34. Surah Saba

سبإSheba · 54 ayahsتفسیرِ جلالین

Ayahs 34:22–30

قُلِ ادْعُوا الَّذِیْنَ زَعَمْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ۚ لَا یَمْلِكُوْنَ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَ لَا فِی الْاَرْضِ وَ مَا لَهُمْ فِیْهِمَا مِنْ شِرْكٍ وَّ مَا لَهٗ مِنْهُمْ مِّنْ ظَهِیْرٍ Open ayah 34:22 in the Quran reader

کہہ دو کہ جن کو تم خدا کے سوا (معبود) خیال کرتے ہو ان کو بلاؤ وہ آسمانوں اور زمین میں ذرہ بھر چیز کے بھی مالک نہیں ہیں اور نہ ان میں ان کی شرکت ہے اور نہ ان میں سے کوئی خدا کا مددگار ہے

وَ لَا تَنْفَعُ الشَّفَاعَةُ عِنْدَهٗۤ اِلَّا لِمَنْ اَذِنَ لَهٗ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوْبِهِمْ قَالُوْا مَا ذَا١ۙ قَالَ رَبُّكُمْ١ؕ قَالُوا الْحَقَّ١ۚ وَ هُوَ الْعَلِیُّ الْكَبِیْرُ Open ayah 34:23 in the Quran reader

اور خدا کے ہاں (کسی کے لئے) سفارش فائدہ نہ دے گی مگر اس کے لئے جس کے بارے میں وہ اجازت بخشے یہاں تک کہ جب ان کے دلوں سے اضطراب دور کردیا جائے گا تو کہیں گے تمہارے پروردگار نے کیا فرمایا ہے (فرشتے) کہیں گے کہ حق (فرمایا) ہے اور وہ عالی رتبہ اور گرامی قدر ہے

قُلْ مَنْ یَّرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ قُلِ اللّٰهُ١ۙ وَ اِنَّاۤ اَوْ اِیَّاكُمْ لَعَلٰى هُدًى اَوْ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 34:24 in the Quran reader

پوچھو کہ تم کو آسمانوں اور زمین سے کون رزق دیتا ہے ؟ کہو کہ خدا اور ہم یا تم (یا تو) سیدھے راستے پر ہیں یا صریح گمراہی میں

قُلْ لَّا تُسْئَلُوْنَ عَمَّاۤ اَجْرَمْنَا وَ لَا نُسْئَلُ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 34:25 in the Quran reader

کہہ دو کہ نہ ہمارے گناہوں کی تم سے پرسش ہوگی اور نہ تمہارے اعمال کی ہم سے پرسش ہوگی

قُلْ یَجْمَعُ بَیْنَنَا رَبُّنَا ثُمَّ یَفْتَحُ بَیْنَنَا بِالْحَقِّ١ؕ وَ هُوَ الْفَتَّاحُ الْعَلِیْمُ Open ayah 34:26 in the Quran reader

کہہ دو کہ ہمارا پروردگار ہم کو جمع کرے گا پھر ہمارے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کر دے گا اور وہ خوب فیصلہ کرنے والا اور صاحب علم ہے

قُلْ اَرُوْنِیَ الَّذِیْنَ اَلْحَقْتُمْ بِهٖ شُرَكَآءَ كَلَّا١ؕ بَلْ هُوَ اللّٰهُ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 34:27 in the Quran reader

کہو کہ مجھے وہ لوگ تو دکھاؤ جن کو تم نے شریک (خدا) بنا کر اسکے ساتھ ملا رکھا ہے کوئی نہیں بلکہ وہی (اکیلا) خدا غالب (اور) حکمت والا ہے

وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا كَآفَّةً لِّلنَّاسِ بَشِیْرًا وَّ نَذِیْرًا وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 34:28 in the Quran reader

اور (اے محمد ﷺ ہم نے تم کو تمام لوگوں کے لئے خوشخبری سنانے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 34:29 in the Quran reader

اور کہتے ہیں اگر تم سچے ہو تو یہ (قیامت کا) وعدہ کب وقوع میں آئے گا ؟

قُلْ لَّكُمْ مِّیْعَادُ یَوْمٍ لَّا تَسْتَاْخِرُوْنَ عَنْهُ سَاعَةً وَّ لَا تَسْتَقْدِمُوْنَ۠ Open ayah 34:30 in the Quran reader

کہہ دو کہ تم سے ایک دن کا وعدہ ہے جس سے نہ ایک گھڑی پیچھے رہو گے نہ آگے بڑھو گے

آیت نمبر 22 تا 30 ترجمہ : اے محمد ! کفار مکہ سے کہہ دیجئے کہ جن چیزوں کے بارے میں تمہیں خدا کے سوا (خدائی) کا گمان ہے یعنی جن کو تم اللہ کے علاوہ معبود سمجھتے ہو ان کو پکارو تاکہ وہ تمہارے گمان کے مطابق تم کو نفع پہنچائیں اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں فرمایا وہ ذرہ برابر خیر و شر کا اختیار نہیں رکھتے، نہ آسمان میں اور نہ زمین میں اور نہ ان کی ان دونون (کے پیدا کرنے) میں شرکت ہے اور نہ اللہ تعالیٰ کا ان معبودوں میں سے کوئی مددگار ہے اور اللہ تعالیٰ کے سامنے کسی کی سفارش کام نہیں آتی یہ ان کے اس قول کو رد کرنے کے لئے فرمایا کہ ان کے معبود اس کے سامنے سفارش کریں گے بجز ان کے کہ جن کے لئے اجازت ہوجائے ہمزہ کے فتحہ اور اس ضمہ کے ساتھ تک کہ جب ان کے دلوں سے گھبراہٹ دور کردی جاتی ہے، معروف اور مجہول کے صیغہ کے ساتھ، یعنی جب اجازت دیکر ان کے دلوں کا خوف دور کردیا جائے گا تو آپس میں طلب بشارت کے طور پر پوچھیں گے کہ تمہارے پروردگار نے شفاعت کے بارے میں کیا فرمایا ؟ جواب دیں گے حق بات فرمائی یعنی شفاعت کی اجازت دیدی وہ عالی شان اپنی مخلوق پر قہر کے ذریعہ غالب ہے سب سے بڑا ہے آپ پوچھئے کہ تم کو آسمان سے پانی برسا کر اور زمین سے نباتات اگا کر روزی کون پہنچاتا ہے ؟ اگر وہ جواب ن دیں تو آپ (خود ہی) جواب دیجئے کہ اللہ تعالیٰ (روزی دیتا ہے) (اس لئے کہ) اس کے علاوہ کوئی جواب ہی نہیں ہے (سنو) ہم یا تم دونوں فریقوں میں سے ایک یا تو یقیناً ہدایت پر ہے یا کھلی گمراہی میں ہے مبہم رکھنے میں ان کے ساتھ نرمی ہے جو ایمان کی طرف داعی ہے، جبکہ ان کو ایمان کی توفیق دیجائے آپ کہہ دیجئے ہمارے کئے ہوئے گناہوں کی بابت تم سے کوئی سوال نہ کیا جائے گا اس لئے کہ ہم تم سے بری ہیں، آپ ان کو بتادیجئے کہ ہم سب کو ہمارا رب قیامت کے دن جمع کرے گا پھر ہمارے درمیاب برحق فیصلے کرے گا کہ حق پرستوں کو جنت میں اور باطل پرستوں کو جہنم میں داخل کرے گا وہ بڑا فیصلے کرنے والا ہے اور جو فیصلہ کرتا ہے اس کو بخوبی جاننے والا ہے (آپ) کہہ دیجئے کہ اچھا مجھے بھی تو انہیں دکھاؤ بتاؤ جنہیں تم اللہ کا عبادت میں شریک ٹھہرا کر اس کے ساتھ ملا رہے ہو ایسا ہرگز نہیں، یہ کفار کو اس کے ساتھ اعتقاد شریک پر تو بیخ ہے بلکہ وہی ہے اللہ اپنے امر پر غالب اور اپنی مخلوق کی تدبیر میں حکمت والا لہٰذا اس ملک میں اس کا کوئی شریک نہیں ہوسکتا ہم نے آپ کو تمام لوگوں کو یعنی مومنین کو جنت کی خوشخبری ننانے والا اور کافروں کو عذاب سے ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے کافّۃ، للناس سے حال ہے اس کے اہتمام کے پیش نظر مقدم کردیا گیا ہے مگر اکثر لوگ یعنی کفار مکہ اس کا علم نہیں رکھتے اور پوچھتے ہیں کہ یہ وعدۂ عذاب کب ہے ؟ اگر تم اس (وعدے) میں سچے ہو تو (بتادو) آپ جواب دیجئے کہ تمہارے واسطے وعدہ کا دن معین ہے اس سے نہ ایک ساعت پیچھے ہٹ سکتے ہو اور نہ آگے بڑھ سکتے ہو اور وہی قیامت کا دن ہے۔ تحقیق و ترکیب وتسہیل وتفسیری فوائد قولہ : اَلَّذِیْنَ زَعَمْتُمْ مِنْ دُوْنِ اللہِ ای زَعَمْتُمُوْ ھم اٰلِھَۃً اس عبارت کے اضافہ سے شارح کا مقصد یہ بتانا ہے کہ زَعَمْتُمْ کے دونوں مفعول موصول باصلہ کے طویل ہوجانے کی وجہ سے محذوف ہیں اول مفعول کو حذف کردیا اور دوسرے مفعول یعنی اٰلِھَۃً کو صفت یعنی مِنْ دُوْنِ اللہ کے قائم مقام ہوجانے کی وجہ سے خذف کردیا مفعول اول ھُمْ اور مفعول ثانی اٰلِھَۃً ہے۔ قولہ : لِیَنْفَعُوْ کُمْ. اُدْعُوْا کے متعلق ہے ای اُدْعُوالِیَکْشِفُوا عَنْکُم الضُّرَّ ۔ قولہ : وَمَالَھُمْ فِیْھَا مِنْ شِرْکِ ما نافیہ لَھُمْ خبر لَھُمْ خبر مقدم ہے من زائدہ ہے شرکٍ مبتداء مؤخرلفظاً مجرور اور محلاً مرفوع ہے۔ قولہ : فُزِّعَ مبنی للمفعول یعنی انکے دل کا خوف دور کردیا گیا، تضیف سلب کے لئے ہے کہا جاتا ہے قَرَّدْتُ البَعِیْرَ ای اَزَلْتُ قُرَادَہٗ میں اونٹ کی چچڑی دور کردی۔ قولہ : مَاذا قال رَبُّکم فیھا ای فی الشفاعَۃِ. قولہ : القول الحق اس میں اشارہ اس بات کی جانب ہے کہ الحقَّ مصدر کی صفت ہے قولہ : القول الحق اس میں اشارہ اس بات کی جانب ہے کہ الحقَّ محذوف کی صفت ہے۔ قولہ : قل اللہ . اللہُ مبتداء یَرْزُقُنَا اس کی خبر محذوف۔ قولہ : اَرُوْنِیْ . اعْلِمُونِی اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ روایت سے مراد رویت قلبیہ ہے اور متعدی بد ومفعول ہے جب اس کے شروع میں ہمزہ لایا گیا تو متعدی بہ سہ مفعول ہوگیا اول مفعول ارونی میں ی ہے ثانی اسم موصول اور ثالث شُرَکاء صلہ کی ضمیر عائد محذوف ہے ای اَلْحَقْتُمُوْھُمْ. قولہ : کافَّۃً ای جَمِیْعًا ای اَرْسَلْنٰکَ کے کاف سے حال ہے ای اَرْسَلْنٰکَ جامِعًا للناس فی الا نذَار والإبلاغ ۃ مبالغہ کے لئے جیسا کہ علامۃ میں ۃ مبالغہ کے لئے اور کافۃ للنَّاس سے حال مقدم ہوسکتا ہے ای للناس کافۃً یہ ان لوگوں کے نزدیک ہے جو حال کی جار مجرور پر تقدیم کو جائز سمجھتے ہیں، نیز مصدر محذوف کی صفت بھی ہوسکتی ہے ای اِرْسَالَۃً کافّۃً للناس . قولہ : بَشِیْرًا ونَذِیراً یہ دونوں اَرسلنَکَ کے کاف سے حال ہیں۔ قولہ : قل لَکُمْ مِیْعَادُ یومٍ میں لَکُمْ خبر مقدم ہے اور مِیْعَادُ یَوْمٍ مبتدا مؤخر۔ تفسیر وتشریح قل۔۔۔ زعمتم (الآیۃ) اس آیت میں نبی ﷺ کو حکم ہے اور کفار سے یا تو کفار قریش مراد ہیں یا مطلقا کفار مراد ہیں، دلالت سیاق کی وجہ سے زعمتم کے دونوں مفعول محذوف ہیں، روز قیامت کسی کی سفارش کسی کے لئے کام نہیں آئے گی، الاّیہ کہ سفارش کی اجازت مل جائے، اجازت کا مطلب یہ ہے کہ سفارش کا استحقاق اجازت پر موقوف ہوگا یعنی انبیاء اور ملائکہ وصلحاء اسی وقت سفارش کی ہمت کریں گے جب ان کو بارگاہ ایزدی سے اجازت مل جائے گی، اسی طرح سفارش کی اجازت بھی ان لوگوں کے حق میں ہوگی جن کے لئے اجازت ہوگی اور یہ اجازت مومن گنہ گاروں کے لئے ہوگی، کافروں مشرکوں اور اللہ کے باغیوں کے لئے نہیں، قرآن کریم نے ان دونوں کی دوسری جگہ وضاحت فرمادی ہے مَنْ ذَا الَّذِیْ یَشْفَعُ عِنْدَہٗ اِلَّا بِاِذْنِہٖ ، وَلَایَشْفعُونَ اِلَّالِمَنِ ارْتَضٰی آیات مذکورہ میں حکم ربانی نزول کے وقت فرشتوں کا مدہوش ہوجانا پھر آپس میں ایک دوسرے سے پوچھ تاچھ کرنے کا ذکر ہے، اس کا بیان صحیح بخاری میں حضرت ابوہریرہ کی روایت میں اس طرح آیا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ آسمان میں کوئی حکم نافذ فرماتے ہیں تو سب فرشتے خشوع و خضوع سے اپنے پر مارنے لگتے ہیں، اور مدہوش جیسے ہوجاتے ہیں، جب انکے دلوں سے گھبراہٹ اور ہیبت و جلال کا اثر دور ہوجاتا ہے تو کہتے ہیں تمہارے رب نے کیا فرمایا ؟ دوسرے فرشتے کہتے ہیں کہ فلاں حکم حق فرمایا ہے۔ بحث ومناظرہ میں مخاطب کی نفسیات کی رعایت اور اشتعال انگیزی سے پرہیز : وانا۔۔ مبین یہ کفار و مشرکین سے خطاب ہے، دلائل واضحہ، براہین قاطعہ سے اللہ تعالیٰ کا خالق ومالک اور قادر مطلق ہونا واضح کردیا گیا، بتوں اور غیر اللہ کی بےبسی اور کمزوری کا مشاہدہ کرادیا گیا، ان سب باتوں کے بعد موقع اس کا تھا کہ مشرکین کو خطاب کرکے کہا جاتا کہ تم جاہل اور گمراہ ہو، خدا تعالیٰ کو چھوڑ کر بتوں اور شیاطین کی پرستش کرتے ہو، مگر قرآن حکیم نے اس جگہ حکیمانہ عنوان اختیار کیا جو دعوت و تبلیغ اور مخالفین اسلام اور اہل باطل سے بحث ومناظرہ کرنے والوں کے لئے ایک اہم ہدایت نامہ ہے کہ اس کو کافر اور گمراہ کہنے کے بجائے عنوان یہ رکھا کہ ان دلائل واضحہ کی روشنی میں یہ تو کوئی سمجھ دار آدمی نہیں کہہ سکتا کہ توحید وشرک دونوں باتیں حق ہیں اور اہل توحید اور مشرک دونوں حق پر ہیں، بلکہ یقینی بات ہے کہ ان دونوں میں سے ایک فریق حق پر اور دوسرا گمراہی پر ہے، اب تم خود سوچ لو اور فیصلہ کرلو کہ ہم حق پر ہیں یا تم، مخاطب کافر اور گمراہ کہنے سے اشتعال میں آجاتا، اس لئے اس سے احتراز کیا گیا ہے اور ایسا مشفقانہ انداز اختیار کیا گیا کہ سنگدل مخاطب بھی غور کرنے پر مجبور ہوجائے۔ (قرطبی وبیان القرآن بحوالہ معارف) کافَّۃً للنَّاس عربی محاورہ میں کافۃ کا لفظ عموم وشمول کو بیان کرنے کے لئے استعمال ہوتا ہے جس سے کوئی مستثنیٰ نہ ہو، اصل عبارت کا ترکیبی تقاضہ یہ تھا کہ للناسِ کافَّۃ کہا جاتا، کیونکہ للناس، کافّۃً سے حال ہے، مگر عموم بعث کے اہتمام کو بیان کرنے کے لئے لفظ کافۃً مقدم کردیا گیا۔ رسول اللہ ﷺ سے پہلے بھی انبیاء تشریف لائے ان کی رسالت و نبوت کسی خاص خطہ کے لئے تھی، یہ آپ ﷺ کی خصوصیت اور فضیلت کا بیان ہے کہ آپ ﷺ کی بعثت تمام کے لئے عام ہے خواہ جن ہوں یا انس اور قیامت تک کے لئے ہے، آپ کی نبوت کا تاقیامت باقی رہنا اس کا متقاضی ہے کہ آپ ﷺ خاتم النبیین ہوں۔ صحیح بخاری میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ مجھے پانچ چیزیں ایسی دی گئی ہیں کہ جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئی (1) ، ایک مہینہ کی مسافت پر دشمن کے دل میں میری دھاک بٹھانے سے میری مدد فرمائی گئی ہے ( 2) تمام زمین میرے لئے مسجد اور طہور کردی گئی ہے، جہاں نماز کا وقت ہوجائے نماز پڑھ لے مسجد ضروری نہیں ہے (اور اگر پانی نہ ملے تو تیمم کرلے) (3) مال غنیمت میرے لئے حلال کردیا گیا ہے جو مجھ سے پہلے کسی کے لئے حلال نہیں تھا (4) مجھے شفاعت کا حق دیا گیا ہے (5) پہلے نبی صرف اپنی قوم کے لئے بھیجا جاتا تھا مجھے کائنات کے تمام انسانوں کے لئے مبعوث کیا گیا ہے۔ (صحیح بخاری کتاب التیمم، صحیح مسلم کتاب المساجد)
Ayahs 34:31–36

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ بِهٰذَا الْقُرْاٰنِ وَ لَا بِالَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْهِ١ؕ وَ لَوْ تَرٰۤى اِذِ الظّٰلِمُوْنَ مَوْقُوْفُوْنَ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ۖۚ یَرْجِعُ بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضِ اِ۟لْقَوْلَ١ۚ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا لِلَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْا لَوْ لَاۤ اَنْتُمْ لَكُنَّا مُؤْمِنِیْنَ Open ayah 34:31 in the Quran reader

اور جو کافر ہیں وہ کہتے ہیں کہ ہم نہ تو اس قرآن کو مانیں گے اور نہ ان (کتابوں) کو جو اس سے پہلے کی ہیں اور کاش (ان) ظالموں کو تم اس وقت دیکھو جب یہ اپنے پروردگار کے سامنے کھڑے ہوں گے اور ایک دوسرے کو ردوکد کر رہے ہوں گے جو لوگ کمزور سمجھے جاتے تھے وہ بڑے لوگوں سے کہیں گے کہ اگر تم نہ ہوتے تو ہم ضرور مومن ہوجاتے

قَالَ الَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْا لِلَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْۤا اَنَحْنُ صَدَدْنٰكُمْ عَنِ الْهُدٰى بَعْدَ اِذْ جَآءَكُمْ بَلْ كُنْتُمْ مُّجْرِمِیْنَ Open ayah 34:32 in the Quran reader

بڑے لوگ کمزوروں سے کہیں گے کہ بھلا ہم نے تم کو ہدایت سے جب وہ تمہارے پاس آچکی تھی روکا تھا ؟ (نہیں) بلکہ تم ہی گنہگار تھے

وَ قَالَ الَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا لِلَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْا بَلْ مَكْرُ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ اِذْ تَاْمُرُوْنَنَاۤ اَنْ نَّكْفُرَ بِاللّٰهِ وَ نَجْعَلَ لَهٗۤ اَنْدَادًا١ؕ وَ اَسَرُّوا النَّدَامَةَ لَمَّا رَاَوُا الْعَذَابَ١ؕ وَ جَعَلْنَا الْاَغْلٰلَ فِیْۤ اَعْنَاقِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ هَلْ یُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 34:33 in the Quran reader

اور کمزور لوگ بڑے لوگوں سے کہیں گے (نہیں) بلکہ (تمہاری) رات دن کی چالوں نے (ہمیں روک رکھا تھا) جب تم ہم سے کہتے تھے کہ ہم خدا سے کفر کریں اور اس کا شریک بنائیں اور جب وہ عذاب دیکھیں گے تو دل میں پشیمان ہوں گے اور ہم کافروں کی گردنوں میں طوق ڈال دیں گے بس جو عمل وہ کرتے تھے انہی کا ان کو بدلہ ملے گا

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا فِیْ قَرْیَةٍ مِّنْ نَّذِیْرٍ اِلَّا قَالَ مُتْرَفُوْهَاۤ١ۙ اِنَّا بِمَاۤ اُرْسِلْتُمْ بِهٖ كٰفِرُوْنَ Open ayah 34:34 in the Quran reader

اور ہم نے کسی بستی میں کوئی ڈرانے والا نہیں بھیجا مگر وہاں کے خوشحال لوگوں نے کہا کہ جو چیز دے کر تم بھیجے گئے ہو ہم اسکے قائل نہیں

وَ قَالُوْا نَحْنُ اَكْثَرُ اَمْوَالًا وَّ اَوْلَادًا١ۙ وَّ مَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِیْنَ Open ayah 34:35 in the Quran reader

اور (یہ بھی) کہنے لگے کہ ہم بہت سا مال اور اولاد رکھتے ہیں اور ہم کو عذاب نہیں ہوگا

قُلْ اِنَّ رَبِّیْ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 34:36 in the Quran reader

کہہ دو کہ میرا رب جس کے لئے چاہتا ہے روزی فراخ کردیتا ہے اور (جس کے لئے چاہتا ہے تنگ) کردیتا ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے

آیت نمبر 31 تا 36 ترجمہ : اور مکہ کے کافر کہتے ہیں کہ ہم ہرگز اس قرآن کو نہ مانیں گے اور نہ ان کتابوں کو جو اس سے پہلے کی ہیں جیسا کہ تورات اور انجیل جو مرنے کے بعد زندہ ہونے پر دلالت کرتی ہیں، ان کے بعث بعد الموت کا منکر ہونے کی وجہ سے، اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں فرمایا اور اے محمد اگر آپ ان ظالموں کافروں کو اس وقت دیکھیں جب وہ اپنے رب کے سامنے کھڑے ہوئے (آپس میں) ایک دوسرے کو الزام دے رہے ہوں گے کمزور درجہ کے لوگ یعنی متبعین بڑے لوگوں سے یعنی سرداروں سے کہیں گے اگر تم ہم کو ایمان سے روکنے والے نہ ہوتے تو ہم نبی کو ماننے والے ہوتے یہ بڑے لوگ کمزوروں کو جواب دیں گے کہ کیا تمہارے پاس ہدایت آجانے کے بعد ہم نے تم کو اس سے روکا تھا ؟ نہیں بلکہ تم خود ہی قصوروار تھے (اس کے جواب میں) کمزور لوگ متکبروں سے کہیں گے، بلکہ ہمارے ساتھ تمہاری رات و دن کی تدبیروں نے روکا تھا جب تم کہتے تھے کہ اللہ کے ساتھ کفر کرو اور اس کا شریک ٹھہراؤ اور دونوں فریق جب عذاب کو دیکھیں گے تو ترک ایمان پر ندامت کو چھپائیں گے یعنی ہر فریق اپنے مخالف سے شرم دلانے کے خوف سے ندامت کو چھپائے گا اور جہنم میں ہم کافروں کے گلے میں طوق ڈالدیں گے ان کو صرف دنیا میں ان کے کئے ہوئے کرتوتوں کا بدلہ دیا جائے گا اور ہم نے تو جس بستی میں جو بھی آگاہ کرنے والا (رسول) بھیجا وہاں کے خوشحال لوگوں یعنی خوشحال سرداروں نے یہی کہا کہ جو چیز دے کر تم کو بھیجا گیا ہے ہم اس کے منکر ہیں، اور کہا ہم مال واولاد میں ایمان والوں سے بڑھے ہوئے ہیں یہ نہیں ہوسکتا کہ ہم کو عذاب دیا جائے، آپ کہہ دیجئے میرا رب جس کی چاہے بطور آزمائش روزی کشادہ کردیتا ہے اور امتحاناً جس کی چاہے روزی تنگ کردیتا ہے لیکن اکثر لوگ کفار مکہ اس بات کو نہیں جانتے۔ تحقیق و ترکیب وتسہیل وتفسیری فوائد قولہ : وَلَوْتَرَی، لَوْ کا جواب اور تَریٰ کا مفعول محذوف ہے تقدیر عبارت یہ ہے وَلَوْ تَرَی حَالَ الظالمین وَقْتَ وقوفِھِم عند ر۔ بِّھم لرَأیتَ اِمْرًا فظیعًا حال مفعول ہے اور لرأیتَ الخ جواب لو ہے۔ قولہ : اِذالظالمون تریٰ کا ظرف ہے۔ قولہ : یَرْجِعُ بَعْضُھُمْ یہ موقوفون کی ضمیر سے حال ہے۔ قولہ : یقول الذین استضعفوا، ترْجِعُ کی تفسیر ہے۔ قولہ : لَوْ لاَ مبتداء ہے، اس کی خبر محذوف ہے، شارح نے اپنے قول صَدَدْتُمُوْنَا سے خبر محذوف کی طرف اشارہ کردیا، اور لَکُنَّا مُؤمِنِیْنَ ، لَوْلاَ کا جواب ہے۔ قولہ : اَنَحْنُ صَدَدْنَاکم کے بعد شارح نے لاَ مقدر مان کر اشارہ کردیا کہ اَنَحْنُ میں ہمزہ استفہام انکاری کے لئے ہے۔ قولہ : بَلْ مکرُ اللیل، مکرٌ فعل محذوف کا فاعل ہے تقدیر عبارت یہ ہے بَلْ صَدَدْنَا مکرُکُمْ بِنَا فِی اللیلِ والنَّھَارِ ، مکرُکُمْ میں کُمْ مضاف الیہ کو حذف کردیا اور اتساعاً ظرف کو مضاف الیہ کے قائم مقام کردیا۔ قولہ : اِذْ تَامُرُوْنَنَا یہ مکرٌ کا ظرف ہے ای مکر کُمْ وقتَ امرِکُمْ لناَ. قولہ : اَسَرُّوا جملہ حالیہ یا مستانفہ ہے۔ قولہ : اِلَّا قال مُتْرَفُوھَا یہ قریۃٍ سے حال ہے قریۃ اگرچہ نکرہ ہے مگر چونکہ سیاق نفی میں واقع ہے جس کی وجہ سے ذوالحال بننے کی گنجائش ہوگئی۔ قولہ : مُتَرَفوھا اصل میں مُتْرَفونَ بِھا نون اضافت کی وجہ سے گرگیا یہ اِتْرَافٌ، فعول جمع مذکر ہے آسودہ، اور خوشحال لوگ۔ قولہ : بِمَااُرْسِلْتُمْ بہٖ ، کافِرُوْنَ سے متعلق ہے اہتمام اور رعایت فواصل کی وجہ سے مقدم کردیا، تقدیر عبارت یہ ہے ای کافِرُوْنَ بِمَا اُرْسِلْتُمْ بہٖ. تفسیر وتشریح وقال۔۔ کفروا مشرکین مکہ نے یہود سے آپ ﷺ کی نبوت کی علامات معلوم کیں، یہود نے جو علامات بتائیں تو وہ آپ ﷺ پر پوری طرح صادق آئیں، تو اس وقت مشرکین نے کہا کہ ہم نہ قرآن کو مانیں گے اور نہ اگلی کتابوں انجیل، تورات، زبور وغیرہ کو اس لئے کہ یہ سب ایک ہی چٹے بٹے ہیں جہاں دیکھو وہی حساب و کتاب اور قیامت کا مضمون، سو ہم ان چیزوں کو ہرگز تسلیم کرنے والے نہیں ہیں۔ وَلوْتَریٰ میں خطاب آپ ﷺ کو بھی ہوسکتا ہے جیسا کہ علامہ محلی نے اختیار کیا ہے اور ہراس شخص کو بھی ہوسکتا ہے جس میں مخاطب بننے کی صلاحیت ہو، مطلب یہ ہے کہ اے مخاطب اگر تو ان مشرکین وکافرین کی اس حالت کو دیکھے کہ جب یہ لوگ اپنے رب کے روبرو سرا فگندہ شرمندہ کھڑے ہوں گے، اور ناکامی کا الزام ایک دوسرے پر ڈال رہے ہوں گے جیسا کہ دنیا میں بھی عام عادت یہیٰ ہے، تو اے مخاطب تو ان کی عجیب حالت زارد دیکھے گا، آگے اللہ تعالیٰ وَیَقُوْْلُ الَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا سے مشرکین کے آپس میں ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہرانے کو بیان فرما رہے ہیں، فرماتے ہیں دنیا میں جو لوگ نچلے طبقہ میں اور کمزور شمار ہوتے تھے اور دوسروں کے پیچھے چلتے تھے وہ اپنے سرداروں کو الزام دیتے ہیں، کہ تم نے ہمیں اس مصیبت میں پھنسوایا، تمہاری طرف سے رکاوٹ نہ ہوتی تو ہم ضرور پیغمبروں کی بات مان لیتے اور یہ دن دیکھنا نہ پڑتا، قوم کے اونچے طبقہ کے لوگ کمزور طبقہ کے لوگوں کو جواب دیں گے، کہ ہمارے پاس کونسی طاقت تھی کہ ہم تم کو ہدایت کے راستہ سے روکتے، حقیقت یہ ہے کہ جب تمہارے پاس حق بات پہنچ گئی تھی اور سمجھ میں آگئی تھی تو کیوں قبول نہ کی ؟ اور کیوں تم نے اس میں غور فکر نہ کیا ؟ بلکہ صحیح بات یہ ہے کہ تم اپنی خواہشات کی وجہ سے اسے قبول کرنے سے گریزاں رہے، اور آج اپنا جرم ہمارے سر ڈال کر ہمیں مجرم بنا رہے ہو، اس کے جواب میں کمزور طبقہ کے لوگ کہیں گے، بیشک تم نے زبردستی مجبور تو نہ کیا تھا، مگر رات دن مکر و فریب اور مغویا نہ یدبیر سے ہم کو بہکاتے پھسلاتے رہے تھے، جب ملے یہی تلقین کی کہ پیغمبروں کے حکم و ارشاد کے مطابق خدا کو ایک نہ مانیں بلکہ بعض مخلوقات کو بھی اس کا مماثل اور برابر کا شریک سمجھیں، آخر تمہاری شب وروز کی ترغیب و ترہیب کا کہاں تک اثر نہ ہوتا ؟ وَاَسَرُّوا النَّدَامَۃََ یعنی دونوں فریق ایک دوسرے پر الزام تراشی تو کریں گے، لیکن دل میں دونوں ہی فریق اپنے اپنے کفر پع شرمندہ ہوں گے، مگر شماتت اعداء کی وجہ کی ظاہر کرنے سے گریز کریں گے، گردنوں میں طوق اور پاتھ پیروں میں زنجیریں پڑی ہوں گی، یعنی دنیا میں جیسا کچھ کیا ہوگا آج وہ سزا کی صورت میں ظاہر ہورہا ہوگا، سچ ہے جیسا کرنا ویسا برنا وَمَا اَرْسَلْنَا فِیْ قَرْیَۃٍ یہ آپ ﷺ کو تسلی دی جارہی ہے، کہ آپ مکہ کے رؤساء اور چودھریوں کے انحراف اور سرکشی سے مغموم نہ ہوں ہر زمانہ میں پیغمبروں کا مقابلہ ایسے ہی بدبخت رئیسوں اور شریروں نے کیا ہے، آپ کے ساتھ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے، دولت و ثروت کا نشہ اور اقتدار طلبی کا جذبہ آدمی کو اندھا کردیتا ہے، وہ کسی کے سامنے گردن جھکانے اور چھوٹے آدمیوں کے برابر بیٹھنا گوارا نہیں کرتا، اسی لئے انبیاء کے پیرو کار عموماً ضیعیف و مسلین لوگ ہوتے ہیں، حضرت نوح علیہ الصلاۃُ والسلام کی قوم نے کہا تھا أنَؤمِنُ لَکَ وَاتَّبِعَکَ الاَرْذَلُونَ (الشعراء) وَقَالُوْا نَحْنُ اَکْثَرُ اَمْوَالاً وَاَوْلاَدًا مطلب یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے ہمیں دنیا میں مال واولاد کی کثرت سے نواز ہے، تو اگر بقول شما قیامت برپا ہوئی بھی ہم وہاں بھی تم سے بہتر رہیں گے، اس لئے کہ ہم یہاں مال واولاد میں تم سے بہتر ہیں اسی سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا ہم سے راضی اور خوش ہے اس لئے کہ کوئی بھی اپنے دشمن کو مال و دولت سے نہیں نوازا کرتا، جب ہم سے خوش ہے تو ہمیں کسی عذاب کا بھی اندیشہ نہیں، تم فضول ہم کو عذاب کی دھمکیاں دیتے ہو قُلْ اِنَّ رَبِّیْ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَاءُ وَیَقْدِرُ اس آیت میں کفار کے مذکورہ مغالطہ اور شبہ کا ازالہ کیا ہے کہ رزق کی کشادگی اور تنگی اللہ کی رضا یا عدم کی مظہر نہیں ہے، بلکہ اس کا تعلق اللہ کی حکمت و مشیئت سے ہے، اس لئے کہ وہ مال اس کو بھی دیتا ہے جس کو پسند کرتا ہے اور اس کو بھی جس کو ناپسند کرتا ہے، مال واولاد کی فراوانی اور تنگی اس کی رضا و عدم رضاکا معیار نہیں ہے۔
Ayahs 34:37–45

وَ مَاۤ اَمْوَالُكُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُكُمْ بِالَّتِیْ تُقَرِّبُكُمْ عِنْدَنَا زُلْفٰۤى اِلَّا مَنْ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا١٘ فَاُولٰٓئِكَ لَهُمْ جَزَآءُ الضِّعْفِ بِمَا عَمِلُوْا وَ هُمْ فِی الْغُرُفٰتِ اٰمِنُوْنَ Open ayah 34:37 in the Quran reader

اور تمہارا مال اور اولاد ایسی چیز نہیں کہ تم کو ہمارا مقرب بنادیں ہاں (ہمارا مقرب وہ ہے) جو ایمان لایا اور عمل نیک کرتا رہا ایسے ہی لوگوں کو ان کے اعمال کے سبب دگنا بدلا ملے گا اور وہ خاطر جمع سے بالا خانوں میں بیٹھے ہوں گے

وَ الَّذِیْنَ یَسْعَوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِنَا مُعٰجِزِیْنَ اُولٰٓئِكَ فِی الْعَذَابِ مُحْضَرُوْنَ Open ayah 34:38 in the Quran reader

اور جو لوگ ہماری آیتوں میں کوشش کرتے ہیں کہ ہمیں ہرا دیں وہ عذاب میں حاضر کئے جائیں گے

قُلْ اِنَّ رَبِّیْ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ وَ یَقْدِرُ لَهٗ١ؕ وَ مَاۤ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ شَیْءٍ فَهُوَ یُخْلِفُهٗ١ۚ وَ هُوَ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ Open ayah 34:39 in the Quran reader

کہہ دو کہ میرا پروردگار اپنے بندوں میں سے جس کے لئے چاہتا ہے روزی فراخ کردیتا ہے اور (جس کے لئے چاہتا ہے) تنگ کردیتا ہے اور تم جو چیز خرچ کرو گے وہ اس کا (تمہیں) عوض دے گا اور وہ سب سے بہتر رزق دینے والا ہے

وَ یَوْمَ یَحْشُرُهُمْ جَمِیْعًا ثُمَّ یَقُوْلُ لِلْمَلٰٓئِكَةِ اَهٰۤؤُلَآءِ اِیَّاكُمْ كَانُوْا یَعْبُدُوْنَ Open ayah 34:40 in the Quran reader

اور جس دن وہ ان سب کو جمع کرے گا پھر فرشتوں سے فرمائے گا کیا یہ لوگ تم کو پوجا کرتے تھے ؟

قَالُوْا سُبْحٰنَكَ اَنْتَ وَلِیُّنَا مِنْ دُوْنِهِمْ١ۚ بَلْ كَانُوْا یَعْبُدُوْنَ الْجِنَّ١ۚ اَكْثَرُهُمْ بِهِمْ مُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 34:41 in the Quran reader

وہ کہیں گے تو پاک ہے تو ہی ہمارا دوست ہے نہ یہ بلکہ یہ جنات کو پوجا کرتے تھے ؟ اور اکثر انہی کو مانتے تھے

فَالْیَوْمَ لَا یَمْلِكُ بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ نَّفْعًا وَّ لَا ضَرًّا١ؕ وَ نَقُوْلُ لِلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا ذُوْقُوْا عَذَابَ النَّارِ الَّتِیْ كُنْتُمْ بِهَا تُكَذِّبُوْنَ Open ayah 34:42 in the Quran reader

تو آج تم میں سے کوئی کسی کو نفع اور نقصان پہنچانے کا اختیار نہیں رکھتا اور ہم ظالموں سے کہیں گے کہ دوزخ کے عذاب کا جس کو تم جھوٹ سمجھتے تھے مزہ چکھو

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ قَالُوْا مَا هٰذَاۤ اِلَّا رَجُلٌ یُّرِیْدُ اَنْ یَّصُدَّكُمْ عَمَّا كَانَ یَعْبُدُ اٰبَآؤُكُمْ١ۚ وَ قَالُوْا مَا هٰذَاۤ اِلَّاۤ اِفْكٌ مُّفْتَرًى١ؕ وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلْحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمْ١ۙ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 34:43 in the Quran reader

اور جب ان کو ہماری روشن آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو کہتے ہیں یہ ایک (ایسا) شخص ہے جو چاہتا ہے کہ جن چیزوں کی تمہارے باپ دادا پرستش کیا کرتے تھے ان سے تم کو روک دے اور (یہ بھی) کہتے ہیں کہ یہ (قرآن) محض جھوٹ ہے جو اپنی طرف سے بنا لیا گیا ہے اور کافروں کے پاس جب حق آیا تو اس کے بارے میں کہنے لگے کہ یہ تو صریح جادو ہے

وَ مَاۤ اٰتَیْنٰهُمْ مِّنْ كُتُبٍ یَّدْرُسُوْنَهَا وَ مَاۤ اَرْسَلْنَاۤ اِلَیْهِمْ قَبْلَكَ مِنْ نَّذِیْرٍؕ Open ayah 34:44 in the Quran reader

اور ہم نے نہ تو ان (مشرکوں) کو کتابیں دیں جن کو یہ پڑھتے ہیں اور نہ تم سے پہلے ان کی طرف کوئی ڈرانے والا بھیجا مگر انہوں نے تکذیب کی

وَ كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ۙ وَ مَا بَلَغُوْا مِعْشَارَ مَاۤ اٰتَیْنٰهُمْ فَكَذَّبُوْا رُسُلِیْ١۫ فَكَیْفَ كَانَ نَكِیْرِ۠ Open ayah 34:45 in the Quran reader

اور جو لوگ ان سے پہلے تھے انہوں نے تکذیب کی تھی اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا تھا یہ اس کے دسویں حصے کو بھی نہیں پہنچے تو انہوں نے میرے پیغمبروں کو جھٹلایا سو میرا عذاب کیسا ہوا ؟

آیت نمبر 37 تا 45 ترجمہ : اور تمہارے مال و اولاد ایسی چیز نہیں جو تم کو ہمارا مقرب بنادیں، ہاں ! جو ایمان لائیں اور نیک عمل کریں ان کے لئے ان کے اعمال کا دوہرا اجر ہے مثلاً نیک اعمال کی جزاء دس گنا یا اس سے بھی زیادہ اور وہ جنت کے بالا خانوں میں موت وغیرہ سے بےخوف ہوں گے اور ایک قراءت میں اَلغُرْفَۃُ ہے اور یہ معنی میں جمع کے ہے، اور وہ لوگ جو ہماری آیتوں قرآن کے باطل کرنے کی تگ ودو میں ہم کو عاجز سمجھ کر لگے رہتے ہیں، یہ سمجھ کر ہم سے بچ کر نکل جائیں گے، یہی ہیں وہ جو عذاب میں پکڑ کر حاضر کئے جائیں گے، آپ کہہ دیجئے میرا رب اپنے بندوں میں سے جس کی چاہے روزی امتحاناً کشادہ کردیتا ہے اور اسی کی یا جس کی چاہے کشادگی کے بعد ابتلاءً روزی تنگ کردیتا ہے اور تم جو کچھ بھی کارخیر میں خرچ کرو گے اللہ اس کا بدلہ دے گا اور وہ بہترین روزی رساں ہے، کہا جاتا ہے کہ ہر انسان اپنے اہل اعیال کو روزی دیتا ہے یعنی اللہ کے روزق سے اور وہ دن قابل ذکر ہے جس دن اللہ تعالیٰ ان سب مشرکوں کو جمع کرے گا پھر فرشتوں سے ارشاد فرمائے گا کیا یہ لوگ تمہاری عبادت کیا کرتے تھے ؟ دونوں ہمزوں کی تحقیق کے ساتھ اور پہلے ہمزہ کو یاء سے بدل کر اور اس کو ساقط کرکے وہ عرض کریں گے تو شرک سے پاک ہے ہمارا ولی تو تو ہے نہ کہ وہ یعنی ہمارے اور ان کے درمیان ہماری طرف سے کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ یہ لوگ تو شیاطین کو پوجتے تھے یعنی ہماری بندگی کرنے میں ان کی اطاعت کرتے تھے ان میں کے اکثر کا انہی پر ایمان تھا یعنی وہ کو کچھ ان سے کہتے تھے اسی کی تصدیق کرتے تھے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کوئی کسی کو یعنی معبود کسی عابد کو نہ شفاعت کا نفع پہنچانے کا اختیار رکھتا ہے اور نہ عذاب دینے کا، اور ہم ظالموں کافروں سے کہہ دیں گے کہ اس آگ کا عذاب چکھو جسے تم جھٹلا رہے تھے اور جب ان لوگوں کے سامنے قرآن کی آیتیں جو صاف صاف ہیں ہمارے نبی محمد ﷺ کی زبانی پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو کہتے ہیں کہ یہ ایسا شخص ہے کو تم کو تمہارے باپ دادوں کے معبودوں سے یعنی بتوں سے روک دینا چاہتا ہے اور کہتے ہیں کہ یہ قرآن محض اللہ پر لگایا ہوا بہتان ہے، اور کافر اس حق یعنی قرآن کی نسبت جبکہ وہ ان کے پاس آچکا کہتے ہیں کہ یہ محض ایک صریح جادو ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا نہ تو ہم نے ان کو کتابیں دے رکھی ہیں جنہیں یہ پڑھتے ہوں اور نہ ہم نے ان کے پاس آپ سے پہلے کوئی آگاہ کرنے والا بھیجا پھر یہ آپ کو کس طرح جھٹلاتے ہیں، اور ان سے پہلے کے لوگوں نے بھی اور انہیں جو کچھ ہم نے دے رکھا تھا یہ تو اس کے دسویں حصہ کو بھی نہیں پہنچے یعنی قوت اور درازی عمر اور کثرت مال میں بس ان لوگوں نے ان کی طرف بھیجے ہوئے میرے رسولوں کو جھٹلایا (پھردیکھ) ان پر سزا اور ہلاکت کے اعتبار سے میرا عذاب کیسا رہا ؟ یعنی وہ بر موقع ہوا۔ تحقیق و ترکیب وتسہیل وتفسیری فوائد قولہ : وَمَااَمْوَالُکُمْ وَلاَ اَوْلَادُکُمْ بِالَّتِیْ تُقَرِّبُکُمْ عِنْدَنَا زُلْفٰی، وَمَا اَمْوَالکم جملہ مستانفہ ہے، ماسبق کی تحقیق و تقریر کے لئے لایا گیا ہے، مامشابہ بلیس ہے، اموالکم اپنے معطوف کے ساتھ اس کا اسم ہے، بالتی موصول صلہ سے مل کر اموال واولاد کی صفت ہے اگرچہ موصوف صفت میں بظاہر مطابقت نہیں ہے مگر چونکہ جمع تکسیر خواہ ذوی العقول کی ہو یا غیر ذوی العقول کی واحد مؤنث کے حکم میں ہوتی ہے، اس اعتبار سے موصوف وصفت میں مطابقت ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ بالَّتیْ موصوف محذوف کی صفت ہو، تقدیر عبارت یہ ہو بالْاََ حْوَالِ الَّتِیْ تُقَرِّبُکُمْ مفسر علام نے زُلْفیٰ کی تفسیر قُربیٰ سے کرکے اشارہ کردیا کہ زُلْفیٰ ، تُقَرِّبُکُمْ کا مفعول مطلق بغیر لفظہ ہے ای تُقَرّبٰکم تَقْرِیْبًا . قولہ : اُولئِٰٓکَ اسم اشارہ مبتدا ہے اور مشارالیہ مَنْ آمَنَ میں مَنْ ہے اور اُولئِٰٓکَ جمع مَنْ کے معنی کے اعتبار سے ہے، دونوں فعلون کو مَنْ کے لفظ کی رعایت سے مفردلائے ہیں۔ قولہ : لَھُمْ خبر مقدم اور جزاء الضعف مبتداء مؤخر، جملہ اسمیہ ہو کر اُولئِٰکَ مبتداء کی خبر ہے اور جَزَاءُ الضِّعْفِ اضافت الموصوف الی الصفت کے قبیل سے ہے ای لھم الجزٌاء المضاعف ایک قراءت میں اَلْغُرْفَۃُ ہے الف لام جنس کا ہونے کی وجہ سے معنی میں جمع کے ہے قولہ : مقدرین عجزنا ای معتقدین اِنَّنا عَاجِزُوْنَ فَلا نَقْدِرُ علیھِمْ ۔ قولہ : قُلْ اِنَّ رَبِیْ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشاءُ الخ اس آیت کے بارے میں بعض حضرات نے کہا ہے کہ یہ آیت مکر رہے اور ماقبل کی تاکید کے لئے ہے، اور نعض حضرات نے کہا ہے کہ یہ آیت اول کی غیر ہے، اول اشخاص متعددہ کے لئے ہے یعنی کسی کی روزی کشادہ اور کسی کی تنگ کرتا ہے اور یہ آیت شخص واحد کے لئے ہے یعنی ایک ہی شخص کی روزی ایک وقت میں کشادہ کرتا ہے اور اسی شخص کی دوسرے وقت میں تنگ کردیتا ہے۔ قولہ : فَھُوَ یُخلِفُہٗ یعنی اللہ تعالیٰ راہ خدا میں خرچ کئے ہوئے کا بدل اور عوض عطا فرما دیتا ہے۔ قولہ : یقالُ کُلُّ اِنْسانٍ یَرْزُقُ عائِلَتَہٗ یہ ایک سوال مقدر کا جواب ہے۔ سوال : سوال یہ ہے کہ رازقین کو جمع لایا گیا ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے رازق کثیر ہیں حالانکہ رازق صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ جواب : حقیقی رازق تو اللہ تعالیٰ ہی ہیں چونکہ بندہ بظاہر خدا کے عطا کردہ رزق میں سے اپنے اہل و عیال، نوکرچاکروں کو رزق دیتا ہے اس لئے مجازاً بندہ کو بھی رازق کہہ دیا جاتا ہے، اسی وجہ سے بندہ کو رازق کہہ سکتے ہیں مگر رزاّق نہیں کہہ سکتے، اس لئے کہ یہ اسماء حسنیٰ مختصہ میں سے ہے۔ قولہ : اکثَرُ ھم بھِمْ مُؤمنون، اکثرھم مبتداء مؤمنون اس کی خبر بھِمْ ، مؤمنونَ سے متعلق ہے اور اکثر سے مراد کل ہیں۔ قولہ : نَقُوْلُ کا عطف لا یَمْلِکُ پر ہے۔ قولہ : وَقَال الَّذِیْنَ کَفَرُوْا یہاں ضمیر لانا بھی کافی ہوسکتا تھا، اس لئے کہ کفار و مشرکین کا ذکر سابق میں ہوچکا ہے، یعنی قَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا کے بجائے وَقَالُوْا کہتے مگر چونکہ اس میں ان کی صفت کفر کو ظاہر کرنے کی وجہ سے قباحت وشناعت زیادہ ہے، اس لئے اسم ضمیر کے بجائے اسم ظاہر استعمال کیا ہے۔ قولہ : المِعْشَار دسواں حصہ بعض حضرات نے کہا ہے کہ دسویں کا دسواں یعنی سواوں حصہ، مقصد تحدید نہیں ہے بلکہ بیان قلت ہے اگر فکذبوا رسلی کا عطف کذّبَ الذینَ من قبلھمْ پر ہو تو مابَلَغُوْا مِعْشار ما آتیناھم معطوف اور معطوف علیہ کے درمیان جملہ معترضہ ہوگا۔ تفسیر وتشریح دنیا کی دولت و عزت کو مقبولیت عنداللہ کی دلیل سمجھنا قدیم شیطانی فریب ہے : ابتداء دنیا کی دولت اور عیش و عشرت کے نشہ میں مخمور رہنے والوں نے ہمیشہ حق کی آواز کی مخالفت اور انبیاء وصلحاء سے عداوت کا طریقہ اختیار کیا ہے، لاماشاء اللہ ! اور اس پر طرہ یہ کہ اہل حق کے مقابلہ میں اپنی موجودہ حالت پر خوش اور مطمئن ہونے کی یہ دلیل بھی دیتے ہیں کہ اگر ہمارے اعمال و عادات اللہ کو پسند نہ ہوتے تو ہمیں دنیا کی دولت، عزت، حکومت کیوں دیتے، قرآن کریم نے اس کا جواب متعدد آیات میں متعدد عنوانات سے دیا ہے، آیات مذکورہ کا نزول بھی اسی طرح کے ایک واقعہ سے متعلق ہے اور اس لغودلیل کا جواب ہے۔ شان نزول : حدیث میں ہے کہ زمانہ جاہلیت میں دو شخص ایک کاروبار میں شریک تھے، ان میں سے ایک دوسری جگہ کسی ساحلی علاقہ میں چلا گیا، جب آپ ﷺ مبعوث ہوئے، آپ کی نبوت و رسالت کا چرچا ہوا تو ساحلی ساتھی نے مکی ساتھی کو خط لکھ کر دریافت کیا کہ ان کے دعوائے نبوت کا تم لوگوں نے کیا اثر لیا، اس پر مکی ساتھی نے جواب لکھا کہ قریش میں سے تو کوئی بھی ان کا تابع نہیں ہوا، صرف غیریب مسکین بےحیثیت لوگ ان کے پیچھے لگے ہیں، ساحلی وہاں کی اپنی تجارت چھوڑ کر مکہ آیا، اور اپنے ساتھی سے کہا مجھے اس کا پتہ بتادو، یہ ساحلی کتب قدیمہ توریت انجیل وغیرہ کا مطالعہ کیا کرتا تھا، آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور دریافت کیا کہ آپ کس چیز کی دعوت دیتے ہیں، آپ نے دعوت اسلام کے اہم اجزاء کا ذکر فرمایا، اس شخص نے آپ کی زبان مبارک سے دعوت کے اجزاء سنتے ہی کہا اَشْھَدُ اَنَّکَ رسُوْلُ اللہِ آپ ﷺ نے اس کی علامت یہ دیکھی کہ جیتنے انبیاء (علیہم السلام) پہلے آئے ہیں سب کے ماننے والے ابتداء میں قوم کے غیریب و فقیر اور دنیا کے اعتبار سے کم حیثیت ہوئے ہیں، اس پر یہ آیت نازل ہوئی مَا اَرْسلنَا فی قریۃ۔ (الآیۃ) خلاصہ یہ کہ یہ مال و دولت اس کی دلیل نہیں ہے کہ ہمیں تم سے محبت ہے اور ہماری بارگاہ میں تمہیں خاص مقام حاصل ہے، ہماری محبت اور قربت حاصل کرنے کا ذریعہ تو صرف ایمان وعمل صالح ہے، جس طرح حدیث میں فرمایا گیا ہے، اللہ تعالیٰ تمہاری شکلیں اور مال نہیں دیکھتا، وہ تو تمہارے دلوں اور اعمال کو دیکھتا ہے۔ (صحیح مسلم، کتاب البر) جب یہ بات معلوم ہوگئی کہ مال کی کثرت اور فراوانی مقبولیت عنداللہ کی دلیل نہیں تو اللہ تعالیٰ کھبی کافر کو بھی خوب مال دیتا ہے، لیکن یہ استدراج (ڈھیل) کے طور پر ہوتا ہے، اور کبھی مومن کو تنگ دست رکھتا ہے، مگر اس کے اجروثواب میں اضافہ کرنے کے لئے، اس لئے محض مال کی فراوانی اس کی رضا اور خوشنودی کی اور مال کی کمی تنگی کی دلیل نہیں ہے۔ ” اِخلاف “ کے معنی ہیں عوض اور بدلہ دینا، یہ بدلہ دنیا میں بھی ممکن ہے اور آخرت میں تو یقینی ہے، حدیث قدسی میں ہے اَنْفِقْ اُنْفِقُ عَلَیْکَ (صحیح بخاری سورة ہود) تو خرچ کر میں تجھ پر خرچ کروں گا، یعنی بدلہ دوں گا، دو فرشتے ہر روز اعلان کرتے ہیں، ایک کہتا ہے اللّٰھُمَّ اَعْطِ مُمْسِکًا تَلَفًا یا اللہ بخیل کے مال کو ضائع کردے، دوسرا کہتا ہے اللّٰھُمَّ اَعْطِ مُنْفِقًا خَلَقًا اے اللہ خرچ کرنے والے کو بدلہ عطا کر۔ (بخاری، کتاب الزکوٰۃ) جو خرچ شریعت کے مطابق نہ ہو اس کے بدل کا وعدہ نہیں : حضرت جابر ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، نیک کام صدقہ ہے اور کوئی آدمی کو اپنے نفس پر یا اپنے عیال پر خرچ کرتا ہے وہ بھی صدقہ کے حکم میں ہے، اور جو شخص کچھ خرچ کرکے اپنی آبرو بچائے وہ بھی صدقہ ہے، اور جو شخص اللہ کے حکم کے مطابق خرچ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ نے ذمہ لے لیا ہے کہ اس کا بدل اس کو دے گا، مگر وہ خرچ کو فضول (ضرورت سے زائد) ہو یا کسی گناہ کے کام میں ہو اس کے بدل کا وعدہ نہیں۔ حضرت جابر ؓ کے شاگرد ابن المنکدر نے یہ حدیث سن کر ان سے پوچھا کہ آبرو بچانے کے لئے خرچ کا کیا مطلب ہے ؟ جواب دیا کہ جس شخص کے بارے میں یہ خیال ہو کہ اگر نہیں دیں گے تو عیب جوئی کرے گا برا کہتا پھرے گا یا بد گوئی کرے گا۔ (دار قطنی، قرطبی بحوالہ معارف) وکذب۔۔ قبلھم یہ کفار کو تنبیہ کی جارہی ہے کہ تم نے انکار و تکذیب کا جو راستہ اختیار کیا ہے وہ نہایت خطرناک ہے تم سے پچھلی امتیں بھی اس راستہ پر چل کر تباہ و برباد ہوچکی ہیں، حالانکہ یہ امتیں مال و دولت، قوت و طاقت اور عمر کے لحاظ سے تم سے بڑھ کر تھیں، تم تو ان کے دسویں حصہ کو بھی نہیں پہنچے، لیکن اس کے باوجود وہ اللہ کے عذاب سے نہیں بچ سکیں، اسی مضمون کو سورة احقاف کی آیت 26 میں بھی بیان فرمایا ہے۔
Ayahs 34:46–54

قُلْ اِنَّمَاۤ اَعِظُكُمْ بِوَاحِدَةٍ١ۚ اَنْ تَقُوْمُوْا لِلّٰهِ مَثْنٰى وَ فُرَادٰى ثُمَّ تَتَفَكَّرُوْا١۫ مَا بِصَاحِبِكُمْ مِّنْ جِنَّةٍ١ؕ اِنْ هُوَ اِلَّا نَذِیْرٌ لَّكُمْ بَیْنَ یَدَیْ عَذَابٍ شَدِیْدٍ Open ayah 34:46 in the Quran reader

کہہ دو کہ میں تمہیں صرف ایک بات کی نصیحت کرتا ہوں کہ تم خدا کے لئے دو دو اور اکیلے اکیلے کھڑے ہوجاؤ پھر غور کرو تمہارے رفیق کو مطلق سودا نہیں وہ تم کو عذاب سخت (کے آنے) سے پہلے صرف ڈرانے والے ہیں

قُلْ مَا سَاَلْتُكُمْ مِّنْ اَجْرٍ فَهُوَ لَكُمْ١ؕ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ١ۚ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدٌ Open ayah 34:47 in the Quran reader

کہہ دو کہ میں نے تم سے کچھ صلہ مانگا ہو تو وہ تمہارا میرا صلہ خدا ہی کے ذمے ہے اور وہ ہر چیز سے خبردار ہے

قُلْ اِنَّ رَبِّیْ یَقْذِفُ بِالْحَقِّ١ۚ عَلَّامُ الْغُیُوْبِ Open ayah 34:48 in the Quran reader

کہہ دو کہ میرا پروردگار اوپر سے حق اتارتا ہے اور وہ غیب کی باتوں کا جاننے والا ہے

قُلْ جَآءَ الْحَقُّ وَ مَا یُبْدِئُ الْبَاطِلُ وَ مَا یُعِیْدُ Open ayah 34:49 in the Quran reader

کہہ دو کہ حق آچکا اور (معبود) باطل نہ تو پہلی بار پیدا کرسکتا ہے اور نہ دوبارہ پیدا کرے گا

قُلْ اِنْ ضَلَلْتُ فَاِنَّمَاۤ اَضِلُّ عَلٰى نَفْسِیْ١ۚ وَ اِنِ اهْتَدَیْتُ فَبِمَا یُوْحِیْۤ اِلَیَّ رَبِّیْ١ؕ اِنَّهٗ سَمِیْعٌ قَرِیْبٌ Open ayah 34:50 in the Quran reader

کہہ دو کہ اگر میں گمراہ ہوں تو میری گمراہی کا ضرر مجھی کو ہے اور اگر ہدایت پر ہوں تو یہ اس کا طفیل ہے جو میرا پروردگار میری طرف وحی بھیجتا ہے بیشک وہ سننے والا (اور) نزدیک ہے

وَ لَوْ تَرٰۤى اِذْ فَزِعُوْا فَلَا فَوْتَ وَ اُخِذُوْا مِنْ مَّكَانٍ قَرِیْبٍۙ Open ayah 34:51 in the Quran reader

اور کاش تم دیکھو جب یہ گھبرائیں گے تو (عذاب سے) بچ نہیں سکیں گے اور نزدیک ہی سے پکڑ لئے جائیں گے

وَّ قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِهٖ١ۚ وَ اَنّٰى لَهُمُ التَّنَاوُشُ مِنْ مَّكَانٍۭ بَعِیْدٍۚۖ Open ayah 34:52 in the Quran reader

اور کہیں گے کہ ہم اس پر ایمان لے آئے اور (اب) اتنی دور سے ان کا ہاتھ ایمان کے لینے کو کیونکر پہنچ سکتا ہے

وَّ قَدْ كَفَرُوْا بِهٖ مِنْ قَبْلُ١ۚ وَ یَقْذِفُوْنَ بِالْغَیْبِ مِنْ مَّكَانٍۭ بَعِیْدٍ Open ayah 34:53 in the Quran reader

اور پہلے تو اس سے انکار کرتے رہے اور بن دیکھے دور ہی سے (ظن کے) تیر چلاتے رہے

وَ حِیْلَ بَیْنَهُمْ وَ بَیْنَ مَا یَشْتَهُوْنَ كَمَا فُعِلَ بِاَشْیَاعِهِمْ مِّنْ قَبْلُ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا فِیْ شَكٍّ مُّرِیْبٍ۠ Open ayah 34:54 in the Quran reader

اور ان میں اور ان کی خواہش کی چیزوں میں پردہ حائل کردیا گیا جیسا کہ پہلے ان کے ہم جنسوں سے کیا گیا وہ بھی الجھن میں ڈالنے والے شک میں پڑے ہوئے تھے

آیت نمبر 46 تا 54 ترجمہ : آپ کہئے کہ میں تمہیں صرف ایک (مختصر سی) بات کی نصحیت کرتا ہوں وہ یہ کہ تم خدا کے وسطے (ضد چھوڑ کر) دو دو یا تنہا تنہا کھڑے (مستعد) ہوجاؤ، پھر سوچو تو تم سمجھ جاؤ گے کہ تمہارے ساتھی محمد کو کوئی جنون نہیں وہ تو تم کو آخرت کے سخت عذاب سے اس کے آنے سے پہلے ڈرانے والا ہے اگر تم اس کی بات نہ مانو آپ ان سے کہہ دیجئے کہ میں تم کو آگاہ کرنے اور تبلیغ پر تم سے جو معاوضہ طلب کروں وہ تم ہی کو مبارک ہو یعنی میں اس انذار و تبلیغ پر تم سے کوئی صلہ طلب نہیں کرتا، میرا صلہ تو اللہ ہی کے ذمہ ہے وہ ہر چیز سے باخبر ہے میری صداقت سے واقف ہے آپ کہہ دیجئے کہ میرا رب حق بات اپنے نبیوں پر نازل کرتا ہے آسمانوں اور زمینوں میں جو شئ اس کی مخلوق میں سے مخفی ہے اس مخفی شئ کو جاننے والا ہے، آپ کہہ دیجئے حق اسلام آگیا اور باطل کفر نہ تو پہلے کچھ (اثر) کرسکا اور نہ بعد میں اس کا اثر رہے گا، آپ کہہ دیجئے اگر میں (خدا نخواستہ) حق سے بہک جاؤں تو میرے بہکنے کا وبال میرے ہی اوپر ہوگا اور اگر میں ہدایت پر رہوں تو یہ اس قرآن و حکمت کی وجہ سے ہے جو میرا رب میرے پاس بذریعہ وحی بھیج رہا ہے، وہ دعاء کو سننے والا اور (مجھ سے) قریب ہے اے محمد آپ وہ وقت ملاحظہ کریں بعث کے وقت وہ (کافر) گھبرائے پھریں گے تو آپ ایک بڑا ہولناک منظر دیکھیں گے، تو پھر ان کے لئے چھٹکارا نہیں یعنی ہماری گرفت سے بھاگ نکلنے کی کوئی صورت نہ ہوگی اور قریب ہی یعنی قبروں ہی سے گرفتار کرلئے جائیں گے (اس وقت) کہیں گے ہم اس پر یعنی محمد یا قرآن پر ایمان لائے اتنی دور سے ان کے لئے (ایمان) ہاتھ آنا کہاں ممکن ہے ؟ التَّنَاوُشُ واؤ کے ساتھ اور واؤ کے عوض ہمزہ کے ساتھ ہے یعنی ایمان حاصل ہونا (کہاں ممکن ہے ؟ ) اس لئے کہ وہ (اب) عالم آخرت میں ہیں، اور ایمان کا محل دنیا ہے، حالانکہ اس سے پہلے دنیا میں اس کا انکار کرچکے ہیں، اور دور ہی دور سے بےتحقیق (اندازے اور اٹکل سے) باتیں ہانکتے رہے یعنی ایسی باتیں کرتے رہے کہ جن کے علم سے وہ کوسوں دور تھے، اس طریقہ پر کہ انہوں نے نبی ﷺ کے بارے میں (کبھی) شاعر کہا، اور (کبھی) کاہن کہا، اور قرآن کے بارے میں (کبھی) شعر کہا (اور کبھی) کہانت کہا، ان کے اور ان کی ایمان کی آرزؤں کے درمیان پردہ حائل کردیا گیا یعنی قبولیت ایمان جیسا کہ اس سے پہلے بھی کفر میں ان کے ہم مشربوں کے ساتھ کیا گیا وہ بھی ان ہی کی طرح تردد میں ڈالنے والے شک میں پڑے ہوئے تھے جس بات پر ایمان لائے ہیں، اس کے بارے میں شک میں ڈالنے والے تردد میں پڑے رہے، حالانکہ دنیا میں اس ایمان کی طرف کوئی توجہ نہیں دی۔ تحقیق و ترکیب وتسہیل وتفسیری فوائد قولہ : بِوا حِدَۃٍ یہ موصوف محذوف کی صفت ہے ای بِخَصْلَۃٍ واحِدَۃٍ اور حذف پر قرینہ اَن تَقُوْمُوْالِلّٰہِ ہے اَنْ تَقُوْ مُوْا بتاویل مصدر ہو کر ھِیَ مبتداء محذوف کی خبر ہے جیسا کہ شارح نے ھی محذوف مان کر اشارہ کردیا ہے اور اَنْ تَقُوْمُوْا بتاویل مصدر ہو کر بواحدَۃٍ کا عطف بیان یا بدل ہے ان دونوں صورتوں میں اَنْ تَقُوْمُوْا محلاً مجرور ہوگا۔ قولہ : ثُمَّ تَتَفَکَّرُوْا . ثم حرف عطف برائے تاخیر و ترتیب ہے اور تَتَفَکَّرُوْا کا عطف اَنْ تَقُوْمُوْا پر ہے اور مثنیٰ وفُرَادٰی حال ہونے کی وجہ سے منصوب ہیں، بِصَاحِبِکُمْ خبر مقدم مِنْ مبتداء مؤخر محلاً مرفوع اور لفظاً مجرور ہے مِنْ زائدہ ہے۔ قولہ : مَاسَألْتُکُمْ مِنْ اجْرٍ فَھُوَ لَکُمْ ماشرطیہ سألتُکُمْ کا مفعول ثانی مقدم ہے اور مِنْ اجرٍ ، ما کا بیان ہے اور فَھُوَ لکُمْ جواب شرط ہے، اور یہ بھی احتمال مبتداء ہو اور فَھُوَ لکم اس کی خبر ہو اور موصول متضمن بمعنی شرط ہے اس لئے فھُوَ پر فارابطہ کے لئے ہے، اِنْ ا، جْرِیَ ا، لاَّ علی اللہ اس بات پر دال ہے کہ آپ نے انذار و تبلیغ کے عوض کسی چیز کا مطالبہ نہیں کیا۔ قولہ : یَقْذِفُ بالحَقِّ . یَقْذِف کا مفعول محذوف ہے ای یِقذِفُ البَاطِل بالحَقِّ ، دوسری ترکیب، جس کی طرف شارح (رح) تعالیٰ نے اشارہ کیا ہے کہ با ملا بست کے لئے ہو اور مفعول محذوف ہو، تقدیر عبارت یہ ہوگی یَقْذِفُ الوحی الی اَنبیائِہٖ مُتَلَبِّسًا بالحقِّ. قولہ : عَلاّمُ الغیوب . اِنَّ کی خبر ثانی ہے یا ھُوَ مبتداء محذوف کی خبر ہے، اور یَقْذِف کی ضمیر سے بدل بھی ہوسکتا ہے۔ قولہ : مَاغَابَ عَنْ خَلْقِہٖ اللہ تعالیٰ مغیبات کا بخوبی جاننے والا ہے، ماغَابَ پر مغیبات کا اطلاق مخلوق کے اعتبار سے ہے، اسی سوال مقدر کے جواب کے لئے شارح (رح) تعالیٰ نے ماغابَ عن خَلْقِہٖ کا اضافہ کیا ہے۔ قولہ : فَبِمَا یُوْحِیْ اِلَیَّ رَبِّیْ مامصدریہ بھی ہوسکتا ہے اور باسببیہ ہے ای بسبَبِ اِیْحاءِ رَبِّیْ الَیَّ اور موصولہ بھی ہوسکتا ہے ای بسبب الَّذِیْ یُوْحِیْہِ اِلیَّ. قولہ : وَلَوْتَریٰ اس میں یہ بھی احتمال ہے کہ تریٰ کا مفعول محذوف ہو، تقدیر عبارت یہ ہوگی، لَوْ تریٰ حالَھُمْ وقتَ فَزْعِھِمْ ۔ قولہ : لَرَأیتَ امْرًا عظیمًا مقدر مان کر اشارہ کردیا کہ لَوْ لا جواب شرط محذوف ہے۔ قولہ : تَنَاوُشُ اس میں دو قراءتیں ہیں واؤ پر ضمہ کے ساتھ اور واؤ کو ہمزہ سے بدل کر تناوش بروزن تفاعل ناش ینُوْشُ (ن) نوشًا لینا، پکڑنا۔ قولہ : وَقَدْ کَفَرُوْا یہ جملہ حالیہ ہے حال یہ ہے کہ وہ دنیا میں کفر کرچکے ہیں۔ قولہ : ویَقْذِفُوْنَ بالغَیْبِ اس کا عطف حکایت حال ماضیہ کے بطور پر قد کَفَرُوْا پر ہے۔ قولہ : باَشْیَاعِھِمْ ای اشْبَاھِھِمْ فی الکُفْرِ. اشیَاع شِیَعٌ کی اور شِیْعَۃٌ کی جمع ہے اس طرح اشیاعٌ شِیْعَۃٌ کی جمع الجمع ہے۔ قولہ : وَحِیْلَ فعل ماضی مجہول، استقبال کے معنی میں ہے ماضی سے تعبیر کرنے کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے لئے استقبال بھی ماحصل کے معنی میں ہے، ظرف نائب فاعل ہے بعض حضرات نے کہا ہے کہ نائب فاعل وہ ضمیر ہے جو فعل سے مفہوم مصدر کی طرف راجع ہے، کَاَنَّہٗ قیل وحیل ھُوَ ، ای الحولُ اور ظرف حیل کے متعلق ہے۔ قولہ : ومِنْ قَبْلُ یہ اَشْیاع کی صفت ہے۔ قولہ : وَلَمْ یَعْتَدُوْا . آمَنُوْا کی ضمیر سے حال ہے۔ تفسیر وتشریح کفار مکہ کو دعوت : اس میں اہل مکہ پر حجت تمام کرنے کے لئے تحقیق حق کا مختصر راستہ بتلایا گیا ہے، کہ صرف ایک کام کرلو کہ ضد اور عناد چھوڑ کر خالی الذہن ہو کر اخلاص کے ساتھ دو دو یا ایک ایک کھڑے ہوجاؤ یعنی پورے اہتمام کے ساتھ مستعد اور تیار ہوجاؤ، اور دو دو اور ایک ایک سے مقصد تحدید نہیں ہے، بلکہ مطلب یہ ہے کہ کسی چیز میں غور وفکر کرنے کے دو طریقے ہوتے ہیں ایک تو خلوت و تنہائی میں خود غور کرنا دوسرے اپنے احباب و اکابر سے مشورہ اور باہم بحث و تمحیص کے بعد کسی نتیجے پر پہنچنا، ان طریقوں کو یا ان میں سے جو پسند ہو اسے اختیار کرو ثُمَّ تَتَفکَّرُوْا اس کا عطف اَن تقُوْمُوْا پر ہے جس میں قیام کے مقصد کو واضح کیا گیا ہے، یعنی علائق وموانع کو ترک کرکے خالی الذہن ہو کر اللہ کے لئے اس کام کے لئے تیار ہوجاؤ اور غور کرو اور میری بابت سوچو کہ میری زندگی تمہارے اندر گذری ہے کیا اس میں کوئی اخلاقی، معاشرتی، یا معاملاتی کسی قسم کی کمزوری ہے اور اب بھی جو دعوت میں تمہیں دے رہا ہوں، کیا اس میں کوئی ایسی بات ہے کہ جس سے اس بات کی نشاندہی ہو کہ میرے اندر دیوانگی ہے ؟ تم اگر عصبیت اور خواہش نفس سے بالا ہو کر سوچو گے تو یقیناً تم سمجھ جاؤ گے کہ تمہارے رفیق کے اندر کوئی دیوانگی نہیں ہے قُلْ مَا سَألْتُکُمْ مِنْ اَجْرٍ فَھُوَلَکُمْ یعنی میں تم سے اپنی محنت کا کچھ صلہ نہیں چاہتا، اگر تمہارے خیال میں کچھ معاوضہ طلب کیا وہ سب تم اپنے پاس رکھو، مجھے ضرورت نہیں میرا صلہ تو خدا کے یہاں ہے، تم سے جو طلب کرتا ہوں یعنی ایمان و اسلام وہ صرف تمہارے نفع کے لئے ہے اس سے زائد میری کوئی غرض نہیں، اس میں اپنے فائدہ کے لئے کسی بھی چیز کی طلب کی نفی ہے بلکہ مقصود تمہارا ہی دینوی واخروی فائدہ ہے، یہ ایسا ہی ہے کہ جیسے کوئی مشفق باپ اپنے بیٹوں کو جمع کرکے کہے کہ دیکھو میرے بیٹو مجھے تم سے کچھ نہیں چاہیے، سوائے اس کے کہ تم متحدو متفق ہو کر رہو، خوب پھلو پھولو، اب ظاہر ہے کہ اس اتحاد واتفاق میں بیٹوں ہی کا فائدہ ہے۔ قُلْ جَاء الحق (الآیۃ) حق سے مراد قرآن اور باطل سے مراد کفر وشرک ہے، مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اللہ کا دین اور اس کا قرآن آگیا جس سے باطل مضمحل اور حتم ہوگیا، اب وہ سر اٹھانے کے قابل نہیں رہا، سورة انبیاء میں فرمایا بَلْ نَقْذِفُ بِالْحَقِّ علَی الْبَاطِلِ فَیَدْمَغُہٗ فَاِذَا ھُوَ زَاھِقٌ حدیث میں آتا ہے کہ جس دن مکہ فتح ہوا نبی ﷺ خانہ کعبہ میں داخل ہوئے، چاروں طرف بت نصب تھے، آپ ﷺ کمان کی نوک سے ان بتوں کو مارتے جاتے اور سورة بنی اسرائیل کی یہ آیت وقُلْ جَاءَ الْحَقُّ وَزَھَقَ الْبَاطِلُ پڑھتے جاتے تھے۔ (صحیح بخاری کتاب الجھاد) قُلْ اِنْ ضَلَلْتُ (الآیۃ) یعنی سب بھلائی اللہ کی طرف سے ہے اور اللہ تعالیٰ نے وحی اور حق مبین نازل فرمایا ہے اس میں رشد و ہدایت ہے، پس جو گمراہ ہوتا ہے تو اس میں انسان کی خود اپنی ہی کوتاہی اور ہوائے نفس کا دخل ہوتا ہے اس لئے اس کا وبال بھی اسی پر ہوگا، حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ جب کسی سائل کے جواب میں اپنی طرف سے کچھ بیان فرماتے تو ساتھ اَقُوْلُ فیھا بَرَائی فاِنْ یکُنْ صَوَابًا فمِنَ اللہِ واِن یکن خَطَأ فمِنِّیْ ومِنَ الشَّطانِ واللہُ ورسولہُ بریئان منْہُ (ابن کثیر) یعنی اگر میں نے یہ ڈھونگ خود کھڑا کیا ہے تو کتنے دن چلے گا، اس میں آخر میرا ہی نقصان ہے، دنیا کی عدوات مول لینا، ذلت اٹھانا، اور آخرت کی رسوائی قبول کرنا (العیاذ باللہ) لیکن اگر میں سیدھے راستہ پر ہوں جیسا کہ واقعی ہوں تو سمجھ لو کہ یہ سب اللہ کی تایئد وامداد اور وحی الہٰی کی برکت و ہدایت سے ہے جو کسی وقت میرا ساتھ نہیں چھوڑ سکتی، میرا خدا سب کچھ سنتا ہے اور بالکل نزدیک ہے۔ ولو۔۔ فزعوا یعنی یہ کفار یہاں ڈینگیں مارتے ہیں مگر وہ عجیب قابل دید ہوگا جب یہ لوگ محشر کا ہولناک منظر دیکھ کر گھبرائیں گے، اور کہیں بھاگ نہ سکیں گے، اس وقت گرفتاری کے لئے کہیں دور سے ان کو تلاش کرنا نہیں پڑے گا، بلکہ نہایت آسانی سے فوراً جہاں کے تہاں گرفتار کرلئے جائیں گے۔ جب محشر میں گرفتار کر لئے جائیں گے، تو کہیں گے ہمیں پیغمبر کی باتوں پر یقین آگیا، اب ہم ایمان لاتے ہیں حالانکہ اب اٹھالائیں، مطلب یہ ہے کہ یہ اب دنیا سے بہت دور جاچکے ہیں، ایمان تو وہی معتبر ہے غائبانہ حاصل ہو، آخرت میں تو آنکھوں سے دیکھ کر بڑے سے بڑے کافر کو بھی یقین آجائے گا اس میں کیا کمال ہے۔ یعنی دنیا میں جب ایمان لانے کا وقت تھا انکار پر تلے رہے، اور یوں ہی اٹکل کے تیر چلاتے رہے دنیا میں رہ کر ہمیشہ بےتحقیق باتیں کیں، سچی اور تحقیقی باتوں سے انکار کرتے رہے : ؎ اب پچھتائے کیا ہوت ہے، جب چڑیاں چگ گئیں کھیت وحِیْلَ بَیْنَھُمْ (الآیۃ) یعنی آخرت میں ان کی چاہتوں اور ان کے درمیان پردہ (آڑ) حائل کردی جائے گی مثلاً آخرت میں وہ چاہیں گے کہ ان کا ایمان قبول کرلیا جائے یا عذاب سے ان کو نجات حاصل ہوجائے ان کی کوئی خواہش پوری نہیں کی جائے گی، اور اس قماش کے پہلے جو لوگ گذرے ہیں، جیسا معاملہ ان کے ساتھ کیا گیا تھا، ان سے بھی ہوا کیونکہ وہ لوگ بھی ایسے ہی مہمل شبہات اور بیجاشک وتردد میں گھرے ہوئے تھے، جو کسی طرح ان کو چین نہیں لینے دیتا تھا۔ (فوائد عثمانی) ٭تم بحمداللہ٭