33. Surah Al-Ahzaab

الأحزابThe Clans · 73 ayahsبیان القرآن

Ayah 33:1

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اتَّقِ اللّٰهَ وَ لَا تُطِعِ الْكٰفِرِیْنَ وَ الْمُنٰفِقِیْنَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیْمًا حَكِیْمًاۙ Open ayah 33:1 in the Quran reader

(ف 10) اے نبی اللہ سے ڈرتے رہیے اور کافروں کا اور منافقوں کا کہنا نہ مانیے بیشک اللہ تعالیٰ بڑا علم والا بڑی حکمت والا ہے۔

ف 10۔ مضامین سورت میں مابہ الاشتراک دلالت ہے جناب رسالت مآب ﷺ کی منصوریت و محبوبیت و خصوصیت و اکرمیت عنداللہ لوجوہ مختلفہ اور آپ کے وجوب تعظیم بطرق مکتثرہ و حرمت ایذاء بانواع متشتتہ علی الناس پر باقی مضامین یا اس کے مقدمات ہیں یا متممات۔
Ayah 33:2

وَّ اتَّبِعْ مَا یُوْحٰۤى اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًاۙ Open ayah 33:2 in the Quran reader

اور آپ کے پروردگار کی طرف سے جو حکم آپ پر وحی کیا جاتا ہے ا سپر چلیے تم لوگوں کے سب اعمال کی اللہ تعالیٰ پوری خبر رکھتا ہے۔ (ف 1)

ف 1۔ اتق اور لا تطع اور اتبع اور توکل ان سب امرو نہی پر آپ پہلے ہی سے عامل ہیں، یہاں زیادہ مقصود مخالفین کو سنان ہے کہ ہمارے نبی تو اس حالت پر رہیں گے تم خائب و خاسر ہو کر بیٹھ رہو۔
Ayah 33:3

وَّ تَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ وَكِیْلًا Open ayah 33:3 in the Quran reader

اور آپ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھیے اور اللہ کافی کارساز ہے۔ (ف 2)

ف 2۔ اس کے مقابلہ میں ان لوگوں کی کوئی تدبیر نہیں چل سکتی، اس لئے کچھ اندیشہ نہ کیجئے۔
Ayahs 33:4–5

مَا جَعَلَ اللّٰهُ لِرَجُلٍ مِّنْ قَلْبَیْنِ فِیْ جَوْفِهٖ١ۚ وَ مَا جَعَلَ اَزْوَاجَكُمُ الّٰٓئِیْ تُظٰهِرُوْنَ مِنْهُنَّ اُمَّهٰتِكُمْ١ۚ وَ مَا جَعَلَ اَدْعِیَآءَكُمْ اَبْنَآءَكُمْ١ؕ ذٰلِكُمْ قَوْلُكُمْ بِاَفْوَاهِكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یَقُوْلُ الْحَقَّ وَ هُوَ یَهْدِی السَّبِیْلَ Open ayah 33:4 in the Quran reader

اللہ نے کسی شخص کے سینے میں دو دل نہیں بنائے اور تمہاری ان بیبیوں کو جن سے تم ظہار کرلیتے ہو تمہاری ماں نہیں بنادیا اور تمہارے منہ بولے بیٹوں کو تمہارا (سچ مچ کا) بیٹا نہیں بنادیا یہ صرف تمہارے منہ سے کہنے کی بات ہے اور اللہ حق بات فرماتا ہے اور وہی سیدھا راستہ بتلاتا ہے۔ (ف 3)

اُدْعُوْهُمْ لِاٰبَآئِهِمْ هُوَ اَقْسَطُ عِنْدَ اللّٰهِ١ۚ فَاِنْ لَّمْ تَعْلَمُوْۤا اٰبَآءَهُمْ فَاِخْوَانُكُمْ فِی الدِّیْنِ وَ مَوَالِیْكُمْ١ؕ وَ لَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ فِیْمَاۤ اَخْطَاْتُمْ بِهٖ١ۙ وَ لٰكِنْ مَّا تَعَمَّدَتْ قُلُوْبُكُمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 33:5 in the Quran reader

تم ان کو ان کے باپوں کی طرف منسوب کیا کرو یہ اللہ کے نزدیک راستی کی بات ہے اور اگر تم ان کے باپوں کو نہ جانتے ہو تو وہ تمہارے دین کے بھائی ہیں اور تمہارے دوست ہیں اور تم کو اس میں جو بھول چوک ہوجاوے تو اس سے تم پر کچھ گناہ نہ ہوگا لیکن ہاں دل سے ارادہ کر کے کرو اور اللہ تعالیٰ غفور رحیم ہے۔

ف 3۔ جاہلیت میں یہ تینوں غلط باتیں مشہور تھیں کہ ذہین و عقیل آدمی کے دو دل سمجھا کرتے، اور ظاہر موبدہ کا حکم کرتے اور متنبی کو تمام احکام میں مثل حقیق بیٹے کے قرار دیتے، یہاں سیاق کلام سے زیادہ مقصود تیسری غلطی کا رفع کرنا ہے، مگر تقویت کے لئے دو غلطیاں اور بھی رفع کردیں۔
Ayahs 33:6–7

اَلنَّبِیُّ اَوْلٰى بِالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ اَنْفُسِهِمْ وَ اَزْوَاجُهٗۤ اُمَّهٰتُهُمْ١ؕ وَ اُولُوا الْاَرْحَامِ بَعْضُهُمْ اَوْلٰى بِبَعْضٍ فِیْ كِتٰبِ اللّٰهِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُهٰجِرِیْنَ اِلَّاۤ اَنْ تَفْعَلُوْۤا اِلٰۤى اَوْلِیٰٓئِكُمْ مَّعْرُوْفًا١ؕ كَانَ ذٰلِكَ فِی الْكِتٰبِ مَسْطُوْرًا Open ayah 33:6 in the Quran reader

نبی مومنوں کے ساتھ خود انکے نفس سے بھی زیادہ تعلق رکھتے ہیں (ف 4) اور آپ کی بیبیاں ان کی مائیں ہیں (ف 5) اور رشتہ دار کتاب اللہ میں ایک دوسرے سے زیادہ تعلق رکھتے ہیں بہ نسبت دوسرے مومنین اور مہاجرین کے مگر یہ کہ تم اپنے دوستوں سے کچھ سلوک کرنا چاہو تو وہ جائز یہ بات لوح محفوظ میں لکھی جا چکی تھی۔ (ف 6)

وَ اِذْ اَخَذْنَا مِنَ النَّبِیّٖنَ مِیْثَاقَهُمْ وَ مِنْكَ وَ مِنْ نُّوْحٍ وَّ اِبْرٰهِیْمَ وَ مُوْسٰى وَ عِیْسَى ابْنِ مَرْیَمَ١۪ وَ اَخَذْنَا مِنْهُمْ مِّیْثَاقًا غَلِیْظًاۙ Open ayah 33:7 in the Quran reader

اور جبکہ ہم نے تمام پیغمبروں سے ان کا اقرار لیا اور آپ سے بھی اور نوح (علیہ السلام) اور ابراہیم (علیہ السلام) اور موسیٰ (علیہ السلام) اور عیسیٰ (علیہ السلام) ابن مریم (علیہ السلام) سے بھی اور ہم نے ان سے خوب پختہ عہد لیا۔

ف 4۔ یعنی مسلمان پر اپنی جان سے بھی زیادہ آپ کا حق ہے اور آپ کی اطاعت مطلقا اور تعظیم بدرجہ کمال واجب ہے، اور اس میں احکام و معاملات آگئے۔ 5۔ ازواج کا امہات ہونا باعتبار تعظیم کے ہے، اور تعظیم کی ایک نوع تحریم بھی ہے، اس لئے تحریم بھی واقع ہوئی۔ 6۔ یعنی اخیر حکم شریعت کا توارث بالارحام ہوجاوے گا۔
Ayah 33:8

لِّیَسْئَلَ الصّٰدِقِیْنَ عَنْ صِدْقِهِمْ١ۚ وَ اَعَدَّ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابًا اَلِیْمًا۠ Open ayah 33:8 in the Quran reader

تاکہ ان سچوں سے ان کے سچ کی تحقیقات کرے اور کافروں کے لیے اللہ تعالیٰ نے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔ (ف 7)

ف 7۔ اس عہد اور اس غایت سے دونوں امر کا وجوب ثابت ہوگیا، صاحب وحی پر اتباع وحی کا وجوب اور غیر صاحب وحی پر اتباع صاحب وحی کا وجوب۔
Ayahs 33:9–12

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ اِذْ جَآءَتْكُمْ جُنُوْدٌ فَاَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ رِیْحًا وَّ جُنُوْدًا لَّمْ تَرَوْهَا١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرًاۚ Open ayah 33:9 in the Quran reader

اے ایمان والو اللہ کا انعام اپنے اوپر یاد کرو جب تم پر بہت سے لشکر چڑھ آئے پھر ہم نے ان پر ایک آندھی بھیجی اور ایسی فوج بھیجی جو تم کو دکھائی نہ دیتی تھی اور اللہ تمہارے اعمال دیکھتے تھے۔ (ف 1)

اِذْ جَآءُوْكُمْ مِّنْ فَوْقِكُمْ وَ مِنْ اَسْفَلَ مِنْكُمْ وَ اِذْ زَاغَتِ الْاَبْصَارُ وَ بَلَغَتِ الْقُلُوْبُ الْحَنَاجِرَ وَ تَظُنُّوْنَ بِاللّٰهِ الظُّنُوْنَا Open ayah 33:10 in the Quran reader

جب کہ وہ لوگ تم پر آ چڑھے تھے اوپر کی طرف سے بھی اور نیچے کی طرف سے بھی اور جب کہ آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں تھیں اور کلیجے منہ کو آنے لگے تھے اور تم لوگ اللہ کے ساتھ طرح طرح کے گمان کر رہے تھے۔

هُنَالِكَ ابْتُلِیَ الْمُؤْمِنُوْنَ وَ زُلْزِلُوْا زِلْزَالًا شَدِیْدًا Open ayah 33:11 in the Quran reader

اس موقع پر مسلمانوں کا امتحان کیا گیا اور سخت زلزلہ میں ڈالے گئے۔

وَ اِذْ یَقُوْلُ الْمُنٰفِقُوْنَ وَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ مَّا وَعَدَنَا اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗۤ اِلَّا غُرُوْرًا Open ayah 33:12 in the Quran reader

اور جب کہ منافقین اور وہ لوگ جن کے دلوں میں مرض ہے یوں کہہ رہے تھے کہ ہم سے تو اللہ نے اور اس کے رسول (علیہ السلام) نے محض دھوکہ ہی کا وعدہ کر رکھا ہے۔

ف 1۔ خلاصہ اس واقعہ کا یہ ہے کہ نبی ﷺ نے یہود بنی نضیر کو مدینہ سے نکال دیا تھا، انہوں نے سنہ چار یا پانچ ہجری میں قبائل عرب کو بہکایا، اور سب دس بارہ ہزار آدمی مدینہ پر چڑھ آئے، آپ نے مدینہ کے گرد خندق کھدوالی، اور تین ہزار آدمیوں سے مقابل ہوئے قریب ایک ماہ کے یہ محاصرہ رہا، آخر اللہ تعالیٰ نے ظاہرا ایک آندھی اور باطنا ایک لشکر سے سب کفار کو منتشر اور منہزم کردیا، چونکہ یہودی بنی قریظہ نے اپنے معاہدہ کے برخلاف ان محاصرین کو مدد دی تھی اس لئے آپ بمجرد فراغ غزوہ احزاب کے ان کے مقابلہ کے لئے چلے، وہ اول قلعہ بند ہوگئے اور بیس پچیس روز تک محصور رہے، پھر آخر تنگ ہو کر نکلے اور بعضے قید کئے گئے اور اس واقعہ میں منافقوں سے بھی بہت بےمروتی کی باتیں صادر ہوئیں، اور چونکہ اس میں بہت سے گروہ چڑھ آئے تھے اور خندق بھی کھدی تھی اس لئے اس کا نام غزوہ احزاب بھی ہے اور غزوہ خندق بھی ہے۔
Ayahs 33:13–14

وَ اِذْ قَالَتْ طَّآئِفَةٌ مِّنْهُمْ یٰۤاَهْلَ یَثْرِبَ لَا مُقَامَ لَكُمْ فَارْجِعُوْا١ۚ وَ یَسْتَاْذِنُ فَرِیْقٌ مِّنْهُمُ النَّبِیَّ یَقُوْلُوْنَ اِنَّ بُیُوْتَنَا عَوْرَةٌ١ۛؕ وَ مَا هِیَ بِعَوْرَةٍ١ۛۚ اِنْ یُّرِیْدُوْنَ اِلَّا فِرَارًا Open ayah 33:13 in the Quran reader

اور جب کہ ان میں سے بعض لوگوں نے کہا کہ اے یثرب (ف 2) کے لوگو تمہارے لیے ٹھیرنے کا موقع نہیں سو لوٹ چلو ور بعض لوگ ان میں نبی (علیہ السلام) سے اجازت مانگتے تھے کہتے تھے کہ ہمارے گھر غیر محفوظ ہیں حالانکہ وہ غیر محفوظ نہیں ہیں یہ محض بھاگنا ہی چاہتے ہیں۔

وَ لَوْ دُخِلَتْ عَلَیْهِمْ مِّنْ اَقْطَارِهَا ثُمَّ سُئِلُوا الْفِتْنَةَ لَاٰتَوْهَا وَ مَا تَلَبَّثُوْا بِهَاۤ اِلَّا یَسِیْرًا Open ayah 33:14 in the Quran reader

اور اگر مدینہ میں اسکے اطراف سے ان پر کوئی آ گھسے پھر ان سے فساد کی درخواست کی جاوے تو یہ اس کو منظور کرلیں اور ان گھروں میں بہت ہی کم ٹھیریں۔

ف 2۔ یعنی مدینہ۔
Ayah 33:15

وَ لَقَدْ كَانُوْا عَاهَدُوا اللّٰهَ مِنْ قَبْلُ لَا یُوَلُّوْنَ الْاَدْبَارَ١ؕ وَ كَانَ عَهْدُ اللّٰهِ مَسْئُوْلًا Open ayah 33:15 in the Quran reader

حالانکہ یہی لوگ پہلے خدا سے عہد کرچکے تھے کہ پیٹھ نہ پھیریں گے (ف 3) اور اللہ سے جو عہد کیا جاتا ہے اس کی باز پرس ہوگی۔

ف 3۔ یہ عہد اس وقت کیا تھا جبکہ بدر میں بعض شرکت سے رہ گئے تھے، تو بعض منافقین بھی مفت کرم داشتن کے طور پر کہنے لگے کہ افسوس ہم نہ شریک ہوئے، ایسا کرتے ویسا کرتے، جب وقت آیا ساری قلعی کھل گئی۔
Ayah 33:16

قُلْ لَّنْ یَّنْفَعَكُمُ الْفِرَارُ اِنْ فَرَرْتُمْ مِّنَ الْمَوْتِ اَوِ الْقَتْلِ وَ اِذًا لَّا تُمَتَّعُوْنَ اِلَّا قَلِیْلًا Open ayah 33:16 in the Quran reader

آپ فرما دیجیئے کہ تم کو بھاگنا کچھ نافع نہیں ہوسکتا اگر تم موت سے یا قتل سے بھاگتے ہو اور اس حالت میں بجز تھوڑے دنوں کے اور زیادہ متمتع نہیں ہو سکتے۔ (ف 4)

ف 4۔ یعنی بھاگ کر عمر نہیں بڑھ سکتی، کیونکہ اس کا وقت مقدر ہے اور جب مقدر ہے تو اگر نہ بھاگتے تو بھی وقت سے پہلے مر نہیں سکتے، پس نہ قرار بالقاف سے کوئی ضرر نہ فرار بالفاء سے کوئی نفع پھر بھاگنا محض بےعقلی۔
Ayahs 33:17–18

قُلْ مَنْ ذَا الَّذِیْ یَعْصِمُكُمْ مِّنَ اللّٰهِ اِنْ اَرَادَ بِكُمْ سُوْٓءًا اَوْ اَرَادَ بِكُمْ رَحْمَةً١ؕ وَ لَا یَجِدُوْنَ لَهُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیْرًا Open ayah 33:17 in the Quran reader

یہ بھی فرما دیجیئے کہ وہ کون ہے جو تم کو خدا سے بچا سکے (ف 5) اگر وہ تمہارے ساتھ برائی کرنا چاہے یا وہ کون ہے جو خدا کے فضل کو تم سے روک سکے اگر وہ تم پر فضل کرنا چاہیے (ف 6) اور خدا کے سوا نہ کوئی حمایتی پائیں گے اور نہ کوئی مددگار۔

قَدْ یَعْلَمُ اللّٰهُ الْمُعَوِّقِیْنَ مِنْكُمْ وَ الْقَآئِلِیْنَ لِاِخْوَانِهِمْ هَلُمَّ اِلَیْنَا١ۚ وَ لَا یَاْتُوْنَ الْبَاْسَ اِلَّا قَلِیْلًاۙ Open ayah 33:18 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ تم میں سے ان لوگوں کو جانتا ہے جو مانع ہوتے ہیں اور جو اپنے (نسبی یا وطنی) بھائیوں سے یوں کہتے ہیں کہ ہمارے پاس آجاؤ اور لڑائی میں بہت ہی کم آتے ہیں۔

ف 5۔ مثلا وہ تم کو ہلاک کرنا چاہے تو کیا تم کو کوئی بچا سکتا ہے جیسا تم فرار کو نافع خیال کرتے ہو۔ 6۔ مثلا وہ زندہ رکھنا چاہے جو کہ رحمت دنیویہ ہے، تو کوئی اس کا مانع نہیں ہوسکتا، جیسا تمہارا خیال ہے کہ ثبات فی المعرکہ کو قاطع حیات سمجھتے ہو۔
Ayah 33:19

اَشِحَّةً عَلَیْكُمْ١ۖۚ فَاِذَا جَآءَ الْخَوْفُ رَاَیْتَهُمْ یَنْظُرُوْنَ اِلَیْكَ تَدُوْرُ اَعْیُنُهُمْ كَالَّذِیْ یُغْشٰى عَلَیْهِ مِنَ الْمَوْتِ١ۚ فَاِذَا ذَهَبَ الْخَوْفُ سَلَقُوْكُمْ بِاَلْسِنَةٍ حِدَادٍ اَشِحَّةً عَلَى الْخَیْرِ١ؕ اُولٰٓئِكَ لَمْ یُؤْمِنُوْا فَاَحْبَطَ اللّٰهُ اَعْمَالَهُمْ١ؕ وَ كَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرًا Open ayah 33:19 in the Quran reader

تمہارے حق میں بخیلی لیے ہوئے (ف 7) سو جب خوف پیش آتا ہے تو ان کو دیکھتے ہو کہ وہ آپ کی طرف اسطرح دیکھنے لگتے ہیں کہ ان کی آنکھیں چکرا جاتی ہیں جیسے کسی پر موت کی بےہوشی طاری ہو پھر جب وہ خوف دور ہوجاتا ہے تو تم کو تیز تیز زبانوں سے طعنے دیتے ہیں مال پر حرص لیے ہوئے (ف 1) یہ لوگ ایمان نہیں لاتے تو انکے اعمال اللہ نے بےکار کر رکھے ہیں اور یہ بات اللہ کے نزدیک بالکل آسان ہے۔

ف 7۔ یعنی آنے میں بری نیت یہ ہوتی ہے کہ سب غنیمت مسلمانوں کو نہ مل جاوے، برائے نام شریک ہونے سے استحقاق غنیمت کا دعوی تو کسی درجہ میں کرسکیں گے۔ 1۔ یعنی مال غنیمت کے لئے الخراش باتیں کرتے ہیں کہ کیوں ہم شریک نہ تھے ؟ ہماری ہی پشتی سے تم کو یہ فتح میسر نہیں ہوئی۔
Ayah 33:20

یَحْسَبُوْنَ الْاَحْزَابَ لَمْ یَذْهَبُوْا١ۚ وَ اِنْ یَّاْتِ الْاَحْزَابُ یَوَدُّوْا لَوْ اَنَّهُمْ بَادُوْنَ فِی الْاَعْرَابِ یَسْاَلُوْنَ عَنْ اَنْۢبَآئِكُمْ١ؕ وَ لَوْ كَانُوْا فِیْكُمْ مَّا قٰتَلُوْۤا اِلَّا قَلِیْلًا۠ Open ayah 33:20 in the Quran reader

ان لوگوں کا یہ خیال ہے کہ (ابھی تک) لشکر گئے نہیں اور اگر (بالفرض) یہ (گئے ہوئے) لشکر (جو لوٹ کر) آ جا ویں تو پھر تو یہ یہی پسند کریں کہ کاش ہم دیہاتوں میں باہر جا رہیں کہ تمہاری خبریں پوچھتے رہیں اور اگر تم ہی میں رہیں تب بھی کچھ یوں ہی سا لڑیں۔ (ف 2)

ف 2۔ آگے ثبات فی الحرب میں رسول اللہ ﷺ کے اقتدا و اتباع کا مقتضائے ایمان ہونا بیان فرماتے ہیں تاکہ منافقین کی تعییر ہو کہ باوجود دعوائے ایمان اس کے مقتضا کی تبشیر ہو کہ یہ لوگ البتہ مصداق کان یرجوا اللہ کے ہیں۔
Ayah 33:21

لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَنْ كَانَ یَرْجُوا اللّٰهَ وَ الْیَوْمَ الْاٰخِرَ وَ ذَكَرَ اللّٰهَ كَثِیْرًاؕ Open ayah 33:21 in the Quran reader

تم لوگوں کے لیے یعنی ایسے شخص کے لیے جو اللہ سے اور روز آخرت سے ڈرتا ہو اور کثرت سے ذکر الہیٰ کرتا ہو (ف 3) رسول (علیہ السلام) اللہ کا ایک عمدہ نمونہ موجود تھا۔ (ف 4)

ف 3۔ یرجوا میں مبدا ومعاد کا اعتقاد آگیا اور ذکر اللہ میں سب طاعتیں آگئیں۔ 4۔ آگے منافقین کے مقابلہ میں مومنین مخلصین کا ذکر ہے۔
Ayah 33:22

وَ لَمَّا رَاَ الْمُؤْمِنُوْنَ الْاَحْزَابَ١ۙ قَالُوْا هٰذَا مَا وَعَدَنَا اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ وَ صَدَقَ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ١٘ وَ مَا زَادَهُمْ اِلَّاۤ اِیْمَانًا وَّ تَسْلِیْمًاؕ Open ayah 33:22 in the Quran reader

اور جب ایمانداروں نے ان لشکروں کو دیکھا تو کہنے لگے کہ یہ وہی ہے جس کی ہم کو اللہ و رسول (علیہ السلام) نے خبر دی تھی اور اللهو رسول (علیہ السلام) نے سچ فرمایا تھا اور اس سے ان کے ایمان اور اطاعت میں اور ترقی ہوگئی۔ (ف 5)

ف 5۔ یہ وصف تو سب مومنین میں مشترک ہے اور بعض اوصاف مومنین میں خاص بھی ہیں جس کا بیان آگے ہے۔
Ayahs 33:23–24

مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاهَدُوا اللّٰهَ عَلَیْهِ١ۚ فَمِنْهُمْ مَّنْ قَضٰى نَحْبَهٗ وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّنْتَظِرُ١ۖ٘ وَ مَا بَدَّلُوْا تَبْدِیْلًاۙ Open ayah 33:23 in the Quran reader

ان مومنین میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں کہ انہوں نے جس بات کا اللہ سے عہد کیا تھا اس میں سچے اترے (ف 6) پھر بعضے تو ان میں وہ ہیں جو اپنی نذر پوری کرچکے اور بعضے ان میں مشتاق ہیں اور انہوں نے ذرا تغیر و تبدیل نہیں کیا۔

لِّیَجْزِیَ اللّٰهُ الصّٰدِقِیْنَ بِصِدْقِهِمْ وَ یُعَذِّبَ الْمُنٰفِقِیْنَ اِنْ شَآءَ اَوْ یَتُوْبَ عَلَیْهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًاۚ Open ayah 33:24 in the Quran reader

یہ واقعہ اس لیے ہوا تاکہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو ان کے سچ کا صلہ دے اور منافقوں کو چاہے سزا دے یا چاہے ان کو توبہ کی توفیق دے بیشک اللہ تعالیٰ غفور رحیم ہے۔

ف 6۔ یہ تقسیم اس بناء پر ہے کہ بعض نے عہد ہی نہیں کیا تھا اور بلا عہد ثابت قدم رہے۔ اور مراد ان معاہدین سے حضرت انس بن النضر اور ان کے رفقاء ہیں جو حضرات اتفاق سے غزوہ بدر میں شریک نہیں ہونے پائے تھے، تو ان کو افسوس ہوا اور عہد کیا کہ اگر اب کے کوئی جہاد ہو تو اس میں ہماری جان توڑ کوشش دیکھ لی جاوے گی، مطلب یہ تھا کہ منہ نہ موڑیں گے گو مارے جاویں۔
Ayahs 33:25–26

وَ رَدَّ اللّٰهُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِغَیْظِهِمْ لَمْ یَنَالُوْا خَیْرًا١ؕ وَ كَفَى اللّٰهُ الْمُؤْمِنِیْنَ الْقِتَالَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ قَوِیًّا عَزِیْزًاۚ Open ayah 33:25 in the Quran reader

اور اللہ تعالیٰ نے کافروں کو ان کے غصہ میں بھرا ہوا ہٹا دیا کہ انکی کچھ مراد بھی پوری نہ ہوئی اور جنگ میں اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے لیے آپ ہی کافی ہوگیا (ف 7) اور اللہ تعالیٰ بڑی قوت والا زبردست ہے۔

وَ اَنْزَلَ الَّذِیْنَ ظَاهَرُوْهُمْ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ مِنْ صَیَاصِیْهِمْ وَ قَذَفَ فِیْ قُلُوْبِهِمُ الرُّعْبَ فَرِیْقًا تَقْتُلُوْنَ وَ تَاْسِرُوْنَ فَرِیْقًاۚ Open ayah 33:26 in the Quran reader

اور جن اہل کتاب نے ان کی مدد کی تھی ان کو ان کے قلعوں سے نیچے اتار دیا اور ان کے دلوں میں تمہارا رعب بٹھا دیا بعض کو تم قتل کرنے لگے اور بعض کو قید کرلیا۔

ف 7۔ یعنی کفار کو قتال متعارف کی نوبت بھی نہ آئی کہ پہلے ہی دفع ہوگئے۔
Ayah 33:27

وَ اَوْرَثَكُمْ اَرْضَهُمْ وَ دِیَارَهُمْ وَ اَمْوَالَهُمْ وَ اَرْضًا لَّمْ تَطَئُوْهَا١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرًا۠ Open ayah 33:27 in the Quran reader

اور ان کی زمین اور ان کے گھروں اور ان کے مالوں کا تم کو مالک بنادیا اور (ایسی زمین کا بھی) جس پر تم نے قدم نہیں رکھا (ف 1) اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے۔ (ف 2)

ف 1۔ اس میں بشارت ہے فتوحات مستقبلہ کی عموما یا فتح خیبر کی خصوصا جو اس سے کچھ بعد ہوئی۔ 2۔ اس لئے یہ امور کچھ بعید نہیں نہیں۔
Ayahs 33:28–29

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِكَ اِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا وَ زِیْنَتَهَا فَتَعَالَیْنَ اُمَتِّعْكُنَّ وَ اُسَرِّحْكُنَّ سَرَاحًا جَمِیْلًا Open ayah 33:28 in the Quran reader

اے نبی (علیہ السلام) آپ اپنی بیبیوں سے فرما دیجیئے کہ اگر تم دنیوی زندگی (کا عیش) اور اس کی بہار چاہتی ہو تو آؤ میں تم کو کچھ مال و متاع (دنیوی) دے دوں اور تم کو خوبی کے ساتھ رخصت کروں۔ (ف 3)

وَ اِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ الدَّارَ الْاٰخِرَةَ فَاِنَّ اللّٰهَ اَعَدَّ لِلْمُحْسِنٰتِ مِنْكُنَّ اَجْرًا عَظِیْمًا Open ayah 33:29 in the Quran reader

اور اگر تم اللہ کو چاہتی ہو اور اس کے رسولوں کو اور عالم آخرت کو تو تم سے نیک کرداروں کے لیے اللہ تعالیٰ نے اجر عظیم مہیا کر رکھا ہے۔

ف 3۔ ازواج مطہرات ؓ کے کچھ زائد سامان دنیوین تقاضے کے ساتھ مانگنے سے جس کو وہ غلطی سے زائد نہ سمجھی تھیں آپ کے قلب مبارک کو ایذا پہنچی، حتی کہ آپ ناخوش ہو کر ایک مہینے کے لئے سب سے الگ ہوگئے، یہ آیتیں اس کے متعلق حضرات امہات المومنین کی فہمائش کے لئے ارشاد ہوئیں۔ اور غالبا اس مانگنے کی وجہ یہ ہوئی ہو کہ فتح خیبر وغیرہ سے کسی قدر مالی وسعت حاصل ہوگئی تھی تو اپنے خیال میں وہ اس کو موجب تکلیف نہیں سمجھیں۔ اور یہ قصہ بعد فتح خیبر کے واقع ہوا۔ چناچہ اس وقت حضرت صفیہ ؓ بھی آپ کے نکاح میں تھیں جو خیبر سے حاصل ہوئی تھیں۔
Ayahs 33:30–31

یٰنِسَآءَ النَّبِیِّ مَنْ یَّاْتِ مِنْكُنَّ بِفَاحِشَةٍ مُّبَیِّنَةٍ یُّضٰعَفْ لَهَا الْعَذَابُ ضِعْفَیْنِ١ؕ وَ كَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرًا Open ayah 33:30 in the Quran reader

اے نبی کی بی بیو جو کوئی تم میں کھلی ہوئی بیہودگی کرے گی (ف 4) اس کو دوہری سزا دی جائے گی اور یہ بات اللہ تعالیٰ کو آسان ہے۔

وَ مَنْ یَّقْنُتْ مِنْكُنَّ لِلّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ تَعْمَلْ صَالِحًا نُّؤْتِهَاۤ اَجْرَهَا مَرَّتَیْنِ١ۙ وَ اَعْتَدْنَا لَهَا رِزْقًا كَرِیْمًا Open ayah 33:31 in the Quran reader

اور جو کوئی تم میں اللہ کی اور اس کے رسول (علیہ السلام) کی فرمانبرداری کرے گی اور نیک کام کرے گی تو ہم اس کو اس کا ثواب دہرا دیں گے اور ہم نے اسکے لیے ایک عمدہ روزی تیار کر رکھی ہے۔

ف 4۔ مراد اس سے وہ معاملہ ہے جس سے رسول اللہ ﷺ تنگ اور پریشان ہوں۔
Ayahs 33:32–33

یٰنِسَآءَ النَّبِیِّ لَسْتُنَّ كَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَآءِ اِنِ اتَّقَیْتُنَّ فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَیَطْمَعَ الَّذِیْ فِیْ قَلْبِهٖ مَرَضٌ وَّ قُلْنَ قَوْلًا مَّعْرُوْفًاۚ Open ayah 33:32 in the Quran reader

اے نبی کی بی بیو تم معمولی عورتوں کی طرح نہیں ہو اگر تم تقویٰ اختیار کرو (ف 5) تو تم (نا محرم مرد سے) بولنے میں (جب کہ بضرورت بولنا پڑے) نزاکت مت کرو (اس سے) ایسے شخص کو (طبعاً ) خیال (فاسد پیدا) ہونے لگتا ہے جس کے قلب میں خرابی ہے اور قاعدہ (عفت) کے موافق بات کہو۔ (ف 6)

وَ قَرْنَ فِیْ بُیُوْتِكُنَّ وَ لَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِیَّةِ الْاُوْلٰى وَ اَقِمْنَ الصَّلٰوةَ وَ اٰتِیْنَ الزَّكٰوةَ وَ اَطِعْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ؕ اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَیْتِ وَ یُطَهِّرَكُمْ تَطْهِیْرًاۚ Open ayah 33:33 in the Quran reader

اور تم اپنے گھروں میں قرار سے رہو اور قدیم زمانہ جاہلیت کے دستور کے موافق مت پھرو اور تم نمازوں کی پابندی رکھو اور زکوٰة دیا کرو اور اللہ کا اور اس کے رسول (علیہ السلام) کا کہنا مانو اللہ تعالیٰ کو یہ منظور ہے کہ اے گھر والو تم سے آلودگی کو دور رکھے اور تم کو (ہر طرح ظاہراً و باطناً ) پاک و صاف رکھے۔

ف 5۔ یعنی نری نسبت بلا تقوی ہیچ ہے۔ 6۔ مطلب یہ ہے کہ جیسے عورتوں کے کلام کا فطری انداز ہوتا ہے کلام میں نرمی ہوتی ہے، سادی مزاجی سے اس انداز کو مت برتو، بلکہ ایسے موقع پر تکلف اور اہتمام سے اس فطری انداز کو بدل کر گفتگو کرو، یعنی ایسے انداز سے جس میں خشکی اور روکھا پن ہو کر یہ حافظ عفت ہے۔
Ayah 33:34

وَ اذْكُرْنَ مَا یُتْلٰى فِیْ بُیُوْتِكُنَّ مِنْ اٰیٰتِ اللّٰهِ وَ الْحِكْمَةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ لَطِیْفًا خَبِیْرًا۠ Open ayah 33:34 in the Quran reader

اور تم ان آیات الہٰیہ کو اور اس علم (احکام کو) یاد رکھو جس کا تمہارے گھروں میں چرچا رہتا ہے (ف 7) بیشک اللہ تعالیٰ رازدان ہے پورا خبردار ہے۔

ف 7۔ آیات الہیہ یعنی قرآن۔
Ayah 33:35

اِنَّ الْمُسْلِمِیْنَ وَ الْمُسْلِمٰتِ وَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ وَ الْقٰنِتِیْنَ وَ الْقٰنِتٰتِ وَ الصّٰدِقِیْنَ وَ الصّٰدِقٰتِ وَ الصّٰبِرِیْنَ وَ الصّٰبِرٰتِ وَ الْخٰشِعِیْنَ وَ الْخٰشِعٰتِ وَ الْمُتَصَدِّقِیْنَ وَ الْمُتَصَدِّقٰتِ وَ الصَّآئِمِیْنَ وَ الصّٰٓئِمٰتِ وَ الْحٰفِظِیْنَ فُرُوْجَهُمْ وَ الْحٰفِظٰتِ وَ الذّٰكِرِیْنَ اللّٰهَ كَثِیْرًا وَّ الذّٰكِرٰتِ١ۙ اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ مَّغْفِرَةً وَّ اَجْرًا عَظِیْمًا Open ayah 33:35 in the Quran reader

بیشک اسلام کے کام کرنے والے مرد اور اسلام کے کام کرنے والی عورتیں اور ایمان لانے والے مرد اور ایمان لانے والی عورتیں (ف 1) اور فرمانبرداری کرنے والے مرد اور فرمانبرداری کرنے والی عورتیں اور راستباز مرد اور راستباز عورتیں اور صبر کرنے والے مرد اور صبر کرنے والی عورتیں اور خشوع کرنے والے مرد اور خشوع کرنے والی عورتیں اور خیرات کرنے والے مرد اور خیرات کرنے والی عورتیں اور بکثرت خدا کو ياد کرنے والے مرد اور یاد کرنے والی عورتیں ان سب کے لیے اللہ تعالیٰ نے مغفرت اور اجر عظیم تیار کر رکھا ہے۔ (ف 2)

ف 1۔ اسلام سے مراد اعمال نماز، روزہ، زکوٰة، حج وغیرہ ہوئے، اور ایمان سے مراد عقائد ہوئے۔ 2۔ سبب نزول اگلی آیت کا یہ ہے کہ حضور ﷺ نے حضرت زید ؓ کا نکاح اپنی پھوپھی زاد بہن حضرت زینب ؓ سے کرنا چاہا، چونکہ حضرت زید ؓ غلام مشہور ہوچکے تھے اس لئے حضرت زینب ؓ اور ان کے بھائی حضرت عبداللہ بن جحش ؓ نے اس نکاح کی منظوری سے عذر کیا، اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
Ayah 33:36

وَ مَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّ لَا مُؤْمِنَةٍ اِذَا قَضَى اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗۤ اَمْرًا اَنْ یَّكُوْنَ لَهُمُ الْخِیَرَةُ مِنْ اَمْرِهِمْ١ؕ وَ مَنْ یَّعْصِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًا مُّبِیْنًاؕ Open ayah 33:36 in the Quran reader

اور کسی ایمان دار مرد اور کسی ایماندار عورت کو گنجائش نہیں ہے جب کہ اللہ اور اس کا رسول (علیہ السلام) کسی کام کا حکم دے دیں کہ (پھر) ان کو ان (مومنین) کے اس کام میں کوئی اختیار (باقی) ہے اور جو شخص اللہ کا اور اس کے رسول (علیہ السلام) کا کہنا نہ مانے گا وہ صریح گمراہی میں پڑا۔ (ف 3)

ف 3۔ اگلی آیت کا سبب نزول یہ ہے کہ جب گزشتہ آیت کے نزول پر نکاح منظور کرلیا گیا تو اتفاق سے باہم مزاجوں میں توافق نہ ہوا۔ حضرت زید ؓ نے طلاق دینا چہا، اور حضور ﷺ سے مشورہ کیا، آپ نے فہمائش کی کہ طلاق مت دو ، مگر جب کسی طرح موافقت نہ ہوئی آخر پھر طلاق کا عزم ظاہر کیا۔ اس وقت آپ کو وحی سے معلوم ہوا کہ زید ضرور طلاق دیں گے اور زینب کا آپ سے نکاح ہوگا، اور اس وقت مصلحت بھی یہی تھی کیونکہ اول تو یہ نکاح خلاف مرضی ہونے سے موجب رنج طبعی ہوا تھا پھر اس پر طلاق دینا اور زیادہ موجب کلفت و دل شکنی تھا، اس دل شکنی کا تدارک جس سے حضرت زینب کی اشک شوئی ہوسکتی تھی اس سے بہتر اور کوئی نہ تھا کہ حضور ان سے نکاح کر کے ان کی دلجوئی اور قدر افزائی فرمائیں۔ مگر ساتھ ہی خیال تھا طعن عوام کا، مگر حکم الہی سے نکاح ہوا، جس میں علاوہ مصلحت مذکورہ خاصہ کے مصلحت شرعیہ عامہ یہ تھی کہ متنبی کی زوجہ سے نکاح کی حلت فعل رسول اللہ ﷺ سے بھی ثابت ہوجاوے۔