34. Surah Saba

سبإSheba · 54 ayahsبیان القرآن

Ayah 34:1

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ وَ لَهُ الْحَمْدُ فِی الْاٰخِرَةِ١ؕ وَ هُوَ الْحَكِیْمُ الْخَبِیْرُ Open ayah 34:1 in the Quran reader

تمام تر حمد وثناء اس اللہ کو سزاوار ہے جس کی ملک ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور اسی کو حمد وثناء آخرت میں (بھی) سزا وار ہے اور وہ حکمت والا (ف 1) خبردار ہے۔ (ف 2)

ف 1۔ کہ موجودات ارضیہ و سماویہ کو منافع و مصالح پر متضمن بنایا ہے۔ 2۔ کہ ان مصالح و منافع کو پیدا کرنے کے قبل سے جانتا تھا، پھر ان کو پیدا کر کے ارضیات و سماویات میں رکھ دیا۔
Ayah 34:2

یَعْلَمُ مَا یَلِجُ فِی الْاَرْضِ وَ مَا یَخْرُجُ مِنْهَا وَ مَا یَنْزِلُ مِنَ السَّمَآءِ وَ مَا یَعْرُجُ فِیْهَا١ؕ وَ هُوَ الرَّحِیْمُ الْغَفُوْرُ Open ayah 34:2 in the Quran reader

وہ سب کچھ جانتا ہے جو چیز زمین کے اندر داخل ہوتی ہے (مثلاً بارش) اور جو چیز اس میں سے نکلتی ہے (مثلاً نباتات) اور جو چیز آسمان سے اترتی ہے اور جو چیز اس میں چڑھتی ہے (ف 3) اور وہ اللہ تعالیٰ رحیم اور غفور (بھی) ہے۔

ف 3۔ مثلا ملائکہ کہ نزول و عروج کرتے ہیں اور مثلا احکام جن کا نزول ہوتا ہے اور اعمال جن کا صعود ہوتا ہے۔
Ayahs 34:3–4

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَا تَاْتِیْنَا السَّاعَةُ١ؕ قُلْ بَلٰى وَ رَبِّیْ لَتَاْتِیَنَّكُمْ١ۙ عٰلِمِ الْغَیْبِ١ۚ لَا یَعْزُبُ عَنْهُ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَ لَا فِی الْاَرْضِ وَ لَاۤ اَصْغَرُ مِنْ ذٰلِكَ وَ لَاۤ اَكْبَرُ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍۗۙ Open ayah 34:3 in the Quran reader

اور یہ کافر کہتے ہیں کہ ہم پر قیامت نہ آئے گی آپ فرمادیجیئے کہ کیوں نہیں قسم اپنے پروردگار عالم الغیب کی وہ ضرور تم پر آوے گی اس (کے علم) سے کوئی ذرہ برابر بھی غائب نہیں نہ آسمانوں میں اور زمین میں اور نہ کوئی چیز اس (مقدار مذکور) سے چھوٹی ہے اور نہ کوئی چیز (اس سے) بڑی ہے مگر یہ سب کتاب مبین میں (مرقوم) ہے۔ (ف 4)

لِّیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِیْمٌ Open ayah 34:4 in the Quran reader

تاکہ ان لوگوں کو صلہ (نیک) دے جو ایمان لائے تھے اور انہوں نے نیک کام کیے تھے (سو) ایسے لوگوں کے لیے مغفرت اور (بہشت میں) عزت کی روزی ہے۔

ف 4۔ یعنی لوح محفوظ میں۔
Ayahs 34:5–7

وَ الَّذِیْنَ سَعَوْ فِیْۤ اٰیٰتِنَا مُعٰجِزِیْنَ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مِّنْ رِّجْزٍ اَلِیْمٌ Open ayah 34:5 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کے متعلق (ان کے ابطال کی) کوشش کی تھی ہرانے کے لیے ایسے لوگوں کے واسطے سختی کا دردناک عذاب ہوگا۔ (ف 5)

وَ یَرَى الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ هُوَ الْحَقَّ١ۙ وَ یَهْدِیْۤ اِلٰى صِرَاطِ الْعَزِیْزِ الْحَمِیْدِ Open ayah 34:6 in the Quran reader

اور جن لوگوں کو (آسمانی کتابوں کا) علم دیا گیا ہے وہ اس قرآن کو جو آپ کے رب کی طرف سے آپ کے پاس بھیجا گیا ہے ایسا سمجھتے ہیں کہ وہ حق ہے اور وہ خدائے غالب محمود (کی رضا) کا راستہ بتلاتا ہے۔

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا هَلْ نَدُلُّكُمْ عَلٰى رَجُلٍ یُّنَبِّئُكُمْ اِذَا مُزِّقْتُمْ كُلَّ مُمَزَّقٍ١ۙ اِنَّكُمْ لَفِیْ خَلْقٍ جَدِیْدٍۚ Open ayah 34:7 in the Quran reader

اور یہ کافر (آپس میں) کہتے ہیں کہ کیا ہم تم کو ایسا آدمی بتائیں جو کہ تم کو یہ عجیب خبر دیتا ہے کہ جب تم بالکل ریزہ ریزہ ہوجاؤ گے تو (اس کے بعد قیامت کو) ضرور تم ایک نئے جنم میں آؤ گے۔

ف 5۔ آیات قرآنیہ کی تکذیب پر یہ سزا ہونا ہی چاہئے، کیونکہ اول تو قرآن فی نفسہ امر حق منزل من اللہ ہے، اور ایسے امر حق کی تکذیب خود حق تعالیٰ کی تکذیب ہے، اس پر جتنی سزاہو بجا ہے، دوسرے قرآن راہ راست مرضی عنداللہ کی تعلیم و ہدایت کرتا ہے، جو شخص اس کو نہ مانے گا وہ راہ راست سے قصدا دور رہے گا، نہ اس کو عقائد حقہ کا پتہ لگے گا، نہ اعمال صالحہ کا اور یہی طریقہ تھا نجات کا، پس طریق نجات سے قصدا دور رہنے پر سزا ہونا بےجا نہیں ہے۔
Ayah 34:8

اَفْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَمْ بِهٖ جِنَّةٌ١ؕ بَلِ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ فِی الْعَذَابِ وَ الضَّلٰلِ الْبَعِیْدِ Open ayah 34:8 in the Quran reader

معلوم نہیں اس شخص نے خدا پر (قصداً ) جھوٹ بہتان باندھا ہے یا اس کو کسی طرح کا جنون ہے بلکہ جو لوگ آخرت پر یقین نہیں رکھتے (وہی) عذاب اور دور دراز گمراہی میں (مبتلا) ہیں۔ (ف 6)

ف 6۔ اس گمراہی کا حالی اثر یہ ہے کہ سچے بھی مفتری اور مجنون نظر آتے ہیں، اور مآلی اثر یہ ہے کہ عذاب بھگتنا پڑے گا۔
Ayah 34:9

اَفَلَمْ یَرَوْا اِلٰى مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اِنْ نَّشَاْ نَخْسِفْ بِهِمُ الْاَرْضَ اَوْ نُسْقِطْ عَلَیْهِمْ كِسَفًا مِّنَ السَّمَآءِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّكُلِّ عَبْدٍ مُّنِیْبٍ۠ Open ayah 34:9 in the Quran reader

تو کیا انہوں نے آسمان اور زمین کی طرف نظر نہیں کی جو ان کے آگے بھی اور ان کے پیچھے (بھی) موجود ہیں اگر ہم چاہیں تو ان کو زمین میں دھنسا دیں یا ان پر آسمان کے ٹکڑے گرا دیں اس (دلیل مذکور) میں (قدرت الہٰیہ کی) پوری دلیل ہے (مگر) اس بندہ کے لیے (جو خدا کی طرف) متوجہ (بھی) ہو۔ (ف 1)

ف 1۔ یعنی دلیل تو کافی ہے مگر ان کی طرف سے طلب نہیں اس لئے محروم ہیں۔
Ayah 34:10

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ مِنَّا فَضْلًا١ؕ یٰجِبَالُ اَوِّبِیْ مَعَهٗ وَ الطَّیْرَ١ۚ وَ اَلَنَّا لَهُ الْحَدِیْدَۙ Open ayah 34:10 in the Quran reader

اور ہم نے داؤد (علیہ السلام) کو اپنی طرف سے بڑی نعمت دی تھی اے پہاڑو داؤد کے ساتھ بار بار تسبیح کرو اور (اسی طرح) پرندوں کو بھی حکم دیا (ف 2) اور ہم نے ان کے واسطے لوہے کو (مثل موم) نرم کردیا۔

ف 2۔ یعنی جب یہ ذکر میں مشغول ہوں تم بھی ان کا ساتھ دو ۔ غالبا یہ تسبیح ایسی ہوگی جو سامعین کو مفہوم ہو، ورنہ غیر مفہوم تسبیح تو عام ہے، اس میں معیت داودیہ کی کیا تخصیص ہے۔
Ayah 34:11

اَنِ اعْمَلْ سٰبِغٰتٍ وَّ قَدِّرْ فِی السَّرْدِ وَ اعْمَلُوْا صَالِحًا١ؕ اِنِّیْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 34:11 in the Quran reader

اور (یہ حکم دیا کہ) تم پوری زرہیں بناؤ اور (کڑیوں کے) جوڑنے کے انداز رکھو اور تم سب نیک کام کیا کرو (ف 3) میں تمہارے سب اعمال دیکھ رہا ہوں۔

ف 3۔ یعنی داود (علیہ السلام) اور ان کے متعلقین۔
Ayahs 34:12–13

وَ لِسُلَیْمٰنَ الرِّیْحَ غُدُوُّهَا شَهْرٌ وَّ رَوَاحُهَا شَهْرٌ١ۚ وَ اَسَلْنَا لَهٗ عَیْنَ الْقِطْرِ١ؕ وَ مِنَ الْجِنِّ مَنْ یَّعْمَلُ بَیْنَ یَدَیْهِ بِاِذْنِ رَبِّهٖ١ؕ وَ مَنْ یَّزِغْ مِنْهُمْ عَنْ اَمْرِنَا نُذِقْهُ مِنْ عَذَابِ السَّعِیْرِ Open ayah 34:12 in the Quran reader

اور سلیمان (علیہ السلام) کے لیے ہوا کو مسخر کردیا کہ اس (ہوا) کی صبح کی منزل ایک مہینہ بھر کی (راہ) ہوتی اور اس کی شام کی منزل ایک مہینہ بھر کی (راہ) ہوتی (ف 4) اور ہم نے انکے لیے تانبے کا چشمہ بہا دیا اور جنات میں بعضے وہ تھے جو ان کے آگے کام کرتے تھے ان کے رب کے حکم سے اور ان میں سے جو شخص ہمارے (اس) حکم سے سرتابی کرے گا ہم اس کو (آخرت) میں دوزخ کا عذاب چکھا دیں گے۔ (ف 5)

یَعْمَلُوْنَ لَهٗ مَا یَشَآءُ مِنْ مَّحَارِیْبَ وَ تَمَاثِیْلَ وَ جِفَانٍ كَالْجَوَابِ وَ قُدُوْرٍ رّٰسِیٰتٍ١ؕ اِعْمَلُوْۤا اٰلَ دَاوٗدَ شُكْرًا١ؕ وَ قَلِیْلٌ مِّنْ عِبَادِیَ الشَّكُوْرُ Open ayah 34:13 in the Quran reader

وہ جنات ان کے لیے وہ چیزیں بناتے جو ان کو (بنوانا) منظور ہوتا بڑی بڑی عمارتیں اور مورتیں اور لگن (ایسے بڑے) جیسے حوض اور (بڑی بڑی) دیگیں جو ایک ہی جگہ جمی رہیں اے داؤد (علیہ السلام) کے خاندان والو تم سب شکر میں نیک کام کیا کرو اور میرے بندوں میں شکر گزاری کم ہی ہوتے ہیں۔

ف 4۔ یعنی وہ ہوا سلیمان (علیہ السلام) کو اتنی اتنی دور پہنچاتی۔ 5۔ حاصل یہ کہ جو جی ایمان و اطاعت اختیار کرے گا وہ عذاب سعیر سے محفوظ رہے گا جیسا کہ ایمان کا مقتضا ہے۔
Ayah 34:14

فَلَمَّا قَضَیْنَا عَلَیْهِ الْمَوْتَ مَا دَلَّهُمْ عَلٰى مَوْتِهٖۤ اِلَّا دَآبَّةُ الْاَرْضِ تَاْكُلُ مِنْسَاَتَهٗ١ۚ فَلَمَّا خَرَّ تَبَیَّنَتِ الْجِنُّ اَنْ لَّوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ الْغَیْبَ مَا لَبِثُوْا فِی الْعَذَابِ الْمُهِیْنِؕ Open ayah 34:14 in the Quran reader

پھر جب ہم نے ان پر موت کا حکم جاری کردیا تو کسی چیز نے ان کے مرنے کا پتہ نہ بتلایا مگر گھن کے کیڑے نے کہ وہ سلیمان (علیہ السلام) کے عصا کو کھاتا تھا (ف 6) سو جب وہ گر پڑے تب جنات کو حقیقت معلوم ہوئی کہ اگر وہ غیب جانتے ہوتے تو اس ذلت کی مصیبت میں نہ رہتے۔ (ف 7)

ف 6۔ سلیمان (علیہ السلام) موت کے قریب عصا کو دونوں ہاتھ سے پکڑ کر اس کو زیر زنخ لگا کر تخت پر بیٹھ گئے، اور اسی حالت میں روح قبض ہوگئی، اور اسی طرح سال بھر تک بیٹھے رہے، جنات آپ کو بیٹھا دیکھ کر زندہ سمجھتے رہے اور زندہ سمجھ کر بدستور کام کرتے رہے۔ 7۔ مراد اعمال شاقہ ہیں جن میں بوجہ محکومیت کے ذلت بھی اور مشقت کی وجہ سے مصیبت بھی ہے۔
Ayah 34:15

لَقَدْ كَانَ لِسَبَاٍ فِیْ مَسْكَنِهِمْ اٰیَةٌ١ۚ جَنَّتٰنِ عَنْ یَّمِیْنٍ وَّ شِمَالٍ١ؕ۬ كُلُوْا مِنْ رِّزْقِ رَبِّكُمْ وَ اشْكُرُوْا لَهٗ١ؕ بَلْدَةٌ طَیِّبَةٌ وَّ رَبٌّ غَفُوْرٌ Open ayah 34:15 in the Quran reader

سبا کے (لوگوں) کے لیے ان کے وطن (کی مجموعی حالت) میں نشانیاں موجود تھیں دو قطاریں تھیں باغ کے دائیں اور بائیں (ف 8) اپنے رب کا دیا ہوا رزق کھاؤ اور اس کا شکر کرو (کہ رہنے کو) عمدہ شہر اور بخشنے والا پروردگار۔

ف 8۔ یعنی ان کے تمام علاقہ میں دو طرفہ متصل باغات چلے گئے تھے۔
Ayahs 34:16–19

فَاَعْرَضُوْا فَاَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ سَیْلَ الْعَرِمِ وَ بَدَّلْنٰهُمْ بِجَنَّتَیْهِمْ جَنَّتَیْنِ ذَوَاتَیْ اُكُلٍ خَمْطٍ وَّ اَثْلٍ وَّ شَیْءٍ مِّنْ سِدْرٍ قَلِیْلٍ Open ayah 34:16 in the Quran reader

سو انہوں نے سرتابی کی تو ہم نے ان پر بند کا سیلاب چھوڑ دیا (ف 1) اور ہم نے ان کے دو رویہ باغوں کے بدلے اور دو باغ دے دیے جن میں دو چیزیں رہ گئیں بد مزہ پھل اور جھاؤ اور قدرے قلیل بیری۔

ذٰلِكَ جَزَیْنٰهُمْ بِمَا كَفَرُوْا١ؕ وَ هَلْ نُجٰزِیْۤ اِلَّا الْكَفُوْرَ Open ayah 34:17 in the Quran reader

ان کو یہ سزا ہم نے ان کی ناسپاسی کے سبب دی اور ہم ایسی سزا بڑے ناسپاس ہی کو دیا کرتے ہیں۔

وَ جَعَلْنَا بَیْنَهُمْ وَ بَیْنَ الْقُرَى الَّتِیْ بٰرَكْنَا فِیْهَا قُرًى ظَاهِرَةً وَّ قَدَّرْنَا فِیْهَا السَّیْرَ١ؕ سِیْرُوْا فِیْهَا لَیَالِیَ وَ اَیَّامًا اٰمِنِیْنَ Open ayah 34:18 in the Quran reader

اور ہم نے ان کے اور ان کی بستیوں کے درمیان میں جہاں ہم نے برکت کر رکھی ہے بہت سے گاؤں آباد کر رکھے تھے جو نظر آتے تھے اور ہم نے ان دیہات کے درمیان کے چلنے کا ایک خاص انداز رکھا تھا کہ بےخوف و خطر ان میں راتوں کو اور دنوں کو چلو۔

فَقَالُوْا رَبَّنَا بٰعِدْ بَیْنَ اَسْفَارِنَا وَ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فَجَعَلْنٰهُمْ اَحَادِیْثَ وَ مَزَّقْنٰهُمْ كُلَّ مُمَزَّقٍ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍ Open ayah 34:19 in the Quran reader

سو وہ کہنے لگے کہ اے ہمارے پروردگار ہمارے سفروں میں درازی کر دے اور (علاوہ اس ناشکری کے) انہوں نے (اور بھی نافرمانیاں کر کے) اپنی جانوں پر ظلم کیا سو ہم نے ان کو افسانہ بنادیا اور ان کو بالکل تتر بتر کردیا بیشک اس (قصہ) میں ہر صابر و شاکر (مومن) کے لیے بڑی بڑی عبرتیں ہیں۔

ف 1۔ یعنی جو سیلاب بند سے رکا رہتا تھا بند ٹوٹ کر اس سیلاب کا پانی چڑھ آیا جس سے ان کے دو رویہ باغات سب غارت ہوگئے۔
Ayah 34:20

وَ لَقَدْ صَدَّقَ عَلَیْهِمْ اِبْلِیْسُ ظَنَّهٗ فَاتَّبَعُوْهُ اِلَّا فَرِیْقًا مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 34:20 in the Quran reader

اور واقعی ابلیس نے ان لوگوں کے بارے میں (ف 2) اپنا گمان صحیح پایا کہ سب اسی کی راہ ہو لیے مگر ایمان والوں کا گروہ۔

ف 2۔ یعنی بنی آدم کے بارہ میں۔
Ayah 34:21

وَ مَا كَانَ لَهٗ عَلَیْهِمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ اِلَّا لِنَعْلَمَ مَنْ یُّؤْمِنُ بِالْاٰخِرَةِ مِمَّنْ هُوَ مِنْهَا فِیْ شَكٍّ١ؕ وَ رَبُّكَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ حَفِیْظٌ۠ Open ayah 34:21 in the Quran reader

اور ابلیس کا ان لوگوں پر (جو) تسلط (بطور اغوا ہے) بجز اس کے اور کسی وجہ سے نہیں کہ ہم کو (ظاہری طور پر) ان لوگوں کو جو کہ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں (ف 3) ان لوگوں سے (الگ کر کے) معلوم کرنا ہے جو اس کی طرف سے شک میں ہیں اور آپ کا رب ہر چیز کا نگران ہے۔

ف 3۔ یعنی ابتلاء و امتحان مقصود ہے تاکہ مومن و کافر متعین ہوجاویں کہ بعض کو ثواب اور بعض کو عذاب دینا مقتضائے حکمت ہے۔
Ayah 34:22

قُلِ ادْعُوا الَّذِیْنَ زَعَمْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ۚ لَا یَمْلِكُوْنَ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَ لَا فِی الْاَرْضِ وَ مَا لَهُمْ فِیْهِمَا مِنْ شِرْكٍ وَّ مَا لَهٗ مِنْهُمْ مِّنْ ظَهِیْرٍ Open ayah 34:22 in the Quran reader

آپ فرمائیے کہ جن کو تم خدا کے سوا (دخیل خدائی) سمجھ رہے ہو ان کو پکارو وہ ذرہ برابر اختیار نہیں رکھتے نہ آسمانوں میں نہ زمین میں اور نہ ان کی ان دونوں (کے پیدا کرنے) میں کوئی شرکت ہے اور نہ ان میں سے کوئی اللہ کا (کسی کام میں) مددگار ہے۔ (ف 4)

ف 4۔ یعنی نہ ایجاد عالم میں ان کا کوئی دخل ہے اور نہ بعد موجود ہوجانے کے ان کا استقلالا اختیار ہے، اور نہ نیابة اختیار ہے۔
Ayahs 34:23–25

وَ لَا تَنْفَعُ الشَّفَاعَةُ عِنْدَهٗۤ اِلَّا لِمَنْ اَذِنَ لَهٗ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوْبِهِمْ قَالُوْا مَا ذَا١ۙ قَالَ رَبُّكُمْ١ؕ قَالُوا الْحَقَّ١ۚ وَ هُوَ الْعَلِیُّ الْكَبِیْرُ Open ayah 34:23 in the Quran reader

اور خدا کے سامنے (کسی کی) سفارش کام نہیں آتی مگر اس کے لیے جس کی نسبت (شفیع کو) وہ اجازت دے دے (ف 5) یہاں تک کہ جب ان کے دلوں سے گھبراہٹ دور ہوجاتی ہے تو ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں کہ تمہارے پروردگار نے کیا حکم فرمایا وہ کہتے ہیں کہ (فلانی) حق بات کا حکم فرمایا اور وہ عالیشان سب سے بڑا ہے۔ (ف 6)

قُلْ مَنْ یَّرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ قُلِ اللّٰهُ١ۙ وَ اِنَّاۤ اَوْ اِیَّاكُمْ لَعَلٰى هُدًى اَوْ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 34:24 in the Quran reader

آپ (تحقیق توحید کے لیے یہ بھی) پوچھیے کہ (اچھا بتلاؤ) تم کو آسمان اور زمین میں سے کون روزی دیتا ہے آپ (ہی) کہہ دیجیئے کہ اللہ (روزی دیتا ہے) اور (یہ بھی کہیے کہ اس مسٴلہ توحید میں) بیشک ہم یا تم ضرور راہ راست پر ہیں یا صریح گمراہی میں ہیں۔

قُلْ لَّا تُسْئَلُوْنَ عَمَّاۤ اَجْرَمْنَا وَ لَا نُسْئَلُ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 34:25 in the Quran reader

آپ یہ بھی فرما دیجیے کہ (اگر ہم مجرم ہیں تو) تم سے ہمارے جرائم کی باز پرس نہ ہوگی اور ہم سے تمہارے اعمال کی باز پرس نہ ہوگی۔

ف 5۔ اور دلائل سے ثابت ہے کہ یہ اذن صرف حق مومنین میں ہوگا۔ 6۔ پس جب ملائکہ مقربین کی یہ حالت ہو تو اصنام و شیاطین تو کس شمار میں ہیں کہ ایک میں قابلیت نہیں دوسرے میں مقبولیت نہیں۔
Ayah 34:26

قُلْ یَجْمَعُ بَیْنَنَا رَبُّنَا ثُمَّ یَفْتَحُ بَیْنَنَا بِالْحَقِّ١ؕ وَ هُوَ الْفَتَّاحُ الْعَلِیْمُ Open ayah 34:26 in the Quran reader

(اور یہ بھی کہ دیجیئے کہ ہمارا رب ہم سب کو (ایک جگہ) جمع کرے گا پھر ہمارے درمیان ٹھیک ٹھیک فیصلہ (عملی) کر دے گا اور وہ بڑا فیصلہ کرنے والا اور جاننے والا ہے۔ (ف 1)

ف 1۔ اس سے کسی کا حال پوشیدہ نہیں جس سے غلط فیصلہ کا شبہ ہوسکے۔
Ayah 34:27

قُلْ اَرُوْنِیَ الَّذِیْنَ اَلْحَقْتُمْ بِهٖ شُرَكَآءَ كَلَّا١ؕ بَلْ هُوَ اللّٰهُ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 34:27 in the Quran reader

آپ (یہ بھی) کہیے کہ مجھ کو ذرہ وہ تو دکھلاؤ جن کو تم نے شریک بنا کر خدا کے ساتھ ملا رکھا ہے ہرگز اس کا کوئی شریک نہیں بلکہ (واقع میں) وہی ہے اللہ زبردست حکمت والا۔ (ف 2)

ف 2۔ اوپر توحید کا ذکر تھا آگے رسالت محمدیہ اور اس کے عموم کا مفہوم ہے کہ وہ لوگ اس کے بھی منکر تھے، پھر حق توحید بدون اتباع رسول کے حاصل بھی نہیں ہوتا۔
Ayahs 34:28–29

وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا كَآفَّةً لِّلنَّاسِ بَشِیْرًا وَّ نَذِیْرًا وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 34:28 in the Quran reader

اور ہم نے تو آپ کو تمام لوگوں کے واسطے پیغمبر بنا کر بھیجا ہے (ف 3) (ایمان لانے پر ان کو ہماری رضا وثواب کی) خوشخبری سنا نے والے اور (ایمان نہ لانے پر ان کو ہمارا غضب و عذاب سے) ڈرانے والے لیکن اکثر لوگ نہیں سمجھتے۔

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 34:29 in the Quran reader

اور یہ لوگ (ایسے مضامین سن کر) کہتے ہیں کہ وہ وعدہ کب ہوگا اگر تم (یعنی نبی (علیہ السلام) اور آپ کے اتباع) سچے ہو (تو بتلاؤ)

ف 3۔ یعنی خواہ جن ہوں یا انسان عرب ہوں یا عجم موجود ہوں یا آئندہ ہونے والے ہوں۔
Ayah 34:30

قُلْ لَّكُمْ مِّیْعَادُ یَوْمٍ لَّا تَسْتَاْخِرُوْنَ عَنْهُ سَاعَةً وَّ لَا تَسْتَقْدِمُوْنَ۠ Open ayah 34:30 in the Quran reader

آپ کہہ دیجیئے کہ تمہارے واسطے ایک دن کا وعدہ (مقرر) ہے کہ اس سے نہ ایک ساعت پیچھے ہٹ سکتے ہو اور نہ آگے بڑھ سکتے ہو۔ (ف 4)

ف 4۔ یعنی گو ہم وقت نہ بتلادیں گے مگر آوے گی ضرور۔
Ayahs 34:31–32

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ بِهٰذَا الْقُرْاٰنِ وَ لَا بِالَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْهِ١ؕ وَ لَوْ تَرٰۤى اِذِ الظّٰلِمُوْنَ مَوْقُوْفُوْنَ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ۖۚ یَرْجِعُ بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضِ اِ۟لْقَوْلَ١ۚ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا لِلَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْا لَوْ لَاۤ اَنْتُمْ لَكُنَّا مُؤْمِنِیْنَ Open ayah 34:31 in the Quran reader

اور یہ کفار (دنیا میں تو خوب خوب باتیں بناتے ہیں) اور کہتے ہیں کہ ہم ہرگز نہ اس قرآن پر ایمان لاویں گے اور نہ اس سے پہلی کتابوں پر اور اگر آپ (ان کی) اس وقت کی حالت دیکھیں (تو ایک ہولناک منظر نظر آوے گا) جب یہ ظالم اپنے رب کے سامنے کھڑے کیے جاویں گے ایک دوسرے پر بات ڈالتا ہوگا (چنانچہ) ادنیٰ درجے کے لوگ (ف 5) بڑے لوگوں سے (ف 6) کہیں گے کہ (ہم تمہارے سبب سے برباد ہوئے) اگر تم نہ ہوتے تو ہم ضرور ایمان لے آئے ہوتے۔ (ف 7)

قَالَ الَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْا لِلَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْۤا اَنَحْنُ صَدَدْنٰكُمْ عَنِ الْهُدٰى بَعْدَ اِذْ جَآءَكُمْ بَلْ كُنْتُمْ مُّجْرِمِیْنَ Open ayah 34:32 in the Quran reader

(اس پر) یہ بڑے لوگ ان ادنیٰ درجے کے لوگوں سے کہیں گے کہ کیا ہم نے تم کو ہدایت (پر عمل کرنے) سے (زبردستی) روکا تھا بعد اس کے کہ وہ (ہدایت) تم کو پہنچ چکی تھی نہیں بلکہ تم ہی قصور وار ہو۔

ف 5۔ یعنی توابع۔ 6۔ یعنی متبوعین سے۔ 7۔ یعنی ہم تو تمہارے سبب سے برباد ہوئے۔
Ayahs 34:33–35

وَ قَالَ الَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا لِلَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْا بَلْ مَكْرُ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ اِذْ تَاْمُرُوْنَنَاۤ اَنْ نَّكْفُرَ بِاللّٰهِ وَ نَجْعَلَ لَهٗۤ اَنْدَادًا١ؕ وَ اَسَرُّوا النَّدَامَةَ لَمَّا رَاَوُا الْعَذَابَ١ؕ وَ جَعَلْنَا الْاَغْلٰلَ فِیْۤ اَعْنَاقِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ هَلْ یُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 34:33 in the Quran reader

اور (اس کے جواب میں) یہ کم درجے کے لوگ ان بڑے لوگوں سے کہیں گے کہ (ہم زبردستی کو مانع) نہیں (کہتے) بلکہ تمہاری رات دن کی تدبیروں نے روکا تھا جب تم ہم کو فرمائش کرتے تھے کہ ہم اللہ کے ساتھ کفر کریں (ف 8) اور اس کے لیے شریک قرار دیں اور وہ لوگ (اپنی) اس پشیمانی کو ایک دوسرے سے مخفی رکھیں گے جب کہ عذاب دیکھیں گے اور ہم کافروں کی گردنوں میں طوق ڈالیں گے جیسا کرتے تھے ویسا ہی تو بھرا۔ (ف 1)

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا فِیْ قَرْیَةٍ مِّنْ نَّذِیْرٍ اِلَّا قَالَ مُتْرَفُوْهَاۤ١ۙ اِنَّا بِمَاۤ اُرْسِلْتُمْ بِهٖ كٰفِرُوْنَ Open ayah 34:34 in the Quran reader

اور ہم نے کسی بستی میں کوئی ڈرانے والا پیغمبر نہیں بھیجا مگر وہاں کے خوشحال لوگوں نے یہی کہا کہ ہم تو ان کے احکام کے منکر ہیں جو تم کو دے کر بھیجا گیا ہے۔

وَ قَالُوْا نَحْنُ اَكْثَرُ اَمْوَالًا وَّ اَوْلَادًا١ۙ وَّ مَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِیْنَ Open ayah 34:35 in the Quran reader

اور انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہم مال اور اولاد میں تم سے زیادہ ہیں اور ہم کو کبھی عذاب نہ ہوگا۔

ف 8۔ تدبیروں سے مراد ترغیب و ترہیب ہے۔ 1۔ اگر شبہ ہو کہ بعض کفار نے تو اپنے اتباع پر زبردستی بھی کی ہے، پھر اس کے کیا معنی انحن صددنکم تو جواب یہ ہے کہ اصل ایمان اعتقاد ہے اور اس کا محل قلب ہے، وہاں اکراہ ممکن نہیں۔
Ayahs 34:36–37

قُلْ اِنَّ رَبِّیْ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 34:36 in the Quran reader

کہہ دیجیے کہ میرا پروردگار جس کو چاہتا ہے زیادہ روزی دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے کم دیتا ہے و لیکن اکثر لوگ (اس سے) واقف نہیں۔ (ف 2)

وَ مَاۤ اَمْوَالُكُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُكُمْ بِالَّتِیْ تُقَرِّبُكُمْ عِنْدَنَا زُلْفٰۤى اِلَّا مَنْ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا١٘ فَاُولٰٓئِكَ لَهُمْ جَزَآءُ الضِّعْفِ بِمَا عَمِلُوْا وَ هُمْ فِی الْغُرُفٰتِ اٰمِنُوْنَ Open ayah 34:37 in the Quran reader

اور تمہارے اموال اور اولاد ایسی چیز نہیں جو درجے میں تم کو ہمارا مقرب بنا دے (یعنی مؤثر و علت قرب کی بھی نہیں) مگر ہاں جو ایمان لاوے اور اچھے کام کرے (یہ دونوں چیزیں البتہ سبب قرب ہیں) سو ایسے لوگوں کے لیے ان کے (نیک) عمل کا دونا صلہ ہے اور وہ (بہشت کے) بالا خانوں میں چین سے بیٹھے ہوں گے۔

ف 2۔ یعنی اس حقیقت سے واقف نہیں کہ وسعت رزق کا مدار قبول عنداللہ نہیں ہے بلکہ مدار اس کا دوسری مصلحتوں پر ہے۔
Ayah 34:38

وَ الَّذِیْنَ یَسْعَوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِنَا مُعٰجِزِیْنَ اُولٰٓئِكَ فِی الْعَذَابِ مُحْضَرُوْنَ Open ayah 34:38 in the Quran reader

اور جو لوگ ہماری آیتوں کے متعلق (انکے ابطال کی) کوشش کر رہے ہیں (نبی (علیہ السلام) کو) ہرانے کے لیے ایسے لوگ عذاب میں لائے جاویں گے۔ (ف 3)

ف 3۔ اوپر بسط و قدر رزق کے تعلق بالمشیة پر کفار کے بطلان زعم کو متفرع فرمایا تھا، آگے اسی پر مومنین کی ایک اصلاح کو متفرع فرماتے ہیں، جس کا حاصل یہ ہے کہ جب مال کی کمی بیشی محض مشیت پر ہے، تو مومن کو چاہئے کہ اس کے ساتھ قلب کو زیادہ متعلق نہ کرے اور کفار کی طرح اس کو مقصود نہ سمجھے، بلکہ اس کو آلہ حصول رضا و قرب الہی کا جو اصل مقصود ہے بنادے۔