35. Surah Faatir

فاطرThe Originator · 45 ayahsاسرار التنزیل

Ayahs 35:1–7

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ جَاعِلِ الْمَلٰٓئِكَةِ رُسُلًا اُولِیْۤ اَجْنِحَةٍ مَّثْنٰى وَ ثُلٰثَ وَ رُبٰعَ١ؕ یَزِیْدُ فِی الْخَلْقِ مَا یَشَآءُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 35:1 in the Quran reader

سب تعریف اللہ ہی کے لئے ہے جو آسمانوں اور زمین کے پیدا فرمانے والے (اور) فرشتوں کو قاصد بنانے والے ہیں جن کے دو دو اور تین تین اور چار چار پروں والے بازو ہیں وہ پیدائش میں جو چاہیں زیادہ کرتے ہیں۔ بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہیں

مَا یَفْتَحِ اللّٰهُ لِلنَّاسِ مِنْ رَّحْمَةٍ فَلَا مُمْسِكَ لَهَا١ۚ وَ مَا یُمْسِكْ١ۙ فَلَا مُرْسِلَ لَهٗ مِنْۢ بَعْدِهٖ١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 35:2 in the Quran reader

اللہ جو رحمت لوگوں کے لئے کھول دیں تو کوئی اس کو بند کرنے والا نہیں اور جس کو روک دیں سو اس کے بعد کوئی اس کو جاری کرنے والا نہیں۔ اور وہی غالب (اور) حکمت والے ہیں

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ١ؕ هَلْ مِنْ خَالِقٍ غَیْرُ اللّٰهِ یَرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١ؕ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۖ٘ فَاَنّٰى تُؤْفَكُوْنَ Open ayah 35:3 in the Quran reader

اے لوگو ! اللہ کے احسانات کو یاد کرو جو تم پر ہیں کیا اللہ کے سوا کوئی پیدا کرنے والا ہے جو آسمان اور زمین سے تم کو رزق پہنچاتا ہو اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں سو تم کہاں بہکے پھرتے ہو

وَ اِنْ یُّكَذِّبُوْكَ فَقَدْ كُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِكَ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ Open ayah 35:4 in the Quran reader

اور اگر یہ لوگ آپ کو جھٹلائیں تو باشبہ آپ سے پہلے بھی پیغمبر جھٹلائے گئے ہیں اور سب کام اللہ ہی کی طرف لوٹائے جائیں گے

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ فَلَا تَغُرَّنَّكُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا١ٙ وَ لَا یَغُرَّنَّكُمْ بِاللّٰهِ الْغَرُوْرُ Open ayah 35:5 in the Quran reader

اے لوگو ! بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے۔ سو ایسا نہ ہو کہ یہ دنیا کی زندگی تمہیں دھوکے میں ڈالے رکھے اور نہ دھوکا باز (شیطان) نہیں اللہ سے (متعلق) دھوکے میں ڈالے

اِنَّ الشَّیْطٰنَ لَكُمْ عَدُوٌّ فَاتَّخِذُوْهُ عَدُوًّا١ؕ اِنَّمَا یَدْعُوْا حِزْبَهٗ لِیَكُوْنُوْا مِنْ اَصْحٰبِ السَّعِیْرِؕ Open ayah 35:6 in the Quran reader

بیشک شیطان تمہارا دشمن ہے سو تم اس کو دشمن ہی سمجھو۔ بیشک وہ اپنے گروہ کو بلاتا ہے تاکہ وہ دوزخ والوں میں سے ہوں

اَلَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ١ؕ۬ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ كَبِیْرٌ۠ Open ayah 35:7 in the Quran reader

جو لوگ کافر ہوگئے ان کے لئے سخت عذاب ہے اور جو لوگ ایمان لائے اور اچھے کام کیے ان کے لئے بخشش اور بہت بڑا صلہ ہے

رکوع نمبر 1 ۔ آیات 1 تا 7: اسرار و معارف : سورۃ فاطر اسی مضمون کو لیکر آگے بڑھتی ہے کہ تمام تر کمالا صرف اللہ واحد کو سزاوار ہیں کہ وہ اکیلا خالق ہے آسمانوں اور زمینوں کا ان کی تمام تر مخلوقات اور مخلوقات کے تمام تر اوصاف کا فرشتے بھی اس کی مخلوق ہیں جو اس کی اطاعت و فرمانبرداری میں اس کے اور اس کی دوسری مخلوق کے درمیان واسطے کا کام کرتے ہیں جیسے سب سے اعلی انبیاء (علیہم السلام) اور ان پر وحی لانے کا کام مخلوق کو روزی روزق پہنچانے یا عذاب وثواب اور صحت و بیماری یعنی وہ خود ہر آن اللہ کی اطاعت پر کمر بستہ ہیں نہ یہ کہ انہیں معبود بنا لیا جائے ان کی قوت و طاقت اللہ ک عطا کردہ ہے جیسے کسی کو دو یا تین یا چار چار پر لگا دئیے اور یوں وہ جیسے چاہے اور جتنا چاہے عطا کردے کسی کو حسن صورت دے یا حسن سیرت عقل و فراست صحت و طاقت اقتدار و اختیار علم و فضل سب کچھ اس کی عطا سے ہے اور مخلوق میں کوئی فرد بھی اس قابل نہیں کہ اس کے کمال کو دیکھ کر اس کی عبادت شروع کردی جائے کہ سب کچھ اللہ کا عطا کردہ ہے اور وہ جو چاہے کرسکتا ہے۔ اگر وہ اپنے کسی بندے پہ رحمت کا دروازہ کھول دے انعامات کی بارش کردے باطنی یا ظاہری نعمت عطا کردے تو اسے کوئی روک نہیں سکتا اور اگر کسی کو محروم ونامراد رکھے تو کوئی اسے کچھ دینے کی جرات نہیں رکھتا کہ اللہ سب پر غالب ہے اور بہت حکمت والا ہے وہ خوب جانتا ہے کہ کہاں کیا عطا کرنا ہے اور کہاں سے کیا روکنا ہے۔ لوگو اللہ کے احسانات یاد کرو کہ اس نے تمہیں تخلیق فرمایا اور پھر تمہاری بقا کے اسباب پیدا فرمادئیے رزق ظاہر کے لیے ارض و سما میں سورج چاند بادل بارش موسم اور ہواؤں کا وسیع نظام پیدا فرما دیا اور نور باطن اور کمالات باطنی کے لیے انبیاء (علیہم السلام) کو مبعوث فرمایا ذرا غور کرو کیا کوئی بھی دوسری ایسی ہستی تمہارے خیال تک میں آتی ہے جو یہ سب کرسکے ہرگز نہیں تو پھر اس کے علاوہ کوئی بھی دوسرا عبادت کا مستحق کیسے ہوسکتا ہے ؟ عبادت صرف اس اکیلی ذات کو سزاوار ہے تم اس کا دروازہ چھوڑ کر کہاں بھٹک رہے ہو۔ اور میرے حبیب ﷺ اگر آپ کی صداقت کو جھٹلاتے اور آپ کے ارشادات کو ماننے سے انکار کرتے ہیں تو آپ ہرگز دل چھوٹا نہ کریں کہ ایسا صرف آپ کے ساتھ ہی نہیں ہورہا بلکہ آپ سے پہلے مبعوث ہونے والے انبیاء رسل کی دعوت کو بھی جھٹلایا گیا مگر کیا جھٹلا کر کوئی لوگ بچ گئے ہرگز نہیں کہ حال کار تو تمام امور کو اللہ ہی طرف پلٹنا ہے۔ اور اے لوگوں تم بھی سن لو کہ یہ یقینی بات ہے اور اللہ کا وعدہ ہے یہ قیامت قائم ہوگی اور جزا و سزا کا فیصلہ ہوگا یہ حق ہے کہیں محض دنیا کی نعمتیں اور اقتدار و اختیار یا مال و زر کا نشہ تمہیں دھوکے میں نہ رکھے یا وہ دھوکہ باز ابلیس تمہیں دغا نہ دے جائے یاد رکھو شیطان تمہارا دشمن ہے لہذا اس کے ساتھ دشمنی رکھو نہ یہ کہ اس کی غلامی کرنے لگو کہ وہ اس کا سارا گروہ جنوں میں ہوں یا انسانوں میں سے سب کی کوشش یہی ہوتی ہے کہ تمہیں اللہ کی رحمت سے دور کرکے جہنم کا ایندھن بنا دیں۔ اور جو کوئی ان کی بات مانے گا یعنی کفر کی راہ اپنائے گا اسے بہت سخت عذاب دیا جائیگا ہاں جس نے ان سے دشمنی رکھی اور ایمان پہ قائم رہا اور نیک اعمال میں کوشاں رہا اگر اس سے خطا بھی ہوئی تو اللہ معاف فرمائے گا اور اسے بیش بہا انعامات سے نوازے گا۔
Ayahs 35:8–14

اَفَمَنْ زُیِّنَ لَهٗ سُوْٓءُ عَمَلِهٖ فَرَاٰهُ حَسَنًا١ؕ فَاِنَّ اللّٰهَ یُضِلُّ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ١ۖ٘ فَلَا تَذْهَبْ نَفْسُكَ عَلَیْهِمْ حَسَرٰتٍ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِمَا یَصْنَعُوْنَ Open ayah 35:8 in the Quran reader

تو کیا وہ شخص جس کو اس کا برا کام اچھا کرکے دکھایا گیا پھر وہ اس کو اچھا سمجھنے لگا (تو کیا وہ نیک آدمی جیسا ہوسکتا ہے) ، پس بیشک اللہ جس کو چاہتے ہیں گمراہ کرتے ہیں اور جس کو چاہتے ہیں ہدایت دیتے ہیں سو ان لوگوں پر (اتنا) افسوس نہ کریں کہ آپ کی جان ہی جاتی رہے بیشک اللہ ان کے سب کاموں سے باخبر ہیں

وَ اللّٰهُ الَّذِیْۤ اَرْسَلَ الرِّیٰحَ فَتُثِیْرُ سَحَابًا فَسُقْنٰهُ اِلٰى بَلَدٍ مَّیِّتٍ فَاَحْیَیْنَا بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ كَذٰلِكَ النُّشُوْرُ Open ayah 35:9 in the Quran reader

اور اللہ تو ایسے (کریم) ہیں جو (بارش سے پہلے) ہواؤں کو بھیجتے ہیں تو وہ بادلوں کو اٹھا لاتی ہیں پھر اس کو ہم مردہ زمین کی طرف چلاتے ہیں پھر ہم اس (بارش) سے زمین کو اس کے مرنے کے بعد زندہ فرمادیتے ہیں۔ اسی طرح (مردوں کو) جی اٹھنا ہوگا

مَنْ كَانَ یُرِیْدُ الْعِزَّةَ فَلِلّٰهِ الْعِزَّةُ جَمِیْعًا١ؕ اِلَیْهِ یَصْعَدُ الْكَلِمُ الطَّیِّبُ وَ الْعَمَلُ الصَّالِحُ یَرْفَعُهٗ١ؕ وَ الَّذِیْنَ یَمْكُرُوْنَ السَّیِّاٰتِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ١ؕ وَ مَكْرُ اُولٰٓئِكَ هُوَ یَبُوْرُ Open ayah 35:10 in the Quran reader

جو شخص عزت چاہتا ہے تو تمام تر عزت اللہ ہی کے لئے ہے۔ اچھی باتیں اسی تک پہنچتی ہیں اور اچھا کام اس کو پہنچتا ہے۔ اچھی باتیں اسی تک پہنچتی ہیں اور اچھا کام اس کو پہنچتا ہے۔ اور جو لوگ بری بری تدبیریں کرتے ہیں ان کے لئے سخت عذاب ہے۔ اور ان کا یہ مکر نیست ونابود ہوجائے گا

وَ اللّٰهُ خَلَقَكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَةٍ ثُمَّ جَعَلَكُمْ اَزْوَاجًا١ؕ وَ مَا تَحْمِلُ مِنْ اُنْثٰى وَ لَا تَضَعُ اِلَّا بِعِلْمِهٖ١ؕ وَ مَا یُعَمَّرُ مِنْ مُّعَمَّرٍ وَّ لَا یُنْقَصُ مِنْ عُمُرِهٖۤ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرٌ Open ayah 35:11 in the Quran reader

اور اللہ نے تم کو مٹی سے پیدا فرمایا پھر نطفے سے پھر تمہیں جوڑا جوڑا بنادیا اور کوئی عورت نہ حاملہ ہوتی ہے اور نہ جنتی ہے مگر اس کے علم سے۔ اور نہ کسی بڑی عمر والے کو عمر زیادہ دی جاتی ہے اور نہ اس کی عمر کم کی جاتی ہے مگر سب کچھ کتاب میں (لکھا ہوا) ہے بیشک یہ اللہ کے لئے آسان ہے

وَ مَا یَسْتَوِی الْبَحْرٰنِ١ۖۗ هٰذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ سَآئِغٌ شَرَابُهٗ وَ هٰذَا مِلْحٌ اُجَاجٌ١ؕ وَ مِنْ كُلٍّ تَاْكُلُوْنَ لَحْمًا طَرِیًّا وَّ تَسْتَخْرِجُوْنَ حِلْیَةً تَلْبَسُوْنَهَا١ۚ وَ تَرَى الْفُلْكَ فِیْهِ مَوَاخِرَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 35:12 in the Quran reader

اور دونوں سمندر (مل کر) ایک جیسے نہیں ہوجاتے ایک تو میٹھا پیاس بجھانے والا جس کا پینا آسان ہے اور ایک نمکین (اور) کڑوا ہے۔ اور تم ہر ایک سے تازہ گوشت (مچھلیاں) کھاتے ہو اور زیور (موتی) نکالتے ہو جس کو تم پہنتے ہو اور تم کشتیوں کو اس میں دیکھتے ہو کہ اس کو پھاڑتی ہوئی چلتی ہیں تاکہ تم (ان کے ذریعے) اس کا فضل (روزی) تلاش کرو اور تاکہ تم شکر کرو

یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّهَارِ وَ یُوْلِجُ النَّهَارَ فِی الَّیْلِ١ۙ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١ۖ٘ كُلٌّ یَّجْرِیْ لِاَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ لَهُ الْمُلْكُ١ؕ وَ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ مَا یَمْلِكُوْنَ مِنْ قِطْمِیْرٍؕ Open ayah 35:13 in the Quran reader

وہ (اللہ) رات کو دن میں داخل فرمادیتا ہے اور دن کو رات میں داخل فرمادیتا ہے اور اسی نے سورج اور چاند کو کام میں لگا رکھا ہے ہر ایک وقت مقررہ تک چلتے رہیں گے یہی اللہ تمہارا پروردگار ہے اسی کی سلطنت ہے اور اس کے سوا جن کو تم پکارتے ہو وہ (کھجور کی گٹھلی کے) چھلکے کے برابر بھی اختیار نہیں رکھتے

اِنْ تَدْعُوْهُمْ لَا یَسْمَعُوْا دُعَآءَكُمْ١ۚ وَ لَوْ سَمِعُوْا مَا اسْتَجَابُوْا لَكُمْ١ؕ وَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ یَكْفُرُوْنَ بِشِرْكِكُمْ١ؕ وَ لَا یُنَبِّئُكَ مِثْلُ خَبِیْرٍ۠ Open ayah 35:14 in the Quran reader

اگر تم ان کو پکارو تو تمہاری پکار سنیں گے نہیں اور اگر (بالفرض) سن بھی لیں تو تمہاری بات قبول نہ کرسکیں اور قیامت کے دن تمہارے شرک سے انکار کردیں گے۔ اور جاننے والے (اللہ) کی طرح تمہیں کوئی خبر نہ دے گا

رکوع نمبر 6 ۔ آیات 8 تا 14: اسرار و معارف : کچھ لوگ جب اللہ سے منہ موڑ لیتے ہیں تو ان پر اللہ کا یہ غضب ہوتا ہے کہ ان کی سوچ الٹ جاتی ہے اور انہیں برائی کے کام بھلے لگنے لگتے ہیں اور یوں وہ کرتے چلے جاتے ہیں اور جس کو اللہ چاہتا ہے یعنی جس کے دل میں اللہ سے ہدایت کی طلب پیدا ہوجائے اسے ہدایت عطا فرما دیتا ہے لہذا آپ ان کی گمراہی کے دکھ کو اس قدر شدت سے محسوس نہ کیجیے کہ یہ ان کا اپنا انتخاب کردہ راستہ ہے اور اللہ ان کے کردار اور قلبی ارادوں تک سے خوب واقف ہے۔ سبحان اللہ جس رسول رحمتکو کفار کا کفر پہ رہنا دکھی کردیتا ہے اسے مسلمانوں کا کفار کے سے اعمال کرنا کس قدر دکھ پہنچاتا ہوگا۔ اللہ ہمیں اپنے غضب سے اپنی پناہ میں رکھے آمین۔ ان کی عقل الٹ نہ گئی ہوتی تو یہ بھلا قیامت کا انکار کیوں کرتے جبکہ ان کے سامنے زمین مردہ اور بےآب وگیاہ ہوجاتی ہے پھر وہ قادر مطلق ہواؤں کو چلاتا ہے جو بادلوں کو اڑا لاتی ہیں اور امنڈ امنڈ کر آنے والے بادل برس کر جل تھل کردیتے ہیں تو مردہ زمین میں زندگی کی بہار آجاتی ہے اور ہر ذرے سے زندگی پھوٹنے لگتی ہے ہر تنکا ہر پھول اور پتہ یہ گواہی دے رہا ہوتا ہے کہ اسی طرح سے ہر شے کو وہ روز حشر پھر سے پیدا فرما دے گا۔ لوگ دنیا اور اس کی نعمتوں میں اقتدار و اختیار میں اپنے لیے عزت تلاش کرتے ہیں تو یہ ان کی بھول ہے کہ ساری عظمت صرف اللہ کے لیے ہے اسے چھوڑ کر کوئی معزز نہیں ہوسکتا ہاں اسی میں فنا ہو کر عزت پا سکتا ہے اور اس کی طرف اٹھتا ہے ہر نیک کلمہ یعنی برائی اس کی بارگاہ میں مقبول نہیں ہوسکتی بلکہ ان نیک کلمات کو بھی نیک عمل اس کی بارگاہ میں پہنچانے کا سبب بنتا ہے یہ نیک عمل یا عمل صالح کیا ہے جو وجہ قبولیت بن جاتا ہے اس پہ مفسرین کرام نے بہت لکھا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ہر کام جو شریعت کے مطابق ہو وہ بیشک عمل صالح ہے مگر سب کی قبولیت کا سبب جو نیک کام ہے وہ خلوص قلبی ہے جو ذکر قلبی اور ذکر دوام نصیب ہوتا ہے۔ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ بڑے ہوشیار ہیں اور بظاہر اپنی اچھائی کا ڈھنڈورا پیٹ کر برائی کرنے میں لگے ہیں انہیں بہت سخت عذاب ہوگا اور ان کے اس فریب کا پردہ بھی چاک ہوجائے گا اور ان کی ہوشیاری تباہ ہوجائیگی۔ بھلا رب جلیل کے ساتھ انسان کیا ہوشیاری کرلے گا جس نے اسے مٹی سے بنایا اور کہاں کہاں سے ذرات جمع فرما کر انہیں ایک قطرہ میں جمع کردیا اور پھر وہاں سے انسان بنا کر مرد و زن پیدا فرما دئیے اس کے بعد بھی جو جہاں ہوتا ہے حتی کہ کوئی پشت پدر میں ہے یا رحم مادر میں یا کوئی جب پیدا ہوتا ہے تو ہر ایک کا ہر حال اللہ کے علم میں ہے اگر کسی کی عمر طویل ہوتی ہے تو یہ اس کی اپنی ہوشیاری نہیں یا کم ہوتی ہے تو محض اتفاق نہیں بلکہ اللہ کا علم تو بہت وسیع ناپید اکنار ہے۔ یہ سب تو معمولی باتیں ہیں جو لوگ مھفوظ تک میں لکھی ہوئی ہیں اللہ کریم کے علم کے مقابلے میں تو یہ بہت چھوٹی ہیںٰ ان کی کوئی حیثیت نہیں۔ پھر بھلا اسے کون دھوکہ دے سکے گا۔ اب ذرا ایک ہی زمین میں یا اس کے اوپر ایک ہی فضا میں دو طرح کا پانی دیکھ لو کیسا قادر ہے کہ ایک کو میٹھا بنا دیا جو پیاس بجھاتا ہے اور کس قدر مفرح ہے اس کا پینا مگر دوسرے کو نمکین اور کھارا بنا دیا۔ پھر اس کی قدرت کاملہ کو جہاں میٹھے پانی کے دریاؤں میں مچھلی وغیرہ کی صورت میں گوشت ذخیرہ کردیا وہاں کھاری اور سمندری پانی میں بھی یہ دولت رکھ دی اور جہاں سمندروں کی تہہ میں موتی رکھ دئیے وہاں دریاؤں کا دامن بھی زروجواہر سے بھر دیا کہ تم گوشت بھی حاصل کرتے اور زیب وزینت کا سامان بھی اور اس نے تمہیں عقل اور قوت دی کہ تم نے بحری جہاز بنا لیے جو سمندروں کے سینے شق کرتے ہوئے چلے جاتے ہیں جن کے باعث تم اپنا رزق تلاش کرتے ہو یہ سب عنایات تو تقاضا کرتی ہیں کہ تم پیشہ اس کا شکر ادا کرتے رہو۔ پھر سارے نظام حیات کو دیکھو جو شب و روز کا محتاج ہے موسموں اور بارش کا محتاج ہے بھلا اس نظام کو کون چلاتا ہے صرف اللہ کی ذات ہے جو رات کو دن اور دن کو رات کرتی ہے۔ سورج چاند یعنی نظام شمسی کو اس نے کام پہ لگا رکھا ہے کہ ہر ایک اپنے وقت مقررہ تک اپنے کام پر لگا ہوا ہے یہ شان اور عظمت ہے اس ذات کی جو تم سب کا پروردگار اور پالنہار ہے اور ساری کائنات میں صرف اس کی حکمرانی ہے اور اس کا حکم جاری ہے اسے چھوڑ کر کفار جن کو اپنا معبود مان لیتے ہیں اس سارے نظام میں تو کوئی معمولی شے یعنی کھجور کی گٹھلی پہ جو چھلکا ہوتا ہے وہ بھی ان کی ذاتی ملکیت نہیں کہ اس پہ اپنی مرضی سے تصر کرسکیں اور بغیر اللہ کے سنوانے کے از خود کچھ سن بھی نہیں سکتے اگر اللہ انہیں سنوا بھی دے تو کچھ کر نہیں سکتے کہ سب کچھ اللہ کے قبضہ قدرت میں ہے ۔ بلکہ بت ہوں یا اللہ کی برگزیدہ ہستیاں کفار نے جن کو بھی معبود بنا رکھا ہے قیامت کے دن سب اس کا انکار کردیں گے اور کوئی بھی ان کے مشرک ہونے کا ذمہ نہ لے گا۔ یہ وہ حقائق جو رب خبیر بتا رہا ہے کہ اس جیسی خبر اور کوئی نہیں دے سکتا۔
Ayahs 35:15–26

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اَنْتُمُ الْفُقَرَآءُ اِلَى اللّٰهِ١ۚ وَ اللّٰهُ هُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ Open ayah 35:15 in the Quran reader

اے لوگو ! تم (سب) اللہ کے محتاج ہو اور اللہ ہی بےنیاز ، خوبیوں والے ہیں

اِنْ یَّشَاْ یُذْهِبْكُمْ وَ یَاْتِ بِخَلْقٍ جَدِیْدٍۚ Open ayah 35:16 in the Quran reader

اگر وہ چاہیں (تو) تم کو فنا کردیں اور ایک نئی مخلوق پیدا فرمادیں

وَ مَا ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ بِعَزِیْزٍ Open ayah 35:17 in the Quran reader

اور یہ اللہ کو کچھ مشکل نہیں

وَ لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى١ؕ وَ اِنْ تَدْعُ مُثْقَلَةٌ اِلٰى حِمْلِهَا لَا یُحْمَلْ مِنْهُ شَیْءٌ وَّ لَوْ كَانَ ذَا قُرْبٰى١ؕ اِنَّمَا تُنْذِرُ الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَیْبِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ١ؕ وَ مَنْ تَزَكّٰى فَاِنَّمَا یَتَزَكّٰى لِنَفْسِهٖ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ الْمَصِیْرُ Open ayah 35:18 in the Quran reader

اور کوئی اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گا۔ اور اگر کوئی بوجھ میں دبا ہوا اپنا بوجھ اٹھانے کے لئے کسی کو بلائے گا بھی تو اس کے بوجھ میں سے کچھ بھی اٹھایا نہ جائے گا اگرچہ وہ شخص قرابت دار ہی ہو آپ ان ہی لوگوں کو نصیحت فرما سکتے ہیں جو بےدیکھے اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں اور نماز کی پابندی کرتے ہیں اور جو شخص پاک ہوتا ہے تو وہ اپنے لئے پاک ہوتا ہے اور (سب کو) اللہ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے

وَ مَا یَسْتَوِی الْاَعْمٰى وَ الْبَصِیْرُۙ Open ayah 35:19 in the Quran reader

اور اندھا اور آنکھوں والا برابر نہیں ہوسکتا

وَ لَا الظُّلُمٰتُ وَ لَا النُّوْرُۙ Open ayah 35:20 in the Quran reader

اور نہ اندھیرا اور نہ روشنی

وَ لَا الظِّلُّ وَ لَا الْحَرُوْرُۚ Open ayah 35:21 in the Quran reader

اور نہ سایہ اور نہ دھوپ

وَ مَا یَسْتَوِی الْاَحْیَآءُ وَ لَا الْاَمْوَاتُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُسْمِعُ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ مَاۤ اَنْتَ بِمُسْمِعٍ مَّنْ فِی الْقُبُوْرِ Open ayah 35:22 in the Quran reader

اور نہ زندے اور نہ مردے برابر ہوسکتے ہیں۔ بیشک اللہ جس کو چاہتے ہیں سنا دیتے ہیں اور آپ ان کو نہیں سنا سکتے جو قبروں میں (مدفون) ہیں

اِنْ اَنْتَ اِلَّا نَذِیْرٌ Open ayah 35:23 in the Quran reader

آپ نے صرف (انجام بد سے) ڈرانے والے ہیں

اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ بِالْحَقِّ بَشِیْرًا وَّ نَذِیْرًا١ؕ وَ اِنْ مِّنْ اُمَّةٍ اِلَّا خَلَا فِیْهَا نَذِیْرٌ Open ayah 35:24 in the Quran reader

بیشک ہم نے آپ کو حق کے ساتھ خوشخبری سنانے والے اور ڈرانے والے بنا کر بھیجا ہے۔ اور کوئی امت ایسی نہیں مگر اس میں ڈر سنانے والا گزر چکا

وَ اِنْ یُّكَذِّبُوْكَ فَقَدْ كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ۚ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ وَ بِالزُّبُرِ وَ بِالْكِتٰبِ الْمُنِیْرِ Open ayah 35:25 in the Quran reader

اور اگر یہ لوگ آپ کو جھٹلادیں تو بیشک ان سے پہلے لوگوں نے بھی جھٹلایا تھا ان کے پاس بھی ان کے پیغمبر دلیلیں (معجزات) اور صحیفے اور روشن کتاب لے کر آئے تھے

ثُمَّ اَخَذْتُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَكَیْفَ كَانَ نَكِیْرِ۠ Open ayah 35:26 in the Quran reader

پھر ہم نے ان کافروں کو پکڑ لیا سو (دیکھ لیں) میرا عذاب کیسا ہوا

رکوع نمبر 3 ۔ آیات 15 تا 26: اسرار و معارف : لوگو تمہارے بس میں تو کچھ بھی نہیں تمہارا سارا سرمایہ صرف احتیاج ہے اپنے وجود اپنی ذات اپنے اوصاف میں تم ہر طرح سے محتاج ہو اور اللہ ایسا بےنیاز نہ اسے تمہاری احتیاج ہے اور نہ ہی کسی اور کی بلکہ وہ ہی ایسا کامل ہے جسے ہر تعریف سزاوار ہے بھلا تم اس کی ناشکری اور کفر کا راستہ اپناتے جو اس قدر بےنیاز اور قادر ہے کہ چاہے تو ایک آن میں تم سب کو تباہ اور نابود کردے اور تمہاری جگہ ایک نئی مخلوق پیدا کردے کہ یہ اس کے لیے کچھ بھی مشکل نہیں یہ اس کی شان کریمی ہے کہ تمہیں باوجود تمہاری نافرمانیوں کے مہلت دے رکھی ہے مگر اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ تمہیں کوئی پرسش نہ ہوگی بلکہ حساب کا لمحہ ایسا سخت اور ھساب اتنا باریک ہوگا کہ ہر کوئی اپنی مصیبت میں گرفتار اور سب کو بھولے ہوئے ہوگا اور کوئی نافرمان کسی دوسرے نافرمان کا بوجھ نہ بانٹے گا اگرچہ بہت قریبی رشتہ یعنی باپ بھی اگر بیٹے کو پکارے گا کہ میرا بوجھ بانٹ تو وہ ایک ذرہ بھر بانٹنے کو تیار نہ ہوگا۔ تب نافرمانی کے انجام کی خبر ہوگی اور آپ اے میرے حبیب ان کی نافرمانی سے شکست خاطر نہ ہوں کہ آپ کی بات اور آخرت کے خطرات کی خبر کا فائدہ تو ان کو نصیب ہوتا ہے جو اللہ پر غائبانہ ایمان لاتے ہیں اور اس کی بارگاہ سے رضا مندی اور حضوری کے طالب ہیں اور اس کی عبادت پہ کمر بستہ ہوتے ہیں۔ ان کا بھی آپ پر کوئی احسان نہیں بلکہ کوئی جس قدر نیکی اختیار کرتا ہے اور اس میں محنت کرتا ہے اس کا اجر خود پاتا ہے اور اس کی اپنی ذات کو پاکیزگی نصیب ہوتی ہے جو اسے اللہ کی بارگاہ میں سرخرو کرے گی جہاں بالآخر سب کو حاضر ہونا ہے مومن باعتبار ایمان کے بینا ہے اور کفر اندھا پن۔ آپ کا جمال دیکھنے میں بھلا دونوں میں کیا نسبت کہ کافر نری تاریکی اور کفر کی ظلمت میں گھرا ہوا ہے جبکہ مومن نور ایمان سے منور ہو کر خود نور میں ڈھل رہا ہے مومن ٹھنڈی چھاؤں ہے جبکہ کافر تپتی دھوپ بلکہ مومن زندہ ہے کہ اس کا دل زندہ ہے اور کافر دنیا کی زندگی کے ساتھ بھی مردہ ہے کہ اس کا دل مردہ ہے ہاں اللہ چاہے تو اس مردہ دل کو بھی زندہ کردے یہ اس کی قدرت ہے مگر اس نے بھی فیصلہ کردیا کہ اسی کا دل زندہ فرمائے گا جس کے دل میں زندگی کی آرزو پیدا ہوگی اور آپ کا ارشاد مردہ دلوں کو کب سنائی دے گا کہ اسے قبول کریں۔ ایک عرب شاعر کے مصرعہ کا ترجمہ ہے کہ ان کے جسم قبر میں جانے سے پہلے خود قبر بنے ہوئے ہیں یعنی ان میں دل مردہ ہے۔ یہ آیات مومن اور کافر کی مثال زندہ اور مردہ کی مثال ارشاد فرما رہی ہیں اور یہاں بات سماع کی نہیں جس سے سننا مراد ہو بلکہ اسماع کی ہو رہی ہے جس سے ایسا سننا مراد ہوتا ہے جو مفید بھی ہو۔ رہا مسئلہ کہ مردہ زندہ کا کلام سن سکتا ہے یا نہیں وہ الگ ہے۔ آپ کا منصب عالی تو یہ ہے کہ آپ آنے والے وقت میں مرتب ہونے والے اثرات اور نافرمانی پر مرتب ہونے والے خطرات سے یہاں دنیا میں اور اب آگاہ فرما رہے ہیں جو اللہ کی طرف سے بہت بڑا احسان ہے۔ اور بیشک ہم نے آپ کو حق و صداقت کے ساتھ یہ منصب جلیلہ عطا کرکے معبوث فرمایا ہے کہ اپ ایمان اور نیکی پر انعام کی بشارت اور برائی اور کفر پر عذاب سے باخبر کریں اللہ کریم ہے کہ ہر امت اور ہر قوم میں انبیاء معبوث فرماتا رہا ہے آج اگر کوئی آپ کا انکار کرتا ہے تو جیسے آپ ﷺ کی بعثت کوئی انوکھی بات نہیں ایسے ہی ان کا انکار بھی نئی بات نہیں بلکہ پہلے انبیاء کو بھی یہ صورت پیش رہی ہے جبکہ ان اقوام کے پاس بھی اللہ کے رسول واضح دلائل ، معجزات ، صحیفے اور روشن کتابیں لے کر مبعوث ہوئے مگر اس انکار کا کوئی نقصان انبیاء کو نہ ہوا خود کفار ہی اپنے کفر کے باعث عذاب الہی کی گرفت میں آگئے اور باعث عبرت بن گئے ، نمونہ بن گئے کہ اللہ کا عذاب کتنا سخت ہوتا ہے۔
Ayahs 35:27–37

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً١ۚ فَاَخْرَجْنَا بِهٖ ثَمَرٰتٍ مُّخْتَلِفًا اَلْوَانُهَا١ؕ وَ مِنَ الْجِبَالِ جُدَدٌۢ بِیْضٌ وَّ حُمْرٌ مُّخْتَلِفٌ اَلْوَانُهَا وَ غَرَابِیْبُ سُوْدٌ Open ayah 35:27 in the Quran reader

(اے مخاطب ! ) کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے آسمان سے پانی اتارا پھر اس کے ذریعے ہم نے مختلف رنگوں کے پھل نکالے اور پہاڑوں کے مختلف حصے کہ (ان میں) سفید ہیں اور سرخ (بھی) کہ ان کی رنگتیں مختلف ہیں اور (بعض) کالے سیاہ (ہیں)

وَ مِنَ النَّاسِ وَ الدَّوَآبِّ وَ الْاَنْعَامِ مُخْتَلِفٌ اَلْوَانُهٗ كَذٰلِكَ١ؕ اِنَّمَا یَخْشَى اللّٰهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمٰٓؤُا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ غَفُوْرٌ Open ayah 35:28 in the Quran reader

اور اسی طرح آدمیوں اور جانوروں اور چوپایوں کے بھی اس کے عطا کردہ مختلف طرح کے رنگ ہیں۔ بیشک اللہ سے اس کے وہی بندے ڈرتے ہیں جو (اس کی عظمت کا) علم رکھتے ہیں بیشک اللہ زبردست بخشنے والے ہیں

اِنَّ الَّذِیْنَ یَتْلُوْنَ كِتٰبَ اللّٰهِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً یَّرْجُوْنَ تِجَارَةً لَّنْ تَبُوْرَۙ Open ayah 35:29 in the Quran reader

بیشک جو لوگ اللہ کی کتاب پڑھتے ہیں اور نماز کی پابندی کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے پوشیدہ اور ظاہر خرچ کرتے ہیں وہ ایسی تجارت کے امیدوار ہیں جو کبھی تباہ نہ ہوگی

لِیُوَفِّیَهُمْ اُجُوْرَهُمْ وَ یَزِیْدَهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ١ؕ اِنَّهٗ غَفُوْرٌ شَكُوْرٌ Open ayah 35:30 in the Quran reader

تاکہ ان کو ان کا پورا پورا صلہ عطا فرمائیں اور ان کو اپنے فضل سے زیادہ (بھی) دیں بیشک وہ (تو) بخشنے والے قدردان ہیں

وَ الَّذِیْۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ مِنَ الْكِتٰبِ هُوَ الْحَقُّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِعِبَادِهٖ لَخَبِیْرٌۢ بَصِیْرٌ Open ayah 35:31 in the Quran reader

اور یہ کتاب جو ہم نے آپ کے پاس وحی کے طور پر بھیجی ہے یہ حق ہے (اور) ان (کتابوں) کی تصدیق کرتی ہے جو اس سے پہلے کی ہیں بیشک اللہ اپنے بندوں کو پوری خبر رکھنے والے ، دیکھنے والے ہیں

ثُمَّ اَوْرَثْنَا الْكِتٰبَ الَّذِیْنَ اصْطَفَیْنَا مِنْ عِبَادِنَا١ۚ فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ١ۚ وَ مِنْهُمْ مُّقْتَصِدٌ١ۚ وَ مِنْهُمْ سَابِقٌۢ بِالْخَیْرٰتِ بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَضْلُ الْكَبِیْرُؕ Open ayah 35:32 in the Quran reader

پھر ہم نے ان لوگوں کو کتاب کا وارث ٹھہرایا جن کو اپنے بندوں میں سے برگزیدہ کیا۔ سو بعضے تو ان میں سے اپنے آپ پر ظلم کرنے والے ہیں اور بعضے درمیانے درجے کے ہیں۔ اور بعض اللہ کی توفیق سے نیکیوں میں ترقی کیے چلے جاتے ہیں یہی اللہ کا بڑا فضل ہے

جَنّٰتُ عَدْنٍ یَّدْخُلُوْنَهَا یُحَلَّوْنَ فِیْهَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ وَّ لُؤْلُؤًا١ۚ وَ لِبَاسُهُمْ فِیْهَا حَرِیْرٌ Open ayah 35:33 in the Quran reader

ہمیشہ رہنے والے باغ ہیں جن میں وہ داخل ہوں گے اور وہاں ان کو سونے کے کنگن اور موتی پہنائے جائیں گے اور وہاں ان کی پوشاک ریشم کی ہوگی

وَ قَالُوا الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْۤ اَذْهَبَ عَنَّا الْحَزَنَ١ؕ اِنَّ رَبَّنَا لَغَفُوْرٌ شَكُوْرُۙ Open ayah 35:34 in the Quran reader

اور وہ کہیں گے اللہ کا شکر ہے جس نے ہم سے غم کو دور کیا بیشک ہمارے پروردگار بڑے بخشنے والے بڑے قدر دان ہیں

اِ۟لَّذِیْۤ اَحَلَّنَا دَارَ الْمُقَامَةِ مِنْ فَضْلِهٖ١ۚ لَا یَمَسُّنَا فِیْهَا نَصَبٌ وَّ لَا یَمَسُّنَا فِیْهَا لُغُوْبٌ Open ayah 35:35 in the Quran reader

جس نے ہم کو اپنی مہربانی سے ہمیشہ رہنے کے گھر میں اتارا۔ یہاں نہ تو ہم کو کوئی رنج ہوگا اور نہ ہم کو تھکان ہی ہوگی

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَهُمْ نَارُ جَهَنَّمَ١ۚ لَا یُقْضٰى عَلَیْهِمْ فَیَمُوْتُوْا وَ لَا یُخَفَّفُ عَنْهُمْ مِّنْ عَذَابِهَا١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِیْ كُلَّ كَفُوْرٍۚ Open ayah 35:36 in the Quran reader

اور جو لوگ کافر ہیں ان کے لئے دوزخ کی آگ ہے نہ تو ان کی قضا ہی آئے گی کہ مرجائیں اور نہ اس (دوزخ) کا عذاب ان سے ہلکا کیا جائے گا۔ ہم ہر کافر کو ایسی ہی سزا دیتے ہیں

وَ هُمْ یَصْطَرِخُوْنَ فِیْهَا١ۚ رَبَّنَاۤ اَخْرِجْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا غَیْرَ الَّذِیْ كُنَّا نَعْمَلُ١ؕ اَوَ لَمْ نُعَمِّرْكُمْ مَّا یَتَذَكَّرُ فِیْهِ مَنْ تَذَكَّرَ وَ جَآءَكُمُ النَّذِیْرُ١ؕ فَذُوْقُوْا فَمَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ نَّصِیْرٍ۠ Open ayah 35:37 in the Quran reader

اور وہ لوگ اس میں چلائیں گے کہ اے ہمارے پروردگار ! ہم کو نکال لیجئے ہم اچھے کام کریں گے ان کاموں کے برخلاف جو (پہلے) کیا کرتے تھے۔ کیا ہم نے تم کو اتنی عمر نہ دی تھی کہ جس کو اس میں سمجھنا ہوتا وہ سمجھ سکتا اور تمہارے پاس ڈرانے والا بھی پہنچا تھا سو (کفر کا مزہ) چکھو (یہاں) ایسے ظالموں کا کوئی مدد کرنے والا نہیں

رکوع نمبر 4 ۔ آیات 27 ۔ تا۔ 37: اسرار و معارف : اللہ کی قدرت کاملہ کا ہر پہلو کتنا روشن ہے بھلا غور کرو کہ کس طرح پانی کو اٹھا کر بلندیوں سے برساتا ہے اور نشیب و فراز پر پہنچا دیتا ہے یہ بھی دیکھو کہ ایک ہی طرح کا پانی برستا ہے بےرنگ اور بےذائقہ مگر جب اس کے ذریعے پھل اگاتا ہے تو ان سب کے رنگ جدا اور ذائقے الگ الگ ہوتے ہیں۔ یہی نہیں پہاڑوں کو دیکھو ایک ہی زمین مختلف رنگوں کے امتزاج خوبصورت انداز میں کھڑے کردئیے کہیں سفید سفید گھاٹیاں ہیں پھر اسی پہاڑ میں سرخ رنگ کی تہہ آجاتی ہے کہیں سیاہ اور کالے بھجنگ پہاڑ کھڑے نظر آتے ہیں یہی حال بندوں جانوروں اور کیڑے مکوڑوں میں نظر آتا ہے کوئی گورا ہے کوئی کالا کسی کا ناک ستواں ہے تو کسی دوسرے کی چپٹی قد کاٹھ عقل و شعور اور رنگ روپ ہر شے جداگانہ عطا فرما دی یہ اس کی تخلیق کا کمال ہے۔ اسی طرح سے یہ سب باتیں اس کی عظمت شان پہ گواہی دے رہی ہیں مگر کوئی یہ بات جانے بھی کہ اللہ کی خشیت تو اسی کو نصیب ہوگی جو یہ سب جانتا ہوگا یعنی عالم ہوگا۔ قرآن کسے عالم کہتا ہے : قرآن حکیم کے مطابق محض لکھنا پڑھنا آتا ہو یا بہت سی کتابیں پڑھ لینے سے کوئی عالم نہ ہوجائے گا کہ علم کا حاصل ہے اپنی خشیت اور اللہ کی عظمت کا احساس و ادراک جس درجہ کا یہ ادراک ہوگا اسی درجہ کی خشیت نصیب ہوگی اور اللہ کے جس بندے میں جتنی خشیت الہی ہوگی اتنا ہی وہ عالم ہے خشیت دل کا فعل ہے اور اس کا اظہار کردار اور اعمال سے ہوتا ہے مفسرین کرام نے یہاں بہت لمبی بحث لکھی ہے مگر اس کا حاصل یہی ہے۔ اللہ کریم سب پر غالب ہے وہ چاہے تو کسی کو دم مارنے کی فرصت نہ دے مگر وہ بخشنے والا ہے اور درگزر فرماتا ہے۔ آگے خشیت الہی کا اظہار کیسے ہوتا ہے اس کے بارے میں فرمایا کہ جو لوگ تلاوت قرآن کرتے ہیں۔ قرآن حکیم ضابطہ حیات ہے اور اسے سمجھنا ضروری اس پر عمل کرنا مقصد حیات لیکن اگر معانی نہ بھی آتے ہوں تو بھی تلاوت قرآن بجائے خود ایک نیک عمل ہے جو خشیت پیدا کرتا ہے اور دل میں جب خشیت پیدا ہو تو اسے کتابوں کے سوا بھی علم نصیب ہونے لگتا ہے۔ عبادات میں کمر بستہ ہوجاتے ہیں اور اللہ کی دی ہوئی نعمتوں اور رزق میں سے اس کی راہ میں خرچ کرتے ہیں علانیہ بھی اور چھپ چھپا کر بھی۔ علانیہ اور خفیہ نیک کام کرنا : علماء کی رائے میں فرائض و واجبات اور سنن وغیرہ کا اعلانیہ کرنا بہتر ہے اور نوافل کا پوشیدہ ایسے ہی فرض صدقہ یعنی زکوۃ کا ظاہراً ادا کرنا بہتر ہے اور نفلی صدقات کا خفیہ۔ یہ ایسے لوگ ہیں جو امیدوار کرم ہیں کہ ان کے نیک اعمال ایسی تجارت کی مانند ہیں جس میں خسارے کا امکان نہ ہو۔ نیکی کرکے نجات یقینی نہیں امید کرم ضرور ہوسکتی ہے : نیک اعمال پہ گھمنڈ نہ کیا جائے کہ محض نیکی نجات کے لیے کافی نہیں کہ اس کی توفیق بھی تو اللہ کریم نے ہی دی ہاں اس کی رحمت بخشش کا سبب ہے جس کی امید قوی ہے کہ یہ اسی کی رحمت تھی جو توفیق عمل ملی تو اپنے کرم سے نجات بھی فرما دے گا بلکہ انہیں یہ امید ہوتی ہے کہ اعمال بد کا بدلہ تو دے گا ہی۔ کریم ایسا ہے کہ اسے کئی گنا بڑھا دے گا کہ بخشنا تو اس کی صفت ہے ہی وہ قدر دان بھی زبردست ہے۔ بندہ اپنی حیثیت کے مطابق ہی عمل کرسکتا ہے مگر اللہ تو اپنی شان کے مطابق عطا فرمائے گا۔ کیا یہ کم احسان ہے کہ آپ پر ایک عظیم الشان کتاب نازل فرمائی جو ایک شک و شبہ سے بالا اور حق ہے اور اپنے سے پہلے نازل ہونے والی کتب میں ارشاد کردہ حقائق کی تصدیق کرتی ہے کہ آسمانی کتب کے حق ہونے اور انبیاء و رسل کی صداقت پہ یہ دلیل بھی بہت بڑی ہے کہ سینکڑوں ہزاروں سالوں بعد جب کوئی نئی کتاب نازل ہوئی تو اس نے وہی حقائق بیان فرمائے جو پہلی کتب نے بیان فرمائے تھے جیسے تمام تر تعلیمات گم اور انبیاء کے ارشادات لوگوں کو بھول چکے تھے۔ آپ ﷺ مبعوث ہوئے تو ذات باری ، فرشتے ، آخرت کے بارے وہی ارشاد فرمایا جو پہلے انبیاء کی تعلیمات تھیں اور قرآن کریم نے وہی حقائق ارشاد فرمائے جو پہلے نازل ہوئے تھے رائی برابر غلطی لگی نہ اختلاف ہوا۔ اور اللہ تو یقیناً اپنے بندوں کے حال اور ان کی ضروریات سے واقف اور آگاہ ہے اور ہر شے اس کے روبرو ہے۔ پھر آپ ﷺ کے طفیل ہم نے اپنے پسندیدہ اور منتخب بندوں کو اس کا وارث بنا دیا۔ یعنی آپ ﷺ پر اور قرآن پر ایمان وہی لاسکتا ہے جسے اللہ نے اس کام کے لیے چن لیا ہو۔ بحیثیت مخلوق اور پھر بحیثیت انسان ہی اس کے احسان بیحد و بیشمار تھے کہ مسلمان ہونے کی توفیق ارزاں فرما کر اس نے احسانات کی حد کردی اور علماء تفسیر کے نزدیک مسلمان کتنا بھی گناہگار ہو اگر ایمان ضائع نہ کرے اور مرتد ہو کر نہ مرے تو یقینا نجات پا لے گا خواہ کتنی مصیبت کے بعد ہی پائے مگر پا لے گا کہ اللہ کا پسندیدہ بندہ تو ہے۔ اتنے احسانات کے باوجود مسلمانوں میں ایسے ہیں جو اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں یعنی اللہ کی نافرمانی کرتے ہیں اور کچھ ایسے ہیں جن کا حال درمیانہ ہے کہ خطا بھی کرتے ہیں اور معذرت بھی۔ غلطی بھی کرتے ہیں اور نیکی بھی اور کچھ ایسے بندے ہیں جو اللہ کے حکم سے نیکی میں بہت آگے بڑھ جاتے ہیں اور یہ نیکی میں آگے بڑھنے کی توفیق ہونا اللہ کریم کی طرف سے بہت ہی بیشمار کرم کی بات ہے کہ یہ نیک اعمال بظارہر دشوار بھی ہوں تو نتیجے کے اعتبار سے قرب الہی اور اللہ کی رضامندی کی دلیل ہیں اور ایسے لوگ تو جنت عدن میں پہنچیں گے جہاں سونے کے کنگن اور جواہرات نیز جنت کی ریشم کا بنا ہوا لباس نصیب ہوگا یعنی ان کے بہت بڑے ٹھاٹھ باٹھ ہوں گے اور پھر ہمیشہ کے لیے بےفکر نہ تھکان نہ بیماری نہ کوئی دکھ یا تکلیف اور نہ کسی پریشانی کا کوئی خطرہ تو کہہ اٹھیں گے کہ اللہ کا شکر ہے جس نے ہمیں ہر طرح کی پریشانی سے محفوظ فرما دیا بیشک ہمارا پروردگار بہت بڑی بخشش کا مالک بھی ہے اور بہت بڑا اجر دینے والا بھی۔ جس نے ہمیں ہر طرح کی پریشانی سے محفوظ فرما دیا بیشک ہمارا پروردگار بہت بڑی بخشش کا مالک بھی ہے اور بہت بڑا اجر دینے والا بھی۔ جس نے ہمیں ایسے شاندار گھر میں ٹھہرایا ہے کہ جہاں نہ تو محنت و مشقت کی کوئی بات ہے نہ کسی طرح کی تھکن۔ انسان تو ایک طرح کے کھانے ایک جیسے لباس اور موسم تک سے تھک جاتا ہے جب کہ جنت کی نعمتوں کی لذت میں ہر آن اضافہ ہوتا رہے گا تو کسی بھی طرح کی تھکن کا سوال نہ رہا۔ مفسرین کرام کے مطابق گناہگاروں کو بھی سخت رنج و غم کے بعد نجات نصیب ہوجائے گی اور معتدل اور درمیان والوں کو آسان حساب کے بعد جبکہ مقربین کو انعام ہی انعام نصیب ہوگا تو یوں سب یہی کلمات کہیں گے اور سب جنت میں پہنچیں گے۔ انشاء اللہ۔ جن لوگوں نے کفر کی راہ اپنائی وہ جہنم میں تو جائیں گے یہ بھی سن لیں کہ وہاں انہیں کبھی موت بھی نہ آئے گی نہ کبھی داخلے کے بعد ان کے عذاب میں کوئی کمی کی جائے گی ہمیشہ ہمیشہ اسی عذاب میں مبتلا رہیں گے اگرچہ وہ بھی چلائیں گے کہ اے ہمارے پروردگار ہمیں ایک بار اس سے نجات عطا فرما اور پھر سے دار عمل میں بھیج کہ ہم بھی تیری اطاعت کا حق ادا کرکے یہاں میدان حشر میں پھر سے آئیں تو ارشاد ہوگا کیا تمہیں عمر اور موقع دیا نہ گیا تھا۔ مکلف ہونے کے لیے عمر شرط ہے : کہ مکلف شرعی ہونے کے لیے بلوغت شرط ہے اور یہاں عمر سے مراد بلوغت کی حد ہے کہ انسان کی عقل کامل ہوجاتی ہے اور اپنے بھلے برے کو سمجھنے کی اہلیت پیدا ہوجاتی ہے اور پھر عمر عقل اور شعور کے ساتھ تمہارے پاس نبی بھیجے جنہوں نے بروقت اس برے انجام کی خبر بھی دی سو جس نے مان لیا اور اپنی اصلاح کرلی درست اور تم نے نہیں کی تو اب بھگتو کہ ظالموں کو ہم ایسے ہی بدلہ دیتے ہیں اور کوئی ان کی مدد بھی نہیں کرسکتا۔