34. Surah Saba

سبإSheba · 54 ayahsاسرار التنزیل

Ayahs 34:37–45

وَ مَاۤ اَمْوَالُكُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُكُمْ بِالَّتِیْ تُقَرِّبُكُمْ عِنْدَنَا زُلْفٰۤى اِلَّا مَنْ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا١٘ فَاُولٰٓئِكَ لَهُمْ جَزَآءُ الضِّعْفِ بِمَا عَمِلُوْا وَ هُمْ فِی الْغُرُفٰتِ اٰمِنُوْنَ Open ayah 34:37 in the Quran reader

اور تمہارے مال اور اولاد ایسی چیز نہیں جو درجے میں تمہیں ہمارا مقرب بنادے مگر ہاں جو ایمان لائے اور نیک کام کرے سو ان کے لئے ان کے (نیک) کام کا دوگنا صلہ ہے اور وہ اطمینان سے بالاخانوں میں (بیٹھے) ہوں گے

وَ الَّذِیْنَ یَسْعَوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِنَا مُعٰجِزِیْنَ اُولٰٓئِكَ فِی الْعَذَابِ مُحْضَرُوْنَ Open ayah 34:38 in the Quran reader

اور جو ہماری آیتوں کو ہرانے (ناکام بنانے) کی کوشش کر رہے ہیں ، ایسے لوگ عذاب میں لائے جائیں گے

قُلْ اِنَّ رَبِّیْ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ وَ یَقْدِرُ لَهٗ١ؕ وَ مَاۤ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ شَیْءٍ فَهُوَ یُخْلِفُهٗ١ۚ وَ هُوَ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ Open ayah 34:39 in the Quran reader

فرمادیجئے کہ بیشک میرا پروردگار اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہیں فراخ روزی دیتا ہے اور جس کو چاہے تنگی سے دیتا ہے اور تم جو چیز خرچ کرو گے تو وہ اس کا (تمہیں) بدلہ دے گا اور وہ سب سے بہتر روزی دینے والا ہے

وَ یَوْمَ یَحْشُرُهُمْ جَمِیْعًا ثُمَّ یَقُوْلُ لِلْمَلٰٓئِكَةِ اَهٰۤؤُلَآءِ اِیَّاكُمْ كَانُوْا یَعْبُدُوْنَ Open ayah 34:40 in the Quran reader

اور جس دن ان سب کو جمع فرمائے گا پھر فرشتوں سے ارشاد (ربانی) ہوگا کیا یہی لوگ تمہاری عبادت کیا کرتے تھے ؟

قَالُوْا سُبْحٰنَكَ اَنْتَ وَلِیُّنَا مِنْ دُوْنِهِمْ١ۚ بَلْ كَانُوْا یَعْبُدُوْنَ الْجِنَّ١ۚ اَكْثَرُهُمْ بِهِمْ مُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 34:41 in the Quran reader

وہ عرض کریں گے آپ پاک ہیں ہمارا تعلق تو آپ سے ہے نہ کہ ان سے بلکہ یہ جنوں (شیاطین) کی پوجا کرتے تھے (اور) ان میں اکثر ان ہی کو مانتے تھے

فَالْیَوْمَ لَا یَمْلِكُ بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ نَّفْعًا وَّ لَا ضَرًّا١ؕ وَ نَقُوْلُ لِلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا ذُوْقُوْا عَذَابَ النَّارِ الَّتِیْ كُنْتُمْ بِهَا تُكَذِّبُوْنَ Open ayah 34:42 in the Quran reader

سو آج تم میں سے کوئی کسی کو نفع اور نقصان پہنچانے کا اختیار نہیں رکھتا اور ہم ظالموں سے کہیں گے جس دوزخ کے عذاب کو تم جھٹلایا کرتے تھے اس کا مزہ چکھو

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ قَالُوْا مَا هٰذَاۤ اِلَّا رَجُلٌ یُّرِیْدُ اَنْ یَّصُدَّكُمْ عَمَّا كَانَ یَعْبُدُ اٰبَآؤُكُمْ١ۚ وَ قَالُوْا مَا هٰذَاۤ اِلَّاۤ اِفْكٌ مُّفْتَرًى١ؕ وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلْحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمْ١ۙ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 34:43 in the Quran reader

اور جب ان کے سامنے ہماری آیات صاف صاف پڑھی جاتی ہیں تو کہتے ہیں یہ ایک (ایسا) شخص ہے جو چاہتا ہے کہ جن چیزوں کو تمہارے باپ دادا پوجا کرتے تھے ان سے تم کو روک دے۔ اور یہ (بھی) کہتے ہیں کہ یہ (قرآن) جھوٹ ہے جو (اپنی طرف سے) بنایا گیا ہے۔ اور کافروں کے پاس جب حق آیا تو کہنے لگے یہ تو صریح جادو ہے

وَ مَاۤ اٰتَیْنٰهُمْ مِّنْ كُتُبٍ یَّدْرُسُوْنَهَا وَ مَاۤ اَرْسَلْنَاۤ اِلَیْهِمْ قَبْلَكَ مِنْ نَّذِیْرٍؕ Open ayah 34:44 in the Quran reader

اور ہم نے نہ تو ان کو کتابیں دیں جن کو یہ پڑھتے ہیں اور نہ ہم نے آپ سے پہلے ان کی طرف کوئی ڈرانے والا بھیجا تھا

وَ كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ۙ وَ مَا بَلَغُوْا مِعْشَارَ مَاۤ اٰتَیْنٰهُمْ فَكَذَّبُوْا رُسُلِیْ١۫ فَكَیْفَ كَانَ نَكِیْرِ۠ Open ayah 34:45 in the Quran reader

اور ان سے پہلے جو لوگ تھے انہوں نے جھٹلایا اور یہ (مشرکین) تو (اس کے) دسویں حصے کو بھی نہیں پہنچتے جو کچھ ہم نے ان کو دے رکھا تھا سو انہوں نے ہمارے پیغمبروں کو جھٹلایا تو ہمارا عذاب کیسا ہوا

رکوع نمبر 5 ۔ آیات 37 ۔ تا۔ 45 اسرار و معارف : دنیا کی نعمتوں میں مال اور اولاد بیشک بہت بڑی نعمت ہیں لیکن یہ سب کچھ طاقتور اقتدار اور صحت وغیرہ سب عظیم نعمتیں ہیں مگر انہیں اللہ کی رضا مندی کی دلیل سمجھ لینا سب سے بڑی جہالت ہے کہ یہ سب سب کچھ تو کفار و مشرکین کے پاس بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ یہ سب کچھ وہ اپنی حکمت سے تقسیم فرماتا ہے اور اس کی حکمت سے وہ خود ہی واقف ہے ہاں اس کی رضامندی کی دلیل یہ ہے کہ ایمان کامل نصیب ہو اور نیک اعمال کی توفیق ارزاں ہو ایسے لوگوں کو یقینا ان کے اعمال سے کئی گنا زیادہ اجر دیا جائے گا اور یہ لوگ خوبصورت بالا خانوں کے جھروکوں میں مزے سے بیٹھے ہوں گے بغیر کسی قسم کے خوف یا اندیشے کے جبکہ ایسے لوگ جو دنیا میں نہ صرف گمراہ رہے بلکہ احکام الہی اور دین اسلام کو روکنے کی کوشش بھی کرتے رہے اللہ کے عذاب میں گرفتار ہوں گے۔ جہاں تک رزق کا تعلق ہے تو یہ محض اس کی اپنی تقسیم ہے جسے چاہے زیادہ عطا کردے اور جسے چاہے اپنے ہی بندوں میں سے تھوڑا عطا کرے یعنی مومنین میں بھی جو اس کے پسندیدہ اور نیک بندے ہیں ، ان میں بھی ایسے بندے ہیں ، ان میں بھی ایسے بندے ہیں جنہیں وہ دوسروں کی نسبت کم دولت دیتا ہے۔ اس سے پہلے کی آیت میں عمومی تذکرہ تھا کہ دولت و غربت وہ اپنی مرضی سے اور آزمائش و امتحان کے لیے بانٹتا ہے یہاں عبادہ فرما کر یہ ظاہر فرما دیا کہ مومونین میں بھی امارت و غربت دونوں باتیں ہوسکتی ہیں اور آج کے عہد کا یہ تصور کہ اچھے مسلمان کو ضرورت غریب ہی ہونا چاہیے باطل ٹھہرا حالانکہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں بھی بہت دولت مند لوگ تھے اور حضرت عثمان تو دولت مندوں کے سردار تھے پھر جب فتوحات نصیب ہوئیں مال غنیمت آیا تو حضرت علی اور حضرت حسن و حسین سب بہت امیر لوگ تھے اور یہ اللہ کا انعام تھا بلکہ ایمان کے ساتھ دولت اور قوت نصیب ہو اور بندہ اسے اللہ کی راہ میں خرچ کرے تو اسے مزید دولت نصیب ہوتی ہے کہ آخرت کی بخشش جو بہت بڑی دولت ہے وہ تو ملتی ہی ہے اکثر دنیا میں بھی مال اور طاقت میں زیادتی نصیب ہوتی ہے ہاں جو خرچ ناجائز کاموں میں کیا جائے اس میں بدلہ دینے کا وعدہ نہیں ہے اور یہ قانون بھی ارشاد ہوگیا کہ دنیا میں بھی جس چیز کا خرچ جتنا بڑھ جائے اللہ کریم وہ شئے اتنی زیادہ پیدا فرما دیتے ہیں اور جس کی ضرورت کم ہوتی جائے وہ شے کم ہوتی جاتی ہے اور اسے روز مرہ کے استعمال کی چیزوں میں دیکھا جاسکتا ہے اگر عضو بدن کو کام سے روک دیں بےکار ہوجائے گا کام کریں تو قوت پائے گا یا جیسے کتے بلی وغیرہ کہ متعدد بچے دیتے ہیں اور گائے بھیڑ بکری ایک یا دو مگر ہمیشہ تعداد میں گائے بکریاں ریوڑ کے ریڑ اور کتے بلی کم ہوتے ہیں۔ جہاں تک ان کے مشرکانہ عقائد کا تعلق ہے تو ایک روز تو سب لوگوں کو یکجا جمع کیا ہی جائے گا اگر اب نہیں مان رہے تو تب انہیں ضرور تسلی ہوجائے گی کہ جب ان کے روبرو فرشتوں تک سے پوچھا جائے گا یعنی یہ کسی انسان کی یا فرشتوں تک کی پوجا کرتے تھے تو ان کے روبرو بات ہوجائے گی جیسے دوسری جگہ انبیاء کرام سے پوچھنے کی بات ہے کہ کیا یہ لوگ دنیا میں تمہاری پوجا کیا کرتے تھے تو وہ عرض کریں گے اے اللہ تو ہر قسم کے باطل عقائد سے بہت بلند اور پاک ہے اور ہماری زندگی تو تیری معیت میں تیرے بھروسے تیری عبادت و اطاعت میں گزری یہ تو کبھی ہمارے ساتھ نہ تھے بلکہ یہ تو شیاطین کی پوجا کرتے تھے اور حق یہ ہے کہ اگر کوئی انبیاء صلحاء یا فرشتوں کی پوجا کرتا ہے تو وہ تو اس کی بات پر ہرگز راضی نہیں ہیں نہ ایسا کرنے کو کہتے ہیں یہ بات بھی اسے شیطان ہی سکھاتا ہے اور دراصل وہ شیطان ہی کی عبادت کرتا ہے اور کچھ لوگ واقعی جنوں اور شیاطین کو پوجتے ہیں۔ کچھ اعمال میں ان کی اطاعت کرکے اور کچھ عملیات میں کفر و شرک میں مبتلا ہو کر اور یوں دنیا کا مفاد حاصل کرنے کی امید میں لگے رہتے ہیں لیکن روز حشر ارشاد ہوگا کہ آج تو بات واضح ہوگئی کہ تم میں سے کوئی بھی کسی کے لیے کچھ نہیں کرسکتا نہ تو نفع ہی پہنا سکتا ہے اور نہ نقصان ہی کرسکتا ہے۔ یہ بہت عجیب بات ارشاد ہوئی کہ اکثر لوگ تو دنیا کے نفع کی امید پر عملیات باطلہ اور اعمال بد میں مبتلا ہوتے ہیں پھر یہ بھی مشاہدہ ہے کہ جنات لوگوں کو ایذا اور نقصان پہناتے ہیں تو حق یہ ہے کہ اگر دنیا میں ان کے باعث چند ٹکے مل بھی تو وہ نقصان ہی ہے کہ آخرت میں سزا کا سبب بنے گا اور اگر راہ حق پر چلتے ہوئے کسی کافر سے ایذا پہنچی وہ جن ہو یا انسان تو نقصان نہیں ہے کہ آخرت میں انعام اور مغفرت کا سبب بنے گا لہذا یہ بات آج بھی واضح ہے ارشادات نبوی میں موجود مگر کفار کو یقین نہیں تو روز حشر سامنے دیکھ کر یقین بھی کرلیں گے بلکہ تب تو دوزخ کو بھی مان لیں گے کہ سب کفار کو جن و شیاطین ہوں یا ان کے پجاری حکم ہوگا کہ اب آگ کا عذاب چکھو اور اس میں داخل ہوجاؤ جب کہ زندگی بھر تم اسے ماننے سے انکار کرتے رہے۔ جب ان لوگوں کے سامنے اللہ کی آیات اور اس کے ارشادات بیان کیے جائیں تو یہ بدبخت اس پہ غور نہیں کرتے بلکہ انہیں یہ فکر گھیر لیتی ہے کہ قبول کرنے سے ہمارا اقتدار جاتا رہے گا جبکہ رسومات باطلہ میں تو یہ سب کچھ اپنی مرضی سے کرتے ہیں تو کہنا شروع کردیتے ہیں کہ یہ بندہ ہمیں باپ دادا کی رسومات اور مذہب سے ہٹا کر اپنے پیچھے لگانا چاہتا ہے تاکہ اس طرح اسے ہم پر اقتدار حاصل ہوجائے اور یہ جو کچھ کہتا ہے اس میں سچائی کی کوئی بات نہیں بلکہ اس نے سب کچھ اپنے پاس سے گھڑ لیا ہے پھر جب حقائق ارشاد ہوتے ہیں جنہیں عقلاً اور نقلاً جھٹلانا ممکن نہیں رہتا نیز معجزات کا ظہور ہوتا ہے تو کہہ اٹھتے ہیں بلکہ یہ سب جادو ہے کس قدر بدبخت ہیں کہ انہیں تو آپ ﷺ سے پہلے کبھی ایسی کتاب نصیب ہوئی نہ ایسا صاحب کتاب۔ کہ پہلے انبیاء بھی اللہ کا بہت بڑا احسان تھا اور پہہلی کتب بھی اس کا انعام مگر نزول قرآن اور بعثت آقائے نامدار ﷺ تو بہت بہی بڑا اور بیحد و شمار احسان ہے جس کی یہ قدر کرتے اور جس پر قربان ہونے کو قابل فخر جانتے مگر انہوں نے انکار کی راہ اپنائی اور جن لوگوں نے انکار کی راہ اپنائی ہے وہ ذرا پہلی امتوں کو دیکھ لیں ان کے حالات پڑھ لیں کہ انہوں نے انبیاء کا انکار کیا تو کس انجام بد سے دو چار ہوئے جبکہ یہ لوگ تو قوت اور اقتدار میں ان کے ہزارویں حصے کو بھی نہیں پہنچے یعنی طاقت و اقتدار میں ان سے بہت کم ہیں اور آپ کی شان ان پہلوں کے انبیاء سے کس قدر بلند تو یہ سوچ لیں کہ ان کا انجام کیا ہوگا۔
Ayahs 34:46–54

قُلْ اِنَّمَاۤ اَعِظُكُمْ بِوَاحِدَةٍ١ۚ اَنْ تَقُوْمُوْا لِلّٰهِ مَثْنٰى وَ فُرَادٰى ثُمَّ تَتَفَكَّرُوْا١۫ مَا بِصَاحِبِكُمْ مِّنْ جِنَّةٍ١ؕ اِنْ هُوَ اِلَّا نَذِیْرٌ لَّكُمْ بَیْنَ یَدَیْ عَذَابٍ شَدِیْدٍ Open ayah 34:46 in the Quran reader

فرمائیے کہ میں تم کو ایک ہی نصیحت کرتا ہوں کہ تم اللہ کے لئے دو دو اور اکیلے اکیلے کھڑے ہوجاؤ پھر غور کرو کہ تمہارے ساتھی کو جنون نہیں ! وہ تم کو ایک سخت عذاب کے آنے سے پہلے ڈرانے والے ہیں

قُلْ مَا سَاَلْتُكُمْ مِّنْ اَجْرٍ فَهُوَ لَكُمْ١ؕ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ١ۚ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدٌ Open ayah 34:47 in the Quran reader

فرمادیجئے جو میں نے اس پر تم سے کچھ معاوضہ مانگا ہو تو وہ تمہارا ہی رہا میرا صلہ تو صرف اللہ کے ذمہ ہے اور وہ ہر چیز پر گواہ ہیں

قُلْ اِنَّ رَبِّیْ یَقْذِفُ بِالْحَقِّ١ۚ عَلَّامُ الْغُیُوْبِ Open ayah 34:48 in the Quran reader

فرمادیجئے کہ بیشک میرا پروردگار (اللہ) حق کو غالب فرمارہا ہے (اور وہ) غیب کی باتوں کا جاننے والا ہے

قُلْ جَآءَ الْحَقُّ وَ مَا یُبْدِئُ الْبَاطِلُ وَ مَا یُعِیْدُ Open ayah 34:49 in the Quran reader

فرمادیجئے کہ حق آچکا اور (معبود) باطل نہ پہلی بار پیدا کرسکتا ہے اور نہ دوبارہ کرے گا

قُلْ اِنْ ضَلَلْتُ فَاِنَّمَاۤ اَضِلُّ عَلٰى نَفْسِیْ١ۚ وَ اِنِ اهْتَدَیْتُ فَبِمَا یُوْحِیْۤ اِلَیَّ رَبِّیْ١ؕ اِنَّهٗ سَمِیْعٌ قَرِیْبٌ Open ayah 34:50 in the Quran reader

فرمادیجئے کہ اگر (بقول تمہارے) میں گمراہ ہوں تو میری گمراہی کا وبال مجھ ہی کو ہے اور اگر میں راہ راست پر ہوں تو یہ اس وحی (قرآن) کی وجہ سے ہے جس کو میرا پروردگار میرے پاس بھیج رہا ہے بیشک وہ سب کچھ سنتا (اور) بہت نزدیک ہے

وَ لَوْ تَرٰۤى اِذْ فَزِعُوْا فَلَا فَوْتَ وَ اُخِذُوْا مِنْ مَّكَانٍ قَرِیْبٍۙ Open ayah 34:51 in the Quran reader

اور اگر آپ دیکھیں جب یہ گھبرائیں گے تو بھاگنے کی کوئی صورت نہ ہوگی اور جلد ہی پکڑے جائیں گے

وَّ قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِهٖ١ۚ وَ اَنّٰى لَهُمُ التَّنَاوُشُ مِنْ مَّكَانٍۭ بَعِیْدٍۚۖ Open ayah 34:52 in the Quran reader

اور کہیں گے ہم اس (دین حق) پر ایمان لائے اور اتنی دور جگہ سے (ایمان کا) ان کے ہاتھ آنا کہاں ممکن ہے

وَّ قَدْ كَفَرُوْا بِهٖ مِنْ قَبْلُ١ۚ وَ یَقْذِفُوْنَ بِالْغَیْبِ مِنْ مَّكَانٍۭ بَعِیْدٍ Open ayah 34:53 in the Quran reader

حالانکہ پہلے یہ لوگ اس سے انکار کرتے تھے اور دور دور سے بن دیکھے ہی ہانکا کرتے تھے

وَ حِیْلَ بَیْنَهُمْ وَ بَیْنَ مَا یَشْتَهُوْنَ كَمَا فُعِلَ بِاَشْیَاعِهِمْ مِّنْ قَبْلُ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا فِیْ شَكٍّ مُّرِیْبٍ۠ Open ayah 34:54 in the Quran reader

اور ان کے اور ان کی آرزو کے درمیان ایک آڑ کردی جائے گی جیسا کہ پہلے ان کہ ہم مشربوں کے ساتھ کیا گیا کیونکہ یہ سب الجھن والے شک میں پڑے ہوئے تھے

رکوع نمبر 6 ۔ آیات 46 تا 54: اسرار و معارف : آپ ان کے اندیشوں کے جواب میں انہیں فرما دیجئے کہ ایک کام کرو محض جذباتی باتیں نہ کرو ذرا خلوص کے ساتھ جذبات سے الگ ہو کر محض اللہ کے لیے غور کرو اکیلے میں یا مل کر اور اچھی طرح سے فکر کرو کہ اللہ کا جو بندہ تم سے مخاطب ہے وہ کیسا ہے اتنا بڑا دعوی کرتا ہے اور پھر اکیلا بغیر کسی ظاہری مدد یا لاؤ لشکر اور مال و دولت کے وہ بات کہہ رہا ہے جو نہ صرف اہل مکہ بلکہ دنیا بھر کے کفار کے لیے چیلنج کی حیثیت رکھتی ہے ان کے صدیوں کے مذاہب کو باطل قرار دے رہا ہے اہل عرب کے سامنے صرف یہ ایک دعوی کہ جو کتاب میں پیش کر رہا ہوں دنیا کے سب اہل علم مل کر بھی اس جیسا ایک جملہ نہیں بنا سکتے بجائے خود کتنا عجیب ہے نیز دعوت پہ غور و فکر کرو اور دیانتدار سے خود فیصلہ کرو کہ کیا یہ سب کام بھلائی کے نہیں اور دنیا بھر کی برائیوں سے روکنے کا کام کر رہا ہے۔ بھلا ایسے کام کوئی مجنون یا سحر زدہ آدمی کرسکتا ہے جبکہ آپ ﷺ کی چالیس سالہ زندگی میں آپ ﷺ کی بصیرت و دانائی دینات و امانت اور راست بازی مثالی حالت میں تم سب کے سامنے موجود تو جب یہ حال ہے اور آپ ﷺ پاگل یا مجنون نہیں تو دوسری بات درست ثابت ہوگئی کہ آپ ﷺ اللہ کے برحق رسول ہیں اور یہ اللہ کا احسان ہے کہ تمہاری مشرکانہ رسومات اور ظالمانہ افعال کے باعث جو اللہ کا سخت ترین عذاب تم پر واقع ہونے والا ہے اس سے تم سب کو بروقت مطلع فرما رہا ہے اور بچنے کی راہ سمجھا رہا ہے۔ اور رہا دوسرا خطرہ کہ شاید سب حصول اقتدار کی خاطر ہو تو آپ فرما دیجئے کہ میں نے اگر کسی قسم کے مال و دولت اور اقتدار و اختیار کا مطالبہ کیا ہو تو وہ تم اپنے پاس رکھو کہ مجھے اس کام کے لیے کسی معاوضے کی کوئی تمنا نہیں کہ اگر اپنی حکومت بنانے یا اقتدار حاصل کرنے کا لالچ بھی ہو تو بات اللہ کے لیے تو نہ رہی جبکہ میں خالص اللہ کی رضا کے لیے سب کر رہا ہوں اور میرا معاوضہ وہی ذات کریم عطا فرمائے گی جو ہر آن ہر حال سے خوب واقف ہے اور یہ بھی سن لو کہ تمہارے حیلے اور مکر و فریب اب نہ چل سکیں گے کہ اللہ نے حق نازل فرما دیا ہے اور وہ تمام پوشیدہ رازوں سے باخبر ہے اس سے چھپا کر تم کوئی تدبیر بھی نہیں کرسکتے اور فرما دیجیے کہ جب دین حق آگیا تو باطل اب کسی کام کا نہ رہا نہ دلائل میں وہ جیت سکتا ہے اور نہ مکرو و فریب کرکے حق کو شکست دے سکتا ہے اگر تمہیں یہ خیال ہے کہ میں ہی غلطی پر ہوں تو میری غلطی میرا ہی نقصان کرے گی لیکن یاد رکھو جب میں ہی صحیح راستے پر ہوں تو یہ راستہ میرے پروردگار کی وحی سے متعین کردہ ہے وہ رب جو سب کچھ سنتا ہے اور سب سے قریب ہے اس کو چھوڑنے میں تم بھی تباہی کی طرف جا رہے ہو۔ یہ سب تو محض باتیں ہیں ایک وقت آ رہا ہے وہ موت کا ہو جو قیامت صغری ہے یا قیام قیامت تو انہیں دیکھیے گا کہ کس قدرگھبراہٹ میں گرفتار ہوں گے بھاگنا چاہیں گے مگر بھاگ نہ سکیں گے اور بغیر کسی دشواری کے پکڑ لیے جائیں گے تب کہہ اٹھیں گے کہ ہم قرآن کے ساتھ اور اللہ و رسول کے ساتھ ایمان لاتے ہیں ہم سب حقائق کو قبول کرتے ہیں مگر وہ وقت تو بیت چکا جب انہیں ایمان کی دعوت دی گئی تھی اب وہ گھڑی ان کی رسائی سے بہت دور ہے جب وقت ان کے ہاتھ میں تھا یہ کفر کرتے رہے اور بغیر کسی دلیل کے ہوا میں تیر چلاتے رہے کہ ان کے پاس کفر پر قائم رہنے کے لیے کوئی بھی دلیل نہ تھی اب انہیں ان کی پسندیدہ شے یعنی نجات عزت و آرام سے دور کردیا گیا ان اور اس کے درمیان رکاوٹ پڑگئی جس طرح پہلے کفار کا بھی یہی انجام ہوا کہ یہ سب اور ان کے پہلے بھی قیامت اور آخرت کے بارے شک میں مبتلا تھے اشیاء شیعہ کی جمع ہے جسکے معنی کسی خاص بات یا شخص کے پیروگروہ پر صادق آتے ہیں مگر قرآن نے کبھی اہل حق کے لیے یہ لفظ استعمال نہیں فرمایا ہمیشہ باطل گروہوں کو شیعہ کہا گیا ہے۔ تمت سورة سبا بحمداللہ تعالیٰ