Ayah 34:11 شکر منعم انسانی فطرت کی بدیہیات میں سے ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " سب تعریفیں اس اللہ ہی کیلئے ہیں جس کیلئے وہ سب کچھ ہے جو کہ آسمانوں میں ہے اور وہ سب کچھ بھی جو کہ زمین میں ہے "۔ خَلْقًا وَمِلْکًا وتَصَرُّفًا، یعنی آسمان و زمین کی اس عظیم الشان کائنات کا خالق بھی وہی ہے، مالک بھی وہی اور اس میں حکم و تصرف بھی اسی کا چلتا ہے۔ پس عبادت و بندگی کے لائق اور اس کا حقدار بھی وہی وحدہ لاشریک ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور جب اس کی صفات و شؤون میں کوئی بھی اسکا شریک نہیں تو پھر اس کی عبادت و بندگی کے حق میں کوئی اس کا شریک کس طرح ہوسکتا ہے ؟ سو منعم کے شکر کا واجب ہونا انسانی فطرت کی بدیہیات میں سے ہے۔ جو اپنے منعم و محسن کا شکر ادا نہیں کرتا وہ لئیم اور کمینہ شخص ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اسی بنا پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آسمان و زمین کی یہ عظیم الشان اور گوناگوں نعمتیں جن سے انسان ہر لحظہ متمتع و مستفید و فیضیاب ہوتا ہے اور طرح طرح سے مستفید ہوتا ہے۔ آخر کس کی پیدا کردہ اور کس کی بخشی ہوئی ہیں ؟۔ اور اس کا انسان پر کیا حق عائد ہوتا ہے ؟۔ سو وہی ہے اللہ وحدہ لا شریک جو اس پوری کائنات کا خالق ومالک اور اس میں حاکم و متصرف ہے۔ پس ہر تعریف کے لائق اور اس کا مستحق وہی وحدہ لا شریک ہے اور اسی کا حق ہے اطاعت مطلقہ اور ہر قسم کی عبادت ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اس کے ساتھ کسی اور کو شریک ماننا ظلم عظیم ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
2 ہر تعریف کا حق دار اللہ وحدہ لا شریک ۔ سبحانہ وتعالیٰ : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ دنیا کے بعد آخرت میں بھی ہر تعریف اللہ ہی کے لیے ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو ارشاد فرمایا گیا " اور اسی کیلئے ہے ہر تعریف آخرت میں "۔ کہ یہاں کی طرح وہاں کی ہر نعمت بھی صرف اسی کی ہوگی۔ اور دنیا میں کسی اور کی جو کوئی عارضی اور محدود پیمانے پر تعریف کی بھی جاتی ہے، وہاں پر وہ بھی نہ ہوگی کہ کشف حقائق کے اس جہاں میں ظواہر و مظاہر کے یہ تمام پردے بھی ہٹ اور چھٹ جائیں گے جو آج کی دنیا میں پائے جاتے ہیں۔ اس لئے وہاں ہر طرح کی تعریف صرف اسی وحدہ لاشریک کی ہوگی۔ سو ہر قسم کی حمد و ثنا کا حقدار اللہ وحدہ لاشریک ہی ہے۔ دنیا کے اس عارضی جہاں میں بھی اور آخرت کے اس حقیقی اور ابدی جہاں میں بھی۔ سو اس ارشاد سے ایک تو یہ بات آشکارا ہوجاتی ہے کہ دنیا کے بعد آخرت کا آنا قطعی اور ضروری ہے۔ ورنہ دنیا میں پایا جانے والا یہ حکمت بھرا نظام ربوبیت سب کا سب عبث اور بےکار قرار پاتا ہے۔ اور دوسری حقیقت اس سے یہ بھی واضح ہوجاتی ہے کہ کشف حقائق کے اس جہاں میں جب اہل ایمان اللہ تعالیٰ کے جملہ وعدوں کا ایفا بچشم خود دیکھیں گے تو ان کی زبانوں پر اس واہب مطلق کا ترانہ حمد بلاساختہ جاری ہوجائے گا۔ جیسا کہ دوسرے مختلف مقامات پر اس کی تصریح فرمائی گئی ہے۔ اور تیسری حقیقت اس ارشاد سے یہ ظاہر اور واضح ہوجاتی ہے کہ جن لوگوں نے مختلف قسم کے شرکاء و شفعاء فرض کر رکھے ہیں اس روز ان کے خود ساختہ وہ سب ہوا ہوجائیں گے۔ ان میں سے کسی کا بھی اس روز کوئی نشان نہیں ہوگا بلکہ اس روز سب تعریفیں اللہ وحدہ لا شریک ہی کے لیے ہونگی جو کہ منعم حقیقی ہے۔
3 اللہ بڑا ہی حکیم وخبیر ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ : سو ارشاد فرمایا گیا اور انداز حصر و قصر میں ارشاد فرمایا گیا کہ وہی ہے حکمت والا پورا باخبر۔ تو پھر یہ کس طرح ممکن ہوسکتا ہے کہ اس حکیم مطلق نے اس عظیم الشان کائنات کو یونہی بغیر کسی حکمت اور مقصد کے پیدا کردیا ہو ؟ اور جب وہ " خبیر " یعنی پوری طرح باخبر بھی ہے تو پھر کس طرح ممکن ہوسکتا ہے کہ اس کے کسی حکم و ارشاد کا کوئی متبادل ہوسکے ؟- { فتَعَالی اللّٰہُ عَمَّا یَقُوْلُوْنَ عُلُوًّا کَبِیْرًا } ۔ سو اس کی اس حکمت بھری کائنات کے وجود کا تقاضا ہے کہ اس دنیا کے بعد ایک ایسا فیصلہ کن دن آئے جس میں ہر کسی کو اس کے زندگی بھر کے کیے کرائے کا بھرپور صلہ و بدلہ ملے تاکہ عدل و انصاف کے تقاضے اپنی آخری شکل میں پورے ہوسکیں۔ نیکوں کو ان کی نیکی کا صلہ ملے اور بدوں کو ان کی بدی کی پوری سزا و جزا۔ سو اس حکیم وخبیر خداوند قدوس کی تخلیق فرمودہ یہ کائنات اپنی زبان حال سے پکار پکار کر اپنے خالق ومالک کی عظمت و حکمت اور اس کی وحدانیت ویکتائی کا درس دے رہی ہے۔ نیز اس سے قیامت کے قیام و وقوع اور اس کی ضرورت کا ثبوت بھی ملتا ہے لیکن یہ سب ان کے لیے ہے جو صحیح طور پر غور و فکر سے کام لیتے ہیں ۔ { اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَذِکْرٰی لِمَنْ کَانَ لَہُ قَلْبٌ اَوْ اَلْقَی السَّمْعَ وَہُوَ شَہِیْدٌ } -
Ayah 34:24 اللہ تعالیٰ کے کمال علم کا حوالہ و ذکر : سو اس سے حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کے کمال علم کا ذکر وبیان فرمایا گیا ہے۔ سو اس وحدہ لا شریک کے کمال علم کے ذکر وبیان کے سلسلے میں ارشاد فرمایا گیا کہ " وہ جانتا ہے وہ سب کچھ جو کہ داخل ہوتا ہے زمین میں "۔ جیسے بارش کے قطرے، مختلف قسم کے بیچ، مردے اور دفینے وغیرہ۔ سو اس علیم وخبیر خداوند قدوس سے ان چیزوں میں سے کوئی بھی چیز مخفی اور پوشیدہ نہیں ہوسکتی۔ اور یہ اسی وحدہ لاشریک کی صفت اور اسی کی شان ہے۔ اس لیے اس کے حقِّ عبادت و بندگی میں بھی کوئی اس کا شریک وسہیم نہیں ہوسکتا ۔ سبحانہ و تعالیٰ -
5 زمین سے نکلنے والی ہر چیز اللہ کے علم میں ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " وہ اس سب کچھ کو بھی پوری طرح جانتا ہے جو کہ زمین سے نکلتا ہے "۔ جیسے طرح طرح کی پیداواریں، دفینے و خزینے، آثار قدیمہ اور مختلف قسم کے حشرات وغیرہ۔ سو یہ سب اس کے علم میں ہے اور اس کا علم ظاہر اور باطن ہر اعتبار سے اس کی جملہ مخلوق کو حاوی اور محیط ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ کیونکہ وہ علیم وخبیر اس سب کا خالق ومالک بھی ہے اور اس میں حاکم و متصرف بھی۔ تو پھر اس کی اس کائنات میں سے کوئی چیز اس سے کس طرح مخفی رہ سکتی ہے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر اس بارے صاف اور صریح طور پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { اَلاَ یَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ وَہُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ } ۔ یعنی " کیا وہی نہیں جانے گا جس نے پیدا فرمایا ہے جبکہ وہ بڑا ہی باریک بیں، نہایت ہی باخبر ہے " ؟۔ (الملک :30) ۔ پس وہی معبود برحق ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ -
6 آسمان سے اترنے والی ہر چیز بھی اللہ کے علم میں ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " وہ اس سب کو بھی پوری طرح جانتا ہے جو کہ اترتا ہے آسمان سے "۔ جیسے برف و بارش، اولے، فرشتے، طرح طرح کی برکتیں، مختلف قسم کے احکام اور قسما قسم کی آفتیں و مصیبتیں وغیرہ ۔ والعیاذ باللہ العزیز۔ سو وہ مالک الملک ان جملہ اشیاء اور احوال و کو ائف کو ہر اعتبار سے اور پوری طرح جانتا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو آسمان سے اترنے والا ہر خیر و شر بھی اس کے علم میں ہے اور وہ کلیات کی طرح جزئیات کو بھی پوری طرح جانتا ہے۔ کوئی بھی چیز اس کے علم سے باہر نہیں۔ وہ ہر لحاظ سے وحدہ لا شریک ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اور اس کے احاطہ علم کا استحضار ہی انسان کو راہ راست پر رکھ سکتا ہے ۔ وباللہ التوفیق -
7 آسمان میں چڑھنے والی ہر چیز بھی اس کے علم میں ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اس کے علم میں وہ سب کچھ بھی جو کہ چڑھتا ہے آسمان میں "۔ جیسے فرشتے، اعمال، ارواح اور دعائیں وغیرہ۔ پس نہ تو اس کے علم محیط سے اس کائنات کا کوئی ذرہ مخفی اور پوشیدہ رہ سکتا ہے اور نہ ہی کوئی چیز اس کی قدرت کاملہ سے باہر ہوسکتی ہے۔ تو پھر اس کے لئے مرے ہوئے لوگوں کا دوبارہ زندہ کرنا کیونکر مشکل ہوسکتا ہے ؟ وہ تو صرف اس کے ایک حکم و ارشاد کی دیر ہوگی اور بس ۔ { فاِنَّمَا ہِیَ زَجْرَۃٌ وَّاحِدَۃٌ فَاِذَا ہُمْ بالسَّاہِرَۃ } ۔ بہرکیف نہ کوئی چیز اس کی قدرت سے باہر ہوسکتی ہے اور نہ اس کے احاطہ علم سے خارج۔ اور یہ صرف اسی وحدہ لاشریک کی شان ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو اس سے شرک اور مشرکوں کے اس شرکیہ فلسفے کی جڑ نکال دی گئی جس کی بنا پر انہوں نے اللہ تک پہنچنے کے لیے طرح طرح کے مشرکانہ وسیلے اور واسطے گھڑ رکھے ہیں۔ اور وہ انہی کو پوجتے پکارتے ہیں اور ان کے آگے جھک کر اپنی ہلاکت و تباہی کا سامان کرتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ ہمیشہ اپنی پناہ میں رکھے -
8 اللہ تعالیٰ کی رحمت و مغفرت کا حوالہ اور ایک مشرکانہ واہمہ کی تردید : سو ارشاد فرمایا گیا اور حصر کے اسلوب میں ارشاد فرمایا گیا کہ " وہی ہے بڑا مہربان انتہائی بخشنے والا "۔ مہربان ایسا کہ ہمارا بلکہ ہر مخلوق کا ایک ایک لمحہ اس کی غیر محدود اور لامتناہی رحمتوں میں گزرتا ہے۔ اور بخشنہار ایسا کہ عمر بھر کے گناہوں کو سچی توبہ پر پل بھر میں معاف فرما دے ۔ جَلَّ جَلالُہ و عَمَّ نَوَالُہُ ۔ سو بندے کا کام یہ ہے کہ وہ ہمیشہ اس خدائے مہربان کی رحمتوں کی امید رکھے اور اپنی کوتاہیوں کی اس سے بخشش مانگتا رہے ۔ وباللہ التوفیق ۔ سو حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی رحمت بےپایاں اور مغفرت بےنہایت کی ان دو صفتوں کے حوالے سے واضح فرما دیا گیا کہ خداوند قدوس کوئی ایسی ظالم اور بےانصاف ہستی نہیں کہ اس کو راضی کرنے کے لیے یا اس کی آفتوں سے بچنے اور بچانے کی خاطر کسی دوسرے کی سعی و سفارش کے واسطے کی ضرورت پیش آئے۔ بلکہ وہ انتہائی مہربان، نہایت بخشنے والا ہے۔ اس کی رحمت کو متوجہ کرنے اور اس کی مغفرت و بخشش سے سرفرازی کے لیے اتنا کافی ہے کہ بندہ اس سے اپنے گناہوں کی معافی مانگے اور توبہ و رجوع الی اللہ سے کام لے۔ یہاں پر یہ امر واضح رہے کہ شرک کے عوامل میں سے ایک عامل یہ بھی رہا ہے کہ مشرکوں نے خداوند قدوس کا تصور ایک نہایت ہی خوفناک ہستی کے طور پر کیا۔ اور پھر اس کو راضی کرنے کے لیے انہوں نے اپنے تصور کے مطابق مختلف ذرائع و وسائل ایجاد کیے۔ سو خداوند قدوس کی ان دو صفتوں کے حوالے سے اسی مشرکانہ واہمے پر ضرب لگائی گئی ہے ۔ والحمد للہ جل وعلا -
Ayahs 34:3–49 قیام قیامت کی قطعیت کا ذکر : سو منکرین نے جس غرور اور طنطنے کے ساتھ قیامت کا انکار کیا تھا اسی زور کے ساتھ پیغمبر کو اس کی تردید کا حکم دیا گیا۔ سو ارشاد فرمایا گیا " کہو کیوں نہیں ؟ قسم ہے میرے رب کی "۔ سو اس سے نبی اور غیر نبی کے کلام و مقام کا فرق ظاہر اور واضح ہوجاتا ہے کہ غیر نبی خواہ کوئی بڑے سے بڑا فلسفی ہی کیوں نہ ہو اپنی عقل و فکر اور اپنے فلسفہ و کلام کی بنا پر اس قدر قوت و وثوق سے کوئی بات نہیں کہہ سکتا کہ اس کا سارا فکر و فلسفہ ہی ظن وتخمین پر قائم ہوتا ہے۔ یقین و ایمان کی دولت اسے خود نصیب نہیں ہوتی تابہ دیگراں چہ رسد ؟ بخلاف نبی کے کہ وہ وحی خداوندی کی بنا پر جس ایمان و یقین پر قائم ہوتا ہے اس کے باعث وہ پورے جزم و یقین سے ان حقائق غیبیہ کا اعلان فرماتا ہے جن کی دعوت و تبلیغ کے لئے اسے مبعوث فرمایا گیا ہوتا ہے۔ اس لئے یہاں پر پیغمبر کو قسم کے ساتھ جواب دینے کا حکم فرمایا گیا ہے ۔ صلوات اللہ وسلامہ علیہ ۔ یعنی کہو ہاں کیوں نہیں یعنی قیامت کیوں نہیں قائم ہوگی جبکہ یہ حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کا وعدہ اور اس کی قدرت و حکمت کا تقاضا ہے۔ اور تخلیقِ کائنات کے مقتضیٰ کی تکمیل بھی اسی پر موقوف ہے۔ سو اس سے قیام قیامت کی قطعیت کا ذکر وبیان فرمایا گیا ہے ۔ والحمد للہ -
10 علم غیب خاصہ خداوندی : عالم الغیب یہاں پر " ربی " سے بدل واقع ہوا ہے۔ سو مطلب یہ ہوا کہ قسم ہے میرے رب کی جو کہ جاننے والا ہے غیب کا۔ پس قیامت کی آمد کا صحیح اور قطعی وقت بھی اسی عالم الغیب کو ہوسکتا ہے مگر اس نے آنا ضرور ہے۔ سو اس وحدہ لاشریک کے سوا اور کسی بھی ہستی کو عالم غیب ماننا درست نہیں ہوگا کہ یہ بات اس آیت کریمہ اور اس طرح کی دوسری بیشمار نصوص کے صریح طور پر خلاف ہے۔ پس عالم غیب وہی وحدہ لاشریک ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ قسم ہے میرے رب کی جو کہ جاننے والا ہے غیب کا، آسمانوں اور زمین کی ذرہ برابر کوئی چیز اس سے مخفی نہیں ہوسکتی۔ سو علم غیب خاصہ خداوندی ہے دوسرا کوئی اس میں شریک نہیں ہوسکتا ۔ سبحانہ وتعالیٰ -
11 اللہ تعالیٰ کے احاطہ علم کا ذکر وبیان : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے احاطہ علم میں ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا " سب کچھ ایک کھلی کتاب میں ۔ ثبت و مندرج۔ ہے "۔ یعنی لوح محفوط میں۔ پس جب اس کا علم بھی کامل اور قدرت بھی کامل تو اس کے لئے مردوں کو دوبارہ زندہ کرنا اور قیامت بپا کردینا اور ہر کسی کو اس کے زندگی بھر کے کئے کرائے کا پورا پورا بدلہ دینا آخر کیوں اور کیا مشکل ہوسکتا ہے ؟۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو منکرین قیامت کو یاد رکھنا چاہیئے کہ قیامت نہ صرف یہ کہ آئیگی اور اس کو آنا چاہیئے، بلکہ اس یوم حساب میں ہر کسی کو اپنے قول و عمل کا خواہ وہ چھوٹا ہو یا بڑا حساب بھی دینا ہوگا۔ اور ہر ایک کے زندگی بھر کے کیے کرائے کا ریکارڈ بھی محفوظ اور ایک کتاب مبین میں ثبت و مندرج ہے۔ سو عقل و خرد کا تقاضا یہ ہے کہ انسان اس یوم حساب اور اس کی جوابدہی کو ہمیشہ اپنے پیش نظر اور اس کیلئے تیاری کرے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید وہو الہادی الی سواء السبیل -
Ayah 34:514 سزا کے حق داروں کی نشاندہی : سو ارشاد فرمایا گیا " اور جو لوگ ہماری آیتوں کو نیچا دکھانے کی کوشش کرتے ہیں ان کے لیے بڑا ہی سخت دردناک عذاب ہے "۔ سو جو لوگ اللہ کی آیتوں کو نیچا دکھانے کی کوشش کرتے ہیں ان کے بارے میں طرح طرح کے اعتراضات کرکے اور شکوک و شبہات ڈال کر۔ اور اس طرح وہ اپنے طور پر یہ سمجھتے ہیں کہ وہ دوسروں کو راہ حق و صواب سے روک دیں گے اور حق کو نیچا دکھا دیں گے اور ہماری گرفت اور پکڑ سے بچ جائیں گے۔ لیکن نہیں ہرگز نہیں۔ ایسے نہیں ہوگا۔ ایسا نہیں ہوسکتا۔ ان کا ایسا مقصد پورا نہیں ہوسکتا۔ البتہ یہ لوگ اپنے ایسے سنگین جرائم کی بڑی شدید اور سخت دردناک سزا بھگت کر رہیں گے۔ صرف آج ان کو چھوٹ ملی ہوئی ہے کہ یہ دنیا " دارالجزائ " نہیں " دارالعمل " ہے۔ کل قیامت میں جو کہ " دارالجزاء " اور " دارالحساب " ہے وہاں یہ لوگ اپنے کئے کرائے کا پورا بھگتان بھگتیں گے کہ دوزخی اور جنتی بہرحال کبھی برابر نہیں ہوسکتے ۔ { لا یَسْتَوِیْ اَصْحَاب النَّارِ وَاَصْحَابُ الْجَنَّۃِ ، اَصْحَابُ الْجَنَّۃِ ہُمُ الْفَائِزُوْنَ } ۔ (ابن کثیر، صفوہ، المراغی المعارف وغیرہ) ۔ سو اس سے یہ امر واضح ہوجاتا ہے کہ اس دنیا کے بعد دوسرے جہاں کا آنا ضروری ہے تاکہ ہر کوئی اپنے کیے کرائے کا پورا پورا پھل پائے۔ اور اس طرح عدل و انصاف کے تقاضے اپنی آخری اور کامل شکل میں پورے ہو سکیں ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید -
15 مجرموں کے عذاب کا ذکر وبیان ۔ والعیاذ باللہ : سو اس سے مجرموں کے لیے سخت دردناک عذاب کا ذکر وبیان فرمایا گیا ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ایسوں کیلئے ایک بڑی ہی سختی کا دردناک عذاب ہے "۔ یعنی " رجز " کے معنیٰ برے اور بدترین عذاب کے ہیں ۔ اَیْ لہم عذاب من اسوء العذاب شدید الایلام قال قتادۃ ہو أسوا العذاب۔ (صفوۃ التفاسیر : ج 2 ص 545) ۔ الرجز سوء العذاب، الرجز سَیُّ العذاب ۔ (جامع البیان : ج 2 ص 176) ۔ الرجز سَیُّ العذاب ۔ (محاسن التاویل : ج 14 ص ) ۔ سو ایسے لوگوں کے لئے بڑا ہی سخت اور ہولناک عذاب ہوگا کہ ان کا جرم بہت سنگین ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو جو لوگ حق کو قبول کرنے کی بجائے اس کو نیچا دکھانے کی کوشش کرتے ہیں اور وہ دن رات اسی کی تگ و دو اور دوڑ دھوپ میں رہتے ہیں وہ لوگ دراصل اپنے لیے ایسے ہولناک عذاب کا سامان کرتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو حق کی راہ روکنا اور اللہ پاک کی نازل فرمودہ آیات کریمہ کو اپنانے کی بجائے ان کو نیچا دکھانے کی کوشش کرنا ایک نہایت سنگین اور ہولناک جرم ہے۔ کیونکہ اس کا نتیجہ خود اپنی محرومی کے علاوہ دوسروں کو بھی نور حق و ہدایت سے محروم کرنا ہے۔ اس طرح یہ جرم دوہرا اور ڈبل ہوجاتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ ہمیشہ اپنے حفظ وامان میں رکھے ۔ آمین
Ayah 34:616 نور علم وسیلہ سرفرازی : سو ارشاد فرمایا گیا " اور جن لوگوں کو علم دیا گیا ہے وہ خوب جانتے ہیں کہ جو کچھ آپ کے رب کی طرف سے اتارا گیا وہی حق ہے "۔ جیسے اہل کتاب کے حق پرست و منصف مزاج علمائ، صحابہ کرام ؓ اور ان کے بعد کے جملہ علمائے حق ۔ کمؤمنی اہل الکتاب أو کالصحابۃ ومن تبعہم ۔ (جامع البیان : ج 2 ص 176) ۔ سو اس سے علم صحیح کی عظمت اور اہمیت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اسی کے نور سے انسان کو راہ حق و صواب کی معرفت اور اس کی پہچان نصیب ہوتی ہے۔ سو کس قدر کوتاہ نظر اور قدر ناشناس ہیں وہ لوگ جو دولت علم کی اس عظمت کو نہیں پہنچانتے اور وہ اس کی تنقیص کرتے اور اس کی قدر گھٹانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف نور علم وسیلہ سرفرازی ہے اور اس سے مراد وہ علم حقیقی ہے جو انسان کو حق و ہدایت کی اس راہ سے آگہی بخشتا ہے جو دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفراز کرنے والی واحد راہ ہے۔ اور ایسے خوش نصیبوں سے مراد عام ہے کہ وہ ان اہل کتاب میں سے ہوں جنہوں نے اپنے نبیوں اور صحیفوں سے ملنے والے علم کو محفوظ رکھا یا ان کا تعلق ان سلیم الفطرت لوگوں سے ہو جن کے قلوب ان کی سلامت روی کی بنا پر قرآن کی روشنی سے مستفید و مستنیر ہوئے۔ سو ایسے لوگ حق کو حق سمجھنے اور اس کو اپنانے کے شرف سے مشرف و سرفراز ہوتے ہیں ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید -
17 علم حقیقی کا نتیجہ وثمرہ حق کو حق جاننا اور ماننا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ایسے لوگ جن کو علم حقیقی کی دولت سے نوازا گیا ہوتا ہے وہ جانتے ہیں کہ جو کچھ اتارا گیا ہے آپکی طرف آپ کے رب کی جانب سے وہی حق ہے "۔ پس وحی ٔ خداوندی یعنی قرآن و سنت کے بغیر نہ حق کی دولت نصیب ہوسکتی ہے اور نہ ہی صحیح راہنمائی مل سکتی ہے خواہ دنیاوی اعتبار سے کوئی کتنی ہی ڈگریاں اور سندیں کیوں نہ رکھتا ہو۔ سو علم وحی سے محرومی دراصل سب سے بڑی اور بنیادی محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ جن لوگوں کو علم حقیقی کی روشنی عطاء ہوئی، خواہ وہ ان لوگوں میں سے ہوں جنہوں نے اپنے نبیوں اور صحیفوں کے علم کو محفوظ رکھا ہو یا وہ ان سلیم الفطرت لوگوں میں سے ہوں جن کے قلوب ان کی سلامت روی کے باعث قرآن کی روشنی سے مستنیر ہوئے ہوں وہ اس چیز کو بالکل حق سمجھتے ہیں جو آپ کی طرف آپ کے رب کی جانب سے نازل فرمائی گئی ہے۔ اور وہی اس راہ حق و ہدایت کی راہنمائی کرتا ہے جو خدائے عزیز وحمید تک پہنچاتا ہے۔ سو اس میں پیغمبر کیلئے تسلیہ و تسکین کا سامان ہے کہ اگر یہ منکر اور لاپروا لوگ نہیں مانتے تو آپ اس کی پروا نہ کریں کہ اس کو ایسے علم والے لوگ بہرحال مانتے ہیں۔ سو اس ارشاد سے ایک طرف تو یہ حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ علم حقیقی کی دولت سے سرفرازی و بہرہ مندی کا نتیجہ وثمرہ حق کو حق جاننا اور اس کو سینے سے لگانا ہے۔ اور دوسری طرف اس سے یہ بھی واضح ہوجاتا ہے کہ جس توحید کی دعوت پیغمبر دے رہے ہیں۔ اور جس قیامت سے آپ لوگوں کو خبردار کر رہے ہیں وہی حق اور سچ ہے۔ اور اسی کی تائید ایسے اہل علم کرتے ہیں۔ اور جو لوگ اپنے کبر و غرور کی بنا پر اور اپنے خود ساختہ اور فرضی و وہمی شرکاء و شفعاء کے زعم و گھمنڈ میں توحید کا انکار اور قیامت کی تکذیب کرتے ہیں وہ یکسر باطل پر اور انتہائی ہولناک اور دائمی خسارے میں پڑے ہیں۔ سو نور علم اور اس کے تقاضوں سے روگردانی باعث محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayahs 34:7–818 منکرین کے تعجب و استہزاء کا جواب : سو اس میں کفار و منکرین کے بعث بعد الموت پر تعجب اور اس کے استہزاء کا ذکر بھی ہے اور اہل بدعت کی ایک تحریف کا جواب بھی۔ سو کفار و منکرین کا کہنا تھا کہ یہ شخص ایسی عجیب بات بتلاتا ہے کہ ہم اس طرح مر مٹ جانے اور ریزہ ریزہ ہوجانے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جائیں گے۔ بھلا ایسا کیونکر ہوسکتا ہے اور یہی اشتباہ واستبعاد جو اس دور کے ان کفار و منکرین کو تھا آج کے بھی بہت سے روشن خیالوں کو ہے۔ سو مادیت میں دنیا بیشک حیرت انگیز حد تک ترقیاں کر جائے مگر ان کی اس قاصر و لا دین ذہنیت کی نور حق و ہدایت تک رسائی ممکن نہیں جب تک کہ یہ لوگ صدق دل سے نور وحی کی طرف رجوع نہ کریں۔ کوئی مانے یا مانے، تسلیم کرے یا نہ کرے، حقیقت بہرحال یہی اور صرف یہی ہے کہ مرنے کے بعد سب لوگوں کو یقینا دوبارہ اٹھنا اور اپنے زندگی بھر کے کیے کرائے کا حساب دینا اور اس کا پھل پانا ہوگا۔ اور حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کے لیے ایسا کرنا کچھ بھی مشکل نہیں کہ وہ علی کل شیء قدیر ہے۔ اور بعث بعد الموت کے لیے اس کا ایک حکم واشارہ ہی کافی ہوگا، جیسا کہ دوسرے مختلف مقامات پر اس کی طرح طرح سے تصریح فرمائی گئی ہے۔
ایک بدعت کی ایک تحریف کا جواب : سو اہل بدعت کے بعض بڑوں نے جو کہ اپنی تحریفانہ موشگافیوں میں خاص ملکہ اور درک رکھتے ہیں یہاں پر اس طرح گہر افشانی کی ہے کہ " اس سے معلوم ہوا کہ نبی کو بشر یا رجل وغیرہ کے عام الفاظ سے یاد کرنا کافروں کا طریقہ ہے " مگر موصوف کو یہ موشگافی کرتے ہوئے اس کا کوئی خیال نہ رہا کہ حضرات انبیائے کرام کو بشر تو خود خدائے پاک نے فرمایا اور اپنی کتاب حکیم میں اس حقیقت کا ذکر و اظہار فرمایا اور بار بار فرمایا۔ مثلاً ارشاد فرمایا اور صراحتاً فرمایا ۔ { اِنِّیْ خَالِقٌ بَشَرًا مِّنْ طِیْنٍ } ۔ (ص : آیت نمبر 71) ۔ نیز ارشاد فرمایا ۔ { وَمَا کَانَ لِبَشَرٍ اَنْ یُّکَلِّمَہُ اللّٰہُ الا وَحْیًا } ۔ (الشوریٰ : آیت نمبر 51) ۔ نیز اللہ پاک نے اپنے نبی کو حکم دیا کہ تم خود اس حقیقت کا صاف وصریح طور پر اور حصر و تاکید کے الفاظ کے ساتھ اعلان و اظہار کرو کہ میں تو بس ایک بشر ہی ہوں تم ہی جیسا۔ دوسرے مقام پر اس بارے ارشاد فرمایا گیا فرق صرف یہ ہے کہ مجھ پر وحی آتی ہے۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا ۔ { قُلْ اِنَّمَا اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ یُوْحٰی اِلَیَّ اَنَّمَا اِلٰہُکُمْ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ } ۔ (الکہف :110) ۔ نیز حضرات کرام انبیائے ۔ علیھم الصلوۃ والسلام ۔ نے بھی اپنے متعلق اس حقیقت صادقہ کا اسی طرح حصر و تاکید کے ساتھ اقرار و اعلان فرمایا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے ۔ { قَالَتْ لَہُمْ رُسُلُہُمْ اِنْ نَحْنُ الا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ } ۔ (سورئہ ابراہیم : آیت نمبر 11) ۔ نیز حضرت خاتم الانبیائ۔ صلوات اللہ وسلامہ علیہ و علیھم ۔ نے اللہ پاک کے حکم کے مطابق ایک اور جگہ اس حقیقت کا اعلان و اظہار اس طرح حصرو تاکید کے الفاظ کے ساتھ فرمایا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے ۔ { قُلْ سُبْحَانَ رَبِّیْ ہَلْ کُنْتُ الا بَشَرًا رَّسُوْلاً } ۔ (الاسراء : آیت نمبر 93) ۔ اسی طرح حضرات انبیائے کرام نے اپنے آپ کو رجل ہی فرمایا ہے۔ مثلاً ملاحظہ ہو سورة اعراف کی آیت نمبر 63 اور نمبر 69 وغیرہ۔ نیز اللہ پاک نے بھی نبی کو " رجل " فرمایا ہے۔ ارشاد ربانی ہے ۔ { اَ کَان للنَّاسِ عَجَبًا اَنْ اَوْحَیْنَا اِلٰی رَجِلٍ مِنْہُمْ } ۔ (سورئہ یونس : آیت نمبر 2) ۔ اب ایسے بدعتی ملاؤں اور ان کے حواریوں سے کوئی پوچھے کہ تمہارا کیا فتویٰ ہے اللہ پاک کے بارے میں۔ خود حضرات انبیائے کرام کے بارے میں اور خود حضرت امام الانبیاء ۔ صلوات اللہ وسلامہ علیہ و علیھم ۔ کے بارے میں جو اس صراحت و وضاحت اور تاکید و تکرار کے ساتھ حضرات انبیائے کرام ۔ علیھم الصلوۃ والسلام ۔ کی بشریت اور رجولیت کا اعلان و اظہار اور اقرار فرماتے ہیں ؟ سو جو لوگ اہل حق کی دشمنی اور انکے عناد میں اندھے ہوجاتے ہیں۔ ان کا یہی حال ہوتا ہے کہ ان کی مت مار دی جاتی ہے اور وہ اسی طرح اوندھے ہو کر رہ جاتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 34:922 کائنات میں غور و فکر کی دعوت : سو حکمتوں اور عبرتوں بھری اس کائنات میں دعوت غور و فکر دیتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ کیا ان لوگوں نے کبھی اس عظیم الشان کائنات میں غور نہیں کیا جو ان کے آگے اور پیچھے ہر طرف پھیلی ہوئی ہے۔ اگر یہ لوگ آنکھیں کھول کر دیکھتے اور اپنے اردگرد پھیلی ہوئی ہماری اس حکمتوں بھری کائنات میں غور کرتے تو ان کے سامنے ان تمام باتوں کی معقولیت اور صداقت و حقانیت واضح ہوجاتی جن کی دعوت پیغمبر ان کو دے رہے ہیں۔ اور ان کو معلوم ہوجاتا کہ جس قادر مطلق نے آسمان و زمین کی اس عظیم الشان کائنات کو وجود بخشا، اس کے لئے ان کو دوبارہ پیدا کرنا آخر کیوں اور کیا مشکل ہوسکتا ہے ؟ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { لَخَلْقُ السَّمٰوَاتِ وَالاَرْضِ اَکْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَلٰکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لا یَعْلَمُوْنَ } ۔ (المومن : 57) ۔ نیز یہ کہ ہمہ و شما جیسا کوئی شخص جب کسی چھوٹے موٹے کام کو بھی بےمقصد کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتا اور وہ اس کو عیب سمجھتا ہے تو پھر وہ حکیم مطلق حکمتوں بھری اپنی اس بےمثال کائنات کو بغیر کسی مقصد کے کیسے بنا سکتا ہے ؟- { وَمَا خَلَقْنَا السَّمٰوَاتِ وَالاَرْضِ وَمَا بَیْنَہُمَا لٰعِبِیْنَ } ۔ (الانبیاء :16) نیز اس خالق حکیم کی یہ کائنات جب تمہیں چاروں طرف سے گھیرے ہوئے ہے تو پھر تم لوگ اس کی گرفت و پکڑ سے اگر کہیں بچ کر نکلنا بھی چاہو تو کیسے اور کہاں نکل سکتے ہو ؟- { یٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ اِنِ اسْتَطَعْتُمْ اَنْ تَنْفذُوْا مِنْ اَقْطَار السَّمٰوَاتُ وَالاَرْضِ فَانْفُذُوْا لاَ تَنْفُذُوْنَ الاَّ بِسُلْطَانٍ } ۔ (الرحمن : 33) ۔ سو کیسے بدنصیب اور کتنے محروم ہیں وہ لوگ جو اس سب کے باوجود نہ خداوند قدوس کی اس کائنات میں غور و فکر سے کام لیتے ہیں اور نہ اس کی گرفت و پکڑ اور اس کے عذاب سے ڈرتے ہیں ۔ { فَلا یامَنُ مَکْرَ اللّٰہِ الاَ الْقَوْمَ الْخَاسِرُوْنَ } ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف اس ارشاد ربانی میں آسمان و زمین کی اس حکمتوں بھری کائنات میں غور و فکر کی دعوت ہے تاکہ اس طرح یہ لوگ حق و ہدایت کے نور سے سرفراز ہوسکیں اور ان کو راہ حق و ہدایت نصیب ہو سکے۔
23 نفع و نقصان اللہ ہی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ کائنات کا نفع و نقصان اللہ تعالیٰ کے حکم و ارشاد کے تابع ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اگر ہم چاہیں تو ان لوگوں کو دھنسا دیں زمین میں "۔ جیسا کہ قارون کو اس کے پورے کرو فر کے ساتھ اور لاؤ لشکر سمیت دھنسا چکے ہیں۔ سو اگر یہ لوگ کائنات کی اس کھلی کتاب میں صحیح طور پر غور و فکر سے کام لیتے تو ان کے سامنے واضح ہوجاتا کہ آسمان کی یہ عظیم الشان چھت جو انکے سروں پر تنی ہوئی ہے اور زمین کا یہ عظیم الشان فرش جو انکے قدموں کے نیچے بچھا ہوا ہے نہ یہ سب کچھ ازخود وجود میں آگیا اور نہ ہی یہ ازخود یونہی چل رہا ہے۔ بلکہ یہ سب کچھ اپنے وجود اور اپنی بقاسب میں ہمارا اور صرف ہمارا ہی محتاج اور ہمارے ہی حکم و ارشاد کے تابع ہے۔ ورنہ ہم اگر چاہیں تو ان کو اسی زمین میں دھنسا دیں اور یہ ان کیلئے قبرستان بن جائے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو آسمان و زمین کی اس عظیم الشان کائنات کے جن گوناگوں فوائد و منافع اور ثمراث و برکات سے یہ لوگ متمتع اور مستفید ہوتے ہیں اور ہر لمحہ و لحظہ میں اور ہر جگہ و موقع پر مستفید و فیضیاب ہوتے یہ سب کچھ حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی رحمت و عنایت کا نتیجہ وثمرہ ہے۔ اور زمین و آسمان کی ہر چیز ان لوگوں کے تھامے سے نہیں تھمی بلکہ وہ اللہ تعالیٰ ہی کے تھامے سے تھمی ہوئی ہے۔ اگر اس خدائے رحمان و رحیم کی رحمت و عنایت نہ ہو تو ان میں ہر چیز بجائے نقمت اور رحمت کے عذاب بن جائے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔
24 اللہ تعالیٰ کا عذاب کہیں سے اور کسی بھی شکل میں آسکتا ہے ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اگر ہم چاہیں تو ان پر گرا دیں آسمان کے ٹکڑے "۔ " کسف " بمعنیٰ قطع یا یہ " کسفۃ " کی جمع ہے بمعنی ٹکڑا۔ یا یہ مصدر ہے مفعول کے معنیٰ میں۔ (المحاسن، المراغی، الفتح وغیرہ) ۔ مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ کسی بھی طرح ہماری گرفت اور پکڑ سے بچ کر نکل نہیں سکتے۔ ہم جب چاہیں اور جہاں اور جیسے چاہیں انکو پکڑ سکتے ہیں۔ اور جو عذاب چاہیں ان کو دے سکتے ہیں۔ پھر یہ اس طرح نڈر اور بےفکر کیوں ہیں۔ سو آسمان و زمین کی یہ کائنات ہماری ہی نظر عنایت کی بنا پر انسان کیلئے رحمت کا گہوارہ بنی ہوئی ہے۔ اور اسی بنا پر یہ لوگ اس کی طرح طرح کی نعمتوں سے مستفید و فیضیاب ہو رہے ہیں۔ اور اس کائنات کو ہم ہی نے اپنی قدرت و عنایت سے تھام رکھا ہے۔ ورنہ ہم اگر چاہیں تو انکو انکے جملہ ساز و سامان سمیت زمین میں دھنسا دیں یا آسمان سے ان پر پتھر برسا دیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اللہ تعالیٰ کا عذاب کہیں سے بھی اور کسی بھی شکل میں آسکتا ہے۔ اس سے نچنت و نڈر اور بےخوف و بےفکر ہوجانا سخت خسارے کا سودا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو کائنات کی کوئی چیز ایسی نہیں جو انسان کو بالاضطرار نفع پہنچاتی ہو بلکہ ہر چیز خداوند قدوس کے حکم و ارشاد ہی سے نفع و نقصان پہنچاتی ہے۔ کوئی بھی چیز براہ راست انسان کے اختیار میں نہیں ہے بلکہ وہ خدائے پاک کے حکم وارشاد ہی سے اس کی نفع رسانی میں سرگرم عمل ہے جس کا طبعی تقاضا اور لازمی نتیجہ یہی ہے کہ انسان کسی بھی نعمت پر اکڑنے اور اترانے کی بجائے اپنے اس خالق ومالک کا شکر گزار بن جائے جس نے اس کو اس نعمت سے نوازا ہے اور اس کی بخشی ہوئی اس نعمت کو وہ خدا کی نافرمانی اور اس سے بغاوت کا ذریعہ بنانے کی بجائے اس کو اس کی خوشنودی و رضامندی اور اس کی اطاعت و فرماں برداری کا ذریعہ و وسیلہ بنائے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید -
25 نشانی عبرت میں غور و فکر کی دعوت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " بلاشبہ اس میں بڑی بھاری نشانی ہے ہر عبد منیب کے لیے "۔ سو اس میں نشانی ہے راہ حق و صداقت کو پہچاننے کی اور حق و باطل کے درمیان فرق وتمیز کرنے کی۔ نیز حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کے حلم و کرم اور اس کی رحمت و عنایت کی۔ نیز اس بات کی نشانی کہ جس قادر مطلق نے یہ سب کچھ پیدا فرمایا ہے اس کے لئے انسان کو دوبارہ پیدا کرنا کسی بھی طرح اور کچھ بھی مشکل نہیں ہوسکتا ۔ { اَوَ لَیْسَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوَاتِ وَالاَرْضَ بِقَادِرٍ عَلٰی اَنْ یَخْلُقَ مِثْلُہُمْ بَلٰی وہُوَ الْخَلاَّقُ الْعَلِیْمِْ } ۔ (یٰسٓ : 81) بہرکیف آسمان اور زمین کی اس کائنات میں اللہ تعالیٰ کی قدرت وحکمت اور اس کی وحدانیت ویکتائی کی عظیم الشان نشانی ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور اس میں بڑی بھاری نشانی موجود ہے اس بات کی کہ جو دعوت قرآن دے رہا ہے وہی حق و صدق اور کائنات کی طبیعت اور اس کی روح کے عین مطابق ہے کہ کائنات اللہ کا کام اور قرآن اس کا کلام ہے۔ اور ان دونوں کا منبع ومصدر ایک ہی ہے۔ اس لیے ان میں کمال درجے کا توافق و تطابق ہے۔
26 اِنابت الی اللہ کی عظمت شان کا ذکر وبیان : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ انابت و رجوع الی اللہ سعادت دارین سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اس میں بڑی بھاری نشانی ہے ہر رجوع کرنے والے بندے کیلئے "۔ کہ اس سے فائدہ ایسا ہی شخص اٹھا سکتا ہے جو اپنے رب کی طرف رجوع رہتا ہے اور مخلوق کے ان عجائب میں غور کرکے اپنے خالق ومالک کو پہچانتا ہے۔ ورنہ دنیا حیوانوں کی طرح کائنات کی ان نعمتوں سے طرح طرح کے فائدے تو اٹھاتی ہے مگر وہ اس بارے نہ سوچتی اور غور کرتی ہے کہ یہ سب کچھ پیدا کس نے کیا اور اس کا ہم پر حق کیا ہے ؟ اور اس کے اس حق کی ادائیگی کی شکل و صورت کیا ہوسکتی ہے ؟ اور نہ وہ اس کی کوئی فکر اور پروا کرتی ہے کہ اس سب کا نتیجہ و انجام کیا ہوگا وغیرہ وغیرہ۔ سو ایسے لوگ اس طرح کے تمام ضروری حقائق سے آنکھیں بند کرکے خالص حیوانی زندگی گزارتے اور محض بطن و فرج کی خواہشات کی تکمیل کے لئے جی رہے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف جس کے اندر حقیقت کی طلب، عبرت پذیری کی صلاحیت اور حق کی طرف متوجہ ہونے والا دل ہو، وہی اس سے مستفید اور فیضیاب ہوسکتا ہے۔ اور ایسوں ہی کیلئے ایسی نشانیاں کارگر ہوسکتی ہیں۔ اور جو ان اوصاف سے محروم ہوں گے ۔ والعیاذ باللہ ۔ تو ان کے لیے کوئی بھی نشانی کارگر نہیں ہوسکتی۔ سو انابت و رجوع الی اللہ کی دولت دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفراز کرنے والی دولت ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید وہو الہادیۃ الی سواء السبیل -
Ayah 34:1027 داتا سب کا اللہ تعالیٰ ہی ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " بلاشبہ ہم ہی نے داؤد کو فضیلت بخشی کہ دینے بخشنے والے اور سب کو عطاء کرنے والے ہم ہی ہیں۔ انبیاء و رسل بھی ہمارے ہی محتاج ہیں۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ نبی مختار کل نہیں ہوتا کہ جو چاہے کرے بلکہ وہ بھی اللہ پاک کی عطاء و بخشش کا محتاج ہوتا ہے۔ اور مختار کل وہ اللہ وحدہ لا شریک ہی ہے جسکے قبضہ قدرت میں زمین و آسمان کے سب خزانے ہیں۔ وہی اپنی مرضی و اختیار سے جسکو جو چاہے اور جب چاہے اور جیسے چاہے عطا فرمائے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو داتا سب کا اللہ وحدہ لاشریک ہی ہے۔ سب اسی کے در کے سوالی اور اسی کے محتاج ہیں۔ بہرکیف یہاں سے آگے تاریخ کے حوالے سے شکر گزاری اور نا شکری کی دو مثالیں پیش فرمائی گئی ہیں اور ان کا نتیجہ و انجام بھی بیان فرما دیا گیا۔ پہلی مثال حضرت داؤد اور سلیمان کی بیان فرمائی گئی ۔ علیہما الصلاۃ والسلام ۔ کہ ان کو اللہ تعالیٰ نے عظیم الشان بادشاہی، عظیم الشان علم و حکمت اور آسمان و زمین کی عظیم الشان نعمتوں سے نوازا اور سرفراز فرمایا تھا۔ مگر وہ ان نعمتوں کو پاکر کسی طرح کی سرکشی میں مبتلا نہیں ہوئے بلکہ اپنے خالق ومالک کی اطاعت و فرمانبرداری میں اور بھی جھک گیے۔ جس سے وہ اپنی رب کی مزید عنایات کے مستحق ہوئے۔ جبکہ دوسری مثال قوم سبا کی بیان فرمائی گئی جو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو پانے کے بعد مغرور و متکبر بن گئے اور رب کی شکر گزاری کی بجائے وہ اس کے نا شکرے بن گئے جس کے نتیجے میں بالآخر وہ اپنے آخری اور انتہائی ہولناک انجام کو پہنچ کر رہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
28 حضرت داؤد کے فضل و شرف کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اور بلاشبہ ہم ہی نے بخشا داؤد کو بڑا شرف و مقام "۔ کہ ان کو شرف نبوت اور کتاب الہٰی کی اس نعمت سے نوازا جو کہ اللہ پاک کے یہاں سے ملنے والا سب سے بڑا اعزازو انعام ہے۔ حکومت و سلطنت بخشی جو کہ دنیا والوں کی نگاہ میں سب سے بڑا مرتبہ و مقام ہے۔ پھر اس سلطنت و حکومت کے ساتھ اطاعت و بندگی کی وہ دولت لاوزال بھی ان کو نصیب فرمائی جس سے دنیا کی یہ فانی نعمتیں آخرت کی دائمی نعمتوں کا ذریعہ اور ان کے لئے مزید اضافے کا سبب بن گئیں۔ اس طرح آپ (علیہ السلام) نے شاہی میں فقیری کا بےمثال نمونہ پیش فرمایا۔ پھر مختلف دوسرے معجزات کے علاوہ آپکو وہ آواز بھی نصیب فرمائی گئی جو کہ ضرب المثل بن گئی اور لحن داؤدی ہی کے نام و عنوان سے مشہور ہوگئی۔ جس سے پہاڑ بھی محو تسبیح ہوجاتے اور اڑتے پرندے فضا میں تھم جاتے۔ پھر آپ کو سلیٰمن جیسا بیٹا بخشا جس کو شرف نبوت سے بھی نوازا اور عظیم الشان حکومت اور بادشاہی سے بھی سرفراز کیا۔ اور ظاہر ہے کہ یہ سب نعمتیں اور فضائل یکجا طور پر اور کسی کو نصیب نہیں ہوئیں ۔ فالحمد للہ رب العالمین ۔ سو یہ عبدیت اور انابت و رجوع الی اللہ کا ایک خاص مظہر تھا جو حضرت داؤد کی شخصیت میں ظاہر ہوا تھا۔ جو کہ حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کے یہاں اصل مطلوب ہے اور جو دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ ہے ۔ وباللہ التوفیق -
29 پہاڑوں کو حضرت داؤد کے ساتھ تسبیح کا حکم وارشاد : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اے پہاڑو، تم بھی تسبیح کرو انکے ساتھ " اور پہاڑوں کی یہ تسبیح واقعتہ سنی اور سمجھی جانے والی تسبیح تھی کہ معجزے کا تقاضا یہی ہے نہ کہ وہ گونج اور صدائے باز گشت جو کہ پہاڑوں میں آواز کے جواب میں پیدا ہوجاتی ہے جیسا کہ بعض مرعوب ذہنیت کے ماروں اور روشن خیالی کے دعویداروں نے کہا۔ کیونکہ پہاڑوں کی یہ گونج اور ایسی صدائے بازگشت تو ایک عام چیز ہے جو ہر جگہ اور ہر کسی کو حاصل ہوسکتی ہے۔ اس کو ایک معجزہ اور خصوصیت کیونکر قرار دیا جاسکتا ہے ؟ سو پہاڑوں کی یہ تسبیح جس کا یہاں ذکر فرمایا جا رہا ہے اپنے ظاہر اور معروف و متبادر معنیٰ و مفہوم ہی پر محمول ہے۔ (روح، مدارک، معارف اور قرطبی وغیرہ) ۔ { اوبی } " تاویب " سے امر کا صیغہ ہے جو " اوب " سے ماخوذ ہے جس کے معنیٰ لوٹنے اور واپسی کے ہوتے ہیں۔ سو " تاویب "، " ترجیع " کے معنیٰ میں ہوگا جس کے معنیٰ ہوتے ہیں کسی کے سر میں اپنا سر ملانا۔ اس کی آواز کو دہرانا اور اس سے ہم آہنگی اور ہم نوائی پیدا کرنا۔ یوں تو اس کائنات کی ہر چیز نصوص صریحہ کے مطابق اللہ کی تسبیح کرتی ہے اور جب وہ تسبیح کرتی ہے تو لازما تسبیح کرنے والوں کی ہمنوائی بھی کرتی ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد کو جس خاص لحن سے نوازا تھا اسی طرح اپنے خاص حکم سے پہاڑوں اور پرندوں کو حضرت داؤد کی تسبیح وتحمید میں ان کی ہمنوائی کا حکم دیا تھا۔ تاکہ اس طرح تسبیح خداوندی کا ایک خاص سمان بندھ جائے ۔ والحمد للہ جل وعلا ۔
30 حضرت داؤد کے لیے لوہے کو نرم کردینے کے انعام کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا " اور ہم نے ان کیلئے لوہے کو بھی نرم کردیا تھا "۔ جس سے آپ نہایت سہولت اور آسانی کے ساتھ جو چاہتے اور جیسا چاہتے بنا لیتے۔ سو لوہے کو آپ کے لئے موم کی طرح نرم کردیا گیا تھا جس کے باعث آپ کو اسے گرم کرنے اور کوٹنے وغیرہ کی ضرورت ہی نہیں پڑتی تھی۔ اس طرح یہ آپ کا ایک اور امتیاز اور اعجاز تھا جس سے بطور خاص قدرت کی فیاضیوں نے آپ (علیہ السلام) کو نوازا تھا ۔ علی نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام ۔ اور آپ (علیہ السلام) کے ہاتھ پر لوہے کو نرم کردینے کے اسی معجزے کا نتیجہ تھا کہ آپ (علیہ السلام) لوہے کی باریک کڑیوں کو جوڑ کر ایسی ڈھیلی ڈھالی زرہیں بناتے جن کا پہننا اور استعمال کرنا نہایت آسان ہوتا اور حفاظت کے لحاظ سے وہ لوہے کا کام دیتی تھیں۔ اسی لیے یہاں پر " سٰبغٰت " کا لفظ استعمال فرمایا گیا ہے۔ یعنی ایسی ڈھیلی ڈھالی زرہیں جو پورے جسم کو ڈھانک لیتی تھیں۔ سو لوہے سے ایسا ڈھیلا ڈھالا لباس تیار کرلینا جنکی کڑیوں کے جوڑنے میں پورا تناسب بھی ملحوظ رہے اور جو جنگی ضرورتوں کی تکمیل بھی کرتا ہے ایک اعلیٰ قسم کا سائنسی انکشاف تھا جس سے حضرت داؤد (علیہ السلام) کو نوازا گیا تھا۔ اور اس کی اولیت کا سہرا حضرت داؤد (علیہ السلام) ہی کے سر ہے۔ اور اپنی اس ایجاد سے انہوں نے دفاعی اسلحہ میں ایک نہایت بیش قیمت اضافہ کردیا تھا جس سے ان کی فوجی قوت انکے مخالفین کے مقابلے میں بہت بڑھ گئی تھی۔ سو اس ارشاد سے حضرت داؤد کی رزم کا حال بیان فرمایا گیا جبکہ اوپر آپ کی بزم کا حال بیان فرمایا گیا ہے۔ سو آپ اسی بنا پر ایسی ڈھیلی ڈھالی { سابغات } زرہیں بناتے تھے جو کپڑے کے لباس کی طرح نرم ہوتی تھیں لیکن لوہے کی سختی اور حفاظت کا کام بھی دیتی تھیں۔ اور کپڑے کے لباس کی طرح ان کا پہننا اور استعمال کرنا بھی نہایت آسان ہوتا تھا۔ سو اس طرح یہ ایک منفرد اعزاز قرار پاتا ہے۔
Ayahs 34:11–1231 سائنس اور فن کے لیے انقلاب آفریں باتوں کا درس : سو اس سے سائنس اور فن کے لیے دو اہم اور انقلاب آفریں باتوں کی ہدایت وتعلیم فرمائی گئی ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " بیشک میں پوری طرح دیکھتا ہوں ان سب کاموں کو جو تم لوگ کرتے ہو "۔ تمہارا کوئی کام مجھ سے پوشیدہ نہیں رہ سکتا۔ پس تم اپنے ہر عمل کا بدلہ پاؤ گے۔ لہذا صدق و اخلاص کے ساتھ نیک اعمال کا ذخیرہ جمع کئے جاؤ کہ پھر یہ موقع ملنے والا نہیں۔ نیز اس ضمن میں اس بات کو بھی بہرطور یاد رکھنا کہ زرہ سازی کے اس فن میں تم کو جس کمال اور مہارت سے نوازا گیا ہے اس کو پاکر تم کہیں بہک نہیں جانا۔ اور اس کو کہیں زمین میں فساد پھیلانے کا ذریعہ نہیں بنا لینا۔ سو اس ارشاد میں اس فن میں ترقی کے تقاضے کو بیان فرمایا گیا ہے کہ اس کو خیر کا ذریعہ اور وسیلہ بنانا شر کا نہیں۔ سو اس ارشاد میں دور حاضر کے سائنس دانوں اور دوسرے تمام فن کاروں کیلئے دو اہم اور عظیم الشان درس ہیں جنکو اپنانے اور پیش نظر رکھنے سے سائنس کی یہ حیرت انگیز ترقی انسان اور اس پوری کائنات اور ساری مخلوق کیلئے خیر کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ اول یہ کہ انسان یہ سمجھے کہ یہ سب کچھ اللہ ہی کی عنایت اور اسی کی بخشش وعطاء ہے۔ اس لیے اس وحدہ لاشریک کا دل و جان سے شکر ادا کیا جائے۔ اور دوسرے یہ کہ انسان ایسی ہر ترقی کو خداوند قدوس کی عنایت اور اس کی عطا جانتے ہوئے اور اس کو یہ سمجھتے ہوئے استعمال کرے کہ جس خدا نے مجھے یہ سب کچھ عطا فرمایا ہے وہ مجھے دیکھ رہا ہے کہ میں اس کو کہاں، کس طرح اور کن مقاصد کیلئے استعمال کر رہا ہوں۔ سو ان دو بنیادی حقیقتوں کو فراموش کردینے سے سائنس انسان کیلئے ایک عظیم خطرہ بن گئی ہے۔ اور ایسی اور اس حد تک کہ آج پوری دنیا بارود کے ایک ڈھیر پر کھڑی ہے۔ اور پتہ نہیں اسکا انجام کیا ہوگا ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اس ارشاد سے فن کو اخلاقی تقاضوں کے ما تحت رکھنے کی ہدایت فرمائی گئی تاکہ اس طرح سائنس اور فن انسان اور انسانیت کے لیے خطرے اور شر کی بجائے اس کے لیے خیر اور بہتری کا ذریعہ بنے نہ کہ ہلاکت و تباہی کا ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اس ارشاد سے فن کو اخلاقی تقاضوں کے ما تحت رکھنے کی ہدایت فرمائی گئی تاکہ اس طرح سائنس اور فن انسان اور انسانیت کے لیے خطرے اور شر کی بجائے اس کے لیے خیر اور بہتری کا ذریعہ بنے نہ کہ ہلاکت و تباہی کا مگر افسوس کہ دنیا اس سے غافل ہے جس کے باعث پوری دنیا پر وحشت اور درندگی کا راج ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 34:1336 " محاریب " سے مقصود و مراد ؟ : " المحاریب "، " محراب " کی جمع ہے۔ یہ اس بڑی عمارت کو کہا جاتا ہے جو کہ محل سے چھوٹی ہو۔ اس سے بڑی کو " محل " یعنی " قصر " کہا جاتا ہے۔ اور اس کی عمدگی کی بنا پر اس کو " محراب " کہا جاتا ہے۔ (ابن کثیر وغیرہ) ۔ بہرکیف یہ ان کاموں کی تفصیل بیان فرمائی جا رہی ہے جن کیلئے حضرت سلیمن (علیہ السلام) اپنے ان مسخر جنوں کو استعمال کیا کرتے تھے۔ اور یہ سب کے سب کام جیسا کہ ظاہر ہے تعمیری، تمدنی اور اصلاحی نوعیت کے تھے۔ سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ حضرت سلیمن (علیہ السلام) کا ان سفلی کاموں اور دوسری خرافات سے کوئی تعلق اور واسطہ نہیں تھا جو یہود بےبہبود ان کی طرف منسوب کرتے تھے۔ اور جنات سے جو کام آنجناب (علیہ السلام) نے لیے وہ سب تعمیری، تمدنی اور اصلاحی نوعیت کے تھے۔ لیکن یہود بےبہبود نے اس بارے بےبنیاد اور من گھڑت باتوں کا ایک طومار کھڑا کردیا۔ یہاں تک کہ ان بدبختوں نے آنجناب کی بےمثال حکومت کو جادو اور جنوں کی کارستانی قرار دیا ۔ والعیاذ باللہ ۔ افسوس کہ انہی بےبنیاد اور من گھڑت باتوں اور قصوں کا بہت بڑا حصہ ہماری تفسیر و تاریخ وغیرہ کی مختلف کتابوں میں بھی آگیا ہے جن کا اکثر حصہ خود ساختہ اور من گھڑت اباطیل و خرافات کا مجموعہ ہے۔ لیکن اس کو مختلف عنوانوں سے پھیلایا جاتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ حقیقت بہرحال وہی ہے جس کی نشاندہی قرآن پاک نے فرما دی ہے اور جس کا ذکر ہم نے اوپر کردیا ہے ۔ والحمد للہ جل وعلا -
37 " تماثیل " سے مراد اور مقصود ؟ : یعنی غیر جاندار چیزوں کی تصویریں وغیرہ جس کو سینری اور منظر وغیرہ کہا جاتا ہے۔ اس کا معنیٰ مطلق تصویریں نہیں جیسا کہ عام طور پر سمجھا جاتا ہے۔ کیونکہ جاندار اشیاء کی تصویریں اس زمانے میں بھی حرام تھیں جیسا کہ ہماری شریعت میں حرام ہیں۔ کیونکہ حضرت سلیٰمن جس شریعت موسوی کے پیرو تھے اس میں بھی جاندار چیزوں کی تصویریں اور مورتیاں بنانا اسی طرح حرام تھا جس طرح کہ اسلام میں حرام ہے۔ چناچہ تورات میں تمام تر تحریفات کے باوجود آج بھی جاندار چیزوں کی تصویر اور مجسمہ سازی کی حرمت کا ذکر موجود ہے۔ مثال کے طور پر ملاحظہ ہو خروج : باب 20 آیت 4، احبار : باب 26 آیت 1، استشنا : باب 4 آیت 16 ۔ 18 اور استشنا : باب 27 آیت 15 وغیرہ۔ یہود بےبہبود نے حضرت سلیٰمن پر جو مختلف تہمتیں لگائیں ان میں سے ایک یہ بھی تھی کہ آپ (علیہ السلام) جاندار چیزوں کے مجسمے اور ان کی مورتیاں بناتے تھے۔ اور اس ضمن میں ان لوگوں نے مختلف روایات وضع کیں اور ان کو انہوں نے طرح طرح سے پھیلایا اور رواج دیا یہاں تک کہ انہی اسرائیلی روایات کی بنا پر عام طور پر ہمارے مفسرین کرام بھی کہہ دیتے ہیں کہ ان کی شریعت میں تصویر اور مجسمہ سازی حرام نہیں تھی۔ اور لفظِ " تمثال " کے مفہوم میں کسی جاندار کی تصویر کا ہونا سرے سے کوئی ضروری امر ہے ہی نہیں بلکہ " تمثال " تو ہر اس چیز کو کہا جاتا ہے جو کسی دوسری چیز کے نمونے اور نقشے پر بنائی جائے۔ قطع نظر اس سے کہ وہ کسی جاندار کی ہے یا بےجان کی۔ " التمثال اسم للشیء المصنوع مشبھا بخلق مّنْ خلق اللہ " (لسان العرب، القرطبی وغیرہ) ۔ اور " تماثیل " ان اشیاء کو کہا جاتا ہے جن کے نقش و نگار وغیرہ نہ ہوں۔ (الکبیر وغیرہ) ۔ سو " تمثال " کے اصل معنیٰ محض کسی چیز کی شبیہ اور پیکر کے ہوتے ہیں۔ اس کے لیے کسی چیز کا ذی روح ہونا سرے سے اس کی مفہوم میں داخل ہی نہیں۔
38 " جفان " اور " جواب " کا معنیٰ و مفہوم ؟ : " جفان " جمع ہے " جفنہ " کی۔ بمعنی " بڑا پیالہ " جس کو لگن بھی کہا جاتا ہے۔ اور " جواب " جمع ہے " جابیہ " کی بمعنی " بڑا حوض "۔ یعنی حضرت سلیمان نے مہمان نوازی کیلئے ایسے بڑے بڑے انتظامات فرما رکھے تھے تاکہ ہزاروں لوگوں کے کھانے کھلانے اور ان کی مہمان نوازی کا انتظام ہوسکے۔ اور " راسیات " جمع ہے " راسیہ " کی جسکے معنیٰ " ٹھکی ہوئی "، " جمی ہوئی " اور " گاڑی ہوئی " چیز کے آتے ہیں۔ اسی لیے یہ لفظ پہاڑوں کی صفت کیلئے آتا ہے۔ اور یہاں پر یہ لفظ ان دیگوں کی صفت کیلئے آیا ہے جو حضرت سلیمن نے مہمانوں کی خدمت کیلئے تیار کروا رکھی تھیں۔ وہ اتنی بڑی اور اس قدر بھاری بھرکم ہوتی تھیں کہ انکو آسانی کے ساتھ ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل نہیں کیا جاسکتا تھا۔ وہ ایک ہی جگہ چولہوں پر نصب رہتی تھیں اور بیک وقت ان میں منوں کے حساب سے کھانا پکتا تھا۔ سو اوپر کے ارشاد سے حضرت سلیمان کے تمدنی آرٹ کے پہلو کو نمایاں فرمایا گیا اور اس ارشاد میں ان کی شان جود و کرم کو واضح فرمایا جا رہا ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ جنات حضرت سلیمن کیلئے حوضوں جیسے بڑے بڑے لگن اور ایسی بھاری بھرکم دیگیں بناتے جو ایک ہی جگہ لنگر انداز رہتی تھیں۔ سو حوضوں کی طرح کے ان لگنوں اور ان بھاری بھرکم دیگوں کا ذکر حضرت سلیمان کی فیاضی اور آپ کے جود و سخا کی تعبیر کیلئے ہے۔ سو حضرت سلیمان کے ہاتھوں جو تمدن وجود میں آیا تھا اس میں صرف سائنس، آرٹ اور شان و شوکت ہی کی نمائش نہیں تھی۔ بلکہ اس میں اس کے پہلو بہ پہلو غریب پروری اور انسان دوستی کا بھی اس قدر وسیع پیمانے پر اور ایسا فیاضانہ اہتمام و انتظام تھا۔ اسی بنا پر اللہ تعالیٰ نے اس کی تحسین فرمائی۔ سو جس تمدن میں یہ دونوں پہلو پورے توازن کے ساتھ موجود ہوں وہ مبارک تمدن ہے۔ اس کے برعکس جہاں آرٹ کی نمائش اور اس طرح کا طمطراق تو ہو لیکن غربا فاقے کرتے ہوں وہ شیطانی تمدن ہے جو تعریف کے لائق نہیں مذمت کے قابل ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم من کل زیغ و ضلال وسوء و انحراف -
39 حقِّ نعمت کا تقاضا حضرت واہب مطلق ۔ جل وعلا ۔ کی شکر گزاری : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " عمل کرو تم اے داؤد کے خاندان والو، شکر کے طور پر "۔ یعنی دل، جان اور جوارح، تینوں سے اس واہب مطلق ۔ جَلَّ و علاشانہ ۔ کا۔ (جامع البیان، المراغی وغیرہ) کہ نعمت کا تقاضا یہی ہے کہ اس پر صدق دل سے حضرت حق ۔ جل و علا ۔ کا شکر ادا کیا جائے کہ یہ اس واہب مطلق جل و علا شانہ کا اس کے بندوں پر حقِّ واجب ہے۔ اور اس کا صلہ وثمرہ یہ ملیگا کہ اس سے نعمت میں برکت ہوگی اور اس میں دوام نصیب ہوگا ۔ اللہ توفیق بخشے ہر حال میں اور ہر نعمت پر۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔ بہرکیف اس ارشاد ربانی میں اس فضل و کرم اور انعام و احسان کا حق بیان فرمایا گیا ہے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان پر فرمایا۔ سو آپ کو ہدات فرمائی گئی کہ علم و سائنس کی ایسی ترقی اور اس قدر ارضی و سماوی خیرات و برکات پر اپنے رب کا شکر ادا کرو۔ اور اس شکرگزاری میں ان نعمتوں میں سے ہر نعمت کو اس کے صحیح محل اور مصرف میں صرف اور خرچ کرنا۔ اور ہر قدم صحیح سمت ہی میں اٹھانے کی کوشش کرنا۔ اس نصیحت کا تقاضا ہر نعمت بھی اپنی زبان حال سے کرتی ہے۔ اور اس بارے حضرت سلیمان کو بذریعہ وحی بھی یہی ہدایت فرمائی گئی تھی جس کا ذکر زبور اور امثال میں بار بار آتا ہے۔ یہاں پر آل داؤد سے خطاب کے اندر حضرت سلیمان ۔ (علیہ السلام) ۔ ان کی آل و اولاد اور ان کی جملہ اتباع کے لیے یہ خاص تذکیر و یاددہانی بھی پائی جاتی ہے کہ آپ اپنے باپ کے نقش قدم کی پیروی کرو۔ اس لیے کہ یہ تمام عظمت و حشمت آپ کو انہی سے وراثت میں ملی ہے اور ان کو یہ سب کچھ اللہ پاک نے ان کی شکر گزاری ہی پر دیا بخشا تھا ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو شکر نعمت ایک عظیم الشان نعمت اور عنایت خداوندی ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید وہو الہادی الی سواء السبیل -
40 شکر گزاری کی توفیق وسعادت کم ہی لوگوں کو ملتی ہے : سو ارشاد فرمایا گیا " اور کم ہی لوگ میرے بندوں میں شکرگزار ہوتے ہیں "۔ معلوم ہوا کہ اکثریت ناشکرے اور غلط کار لوگوں ہی کی ہوتی ہے۔ شکر گزار اور اچھے لوگ تھوڑے ہی ہوتے ہیں۔ کل بھی یہی تھا اور آج بھی یہی ہے۔ بس عوام کی اکثریت کا کسی کے حق میں ہوجانا اس کی حقانیت کی دلیل نہیں قرار پاسکتا۔ جس طرح کہ عام طور پر سمجھا اور مانا جاتا ہے۔ بہرکیف اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اللہ تعالیٰ کی بخشی ہوئی نعمتوں پر اس کا شکر ادا کرنے والے لوگ تھوڑے ہی ہوتے ہیں۔ زیادہ تر لوگ ایسے ہی ہوتے ہیں جو ایسے موقع پر خداوند قدوس کے باغی اور نافرمان بن جاتے ہیں۔ سو اس سے حکمت دین کا یہ نقطہ پھر واضح ہوجاتا ہے کہ صبر و شکر میں سب سے زیادہ مشکل امتحان شکر کا ہوتا ہے۔ اس لیے حضرت سلیمان کو اس موقع پر یہ خاص اور اہم تنبیہ فرمائی گئی کہ شکر کی راہ کوئی آسان راہ نہیں بلکہ یہ نہایت کٹھن راہ ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنی نعمتیں بخشتا تو بہتوں کو ہے لیکن اس واہب مطلق کی ان نعمتوں کو پا کر ان کا شکر اور ان کا حق ادا کرنے والے تھوڑے ہی نکلتے ہیں۔ زیادہ تر باغی و سرکش اور نافرمان ہی نکلتے ہیں۔ سو صبر و شکر میں سے شکر کا امتحان زیادہ مشکل ہوتا ہے جیسا کہ ابھی اوپر بھی گزرا۔ حضرت عیسیٰ نے اسی بات کو اس مثال سے بیان فرمایا کہ اونٹ کا سوئی کے ناکے سے گزر جانا آسان ہے پر دولت مند خدا کی بادشاہی میں داخل نہیں ہوسکتا اور دولت مند سے مراد اصل میں متکبر ہے۔ کیونکہ متکبروں کے تکبر کا اصل اور بڑا سبب دنیاوی مال ودولت ہی ہوتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -