سے ملاتے ہو اور ان کی عبادت بھی کرتے ہو ان سے امیدیں باندھ رکھی ہیں ان کی حیثیت کیا ہے اس طرح دلائل سے ہم پر ثابت تو کرو بلکہ تم ایسا کر ہی نہیں سکتے کہ اللہ بہت ہی بڑا غالب ہے سب پر اور وہ دانا تر ہے ان سب امور سے واقف ہے یہ اس کی حکمت بالغہ ہے کہ تمہیں موقع بخشتا جا رہا ہے رہی یہ بات کہ بھلا ہم تمہیں یہ سب کیوں کہتے ہیں تو اس لیے کہ ہم نے آپ کو تمام انسانوں کے لیے نبوت و رسالت سے سرفراز فرمایا ہے اور آپ کا منصب عالی ہے کہ نیک عمل کرنے والوں کو ان کے نیک انجام کی بشارت دیں اور بدکاروں کو اعمال بد کے نتائج سے مطلع فرمائیں یعنی آپ ﷺ کی نبوت بیک وقت روئے زمین پر بسنے والے تمام انسانوں کے لیے اور ہمیشہ کے لیے ہے آج بھی آپ ﷺ ہی نبی ہیں اور آنے والی نسلوں کے نبی بھی آپ ﷺ ہیں کوئی نیا نبی نہ آئے گا لہذا آپ ﷺ کا ہر امتی آپ ﷺ کے پیغام کو پہنچانے اور حق کو حق اور باطل کو باطل ثابت کرنے کا ذمہ دار ہے مگر افسوس ہے ان بدبختوں پر کہ ایک کثیر تعداد انسانوں کی اس حقیقت سے بیخبر ہے بلکہ الٹا مذاق اڑاتے ہیں بھلا وہ دن کہاں جب فیصلہ ہوگا ا اور جس کا آپ وعدہ سناتے ہیں انہیں فرما دیجیے کہ تم سب کے لیے ایک روز کا وعدہ ہے جسے تم ٹال نہ سکوگے اور جو کبھی آگے پیچھے نہ ہوگا جیسے وقت مقررہ پر مر جاتے ہو اور کچھ نہیں کرسکتے اسی طرح وقت مقرر پر میدان حشر میں بھی حاضر ہوجاؤگے۔
Ayahs 34:31–36

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ بِهٰذَا الْقُرْاٰنِ وَ لَا بِالَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْهِ١ؕ وَ لَوْ تَرٰۤى اِذِ الظّٰلِمُوْنَ مَوْقُوْفُوْنَ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ۖۚ یَرْجِعُ بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضِ اِ۟لْقَوْلَ١ۚ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا لِلَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْا لَوْ لَاۤ اَنْتُمْ لَكُنَّا مُؤْمِنِیْنَ Open ayah 34:31 in the Quran reader

اور یہ کفار (دنیا میں تو) کہتے ہیں ہم ہرگز ایمان نہ لائیں گے اس قرآن پر اور نہ اس سے پہلی (کتابوں) پر اور اگر آپ (ان کی اس وقت کی حالت) دیکھیں جب یہ ظالم اپنے پروردگار کے سامنے کھڑے کیے جائیں گے ایک دوسرے پر بات ڈالتے ہوں گے ، (چنانچہ) کمزور لوگ بڑے لوگوں سے کہیں گے کہ اگر تم نہ ہوتے تو ہم ضرور ایمان والے ہوتے

قَالَ الَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْا لِلَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْۤا اَنَحْنُ صَدَدْنٰكُمْ عَنِ الْهُدٰى بَعْدَ اِذْ جَآءَكُمْ بَلْ كُنْتُمْ مُّجْرِمِیْنَ Open ayah 34:32 in the Quran reader

(اس پر) بڑے لوگ چھوٹے لوگوں سے کہیں گے کیا ہم نے تم کو (زبردستی) روکا تھا اس کے بعد کہ جب وہ ہدایت تم تک پہنچ چکی تھی ؟ بلکہ تم ہی قصور وار تھے

وَ قَالَ الَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا لِلَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْا بَلْ مَكْرُ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ اِذْ تَاْمُرُوْنَنَاۤ اَنْ نَّكْفُرَ بِاللّٰهِ وَ نَجْعَلَ لَهٗۤ اَنْدَادًا١ؕ وَ اَسَرُّوا النَّدَامَةَ لَمَّا رَاَوُا الْعَذَابَ١ؕ وَ جَعَلْنَا الْاَغْلٰلَ فِیْۤ اَعْنَاقِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ هَلْ یُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 34:33 in the Quran reader

اور وہ چھوٹے لوگ بڑے لوگوں سے کہیں گے بلکہ تمہاری رات اور دن کی چالوں نے (روکا تھا) جب تم ہم سے کہتے تھے کہ ہم اللہ کا انکار کریں اور اس کے ساتھ شریک بنائیں اور وہ لوگ دلوں میں پشیمان ہوں گے۔ جب وہ عذاب دیکھیں گے اور ہم کافروں کی گردنوں میں طوق ڈال دیں گے ۔ جیسا وہ کرتے تھے ویسا بدلہ پایا

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا فِیْ قَرْیَةٍ مِّنْ نَّذِیْرٍ اِلَّا قَالَ مُتْرَفُوْهَاۤ١ۙ اِنَّا بِمَاۤ اُرْسِلْتُمْ بِهٖ كٰفِرُوْنَ Open ayah 34:34 in the Quran reader

اور ہم نے کسی بستی میں (انجام بد سے) ڈرانے والا (پیغمبر) نہیں بھیجا مگر وہاں کے خوشحال لوگوں نے کہا جو چیز آپ دے کر بھیجے گئے ہیں بیشک ہم اس کا انکار کرتے ہیں

وَ قَالُوْا نَحْنُ اَكْثَرُ اَمْوَالًا وَّ اَوْلَادًا١ۙ وَّ مَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِیْنَ Open ayah 34:35 in the Quran reader

اور کہنے لگے ہم مال اور اولاد میں (تم سے) زیادہ ہیں اور ہم کو کبھی عذاب نہ ہوگا

قُلْ اِنَّ رَبِّیْ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 34:36 in the Quran reader

آپ فرما دیجئے کہ بیشک میرا پروردگار جس کو چاہتا ہے زیادہ روزی دیتا ہے اور (جسے چاہتا ہے) کم دیتا ہے و لیکن اکثر لوگ (اس سے) واقف نہیں

رکوع نمبر 4 ۔ آیات 31 تا 36 ۔ اسرار و معاف : قیامت اور جزا و سزا کی بات سن کر کفار مذاق اڑاتے اور انکار کرتے ہیں کہ ہم سا قرآن پہ یقین ہی نہیں رکھتے اور نہ اس طرح کی پہلی کتابوں پر جو ایسی بات کرتی ہیں لیکن ان کا انکار قیامت قائم ہونے کو روک تو نہ سکے گا اور اے مخاطب تو دیکھے گا جب یہ سب بدکار اللہ کے حضور پیشی کے لیے کھڑے کیے جائیں گے تو گھبرا کر ایک دوسرے پر الزام دھرنے لگیں گے۔ عام طبقے کے لوگ خواص سے کہیں گے کہ اگر تم نہ ہوتے تو ہم ایمان قبول کرچکے ہوتے ہماری گمراہی کا باعث تم لوگ ہو تو وہ لوگ جواب دینگے بھلا ہم نے تم کو زبردستی تھوڑی روک رکھا تھا یا مسلمان ہونے پہ کوئی اور پابندی لگا رکھی تھی جب تمہیں دعوت ایمان پہنچ رہی تھی اسے ہم نے نہ روکا تو تمہیں ماننے سے کب روکا تھا یہ سب تمہارا اپنا کیا دھرا ہے تب عوام جواب دیں گے کہ تم لوگ تھے جو معاشرے کی تدبیر کرتے تھے تعلیم و تعلم کا شعبہ تم بناتے تھے معاش اور روزگار تمہارے ہاتھوں میں تھے قانون اور عدالتوں پر تم مسلط تھے غرض معاشرے پر تمہارا تسلط تھا تم نے معاشرے کو ایسے ڈھب میں ڈالا کہ ہم ایمان سے دور ہوتے چلے گئے اور تمہاری شب و روز کی تدابیر نے ہمیں کفر کا راستہ دکھایا اور غیر اللہ سے امیدیں دلوائیں جس کے نتیجے میں ہم حق سے دور ہوگئے لیکن اندر ہی اندر سب جانتے ہوں گے طبقہ امراء بھی اپنے کیے پہ پچھتا رہے ہوں گے کہ واقعی ہم نے بڑی خطا کی اور عوام کو بھی احساس ہوگا کہ ہم نے بھی کچھ نہ سوچا کاش اس وقت حق کا انتخاب کیا ہوتا مگر اپنی ندامت ایک دوسرے سے چھپا رہے ہوں گے لیکن کب تک ابھی تو عذاب صرف سامنے تھا تو یہ حال تھا جب ان کے گلے میں طوق اور زنجیریں پہنا دی جائیں گی اور جہنم میں پھینکے جائیں گے تب صحیح سمجھ سکیں گے اور چالئیں گے مگر بےسود کہ حاصل تو وہی ہوگا جو اپنے عمل سے کما کر لائے تھے اب نہ پچھتانے سے بات بن سکے گی اور نہ فریاد کرنے سے ۔ اور ہمیشہ سے یہ حال رہا ہے کہ جب کسی قوم میں اللہ کا نبی مبعوث ہوا اور یہ ان کی خوش نصیبی کہ انہیں بروقت کفر کے انجام بد کی خبر کردی مگر اقتدار کے نشے میں اندھے لوگوں نے سب سے پہلے اس کو ماننے سے انکار کردیا اور دلیل یہ دی کہ دیکھو ہمارے پاس مال و دولت بھی ہے اولاد کی نعمت بھی بھلا اگر ہم سے اللہ ناراض ہوتا تو یہ سب مہربانی کیوں کرتا لہذا ہم پر وہ خوش ہے ہمیں کبھی عذاب نہ دے گا انہیں بتا دیجیے کہ دولت دنیا اس کی رضا مندی کی دلیل نہیں بلکہ محض ایک آزمائش ہے کسی کو زیادہ رزق اور اختیار و اقتدار دے کر آزماتا ہے تو دوسرے پر تنگی بھیج کر اسے پرکھ لیتا ہے ۔ رضا مندی کی دلیل صرف اطاعت کی توفیق ہے مگر یہ بات اکثر لوگوں کی سمجھ میں نہیں آ رہی اور وہ نہیں جانتے۔