Ayahs 35:1–7آیت نمبر 1 تا 7
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بےحد مہربان نہایت رحم والا ہے، تمام تعریفوں کا سزاوار وہ اللہ ہے جو آسمانوں اور زمین کا کسی سابقہ نمونہ کے بغیر پیدا کرنے والا ہے، اللہ تعالیٰ نے اس مضمون سے اپنی حمد بیان فرمائی ہے، جیسا کہ سورة سبا کے شروع میں بیان کیا گیا تھا اور جو فرشتوں کو انبیاء کی جانب پیغام رساں بنانے والا ہے جن کے دو دو تین تین چارچار پر ہیں اور وہ ملائکہ کی تخلیق میں جو چاہے اضافہ کرنے والا ہے اللہ تعالیٰ یقیناً پر شئ پر قادر ہے اور اللہ تعالیٰ لوگوں کے لئے جو رحمت مثلاً رزق اور بارش کھول دے تو اسے بند کرنے والا نہیں اور ان میں سے جس کو بند کردے اس کے بند کرنے کے بعد اس کا کوئی کھولنے والا نہیں وہ اپنے حکم پر غالب اور اپنے فعل میں حکمت والا ہے اے لوگو ! یعنی مکہ والو ! تم اپنے اوپر اللہ کی ان نعمتوں کو یاد کرو جو تم کو حرم میں سکونت دیکر اور تم کو غارت گری سے محفوظ رکھ کر تمہارے اوپر کی ہیں کیا اللہ کے سوا کوئی اور بھی خالق ہے ؟ یہ من زائدہ ہے۔ اور خالق مبتداء اور غیر اللہ رفع وجر کے ساتھ، خالق کی لفظًا اور محلًا صفت ہے اور مبتداء کی خبر یَرْزُقُکُمْ من السماءِ ہے، جو تم کو آسمان یعنی بارش کے ذریعہ اور زمین یعنی نباتات کے ذریعہ روزی پہنچائے ؟ استفہام تقریری ہے یعنی اس کے سوا کوئی خالق و رازق نہیں، اس کے سوا کوئی معبود نہیں تو تم کہاں الٹے جارہے ہو ؟ یعنی اس کی توحید کو چھوڑ کر، تمہارے اس اقرار کے باوجود کہ وہی خالق و رازق ہے (شرک کرکے) کہاں الٹے چلے جارہے ہو اور اے محمد اگر یہ لوگ آپ کو توحید اور بعث اور حساب اور عقاب کے بارے میں جھٹلا رہے ہیں تو اسی معاملہ میں آپ سے پہلے رسولوں کی تکذیب کی جاچکی ہے، لہٰذا آپ صبر کریں جیسا کہ انہوں نے صبر کیا اور آخرت میں تمام امور اللہ ہی کے روبرو پیش کئے جائیں گے، چناچہ تکذیب کرنے والوں کو سزا دے گا اور رسولوں کی مدد کرے گا، اے لوگو اللہ کا بعث وغیرہ کا وعدہ سچا ہے سو ایسا نہ ہو کہ اس وعدہ پر ایمان لانے سے دینوی زندگی تم کو دھوکے میں ڈالے رکھے اور ایسا نہ ہو کہ دھوکے باز (شیطان) تم کو اللہ تعالیٰ کے حلم اور مہلت دینے کے بارے میں دھوکے میں ڈالے رکھے، (یادرکھو) شیطان تمہارا دشمن ہے، لہٰذا اللہ کی اطاعت کرکے اس کو اپنا دشمن سمجھو اور اس کی اطاعت نہ کرو، وہ تو اپنی جماعت کو (یعنی) کفر میں اس کی اتباع کرنے والی جماعت کو اسی لئے بلاتا ہے کہ وہ دوزخیوں میں سے ہوجائیں جن لوگوں نے کفر کیا ان کے لئے سخت سزا ہے اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال کئے ان کے لئے مغفرت ہے اور بڑا اجر ہے، اور یہ اس (سزا وجزاء) کا بیان ہے جو شیطان کے موافقین و مخالفین کے لئے ہے۔
تحقیق و ترکیب وتسہیل وتفسیری فوائد
سورة فاطر کا دوسرا نام سورة ملائکہ بھی ہے :
قولہ : فاطرُ السمٰوات ای خالقھا علی غیر مثال، فطر کے اصلی معنی مطلقاً شق کے ہیں (ن) وعن مجاھد عن ابن عباس ؓ ماکنتُ اردی مافاطر السموٰت والارض حتی اختصم الیّ اعرابیان فی بئرٍ فقال احدھما، انا فطر تھا ای ابتدأتُھا وابتدعتُھا .
سوال : فاطِرِ السمٰوات والْارْضِ میں اضافت لفظی ہے، لہٰذا یہ تعریف کا فائدہ نہیں دیتی، حالانکہ یہ جملہ، لفظ اللہ کی صفت واقع ہورہا ہے، جو کہ معرفہ ہے۔
جواب : چونکہ فاطر فعل ماضی کے معنی میں ہے جس کی وجہ سے یہ اضافت معنوی ہے لہٰذا اللہ کی صفت واقع ہونا درست ہے۔
قولہ : جاعِل الملائکۃ یہ لفظ اللہ کی دوسری صفت ہے۔
سوال : جاعلٌ ماضی کے معنی میں ہے یا حال و استقبال کے ؟ اگر ماضی کے معنی میں ہے تو اس کا عامل ہونا درست نہیں حالانکہ یہ رُسُلاً میں عامل ہے اور اگر حال یا استقبال کے معنی میں ہے تو یہ اضافت لفظیہ ہے جو تعریف کا فائدہ نہیں دیتی، اس صورت میں لفظ اللہ کی صفت بنانا درست نہیں ہے۔
جواب : یہاں جاعلٌ استمرار کے معنی میں ہے لہٰذا ماضی کے معنی میں ہونے کی وجہ سے اضافت معنوی ہوگی اور تعریف کا فائدہ دے گی، جس کی وجہ سے لفظ کی صفت بننا درست ہوگا، اور چونکہ حال اور استقبال کے معنی میں بھی ہے، لہٰذا اس کا عامل ہونا بھی درست ہوگا، اب کوئی اعتراض باقی نہیں رہا۔
قولہ : اُولِیْ یہ حالت نصبی اور جری میں ہے حالت رفعی میں اولو استعمال ہوتا ہے بمعنی والے یہ جمع ہی کے معنی مستعمل ہے اس کا واحد نہیں آتا اور بعض حضرات نے اس کا واحد ذُو بیان کیا ہے۔
قولہ : اُولِیْ اَجْنِحَۃٍ یہ جناحٌ کی جمع ہے اس کے معنی پر دار بازو، یہ رُسُلاً کی صفت ہے دونوں چونکہ لفظ کے اعتبار سے نکرہ ہیں اس لئے مطابقت بھی موجود ہے، مگر اس سے یہ شبہ پیدا ہوتا ہے کہ بازؤں کا ہونا ان فرشتوں کے لئے خاص ہے جو انبیاء ورسل کے پاس بھیجے جاتے ہیں حالانکہ ہر فرشتہ کے بازو ہوتے ہیں، لہٰذا اس کو ملائکہ مجرور ہیں، ان کا فتحہ کسرہ کی نیابت کی وجہ سے ہے اس لئے کہ یہ تینوں کلمے وصفیت اور عدل ہونے کی وجہ سے غیر منصرف ہیں، یہ کلمے تکرار سے عدول کرکے آئے مثلاً مثنیٰ اثنین اثنین سے معدول ہے، اسی طرح باقی بھی۔
قولہ : یَزِیْدُ فی الخَلْق مَایَشَاء یہ کلام مستانف ہے جو کہ ماقبل کی تاکید کے لئے ہے۔
قولہ : فَلَا مُمْسِکَ لھَا میں وَیَزَیٌدُ فی الخَلْق مَا یَشَاء میں لَھَا اور فَلَا مُرْسِلَ لَہٗ میں لَہٗ دونوں کا مرجع ما ہے، لَھَا معنی کی رعایت کے اعتبار سے اور لَہٗ لفظ کی رعایت کے اعتبار سے۔
قولہ : ھَل مِنْ خالقٍ. ھل استفہام انکاری کے لئے ہے اور توبیخ کے لئے بھی ہوسکتا ہے، اور مِن زائدہ ہے اور خالقٍ مبتداء لفظاً
مجرور محلاً مرفوع ہے اور غیر اللہ رفع کے ساتھ کی صفت ہے محل کے اعتبار سے اور غیر اللہ صفت ہے لفظ کے اعتبار سے خالِقٌ
مبتداء کی خبر، یَرْزُقُکُمْ ہے، بعض نے کہا ہے کہ لکم اس کی خبر محذوف ہے۔
قولہ : تُؤْفَکُوْنَ یہ اَفکٌ بالفتح سے ماخوذ ہے اس کے معنی بھٹکنے اور پھرنے کے ہیں اور اِفْک بالکسر اس کے معنی ہیں کذبٌ وافتراءٌ تؤفَکُوْنَ مضارع مبنی للمجہول ہے واؤ نائب فاعل ہے تم کہاں پلٹائے جارہے ہو۔
قولہ : فَاصْبِر کَمَا صَبَرُوْا یہ درحقیقت اِنْ یکذبوا کی جزاء ہے، اور فاجزائیہ ہے مگر جزاء کے سبب کو جو کہ فَقَدْ کُذِّبَتْ ہے جزاء کے قائم مقام کردیا ہے۔
تفسیر وتشریح
الحمد۔۔۔ والارض (الآیۃ) فاطر کے معنی ہیں، مُخترِع، ابتداءً ایجاد کرنے والا، دراصل لفظ فاطر سے قدرت خدا وندی کی طرف اشارہ ہے کہ جس خدا نے آسمان و زمین بغیر نمونے کے بنائے تو اس کے لئے دوبارہ انسان کو پیدا کرنا کون سا مشکل کام ہے ؟ الحمدللہِ فاطر السَّمٰواتِ والارْضِ کے معنی ہیں (الحمدللہِ ) مبدع (السمٰوات والارْضِ ) ومُخترِعِھما جمہور نے فاطر کو اسم فاعل کے صیغہ کے ساتھ پڑھا ہے، اور زہری اور ضحاک نے (فَطَرَ ) ماضی کے صیغہ کے ساتھ پڑھا ہے۔
جاعِلِ الملائکۃ میں ملائکہ سے مخصوص فرشتے مراد ہیں، جن کو اللہ تعالیٰ مختلف مہمات کے لئے قاصد بنا کر بھیجتا ہے، ان میں مشہور چار فرشتے تو شامل ہیں ہی ان کے علاوہ بھی مراد ہوسکتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو پر دار بازو عطا فرمائے ہیں، جن کے ذریعہ سرعت کے ساتھ ان کی آمدورفت ہوتی ہے، لفظ مثنیٰ وثلٰث ورباعَ ، ظاہر یہ ہے کہ اَجْنِحۃ کی صفت ہے کہ فرشتوں کے پر مختلف تعداد میں ہیں کسی کے دو دو کسی کے تین تین، کسی کے چار چار، اور مذکورہ عدد میں بھی تحدید نہیں ہے، جیسا کہ صحیح مسلم کی روایت سے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کے چھ سو پر ہونا ثابت ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ مثنیٰ وثلٰث ورباعَ ، رُسُلاً کی صفت ہو یعنی جو فرشتے اللہ تعالیٰ کیطرف سے پیغامات دنیا میں پہنچاتے ہیں، وہ کبھی دو دو، کبھی تین تین، اور کبھی چار چار آتے ہیں، اور ظاہر ہے کہ حصر اس میں بھی مقصود نہیں ہے، اور زیادتی فی الخلق سے ہر قسم کی زیادتی مراد ہے خواہ اس کا تعلق ظاہر سے ہو جیسا کہ پر وغیرہ میں زیادتی، یا باطنی زیادتی ہو جیسے حسن سیرت، حسن صورت، کمال عقل وغیرہ۔
ما۔۔ للناس (الآیۃ) ان نعمتوں میں سے ارسال رسل اور انزالِ کتب بھی ہے یعنی ہر چیز کا دینے والا بھی وہی ہے اور واپس لینے والا بھی اس کے سوا نہ کوئی معطی ہے اور نہ منعم اور نہ مانع اور قابض جس طرح رسول اللہ ﷺ فرمایا کرتے تھے اللہھم لاَ مانِعَ لِمَا اَعْطَیْتَ ولاَ مُعْطِی۔ لِمَا مَنَعْتَ ۔
فَاَنّٰی تُؤفَکُوْنَ اس بیان و وضاحت کے بعد اور تمہارے اس اقرار کے بعد کہ اللہ تعالیٰ ہی نے تم کو پیدا کیا ہے اور وہی تم کو روزی دیتا ہے تم غیر اللہ کی عبادت کرتے ہو ؟ تو تم کہاں پلٹے جارہے ہو ؟
وان۔۔۔ قبلک اس میں نبی ﷺ کو تسلی ہے کہ اے محمد یہ لوگ آپ کو جھٹلا کر کہاں جائیں گے ؟ بالآخر تمام معاملات کا فیصلہ تو ہمیں ہی کرنا ہے، جس طرح پہلی امتوں نے اپنے پیغمبروں کو جھٹلایا تو انہیں سوائے بربادی کے کیا ملا ؟ اس لئے اگر یہ بھی باز نہ آئے تو ان کو بھی ہلاک کرنا ہمارے لئے مشکل نہیں، اور دنیا کی زیب وزینت اور عیش و عشرت میں پڑ کر آخرت کی ان تعمتوں سے غافل نہ ہو، جو اللہ تعالیٰ نے اپنے نیک بندوں اور رسولوں کے پیروکاروں کے لئے تیار کررکھی ہیں، مطلب یہ کہ اس دنیا کی عارضی لذتوں میں پڑ کر آخرت کی دائمی راحتوں کو نہ کھو بیٹھو، اور یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ شیطان تمہارا اصل دشمن ہے اس کے داؤ پیچ اور دجل و فریب سے بچ کر رہو اس لئے کہ وہ بہت دھوکے باز ہے، اس کا مقصد ہی تمہیں دھوکے میں مبتلا کرکے آخرت کی تمام تعمتوں اور راحتوں سے محروم کرنا ہے، اس سے سخت عداوت رکھو، اس کے مکروفریب اور ہتھکنڈوں سے بچو، شیطان کی حکمت عملی یہ ہے کہ وہ برے کاموں کو اچھا ثابت کرکے تمہیں اس میں مبتلا کردے جس کی وجہ سے تمہارا حال یہ ہوجائے کہ گناہ کرتے رہو اور ساتھ ہی یہ بھی سمجھتے رہو کہ نیک کام کررہے ہیں اور اللہ کے نزدیک مقبول بندے ہیں، ہمیں عذاب نہیں ہوگا۔
والذین۔۔۔ کبیر یہاں بھی اللہ تعالیٰ نے دیگر مقامات کی طرح ایمان کے ساتھ عمل صالح کو بیان کرکے ان کی اہمت کو واضح کردیا ہے، تاکہ اہل ایمان عمل صالح سے کسی وقت بھی غفلت نہ برتیں، کہ مغفرت اور اجر کبیر کا وعدہ اس ایمان پر ہی ہے جس کے ساتھ عمل صالح ہو۔
Ayahs 35:8–14آیت نمبر 8 تا 14
ترجمہ : (آئندہ) آیت ابوجہل کے بارے میں نازل ہوئی ہے کیا وہ شخص کہ جس کے سامنے اس کے برے عمل کو تلبیس کے ذریعہ مزین کرکے پیش کیا گیا پھر وہ اس کو نیک عمل سمجھنے لگا (اس شخص کے برابر ہوسکتا ہے جس کو اللہ نے ہدایت دی ہو ؟ نہیں ہوسکتا) مَنْ مبتداء ہے اور اس کی خبر کَمَنْ ھدَاہُ ہے (اس حذف خبر پر) فاِنّ اللہ یُضَلُّ مَنْ یشَاءُ (الآیۃ) دال ہے، یقین مانو اللہ جس کو چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے تو آپ ان پر یعنی ان لوگوں پر کہ جن کے (اعمال بد) ان کے لئے مزین کردیئے گئے ہیں، اتنا غم نہ کیجئے، کہ ان کی اس بات پر غم کی وجہ سے کہ ایمان نہیں لاتے اپنی جان ہی دیدیں جو کچھ وہ کرتے ہیں اللہ کو سب معلوم ہے سو وہ ان کے اعمال کی سزا دے گا اور اللہ وہی ہے جو ہواؤں کو چلاتا ہے اور ایک قراءت میں اِلرِّیْحَ ہے جو ہوائیں بادلوں کو اٹھاتی ہیں مضارع کا استعمال حالت ماضی کی حکایت کرنے کے لئے لایا گیا ہے یعنی ہوائیں بادلوں کو حرکت دیتی ہیں پھر ہم ان بادلوں کو خشک زمین کی طرف ہانک کرلیجاتے ہیں سُقْنَا میں غیبت سے تکلم کی جانب التفات ہے مَیِّت تشدید اور تخفیف کے ساتھ ہے پھر ہم اس بستی کی زمین کو اس کے مردہ یعنی خشک ہونے کے بعد زندہ کردیتے ہیں یعنی اس میں کھیتی اور گھاس اگادیتے ہیں اسی طرح دوبارہ زندہ ہونا بھی ہے یعنی جی اٹھنا اور زندہ ہونا جو شخص عزت حاصل کرنا چاہتا ہے تو تمامتر عزت اللہ کے لئے ہے یعنی دنیا اور آخرت میں، لہٰذا عزت اسی کی اطاعت سے حاصل ہوسکتی ہے اس کو چاہیے کہ اسی کی اطاعت کرے اچھا کلام اس تک پہنچتا ہے، یعنی وہ اس سے باخبر ہے اور وہ (اچھا کلام) لا الہٰ الا اللہ اور اس کے مثل ہے اور عمل صالح کو وہ بلند کرتا ہے یعنی قبول کرتا ہے اور لوگ نبی کے بارے میں دارلندوہ میں بری سازشیں کررہے ہیں مثلاً آپ کو قید کرنے یا قتل کرنے یا (وطن سے) نکالنے کی، جیسا کہ سورۂانفال میں ذکر کیا گیا، ایسے لوگوں کے لئے سخت ترین عذاب ہے اور ان کا یہ مکر پادر ہوا، یعنی برباد ہوجائے گا (لوگو) اللہ نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا تمہارے دادا آدم کو مٹی سے پیدا کرکے، پھر نطفۂ منی سے (پیدا کیا) آدم (علیہ السلام) کی ذریت کو نطفے سے پیدا کرکے پھر تمہارے نرومادہ کے جوڑے بنائے کوئی عورت حاملہ نہیں ہوتی اور نہ وہ جنتی ہے مگر یہ اللہ کے علم میں ہوتا ہے یہ جملہ حالیہ ہے یعنی (اللہ تعالیٰ کے) علم میں ہوتا ہے اور جس معمر شخص کی عمر دراز کی جاتی ہے یعنی طویل العمر شخص کی عمر میں اضافہ نہیں کیا جاتا اور نہ اسی معمر شخص کی عمر سے یا دوسرے معمر شخص کی عمر سے کم کیا جاتا ہے مگر یہ کہ وہ کتاب میں موجود ہوتا ہے اور وہ لوح محفوظ ہے اور اللہ تعالیٰ کے لئے یہ بات بالکل آسان ہے، اور برابر نہیں دو دریا (بلکہ) ایک نہایت شریں تسکین بخش اور پینے میں خوش گوار ہے اور دوسرا نہایت شور اور تلخ اور تم ان دونوں سے تازہ گوشت کھاتے ہو اور وہ مچھلی ہے اور دریائے شور سے، اور کہا گیا ہے دونوں سے، زیورات نکالتے ہو جنہیں تم پہنتے ہو وہ موتی اور مونگے ہیں اور اے مخاطب تو کشتوں کو اس میں شوروشیریں دریا میں دیکھتا ہے کہ پانی کو چیرتی ہوئی چلتی ہیں، یعنی پانی میں چلنے کی وجہ سے اس کو ایک ہی ہوا کے ذریعہ آتے جاتے چیرتی ہیں تاکہ تم تجارت کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کا فضل (روزی) طلب کرتا ہے تو رات بڑھ جاتی ہے اور آفتاب وماہتاب کو اسی نے کام میں لگا رکھا ہے ہر ایک اپنے محور پر مدت دراز قیامت تک چلتا رہے گا یہی ہے اللہ تمہارا رب اسی کی سلطنت ہے اور جنہیں تم اس کے سوا پکارتے ہو بندگی کرتے ہو اور وہ بابت ہیں وہ تو کھجور کی گٹھلی کے چھلکے کے بھی مالک نہیں، اگر ان کو پکارو تو وہ تمہاری پکار سنتے ہی نہیں ہیں اور اگر (بالفرض) سن بھی لیں تو فریاد رسی نہیں کرسکتے، یعنی تمہاری پکار کا جواب نہ دیں بلکہ قیامت کے دن تمہارے اس شرک سے صاف انکار کرجائیں گے، یعنی تمہارے ان کو خدا کا شریک ٹھہرانے کا یعنی تم سے تمہاری ان کی بندگی کرنے سے اظہار براءت کردیں گے آپ کو کوئی حق تعالیٰ جیسا خبردار دارین کے احوال کی خبر نہ دے گا اور وہ اللہ ہے۔
تحقیق و ترکیب وتسہیل وتفسیری فوائد
قولہ : اَفَمَنْ زُیِّنَ یہ جملہ مستانفہ ہے ماسبق میں جو دو فریقوں کے انجام کے درمیان فرق کیا گیا ہے، اس کی تائید ہے مَنْ مبتداء ہونے کی وجہ سے محل رفع میں ہے اس کی خبر محذوف ہے تقدیر عبارت یہ ہے اَفَمَنْ زُیِّنَ لَہٗ سوءُ عَمَلِہٖ کَمَنْ لمْ یُزَیَّنْ لَہٗ ، کسائی (رح) تعالیٰ نے کہا ہے کہ ذَھَبَتْ نَفْسُکَ عَلَیْھِمْ حَسَرَاتٍ خبر ہے جو محذوف ہے، اور اللہ تعالیٰ کا قول فلاَ تَذْھَبْ نَفْسکَ علیھم حَسَرَات اس پر دال ہے، اور زجاج نے کَمَنْ ھداہُ اللہ خبر محذوف مانی ہے اول صورت لفظ و معنی میں مطابقت کی وجہ سے افضل ہے۔
قولہ : سوء عملہٖ ای عَمَلُہُ السَیُِّ یہ اضافت صفت الی الموصوف کے قبیل سے ہے۔
قولہ : لاَ ، لاَ کا اضافہ استفہام انکاری کی طرف اشارہ کرنے کے لئے ہے۔
قولہ : حَسَراتٍ . فَلاَ تَذْھَبْ کا مفعول لہ ہے، اور جمع کا استعمال کثرت غم پر دلالت کرنے کے لئے ہے۔
قولہ : عَلَیْھِمْ. تَذْھَبْ کا صلہ ہے، جیسا کہ بولا جاتا ہے مات علیہ حُزْنًا . علیھم کا تعلق حسرات سے درست نہیں ہے، اس لئے کہ مصدر کا معمول مصدر پر مقدم نہیں ہوتا۔ قولہ : اَنْ لاَ یُؤمِنُوْا علیٰ اَنْ لاَ یُؤْمِنُوْا۔
قولہ : لِحِکَایَۃ الحَالِ المَاضِیَۃِ یہ دراصل ایک سوال مقدر کا جواب ہے۔
سوال : سوال یہ ہے کہ اس سے پہلے اَرْسَلَ ماضی کا صیغہ استعمال فرمایا اور اسی مضمون میں فوراً بعد فَتُثِیْرُ مضارع کا صیغہ استعمال فرمایا، اس میں کیا مصلحت ہے ؟
جواب : خلاصہ یہ ہے کہ مضارع کا صیغہ جو کہ حال پر بھی دلالت کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس سے اس صورت عجیبہ وغریبہ کا استحضار کرانا چاہتے ہیں جو اسکی کمال قدرت و حکمت پر دلالت کرتی ہے اور کسی صورت حال یا واقعہ کی ایسی منظر کشی کہ جس سے گذشتہ کا واقعہ نظروں کے سامنے اس طرح ہو کر آجائے گویا کہ یہ واقعہ اسی وقت نظروں کے سامنے ہورہا ہے اسی کو حکایت حال ماضیہ کہتے ہیں۔
قولہ : تثیرُ. اثارہُ سے مضارع واحد مؤنث غائب ہے، وہ ابھارتی ہے، وہ اٹھاتی ہے، حرکت دیتی ہے، التفات عن الغیبۃ الی التکلم کا مطلب یہ ہے اللہ تبارک وتعالیٰ نے اَرْسَلَ غائب جا صیغہ استعمال فرمایا اور سُقْنَا میں متکلم کا صیغہ استعمال فرمایا اور جمع کا استعمال عظمت کے طور پر کیا ہے۔
قولہ : بَلَدٌ . بَلَد کا اطلاق مذکر ومؤنث دونوں پر ہوتا ہے، اور بَلَد اور بَلْدۃ کا اطلاق آباد اور غیر آباد دونوں قسم کی زمین پر بھی ہوتا ہے، یہاں بَلَدٌ مَیِّتٌ سے وہ زمین مراد ہے جس میں گھاس چارا کچھ نہ ہو، مردہ زمین سے خشک بےآب وگیارہ زمین مراد ہے، اور زمین کو زندہ کرنے سے مراد اس کو سرسبز و شاداب کرنا ہے۔
قولہ : من البلد میں مِن بیانیہ ہے کذلِٰکَ لانشور اس میں مردوں کو خشک زمین سے تشبیہ دی ہے اور مردوں کو زندہ کرنے کو زمین کو سرسبز کرنے سے تشبیہ دی ہے۔
قولہ : فَلْیٗطِعْہُ سے شارح نے اشارہ کردیا کہ مَنْ کَانَ میں مَنْ شرطیہ ہے اور فَلْیُطِعْۃُ اس کا جواب مقدر ہے، اور اللہ تعالیٰ کا قول فَلِلّٰہِ الْعِزَّۃُ جَمِیْعًا جواب شرط کی علت ہے۔
قولہ : یَعْلَمُہٗ اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ کلام میں مجاز ہے اور صعود بمعنی علم ہے اور علم کو صعود سے تعبیر کرنے کا مقصد قبولیت کی طرف اشارہ کرنا ہے، اس لئے کہ موضع ثواب اوپر ہے اور موضع عذاب نیچے ہے۔
قولہ : اَلَّذِیْنَ یَمْکُرُوْنَ کلمات طیبہ کے بیان کرنے کے بعد یہ کلمات خبیثہ کا بیان ہے۔
قولہ : وَالسَّیِّئَاتُ یہ مفعول مطلق محذوف کی صفت ہے تقدیر عبارت جیسا کہ شارح (رح) تعالیٰ نے المکرات محذوف مان کر اشارہ کردیا ہے ای یمکرون المکرات السیِّئاتِ ، السَّیّئات کا مفعول بہ ہونے کی وجہ سے منصوب ہونا درست نہیں ہے اس لئے کہ یمکرون فعل لازم ہے جو کہ مفعول بہ کو نصب نہیں دے سکتا، بعض حضرات نے کہا ہے کہ یمکرونَ یکسبونَ کے معنی کو متضمن ہونے کی وجہ سے متعدی ہے لہذا اس کا السَّیّئِات کو مفعول بہ ہونے کے اعتبار سے نصب دینا درست ہے۔
قولہ : ومکرُ اولئٰک ترکیب اضافی مبتداء اور یبور اس کی خبر ہے، اور ھُوَ ضمیر فصل ہے خبر سے پہلے ضمیر فصل کے وقوع کے جواز اور عدم جواز میں اختلاف ہے راجح وقوع ہے (اعراب القرآن) یبُوْرُ مضارع واحد مذکر غائب (ن) بَورًا بَوَارًا ہلاک ہونا۔
قولہ : فُرَاتٌ شدِیْدُ العَذُوْبَۃِ نہایت شیریں پانی۔ قولہ : اُجاجٌ شدید الملوحۃ شدید نمکین۔
قولہ : وَمَا یُعَمَّرُ مِنْ مُعَمَّرٍ مانافیہ ہے یُعَمَّرُ فعل مضارع مجہول مِنْ زائدہ اور مُعَمَّرُ نائب فاعل قطمیر اس باریک جھلی کو کہتے ہیں جو گٹھلی پر لپیٹی ہوئی ہوتی ہے، اور بعض حضرات نے اس ریشے کو کہا ہے جو گٹھلی کی دراز میں ہوتا ہے اور بعض نے اس ریشہ کو کہا ہے جو اس سوارخ میں ہوتا ہے جو گٹھلی کی پشت میں ہوتا ہے، مطلب یہ ہے کہ جن کو تم پکارتے ہو اور جن سے امداد کی توقع رکھتے ہو یہ تو ایک حقیر اور معمولی چیز کا بھی اختیار نہیں رکھتے۔
تفسیر وتشریح
شان نزول : امام بغوی ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ یہ آیت اس وقت نازل ہوئی جب رسول اللہ ﷺ نے یہ دعا فرمائی کہ ” اے اللہ تو اسلام کو قوت عطا فرما، عمر بن الخطاب کے ذریعہ یا عمرو بن ہشام (ابوجہل) کے ذریعہ “ اللہ تعالیٰ نے ان میں سے عمر بن الخطاب کو ہدایت دیکر اسلام کی قوت اور عزت کا سبب بنادیا۔ (معارف، روح المعانی)
واللہ۔۔۔ الریٰح یعنی جس طرح بادلوں سے بارش برسا کر خسک (مردہ) زمین کو ہم شاداب (زندہ) کردیتے ہیں اسی طرح سے قیامت کے دن تمام مرودں کو بھی ہم زندہ کریں گے، حدیث میں آتا ہے کہ انسان کا پورا جسم بوسیدہ ہوجاتا ہے، صرف ریڑھ کی ہڈی کا چھوٹا سا حصہ محفوظ رہتا ہے، اسی سے اس کی دربارہ تخلیق و ترکیب ہوگی کُلُّ جَسَدِ ابن آدَمَ یَبْلیٰ اِلَّا عَجَبُ الذَّنبِ منہ خُلِقَ ومنہ یُرکَّبُ ۔ (بخاری سورة عم، مسلم کتاب النفس مابین النفحتین)
من۔۔ العزۃ (الآیۃ) یعنی جو چاہے کہ اسے دنیا وآخرت میں عزت ملے تو وہ اللہ کی اطاعت کرے، اس سے اس کا یہ مقصد حاصل ہوجائے گا، اس لئے کہ دنیا وآخرت کا مالک وہی ہے اور تمام عزتیں اسی کے پاس ہیں، جس کو وہ عزت دے وہی عزیز ہوگا، اور جس کو وہ ذلیل کرے کوئی طاقت اس کو عزت نہیں سے سکتی۔
الیہ۔۔ الطیب، الکَلِمُ ، کَلِمَۃٌ کی جمع ہے پاکیزہ اور ستھرے کلمات سے مراد اللہ کی تسبح و تمحید، تلاوت، امر بالمعروف ونہی عن المنکر ہے اور چڑھنے کا مطلب قبول کرنا ہے، فرشتوں کا ان کو لیکر آسمانوں پر چڑھنا ہے تاکہ اللہ ان کی جزاء دے، یَرْفَعُہٗ کی ضمیر کا مرجع کیا ہے، بعض کہتے ہیں الکلم الطیبُ ہے یعنی عمل کلمات طیبات کو اللہ کی طرف بلند کرتا ہے، یعنی زبان سے اللہ کا ذکر (تسبح وتحمید) کچھ نہیں، جب تک اس کے ساتھ عمل صالح یعنی احکام و فرائض کی ادائیگی نہ ہو، بعض کہتے ہیں کہ یرفَعہٗ میں فاعل کی ضمیر اللہ کی طرف راجع ہے، مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ عمل صالح کو کلمات طیبات پر بلند کرتا ہے، اس لئے کہ عمل صالح سے ہی اس بات کا تحقیق ہوتا ہے کہ اس کا مرتکب فی الواقع اللہ کی تسبیح وتحمید میں مخلص ہے۔ (فتح القدیر)
ایک حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کسی قول کو بغیر نیت کے اور کسی قول، عمل اور نیت کو بغیر مطابقت سنت کے قبول نہیں کرتا (قرطبی) اس سے معلوم ہوا کہ مکمل قبولیت کی شرط سنت کے مطابق ہونا ہے، اگر قول، نیت سب ردست بھی ہوں گے مگر طریقۂ عمل سنت کے مطابق نہ ہو تو قبولیت تامہ حاصل نہیں ہوگی۔
وما۔۔۔ کتاب اس آیت کا مفہوم جمہور مفسرین کے نزدیک یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جس شخص کو عمر طویل عطا فرماتے ہیں وہ
پہلے ہی لوح محفوظ میں لکھی ہوئی ہے، اسی طرح جس کی عمر کم رکھی جاتی ہے وہ بھی لوح محفوظ میں پہلے ہی سے درج ہے، جس کا حاصل یہ ہے کہ یہاں عمر کا طول وقصر فرد واحد کے متعلق مراد نہیں ہے، بلکہ کلام نوع انسانی کثیر نے نقل کی ہے، اور بعض حضرات نے فرمایا کہ اگر عمر کی کمی زیادتی کو ایک ہی شخص سے متعلق کہا جائے تو عمر میں کمی کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ہر شخص کی عمر جو اللہ نے لکھ دی ہے وہ یقینی ہے، اور جو دن گذرتا ہے اس مقررہ مدت میں ایک دن کی کمی کردیتا ہے اسی طرح جتنے دن بلکہ سانس گذرتے رہتے ہیں اس کی عمر کو گھٹاتے رہتے ہیں، یہ تفسیر شعبی، ابن جبیر، ابومالک، ابن عطیہ وغیرہ سے منقول ہے (روح) اس مضمون کو اس شعر میں ادا کیا گیا ہے : ؎
حَیَاتک انفاسٌ تُعَدّ فکلَّمَا مضٰی نفسٌ منھا نقصتْ بہ جزءٌ
” تیری زندگی چند گنے سانسوں کا نام ہے تو جب بھی ایک سانس گذرتا ہے تیری عمر کا ایک جز کم ہوجاتا ہے “
ابن ابی حاتم نے حضرت ابوالدرداء ؓ سے روایت کیا ہے وہ فرماتے ہیں کہ ہم نے اس (مضمون) کا ذکر رسول اللہ ﷺ کے سامنے کیا، تو آپ نے فرمایا کہ عمر تو اللہ کے یہاں ایک ہی مقرر ہے، جب مقرر مدت پوری ہوجاتی ہے تو کسی شخص کو ذرا بھی مہلت نہیں دی جاتی، بلکہ زیادت عمر سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو اولاد صالح عطا فرما دیتا ہے وہ اس کے لئے دعا کرتی رہتی ہے، یہ شخص دنیا میں موجود نہیں ہوتا مگر اس کی اولاد صالح کی دعائیں اس شخص کو اس کی قبر میں ملتی رہتی ہیں یعنی اس کو قبر میں فائدہ پہنچتا رہتا ہے اس طرح گویا کہ اس کی عمر بڑھ گئی، خلاصہ یہ ہے کہ جن احادیث میں عمر بڑھنے کا ذکر آیا ہے، اس سے مراد عمر کی برکت کا بڑھ جانا ہے۔
ومن۔۔۔ طریًا (الآیۃ) یعنی دریائے شور و شیریں دونوں سے تمہیں تازہ گوشت کھانے کو ملتا ہے مراد اس سے مچھلی ہے،
اس میں مچھلی کو گوشت سے تعبیر کیا ہے، اس میں اس بات کی جانب اشارہ ہے کہ مچھلی بغیر ذبح کئے ہوئے حلال گوشت ہے اس کو ذبح کرنے کی ضرورت نہیں بخلاف جانوروں کے، اور حلیۃ کے معنی زیور کے ہیں، مراد اس سے موتی ہیں، اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح دریائے شور میں ہوتا ہے دریائے شیریں میں بھی ہوتا ہے، یہ جو مشہور ہے کہ موتی دریائے شیریں میں نہیں ہوتا یہ درست نہیں ہے البتہ شیریں دریا میں بہت کم ہوتا ہے۔
تَلْبَسُوْنَھَا میں مذکر کا صیغہ استعمال کرنے سے اس طرف اشارہ ہے کہ موتیوں کا استعمال مردوں کے لئے بھی جائز ہے بخلاف سونے اور چاندی کے، ان کا بطور زیور استعمال کرنا مرودں کے لئے جائز نہیں ہے۔
Ayahs 35:15–26آیت نمبر 15 تا 26
ترجمہ : اے لوگو ! تم ہرحال میں اللہ کے محتاج ہو اور اللہ تو اپنی مخلوق سے بےنیاز ہے اور وہ اپنی مخلوق پہر احسان کی وجہ سے سزاوار حمد ہے اگر وہ چاہے تو تم کو فنا کردے اور تمہاری جگہ ایک نئی مخلوق پیدا کردے اور یہ بات اللہ کے لئے کچھ مشکل نہیں، کوئی بھی گنہ گار شخص دوسرے کے گناہ کا بوجھ نہیں اٹھائے گا، گوجس شخص کو بلایا گیا ہے رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو، جیسا کہ باپ اور بیٹا اور دونوں صورتوں میں عدم حمل اللہ کا حکم ہے، آپ تو صرف ان ہی لوگوں کو ڈراسکتے ہیں جو اپنے رب سے غائبانہ ڈرتے ہوں یعنی اس سے ڈرتے ہوں حالانکہ اس کو دیکھا نہیں ہے، اس لئے کہ یہی لوگ تنبیہ سے فائدہ اٹھانے والے ہیں، اور نماز کی پابندی کرتے ہیں اور جو شخص شرک وغیرہ سے پاک ہوتا ہے وہ اپنے لئے پاک ہوتا ہے لہٰذا اس کا فائدہ اسی کے ساتھ مخصوص رہے گا اور اللہ ہی کی طرف لوٹنا ہے اور آخرت میں عمل کا بدلا دیا جائے گا اور بینا اور نابینا یعنی مومن اور کافر برابر نہیں ہوسکتے اور نہ تاریکی یعنی کفر اور روشنی یعنی ایمان اور نہ چھاؤں اور دھوپ یعنی جنت اور دوزخ اور نہ زندے اور مردے یعنی مومن و کافر برابر ہوسکتے تینوں جگہوں میں لا کی زیادتی تاکید کیلئے ہے اللہ جس کو چاہتا ہے اپنی ہدایت سنا دیتا ہے تو وہ ایمان پر لبیک کہہ دیتا ہے، اور آپ ان لوگوں کو نہیں سناسکتے جو قبروں میں ہیں یعنی مردوں سے تشبیہ دی ہے، اسلئے کہ وہ جواب نہیں دیتے (ہدایت قبول نہیں کرتے) اور آپ تو صرف انکے لئے ڈرانے والے ہیں ہم نے ہی آپ کو حق دیکر خوشخبری سنانے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے، اور کوئی امت ایسی نہیں گذری جس میں کوئی ڈرانے والا یعنی نبی نہ گذرا ہو اور اہل مکہ آپکی تکذیب کی ہے اور انکے پاس بھی ان کے رسول معجزے اور صحیفۂ ابراہیم اور روشن کتابیں وہ تورات اور انجیل ہیں، لیکر آئے تھے سو آپ بھی ان کی طرح صبر کیجئے پھر میں نے ان کافروں کو ان کی تکذیب کی وجہ سے پکڑلیا (سودیکھو) میرا ان کو عذاب دینا، سزا اور ہلاک کرنے کے ذریعہ کیسا رہا (یعنی) وہ برمحل اور پر موقع ہوا۔
تحقیق و ترکیب وتسہیل وتفسیری فوائد
قولہ : یَایُّھَا النَّاسُ اَنْتُمُ الفُقَرَاءُ الی اللہ آیت میں خطاب لوگوں کو ہے حالانکہ ہر شئ خدا کی محتاج ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان کے علاوہ دیگر کوئی مخلوق ایسی نہیں ہے جو غنا اور استغناء کا دعویٰ کرتی ہو اسی لئے خاص طور پر آیت میں انسان کو مخاطب بنایا گیا ہے، آیت کے معنی یہ ہیں یٰایُّھَاالنَّاسُ انتُم اَشَدُّ افتِقارًا واحتِیا جًا الی اللہ فی انفسکُمْ وعیالکمْ واموالَکم وفیما یعرض لکم من سائر الا مور فلا غنی لکم
عنہ طرفَۃََ عینٍ ولا اقلَّ مِن ذٰلک۔
انسان اپنی ذات میں اور صفات میں اپنے عیال میں اور اموال میں غرضیکہ اپنے تمام امور میں ہر آن وہر لمحہ محتاج ہے، جس کی جتنی زیادہ ضرورتیں ہوتی ہیں وہ اتنا ہی زیادہ محتاج ہوتا ہے، انسان کی چونکہ ضرورتیں تمام مخلوقات سے زیادہ ہیں اس لئے اس کی احتیاج بھی سب سے زیادہ ہے، اللہ تبارک و تعالیٰ نے انسان کے لئے فرمایا ہے خُلِقَ الانسانُ ضَعِیْفًا اور یہیں سے ابوبکر صدیق ؓ کا قول مَنْ عرفَ نفسہ فقد عرب ربّہٗ یعنی جس نے اپنے فقر و حاجت اور ذل وعجز کو پہچانا اس نے خدا کے غرور غنا اور قدروکمال کو پہچانا۔
قولہ : الَی اللہ یہ فقراء کے متعلق ہے، فقراء فقیر کی جمع ہے، فقیر صیغہ صفت ہے، لہٰذا اس سے متعلق ہونا درست ہے۔
سوال : فقیر کے مقابل لانے کے بعد، الحمید، کا اضافہ کس مقصد سے کیا گیا ہے ؟
جواب : بندوں کا فقیر ہونا اور اللہ کا غنی ہونا تو ثابت ہوگیا، مگر غنی نافع نہیں ہوتا جب تک کہ وہ سخی اور جو ادنہ ہو، اور جب غنی، سخی اور جواد ہوتا ہے تو منعم علیہم اس کی حمد وثناء کرتے ہیں اور منعم و محسن، منعَم علیہم کی حمد وثناء کا مستحق ہو یا ہے، لہٰذا اس بات کی
طرف اشارہ کرنے کے لئے کہ اللہ تعالیٰ غنی نافع ہے، الحمِیْد کا اضافہ فرمایا۔ (جمل)
قولہ : ان یَّشَأیُذْ ھِبکُمْ ویاتِ بخلقٍ جدیدٍ یہ اللہ تعالیٰ کے غناء مطلق کا بیان ہے یعنی تمہاری فناء اس کی مشیئت پر اور بقاء اس کے فضل پر موقوف ہے، اس میں کسی کا دخل نہیں ہے، اور اپنے قول ویَاتِ بخلقٍ جدیدٍ سے زیادتی استغناء کا بیان ہے یعنی کوئی یہ نہ سمجھے کہ اگر اللہ تعالیٰ انسانوں کو فنا کردے گا تو اس کے کمال ملک میں نقصان ہوگا اس لئے کہ وہ اس بات پر قادر ہے کہ وہ جدید مخلوق پیدا کردے گا تو اس کے کمال ملک میں نقصان ہوگا اس لئے کہ وہ اس بات پر قادر ہے کہ وہ جدید مخلوق پیدا کردے جو اس سے بھی احسن واجمل ہو وَمَا ذٰلک علی اللہ بعزیز یعنی اذہاب واتیان اس کے لئے کوئی مشکل نہیں ہے۔
قولہ : وازِرَۃٌ یہ تَزِرُ کا فاعل ہے اس کا موصوف محذوف ہے مفسر علام نے اپنے قول نفسٌ سے محذوف کی طرف اشارہ کردیا ہے یعنی کوئی گناہگارشخص کا (قیامت کے دن) بوجھ نہ اٹھائے گا۔
سوال : اس آیت یعنی لاتَزِرُ وَازِرَۃ وِزْرَ اُخرٰی اور دوسری آیت وَلَیَحْمِلُنَّ اثْقَالَھُمْ میں تعارض معلوم ہوتا ہے، تطبیق کی کیا صورت ہوگی ؟
جواب : یہ آیت ضالین اور مضلین کے بارے میں ہے، مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ ضلال واضلال یعنی گمراہ ہونے اور گمراہ کرنے کا بوجھ اٹھائیں گے، اس طریقہ پر یہ خود اپنے ہی گناہوں کا بوجھ اٹھانے والے ہوں گے۔
قولہ : وَاِنْ تَدْعُ مُثْقَلَۃٌ الیٰ حِمْلِھَا . مُثْقَلَۃٌ ای نفسٌ مثقلۃٌ بالذنوب۔ قولہ : حِمل موصوف ہے۔
قولہ : مِنہُ حِمل ہٗ یہ حِملٌ بمعنی محمول کی صفت ہے اور ضمیر وِزْرٌ کی طرف راجع ہے ای الی محمولھا الکائن من الوِزْرِ ، حمل بالکسر اس وزن کو کہتے ہیں جو سر یا پشت پر اٹھایا ہو، جمع احْمال وحُمُولٌ آتی ہے اور حَمْل بالفتح پھلوں کو کہتے ہیں، جب تک کہ وہ درختوں پر ہوں
اور بچہ کو کہتے ہیں کہ وہ رحم مادر میں ہو، ازہری نے کہا ہے کہ یہی صواب ہے اور یہی اصمعی کا قول ہے۔ (جمل)
قولہ : عدم الحمل فی الشقینِ شقین سے حمل اجباری جو کہ ولا تَزِرُوازرۃٌ وِزرَا اخرٰی میں مذکورہ ہے اور حمل اختیاری ہو کہ وَاِنْ تدْعُ . ذَاقُربیٰ میں مذکورہ ہے، مراد ہیں یعنی حمل اختیاری کی اجازت کا نہ ہونا، یہ اللہ ہی کے حکم سے ہوگا۔
قولہ : یخشونَ رَبَّھُمْ بالغیبِ ، یَخْشَوْنَ کی ضمیر فاعل سے حال ہے، ای یخشَوْنَہٗ حالَ کونِھم غائبین عنہ غائبین یہ بندوں کی صفت ہے نہ کہ رب کی، اس لئے کہ رب کی صفت قرب ہے نہ کہ غیبت، کما قال اللہ تعالیٰ ونحن اقرب الَیْہِ مِن حبلِ الوَرِیْدِ اور یہ بھی ردست ہے کہ یَخشَونَ کے مفعول سے حال ہو، ای یَخْشَوْنَہٗ والحال اَنَّہ غائبٌ عنھم ای مُحْتَجبٌ بجلالہٖ فلا یرونہٗ مفسر علام نے اپنے قول وَمَارَاَوْہُ سے اسی کی طرف اشارہ کیا ہے، اللہ تعالیٰ کی عدم رویت اس کے صفت جلال میں محجوب ہونے کی وجہ سے ہے اور جب جنت میں صفت جمال میں جلوہ گر ہوں گے تو جنتیوں کو خدا کا دیدار حاصل ہوگا، مگر دنیا میں ان آنکھوں سے خدا کا دیدار ممکن نہیں ہے۔
قولہ : لِأنَّھُمْ المنتفعون بالإنذار اس عبارت کے اضافہ کا مقصد ایک اعتراض کا جواب ہے، اعتراض یہ ہے کہ اِنَّمَا کلمہ حصر کے ذریعہ انذار کو اہل خشیت کے ساتھ خاص کرنے کی کیا وجہ ہے ؟ حالانکہ ہر مکلف کے لئے انذار ہے، جواب کا حاصل یہ ہے کہ چونکہ نصیحت وانذار سے اہل خشیت ہی منتقع ہوتے ہیں، اس لئے اہل خشیت کا خاص طور پر ذکر کیا ہے گویا کہ یہ کہا گیا ہے انّما یَنْفَعُ اِنذارُک اھل الخشیۃ۔
قولہ : وَمَا یَسْتَوِی الاعمٰی والبصیر یہ مومن اور کافر کی مثال ہے، اولاً مایستوی الاعمٰی البصیر سے مومن و کافر کی ذات میں فرق بیان کیا ہے، ثانیا یعنی ولا الظلمات ولا النور سے دونوں کی صفات میں فرق بیان کیا اور ثالثاً یعنی ولا الظل ولا الحرور سے آخرت میں دونوں کے ٹھکانوں کے درمیان فرق کو بیان فرمایا، تینوں جملوں میں لا کی زیادتی تاکید نفی کیلئے ہے، اس لئے کہ نفس نفی تو مانافیہ سے مفہوم ہے
قولہ : اِنّ اللہَ یُسمِعُ سے فکَیْفَ کانَ نکِیْر تک یہ آپ ﷺ کو تسلی ہے۔
قولہ : وَمَا اَنْتَ بمُسْمِع مَّنْ فی القُبُورِ میں کفار کو اثر قبول نہ کرنے میں مردوں کے ساتھ تشبیہ دی ہے۔
قولہ : فَلا یجیبون کی ضمیر جمع معنی کے اعتبار سے مَنْ کی لوٹ رہی ہے، اس لئے کہ مفسر علام نے مَنْ کی تفسیر کفار سے کی ہے، بعض نسخوں میں فیُجِیْبُوْنَ ہے۔
قولہ : اِنْ اَنتَ اِلَّا نذیر مطلب یہ ہے کہ آپکا فریضہ صرف تبلیغ ہے ہدایت، اللہ کے ہاتھ میں ہے وہ جسکو چاہتا ہے ہدایت عطا فرماتا ہے
قولہ : بالق یہ اَرْسَلْنٰکَ کے کاف سے حال ہے، اور حق بمعنی ہدایت ہے اور ہدایت ھادیًا کے معنی ہے ای اَرْسَلْنٰکَ حال کونک ھادیًا۔
قولہ : اَجَابَ اِلَیْہِ ، اِلَیْہِ کی ضمیر ہدایت کی طرف راجع ہے اور اَجَابَ الیہ کے معنی جواب دینا، قبول کرنا، اَجَابَ الیہِ ای قَبلَہٗ لم یُجِبْ الیہ ای لَمْ یَقْبَلْہُ ۔
قولہ : ھُوَ واقِعٌ مَوْقِعَہٗ اس میں اشارہ ہے کہ کیف کان نکیری میں استفہام تقریری ہے، (حاشیۃ الجلالین)
قولہ : وَمَا یَسْتَوِی الْاََحْیَاء وَلاَ الْاََمْواتُ یہ کافروں کی دوسری تشبیہ ہے جو کہ پہلی سے ابلع ہے پہلی تشبیہ کافروں کو عدم نفع میں
اندھوں کے ساتھ دی گئی ہے اور اس میں مردوں سے تشبیہ دی گئی ہے، اندھوں میں کچھ نہ کچھ نفع ہوتا ہے، بخلاف مردوں کے کہ ان میں کوئی نفع نہیں ہوتا۔
تفسیر وتشریح
یٰایھا۔۔۔ الفقراءُ (الآیۃ) ناسٌ کا لفظ عام ہے جس میں عوام و خواص حتی کہ اولیاء وصلحاء وانبیاء بھی داخل ہیں، اللہ کے در کے سب محتاج ہیں، لیکن اللہ کسی کا محتاج نہیں، وہ اتنا بےنیاز ہے کہ اگر سب لوگ اس کے نافرمان ہوجائیں تو اس سے اس کی سلطنت میں کوئی کمی اور اگر سب لوگ اس کے اطاعت گذار بن جائیں تو اس سے اس کی قوت اور حاکمیت میں کوئی زیادتی نہیں ہوگی، بلکہ نافرمانی سے خود انسانوں ہی کا نقصان اور اطاعت و عبادت سے انسانوں کا اپنا ہی فائدہ ہے۔ اور وہ اپنی تعمتوں کی وجہ سے محمود ہے یعنی اس نے جو نعمتیں اپنے بندوں پر کی ہیں ان پر وہ بندوں کے حمد وشکر کا مستحق ہے، اور اسکی شان بےنیازی کا یہ حال ہے کہ وہ چاہے تو تمہیں فنا کے گھاٹ اتار کر تمہاری جگہ ایک نئی مخلوق پیدا کردے، جو اسکی اطاعت گذار ہو، اور یہ بات اس کے لئے کچھ مشکل نہیں
ولا۔۔ اخری یعنی قیامت کے روز کوئی شخص دوسرے شخص کے گناہوں کا بوجھ نہ اٹھائے گا، نہ اختیاری طور پر اور نہ اجباری
طور پر، ہر شخص کو خود ہی اپنا بوجھ اٹھانا ہوگا، اور سورة عنکبوت میں جو آیا ہے کہ وَلَیَحْمِلُنَّ اَثْقَالَھُمْ وَاَثْقَالاً مَعَ اَثْقَالِھِمْ یعنی گمراہ کرنے اولے گناہوں کے بوجھ کے ساتھ ساتھ اتنا ہی ان دوسروں کا بوجھ بھی اٹھائیں گے جن کو انہوں نے گمراہ کیا ہوگا، اس کا مطلب یہ نہیں کہ جن کو گمراہ کیا تھا ان کا بوجھ یہ لوگ کچھ ہلکا کردیں گے م بلکہ ان کا بوجھ اپنی جگہ باقی رہے گا، اور گمراہ کرنے والوں کا جرم دوہرانے کی وجہ سے ان کا بوجھ بھی دوہرا ہوجائے گا ایک گمراہ ہونے کا اور دوسرا گمراہ کرنے کا، حدیث میں وارد ہوا ہے مَنْ سَنَّ سُنَّۃً سَیِّئَۃً کانَ علَیْہِ وِزْرُھَا وَوِزْرُمَنْ عَمِلَ بِھَا مِنْ بَعْدِہٖ (صحیح مسلم کتاب الزکوٰۃ، باب الحث علی الصدقۃ) درحقیقت یہ دوسروں کا بوجھ بھی ان کا اپنا ہی بوجھ ہے کہ ان ہی نے دوسروں کو گمراہ کیا تھا، جس طرح کہ قابیل نے ہابیل کو قتل کرکے ایک رسم بد ایجاد کی، اب آئندہ جتنے بھی قتل ہوں گے قاتل کے اعمال نامہ میں لکھے جانے کے علاوہ قاتل اول قابیل کے نامہ عمل میں بھی لکھے جائیں گے، یہی صورت کار خیر کے بارے میں بھی ہوگی۔ حضرت عکرمہ ؓ نے آیت مذکورہ کی تفسیر میں فرمایا کہ اس روز ایک باپ اپنے بیٹے سے کہے گا تم جانتے ہو کہ میں تمہارا کیسا مشفق اور مہربان پاپ تھا، وہ اقرار کرے گا اور کہے گا بیشک آپ کے احسانات بیشمار ہیں، آپ نے میرے لئے دنیا میں بہت تکلیفیں برداشت کی تھیں، اس کے بعد باپ کہے گا بیٹا آج میں تمہارا محتاج ہوں، اپنی نیکیوں میں سے تھوڑی مجھے دیدو، کہ نجات ہوجائے، بیٹا کہے گا اباجان آپ نے بہت تھوڑی چیز طلب کی، مگر میں کیا کروں اگر میں وہ آپ کو دیدوں تو میرا بھی یہی حال ہوجائے گا، اس لئے میں مجبور ہوں، پھر وہ اپنی بیوی سے اسی طرح کہے گا، مگر بیوی بھی وہی جواب دے گی جو بیٹے نے دیا، اسی مضمون کو ایک دوسری آیت میں اس طرح بیان فرمایا گیا ہے، یَوْمَ یَفِرْءُ مِنْ اَخِیْہِ وَاُمِّہٖ وَاَبِیْہِ وصَاحِبَتِہٖ وَبَنِیْہِ ۔ (سورۂ عبس)
ولو۔۔ قربیٰ یعنی جب اہل قرابت جن سے برے وقت میں تعاون و ہمدردی کی توقع ہوتی ہے وہ ہی رخ پھیر کر دوٹوک
جواب دیدیں گے تو غیر اقارب کی مدد و تعاون کو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
انما۔۔۔ بالغیب یہ جملہ مستانفہ ہے، ان لوگوں کا حال بیان کرنے کے لئے لایا گیا جو آپ کی انذار و تبلیغ سے فائدہ اٹھاتے ہیں، اور یَخْشَوٌنَ رَبَّھُمْ بالغَیْبِ کا ایک مطلب یہ ہے کہ وہ اس کے عذاب حال یہ ہے کہ وہ عذاب ان سے غائب ہے، تیسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ لوگ لوگوں کی نظروں سے غائب خلوت اور تنہائیوں میں ڈرتے ہیں۔ (فتح القدیر)
نکتہ : ولاَ ۔۔ النور ظلمات سے مراد باطل اور نور سے مراد حق ہے ظلمات جمع اور نور کو واحدلانے میں یہ نکتہ ہے کہ حق ایک ہی ہوتا ہے اور باطل کثیر اور متعدد ہوتا ہے، اَحْیاء سے مراد مومن اور اموات سے مراد کافر ہیں، عالم اور جاہل نیز دانشمند بھی مراد ہوسکتے ہیں، مطلب آیت کا یہ ہے کہ جس طرح مردوں کو قبروں میں کوئی بات نہیں سنائی جاسکتی، اسی طرح جن لوگوں کے قلوب کو کفر نے موت سے ہمکنار کردیا ہے یعنی ان کی بداعمالیوں نے ان کے اندر سے قبولیت حق کی صلاحیت ہی ختم کردی ہے تو آپ ایسے لوگوں کو پیغام حق کہ ان کیلئے مفید اور نافع ہو، نہیں سنا سکتے، ورنہ تو کہیں کفار مکہ بہرے نہیں تھے وہ آپ ﷺ کی باتیں خوب سنتے تھے مگر قبولیت کے ارادہ سے نہیں سنتے تھے، مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ کا کام صرف دعوت و تبلیغ ہے ہدایت اور ضلالت یہ اللہ کے اختیار میں ہے، اس مسئلہ کا تعلق سماع موتیٰ سے نہیں ہے، وہ الگ مستقل مسئلہ ہے، مطلب یہ ہے کہ مردے کی روح سنتی ہے، قبر میں پڑا ہوا دھڑ نہیں سنتا۔ (فوائد عثمانی)