Ayah 34:23ولا تنفع ۔۔۔۔۔۔ اذن لہ ” “۔ اللہ کے ہاں شفاعت وہی لوگ کرسکیں گے جن کو اللہ کی جانب سے اجازت ہوگی۔ اللہ کسی ایسے شخص کے لیے اجازت نہیں دیا کرتا جو مومن نہ ہو اور سفارش کا مستحق نہ ہو۔ وہ لوگ جو شرک کرتے ہیں وہ اس کے مستحق نہیں رہتے۔ نہ ملائکہ کو اس کی اجازت ہے اور نہ ان کے علاوہ اور لوگوں کو جن کو شفاعت کی اجازت ہوگی۔ جن حالات میں شفاعت کرنے والے کی شفاعت کریں گے باوجود اجازت کے ، وہ کس قدر خوفناک ہوں گے ، کس قدر دہشت ناک ہوں گے ؟
حتی اذا فزع ۔۔۔۔۔ العلی الکبیر (23) ” “۔
یہ اس دن کا منظر ہے جو نہایت ہی خوفناک ہوگا۔ لوگ قیامت کے دن کھڑے ہوں گے۔ سفارش کرنے والے اور جن کی سفارش ہو رہی ہوگی سب کے سب سہمے ہوئے ہوں گے۔ پہلے تو سفارش کرنے والے اجازت کے منتظر ہوں گے ۔ یہ انتظار طویل ہوگا۔ لوگ تو قعات میں کھڑے ہوں گے اور تھک جائیں گے۔ سہمے ہوئے ہوں گے ، دل ڈرے ہوئے ہوں گے اور کان فیصلہ سنتے ہوں گے۔ جب اللہ کی بارگاہ عزت سے فیصلہ صادر ہوگا تو سفارش کرنے والے اور جن کی سفارش ہو رہی ہے اس قدر ڈرے ہوئے ہوں گے کہ وہ فیصلے کو سمجھ ہی نہ سکیں گے۔
حتی اذا فزع عن قلوبھم (34: 23) ” حتیٰ کہ جب لوگوں کے دلوں سے گھبراہٹ دور ہوگی “ جب حالت خوف سے وہ نکلیں گے اور وہ اس پیبت سے نکل آئیں جس کی وجہ سے وہ مدہوش ہوگئے تھے تو پھر کہیں گے۔
ماذا قال ربکم (34: 23) ” تمہارے رب نے کیا جواب دیا “۔ یعنی وہ ایک دوسرے سے پوچھیں گے۔ ان میں سے شاید بعض لوگوں نے حواس بحال رکھ کر بات کو سمجھ لیا ہوگا۔
قالوا الحق (34: 23) ” انہوں نے کہا حق کہا “۔ شاید یہ کہنے والے ملائکہ مقربین تھے جنہوں نے یہ مجمل اور جامع بات کہہ دی کیونکہ اللہ نے جو کچھ کہنا تھا وہ حق ہی تھا ۔ وہ حق ہے ، ازلی حق اور ابدی حق ہے ۔ لہٰذا اس کی بات بھی حق ہے ۔
وھوالعلی الکبیر (34: 23) ” اور وہ بزرگ دبرتر ہے “۔ اللہ کی یہ صفت ایسے مقام پر آئی ہے ، جس میں اللہ کی علوشان نمایاں ہے اور اس مقام پر ہر شخص اللہ کی شان بلند کا ادراک کرسکتا ہے “۔
یہ مجمل سورة اس بات کا مظہر ہے کہ فضا کے اندد گہری سنجیدگی اور خوف چھایا ہوا ہے کہ اس میں بھی مختصربات کہی جاسکتی ہے ۔ یہ سفارش کا خوفناک موقعہ ہے ۔ اگر منظور نہ ہو تو ؟ اور یہ حالت ملائکہ مقربین کی ہے ۔ کیا اس خوفناک منظر کے بعد کوئی دعویٰ کو سکتا ہے کہ وہ شریک ہے یا کوئی عقلمند شخص یہ عقیدہ رکھ سکتا ہے ؟
یہ تو تھی عقل وخرد کے تاروں پر پہلی ضرب اور دوسری ضرب کا تعلق ان ارزاق سے ہے جو انسان رات اور دن استعمال کرتے ہیں ۔ یہ انسانی ضروریات کون فراہم کرتا ہے ۔ انسان حیات اور اس کے قائم رکھنے کے لیے خوراک ہی پر اگر غور کیا جائے تو یہ بھی اللہ وحدہ کی ذات پر ایک سلطان اور برہان ہے ۔
Ayah 34:24قل من یرزقکم۔۔۔۔۔ اوفی ضلٰل مبین (24) ” “۔
رزق ہر انسان کی زندگی کا واقعی اور زندہ مسئلہ ہے ۔ رزق نتیجہ ہے آسمانوں سے بارشوں ، سورج کی روشنی اور نور کا۔ یہ باتیں تو اس وقت قرآن کے مخاطب جانتے تھے۔ اس کے بعد رزق کے بارے میں بہت ہی انکشافات ہوئے ہیں اور ہو رہے ہیں۔ زمین کے رزق کیا ہیں۔ نباتات ، حیوانات ، چشمے ، نہریں ، معدنیات اور خزانے۔ سابقہ ادوار کے لوگ بھی ان سے واقف تھے ، بعد کے لوگوں نے مزید انکشافات کیے۔
قل من یرزکم ۔۔۔۔۔ قل اللہ (34: 24) ” کون ہے جو آسمانوں اور زمین میں سے تمہیں رزق دیتا ہے ، کہواللہ “۔ اس لیے کہ وہ اس جواب میں شک نہ کرسکتے تھے اور نہ اس کے سوا کسی اور جواب کا دعویٰ کرسکتے تھے۔ کہو کہ رزق تو اللہ ہی دیتا ہے اور تمہارے امور اور ان کے امور اللہ کے سپرد ہیں۔ تم دونوں میں سے کوئی ایک خواہ مخواہ ضلالت پر ہے۔ یہ ممکن ہی نہیں کہ دونوں ہدایت پر ہوں ، یا دونوں ضلالت پر ہوں۔ لہٰذا ایک فریق ایک راستے پر ہے اور دوسرا دوسرے پر ہے۔
وانا او ایاکم ۔۔۔۔۔ ضلل مبین (34: 24) ” اب لامحالہ ہم میں اور تم میں سے کوئی ایک ہدایت پر ہے یا کھلی گمراہی میں پڑا ہوا ہے “۔ بحث و مباحثہ میں یہ نہایت ہی معتدلانہ انداز گفتگو ہے کہ رسول اللہ ﷺ مشرکین سے کہتے ہیں کہ ہم اور تم میں سے ایک فریق ہدایت پر ہے اور دوسرا ضلالت پر ہے۔ ہدایت یافتہ اور گمراہ فریق کا تعین نہیں کیا جاتا تاکہ سامع خود غور و فکر کے بعد متعین کرے۔ نہایت سنجیدگی کے ساتھ ، بغیر ہٹ دھرمی اور بغیر بحث وجدال اور حجت بازی کے۔ کیونکہ حضور اکرم ﷺ تو ایک ہادی اور معلم تھے۔ آپ کا مقصد لوگوں کو راہ راست دکھانا تھا۔ ان کو لاجواب کرکے ذلیل کرنا مطلوب نہ تھا۔
اس انداز گفتگو سے نہایت معاند ، متکبر ، سرکش اور دست درازی کرنے والے شخص کے دل پر بھی بات کا اثر ہوتا ہے اور کسی شخص کا مقام و مرتبہ راہ ہدایت لینے میں رکاوٹ نہیں۔ اور ایک بلند مقام رکھنے والا بھی سرتسلیم خم کردیتا ہے اور نہایت ہی ٹھنڈے دل سے غور کرتا ہے۔ اسے اطمینان ہوجاتا ہے ۔ یہ انداز گفتگو خصوصاً ان لوگوں کے گہرے غور کا مستحق ہے جو دعوت اسلامی کا کام کرتے ہیں۔
اب عقل و خرد کے تاروں پر تیسری ضرب ، نہایت منصفانہ اور عادلانہ انداز گفتگو کے ساتھ لگائی جاتی ہے۔ ہر دل کو اس کے اعمال اور ان کے نتائج کے سامنے کھڑا کردیا جاتا ہے۔
Ayah 34:25قل لا تسئلون ۔۔۔۔۔ تعملون (25)
مشرکین رسول اللہ ؐ اور آپ ﷺ کے ساتھیوں پر یہ الزام لگاتے تھے کہ یہ لوگ غلط کار ، صابی اور مجرم ہیں اور انہوں نے اپنا حقیقی دین چھوڑ دیا ہے جو ان کے آباء و اجداد کا دین تھا۔ اہل باطل اہل حق کو ہمیشہ گمراہ کہتے چلے آئے ہیں۔ یہ ان کی طوطا چشمی اور غرور ہوتا ہے اور اس کا جواب یہی ہے۔
قل لا تسئلون ۔۔۔۔ عما تعملون (34: 25) ” کہہ دو ، جو قصور ہم نے کیا ہو اس کی کوئی باز پرس تم سے نہ ہوگی اور جو کچھ تم کر رہے ہو۔ اس کی کوئی جواب طلبی ہم سے نہ ہوگی “۔ ہر شخص اپنے عمل کا ذمہ دار ہوگا۔ اور ہر شخص کو اپنے اعمال ہی کی جزاء ملے گی۔ لہٰذا یہ ہر شخص کا اپنا کام ہے کہ وہ خوب سوچ سمجھ کر کوئی قدم اٹھائے۔ فلاح کی طرف یا ہلاکت کی طرف۔
یوں قرآن ان کو جھنجھوڑتا ہے کہ وہ غوروفکر کریں۔ سچائی کی طرف چلنے کے لیے یہ پہلا مرحلہ ہے کہ انسان راہ حق پر غور کرے۔ اب چوتھی ضرب :
Ayah 34:26قل یجمع بیننا ۔۔۔۔۔ العلیم (26)
پہلے سبق میں اللہ اہل حق اور اہل باطل کے درمیان مشترکہ فیصلہ دیا گیا کہ دونوں میں سے ایک ہی حق پر ہے ، اور ایک باطل پر ہے۔ اور حق اور باطل کا آمنا سامنا ہوا تھا تاکہ اہل حق ، حق کی طرف آئیں ، داعی اپنی دعوت پیش کریں اور حق و باطل باہم کشمکش کریں۔ دلائل کے سامنے شبہات لائے جائیں اور باطل حق کو بچھاڑنے کی کوشش کرے۔ لیکن یہ صورت ایک مختصر وقت کے لئے ہوتی ہے۔ اس کے بعد فریقین کے درمیان فیصلہ ہوجاتا ہے۔ یہ فیصلہ دو ٹوک ہے اور فیصلہ کرنے والا بہت بڑا حاکم ہے اور علیم بھی ہے۔ وہ علم اور معرفت پر فیصلہ کرتا ہے۔
اللہ کو فتاح علیم کہہ کر یہ بتانا مقصود ہے کہ اللہ کے فیصلے پر اعتماد کیا جاسکتا ہے کیونکہ وہ ایسا حاکم ہے جو حق و باطل کے درمیان علم کے مطابق فیصلہ کرنے والا ہے۔ وہ حق و باطل کو نکھار کر رکھ دیتا ہے اور ان کے درمیان التباس رہنے نہیں دیتا۔ حق پرستوں اور باطل پرستوں کو اکٹھا اور ملا جلا نہیں چھوڑا جاتا بشرطیکہ حق اپنی دعوت زوردار انداز سے پیش کرے ، قوت اس راہ میں لگا دے۔ پورے تجربات سے کام لے اور پوری قوت لگا کر معاملے کو اللہ کے سپرد کر دے تاکہ اللہ فتاح علیم فیصلہ کرے۔
یہ اللہ کا کام ہے کہ وہ حق و باطل کے درمیان فیصلہ کس وقت کرتا ہے اس فیصلہ کے لیے وقت کا تعین بھی اللہ کرتا ہے ۔ نہ اس میں جلدی کا کوئی داعیہ ہے کیونکہ یہ اللہ ہی ہے جو حق و باطل کا آمنا سامنا کراتا ہے ، کمشکش کراتا ہے اور پھر فیصلہ کراتا ہے۔ وہی قناح علیم ہے۔
اب آخری ضرب ، یہ آخری ضرب پہلی ضرب کے مشابہ ہے۔ اس میں اللہ کے نام نہاد شرکاء کو چیلنج دیا جاتا ہے۔
Ayah 34:27قل ارونی ۔۔۔۔۔ العزیز الحکیم (27) ” “۔
یہ نہایت ہی تہدید آمیز اور حقارت آمیز سوال ہے۔ ذرا دکھاؤ تو سہی وہ کون لوگ ہیں جن کو تم نے اللہ کے ساتھ الوہیت میں ملحق کردیا ہے۔ یہ لوگ کون ہیں ؟ ان کی کیا حیثیت ہے۔ کس درجے کے لوگ ہیں یہ ! اور پھر اس مقام کے لیے ان کا استحقاق کیا ہے۔ اس کے بعد لفظ کا۔۔۔ ان کی سرزنش کی جاتی ہے۔ کہاں سے یہ لائیں گے جبکہ اللہ کا کوئی شریک ہی نہیں ہے۔
بل ھو اللہ العزیز الحکیم (34: 27) ” زبردست اور دانا تو بس اللہ ہی ہے “۔ جس ذات کی صفات یہ ہوں اس کا کوئی شریک کیسے ہو سکتا ہے اور ضرورت بھی کیا ہے ، لہٰذا اللہ کا کوئی شریک نہیں ہے۔ اس پر یہ سبق ختم ہوتا ہے۔ اس کے آخر میں نہایت ہی دو ٹوک اور سبق آمیز تبصرے ہیں۔ اس عظیم کائنات کو پیش نظر رکھتے ہوئے۔ ایسے حالات میں جبکہ قیامت میں شفاعت کا مرحلہ ہوگا۔ حق و باطل کی کشمکش کے حوالے سے اور نفس انسانی کے اندر غوروفکر اور سوچ و بچار کے حوالے سے۔
Ayahs 34:28–30درس نمبر 197 ایک نظر میں
اس سبق میں رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کے اوپر نازل ہونے والی کتاب کے بارے میں مشرکین کا موقف بیان کیا گیا ہے۔ یہ ہر رسول کے مقابلے میں اختیار کیا جانے والا کھاتے پیتے لوگوں کا موقف ہے۔ اس قسم کے لوگ اپنے مال اور اولاد اور اپنے معاشرتی مقام کی وجہ سے دھوکہ کھا جاتے ہیں۔ ان کے پیش نظر صرف اس دنیا کے مفادات ہوتے ہیں اور یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ چونکہ یہ دنیا کے مفادات حاصل کرنے میں دوسروں سے آگے ہیں اس لیے کہ مختار اور افضل لوگ ہیں۔ اور یہ کہ اس دنیاوی دولت کی وجہ سے وہ دنیا و آخرت دونوں کے عذاب سے بچ جائیں گے۔ چناچہ یہاں ان کے سامنے وہ منظر پیش کیا جاتا ہے جو آخرت میں ان کا ہوگا۔ یہ منظر ایسا ہے کہ گویا واقعہ ہوچکا ہے تاکہ وہ دیکھ لیں کہ جن چیزوں نے ان کو مغرور کردیا ہے ، وہ تو قیامت میں کچھ فائدہ دینے والی نہیں ہیں۔ اس منظر میں یہ بات بھی دکھائی گئی ہے کہ دنیا میں جن فرشتوں اور جنوں کی بندگی کرتے تھے وہ تو قیامت کے دن ان کے لیے ذرہ بھر مفید نہیں ہیں۔ اس منظر کے مکالموں کے درمیان یہ بات بتائی گئی ہے کہ اللہ کے ترازو میں کون سی چیز وزن رکھتی ہے۔ اسی طرح ان کھوٹی قدروں کی تردید خود بخود ہوجاتی ہے۔ جن کو وہ اس دنیا میں سینوں سے لگائے ہوئے ہیں۔ ثابت یہ ہوتا ہے کہ رزق کا کشادہ ہونا یا محدود ہونا مشیت الہیہ پر موقوف ہے اور یہ اللہ کے غضب یا رضا مندی کی دلیل نہیں ہے۔ یہ ایک قسم کی آزمائش ہوتی ہے۔
درس نمبر 197 تشریح آیات
28 ۔۔۔ تا۔۔۔ 42
وما ارسلنک الا ۔۔۔۔۔۔ ولا تستقدمون (28 – 30) ” ۔ “
گذشتہ سبق میں یہ بات طے کی گئی تھی کہ ہر شخص اپنے کئے کا ذمہ دار ہے اور اہل حق اور اہل باطل کے درمیان مکالمہ ضرور ہونا چاہئے۔ اہل حق کو چاہئے کہ اپنی بات کھول کر رکھ دیں نہایت حکمت کے ساتھ ، پھر معاملہ اللہ کے سپرد ہے۔ وہاں یہ بھی بتایا گیا تھا کہ نبی کا منصب و مقام اور فریضہ کیا ہے۔ یہ لوگ منصب نبوت سے جاہل ہیں۔ آخرت کی جس جزاء و سزا کا نبی ذکر کرتے ہیں اپنی اس جہالت کی وجہ سے یہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ قیامت برپا کیوں نہیں ہوجاتی تو جواب یہ دیا جاتا ہے کہ قیامت کے برپا ہونے کے لیے ایک وقت مقرر ہے ، اس سے وہ نہ پہلے آسکتی ہے اور نہ بعد میں۔
وما ارسلنک ۔۔۔۔۔۔۔۔ ونذیرا (34: 28) ” اے نبی ﷺ ہم نے تم کو تمام انسانوں کے لیے بشیر و نذیر بنا کر بھیجا ہے “۔ یہ رسالت کے منصب کے عام فرائض ہیں کہ آپ کو بشیر و نذیر بنا کر بھیجا گیا ہے اور تمام انسانوں کے لئے بھیجا گیا ہے۔ نبی کا فرض پورا ہوجاتا ہے جب وہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر لوگوں کو جنت کی خوشخبری دے دے اور دوزخ کے عذاب سے ڈرا دے۔
ولکن اکثر الناس ۔۔۔۔۔۔۔ کنتم صدقین (34: 28 – 29) ” لیکن اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔ یہ لوگ تم سے کہتے ہیں کہ وہ ڈراوا کب آئے گا اگر تم سچے ہو “۔ ان کے اس سوال ہی سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ کسی رسول کے فرائض منصبی سے واقف نہیں ہیں۔ آخر رسول کا یہ فرض نہیں ہوتا کہ وہ انجام برپا کر دے۔ رسول کا فریضہ صرف یہ ہے کہ وہ لوگوں کو خبردار کر دے۔ رسول کی ڈیوٹی محدود ہوتی ہے۔ حضرت محمد ﷺ اپنا فریضہ سر انجام دے رہے ہیں اور اپنے فرائض سے رسول اللہ ﷺ ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھتے۔ اصل اختیارات اللہ کے ہاتھ میں ہیں۔ وہی بھیجنے والا ہے ، وہی کام کی حدود مقرر کرنے والا ہے۔ اللہ کے رسول کو یہ اختیار نہیں دیا کہ وہ قیامت برپا کردیں یا اس کا وقت بتا دیں۔ یہ رب تعالیٰ کا کام ہے۔ رسول اپنے حدود کار سے باخبر ہیں لہٰذا وہ اللہ سے کوئی ایسا سوال نہیں کرتے جو ان کی ڈیوٹی کی حدود سے باہر ہو۔ اور اس کے بارے میں کوئی ذمہ داری ان پر ڈالی نہ گئی ہو۔ حکم دیا جاتا ہے کہ ان کو ایک اصولی بات بتا دی جائے۔
قل لکم میعاد ۔۔۔۔۔۔ ولا تستقدمون (34: 30) ” کہو ، تمہارے لیے ایک دن کی میعاد مقرر ہے جس کے آنے میں نہ ایک گھڑی کی تاخیر تم کرسکتے ہو اور نہ گھڑی بھر پہلے اسے لا سکتے ہو “۔ ہر میعاد اپنے مقررہ وقت پر آتی ہے ، جو اللہ نے مقرر کیا ہے ، اس میں تقدیم و تاخیر ممکن نہیں ہے۔ نہ کسی کی خواہش پر اللہ اس طرح کرتا ہے۔ دنیا میں کوئی کام نہ عبث ہوتا ہے ، نہ اتفاقاً واقعہ ہوجاتا ہے ۔ ہر واقعہ اللہ کا تخلیق کردہ اور تقدیر کے مطابق ہوتا ہے۔ ہر معاملے کا تعلق آخرت سے ہے۔ اللہ کی تقدیر ان واقعات کو اپنی حکمت کے مطابق روبعمل لاتی ہے اور حکمت الٰہی سے انسان اسی قدر خبردار ہوتا ہے جس قدر اللہ انسان کو سمجھاتا ہے۔ ورنہ اللہ کی حکمت کا بیشتر حصہ مستور ہوتا ہے۔
اللہ کے وعدے اور اللہ کی سزا کے معاملے میں جلدی کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ایسا مطالبہ کرنے والا انسان اس اصول اور حکمت ربانی کے نظام سے واقف نہیں ہے اور علم نہیں رکھتا۔ اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں اور اپنی لا علمی کی وجہ سے جلد بازی سے کام لیتے ہیں۔
Ayahs 34:31–33وقال الذین کفروا۔۔۔۔۔ بین یدیہ ” “۔ یہ ہے وہ عناد جس میں مخالفین اسلام اول روز سے مبتلا تھے۔ انہوں نے فیصلہ کرلیا تھا کہ وہ ہدایت کو مان کر نہ دیں گے اگرچہ اس کا منبع کتب سابقہ میں ہو۔ نہ قرآن کو مانیں گے اور نہ پہلی کسی کتاب کو۔ نہ اس کو نہ سابقہ کتب کو ۔ یہی فیصلہ مخالفین اسلام کا کل بھی تھا اور آج بھی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ وہ کفر پر اصرار کرتے ہیں ۔ پختہ فیصلہ انہوں نے کرلیا ہے کہ وہ کفر پر اصرار کریں گے اور دلائل ہدایت پر غور ہی نہ کریں گے۔ جب انہوں نے یہ فیصلہ کر ہی دیا ہے تو ان کا علاج یہی ہے کہ ان کے سامنے بس مناظر قیامت میں سے ایک منظر پیش کردیا جائے۔
ولو تری اذ ۔۔۔۔۔ الا ما کانوا یعملون (21 – 23)
یہ تو تھی ان کی دنیاوی بات ” ہم ہرگز قرآن کو نہ مانیں گے اور نہ اس سے پہلے آئی ہوئی کسی کتاب کو تسلیم کریں گے “۔ لیکن ان ظالموں کی ھالت قیامت کے دن دیکھنے کے قابل ہوگی جب یہ لوگ اللہ کے سامنے کھڑے ہوں گے اور بطور ملزم اللہ کی عدالت میں سزا کا انتظار کر رہے ہوں گے اور ان کو اس وقت یقین ہوگا کہ انہوں نے تو ہدایت کا انکار کیا تھا لہٰذا نتیجہ سامنے ہے۔ اب اور تو کچھ بس نہ چلے گا ایک دوسرے پر لعنت و ملامت کریں گے اور اس انجام کی ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈالیں گے۔ یہ اس وقت کیا کہیں گے ؟
یقول الذین ۔۔۔۔۔ انتم لکنا مومنین (34: 31) ” جو لوگ دنیا میں دبا کر رکھے گئے تھے وہ بڑے بننے والوں سے کہیں گے ” اگر تم نہ ہوتے تو ہم مومن ہوتے “۔ اس وقت وہ جس خوفناک صورت حالات سے دوچار ہیں یہ اس کی ذمہ داری اکابرین پر رکھیں گے۔ کیونکہ ان کو نظر آرہا ہے کہ مصیبت سر پر ہے۔ آج تو وہ ان کے منہ پر یہ حق بات کہہ رہے ہیں لیکن دنیا میں ان کو یہ حق بات کہنے کی توفیق نہ تھی۔ ان کو وقت ، کمزوری ، غلامی ، حق بات کہنے نہ دیتی تھی۔ انہوں نے اللہ کی بخشی ہوئی آزادی کو فروخت کردیا تھا۔ وہ عزت جو اللہ نے ہر انسان کو دی تھی اس سے وہ دستبردار ہوگئے تھے۔ وہ قوت مدرکہ جو ہر انسان کو دی گئی ، انہوں نے معطل کردی تھی۔ آج تو سب جھوٹی اور کھوٹی قدریں ختم ہیں۔ سامنے دردناک عذاب ہے۔ اب وہ یہ حق بات کہتے ہیں جس کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔
لو لا انتم لکنا مومنین (34: 31) ” اگر تم نہ ہوتے تو ہم مومن ہوتے “۔ اور یہ اکابرین بھی نہایت ہی تنگی اور ترشی سے جواب دیتے ہیں۔ خطرہ تو اب دونوں کے لیے برابر ہے۔ یہ اپنی ذمہ داری خواہ مخواہ ان پر ڈالتے ہیں۔ وہ بھی خوب جواب دیتے ہیں۔
قال الذین ۔۔۔۔۔۔ کنتم مجرمین (34: 32) ” اور ان بڑے بننے والوں نے جواب دیا ، کیا ہم نے تمہیں اس ہدایت سے روکا تھا جو تمہارے پاس آئی تھی ؟ نہیں بلکہ تم خود مجرم تھے “۔ یوں وہ کسی ذمہ داری کے قبول کرنے کا صاف انکار کردیتے ہیں۔ اور یہ اقرار کرلیتے ہیں کہ ہدایت آئی تھی۔ یہ مستکبرین دنیا میں تو ضعفاء کو کوئی اہمیت ہی نہ دیتے تھے۔ نہ ان سے رائے طلب کرتے تھے ، بلکہ ان کا وجود ہی تسلیم نہ کرتے تھے اور یہ بات برداشت ہی نہ کرتے تھے کہ یہ ضعفاء ان کی مخالفت کریں یا مباحثہ کریں لیکن آج جبکہ عذاب کا سامنا ہے تو وہ صاف صاف انکار کرتے ہیں کہ۔
انحن صددنکم ۔۔۔۔۔ اذجآء کم (34: 32) ” کیا ہم نے تمہیں روکا تھا ، جب تمہارے پاس ہدایت آئی تھی “۔ بلکہ تم خود ہی مجرم تھے۔ تم نے مجرمانہ انداز اختیار کرلیا تھا۔
اگر دنیا ہوتی تو ان کمزور لوگوں کے ہونٹ سلے ہوئے ہوتے لیکن آخرت میں دنیا کے تمام جھوٹے پردے اٹھ جائیں گے۔ جھوٹی قدریں مٹ جائیں گی۔ آنکھیں کھل جائیں گی اور چھپے حقائق پردے سے باہر آجائیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں یہ کمزور لوگ بھی کھل کر بات کریں گے۔ بلکہ اب وہاں مستکبرین کے منہ میں منہ ڈال کر بات کریں گے اور کہیں گے کہ تم ہی اس سب صورت حالات کے ذمہ ہو۔ تم رات اور دن مکاری کرتے تھے اور ہمیں ہدایت سے روکتے تھے۔ تم نے باطل کو تھام رکھا تھا ، ہم پر مسلط کردیا تھا اور دعوت اسلامی کو ہم پر مشتبہ بنا دیا تھا۔ تم اپنے اثر و رسوخ کو استعمال کرکے ہمیں گمراہ کرتے تھے۔
وقال الذین استضعفوا ۔۔۔ ونجعل لہ اندادا (34: 33) وہ دبے ہوئے لوگ ان بڑے بننے والوں سے کہیں گے ، ” نہیں ، بلکہ شب و روز کی مکاری تھی جب تم ہم سے کہتے تھے کہ ہم اللہ سے کفر کریں اور دوسروں کو اس کا ہمسر ٹھہرائیں “۔
اب ان کو معلوم ہوجاتا ہے کہ یہ مکالمہ اور مجادلہ نہ ان کے لیے مفید ہے اور ان کے لیے۔ نہ بڑے کی نجات ممکن ہے اور نہ چھوٹوں کی۔ ہر گروہ مجرم ہے ، البتہ بڑوں پر اپنی گواہی کی بھی ذمہ داری ہے اور دوسروں کو گمراہ کرنے کی بھی ذمہ داری ہے۔ چھوٹوں پر یہ ذمہ داری ہے کہ انہوں نے کیوں ان بڑے لوگوں کی اطاعت کی۔ یہ بات وہاں معانی کی وجہ نہیں بن سکتی کہ یہ ضعیف تھے۔ اللہ نے ان کو عقل اور آزادی دی تھی۔ انہوں نے عقل سے کام نہ لیا اور اپنی آزادی رائے کو فروخت کردیا۔ وہ طفیلی پن رہنے پر راضی ہوئے اور ذلت کی زندگی قبول کی۔ اس لیے وہ عذاب کے مستحق بن گئے۔ اس گفتگو کے دوران ہی ان پر سخت ندامت طاری ہوگئی اور یہ اسے چھپانے لگے۔ جب انہوں نے عذاب دیکھ لیا۔
واسروا الندامۃ لما راوا العذاب (34: 33) ” جب یہ عذاب دیکھیں گے تو پچھتائیں گے “۔ اور اپنی ندامت کو چھپانے کی کوشش کریں گے۔ یہ ایسی حالت ہوتی ہے کہ دل کی بات دل ہی میں رہ جاتی ہے۔ زبانیں بند ہوجاتی ہیں ، ہونٹ سل جاتے ہیں اور سخت عذاب انہیں آلیتا ہے۔
وجعلنا الاغلل ۔۔۔۔۔ الذین کفروا (34: 33) ” ہم ان منکرین کے گلوں میں طوق ڈال دیں گے “ اب یہ لوگ طوقوں میں بندھے ہوئے ہیں لیکن بات کا رخ ان سے پھرجاتا ہے اور عام بدکاروں سے کہا جاتا ہے کہ جیسا کرو گے ویسا بھرو گے۔
ھل یجزون الا ما کانوا یعملون (34: 33) ” کیا لوگوں کو اس کے سوا اور کوئی بدلہ دیا جاسکتا ہے کہ جیسے اعمال ان کے تھے ، ویسی ہی جزا وہ پائیں۔ اب بڑے بننے والے اور چھوٹے بننے والے دونوں قسم کے ظالموں کے اس منظر پر پردہ گرتا ہے۔ دونوں ظالم ہیں۔ یہ اس لیے ظالم ہیں کہ سرکش تھے اور باغی تھے اور دوسروں کو بھی گمراہ کرتے تھے۔ وہ اس لیے ظالم تھے کہ انہوں نے انسانی شرافت اور آزادی کے مقام کو ترک کردیا اور اپنے جیسے انسانوں کے غلام بن گئے۔ ان کے سامنے ذلت اختیار کی۔ اب دونوں کے لیے دائمی عذاب ہے۔
پردہ گرتا ہے اور ظالم اپنا منظر اچھی طرح دیکھ چکے ، زندہ مشکل ہیں۔ انہوں نے اپنی ہر حالت دیکھ لی اور وہ اس زمین پر زندہ ہیں۔ دوسروں نے بھی اس منظر کو دیکھ لیا۔ سب کے سامنے ابھی مہلت کی گھڑیاں ہیں۔ کبراء قریش جو باتیں کرتے ہیں ایسی ہی باتیں اقوام رفتہ کے مستکبرین بھی کرتے چلے آئے ہیں۔
Ayah 34:34وما ارسلنا ۔۔۔۔۔۔ بہ کفرون (24)
یہ ایک عام رویہ ہے ، بار بار دہرایا جاتا ہے ، اس دنیا میں۔ زمانوں سے ایسا ہی ہوتا آیا ہے۔ خوشحالی دلوں کو سخت کردیتی ہے دلوں سے احساس ختم ہوجاتا ہے۔ فطرت بگڑ جاتی ہے۔ اور باطل کے نیچے دب جاتی ہے۔ اسے دلائل ہدایت نظر ہی نہیں آتے۔ اس لیے ہدایت کے مقابلے میں مفسدین اپنے آپ کو اونچا سمجھتے ہیں اور ان کے سینے روشنی کے لیے بند ہوجاتے ہیں۔
ہمیشہ یوں ہوتا ہے کہ اہل ثروت اور کھاتے پیتے لوگوں کی جھوٹی قدریں ان کو دھوکہ دیتی ہیں۔ ان کے پاس جو دولت اور قوت ہوتی ہے وہ ان کو دھوکے میں ڈالتی ہے ۔ یہ سمجھتے ہیں کہ ان کا یہ اثر ان کو عذاب الٰہی سے بھی بچا لے گا۔ اللہ نے جع ان کو دولت دی ہے یہی تو اللہ کی رضا کی علامت ہے اور یہ کہ وہ حساب و کتاب اور جواب دہی کے مقام سے بلند ہیں۔
Ayah 34:35وقالوا نحن ۔۔۔۔۔ نحن بمعذبین (25) ” “۔ لیکن قرآن کریم جواب دہی کے لیے وہ معیار اور وہ قدریں وضع کرتا ہے جو اللہ کے ہاں معمول بہا ہیں۔ اللہ کے ہاں رائج ہیں۔ یہ بیان کیا جاتا ہے کہ رزق کی کشادگی اور تنگی پر مدار فیصلہ نہیں ہے۔ فیصلہ اللہ کی رضا و غضب پر ہوگا۔ رزق نہ کسی کو سزا دیتا ہے اور نہ بچاتا ہے۔ حساب و کتاب اور جزاء و سزا کا معاملہ دولت مندی اور تنگدستی سے جدا ہے۔ اللہ کی رضا مندی اور ناراضگی کا تعلق رزق سے نہیں ہے اس کے لئے دوسرا معیار ہے۔
Ayah 34:36قل ان ربی ۔۔۔۔۔ لا یعلمون (26) ” “۔ یہ مسئلہ یعنی رزق کی فراوانی اور تنگی کا مسئلہ ، عیش و عشرت کے وسائل کی ملکیت اور زیب وزینت کے ذرائع اور ان سے محرومی کا مسئلہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس کی وجہ سے کئی لوگوں کے دلوں میں بےحد خلجان پیدا ہوتا ہے۔ جب لوگ دیکھتے ہیں کہ اہل شر ، اہل فساد اور باطل پرستوں پر دنیا کے مال و دولت کے دروازے کھلے ہیں۔ اہل حق ، اہل خیر اور نیک لوگ ان سے محروم ہیں اس لیے بعض لوگ یوں سوچتے ہیں کہ اگر اللہ ان لوگوں سے ناراض ہوتا تو ان پر وسائل کی یوں بارش کیوں کرتا۔ بعض اوقات لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ نیکی ، سچائی اور پاکبازی ہمیشہ محروم رہتی ہے
یہاں قرآن مجید دنیا کے مال و متاع اور سازوسامان اور ان قدروں کے درمیان جدائی کردیتا ہے جو اللہ کی نظروں میں بلند ہیں۔ فیصلہ کردیا جاتا ہے کہ رزق کی تنگی اور فراوانی اللہ کی مشیت کے تحت ہے۔ اس کا اللہ کی رضا مندی اور ناراضگی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ بعض اوقات اللہ ایک ایسے شخص کو بھی رزق فراواں دے دیتا ہے جس سے وہ ناراض ہوتا ہے اور بعض اوقات اس کو بھی دیتا ہے جس سے راضی ہوتا ہے۔ بعض اوقات یوں ہوتا ہے کہ اہل شر اور اہل خیر دونوں غریب اور نادار ہوتے ہیں لیکن تمام حالات میں علل و اسباب ایک نہیں ہوتے۔
بعض اوقات اللہ اہل شر کو زیادہ نوازتا ہے تاکہ وہ سرکشی ، فساد اور نافرمانی میں آگے بڑھ جائیں۔ یوں ان کو پکڑنا مقصود ہوتا ہے۔ وہ زیادہ سے زیادہ جرائم کا ارتکاب کرلیں تاکہ ان کو زیادہ سزا ملے۔ پھر اللہ ان کو دنیا میں بھی سزا دیتا ہے اور آخرت میں بھی دے گا۔ اپنی حکمت اور تدبیر کے مطابق بھی بعض اوقات اللہ اہل شر کا رزق تنگ کرتا ہے تو وہ مزید جرائم کرتے ہیں ۔ اللہ کی رحمت سے مایوس ہوتے ہیں اور اپنی ناداری کی وجہ سے شروفساد اور ظلم و ضلالت کی حدوں کو پار کر جاتے ہیں۔
بعض اوقات اللہ اہل خیر پر بارش کردیتا ہے تاکہ وہ مزید نیکی کے کام کریں۔ اگر ان کے پاس دولت نہ ہوتی تو وہ یہ کام نہ کرسکتے اور اس لیے بھی کہ وہ اللہ کا شکر ادا کریں۔ دل کے ساتھ ، زبان کے ساتھ اور عمل کے ساتھ۔ وہ اپنے مال کے ذریعے ایسی نیکیاں کمائیں جو اللہ کے ہاں ان کے لیے ذخیرہ ہوں اور کبھی اہل خیر محروم کیے جاتے ہیں تاکہ محرومیت پر ان کے صبر اور شکر کو آزمایا جائے۔ یہ دیکھا جائے کہ وہ اللہ پر کس قدر بھروسہ کرتے ہیں۔ کس قدر رحمت کے امیدوار ہوتے ہیں اور اللہ کی تقدیر پر ان کو کس قدر یقین ہوتا ہے۔ کس قدر راضی برضا ہوتے ہیں اور رب تعالیٰ اچھا اور باقی رہنے والا ہے۔ اس طرح ان کا ذخیرہ آخرت بڑھ جاتا ہے اور اللہ ان سے بہت راضی ہوتا ہے۔
بہرحال رزق کی فراوانی اور تنگی کے جو اسباب بھی ہوں ، اور لوگوں کے اعمال اور حکمت الہیہ کے حوالے سے جو بھی سبب ہو ، حقیقت یہ ہے کہ یہ مسئلہ اللہ کے ہاں مقبولیت سے بالکل علیحدہ مسئلہ ہے۔ اس کی بنا پر اللہ کے ہاں کوئی مقدم و موخر نہیں ہوتا۔ اللہ کے ہاں مقدم اور موخر ہونے کا دار و مدار اس پر ہے کہ جس شخص کے مال اور اولاد میں فراوانی دی گئی ہے وہ اپنے مال اور اولاد میں تصرف کیسے کرتا ہے۔ اسی طرح جسے رزق کی تنگی دی گئی ہے وہ کس قدر صبر وشکر کرتا ہے۔ لہٰذا مال و اولاد والا شخص اگر اپنے مال اور اولاد میں اچھا تصرف کرتا ہے تو اللہ اس کے اجر میں اضافہ کرے گا۔
Ayahs 34:37–38وما اموالکم ولا اولادکم ۔۔۔۔۔۔ فی العذاب محضرون (27 – 28)
نہایت صراحت کے ساتھ بتایا جاتا ہے کہ رزق کی فراوانی کے ذریعہ کوئی اللہ کے ہاں مقبول نہیں ہوجاتا۔ ہاں اگر کوئی اپنی دولت میں سے فی سبیل اللہ خرچ کرتا ہے تو وہ اللہ کے ہاں مفید ہے۔
Ayah 34:39قل ان ربی یبسط ۔۔۔۔۔۔ خیر الرزقین (29) ” یہ سبق ایک ایسے منظر پر ختم ہوتا ہے جس میں وہ تمام لوگ فرشتوں کے سامنے پیش کیے جاتے ہیں ، جو فرشتوں کی بندگی کرتے ہیں اور جب ان سے کہا جاتا تھا کہ قیامت کے عذاب سے ڈرو تو وہ کہتے تھے کہاں ہے قیامت ، لاؤ۔ ان سے کہا جائے گا اب چکھو اس عذاب کو جس کے متعلق تمہیں جلدی تھی۔
Ayahs 34:40–42ویوم یحشرھم جمیعا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کنتم بھا تکذبون (40 – 42)
ان فرشتوں کی وہ اللہ کے سوا پرستش کرتے تھے یا ان کو وہ اللہ کے ہاں سفارشی بناتے تھے۔ اب ان کو ان کے سامنے پیش کیا جاتا ہے ، فرشتے اللہ کی پاکی بیان کرتے ہیں اور اس بات کا انکار کرتے ہیں کہ یہ لوگ ان کی عبادت کرتے تھے۔ گویا یہ بندگی اور عبادت ان کی جانب سے لغو اور کالعدم حرکت تھی۔ گویا یہ ہوئی ہی نہیں ہے۔ بلکہ یہ بندگی دراصل شیطان کی بندگی کرتے تھے تو گویا شیطان کی بندگی کرتے تھے۔ جنوں کی بندگی تو عربوں میں ۔۔۔ تھا۔ بعض لوگ ایسے تھے جو جنوں کی بندگی بھی کرتے تھے اور ان سے استعانت بھی کرتے تھے۔
بل کانوا یعبدون الجن اکثرھم بھم مومنون (34: 41) ” دراصل یہ ہماری نہیں بلکہ جنوں کی عبادت کرتے تھے اور ان میں سے اکثر انہی پر ایمان لائے تھے “۔ یہاں سے معلوم ہوتا ہے کہ قصہ سلیمان (علیہ السلام) کا ان مسائل کے ساتھ تعلق ہے۔ یہ قرآن کریم کا خاص انداز ہے کہ قصص سورة کے موضوع سے مربوط ہوتے ہیں۔
یہ منظر اسکرین پر چل رہا تھا کہ اچانک کلام کا اسلوب بدل جاتا ہے اور براہ راست خطاب شروع ہوجاتا ہے اور یہ شرمسار کنندہ باتیں ان سے کہی جاتی ہیں۔
فالیوم لا یملک بعضکم لبعض نفعا ولاضرا (34: 42) ” آج تم میں سے کوئی نہ کسی کو فائدہ پہنچا سکتا ہے نہ نقصان “۔ نہ فرشتے کسی کو فائدہ پہنچا سکتے ہیں ۔ نہ یہ کفار ایک دوسرے کو فائدہ پہنچا سکتے ہیں۔ وہ آگ جس کی ظالم تکذیب کرتے تھے اور جس کے بارے میں وہ مطالبہ کرتے تھے کہ لاؤ وہ آگ ، اسے اب وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہوں گے۔
ونقول للذین ۔۔۔۔۔ بھا تکذبون (34: 42) ” اور ظالموں سے ہم کہہ دیں گے کہ اب چکھو اس عذاب جہنم کا مزہ جسے تم جھٹلایا کرتے تھے “۔ یہاں یہ سبق ختم ہوجاتا ہے جس کا مرکزی مضمون حساب و کتاب ، سزا و جزاء اور قیام قیامت ہے ، جس طرح دوسرے اسباق کا بھی یہی مضمون رہا ہے۔
Ayah 34:43درس نمبر 198 ایک نظر میں
اس سورة کے اس آخری سبق کا آغاز مشرکین اور نبی ﷺ اور قرآن کریم کے بارے میں ان کے اقوال سے ہوتا ہے۔ ان کو یہ بات یاد دلائی جاتی ہے کہ ان جیسے لوگوں کا انجام کیا ہوا کرتا ہے۔ انسانی تاریخ کی ایسی اقوام کی داستانوں کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے جو ان سے زیادہ قوی ، زیادہ علم والی اور زیادہ مالدار تھیں ، جن کو اس دنیا ہی میں پکڑ لیا گیا۔
اس کے بعد عقل و خرد کے تاروں پر مسلسل شدید ترین ضربات لگائی جاتی ہیں۔ پہلی ضرب میں ان کو یہ بات سکھائی جاتی ہے کہ ذرا تنہائی میں ، تمام رکاوٹوں اور پردوں کو ہٹا کر جو انہیں صحیح فکر و نظر سے روکتے ہیں اللہ کے بارے میں سوچیں۔ دوسری ضرب میں ، ان کو اس حقیقت پر غور کرنے کے لئے دعوت دی گئی ہے کہ وہ دیکھیں کہ نبی کریم ﷺ ان لوگوں کو مسلسل جو دعوت دے رہے ہیں اس دعوت میں ان کا کوئی مفاد بھی نہیں ہے اور آپ ان سے اجر بھی طلب نہیں کرتے تو آخر یہ لوگ حضور ﷺ کی دعوت میں شک کیوں کرتے ہیں اور منہ کیوں موڑتے ہیں۔ اس کے بعد قل قل قل سے یہ ضربات مسلسل لگائی جاتی ہیں اور یہ اس قدر زور دار ہیں کہ اگر کسی دل میں ذرہ برابر بھی شعور ہو تو وہ متاثر ہوئے نظر نہیں رہ سکتا۔
اور یہ سبق قیامت کے ایک نہایت ہی متحرک منظر پر ختم ہوتا ہے جو نہایت ہی متحرک ہے اور سابقہ ضربات کے ساتھ مناسب ہے۔
درس نمبر 198 تشریح آیات
43 ۔۔۔ تا۔۔۔ 54
Ayahs 34:44–45واذا تتلی علیھم ایتنا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فکیف کان نکیر (43 – 45)
ان لوگوں کے سامنے رسول اللہ ﷺ نہایت واضح سچائی پیش فرماتے تھے لیکن وہ اس کا مقابلہ ماضی کے افسانوں سے کرتے تھے۔ یہ چند پارینہ رسم رواج تھے اور اوہام و خرافات تھے جو انہوں نے سینے سے لگائے ہوئے تھے۔ ان کے اندر کوئی جامعیت اور ربط بھی نہ تھا۔ جب ان لوگوں نے دیکھا کہ قرآن مجیس سیدھی سادی سچائی پیش کر رہا ہے اور قرآن کی تعلیمات ایک مکمل اور مربوط نظام زندگی ہیں اور معقول اور دل کو لگتی ہیں تو انہوں نے یہ خطرہ محسوس کیا کہ ان کے آباؤ اجداد سے منقول خرافات ، غیر معقول ، رسم و رواج اس معقول نظام زندگی کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔ اس لیے انہوں نے یہ اعلان کیا کہ یہ نئی تعلیم ان کے تمام سرمایہ رسوم کے لیے خطرہ ہے۔
ما ھذا الا ۔۔۔۔۔ یعبد اباء کم (34: 43) ” کہ یہ شخص تو بس یہ چاہتا ہے کہ تم کو ان معبودوں سے برگشتہ کر دے جن کی عبادت تمہارے باپ داد کرتے آئے ہیں “۔ لیکن صرف یہ الزام لگا دینا تو کافی نہ تھا کیونکہ صرف یہ بات کہ آباء و اجداد کے معبودوں سے روکتا ہے سب لوگوں کے لیے مسلم نہ ہوسکتی تھی۔ اس لیے اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے ایک دوسرا الزام بھی لگایا کہ جو تعلیمات حضرت محمد ﷺ پیش کر رہے ہیں یہ اللہ کی طرف سے نہیں ہیں۔
وقالوا ما ھذا الا افک مفتری (34: 43) ” اور کہتے ہیں کہ یہ قرآن تو محض ایک جھوٹ گھڑا ہوا ہے “۔ افک کے معنی جھوٹ اور افتراء کے ہیں۔ لیکن مفتری کا لفظ بطور تاکید لائے ہیں تاکہ ابتداء ہی سے قرآن کی قدر و قیمت میں کمی کردی کیونکہ جب قرآن کریم کے حقیقی مصدر ہی کو مشکوک بنا دیا گیا تو اس کی قدروقیمت ظاہر ہے کہ کم ہوجاتی ہے۔ اور مزید یہ الزام۔
وقال الذین کفروا ۔۔۔۔۔ سحر مبین (34: 43) ” ان کافروں کے سامنے جب حق آیا تو انہوں نے کہہ دیا کہ یہ تو صریح جادو ہے “۔ اور یہ الزام انہوں نے اس لیے لگایا کہ قرآن ایک نہایت موثر کلام تھا۔ جو اس کو سنتا اس کی دینی دنیا میں بھونچال آجاتا۔ اس لیے صرف یہ بات بھی کافی نہ تھی کہ یہ جھوٹ اور گھڑا ہوا ہے۔ اس لیے اس کے اثر کی تاویل یہ کی کہ یہ کھلا جادو ہے۔ یہ مسلسل الزامات تھے۔ ایک کے بعد دوسرا الزام اور یہ الزامات بھی وہ اللہ کے قرآن پر لگا رہے تھے تاکہ لوگوں کے دلوں پر اس کا اثر نہ ہو لیکن یہ لوگ جو الزام لگاتے تھے ان میں سے کسی پر خود ان کے ساتھ کوئی ثبوت نہ تھا۔ یہ سب جھوٹے الزامات تھے اور عوام الناس کو گمراہ کرنے کے لیے تھے۔ جو لوگ یہ الزامات لگاتے تھے وہ کبراء اور سردار تھے۔ یہ کبراء اور سردار خود پوری طرح یقین رکھتے تھے کہ قرآن کریم خدا کی سچی کتاب ہے۔ یہ کتاب انسانی طاقت سے باہر ہے۔ بڑے سے بڑے متکلمین بھی اس قسم کا کلام لانے سے عاجز آگئے تھے۔ ہم نے ظلال القرآن میں ایسے لوگوں کی کئی روایات دی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی ﷺ اور قرآن کے بارے میں ان کی اصل رائے کیا تھی۔ اور یہ روایات بھی ہم نے بتا دیں کہ وہ قرآن کریم کے بارے میں اور اس کے خلاف کیا کیا تدابیر کرتے تھے۔
قرآن کریم نے ان کی اس کمزوری کو کھول دیا۔ اور یہ کہا کہ یہ عرب توامی تھے ، یہ اہل کتاب نہ تھے کہ وہ کسی آسمانی کتاب کی تعلیمات کے بارے میں کوئی فیصلہ کن بات کرسکیں۔ یہ لوگ وحی کے بارے میں بھی نہ جانتے تھے۔ اس لیے یہ لوگ وحی کے بارے میں بھی کوئی ماہر لوگ نہ تھے۔ نیز ان کے پاس حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے بعد کوئی رسول بھی نہیں آیا تھا کہ یہ اس بارے میں کوئی ماہرانہ رائے دے سکیں۔ لہٰذا وہ رسول اللہ ﷺ ، قرآن اور وحی کے بارے میں جو کچھ کہتے ہیں وہ ایسی باتیں ہیں جس موضوع پر ان کو کوئی علم نہیں۔
وما اتینھم من ۔۔۔۔۔ من نذیر (34: 44) ” حالانکہ ہم نے ان لوگوں کو پہلے کوئی کتاب نہ بھیجی تھی کہ یہ اسے پڑھتے ہوں اور نہ تم سے پہلے ان کی طرف کوئی متنبہ کرنے والا بھیجا تھا “۔ ان کے دلوں کو احساس دلایا جاتا ہے کہ ذرا ان سے پہلے کے ان لوگوں کے انجام پر غور کرو جنہوں نے تکذیب کی۔ تم لوگ ان لوگوں کے مقابلے میں بہت کم قوت والے ہو۔ وہ علم والے تھے ، مال والے تھے ، قوت والے تھے اور ترقی یافتہ تھے لیکن جب انہوں نے رسولوں کی تکذیب کی تو ان کو عذاب الٰہی نے گھیر لیا اور وہ بہت ہی سخت پکڑ میں آگئے۔
وکذب الذین ۔۔۔۔۔ کان نکیر (34: 45) ” ان سے پہلے گزرے ہوئے لوھ جھٹلاچکے ہیں جو کچھ ہم نے انہیں دیا تھا اس کا عشر عشیر بھی ان کے پاس نہیں ہے مگر جب انہوں نے میرے رسولوں کو جھٹلایا تو دیکھ لو کہ میری سزا کیسی سخت تھی “ اللہ کی یہ سزا نہایت ہی تباہ کن تھی۔ ان منکرین میں سے بعض لوگ ایسے تھے جن کے بارے میں قریش جانتے بھی تھے لہٰذا ان کو یہ یاد دہانی کافی تھی۔ لیکن یہاں طنزیہ انداز میں سوال کیا گیا ہے۔
فکیف کان نکیر (34: 45) ” میری سزا کیسی تھی “۔ چونکہ مخاطبین کو معلوم تھا کہ یہ سز اکیسی تھی اس لیے یہ سوالیہ انداز نہایت موثر ہے۔
ان لوگوں کو نہایت ہی سنجیدگی کے ساتھ یہ دعوت دی جاتی ہے کہ سچائی کے ساتھ تم حق کو تلاش کرو اور سچائی کے بارے میں جو جھوٹا پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے اسے سمجھنے کی کوشش کرو اور جو دعوت تمہارے سامنے پیش کی جا رہی ہے اس کے بارے میں خارجی موثرات سے آزاد ہو کر سوچو اور اس کی قدروقیمت معلوم کرو۔
Ayah 34:46قل انما اعظکم ۔۔۔۔۔ عذاب شدید (46) ” “۔ یعنی اللہ کے مقابلے میں غور رو ، اور یہ غور اپنی ذاتی خواہشات کو ایک طرف رکھ کر دو ۔ اپنی مصلحتوں سے صرف نظر کرتے ہوئے غور کرو۔ دنیا کے حالات اور میلانات سے ہٹ کر کرو ، اور ان وسوسوں اور خلجانات سے ہٹ کر گرجو دلوں میں پیدا ہوتے ہیں ، یہ سب چیزیں انسان کو اللہ سے دور کرتی ہیں ، غرض تمہاری سوسائٹی اور تمہارے معاشرے کے اندر راسخ تصورات سے ہٹ کر تم اللہ کے معاملے پر غور کرو۔
یعنی دعوت اسلامی کے مضمون کو سادہ انداز میں لو ، اپنے رائج تصورات کے حوالے سے نہ لو۔ نہ خالص منطقی اور فلسفیانہ انداز میں لو جس میں لفاظی تو بہت ہوتی ہے لیکن سیدھی سادہ حقیقت کو جاننے کی کوشش نہیں کی جاتی۔ ان کو دعوت دی جاتی ہے کہ منطقیانہ سوچ کے بجائے فطرت کی سنجیدہ سوچ کا راستہ اختیار کرو۔ جس میں شورو شغب کم ہوتا ہے اور خلط مبحث نہیں ہوتا نہ سوچ میں ٹیڑھ ہوتی ہے اور نہ فکر میں گدلاپن ہوتا ہے بلکہ صاف و شفاف سوچ ہوتی ہے۔
لیکن فطری انداز میں تلاش حقیقت بھی دراصل حقیقت کی تلاش ہی ہوتی ہے۔ جبکہ یہ سوچنے کا سیدھا سادہ طریقہ ہوتا ہے۔ جس پر معاشرے کے رائج افکار اثر انداز نہیں ہوتے ، نہ معاشرے کے اندر رائج غلط رسم و رواج اثر ڈالتے ہیں صرف خدا کا خوف اور اللہ کی نگرانی ہی بڑی موثر ہوتی ہے۔ اس سوچ کا راستہ صرف ایک ہی ہے خدا کا راستہ ، خدا کے سامنے جھکنے کا راستہ ، خدا کی رضا کا راستہ۔ اور بےلوث راستہ جس میں کوئی ذاتی خواہش ، کوئی مصلحت ، کوئی مفاد موثر نہ ہو ، خالص انداز میں فطری سوچ جس پر
کوئی خارجی عوامل اثر انداز نہ ہوں۔ یعنی صرف اللہ کے لیے سوچ۔
ان تقوموا للہ مثنی وفرادی (34: 46) ” خدا کے لیے تم اکیلے اور دو دو مل کر اپنا دماغ لڑاؤ “۔ دو دو اس طرح کہ دعوت اسلامی کے مسئلے پر ایک دوسرے کے ساتھ مذاکرہ کرو ، یعنی محدود تعداد میں شوروشغب سے علیحدہ ہوکر مذاکرہ کرو ، عوام الناس کی بھیڑ سے الگ ہوکر۔ حالات اور عوام سے متاثر ہوئے بغیر کیونکہ عوام الناس وقتی حالات سے متاثر ہوتے جاتے ہیں ، اور اکیلے غور کرو ، جو غوروفکر کا سب سے موثر طریقہ ہے۔
ثم تتفکروا ما بصاحبکم من جنۃ (34: 46) ” سوچو کہ تمہارے صاحب میں آخر کون سی بات ہے جو جنون کی ہو “۔ آپ کے سامنے تو وہ عقل ، تدبر اور نہایت ہی دانائی کی بات کرتا ہے۔ اور آخر وہ کون سی بات ایسی کرتا ہے جس سے معلوم ہو کہ اس کی عقل میں فرق ہے۔ وہ تو نہایت ہی مضبوط ، قوی اور واضح بات کرتا ہے۔
ان ھو الا نذیر لکم بین یدی عذاب شدید (34: 46) ” وہ تو ایک سخت عذاب کی آمد سے پہلے تم کو متنبہ کرنے والا ہے “۔ شدید ترین عذاب کے واقع ہونے کا امکان انسان کو غوروفکر پر آمادہ کرتا ہے اور ڈرانے والے نے متنبہ بھی کردیا تاکہ جو بچنا چاہتا ہے ، بچ جائے۔ مگر ایک شخص چلاتا ہے کہ آگ لگ گئی ہے بھاگو۔ اگر کوئی نہیں بھاگتا تو اپنے آپ کو خطرے میں ڈالتا ہے جبکہ آواز دینے والا ہے بھی سچا شخص اور نہایت ہی بہترین کردار کا مالک ہے۔
امام احمد نے ابو نعیم شیر سے عبد اللہ ابن بریدہ ہے ، اس نے اپنے باپ سے ، کہتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ ہم پر نکلے تو تین بار آواز دی لوگو ، تمہیں معلوم ہے کہ میری اور تمہاری مثال کیا ہے ؟ لوگوں نے کہا اللہ اور رسول اللہ خوب جانتے ہیں۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا : ” میری اور آپ لوگوں کی مثال ایسی ہے جیسے ایک قوم کو کسی دشمن کے حملے کا خطرہ ہو۔ انہوں نے ایک آدمی بھیجا کہ وہ حالات معلوم کرکے بتائے۔ یہ شخص دیکھ رہا تھا کہ دشمن آگیا۔ وہ چلانے لگا اور اسے ڈر تھا کہ لوگوں کو اس کی آواز پہنچنے سے پہلے ہی اسے دشمن پکڑ نہ لے۔ تو اس نے دور ہی سے کپڑا ہلایا ، لوگو ، دشمن آگیا ، دشمن آگیا ، لوگو تم پر حملہ ہوگیا “۔ اور ایک دوسری روایت میں حضور ﷺ سے مروی ہے کہ میں اور قیامت ایک ہی ساتھ بھیجے گئے ہیں۔ اس بات کا امکان ہے کہ قیامت مجھ سے بھی پہلے آجائے ۔ یہ تو تھی پہلی ضرب ۔ اب دوسری ضرب ملاحظہ ہو۔
Ayah 34:47قل ما سالتکم۔۔۔۔۔ کل شیئ شھید (47) ” “۔ پہلے تو آپ نے ان کو دعوت دی کہ تم لوگ اکیلئے یا دو دو مل کر تحریک اسلامی پر غور کرو کہ تمہارے ساتھی کی دعوت میں آخر جنوں کی کیا بات ہے۔ یہاں کہا جاتا ہے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ حضور اکرم ﷺ لوگوں کے ڈرانے میں اس قدر مگن ہیں اور لوگوں کو شدید عذاب سے ڈرا رہے ہیں۔ آخر اس میں ان کا مفاد کیا ہے۔ اس کے اسباب کیا ہیں ۔ حضور ﷺ کو کیا فائدہ ہے۔ اس حقیقت کی طرف ان لوگوں کی سوچ اور قوت استدلال کو نہایت ہی موثر انداز میں متوجہ کیا جاتا ہے۔
قل ما سالتکم من اجر فھو لکم (34: 47) ” کہو میں اگر تم سے کوئی اجر مانگتا ہوں تو وہ تم ہی لے لو “۔ یہ اجر تمہیں ہی مبارک ہو۔ یہ نہایت ہی طنز یہ انداز ہے اور اس میں ان کے لیے سرزتش بھی ہے ۔
ان اجری الا علی اللہ (34: 47) ” میرا اجر تو اللہ کے ذمہ ہے “۔ اسی نے مجھے اس کام پر لگایا ہے ۔ وہی معاوضہ دے گا ۔ میں اسی سے امید رکھتا ہوں اور جو شخص اللہ کے عطیہ کا امید وار ہو ، اس کے نزدیک پھر اہل دنیا کا ہر عطیہ حقیر اور بےقیمت ہوجاتا ہے ۔ اس کے بارے میں ایسا شخص سوچتاہی نہیں ہے ۔
وھو علی کل شئی شھید (34: 47) ” وہ ہر چیز پر گواہ ہے “۔ وہ جانتا ہے ، دیکھتا ہے اور اس سے کوئی چیز خفیہ نہیں ہوتی ۔ وہ میرے اوپر گواہ ہے ۔ میں جو کچھ ساچتا ہوں ، جو کچھ کہتا ہوں اور جو کچھ کرتا ہوں۔ اب تیسرا مضراب :
Ayah 34:48قل ان ربی ۔۔۔۔ الغیوب (48) ” “۔ یعنی میں جو چیز لے کر آیا ہوں وہ حق ہے ۔ یہ وہ مضبوط حق ہے جسے اللہ قوت سے پھینکتا ہے ۔ اس سچائی کے مقابلے میں کون کھڑا ہوسکتا ہے جسے اللہ زور دار انداز سے نازل کررہا ہو ۔ یہ ایک نہایت ہی مجسم اور مصور انداز تعبیر ہے ۔ گویا حق کے گولے برس رہے ہیں ، بمباری ہورہی ہے اور کسی کو ہمت نہیں ہے کہ اس کے سامنے کھڑا ہوسکے ۔ اللہ سچائی کے گولے پھینک رہا ہے جو علام الغیوب ہے ۔ وہ علم سے یہ گولے پھینک رہا ہے ۔ علم کے ساتھ ان کا رخ کسی کی طرف کرتا ہے ۔ اس کا نشانہ خطا نہیں ہوتا ۔ کوئی چیز اس سے غائب نہیں ہے اور کوئی چیز اس سچائی کی ذد سے بچ نہیں سکتی اس لیے کہ رکاوٹ بننے والی کوئی چیز سامنے نہیں ہے ۔ اللہ کے سامنے نشانہ کھلا ہے ۔
Ayah 34:49اب آخری ضرب : قل جاء ۔۔۔۔۔ وما یعید (49) ” “۔ سچائی آگئی ہے ، رسول آگیا ، قرآن آگیا ، اسلامی نظام زندگی سیدھا سیدھا آگیا ۔ اعلان کردو ، اور کھلا اعلان کردو کہ اب حق آگیا ہے ۔ یہ گولہ قوت کے ساتھ پھینکا گیا ہے ۔ قوت اور سربلندی کے ساتھ آگیا ہے ۔
وما یبدی الباطل وما یعید (34: 49) ” باطل کے لیے نہ آغاز ہے اور نہ انجام “۔ اس کا معاملہ اب ختم ہے ۔ اس کی زندگی ختم ہے ۔ اب اس کے لیے کوئی میدان عمل نہیں ہے ۔ اس کا جانا ٹھہر گیا ہے ۔ یہ ایک نہایت ہی ہلا مارنے والی ضرب ہے ۔ جو کوئی بھی اس اعلان کو سنتا ہے ، وہ یقین کرلیتا ہے کہ اب کوئی گنجائش نہیں ہے ، باطل کے قائم رہنے کی ۔ لہٰذا حق کے سوا اب کسی اور کی حکمرانی نہ ہوگی ۔
اور حقیقت بھی یہی ہے کہ جب سے قرآن آیا ہے ، سچائی کا منہاج دنیا میں قائم ہوگیا ہے اور باطل ان اس سچائی کے سامنے دفاعی پر زیشن میں ہے ، کیونکہ سچ نے غالب ہونے کا عزم بالجزم کیا ہوا ہے ۔ اگر چہ بعض اوقات باطل کو مادی قوت حاصل ہوتی ہے لیکن وہ کبھی حق پر نظریاتی برتری حاصل نہیں کرسکا۔ یہ اور بات ہے کہ بعض اوقات اہل باطل اہل حق پر غالب آجاتے ہیں لیکن یہ اہل حق کی غلطی کی وجہ سے وقتی تزلزل ہوتا ہے ۔ جہاں تک حق کا تعلق ہے ، وہ اپنی جگہ جماہواہوتا ہے۔ واضح ہوتا ہے ، صریح
ہوتا ہے ۔ اور آخری ضرب۔
Ayah 34:50قل ان ضللت۔۔۔۔ سمیع قریب (50)
اگر میں گمراہ ہوگیا ہوں تو اس کا وہال تم پر نہ ہوگا ۔ میں خود ذمہ دار ہوں گا اور اگر میں ہدایت ہر ہوں تو اللہ نے بذریعہ وحی مجھے یہ ہدایات دی ہیں ۔ میں خود از خود کوئی کام کرنے کا مجاز نہیں ہوں ۔ میں تو خود بھی اسیراشارہ ابرر دہوں ۔
انہ سمیع قریب (34: 50) ” وہ سب کچھ سنتا ہے اور قریب ہی ہے “۔ یہ لوگ اللہ کو قریب پاتے تھے ۔ ان کے تصور میں اللہ کی یہ صفات بیٹھی ہوئی تھیں اور ان کی حقیقی زندگی میں یہ صفات موثر تھیں ۔ ان کو یقین تھا کہ اللہ سمیع ہے اور قریب ہے ۔ اور وہ ان کے امور کو براہ راست دیکھ رہا ہے ۔ ان کی شکایت اور ان کے مشورے سب اللہ کے سامنے ہیں ۔ اللہ نے اپنے بندوں کو چھوڑ نہیں رکھا اور نہ کسی کے حوالے کررکھا ہے ۔ چناچہ ان کی زندگی اللہ کی انس و محبت میں گزرتی تھی ۔ اللہ کے زیر سایہ تھی ۔ اس کے پڑوس میں تھی ۔ اس کی مہربانیوں میں تھی ۔ اس کی نگرانی میں تھی اور یہ عقیدہ وہ اپنے قصوس کے اندر زندہ پاتے تھے ، زندہ اور سادہ شکل میں۔ یہ صفات محض تصور ہی نہ تھیں بلکہ زندہ اور عملی تھیں انہ سمیع قریب (34: 50)
Ayahs 34:51–54اب خاتمہ اس سورة کا قیامت کے مناظر میں سے ایک منظر کے ساتھ ہوتا ہے ۔ یہ منظر حرکت اور دوڑ دھوپ سے پر ہے ۔ اس میں دنیا اور آخرت کے ڈانڈے ملے ہوئے ہیں ۔ گویا دنیا اور آخرت ایک ہی اسٹیج پر ہیں ۔ اس منظر کی جھلکیاں بڑی تیزی سے اسکرین پر گزرتی ہیں۔
فزعوا (34: 51) اچانک ان پر خوف طاری ہوگیا ہے ۔ یہ بھا گنا چاہتے تو تھے لیکن دیکھو پکڑے جارہے ہیں ، کوئی ایک بھی بھاگ نہیں سکتا ۔ بلکہ یہ دور تک نہیں بھاگ سکتے قریب قریب ہی سے پکڑے جارہے ہیں ۔
واخذوا من مکان قریب (34: 51) اچانک انہوں نے تھوڑی بہت حرکت تو کی بھاگنے کے لیے مگر نہ بھاگ سگے ۔
اب سب کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے بعد ازوقت ۔ اب تو ایمان ان سے بہت دور نکل گیا ہے ۔ بہت دور جا چکا ہے ۔ یہ ان اسے پکڑ نہیں سکتے ۔
التناوش من مکان بعید (34: 52) اب ان کی سعی طرح ہے جس طرح کوئی کسی چیز کو دور سے پکڑ نا چاہے ، مگر نہ پکڑ سکے ۔ ایمان تو دور دنیا میں رہ گیا ہے ۔ انہوں نے موقع ضائع کردیا۔
وقدکفر وابہ من قبل (34: 53) ” اس سے پہلے انہوں نے ایمان سے انکار کردیا “۔ اب یہاں تو معاملہ ختم ہے ، مہلت ختم ، اب سعی لا حاصل ہے ۔
ویقذ فون بالغیب من مکان بعید (34: 53) ” یہ دور سے غائب نشانے پر پھینکتے تھے “۔ اس وقت انہوں نے انکار ہی کر دیا تھا کہ قیامت نہیں ہے حالانکہ وہ مستقبل کے پر دوں میں اسے کسی طرح دیکھ سکتے تھے کہ نہیں ہے ۔ اس طرح وہ دور نامعلوم نشانے پر بمباری کررہے تھے ۔ اور اب ایمان لانے کی سعی کررہے ہیں جبکہ وہ دور نکل گیا ہے ۔
وحیل ۔۔۔ یشتھون (34: 54) ” اس وقت جس چیز کی یہ تمنا کررہے ہوں گے ۔ اس سے وہ محروم کردیئے جائیں گے “۔ اب یہ ایمان سے محروم ہوں گے کیونکہ وہ بعدازوقت ہوگا ۔ اب عذاب سے بچنا ممکن نہ ہوگا کہ وہ سرپر ہوگا ۔
کما۔۔۔ من قبل (34: 54) ” جس طرح ان کے پیش ردہم مشرب محروم کردیئے جائیں گے “۔ یعنی جب ان پر پکڑ آئی تو انہوں نے نجات کی دعا کی لیکن اب نہ دعا کا وقت تھا نہ بھا گنے کی جگہ تھی ۔
انھم۔۔۔ مریب (34: 54) ” یہ بڑے گمراہ کن شک میں پڑے ہوئے تھے “۔ اور اب یقین کو وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں “۔
اس سورة کا خاتمہ اس شدید ضرب پر ہوتا ہے ۔ اور یہ منظر قیامت ، قیام قیامت کو عملاً ثابت کردیتا ہے کہ وہ دیکھو قیامت برپا ہوگئی ! یہی مضمون تھا اس سورة کا ۔ آغاز بھی قیامت کے قیام اور انتہا بھی احوال قیامت پر ۔