Ayahs 34:1–91۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے آیت وہوالحکیم الخبیر کے بارے میں روایت کیا کہ وہ حکیم ہے اپنے کام میں باخبر ہے اپنی مخلوق سے۔
2۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) روایت کیا کہ آیت یعلم مایلج فی الارض (وہ جانتا ہے جو چیز داخل ہوتی ہے زمین میں) یعنی بارش آیت وما یخرج منہا (اور جو چیز نکلتی ہے اس میں سے) یعنی سبزے میں سے آیت وما ینزل من السماء اور جو نازل ہوتا ہے آسمان سے یعنی فرشتے آیت وما یعرج فیہا اور جو اس میں چڑھتے ہیں یعنی فرشتہ۔
3۔ عبدالرزاق وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ رحمۃ الہ علیہ سے روایت کیا کہ آیت قل بل وربی لتاتینکم۔ علم الغیب کیوں نہیں اور میرا رب جو غیب کا جاننے والا ہے وہ تمہارے پاس ضرور لائے گا قیامت کے دن کو۔
4۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت اولئک لہم مغفرۃ ورزق کریم یہی لوگ ہیں کہ ان کے لیے مغفرت ہے اور عمدہ رزق ہے۔ یعنی مغفرت ہے ان کے گناہوں کے لیے ورزق کریم اور عمدہ رزق ہے جنت میں آیت ” والذین سعوفی اٰیتنا معجزین “ (اور جن لوگوں نے ہماری آیات کے بارے میں (ان کو باطل کرنے کی کوشش کی ہم کو ہرانے کے لیے یعنی وہ ہم کو عاجز نہیں کرسکے ” اولئک لہم عذاب من رجز الیم (اور تو دیکھے گا لوگوں کو جو علم دئیے گئے وہ اس قرآن کو جو آپ کی طرف اتارا گیا آپ کے رب کی طرف سے ایسا سمجھتے ہی کہ وہ ہی حق ہے) یعنی محمد ﷺ کے اصحاب نے یہی بات کہی تھی۔
5۔ ابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ آیت ویری الذین اوتوا العلم الذی اور وہ لوگ دیکھتے ہیں جو علم دئیے گئے یعنی جو حکمت دئیے گئے من قبل پہلے سے یعنی ایمان لانے والے اہل کتاب میں سے۔
6۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت وقال الذین کفروا ہل ندلکم علی رکل ینبئکم اور کافروں نے کہا کیا ہم تم کو ایسا آدمی نہ بتائیں جو تم کو یہ خبردیتا ہے۔ یعنی یہ بات مکہ کے مشرکین نے کہی تھی آیت اذا مزقتم کل ممزق۔ جب تم بالکل ریزہ ریزہ ہوجاؤگے۔ یعنی جب تم کو زمین کھاجائے گی اور تم ہڈیاں اور چورا ہوجاؤ گے اور تم کو درندے اور پرندے کاٹ ڈالیں گے آیت انکم لفی خلق جدید (بلاشبہ تم نئی پیدائش میں آؤ گے) یعنی تم زندہ ہوگے اور تم اٹھائے جاؤ انہوں نے یہ بات نبی کی تکذیب کرتے ہوئے کہی تھی۔ آیت افتری علی اللہ کذبا ام بہ جنۃ کیا اس نے اللہ پر جھوٹ باندھا یا اس کو جنون ہے یعنی انہوں نے کہا یعنی انہوں نے کہا یا تو نے اللہ پر جھوٹ باندھا ہے یا اس کو جنون ہوگیا ہے۔ افلم یروا الی ما بین ایدیہم وما خلفہم من السماء والارض کیا انہوں نے آگے پیچھے آسمان و زمین کو نہیں دیکھا یعنی بلاشبہ اگر آپ دیکھتے اپنی دائیں جانب سے یا اپنی بائیں جانب اور اپنے آگے سے اور اپنے پیشھے تو دیکھے گا آسمان و زمین کو آیت ان نشأ نخسف بہم الارض اگر ہم چاہیں تو ان کو زمین میں دھنسا دیں جیسے ہم نے ان سے پہلے لوگوں دھنسایا آیت او نسقط علیہم کسفا من السماء یا ہم ان پر گرادیں ایک ٹکڑا آسمان سے اگر وہ آسمان سے ان کو عذاب دینا چاہیے تو ایسا کر گزرے اور اگر زمین کے ساتھ عذاب دینا چاہے تو ایسا کردے اور ہر مخلوق اس کا لشکر ہے۔ قتادہ نے فرمایا کہ حسن (رح) کا قول ہے بیشک جھاگ بھی اللہ کے لشکروں میں سے ہے۔ آیت ان فی ذلک لایۃ لکل عبد منیب۔ (بلاشبہ اس میں البتہ نشانی ہے ہر اس بندے کے لیے جو اللہ کی طرف متوجہ ہونے والا ہے قتادہ نے فرمایا کہ عبد منیب سے مراد ہے توبہ کرنے والا اور اللہ کی طرف متوجہ ہونے والا۔
Ayahs 34:10–111۔ ابن ابی شیبہ نے المصنف میں وابن جریر نے ابن عباس رضٰ اللہ عنہما سے روایت کیا کہ آتی اوبی معہ یعنی میری تسبیح بیان کرو داوٗد (علیہ السلام) کے ساتھ۔
2۔ ابن جریر نے ابو میسرہ ؓ سے روایت کیا کہ آتی اوبی معہ یعنی میری تسبیح بیان کرو ان کے ساتھ حبشی زبان میں
3۔ الفریابی وعبد بن حمید وابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا آیت اوبی معہ یعنی میری سبیح بیان کرو۔
4۔ عبد بن حمید نے عکرمہ اور ابو عبدالرحمن رحمہما اللہ سے اسی طرح روایت کیا۔
5۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے روایت کیا آیت یجبال اوبی معہ والطیر اے پہاڑو داوٗد کے ساتھ تسبیح پڑھ پرندوں کے ساتھ اسی طرح آپ کے ساتھ پرندے بھی تسبیح بیان کرتے تھے۔
6۔ ابو الشیخ نے العظمہ میں وہب (رح) سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ پہاڑوں اور پرندوں کو حکم فرمایا کہ داوٗد (علیہ السلام) کے ساتھ تسبیح بیان کرو جب وہ تسبیح پڑھیں۔
پہاڑوں اور پرندوں کو تسبیح کا حکم دیا گیا
7۔ ابو الشیخ نے العظمہ میں وہب (رح) سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں اور پرندوں کو حکم فرمایا کہ داوٗد (علیہ السلام) کے ساتھ تسبیح بیان کرو جب وہ تسبیح پڑھیں۔
8۔ ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے والطیر کو منسوب پڑھا کیونکہ جملہ کا عطف جملہ پر ہے یعنی آیت سخرنا لہ الطیر۔
9۔ ابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ والنا لہ الحدید اور ہم نے ان کے لیے لوہے کو نرم کردیا آٹے کی طرح۔
10۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے آیت والنا لہ الحدید کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے لوہے کو نرم کردیا کہ آپ اپنے ہاتھ سے لوہے کے حلقے بناتے تھے اس کے ساتھ ایسے کام کرتے تھے جیسے مٹی کے ساتھ کام کیا جاتا ہے آگ میں لوہے کو داخل کرنے کی ضرورت نہ تھی اور اس کو ہتھوڑے سے بھی نہیں کوٹتے تھے اور داوٗد (علیہ السلام) پہلے آدمی تھے جنہوں نے سب سے پہلے یہ کام کیا اس سے پہلے لوہے کے پترے ہوتے تھے کہ جن کے ذریعہ اپنے دشمن سے بچاؤ کرتے تھے۔
11۔ ابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ آیت والنا لہ الحدید اور ان کے لیے ہم نے لوہے کو نرم کردیا اس طرح پر کہ وہ ان کے ہاتھ میں آٹے کی طرح ہوجاتا اور اس سے یہ زرہیں بناتے تھے۔
12۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت وقدر فی السرد اور کڑیوں کے جوڑنے میں اندازہ رکھو یعنی لوہے کے حلقوں کو جوڑنے میں اندازہ رکھو۔
13۔ عبد بن حمید وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت وقدر فی السرد یعنی سرد سے مراد ہیں کیلیں جو حلقوں میں ہوتی ہیں۔
زر میں خاص انداز سے بنانے کی تعلیم
14۔ عبدالرزاق والحاکم نے ابن عباس ؓ سے آیت وقدر فی السرد کے بارے میں روایت کیا کہ کیلوں کو باریک نہ کرو اور حلقوں کو کھلا رکھو تاکہ ان میں تلسل رہے اور کیلوں کو گاڑا نہ کرو کہ حلقے تنگ ہوجائیں کہ اور ٹوٹ جائیں اور ان کو خاص انداز سے بناؤ۔
15۔ الفریابی وعبد بن حمید وابن جریر نے مجاہد (رح) آیت وقدر فی السرد کے بارے میں فرمایا کہ انداز رکھو کیولوں اور حلقو میں کیلوں کو بہت باریک نہ کرو تاکہ تسلسل جار رہے اور نہ اسے زیادہ رکھو کہ ٹوٹ جائیں۔
16۔ الحکیم الترمذی نے نوادر الاصول میں وابن ابی حاتم نے ابن شوذب (رح) سے روایت کیا کہ داوٗد (علیہ السلام) ہر دن ایک زرہ تیار کرتے تھے اور اس کو چھ ہزار درہم میں بیچتے تھے دوہزار اپنے لیے اور اپنے اہل و عیال کے لیے تھے اور چار ہزار درہموں سے بنی اسرائیل کو کھانا کھلاتے تھے۔
Ayah 34:121۔ عبد بن حمید وابن جریر نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے ” ولسلیمن الریح “ کو حاء کے رفع کے ساتھ پڑھا۔
2۔ عبد بن حمید وابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے آیت ولسلیمن الریح غدہا شہر ورواحہا شہر (اور ہوا کو ہم نے سلیمان (علیہ السلام) کے تابع بنادیا جس کے صبح کی منزل مہینے بھر کی راہ اور شام کی منزل مہینے بھر کی راہ تھی) یعنی ان کا صبح چلنا ایک مہینے کی مسافت تھی اور ان کا شام کا چلنا ایک مہینے کی مسافت تھی اور یہ سب ایک دن میں ہوتا۔
3۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ہوا کی رفتار دن میں دو ماہ کی مسافت ہوتی تھی۔
4۔ عبدالرزاق وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید نے ابن المنذر وابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ سلیمان (علیہ السلام) کو جب گھوڑوں نے غافل کردیا اور ان کی عصر کی نماز فوت ہوگئی تو اللہ کی رضا کیلیے غصہ ہوگئے اور آپ نے گھوڑوں کے پاؤں کاٹ دئیے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی جگہ بہتر چیز عطا فرمائی اور ہوا کو تیز چلا یا اور ہوا آپ کے حکم سے چلتی تھی جیسے آپ چاہتے تھے صبح کو وہ آپ کو ایک ماہ کی مسافت تک لے جاتی اور شام ایک ماہ کی مسافت سے واپس لاتی اور صبح کو بیت المقدس سے چلتے تھے اور قریرا میں قیلولہ کرتے تھے اور شام کی قریرا سے چلتے تھے تو کابل میں رات گزارتے تھے۔
5۔ الخطیب نے رواۃ مالک میں سعید بن المسیب (رح) سے روایت کیا کہ سلیمان (علیہ السلام) اصطخر سے ہوا پر سوار ہوتے تھے اور بیت المقدس میں صبح کا ھانا کھاتے تھے پھر واپس آکر اصطخر ہوا پر سوار ہوتے تھے اور بیت المقدس میں صبح کا کھانا کھاتے تھے پھر واپس آکر اصطخر میں شام کا کھانا کھاتے تھے۔
6۔ احمد نے الزہد میں حسن (رح) سے آیت غدوہا شہر ورواحہا شہر کے بارے میں فرمایا کہ سلیمان (علیہ السلام) بیت المقدس سے صبح کو چلتے تھے اصطخر میں قیلولہ فرماتے تھے پھر شا کو اصطخر سے چلتے تھے اور خراسان کے قلعہ میں قیلولہ فرماتے تھے۔
7۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت واسلنا لہ عین القطر کہ ہم نے ان کے لیے تانبے کا چشمہ بہادیا۔
8۔ الطستی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ازرق نے ان سے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت واسلنا لہ عین القطر کے بارے میں بتائیے انہوں نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو تانبے کا چشمہ عطا فرمایا تھا وہ پانی کی طرح بہتا تھا پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی کو جانتے ہیں فرمایا ہاں کیا تو نے شاعر کا قوم نہیں سنا۔
فالقی فی مراجل من حدید قدور القصر لیس من البرام
ترجمہ : اس نے تارکول کی ہانڈیوں کو لوہے کی ہانڈیوں میں ڈھالا ہو پتھر کی ہانڈیاں نہ تھیں۔
9۔ قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت واسلنا لہ عین القطر سے مراد ہے کہ تانبے کا چشمہ جو یمن میں تھا آج لوگ جس تانبے سے چیزیں بناتے ہیں یہ اس میں سے ہے۔ جسے اللہ تعالیٰ نے سلیمان (علیہ السلام) کے لیے نکالا تھا۔
10۔ ابن المنذر نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا آیت واسلنا لہ عین القطر سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے تانبہ تین دن کے لیے بہایا وہ پانی کی طرح بہتا تھا پوچھا گیا کہاں تک اسے بہایا گیا فرمایا میں نہیں جانتا۔
11۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ تانبہ کا چشمہ ان کے لیے تین دنوں تک بہایا گیا۔
12۔ ابن المنذر نے ابن جریج کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ القطر سے مراد ہے تانبہ سلیمان (علیہ السلام) کے بعد اس پر کوئی قادر نہیں ہوا اور لوگ اسی تانبے سے چیزیں بنا رہے تھے جو سلیمان (علیہ السلام) کو عطا کیا گیا تھا۔
13۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ عین القطر سے مراد ہے تانبہ کا چشمہ۔
14۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ ہر جن ان کے تابع نہیں تھا جیسے تم سنتے ہو آیت ومن الجن من یعمل بین یدیہ باذن ربہ ومن یزغ منہم عن امرنا۔ (اور کچھ جن ان کے سامنے کام کرتے تھے ان کے رب کے حکم سے اور ان میں سے جو بھی ہمارے حکم سے عدول کرتا تھا ہم اس کو بڑھکتی آگ کا مزہ چکھالیتے تھے) یعنی سلیمان (علیہ السلام) ان کو جن کاموں کا حکم دیتے تھے جن ان سے انحراف کرتے تھے۔
15۔ عبدبن حمید وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ومن یزغ منہم عن امرنا اور ان میں سے حکم عدولی کرتا تھا ہمارے حکم سے یعنی جنوں میں۔
Ayah 34:131۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آتی یعملون لہ مایشاء من محاریب وتماثیل (جنات ان کے لیے وہ بنادیتے جو سلیمان کو بنوانا منظورہوتا بڑی بڑی عمارتیں اور موتیاں) یعنی پیتل اور سنگ مرمر سے چیزیں بناتے تھے۔
جنات سلیمان (علیہ السلام) کے لیے مسخر تھے۔
2۔ الفریابی وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ من محاریب یعنی ایسے مکانات جو محلات سے چھوٹے ہو وتماثیل تانبے کے مجسمے اور بڑے محلات وجفان اور بڑے پیالے کالجواب یعنی بڑا پیالہ زمین میں گھڑے کی طرح آیت وقدور رٰسیت بڑی بڑی دیگیں۔
3۔ ابن ابی حاتم نے عطیہ (رح) سے روایت کیا کہ اس آیت کے بارے میں فرمایا کہ آیت ” المحاریب “ سے مراد ہے بڑے محلات ” وتماثیل “ یعنی تصویریں ” وجفان کالجواب “ اور بڑے پیالے جیسے زمین میں گرھا ہو۔
4۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ ” من محاریب “ سے مراد ہیں محلات اور مسجدیں ” وتماثیل “ پیتل کے مجسمے اور سنگ مرمر ” وجفان کالجواب “ اور بڑے بڑے پیالے جیسے حوض ” وقدور رسیت “ ایک جگہ پری ہوئی ہانڈیاں جن کو اپنی جگہ سے نہ ہلایاجاسکے۔ ، ایسی دیگیں یمن کے علاقہ میں دیکھی جاتی تھیں۔
5۔ الحکیم الترمذی نوادر الاصول میں ابن عباس ؓ سے روایات کیا کہ ” وتماثیل یعنی مورتیاں سلیمان (علیہ السلام) نے تانبے کے مجسمے بنائے اور فرمایا اے میرے رب اس میں روح پھونک دیجیے کیونکہ وہ بہت قوت والے ہیں خدمت کرنے میں تو اللہ تعالیٰ نے ان میں روح پھوک دی تو وہ مجسمے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی خدمت کرتے تھے اور اس فند یار اس میں سے ہے داوٗد (علیہ السلام) کے لیے کہا گیا آیت اعملوا اٰل داوٗد شکر، وقلیل من عبادی الشکور۔ ہم نے آل داوٗد سے کہا اے داوٗد کے خاندان وال وتم سب شکر کی ادائیگی میں نیک کام کرو اور میرے بندوں میں شکر گزار کم ہیں۔
6۔ ابن جریر وابن ابی شیبہ وابن المنذر نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ ” من محاریب “ یعنی مسجدیں ” وتماثیل “ یعنی تصویریں ” وجفان کالجواب ‘ اور ایسے پیالے جیسے اونٹوں کے بڑے حوض ” وقدور رسیت “ یعنی بڑی دیگیں کہ وہ ان کو پہاڑوں میں سے تراشتے تھے۔
7۔ ابن جریر وابن ابی حاتم ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” وجفان کالجواب “ ایسے بڑے پیالے جو زمین میں گھڑے کی طرح ” وقدور رسیت “ (اور بڑی بڑی دیگیں ایک جگہ جمی رہنے والی) یہ بڑے چھولے انہیں کے تھے۔
8۔ الطستی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ نافع بن ازرق نے ان سے پوچھا کہ آپ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول ” وجفان کالجواب “ کے بارے میں بتائیے کہ اس سے کیا مراد ہے۔ تو انہوں نے فرمایا اس سے مراد ہے کشادہ حوض ایک پیالہ ایک اونٹ کو کافی ہوجاتا ہے پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں فرمایا ہاں کیا تو نے طرفہ بن عبد کو کہتے ہوئے نہیں سنا۔
کالجوالبی لاہی مترعۃ لقی الاضیاف او للمحتضر
ترجمہ : وہ برے حوضوں کی مانند ہیں وہ چھلک نہیں رہے مہمانوں کی ضیافت کے لیے یا جس کی موت کا وقت قریب ہے
یجبر المجزوب فینا مالہ یقباب وجفان وخدم
ترجمہ : ہم میں مصیبت زدہ اپنا مال قبوں بڑے پیالوں اور خادموں کے ساتھ پورا کرتا ہے
9۔ عبد بن حمید نے حسن بصری (رح) سے روایت کیا کہ ” وجفان کالجواب “ اور بڑے بڑے لگن جیسے حوض ” وقدور رسیت “ بڑی دیگیں جو اپنی جگہ سے نہ ہل سکیں
11۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” اعملوا اٰل داود شکرا “ یعنی اس پر اللہ کا شکر ادا کرو۔ جو اللہ تعالیٰ نے تم پر انعام فرمایا۔
12۔ البیہقی نے شعب الایمان میں ابن شہاب (رح) سے روایت کیا کہ آیت اعملوا اٰل داوٗد شکرا یعنی تم الحمد للہ کہو۔
13۔ ابن ابی شیبہ واحمد فی الزہد وابن ابی حاتم البیہقی شعب الایمان ثابت بنانی (رح) سے روایت کیا کہ ہم کو یہ بات پہنچی ہے کہ داوٗد (علیہ السلام) نے نماز کو تقسیم کردیا تھا اپنے گھروں میں اپنی عورتوں اور اپنے بچوں پر رات اور دن میں کوئی ایسا وقت نہیں ہوتا تھا کہ آل داوٗد میں سے کوئی آدمی کھڑا ہو کر نماز نہ پڑھ رہا ہو۔ یہ آیت ان سب کو شامل ہے آیت اعملوا اٰل داود شکر۔ وقلیل من عبادی الشکور۔
14۔ الفریابی وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ داوٗد (علیہ السلام) نے سلیمان سے فرمایا تحقیق اللہ تعالیٰ نے شکر کا ذکر کیا ہے تو میرے لیے دن کے وقت کی عبادت کے لیے کافی ہوجا میں تیرے لیے رات کے وقت کی عبادت کے لیے کافی ہوجاؤں گا تو سلیمان (علیہ السلام) نے فرمایا میں اس کی طاقت نہی رکھتا پھر داوٗد نے فرمایا میرے لیے دن کی نماز کے لیے کافی ہوجاتو وہ اس کے لیے کافی ہوگئے۔
15۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے محمد بن کعب قرظی (رح) سے روایت کیا شکر اللہ کا تقوی ہے اور عمل اس کی اطاعت ہے
16۔ ابن ابی حاتم نے فضیل (رح) سے روایت کیا کہ داوٗد (علیہ السلام) نے فرمایا اے میرے رب میں کیسے آپ کا شکر ادا کروں اور شکر تو بذات خود تیری نعمت ہے فرمایا اب تو نے میرا شکر ادا کیا جب تو نے یہ جان لیا کہ نعمتیں میری طرف سے ہیں۔
17۔ احمد بن حنبل فی الزہد وابن المنذر والبیہقی نے شعب الایمان میں مغیرہ بن عتبہ (رح) سے روایت کیا کہ داوٗد (علیہ السلام) نے فرمایا اے میرے رب کیا تیری مخلوق میں کوئی ایسا بھی ہے جس نے آج کی رات مجھ سے زیادہ ذکر کیا ہو ؟ اللہ تعالیٰ نے ان کی طرح وحی بھیجی ہاں مینڈک نے (کچھ سے زیادہ ذکر کیا ہے) پھر اللہ تعالیٰ نے داوٗد (علیہ السلام) کی طرف وحی کی کہ آیت اعملوا اٰل داوٗد شکرا۔ تو داوٗد (علیہ السلام) نے عرض کیا کس طرح میں تیرے شکر کی طاقت رکھتا ہوں حالانکہ آپ ہی نے مجھ پر انعام فرمایا پھر مجھے نعمت پر شکر کی توفیق دی تو نعمت بھی آپ کی طرف سے اور شکر بھی آپ کی طرف سے پھر کس طرح میں آپ کے شکر کی طاقت رکھتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے داوٗد اب تو میری مغفرت کا حق پہچان گیا ہے۔
198۔ احمد فی الزہد وابن ابی حاتم نے کتاب الشکر میں والبیہقی نے شعب الایمان میں ابو مجلد (رح) سے روایت کیا کہ داوٗد (علیہ السلام) کے مسئلہ داوٗد میں پڑھا ہے انہوں نے عرض کیا اے میرے رب میں تیرا شکر کیسے ادا کروں جبکہ میں تیرے شکر تک تیری نعمت کے ساتھ ہی پہنچ سکتا ہوں ان کے پاس وحی آئی کہ اے ابوداوٗد کیا تو جانتا ہے کہ جو کچھ تیرے پاس نعمتیں ہیں وہ میری طرف سے ہے۔ داوٗد (علیہ السلام) نے فرمایا اے میرے خدا اگر میرے ہر بال کی دو زبانیں ہوں وہ صبح شام تیری تسبیح بیان کرتی ہیں میں تیری نعمتوں میں سے ایک نعمت کا بھی شکر ادا نہیں کرسکتا۔
گھر کے افراد میں سے کوئی فرد ہر وقت عبادت میں لگا رہے
20۔ ابن ابی الدنیا والبیہقی فی شعب الایمان میں ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ جب ان سے کہا گیا آیت اعملوا اٰل داوٗد شکراتو قوم (یعنی داوٗد کے گھر والے) پر کوئی ایسا وقت نہیں آیا مگر ان میں سے کوئی نہ کوئی عبادت کررہا ہوتا ہے۔
21۔ ابن المنذر نے عطاء بن یسار (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اور آپ لوگوں منبر میں خطبہ ارشاد فرما رہے تھے اور آپ نے یہ آیت پڑھی آیت اعملوا اٰل داوٗد شکر پھر فرمایا تین چیزیں ہیں جسے وہ عطا کی گئیں۔ گویا اسے وہ عطا کردیا گیا جو آل داوٗد کو عطا کیا گیا پوچھا گیا یارسول اللہ وہ چیزیں کیا ہیں ؟ فرمایا انصاف کرنا غضب اور رضا دونوں حالتوں میں اور میانہ روی اختیار کرنا تنگدستی میں اور مالداری میں اور اللہ کو یاد کرنا پوشیدہ طور پر بھی اور علانیہ طور پر بھی۔
22۔ ابن مردویہ نے عطاء بن یسار کے طریق سے حفصہ ؓ سے مرفوعا روایت کیا اور الحکیم الترمذی نے عطاء بن یسار کے طریق سے ابوہریرہ سے مرفوعا روایت کیا اور ابن النجار نے اپنی تاریخ میں عطاء بن یسار کے طریق سے ابوذر ؓ سے مرفوعا روایت کیا اللہ کا خوف ہو چھپے ہوئے اور اعلانیہ (واللہ اعلم) ۔
23۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ نے آیت وقلیل من عبادی الشکور کے بارے میں فرمایا کہ میرے موحد بندوں میں سے کم ہیں جو اپنی توحید میں موحد ہیں۔
24۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن المنذر نے ابراہیم تیمی (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے حضرت عمر ؓ کے پاس کہا اے اللہ ! مجھے قلیل میں سے بنا دیجیے عمر کی موجودگی میں یوں دعا کی اے اللہ مجھے قلیل میں سے بنادے۔ حضرت عمر ؓ نے فرمایا یہ تو کیسے دعا کر رہا ہے تو اس نے کہا میں نے اللہ تعالیٰ کو یہ فرماتے ہوئے سنا آیت وقلیل من عبادی الشکور تو میں اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کرتا ہوں کہ مجھے ان قلیل لوگوں میں سے بنا دیجیے یہ سن کر عمر ؓ نے فرمایا سب لوگ عمر سے زیادہ جانتے ہیں۔
Ayah 34:141۔ ابن حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ سلیمان (علیہ السلام) بیت المقدس میں مہینہ دو مہینہ سال دو سال یا اس سے کم وبیش مدت تک تنہائی میں عبادت کرتے اور اپنا کھانا اور پینا ساتھ رکھتے جس دفعہ آپ کا وصال ہوا اس دفعہ آ نے کھانا اپنی خلوت گاہ میں جمع کیا اور اس کی ابتدا اس طرح ہوئی کہ جب وہ صبح کرتے تو بیت المقدس میں ایک درخت اگتا آپ اس سے اس کا نام دریافت کرتے تھے وہ اپنا نام بتادیتا تھا پھر اس سے پوچھتے کہ کس مقصد کے لیے تجھے لگایا گیا وہ کہتا مجھے فلاں فلاں کام کے لیے اگایا گیا آپ اس درخت کے بارے میں حکم دیتے تو اس درخت کو کاٹ دیا جاتا۔ اگر اسے گاڑنے کے لیے اگایا جاتا تو آپ اسے گاڑدیتے اگر اسے بطور دوا اگایا جاتا تو وہ کہتا کہ مجھے فلاں فلاں مرض کے لیے اگایا گیا ہے تو آپ اس درخت کو اس کام کے لیے مقرر کردیتے کیا کہ یہاں تک کہ ایک درخت اگا حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اس سے پوچھا تو کس کام کیلیے اگایا اس نے کہا مجھے اس کو بربادی کے لیے اگایا گیا حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے کہا اللہ تعالیٰ کی یہ شان نہیں کہ اس مسجد کو برباد کرے جبکہ میں زندہ ہوں۔ تو ہی وہ ہے جس کی وجہ سے میری ہلاکت ہوگی اور بیت المقدس برباد ہوگا آپ نے اسے اکھاڑا اور اپنے باغ میں لگوادیا پھر محراب پھر آپ اپنی عبادت گاہ میں داخل ہوگئے آپ اپنے عصاء پر ٹیک لگا کر نماز پڑھنے لگے اس حال میں وفات ہوگئی اور جنات کو اس بارے میں علم تک نہ ہو اور وہ اس خوف سے کام کرتے رہے کہ اگر باہ رتشریف لائیں گے اور ان کو سزا دیں گے۔
اور شیاطین اس عبادت گاہ کے اردگرد جمع ہوتے تھے اس عبادت گاہ کا اگلی پچھلی جانب سے روشن دان تھا اور سرکش شیطان بندش سے آزاد ہونے کا ارادہ کرتا تھا تو وہ کہتا تھا تو طاقت ور نہیں کہ اگر تو اس میں داخل ہوتا تو اس کو دوسری جانب سے نکل جاتا تو وہ داخل ہوتا اور دوسری جانب سے نکل جاتا تو ان میں سے ایک شیطان داخل ہوا اور پاس سے گزرا اور شیطان اگر سلیمان کی طرف دکھتا تو جل جاتا اس دفعہ گزرا تو اس نے سلیمان کی آواز نہیں سنی پھر وہ لوٹا پھر بھی ان کی آواز نہیں سنی۔ پھر لوٹا پھر بھی کچھ نہ سنا پھر لوٹا عبادت خانے میں داخل ہوا اور نہ جلا اور سلیمان کی طرف دیکھا تو وہ مردہ ہو کر گر چکے تھے وہ باہر نکلا اور لوگوں کو خبر کردی کہ سلیمان وفات پاچکے ہیں لوگوں نے ان سے دروازے کھول دئیے اور اس کو باہر نکال دیا۔ انہوں نے آپ کے عصا کو نہ پایا حبشی زبان میں عصاء کو منشا کہتے ہیں جس کو دیمک نے کھالیا تھا وہ نہیں جانتے تھے کہ کب ان کی وفات ہوئی انہوں نے تجربہ کے لیے دیمک کو ایک لاٹھی پر رکھا۔ اس نے اس لاٹھی میں سے ایک دن اور رات کھایا پھر انہوں نے اس کا اندازہ لگایا اور اس بات کو پایا کہ وہ ایک سال سے وفات پاچکے ہیں اور یہ ابن مسعود ؓ کی قراءت میں ہے کہ وہ کام میں لگے رہے اور ان کیلیے ذلیل ہوتے رہے ان کی موت کے بعد پورے ایک سال تک اس وقت لوگوں نے یقین کرلیا کہ جنات جھوٹ بولتے تھے۔ اگر وہ غیب جانتے ہوتے تو سلیمان کی موت کو جان لیتے اور ایک سال تک عذاب میں نہ رہتے کہ ان کے لیے کام کرتے رہے۔ پھر شیاطین نے دیمک سے کہا اگر تو کھاناکھائے تو ہم تیرے پاس عمدہ کھانا لے آتے ہیں اگر تو پینا چاہے تو ہم تیرے پاس عمدہ چیز پینے کی لے آتے ہیں اور لکن ہم تیری طرف پانی اور مٹی کو لاتے ہیں اور وہ اس دیمک کی طرف منتقل کردیتے ہیں جہاں وہ ہوتی ہے کیا تو نے مٹی کی طرف نہیں دیکھا جو لکڑی کے پیٹ میں ہوتی ہے اور وہ ان چیزوں میں سے ہوتی ہے جو آپ کے پاس شیاطین لے آتے ہیں اس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے۔
2۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت دابۃ الارض تاکل منسأتہ زمین کا کیڑا جس نے اس لکڑی کو کھالیا ہے ” منسأۃ “ سے مراد ہے ان کی لاٹھی۔
حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی لاٹھی
3۔ سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سلیمان (علیہ السلام) مرنے کے بعد ایک سال اپنی لاٹھی کے سہارے کھڑے رہے پھر سال کے اختتام پر نیچے گرپڑے لوگوں نے اس جیسی لاٹھی لی اور اس جیسا دیمک کا کیڑا لیا اس کیڑے کو اس پر چھوڑدیا تو دیمک نے اس کو ایک سال میں کھایا ابن عباس ؓ اس کو اس طرح پڑھتے تھے آیت فلما خر تبینت الجن ان لو کانوا یعلمون الغیب ما لبثوا فی العذاب المین سنۃ اور سفیان نے فرمایا کہ ابن مسعود کی قراءت میں ہے آیت وہم یدابون لہ خولا۔
4۔ البزار وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والطبرانی وابن السنی نے الطب النبوی میں وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ سلیمان (علیہ السلام) جب نماز پڑھتے تو سامنے ایک لگا ہوا درخت کو پاتے اس سے پوچھتے تیار کیا نام ہے تو وہ درخت بتاتا میرا یہ نام ہے وہ درخت لگانے کے لیے ہوتا تو اسے لگا دیتے اگر وہ دوا کے لیے ہوتا تو اس کو اگادیتے پھر ایک دن ماز پڑھی تو ایک اور درخت ان کے سامنے اگ آیا اس سے پوچھا تیرا کیا نام ہے ؟ اس نے کہا خرنوبہ پوچھا تو کس چیز کے لیے ہے اس نے کہا اس گھر کو برباد کرنے کے لیے سلیمان عیہ السلام نے فرمایا اے اللہ میری موت کو جنات سے مخفی کردے یہاں تک کہ انسان جان لے کہ جنات غیب کو نہیں جانتے۔ انہوں نے ایک لاٹھی لی اور اس پر ٹیک لگالی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی روح کو قبض کرلیا۔ اور وہ ٹیک لگائے ہوئے تھے موت کی حالت میں ایک عرصہ تک اس طرح رہے اور جنات کام کرتے رہے جب دیمک نے کھایا تو گرپڑے اس وقت انہوں نے ان کی موت کو جانا اور انسان کو بھی پتہ چل گیا کہ اگر جنات غیب کو جانتے ہوتے تو پورا سال ذلت والے عذاب میں نہ رہتے اور ابن عباس ؓ اس کو اسی طرح پڑھتے تھے اور جنات نے دیمک کا شکریہ ادا کیا جہاں وہ رہتی ہے جنات اس کو پانی لاکر دیتے ہیں۔
5۔ بزار حاتم اور ابن مردویہ نے حضرت ابن عباس ؓ سے موقوف روایت شامل کی ہے اور حاکم نے اس کو صحیح قرار دیا۔
6۔ الدیلمی نے زید بن ارقم ؓ سے مرفوعا روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میں نے تین احسان فرمائے اپنے بندوں پر۔ دانے پر میں نے دیمک کو ڈال دیا اگر ایسا نہ ہوتا تو بادشاہ اس کو خزانہ بنالیتے جیسے وہ سونے اور چاندی کو خزانہ بناتے ہیں اور جسم پر بدبو کو ڈال دیا اگر ایسا نہ ہوتا حبیب اپنے حبیب کو دفن نہ کرتا اور میں نے غمکین کو سکون دے دیا اگر یہ نہ ہوتا تو تسلی جاتی رہتی۔
7۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سیروایت کیا جنات انسان کو بتاتے تھے کہ ہم غیب کی چیزوں کو جانتے ہیں اور جانتے ہیں کہ کل کیا ہوگا۔ سلیمان (علیہ السلام) کی موت سے ان کو آزمایا گیا ان کی وفات ہوگئی اور ایک سال تک اپنی لاٹھی پر کھڑے رہے اور ان کو موت کا پتہ نہ چلا اور وہ ایک سال کام میں لگے رہے۔ اور وہ مشقت برداشت کرتے ہوئے کا کرتے رہے۔ اور بعض قراءت میں یوں ہے آیت فلما خر تبینت الجن ان لو کانوا یعلمون الغیب مالبثوا فی العذاب المہین (جب وہ گرپڑے تو انسان کو یہ بات ظاہر ہوگئی کہ اگر جن غیب کو جانتے ہوتے تو اس ذلت والے عذاب میں نہ رہیت۔ ور وہ اس طریقے کی اطاعت کرتے رہے۔ اور ان کی موت کے بعد ان کے لیے پورا ایک سال کام کرتے رہے۔
8۔ عبد بن حمید نے قیس بن سعد کے طریق سے ابن عباس ؓ نے فرمایا سلیمان (علیہ السلام) کے زمانہ میں لوگ کہتے تھے کہ جن غیب کو جانتے ہیں جب سلیمان کی وفات ہوگئی اور وہ پورا ایک سال تک اپنی لاٹھی پر مردہ حالت میں کھڑے رہے اور ان کے کھڑے رہنے کی وجہ سے جنات کام کرتے رہے آیت فلما خر تبینت الجن ان لو کانوا یعلمون الغیب مالبثوا فی العذاب المہین ابن عباس اس کو اسی طرح پڑھتے تو قیس نے فرمایا ابی بن کعب کی قرائت بھی اسی طرح ہے۔
سلیمان (علیہ السلام) کی ملک الموت سے گفتگو
9۔ ابن ابی حاتم نے ابن زید ؓ سے روایت کیا کہ سلیمان (علیہ السلام) نے ملک الموت سے فرمایا جب میرے بارے میں حکمد یا جاتا تو مجھ کو بتادیتا ملک الموت خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا اے سلیمان آپ کے بارے میں حکم دیا جاچکا ہے آپ کے لیے تھوڑا سا وقت باقی ہے انہوں نے شیاطین کو بلایا تو انہوں نے آپ پر شیشے کا ایک کمرہ بنادیا جس میں کوئی دروازہ نہ تھا آپ نماز پڑھنے کھڑے ہوئے اور اپنی لاٹھی پر سہارا لگا لیا ان پر ایک ملک الموت داخل ہوگئے اور ان کی روح کو قبض کرلیا اس حال میں کہ اپنی لاٹھی پر ٹیک لگائے ہوئے تھے آپ نے موت سے فرار کے لیے نہیں کیا تھا۔ اور جنات ان کے آگے کام کرتے رہے اور وہ دیکھتے رہے اور سمجھتے رہے کہ وہ زندہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے دابۃ الارض یعنی دیمک کو بھیجا جو لکڑی کو کھاجاتی ہے اس کو قادح کہا جاتا ہے۔ وہ اس لکڑی میں داخل ہوگئی اور اس کو کھاتی رہی یہاں تک کہ جب لکڑی کا اندر والا حصہ کھالیا تو وہ کمزور ہوگئی اور اسپر سلیمان کا جسم بھاری ہوگیا تو وہ مردہ حالت میں گرپڑے جب جنات نے ان کو دیکھا تو بکھر گئے اور چلے گئے اسی کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت مادلہم علی موتہ الا دابۃ الارض تاکل منسأتہ (تو کسی چیز نے ان کو مرجانے کا پتہ نہ دیا مگر گھن کے کیڑے نے جو سلیمان کی لاٹھی کو کھارہا تھا) ۔
10۔ عبدالرزاق عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ جب اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف انگوٹھی لوٹا دی انہوں نے ایک دن صبح کی نماز نہیں پڑھی اپنے پیچھے دیکھا تو آپ ایک سرسبز درخت کے پاس تھے جو جھوم رہا تھا اس نے پوچھا اے درخت کیا تجھ کو جنات انسان پرندے کیڑے مکوڑے اور چوپائے نہیں کھاتے ہیں اس نے کہا میں کسی چیز کے لیے رزق نہیں بنایا گیا لیکن میں دوا ہوں۔ فلاں فلاں بیماری کی تو انسان اور جنات کھڑے ہوئے تاکہ اس کو کاٹیں اور اس کو دوا میں استعمال کریں۔ ایک دن انہوں نے صبح کی نماز پڑھی اور متوجہ ہوئے تو ان کے پیچھے ایک درخت تھا اس سے پوچھا اے درخت تو کون ہے ؟ اس نے کہا میں خرنوبہ ہوں فرمایا اللہ کی قسم 1 خرنوبہ تو بیت المقدس کی بربادی ہے اللہ کی قسم ! بیت المقدس خراب نہیں ہوگا جب تک میں زندہ ہوں لیکن میں مروں گا پھر ایک حنوط منگوائی اپنے آپ کو حنوط لگائے اور کفن پہنا پھر اپنی کرسی پر بیٹھ گئے۔ پھر اپنی ہتھیلیوں کو اپنی لاٹھی پر رکھا پھر اس لاٹھی کو اپنی ٹھوڑی کے نیچے کرلیا اور فوت ہوگئے جنات ایک سال تک یہ گمان کرتے رہے کہ آپ زندہ ہیں اور ان کی طرف آنکھوں کو نہیں اٹھاتے تھے اللہ تعالیٰ نے دیمک کو بھیجا اس نے لاٹھی کی ایک جانب کو کھالیا تو سلیمان منہ کے بل گرپڑے تو جنات کو اس وقت معلوم ہوا کہ وہ آپ پر فوت ہوچکے ہیں اسی کو فرمایا آیت تبینت الجن یعنی جنات کو ظاہر ہوا اور جنات نے یہ جان لیا کہ وہ غیب کو نہیں جانتے لیکن پہلی قراءت میں یوں ہے آیت تبینت الجن ان لوکانوا یعلمون الغیب مالبثوا فی العذاب المہین (یعنی انسان کو یہ بات ظاہر ہوگئی اگر جنات غیب کو جانتے ہوتے تو اس ذلت والے عذاب میں نہ رہتے ) ۔
11۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ دیمک (وہ کیڑا) آدھی لاٹھی تک پہنچا (پھر) ان لوگوں نے اسکوباقی آدھی (لاٹھی) میں چھوڑ دیا تو اس نے اس کو پورے ایک سال تک کھایا تو ان لوگوں نے کہا آپ پہلے سال ہی میں وفات پاگئے تھے۔
12۔ عبد بن حمید نے ابن مسعود رضٰ اللہ عنہ سے روایت کیا کہ سلیمان (علیہ السلام) پورا ایک سال تک اپنی لاٹھی پر ٹیک لگائے ہوئے کھڑے رہے یہاں تک کہ اس کو دیمک نے کھالیا تو وہ گرپڑے۔
13۔ الفریابی وعبد بن حمید وابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت دابۃ الرض تاکل منسأتہ میں منسأتہ سے مراد ہے لاٹھی کو کھالیا۔
14۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ دیمک نے ان کی لاٹھی کو کھالیا تو وہ گرپڑے۔
15۔ عبد بن حمید نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ آیت تاکل منسأتہ سے مراد ہے لاٹھی۔
16۔ عبد بن حمید وابن المنذرنے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ ان سے المنسأتہ کے بارے میں پوچھا تو فرمایا لاٹھی اور اس بارے میں ایک شعر پڑھا جو عبدالمطلب نے اس کو کہا
امن اجل حبل لا ابالک صدتہ بمنساۃ قد جر حبلک احبلا
ترجمہ : تیرا باپ نہ نہ رہے کیا تو نے ڈنڈے کے ساتھ شکار کرلیا تیری رسی کو کئی رسیوں نے کھینچا ہے
17 ابن جریر نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ ” منسأتہ “ سے مراد ہے لاٹھی حبشہ کی زبان میں۔