34. Surah Saba

سبإSheba · 54 ayahsتفسیر ابن عباس

Ayah 34:1

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ وَ لَهُ الْحَمْدُ فِی الْاٰخِرَةِ١ؕ وَ هُوَ الْحَكِیْمُ الْخَبِیْرُ Open ayah 34:1 in the Quran reader

سب تعریف خدا ہی کو (سزاوار) ہے (جو سب چیزوں کا مالک ہے یعنی) وہ کہ جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب اسی کا ہے اور آخرت میں بھی اسی کی تعریف ہے اور وہ حکمت والا اور خبردار ہے

تمام تر حمد وثناء اسی اللہ کے لیے ہے جس کی ملکیت میں آسمان و زمین کی تمام مخلوقات ہیں اس کی حمد وثناء اہل جنت پر جنت میں بھی واجب ہے۔ وہی اپنے حکم و فیصلہ میں حکمت والا ہے کہ اس بات کا حکم دیا ہے کہ اس کے علاوہ اور کسی کی عبادت نہ کی جائے اور وہ مخلوق اور اس کے اعمال سے باخبر ہے۔
Ayah 34:2

یَعْلَمُ مَا یَلِجُ فِی الْاَرْضِ وَ مَا یَخْرُجُ مِنْهَا وَ مَا یَنْزِلُ مِنَ السَّمَآءِ وَ مَا یَعْرُجُ فِیْهَا١ؕ وَ هُوَ الرَّحِیْمُ الْغَفُوْرُ Open ayah 34:2 in the Quran reader

جو کچھ زمین میں داخل ہوتا ہے اور جو اس میں سے نکلتا ہے اور جو آسمان سے اترتا ہے اور جو اس پر چڑھتا ہے سب اسکو معلوم ہے اور وہ مہربان (اور) بخشنے والا ہے

اور بارش و پانی اور مدے اور خزانے جو چیزیں زمین میں داخل ہوتی ہیں وہ سب کچھ جانتا ہے اور اسی طرح جو چیزیں اس سے نکلتی ہیں جیسا کہ نباتات پانی خزانے مردے اور جو چیز آسمان سے اترتی ہے۔ مثلا پانی اور رزق وغیرہ اور فرشتے اور کراما کاتبین جو بھی چیزیں اس پر چڑھتی ہیں وہ سب کو جانتا ہے۔ اور وہ اہل ایمان پر رحمت فرمانے والا اور تائبین کی مغفرت فرمانے والا ہے۔
Ayah 34:3

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَا تَاْتِیْنَا السَّاعَةُ١ؕ قُلْ بَلٰى وَ رَبِّیْ لَتَاْتِیَنَّكُمْ١ۙ عٰلِمِ الْغَیْبِ١ۚ لَا یَعْزُبُ عَنْهُ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَ لَا فِی الْاَرْضِ وَ لَاۤ اَصْغَرُ مِنْ ذٰلِكَ وَ لَاۤ اَكْبَرُ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍۗۙ Open ayah 34:3 in the Quran reader

اور کافر کہتے ہیں کہ (قیامت کی) گھڑی ہم پر نہیں آئے گی کہہ دو کیوں نہیں (آئے گی) میرے پروردگار کی قسم وہ تم پر ضرور آکر رہے گی (وہ پروردگار) غیب کا جاننے والا (ہے) ذرہ بھر چیز بھی اس سے پوشیدہ نہیں (نہ) آسمانوں میں اور نہ زمین میں اور کوئی چیز ذرے سے چھوٹی یا بڑی ایسی نہیں مگر کتاب روشن (لکھی ہوئی) ہے

اور کفار مکہ یعنی ابو جہل اور اس کے ساتھی وغیرہ کہتے ہیں کہ قیامت قائم نہ ہوگی۔ آپ ان سے فرما دیجیے کہ کیوں نہیں قیامت ضرور قائم ہوگی قسم ہے اپنے پروردگار عالم الغیب کی وہ ضرور تم پر آئے گی۔ بندوں کے اعمال میں سے اللہ تعالیٰ کے علم سے کوئی چیز ذرہ برابر بھی پوشیدہ نہیں اور نہ کوئی چیز اس مقدار مذکور سے چھوٹی ہے اور نہ کوئی بڑی ہے مگر یہ سب لوح محفوظ میں لکھی ہوئی ہے۔
Ayah 34:4

لِّیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِیْمٌ Open ayah 34:4 in the Quran reader

اس لئے کہ جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک کرتے رہے ان کو بدلا دے یہی ہیں جن کے لئے بخشش اور عزت کی روزی ہے

تاکہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو صلہ دے جو ایمان لائے تھے اور انہوں نے نیک کام کیے تھے۔ ایسے لوگوں سے دنیا میں جو گناہ سرزد ہوئے ہیں جنت میں ان کی مغفرت اور عزت کا رزق ہے۔
Ayah 34:5

وَ الَّذِیْنَ سَعَوْ فِیْۤ اٰیٰتِنَا مُعٰجِزِیْنَ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مِّنْ رِّجْزٍ اَلِیْمٌ Open ayah 34:5 in the Quran reader

اور جنہوں نے ہماری آیتوں میں کوشش کی کہ ہمیں ہرا دیں گے ان کے لئے سخت درد دینے والے عذاب کی سزا ہے

اور جن لوگوں نے رسول اکرم اور قرآن کریم کو جھٹلایا تھا وہ ہمارے عذاب سے بچ نہیں سکتے اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔
Ayah 34:6

وَ یَرَى الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ هُوَ الْحَقَّ١ۙ وَ یَهْدِیْۤ اِلٰى صِرَاطِ الْعَزِیْزِ الْحَمِیْدِ Open ayah 34:6 in the Quran reader

اور جن لوگوں کو علم دیا گیا ہے وہ جانتے ہیں کہ جو (قرآن) تمہارے پروردگار کی طرف سے تم پر نازل ہوا ہے وہ حق ہے اور (خدائے) غالب اور سزاوار تعریف کا راستہ بتاتا ہے

اور تکاہ جن لوگوں کو توریت کا علم دیا گیا ہے جیسا کہ حضرت عبداللہ بن سلام اور ان کے ساتھی وہ قرآن کی صداقت کو سمجھ لیں اور یہ کہ وہ خدائے غالب و محمود کے دین کا راستہ بتاتا ہے۔
Ayah 34:7

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا هَلْ نَدُلُّكُمْ عَلٰى رَجُلٍ یُّنَبِّئُكُمْ اِذَا مُزِّقْتُمْ كُلَّ مُمَزَّقٍ١ۙ اِنَّكُمْ لَفِیْ خَلْقٍ جَدِیْدٍۚ Open ayah 34:7 in the Quran reader

اور کافر کہتے ہیں کہ بھلا ہم تمہیں ایسا آدمی بتائیں جو ہمیں خبر دیتا ہے کہ جب تم (مر کر) بالکل پارہ پارہ ہوجاؤ گے تو نئے سرے سے پیدا ہوں گے

اور یہ کفار یعنی ابو سفیان اور اس کے ساتھی آپس میں کہتے ہیں کیا ہم تمہیں ایسا آدمی بتائیں یعنی محمد جو تمہیں یہ خبر دیتا ہے کہ جب تم زمین میں بالکل ریزہ ریزہ ہوجاؤ گے اور ہڈی و چمڑا سب ختم ہوجائے گا تو پھر مرنے کے بعد ہم دوبارہ جی اٹھیں گے۔
Ayah 34:8

اَفْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَمْ بِهٖ جِنَّةٌ١ؕ بَلِ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ فِی الْعَذَابِ وَ الضَّلٰلِ الْبَعِیْدِ Open ayah 34:8 in the Quran reader

یا تو اس نے خدا پر جھوٹ باندھ لیا ہے یا اسے جنون ہے بات یہ ہے کہ جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے وہ آفت اور پرلے درجے کی گمراہی میں (مبتلا) ہیں

محمد نے نعوذ باللہ، اللہ پر جھوٹ باندھا ہے یا ان کو کسی قسم کا جنون ہوگیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ حقیقت میں جو لوگ بعث بعد الموت پر ایمان نہیں رکھتے وہی آخرت میں سخت عذاب میں اور دنیا میں حق و ہدایت سے دور اور گمراہی میں ہیں۔
Ayah 34:9

اَفَلَمْ یَرَوْا اِلٰى مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اِنْ نَّشَاْ نَخْسِفْ بِهِمُ الْاَرْضَ اَوْ نُسْقِطْ عَلَیْهِمْ كِسَفًا مِّنَ السَّمَآءِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّكُلِّ عَبْدٍ مُّنِیْبٍ۠ Open ayah 34:9 in the Quran reader

کیا انہوں نے اس کو نہیں دیکھا جو ان کے آگے اور پیچھے ہے یعنی آسمان اور زمین اگر ہم چاہیں تو ان کو زمین میں دھنسا دیں یا ان پر آسمان کے ٹکڑے گرا دیں اس میں ہر بندے کے لئے جو رجوع کرنے والا ہے ایک نشانی ہے

کیا ان کفار مکہ نے آسمان و زمین کی طرف نظر نہیں کی جو ان کے اوپر نیچے موجود ہے اگر ہم چاہیں تو ان کو زمین میں دھنسا دیں یا اگر چاہیں تو ان پر آسمان کے ٹکڑے گراکر ان کو ہلاک کردیں۔ آسمان و زمین کی مذکورہ دلیل میں قدرت خداوندی کی ہر اس بندہ کے لیے جو کہ اللہ تعالیٰ اور اس کی عبادت کی طرف متوجہ ہو پوری دلیل ہے۔
Ayah 34:10

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ مِنَّا فَضْلًا١ؕ یٰجِبَالُ اَوِّبِیْ مَعَهٗ وَ الطَّیْرَ١ۚ وَ اَلَنَّا لَهُ الْحَدِیْدَۙ Open ayah 34:10 in the Quran reader

اور ہم نے داؤد کو اپنی طرف سے برتری بخشی تھی اے پہاڑو ! ان کے ساتھ تسبیح کرو اور پرندوں کو (انکا مسخر کردیا) اور انکے لئے ہم نے لوہے کو نرم کردیا

ہم نے داؤد کو بادشاہت اور نبوت عطا کی۔ چناچہ ہم نے پہاڑوں کو حکم دیا کہ داؤد کے ساتھ تسبیح کرو اور اسی طرح پرندوں کو بھی ان کے تابع کردیا۔ اور ہم نے ان کے لیے مٹی کی طرح لوہے کو نرم کردیا کہ وہ اس سے جو چاہیں بنا لیں۔
Ayah 34:11

اَنِ اعْمَلْ سٰبِغٰتٍ وَّ قَدِّرْ فِی السَّرْدِ وَ اعْمَلُوْا صَالِحًا١ؕ اِنِّیْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 34:11 in the Quran reader

کہ کشادہ زرہیں بناؤ اور کڑیوں کو اندازے سے جوڑو اور نیک عمل کرو جو عمل تم کرتے ہو میں ان کو دیکھنے والا ہوں

اور یہ کہ تم اس سے کشادہ زرہیں بناؤ اور کڑیوں کے جوڑنے اور حلقوں میں مناسب انداز کا خیال رکھو نہ بہت بڑے حلقے ہوں اور نہ بہت ہی تنگ اور نیک کام کرو۔ میں تمہارے تمام اعمال سے باخبر ہوں۔
Ayah 34:12

وَ لِسُلَیْمٰنَ الرِّیْحَ غُدُوُّهَا شَهْرٌ وَّ رَوَاحُهَا شَهْرٌ١ۚ وَ اَسَلْنَا لَهٗ عَیْنَ الْقِطْرِ١ؕ وَ مِنَ الْجِنِّ مَنْ یَّعْمَلُ بَیْنَ یَدَیْهِ بِاِذْنِ رَبِّهٖ١ؕ وَ مَنْ یَّزِغْ مِنْهُمْ عَنْ اَمْرِنَا نُذِقْهُ مِنْ عَذَابِ السَّعِیْرِ Open ayah 34:12 in the Quran reader

اور ہوا کو (ہم نے) سلیمان کا تابع کردیا تھا اس کی صبح کی منزل بھی مہینے کی راہ ہوتی اور شام کی منزل بھی مہینے بھر کی ہوتی اور ان کے لئے ہم نے تانبے کا چشمہ بہادیا تھا اور جنوں میں ایسے تھے جو ان کے پروردگار کے حکم سے ان کے آگے کام کرتے تھے اور جو کوئی ان میں سے ہمارے حکم سے پھرے گا اس کو ہم (جہنم) کی آگ کا مزہ چکھائیں گے

اور ہم نے سلیمان کے لیے ہوا کو مسخر کردیا کہ اس کی صبح کی منزل ایک مہینہ بھر کی ہوتی تھی۔ اور اسی طرح شام کی منزل مہینہ بھر کی ہوتی تھی یعنی صبح کو بیت المقدس سے اصطخر تک ایک ماہ کی مسافت طے کرلیا کرتے تھے اور اسی طرح اسی دن شام کو اسطخر سے بیت المقدس آجایا کرتے تھے۔ اور ہم نے ان کے لیے پگھلے ہوئے تانبے کا چشمہ بہا دیا تھا کہ مٹی کی طرح جو اس سے بنانا ہوتا وہ بنا لیتے۔ اور جنات کو بھی ہم نے ان کے تابع کردیا تھا جن میں سے بعض جن تو ان کے پروردگار کے حکم سے ان کے سامنے تعمیرات کا کام کرتے تھے۔ اور یہ وعید بھی سنا دی تھی کہ جو ان میں سے ہمارے حکم یا یہ کہ سلیمان کی فرمانبرداری سے منہ موڑے گا تو ہم اسے دوزخ کے عذاب کا مزہ چکھائیں گے اور کہا گیا ہے کہ ان کا بادشاہ انہیں آگ کے ستون کے ساتھ سزا دیا کرتا تھا۔
Ayah 34:13

یَعْمَلُوْنَ لَهٗ مَا یَشَآءُ مِنْ مَّحَارِیْبَ وَ تَمَاثِیْلَ وَ جِفَانٍ كَالْجَوَابِ وَ قُدُوْرٍ رّٰسِیٰتٍ١ؕ اِعْمَلُوْۤا اٰلَ دَاوٗدَ شُكْرًا١ؕ وَ قَلِیْلٌ مِّنْ عِبَادِیَ الشَّكُوْرُ Open ayah 34:13 in the Quran reader

وہ جو چاہتے یہ ان کے لئے بناتے یعنی قلعے اور مجسمے اور (بڑے بڑے) لگن جیسے تالاب اور دیگیں جو ایک ہی جگہ رکھی رہیں اے داؤد کی اولاد میرا (شکر) کرو اور میرے بندوں میں شکر گزار تھوڑے ہیں

وہ جنات ان کے لیے وہ چیزیں بناتے تھے جو انہیں منظور ہوتا تھا۔ بڑی بڑی مسجدیں اور فرشتوں اور انبیاء کرام (علیہم السلام) اور نیک بندوں کی تصویریں دیکھ کر اپنے پروردگار کی ان کی طرح عبادت کریں اور حوض کی طرح بڑے بڑے طشت جو اپنی جگہ سے حرکت نہ کرتے ہوں اور ایسی بڑی بڑی دیگیں جو اپنی جگی جمی رہیں ہلائے نہ ہلیں اور تقریبا ایک ہزار آدمی اس کا کھانا کھا لیں۔ سلیمان ؑ خوب نیک کام کرو تاکہ میں نے جو تمہیں نعمتیں دی ہیں اس کا شکریہ ادا ہو اور میرے بندوں میں شکر گزار بہت ہی کم ہوتے ہیں۔
Ayah 34:14

فَلَمَّا قَضَیْنَا عَلَیْهِ الْمَوْتَ مَا دَلَّهُمْ عَلٰى مَوْتِهٖۤ اِلَّا دَآبَّةُ الْاَرْضِ تَاْكُلُ مِنْسَاَتَهٗ١ۚ فَلَمَّا خَرَّ تَبَیَّنَتِ الْجِنُّ اَنْ لَّوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ الْغَیْبَ مَا لَبِثُوْا فِی الْعَذَابِ الْمُهِیْنِؕ Open ayah 34:14 in the Quran reader

پھر جب ہم نے ان کے لئے موت کا حکم صادر کیا تو کسی چیز سے ان کا مرنا معلوم نہ ہوا مگر گھن کے کیڑے سے جو ان کے عصا کو کھاتا رہا جب عصا گرپڑا تب جنوں کو معلوم ہوا (اور کہنے لگے) کہ اگر وہ غیب جانتے ہوتے تو ذلت کی تکلیف میں نہ رہتے

(14۔ 15) اور جب ہم نے سلیمان کی روح قبض کی تو وہ سال بھر تک اپنے عصا کا سہارا لیے ہوئے اپنی محرام میں کھڑے رہے کسی بات سے ان کے مرنے کا پتہ نہ چلا مگر گھن کے کیڑے نے کہ وہ سلیمان کے عصا کو کھاتا تھا۔ سو جب گر پڑے تب انسان کو معلوم ہوا کہ جنات غیب نہیں جانتے کیونکہ اگر وہ غیب جانتے تو کاموں کی اس سختی میں نہ گرفتار رہتے اور اس واقعہ سے پہلے انسانوں کو یہ گمان تھا کہ جنات کو غیب کی خبر ہے مگر اب حقیقت واضح ہوگئی ہے اور ایسی تقریبا یمن کی طرف تیرہ بستیاں تھیں جن میں اللہ تعالیٰ نے تیرہ انبیاء کرام کو بھیجا اور انہیں حکم دیا کہ اپنے پروردگار کا دیا ہوا رزق یعنی پھل اور تمام قسم کی نعمتیں کھاؤ اور توحید کے ساتھ اس کا شکر ادا کرو یہ ایک عمدہ شہر ہے اور مومن و تائب کی مغفرت فرمانے والا پروردگار۔
Ayah 34:15

لَقَدْ كَانَ لِسَبَاٍ فِیْ مَسْكَنِهِمْ اٰیَةٌ١ۚ جَنَّتٰنِ عَنْ یَّمِیْنٍ وَّ شِمَالٍ١ؕ۬ كُلُوْا مِنْ رِّزْقِ رَبِّكُمْ وَ اشْكُرُوْا لَهٗ١ؕ بَلْدَةٌ طَیِّبَةٌ وَّ رَبٌّ غَفُوْرٌ Open ayah 34:15 in the Quran reader

(اہل) سبا کے لئے ان کے مقام بودوباش میں ایک نشانی تھی (یعنی) دو باغ (ایک) داہنی طرف اور ایک بائیں طرف اپنے پروردگار کا رزق کھاؤ اور اس کا شکر کرو (یہاں تمہارے رہنے کو یہ) پاکیزہ شہر ہے اور (وہاں بخشنے کو) خدائے غفار

شان نزول : لَقَدْ كَانَ لِسَـبَاٍ (الخ) ابن ابی حاتم نے علی بن رباح سے روایت کیا ہے بیان کرتے ہیں کہ مجھے فلاں شخص نے بیان کیا کہ مروہ بن مسیک غطفانی رسول اکرم کے پاس آیا اور عرض کیا یا رسول اللہ سبا قوم کو زمانہ جاہلیت میں عزت حاصل تھی اور مجھے اس بات کا خوف ہے کہ وہ اسلام سے پھرجائے گی تو کیا میں اس قوم سے لڑائی کروں آپ نے فرمایا میرے اوپر ان لوگوں کے بارے میں کوئی حکم نازل نہیں ہوا۔ چناچہ اس کے بعد یہ آیت نازل ہوئی یعنی سبا کے لیے ان کے وطن میں نشانیاں موجود تھیں۔
Ayah 34:16

فَاَعْرَضُوْا فَاَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ سَیْلَ الْعَرِمِ وَ بَدَّلْنٰهُمْ بِجَنَّتَیْهِمْ جَنَّتَیْنِ ذَوَاتَیْ اُكُلٍ خَمْطٍ وَّ اَثْلٍ وَّ شَیْءٍ مِّنْ سِدْرٍ قَلِیْلٍ Open ayah 34:16 in the Quran reader

تو انہوں نے (شکر گزاری سے) منہ پھیرلیا پس ہم نے ان پر زور کا سیلاب چھوڑ دیا اور انھیں ان کے باغوں کے بدلے دو ایسے باغ دئیے جن کے میوے بدمزہ تھے اور جن میں کچھ تو جھاؤ تھا اور تھوڑی سی بیریاں

مگر ان لوگوں نے ایمان لانے اور انبیاء کرام کی بات ماننے سے انکار کیا اور اس طرح شکر خداوندی نہیں اد ا کیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر بند کا پانی چھوڑ دیا کہ اس پانی سے تمام باغات مکانات اور ہر قسم کی نعمتوں کو ہلاک کردیا۔ ارم یمن میں ایک وادی کا نام ہے اور کہا گیا ہے کہ یہ ایک ود رویہ بند تھا جس سے پانی روکتے تھے اور اوپر نیدے اس بند میں پانی کے آمد و رفت کے سات دروازے تھے اللہ تعالیٰ نے اس پانی سے انہیں ہلاک کردیا اور ان تباہ شدہ باغوں کے بدلے ایسے باغ دے دیے جن میں یہ چیزیں رہ گئیں بد مزہ پھل اور جنگلی بیر، جس میں کانٹے زیادہ اور پھل کم تھے۔
Ayah 34:17

ذٰلِكَ جَزَیْنٰهُمْ بِمَا كَفَرُوْا١ؕ وَ هَلْ نُجٰزِیْۤ اِلَّا الْكَفُوْرَ Open ayah 34:17 in the Quran reader

یہ ہم نے ان کی ناشکری کی ان کو سزا دی اور ہم سزا ناشکرے کو ہی دیا کرتے ہیں

اور ہم نے ان کو یہ سزا ان کی ناشکری کی وجہ سے دی کیونکہ انہوں نے اللہ تعالیٰ اور اس کی نعمتوں کی ناشکری کی اور ہم ایسی سزا بڑے ناشکر گزار ہی کو دیا کرتے ہیں۔
Ayah 34:18

وَ جَعَلْنَا بَیْنَهُمْ وَ بَیْنَ الْقُرَى الَّتِیْ بٰرَكْنَا فِیْهَا قُرًى ظَاهِرَةً وَّ قَدَّرْنَا فِیْهَا السَّیْرَ١ؕ سِیْرُوْا فِیْهَا لَیَالِیَ وَ اَیَّامًا اٰمِنِیْنَ Open ayah 34:18 in the Quran reader

اور ہم نے ان کے اور (شام میں کی) ان بستیوں کے درمیان جن میں ہم نے برکت دی تھی (ایک دوسرے کے متصل) دیہات بنائے تھے جو سامنے نظر آتے تھے اور ان میں آمدورفت کا اندازہ مقرر کردیا تھا کہ رات دن بےخوف و خطر چلتے رہو

اور ہم نے اہل سبا اور اردن و فلسطین والوں کے درمیان جہاں ہم نے پانی اور درختوں سے برکت کر رکھی ہے بہت سے گاؤں آباد کر رکھے تھے جو سڑک پر سے ہی نظر آتے تھے اور ہم نے ان بستیوں کے درمیان رات گزارنے اور آرام کرنے کا ایک خاص انداز رکھا تھا۔ کہ بھوک و پیاس اور رہزنوں سے مطمئن ہو کر ان میں سفر کرو اس کے بعد پھر انبیاء کرام نے ان سے فرامیا کہ اب بھی اپنے پروردگار کی نعمتوں کا شکر ادا کرو کہیں ایسا نہ ہو کہ جس طرح اس نے تم سے پہلی نعمت چھین لی یہ بھی چھین لے۔
Ayah 34:19

فَقَالُوْا رَبَّنَا بٰعِدْ بَیْنَ اَسْفَارِنَا وَ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فَجَعَلْنٰهُمْ اَحَادِیْثَ وَ مَزَّقْنٰهُمْ كُلَّ مُمَزَّقٍ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍ Open ayah 34:19 in the Quran reader

تو انہوں نے دعا کی کہ اے پروردگار ہماری مسافتوں کے بعد (اور طول) پیدا کر دے اور (اس سے) انہوں نے اپنے حق میں ظلم کیا تو ہم نے (انہیں نابود کر کے) ان کے افسانے بنا دئیے اور انھیں بالکل منتشر کردیا اس میں ہر صابر و شاکر کے لئے نشانیاں ہیں

مگر وہ کہنے لگے کہ اے ہمارے پروردگار ہمارے سفر کی مسافت میں فاصلہ اور درازی کردے غرض کہ انہوں نے کفر و شرک اور ناشکری کر کے خود اپنی جانوں پر ظلم کیا ہم نے ان کو بعد والوں کے لیے افسانہ بنا دیا اور ہم نے ان کو بلکل شہروں میں بکھیر دیا اور ان کا پوری طرح خاتمہ ہی کردیا۔ اس واقعہ میں اطاعت خداوندی پر ثابت قدم رہنے والے اور انعامات خداوندی پر شکر کرنے والے کے لیے بڑی نشانیاں اور عبرت کی چیزیں ہیں۔
Ayah 34:20

وَ لَقَدْ صَدَّقَ عَلَیْهِمْ اِبْلِیْسُ ظَنَّهٗ فَاتَّبَعُوْهُ اِلَّا فَرِیْقًا مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 34:20 in the Quran reader

اور شیطان نے ان کے بارے میں اپنا خیال سچ کر دکھایا کہ مومنوں کی ایک جماعت کے سوا وہ اسکے پیچھے چل پڑے

اور واقعتا ابلیس نے ان لوگوں کے بارے میں اپنا گمان بالکل صحیح پایا نتیجہ یہ ہوا کہ یہ سب کفر اختیار کر کے اسی کے راستہ پر چلے سواوئے ایمان والوں کی جماعت کے یا یہ کہ سب نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں شیطان کی راہ اختیار کی مگر مسلمانو کی ایک جماعت نے جن کی تعداد ستر ہزار ہے جو کہ جنت میں بغیر حساب و عذاب کے داخل ہوں گے۔
Ayah 34:21

وَ مَا كَانَ لَهٗ عَلَیْهِمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ اِلَّا لِنَعْلَمَ مَنْ یُّؤْمِنُ بِالْاٰخِرَةِ مِمَّنْ هُوَ مِنْهَا فِیْ شَكٍّ١ؕ وَ رَبُّكَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ حَفِیْظٌ۠ Open ayah 34:21 in the Quran reader

اور اس کا ان پر کچھ زور نہ تھا مگر (ہمارا) مقصود یہ تھا کہ جو لوگ آخرت میں شک رکھتے ہیں ان سے ان لوگوں کو جو اس پر ایمان رکھتے تھے متمیز کردیں اور تمہارا پروردگار ہر چیز پر نگہبان ہے

ار ابلیس کا جو انسانوں پر تسلط ہے سب اسی کی راہ پر ہو رہے ہیں سوائے اس کے اور کسی وجہ سے نہیں کہ ہمیں ظاہری طور پر نمایاں کر کے ان لوگوں کی جماعت کو جو آخرت پر یقین رکھتے ہیں ان لوگوں سے ممتاز کر کے معلوم کرنا ہے جو قیام قیامت کے بارے میں شک میں ہیں اور کیونکہ اے نبی کریم آپ کا پروردگار ان کے اعمال سے پوری طرح باخبر ہے۔
Ayah 34:22

قُلِ ادْعُوا الَّذِیْنَ زَعَمْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ۚ لَا یَمْلِكُوْنَ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَ لَا فِی الْاَرْضِ وَ مَا لَهُمْ فِیْهِمَا مِنْ شِرْكٍ وَّ مَا لَهٗ مِنْهُمْ مِّنْ ظَهِیْرٍ Open ayah 34:22 in the Quran reader

کہہ دو کہ جن کو تم خدا کے سوا (معبود) خیال کرتے ہو ان کو بلاؤ وہ آسمانوں اور زمین میں ذرہ بھر چیز کے بھی مالک نہیں ہیں اور نہ ان میں ان کی شرکت ہے اور نہ ان میں سے کوئی خدا کا مددگار ہے

آپ کفار مکہ بنی ملیح والوں سے فرما دیجیے جن جھوٹے معبودوں کی تم اللہ کے علاوہ پوجا کر رہے ہو ان کو بلاؤ۔ یہ لوگ جنوں کی پوجا کیا کرتے تھے اور ان کو فرشتے سمجھتے تھے۔ وہ تمہیں ذرا برابر بھی نفع پہنچانے کا اختیار نہیں رکھتے نہ آسمانوں میں اور نہ زمین میں اور نہ ان فرشتوں کو آسمان و زمین کے پیدا کرنے میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ کوئی شرکت ہے اور نہ ان فرشتوں میں سے آسمان و زمین کے پیدا کرنے میں اللہ تعالیٰ کا کوئی مددگار ہے۔
Ayah 34:23

وَ لَا تَنْفَعُ الشَّفَاعَةُ عِنْدَهٗۤ اِلَّا لِمَنْ اَذِنَ لَهٗ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوْبِهِمْ قَالُوْا مَا ذَا١ۙ قَالَ رَبُّكُمْ١ؕ قَالُوا الْحَقَّ١ۚ وَ هُوَ الْعَلِیُّ الْكَبِیْرُ Open ayah 34:23 in the Quran reader

اور خدا کے ہاں (کسی کے لئے) سفارش فائدہ نہ دے گی مگر اس کے لئے جس کے بارے میں وہ اجازت بخشے یہاں تک کہ جب ان کے دلوں سے اضطراب دور کردیا جائے گا تو کہیں گے تمہارے پروردگار نے کیا فرمایا ہے (فرشتے) کہیں گے کہ حق (فرمایا) ہے اور وہ عالی رتبہ اور گرامی قدر ہے

اور قیامت کے دن فرشتے کسی کی سفارش نہیں کرسکیں گے البتہ جس کو اللہ تعالیٰ اجازت دے گا۔ اب اللہ تعالیٰ فرشتوں کے ضعف و کمزوری کو بیان کرتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے رسول اکرم کے پاس وحی بھیجنے کے لیے جبریل امین سے کلام کیا اور فرشتوں نے اس چیز کو سنا تو سب اللہ تعالیٰ کے کلام کی ہیبت و جلال سے بےہوش ہو کر گر گئے اور اسی حالت پر رہے یہاں تک کہ جبریل امین اترے اور ان کے دلوں سے خوف و گھبراہٹ دور ہوا تو اپنا سر اوپر اٹھا کر جبریل امین اور دوسرے فرشتوں سے کہنے لگے کہ تمہارے پروردگار نے کیا حکم دیا تو جبریل امین اور ان کے ساتھ والے فرشتے کہنے لگے کہ قرآن حکیم نازل کیا ہے اور وہ بڑا عالی شان اور سب سے بڑا ہے۔
Ayah 34:24

قُلْ مَنْ یَّرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ قُلِ اللّٰهُ١ۙ وَ اِنَّاۤ اَوْ اِیَّاكُمْ لَعَلٰى هُدًى اَوْ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 34:24 in the Quran reader

پوچھو کہ تم کو آسمانوں اور زمین سے کون رزق دیتا ہے ؟ کہو کہ خدا اور ہم یا تم (یا تو) سیدھے راستے پر ہیں یا صریح گمراہی میں

اور آپ ان کفار مکہ سے یہ و پوچھیے کہ اچھا یہ تو بتاؤ کہ پانی برسا کر اور نباتات نکال کر کون تمہیں رزق دیتا ہے کہ اللہ ہی تمہیں رزق دیتا ہے ار رزق خداوندی کے بارے میں ہم یا تم ضرور راہ راست یا گمراہی پر ہیں یا یہ مطلب کہ مسلمانوں کی جماعت ہدایت پر ہے یا مکہ والو تم یا یہ کہ ہم تم کھلی گمراہی پر ہیں۔
Ayah 34:25

قُلْ لَّا تُسْئَلُوْنَ عَمَّاۤ اَجْرَمْنَا وَ لَا نُسْئَلُ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 34:25 in the Quran reader

کہہ دو کہ نہ ہمارے گناہوں کی تم سے پرسش ہوگی اور نہ تمہارے اعمال کی ہم سے پرسش ہوگی

اور آپ ان سے فرما دیجیے کہ تم سے ہمارے جرائم کے بارے میں پوچھ گچھ نہ ہوگی اور ہم سے تمہارے جرائم کے بارے میں باز پرس نہیں ہوگی۔
Ayah 34:26

قُلْ یَجْمَعُ بَیْنَنَا رَبُّنَا ثُمَّ یَفْتَحُ بَیْنَنَا بِالْحَقِّ١ؕ وَ هُوَ الْفَتَّاحُ الْعَلِیْمُ Open ayah 34:26 in the Quran reader

کہہ دو کہ ہمارا پروردگار ہم کو جمع کرے گا پھر ہمارے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کر دے گا اور وہ خوب فیصلہ کرنے والا اور صاحب علم ہے

اس آیت کو آیت سیف نے منسوخ کردیا اور قیامت کے دن ہمارا رب ہم سب کو جمع کردے گا پھر ہمارے درمیان ٹھیک ٹھیک فیصلہ کردے گا وہ تمام احکام کا فیصلہ فرمانے والا ہے۔
Ayah 34:27

قُلْ اَرُوْنِیَ الَّذِیْنَ اَلْحَقْتُمْ بِهٖ شُرَكَآءَ كَلَّا١ؕ بَلْ هُوَ اللّٰهُ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 34:27 in the Quran reader

کہو کہ مجھے وہ لوگ تو دکھاؤ جن کو تم نے شریک (خدا) بنا کر اسکے ساتھ ملا رکھا ہے کوئی نہیں بلکہ وہی (اکیلا) خدا غالب (اور) حکمت والا ہے

آپ ان مکہ والوں سے فرما دیجیے کہ مجھے ذرا وہ جھوٹے معبود تو دکھاؤ جن کو تم نے اللہ کے ساتھ شریک کر رکھا ہے کہ انہوں نے کون سی چیز پیدا کی ہے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ہرگز نہیں۔ انہوں نے کوئی چیز بھی نہیں پیدا کی سب پیدا کرنے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے جو کفار کو سزا دینے میں زبردست اور اپنے حکم و و فیصلہ میں حکمت والا ہے کہ اس نے اس چیز کا حکم دیا ہے کہ اس کے علاوہ اور کسی کی پرستش نہ کی جائے۔
Ayah 34:28

وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا كَآفَّةً لِّلنَّاسِ بَشِیْرًا وَّ نَذِیْرًا وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 34:28 in the Quran reader

اور (اے محمد ﷺ ہم نے تم کو تمام لوگوں کے لئے خوشخبری سنانے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے

اور ہم نے اے نبی کریم آپ کو تمام جن و انس کے لیے پیغمبر بنا کر بھیجا ہے کہ آپ اہل ایمان کو جنت کی خوشخبری سنانے والے اور کفار کو دوزخ سے ڈرانے والے ہیں لیکن مکہ والے اس چیز کو نہیں سمجھتے اور نہ اس کی تصدیق کرتے ہیں۔
Ayah 34:29

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 34:29 in the Quran reader

اور کہتے ہیں اگر تم سچے ہو تو یہ (قیامت کا) وعدہ کب وقوع میں آئے گا ؟

اور یہ کفا رم کہ یوں کہتے ہیں کہ وہ وعدہ جس کا آپ ہم سے وعدہ کرتے ہیں کب واقع ہوگا اگر آپ اپنے اس وعدے میں سچے ہیں کہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونا ہے۔
Ayah 34:30

قُلْ لَّكُمْ مِّیْعَادُ یَوْمٍ لَّا تَسْتَاْخِرُوْنَ عَنْهُ سَاعَةً وَّ لَا تَسْتَقْدِمُوْنَ۠ Open ayah 34:30 in the Quran reader

کہہ دو کہ تم سے ایک دن کا وعدہ ہے جس سے نہ ایک گھڑی پیچھے رہو گے نہ آگے بڑھو گے

آپ ان سے فرما دیجیے کہ قیام قیامت کے لیے ایک خاص دن کا وقت مقرر ہے کہ اس وقت سے نہ ایک گھڑی پیچھے ہٹ سکتے ہو اور نہ آگے بڑھ سکتے ہو۔
Ayah 34:31

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ بِهٰذَا الْقُرْاٰنِ وَ لَا بِالَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْهِ١ؕ وَ لَوْ تَرٰۤى اِذِ الظّٰلِمُوْنَ مَوْقُوْفُوْنَ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ۖۚ یَرْجِعُ بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضِ اِ۟لْقَوْلَ١ۚ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا لِلَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْا لَوْ لَاۤ اَنْتُمْ لَكُنَّا مُؤْمِنِیْنَ Open ayah 34:31 in the Quran reader

اور جو کافر ہیں وہ کہتے ہیں کہ ہم نہ تو اس قرآن کو مانیں گے اور نہ ان (کتابوں) کو جو اس سے پہلے کی ہیں اور کاش (ان) ظالموں کو تم اس وقت دیکھو جب یہ اپنے پروردگار کے سامنے کھڑے ہوں گے اور ایک دوسرے کو ردوکد کر رہے ہوں گے جو لوگ کمزور سمجھے جاتے تھے وہ بڑے لوگوں سے کہیں گے کہ اگر تم نہ ہوتے تو ہم ضرور مومن ہوجاتے

اور کفار مکہ یعنی ابو جہل وغیرہ کہتے ہیں کہ ہم ہرگز اس قرآن حکیم پر ایمان نہیں لائیں گے اور نہ ان سے پہلی کتابوں یعنی توریت، انیل، زبور تمام آسمانی کتب پر ایمان لائیں گے اور اگر محمد آپ اس وقت کی حالت دیکھیں جبکہ قیامت کے دن یہ مشرکین اپنے پروردگار کے سامنے حاضر کیے جائیں گے کہ ایک دوسرے پر الزام لگائے ہوں گے اور آپس میں ایک دوسرے پر لعن و طعن کرتے ہوں گے۔ چناچہ ادنی درجہ کے لوگ سرداروں سے جنہوں نے ایمان لانے سے تکبر کیا تھا کہتے ہوں گے کہ اگر تم نہ ہوتے تو ہم ضرور رسول اکرم اور قرآن کریم پر ایمان لے آتے۔
Ayah 34:32

قَالَ الَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْا لِلَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْۤا اَنَحْنُ صَدَدْنٰكُمْ عَنِ الْهُدٰى بَعْدَ اِذْ جَآءَكُمْ بَلْ كُنْتُمْ مُّجْرِمِیْنَ Open ayah 34:32 in the Quran reader

بڑے لوگ کمزوروں سے کہیں گے کہ بھلا ہم نے تم کو ہدایت سے جب وہ تمہارے پاس آچکی تھی روکا تھا ؟ (نہیں) بلکہ تم ہی گنہگار تھے

اس پر یہ بڑے لوگ ان ادنی درجہ کے لوگوں سے کہیں گے کیا ہم نے تمہیں ایمان لانے سے روکا تھا حالانکہ رسول اکرم تمہارے پاس آچکے تھے بلکہ تم تو آپ کی بعثت سے پہلے ہی مشرک تھے۔
Ayah 34:33

وَ قَالَ الَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا لِلَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْا بَلْ مَكْرُ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ اِذْ تَاْمُرُوْنَنَاۤ اَنْ نَّكْفُرَ بِاللّٰهِ وَ نَجْعَلَ لَهٗۤ اَنْدَادًا١ؕ وَ اَسَرُّوا النَّدَامَةَ لَمَّا رَاَوُا الْعَذَابَ١ؕ وَ جَعَلْنَا الْاَغْلٰلَ فِیْۤ اَعْنَاقِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ هَلْ یُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 34:33 in the Quran reader

اور کمزور لوگ بڑے لوگوں سے کہیں گے (نہیں) بلکہ (تمہاری) رات دن کی چالوں نے (ہمیں روک رکھا تھا) جب تم ہم سے کہتے تھے کہ ہم خدا سے کفر کریں اور اس کا شریک بنائیں اور جب وہ عذاب دیکھیں گے تو دل میں پشیمان ہوں گے اور ہم کافروں کی گردنوں میں طوق ڈال دیں گے بس جو عمل وہ کرتے تھے انہی کا ان کو بدلہ ملے گا

اس پر یہ ادنی درجہ کے لوگ ان سرداروں سے کہیں گے کہ بلکہ تمہاری رات دن کی تدبیروں نے روکا تھا جب کہ تم ہمیں حکم دیا کرتے تھے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کریں اور اس کے شریک ٹھہرائیں لیکن وہ سردار ان ادنی درجہ کے لوگوں سے اپنی شرمندگی چھپائیں گے یا یہ کہ ان دونوں کی شرمندگی خودبخود ظاہر ہوجائے گی جب یہ عذاب دیکھیں گے۔ اور ہم کافروں کی گردنوں میں طوق ڈالیں گے اور جیسی یہ کفریہ باتیں اور کام کرتے تھے قیامت کے دن اسی کی تو سزا بھگتیں گے۔
Ayah 34:34

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا فِیْ قَرْیَةٍ مِّنْ نَّذِیْرٍ اِلَّا قَالَ مُتْرَفُوْهَاۤ١ۙ اِنَّا بِمَاۤ اُرْسِلْتُمْ بِهٖ كٰفِرُوْنَ Open ayah 34:34 in the Quran reader

اور ہم نے کسی بستی میں کوئی ڈرانے والا نہیں بھیجا مگر وہاں کے خوشحال لوگوں نے کہا کہ جو چیز دے کر تم بھیجے گئے ہو ہم اسکے قائل نہیں

اور ہم نے کسی بستی والوں کے پاس کوئی ڈر سنانے والا پیغمبر نہیں بھیجا مگر یہ کہ وہاں کے مالداروں اور سرکشوں نے یہی کہا کہ ہم ان احکام کا جو تمہیں دے کر بھیجا گیا ہے ہم اس کا انکار کرتے ہیں۔ شان نزول : وَمَآ اَرْسَلْنَا فِيْ قَرْيَةٍ مِّنْ نَّذِيْرٍ (ال) ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے سفیان عن عاصم کے طریق سے رزین سے روایت کیا ہے کہ دو شخص باہم شریک تھے ایک ان میں سے شام چلا گیا اور دوسرا اپنی جگہ موجود رہا جب رسول اکرم مبعوث ہوئے تو اس نے شام سے اپنے ساتھی کو حقیقت حال معلوم کرنے کے لیے لکھا تو اس نے جواب میں لکھا کہ قریش میں سے کسی نے ان کی اطاعت نہیں کی سوائے ادنی درجہ کے لوگوں اور مسکینوں کے چناچہ وہ اپنی تجارت چھوڑ کر اپنے ساتھی کے پاس آیا اور اس سے کہا مجھے ان کا پتہ دو اور وہ آسمانی کتابیں پڑھا کرتا تھا۔ چناچہ نبی اکرم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ آپ کس چیز کی طرف دعوت دیتے ہیں آپ نے فرامیا فلاں اور فلاں بات کی۔ انہوں نے سن کر کہا کہ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ تمہیں اس چیز کی کیسے اطلاع ہوئی انہوں نے عرض کیا کہ جو نبی مبعوث کیا گیا اس کی ادنی درجہ کے لوگوں اور مسکینوں ہی نے پیروی کی ہے اس پر یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی۔
Ayah 34:35

وَ قَالُوْا نَحْنُ اَكْثَرُ اَمْوَالًا وَّ اَوْلَادًا١ۙ وَّ مَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِیْنَ Open ayah 34:35 in the Quran reader

اور (یہ بھی) کہنے لگے کہ ہم بہت سا مال اور اولاد رکھتے ہیں اور ہم کو عذاب نہیں ہوگا

اور انہوں نے انبیاء کرام (علیہم السلام) سے یہ بھی کہا کہ ہم مال و اولاد تم سے زیادہ رکھتے ہیں اور ہمیں اپنے اس طریقے پر اس قدر مال و اولاد کی کثرت کی وجہ سے عذاب نہیں ہوگا اور یہی چیز کفار مکہ نے رسول اکرم سے کہی تھی۔
Ayah 34:36

قُلْ اِنَّ رَبِّیْ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 34:36 in the Quran reader

کہہ دو کہ میرا رب جس کے لئے چاہتا ہے روزی فراخ کردیتا ہے اور (جس کے لئے چاہتا ہے تنگ) کردیتا ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے

چناچہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ آزمائش کے طور پر تمہارا پروردگار جس کو چاہتا ہے زیادہ رزق دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے براہ ڈھیل کم دیتا ہے مگر مکہ والے اس کو نہیں سمجھتے اور نہ اس کی تصدیق کرتے ہیں۔ چناچہ اس کے بعد رسول اکرم نے ان کو کہلا بھیجا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہاری بات کی تصدیق نازل کردی۔
Ayah 34:37

وَ مَاۤ اَمْوَالُكُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُكُمْ بِالَّتِیْ تُقَرِّبُكُمْ عِنْدَنَا زُلْفٰۤى اِلَّا مَنْ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا١٘ فَاُولٰٓئِكَ لَهُمْ جَزَآءُ الضِّعْفِ بِمَا عَمِلُوْا وَ هُمْ فِی الْغُرُفٰتِ اٰمِنُوْنَ Open ayah 34:37 in the Quran reader

اور تمہارا مال اور اولاد ایسی چیز نہیں کہ تم کو ہمارا مقرب بنادیں ہاں (ہمارا مقرب وہ ہے) جو ایمان لایا اور عمل نیک کرتا رہا ایسے ہی لوگوں کو ان کے اعمال کے سبب دگنا بدلا ملے گا اور وہ خاطر جمع سے بالا خانوں میں بیٹھے ہوں گے

مکہ والو تمہارے اموال اور اولاد کی زیادتی ایسی چیز نہیں جو تمہیں درجہ میں ہمارا مقرب بنا دے البتہ جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے اور نیک اعمال کرے تو اس کا ایمان و نیک اعمال اسے اللہ تعالیٰ کا قرب نصیب کردیں گے۔ سو ایسے لوگوں کے لیے جو انہوں نے حالت ایمانی میں نیکیاں کی ہیں ان کا دگنا صلہ ہے اور وہ بالاخانوں میں موت وزوال سے بےخوف ہوں گے۔
Ayah 34:38

وَ الَّذِیْنَ یَسْعَوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِنَا مُعٰجِزِیْنَ اُولٰٓئِكَ فِی الْعَذَابِ مُحْضَرُوْنَ Open ayah 34:38 in the Quran reader

اور جو لوگ ہماری آیتوں میں کوشش کرتے ہیں کہ ہمیں ہرا دیں وہ عذاب میں حاضر کئے جائیں گے

اور جو لوگ رسول اکرم اور قرآن کریم کو جھٹلاتے ہیں وہ ہمارے عذاب سے بچ نہیں سکتے ایسے لوگوں کو جہنم میں عذاب ہوگا۔
Ayah 34:39

قُلْ اِنَّ رَبِّیْ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ وَ یَقْدِرُ لَهٗ١ؕ وَ مَاۤ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ شَیْءٍ فَهُوَ یُخْلِفُهٗ١ۚ وَ هُوَ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ Open ayah 34:39 in the Quran reader

کہہ دو کہ میرا پروردگار اپنے بندوں میں سے جس کے لئے چاہتا ہے روزی فراخ کردیتا ہے اور (جس کے لئے چاہتا ہے) تنگ کردیتا ہے اور تم جو چیز خرچ کرو گے وہ اس کا (تمہیں) عوض دے گا اور وہ سب سے بہتر رزق دینے والا ہے

آپ ان سے فرما دیجیے کہ میرا رب جسے چاہے آزمائش کے طور پر کھلا رزق دیتا ہے اور جس کو چاہے تنگی سے دیتا ہے۔ اور جو چیز تم اللہ تعالیٰ کے رستہ میں صرف کرو گے تو وہ ضرور اس کا بھی دنیا میں مال اور آخرت میں ثواب کے ذریعے سے بدلہ دے گا اور وہ سب سے بہتر رزق دینے والا ہے۔
Ayah 34:40

وَ یَوْمَ یَحْشُرُهُمْ جَمِیْعًا ثُمَّ یَقُوْلُ لِلْمَلٰٓئِكَةِ اَهٰۤؤُلَآءِ اِیَّاكُمْ كَانُوْا یَعْبُدُوْنَ Open ayah 34:40 in the Quran reader

اور جس دن وہ ان سب کو جمع کرے گا پھر فرشتوں سے فرمائے گا کیا یہ لوگ تم کو پوجا کرتے تھے ؟

اور جس روز اللہ تعالیٰ بنو ملیح اور فرشتوں کو جمع فرمائے گ پھر فرشتوں سے ارشاد ہوگا کیا یہ لوگ تمہارے حکم سے تمہاری عبادت کیا کرتے تھے۔