34. Surah Saba

سبإSheba · 54 ayahsفی ظلال القرآن

Ayahs 34:1–2

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ وَ لَهُ الْحَمْدُ فِی الْاٰخِرَةِ١ؕ وَ هُوَ الْحَكِیْمُ الْخَبِیْرُ Open ayah 34:1 in the Quran reader

حمد اس خدا کے لئے ہے جو آسمانوں اور زمین کی ہر چیز کا مالک ہے اور آخرت میں بھی اسی کے لیے حمد ہے۔ وہ دانا اور باخبر ہے

یَعْلَمُ مَا یَلِجُ فِی الْاَرْضِ وَ مَا یَخْرُجُ مِنْهَا وَ مَا یَنْزِلُ مِنَ السَّمَآءِ وَ مَا یَعْرُجُ فِیْهَا١ؕ وَ هُوَ الرَّحِیْمُ الْغَفُوْرُ Open ayah 34:2 in the Quran reader

جو کچھ زمین میں جاتا ہے اور جو کچھ اس سے نکلتا ہے اور جو کچھ آسمان سے اترتا ہے اور جو کچھ اس میں چڑھتا ہے ، ہر چیز کو وہ جانتا ہے ، وہ رحیم اور غفور ہے

الحمدللہ الذی لہ ۔۔۔۔۔ وھو الرحیم الغفور (1 – 2) ” ۔ “۔ یہ اس سورة کا آغاز ہے جس میں مشرکین کے شرک ، ان کی جانب سے رسول اللہ کی تکذیب ، آخرت میں تشکیک ، اور ان کی طرف سے بعث بعد الموت کو مستبد سمجھنے کے موضوعات پر کلام کیا گیا ہے۔ آغاز ان کلمات کے ساتھ ہے کہ تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہے۔ جو بذات خود محمود ہے اگرچہ مخلوقات میں سے کوئی بھی اس کی تعریف نہ کرے۔ وہ اس پوری کائنات میں محمود ہے اور اس کائنات کی پوری قوتیں اور مخلوقات اللہ کی حمد کرتی ہیں اگرچہ یہ انسان اس کی حمد نہ کرے۔ حمد کے ساتھ اللہ کی اس صفت کا ذکر ہے کہ اللہ آسمانوں اور زمین کا مالک ہے۔ اللہ کے ساتھ کسی کا کوئی حق نہیں ہے۔ نہ زمین اور آسمانوں میں اللہ کے ساتھ کوئی شریک ہے۔ زمین اور آسمانوں میں جو کچھ ہے وہ اللہ کا ہے اور یہ اسلامی نطریہ حیات کا پہلا اور اساسی نکتہ ہے۔ اس طویل و عریض کائنات کا مالک اللہ ہے اور اس کے سوا کوئی شریک نہیں ہے۔ ولہ الحمد فی الاخرۃ (34: 1) ” اور آخرت میں بھی اسی کے لیے حمد ہے “۔ یعنی اللہ اپنی ذات میں محمود ہے اور بندوں کی طرف سے کی جانے والی حمد بھی اسی کے لئے ہے۔ غرض وہ لوگ جو اللہ کا انکار کرتے ہیں یا اس کے ساتھ کسی کو شریک کرتے ہیں ان کی طرف سے بھی حمد اللہ ہی کے لیے ہے اور وہی اس کا مستحق ہے اور ان پر یہ بات آخرت میں منکشف ہوگی۔ وھو الحکیم الخبیر (34: 1) ” وہ دانا اور باخبر ہے “۔ وہ ایسا حکیم ہے کہ اسکا کوئی کام حکمت سے خالی نہیں ہے۔ وہ زمین اور آسمان کو بھی حکمت سے چلاتا ہے ۔ اس کائنات کی تدبیر نہایت حکمت سے کرتا ہے۔ وہ ہر چیز سے خبردار ہے ، ہر معاملے کا اسے علم ہے اور اس کا علم بہت گہرا ، شامل اور محیط ہے۔ اللہ کے علم کو اگر دیکھنا ہے تو اس کی مثال کیلئے اس کی کتاب علم کا ایک صفحہ ملاحظہ ہو۔ یعلم ما یلج ۔۔۔۔۔ یعرج فیھا (34: 2) ” جو کچھ زمین میں جاتا ہے اور جو کچھ اس سے نکلتا ہے اور جو کچھ آسمان سے اترتا ہے اور جو کچھ اس میں چڑھتا ہے ، ہر چیز کو وہ جانتا ہے “۔ یہ چند الفاظ ہیں ذرا ان پر غور کرو ، کس قدر تعداد زمین کے اندر جاتی ہے ، کس قدر اس سے نکلتی ہے ، کس قدر تعداد کا آسمانوں سے نزول ہوتا ہے اور کسی قدر اشیاء کا عروج ہوتا ہے مختلف حرکات ، مختلف شکلوں ، مختلف صورتوں ، مختلف تصورات اور مختلف بینات میں۔ اس قدر کثیر کہ خیال ان کو اپنے دائرے میں نہیں لے سکتا۔ اگر تمام اہل زمین ایک سیکنڈ میں ہونے والے مذکورہ اعمال کا احاطہ کرنا چاہیں تو شمار نہ کرسکیں۔ اگرچہ پوری زندگی اس کام میں لگا دیں۔ یقیناً وہ ایسا نہیں کرسکتے۔ کیونکہ لاتعداد اشیا اس ایک لحظہ میں زمین میں داخل ہوتی اور نکلتی ہیں اور آسمان سے لاتعداد اشیاء کا نزول و عروج ہوتا ہے ۔ کس قدر بیج زمین میں گرتے ہیں اور کس قدر کونپلیں نکلتی ہیں ، کتنے ہی حشرات داخل ہوتے اور نکلتے ہیں۔ کس قدر اجرام اور حیوانات ، کس قدر پانی کے قطرے اور کس قدر گیس کے ذرات اور کس قدر کہرابائی ذرات زمین کے اطراف میں داخل ہوتے ہیں اور کس قدر دوسری اشیاء داخل و خارج ہوتی ہیں۔ اللہ کی آنکھ ان کو دیکھ رہی ہے اور شمار کر رہی ہے۔ ذرا نباتات ہی کو دیکھئے ! ذرا چشموں کو دیکھئے ، ذرا آتش فشاں پہاڑوں کو دیکھئے ، ذرا دوسری گیسوں کو دیکھئے اور یہ دیکھئے کہ کس قدر مستور خزانے ہیں اور ذرا حشرات الارض کو دیکھئے جو نظر آتے ہیں اور جو خوردبینوں سے بھی نظر نہیں آتے۔ بعض کے بارے میں انسان نے علم حاصل کرلیا ہے اور لاتعداد ابھی تک نامعلوم ہیں۔ آسمانوں سے نازل ہونے والے بارش کے قطروں کا شمار کرسکتے ہو ! شہاب ثاقب تو قطرے نہیں ان کی تعداد معلوم ہے۔ سورج سے کسی بھی لمحے شعارعیں نکلتی ہیں۔ کس قدر جلانے والی ، کس قدر روشنی کرنے والی ، کس قدر فیصلے نافذ ہو رہے ہیں اور کس قدر ابھی تک چھپے ہوئے ہیں۔ کس قدر رحمتیں ہیں جو عوام الناس پر ہیں اور کس قدر ہیں جو بعض بندوں پر نافذ ہونے والی ہیں۔ کس قدر رزق ہے جو تقسیم ہوتا ہے اور کس قدر رزق ہے جو روک لیا جاتا ہے اور کیا کچھ ہے جو صرف اللہ کے علم میں ہے۔ کتنے نفوس اور کتنے سانس ہیں جو آسمانوں کی طرف بلند ہوتے ہیں ، نباتات کے ، حیوانات کے جراثیم کے اور دوسری مخلوقات کے اور کتنی ہی دعوتیں ہیں جو اللہ کی طرف سے دی جا رہی ہیں ، اعلانیہ ہیں یا چھپی ہوئی ہیں اور کوئی ان کو نہیں سنتا مگر اللہ ! کس قدر روحین ہیں جن کو ہم جانتے ہیں یا نہیں جانتے۔ یہ اللہ کی طرف اٹھتی ہیں اور کتنے ہی فرشتے ہیں جو ہر روز اللہ کے ہاں واپس ہوتے ہیں اور کتنی روحیں اس کائنات میں ہیں جنہیں صرف اللہ ہی جانتا ہے۔ سمندر سے بخارات کے کس قدر ذرے اور گیس کے دوسرے ذرات اٹھتے ہیں ، جن کا علم صرف اللہ کو ہے۔ یہ تمام اشیاء صرف ایک ہی لمحہ میں یہ عمل کرتی ہیں۔ یہ ایک لمحے کی بات ہے جس کا شمار سب انسان پوری زندگی لگا کر بھی نہیں کرسکتے۔ اگرچہ وہ عمریں صرف کردیں جبکہ اللہ کا علم شامل اور محیط ہے۔ ہر لمحے اور ہر زمانے اور ہر جگہ کے ان واقعات کا اس کے ہاں حساب و کتاب ہے بلکہ وہ انسان کی حرکات و سکنات اور خیالات و وساوس کا بھی حساب کرتا ہے لیکن وہ ستار ہے اور انسان کی کمزرویوں کا چھپاتا ہے۔ وھو الرحیم الغفور (34: 2) وہ رحیم و غفور ہے “۔ قرآن کریم کی آیات میں سے ایسی ایک ایک آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ یہ قرآن انسانی کلام نہیں ہے۔ انسانی عقل کا مزاج یہ ہے کہ وہ اس قدر گہرا تصور پیش ہی نہیں کرسکتی جس کی انتہاؤں تک وہ کود نہ جاسکے۔ انسانی تخیل میں ایسے عمومی اور جامع خیالات آہی نہیں سکتے۔ اور اس قسم کے جوامع العلم جس کے اندر اس قدر مفہومات و مداولات آجائیں جن کا احاط ممکن نہ ہو۔ انسانی کلام میں نہیں ہوتے کیونکہ انسانی کلام انسانی عقل کا نتیجہ ہوتا ہے اور انسانی عقل کے مزاج کے یہ بات خلاف ہے۔ اس قسم کی آیات بندوں کے کلام سے مختلف ہیں۔ اللہ کے علم کی اس جامعیت اور اللہ کے شامریات کے محیط ہونے کے ثبوت اور معجزانہ بیان کے بعد بتایا جاتا ہے کہ اہل کفر قیامت کا انکار کرتے ہیں جبکہ خود ان کا علم اس قدر محدود ہے کہ وہ کل کے بارے میں نہیں جانتے کہ کیا ہوگا۔ جبکہ اللہ علیم وبصیر ہے۔ زمین اور آسمانوں میں کوئی شے بھی اس کے علم سے باہر نہیں ہے اور قیامت اس لیے ضروری ہے کہ نیک اور بد دونوں کو اپنے کیے کا انجام ملے۔
Ayahs 34:3–5

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَا تَاْتِیْنَا السَّاعَةُ١ؕ قُلْ بَلٰى وَ رَبِّیْ لَتَاْتِیَنَّكُمْ١ۙ عٰلِمِ الْغَیْبِ١ۚ لَا یَعْزُبُ عَنْهُ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَ لَا فِی الْاَرْضِ وَ لَاۤ اَصْغَرُ مِنْ ذٰلِكَ وَ لَاۤ اَكْبَرُ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍۗۙ Open ayah 34:3 in the Quran reader

منکرین کہتے ہیں کیا بات ہے کہ قیامت ہم پر نہیں آرہی ہے ! کہو ” قسم ہے میرے عالم الغیب پروردگار کی ، وہ تم پر آکر رہے گی۔ اس سے ذرہ برابر کوئی چیز نہ آسمانوں میں چھپی ہوئی ہے نہ زمین میں۔ نہ ذرے سے بڑی اور نہ اس سے چھوٹی۔ سب کچھ ایک نمایاں دفتر میں درج ہے

لِّیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِیْمٌ Open ayah 34:4 in the Quran reader

اور یہ قیامت اس لیے آئے گی کہ جزا دے اللہ ان لوگوں کو جو ایمان لائے ہیں اور نیک عمل کرتے رہے ہیں۔ ان کے لئے مغفرت ہے اور رزق کریم

وَ الَّذِیْنَ سَعَوْ فِیْۤ اٰیٰتِنَا مُعٰجِزِیْنَ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مِّنْ رِّجْزٍ اَلِیْمٌ Open ayah 34:5 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے ہماری آیات کو نیچا دکھانے کے لئے زور لگایا ہے ، ان کے لیے بدترین قسم کا دردناک عذاب ہے

وقال الذین کفروا ۔۔۔۔۔۔ من رجز الیم (3 – 5) کافروں کی جانب سے آخرت کا انکار اس وجہ سے تھا کہ وہ تخلیق انسانیت میں پنہاں حکمت الہیہ اور تقدیر الٰہی کا ادراک نہ کرسکے۔ اللہ کی حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ لوگوں کو شتر بےمہار کی طرح نہ چھوڑ دیا جائے کہ جو اچھائی کرے اس کی بھی مرضی ہے اور جو برائی کرے اس کی بھی مرضی ہے۔ نہ محسن کو جزاء ملے اور نہ بدکار کو سزا ملے۔ اللہ نے اپنے رسولوں کی زبانی لوگوں کو متنبہ کردیا تھا کہ جزاء کا ایک حصہ آخرت کے لیے باقی رہتا ہے اور سزا کا ایک حصہ بھی آخرت کے لیے چھوڑا جاتا ہے۔ لہٰذا جن لوگوں کو حکمت تخلیق کا ادراک ہوجائے وہ جان لیتے ہیں کہ اللہ کی اسکیم کی تکمیل کے لیے ضروری ہے کہ آخرت برپا ہو ، تاکہ اللہ کا وعدہ پورا ہو اور اللہ کی اطلاع سچی ہو۔ کفار کی نظروں سے بس یہی حکمت اوجھل ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ کہتے تھے۔ لا تاتینا الساعۃ (34: 3) ” قیامت ہم پر نہیں آئے گی “۔ اور اللہ ان کی اس بات کی پرزور تردید فرماتے ہیں۔ قل بلی وربی لتاتینکم (34: 3) ” کہہ دیجئے ، ہاں میرے رب کی قسم قیامت تم پر ضرور آئے گی “۔ اللہ بھی سچا ہے اور اس کے رسول بھی سچے ہیں۔ وہ غیب تو نہیں جانتے لیکن وہ اللہ پر اعتماد کرتے ہیں اور یقین کرتے ہیں۔ جس چیز کا خود انہیں علم نہیں ہوتا اس کے معاملے میں وہ اللہ پر بھروسہ کرتے ہیں۔ اللہ جو تاکیداً کہتا ہے کہ قیامت آئے گی وہ عالم الغیب ہے اس لیے اس کی بات سچ ہے کیونکہ وہ علم پر مبنی ہے۔ اب علم الٰہی کو ایک کائناتی حقیقت کی شکل میں پیش کیا جاتا ہے جس طرح سورة کے آغاز ہی میں اس کی ایک جامع مثال دی گئی تھی۔ اس شہادت سے معلوم ہوا تھا کہ یہ قرآن انسانی کلام نہیں ہے کیونکہ اس قسم کی جامع تمثیلات انسانی فکر کا نتیجہ نہیں ہوسکتیں۔ اسی بات کو اب یہاں دوسرے الفاظ میں پڑھئے۔ لا یعزب عنہ مثقال۔۔۔۔ فی کتب مبین (34: 3) ” اس سے زرہ برابر کوئی چیز نہ آسمان میں چھپی ہے نہ زمین میں ۔ نہ ذرے سے بڑی نہ اس سے چھوٹی ! سب کچھ ایک نمایاں دفتر میں درج ہے “۔ میں اس بات کو یہاں دوبارہ دہراتا ہوں کہ یہ تصور ایک انسانی تصور نہیں ہے اور نہ انسان اس طرح کی جامع سوچ سوچتا ہے۔ آج تک انسانی کلام کے جو نمونے ہیں نظم کے ہیں یا نثر کے ، ان میں ایسی جامع بات نہیں ملتی۔ جب بھی انسان علم کی جامعیت اور اس کے احاطے کے بارے میں کوئی سوچ پیش کرتا ہے وہ اس قدر کائناتی رنگ میں نہیں ہوتی۔ لا یعزب عنہ ۔۔۔۔۔ من ذلک ولا اکبر (34: 3) ” اس سے ذرہ برابر کوئی چیز نہ آسمان میں چھپی ہے نہ زمین میں ، نہ ذرے سے بڑی نہ اس سے چھوٹی “۔ کم از کم انسانی نمونہ ہائے کلام میں علم کی شمولیت ، گہرائی اور جامعیت کے لیے ایسا انداز نہیں ملتا جو قرآن نے اختیار کیا ہے۔ یہ اللہ ہی ہے جو اس طرح اپنے علم کی جامعیت کو بیان کرسکتا ہے اپنے علم کی گہرائی کو بیان کرسکتا ہے۔ یہ باتیں انسانی تخیل کے احاطے میں ہی نہیں آسکتیں۔ اسی طرح مسلمانوں کا تصور الٰہ اس طرح بلند ہوجاتا ہے جس کی مثال ان کے خیال میں نہیں آتی۔ وہ اپنے تصور اور خیال کو سمجھتے ہوئے اور اسے فوق التصور اور فوق الحیال سمجھتے ہوئے اس کی بندگی کرتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کتاب مبین کیا ہے ؟ کتاب مبین اللہ کا علم ہی ہے جس نے ہر چیز کو اپنے احاطے میں لیا ہوا ہے۔ جس سے کائنات کے اندر تیرنے والا ذرہ بھی چھوٹ کر رہ نہیں گیا ، نہ ڈرنے سے کم اور نہ اس سے بڑی کوئی چیز۔ ذرا اس تعبیر پر کھڑے ہوکر غور کیجئے ” نہ ذرے سے کم “ نزول قرآن کے زمانے تک معروف اور مشہور بات یہ تھی کہ ذرہ صغیر ترین جسم ہے۔ اس سے کم کا تصور موجود ہی نہ تھا۔ آج ذرے کے توڑنے سے انسان کو معلوم ہوا کہ ذرے سے زیادہ چھوٹی چیز بھی موجود ہے۔ اس وقت انسان کے تصور اور حساب میں اس کا کوئی وجود نہ تھا۔ اللہ بہت ہی برکت والا ہے کہ اسکے بندے اسکی صفت کے وہ اسرار و رموز بھی جانتے ہیں۔ دوسرے لوگ صدیوں بعد مانتے ہیں اور یہ اللہ ہئ ہے جو کسی بھی وقت ان اسرار و رموز سے پردہ اٹھا دیتا ہے ، جب چاہتا ہے۔ یہ قیامت کیوں برپا ہوگی ؟ جس کا حتمی اور جزی علم اللہ کو ہے جو صغیر و کبیر کا جاننے والا ہے ؟ لیجزی الذین امنوا ۔۔۔۔۔۔ من رجز الیم (34: 4 – 5) ” اور یہ قیامت اس لیے آئے گی کہ اللہ جزاء دے ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے۔ ان کیلئے مغفرت ہے اور رزق کریم ہے۔ اور جن لوگوں نے ہماری آیات کو نیچا دکھانے کے لیے زور لگایا ہے ان کے لئے بدترین قسم کا دردناک عذاب ہے “۔ یہ ہے اللہ کی حکمت ، اس کا ارادہ اور اس کی تدبیر۔ اللہ نے اس بات کو مقدر بنا دیا ہے کہ جن لوگوں نے ایمان لانے کے بعد نیک کام کیے ان کو پوری جزاء دے اور ان لوگوں کو بھی سزا دے جنہوں نے اللہ کی آیات کی نیچا دکھانے کیلئے مقدر بھر کوشش کی۔ وہ لوگ جو ایمان لائے اور ان کا ایمان اعمال صالحہ کے روپ میں نمودار ہوا۔ ان کے لیے مغفرت ہے ، ان معاملات کے لئے جو ان سے غلط ہوگئے اور تقصیرات ہوگئیں اور پھر مغفرت کے بعد ان کے لئے رزق کریم ہے۔ اس سورة میں رزق کا ذکر بہت آتا ہے ، مراد جنتیں ہیں کیونکہ اللہ کی نعمتیں رزق کریم ہیں۔ رہے وہ لوگ جنہوں نے اللہ کی آیات کو نیچا دکھانے کی مساعی کیں اور تحریک اسلامی کے خلاف پوری قوت لگا دی ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔ رجز نہایت ہی برے عذاب کو کہا جاتا ہے۔ یہ اس لئے کہ انہوں نے تحریک اسلامی کی خلاف سرگرمیاں دکھائیں ، تحریک کو ناکام کرنے کی سعی کی اور بری راہ پر جدوجہد کرتے رہے۔ یوں اللہ کی حکمت اور اس کا منصوبہ مکمل ہوتا ہے اور ان لوگوں نے جو نظریہ اپنا رکھا ہے کہ آخرت برپا نہ ہوگی اسکی وجہ ان کی لاعلمی ہے۔ حالانکہ اہل علم جانتے ہیں کہ یہ ضرور آئے گی ان لوگوں نے یقین کرلیا تھا کہ قیامت نہ آئے گی جبکہ وہ اللہ کے مخصوص غیوب میں سے ایک غیب ہے اور اللہ نے فیصلہ دے دیا کہ وہ ضرور آئے گی۔ اللہ ہی عالم الغیب ہے۔ رسول اللہ ﷺ کو حکم دے دیا کہ آپ ﷺ اس پیغام کو نشر کردیں اور یہ کہ ان کا یہ عقیدہ جہالت پر مبنی ہے۔ اہل علم بھی اس نتیجے تک پہنچے ہیں جس تک اہل ایمان پہنچے ہیں۔ یہی راستہ ہے اللہ عزیز وحمید کا۔
Ayah 34:6

وَ یَرَى الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ هُوَ الْحَقَّ١ۙ وَ یَهْدِیْۤ اِلٰى صِرَاطِ الْعَزِیْزِ الْحَمِیْدِ Open ayah 34:6 in the Quran reader

اے نبی ﷺ ، علم رکھنے والے خوب جانتے ہیں کہ جو کچھ تمہارے رب کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے وہ سراسر حق ہے اور خدائے عزیز وحمید کا راستہ دکھاتا ہے

ویری الذین اوتوا ۔۔۔۔۔ صراط العزیز الحمید (6) ” “۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ اہل العلم سے مراد اہل کتاب ہیں جن کو اپنی مذہبی کتابوں کی پیشن گوئیاں کی وجہ سے معلوم تھا کہ قرآن کتاب برحق ہے اور وہ صراط مستقیم کی طرف ہدایت کرنے والا ہے ، لیکن آیت کا دائرہ اطلاق اہل کتاب تک محدود نہیں ہے۔ اس سے مطلق اہل علم مراد ہیں۔ یہ آیت کسی زمان و مکان تک بھی محدود نہیں ہے۔ ہر زمانے کے اہل علم اس کے دائرے میں آتے ہیں۔ ہر زمانے ، ہر نسل اور ہر قسم کے اہل علم مراد ہیں۔ بشرطیکہ ان کا علم صحیح علم ہو۔ اس لیے کہ قرآن کریم تو تمام زمانوں کے لیے کھلی کتاب ہے۔ اس کے اندر جو سچائی ہے وہ ہر زمانے اور علاقے کے اہل علم کے لیے سچائی ہے۔ یہ کتاب اسی سچائی پر مشتمل ہے جو اس کائنات کی تہہ میں ہے۔ اس لیے قرآن کریم اس کائناتی سچائی کا بہترین اور سچا ترجمہ ہے۔ ویھدی الی صراط العزیز الحمید (34: 6) ” اور خدائے عزیز وحمید کا راستہ دکھاتا ہے “۔ اللہ عزیز وحمید کا راستہ وہی ہے جو اللہ نے اس کائنات کے لیے اختیار کیا ہے اور وہی راستہ اللہ نے انسان کے لیے بھی اختیار کیا ہے تاکہ انسانی رفتار کے ساتھ ہم آہنگ ہو جو اس کائنات کے لیے ہے جس میں انسان رہتا ہے۔ یہ راستہ قانون قدرت ہے اور ناموس فطرت کا راستہ ہے جس کے مطابق یہ کائنات چلتی اور جس کے مطابق خود یہ زندگی چلتی ہے کیونکہ خود انسانی زندگی اپنے نظام اور اپنی رفتار کے مطابق اس کائنات سے علیحدہ نہیں ہے۔ نہ ان تمام چیزوں سے علیحدہ ہے جو اس کائنات میں ہیں۔ وہ اللہ عزیز وحمید کی راہ کی طرف راہنمائی کرتا ہے ، یوں کہ وہ مومنین کی قوت مدرکہ کے اندر اس کائنات کا متناسب تصور پیدا کرتا ہے ، اور پھر اس کائنات کے ساتھ مومنین کے تعلقات ، روابط اور اقدار کا ایک تصور پیدا کرتا ہے کہ اس کائنات کے اندر انسان کا مقام کیا ہے۔ اس کے اندر انسان کا کردار کیا ہے ، انسان اور اس کے گرد پھیلی ہوئی کائنات مل کر کس طرح اللہ کی حکمت تخلیق کو بروئے کار لاسکتے ہیں اور انسان اور یہ کائنات باہم مل کر کس طرح اللہ طرح اللہ جل شانہ کی سمت کی طرف سفر کرسکتے ہیں یہ سچائی انسان کو عزیز وحمید کے راستے کی طرف ہدایت کرتی ہے ۔ یوں کہ وہ انسان کو ایک منہاج فکر دیتی ہے۔ اس فکر کو نہایت ہی مضبوط بنیادوں پر اٹھاتی ہے اور یہ کائناتی اثرات فطرت انسانی پر اثر انداز ہوکر اسے اس کائنات کا بہترین ادراک عطا کرتے ہیں۔ انسان اس کائنات کے خواص اور قوانین کو سمجھتا ہے اور ان سے استفادہ کرتا ہے۔ پھر وہ کائناتی حقائق کے ساتھ ٹکرانے کے بجائے ان کے ساتھ ہم آہنگ ہوجاتا ہے۔ یہ سچائی انسان کو اللہ عزیز وحمید کی راہ یوں دکھاتی ہے کہ ایک فرد کی تربیت کرکے اسے ایک سوسائٹی کے ساتھ ہم آہنگی کے ساتھ چلانا سکھائی ہے۔ پھر یہ ایک سوسائٹی کو دوسری سوسائٹیوں کے ساتھ ہم آہنگ کرکے اس پوری کائنات کی تعمیر اور ترقی کے لیے ہم آہنگ کرتی ہے۔ اور تمام سوسائٹیوں کو اس کائنات کے ساتھ ہم قدم کرتی ہے تاکہ یہ کائنات اور اس کے اندر انسانی سوسائٹیاں بڑی سہولت کے ساتھ چل سکیں۔ یہ سچائی اللہ عزیز وحمید کی راہ کی طرف یوں بھی ہدایت کرتی ہے کہ وہ انسان اور انسانی سوسائٹی کو ایسے قوانین عطا کرتی ہے جو فطرت انسانی سے ہم آہنگ ہوں۔ انسانی زندگی کے حالات اور انسانی معیثت کے بارے میں ایسی ہدایات دیتی ہے کہ انسان تمام زندہ مخلوقات کے ساتھ ہم آہنگ ہو کر چلے ۔ یہ نہ ہو کہ انسانی نظام اس کائنات اور اس کے اندر موجود دوسرے حیوانات کے نظام کے ساتھ متضاد ہو۔ حالانکہ انسان بھی اس کرہ ارض کی دوسری مخلوقات اور امم میں سے ایک امت ہے۔ غرض یہ کتاب اور یہ سچائی راہنما ہے ، سیدھی راہ کی طرف اور یہ راہنما بھی اللہ کا راسال کردہ ہے اور یہ راستہ بھی اسی کا پیدا کردہ ہے ۔ اگر آپ نے کسی سڑک پر چلنا ہے اور آپ کو راہنمائی کیلئے وہی انجینئر مل جائے جس نے اس راستے کا نقشہ بنایا تھا تو آپ جیسا خوش قسمت اور کون ہے اور آپ کس خوش اسلوبی اور بےفکری سے یہ سفر طے کرسکیں گے۔ یقیناً بہت اطمینان کے ساتھ ! اس حساس تبصرے کے بعد اب دوبارہ بات شروع ہوتی ہے بعث بعد الموت کے موضوع پر ، تعجب کیا جاتا ہے کہ یہ لوگ بعث بعد الموت پر کس قدر بےت کے اعتراضات کرتے ہیں ۔ وہ اپنی جانب سے حضور ﷺ پر تعجب کرتے ہیں کہ آپ ایسی انہونی باتیں کرتے ہیں ، یا اللہ پر افتراء باندھتے ہیں حالانکہ خود ان کی تعجب انگیزی احمقانہ ہے۔
Ayahs 34:7–8

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا هَلْ نَدُلُّكُمْ عَلٰى رَجُلٍ یُّنَبِّئُكُمْ اِذَا مُزِّقْتُمْ كُلَّ مُمَزَّقٍ١ۙ اِنَّكُمْ لَفِیْ خَلْقٍ جَدِیْدٍۚ Open ayah 34:7 in the Quran reader

منکرین لوگوں سے کہتے ہیں ” ہم بتائیں تمہیں ایسا شخص جو خبر دیتا ہے کہ جب تمہارے جسم کا ذرہ ذرہ منتشر ہوچکا ہوگا اس وقت تم نئے سرے سے پیدا کر دئیے جاؤ گے ؟

اَفْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَمْ بِهٖ جِنَّةٌ١ؕ بَلِ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ فِی الْعَذَابِ وَ الضَّلٰلِ الْبَعِیْدِ Open ayah 34:8 in the Quran reader

نہ معلوم یہ شخص اللہ کے نام سے جھوٹ گھڑتا ہے یا اسے جنون لاحق ہے “۔ نہیں ، بلکہ جو لوگ آخرت کو نہیں مانتے وہ عذاب میں مبتلا ہونے والے ہیں اور وہی بری طرح بہکے ہوئے ہیں

وقال الذین کفروا۔۔۔۔۔۔ والضلل البعید (7 – 8) یہ لوگ قیام قیامت کو اس قدر عجیب سمجھتے تھے۔ یہ لوگ قیامت کے قائل کو قابل تعجب یا مجنون یا چھوٹا سمجھتے تھے۔ ذرا انداز گفتگو کو دیکھو “ بتائیں تمہیں ایسا شخص جو کہتا ہے کہ جن تمہارے جسم کا ذرہ ذرہ منتشر ہوجائے گا اس وقت تم نئے سرے سے پیدا کر دئیے جاؤ گے “۔ یہ ایک عجیب و غریب شخص پیدا ہوگیا ہے جو اس قسم کی انہونی باتیں کرتا ہے کہ مرنے کے بعد ، مٹی کے ذرات بن جانے کے بعد کے بعد اور مٹی میں رل مل جانے کے بعد تمہیں دوبارہ زندہ کردیا جائے گا۔ یہ لوگ مزید تعجب کرتے ہیں اور نہایت ہی انوکھا سمجھتے ہوئے یہ پروپیگنڈا کرتے ہیں کہ یا تو یہ اللہ کے نام سے افتراء باندھتا ہے اور یا پھر یہ شخص مجنون ہے۔ کیونکہ ان کے زعم کے مطابق اس قسم کی باتیں یا تو جھوٹا شخص کرسکتا ہے یا مجنوں کرسکتا ہے۔ اگر مجنون ہے تو یہ کلام ہذیان ہے اور اگر جھوٹا ہے تو یہ تعجب خیز ہے۔ وہ یہ باتیں کیوں کرتے ہیں ؟ اس لیے کہ حضرت محمد ﷺ یہ کہتے ہیں کہ تمہیں دوبارہ پیدا کیا جائے گا لیکن خود ان کی بات تعجب خیز ہے۔ کیا یہ لوگ پہلی بار پیدا نہیں کیے گئے ؟ انسان کی تخلیق کیا کوئی کم واقعہ ہے۔ پہلی بار ایسی تخلیق ؟ اگر یہ اسے تدبر اور غور سے دیکھیں تو کبھی بھی تعجب نہ کریں۔ لیکن یہ گمراہ ہیں اور ہدایت کی راہ نہیں لیتے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے اس تعجب پر ان کو سخت دھمکی دی جاتی ہے۔ بل الذین لا یومنون بالاخرۃ فی العذاب والضلل البعید (34: 8) ” بلکہ جو لوگ آخرت کو نہیں مانتے وہ خواب میں مبتلا ہونے والے ہیں اور وہی بری طرح بہکے ہوئے ہیں “۔ اس عذاب سے مراد عذاب آخرت بھی ہوسکتا ہے گویا وہ عذاب ان پر واقعہ ہوگیا ہے۔ چونکہ وہ گمراہی میں بہت دور تک چلے گئے ہیں اس لیے اب ان کے ہدایت پر آنے کی کوئی امید نہیں ہے۔ اس کے دوسرے معنی یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ یہ لوگ جس طرح عذاب الٰہی میں مبتلا ہیں اسی طرح گمراہ بھی ہیں۔ یہ بہت گہری حقیقت ہے اس لیے کہ جس شخص کا کوئی نظریہ نہیں ہوتا وہ نفسیاتی لحاظ سے سخت عذاب اور کشمکش میں ہوتا ہے۔ ایسے شخص کو دنیا کی بےانصافیوں میں نہ انصاف کی امید ہوتی ہے ، نہ عدل کی ، نہ جزائے آخرت کی اور نہ اخروی اجر کی۔ انسانی زندگی میں ایسے واقعات اور حوادث آتے ہیں کہ انسان انہیں صرف اجر اخروی کی خاطر ہی برداشت کرسکتا ہے اور یہ تسلی رکھتا ہے کہ نیکوکار کے لیے اجر حسن ہے اور بدکار کے لئے سزا ہے۔ کئی ایسی مشکلات ہوتی ہیں کہ انسان رضائے الٰہی اور جزائے اخروی کے لیے انہیں برداشت کرتا ہے کیونکہ آخرت میں چھوٹے سے چھوٹا عمل بھی ضائع نہیں ہوتا۔ اگر وہ ذرا برابر ہو اور کسی چٹان کے اندر ہو ، وہاں سے بھی اللہ اس مطلوب ذرے کو جو رائی کے دانے کے برابر ہو ، لے کر آتا ہے اور جو شخص اس تروتازہ اور فرحت بخش اور روشن چراغ سے محروم ہے وہ گویا دائمی عذاب میں ہے۔ اس دنیا میں بھی منکر آخرت ایک مسلسل عذاب میں گرفتار ہوتا ہے اور آخرت میں تو وہ اپنے اعمال کی جزا بہرحال پائے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ آخرت کا عقیدہ انسان کے لیے ایک رحمت ہے ، ایک عظیم نعمت ہے جس کے مستحق اللہ کے مخلص بندے ہوتے ہیں ، جو حق کے بارے میں سوچتے رہتے ہیں اور جن کی خواہش ہر وقت یہ ہوتی ہے کہ وہ راہ راست پر گامزن ہوں ۔ راجح بات یہی ہے کہ اس آیت میں اسی نکتے کی طرف اشارہ ہے کہ جو لوگ آخرت پر یقین نہیں رکھتے وہ گمراہی کے ساتھ ساتھ اس دنیا میں بھی ایک مصیبت میں گرفتار ہیں۔ ان مکذبین کو اب ایک سخت دھمکی دی جاتی ہے کہ اگر اللہ چاہے تو ان کی اس گمراہی کی وجہ سے مزید عذاب دنیا ان پر نازل کر دے اور آسمان کا ایک ٹکڑا ان پر گرا دے یا ان کو اس ضلالت کی وجہ سے زمین کے اندر دھنسا دے۔ یہ اس نظام کائنات پر غور نہیں کرتے کہ یہ نظام تو کسی بھی وقت بگڑ سکتا ہے۔
Ayah 34:9

اَفَلَمْ یَرَوْا اِلٰى مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اِنْ نَّشَاْ نَخْسِفْ بِهِمُ الْاَرْضَ اَوْ نُسْقِطْ عَلَیْهِمْ كِسَفًا مِّنَ السَّمَآءِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّكُلِّ عَبْدٍ مُّنِیْبٍ۠ Open ayah 34:9 in the Quran reader

کیا انہوں نے کبھی اس آسمان و زمین کو نہیں دیکھا جو انہیں آگے اور پیچھے سے گھیرے ہوئے ہے ؟ ہم چاہیں تو انہیں زمین میں دھنسا دیں ، یا آسمان سے کچھ ٹکڑے ان پر گرا دیں۔ درحقیقت اس میں ایک نشانی ہے ہر اس بندے کے لیے جو خدا کی طرف رجوع کرنے والا ہو

افلم یروا الی ۔۔۔۔۔۔ لکل عبد منیب (9) ” “۔ یہ ایک سخت ڈراؤنا کائناتی منظر ہے۔ یہ منظر ان کے مشاہدات سے ماخوذ ہے جن کو وہ رات اور دن دیکھتے رہتے ہیں۔ زمین کا دھنس جانا بھی انسانی مشاہدہ ہے اور قصص اور روایات میں بھی آتا ہے۔ اسی طرح شہاب ثاقب کے گرنے اور بجلیوں کے گرنے سے بھی آسمانی چیزیں گرتی رہی ہیں۔ یہ سب چیزیں ان کو دیکھی سنی ہیں۔ اس قدر خوفناک حالات کی طرف ان کو متوجہ کرکے ڈرایا جاتا ہے جو قیام قیامت کا انکار کرتے ہیں۔ اگر قیام قیامت سے پہلے ہی اللہ ان کو عذاب دینا چاہئے تو یہ کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ اسی زمین اور اسی آسمان میں ان کو یہ عذاب دے دیا جائے جو ان کے آگے پیچھے ان کو گھیرے ہوئے ہے اور یہ ان سے دور بھی نہیں ہے جس طرح قیام قیامت انکو بعید نظر آتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے عذاب سے تو غافل لوگ ہی بےفکر ہوتے ہیں یہ آسمانوں کے اندر جو عملیات وہ دیکھتے ہیں ، بجلیاں اور شہاب ثاقب اور زمین کا دھنس جانا اور زلزلے۔ کسی وقت بھی ان میں سے کوئی عذاب اگر آجائے تو قیامت ہی ہوگی۔ ان فی ذلک لایۃ لکل عبد منیب (34: 9) ” حقیقت یہ ہے کہ اس میں نشانی ہے ہر اس بندے کے لیے جو خدا کی طرف رجوع کرنے والا ہو “۔ اور جو غلط راہ پر اس قدر دور نہ چلا گیا ہو۔
Ayah 34:10

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ مِنَّا فَضْلًا١ؕ یٰجِبَالُ اَوِّبِیْ مَعَهٗ وَ الطَّیْرَ١ۚ وَ اَلَنَّا لَهُ الْحَدِیْدَۙ Open ayah 34:10 in the Quran reader

ہم نے داؤد کو اپنے ہاں سے بڑا فضل عطا کیا تھا۔ (ہم نے حکم دیا کہ) اے پہاڑو ، اس کے ساتھ ہم آہنگی کرو۔ (اور یہی حکم ہم نے) پرندوں کو دیا۔ ہم نے لوہے کو اس کے لئے نرم کر دیا

درس نمبر 195 ایک نظر میں اس سبق میں شکر اور سرکشی کی دو صورتیں پیش کی گئی ہیں اور یہ مثال بھی دی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے خاص بندوں کیلئے ایسی قوتیں مسخر کردیتے ہیں جو عموماً لوگوں کے لئے مسخر نہیں کی جاتیں۔ لیکن اللہ کی مشیت اور اللہ کی تقدیر کو لوگوں کی عادات کے تابع نہیں کیا جاسکتا۔ ان نقوش کے درمیان جنوں کی حقیقت بھی سامنے آتی ہے جن کو پوجا بعض عرب کیا کرتے تھے یا ان سے یہ عرب قبائل غیب کی خبریں طلب کرتے تھے جبکہ یہ جنات بذات خود غیب کی خبروں سے محروم ہوتے ہیں۔ اس سبق میں گمراہی کے وہ اسباب بھی بیان کیے گئے ہیں جن کے ذریعے شیطان لوگوں کو گمراہ کرتا ہے۔ لیکن یہ اسباب انسان کے دائرہ اختیار کے اندر ہیں۔ اس میں یہ بھی بتایا گیا کہ لوگوں کے جو اعمال پوشیدہ ہوتے ہیں اللہ ان کو ظاہر فرماتے ہیں اور اس سبق کا خاتمہ بھی سابقہ سبق کی طرح ذکر آخرت پر ہوتا ہے۔ درس نمبر 195 تشریح آیات 10 ۔۔۔ تا ۔۔۔ 21 لقد اتینا داؤد منا ۔۔۔۔۔ انی بما تعملون بصیر (10 – 11) ” ۔ اس ہدایت کے ساتھ کہ زرہیں بنا اور ان کے حلقے ٹھیک اندازے پر رکھ۔ (اے آل داؤد) نیک عمل کرو ، جو کچھ تم کرتے ہو ، اس کو میں دیکھ رہا ہوں “۔ حضرت داؤد اللہ کے مطیع فرمان بندے تھے۔ گزشتہ سبق کا خاتمہ اس ذکر سے ہوا تھا۔ ان فی ذالک لایۃ لکل عبد منیب ” اس میں نشانی ہے ہر اس بندے کے لیے جو اللہ کی طرف رجوع کرنے والا ہے “۔ اس اشارہ کے بعد حضرت داؤد کا قصہ لایا گیا اور اس کا آغاز اس بات سے کیا گیا جو بطور فضیلت ان کو دی گئی۔ یجبال اوبی معہ والطیر (34: 10) ” اے پہاڑو ، اس کے ساتھ ہم آہنگی کرو اور اے میرے پرندو تم بھی “۔ روایات میں آتا ہے کہ حضرت داؤد (علیہ السلام) کو بہت ہی خوبصورت آواز دی گئی تھی۔ یہ آواز اپنی خوبصورتی میں ایک معجزانہ آواز تھی۔ وہ اپنے ترانے نہایت خوش الحانی سے گاتے تھے۔ یہ ترانے اللہ کی حمد پر مشتمل ہوتے تھے۔ ان میں سے بعض قدیم میں موجود ہیں اگرچہ ہم ان کی صحت کے بارے کچھ نہیں کہہ سکتے۔ حدیث میں آتا ہے کہ حضور ﷺ نے حضرت ابو موسیٰ اشعری کی آواز سنی جو رات کو قرآن پڑھتے تھے ، آپ کھڑے ہو کر سننے لگے تو آپ نے فرمایا کہ ” ان کو ایسی خوشی الحانی دی گئی ہے جس طرح حضرت داؤد (علیہ السلام) کو دی گئی تھی “۔ اس آیت میں حضرت داؤد (علیہ السلام) پر اللہ کے فضل و کرم کا جو نقشہ کھینچا گیا ہے وہ اس قدر شفاف ہے کہ ان کی حمد و ثنا کے نتیجے میں ان کے اور اس کائنات کے درمیان پر دے اٹھ گئے تھے۔ ان کی حقیقت ، حقیقت کائنات کے ساتھ ہم آہنگ ہوگئی تھی۔ اور جس طرح وہ رب تعالیٰ کی حمد گاتے تھے۔ اس طرح کہ ان کے وجود اور کائنات کی حقیقت کے درمیان فاصلے مٹ گئے تھے۔ یہ کائنات بھی اللہ کی حدی خواں تھی اور حضرت داؤد بھی۔ یوں اللہ کی مخلوقات کی دو اقسام کے درمیان فاصلے مٹ گئے اور دنوں مخلوقات الٰہی حقیقت کے ساتھ مربوط ہوگئیں جس نے ان کے درمیان یہ پردے قائم کر رکھے تھے۔ دونوں اللہ کی تسبیح اور حمد گانے لگیں اور دونوں کا نغمہ ایک ہوگیا۔ یہ اشترا ، صفائی اور خلوص کا ایک درجہ ہے اور اس مقام اور درجے تک اللہ کے فضل و کرم کے سوا کوئی نہیں پہنچ سکتا۔ جب حقیقت نوعیہ کے پردے اٹھ جائیں تو اللہ کی مخلوق ایک رہ جاتی ہے اور تمام حائل پردے اٹھ جاتے ہیں ۔ کوئی رکاوٹ نہیں رہتی۔ جب حضرت داؤد (علیہ السلام) اللہ کی حمد و ثنا گاتے تو پہاڑ اور پرندے ان کے ساتھ گائے۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) کی شخصیت میں جو ترنم تھا ، وہ پوری کائنات میں سرایت کرجاتا اور یوں پوری کائنات خالق کی طرف متوجہ ہو کر حمد گاتی۔ یہ وہ ۔۔۔۔ ہوتے ہیں جن کا ذوق انہیں لوگوں کو ہوتا ہے جو ان تجربات سے گزرے ہوں اور جن لوگوں نے اپنی زندگی میں ایسے لمحات پائے ہوں۔ والنالہ الحدید (34: 10) ” ہم نے لوہے کو اس کے لیے نرم کردیا “۔ یہ اللہ کے فضل و کرم کا ایک دوسرا رنگ تھا جو حضرت داؤد (علیہ السلام) پر ہوا تھا۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) پر انعامات کا جس طرح یہاں بیان ہو رہا ہے ، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کوئی خارق العادت عمل تھا۔ معاملہ یہ نہ تھا جس طرح بھٹیوں میں لوہے کو گرم کرکے ان کو پگھلاتے ہیں اور پھر ڈھلائی کا کام کرتے ہیں۔ یہ دراصل ایک معجزانہ عمل تھا اور حضرت داؤد (علیہ السلام) کی نبوت پر ایک دلیل تھا اور سیاق کلام سے یہی بات معلوم ہوتی ہے کیونکہ یہاں مخصوص فضل و کرم کا ذکر ہو رہا ہے۔ یہ کوئی معمولی اور عادی ٹیکنالوجی نہ تھی۔
Ayah 34:11

اَنِ اعْمَلْ سٰبِغٰتٍ وَّ قَدِّرْ فِی السَّرْدِ وَ اعْمَلُوْا صَالِحًا١ؕ اِنِّیْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 34:11 in the Quran reader

اس ہدایت کے ساتھ کہ زر ہیں بنا اور اس کے حلقے ٹھیک اندازے سے رکھ اے آل داؤد نیک عمل کرو ، جو کچھ تم کرتے ہو ، میں دیکھ رہا ہوں

ان اعمل سبغت وقدر فی السرد (34: 11) ” “۔ سابغات معنی زر ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ حضرت داؤد (علیہ السلام) سے قبل تختیاں بنائی جاتی تھی اور تختیوں کی زر ہیں جسم کے لیے ثقیل ہوتی تھیں اور جسم کو زخمی کردیتی تھیں۔ اللہ نے حضرت داؤد (علیہ السلام) کو یہ امر سکھایا کہ آپ گرم تاروں سے ان کو بنائیں تاکہ وہ نرم ہوں اور کپڑے کی طرح جسم ان کے اندر حرکت کرسکے۔ حکم دیا کہ اس زرہ کے حلقے تنگ کیے جائیں تاکہ اس کے اندر سے تیر نہ جائیں اور حلقے سب کے سب ایک اندازے سے بنائے جائیں اور یہ تمام کام اللہ کی جانب سے الہامی طور پر ہوا۔ ان کو مزید ہدایات یوں دی گئیں : واعملوا صالحا انی بما تعملون بصیر (34: 11) ” “۔ اس ذرہ سازی کے کام ہی میں نہیں ، بلکہ ہر کام میں اعمال صالحہ کرو ، ہر معاملے میں اللہ کو حاضر سمجھو۔ اور یہ یقین رکھو کہ اللہ جزاء دینے والا ہے۔ اس سے کوئی چیز رہ نہ جائے گی۔ وہ ہر چیز کو دیکھنے والا ہے۔ یہ تو تھا حضرت داؤد (علیہ السلام) کا معاملہ۔ رہے حضرت سلیمان تو ان پر بھی بہت ہی بڑا فضل وکرم ہوا تھا۔
Ayah 34:12

وَ لِسُلَیْمٰنَ الرِّیْحَ غُدُوُّهَا شَهْرٌ وَّ رَوَاحُهَا شَهْرٌ١ۚ وَ اَسَلْنَا لَهٗ عَیْنَ الْقِطْرِ١ؕ وَ مِنَ الْجِنِّ مَنْ یَّعْمَلُ بَیْنَ یَدَیْهِ بِاِذْنِ رَبِّهٖ١ؕ وَ مَنْ یَّزِغْ مِنْهُمْ عَنْ اَمْرِنَا نُذِقْهُ مِنْ عَذَابِ السَّعِیْرِ Open ayah 34:12 in the Quran reader

اور سلیمان کے لیے ہم نے ہوا کو مسخر کردیا ، صبح کے وقت اس کا چلنا ایک مہینے کی راہ تک اور شام کے وقت اس کا چلنا ایک مہینے کی راہ تک۔ ہم نے اس کے لئے پگھلے ہوئے تانبے کا چشمہ بہا دیا اور ایسے جن اس کے تابع کر دئیے جن ان کے تابع کر دئیے جو اپنے رب کے حکم سے اس کے آگے کام کرتے تھے ان میں سے جو ہمارے حکم سے سرتابی کرتا اس کو ہم بھڑکتی ہوئی آگ کا مزہ چکھاتے

ولسلیمن الریح غدوھا شھر۔۔۔۔۔۔ وقلیل من عبادی الشکور (12 – 13) ” اس کے لیے بناتے تھے جو کچھ وہ چاہتا ، اونچی عمارتیں ، تصویریں ، بڑے بڑے خوض جیسے لگن اور اپنی جگہ سے نہ ہٹنے والی بھاری دیگیں۔ اے آل داؤد ، عمل کرو شکر کے طریقے پر ، میرے بندوں میں کم ہی شکر گزار ہیں۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے لیے ہوا کو مسخر کردیا گیا تھا ، اس کے بارے میں بہت سی روایات وارد ہیں۔ ان روایات پر اسرائیلیات کا رنگ غالب ہے۔ اگرچہ یہودی کتابوں میں ان کا تذکرہ نہیں ہے۔ ان روایات میں پڑنے سے بچنا ہی بہتر ہے۔ آیت میں جو کچھ آیا ہے کہ اللہ نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے لیے ہوا کو مسخر کردیا تھا اور یہ ہوا صبح کے وقت ایک علاقے کی طرف چلتی تھی ۔ ( سورة انبیاء میں ہے کہ یہ ارض مقدس کی طرف چلتی تھی) اور ایک مہینے کا فاصل طے کرتی تھی اور شام کے وقت وہ دوسرے علاقے کی طرف چلتی اور مسافت ایک مدد کا فاصلہ ہوتا ۔ دونوں سے حضرت سلیمان اپنے مفادات لیتے اور اللہ کے حکم سے استفادہ کرتے۔ اس کی تفصیلات کیا ہیں۔ وہ ہمیں معلوم نہیں۔ اور بلا تحقیق انسانوں کے پیچھے پڑنے کی ضرورت بھی نہیں ہے۔ واسلنا لہ عین القطر (34: 12) ” ہم نے اس کے لیے پگھلے ہوئے تانبے کا ایک چشمہ بہا دیا تھا “ قطر نحاس یعنی تانبے کو کہتے ہیں۔ سیاق کلام سے یہاں بھی معلوم ہوتا ہے کہ لوہے کو نرم کرنے کی طرح ، تانبے کا چشمہ بھی کوئی معجزانہ عمل تھا۔ یوں ہوسکتا ہے کہ اللہ نے آتش فشانی کے عمل کی طرح ان کے لیے تانبے کا چشمہ بہا دیا ہو یا یوں کہ اللہ نے ان کو بطور الہام تانبا پگھلانا سکھا دیا ہو۔ یہ بھی اللہ کی طرف سے فضل عظیم تھا۔ ومن الجن من یعمل بین یدیہ باذن ربہ (34: 12) ” “۔ اللہ نے معجزانہ طور پر جن ان کے تابع کر دئیے تھے اور وہ ان کی مملکت میں معجزانہ ڈیوٹیاں دیتے تھے۔ عربی میں ان تمام مخفی قوتوں کو جن کہا جاتا ہے جو نظر نہیں آتیں۔ یہ ایک مخلوق ہے جس پر اللہ نے جن کے لفظ کا اطلاق کیا ہے ہم اس مخلوق کے بارے میں وہی کچھ جانتے ہیں جو اللہ نے بتایا ہے اس سے زیادہ نہیں۔ یہاں اللہ نے صرف یہی کہا ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے لیے ان کا ایک گروہ مسخر کردیا گیا تھا جو آپ کے تحت کام کرتا تھا اور ان میں سے جو بھی بھاگ جاتا اسے اللہ سخت سزا دیتے تھے۔ ومن یزغ ۔۔۔۔۔ عذاب السعیر (34: 12) ” “۔ جنوں کی تسخیر کی بات ختم ہونے سے قبل ہی یہ تبصرہ کیا گیا کہ جن اللہ کے اس طرح قبضے میں ہیں کہ اگر نافرمانی کریں تو اللہ انہیں آگ میں ڈال دے۔ چونکہ بعض مشرکین جنوں کی پوجا کرتے تھے اس لیے یہاں ان کی اس بےبسی کو بیان کیا گیا کہ مشرکین کی طرح ان کے معبود بھی نار جہنم میں جائیں گے بوجہ نافرمانی کے۔ جن حضرت سلیمان کیلئے یوں مسخر تھے
Ayah 34:13

یَعْمَلُوْنَ لَهٗ مَا یَشَآءُ مِنْ مَّحَارِیْبَ وَ تَمَاثِیْلَ وَ جِفَانٍ كَالْجَوَابِ وَ قُدُوْرٍ رّٰسِیٰتٍ١ؕ اِعْمَلُوْۤا اٰلَ دَاوٗدَ شُكْرًا١ؕ وَ قَلِیْلٌ مِّنْ عِبَادِیَ الشَّكُوْرُ Open ayah 34:13 in the Quran reader

وہ اس کے لیے بناتے تھے جو کچھ وہ چاہتا تھا۔ اونچی عمارات ، تصاویر ، بڑے بڑے حوض جیسے لگن اور اپنی جگہ سے نہ ہٹنے والی بڑی بڑی دیگیں اے آل داؤد عمل کرو شکر کے طریقے پر میرے بندوں میں سے کم ہی شکر گزار ہیں

یعملوان لہ ۔۔۔۔۔ وقدور رسیت (34: 13) ” “۔ محاریب تو ان جگہوں کو کہا جاتا ہے جہاں عبادت کی جاتی ہے۔ تماثیل تانبے اور لکڑی کی تصاویر کو کہتے ہیں۔ جوابی جابیہ کی جمع ہے وہ حوض جس میں پانی آئے۔ جن حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے لیے ایسے بڑے لگن بناتے تھے جو حوضوں کی طرح تھے اور وہ ان کے لئے ایسے بڑے دیگ بناتے تھے جو اپنی بڑائی کی وجہ سے جڑے رہتے تھے۔ یہ تمام خدمات وہ ہیں جن پر جنات مامور تھے۔ یہ تمام امور اس وقت خارق عادت تھے اس لیے ان کی یہی تفسیر درست ہے۔ اگر ان کو معمولی بنا دیا جائے تو یہ فضل نہیں رہتا۔ اب آل داؤد کو مخاطب کرکے ہدایت دی جاتی ہے۔ اعملوا آل داؤد شکرا (34: 13) ” “۔ ہم نے تمہارے لیے یہ فضل و کرم حضرت داؤد اور حضرت سلیمان کی شکل میں فراہم کردیا ہے ، لہٰذا اے آل داؤد تم شکر کا طریقہ اختیار کرو۔ فخر و مباہات کا طریقہ نہ اپناؤ اور عمل صالح کا طریقہ اپناؤ۔ وقلیل من عبادی الشکور (34: 13) ” “۔ یہ ایک ایسا تبصرہ ہے جو حقیقت نفس الامری قارئین کے سامنے رکھتا ہے اور یہ قرآن کریم کے تمام قصوں پر آتا ہے۔ بتانا یہ مقصود ہے کہ اللہ کا فضل و کرم انسانوں پر اس قدر زیادہ ہے کہ کم انسان شکر ادا کرسکتے ہیں اور بشر ہمیشہ شکر الٰہی کی بجا آوری میں قاصر ہی رہتے ہیں۔ وہ جس قدر زیادہ شکر بھی ادا کریں پھر بھی قاصر رہتے ہیں لیکن اگر وہ بالکل شکر ہی نہ کریں تو ان کا قصور بہت زیادہ ہوگا اور اگر سرکشی کریں تو۔۔۔۔۔ اللہ کے بندے نہایت ہی محدود قوت کے مالک ہیں اور ان کے بس میں نہیں ہے کہ وہ اللہ کی لامحدود نعمتوں پر شکر بجا لاسکیں۔ اگر اللہ کی نعمتوں کو کوئی گنے تو گن ہی نہ سکے ، یہ نعمتیں گو انسان کو اوپر سے ڈھانپ رہی ہے ، پاؤں کے نیچے سے انسان ان میں غرق ہے ، دائیں بائیں اور آگے پیچھے سے انسان ان سے لطف اندوز ہو رہا ہے۔ اس کی ذات ان میں ڈوبی ہوئی ہے۔ خود انشان انعامات الہیہ کا ایک نمونہ ہے۔ ایک بار ہم بیٹھے ہوئے ایک دوسرے کے ساتھ نہایت ہی دلچسپی کے ساتھ ہمکلام تھے۔ ہر قسم کی باتیں ہو رہی تھیں۔ اچانک چھوٹی بلی سو سو نمودار ہوئی۔ یہ ہمارے اردگرد گھوم رہی تھی گویا کوئی چیز تلاش کر رہی ہے لیکن وہ بلی زبان سے کچھ کہنے پر قادر نہ تھی۔ اچانک اللہ نے ہمارے دل میں ڈال دیا کہ شاید یہ پیاسی ہے۔ جب ہم نے پانی فراہم کیا تو معلوم ہوا کہ وہ پیاسی تھی ، اسے شدید پیاس لگی ہوئی تھی لیکن وہ زبان سے کچھ کہہ نہ سکتی تھی۔ اس وقت ہمیں معلوم ہوا کہ انسان پر اللہ کے فضل و کرم سے ایک بڑا فضل و کرم زبان بھی ہے جس کا شکر ادا کرنا انسان کے لئے ممکن نہیں ہے۔ ایک طویل عرصے تک ہم نے سورج نہ دیکھا تھا۔ سورج کی شعاعیں صرف ایک پیسے کے برابر ہم پر چمکتی تھیں ہم اس کے سامنے کھڑے ہوجاتے اور اپنے منہ ، ہاتھ اور چہرے اس سورج کے سامنے لاتے ” سر “ پیٹھ اور پاؤں کو اس سورج کی شعاعوں کی ٹکیا سے غسل دیتے۔ اور ہم سب یہ عمل باری باری کرتے۔ یہ ایک نعمت تھی جو ہمیں مل رہی تھی اور جب پہلے دن ہم سورج میں نکلے تو میں وہ خوشی بھول نہیں سکتا۔ اس وقت ہر ایک کے چہرے پر جو مسرت تھی اسکا تصور بھی کوئی نہیں کرسکتا۔ ہر ایک اللہ کا گہرا شکر ادا کر رہا تھا اور کہہ رہا تھا ، الحمد للہ یہ ہے سورج اور یہ تو ہمیشہ ہی چمکتا رہتا ہے۔ روزانہ یہ شعاعیں کس قدر پھیلتی ہیں اور ہم ان سے گرمی حاصل کرتے ہیں۔ اور ان شعاعوں میں غسل کرتے ہیں۔ یوں ہم اللہ کی پاکی بیان کرتے ہیں اور اللہ کی نعمت میں غرق رہتے ہیں۔ ذرا سوچئے کہ ہم اس عظیم فیض الٰہی سے کس قدر فائدہ اٹھاتے ہیں جو مفت اور بلا حساب ہمیں فراہم کردیا گیا ہے بغیر مشقت اور بغیر کسی تکلیف کے۔ اگر ہم اسی طرز پر اللہ کی نعمتوں کو پیش کرتے رہیں تو ہماری عمر ختم ہوجائے ، ہماری پوری قوت صرف ہوجائے لیکن پھر بھی ہم ان نعمتوں میں سے کسی معتدبہ حصے کا شمار نہ کرسکیں۔ لہٰذا ہم بھی یہاں اسی مجمل اشارے پر اکتفاء کرتے جو قرآن نے کیا ہے تاکہ آگے اہل فکر و تدبر خود ہی سوچ لیں اور وہ جس قدر اللہ چاہے اس سے تاثر لیں۔ یہ تو ہے اللہ کی نعمتوں کا ایک حصہ اور وہی شخص ان کو پاسکتا ہے جو نہایت ہی توجہ ، خلوص اور یکسوئی کے ساتھ اس طرف متوجہ ہو۔ اب ہم قرآنی قصے کی آخری آیات کی طرف آتے ہیں۔ یہ آخری منظر کا حصہ ہیں۔ حضرت سلیمان وفات پا جاتے ہیں اور جنات ان احکام کی تعمیل میں لگے ہوئے تھے جو انہوں نے اپنی زندگی کے دوران دئیے تھے۔ جنات کو معلوم نہیں ہے کہ حضرت سلیمان تو فوت ہوچکے ہیں۔ حضرت سلیمان جنات کے سامنے عصا پر ٹیک لگائے کھڑے ہی تھے کہ گھن نے ان کے عصا کو کھالیا اور آپ گر گئے۔ تب جنوں کو معلوم ہوا کہ وہ اپنی لاعلمی کی وجہ سے اس مشقت میں مبتلا رہے۔
Ayah 34:14

فَلَمَّا قَضَیْنَا عَلَیْهِ الْمَوْتَ مَا دَلَّهُمْ عَلٰى مَوْتِهٖۤ اِلَّا دَآبَّةُ الْاَرْضِ تَاْكُلُ مِنْسَاَتَهٗ١ۚ فَلَمَّا خَرَّ تَبَیَّنَتِ الْجِنُّ اَنْ لَّوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ الْغَیْبَ مَا لَبِثُوْا فِی الْعَذَابِ الْمُهِیْنِؕ Open ayah 34:14 in the Quran reader

پھر جب سلیمان (علیہ السلام) پر ہم نے موت کا فیصلہ نافذ کیا تو جنوں کو اس کی موت کا پتہ دینے والی کوئی چیز اس گھن کے سوا نہ تھی جو اس کے عصا کو کھا رہا تھا۔ اس طرح جب سلیمان گر پڑا تو جنوں پر یہ بات کھل گئی کہ اگر وہ غیب کے جاننے والے ہوتے تو اس ذلت کے عذاب میں مبتلا نہ رہتے

فلما قضینا علیہ ۔۔۔۔۔ فی العذاب المھین (13) روایت میں آتا ہے کہ جب حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی موت کا وقت آگیا تو وہ عصا پر تکیہ کیے ہوئے تھے۔ جن اپنی اپنی ڈیوٹیاں سر انجام دے رہے تھے اور ان کے ذمہ بہت سے شدید فرائض تھے جو ان کو کرتے تھے۔ جنوں کو ایک عرصہ تک معلوم نہ ہوا کہ حضرت سلیمان فوت ہوگئے ہیں یہاں تک کہ گھن نے ان کے عصا کو چاٹ لیا۔ یہ کیڑا جہاں ہوتا ہے۔ چھت کے شہتیروں ، دروازوں ، ستونوں کو بری طرح کھا جاتا ہے۔ پورٹ سعید کے علاقے میں لوگ گھر بناتے ہیں اور اس گھن کے ڈر سے اس میں ایک لکڑی بھی نہیں لگاتے کہ یہ کیڑا ہر قسم کی لکڑی کو چاٹ جاتا ہے۔ جب اس نے عصا کو چاٹ لیا تو وہ حضرت سلیمان کو نہ سہار سکا اور آپ زمین پر گر پڑے۔ اس وقت جنوں کو معلوم ہوا کہ حضرت تو وفات پا چکے ہیں۔ یہاں آکر جنوں کو معلوم ہوا۔ تبینت الجن ۔۔۔۔۔۔ العذاب المھین (34: 14) ” یہ بات کھل گئی کہ اگر وہ غیب جاننے والے ہوتے تو اس ذلت کے عذاب میں مبتلا نہ رہتے “۔ یہ ہیں وہ جن جن کو عرب پوجتے ہیں اور ان کو اللہ نے اپنے بندوں میں سے ایک بندے کے تابع بنا دیا اور ان کو اپنے قریب کے غیب کا بھی علم نہ تھا۔ لیکن بعض لوگ اس قدر کم فہم ہیں کہ ان سے دور کی باتیں پوچھتے ہیں۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) کے گھرانے کا قصہ تو ان اہل ایمان کا قصہ تھا جو اللہ کے فضل و کرم کا بےحد شکر ادا کرنے والے تھے۔ اس کے بالمقابل قوم سبا کا قصہ ہے۔ سورة نمل میں حضرت سلیمان اور ملکہ سبا کے حالات گزر گئے ہیں۔ اب ان کا قصہ بعد کے ادوار سے متعلق ہے کیونکہ جن واقعات کا یہاں ذکر ہے وہ زمانہ مابعد سے متعلق ہیں۔ راجح بات یہ ہے کہ جب قوم سبا نے سرکشی اختیار کی تو اللہ نے ان سے اپنی نعمتیں چھین لیں اور اس کے بعد یہ لوگ اس علاقے سے منتشر ہوگئے۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے دور میں یہ لوگ ایک بہت بڑی ترقی یافتہ مملکت کے مالک تھے اور ان کے علاقے میں ہر طرف خوشحالی اور رفاہ عامہ کے کام تھے۔ کیونکہ ہدہد نے سلیمان (علیہ السلام) کے سامنے یہ رپورٹ پیش کی۔ انی وجدت امرۃ ۔۔۔۔۔ من دون اللہ ” میں نے دیکھا کہ ایک عورت ان کی ملکہ ہے اور اسے ہر چیز دی گئی ہے اور اس کا ایک عظیم تخت ہے۔ میں نے پایا کہ وہ اور اس کی قوم سورج کے پجاری ہیں ، اللہ کے سوا “۔ اس کے بعد پھر ملکہ سبا سلیمان (علیہ السلام) کے سامنے مسلمان ہو کر آجاتی ہے۔ لہٰذا یہاں کے جو واقعات ہیں وہ ملکہ سبا کے زمانہ کے بعد سے متعلق ہیں۔ یہ مصائب ان پر اس وقت آئے جب انہوں نے سرکشی اختیار کرلی ۔ اور اللہ کی ناشکری کی وجہ سے اللہ نے اپنے انعامات ان سے چھین لیے۔ قصے کا آغاز اس حالت کے بیان سے ہوتا ہے جس میں وہ تھے۔ اچھے دن ، فراوانی ، ترقی اور اللہ کی نعمتیں اور ہر طرح کی پیداوار جس کا تقاضا یہ تھا کہ وہ ان انعامات کے بدلے میں اللہ کا شکر ادا کرتے۔
Ayah 34:15

لَقَدْ كَانَ لِسَبَاٍ فِیْ مَسْكَنِهِمْ اٰیَةٌ١ۚ جَنَّتٰنِ عَنْ یَّمِیْنٍ وَّ شِمَالٍ١ؕ۬ كُلُوْا مِنْ رِّزْقِ رَبِّكُمْ وَ اشْكُرُوْا لَهٗ١ؕ بَلْدَةٌ طَیِّبَةٌ وَّ رَبٌّ غَفُوْرٌ Open ayah 34:15 in the Quran reader

سبا کے لیے ان کے اپنے مسکن ہی میں ایک نشانی موجود تھے ، دو باغ دائیں اور بائیں۔ کھاؤ اپنے رب کا رزق اور شکر بجا لاؤ اس کا ، ملک ہے عمدہ و پاکیزہ اور پروردگار ہے بخشش فرمانے والا

لقد کان لسبا۔۔۔۔۔ ورب غفور (15) سبا اس قوم کا نام ہے جو جنوب یمن میں رہتی تھی۔ ان کی زمین تروتازہ تھی۔ اس کا ایک حصہ آج بھی اسی حالت میں موجود ہے۔ یہ اس قدر ترقی یافتہ تھے کہ مشرق اور جنوب سے آنے والی بارشوں کے پانی کا انہوں نے ذخیرہ بنا لیا تھا۔ ایک ایسا ڈیم بنایا تھا جس کے دونوں جانب قدرتی پہاڑ تھے۔ پہاڑوں کے درمیان تنگ جگہ پر انہوں نے ڈیم بنا لیا تھا ، جس میں سے چشمے اور نہریں نکلتی تھیں۔ ان کا پانی وہ حسب ضرورت بند کرتے تھے اور کھولتے تھے۔ انہوں نے پانی کی بہت ہی بڑی مقدار کو جمع کرلیا تھا اور ذخیرے پر انہیں کنڑول حاصل تھا۔ چناچہ یہ ان کے لئے ایک وسیع ذریعہ آبپاشی تھا۔ اسے یہ لوگ سد مارب کہتے تھے۔ اس ڈیم کے دائیں اور بائیں جانب کی نہروں کے تحت باغات تھے۔ یعنی پورا علاقہ سرسبز اور شاداب تھا ، حسین و جمیل تھا اور یہ نشانی تھی ، رب کریم کی انعامات کی۔ ان کو حکم دیا گیا تھا کہ وہ رب غفور کا شکر ادا کریں ان نعمتوں پر۔ کلوا من رزق ربکم واشکروالہ (34: 15) ” کھاؤ اپنے رب کا رزق اور شکر بجا لاؤ اس کا “۔ ان کو یہ نصیحت کی گئی کہ اللہ کی نعمتوں پر غور کرو ، جس نے تمہیں یہ خوبصورت علاقہ دیا۔ اور اس میں ہر قسم کی پیداوار دی اور پھر تم سے جو تقصیرات سرزد ہوئیں وہ بھی معاف کی گئیں۔ بلدۃ طیبہ و رب غفور (34: 15) ” ملک عمدہ اور پروردگار بخشش کرنے والا “۔ زمین عمدہ ، پیداوار والی ، اور نعمتوں اور آسانیوں والی اور آسمانوں کی بادشاہت معاف کرنے والی۔ سوال یہ ہے کہ زمین ہر قدم کا پھل دینے والی ہے اور اللہ غفور الرحیم ہے تو پھر شکر ادا نہ کرنے اور اللہ کی حمد نہ کرنے کا جواز کیا ہے ؟ لیکن اس کے باوجود انہوں نے شکر ادا نہ کیا۔
Ayah 34:16

فَاَعْرَضُوْا فَاَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ سَیْلَ الْعَرِمِ وَ بَدَّلْنٰهُمْ بِجَنَّتَیْهِمْ جَنَّتَیْنِ ذَوَاتَیْ اُكُلٍ خَمْطٍ وَّ اَثْلٍ وَّ شَیْءٍ مِّنْ سِدْرٍ قَلِیْلٍ Open ayah 34:16 in the Quran reader

مگر وہ منہ موڑ گئے۔ آخر کار ہم نے ان پر بند توڑ سیلاب بھیج دیا اور ان کے پچھلے دو باغوں کی جگہ دو اور باغ انہیں دئیے جن میں کڑوے کسیلے پھل اور جھاؤ کے درخت تھے اور کچھ تھوڑی سی بیریاں

فاعرضوا فارسلنا ۔۔۔۔۔ من سدر قلیل (16) ” “۔ انہوں نے اللہ کے شکر بجالانے سے منہ موڑ لیا۔ نیک کام کرنا چھوڑ دیا۔ اللہ کے انعامات میں غلط تصرفات کرنا شروع کر دئیے۔ لہٰذا اللہ نے ان سے وہ خوشحالی چھین لی جس میں وہ زندگی بسر کررہے تھے۔ ان پر اس قدر شدید سیلاب بھیجا جو راستے میں آنے والے پتھروں کو بھی بہا کرلے جا رہا تھا۔ العرم کے معنی پتھر ہیں۔ یوں یہ ڈیم ٹوٹ گیا۔ پانی نے سیلاب کی شکل اختیار کرلی۔ یہ گاؤں اور باغات تباہ ہوگئے۔ اور ازسرنو پانیوں کے ذخیرہ کرنے کا انتظام ان سے نہ ہوسکا۔ اس لیے خوشحالی کی جگہ خشک سالی نے لی۔ زمین خشک ہوکر جل گئی اور سرسبز باغات بیرویوں کی جھاڑیون میں بدل گئے اور سرسبز زمین صحرا میں بدل گئی۔ وبدلنھم بجنتھم ۔۔۔۔۔ من سدر قلیل (34: 16) ” اور ان کے پچھلے دو باغوں کے بدلے دو اور باغ انہیں دئیے جن میں کڑوے کسیلے پھل اور جھاؤ کے درخت تھے اور کچھ تھوڑی سی بیریاں “۔ خمط اراک کے درخت کو کہتے ہیں۔ ہر خاردار درخت کو بھی خمط کہتے ہیں۔ اور اٹل ایک درخت ہے جو الفرفاء کے مماثل ہوتا ہے یعنی جھاؤ۔ اور سدر بیری کو کہتے ہیں اور یہ بیری جواب ان کے لیے بہترین پھل رہ گئی تھی یہ بھی قلیل مقدار میں تھی۔
Ayah 34:17

ذٰلِكَ جَزَیْنٰهُمْ بِمَا كَفَرُوْا١ؕ وَ هَلْ نُجٰزِیْۤ اِلَّا الْكَفُوْرَ Open ayah 34:17 in the Quran reader

یہ تھا ان کے کفر کا بدلہ جو ہم نے ان کو دیا ، اور ناشکرے انسان کے سوا ایسا بدلہ ہم اور کسی کو نہیں دیتے

ذلک جزینھم۔۔۔۔۔۔ الا الکفور (17) یعنی کفران نعمت کی وجہ سے ان کو یہ سزا دی گئی۔ لیکن ابھی تک یہ لوگ اپنی بستیوں ہی میں رہ رہے تھے اگرچہ اس سیلاب کی وجہ سے ان کے رزق کے ذرائع محدود ہوگئے تھے۔ خوشحالی اور سہولیات کے بدلے بدحالی اور مشکلات معیشت نے جگہ لے لی تھی۔ لیکن ابھی تک ان کو ٹکڑے ٹکڑے کرکے زمین کے اندر بکھیر نہ دیا گیا تھا۔ اور ان کی بستیوں اور برکت والی بستیوں مکہ مکرمہ اور بیت المقدس کے درمیان مواصلات کا سلسلہ باقی تھا۔ علاقہ سبا کے شمال میں یمن کا علاقہ بھی آباد تھا اور یمن مکہ اور مدینہ کے ذریعہ شام اور بیت المقدس سے جڑا ہوا تھا۔ یہ راہ مامون اور جاری تھی۔
Ayah 34:18

وَ جَعَلْنَا بَیْنَهُمْ وَ بَیْنَ الْقُرَى الَّتِیْ بٰرَكْنَا فِیْهَا قُرًى ظَاهِرَةً وَّ قَدَّرْنَا فِیْهَا السَّیْرَ١ؕ سِیْرُوْا فِیْهَا لَیَالِیَ وَ اَیَّامًا اٰمِنِیْنَ Open ayah 34:18 in the Quran reader

اور ہم نے ان کے اور ان بستیوں کے درمیان ، جن کو ہم نے برکت عطا کی تھی ، نمایاں بستیاں بسا دی تھی اور ان میں سفر کی مسافتیں ایک اندازے پر رکھ دی تھیں۔ چلو پھرو ان راستوں میں رات دن پورے امن کے ساتھ

وجعلنا بینھم ۔۔۔۔۔ وایاما امنین (18) ” “۔ یہ راستہ ایسا تھا کہ مسافر اور قافلے صبح نکلتے اور اندھیرا ہونے سے پہلے دوسرے شہر تک پہنچ جاتے۔ لہٰذا ان شہروں کے درمیان محدود فاصلے کا سفر ہوتا اور یہ راستہ مسافروں کے لیے نہایت ہی امن وامان کا اور محفوظ ہوتا تھا۔ روز کے سفر کے بعد مسافر آرام کرسکتے تھے اور ان کو جگہ جگہ سروسز کی سہولیات مل جاتی تھیں۔
Ayah 34:19

فَقَالُوْا رَبَّنَا بٰعِدْ بَیْنَ اَسْفَارِنَا وَ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فَجَعَلْنٰهُمْ اَحَادِیْثَ وَ مَزَّقْنٰهُمْ كُلَّ مُمَزَّقٍ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍ Open ayah 34:19 in the Quran reader

مگر انہوں نے کہا ” اے ہمارے رب ، ہمارے سفر کی مسافتیں لمبی کر دے انہوں نے اپنے اوپر آپ ظلم کیا آخر کار ہم نے انہیں افسانہ بنا کر رکھ دیا اور انہیں بالکل تتر بتر کر ڈالا یقیناً اس میں نشانیاں ہیں ہر اس شخص کے لیے جو بڑا صابر و شاکر ہو

فقالوا ربنا بعد ۔۔۔۔۔ لکل صبار شکور (19) “۔ انہوں نے خود مطالبہ کیا کہ اے اللہ ہمیں طویل المسافت سفر دے۔ ایسا سفر جو سالوں میں کیا جاسکے کیونکہ ان تھوڑے تھوڑے مختصر سفروں سے ہم تنگ آگئے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ انکے دماغ اور انکے نفوس فساد پذیر ہوگئے تھے وظلموا انفسھم (34: 19) ” “۔ انہوں نے یہ دعا کرکے اپنے اوپر ظلم کیا۔ اللہ نے بھی ان کی دعا قبول کرلی۔ یہ دعا دراصل سرکشی کی دعا تھی اور اللہ نے اسے بطور سزا قبول کرلیا۔ فجعلنھم احادیث ومزقنھم کل ممزق (34: 19) ” “۔ وہ خود خواہش کے مطابق اس ملک سے نکال دئیے گئے ، تتر بتر ہوگئے اور پورے جزیرۃ العرب میں پھیل گئے۔ ان کی تاریخ افسانہ بن گئی۔ صرف قصے رہ گئے قوم اور ملک ناپید ہوگیا۔ حالانکہ وہ ملک اور امت کے مالک تھے اور بہترین زندگی بسر کرتے تھے۔ ان فی ذلک لایت لکل صبار شکور (34: 19) ” “۔ شکر کے ساتھ یہاں صبر کا ذکر بھی کیا گیا ہے کیونکہ مشکلات میں صبر بڑا ہتھیار ہوتا ہے۔ نعمتوں میں شکر انسان کے لیے بہت ہی مفید رویہ ہوتا ہے اور قصہ قوم سبا میں دونوں کے لیے سبق ہے۔ یہ تو تھا آیت کا ایک مفہوم لیکن ایک دوسرا مفہوم بھی ہوسکتا ہے۔ اس آیت کا دوسرا مفہوم یہ ہے کہ۔ وجعلنا بینھم ۔۔۔۔۔ قری ظاھرۃ (34: 18) ” اور ہم نے ان بستیوں اور برکت والی بستیوں کے درمیان ایسی بستیاں پیدا کردیں جو قوت اور شوکت والی تھیں “۔ یعنی ان ہلاکت شدہ بستیوں اور مبارک بستیوں کے درمیان غالب بستیاں وجود میں آگئیں۔ جبکہ سبا کے لوگ فقراء بن گئے اور خشک صحراوی زندگی کی طرف لوٹ گئے۔ ان کو چراگاہوں اور پانیوں کی طرف رات دن سفر کرنا پڑتا۔ انہوں نے ان آزمائشوں پر صبر نہ کیا۔ اور یہ دعا کی سے رب باعد۔ بین اسفارنا (34: 19) ” ہمارے سفروں کو دور کر دے “۔ یعنی ہماری حالت پادندگی کو ختم کر دے۔ ہم تنگ آگئے۔ یہ دعا انہوں نے انابت اور اصلاح حال کے ساتھ نہ کی تھی اور وہ پوری طرح تائب نہ ہوئے تھے۔ اس لیے دعا قبول نہ ہوئی۔ انہوں نے خوشحالی کی وجہ سے سرکشی اختیار کی تھی اور مشکلات پر صبر نہ کیا تو اللہ نے ان کو ٹکڑے ٹکڑے کرکے رکھ دیا۔ یوں یہ لوگ افسانہ بن گئے جس کا کوئی مصداق روئے زمین پر نہ رہا۔ ان فی ذلک لایت لکل صبار شکور (34: 19) ” بیشک اس میں نشانیاں ہیں ہر اس شخص کے لیے جو صابر اور شاکر ہو “۔ چونکہ انہوں نے شکر نہ کیا تھا اور مشکلات میں صبر نہ کیا تھا۔ اس آیت کی یہ بھی ایک تفسیر ہے جو ذہن میں آتی ہے۔ اب آخر میں بات قصے کے محدود احاطے سے نکل کر اللہ کی عمومی تدبیر کے دائرے میں آتی ہے۔ اللہ کا نظام قضا وقدر جو نہایت ہی محکم ہے ، جو عام اور جو بطور سنت الہیہ اس کائنات میں جاری وساری ہے۔ قصے کا سبق یوں نچوڑا جاتا ہے۔
Ayahs 34:20–21

وَ لَقَدْ صَدَّقَ عَلَیْهِمْ اِبْلِیْسُ ظَنَّهٗ فَاتَّبَعُوْهُ اِلَّا فَرِیْقًا مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 34:20 in the Quran reader

ان کے معاملہ میں ابلیس نے اپنا گمان صحیح پایا اور انہوں نے اسی کی پیروی کی ، بجز ایک تھوڑے سے گروہ کے جو مومن تھا۔

وَ مَا كَانَ لَهٗ عَلَیْهِمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ اِلَّا لِنَعْلَمَ مَنْ یُّؤْمِنُ بِالْاٰخِرَةِ مِمَّنْ هُوَ مِنْهَا فِیْ شَكٍّ١ؕ وَ رَبُّكَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ حَفِیْظٌ۠ Open ayah 34:21 in the Quran reader

ابلیس کو ان پر کوئی اقتدار حاصل نہ تھا مگر جو کچھ ہوا وہ اس لیے ہوا کہ ہم یہ دیکھنا چاہتے تھے کہ کون آخرت کا ماننے والا ہے اور کون اس کی طرف سے شک میں پڑا ہوا ہے۔ تیرا رب ہر چیز پر نگران ہے

ولقد صدق علیھم۔۔۔۔۔۔۔ کل شئ حفیظ (20 – 21) یہ قوم ، اس راستے پر چل کر اس کا یہ انجام کیوں ہوا ؟ اس لیے کہ ابلیس نے اپنی منصوبہ بندی کو درست پایا اور وہ ان کو گمراہ کرنے میں کامیاب رہا۔ ہاں اہل ایمان کو وہ گمراہ نہ کرسکا ، مومنین کے گروہ کو وہ گمراہ نہ کرسکا “۔ کیونکہ ہر گمراہ سوسائٹی میں لوگوں کی ایک قلیل تعداد ایسی رہ جاتی ہے جو گمراہ ہونے سے انکار کردیتی ہے اور یہ قلیل گروہ مومنین اس بات کا گواہ ہوتا ہے کہ سچائی اپنی جگی قائم ہوتی ہے۔ صرف اس بات کی ضرورت ہوتی ہے کہ کوئی سچائی کا طالب ہو۔ اگر کوئی طالب ہو تو سچائی مل جاتی ہے۔ بدترین حالات میں بھی سچائی قائم رہتی ہے۔ جہاں تک ابلیس کا تعلق ہے لوگوں کے اوپر اس کو کوئی جابرانہ اقتدار حاصل نہیں ہے کہ وہ ان کو مجبور کرکے گمراہی کی طرف لے جاتا ہے۔ شیطان ہر حال میں لوگوں پر مسلط ہوتا ہے۔ اب لوگوں میں سے بعض حق پر ثابت قدم ہوجاتے ہیں اور بعض لوگ حق کے طالب ہی نہیں ہوتے۔ وہ گمراہ ہوجاتے ہیں۔ پھر عالم واقعہ میں یہ بات سامنے آجاتی ہے کہ مومن کون ہے اور مومن کو اس کا ایمان برے راستے سے بچاتا ہے۔ ممن ھو منھا فی شک (34: 21) ” اس سے جو آخرت سے شک میں ہوتا ہے “۔ جو شخص آخرت پر یقین رکھتا ہے وہ بچ جاتا ہے اور جو آخرت کے بارے میں شک کرتا ہے وہ شیطان کی گمراہی کا شکار ہوجاتا ہے۔ اللہ کو تو پہلے سے معلوم ہوتا ہے کہ کون سیدھی راہ لے گا اور کون غلط لے گا لیکن اللہ اللہ تعالیٰ فیصلوں کو تب صادر کرتا ہے جب وہ عملاً صادر ہوجاتے ہیں۔ اس وسیع میدان میں یعنی اللہ کی تدبیر اور تقدیر کے وسیع میدان میں شیطان کو یہ آزادی دی گئی ہے کہ وہ کسی کو مجبور کیے بغیر لوگوں مسلط ہوجائے اور ان نتائج کو ظاہر کر دے جو پہلے سے اللہ کے علم میں تھے۔ اس میدان میں قصہ سبا دراصل تمام اقوام عالم کا قصہ ہے۔ اقوام کے عروج وزوال کی داستان وہی ہے جو سبا کی ہے۔ اس لیے اس آیت کے دائرہ اطلاق کو وسیع کردیا جاتا ہے۔ یہ اصول قوم سبا تک محدود نہیں رہتا۔ تمام انسانوں کے اچھے اور برے حالات اسی اصول کے تحت آتے جاتے ہیں۔ لوگوں کا ہدایت پانا اور گمراہ ہونا اسباب ہدایت اور اسباب ضلالت اختیار کرنے کے نتیجے میں ہوتا ہے۔ وربک علیٰ کل شئ حفیظ (34: 21) ” اور تیرا رب ہر چیز پر نگران ہے “۔ اس سے کوئی چیز غائب نہیں ہوتی ، کوئی چیز نظام تخلیق میں مہمل نہیں ہوتی اور نہ بےکار ہوتی ہے “۔
Ayah 34:22

قُلِ ادْعُوا الَّذِیْنَ زَعَمْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ۚ لَا یَمْلِكُوْنَ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَ لَا فِی الْاَرْضِ وَ مَا لَهُمْ فِیْهِمَا مِنْ شِرْكٍ وَّ مَا لَهٗ مِنْهُمْ مِّنْ ظَهِیْرٍ Open ayah 34:22 in the Quran reader

(” اے نبی ؐ “ ان مشرکین سے ) کہو کہ ” پکار دیکھو اپنے ان معبود وں کو جنہیں تم اللہ کے سوا اپنا معبود سمجھتے بیٹھتے ہو ۔ وہ نہ آسمانوں میں کسی ذرہ برابر چیز کے مالک ہیں نہ زمین میں ۔ وہ آسمان و زمین کی ملکیت میں شریک بھی نہیں ہیں ۔ ان میں سے کوئی اللہ کا مددگار بھی نہیں ہے

درس نمبر 192 ایک نظر میں یہ ایک مختصر سبق ہے جس کا موضوع توحید اور شرک ہے ، لیکن اس سبق میں انسان کے عقل و خرد کو پوری کائنات کی سیر کرالی جاتی ہے۔ ظاہری کائنات ہو یا مخفی ہو ، حاضرہویا غائب ہو ، زمین سے ہو یا افلاک سے ہو ، دنیا سے متعلق ہو یا آخرت سے ۔ اس سفر میں انسان پر اس قدر خوف طاری کردیا جاتا ہے کہ اس کا وجود کا نپنے لگتا ہے اور اللہ کا جلال اس پر اس قدر طاری ہوتا ہے کہ انسان مدہوش ہوجاتا ہے ۔ انسان کے سامنے اس کا نسب ، اس کا رزق اور جزاد سزا کے مناظر رکھے جاتے ہیں ۔ اس سبق میں نہایت ہی زور دار الفاظ میں لفظ قل قل قل کے ساتھ انسان کو جھنجھوڑا جاتا ہے ۔ ہر فقرے میں ایک لاجواب دلیل سامنے لائی جاتی ہے ۔ نہایت ہی قوی دلیل ۔ درس نمبر 196 تشریح آیات 22 ۔۔۔ تا۔۔۔ 27 قل ادعوا الذین ۔۔۔۔۔ منھم من ظھیر (22) “۔ آسمانوں اور زمین کے وسیع میدان میں یہ چیلنج ہے ۔ قل ادعوا الذین من دون اللہ (34: 22) ” کہو کہ پکار دیکھو اپنے معبود وں کو جن جو تم اللہ کے سوا اپنا معبود سمجھے بیٹھے ہو “۔ ان کو بلاؤ ، وہ آئیں ۔ ذرا ظاہرتو ہوں میدان میں ، دہ خود دعویٰ کریں یا تم ان کی جانب سے دعویٰ کرو کہ زمین و آسمانوں کی بادشاہت میں ان کے اختیارات کیا ہیں ؟ کچھ نہیں ۔ لا یملکون ۔۔۔۔۔۔ فی الارض (34: 22) ” وہ نہ آسمانوں میں کسی ذرے کے برابر چیز کے مالک ہیں اور نہ زمین میں “۔ ظاہر ہے کہ وہ اور نہ ان کی جانب سے کوئی اور اس زغم کا دعویٰ کرسکتا ہے کیونکہ مالک تو وہ ہوتا ہے جو کسی چیز میں متصرف ہوتا اور اس میں وہ متصرف نہیں ہیں ۔ لہٰذا یہ معبود کسی چیز کے مالک نہیں ہیں کیونکہ اس وسیع کائنات میں ان کا کوئی تصرف نہیں ہے ۔ وما لھم فیھما من شرک (34: 22) ” آسمان اور زمین کی ملکیت میں وہ شریک ہی نہیں “ ۔ یعنی نہ تو وہ واحد مالک ہیں اور نہ وہ شریک مالک ہیں۔ وما لہ منھم من ظھیر (34: 22) ” ان میں سے کوئی اللہ کا مددرگار بھی نہیں ہے “۔ تیسری صورت یہ ہوسکتی ہے کہ وہ رضا کارانہ طور پر اللہ کے مددگار ہوں ، یہ بھی نہیں ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہاں اشارہ مخصوص قسم کے معبودوں اور مخصوص قسم کے شرک کی طرف ہے۔ یعنی اشارہ ملائکہ کی طرف ہے ، جنہیں عرب اللہ کی بیٹیا سمجھتے تھے۔ سفارشی سمجھتے تھے اور انہیں کے بارے میں ان کا کہنا تھا۔ ما نعبدھم ۔۔۔۔۔ زلفی ” ہم ان کی بندگی اس لیے کرتے ہیں کہ یہ تو ہمیں اللہ کے بہت قریب کرتے ہیں “۔ یہی وجہ ہے کہ اگلی آیت میں سفارش کی نفی کی جاتی ہے اور ایک ایسے منظر میں جو نہایت ہی خوفناک ہے “۔