34. Surah Saba

سبإSheba · 54 ayahsسراج البیان

Ayahs 34:1–2

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ وَ لَهُ الْحَمْدُ فِی الْاٰخِرَةِ١ؕ وَ هُوَ الْحَكِیْمُ الْخَبِیْرُ Open ayah 34:1 in the Quran reader

سب تعریف اس اللہ کے لئے ہے کہ جو کچھ آسمانوں اور جو زمین میں ہے سب اسی کا ہے اور سب اسی کی تعریف ہے آخرت میں اور وہ حکمت والا خبردار ہے

یَعْلَمُ مَا یَلِجُ فِی الْاَرْضِ وَ مَا یَخْرُجُ مِنْهَا وَ مَا یَنْزِلُ مِنَ السَّمَآءِ وَ مَا یَعْرُجُ فِیْهَا١ؕ وَ هُوَ الرَّحِیْمُ الْغَفُوْرُ Open ayah 34:2 in the Quran reader

جو کچھ زمین میں داخل ہوتا ہے اور جو اس میں سے نکلتا ہے اور جو آسمان سے اترتا اور جو اس میں چڑھتا ہے وہ سب جانتا ہے اور وہی مہربان بخشنے (ف 1) والا ہے

سورة سبا 1: قرآن حکیم کا اصلی موضوع بیان یہ ہے کہ ذات باری کے متعلق جو شکوک و شبہات لوگوں کے دلوں میں جہالت کی وجہ سے پیدا ہوگئے ہیں ۔ ان کو دور کرے ۔ اور اس کے تصور کو اس طرح ایمان آفرین شکل میں پیش کرے کہ وہ نفیس انسانیت کے لئے بلندی اور رفعت کا سبب بن سکے ۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے صفات وشیون کو جس وضاحت کے ساتھ قرآن حکیم نے بیان فرمایا ہے اس کی مثال کسی مذہبی کتاب میں ملنا مشکل ہے ۔ بلکہ حق تو یہ ہے ۔ کہ فکر انسانی اس سے زیادہ اونچا نہیں اڑ سکتا ۔ اور خدا کے متعلق جس قدر قرآن نے بیان کیا ہے ۔ اس پر سرموا اضافہ ممکن نہیں ۔ فرمایا ستائش اور تعریفیں اس خدائے برتر کو سزاوار ہیں ۔ جو تمام بلندیوں کا مالک ہے ۔ اور زمین کی تمام گہرائیاں جس کے قبضہ قدرت میں ہیں دنیا بھی اسی کی ہے ۔ اور آخرت میں بھی اس کی تعریف ہے حکمت والا اور ہر بات سے آگاہ ہے ۔ اور ان چیزوں کو بھی جانتا ہے جو زمین سے نکلتی ہیں اس کا علم ہر چیز (جمادی ہے) ان اشیاء کو بھی جو اسی کی طرف صعود کرتی ہیں وہ بدرجہ غائت رحم کرنے والا ہے اور نہایت بخشنے والا ہے ۔ اللہ کا یہ تخیل کتنا بلند اور واضح ہے ۔ کس درجہ قابل تاسی اور لائق اقتدار ہے ۔ یہ واقع ہے ۔ کہ قرآن حکیم جب اللہ تعالیٰ کے متعلق صفات کا تذکرہ کرتا ہے ۔ تو قلب عقیدت ومعرفت کے جذبات سے لبریز ہوجاتا ہے ۔ اور وجداتی طور پر محسوس کرتا ہے ۔ کہ وہ اس کی حضوری اور قرب میں ہے ۔
Ayah 34:3

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَا تَاْتِیْنَا السَّاعَةُ١ؕ قُلْ بَلٰى وَ رَبِّیْ لَتَاْتِیَنَّكُمْ١ۙ عٰلِمِ الْغَیْبِ١ۚ لَا یَعْزُبُ عَنْهُ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَ لَا فِی الْاَرْضِ وَ لَاۤ اَصْغَرُ مِنْ ذٰلِكَ وَ لَاۤ اَكْبَرُ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍۗۙ Open ayah 34:3 in the Quran reader

اور کافر کہنے لگے کہ ہم پر وہ گھڑی نہ آئے گی تو کہہ کیوں نہیں ، مجھے اپنے رب کی قسم وہ ضرور تم پر آئے گی ۔ اس رب کی جو چھپی باتوں کو جانتا ہے اس سے ایک ذرہ بھر بھی پوشیدہ نہیں ہوسکتا اور نہ آسمان اور زمین میں اور نہیں ذرہ سے چھوٹی اور نہ ذرہ سے بڑی کوئی شئے مگر وہ روشن (ف 2) کتاب میں موجود ہے

ف 2: حشیراجساد کا مسئلہ مکہ والوں کے لئے ہمیشہ ابتلاد کا باعث رہا ہے ۔ ان کی سمجھ میں یہ حقیقت کبھی نہیں آئی ۔ کہ جس خدا نے کتم عدم سے دنیا کو نکالا ہے ۔ اور خلعت وجود بخشا ۔ وہ جب چاہے گا پھر اپنے بندوں کو قبروں سے اٹھا کر کھڑا کردیں گا ۔ انہوں نے کبھی نہیں سوچا کہ جب خدا کو تسلیم کرلیا ۔ اس کی قدرتوں اور وسعتوں پر ایمان لے آئے ۔ تو پھر استحالہ اور اشکال کے لئے کون گنجائش باقی رہ جاتی ہے ؟ وہ قادر مطلق بمجرد اپنے ارادہ کے ہزاروں عالم بیک وقت پیدا کرسکتا ہے ۔ اور فنا کرسکتا ہے ۔ اس کی ایک نگاہ غضب تمہاری کائناتکو چشم زون میں تباہی کے گھاٹ اتار سکتی ہے ۔ اور اس التفات کی نظر سے دیکھ لینا زندگی اور حیات کو بیدار کردیتا ہے ۔ قرآن حکیم نے مکہ والوں کے شبہات کو دور کرنے کے لئے مختلف طریقوں اور مختلف دلائل سے کام لیا ہے ۔ یہاں دو باتوں کو بطور استدلال کے پیش فرمایا ہے ۔ یا یوں سمجھ لیجئے کہ دو طریقوں سے ان کی توجہ کو اس مسئلہ کی حقیقت کی طرف مبذول فرمایا ہے ۔ ارشاد ہے ۔ کہ جب ہر چیز اس کے علم میں ہے ۔ اور چھوٹی بڑی ہر شئے ان کے سامنے عیاں ہے چاہے وہ آسمان کی بلندیوں میں موجود ہو ۔ اور چاہے وہ زمین کی گہرائیوں میں ہو ۔ تو پھر عناصر حیات کو جمع کرلینا کیا مشکل ہے ؟ دوسری دلیل یہ ہے ۔ کہ انسان کے نفس اعمال ایک مکافات کی دنیا کے متقاضی ہیں ۔ اگر یہ درست ہے تو ہبت سے فاسق وفاجر انسان تعزیر و عقوبت سے بچ جاتے ہیں ۔ اور بہت سے نیک اور صالح حضرات اس دنیائے دوں میں تکلیف و حسرت کے ساتھ بسر کرتے ہیں تو پھر یہ بھی درست ہے ۔ کہ انصاف وعدل کے لئے ایک دن مقرر ہونا چاہیے ۔ حل لغات :۔ یعزب ۔ افعاذب ۔ اس شخص کو کہتے ہیں جو چارہ کی تلاش میں اپنے لوگوں سے بہت دور نکل جائے ۔ اور نظروں سے اوجھل ہوجائے ۔ غرض یہ ہے ۔ کہ خدا سے کوئی چیز مستتر نہیں ہے رزقی کریم ۔ مفید روزی ۔ لفظ کریم کا تعلق جب اشیاء سے ہو تو اس سے آخادۃ مراد بنتا ہے ۔
Ayahs 34:4–8

لِّیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِیْمٌ Open ayah 34:4 in the Quran reader

تاکہ انہیں جو ایمان لائے اور نیک کام کئے بدلا دیوے انہیں کے لئے بخشش اور عزت کی روزی ہے

وَ الَّذِیْنَ سَعَوْ فِیْۤ اٰیٰتِنَا مُعٰجِزِیْنَ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مِّنْ رِّجْزٍ اَلِیْمٌ Open ayah 34:5 in the Quran reader

اور جنہوں نے ہماری آیتوں کے ہرانے میں کوشش کی انہیں کے لئے سخت قسم کا درد دینے والا عذاب ہے

وَ یَرَى الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ هُوَ الْحَقَّ١ۙ وَ یَهْدِیْۤ اِلٰى صِرَاطِ الْعَزِیْزِ الْحَمِیْدِ Open ayah 34:6 in the Quran reader

اور جنہیں علم دیا ہے وہ جانتے ہیں کہ جو کچھ تیرے رب کی طرف سے تجھ پر اتارا گیا ہے وہی حق ہے اور وہ اس زبردست خوبیوں والے کی راہ دکھلاتا ہے

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا هَلْ نَدُلُّكُمْ عَلٰى رَجُلٍ یُّنَبِّئُكُمْ اِذَا مُزِّقْتُمْ كُلَّ مُمَزَّقٍ١ۙ اِنَّكُمْ لَفِیْ خَلْقٍ جَدِیْدٍۚ Open ayah 34:7 in the Quran reader

اور کافروں نے آپس میں کہا کہ کیا ہم تمہیں ایک آدمی بتائیں ؟ جو تمہیں یہ خبر دیگا کہ جب تم بالکل پارہ پارہ ہوجاؤ گے تو تم کو نئی پیدائش میں آنا ہوگا

اَفْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَمْ بِهٖ جِنَّةٌ١ؕ بَلِ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ فِی الْعَذَابِ وَ الضَّلٰلِ الْبَعِیْدِ Open ayah 34:8 in the Quran reader

کیا اس نے اللہ پر جھوٹ باندھا ہے یا جنون ہے ؟ کوئی نہیں بلکہ وہ جو آخرت کو نہیں مانتے عذاب اور پرلے درجے کی گمراہی میں پڑے ہیں (ف 1)

تابشِ نظر 1: پیغمبر کی نظروں میں اہام اور وحی کی وجہ سے اس درجہ تابش آجاتی ہے ۔ کہ وہ ان واقعات وحقائق کو اس طرح محسوس کرتے ہیں جو آئندہ کئی صدیوں کے بعد آنے والے ہیں جس طرح ہم موجودہ مناظر کو دیکھتے ہیں ۔ وہ ان کے متعلق محکم یقین رکھتے ہیں ۔ کیونکہ ان کے جانے کا ذریعہ کمزور استدلال نہیں ہوتا ۔ جس میں شک وشبہ کو اصلاً دخل نہیں ۔ وہ پیغمبر از بصیرت سے دیکھتے ہیں اور القاء وکشف سے حقائق وواقعات کو جانتے ہیں ان کے زمانے کے لوگ صرف الہام کی عظمت سے آگاہ نہیں ہوتے ۔ بلکہ پرلے درجے کے توگ ماہ نظر بھی ہوتے ہیں ۔ وہ ان کی باتوں کو محض جنون اور کذب سمجھتے ہیں ۔ ان کی نظریں سلیحی ہوتی ہیں ۔ اس لئے وہ اس طرح کی باتوں کو سنتے ہیں ۔ تو ہنسی میں اڑا دیتے ہیں ۔ اور بالکل باور نہیں کرتے کہ یہ اپنے وعملاں میں سچے ہیں ۔ چناچہ حضور ﷺ نے جب خدا سے اطلاع پاکر قیامت کی خبردی ۔ اور یہ بتایا کہ جس دنیا کو تم دائمی سمجھتے ہو ۔ اس کا طلسم ایک دن ٹوٹنے والا ہے ۔ اور اس کے بعد پھر دوبارہ یہ عالم انسانی ظہور پذیر ہوگا ۔ اور ہر شخص کو اس کے اعمال کے مطابق سزا اور جزا ملے گی ۔ تو انہوں نے اس عقیدے کو بڑی حیرت کے ساتھ سنا ۔ کبھی تو اس میں شکوک و شبہات کا اظہار کیا کبھی انکار کیا ۔ اور کبھی یہ کہا کہ یہ باتیں تو محض جنون کی باتیں ہیں ۔ بھلا یہ کیونکر ممکن ہے ۔ کہ موت کے بعد ہم زندہ ہوجائیں ۔ فرمایا اصل بات یہ ہے کہ یہ لوگ جو آخرت کو نہیں مانتے ہیں ۔ اور عقبیٰ کے حقائق کا انکار کرتے ہیں ذہنی اور فکری عذاب میں مبتلا ہیں ۔ ان سے بصیرت چھن چکی ہے ۔ یہ غور تلخص کی تمام استعدادوں سے محروم ہوچکے ہیں ۔ اور گمراہی کی اس منزل میں ہیں ۔ جہاں پہنچ کر انسان ہدایت سے بہت دور ہوجاتا ہے ۔ حل لغات :۔ آوبی ۔ اوب سے ہے جس کے معنے رجوع کے ہیں ۔ حضرت داؤد اور سلیمان کے متعلق ان آیتوں میں جن واقعات کا تذکرہ ہوا ہے یہ بھی ممکن ہے کہ ان سے مراد حکمت و فطرت کے اسرار سے آگاہی ہو اور بتانا یہ مقصود ہے کہ یہ لوگ رب فاطر سے گہری گہری وابستگی کی وجہ سے فطرت کے امور سے پوری طرح آشنا ہوں ۔ پہاڑوں سے کام لیتے ہوں ۔ پرندوں کو حربی ضروریات کے لئے استعمال کرتے ہوں ۔ اور آہن وفولاد سے متعلقہ فن کو جانتے ہوں ہوسکتا ہے اس وقت حضرت سلیمان نے ایسا مرکب ہوائی ایجاد کرلیا ہو جو فضا میں پرواز کرسکے ، اور ترقی کے فراز اعلیٰ تک رسائی حاصل کرلی ہو ۔ یہ سب چیزیں ممکن ہیں ۔
Ayah 34:9

اَفَلَمْ یَرَوْا اِلٰى مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اِنْ نَّشَاْ نَخْسِفْ بِهِمُ الْاَرْضَ اَوْ نُسْقِطْ عَلَیْهِمْ كِسَفًا مِّنَ السَّمَآءِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّكُلِّ عَبْدٍ مُّنِیْبٍ۠ Open ayah 34:9 in the Quran reader

سو کیا انہوں نے آسمن اور زمین کی طرف جو ان کے آگے اور پیچھے ہیں نظر نہیں کی کہ اگر ہم چاہیں تو انہیں زمین میں دھنسا دیں یا ان پر آسمان (ف 1) کا ایک ٹکڑا گرا دیں ؟ بیشک اس میں ہر ایک رجوع کرنے والے بندے کے لئے نشانی ہے

ف 2: یہ تہدیدی دلیل ہے ۔ غرض یہ ہے کہ یہ دنیائے فانی کو دائمی نہ سمجھیں ۔ اگر ہم چاہیں ۔ تو چشم زون میں اس کو تباہ کردیں ۔ اور پھر یہ دیکھیں کہ اس عالم کے متلق ان کے مرفوعات کس درجہ لغو اور غلط ہیں ۔
Ayahs 34:10–12

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ مِنَّا فَضْلًا١ؕ یٰجِبَالُ اَوِّبِیْ مَعَهٗ وَ الطَّیْرَ١ۚ وَ اَلَنَّا لَهُ الْحَدِیْدَۙ Open ayah 34:10 in the Quran reader

اور ہم نے داؤد کو اپنی طرف سے برتری بخشی اسے پہاڑ واسکے ساتھ رجوع سے تسبیح پڑھو اور اے پرندو (تم بھی) اور ہم نے اس کے لئے لوہے کو نرم کردیا

اَنِ اعْمَلْ سٰبِغٰتٍ وَّ قَدِّرْ فِی السَّرْدِ وَ اعْمَلُوْا صَالِحًا١ؕ اِنِّیْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 34:11 in the Quran reader

اور کشادہ زر ہیں بنا اور اندازے سے کڑیاں جوڑ اور تم سب نیک کام کرو ۔ جو تم کرتے ہو میں دیکھتا ہوں

وَ لِسُلَیْمٰنَ الرِّیْحَ غُدُوُّهَا شَهْرٌ وَّ رَوَاحُهَا شَهْرٌ١ۚ وَ اَسَلْنَا لَهٗ عَیْنَ الْقِطْرِ١ؕ وَ مِنَ الْجِنِّ مَنْ یَّعْمَلُ بَیْنَ یَدَیْهِ بِاِذْنِ رَبِّهٖ١ؕ وَ مَنْ یَّزِغْ مِنْهُمْ عَنْ اَمْرِنَا نُذِقْهُ مِنْ عَذَابِ السَّعِیْرِ Open ayah 34:12 in the Quran reader

اور سلیمان (ف 1) کے لئے ہوا کو (مسخر کیا) صبح کی سیر (یامنزل) اس کی ایک مہینے کی راہ اور شام کی سیر اس کی ایک مہینے کی راہ تھی ۔ اور اس کے لئے ہم نے گلے ہوئے تانبے کا ایک چشمہ جاری کردیا اور جنات میں وہ جن (اس کے تابع کئے) جو اس کے سامنے اس کے رب کے حکم سے کام کرتے تھے ۔ اور ان جنوں میں سے جو کوئی ہمارے رب کے حکم سے پھریگا ہم اسے دوزخ کا عذاب چکھائیں گے

حضرت داؤد (علیہ السلام) اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) 1: اس سے قبل کی آیات میں بتایا تھا ۔ کہ انسان میں جب اتابت الی اللہ کا جوہر پیدا ہوجائے تو وہ آیات فطرت کو خوب سمجھنے لگتا ہے ۔ اب اس آیت میں اپنے دو بندوں کا ذکر فرمایا ہے ۔ جو منیب تھے اور بہت زیادہ فضل وبرکات کے حامل تھے ۔ حضرت داؤد اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) بابل میں ان کی بادشاہت اور شان و عظمت کا تفصیل کے ساتھ تذکرہ ہے ۔ قرآن حکیم نے نہایت مختصر انداز میں چندواقعات کی طرف اشارہ کیا ہے ۔ اس لئے کہ عرب تفصیل کے ساتھ ان چیزوں سے آگاہ تھے بتانا صرف یہ مقصود ہے کہ اجابت الی اللہ کا صحیح مفہوم کیا ہے ؟ فرمایا : حضرت داؤد کو دیکھو کہ پہاڑ بھی ان کے مسخر ہیں اور باوجود اس صلابت کے جو انکا فطری خاصہ ہے ۔ داؤد کے روحانی نغموں پر جھومتے ہیں اور اس کے ساتھ تسبیح بیان کرتے ہیں ۔ پرندوں کی دیکھو وہ بہت کم مانوس ہوتے ہیں مگر داؤد کی تسبیح سے انے ننھے اور آزاد دلوں میں بھی گداز پیدا ہوجاتا ہے ۔ لوہے کے جگر میں بھی رقت پیدا ہوجاتی ہے اور وہ اللہ کی خشیت سے ان کے مبارک ہاتھوں میں نرم ہوجاتے ہے جس سے وہ زرہیں اور دیگر اسلحہ کی چیزیں بناتے ہیں ۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے لئے ہوا مسخر ہے ۔ انکا تخت ہوائی اس قدر تیز رفتار ہے کہ ایک مہینے کی منزل شام کو طے کرلیتا ہے ۔ نیز تانبے سے متعلقہ معلومات کو وہ پوری طرح جانتے ہیں ۔
Ayah 34:13

یَعْمَلُوْنَ لَهٗ مَا یَشَآءُ مِنْ مَّحَارِیْبَ وَ تَمَاثِیْلَ وَ جِفَانٍ كَالْجَوَابِ وَ قُدُوْرٍ رّٰسِیٰتٍ١ؕ اِعْمَلُوْۤا اٰلَ دَاوٗدَ شُكْرًا١ؕ وَ قَلِیْلٌ مِّنْ عِبَادِیَ الشَّكُوْرُ Open ayah 34:13 in the Quran reader

وہ جنات اس کے لئے جو چاہتا بناتے تھے قلعے اور تصویریں اور لگن جیسے تالاب کے دیگیں چولہوں پر جمی ہوئیں ، اے آل داؤد شکرگزاری کرو اور میرے بندوں میں تھوڑے شکر (ف 2) گزار ہیں

حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی شان وشوکت 2: حضرت داؤد کی ساری عمر مخالفین سے جہاد کرتے گزری ۔ انہوں نے اپنے وقت کے بڑے بڑے جیابرہ کو شکست دی ہے ۔ اور آئندہ شروفساد کو بالکل ختم کردینے کے لئے پوری حربی قوت کا استعمال فرمایا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے ذکر میں اسلحہ سازی کی خصوصیت کے ساتھ بیان فرمایا ہے ۔ اور اس کو واعملو صالحا سے تعبیر کیا ہے ۔ تاکہ معلوم ہوجائے ۔ کہ دشمنوں کو کچلنے کے لئے اسلحہ بنانا عمل خیر ہے اور مدنیت صحیحہ کی بہترین خدمت ہے ۔ حضرت سلیمان کا زمانہ امن کا زمانہ تھا ۔ اس لئے ان کے ذکر میں سامان شان و شوکت کی تفصیلات ہیں ۔ ارشاد ہے ۔ کہ جن ان کے مسخر تھے ۔ اور قصر شاہی اور معاہد کی تعمیر میں لگے ہوئے تھے ۔ محل کی زینت و آرائش کے لئے نقشے بھی وہ بناتے تھے ۔ اور بڑے بڑے کھانے پینے کے ظروف بھی ۔ تاکہ حضرت سلیمان کے شاہی دسترخان پر جتنے لوگ بھی آسکیں اتنی سمائی ہوجائے فرمایا : آل ونوہ سوچو ۔ تو اتابت الی اللہ کی وجہ سے تم کتنے بڑے بڑے رتبے دیئے گئے ہیں ۔ اور دنیا کی کتنی عظیم نعمتوں سے تم بہرہ ور ہو ۔ اور اس کے بعد اس حقیقت کا اظہار فرمایا ہے ۔ کہ منظم اور شاہانہ ٹھاٹ میں خدا پرستی کے جذبات تم جیسے لوگوں کے ساتھ ہی مخصوص ہیں ۔ ورنہ اکثریت کی حالت تو یہ ہے کہ جہاں ذرا آسودگی ہوئی ۔ غفلت کے کثیف حجابات دیدو لال پر چھاگئے ۔ ہوسکتا ہے اعملوا ال داؤد شکرا سے مراد یہ واقعہ ہو کہ حضرت سلیمان باوجود شاہانہ شان و شوکت کے کسی وقت بھی اللہ کو نہیں بھولے ۔ اور آسودگی اور فارغ البالی کی کسی منزل میں بھی انہوں نے اس کو فراموش نہیں کیا ۔ اور غرض یہ ہو کہ بائبل کی تردید کی جائے ۔ جہاں یہ لکھا ہے کہ سلیمان آخر وقت میں شرک میں مبتلا ہوگئے تھے ۔ معاذ اللہ ۔
Ayah 34:14

فَلَمَّا قَضَیْنَا عَلَیْهِ الْمَوْتَ مَا دَلَّهُمْ عَلٰى مَوْتِهٖۤ اِلَّا دَآبَّةُ الْاَرْضِ تَاْكُلُ مِنْسَاَتَهٗ١ۚ فَلَمَّا خَرَّ تَبَیَّنَتِ الْجِنُّ اَنْ لَّوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ الْغَیْبَ مَا لَبِثُوْا فِی الْعَذَابِ الْمُهِیْنِؕ Open ayah 34:14 in the Quran reader

پھر جب ہم نے اس پر موت کو مقرر کیا توجنوں کو اس کی موت کی خبر کسی نے نہ دی ۔ مگر گھن کے کیڑے نے کہ اس کے عصا کو کھاتا رہا ۔ پس جب وہ گرپڑا توجنوں نے جانا کہ اگر وہ غیب جانتے تو ذلت کے عذاب میں نہ رہتے

حضرت سلیمان کو تعمیر کے ساتھ خاص شغف تھا ۔ انہوں نے اپنے زمانے میں کئی محلات اور شاندار معاہد بنوائے ۔ اور عمر کے آخری حصے میں ارادہ تھا کہ اللہ کے لئے بہت بڑا ہیکل تعمیر کیا جائے ۔ جیسا کہ بائبل میں مذکور ہے اس کا آغاز ہوگیا تھا اور مدد لگ رہی تھی کہ آپ کا انتقال ہوگیا ۔ اور وہ ہیکل اختتام تک نہ پہنچ سکا ۔ اس وقت کی سیاسی حالت یہ تھی ۔ کہ تمام فلسفی حضرت سلیمان کے مخالف تھے ۔ اور مسلم جنات بھی جو مزدوروں اور صناعوں کی حیثیت سے کام کررہے تھے محض ان کی روحانی قوتوں کی وجہ سے مجبور تھے ۔ وہ دل سے ان کے ساتھ نہیں تھے آپ کی وفات کے بعدوزراء نے یہ مناسب سمجھا کہ آپ کی لاش کشیش محل میں اس طرح ارستاہ کیا جائے کہ ان پر موت کا شبہ نہ ہو ۔ اور اس طرح اس کی موت کی خبر سیاسی مصالح کی بنا پر پوشیدہ رکھا جائے ۔ چناچہ اس تدبیر پر عمل کیا گیا اور مدت تک مخالفین اور جنات یہ نہیں جان پائے تھے کہ حضرت سلیمان کا انتقال ہوچکا ہے ۔ کیونکہ رہ روز شیش محل میں وقت مقررہ پر ان کو عصا کے سہارے ٹیک لگائے کھڑا دیکھتے تھے ۔ پھر جب اتفاق سے زیادہ عرصہ گزر جانے کے بعد دیمک نے عصا کو کھوکھلا کردیا ۔ تو حضرت سلیمان کی لاش زمین پر آرہی ۔ تب راز فاش ہوگیا ۔ مگر اس وقت ہیکل کی تعمیر ہوچکی تھی ۔ اور سیاسی ریشہ دوانیوں پر قابو حاصل کرلیا گیا تھا ۔ بائبل میں لکھا ہے کہ یہ عمارت تیرہ سال تک زیر تعمیر رہی ۔ حل لغات :۔ بسبا ۔ ایک قوم کا نام ہے جو نہایت سرسبز اور شاداب زمین پر بسی ہوئی تھی جن کے شہر کے دائیں اور بائیں عمدہ عمدہ باغات تھے ۔ ان سے ان سے کہا گیا تھا کہ اگر اللہ کی ان نعمتوں سے ہمیشہ ہمیشہ بہرہ ور رہنا چاہتے ہو تو شکر گزاررہو ۔ انہوں نے غفلت اعراض کو شیوہ بنا لیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ایک سیلاب آیا اور سب کچھ بہالے گیا اور اس کے بعد بدمزہ جھاڑیاں اور درخت وہاں پیدا ہوگئے جن کی وجہ سے وہ عذاب الٰہی میں گرفتار ہوگئے ۔ سیل العرم ۔ پرزور سیلاب اس قدر تیز رواں پانی جو مینڈتوڑ دے خط ۔ ہر چیز ترش اور تلخ ائل ۔ جھاؤ سدر ۔ بیڑی ۔
Ayah 34:15

لَقَدْ كَانَ لِسَبَاٍ فِیْ مَسْكَنِهِمْ اٰیَةٌ١ۚ جَنَّتٰنِ عَنْ یَّمِیْنٍ وَّ شِمَالٍ١ؕ۬ كُلُوْا مِنْ رِّزْقِ رَبِّكُمْ وَ اشْكُرُوْا لَهٗ١ؕ بَلْدَةٌ طَیِّبَةٌ وَّ رَبٌّ غَفُوْرٌ Open ayah 34:15 in the Quran reader

بیشک قوم سبا کے لئے ان کی بستی میں ایک نشانی تھی دہنے اور بائیں دو باغ تھے ۔ اپنے رب کا رزق کھاؤ اور اس کا شکر کرو ۔ شہر ستھرا ہے اور رب بخشنے والا ہے

سبا والوں کی سرکشی 1: قوم سبا کی گردوپیش کی بستیاں بالکل قریب قریب واقع تھیں راستے متعین اور پرامن تھے ۔ جب چاہتے ایک گاؤں سے دوسرے گاؤں کی جانب آسانی سے منتقل ہوجاتے ۔ پھر جب انہوں نے سنا کہ دوسرے لوگوں کے ہاں شہر بہت زیادہ فاصلہ پر ہوتے ہیں ۔ اور وہ بہت بڑی مسافت طے کرکے ایک دوسرے کے پاس پہنچے ہیں ۔ تو وہ بھی اس بات پر الجھ گئے اور اللہ سے دعا کی ۔ کہ ہماری آبادیاں بھی دور دور واقع ہوں ۔ اور ہم بھی جدا جدا رہیں ۔ اور باقاعدہ سفر کرے ایک دوسرے کے پاس پہنچیں ہوسکتا ہے یہ مطالبہ اسی قسم کا ہو جو بنی اسرائیل کا تھا یعنی وہ جب ایک طرح کی زنگدی سے اکتا گئے تو ترکاریوں کو من وسلویٰ پر ترجیح دینے لگے اور کہنے لگے کہ ہم تو ہی محت ومشقت کی زندگی کو پسند کرتے ہیں اسی طرح ان سباوالوں نے محض تفرع کی خاطر اس خواہش کا اظہار کیا ۔ اور چاہا ۔ کہ ان کی آبادیاں دور دور کے قطعات میں منقسم ہوجائیں ۔ اللہ تعالیٰ کو یہ منظور نہ تھا ۔ کیونکہ اس طرح ان کے وحدت قومی میں انتشار پیدا ہوجاتا ہے ۔ اور یہ ایک مسلک کے لوگ دور دور رہنے کی وجہ سے ایک دوسرے کی ہمدردی سے بالکل محروم ہوجائے بلکہ یہ بھی ممکن تھا کہ ان میں باہمی عداوت اور رقابت کے جذبات پیدا ہوجاتے ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی اس خواہش کو پورا کردیا ۔ یہ مختلف گروہوں اور ٹکڑیوں میں بٹ گئے ۔ اور بالآخر اس تشتت اور افتراق کی بدولت مٹ گئے اور صرف ان کے افسانے باقی رہ گئے ۔ یعدبین اسفارنا کا ایک مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے ۔ کہ ان لوگوں نے ازراہ سرکشی عذاب کا مطالبہ کیا ہو ۔ اور یہ کہا ہوں کہ ہم صداقت اور سچائی کو قبول نہیں کرسکتے اگر وافعی اس کفر کا نتیجہ ہلاکت سے تو آجائے اور ہماری بستیوں کو یوران کردے ۔ ہم اس ویرانی اور ہلاکت کا انتظار اور عذاب کا خیر مقدم کرتے ہیں ۔ حل لغات :۔ قری شاھرۃ یعنی قریب قریب اس طرح کہ ایک گاؤں سے دوسرا گاؤں دکھائی دے احادیث ۔ خبری اور افسانے بمعنی اول جمع حدیث وبمعنی ثانی جمع احمد ولہ مزقلھم کئی ٹکڑیوں میں تقسیم کردیا یا تباہ کردیا من سلطان غلبہ یعنی شیطان براہ راست انسان پر غالب نہیں ہے یا کہ محض وسوسہ اندازی قلب و دماغ میں گمراہ کن خیالات بھردیتا ہے ۔
Ayahs 34:16–20

فَاَعْرَضُوْا فَاَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ سَیْلَ الْعَرِمِ وَ بَدَّلْنٰهُمْ بِجَنَّتَیْهِمْ جَنَّتَیْنِ ذَوَاتَیْ اُكُلٍ خَمْطٍ وَّ اَثْلٍ وَّ شَیْءٍ مِّنْ سِدْرٍ قَلِیْلٍ Open ayah 34:16 in the Quran reader

پھر انہوں نے منہ موڑا تو ان پر ہم نے زور کا نالا چھوڑ دیا اور ان کے دو باغوں کے عوض ہم نے ان کو اور دو باغ بدل دیئے ۔ جن کامیوہ کسیلا اور جھاؤ اور کچھ تھوڑے سے بیر تھے

ذٰلِكَ جَزَیْنٰهُمْ بِمَا كَفَرُوْا١ؕ وَ هَلْ نُجٰزِیْۤ اِلَّا الْكَفُوْرَ Open ayah 34:17 in the Quran reader

یہ ان کے کفر کا بدلہ ہم نے ان کو دیا اور بری سزا سوائے ناشکر کے اور کسی کو ہم نہیں دیا کرتے

وَ جَعَلْنَا بَیْنَهُمْ وَ بَیْنَ الْقُرَى الَّتِیْ بٰرَكْنَا فِیْهَا قُرًى ظَاهِرَةً وَّ قَدَّرْنَا فِیْهَا السَّیْرَ١ؕ سِیْرُوْا فِیْهَا لَیَالِیَ وَ اَیَّامًا اٰمِنِیْنَ Open ayah 34:18 in the Quran reader

اور ہم نے ان (اہل سبا) کے اور ان دیہات کے درمیان جن میں ہم نے برکت رکھی ہے (راہ پر) نظر آنے والی بستیاں بنائیں اور ان میں چلنے کی مزلیں (یعنی سرائیں) مقرر کیں اور عام اجازت دی کہ راتوں اور دنوں ان کے درمیان امن سے سیر کرو

فَقَالُوْا رَبَّنَا بٰعِدْ بَیْنَ اَسْفَارِنَا وَ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فَجَعَلْنٰهُمْ اَحَادِیْثَ وَ مَزَّقْنٰهُمْ كُلَّ مُمَزَّقٍ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍ Open ayah 34:19 in the Quran reader

پھر الہ سبا نے کہا کہ اے ہمارے رب ہمارے سفروں میں دوری ڈال دے ۔ اور انہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا ۔ پھر ہم نے انہیں افسانے بنادیا ۔ اور انہیں بالکل ٹکڑے ٹکڑے کردیا بیشک اس میں ہر صابر شاکر کے لئے نشانیاں ہیں

وَ لَقَدْ صَدَّقَ عَلَیْهِمْ اِبْلِیْسُ ظَنَّهٗ فَاتَّبَعُوْهُ اِلَّا فَرِیْقًا مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 34:20 in the Quran reader

اور بلاشبہ ابلیس نے اپنا گمان2 ان کے حق میں سچ کردککھایا سو سوائے تھوڑے سے ایماندروں کے سب نے اس کی پیروی کی

ف 2: فرمایا ۔ ان میں سے چند مومنوں کے سوا سب لوگوں نے شیطان کی پیروی کی اور اس کے مزعوبات کو سچا ثابت کرکے دکھایا یعنی یہ بات جو اس نے کہی تھی ۔ کہ میں نجدان لوگوں کو گمراہ کرکے رہونگا ۔ فبعزتک لاغریتھم وہ پوری ہوئی ۔ اور یہ لوگ اس کے چنگل میں گرفتار ہوگئے ۔ یعنی ان لوگوں کی مگر اہ یمحض اس قانون ازلی کے مطابق ہے کہ دنیا میں ہمیشہ دو گروہ موجود رہیں گے ایک وہ جو عقبیٰ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہے ۔ اور دوسرا وہ جو مادیت پرست ہے ان دو قسم کے خیالات کا بقاء دنیا کے تکوینی مقاصد کے لئے ضروری ہے ۔
Ayahs 34:21–22

وَ مَا كَانَ لَهٗ عَلَیْهِمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ اِلَّا لِنَعْلَمَ مَنْ یُّؤْمِنُ بِالْاٰخِرَةِ مِمَّنْ هُوَ مِنْهَا فِیْ شَكٍّ١ؕ وَ رَبُّكَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ حَفِیْظٌ۠ Open ayah 34:21 in the Quran reader

اور شیطان کا ان پر کچھ زور نہ تھا مگر (یہ اس لئے ہوا) کہ ہم اسے جو آخرت پر ایمان لاتا ہے اس سے جو آخرت کی طرف سے شک میں ہے جدا کرکے ظاہر کریں اور تیرا رب ہر شئے پر نگہبان ہے

قُلِ ادْعُوا الَّذِیْنَ زَعَمْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ۚ لَا یَمْلِكُوْنَ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَ لَا فِی الْاَرْضِ وَ مَا لَهُمْ فِیْهِمَا مِنْ شِرْكٍ وَّ مَا لَهٗ مِنْهُمْ مِّنْ ظَهِیْرٍ Open ayah 34:22 in the Quran reader

تو کہہ خدا کے سوا جن کے تم مدعی ہو انہیں پکارو ۔ وہ نہ آسمانوں میں ایک ذرہ بھر کے مالک ہیں اور نہ زمین میں اور نہ آسمان و زمین میں ان کی کچھ شرکت ہے ، اور نہ ان میں کوئی اس (خدا) کا مددگار (ف 1) ہے

ف 1: مشرکین سے خطاب ہے کہ تم جن لوگوں کو خدا سمجھتے ہو وہ کائنات میں ایک ذرہ پر بھی اقتدار نہیں رکھتے ۔ اور نہ زمین اور آسمان کی تخلیق میں ان کا کچھ حصہ ہے اور نہ یہ درست ہے ۔ کہ کسی کام میں اللہ کے شریک وسہیم ہیں ۔ پھر تمہاری عقلوں کو کیا ہوگیا ہے ۔ کہ تم ان لوگوں کو اپنا معبود سمجھتے ہو
Ayahs 34:23–27

وَ لَا تَنْفَعُ الشَّفَاعَةُ عِنْدَهٗۤ اِلَّا لِمَنْ اَذِنَ لَهٗ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوْبِهِمْ قَالُوْا مَا ذَا١ۙ قَالَ رَبُّكُمْ١ؕ قَالُوا الْحَقَّ١ۚ وَ هُوَ الْعَلِیُّ الْكَبِیْرُ Open ayah 34:23 in the Quran reader

اور خدا کے نزدیک شفاعت کچھ فائدہ نہیں دیتی ۔ مگر اس کے لئے جس کے واسطے اللہ اذن دے ۔ یہاں تک کہ جب تک ان کے دلوں سے گھبراہٹ دور کی جاتی ہے تو کہتے ہیں کہ تمہارے رب نے کیا فرمایا ؟ پھر آپ کہتے ہیں سچ بات فرمائی ہے اور وہی بلند مرتبہ سب سے بڑا ہے

قُلْ مَنْ یَّرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ قُلِ اللّٰهُ١ۙ وَ اِنَّاۤ اَوْ اِیَّاكُمْ لَعَلٰى هُدًى اَوْ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 34:24 in the Quran reader

تو کہہ آسمانوں اور زمین میں سے تمہیں رزق کون دیتا ہے ؟ تو کہہ کہ اللہ اور یا ہم تم البتہ ہدایت پر ہیں یا صریح گمراہی میں (آخر کوئی تو سچا ہے ذرا سوچو)

قُلْ لَّا تُسْئَلُوْنَ عَمَّاۤ اَجْرَمْنَا وَ لَا نُسْئَلُ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 34:25 in the Quran reader

تو کہہ جو گناہ ہم نے کئے ہیں ان کی بازپرس تم سے نہیں کی جائے گی اور نہ تمہارے اعمال کی باز پرس ہم سے ہوگی

قُلْ یَجْمَعُ بَیْنَنَا رَبُّنَا ثُمَّ یَفْتَحُ بَیْنَنَا بِالْحَقِّ١ؕ وَ هُوَ الْفَتَّاحُ الْعَلِیْمُ Open ayah 34:26 in the Quran reader

تو کہہ ہمارا رب ہم سب کو جمع کریگا ۔ پھر ہم میں انصاف سے فیصلہ کریگا اور وہی حکم کرنے والا جاننے والا ہے

قُلْ اَرُوْنِیَ الَّذِیْنَ اَلْحَقْتُمْ بِهٖ شُرَكَآءَ كَلَّا١ؕ بَلْ هُوَ اللّٰهُ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 34:27 in the Quran reader

تو کہہ تم مجھے وہ اشخاص دکھلاؤ جنہیں ہم نے شریک ٹھہرا کر خدا سے ملا دیا ہے وہ کوئی نہیں بلکہ وہی اللہ سے زبردست حکمتوں والا

حقیقت ثانیہ حضور کو مخاطب فرمایا ہے اور کہا ہے ۔ کہ ان لوگوں سے پوچھئے جو ماسوا میں الجھے ہوئے ہیں ۔ اور شرافت انسانی سے قطع نظر کرکے کائنات کے حقیر مظاہر کے سامنے جھکتے ہیں ۔ کہ تمہیں آسمانوں اور زمین سے کوئی روزی عطا کرتا ہے ؟ یعنی یہ ابروباد کا انتظام کس کے ہاتھ میں ہے ۔ کون پانی سے لدی ہوئی ہوائیں بھیجتا ہے اور کون مردہ کھیتوں کو ہرا بھرا اور شاداب بنادیتا ہے ؟ کون انگوریاں ۔ غلہ اور چارہ پیدا کرتا ہے ؟ فرمایا : کہ اس سوال کا جواب سوائے اسکے کیا ہوسکتا ہے کہ یہ اللہ کا اختیار میں ہے ۔ گیا یہ جواب اتنا سچا اور وقیت پر مبنی ہے ۔ کہ کوئی شخص اس سے اختلاف نہیں کرے گا اس کے بعد فرمایا : کہ اس حقیقت ثانیہ کے بعد اب تمہیں غور کرنا چاہیے ۔ کہ ہم دونوں میں سے کون راہ راست پر گامزن ہے اور کون گمراہ ہے کون صداقت شعار ہے اور کون اصنام پرستی میں مبتلا ۔ کون اس خدا کو مانتا ہے جو حقیقی اور سچا رازق ہے اور کون ان بتوں کی پرستش کرتا ہے ۔ جن کا رزق کی کشائش اور تنگی میں کوئی دخل نہیں آیت کے اس چھوٹے سے ٹکڑے میں چند لفظی اور معنوی صنائع ہیں ۔ جن کو ملحوظ رکھا گیا ہے اور وہ یہ ہیں :۔ (1) انداز بیان ایسا اختیار کیا گیا ہے جو مشرکین کو بھڑکانہ دے اور غور تامل پر مجبور کردے ۔ یعنی یہ نہیں فرمایا کہ ہم دونوں میں سے ایک ضرور راہ صادق وصاف پر گامزن ہے اور دوسرا گمراہ ہے ۔ (2) تعلے ھدی کہہ کر گویا یہ بتادیا ہے ۔ کہ ہمارا راہ راست پر ہونا زیادہ قرین عقل ہے ۔ (3) ہدایت کے لئے علیٰ کا لفظ اور ضلال کے لئے فی استعمال کرنا یہ بھی ہی مصلحت سے ہے ۔ کہ توحید کی راہ طلوع و رفعت کی راہ ہے اور شرکت کی راہ گمراہی اور پستی کی ۔ (4) آؤ حرف تردید ہے ۔ جس کے معنے ہیں کہ حق وصداقت اور گمراہی میں کوئی تیسری راہ نہیں ہے ۔ ہر شخص کے متعلق بس دو ہی نقطہ نگاہ ہوسکتے ہیں ۔ یا تو وہ صحیح مسلک پر قائم رہے یا گمراہ
Ayah 34:28

وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا كَآفَّةً لِّلنَّاسِ بَشِیْرًا وَّ نَذِیْرًا وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 34:28 in the Quran reader

اور تجھے جو ہم نے بھیجا ہے تو سب لوگوں کے لئے خوشی اور ڈر سنانے کو بھیجا ہے ۔ لیکن اکثر (ف 1) آدمی نہیں جانتے

فیضانِ عام 1: یعنی حضور ﷺ کی نبوت تمام کائنات کے لئے ہے ۔ کسی خاص عصر کے لوگوں کے ساتھ مختص نہیں ۔ کسی خاص حالات اور مقامات کے تابع نہیں ۔ ہر وقت اور ہر آن آپ کی تعلیمات لائق قبول اور قابل اتباع ہیں ۔ آپ ہر زمانے میں اپنے پیغام کے لحاظ سے زندہ ہیں ۔ اور یہ زندگی تا قیامت جاری رہے گی ۔ کافۃ للناس سے مقصود یہ ہے کہ کسی زمانہ اور کسی قرن میں بھی کسی رائے نبوت کے تلے پناہ گزین ہونے کی ضرورت نہیں ہے آپ کی نبوت کا پھر یرا ہر وقت لہراتا رہے گا ۔ اور لوگوں کوا من وسعادت کا پیغام پہنچاتا رہے گا ۔ حل لغات :۔ انفتاح ۔ ٹھیک ٹھیک فیصلہ کرنے والا کافۃ ۔ بمعنے ہمہ وتمام ۔ عموم واستغراق کے لئے ہے ۔
Ayahs 34:29–33

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 34:29 in the Quran reader

اور کہتے ہیں اگر تم سچے ہو ، تو یہ وعدہ کب آئے گا

قُلْ لَّكُمْ مِّیْعَادُ یَوْمٍ لَّا تَسْتَاْخِرُوْنَ عَنْهُ سَاعَةً وَّ لَا تَسْتَقْدِمُوْنَ۠ Open ayah 34:30 in the Quran reader

تو کہہ تمہارے لئے ایک دن کا وعدہ ہے اس سے تم نہ ایک ساعت پیچھے رہوگے اور نہ آگے بڑھوگے

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ بِهٰذَا الْقُرْاٰنِ وَ لَا بِالَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْهِ١ؕ وَ لَوْ تَرٰۤى اِذِ الظّٰلِمُوْنَ مَوْقُوْفُوْنَ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ۖۚ یَرْجِعُ بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضِ اِ۟لْقَوْلَ١ۚ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا لِلَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْا لَوْ لَاۤ اَنْتُمْ لَكُنَّا مُؤْمِنِیْنَ Open ayah 34:31 in the Quran reader

اور کافروں نے کہا ۔ کہ ہم اس قرآن پر ہرگز ایمان نہ لائیں گے اور نہ اس پر جو اس سے پہلے ہے ، اور کاش کہ تو دیکھے جب ظالم اپنے رب کے پاس کھڑے کئے جائیں گے ، ایک دوسرے پر بات ڈالے گا جو دنیا میں ضعیف سمجھے گئے تھے متکبروں سے کہیں گے کہ اگر تم نہ ہوتے تو ہم ضرور ایماندار ہوتے

قَالَ الَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْا لِلَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْۤا اَنَحْنُ صَدَدْنٰكُمْ عَنِ الْهُدٰى بَعْدَ اِذْ جَآءَكُمْ بَلْ كُنْتُمْ مُّجْرِمِیْنَ Open ayah 34:32 in the Quran reader

متکبر لوگ ضعیفوں سے کہیں گے کہ (جب تمہارے پاس ہدایت آئی تھی) کیا ہم نے اس کے پہنچنے کے بعد تمہیں ہدایت سے روکا تھا ؟ ہرگز نہیں بلکہ تم ہی مجرم تھے

وَ قَالَ الَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا لِلَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْا بَلْ مَكْرُ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ اِذْ تَاْمُرُوْنَنَاۤ اَنْ نَّكْفُرَ بِاللّٰهِ وَ نَجْعَلَ لَهٗۤ اَنْدَادًا١ؕ وَ اَسَرُّوا النَّدَامَةَ لَمَّا رَاَوُا الْعَذَابَ١ؕ وَ جَعَلْنَا الْاَغْلٰلَ فِیْۤ اَعْنَاقِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ هَلْ یُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 34:33 in the Quran reader

اور ضعیف لوگ متکبروں سے کہیں گے ، کوئی نہیں بلکہ رات اور دن کے فریب نے ہمیں گمراہ کیا ۔ جب کہ تم ہمیں حکم دیتے تھے کہ ہم اللہ کا انکار اور اس کے لئے شریک ٹھہرائیں اور جب عذاب دیکھیں گے (دل ہی دل میں) چھپے چھپے پشیمان ہونگے اور ہم کافروں کی گردنوں میں طوق ڈالیں گے جو کرتے تھے اسی کی وہ سزا پائیں گے

زیر دتسوں کی گفتگو زبردستوں سے آفتاب جب چمکتا ہے تو یہ ناممکن ہے کہ لوگ اس کی روشنی کو محسوس نہ کریں ۔ رات کی تاریکی جب دور ہوتی ہے ۔ اور پوٹھپتی ہے تو ہر شخص ایک روحانی کیف کو محسوس کرتا ہے ۔ موسم بہار میں بوقلمون پھولوں کی بہار سے کون محفوظ نہیں ہوتا ؟ بالکل اس طرح دنیا میں طویل تاریکی اور ظلمت کے بعد مہر صداقت جب طلوع ہوتا ہے تو ساری دنیاکو منور کردیتا ہے ۔ جب فلاح وسعادت کی صبح رونما ہوتی ہے ۔ تو ہر سلیم الفطرت انسان اس کی کیفیتوں سے زندگی حاصل کرتا ہے اور جب کشت زار قلوب کی بہار کا موسم آتا ہے ۔ تو فیضان الٰہی کی تراوش ہوتی ہے ان کیفیات سے انکار کرنا جہود اور مجادلہ ہے ۔ اور چند حقیر دنیوی مصالح کا تقاضا ہے ورنہ کون ہے جو ان چیزوں کو دیکھے ۔ محسوس کرے ۔ اور بھلادے ۔ ان آیات میں قرآن حکیم اسی صداقت کا اظہار کرنا چاہتا ہے ۔ کہ ان لوگوں نے جو دنیا میں تکذیب اور سرکشی کو روا رکھا ۔ تو محض اس لئے کہ ان میں سے امراء کبراء عمائد اور بڑے بڑے مشائخ اپنے نشہ کبر میں سرشار تھے ۔ اور ان کی مصلحتوں کا تقاضا یہ تھا ۔ کہ اسلام کو ٹھکرایا جائے کیونکہ اسلام کے پھیل جانے سے ان کی عزت دینی اور وجاہت دنیوی خطرہ میں تھی ۔ ورنہ کوئی معقول عذر ان پیشوایان دین کے پاس تھا ۔ اور نہ ان کے عقیدت مندوں کے پاس ۔ نہ سرمایہ داروں کے پاس اور نہ تہہ دست محتاجوں کے پاس ۔ بات صرف یہ تھی کہ یہ لوگ خود تو بتقاضائے مصلحت عمداً اسلام کو قبول نہیں کرتے تھے ۔ مگر ساتھ ساتھ یہ کوشش بھی کرتے تھے کہ عوام بھی اس نعمت سے محروم رہیں ۔ میدان حشر میں یہ لوگ اللہ کے دربار میں پیش ہوں گے ۔ اور اس کی حضوری میں اپنے جرائم پر نظر کریں گے ۔ تو ان کو سخت مدامت ہوگی ۔ اور اس وقت یہ کہیں گے ۔ کہ ہم سب کیوں اللہ کے اس فضل سے محروم رہے ! کمزو عقیدت مند گنہگار اپنے اکابر اور مرشدین سے کہیں گے ۔ کہ تم لوگوں نے اپنے مطلب اور خود غرضی کے لئے ہم کو اسلام کی برکات سے محروم رکھا ۔ اگر ہم اس معاملہ میں خالی الذمین ہوتے ، تو ضرور اسلام قبول کرلیتے ۔ تو اس وقت وہ بڑے بڑے لوگ کامل بےزاری کا اظہار کریں گے اور کہیں گے کہ ہم نے تمہیں کبھی ہدایت کی باتوں کو قبول کرلینے سے نہیں روکا ۔ تم اپنے اعمال کے آپ ذمہ دار ہو ۔ اس کا وہ یہ جواب دیں گے ۔ کہ پھر صبح وسا تمہاری سازشوں اور تدبیروں کا کیا مقصد تھا ۔ جو حق کے مقابلہ میں اختیار کی جاتی تھیں ۔ جب کہ تم ہم لوگوں کو کفر پر مجبور کرتے تھے ۔ اور شرک کے لئے آمادہ کرتے تھے ۔ فرمایا اس بحث اور الزام دہی سے اب کچھ حاصل نہیں ہوگا ۔ جہاں تک جرائم کا تعلق ہے تم دونوں برابر کے مجرم اور ذمہ دار ہو ۔ اس لئے اب ان مغرور گردنوں میں ذلت و حقارت کے طوق پہننے کے لئے تیار رہو ؟ حل لغات :۔ صددناکم ۔ صدد سے ہے ۔ بمعنی روکنا ۔ منع کرنا ۔ حل لغات :۔ ذمکرالیل ۔ یعنی منرکم اسرالندامۃ ۔ دوات الاضعاد سے ہے ۔ اس کے معنے چھپانیئے بھی ہیں ۔ اور ظاہر کرنے کے بھی الاغلال ۔ غل کی جمع ہے طوق رنجیر لوے کا حلقہ اعتاف ۔ جمع عق بمعنی گردنیں ۔
Ayahs 34:34–37

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا فِیْ قَرْیَةٍ مِّنْ نَّذِیْرٍ اِلَّا قَالَ مُتْرَفُوْهَاۤ١ۙ اِنَّا بِمَاۤ اُرْسِلْتُمْ بِهٖ كٰفِرُوْنَ Open ayah 34:34 in the Quran reader

اور ہم نے جس بستی میں کوئی ڈرانے والا بھیجا وہاں کے دولت مندوں نے یہی کہا کہ جو کچھ (پیغام) تمہارے ہاتھ بھیجا گیا ہے ہم اس کے منکر ہیں

وَ قَالُوْا نَحْنُ اَكْثَرُ اَمْوَالًا وَّ اَوْلَادًا١ۙ وَّ مَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِیْنَ Open ayah 34:35 in the Quran reader

اور کہا کہ ہم مال واولاد میں زیادہ ہیں اور ہم پر آفت نہیں آئے گی

قُلْ اِنَّ رَبِّیْ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 34:36 in the Quran reader

تو کہہ میرا رب جس کے لئے چاہتا ہے روزی کشادہ کرتا ہے ۔ لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے

وَ مَاۤ اَمْوَالُكُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُكُمْ بِالَّتِیْ تُقَرِّبُكُمْ عِنْدَنَا زُلْفٰۤى اِلَّا مَنْ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا١٘ فَاُولٰٓئِكَ لَهُمْ جَزَآءُ الضِّعْفِ بِمَا عَمِلُوْا وَ هُمْ فِی الْغُرُفٰتِ اٰمِنُوْنَ Open ayah 34:37 in the Quran reader

اور تمہارے مال (ف 1) اور تمہاری اولاد وہ نہیں کہ ہمارے پاس تمہارا درجہ قریب کردیں مگر وہی جو ایمان لایا اور اس نے نیک کام کئے تو ایسے ہی لوگوں کو ان کے اعمال کا دوچند بدلا ملے گا ۔ اور وہ بالاخانوں میں نڈر بیٹھے ہوں گے

روحانی تقاضے 1: مکہ والوں کو مال و دولت اور اپنی اولاد پر بڑا غرور تھا وہ سمجھتے تھے کہ اس سے زیادہ سعادت اور خوش بختی اور کیا ہوسکتی ہے ۔ کہ ایک شخص دولت سے بہرہ ور ہو ۔ اور اس کے اولاد بھی ہو ۔ ان دوچیزوں کی موجودگی میں روحانیت بےمعنی شے ہے ۔ اور مذہب کی ضرورت نہیں ۔ آج بھی مادہ پرست دنیا یہی سمجھتی ہے ۔ کہ جہاں تک حظوظ دنیا کا تعلق ہے اس سے استفادہ کرنا تو ضروری ہے ۔ اور ان کو پاکر پھر ما بعد الطبعی مسرتوں کے پیچھے دوڑنا حماقت ہے چودہ سو سال کی مادیت میں کوئی فرق نیں ۔ آج بھی وہی خیالات ہیں جو آج سے پہلے مکہ کے جاہلوں میں رائج تھے ۔ اضافہ صرف یہ ہوا ہے ۔ کہ ان لوگوں کی خواہشات محدود تھیں ۔ آج ان خواہشات میں تو سیع او تنوع پیدا ہوگیا ہے ۔ اور بس ۔ قرآن حکیم کہتا ہے ۔ یہ بات جب درست ہوتی جب تم صرف جسم ہوتے اور تم میں روح نہ ہوتی ۔ اور روحانی تقاضے نہ ہتے جب تمہارے جس کے ساتھ تمہاری روح بھی ہے اور وہ روح اس روح اکبر سے جماملنا چاہتی ہے ۔ اس کے تقرب کے لئے بےقرار ہے ۔ اور اس کے کچھ تقاضے بھی ہیں ۔ تو پھر بتاؤ کہ تم مال و دولت کے انباروں کے ساتھ کیونکر ان لطیف تقاضوں کو پورا کرسکتے ہو ۔ اور کیونکر اللہ تک رسائی حاصل کرسکتے ہو ۔ یاد رکھو وہاں تک پہنچنے کے لئے جن کیفیات کی ضرورت ہے ۔ وہ سیم وزر سے دل میں پیدا نہیں ہوتیں ۔ اور نہ اولاد واعوان سے ان کے حصول میں کچھ مدد مل سکتی ہے ۔ وہ کیفیتیں تو ایمان سے پیدا ہوتی ہیں ۔ اور اعمال صالحہ کی آبیاری سے بڑھتی اور تازگی حاصل کرتی ہیں ۔ حل لغات :۔ زلفی ۔ تقرب ۔ حضور الغرفات ۔ غرفہ کی جمع ہے ۔ بمعنی بالا خانے ویقدر ۔ تنگی سے دیتا ہے ۔
Ayahs 34:38–39

وَ الَّذِیْنَ یَسْعَوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِنَا مُعٰجِزِیْنَ اُولٰٓئِكَ فِی الْعَذَابِ مُحْضَرُوْنَ Open ayah 34:38 in the Quran reader

اور جو لوگ ہماری آیتوں کے عاجز کرنے میں سعی کرتے ہیں وہی عذاب میں پکڑے جاتے ہیں

قُلْ اِنَّ رَبِّیْ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ وَ یَقْدِرُ لَهٗ١ؕ وَ مَاۤ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ شَیْءٍ فَهُوَ یُخْلِفُهٗ١ۚ وَ هُوَ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ Open ayah 34:39 in the Quran reader

تو کہہ مرا رب اپنے بندوں میں سے جس کے لئے چاہے رزق کشادہ کرتا (ف 1) ہے اور جس کے لئے چاہے تنگ کرتا ہے ، اور جو تم خرچ کرتے ہو وہ اس کا بدلا دیتا ہے اور وہ بہتر روزی دینے والا ہے

ف 1: یعنی مال و دولت کی کشائش اور تنگی تو قطعاً اللہ کے ہاتھ میں ہے ۔ وہ چاہے تو ایک بندہ مفلس کو تاج وتخت کا مالک کردے ۔ اور چاہے تو پل بھر میں تخت نشین کو خاک نشین کردے ؎ عجب نادان ہیں جن کو ہے عجب تاج سلطانی فلک بال وہما کو پل میں سونپے ہے مگس رانی ہاں دولت وہ ہے ۔ جس کو تم اللہ کی راہ میں خرچ کرو ۔ جو جیبوں اور بنکوں سے نکل کر قومی ضروریات پر صرف ہو ۔ وہ دولت نہیں ۔ جو قومی نحوست ہو ۔ لعنت ہو ۔ عیاشی اور بدمعاشی ہو ۔ کبروغرور ہو ۔ اور لوہے کے صندقوں میں بند تہ خانوں میں پنہاں اور زمین میں دفن ہو ۔ حاشیہ صفحہ ھذا 1: مشرکین مکہ فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں کہتے تھے اور ان کی پرستش کرتے تھے میدان قیامت میں اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے عقیدہ کی تغلیظ اور توہین کے لئے فرشتوں سے ان کے روبرو پوچھے گا کہ کیا یہ لوگ تمہاری پوجا کرتے تھے ۔ فرشتے جواب دینگے ۔ کہ اے اللہ تیری ذات پاک ہے صرف تو ہی عبادت کے لائق ہے ہم تیری عبودیت اور بندگی پر مفتخر ہیں ہمیں جعو تعلق تیری ذات سے ہے وہ کسی سے نہیں ۔ اصل بات یہ ہے کہ انہیں شیطان بہکاتے تھے ۔ اور یہ شیطانوں کی پیروی کرتے تھے ۔