33. Surah Al-Ahzaab

الأحزابThe Clans · 73 ayahsبیان القرآن

Ayahs 33:37–42

وَ اِذْ تَقُوْلُ لِلَّذِیْۤ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیْهِ وَ اَنْعَمْتَ عَلَیْهِ اَمْسِكْ عَلَیْكَ زَوْجَكَ وَ اتَّقِ اللّٰهَ وَ تُخْفِیْ فِیْ نَفْسِكَ مَا اللّٰهُ مُبْدِیْهِ وَ تَخْشَى النَّاسَ١ۚ وَ اللّٰهُ اَحَقُّ اَنْ تَخْشٰىهُ١ؕ فَلَمَّا قَضٰى زَیْدٌ مِّنْهَا وَطَرًا زَوَّجْنٰكَهَا لِكَیْ لَا یَكُوْنَ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ حَرَجٌ فِیْۤ اَزْوَاجِ اَدْعِیَآئِهِمْ اِذَا قَضَوْا مِنْهُنَّ وَطَرًا١ؕ وَ كَانَ اَمْرُ اللّٰهِ مَفْعُوْلًا Open ayah 33:37 in the Quran reader

اور جب اس شخص سے فرما رہے تھے جس پر اللہ نے بھی انعام کیا اور آپ نے بھی انعام کیا (ف 4) کہ اپنی بی بی (زینب ؓ کو اپنی زوجیت میں رہنے دے اور خدا سے ڈر اور آپ اپنے دل میں وہ (بات بھی) چھپائے ہوئے تھے جس کو اللہ تعالیٰ (آخر میں) ظاہر کرنے والا تھا اور آپ لوگوں (کے طعن) سے اندیشہ کرتے تھے اور ڈرنا تو آپ کو خدا ہی سے سزا وار ہے (ف 5) پھر جب زید (علیہ السلام) کا اس سے جی بھر گیا (ف 6) ہم نے آپ سے اس کا نکاح کردیا تاکہ مسلمانوں پر اپنے منہ بولے بیٹوں کی بی بیوں کے (نکاح کے) بارے میں کچھ تنگی نہ رہے جب وہ (منہ بولے بیٹے) ان سے اپنا جی بھر چکیں (ف 7) اور خدا کا یہ حکم تو ہونے والا تھا ہی۔

مَا كَانَ عَلَى النَّبِیِّ مِنْ حَرَجٍ فِیْمَا فَرَضَ اللّٰهُ لَهٗ١ؕ سُنَّةَ اللّٰهِ فِی الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلُ١ؕ وَ كَانَ اَمْرُ اللّٰهِ قَدَرًا مَّقْدُوْرَا٘ۙ Open ayah 33:38 in the Quran reader

اور ان پیغمبر (علیہ السلام) کے لیے جو بات (تکونیاً یا تشریعاً ) خدا تعالیٰ نے مقرر کردی تھی اس میں ان پر کوئی الزام نہیں اللہ تعالیٰ نے ان پیغمبروں کے حق میں (بھی) یہی معمول کر رکھا ہے جو پہلے گزرے ہیں اور اللہ کا حکم تجویز کیا ہوا (پہلے سے) ہوتا ہے۔

اِ۟لَّذِیْنَ یُبَلِّغُوْنَ رِسٰلٰتِ اللّٰهِ وَ یَخْشَوْنَهٗ وَ لَا یَخْشَوْنَ اَحَدًا اِلَّا اللّٰهَ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ حَسِیْبًا Open ayah 33:39 in the Quran reader

یہ سب (پیغمبران گذشتہ) ایسے تھے کہ اللہ کے احکام پہنچایا کرتے تھے اور (اس باب میں) اللہ ہی سے ڈرتے تھے اور اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈرتے تھے اور اللہ حساب لینے کے لیے کافی ہے۔

مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَ لٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا۠ Open ayah 33:40 in the Quran reader

محمد (علیہ السلام) تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں لیکن اللہ کے رسول ہیں اور سب نبیوں کے ختم پر ہیں اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کو خوب جانتا ہے۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اذْكُرُوا اللّٰهَ ذِكْرًا كَثِیْرًاۙ Open ayah 33:41 in the Quran reader

اور (اے) ایمان والو تم اللہ کو خوب کثرت سے یاد کرو۔

وَّ سَبِّحُوْهُ بُكْرَةً وَّ اَصِیْلًا Open ayah 33:42 in the Quran reader

اور صبح و شام (یعنی علی الدوام) اسکی تسبیح (و تقدیس) کرتے رہو۔

ف 4۔ مراد اس سے حضرت زید ؓ ہیں۔ 5۔ مراد اس سے نکاح ہے، حضرت زینب ؓ سے در صورت تطلیق زید ؓ کے۔ (فائدہ) بعد اطلاع مصلحت دینیہ کے پھر اندیشہ آپ نے نہیں کیا۔ 6۔ یعنی طلاق دے دی اور عدت بھی گزر گئی۔ 7۔ یعنی طلاق دے دیں مطلب یہ کہ اس تشریع کا اظہار ہم کو مقصود تھا۔
Ayahs 33:43–45

هُوَ الَّذِیْ یُصَلِّیْ عَلَیْكُمْ وَ مَلٰٓئِكَتُهٗ لِیُخْرِجَكُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ؕ وَ كَانَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَحِیْمًا Open ayah 33:43 in the Quran reader

وہ ایسا (رحیم) ہے کہ وہ (خود بھی) اور اس کے فرشتے (بھی) تم پر رحمت بھیجتے رہتے ہیں (ف 1) تاکہ حق تعالیٰ تم کو تاریکیوں سے نور کی طرف لے آوے اور اللہ تعالیٰ مومنین پر بہت مہربان ہے۔

تَحِیَّتُهُمْ یَوْمَ یَلْقَوْنَهٗ سَلٰمٌ١ۚۖ وَ اَعَدَّ لَهُمْ اَجْرًا كَرِیْمًا Open ayah 33:44 in the Quran reader

وہ جس روز اللہ سے ملیں گے تو انکو جو سلام ہوگا وہ یہ ہوگا کہ السلام علیکم اور اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے عمدہ صلہ (جنت میں) تیار کر رکھا ہے۔

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًاۙ Open ayah 33:45 in the Quran reader

اے نبی (علیہ السلام) ہم نے بیشک آپ کو اس شان کا رسول بنا کر بھیجا ہے کہ آپ گواہ ہوں گے اور آپ (مومنین کے) بشارت دینے والے ہیں اور (کفار کے) ڈرانے والے ہیں۔

ف 1۔ اس کا رحمت بھیجنا تو رحمت کرنا ہے، اور فرشتوں کا رحمت بھیجنا رحمت کی دعا کرنا ہے۔
Ayahs 33:46–47

وَّ دَاعِیًا اِلَى اللّٰهِ بِاِذْنِهٖ وَ سِرَاجًا مُّنِیْرًا Open ayah 33:46 in the Quran reader

اور (سب کو) اللہ کی طرف اس کے حکم سے بلانے والے ہیں اور آپ ایک روشن چراغ ہیں۔ (ف 2)

وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ بِاَنَّ لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ فَضْلًا كَبِیْرًا Open ayah 33:47 in the Quran reader

اور مومنین کو بشارت دیجیئے کہ ان پر اللہ کی طرف سے بڑا فضل ہونے والا ہے۔

ف 2۔ اس لئے کہ آپ کی ہر حالت طالبان انوار کے لئے سرمایہ ہدایت ہے۔ پس قیامت میں ان مومنین پر جو کچھ رحمت ہوگی وہ آپ ہی کی ان صفات بشیر و نذیر و داعی و سراج منیر کے واسطہ سے ہے۔
Ayah 33:48

وَ لَا تُطِعِ الْكٰفِرِیْنَ وَ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ دَعْ اَذٰىهُمْ وَ تَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ وَكِیْلًا Open ayah 33:48 in the Quran reader

اور کافروں اور منافقوں کا کہنا نہ کیجیئے (ف 3) اور ان کی طرف سے جو ایذا پہنچے اس کا خیال نہ کیجیئے اور اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کیجیئے اور اللہ تعالیٰ کافی کارساز ہے۔

ف 3۔ یعنی ان کا طعن و اعتراض موجب ترک تبلیغ الہیم نہ ہوجاوے۔
Ayah 33:49

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا نَكَحْتُمُ الْمُؤْمِنٰتِ ثُمَّ طَلَّقْتُمُوْهُنَّ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَمَسُّوْهُنَّ فَمَا لَكُمْ عَلَیْهِنَّ مِنْ عِدَّةٍ تَعْتَدُّوْنَهَا١ۚ فَمَتِّعُوْهُنَّ وَ سَرِّحُوْهُنَّ سَرَاحًا جَمِیْلًا Open ayah 33:49 in the Quran reader

اے ایمان والو تم جب مسلمان عورتوں سے نکاح کرو (اور) پھر تم ان کو قبل ہاتھ لگانے کے (کسی اتفاق سے) طلاق دے دو (ف 4) تو تمہاری ان پر کوئی عدت (واجب) نہیں جس کو تم شمار کرنے لگو تو ان کو کچھ (مال) متاع دے دو (ف 5) اور خوبی کے ساتھ ان کو رخصت کردو۔ (ف 6)

ف 4۔ ہاتھ لگانا کنایہ صحبت سے ہے، حقیقة یا حکما مثل خلوت صحیحہ ہے۔ 5۔ متاع میں یہ تفصیل ہے کہ اگر اس کا مہر مقرر نہیں ہوا تو یہ متاع ایک جوڑا ہے۔ اور اگر مہر مقرر ہوا ہے تو یہ متاع نصف مہر ہے۔ 6۔ سراح جمیل یہ کہ امساک بلاحق نہ کرے، اس کا متاع واجب نہ رکھے اور دیا ہوا واپس نہ لے، کوئی سخت بات نہ کہے۔
Ayah 33:50

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اِنَّاۤ اَحْلَلْنَا لَكَ اَزْوَاجَكَ الّٰتِیْۤ اٰتَیْتَ اُجُوْرَهُنَّ وَ مَا مَلَكَتْ یَمِیْنُكَ مِمَّاۤ اَفَآءَ اللّٰهُ عَلَیْكَ وَ بَنٰتِ عَمِّكَ وَ بَنٰتِ عَمّٰتِكَ وَ بَنٰتِ خَالِكَ وَ بَنٰتِ خٰلٰتِكَ الّٰتِیْ هَاجَرْنَ مَعَكَ١٘ وَ امْرَاَةً مُّؤْمِنَةً اِنْ وَّهَبَتْ نَفْسَهَا لِلنَّبِیِّ اِنْ اَرَادَ النَّبِیُّ اَنْ یَّسْتَنْكِحَهَا١ۗ خَالِصَةً لَّكَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ١ؕ قَدْ عَلِمْنَا مَا فَرَضْنَا عَلَیْهِمْ فِیْۤ اَزْوَاجِهِمْ وَ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُمْ لِكَیْلَا یَكُوْنَ عَلَیْكَ حَرَجٌ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 33:50 in the Quran reader

اے نبی (علیہ السلام) ہم نے آپ کے لیے آپ کی یہ بیبیاں جن کو آپ ان کے مہر دے چکے ہیں حلال کی ہیں اور وہ عورتیں بھی جو تمہاری مملوکہ ہیں اور جو اللہ تعالیٰ نے غنیمت میں آپ کو دلوا دی ہیں اور آپ کے چچا کی بیٹیاں اور آپ کی پھوپیوں کی بیٹیاں اور آپکے مامؤں کی بیٹیاں اور آپ کے خالاؤں کی بیٹیاں بھی جنہوں نے آپ کے ساتھ ہجرت کی ہو اور اس مسلمان عورت کو بھی جو بلا عوض اپنے کو پیغمبر کو دے دے (ف 7) بشرطیکہ پیغمبر اسکو نکاح میں لانا چاہیں یہ سب آپ کے لیے مخصوص کیے گئے ہیں نہ اور مومنین کے لیے ہم کو وہ احکام معلوم ہیں جو ہم نے ان پر ان کی بیبیوں اور لونڈیوں کے بارے میں مقرر کیے ہیں تاکہ آپ پر کسی قسم کی تنگی (واقع) نہ ہو اور اللہ تعالیٰ غفور رحیم ہے۔

ف 7۔ یعنی نکاح میں آنا چاہئے۔
Ayah 33:51

تُرْجِیْ مَنْ تَشَآءُ مِنْهُنَّ وَ تُئْوِیْۤ اِلَیْكَ مَنْ تَشَآءُ١ؕ وَ مَنِ ابْتَغَیْتَ مِمَّنْ عَزَلْتَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْكَ١ؕ ذٰلِكَ اَدْنٰۤى اَنْ تَقَرَّ اَعْیُنُهُنَّ وَ لَا یَحْزَنَّ وَ یَرْضَیْنَ بِمَاۤ اٰتَیْتَهُنَّ كُلُّهُنَّ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا فِیْ قُلُوْبِكُمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَلِیْمًا Open ayah 33:51 in the Quran reader

ان میں سے آپ جس کو چاہیں (اور جب تک چاہیں) اپنے سے دور رکھیں اور جس کو چاہیں (اور) جب تک چاہیں اپنے نزدیک رکھیں (ف 1) اور جن کو دور رکھا تھا ان میں سے پھر کسی کو طلب کریں تب بھی آپ پر کوئی گناہ نہیں (ف 2) اس میں زیادہ توقع ہے کہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں گی (ف 3) اور آزردہ خاطر نہ ہوں گی اور جو کچھ بھی آپ ان کو دے دیں گے ان پر سب کی سب راضی رہیں گی اور خدا تعالیٰ کو تم لوگوں کے دلوں کی سب باتیں معلوم ہیں اور اللہ تعا الیٰ (یہی کیا) سب کچھ جاننے والا ہے برد بار ہے۔

ف 1۔ یعنی جس کو چاہیں اور جب تک چاہیں اس کو باری نہ دیں، اور جس کو چاہیں اور جب تک چاہیں اس کو باری دیں۔ 2۔ مطلب یہ ہوا کہ ان کی باری وغیرہ کی رعایت آپ پر واجب نہیں۔ 3۔ یعنی خوش رہیں گی۔
Ayah 33:52

لَا یَحِلُّ لَكَ النِّسَآءُ مِنْۢ بَعْدُ وَ لَاۤ اَنْ تَبَدَّلَ بِهِنَّ مِنْ اَزْوَاجٍ وَّ لَوْ اَعْجَبَكَ حُسْنُهُنَّ اِلَّا مَا مَلَكَتْ یَمِیْنُكَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ رَّقِیْبًا۠ Open ayah 33:52 in the Quran reader

ان کے علاوہ اور عورتیں آپ کے لیے حلال نہیں ہیں (ف 4) اور نہ یہ درست ہے کہ آپ ان (موجوده) بیبیوں کی جگہ دوسری بیبیاں اگرچہ آپ کو ان (دوسریوں) کا حسن اچھا معلوم ہو مگر جو آپ کی مملوکہ ہو اور اللہ تعالیٰ ہر چیز (کی حقیقت اور آثار مصالحہ) کا پورا نگران ہے۔

ف 4۔ یعنی اہل قرابت میں سے غیر مہاجرات حلال نہیں اور دوسری عورتوں میں سے غیر مومنات حلال نہیں۔
Ayahs 33:53–54

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَدْخُلُوْا بُیُوْتَ النَّبِیِّ اِلَّاۤ اَنْ یُّؤْذَنَ لَكُمْ اِلٰى طَعَامٍ غَیْرَ نٰظِرِیْنَ اِنٰىهُ١ۙ وَ لٰكِنْ اِذَا دُعِیْتُمْ فَادْخُلُوْا فَاِذَا طَعِمْتُمْ فَانْتَشِرُوْا وَ لَا مُسْتَاْنِسِیْنَ لِحَدِیْثٍ١ؕ اِنَّ ذٰلِكُمْ كَانَ یُؤْذِی النَّبِیَّ فَیَسْتَحْیٖ مِنْكُمْ١٘ وَ اللّٰهُ لَا یَسْتَحْیٖ مِنَ الْحَقِّ١ؕ وَ اِذَا سَاَلْتُمُوْهُنَّ مَتَاعًا فَسْئَلُوْهُنَّ مِنْ وَّرَآءِ حِجَابٍ١ؕ ذٰلِكُمْ اَطْهَرُ لِقُلُوْبِكُمْ وَ قُلُوْبِهِنَّ١ؕ وَ مَا كَانَ لَكُمْ اَنْ تُؤْذُوْا رَسُوْلَ اللّٰهِ وَ لَاۤ اَنْ تَنْكِحُوْۤا اَزْوَاجَهٗ مِنْۢ بَعْدِهٖۤ اَبَدًا١ؕ اِنَّ ذٰلِكُمْ كَانَ عِنْدَ اللّٰهِ عَظِیْمًا Open ayah 33:53 in the Quran reader

اے ایمان والو نبی کے گھروں میں (بےبلائے) مت جایا کرو مگر جس وقت تم کو کھانے کے لیے اجازت دی جاوے ایسے طور پر کہ اس کی تیاری کے منتظر نہ رہو (ف 5) لیکن جب تم کو بلایا جاوے (کہ کھانا تیار ہے) تب جایا کرو پھر جب کھانا کھا چکو تو اٹھ کر چلے جایا کرو اور باتوں میں جی لگا کر مت بیٹھے رہا کرو اس بات سے نبی (علیہ السلام) کو ناگواری ہوتی ہے سو وہ تمہارا لحاظ کرتے ہیں (ف 6) اور اللہ تعالیٰ صاف صاف بات کہنے سے (کسی کا) لحاظ نہیں کرتا اور جب تم ان سے کوئی چیز مانگو تو پردے کے باہر سے مانگا کرو (ف 7) یہ بات (ہمیشہ کے لیے) تمہارے دلوں اور ان کے دلوں کے پاک رہنے کا عمدہ ذریعہ ہے اور تم کو جائز نہیں کہ رسول (علیہ السلام) کو کلفت پہنچاؤ اور نہ یہ جائز ہے کہ تم آپ کے بعد آپ کی بیبیوں سے کبھی بھی نکاح کرو یہ خدا کے نزدیک بڑی بھاری (معصیت کی) بات ہے۔

اِنْ تُبْدُوْا شَیْئًا اَوْ تُخْفُوْهُ فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا Open ayah 33:54 in the Quran reader

اگر تم کسی چیز کو ظاہر کرو گے یا اس کو پوشیدہ رکھو گے تو اللہ تعالیٰ ہر چیز کو خوب جانتے ہیں۔

ف 5۔ یعنی بےدعوت تو جاومت، اور دعوت ہو تو تب بھی بہت پہلے سے مت جا بیٹھو۔ 6۔ اور زبان سے نہیں فرماتے کہ اٹھ کر چلے جاو 7۔ یعنی بےضرورت تو پردہ کے پاس جانا اور بات کرنا بھی نہ چاہئے، لیکن ضرورت میں کلام کا مضائقہ نہیں مگر رویت نہ ہونا چاہئے۔
Ayah 33:55

لَا جُنَاحَ عَلَیْهِنَّ فِیْۤ اٰبَآئِهِنَّ وَ لَاۤ اَبْنَآئِهِنَّ وَ لَاۤ اِخْوَانِهِنَّ وَ لَاۤ اَبْنَآءِ اِخْوَانِهِنَّ وَ لَاۤ اَبْنَآءِ اَخَوٰتِهِنَّ وَ لَا نِسَآئِهِنَّ وَ لَا مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُنَّ١ۚ وَ اتَّقِیْنَ اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدًا Open ayah 33:55 in the Quran reader

پیغمبر کی بیبیوں پر اپنے باپوں کے بارے میں کوئی گناہ نہیں ہے اور نہ اپنے بیٹوں کے اور نہ اپنے بھائیوں کے اور نہ اپنے بھتیجوں کے اور نہ اپنے بھانجوں کے اور نہ اپنی عورتوں کے اور نہ اپنی لونڈیوں کے اور خدا سے ڈرتی ہو بیشک اللہ ہر چیز پر حاضر (ناظر) ہے۔ (ف 1)

ف 1۔ یعنی اس سے کوئی امر مخفی نہیں، پس خلاف میں احتمال سزا کا ہے۔
Ayah 33:56

اِنَّ اللّٰهَ وَ مَلٰٓئِكَتَهٗ یُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِیِّ١ؕ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْهِ وَ سَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا Open ayah 33:56 in the Quran reader

بیشک اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے رحمت بھیجتے ہیں ان پیغمبر پر (ف 2) اے ایمان والو تم بھی آپ پر رحمت بھیجا کرو اور خوب سلام بھیجا کرو۔

ف 2۔ اللہ تعالیٰ کا رحمت بھیجنا تو رحمت فرمانا ہے، اور مراد اس سے رحمت خاصہ ہے جو آپ کی شان عالی کے مناسب ہے اور فرشتوں کا رحمت بھیجنا اور اسی طرح جس رحمت کے بھیجنے کا ہم کو حکم ہے اس سے مراد اس رحمت خاصہ کی دعا کرنا ہے، اور اسی کو ہمارے محاورے میں درود کہتے ہیں، اور اس دعا کرنے سے حضور کے مراتب عالیہ میں بھی ترقی ہوسکتی ہے اور خود دعا کرنے والے کو بھی نفع ہوتا ہے۔
Ayah 33:57

اِنَّ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ وَ اَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا مُّهِیْنًا Open ayah 33:57 in the Quran reader

بیشک جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول (علیہ السلام) کو ایذا دیتے ہیں اللہ تعالیٰ ان پر دنیا اور آخرت میں لعنت کرتا ہے اور ان کے لیے ذلیل کرنے والا عذاب تیار کر رکھا ہے۔ (ف 3)

ف 3۔ اللہ کے ناراض کرنے کو مجازا ایذا کہہ دیا گیا۔
Ayah 33:58

وَ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ بِغَیْرِ مَا اكْتَسَبُوْا فَقَدِ احْتَمَلُوْا بُهْتَانًا وَّ اِثْمًا مُّبِیْنًا۠ Open ayah 33:58 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان والے مردوں کو اور ایمان والی عورتوں کو بدون اس کے کہ انہوں نے کچھ کیا ہو ایذا پہنچاتے ہیں تو وہ لوگ بہتان اور صریح گناہ کا بار لیتے ہیں۔ (ف 4)

ف 4۔ یعنی اگر وہ ایذا قولی ہے تو بہتان ہے اور اگر فعلی ہے تو مطلق گناہ ہی ہے۔
Ayah 33:59

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِكَ وَ بَنٰتِكَ وَ نِسَآءِ الْمُؤْمِنِیْنَ یُدْنِیْنَ عَلَیْهِنَّ مِنْ جَلَابِیْبِهِنَّ١ؕ ذٰلِكَ اَدْنٰۤى اَنْ یُّعْرَفْنَ فَلَا یُؤْذَیْنَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 33:59 in the Quran reader

اے پیغمبر اپنی بیبیوں سے اور اپنی صاحبزادیوں سے اور دوسرے مسلمان کی بیبیوں سے بھی کہہ یجیئے کہ (سر سے) نیچے کرلیا کریں اپنے تھوڑی سی اپنی چادریں (ف 5) اس سے جلدی پہچان ہوجایا کرے گی تو آزار نہ دی جایا کریں گی اور اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے۔ (ف 6)

ف 5۔ یعنی کسی ضرورت سے باہر نکلنا پڑے تو چادر سے سر اور چہرہ بھی چھپا لیا جاوے۔ 6۔ یعنی اس سر اور چہرہ کے ڈھانکنے میں جو بلا قصد کمی یا بےاحتیاطی ہوجاوے تو اس کو معاف کردے گا۔
Ayahs 33:60–61

لَئِنْ لَّمْ یَنْتَهِ الْمُنٰفِقُوْنَ وَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ وَّ الْمُرْجِفُوْنَ فِی الْمَدِیْنَةِ لَنُغْرِیَنَّكَ بِهِمْ ثُمَّ لَا یُجَاوِرُوْنَكَ فِیْهَاۤ اِلَّا قَلِیْلًا٤ۖۛۚ Open ayah 33:60 in the Quran reader

یہ منافقین اور وہ لوگ جو مدینہ میں (جھوٹی جھوٹی) افواہیں اڑایا کرتے ہیں اگر باز نہ آئے تو ضرور ہم آپ کو ان پر مسلط کرینگے (ف 7) پھر یہ لوگ آپ کے پاس مدینہ میں بہت ہی کم رہنے پاویں گے۔

مَّلْعُوْنِیْنَ١ۛۚ اَیْنَمَا ثُقِفُوْۤا اُخِذُوْا وَ قُتِّلُوْا تَقْتِیْلًا Open ayah 33:61 in the Quran reader

وہ بھی (ہر طرف سے) پھٹکارے ہوئے جہاں ملیں گے پکڑ دھکڑ اور مار دھاڑ کی جاوے گی۔

ف 7۔ یعنی ان کے اخراج کا حکم کردیں گے۔
Ayahs 33:62–65

سُنَّةَ اللّٰهِ فِی الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلُ١ۚ وَ لَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللّٰهِ تَبْدِیْلًا Open ayah 33:62 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ نے ان (مفسد) لوگوں میں بھی یہی دستور رکھا ہے جو پہلے ہو گزرے ہیں اور آپ خدا کے دستور میں کسی شخص کی طرف سے رد و بدل نہ پاویں گے۔ (ف 8)

یَسْئَلُكَ النَّاسُ عَنِ السَّاعَةِ١ؕ قُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ مَا یُدْرِیْكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ تَكُوْنُ قَرِیْبًا Open ayah 33:63 in the Quran reader

یہ منکر لوگ آپ سے قیامت کے متعلق سوال کرتے ہیں آپ فرما دیجیئے کہ اس کی خبر تو بس اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہے اور آپ کو اس کی کیا خبر عجب نہیں کہ قیامت قریب ہی واقع ہوجاوے۔

اِنَّ اللّٰهَ لَعَنَ الْكٰفِرِیْنَ وَ اَعَدَّ لَهُمْ سَعِیْرًاۙ Open ayah 33:64 in the Quran reader

بیشک اللہ تعالیٰ نے کافروں کو رحمت سے دور کر رکھا ہے اور ان کے لیے آتش سوزاں تیار کر رکھی ہے۔

خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ۚ لَا یَجِدُوْنَ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیْرًاۚ Open ayah 33:65 in the Quran reader

جس میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے نہ کوئی یار پاویں گے اور نہ کوئی مددگار۔

ف 8۔ کہ خدا تو کوئی بات جاری کرنا چاہے اور کوئی اس کو روک سکے، پس سنة اللہ میں احتمال فعل الوقوع کا دفعیہ فرمایا دیا اور لن تجد میں احتمال بعد الوقوع کا دفعیہ فرمایا کہ جب وہ واقع کرنے لگے تو کوئی ہٹا نہیں سکتا۔
Ayahs 33:66–68

یَوْمَ تُقَلَّبُ وُجُوْهُهُمْ فِی النَّارِ یَقُوْلُوْنَ یٰلَیْتَنَاۤ اَطَعْنَا اللّٰهَ وَ اَطَعْنَا الرَّسُوْلَا Open ayah 33:66 in the Quran reader

جس روز ان کے چہرے دوزخ میں الٹ پلٹ کیے جاویں گے (ف 1) یوں کہتے ہوں گے کہ اے کاش ہم نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی ہوتی اور ہم نے رسول (علیہ السلام) کی اطاعت کی ہوتی۔

وَ قَالُوْا رَبَّنَاۤ اِنَّاۤ اَطَعْنَا سَادَتَنَا وَ كُبَرَآءَنَا فَاَضَلُّوْنَا السَّبِیْلَا Open ayah 33:67 in the Quran reader

اور کہیں گے کہ اے ہمارے رب ہم نے اپنے سرداروں اور اپنے بڑوں کا کہنا مانا تھا سو انہوں نے ہم کو سیدھے راستے سے گمراہ کیا تھا۔

رَبَّنَاۤ اٰتِهِمْ ضِعْفَیْنِ مِنَ الْعَذَابِ وَ الْعَنْهُمْ لَعْنًا كَبِیْرًا۠ Open ayah 33:68 in the Quran reader

اے ہمارے رب ان کو دوہری سزا دیجیے اور ان پر بڑی لعنت کیجیئے۔

ف 1۔ یعنی چہروں کے بل گھسیٹے جاویں گے کبھی چہرہ کی اس کروٹ کبھی اس کروٹ۔
Ayah 33:69

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ اٰذَوْا مُوْسٰى فَبَرَّاَهُ اللّٰهُ مِمَّا قَالُوْا١ؕ وَ كَانَ عِنْدَ اللّٰهِ وَجِیْهًاؕ Open ayah 33:69 in the Quran reader

اے ایمان والو ان لوگوں کی طرح مت ہونا جنہوں نے (کچھ تہمت تراش کر) موسیٰ (علیہ السلام) کو ایذا دی تھی سو ان کو خدا تعالیٰ نے بری ثابت کردیا (ف 2) اور وہ اللہ کے نزدیک بڑے معزز تھے۔ (ف 3)

ف 2۔ یعنی ان کا تو کچھ ضرر نہ ہوا تہمت لگانے والے ہی کذاب اور مستحق عقاب ٹھہرے۔ 3۔ مطلب یہ کہ تم رسول کو ان کی مخالفت کر کے ایذا مت دینا کہ وہ اللہ کی مخالفت بھی ہے۔
Ayahs 33:70–71

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ قُوْلُوْا قَوْلًا سَدِیْدًاۙ Open ayah 33:70 in the Quran reader

اے ایمان والو اللہ سے ڈرو (ف 4) اور راستی کی بات کہو۔ (ف 5)

یُّصْلِحْ لَكُمْ اَعْمَالَكُمْ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ١ؕ وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِیْمًا Open ayah 33:71 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ (اس کے صلہ میں) تمہارے اعمال قبول کرے گا اور تمہارے گناہ معاف کر دے گا اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول (علیہ السلام) کی اطاعت کرے گا سو وہ بڑی کامیابی کو پہنچے گا۔

ف 4۔ یعنی ہر امر میں اس کی اطاعت کرو۔ 5۔ جس میں عدل اور اعتدال سے تجاوز نہ ہو۔
Ayahs 33:72–73

اِنَّا عَرَضْنَا الْاَمَانَةَ عَلَى السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ الْجِبَالِ فَاَبَیْنَ اَنْ یَّحْمِلْنَهَا وَ اَشْفَقْنَ مِنْهَا وَ حَمَلَهَا الْاِنْسَانُ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ ظَلُوْمًا جَهُوْلًاۙ Open ayah 33:72 in the Quran reader

ہم نے یہ امانت (یعنی احکام جو بمنزلہ امانت کے ہیں) آسمان و زمین اور پہاڑوں کے سامنے پیش کی تھی سو انہوں نے اس کی ذمہ داری سے انکار کردیا اور اس سے ڈر گئے اور انسان نے اسکو اپنے ذمہ لے لیا (ف 6) وہ ظالم ہے جاہل ہے۔

لِّیُعَذِّبَ اللّٰهُ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتِ وَ الْمُشْرِكِیْنَ وَ الْمُشْرِكٰتِ وَ یَتُوْبَ اللّٰهُ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا۠ Open ayah 33:73 in the Quran reader

انجام یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ منافقین اور منافقات اور مشرکین اور مشرکات کو سزا دے گا اور مومنین و مومنات پر توجہ اور رحمت فرمائے گا اور اللہ تعالیٰ غفور رحیم ہے۔

ف 6۔ یہ کسی خاص انسان سے مثل آدم (علیہ السلام) کے نہیں پوچھا گیا، بلکہ مثل اخذ میثاق کے یہ عرض بھی عام ہوگا اور التزام بھی عام تھا، پس سموات و ارض و جبال مکلف نہ ہوئے اور یہ مکلف بنادیا گیا، آیت میں اس کا یاد دلانا غالبا اسی حکمت سے ہے جیسا میثاق یاد دلایا، یعنی ان احکام کا تم نے ازخود التزام کیا ہے پھر نباہنا چاہئے۔