34. Surah Saba

سبإSheba · 54 ayahsتفسیرِ جلالین

Ayahs 34:1–9

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ وَ لَهُ الْحَمْدُ فِی الْاٰخِرَةِ١ؕ وَ هُوَ الْحَكِیْمُ الْخَبِیْرُ Open ayah 34:1 in the Quran reader

سب تعریف خدا ہی کو (سزاوار) ہے (جو سب چیزوں کا مالک ہے یعنی) وہ کہ جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب اسی کا ہے اور آخرت میں بھی اسی کی تعریف ہے اور وہ حکمت والا اور خبردار ہے

یَعْلَمُ مَا یَلِجُ فِی الْاَرْضِ وَ مَا یَخْرُجُ مِنْهَا وَ مَا یَنْزِلُ مِنَ السَّمَآءِ وَ مَا یَعْرُجُ فِیْهَا١ؕ وَ هُوَ الرَّحِیْمُ الْغَفُوْرُ Open ayah 34:2 in the Quran reader

جو کچھ زمین میں داخل ہوتا ہے اور جو اس میں سے نکلتا ہے اور جو آسمان سے اترتا ہے اور جو اس پر چڑھتا ہے سب اسکو معلوم ہے اور وہ مہربان (اور) بخشنے والا ہے

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَا تَاْتِیْنَا السَّاعَةُ١ؕ قُلْ بَلٰى وَ رَبِّیْ لَتَاْتِیَنَّكُمْ١ۙ عٰلِمِ الْغَیْبِ١ۚ لَا یَعْزُبُ عَنْهُ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَ لَا فِی الْاَرْضِ وَ لَاۤ اَصْغَرُ مِنْ ذٰلِكَ وَ لَاۤ اَكْبَرُ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍۗۙ Open ayah 34:3 in the Quran reader

اور کافر کہتے ہیں کہ (قیامت کی) گھڑی ہم پر نہیں آئے گی کہہ دو کیوں نہیں (آئے گی) میرے پروردگار کی قسم وہ تم پر ضرور آکر رہے گی (وہ پروردگار) غیب کا جاننے والا (ہے) ذرہ بھر چیز بھی اس سے پوشیدہ نہیں (نہ) آسمانوں میں اور نہ زمین میں اور کوئی چیز ذرے سے چھوٹی یا بڑی ایسی نہیں مگر کتاب روشن (لکھی ہوئی) ہے

لِّیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِیْمٌ Open ayah 34:4 in the Quran reader

اس لئے کہ جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک کرتے رہے ان کو بدلا دے یہی ہیں جن کے لئے بخشش اور عزت کی روزی ہے

وَ الَّذِیْنَ سَعَوْ فِیْۤ اٰیٰتِنَا مُعٰجِزِیْنَ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مِّنْ رِّجْزٍ اَلِیْمٌ Open ayah 34:5 in the Quran reader

اور جنہوں نے ہماری آیتوں میں کوشش کی کہ ہمیں ہرا دیں گے ان کے لئے سخت درد دینے والے عذاب کی سزا ہے

وَ یَرَى الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ هُوَ الْحَقَّ١ۙ وَ یَهْدِیْۤ اِلٰى صِرَاطِ الْعَزِیْزِ الْحَمِیْدِ Open ayah 34:6 in the Quran reader

اور جن لوگوں کو علم دیا گیا ہے وہ جانتے ہیں کہ جو (قرآن) تمہارے پروردگار کی طرف سے تم پر نازل ہوا ہے وہ حق ہے اور (خدائے) غالب اور سزاوار تعریف کا راستہ بتاتا ہے

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا هَلْ نَدُلُّكُمْ عَلٰى رَجُلٍ یُّنَبِّئُكُمْ اِذَا مُزِّقْتُمْ كُلَّ مُمَزَّقٍ١ۙ اِنَّكُمْ لَفِیْ خَلْقٍ جَدِیْدٍۚ Open ayah 34:7 in the Quran reader

اور کافر کہتے ہیں کہ بھلا ہم تمہیں ایسا آدمی بتائیں جو ہمیں خبر دیتا ہے کہ جب تم (مر کر) بالکل پارہ پارہ ہوجاؤ گے تو نئے سرے سے پیدا ہوں گے

اَفْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَمْ بِهٖ جِنَّةٌ١ؕ بَلِ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ فِی الْعَذَابِ وَ الضَّلٰلِ الْبَعِیْدِ Open ayah 34:8 in the Quran reader

یا تو اس نے خدا پر جھوٹ باندھ لیا ہے یا اسے جنون ہے بات یہ ہے کہ جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے وہ آفت اور پرلے درجے کی گمراہی میں (مبتلا) ہیں

اَفَلَمْ یَرَوْا اِلٰى مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اِنْ نَّشَاْ نَخْسِفْ بِهِمُ الْاَرْضَ اَوْ نُسْقِطْ عَلَیْهِمْ كِسَفًا مِّنَ السَّمَآءِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّكُلِّ عَبْدٍ مُّنِیْبٍ۠ Open ayah 34:9 in the Quran reader

کیا انہوں نے اس کو نہیں دیکھا جو ان کے آگے اور پیچھے ہے یعنی آسمان اور زمین اگر ہم چاہیں تو ان کو زمین میں دھنسا دیں یا ان پر آسمان کے ٹکڑے گرا دیں اس میں ہر بندے کے لئے جو رجوع کرنے والا ہے ایک نشانی ہے

آیت نمبر 1 تا 9 ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے، تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے سزاوار ہیں جس کی ملکیت میں وہ سب کچھ ہے جو آسمانوں اور زمین میں ہے، اللہ تبارک و تعالیٰ نے (اس کلام) کے ذریعہ اپنی تعریف فرمائی ہے، اور مراد اس کلام سے، اس کلام کے مضمون کے ذریعہ، کہ وہ ثبوت حمد ہے تعریف کرنا ہے، اور حمد اللہ تعالیٰ کے لئے صفات کمالیہ کا بیان کرنا ہے ملک کے اعتبار سے اور تخلیق کے اعتبار سے اور غلام ہونے کے اعتبار سے اور دنیا کے مانند آخرت میں بھی اسی کی حمد ہے، اس کے اولیاء جب جنت میں داخل ہوں گے تو اس کی حمد بیان کریں گے وہ اپنے فعل میں بڑی حکمتوں والا ہے اور اپنی مخلوق سے باخبر ہے اور وہ ہر اس شئ سے واقف ہے جو زمین میں داخل ہوتی ہے جیسا کہ پانی وغیرہ اور اس شئ سے (بھی) جو زمین سے نکلتی ہے مثلاً گھاس وغیرہ اور اس سے (بھی) جو آسمان سے نازل ہوتی ہے جیسا کہ رزق وغیرہ اور اس سے بھی جو آسمان کی طرف چڑھتی ہے (مثلاً ) اعمال وغیرہ وہ اپنے اولیاء پر رحم کرنے والا ہے (اور) ان کو معاف کرنے والا ہے اور کافر کہتے ہیں کہ ہم پر قیامت نہیں آئے گی آپ ان سے کہہ دیجئے قسم ہے میرے رب کی جو عالم الغیب ہے کہ وہ تم پر یقیناً آئے گی (عالم) کے جر کی صورت میں (رَبِّی) کی صفت ہے اور رفع کی صورت میں مبتداء کی خبر ہے اور ایک قراءت میں علاّمٍ جر کے ساتھ ہے اس سے ایک ذرہ برابر کوئی چیز پوشیدہ نہیں نہ آسمانوں میں اور نہ زمین میں، ذرہ، صغیر ترین چیونٹی کو کہتے ہیں، بلکہ اس سے چھوٹی اور بڑی چیز کھلی کتاب میں موجود ہے اور وہ لوح محفوظ ہے تاکہ روز قیامت وہ ایمان والوں کو اور نیکوکاروں کو اچھا صلہ عطا کرے، یہی لوگ ہیں جن کے لئے مغفرت اور جنت میں عزت کی روزی ہے اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں قرآن کو باطل کرکے (رسول) کو نیچا دکھانے کی کوشش کی اور ایک قراءت میں یہاں اور بعد میں معاجِزینَ ہے یعنی ہم کو عاجز فرج کرتے ہوئے یا ہم کو مغلوب گمان کرتے ہوئے، کہ ہم سے بچ کر نکل جائیں گے، ان کے یہ گمان کرنے کی وجہ سے کہ نہ بعث ہے اور نہ عقاب، ایسے لوگوں کے لئے بدترین عذاب ہے اَلِیْمٌٍ بمعنی مؤلم جر اور رفع کے ساتھ رجزٍ کی یا عذابٌ کی صفت ہے اور جن لوگوں کو علم دیا گیا ہے (یعنی) اہل کتاب میں سے (آپ ﷺ پر) ایمان لانے والے جیسا کہ عبداللہ بن سلام اور ان کے اصحاب اس قرآن کو جو آپ پر آپ کے رب کی جانب سے نازل کیا گیا ہے سمجھتے ہیں کہ وہ حق ہے (ھو) یَرَیٰ کے دو مفعولوں کے درمیان فصل ہے اور وہ عزت والے مستحق ستائش خدا کے راستہ کی طرف رہنمائی کرتا ہے، اور یہ کافر کہتے ہیں یعنی آپس میں تعجب کے طور پر کہتے ہیں کیا ہم تم کو ایک ایسا شخص بتائیں ؟ وہ محمد ہے جو تم کو اس کی خبر دیتا ہے کہ جب تم پوری طرح ریزہ ریزہ ہوجاؤ گے (ممزق) بمعنی تمزیق ہے تب تم کو ازسرنو پیدا کیا جائیگا نہ معلوم اس شخص نے اللہ پر بہتان لگایا ہے ؟ (اَفْتَریٰ ) ہمزہ کے فتحہ کے ساتھ، استفہام کے لئے ہے اس ہمزۂ استفہام کی وجہ سے ہمزہ وصل سے مستغنی ہوگیا یا اس کو جنون ہے ؟ جس کی وجہ سے یہ ایسی خیالی باتیں کرتا ہے، اللہ نے فرمایا بلکہ (حقیقت یہ ہے) جو لوگ آخرت پر یقین نہیں رکھتے جو کہ بعث و حساب پر مشتمل ہے وہ آخرت میں عذاب میں اور دنیا میں حق سے دوری کی گمراہی میں ہیں کیا یہ لوگ اپنے آگے پیچھے اپنے اوپر اور نیچے آسمان اور زمین کو نہیں دیکھتے ؟ اگر ہم چاہیں تو انہیں زمین میں دھنسا دیں یا ان پر آسمان کے ٹکڑے گرادیں (کِسَفًا) میں سین کے سکون اور فتحہ کے ساتھ اور ایک قراءت میں تینوں افعال میں ی کے ساتھ ہے یقیناً اس نظر آنے والی چیز میں رجوع کرنے والے بندے کے لئے دلیل ہے یعنی اپنے رب کی جانب رجوع کرنے والے بندے کے لئے (ایسی) دلیل کہ جو اللہ تعالیٰ کے بعث اور ہر مشیئت پر قادر ہونے پر دلالت کرتی ہے۔ تحقیق و ترکیب وتسہیل وتفسیری فوائد قولہ : وَمَا یَعْرُجُ فِیْھَا . یَعْرُجُ کا صلہ الیٰ آتا ہے نہ کہ فِی مگر چونکہ یَعرُجُ اِسْتِقْرَار کے معنی کو متضمن ہے، اس لئے اس کا تعدیہ فِی کے ذریعہ درست ہے۔ قولہ : قُلْ لَھُمْ بَلیٰ ، بَلیٰ نفی کو رد کرنے اور منفی کو ثابت کرنے کے لئے آتا ہے، مشرکین نے کہا تھا لاَ تَاْتِیْنَا السَّاعَۃُ ان کے اس قول کو رد کرتے ہوئے فرمایا بَلیٰ کیوں نہیں ؟ ضرور آنے والی ہے ای لیس الامر الا اتیانھا . قولہ : ورَبِّی لتا تِیَنَّکُمْ میں واؤ قسمیہ جارہ ہے، یہ اثبات نفی کی تاکید کے لئے ہے لام جواب قسم کے لئے ہے، تأتِیَنَّکُمْ فعل مضارع مبنی برفتحہ بانون تاکید ثقیلہ ہے، یہ تیسری تاکید ہے، اور کُمْ مفعول بہ ہے۔ قولہ : عالِمِ الْغَیْبِ جر کی صورت میں رب کی صفت یا بدل ہے عالِمٌ مبتداء محذوف کی خبر ہونے کی وجہ سے مرفوع بھی ہوسکتا ہے، ای ھُوَ عَالِمُ الْغَیْبِ ، عَالِمُ الْغَیْبِ مبتداء لا یَعْزُبُ اس کی خبر یَعْزُبُ جمہور کی قراءت میں زا کے ضمہ کے ساتھ ہے، اور کسائی کے نزدیک زا کے کسرہ کے ساتھ ہے (ن، ض) غُزُوْبًا مخفی ہونا، دور ہونا۔ قولہ : کااَصْغَرُ مبتداء مِنْ ذٰلِکَ اس کی خبر، یہ جملہ لا یَغْزُبُ کی تاکید کے لئے ہے۔ قولہ : لِیَجْزِیَ الَّذِیْنَ آمَنُوْا . لَتَا تِیَنَّکُمْ کی علت ہے یعنی قیامت ضرور آئے گی تاکہ اللہ تم کو صلہ دے۔ قولہ : اُولٰٓئِکَ مبتداء لَھُم خبر مقدم ومَغْفِرَۃٌ مبتداء مؤخر جملہ اسمیہ ہو کر اُولٰٓئِکَ مبتداء کی خبر، اور رزقٌ کریمٌ کا موصوف صفت سے مل کر مَغْفِرَۃٌ پر عطف ہے۔ قولہ : وَالَّذِیْنَ سَعَوْ موصول صلہ سے مل کر مبتداء اُولٰئِکَ اور اس کا مابعد خبر دوسری ترکیب یہ بھی ہوسکتی ہے کہ وَالَّذِیْنَ سَعَوْ کا عطف ماقبل الَّذِیْنَ آمَنُوْا پر ہوا ای وَیَجْزِی الَّذِیْنَ سَعَوْ اس صورت میں بعد والا اولٰئِکَ جملہ مستانفہ ہوگا، اور ماقبل والا اولٰئکَ اور اس کا ماتحت معطوفتین کے درمیان جملہ معترضہ ہوگا۔ قولہ : فیمایاتی ای فی آخر السورۃِ. قولہ : مقدِّرینَ عِجْزَنَا اَوْمُسَابِقِیْنَ لَنَا اس میں لف و نشر مرتب ہے، مقدرین پہلی قراءت کی تشریح ہے اور مُسَابِقِیْنَ لَنَا دوسری قراءت کی تشریح ہے اور مُقَدِّرِیْنَ کا مطلب ہے مُعْتَقِدِیْنَ ۔ قولہ : مُعَاجِزِیْنَ سے مراد مُسَابقینَ ہے مسَابقۃ پر معَاجزۃ کا اطلاق اس لئے کردیا ہے مسابقت کرنے والے آپس میں ایک دوسرے کو عاجز کرنے کی کوشش کرتے ہیں، مگر یہاں باب مفاعلہ اپنے معنی میں نہیں ہے، اس لئے کہ اللہ کو عاجز کرنا متصور نہیں ہے، لہٰذا یہ عاجز کرنا ان کے اپنے گمان فاسد کے اعتبار سے ہے نہ کہ حقیقت میں۔ قولہ : وَیَرَی الَّذِیْنَ یہ یا تو یَجْزِیَ پر عطف ہونے کی وجہ سے منصوب ہے یا جملہ مستانفہ ہونے کی وجہ سے مرفوع، یَریٰ یَعْلَمَ کے معنی میں ہے اور اَلَّذِیْنَ اُوْتُوا العِلْمَ یَریٰ کا فاعل ہے اور اَلَّذِیْ اُنْزِلَ اِلَیْکَ مفعول اول ہے الحق مفعول ثانی اور ھُوَ دو مفعولوں کے درمیان فصل ہے اور یَھْدِیْ کا عطف الحَقَّ پر ہے ای یَرَوْنَہٗ حَقًّا وھَادِیًا . سوال : اس صورت میں فعل کا اسم پر عطف لازم آتا ہے درست نہیں ہے۔ جواب : فعل جب اسم کی تاویل میں ہو تو عطف درست ہوتا ہے یہاں یَھْدِیْ ، ھَادِیًا کے معنی میں ہے تقدیر عبارت یہ ہے وَیَرَی الَّذِیْنَ اُوْتوا العِلْمَ الَّذِی اُنْزِلَ اِلَیْکَ مِنْ رَّبِّکَ الحَقَّ وھَادِیًا، یَریٰ کا یجْزِیَ پر عطف ہونے کی صورت میں یہ اعتراض ہوتا ہے کہ یَرَی الَّذِیْنَ اُوْتوا العِلْمَ سے مراد ان کے لئے دنیا میں علم ثابت کرنا ہے اور یَجْزِیَ پر عطف کا تقاضہ یہ ہے کہ علم آخرت میں ثابت ہو جو کہ مراد نہیں ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ استیناف والی ترکیب صحیح ہے۔ قولہ : بمعنی تَمْزِیْقٍ اس سے اشارہ کردیا کہ اسم فاعل مصدر کے معنی میں ہے۔ قولہ : فی الافعال الثلٰث بالیاء ای نشأ، نخسِفُ ، نُسْقِطُ. البلاغۃ قولہ : اَلحمدلِلّٰہِ جملہ سدے تعبیر استمرار اور ثبوت کا فائدہ دیتا ہے الحمد لغۃً الوصف بالجمیل الإختیاری علیٰ قصد التعظیم والوصف لا یکون الاَّ باللسان فیکونُ موردہ خاصًا، وھٰذا الوصف یجوزُ ان یکون بِاِزاءِ نعمۃٍ وغیر ھَا فیکونُ متعلقہٗ عامًا، والشکر اللغوی علی العکس لکونہٖ فِعْلاً یُنْبِئ عن تعظیم المنعم مِن حیثُ أنَّہٗ علَی الشکر فیکون موردہ اللسان والجنان والا رکان ومتعلقہ النعمۃ الواصلۃ الی الشاکر فکل مِنْھُمَا اعمُّ واخصُّ من الآخر بوجہ ففی الفضائل حمدٌ فقط وفی افعال القلب والجوارح شکر فقط وفعل اللسان بازاء الانعام حمدٌ وشکرٌ۔ تفسیر وتشریح ابن عباس اور قتادہ ؓ سے مروی ہے کہ پوری سورة سبا مکی ہے، اور ابن عطیہ نے کہا ہے ویری الذین اوتوا العلم کے علاوہ مکی ہے، اس سورت میں چون آیتیں ہیں، بعض حضرات نے پچپن کہا ہے مگر صاحب روح المعانی نے اس کو کاتب کا سہو قرار دیا ہے۔ الحمد۔۔۔ الارض (الآیۃ) سب خوبیاں اور تعریفیں اس خدا کے لئے ہیں جو اکیلا بلا شرکت غیرے تمام آسمانی اور زمینی چیزوں کا مالک و خالق ہے اور نہایت حکمت اور خبرداری سے ان کی تدبیر کرتا ہے، اسی کا ارادہ اور فیصلہ ان میں نافذ ہوتا ہے، انسان کو جو نعمت بھی ملتی ہے وہ اسی کی پیدا کردہ ہے، اور اسی کا احسان ہے، آخرت میں بھی صرف اسی کی تعریف ہوگی بلکہ دنیا میں تو بظاہر کسی اور کی تعریف بھی ہوجاتی ہے، اس لئے کہ مخلوق کا فعل کا پردہ اور انسانی کمال، خالق کے کمال حقیقی کا پرتو ہے، لیکن آخرت میں سب پردے اور وسائط اٹھ جائیں گے وہاں جو کچھ ہوگا سب دیکھیں گے کہ اسی کی طرف سے ہورہا ہے اس لئے صورۃً و حقیقۃً تنہا اسی محمود مطلق کی تعریف ہوگی، زمین و آسمان کی کوئی چھوٹی بڑی چیز اس کے علم سے خارج نہیں، جو چیزیں زمین کے اندر چلی جاتی ہیں مثلاً بارش، خزینہ، دفینہ، مردے نیز کیڑے مکوڑے اور نباتات کا بیج وغیرہ اور جو چیزیں اندر سے نکلتی ہیں مثلاً کھیتی سبزہ، معدنیات وغیرہ اور آسمان کی طرف سے اترتی ہیں مثلاً بارش، وحی، تقدیر، فرشتے وغیرہ ان سب جزئیات پر اللہ کا علم محیط ہے۔ قل۔۔ وربی (الآیۃ) وہ معصوم و مقدس انسان جسکے صدق و امانت کا اقرارسب کو پہلے سے تھا اور اب براہین ساطعہ سے اسکی صداقت پوری روشن ہوچکی ہے، تاکیدی قسم کھا کر خبر دیتا ہے کہ قیامت ضرور آئیگی، جب زمین و آسمانکا کوئی ذرہ اس سے مخفی اور پوشیدہ نہیں تو پھر تمہارے اجزائے منتشرہ کو جو مٹی سے مل گئے ہونگے جمع کرکے دوبارہ تمہیں زندہ کرنا کیوں ناممکن ہوگا ؟ لیجزی۔۔ آمنوا یہ وقوع قیامت کی علت ہے یعنی قیامت اس لئے آئے گی اور تمام انسانوں کو اللہ تعالیٰ اس لئے زندہ فرمائے گا کہ وہ نیکوں کو ان کی نیکیوں کا صلہ عطا فرمائے، کیونکہ صلہ ہی کے لئے اس نے یہ دن رکھا ہے، اگر یہ یوم جزاء ہو تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ نیک وبد دونوں یکساں ہیں اور یہ بات عدل و انصاف کے قطعاً منافی ہے اور بندوں بالخصوص نیکیوں پر ظلم ہوگا، وَمَا ربُّکَ بِظَلاَّمٍ لِّلْعَبِیْدِ ۔ والذین سعو (الآیۃ) یعنی ہماری ان آیتوں کے بطلان اور تکذیب کی جو ہم نے اپنے پیغمبروں پر نازل کیں کوشش کی اور ان کی کوشش اس لئے تھی کہ وہ عاجز کرکے ہماری گرفت سے بچ کر نکل جائیں گے، اس طرح وہ روز قیامت کی حاضری سے چھوٹ جائیں گے، ایسے لوگوں کے لئے دردناک عذاب ہے۔ ویری۔۔۔ العلم یہاں رویت سے رویت قلبی مراد ہے اور اہل علم سے مراد صحابہ کرام یا مومنین اہل کتاب یا تمام مومنین ہیں یعنی اہل ایمان اس بات کو جانتے اور یقین رکھتے ہیں، اور وہ یہ بھی اپنی مخلوق میں محمود ہے اور وہ راستہ توحید کا راستہ ہے جس کی طرف تمام انبیاء (علیہم السلام) اپنی اپنی قوموں کو دعوت دیتے رہے۔ وقال۔۔ کفروا (الآیۃ) یہ منکرین قیامت کافروں کا قول نقل کیا گیا ہے، جو بطور تحقیر و استہزا کے یوں کہا کرتے تھے، آؤ ہم تمہیں ایک ایسا عجیب شخص بتائیں جو یوں کہتا ہے کہ تم پوری طرح ریزہ ریزہ ہوجاؤ گے اس کے بعد پھر تمہیں از سرنو پیدا کیا جائے گا اور تم کو سابقہ شکل و صورت میں تیار کرکے زندہ کردیا جائے گا، ظاہر ہے کہ اس شخص سے مراد نبی کریم ﷺ ہی ہیں اسلئے کہ آپ ﷺ ہی مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے کی خبر دیتے تھے اور لوگوں کو اس پر ایمان لانے کی تاکید فرماتے تھے اور یہ سب لوگ آپ کو اچھی طرح جانتے بھی تھے یعرفونہٗ کما یعرفون ابناء ھم مگر تمسخر اور استہزاء کے طور پر ذکر کیا کہ گویا یہ آپ کے متعلق اور کچھ نہیں جانتے بجز اس کے کہ آپ قیامت میں مردوں کے زندہ ہونے کی خبر دیتے ہیں۔ افتریٰ ۔۔۔ کذبًا یعنی دو باتوں میں سے ایک بات تو ضرور ہے کہ یہ جھوٹ بول رہا ہے اور اللہ کی طرف سے وحی اور رسالت کا دعویٰ یہ اس کا اللہ پر افتراء ہے یا اس کا دماغ چل گیا ہے اور دیوانگی میں ایسی باتیں کررہا ہے، جو نا معقول ہیں بل الَّذینَ لا یُؤمنُوْنَ بالآخرۃ اللہ تعالیٰ نے فرمایا، بات اس طرح نہیں ہے جس طرح یہ گمان کررہے ہیں بلکہ واقعہ یہ ہے کہ عقل و فہم اور ادراک حقائق سے یہی لوگ قاصر ہیں، جس کی وجہ سے یہ آخرت پر ایمان لانے کے بجائے اس کا انکار کررہے ہیں، جس کا نتیجہ آخرت کا دائمی عذاب ہے، اور یہ آج ایسی گمراہی میں مبتلا ہیں جو حق سے غایت درجہ دور ہے۔ اگے اللہ تعالیٰ کافروں اور منکرین بعث کو زجرو توبیخ کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ آخرت کا یہ انکار آسمان و زمین کی پیدائش میں غور وفکر نہ کرنے کا نتیجہ ہے، ورنہ آسمان جیسی بلندی اور وسعت ناقابل بیان ہے اور زمین جیسی چیز جس کا طول وعرض بھی ناقابل فہم ہے، پیدا کرسکتا ہے، اس کے لئے اپنی پیدا کردہ چیزوں کا دوبارہ پیدا کرنا اور اسے دوبارہ اسی حالت پر لے آنا جس پر وہ پہلے تھی کیوں کرنا ممکن ہے ؟
Ayahs 34:10–14

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ مِنَّا فَضْلًا١ؕ یٰجِبَالُ اَوِّبِیْ مَعَهٗ وَ الطَّیْرَ١ۚ وَ اَلَنَّا لَهُ الْحَدِیْدَۙ Open ayah 34:10 in the Quran reader

اور ہم نے داؤد کو اپنی طرف سے برتری بخشی تھی اے پہاڑو ! ان کے ساتھ تسبیح کرو اور پرندوں کو (انکا مسخر کردیا) اور انکے لئے ہم نے لوہے کو نرم کردیا

اَنِ اعْمَلْ سٰبِغٰتٍ وَّ قَدِّرْ فِی السَّرْدِ وَ اعْمَلُوْا صَالِحًا١ؕ اِنِّیْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 34:11 in the Quran reader

کہ کشادہ زرہیں بناؤ اور کڑیوں کو اندازے سے جوڑو اور نیک عمل کرو جو عمل تم کرتے ہو میں ان کو دیکھنے والا ہوں

وَ لِسُلَیْمٰنَ الرِّیْحَ غُدُوُّهَا شَهْرٌ وَّ رَوَاحُهَا شَهْرٌ١ۚ وَ اَسَلْنَا لَهٗ عَیْنَ الْقِطْرِ١ؕ وَ مِنَ الْجِنِّ مَنْ یَّعْمَلُ بَیْنَ یَدَیْهِ بِاِذْنِ رَبِّهٖ١ؕ وَ مَنْ یَّزِغْ مِنْهُمْ عَنْ اَمْرِنَا نُذِقْهُ مِنْ عَذَابِ السَّعِیْرِ Open ayah 34:12 in the Quran reader

اور ہوا کو (ہم نے) سلیمان کا تابع کردیا تھا اس کی صبح کی منزل بھی مہینے کی راہ ہوتی اور شام کی منزل بھی مہینے بھر کی ہوتی اور ان کے لئے ہم نے تانبے کا چشمہ بہادیا تھا اور جنوں میں ایسے تھے جو ان کے پروردگار کے حکم سے ان کے آگے کام کرتے تھے اور جو کوئی ان میں سے ہمارے حکم سے پھرے گا اس کو ہم (جہنم) کی آگ کا مزہ چکھائیں گے

یَعْمَلُوْنَ لَهٗ مَا یَشَآءُ مِنْ مَّحَارِیْبَ وَ تَمَاثِیْلَ وَ جِفَانٍ كَالْجَوَابِ وَ قُدُوْرٍ رّٰسِیٰتٍ١ؕ اِعْمَلُوْۤا اٰلَ دَاوٗدَ شُكْرًا١ؕ وَ قَلِیْلٌ مِّنْ عِبَادِیَ الشَّكُوْرُ Open ayah 34:13 in the Quran reader

وہ جو چاہتے یہ ان کے لئے بناتے یعنی قلعے اور مجسمے اور (بڑے بڑے) لگن جیسے تالاب اور دیگیں جو ایک ہی جگہ رکھی رہیں اے داؤد کی اولاد میرا (شکر) کرو اور میرے بندوں میں شکر گزار تھوڑے ہیں

فَلَمَّا قَضَیْنَا عَلَیْهِ الْمَوْتَ مَا دَلَّهُمْ عَلٰى مَوْتِهٖۤ اِلَّا دَآبَّةُ الْاَرْضِ تَاْكُلُ مِنْسَاَتَهٗ١ۚ فَلَمَّا خَرَّ تَبَیَّنَتِ الْجِنُّ اَنْ لَّوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ الْغَیْبَ مَا لَبِثُوْا فِی الْعَذَابِ الْمُهِیْنِؕ Open ayah 34:14 in the Quran reader

پھر جب ہم نے ان کے لئے موت کا حکم صادر کیا تو کسی چیز سے ان کا مرنا معلوم نہ ہوا مگر گھن کے کیڑے سے جو ان کے عصا کو کھاتا رہا جب عصا گرپڑا تب جنوں کو معلوم ہوا (اور کہنے لگے) کہ اگر وہ غیب جانتے ہوتے تو ذلت کی تکلیف میں نہ رہتے

آیت نمبر 10 تا 14 ترجمہ : اور ہم نے داؤد کو اپنی طرف سے بڑی نعمت عطاء کی یعنی نبوت اور کتاب، اور ہم نے کہا اے پہاڑ اور اے پرندو تم داؤد کے ساتھ تسبیح دہراؤ، طیرَ منصوب ہے جبال کے محل پر عطف ہونے کی وجہ سے، اور ہم نے داؤد کے ساتھ تسبیح پڑھنے کا حکم دیا، اور ہم نے ان کے لئے لوہا نرم کردیا چناچہ (حضرت) داؤد (علیہ السلام) کے ہاتھ میں لوہا گوندھے ہوئے آٹے کے مانند ہوگیا اور ہم نے حکم دیا کہ لوہے کی لمبی (مکمل) زرہ بناؤ کہ ان کو پہننے والا زمین میں گھسیٹے اور بنانے میں یکسانیت کا خیال رکھو زرہ سازکو ” سراد “ کہتے ہیں یعنی ایسی زرہ بناؤ کہ اس کے حلقے مساوی ہوں، اے آل داؤد تم داؤد کی معیت میں نیک کام کیا کرو میں سب کے اعمال کو دیکھتا ہوں لہٰذا میں تم کو اس کا صلہ دوں گا اور ہم نے ہوا کو سلیمان (علیہ السلام) کے لئے مسخر کردیا اور ایک قراءت میں ریحٌ رفع کے ساتھ کہ اس کا صبح سے زوال تک کا سفر ایک ماہ کی مسافت تھی غدوٌّ الغداۃُ سے ماخوذ ہے، بمعنی صبح اور (اسی طرح) اس کا شام (یعنی) زوال سے غروب تک کا سفر ایک ماہ کی مسافت تھی اور ہم نے سلیمان کے لئے تانبے کا چشمہ پگھلا کر جاری کردیا چناچہ تین رات دن تک پانی کے مانند جاری رکھا، حضرت سلیمان کو جو (بطورمعجزہ) عطا کیا گیا تھا آج تک لوگ اس کو استعمال کررہے ہیں، جناتوں میں سے کچھ ایسے تھے جو حکم خداوندی سے (حضرت) سلیمان (علیہ السلام) کے ماتحت ہو کر کام کرتے تھے اور جو ان میں سے (سلیمان) کی اطاعت کے ہمارے حکم سے سرتابی کرے گا ہم کو آخرت میں آگ کا عذاب چکھائیں گے، اور کہا گیا ہے کہ دنیا ہی میں (چکھائیں گے) بایں طور کہ فرشتہ اس کو آگ کے کوڑے سے ایک مار مارے گا کہ وہ آگ اس کو جلا دے گی سلیمان جو چاہتے تھے (جنات) ان کے لئے وہ بنا دیتے تھے مثلاً محاریب یعنی بڑی بڑی اونچی عمارتیں کہ جن پر سیڑھیوں کے ذریعہ چڑھا جائے اور مجسمے، تماثیل کی جمع ہے، تمثال ہر اس شئ کو کہتے ہیں جس کو تو کسی کے مثل بنائے یعنی تانبے کی یا سیسہ کی یا سنگ مرمر کی مورتیں بناتے تھے اور مورتوں کا بنانا ان کی شریعت میں حرام نہیں تھا اور حوض جیسی لگن (بناتے تھے) جِفَانُ جَفنَۃٌ کی جمع ہے (بمعنی لگن، بڑے پیالے) اور جَوَابٌ جابیَۃٌ کی جمع ہے، بڑے حوض کو کہتے ہیں، جَفْنَۃٌ سے بیک وقت ایک ہزار آدمی کھا سکتے ہیں اور ایک جگہ جمی رہنے والی دیگیں (بناتے تھے) جن کے پائے ہوتے تھے جو اپنی جگہ سے ہل نہیں سکتی تھیں، یہ یمن میں پہاڑوں سے بنائی جاتی تھیں، کہ جن سیڑھیوں کے ذریعہ چڑھا جاتا تھا، ہم نے کہا اے آل داؤد اللہ کی اطاعت میں جو کچھ اس نے تم کو دیا ہے اس کے شکریہ میں (نیک) عمل کرو میرے بندوں میں شکر گذار بندے کم ہی ہوتے ہیں، یعنی میری نعمت کا عملی طور پر شکر کرنے والے (کم ہوتے ہیں) پھر جب ہم نے سلیمان پر موت کا حکم بھیج دیا یعنی انتقال ہوگیا اور اپنے عصا کے سہارے ایک سال تک بحالت مردہ کھڑے رہے اور جنات اپنی عادت کے مطابق اعمال شاقہ میں لگے رہے (انکو) (حضرت) سلیمان (علیہ السلام) کی موت کا احساس تک نہ ہوا، یہاں تک کہ جب دیمک نے ان کا عصا کھالیا تو مردہ ہونے کی وجہ سے گرپڑے، تو ان کی موت کی خبر کسی نے ان کو نہ دی سوائے دیمک کے الارْضُ ، اُرِضَتِ الخَشَبَۃُ سے مصدر مجہول ہے (یعنی) اس کو دیمک نے کھالیا جو ان کے عصا کو کھا رہی تھی مِنْشأۃٌ ہمزہ کے ساتھ ہے، اور ہمزہ الف کے ساتھ بھی ہے (مِنْساۃ) ای عصَاہُ اس لئے کہ اس سے دور کیا جاتا ہے، دفع کیا جاتا ہے اور دھمکایا جاتا ہے چناچہ جب سلیمان (علیہ السلام) مردہ ہو کر گرپڑے تب کہیں جنات کو ان کی (موت) کا علم ہوا اگر جنات غیب داں ہوتے تو اس ذلت کی مشقت میں مبتلا نہ رہتے اور ان کے دعوائے علم غیب کی نفی اس سے بھی ہوتی ہے کہ ان سے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی موت مخفی رہی یعنی حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو زندہ سمجھ کر اپنے دعوائے غیب کے باوجود مشقت کے کام میں نہ لگے رہتے، اور عمل شاق کی ایک سال کی مدت کا علم عصا کی اس مقدار کے حساب سے ہوا جس مقدار کو دیمک نے سلیمان کی موت کے بعد مثلاً ایک رات دن میں کھایا تھا۔ تحقیق و ترکیب وتسہیل وتفسیری فوائد قولہ : اَوِّبِیْ یہ تاویبٌ سے امر کا واحد مؤنث حاضر ہے بمعنی تَرْجِیْعٌ باربار دہرانا، تکرار کرنا، اَوِّبِیْ اصل میں اَوِّبِیْنَ تھا امر کی وجہ سے نون حذف ہوگیا وَلَقَدْ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ مِنَّا فَضْلاً واؤ استینافیہ ہے اور لام قسم محذوف کے جواب پر داخل ہے، تقدیر یہ ہے وعزتنا وجلالنا لقد اٰتینا منا، مِنَّا، اٰتَیْنَا سے متعلق ہے یا محذوف سے متعلق ہو کر حال ہے تقدیر عبارت ہے کائنًا مِنّا فَضْلاً ، کائنًا مِنَّا اصل میں فَضٌلاً کی صفت ہے مقدم ہونے کی وجہ سے حال ہوگیا فَضْلاً مفعول ثانی ہے اور داؤد مفعول اول ہے۔ قولہ : وقُلْنَا یَا جِبَالُ. یا جِبَالُ ، قُلْنَا فعل محذوف کا مقولہ ہے اور اس کا عطف اٰتَیْنَا پر ہے والطَّیْرَ کا عطف محل جبال پر ہونے کی وجہ سے منصوب ہے اس لئے کہ منادی مفرد محلاً منصوب ہوتا ہے یا مفعول معہ ہونے کی وجہ سے منصوب ہے والطَّیرُ لفظ جبال پر عطف کی وجہ سے مرفوع بھی پڑھا گیا ہے۔ قولہ : دُرُوْعًا، دُرُوْعًا مقدر مان کر شارح نے اشارہ کردیا سابغاتٍ صفت ہے اور دُرُوْعًا اس کا موصوف محذوف ہے۔ قولہ : سَرْدٌ زرہ کو کہتے ہیں سَرَّادٌ زرہ ساز کو کہتے ہیں۔ قولہ : لِسُلَیْمَانَ مفسر علام نے سَخَّرْنَا محذوف مان کر اشارہ کردیا کہ مجرور کا متعلق سخَّرنا ہے اور ریح مفعول بہ ہونے کی وجہ سے منصوب ہے اور رفع کی صورت میں ریح مبتداء مؤخر حذف مضاف کے ساتھ اور لسلیمانَ خبر مقدم، تقدیر عبارت یہ ہے وَتُسَخَّر الرِّیْحُ کائِنٌ لسُلَیمَانَ مضاف کو حذف کرکے مضاف الیہ کو اس کے مقام کردیا۔ قولہ : ومِنَ الجِنِ مَنْ یعمَلُ ، مِنَ الجِنّ فعل مقدر کے متعلق ہے، تقدیر عبارت یہ ہے وسَخّرنالَہٗ مِنَ الجِنِّ اور مَنْ یعمل فعل مقدر بہ ہوگا، اور یہ بھی جائز ہے کہ من الجن خبر مقدم ہو اور مَنْ یعمَلُ مبتداء مؤخر۔ قولہ : قُدُورٍ. قِدْرٌ کی جمع ہے بمعنی ہانڈی راسیاتٌ ای ثابتاتٌ. قولہ : اعْمَلُوْا جملہ مستانفہ ہے اٰلَ داوٗدَ منادیٰ ہے حرف ندا محذوف ہے اور شُکْرًا مفعول لہ ہے۔ قولہ : قلیلٌ خبر مقدم ہے اور من عبادی اس کی صفت ہے اور الشکور مبتدامؤخر ہے۔ قولہ : الارْضَۃُ دیمک، کرمک، چوب خور، (جمع) ارضٌ. قولہ : مِنْسَأَۃٌ بروزن مِفْعَلَۃُ ایک قراءت میں الف کے ساتھ ہے، عصا، دفع کرنے کا آلہ۔ قولہ : دَابَّۃ الأرضِ دیمک۔ تفسیر وتشریح ولقد۔۔ فضلاً فضل کے معنی زیادتی کے ہیں مگر یہاں دواؤد علیہ السلاۃ والسلام کی امتیازی خصوصیات مراد ہیں یعنی نبوت کے ساتھ بادشاہت اور کئی امتیازی خوبیوں سے نوازا، ان امتیازی خصوصیات میں سے حسن صوت کی نعمت تھی کہ جب آپ ذکر الہٰی یا زبور کی تلاوت کرتے تھے تو پتھرب کے ٹھوس پہاڑ بھی تسبیح خوانی میں مصروف ہوجاتے فضاء میں اڑتے پرندے ٹھہر جاتے اور زمرمہ خواں ہوجاتے۔ والطیرَ کا عطف یا جبالُ کے محل پر ہے، اس لئے کہ یا جبالُ محلاً منصوب ہے، تقدیر عبارت یہ ہے نادَیْنَا الجِبَالَ والطَیْرَ پہاڑ یہ تسبیح کو داؤد علیہ السلاۃ والسلام کے ساتھ کرتے تھے اس عام تسبیح کے علاوہ ہے جس میں کل مخلوقات شریک ہیں اور جو ہر وقت اور ہر زمانہ میں جاری ہے، جیسا کہ قرآن کریم نے فرمایا ہے وَاِنْ مِنْ شَئٍ اِلَّا یُسَبِّحُ بحَمْدِہٖ ولٰکِن لا تَفْقَھُوْنَ تَسْبِیحَھُمْ یہاں جس تسبیح کا ذکر ہے وہ حضرت داؤد علیہ السلاۃ والسلام کے معجزے کی حیثیت رکھتی ہے اس لئے یہ ظاہر ہے کہ اس تسبیح کو عام لوگ بھی سنتے سمجھتے ہوں گے، ورنہ پھر معجزہ ہی نہ ہوگا۔ والنا۔۔ لاحدید (الآیۃ) یہ حضرت داؤد علیہ السلاۃ والسلام کا دوسرا معجزہ ہے، حسن بصری، قتادہ اور اعمش رحمھم اللہ تعالیٰ وغیرہ ائمہ تفسیر نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے بطور لوہے کو ان کے لئے موم کی طرح نرم کردیا تھا، جس کی وجہ سے نہ گرم کرنے کی ضرورت ہوتی تھی اور نہ ہتھوڑے سے کوٹنے کی، ایک دوسری آیت میں یہ بھی مذکور ہے وَعَلَّمْنَاہُ صَنْعَۃَ لَبُوْسٍ لکّمْ یعنی ہم نے ان کو زرہ سازی کی صنعت سکھائی، اور اس آیت میں بھی آگے قدِّر فی السَّردِ آیا ہے، یہ بھی اس صنعت سکھانے کی تکمیل ہے لفظ قدِّر تقدیر سے مشتق ہے جس کے معنی ایک اندازے سے بنانے کے ہیں اور سَرْدٌ کے معنی بننے کے ہیں، مطلب یہ ہے کہ زرہ بنانے میں یکسانیت ملحوظ رہے حلقے چھوٹے بڑے نہ ہوں، اس سے معلوم ہوا کہ مصنوع میں باطنی خوبی کے ساتھ ظاہری خوبی بھی مطلوب ہے قَدِّرفَی السَّرْدِ کی یہ تفسیر حضرت ابن عباس ؓ سے منقول ہے۔ (ابن کثیر) بعض حضرات نے قدِّر فی السَّردِ سے یہ مراد لیا ہے کہ اس صنعت کے لئے وقت کی ایک مقدار معین کرلینا چاہیے تاکہ تمام اوقات اس میں صرف نہ ہوجائیں، ایسا نہ ہو کہ عبادت اور امور سلطنت کی انجام دہی میں اس کی وجہ سے خلل پڑے۔ صنعت وحرفت کی فضیلت : مذکورہ آیت سے ثابت ہوا کہ اشیاء ضروریہ کی ایجاد وصنعت ایسی اہم چیز ہے کہ حق تعالیٰ نے خود اس کی تعلیم کا اہتمام فرمایا، اور عظیم الشان پیغمبروں کو سکھلایا، حضرت داؤد علیہ السلاۃ والسلام کو زرہ سازی کی صنعت سکھائی اور حضرت نوح علیہ السلاۃ والسلام کو کشتی بنانے کی صنعت سکھائی گئی، اسی طرح دوسرے انبیاء (علیہم السلام) کو بھی مختلف صنعتیں سکھانا بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے۔ صنعت کار کو حقیر سمجھنا گناہ ہے : عرب میں مختلف آدمی مختلف صنعتیں اختیار کرتے تھے کسی صنعت کو حقیر نہیں سمجھا جاتا تھا، اور نہ پیشوں کی بنیاد پر کوئی برادری بنتی تھی، پیشے کے بنیاد پر کسی کو حقیر سمجھنا اور برادری بنانا یہ ہندوستان میں ہندؤں کی پیدارار ہے، ہندؤں کے ساتھ رہنے سہنے کی وجہ سے مسلمانوں میں بھی یہ اثرات قائم ہوگئے ہیں۔ حضرت داؤد علیہ السلاۃ والسلام کو زرہ سازی سکھانے کی حکمت : تفسیر ابن کثیر میں امام حدیث حافظ ابن عسا کر کی روایت سے نقل کیا ہے کہ حضرت داؤد علیہ السلاۃ والسلام اپنی خلافت و سلطنت کے زمانہ میں بھیس بدل کر بازار وغیرہ میں جاتے اور رعایا کے حالات معلوم کرتے اور پوچھتے کہ داؤد کیسا آدمی ہے ؟ چونکہ داؤد علیہ السلاۃ والسلام کی سلطنت میں عدل و انصاف عام تھا سب لوگ خوشحال تھے ہر انسان عیش و آرام کے ساتھ زندگی گذارتا تھا، اس لئے جس سے سوال کرتے وہ داؤد علیہ السلاۃ والسلام کی تعریف کرتا۔ حق تعالیٰ نے ان کی تعلیم کے لئے ایک فرشتے کو بشکل انسانی بھیج دیا جب داؤدعلیہ السلاۃ والسلام کی اس سے ملاقات ہوئی تو عادت کے مطابق اس سے بھی وہی سوال کیا، فرشتے نے جواب دیا، داؤد بہت اچھا آدمی ہے اپنے نفس کے لئے اور رعیت کے لئے بھی، مگر اس میں ایک کمی ہے اگر وہ نہ ہوتی تو وہ بالکل کامل تھا، داؤد علیہ السلاۃ والسلام نے پوچھا وہ کیا کمی ہے ؟ فرشتے نے کہا وہ اپنا اور اپنے اہل و عیال کا نفقہ مسلمانوں کے بیت المال سے لیتے ہیں۔ یہ سن کر حضرت داؤد علیہ السلاۃ والسلام نے بارگاہ خداوندی میں التجاء کی کہ مجھے کوئی ایسا کام سکھا دیں کہ جا میں اپنے ہاتھ کی مزدوری سے اپنا اور اپنے اہل و عیال کا گذارا کرسکوں اور مسلمانوں کی خدمت اور سلطنت کا کام بلا معاوضہ کروں، حق تعالیٰ نے حضرت داؤد علیہ السلاۃ والسلام کی دعا کو شرف قبولیت بخشا، اور ان کو زرہ سازی اور پیغمبرانہ یہ اعزاز دیا کہ لوہے کو ان کے لئے نرم کردیا۔ مسئلہ : خلیفۂ وقت یا سلطان جو اپنا پورا وقت امور سلطنت کی انجام دہی میں صرف کرتا ہے شرعاً اسکے لئے یہ جائز ہے کہ اپنا اور اپنے اہل و عیال کا متوسط نفقہ بیت المال سے لے لے، لیکن اگر کوئی دوسری صورت گذارے کی ہوسکے تو وہ زیادہ بہتر ہے۔ جو علماء کرام تعلیم و تبلیغ کی خدمت مفت انجام دیتے ہوں، اور قاضی و مفتی جو لوگوں کے کام میں اپنا وقت صرف کرتے ہوں انکا بھی یہی حکم ہے وَلِسُلیمَانَ الریحَ حضرت داؤد علیہ السلاۃ والسلام کے خصوصی فضائل کے ذکر کے بعد حضرت سلیمان علیہ السلاۃ والسلام کے خصوصی فضائل کا ذکر فرمایا، اور فرمایا کہ جس طرح داؤد علیہ السلاۃ والسلام کے لئے پہاڑوں کو مسخر کردیا تھا اسی طرح حضرت سلیمان علیہ السلاۃ والسلام کے لئے ہوا کو مسخر کردیا، حضرت سلیمان علیہ السلاۃ والسلام مع اپنے اعیان سلطنت اور لشکر تخت پر بیٹھ جاتے اور جدھر آپ کا حکم ہوتا ہوائیں اسے اتنی رفتار سے لے جاتیں کہ ایک ماہ کی مسافت صبح سے دوپہر تک طے ہوجاتی اور پھر اسی طرح دوپہر سے شام تک ایک ماہ کی مسافت طے ہوجاتی، اس طرح ایک دن میں دو ماہ کی مسافت طے ہوجاتی، حضرت حسن بصری (رح) تعالیٰ نے فرمایا کہ تسخیر ہوا کا معجزہ حضرت سلیمان علیہ السلاۃ والسلام کو ان کے اس عمل کے صلہ میں عطا ہوا تھا کہ ایک روز وہ اپنے گھوڑوں کے معائنہ میں مشغول تھے، اس میں ایسی مشغولیت ہوئی کہ عصر کی نماز قضاء ہوگئی چونکہ گھوڑے اس غفلت کا سبب ہوئے تھے، اس سبب غفلت کو ختم کرنے کے لئے حضرت سلیمان علیہ السلاۃ والسلام نے ان گھوڑوں کو ذبح کردیا (کیونکہ سلیمان علیہ السلاۃ والسلام کی شریعت میں گھوڑوں کی قربانی جائز تھی) اور یہ گھوڑے خود سلیمان علیہ السلاۃ والسلام کی ملک تھے، اس لئے بیت المال مے نقصان کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، حضرت داؤد علیہ السلاۃ والسلام کے لئے لوہا نرم کردیا تھا، تو حضرت سلیمان علیہ السلاۃ والسلام کے لئے تانبے کا چشمہ جاری کردیا۔ حضرت سلیمان علیہ السلاۃ والسلام کے زمانے میں جنات کے بارے میں یہ مشہور ہوگیا تھا کہ جنات غیب کی باتیں جانتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان علیہ السلاۃ والسلام کی موت کے ذریعہ سے اس عقیدے کے فساد کو واضح فرمادیا۔
Ayahs 34:15–21

لَقَدْ كَانَ لِسَبَاٍ فِیْ مَسْكَنِهِمْ اٰیَةٌ١ۚ جَنَّتٰنِ عَنْ یَّمِیْنٍ وَّ شِمَالٍ١ؕ۬ كُلُوْا مِنْ رِّزْقِ رَبِّكُمْ وَ اشْكُرُوْا لَهٗ١ؕ بَلْدَةٌ طَیِّبَةٌ وَّ رَبٌّ غَفُوْرٌ Open ayah 34:15 in the Quran reader

(اہل) سبا کے لئے ان کے مقام بودوباش میں ایک نشانی تھی (یعنی) دو باغ (ایک) داہنی طرف اور ایک بائیں طرف اپنے پروردگار کا رزق کھاؤ اور اس کا شکر کرو (یہاں تمہارے رہنے کو یہ) پاکیزہ شہر ہے اور (وہاں بخشنے کو) خدائے غفار

فَاَعْرَضُوْا فَاَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ سَیْلَ الْعَرِمِ وَ بَدَّلْنٰهُمْ بِجَنَّتَیْهِمْ جَنَّتَیْنِ ذَوَاتَیْ اُكُلٍ خَمْطٍ وَّ اَثْلٍ وَّ شَیْءٍ مِّنْ سِدْرٍ قَلِیْلٍ Open ayah 34:16 in the Quran reader

تو انہوں نے (شکر گزاری سے) منہ پھیرلیا پس ہم نے ان پر زور کا سیلاب چھوڑ دیا اور انھیں ان کے باغوں کے بدلے دو ایسے باغ دئیے جن کے میوے بدمزہ تھے اور جن میں کچھ تو جھاؤ تھا اور تھوڑی سی بیریاں

ذٰلِكَ جَزَیْنٰهُمْ بِمَا كَفَرُوْا١ؕ وَ هَلْ نُجٰزِیْۤ اِلَّا الْكَفُوْرَ Open ayah 34:17 in the Quran reader

یہ ہم نے ان کی ناشکری کی ان کو سزا دی اور ہم سزا ناشکرے کو ہی دیا کرتے ہیں

وَ جَعَلْنَا بَیْنَهُمْ وَ بَیْنَ الْقُرَى الَّتِیْ بٰرَكْنَا فِیْهَا قُرًى ظَاهِرَةً وَّ قَدَّرْنَا فِیْهَا السَّیْرَ١ؕ سِیْرُوْا فِیْهَا لَیَالِیَ وَ اَیَّامًا اٰمِنِیْنَ Open ayah 34:18 in the Quran reader

اور ہم نے ان کے اور (شام میں کی) ان بستیوں کے درمیان جن میں ہم نے برکت دی تھی (ایک دوسرے کے متصل) دیہات بنائے تھے جو سامنے نظر آتے تھے اور ان میں آمدورفت کا اندازہ مقرر کردیا تھا کہ رات دن بےخوف و خطر چلتے رہو

فَقَالُوْا رَبَّنَا بٰعِدْ بَیْنَ اَسْفَارِنَا وَ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فَجَعَلْنٰهُمْ اَحَادِیْثَ وَ مَزَّقْنٰهُمْ كُلَّ مُمَزَّقٍ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍ Open ayah 34:19 in the Quran reader

تو انہوں نے دعا کی کہ اے پروردگار ہماری مسافتوں کے بعد (اور طول) پیدا کر دے اور (اس سے) انہوں نے اپنے حق میں ظلم کیا تو ہم نے (انہیں نابود کر کے) ان کے افسانے بنا دئیے اور انھیں بالکل منتشر کردیا اس میں ہر صابر و شاکر کے لئے نشانیاں ہیں

وَ لَقَدْ صَدَّقَ عَلَیْهِمْ اِبْلِیْسُ ظَنَّهٗ فَاتَّبَعُوْهُ اِلَّا فَرِیْقًا مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 34:20 in the Quran reader

اور شیطان نے ان کے بارے میں اپنا خیال سچ کر دکھایا کہ مومنوں کی ایک جماعت کے سوا وہ اسکے پیچھے چل پڑے

وَ مَا كَانَ لَهٗ عَلَیْهِمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ اِلَّا لِنَعْلَمَ مَنْ یُّؤْمِنُ بِالْاٰخِرَةِ مِمَّنْ هُوَ مِنْهَا فِیْ شَكٍّ١ؕ وَ رَبُّكَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ حَفِیْظٌ۠ Open ayah 34:21 in the Quran reader

اور اس کا ان پر کچھ زور نہ تھا مگر (ہمارا) مقصود یہ تھا کہ جو لوگ آخرت میں شک رکھتے ہیں ان سے ان لوگوں کو جو اس پر ایمان رکھتے تھے متمیز کردیں اور تمہارا پروردگار ہر چیز پر نگہبان ہے

آیت نمبر 15 تا 21 ترجمہ : قوم سبا کے لئے (سبا) منصرف اور غیر منصرف (دونوں ہیں) سبا ایک قبیلہ کا نام ہے ان کے عربی جد اعلیٰ کے نام پر رکھا گیا ہے یمن میں ان کی بستیوں میں خدا کی قدرت کی نشانی تھی ان کے دائیں بائیں دورویہ باغ تھے یعنی ان کی وادی کے دائیں بائیں جانب جنتان، آیۃ سے بدل ہے، ان سے کہا گیا اپنے رب کا دیا ہوا رزق کھاؤ اور ملک سبا میں تم کو دی ہوئی نعمتوں کا شکر ادا کرو یہ عمدہ شہر ہے یعنی اس میں نہ زمین شور ہے اور نہ مچھر نہ مکھی، اور نہ پسو اور نہ بچھو اور نہ سانپ اور (اگر) اس شہر سے ایسا مسافر گذرتا کہ اس کے کپڑوں میں جوئیں ہوتیں تو وہ شہر کی پاکیزہ ہوا کی وجہ سے مرجاتیں اور بخشنے والا رب ہے لیکن انہوں نے اس کے شکر سے اعراض اور ناشکری کی تو ہم نے ان کا پانی بھیج دیاعرِمٌ عرِمَۃ کی جمع ہے عَرِمَۃٌ اس عمارت وغیرہ کو کہتے ہیں جس کے ذریعہ پانی کا وقت ضرورت کے لئے ذخیرہ کرلیا جاتا ہے، یعنی ان کی وادی کا روکا ہوا پانی ان پر چھوڑ دیا، چناچہ اس پانی نے ان کے دورویہ باغوں کو اور ان کے اموال کو غرق کردیا اور ہم نے ان کے دورویہ باغوں کے عوض ایسے دو باغ دیئے جن کے پھل بدمزہ اضافت کڑوے کسیلے تھے ذواتیْ ذوَات مفرد کا تنثیہ ہے اصل سے اکُلٍ کی اضافت کے ساتھ، (اکل) بمعنی ماکولٍ ہے، اور بغیر اضافت کے اور اُکُلٍ پر اثْلٍ کا عطف ہے اور بکثرت جھاؤ کے درخت اور کچھ جنگلی بیریاں ہم نے ان کو یہ سزا کی ناشکری یعنی ان کے کفر کی وجہ سے دی اور ہم ایسی سزا ناشکروں ہی کو دیا کرتے ہیں (یُجازِی) میں یا اور نون دونوں ہیں اور زاء کے کسرہ اور کَفُور کے نصب کے ساتھ، یعنی کافرہی کا مناقشہ (سختی کے ساتھ محاسبہ) کیا جاتا ہے اور ہم نے ان کے یعنی ملک سبا کے درمیان حال یہ کہ وہ بھی یمن میں رہتے تھے اور ان بستیوں کے درمیان جن میں ہم نے پانی اور درخیوں کے ذریعہ برکت دی ہے اور وہ ملک شام کی بستیاں ہیں جن کی طرف وہ تجارت کے لئے جایا کرتے تھے بہت سی بستیاں آباد کررکھی تھیں جو یمن سے شام تک قریب قریب (فاصلہ) پر تھیں اور ہم نے ان بستیوں کے درمیان سفر کی ایک خاص مسافت رکھی تھی اس طریقہ پر کہ وہ بستی میں قیلولہ کرتے اور دوسری میں رات گذارتے تھے، ان کے سفر کے پورا ہونے تک یہی صورت رہتی تھی، اور سفر میں زادراہ اور پانی ساتھ اٹھانے کی ضرورت پیش نہیں آتی تھی اور ہم نے کہا بستیوں میں راتوں اور دنوں کو امن وامان کے ساتھ سفر کرو چناچہ ان کو نہ رات کو خوف تھا اور نہ دن کو مگر انہوں نے کہا اے ہمارے پروردگار ملک شام تک ہمارے سفروں کے درمیان دوری اور ایک قراءت میں باعد ہے یعنی ان بستیوں کو چٹیل میدان کر دے تاکہ وہ فقراء کے مقابلہ میں سواریوں پر سوار ہو کر اور زادراہ اور پانی ہمراہ رکھنے کے ذریعہ فخر کریں چناچہ وہ نعمت خداوندی پر اترانے لگے اور کفر کے ذریعہ انہوں نے اپنے اوپر ظلم کیا چناچہ ہم نے ان کو بعد والوں کے لئے ظلم کے سبب سے افسانہ بنادیا اور ہم نے ان کو پوری طرح تّتر بّتر (منتشر) کردیا، یعنی ہم نے ان کو مختلف شہروں میں پوری طرح منتشر کردیا، بیشک اس مذکورہ قصے میں معصیت سے باز رہنے والے کے لئے اور نعمتوں پر ہر شکر کرنے والے کے لئے عبرتیں ہیں اور واقعی ان لوگوں یعنی کفار کے بارے میں اور ان میں سبا بھی ہیں ابلیس نے اپنا گمان صحیح پایا کہ وہ اس کے بہکانے سے اس کی اتباع کرنے لگے صدَّقَ میں تخفیف اور تشدید دونوں ہیں کہ یہ لوگ اس کے تابع ہوگئے صَدَقَ تخفیف کے ساتھ اس کا گمان سچ نکلا، اور صدق تشدید کے ساتھ اس نے اپنا گمان سچ کردکھایا سوائے مومنین کی جماعت کے الابمعنی لکن ہے اور مومنین فریقاً کا بیان ہے یعنی وہ فریق جس نے (شیطان) کی اتباع نہیں کی وہ مومنین ہیں شیطان کا ان پر کوئی قابو نہ تھا بلکہ ہماری طرف سے ان پر مسلط کرنا صرف اس لئے ہوا کہ ہم ان لوگوں کو جو آخرت پر ایمان لائے ان لوگوں سے ممتاز کردیں جو آخرت کے بارے میں شک میں مبتلا ہیں تو ان (دونوں) میں سے ہم ہر ایک کو بدلہ دیں گے اور آپ کا رب پر شئ پر نگہبان ہے۔ تحقیق و ترکیب وتسہیل وتفسیری فوائد قولہ : اُکُلٍ پھل خَمْطٌ پیلو کا پھل، ہر کھٹی یا کڑوی چیز۔ قولہ : بَشِعٌ بدمزہ اور کڑوا کسیلا۔ قولہ : اَثْلٌ جھاؤ کا درخت (جمع) اَثلاثٌ، آثال، اُثُوْلٌ۔ قولہ : ذَوَاتَیْ تثنیۃ ذواتٍ مفردٍ علی الا صل ذوَات ذُو کا مؤنث ہے یہ اصل میں ذُوَیَّۃٌ تھا اس میں ۃ علامت تانیث ہے، یاء متحرک ماقبل مفتوح ہونے کی وجہ سے الف ہوگئی ذواتٌ ہوگیا، بعدہٗ واؤ کو تخفیفاً حذف کردیا، ذاتٌ ہوگیا، اب واحد مؤنث کی دو شکلیں ہوگئیں ایک حذف واؤ سے پہلے کی، وہ ذواتٌ، اور دوسری حذف واؤ کے بعد کی اور وہ ذاتٌ مفسر علام نے جو یہ کہا ہے کہ ذوَاتَیْ اصل سے ذوات کا تثنیہ ہے اس کا مطلب ہے کہ حذف واؤ سے پہلے کی حالت کا تثنیہ ہے اگر حذف واؤ کے بعد کا تثنیہ ہوتا تو ذاتَیْ ہوتا۔ قولہ : بَشِعٌ بروزن کشِفٌ بدمزہ، کسیلا، اُکُل خمطٍ اضافت موصوف الی الصفت کے قبیل سے ہے، اور ترک اضافت کے ساتھ بھی پڑھا گیا ہے ای اُکُلٍ خمطٍ اس صورت میں اُکلٍ موصوف اور خمطٍ صفت ہوگی۔ قولہ : تُعْطَفُ علیہ ای علیٰ اُکُلٍ اُکُل کے قاف پر جزم اور ضمہ دونوں قراءت سبعہ ہیں۔ قولہ : ذٰلکَ جزَیْنٰھُمْ ذٰلِکَ ، جزَیْنَا کا مفعول ثانی ہے کو کہ مقدم ہے اول مفعول ھُمْ ہے ای جَزَیْنٰھُمْ ذٰلِکَ التبدیل۔ قولہ : بکفر ھم ای بسبب کفر ھم . قولہ : وَجَعَلْنَا بَیْنَھُمْ یہ عطف قصہ علی القصہ کے قبیل سے ہے یعنی اول اعطاء جنتین کا ذکر کیا گیا اور پھر تبدیل مذکورہ کا ذکر کیا گیا۔ قولہ : سِیْروْا فیھا ای فی ھٰذہ المسافۃ یہ امر بمعنی خبر ہے یعنی وہ امن کے ساتھ سفر کرتے تھے لیَالِیَ اور ایَّامًا حال ہیں۔ قولہ : اِلَّا بمعنی لکن اس میں اشارہ ہے کہ یہ مستثنیٰ منقطع ہے اس لئے کہ مومنین کفار کی جنس سے نہیں ہیں۔ تفسیر وتشریح لقد۔۔ لسبا ابن کثیر نے فرمایا کہ سبا یمن کے بادشاہوں اور اس ملک کے باسندوں کا لقب ہے، تبابعہ جو اس ملک کے پیشوا اور مقتداء تھے، وہ بھی اسی قوم سبا سے تعلق رکھتے تھے، اور ملکہ بلقیس بھی جس کا واقعہ سورة نمل میں گذر چکا ہے اسی قوم سے تعلق رکھتی تھی، اللہ تعالیٰ نے اس قوم پر اپنے رزق کے دروازے کھولدیئے تھے، ہر سو خوشحالی کا دور دورہ تھا، عیش و آرام کے تمام اسباب مہیا تھے، انبیاء کے ذریعہ ان کو اللہ کی توحید اور نعمتوں کی شکر گذاری کا حکم دیا گیا تھا، ایک مدت یہ لوگ اسی حال پر قائم رہے، پھر ان میں عیش و عشرت میں انہماک اور خدا سے غفلت بلکہ انکار تک نوبت پہنچ گئی، تو ان کی تنبیہ کے لئے تیرہ انبیاء بھیجے، جنہوں نے ان کی فہمائش اور راہ راست پر لانے کی پوری کوشش کی مگر یہ لوگ اپنی غفلت اور بیہوشی سے باز نہ آئے، تو ان پر ایک سیلاب کا عذاب بھیجا گیا، جس سے ان کے شہر اور باغات ویران اور برباد ہوگئے۔ (ابن کثیر) سیل عَرِم اور سدمآرب : فارسلنا۔۔ العرم . عَرِم کے لغت میں کئی معنی ہیں، مگر ان میں سیاق قرآن کے مناسب وہ معنی ہیں جو قاموس، صحاح، جوہری وغیرہ کتب لغت میں ہیں، کہ عَرِم کے معنی سدّ ” بند “ کے ہیں، جو آج کل کی اصلاح میں ڈیم کے نام سے معروف ہے، حضرت ابن عباس ؓ نے بھی عَرِم کے معنی سدّ بیان فرمائے ہیں۔ (قرطبی) بند اور سیل عَرِم کا واقعہ : ابن کثیر کے بیان کے مطابق واقعہ یہ ہے کہ ملک یمن کے دارلسلطنت صنعاء سے تین منزل کے فاصلہ پر شہر مآرب تھا، جس میں قوم سبا آباد تھی، یہ شہر دو پہاڑوں کے درمیان ایک وادی میں آباد تھا، اس ملک کے بادشاہوں نے مذکورہ دونوں پہاڑوں کے درمیان ایک بند (ڈیم) نہایت ہی مستحکم تعمیر کیا تھا، اس ڈیم نے پہاڑوں کے درمیان سے آنے والے پانی کو روک کر پانی کا ایک عظیم الشان ذخیرہ بنادیا تھا، اس ڈیم سے ضرورت کے مطابق پانی نکالنے کے لئے اوپر نیچے تین دروازے رکھے تھے، بند کے نیچے ایک بہت بڑا تالاب تعمیر کیا گیا تھا جس میں پانی کے بارہ راستر بنا کر نہریں شہر کے مختلف اطراف میں پہنچائی گئی تھیں، شہر کے دائیں بائیں جو دو پہاڑ تھے ان کے کناروں پر دورویہ باغات لگائے گئے تھے، جن میں نہریں جاری تھیں، یہ باغات اگرچہ تعداد میں بہت تھے مگر قرآن کریم نے جنتان یعنی دو باغوں سے تعبیر کیا ہے، ایک رخ کے تمام باغوں کو اتصال کی وجہ سے ایک باغ اور دوسرے رخ کے تمام باغوں کو دوسرا باغ قرار دیا ہے۔ ان باغوں میں ہر قسم کے پھل بکثرت ہوتے تھے اگر کوئی شخص خالی ٹوکرا سر پر رکھ کر چلتا تو ٹپکنے والے پھلوں سے ٹوکری بھر جاتی تھی، انبیاء کے ذریعہ ان کو یہ حکم دیا گیا کہ تم اللہ کے عطا کردہ اس رزق وسیع کو استعمال کرو اور اس کی تعمتوں کی شکر گذاری کرتے رہو، نیز اللہ تعالیٰ نے اس شہر کو بلدۂ طیبہ بنایا تھا اس کی آب وہوا نہایت پاکیزہ اور معتدل تھی، حشرات الارض، مکھی، مچھر، سانپ، بچھو وغیرہ کا نام ونشان تک نہیں تھا، بلکہ باہر آنے والے مسافروں کے کپڑوں میں اگر جوئیں ہوتیں تو وہ بھی ہوا کی پاکیزگی اور لطافت کی وجہ سے مرجاتیں رَبٌّ غفورٌ کے اضافہ کا مقصد یہ ہے کہ اگر اتفاقی طور پر شکر گذاری میں غفلت کی وجہ سے کمی ہوجائے تو اللہ تعالیٰ معاف فرمادے گا۔ فاعر۔۔۔ العرم یعنی اللہ تعالیٰ کی ایسی وسیع تعمتوں اور انبیاء علیہ السلاۃ والسلام کی تنبیہات کے باوجود جب قوم سبا کے لوگوں نے اللہ کے احکام سے سرکشی اور روگردانی کی تو ہم نے ان پر سیل عرم چھوڑ دیا، اس کا واقعہ حضرت ابن عباس ؓ وہب منبہ، قتادہ، ضحاک وغیرہ ائمہ تفسیر نے یہ بیان کیا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے اس قوم کو سزا دینے کا ارادہ فرمایا تو اس پانی کے عظیم الشان بند پر اندھے چوہے مسلط کردیئے جنہوں نے اس کی بنیاد کو کھوکھلا اور کمزور کردیا، جب بارش اور سیلاب کا وقت آیا تو پانی کے دباؤ سے بند ٹوٹ گیا جس کی وجہ سے پورہ شہر تباہ و برباد ہوگیا، اور پھل دار درختوں کی جگہ ایسے خود روجھاڑ جھاڑ جھنکار اگ آئے کہ اول تو ان میں پھل لگتا ہی نہیں تھا اور اگر کسی میں لگتا بھی تو نہایت کڑوا کسیلا اور بد مزو جنہیں کوئی کھاہی نہ سکتا، البتہ کچھ بیری کے درخت تھے جن میں بھی کانٹے زیادہ اور بیر کم تھے۔ وھل۔۔ الکفور، کَفُوْرٌ مبالغہ کا صیغہ ہے، بہت کفر کرنے والا، آیت کے معنی یہ ہوئے کہ ہم بہت کفر کرنے اولے کے سوا کسی کو سزا نہیں دیتے، یہ معنی بظاہر ان تمام قرآنی آیات اور احادیث صحیحہ کے خلاف ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ مسلمان گناہگاروں کو جہنم کی سزا ان کے عمل کے مطابق دی جائے گی اگرچہ سزا بھگتنے کے بعد وہ ایمان کی وجہ سے جہنم سے نکال کر جنت میں داخل کردیئے جائیں گے، اس اشکال کے جواب میں بعض حضرات نے فرمایا کہ یہاں مطلق عذاب مراد نہیں ہے، بلکہ ایسا عذاب عام مراد ہے جیسا کہ قوم سبا گیا تھا یہ کافروں کے ساتھ مخصوص ہے، مسلمام گنہ گاروں پر ایسا عذاب نہیں آتا۔ (روح) روح المعانی میں بحوالہ کشف اس آیت کے مفہوم کی یہ توجیہ کی ہے کہ کلام اپنی حقیقت پر ہے کہ سزا بطور سزا تو صرف کافروں کو دیجاتی ہے، اور مومن گنہ گاروں کو جو آگ وغیرہ کی تکلیف دی جاتی ہے وہ محض صورت سزا کی ہوتی ہے ورنہ درحقیقت اس کو گناہوں سے پاک کرنا مقصود ہوتا ہے جیسے کہ سونے کو بھٹی میں ڈال کر تپانے سے اس کا میل کچیل صاف کرنا مقصود ہوتا ہے وجعلنا۔۔ القریٰ (الآیۃ) برکت والی بستیوں سے مراد ملک شام کی بستیاں ہیں اور ظاھرۃً سے مراد لب سڑک ہے یعنی ہم نے ملک سبا (یمن) اور شام کے درمیان لب سڑک بستیاں آباد کی ہوئیں تھیں، بعض نے ظاھرۃ سے متواصلۃً (مسلسل) مراد لیا ہے کہ علامہ محلی نے بھی معنی مراد لئے ہیں، مفسرین نے ان بستیوں کی تعداد چار ہزار سات سو بتلائی ہے یہ اہل یمن کی شاہ راہ تھی جو ہمیشہ آباد رہتی تھی، جس کی وجہ سے زادراہ ساتھ لیجانے کی ضرورت نہیں پڑتی تھی، دوسرے ویرانے کی وجہ سے جو لوٹ مار کا اندیشہ ہوتا ہے وہ نہیں تھا، آرام و راحت اور دوران سفر قیام کی سہولتیں بھی باآسانی مہیا تھی، صبح کو روانہ ہو کر دوپہر کو ایک بستی میں قیلولہ کرتے اور شام تک دوسری بستی میں پہنچ جاتے جہاں رات کو قیام کرتے۔ فقالو۔۔ اسفارنا یعنی جس طرح لوگ سفر کی صعوبتوں اور خطرات نیز مشقتوں کا تذکرہ کرتے ہیں ہمارے سفر کی مسافت بھی اسی طرح دور دور کردے، مسلسل آبادیوں کے بجائے درمیان میں سنسان وویران جنگلات اور صحراؤں سے ہمیں گذرناپڑے، گرمیوں میں دھوپ کی شدت اور سردیوں میں یخ بشتہ ہوائیں ہمیں پریشان کریں اور راستہ میں بھوک و پیاس اور موسم کی سختیوں سے بچنے کے لئے ہمیں زادراہ کا بھی انتظام کرنا پڑے، ان کی یہ دعا اسی طرح ہے جیسے بنی اسرائیل نے من وسلوٰی اور دیگر سہولتوں سے اکتا کر دالوں اور سبزیوں وغیرہ کا مطالبہ کیا تھا، یا پھر زبان حال سے ان کی یہ دعاء تھی۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے انہیں اس طرح ناپید اور برباد کردیا کہ ان کہ ہلاکت و بربادی کا قصہ زبان زدخلائق ہوگیا، اور مجلسوں اور محفلوں کا موضوع گفتگو بن گیا، اور اس طرح منتشر کردیا کہ مختلف ملکوں اور مقام میں جا کر آباد ہوگئے، غسان شام میں اور اوس و خزرج یثرب (مدینہ) میں اور خزاعہ تمامہ اور از دعمان میں جاب سے۔