33. Surah Al-Ahzaab

الأحزابThe Clans · 73 ayahsاسرار التنزیل

Ayahs 33:1–8

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اتَّقِ اللّٰهَ وَ لَا تُطِعِ الْكٰفِرِیْنَ وَ الْمُنٰفِقِیْنَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیْمًا حَكِیْمًاۙ Open ayah 33:1 in the Quran reader

اے پیغمبر ! اللہ سے ڈرتے رہیے اور کافروں اور منافقوں کا کہنا مت مانیے۔ بیشک اللہ جاننے والے (اور) حکمت والے ہیں

وَّ اتَّبِعْ مَا یُوْحٰۤى اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًاۙ Open ayah 33:2 in the Quran reader

اور آپ کی طرف جو آپ کے پروردگار کی طرف سے وحی فرمائی جاتی ہے اسی کی پیروی کیجئے۔ بیشک اللہ تمہارے سب اعمال کی پوری خبر رکھتے ہیں

وَّ تَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ وَكِیْلًا Open ayah 33:3 in the Quran reader

اور آپ اللہ پر بھروسہ کیجئے۔ اور اللہ (ہی) کافی کار ساز ہیں

مَا جَعَلَ اللّٰهُ لِرَجُلٍ مِّنْ قَلْبَیْنِ فِیْ جَوْفِهٖ١ۚ وَ مَا جَعَلَ اَزْوَاجَكُمُ الّٰٓئِیْ تُظٰهِرُوْنَ مِنْهُنَّ اُمَّهٰتِكُمْ١ۚ وَ مَا جَعَلَ اَدْعِیَآءَكُمْ اَبْنَآءَكُمْ١ؕ ذٰلِكُمْ قَوْلُكُمْ بِاَفْوَاهِكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یَقُوْلُ الْحَقَّ وَ هُوَ یَهْدِی السَّبِیْلَ Open ayah 33:4 in the Quran reader

اللہ نے کسی شخص کے سینہ میں دو دل نہیں بنائے اور ان بیبیوں کو جن سے تم ظہار (بیوی سے کہنا کہ تم میری ماں کی پیٹھ جیسی ہو) کرلیتے ہو ، تمہاری ماں نہیں بنایا اور نہ تمہارے منہ بولے بیٹوں کو تمہارا (سچ مچ کا) بیٹا ینادیا ہے یہ صرف تمہارے منہ سے کہنے کی بات ہے۔ اور اللہ حق بات فرماتے ہیں اور وہی سیدھا راستہ دکھاتے ہیں

اُدْعُوْهُمْ لِاٰبَآئِهِمْ هُوَ اَقْسَطُ عِنْدَ اللّٰهِ١ۚ فَاِنْ لَّمْ تَعْلَمُوْۤا اٰبَآءَهُمْ فَاِخْوَانُكُمْ فِی الدِّیْنِ وَ مَوَالِیْكُمْ١ؕ وَ لَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ فِیْمَاۤ اَخْطَاْتُمْ بِهٖ١ۙ وَ لٰكِنْ مَّا تَعَمَّدَتْ قُلُوْبُكُمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 33:5 in the Quran reader

تم ان کو ان کے (اصلی) باپوں کے نام سے پکارا کرو کہ اللہ کے نزدیک یہی درست بات ہے پھر اگر تم کو ان کے باپوں کے نام معلوم نہ ہوں تو وہ تمہارے دینی بھائی اور تمہارے دوست ہیں۔ اور اس میں جو بھول چوک ہوجائے اس پر تمہیں گناہ نہ ہوگا و لیکن جو تم دلی ارادے سے کرو (اس پر مواخذہ ہوگا) ۔ اور اللہ بخشنے والے رحم کرنے والے ہیں

اَلنَّبِیُّ اَوْلٰى بِالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ اَنْفُسِهِمْ وَ اَزْوَاجُهٗۤ اُمَّهٰتُهُمْ١ؕ وَ اُولُوا الْاَرْحَامِ بَعْضُهُمْ اَوْلٰى بِبَعْضٍ فِیْ كِتٰبِ اللّٰهِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُهٰجِرِیْنَ اِلَّاۤ اَنْ تَفْعَلُوْۤا اِلٰۤى اَوْلِیٰٓئِكُمْ مَّعْرُوْفًا١ؕ كَانَ ذٰلِكَ فِی الْكِتٰبِ مَسْطُوْرًا Open ayah 33:6 in the Quran reader

پیغمبر ایمان والوں سے خودان کی جانوں سے بھی زیادہ تعلق (حق) رکھتے ہیں اور آپ کی بیویاں ان کی مائیں ہیں۔ اور رشتہ دار اللہ کی کتاب میں ایک دوسرے سے زیادہ تعلق رکھتے ہیں بہ نسبت دوسرے مومنین اور مہاجرین کے مگر یہ کہ تم اپنے دوستوں سے احسان کرنا چاہو تو (وہ اور بات ہے) ۔ یہ حکم کتاب (قرآن) میں لکھ دیا گیا ہے

وَ اِذْ اَخَذْنَا مِنَ النَّبِیّٖنَ مِیْثَاقَهُمْ وَ مِنْكَ وَ مِنْ نُّوْحٍ وَّ اِبْرٰهِیْمَ وَ مُوْسٰى وَ عِیْسَى ابْنِ مَرْیَمَ١۪ وَ اَخَذْنَا مِنْهُمْ مِّیْثَاقًا غَلِیْظًاۙ Open ayah 33:7 in the Quran reader

اور جب ہم نے پیغمبروں سے ان کا عہد لیا اور آپ سے اور نوح (علیہ السلام) سے اور ابراہیم (علیہ السلام) اور موسیٰ اور عیسیٰ (علیہما السلام) بیٹے مریم (علیہا السلام) کے سے اور ہم نے ان سے خوب پختہ عہد لیا

لِّیَسْئَلَ الصّٰدِقِیْنَ عَنْ صِدْقِهِمْ١ۚ وَ اَعَدَّ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابًا اَلِیْمًا۠ Open ayah 33:8 in the Quran reader

تاکہ سچوں سے ان کے سچ کے بارے پوچھا جائے اور کافروں کے لئے (اللہ نے) دردناک عذاب تیار کررکھا ہے

سورة الاحزاب آیات 1 تا 8 اسرارو معارف کفار و مشرکین عرب نے انتہائی دباؤ ڈالا اور مختلف طرح سے پیشکش بھی کی کہ کم از کم مسلمانوں کو بقا کے لیے آپ ﷺ اگر اپنے رب کی عظمت بیان کرتے ہیں تو ہمارے بتوں کو یا جن کو ہم معبود مانتے ہیں ان کو باطل کہنا تو چھوڑ دیں ورنہ ہم کوئی مسلمان زندہ نہ چھوڑیں گے۔ اسی طرح کا دباؤ مدینہ منورہ کے یہودیوں کی طرف سے بھی تھا اور مشرکین عرب بھی تمام قبائل کو جمع کر کے دس ہزار کا لشکر جرار لے آئے تو ارشاد ہوا اے میرے نبی اللہ کا تقوی اختیار کیے رکھیے اور کفار و منافقین کی کوئی بات قبول مت کیجیے یعنی ہر حال اللہ کی اطاعت پہ ثابت قدم رہیے اور اسلام پر یا احکام پر سمجھوتہ ممکن نہیں ۔ مسلمان آج کے دور میں : اور آج کے دور کی سب سے بڑی مصیبت ہی یہ ہے کہ آج کا مسلمان اللہ کی نافرمانی کرتا ہے اور اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے کفار کی بات مانتا ہے قانون کافرانہ معیشت سودی اور حکومت بنانے کا طریقہ کافرانہ اور غیر اسلامی اور ساتھ دعوی اسلام بھی ہے جبکہ اللہ کا حکم نبی ﷺ کو مخاطب فرما کر ارشاد فرمایا گیا جس سے مراد یہ ہے کہ اس حکم سے سرتابی کی کوئی گنجائش نہیں مسلمان کو چاہیے سیدھی سیدھی اسلام کی راہ اپنائے اور اپنی امیدیں کفار سے نہ جوڑے بلکہ اللہ پر بھروسہ کرے جو ہر بات سے اور ہر حال سے ہر آن واقف اور باخبر ہے یہ اس کی حکمت کا تقاضا ہے کہ کفار کو بھی چند روز کی مہلت مل رہی ہے مگر اس کا یہ معنی ہرگز نہیں کہ یہ اللہ کی گرفت سے بچ جائیں گے اور آپ ان احکام پر پوری طرح عمل کیجیے جن کی آپ کو وحی کی جاتی ہے کہ اللہ آپ لوگوں کے بھی ہر کام کا علم رکھتا ہے جو آپ انجام دیتے ہیں اور اسباب ظاہری کے سامنے نہ ہونے سے ہرگز مایوس نہ ہوا جائے بلکہ اللہ پر بھروسہ رکھیں جب مسلمان اس کی اطاعت پر قائم رہنے کے لیے کفار کی اطاعت سے انکار کر کے انہیں للکارتے ہیں تو وہ ہر طرح سے مدد کرنے پہ قادر ہے اور اس کی شان ایسی ہے کہ اس پر بھروسہ کیا جائے اللہ نے کسی انسان کے سینے میں دو دل نہیں رکھے کہ وہ کفار سے دوستی کر کے ان سے امیدیں وابستہ رکھے اور ان کی اطاعت کرے اور اللہ پر ایمان اور اللہ سے محبت کا مدعی بھی ہو بلکہ ہر سینے میں ایک ہی دل ہے جس میں اللہ پر بھروسہ اور اللہ کی محبت ہوگی یا پھر کفر چھا رہا ہوگا۔ بیوی سے ظہار اور متبنی : آگے جاہلیت کی دو رسوم کی اصلاح مطلوب ہے جس میں بیوی سے ظہار اور متبنی بنانے کی بات ہے جن خواتین سے تم ظہار کرتے ہو یعنی یہ کہ دیا جاتا ہے کہ تو میری ماں جیسی ہے یا میری ماں کی پیٹھ کی طرح ہے اور اسے حرام سمجھا جاتا ہے فرمایا یہ درست نہیں تمہاری ماں صرف وہی ہے جس نے تم کو جنا اور ظہار کرنا اور بیوی کو ماں یا بہن کہنا گناہ ہے اس کا کفارہ ہے مگر بیوی مطلق حرام نہیں ہوگی کفارہ ادا کر کے حلال ہوجاتی ہے جس کی تفصیل آگے آرہی ہے اور دوسرا رواج تھا کہ جس کسی کو منہ بولا بیٹا بنا لیتے اس پر تمام احکام وہی لاگو کرتے جو حقیقی بیٹے پر ہوتے ہیں کہ بیٹا ہی کہا بھی جاتا ہے اسی طرح اسے میراث ملتی اور جو رشتے حقیقی بیٹا ہونے کی وجہ سے قابل حرمت ہوتے ہیں ویسے ہی سمجھے جاتے چناچہ ارشاد فرمایا کہ تمہارے لے پالک بیٹے کبھی بیٹے نہیں بن جاتے نہ ان پر وہ احکام لاگو ہوتے ہیں جو حقیقی بیٹے پہ ہوتے ہیں یہ محض ایک بات ہے جو لوگ کہ دیتے ہیں اور کسی کے کہ دینے سے حقیقت تبدیل نہیں ہوجاتی ۔ لے پالک کو اس کے حقیقی باپ کا بیٹا ہی کہنا چاہئیے : اللہ حق بات ارشاد فرماتے ہیں اور صحیح راستے کی طرف رہنمائی فرماتے ہیں لہذا لے پالک بیٹوں کو ان کے حقیقی باپوں کے نام سے پکارو کہ اللہ کے نذدیک یہی صحیح طریقہ ہے اور انصاف کی بات ہے لہذا یہ متبنی بنا کر اسے بیٹا کہنا اور اصلی والد سے بیخبر رکھنا درست نہیں اگر کسی نے لے پالک پال کر دل کو دھوکہ دینا ہی چاہتا ہو تو اسے اس کے باپ کی اولاد کے نام سے پکارا جائے اور اس کی ولدیت نامعلوم ہو تو وہ یا تو تمہارا دینی بھائی ہے یا پھر غلام اور نوکر ہے اس کی اس حیثیت اور حقوق کا لحاظ رکھا جائے اس حکم کے نزول سے قبل جو خطا ہوچکی اس پر گرفت نہ ہوگی لیکن اس کے بعد اگر کسی نے اپنے دل کی خواہش پوری کرنے کو ارادۃ ایسا کیا تو سخت گناہ ہے جس سے توبہ کی جائے اور اسے چھوڑ دیا جائے تو اللہ بہت بڑی بخشش کا مالک اور رحم کرنے والا ہے۔ اس میں آج کے لوگوں کو بہت غور کرنے کی ضرورت ہے جو اگر اولاد نہ ہو تو بچے گود لے لیتے ہیں۔ نبی ﷺ تو ایمان والوں سے ان کی اپنی جان سے زیادہ عزیز تر اور قریبی تعلق رکھتے ہیں کہ جان سے تو محض دنیا کی حیات حاصل ہوتی ہے اگر خیر ہے تو شر بھی ہے مگر نبی ﷺ سے جو کچھ ملا وہ خیر ہی خیر ہے اور دائمی ابدی دونوں جہانوں کے لیے ہے اسی طرح نبی (علیہ السلام) کی بیویاں سب مومنوں کی مائیں ہیں مگر وراثت کے احکام اس پر مرتب نہ ہوں گے چہ جائیکہ زبانی بیٹا کہنے پر ہوں بلکہ نسبی رشتوں اور قرابت پہ ہوں گے۔ ایذاء رسول کفر ہے : نبی (علیہ الصلوۃ والسلام) سے ہر طرح خیر ہی حاصل ہوتی ہے لہذا آپ کی اطاعت اپنی پسند پر مقدم ہوگی اور آپ کی بیویوں کی شان میں گستاخی حرام بھی ہے اور ایذاء رسول بن کر کفر ہے۔ لیکن اس پر میراث تقسیم ہوگی نہ نکاح وغیرہ کے احکام لاگو ہوں گے اسی لیے آپ ﷺ کی بیویوں سے نکاح کی حرمت کا الگ حکم دیا گیا ہے اس آیت پر اس کا مدار نہیں ہے اسی طرح مہاجرین و انصار میں جو بھائے چارہ قائم کیا گیا تھا وراثت میں اس سے قرابت داری مقدم ہے ہاں اگر کوئی ازراہ محبت اپنی طرف سے مسلمان بھائی کو کچھ دینا چاہے تو وہ ولگ بات ہے مگر نسبی رشتے کے علاوہ وراثت نہ ہوگی کہ یہ قوانین و احکام کتاب اللہ میں لکھے ہوئے ہیں۔ یعنی طے فرما دیے گئے۔ انبیاء سے عہد : بلکہ یاد کیجیے جب ازل ہی کو احکام الہی کی اطاعت کا وعدہ آپ سے لیا گیا اور آپ کی نبوت اور ختم نبوت کا اقرار نوح ، ابراہیم موسیٰ اور عیسیٰ علیہم الصلوۃ والسلام سے لیا گیا اور سب سے خوب پختہ عہد لیا گیا جس میں کسی ترمیم کی کوئی گنجائش نہیں رکھی گئی۔ مرسل اور اولوالعزم : یہاں اولوالعزم رسولوں کا ذکر کیا گیا جو سلسلہ نبوت میں سنگ میل تھے ان اسماء گرامی میں آدم (علیہ السلام) بھی شامل ہیں کہ تین سو تیرہ رسول و مرسل اور پانچ اولوالعزم اور آپ ﷺ ان سب کے امام ہیں کہ صاحب وحی پر وحی کا اتباع اور مومن پر اپنے نبی کا اتباع واجب ہے اور اسی کی پرسش ہوگی اور کفار کے لیے بہت دردناک عذاب تیار کیا گیا ہے جو انہیں پیش آئے گا۔ ایک حد تک دنیا میں بھی اور پورے کا پورا آخرت میں۔
Ayahs 33:9–20

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ اِذْ جَآءَتْكُمْ جُنُوْدٌ فَاَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ رِیْحًا وَّ جُنُوْدًا لَّمْ تَرَوْهَا١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرًاۚ Open ayah 33:9 in the Quran reader

اے ایمان والو ! اپنے اوپر اللہ کی اس مہربانی کو یاد کرو کہ جب تم پر لشکر چڑھ آئے تو ہم نے ان پر (تیز) ہوا بھیجی اور ایسے لشکر (بھیجے) جن کو تم نہیں دیکھ سکتے تھے اور جو کام تم کرتے ہو اللہ ان کو دیکھ رہے ہیں

اِذْ جَآءُوْكُمْ مِّنْ فَوْقِكُمْ وَ مِنْ اَسْفَلَ مِنْكُمْ وَ اِذْ زَاغَتِ الْاَبْصَارُ وَ بَلَغَتِ الْقُلُوْبُ الْحَنَاجِرَ وَ تَظُنُّوْنَ بِاللّٰهِ الظُّنُوْنَا Open ayah 33:10 in the Quran reader

اور جب وہ لوگ تم پر آچڑھے تھے تمہارے اوپر کی طرف سے بھی اور تمہارے نیچے کی طرف سے بھی اور جب آنکھیں پھر گئیں اور دل حلق میں آ اٹکے تھے اور تم لوگ اللہ کے ساتھ طرح طرح کے گمان کرنے لگے

هُنَالِكَ ابْتُلِیَ الْمُؤْمِنُوْنَ وَ زُلْزِلُوْا زِلْزَالًا شَدِیْدًا Open ayah 33:11 in the Quran reader

وہاں ایمان والے آزمائے گئے اور سخت طور پر ہلا کر رکھ دیئے گئے

وَ اِذْ یَقُوْلُ الْمُنٰفِقُوْنَ وَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ مَّا وَعَدَنَا اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗۤ اِلَّا غُرُوْرًا Open ayah 33:12 in the Quran reader

اور جب منافق اور وہ لوگ جن کے دلوں میں بیماری ہے کہنے لگے کہ ہم سے تو اللہ اور اس کے پیغمبر نے محض دھوکے کا وعدہ کررکھا ہے

وَ اِذْ قَالَتْ طَّآئِفَةٌ مِّنْهُمْ یٰۤاَهْلَ یَثْرِبَ لَا مُقَامَ لَكُمْ فَارْجِعُوْا١ۚ وَ یَسْتَاْذِنُ فَرِیْقٌ مِّنْهُمُ النَّبِیَّ یَقُوْلُوْنَ اِنَّ بُیُوْتَنَا عَوْرَةٌ١ۛؕ وَ مَا هِیَ بِعَوْرَةٍ١ۛۚ اِنْ یُّرِیْدُوْنَ اِلَّا فِرَارًا Open ayah 33:13 in the Quran reader

اور جب ان میں سے ایک جماعت کہتی تھی اے یثرب والو ! تمہارے لئے (یہاں ٹھہرنے کا) مقام نہیں لہٰذا لوٹ چلو اور بعض لوگ ان میں سے پیغمبر سے اجازت مانگتے تھے کہتے تھے کہ ہمارے گھر کھلے پڑے ہیں۔ حالانکہ وہ کھلے نہیں تھے وہ تو صرف بھاگنا چاتے تھے

وَ لَوْ دُخِلَتْ عَلَیْهِمْ مِّنْ اَقْطَارِهَا ثُمَّ سُئِلُوا الْفِتْنَةَ لَاٰتَوْهَا وَ مَا تَلَبَّثُوْا بِهَاۤ اِلَّا یَسِیْرًا Open ayah 33:14 in the Quran reader

اور اگر ان پر (شہر میں) کوئی اس کے اطراف سے آگھسے اور پھر ان سے جنگ کے لئے کہا جائے تو وہ فوراً کرنے لگیں اور وہ ان (گھروں) میں بہت ہی کم ٹھہریں

وَ لَقَدْ كَانُوْا عَاهَدُوا اللّٰهَ مِنْ قَبْلُ لَا یُوَلُّوْنَ الْاَدْبَارَ١ؕ وَ كَانَ عَهْدُ اللّٰهِ مَسْئُوْلًا Open ayah 33:15 in the Quran reader

اور حالانکہ یہی لوگ پہلے اللہ سے عہد کرچکے تھے کہ پیٹھ نہ پھیریں گے۔ اور اللہ سے جو عہد کیا جاتا ہے اس کے بارے پوچھا جائے گا

قُلْ لَّنْ یَّنْفَعَكُمُ الْفِرَارُ اِنْ فَرَرْتُمْ مِّنَ الْمَوْتِ اَوِ الْقَتْلِ وَ اِذًا لَّا تُمَتَّعُوْنَ اِلَّا قَلِیْلًا Open ayah 33:16 in the Quran reader

آپ فرما دیجئے تم کو بھگنا کوئی فائدہ نہ دے گا اگر تم موت سے یا قتل سے بھاگتے ہو اور اس وقت تم بہت کم فائدہ اٹھاؤ گے

قُلْ مَنْ ذَا الَّذِیْ یَعْصِمُكُمْ مِّنَ اللّٰهِ اِنْ اَرَادَ بِكُمْ سُوْٓءًا اَوْ اَرَادَ بِكُمْ رَحْمَةً١ؕ وَ لَا یَجِدُوْنَ لَهُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیْرًا Open ayah 33:17 in the Quran reader

فرمادیجئے کہ کون ہے جو تم کو اللہ سے بچا سکے اگر وہ تمہارے ساتھ برائی کا ارادہ کرلیں یا (وہ کون ہے جو اللہ کو روک سکے) اگر وہ تم پر مہربانی فرمانا چاہیں اور یہ لوگ اللہ کے سوا نہ کسی کو اپنا دوست پائیں گے اور نہ مددگار

قَدْ یَعْلَمُ اللّٰهُ الْمُعَوِّقِیْنَ مِنْكُمْ وَ الْقَآئِلِیْنَ لِاِخْوَانِهِمْ هَلُمَّ اِلَیْنَا١ۚ وَ لَا یَاْتُوْنَ الْبَاْسَ اِلَّا قَلِیْلًاۙ Open ayah 33:18 in the Quran reader

یقینا اللہ تم میں سے ان لوگوں کو (بھی) جانتے ہیں جو (لوگوں کو) منع کرتے ہیں اور اپنے بھائیوں سے کہتے ہیں کہ ہمارے پاس چلے آؤ اور وہ لڑائی میں بہت ہی کم آتے ہیں

اَشِحَّةً عَلَیْكُمْ١ۖۚ فَاِذَا جَآءَ الْخَوْفُ رَاَیْتَهُمْ یَنْظُرُوْنَ اِلَیْكَ تَدُوْرُ اَعْیُنُهُمْ كَالَّذِیْ یُغْشٰى عَلَیْهِ مِنَ الْمَوْتِ١ۚ فَاِذَا ذَهَبَ الْخَوْفُ سَلَقُوْكُمْ بِاَلْسِنَةٍ حِدَادٍ اَشِحَّةً عَلَى الْخَیْرِ١ؕ اُولٰٓئِكَ لَمْ یُؤْمِنُوْا فَاَحْبَطَ اللّٰهُ اَعْمَالَهُمْ١ؕ وَ كَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرًا Open ayah 33:19 in the Quran reader

تمہارے حق میں بخیلی لئے ہوئے ۔ پھر جب خوف پیش آتا ہے تو آپ ان کو دیکھیں وہ آپ کی طرف سے اس طرح دیکھنے لگتے ہیں کہ ان کی آنکھیں چکڑائی جاتی ہیں جیسے کسی پر موت کی بےہوشی طاری ہو پھر جب خوف دور ہوجاتا ہے تو تم لوگوں کو تیززبانوں سے طعنے دیتے ہیں ، مال پر حرص لئے ہوئے ، یہ لوگ ایمان نہیں لائے تو اللہ نے ان کے تمام اعمال بےکار کر رکھے ہیں اور یہ بات اللہ کے لئے (بہت) آسان ہے

یَحْسَبُوْنَ الْاَحْزَابَ لَمْ یَذْهَبُوْا١ۚ وَ اِنْ یَّاْتِ الْاَحْزَابُ یَوَدُّوْا لَوْ اَنَّهُمْ بَادُوْنَ فِی الْاَعْرَابِ یَسْاَلُوْنَ عَنْ اَنْۢبَآئِكُمْ١ؕ وَ لَوْ كَانُوْا فِیْكُمْ مَّا قٰتَلُوْۤا اِلَّا قَلِیْلًا۠ Open ayah 33:20 in the Quran reader

ان لوگوں کا یہ خیال ہے کہ (ابھی تک یہ) لشکر گئے نہیں اور اگر (بالفرض) یہ (گئے ہوئے) لشکر (پھر لوٹ کر) آجائیں تو یہ لوگ (اپنے لئے) یہی پسند کریں گے کہ کاش وہ باہر دیہات میں جاکر رہیں کہ تمہاری خبریں پوچھتے رہیں اور اگر تمہارے ساتھ رہیں تو بہت کم لڑائی کریں

رکوع نمبر 2 ۔ آیات 9 ۔ تا 20: اسرارو معارف اس رکوع اور اس سے اگلے رکوع میں غزوہ احزاب کا واقعہ اور حالات بیان ہوئے تو بہتر معلوم ہوتا ہے کہ واقعہ احزاب بیان کردیا جائے تاکہ معانی اور مفہوم سمجھنے میں آسانی رہے۔ غزوہ احزاب یا جنگ خندق کا واقعہ ہجرت مدینہ کے بعد مشرکین مکہ نے مسلمانوں پر مسلسل حملے کیے کہ ہجرت کے اگلے سال میدان بدر میں تیسرے سال احد میں اور اس سے اگلے سال جنگ خندق میں سخت مقابلہ رہا اور بفضل اللہ صحابہ کرام کی یہ قربانیاں جو آپ ﷺ کی قیادت میں اللہ کے حضور پیش ہوئیں ان کی قبولیت کے صدقے پورا عالم اسلام ان کی برکات سے بہرہ ور ہوا ظلم و جور کفر و شرک اور جہالت کا دنیا سے خاتمہ ہو کر انسانی قلوب اللہ کے نام سے آباد ہوئے بعض روایات میں غزوہ خندق پانچویں سال ہوا بہرحال یہ تین حملے مسلسل کیے گئے جن میں یہ حملہ بہت بڑا تھا جو اس ارادے سے کیا گیا کہ مسلمانوں کا نام تک مٹا دیا جائے۔ یہود کی سازش : اس واقعہ کا محرک یہود کا سازشی گروہ تھا جس نے مکہ مکرمہ جاکر مشرکین کو حملہ کرنے کی ترغیب دی اور اپنی پہلی رنجش بھلا کر یہ جھوٹ بولا کہ ہمارے نذدیک اسلام اور مسلمانوں سے تم اور تمہارا مذہب زیادہ بہتر ہے حالانکہ اہل کتاب ہونے کی وجہ سے مشرکین سے کشیدہ رہا کرتے تھے۔ چناچہ بیت اللہ میں جمع ہو کر یہود اور مشرکین نے معاہدہ کیا۔ پھر یہی یہودی بنو عطفان کے پاس گئے جو خیبر کے پاس تھے انہیں خیبر کی کھجور کی فصل سے حصہ دینے کے وعدے پر اپنے ساتھ شامل کیا۔ لشکر کفار کی تعداد : اور یوں کم و پیش عرب کے سب غیر مسلم قبائل مل کر مدینہ منورہ پر حملہ آور ہوئے جن میں قریش کے چار ہزار جنگجو جوان تین سو گھوڑے اور ایک ہزار اونٹ تھے اور دوسرے قبائل مل کر پندرہ ہزار کا لشکر جرار بن گیا جو مدینہ منورہ پر یلغار کرنے روانہ ہوا۔ بعض روایات میں دس ہزار اور بعض میں تعداد بارہ ہزار بیان ہوئی ہے غالبا جوں جوں لوگ شامل ہوتے گئے اس طرح روایات ملتی ہیں اور آخری روایت پندرہ ہزار کی ہوگی۔ واللہ اعلم۔ اسلامی لشکر اور طریق جنگ : اسلامی لشکر کی تعداد اس جنگ میں تین ہزار تھی اور چھتیس گھوڑے تھے آپ ﷺ نے ہر میدان میں نئی جنگی حکمت عملی اختیار فرمائی۔ بدر میں چشموں اور میدان پر قبضہ کر کے مشرکین کو اپنی پسند کے میدان میں لڑنے پر مجبور کردیا احد میں پیچھے پہاڑ رکھ کر اس پر تیر انداز بٹھا دیے اور اس جنگ میں عرب میں پہلی دفعہ مصنوعی رکاوٹ سے دشمنوں کا راستہ روک دیا کہ جب آپ ﷺ نے مشورہ طلب فرمایا تو حضرت سلمان جو فارس کے باشندے تھے عرض کرنے لگے کہ ہمارے بادشاہ قلعوں کے گرد خندق بنایا کرتے تھے چناچہ آپ ﷺ نے حبل سلع کو پیٹھ پر رکھ کر سامنے کے تمام راستے کو خندق سے روکنے کا حکم دیا اور بنفس نفیس لکیر لگا دی کہ یہ ان خندق کھودی جائے۔ خندق کی لمبائی اور تیاری : خندق کی لمبائی تقریبا ساڑھے تین میل تھی اور گہرائی پانچ گز یا پندرہ فٹ اور چوڑائی اس سے یقینا زیادہ ہوگی کہ کوئی سوار اسے کود کر عبور نہ کرسکے۔ آپ ﷺ نے دس دس آدمیوں میں چالیس گز خندق سپرد کی اور کل چھ یوم میں خندق تیار ہوگئی۔ آپ ﷺ نے بنفس نفیس حصہ لیا کھودتے بھی تھے اور مٹی بھی نکالتے تھے۔ عجیب واقعہ : پوری خندق میں کہیں رکاوٹ نہ آئی مگر حضرت سلمان اور ان کی جماعت کے سامنے چٹان آگئی جو ٹوٹنے کا نام نہ لے رہی تھی حتی کہ ان کی کدالیں اور اوزار ٹوٹ گئے اللہ نے واضح کردیا کہ تدابیر میں اثر بھی وہی پیدا کرتا ہے ورنہ ناکام ہوجاتی ہیں۔ ھضرت سلمان آپ ﷺ کی خدمت میں پہنچے آپ تشریف لائے کہ شکم مبارک اور پشت مبارک نظر نہ آتی تھی اگرچہ زیب تن نہ تھا سب مٹی اور گرد سے ڈھک چکی تھی۔ کشف و مشاہدہ : آپ نے تین ضربیں لگائیں آور ہر ضرب میں ایک حصہ چٹان ٹوٹ جاتی تھی۔ آپ ﷺ ایک طرف بیٹھ گئے تو حضرت سلمان نے عرض کیا یا رسول اللہ چٹان تو ٹوٹ گئی مگر ہر ضرب میں نور کی ایک بہت بڑی لہر اٹھی اور روشنی بلند ہوئی تو آپ ﷺ نے پوچھا سلمان تو نے دیکھا عرض کیا ہاں تو فرمایا پہلی روشنی میں یمن کے محلات اور خزانے پر کسری کے محلات اور پھر رومیوں کے محلات دکھائے گئے اور مجھے اطلاع دی گئی کہ میرے امتی ان مقامات کو فتح کریں گے اور سب کے سب خلافت راشدہ کے دور میں فتح ہوگئے یعنی ولی اللہ نے مشاہدہ تو کرلیا تعبیر اور حقیقت جاننے کے لیے نبی ہی کا محتاج ہوتا ہے۔ جب یہ بات پھیلی تو منافقین اور کفار نے بڑی طعنہ زنی کی کہ زندگی کے لالے پڑے ہوئے ہیں اور یہ چلے ہیں روم ایران اور یمن فتح کرنے مگر صحابہ کرام کا حوصلہ بہت بلند ہوا اور جب کفار کا لشکر خندق پر پہنچا تو حیران رہ گیا کہ ان کا ارادہ شہر پر غارت کرنے کا تھا چناچہ خندق کے اس پار خیمہ زن ہوگئے مسلمانوں نے بچے اور خواتین بنی حارثہ کے قلعہ میں جمع کردیئے اور پندرہ سال تک کے بچے شامل جہاد تھے سب کمر بستہ ہو کر خندق پر جمع ہوگئے جہاں مہینہ بھر مقابلہ جاری رہا۔ قضا نمازیں : دن بھر دونوں طرف سے تیر اندازی اور کوشش جاری رہتی کفار عبور کرنے کی کوشش کرتے اور مسلمان روکنے کی چناچہ ایک روز اس قدر گھمسان رہا کہ آپ ﷺ کی صحابی سمیت چار نمازیں قضا ہوئیں اور عشاء کے ساتھ ادا کی گئیں فاقہ کشی سے لوگوں نے پیٹ پر پتھر باندھے ہوئے تھے۔ حضرت سعد بن معاذ ؓ کی دعا : حضرت سعدبن معاذ تیر سے سخت زخمی ہوگئے تو دعا کی اے اللہ اگر قریش کا پھر کوئی حملہ آپ ﷺ پر باقی ہے تو مجھے زندہ رکھ اور اگر نہیں تو موت دے دے مگر یہود بنو قریضہ کا انجام دیکھ کر شہید ہونا چاہتا ہوں کہ انہوں نے بد عہدی کی وہ مسلمانوں کی پیٹھ پر تھے اور مسلمانوں کے ساتھ معاہدہ تھا مگر قریش اور یہود نے سازش کر کے اپنے ساتھ ملا لیا اور یوں ہر طرف سے خطرات میں گھر گئے ۔ معجزات : مگر اس غزوہ میں آپ ﷺ کے بیشمار معجزات میں سے یہ بھی ہوا کہ بنو عطفان کا ایک آدمی نعیم ابن مسعود مسلمان ہو کر حاضر ہوا اور خدمت کا طالب ہوا تو آپ نے جنگی حکمت عملی کے تحت بنو قریضہ اور مشرکین کے لشکر میں غلط فہمی پیدا کرنے پر مقرر کردیا جس کی تدبیر سے ان میں پھوٹ پڑگئی مسلمان فاقہ کشی پہ مجبور تھے کہ حضرت جابر نے عرض کیا یا رسول اللہ کچھ سالن اور تین سیر کے قریب آٹا گھر میں ہے آپ تشریف لائیں تو خدمت کی سعادت حاصل کروں لیکن آپ ﷺ نے سارے لشکر میں اعلان فرما دیا اور خود تشریف لے جا کر تقسیم فرمانے لگے۔ سب نے خوب پیٹ بھر کر کھالیا تو حضور ﷺ نے تناول فرمایا اور کھانا ویسا ہی باقی تھا۔ مہینہ بھر کے مقابلہ کے بعد اللہ نے ایک سخت سرد ہوا بھیج دی کفار کے خیمے اکھڑ گئے اور ہنڈیاں تک الٹ گئیں اور سخت سردی پڑنے لگی چناچہ کفار نے واپسی کی ٹھانی۔ حضرت حذیفہ ؓ کو خبر لانے پر معمور فرمایا تھا لشکر کفار کی واپسی کی نوید لائے اور یوں مسلمانوں کو ایک عظیم فتح نصیب ہوئی آپ واپس پہنچے تو اللہ کا حکم ہوا بنی قریضہ کا قصہ نبٹایا جائے چناچہ لشکر اسلام نے بلاتاخیر ان کا محاصرہ کرلیا انہوں نے اس شرط پر ہتھیار ڈال دیے کہ حضرت سعد کا فیصلہ ہمیں منظور ہے آپ نے فیصلہ دیا کہ مردوں کو قتل کیا جائے اور عورتوں اور بچوں کو قیدی بنایا جائے اور اس کے بعد شہید ہوگئے۔ یہ واقعہ نہایت اختصار کے ساتھ لکھا گیا ہے تفاصیل دوسری کتب میں دیکھی جاسکتی ہیں چناچہ ارشاد ہوتا ہے صحابہ کرام کی جانثاری کی شہادت : کہ اے ایمان والو اللہ کے احسانات کو یاد رکھو کہ جب کفار کے لشکر نے تمہیں گھیر لیا تھا اور یہ احسان ہمیشہ کے لیے امت پہ ہے کہ اللہ نے وہاں فتح نصیب فرمائی تو سب تک اسلام کا پیغام پہنچا ورنہ کفار تو مسلمانوں کو نابود کرنے کے ارادے لے کر آئے تھے مگر اللہ نے فرشتوں کے لشکر بھیج دیے اور ان پر ہواؤں کو مسلط کردیا اور اللہ تمہارے جانثارانہ کردار کو دیکھتا ہے کہ جب ہر طرف سے دشمنوں نے یلغار کردی باہر سے حملہ آور اور اندر سے بد عہدی کرنے والے یہودی تو لوگوں کا یہ حال ہوگیا گویا آنکھیں پتھرانے لگی ہوں اور دل اچھل کر حلق میں آن اٹکے ہوں کہ بظاہر اس ننھی سی اسلامی ریاست کے نشان باقی رہنے کا کوئی امکان نہ تھا حتی کہ مسلمانوں کو غیر اختیاری طور پر وساوس آنے لگے کہ آخر اللہ کی مدد بھی کس صورت میں جلوہ گر ہوگی کوئی بھی تو راستہ نظر نہ آتا تھا یہ ایمان والوں کا بہت سکت امتحان تھا جس نے انہیں شدید طریقے سے ہلا کر کھ دیا۔ بیمار دل : اور منافقین اور وہ لوگ جن کے دل مریض تھے یعنی ایمان میں کمزوری دل کی بیماری ہے جو نفاق پیدا کرتی ہے جس کا علاج اللہ کا ذکر ہے تو منافقین یہاں تک کہ گزرے کہ کفار کے ان لشکروں کے سامنے اللہ کا اور اس کے رسول کا وعدہ بھی سوائے ایک رنگین فریب کے کچھ بھی نہیں اور منافقین جمع ہو کر کہنے لگے اے یثرب کے باسیو بھاگ چلو یہاں موت کے سوا کچھ نہ ملے گا اور واقعی منافقین آپ سے رخصت کے طالب ہوئے بہانہ کرتے تھے کہ ہمارے گھر اکیلے ہیں کوئی دیکھ بال کرنے والا نہیں ہے مگر حق یہ ہے کہ گھروں کو تو وہ کیا کریں گے صرف میدان سے فرار چاہتے ہیں ۔ مفادات دنیا کے لیے کافر کی غلامی منافق کی خصوصیت ہے : اور ان منافقین کو تو دشمن کی غلامی کرنے میں بھی تامل نہ ہوگا اگر کافر شہر فتح کرلیں تو یہ ان کے قدموں میں پڑے ہوں گے یعنی دنیا کے فوائد اور تحفظ کی امید پر کافر کی غلامی قبول کرنا منافق کی خصوصیت ہے۔ یہ وہی لوگ ہیں جو پہلے اسلام قبول کرنے اور جہاد پر بیعت کرنے والے تھے اور اللہ سے وعدہ کرچکے تھے کہ کبھی میدان سے منہ نہ موڑیں گے یقینا اللہ اس وعدے کی بازپرس بھی کرے گا آپ انہیں فرما دیجیے کہ فرار موت سے نہیں بچا سکتا اور نہ قتل ہونے سے بچاؤ کی ضمانت دیتا ہے کہ موت کا وقت تو مقرر ہے اور تب تک دنیا کی چند روزہ زندگی ہے جس سے فائدہ اٹھا سلتے ہو۔ اگر اللہ ہی تم پر عذاب نازل کرنا چاہیں تو تمہیں کون بچا سکتا ہے یا رحم کرنا چاہے تو انہیں کوئی روک نہیں سکتا اور اللہ سے بھاگ کر نہ تو تمہیں کوئی مدد کرنے والا ملے گا اور نہ کوئی حمایت کرنے والا نصیب ہوگا۔ اللہ ان لوگوں سے باخبر ہے جو دوسروں کو بھی جہاد میں شمولیت سے روکتے ہیں اور اپنے متعلقین سے کہتے ہیں تم بھی جہاد کو چھوڑ کر ہمارے ساتھ آجاؤ اور کبھی اگر مجبور ہوجائیں تو جہاد میں بہت کم شرکت کرتے ہیں اور اس میں بھی انہیں مومنین کے ساتھ بخل اہتا ہے کہ زیادہ غنیمت نہ لے جائیں بلکہ انہیں زیادہ مال لینے کا طمع ہوتا ہے اگر جنگ کا موقع آجائے تو خوفزدہ ہوجاتے ہیں اور یوں لگتا ہے جیسے ان پر موت کی غشی طاری ہونے لگی ہو اور آنکھیں پھری جارہی ہوں اور جب مسلمانوں کو فتح نصیب ہوجائے اور خطرہ ٹل جائے تو پھر ان کی زبانیں بہت تیز ہوجاتی ہیں۔ صحابہ پہ طعن نفاق کی علامت ہے : اور صحابہ پر مخلص مسلمانوں پر طعن کرتے ہیں۔ یعنی آپ ﷺ کے ضاں نثاروں پہ طعن نفاق کی علامت ہے اور مال غنیمت پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔ یہ لوگ ہرگز ایمان نہیں لائے۔ اگر ان سے کوئی بھلائی کا کام ہو بھی گیا ہو تو بوجہ نفاق اور کفر ضائع ہوگیا یہ سب کچھ اللہ پر بہت آسان ہے کہ وہ کسی کی اطاعت کا محتاج نہیں۔ جب کفار کی فوجیں بھاگ کر جاچکی ہیں تو بھی یہ خیال کرتے ہیں ایسا نہ ہوا ہوگا کہ اتنا بڑا لشکر کیسے شکست کھا سکتا ہے نیز اگر کافر پلٹ کر حملہ آور وہوں تو ان کی آرزو ہوگی کہ اس شہر ہی کو چھوڑ کر دور دیہات میں جا بسیں جہاں آنے والوں سے آپ لوگوں میں پھنس جائیں تو جنگ میں عملا بہت کم حصہ لیں۔
Ayahs 33:21–27

لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَنْ كَانَ یَرْجُوا اللّٰهَ وَ الْیَوْمَ الْاٰخِرَ وَ ذَكَرَ اللّٰهَ كَثِیْرًاؕ Open ayah 33:21 in the Quran reader

یقینا تم لوگوں کے لئے یعنی ایسے شخص کے لئے جو اللہ سے اور روز آخرت سے (ملنے کی) امید رکھتا ہو اور کثرت سے ذکر الٰہی کرتا ہو ، اللہ کے پیغمبر (کی ذات) میں ایک عمدہ نمونہ موجود ہے

وَ لَمَّا رَاَ الْمُؤْمِنُوْنَ الْاَحْزَابَ١ۙ قَالُوْا هٰذَا مَا وَعَدَنَا اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ وَ صَدَقَ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ١٘ وَ مَا زَادَهُمْ اِلَّاۤ اِیْمَانًا وَّ تَسْلِیْمًاؕ Open ayah 33:22 in the Quran reader

اور جب ایمان والوں نے ان لشکروں کو دیکھا تو کہنے لگے یہ وہی ہے جس کی ہم کو اللہ اور اس کے پیغمبر نے خبر دی تھی اور اللہ اور اس کے پیغمبر نے سچ فرمایا تھا اور اس سیان کے ایمان اور اطاعت میں ترقی ہوگئی

مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاهَدُوا اللّٰهَ عَلَیْهِ١ۚ فَمِنْهُمْ مَّنْ قَضٰى نَحْبَهٗ وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّنْتَظِرُ١ۖ٘ وَ مَا بَدَّلُوْا تَبْدِیْلًاۙ Open ayah 33:23 in the Quran reader

ان ایمان والوں میں سے کچھ مرد (لوگ) وہ بھی ہیں کہ انہوں نے اللہ سے جس بات کا وعدہ کیا تھا اس میں سچے اترے پس بعض تو ان میں وہ ہیں کہ اپنی نذر پوری کرچکے اور بعض ان میں ایسے ہیں کہ (شوق میں) انتظار کر رہے ہیں اور انہوں نے (اپنے قول میں) ذرا بھی تبدیلی نہیں کی

لِّیَجْزِیَ اللّٰهُ الصّٰدِقِیْنَ بِصِدْقِهِمْ وَ یُعَذِّبَ الْمُنٰفِقِیْنَ اِنْ شَآءَ اَوْ یَتُوْبَ عَلَیْهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًاۚ Open ayah 33:24 in the Quran reader

تاکہ اللہ سچوں کو ان کی سچائی خاص لہ عطا فرمائیں اور منافقوں کو چاہے سزا دیں یا (چاہے) ان کو توبہ کی توفیق عطا کریں۔ بیشک اللہ بخشنے والے (اور) رحم کرنے والے ہیں

وَ رَدَّ اللّٰهُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِغَیْظِهِمْ لَمْ یَنَالُوْا خَیْرًا١ؕ وَ كَفَى اللّٰهُ الْمُؤْمِنِیْنَ الْقِتَالَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ قَوِیًّا عَزِیْزًاۚ Open ayah 33:25 in the Quran reader

اور اللہ نے کافروں کو ان کے غصے میں بھرے ہوئے پھیر دیا ، وہ کچھ بھلائی حاصل نہ کرسکے اور اللہ ایمان والوں کو لڑائی کے بارے میں کافی ہوا۔ اور اللہ طاقت والے (اور) زبردست ہیں

وَ اَنْزَلَ الَّذِیْنَ ظَاهَرُوْهُمْ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ مِنْ صَیَاصِیْهِمْ وَ قَذَفَ فِیْ قُلُوْبِهِمُ الرُّعْبَ فَرِیْقًا تَقْتُلُوْنَ وَ تَاْسِرُوْنَ فَرِیْقًاۚ Open ayah 33:26 in the Quran reader

اور اہل کتاب میں سے جنہوں نے ان کی مدد کی تھی ان کو ان کے قلعوں میں سے اتار دیا اور ان کے دلوں میں دہشت ڈال دی تو بعض کو تم قتل کرنے لگے اور بعض کو قید کرلیا

وَ اَوْرَثَكُمْ اَرْضَهُمْ وَ دِیَارَهُمْ وَ اَمْوَالَهُمْ وَ اَرْضًا لَّمْ تَطَئُوْهَا١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرًا۠ Open ayah 33:27 in the Quran reader

اور ان کی زمین اور ان کے گھروں اور ان کے مالوں کا تم کو مالک بنادیا اور ایسی زمین کا بھی جس پر تم نے قدم نہیں رکھا تھا اور اللہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھتے ہیں

آیات 21 تا 27 اسرارومعارف اے ایمان والو تمہارے لیے زندگی کا بہترین نمونہ خود رسول اللہ ﷺ کی ذات ستودہ صفات میں ہے کہ آپ ﷺ نے کفر کا اور طاغوطی طاقتوں کا مقابلہ کس جرات اور بلند ہمتی سے کیا مگر یہ ان لوگوں کو نصیب ہوگا جو آخرت کے لیے جیتے ہیں اور اللہ کا ذکر کثرت سے کرتے ہیں یعنی کثرت ذکر کے فوائد میں سے یہ بھی ہے کہ جذبہ جہاد اور شوق شہادت نصیب ہوتا ہے اور آپ ﷺ کا اتباع نصیب ہوتا ہے۔ دنیا کی زندگی کا مقصد آخرت کی کامیابی قرار پاتا ہے۔ صحابہ کرام کے وجود تک ذاکر تھے تو ان کا طرز عمل کیا تھا : صحابہ کرام ؓ جن کے مبرک وجود تک ذاکر تھے انہوں نے جب کفار کے لشکروں کی یلغار دیکھی تو ان کے پائی ثبات میں کوئی لغزش نہ آئی بلکہ انہوں نے تو کہا کہ اللہ نے اور اللہ کے رسول نے اسی دن کا وعدہ کیا تھا آُ ﷺ کی پیشگوئی دوبارہ کفار سچ ہے اور اللہ کا ارشاد بھی سچ ہے آئندہ بھی جو آپ نے فرمایا وہی حق ہے کہ ان پر مسلمانوں کو فتح ہوگی اور ان مشکل گھڑیوں نے ان کے ایمان اور جذبہ تسلیم و رضا میں اور بھی بہت سی زیادتی کردی اور ان کے ایمان مزید مضبوط تر ہوگئے ان ہی ایمان والوں نے اللہ سے جو وعدہ کیا تھا کہ منہ نہ موڑیں گے سچ کر دکھایا اور انہی میں سے کچھ تو شہید ہو کر آپ ﷺ سے وفا کا قرض چکا گئے اور جو زندہ ہیں وہ جان نچھاور کرنے کی آرزو میں گھڑیاں گنا کرتے ہیں یہ ثابت قدم رہے اور ان کے قول و عمل میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ یہ حق و باطل کے معرکے کے صادقین کھرے اور سچے لوگوں کو ان کی سچائی کا انعام دلانے کا سبب بنتے ہیں اور اگر اللہ عذاب کرنا چاہے تو منافقین کے لیے عذاب کا باعث بن جاتے ہیں یا کسی کو توبہ کی توفیق ہوجاتی ہے تو اللہ اس کی توبہ قبول فرماتے ہیں کہ اللہ بہت بڑے بخشنے والے اور رحم کرنے والے ہیں اور کافروں کے لشکر اپنے غیظ و غضب کی آگ اپنے سینوں میں لیے واپس بھاگ گئے اور انہیں ذرہ برابر کامیابی ہاتھ نہ آئی نہ صرف یہ بلکہ مسلمانوں کو لڑنا ہی پڑا اور ان کی جانب سے کفار کو اللہ ہی کافی ہورہا یعنی فرشتوں اور سرد طوفانوں نے ہی بھگا دیا مسلمانوں نے تو معمولی جھڑپوں میں ہی حصہ لیا کہ اللہ بہت طاقتور اور غالب ہے کفار بھاگے تو یہود بنو قریظہ بھی لشکر اسلام سے لڑ نہ سکے بلکہ مرعوب ہو کر اپنے قلعوں اور مورچوں سے باہر آکر ہتھیار ڈال دیے چناچہ حکم شرعی کے مطابق تم نے بہت سوں کو قتل کردیا اور بہت سوں کو قیدی بنا لیا اور یہاں بس نہیں ہوجائے گی بلکہ اللہ نے تو امت مسلمہ کو ان ممالک اور آبادیوں کا فاتح بنا دیا ہے جہاں کبھی تم لوگوں کے قدم نہیں پہنچے مگر اللہ کے علم میں ہے کہ تم ان دور دراز ممالک کو فتح کر کے اسلام کے جھنڈے گاڑو گے یہ اس نے کمال اطاعت رسول کا انعام بخشا ہے اور وہ ہر شے پر قادر ہے جو چاہے کرسکتا ہے ۔ بشارت : اس میں صحابہ کرام کی فتوحات کی بشارت موجود ہے جو ان کے کامل خلوص کے ساتھ اتباع نبوی کی دلیل ہے۔
Ayahs 33:28–34

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِكَ اِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا وَ زِیْنَتَهَا فَتَعَالَیْنَ اُمَتِّعْكُنَّ وَ اُسَرِّحْكُنَّ سَرَاحًا جَمِیْلًا Open ayah 33:28 in the Quran reader

اے پیغمبر ! اپنی بیویوں سے فرمادیجئے کہ اگر تم دنیا کی زندگی اور اس کی زینت کی طلب گارہو تو آؤ میں تم کو کچھ مال ومتاع (دنیوی) عطا کردوں اور تم کو اچھی طرح رخصت کروں

وَ اِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ الدَّارَ الْاٰخِرَةَ فَاِنَّ اللّٰهَ اَعَدَّ لِلْمُحْسِنٰتِ مِنْكُنَّ اَجْرًا عَظِیْمًا Open ayah 33:29 in the Quran reader

اور اگر تم اللہ کو چاہتی ہو اور اس کے پیغمبر کو اور عالم آخرت کو تو یقینا تم میں سے نیک کرداروں (نیک عورتوں) کے لئے اللہ نے اجر عظیم تیار کررکھا ہے

یٰنِسَآءَ النَّبِیِّ مَنْ یَّاْتِ مِنْكُنَّ بِفَاحِشَةٍ مُّبَیِّنَةٍ یُّضٰعَفْ لَهَا الْعَذَابُ ضِعْفَیْنِ١ؕ وَ كَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرًا Open ayah 33:30 in the Quran reader

اے پیغمبر کی بیبیو ! جو تم میں سے کوئی کھلی ہوئی ناشائستہ حرکت (یعنی نبی کریم ﷺ کی پسند کے خلاف کوئی بات) کرے گی تو اس کو دونی سزا دی جائے گی۔ اور یہ بات اللہ کے لئے آسان ہے

وَ مَنْ یَّقْنُتْ مِنْكُنَّ لِلّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ تَعْمَلْ صَالِحًا نُّؤْتِهَاۤ اَجْرَهَا مَرَّتَیْنِ١ۙ وَ اَعْتَدْنَا لَهَا رِزْقًا كَرِیْمًا Open ayah 33:31 in the Quran reader

اور تم میں سے جو اللہ اس کے پیغمبر کی فرمانبردار رہے گی اور نیک کام کرے گی ہم اس کا اجر دوگنا کردیں گے اور ہم نے اس کی خاطر عمدہ روزی تیار کررکھی ہے

یٰنِسَآءَ النَّبِیِّ لَسْتُنَّ كَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَآءِ اِنِ اتَّقَیْتُنَّ فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَیَطْمَعَ الَّذِیْ فِیْ قَلْبِهٖ مَرَضٌ وَّ قُلْنَ قَوْلًا مَّعْرُوْفًاۚ Open ayah 33:32 in the Quran reader

اے پیغمبر ﷺ کی بیبیو ! آپ عام عورتوں کی طرح نہیں ہیں اگر آپ پرہیزگار رہنا چاہتی ہیں تو (کسی اجنبی شخص سے) نزاکت سے بات نہ کریں تو ایسے شخص جس کے دل میں مرض ہو کو (طبعاً ) خیال (فاسد) پیدا ہونے لگتا ہے اور دستور کے مطابق بات کریں

وَ قَرْنَ فِیْ بُیُوْتِكُنَّ وَ لَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِیَّةِ الْاُوْلٰى وَ اَقِمْنَ الصَّلٰوةَ وَ اٰتِیْنَ الزَّكٰوةَ وَ اَطِعْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ؕ اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَیْتِ وَ یُطَهِّرَكُمْ تَطْهِیْرًاۚ Open ayah 33:33 in the Quran reader

اور اپنے گھروں میں ٹھہری رہیں اور پہلے زمانہ جاہلیت میں پھرنے کے دستور کے مطابق مت پھریں اور نمازوں کی پابندی رکھیں اور زکوٰۃ دیا کریں اور (ہمیشہ) اللہ اور اس کے پیغمبر کی فرمانبردار رہیں بیشک اللہ چاہتے ہیں کہ اے (پیغمبر کے) گھر والو ! آپ سے آلودگی کو دور رکھیں اور آپ کو (ہر طرح ظاہراً باطناً ) پاک وصاف رکھیں

وَ اذْكُرْنَ مَا یُتْلٰى فِیْ بُیُوْتِكُنَّ مِنْ اٰیٰتِ اللّٰهِ وَ الْحِكْمَةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ لَطِیْفًا خَبِیْرًا۠ Open ayah 33:34 in the Quran reader

اور آپ اللہ کی ان آیات (احکام) کو یاد رکھیں اور حکمت کی باتوں کو جن کا آپ کے گھروں میں چرچا رہتا ہے۔ بیشک اللہ باریک بین (اور) باخبر ہیں

آیات 28 تا 34 اسرار ومعارف جب یہ فتوحات حاصل ہوئیں تو مال غنیمت بھی ملا اور صابہ کرام رضہ اللہ عنہ کے معاشی حالات بھی کافی حد تک سدھر گئے مگر کاشانہ نبوی پر وہی حال تھا کہ کبھی بھی ایک دن دونوں وقت کا کھانا پیٹ بھر کر میسر نہ ہوتا تھا اور مہینوں چولہا نہ جلا کرتا تھا ازواج مطہرات نے باہمی مشورہ کر کے عرض کیا کہ اب تو اللہ نے فراخی بخشی ہے تو ساری غنیمت سحابہ میں نہ بٹ جائے بلکہمہ میں بھی کچھ آسانی اور فراخی عطا ہو اور گھر کے لیے کچھ نہ کچھ عطا ہوا کرے کہ یہ عسرت اور تنگدستی نہ رہے مگر یہ بات اپنی ذات اور اپنے گھر کے لیے آپ کو پسند نہ آئی اس پر یہ آیات نازل ہوئیں اور ازواج مطہرات کو اختیار دیا گیا کہ وہ موجودہ تنگی و عسرت کی حالت میں بھی آپ کا ساتھ نباہنا چاہتی ہیں یا الگ ہونا چاہیں تو بھی اختیار ہے۔ طلاق کا اختیار : یہاں سے علما نے ثابت فرمایا ہے کہ عورت کو طلاق کا اختیار دیا جاسکتا ہے کہ اگر نہ رہنا چاہے تو خود پر طلاق جاری کرلے اور یا پھر اختیار مرد کے پاس رہے اگر عورت مطالبہ کرے تو طلاق دے کر فارغ کردے دونوں صورتوں میں جائز ہے۔ تو ارشاد ہوتا ہے : اے نبی اپنی بیویوں سے کہ دیجیے کہ اگر انہیں دنیا کی آسودگی اور مال و دولت چاہیے تو دنیا اس گھر میں آنے سے رہی ہاں تمہیں مال و دولت دے کر بہت مناسب طریقے سے الگ کر کے رخصت کردیا جائے یعنی طلاق لے کر الگ ہوجاؤ۔ حضرت عائشہ رضہ اللہ عنہ کا ارشاد ہے کہ آپ نے سب سے پہلے مجھے فرمایا کہ میں ایک بات کہنے چلا ہوں مگر جواب دینے سے پہلے والدین سے مشورہ کرلینا تو یہ آیت سنائی فرماتی ہیں میں نے عرض کیا بھلا اس میں مشورہ کیسا میں تو اللہ اور اس کے رسول کو اختیار کرتی ہوں اور پھر باقی سب کو سنائی گئی تو سب نے یہی جواب دیا آپ ﷺ کو حضرت عائشہ سے بہت محبت تھی اور جانتے تھے کہ والدین سے مشورہ کریں گی تو وہ کبھی الگ ہونے کو نہ کہیں گے۔ اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو اور آخرت کی زندگی میں بلندی درجات کو اختیار کرتی ہو تو یہ بہت اعلی نیکی ہے اور یہ نیکی اپنانے والیوں کو بہت ہی بڑا اجر عطا ہوگا ۔ مقربین کی خطا پر زیادہ سزا مرتب ہوتی ہے : اور اے ازواج نبی اگر تم ہی غلط کام کرنے لگو تو یہ نہ سمجھا جائے کہ مقرب بندہ کو گناہ کی اجازت ہے بلکہ تم لوگوں کو دو گناہ سزا دی جائے گی یا تمہاری خطا کو دو گناہ کردیا جائے گا اور اللہ کو ایسا کرنا کچھ مشکل نہیں۔ یہاں سے بائیسواں پارہ شروع ہوتا ہے اور تم میں سے جو کوئی اللہ کی اطاعت اور اللہ کے رسول کا اتباع اختیار کرے گا اور عمل صالح اپنائے گا تو اس کی نیکیاں بھی دوگنی کردی جائیں گی اور اس کو روزی بھی نہایت عزت و وقار سے نصیب ہوگی دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ ازواج النبی دنیا کی خواتین سے افضل ہیں : اے نبی کی بیویو تم دنیا کی سب عورتوں سے فضیلت رکھتی ہو کہ کوئی خاتون اس پہلو سے تمہاری مثل نہیں اس لیے تمہیں لازم ہے کہ اللہ کا تقوی اختیار کرو ۔ عورت کی آواز : اور عورت کی آواز کا پردہ تو نہیں مگر ایسی صورت میں کہ کسی کو اس کی طرف گناہ کی رغبت ہو جائز نہیں حتی کہ نماز میں اگر عورت کو پتہ چلے کہ امام بھول رہا ہے تو بول کر لقمہ نہ دے بلکہ ہاتھ کی پشت پر ہاتھ مار کر مطلع کرے چہ جائیکہ آج ایک طبقہ طبلہ اور سارنگی پہ چلا گیا تو دوسرے ٹی وی پہ نعت سنانے لگیں اور سب سے الگ ایک طبقہ حکومت اور سلطنت کی امامت کبری پر قابض ہوگیا۔ یاللعجب۔ جاہلیت کا زمانہ اور پردہ : زمانہ جاہلیت کی طرح بےپردہ اور بلا ضرورت نمائش کے لیے نہ پھر اکیجیے۔ آپ ﷺ کی بعثت سے پہلے کے دور کو عہد جاہلیت کہا گیا ہے کہ اسلام کی آمد جہالت کے خلاف تھی اور اس زمانہ میں عورتیں اچھے لباس اور زیورات پہن کر پھرا کرتی تھیں جس سے امارت اور شان و شوکت کا اظہار مقصود ہوتا تھا اسلام نر اس سب کام سے روک دیا اور ازواج النبی ﷺ کو حکم دے کر ثابت کردیا کہ کسی بھی مسلمان خاتون کے لیے لاضرورت گھر سے نکلنا جائز نہیں ہاں ضرورت سے منع نہیں فرمایا مگر اس میں بھی برج یعنی شان و شوکت کا اظہار اور زیورات و لباس کی نمائش نہ ہو بلکہ شرعی پردہ کر کے نکلے۔ اور گھر میں عبادات ادا کرے بدنی بھی مالی بھی اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت میں کمربستہ رہے اور حکم آپ کو اس لیے دیا جارہا ہے کہ اللہ چاہتا ہے کہ تم سے ہر طرح کی چھوٹی سے چھوٹی خطا بھی دور کر دے اور تمہیں پاک صاف کردے۔ طہارت تشریعی اور تکوینی یہ پاک صاف کرنا شرعی اعتبار سے ہے جو صحابہ اور اہل اللہ کو نصیب ہوتی ہے کہ اللہ ان کی حفاظت فرما کر گناہ سے محفوظ رکھتا ہے یہ تکوینی نہیں ہوتی کہ جیسے نبی تکوینی طور پر معصوم ہوتا ہے۔ یہ صرف خاصہ نبوت ہے اور کسی کو معصوم ماننا یا نبی ماننا برابر ہے۔ اہل بیت : شیعہ کا یہاں سے آئمہ کے معصوم ہونے کا استدلال باطل ہے حق بات تو یہ ہے کہ یہ آیات ازواج مطہرات کے حق میں نازل ہوئیں اور آپ ﷺ نے حضرت علی۔ فاطمہ اور حسنین کریمین رضہ اللہ عنہ کو اس میں شامل کرنے کی دعا کہ آپ ﷺ کی باقی تین بیٹیاں اس کے نزول سے قبل فوت ہوچکی تھی ورنہ اہل بیت کا اطلاق ہی ان افراد خانہ پر ہوتا ہے جن کا نان نفقہ صاحب خانہ کے ذمہ ہو۔ اور اسی طرح قرن فی بیوتکن سے مراد حضرت عائشہ پر اعتراض کہ آپ حج پر کیوں تشریف لے گئیں یا بصرہ کیوں گئیں درست نہیں کہ وہاں محض اظہار شوکت کے لیے باہر پھرنے سے منع فرما یا ہے۔ حج سے نہیں اور حضرت عمر ؓ کے زمانہ میں بھی دوسری ازواج مطہرات نے حج ادا فرمائے نیز آپ کے ساتھ آپ کے محرم بھی تھے اور آہنی ہودج میں پردہ میں سفر فرمایا۔ اسی طرح آپ کو مکہ مکرمہ میں شہادت عثمان اور مدینہ پر روافض کے قبضہ اور مسلمانوں کی بےبسی حضرت علی کی مجبوری کی خبر ہوئی تو بصرہ تشریف لے گئیں جہاں اسلامی قوت تھی اور افواج جمع تھیں حضرت علی کو روافض نے چلنے پر مجبور کردیا ورنہ بصرہ جانے سے روکنے میں خود حضرت حسن اور حسین بھی تھے بصرہ میں سرے سے جنگ نہیں ہوئی بلکہ باتیں ہوئیں اور طے پا گیا کہ سب قوت یکجا کرکے قاتلان عثمان سے قصاص لیا جائے جس پر تیسرے روز علی الصبح روافض نے اچانک حملہ کردیا اور یوں بیخبر ی میں دونوں طرف کے لوگوں کو لڑا دیا بات صاف ہونے تک بہت سے لوگ شہید ہوچکے تھے اور روافض کا ایک گروہ الگ ہو کر خارجہ کہ لایا جو بعد میں بھی حضرت علی رضہ اللہ عنہ سے لڑا۔ اور لڑائی کے وقت حضرت عائشہ سرے سے ہودج میں موجود نہ تھیں اگر یہ جنگ تھی تو غنیمت کس نے لی اور جنگی قیدی کون بنے یا منقوکین کا کیا فیص کہ کیا گیا ؟ یہ سب کچھ روافض کی سازش تھی اور حضرت علی کا یہ کارنامہ کہ اس دور میں روافض کی سازشوں کا مقابلہ کر کے امت مسلمہ کو کا نہ جنگی سے بچا لیا بہت بڑا کارنامہ ہے رہے روافض تو یہ ہمیشہ سے امت مسلمہ کے دشمن جھوٹے اور چالباز ہیں ان کے دلائل میں بھی جھوٹ اور بودا پن موجود ہوتا ہے ان کی روایات پہ توجہ ہی نہ کی جانی چاہیے۔ اور اے ازواج النبی اللہ کی آیات کو یاد کرو جو تمہارے گھروں میں پڑھی جاتی ہیں جن کے نزال کے مقام تمہارے کاشانے ہیں اور جن میں حقیقی حکمت و دانائی موجود ہے اس لیے اللہ اس باریک ترین خیال سے بھی واقف ہے جو لمحہ بھر کے لیے دور کہیں دل کی گہرائی میں گزر جاتا ہے اور اللہ ہر چیز سے باخبر ہیں۔
Ayahs 33:35–40

اِنَّ الْمُسْلِمِیْنَ وَ الْمُسْلِمٰتِ وَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ وَ الْقٰنِتِیْنَ وَ الْقٰنِتٰتِ وَ الصّٰدِقِیْنَ وَ الصّٰدِقٰتِ وَ الصّٰبِرِیْنَ وَ الصّٰبِرٰتِ وَ الْخٰشِعِیْنَ وَ الْخٰشِعٰتِ وَ الْمُتَصَدِّقِیْنَ وَ الْمُتَصَدِّقٰتِ وَ الصَّآئِمِیْنَ وَ الصّٰٓئِمٰتِ وَ الْحٰفِظِیْنَ فُرُوْجَهُمْ وَ الْحٰفِظٰتِ وَ الذّٰكِرِیْنَ اللّٰهَ كَثِیْرًا وَّ الذّٰكِرٰتِ١ۙ اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ مَّغْفِرَةً وَّ اَجْرًا عَظِیْمًا Open ayah 33:35 in the Quran reader

بیشک مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں اور ایمان لانے والے مرد اور ایمان لانے والی عورتیں اور فرمابرداری کرنے والے مرد اور فرماں برداری کرنے والی عورتیں اور راست باز مرد اور راست باز عورتیں اور صبر کرنے والے مرد اور صبر کرنے والی عورتیں اور خشوع کرنے والے مرد اور خشوع کرنے والی عورتیں اور خیرات کرنے والے مرد اور خیرات کرنے والی عورتیں اور روزہ رکھنے والے مرد اور روزہ رکھنے والی عورتیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے مرد اور حفاظت کرنے والی عورتیں اور کثرت سے اللہ کا ذکر کرنے والے مرد اور کثرت سے ذکر کرنے والی عورتیں ان سب کے لئے اللہ نے بخشش اور اجر عظیم تیار فرمارکھا ہے

وَ مَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّ لَا مُؤْمِنَةٍ اِذَا قَضَى اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗۤ اَمْرًا اَنْ یَّكُوْنَ لَهُمُ الْخِیَرَةُ مِنْ اَمْرِهِمْ١ؕ وَ مَنْ یَّعْصِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًا مُّبِیْنًاؕ Open ayah 33:36 in the Quran reader

اور کسی ایمان دار مرد اور کسی ایمان والی عورت کو یہ حق نہیں ہے کہ جب اللہ اور اس کا پیغمبر کسی کام کا حکم فرمادیں تو وہ اپنے کام میں اپنا بھی اختیار سمجھیں۔ اور جو کوئی اللہ اور اس کے پیغمبر کی نافرمانی کرے تو یقینا وہ صریح گمراہ ہوگیا

وَ اِذْ تَقُوْلُ لِلَّذِیْۤ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیْهِ وَ اَنْعَمْتَ عَلَیْهِ اَمْسِكْ عَلَیْكَ زَوْجَكَ وَ اتَّقِ اللّٰهَ وَ تُخْفِیْ فِیْ نَفْسِكَ مَا اللّٰهُ مُبْدِیْهِ وَ تَخْشَى النَّاسَ١ۚ وَ اللّٰهُ اَحَقُّ اَنْ تَخْشٰىهُ١ؕ فَلَمَّا قَضٰى زَیْدٌ مِّنْهَا وَطَرًا زَوَّجْنٰكَهَا لِكَیْ لَا یَكُوْنَ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ حَرَجٌ فِیْۤ اَزْوَاجِ اَدْعِیَآئِهِمْ اِذَا قَضَوْا مِنْهُنَّ وَطَرًا١ؕ وَ كَانَ اَمْرُ اللّٰهِ مَفْعُوْلًا Open ayah 33:37 in the Quran reader

اور جب آپ اس شخص سے فرما رہے تھے جس پر اللہ نے احسان فرمایا اور آپ نے بھی احسان فرمایا کہ اپنی بیوی کو اپنے پاس (اپنی زوجیت میں) رہنے دے اور اللہ سے ڈرو اور آپ اپنے دل میں وہ (بات) چھپائے ہوئے تھے جس کو اللہ ظاہر فرمانے والے تھے اور آپ لوگوں (کے طعنوں) سے ڈرتے تھے اور ڈرنا تو اللہ ہی سے زیادہ سزاوار ہے پھر جب زید نے اس سے (کوئی) حاجت نہ رکھی تو ہم نے آپ سے اس کا نکاح کردیا تاکہ ایمان والوں پر اپنے منہ بولے بیٹوں کی بیبیوں (سے نکاح) کے بارے میں کوئی تنگی نہ رہے جب وہ (منہ بولے بیٹے) ان سے (کوئی) حاجت نہ رکھیں (طلاق دے دیں) ۔ اور اللہ کا حکم تو ہونے ہی والا تھا

مَا كَانَ عَلَى النَّبِیِّ مِنْ حَرَجٍ فِیْمَا فَرَضَ اللّٰهُ لَهٗ١ؕ سُنَّةَ اللّٰهِ فِی الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلُ١ؕ وَ كَانَ اَمْرُ اللّٰهِ قَدَرًا مَّقْدُوْرَا٘ۙ Open ayah 33:38 in the Quran reader

اور ان پیغمبر کے لئے جو بات اللہ نے (تکویناً یا تشریعاً ) مقرر فرمادی ہے اس میں پیغمبر پر کوئی الزام نہیں اللہ تعالیٰ نے ان (پیغمبروں) کے حق میں (بھی) یہی معمول رکھا ہے جو پہلے ہو گزرے اور اللہ کا حکم (پہلے سے) تجویز کیا ہوا ہوتا ہے

اِ۟لَّذِیْنَ یُبَلِّغُوْنَ رِسٰلٰتِ اللّٰهِ وَ یَخْشَوْنَهٗ وَ لَا یَخْشَوْنَ اَحَدًا اِلَّا اللّٰهَ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ حَسِیْبًا Open ayah 33:39 in the Quran reader

اور وہ (پیغمبران) اللہ کے پیغام (جوں کے توں) پہنچاتے تھے اور اسی سے ڈرتے تھے اور اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے تھے۔ اور اللہ حساب لینے والے کافی ہیں

مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَ لٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا۠ Open ayah 33:40 in the Quran reader

(حضرت) محمد (ﷺ) تمہارے مردوں میں سے کسی کے والد نہیں ہیں و لیکن اللہ کے پیغمبر ہیں اور تمام نبیوں کے ختم کرنے والے ہیں اور اللہ ہر چیز کو خوب جانتے ہیں

آیات 35 تا 40 اسرارومعارفف مرد اور عورت اپنی اپنی حیثیت کے مطابق عبادت کے برابر مکلف ہیں اور دونوں کا حساب ہوگا اجر پائیں گے : چنانچہ یہ بات جان لی جائے کہ قبول اسلام اور اتباع شریعت بھی ایک کھیتی ہے جیسے زمین تیار کرنا بیج ڈالنا حفاظت کرنا اور پھر اس کے نتیجے میں اللہ کی رحمت سے پھل حاصل کرنا ہوتا ہے بیشک اسلام قبول کرنے والے مرد ہوں یا خواتین انہیں قبول اسلام سے یقین کی دولت نصیب ہوتی ہے اور دولت ایمان و یقین سے بہرہ ور مردوں اور خواتین کو عبادت و اطاعت کی توفیق ارزاں ہوتی ہے عبادت الہی بندے کو سچا اور کھرا بنا دیتی ہے سچے اور کھرے مرد اور خواتین کو نیکی پر استقامت گناہوں سے بچاؤ اور تکالیف و مشکلات جو اس میں پیش آئیں ان پر صبر کرنے کی سعادت نصیب ہوتی ہے اور یوں انہین خشیت الہی یعنی خلوص قلب سے اللہ کی عظمت سے لرزاں و ترساں بھی رہنا اور اس کی عبادت پہ کاربند اطاعت کرتے رہنا اور روزہ رکھنے والے مرد اور روزہ رکھنے والی خواتین یعنی ان لوگوں کو فرشتوں جیسے اوصاف اپنانے کی توفیق عطا ہوجاتی ہے اور یوں انسانیت کے بہت بڑے فتنے اور شہوات نفس کا مقابلہ کرنے کی طاقت عطا ہوتی ہے لہذا ارشاد ہوا اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے مرد اور خواتین اور یوں اس ساری ذکر اللہ : کھیتی کا پھل اور حاصل سمیٹنے والے مرد اور خواتین کہ کثرت سے اللہ کا ذکر کرنے والے حضرات و خواتین ایسے خوش نصیب ہیں کہ ان کے لیے اللہ کی بخشش ہے اور اجر عظیم ہے ذکر تمام عبادات کا حاصل بھی ہے اور حاصل اور پھل ہی بیج بھی ہوتا ہے اسی لیے قرآن کریم نے ذکر کا حکم کثرت سے اور زبانی عمل کے ساتھ خصوصا خفی اور قلبی کا حکم دیا ہے اگر کسی کو ذکر قلبی نصیب ہوجائے تو علی الترتیب یہ کمالات نصیب ہوتے چلے جاتے ہیں اور یون وہ اللہ کی بخشش کا مستحق قرار پاتا ہے جیسے اصل مغفرت تو ایسے ہی لوگوں کے لیے ہو اور باقی لوگ ان کے طفیل بخشے جائیں۔ بندہ نے اللہ کی توفیق سے اس موضوع سے الگ کافی کچھ لکھنے کی سعادت حاصل کی ہے ان کتب سے دیکھا جاسکتا ہے یہ عرض کردیا جائے کہ ذکر پر اجر عظیم کا وعدہ ربانی موجود ہے۔ کمال ایمان یہ ہے تمام مجاہدات اور ازکار کا حاصل کہ اللہ اور اس کا رسول جس کام کا حکم دیں اسے کرنے میں تامل نہ ہو اور ھق یہ بھی ہے کہ جب اللہ اور رسول کا حکم ہو تو کسی ایماندار کے لیے کوئی دوسرا راستہ نہیں رہ جاتا کہ اگر کوئی اللہ یا اس کے رسول کی نافرمانی کا مرتکب ہوا تو وہ بالکل گمراہ ہی ہوگیا۔ قرآن حکیم نے یہاں اللہ کی مثالی اطاعت کا مظہر رسول اللہ صلی علیہ وسلم کو اور رسول اللہ کی اطاعت کی مثال آپ کے پھوپھی زاد عبداللہ بن حجش اور ان کی ہمشیرہ زینب کے عمل کو قرار دیا۔ حضرت زید کا واقعہ : حضرت زید بن حارثہ کسی کے غلام تھے آپ صلہ اللہ علیہ وسلم نے قبل بعثت انہیں عکاظ کے بازار سے خرید اتھا اور کمسن تھے آپ نے آزاد کر کے انہیں اپنا متبنی بنا لیا اور اہل مکہ انہیں زید بن محمد کے نام سے پکارتے تھے جب آپ جوان ہوئے تو حضور اکرم ﷺ نے اپنی پھوپھی زاد حضرت زینب کا رشتہ طلب فرمایا جس پر ایک رئیس زاد یعنی قریش کے اعلی خاندان کی بیٹی اور اس کا بھائی ششدر رہ گئے کہ حضرت زید رضہ اللہ عنہ بہرحال آزاد کردہ غلام تھے تب یہ آیات نازل ہوئیں کہ جو رسول اللہ فرما دیں وہ اللہ کو فرمان ہے اور ایماندار کو قبول کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں۔ لہذا انہوں نے سر تسلیم خم کردیا۔ نکاح میں کفو کا مسئلہ : نکاح میں کفو کا حکم اس غرض سے نہیں کہ اعلی خاندان کا غریب سے نکاح نہیں ہوسکتا یا اعلی خاندان کا فرد اور طرح کا انسان ہے اور طرح کا بلکہ محض خاندان کے انتطامی معاملات کو درست رکھنے کے لیے کہ ہر سطح کے لوگوں کے سوچنے کا انداز مختلف ہوتا ہے اور اگر ایک سطح یا کفو کے لوگوں میں نکاح ہو تو نباہ میں آسانی رہے اور بس۔ حق مہر : اس نکاح میں مہر رسول اللہ ﷺ نے تقریبا چار تولہ سونا اٹھارہ تولہ چاندی ایک بار برداری کا جانور زنانہ جوڑا پچیس سیر آٹا اور پانچ سیر کھجور دیا تھا جو اس بات کی برحق دلیل ہے کہ مہر حسب حیثیت دیا جانا چاہیے کہ خاندان میں شامل ہونے والی خاتون خاندان کہ ملکیت میں حصہ دار ہو کر خاندان کا فرد بن سکے۔ نکاح ہوجانے کے بعد ان کا نباہ نہ ہوسکا اور حضرت زید ؓ نے ارادہ کرلیا کہ طلاق دے دی جائے تو آکے حضور ﷺ سے اجازت چاہی۔ دوسری طرف کفر کی رسم تھی کہ متبنی حقیقی اولاد کی طرح حقوق پاتا وراثت حاصل کرتا اور اصلی بیٹے والی حرمت بھی۔ چناچہ حقیقی اولاد کے محارم سے وہ بھی نکاح نہ کرسکتا تھا ایسے ہی اس کی بیوہ یا مطلقہ کو بیوہ یا مطلقہ بہو شمار کیا جاتا۔ اسلام نے یہ رسم ختم کردی اور انہیں ان کے باپوں کے نام سے پکارنے کا حکم دیا حقیقی اولاد کے حقوق سے بھی منع فرما دیا جس کو واضح کرنے کے لیے حضرت زینب کو حضرت رید کے میں دیا لیکن پھر ان سے نکاح کرنے کا حکم آپ کو دے دیا کہ حضرت زید طلاق دیں گے تو آپ نکاح کیجیے مگر یہ اتنا بڑا طعنہ تھا کہ اسے برداشت کرنا صرف آپ ﷺ کا حوصلہ تھا ممکن ہے کوئی دوسرا ایسا کر ہی نہ سکتا لہذا آپ ہی کو حکم دیا گیا۔ تکوینی طور پر کسی کام کا علم شرعی حکم اور کوشش کو متاثر نہیں کرتا : اور آپ نے کشفا پہلے ہی جان لیا تھا مگر تکوینی طور پر کسی فیصلے کا علم بھی ہو تو شرعی احکام پر عمل کرنا ضروری ہے چناچہ آپ نے سب کچھ جاننے کے باوجود حضرت زید ؓ جس پر آپ نے بھی اور اللہ نے بھی احسان فرمایا یہ مشورہ دیا کہ اپنی بیوی سے نباہ کرنے کی کوشش کریں اور ارشاد ہوتا ہے جس بات کا آپ کو علم تھا کہ ایسا ہوگا اسے آپ نے فالحال ظاہر نہ فرمایا مگر اللہ اسے ظاہر کرنا چاہتا ہے اور اس میں لوگوں کے طعنوں کا بہت اندیشہ تھا لہذا آپ پر طبعی گرانی تو ضرور ہونی چاہیے تھی مگر اللہ کا رسول حقیقی طور پر تو صرف اللہ کی اطاعت کرتا ہے اور اسی کی ناراضگی برداشت نہیں کرسکتا۔ حضرت زینب ؓ کا نکاح آپ ﷺ سے اللہ نے کردیا : چناچہ جب حضرت رید ؓ نے طلاق دے دی تو ہم نے بعد عدت حضرت زینب ؓ کا نکاح آپ سے کردیا تاکہ یہ حکم واضح ہوجائے اور مسلمان اس کفریہ رسم سے الگ ہو کر منہ بولے بیٹوں کی بیواؤں یا مطلقہ بیویوں سے نکاح کرسکیں کہ جب یہ حق نہ رہا تو حقیقی اولاد والے سارے حق ختم ہوجائیں گے یہاں علماء کا ارشاد ہے کہ آپ ﷺ کا یہ نکاح اللہ نے کردیا تھا کہ حضرت زینب ؓ نے شرعی حکم پر عمل کے لیے قربانی دی تو اللہ نے انہیں خصوصی اعزاز بخشا کہ ان کا نکاح خود کردیا۔ شریعت پر عمل کرنے میں طعنے سہنا پڑتے ہیں : اور اس عمل میں انبیاء (علیہم السلام) کا یہی عمل رہا ہے کہ اللہ نے جس کام کا حکم دیا کر گزرے اور معاشرے کی طعن وتشنیع کی کبھی پرواہ نہ کی یہی عمل آپ ﷺ نے کیا لہذا کسی کے طعن کی کوئی حیثیت نہیں کہ اللہ جو بات کرنے کا فیصلہ فرما لیتے ہیں وہ ہو کر رہتی ہے اور جن لوگوں کو اپنی رسالت کے لیے چن لیتے ہیں وہ صرف اللہ کی پسند کا خیال رکھتے ہیں اور لوگوں کی باتوں کی پرواہ نہیں کرتے چناچہ اہل اللہ کو بھی اس مشقت کے لیے تیار رہنا چاہیے ایسا ضرور ہوتا ہے لہکن لوگ محض باتیں کرسکتے ہیں ہر کام کا محاسبہ تو اللہ کریں گے۔ اور حضرت محمد ﷺ تم مردوں میں سے کسی کے نسبی والد نہیں ہیں کہ ایسے احکام ان پر جاری ہوں بلکہ انہیں اللہ کا حکم ماننا ہے جس کے وہ رسول ہیں اور تمام سلسلہ نبوت کو مکمل کرنے والے آخری نبی اور رسول ہیں ایسا بھی نہیں کہ آپ کے بعد کوئی نیا نبی آکر اس بات کی اصلاح کردے گا جو آپ سے نہ ہوسکی بلکہ آپ پوری انسانیت کے لیے تمام ضوابط فرائض سے مستحبات تک حکومت و ریاست سے ایک ادمی تک سیاست ، معیشت ، اخلاقیات ، عبادات و ایمانیات تمام پہلوؤں پر مکمل رہنمائی عطا کریں گے اور وہ رہتی دنیا تک قائم رہے گی کوئی نیا نبی نہ آئے گا ان سب باتوں کی حقیقت سے اللہ کریم خوب واقف ہیں یہاں بغیر تفصیل میں گئے یہ ثابت ہے کہ قادیانی بھی کذاب تھا اور جو لوگ اسلام کو آج کی ضرورت کے مطابق نہیں مانتے وہ بھی کذاب ہیں۔