Explained with ayahs 7–9
کافروں کی جہالت۔
کافر اور ملحد جو قیامت کے آنے کو محال جانتے تھے اور اس پر اللہ کے نبی ﷺ کا مذاق اڑاتے تھے ان کے کفریہ کلمات کا ذکر ہو رہا ہے کہ وہ آپس میں کہتے تھے " لو اور سنو ہم میں ایک صاحب ہیں جو فرماتے ہیں کہ جب مر کر مٹی میں مل جائیں گے اور چورا چورا اور ریزہ ریزہ ہوجائیں گے اس کے بعد بھی ہم زندہ کئے جائیں گے، اس شخص کی نسبت دو ہی خیال ہوسکتے ہیں یا تو یہ کہ ہوش و حواس کی درستی میں وہ عمداً اللہ کے ذمے ایک جھوٹ بول رہا ہے اور جو اس نے نہیں فرمایا وہ اس کی طرف نسبت کرکے یہ کہہ رہا ہے اور اگر یہ نہیں تو اس کا دماغ خراب ہے، مجنوں ہے، بےسوچے سمجھے جو جی میں آئے کہہ دیتا ہے۔ " اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →سورة سَبـَا 10
قریش کے سردار اس بات کو خوب جانتے تھے کہ محمد ﷺ کو جھوٹا تسلیم کرنا عوام الناس کے لیے سخت مشکل ہے، کیونکہ ساری قوم آپ کو صادق القول جانتی تھی اور کبھی ساری عمر کسی نے آپ کی زبان سے کوئی جھوٹی بات نہ سنی تھی۔ اس لیے وہ لوگوں کے سامنے اپنا الزام اس شکل میں پیش کرتے تھے کہ یہ شخص جب زندگی بعد موت جیسی انہونی بات زبان سے نکالتا ہے تو لامحالہ اس کا معاملہ دو حال سے خالی نہیں ہو سکتا۔ یا تو (معاذ اللہ) یہ شخص جان بوجھ کر ایک جھوٹی بات کہہ رہا ہے، یا پھر یہ مجنون ہے۔ لیکن یہ مجنون والی بات بھی اتنی ہی بےسرو پا تھی جتنی جھوٹ والی بات تھی۔ اس لیے کہ کوئی عقل کا اندھا ہی ایک کمال درجہ کے…
Read the full tafseer →(آیت) افتریٰ علیٰ اللہ کذباً ام بہ جنة، مطلب یہ ہے کہ جسم کے ریزہ ریزہ ہوجانے کے بعد سب ذرات کا جمع ہو کر پھر بدن انسانی بن جانا اور زندہ ہونا تو ایسی نامعقول بات ہے جس کو تسلیم کرنے اور ماننے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، اس لئے ان کا یہ قول یا تو جان بوجھ کر خدا تعالیٰ پر افتزاء و بہتان باندھنا ہے، یا پھر یہ کہنے والا مجنون ہے جس کے کلام کی کوئی بنیاد صحیح نہیں ہوتی۔
Read the full tafseer →افتری علی اللہ کذبا امر بہ جنتہ بل الذین لا یومنون بالاخرہ فی العذاب والضلل البعید (8)
یہ ان کے اسی استہزا کی مزید تفصیل اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کا برمحل جواب ہے۔
’ افتری علی اللہ کذبا امہ بہ جنۃ ‘ یعنی وہ کہتے ہیں کہ اس شخص کا معاملہ دو حال سے خالی نہیں۔ یا تو یہ مانا جائے کہ اس نے خدا پر جھوٹ باندھا ہے کہ خدا نے اس کو رسول بنا کر بھیجا ہے اور وہ جو کچھ کہہ رہا ہے اس کی طرف سے کہہ رہا ہے یا پھر یہ مانا جائے کہ یہ بھی جنون کی ایک قسم ہے جس میں یہ شخص مبتلا ہوگیا ہے ! مطلب یہ ہے کہ یہ دونوں باتیں بیک وقت اس شخص میں موجود ہیں۔ یہ مفتری بھی ہے اور مجنون بھی۔
’ بل الذین لایومنون بالاخرۃ…
Read the full tafseer →8۔ 1 یعنی دو باتوں میں سے ایک بات تو ضرور ہے، کہ یہ جھوٹ بول رہا ہے اور اللہ کی طرف سے وحی و رسالت کا دعویٰ ، یہ اس کا اللہ پر افترا ہے۔ یا پھر اس کا دماغ چل گیا ہے اور دیوانگی میں ایسی باتیں کر رہا ہے جو غیر معقول ہیں۔
8۔ 2 اللہ تعالیٰ نے فرمایا، بات اس طرح نہیں ہے، جس طرح یہ گمان کر رہے ہیں بلکہ واقعہ یہ ہے کہ عقل و فہم اور ادراک حقائق سے یہی لوگ قاصر ہیں، جس کی وجہ سے یہ آخرت پر ایمان لانے کی بجائے اس کا انکار کر رہے ہیں، جس کا نتیجہ آخرت کا دائمی عذاب ہے اور یہ آج ایسی گمراہی میں مبتلا ہیں جو حق سے غایت درجہ دور ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
2: یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کی مذکورہ بات کا جواب ہے۔ انہوں نے حضور اقدس ﷺ کے بارے میں دو احتمال ذکر کیے تھے۔ ایک یہ کہ (معاذ اللہ) آپ نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھا ہے جو اللہ تعالیٰ کے عذاب کو دعوت دینے مرادف ہے۔ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ آنحضرت ﷺ نے عذاب الٰہی کو دعوت دینے والا کوئی کام نہیں کیا، اس کے برعکس آخرت کے منکرین ضرور عذاب کا کام کر رہے ہیں۔ دوسرا احتمال کافروں نے یہ ذکر کیا تھا کہ (معاذ اللہ) آپ کو جنون لاحق ہوگیا ہے، اور جنون کی حالت میں اگرچہ عذاب نہیں ہوتا، لیکن مجنون راستے سے بھٹکا ہوا ضرور ہوتا ہے۔ اس کے جواب میں فرمایا گیا ہے کہ آپ نہیں، بلکہ منکرین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
وقال الذین کفروا۔۔۔۔۔۔ والضلل البعید (7 – 8)
یہ لوگ قیام قیامت کو اس قدر عجیب سمجھتے تھے۔ یہ لوگ قیامت کے قائل کو قابل تعجب یا مجنون یا چھوٹا سمجھتے تھے۔ ذرا انداز گفتگو کو دیکھو “ بتائیں تمہیں ایسا شخص جو کہتا ہے کہ جن تمہارے جسم کا ذرہ ذرہ منتشر ہوجائے گا اس وقت تم نئے سرے سے پیدا کر دئیے جاؤ گے “۔ یہ ایک عجیب و غریب شخص پیدا ہوگیا ہے جو اس قسم کی انہونی باتیں کرتا ہے کہ مرنے کے بعد ، مٹی کے ذرات بن جانے کے بعد کے بعد اور مٹی میں رل مل جانے کے بعد تمہیں دوبارہ زندہ کردیا جائے گا۔
یہ لوگ مزید تعجب کرتے ہیں اور نہایت ہی انوکھا سمجھتے ہوئے یہ پروپیگنڈا کرتے ہیں کہ یا تو یہ اللہ کے نام سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
1 کفار قریش نبی کریم ﷺ کی شان میں یہ گستاخی کرتے تھے۔ یعنی آؤ تمہیں ایک شخص دکھلائیں جو کہتا ہے کہ تم گل سڑ کر اور ریزہ ریزہ ہو کر جب خاک میں مل جاؤ گے، پھر تم کو ازسر نو بھلا چنگا بنا کر کھڑا کردیا جائے گا۔ بھلا ایسی مہمل بات کون قبول کرسکتا ہے۔ دو حال سے خالی نہیں۔ یا تو یہ شخص جان بوجھ کر اللہ پر جھوٹ لگاتا ہے کہ اس نے ایسی خبر دی۔ نہیں تو سودائی ہے۔ دماغ ٹھکانے نہیں دیوانوں کی سی بےتکی باتیں کرتا ہے۔ (العیاذ باللہ)
2 یعنی نہ جھوٹ ہے نہ جنون۔ البتہ یہ لوگ عقل و دانش اور صدق و صواب کے راستہ سے بھٹک کر بہت دور جا پڑے ہیں۔ اور بیہودہ بکواس کر کے اپنے کو آفت میں پھنسا رہے ہیں۔ فی الحقیقت یہ…
Read the full tafseer →آیت 8 { اَفْتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا } ”کیا اس نے جھوٹ باندھا ہے اللہ پر“
کیا محمد ﷺ نے اتنی بڑی جسارت کی ہے کہ جھوٹ گھڑ کر اللہ کی طرف منسوب کردیا ہے ؟ کہنے کو تو وہ ایک دوسرے سے یوں کہتے تھے اور خود اپنے آپ سے بھی یہ سوال کرتے تھے لیکن اصل حقیقت کو وہ خوب سمجھتے تھے کہ آپ ﷺ کی طرف سے جھوٹ گھڑنے کا کوئی ہلکا سا بھی امکان نہیں تھا۔ اندر سے ان کے دل گواہی دیتے تھے کہ دیکھو ! اس شخص کی پچھلے چالیس برس کی زندگی تمہارے سامنے ہے۔ ان کی سیرت و کردار سے تم خوب واقف ہو۔ تم نے خود انہیں الصادق اور الامین کا خطاب دیا ہے۔ تو بھلا ایک ایسا شخص جس نے اپنی معمول کی زندگی میں کبھی کوئی چھوٹا سا بھی جھوٹ…
Read the full tafseer →10 کفار مکہ آپ کو جھوٹا نہیں کہہ سکتے تھے۔ کیونکہ یہ بات ان کے زندگی بھر کے تجربہ کے خلاف تھی۔ لیکن وہ آپ کی دعوت کو بھی تسلیم کرنے پر آمادہ نہ تھے۔ رسول اللہ کی دعوت میں تین باتیں تھیں جو انھیں ناگوار تھیں یا جن پر وہ ایمان نہیں رکھتے تھے۔ (1) وہ اس زمین و آسمان یا کائنات کے فنا ہونے کا یقین نہیں رکھتے تھے۔ بالفاظ دیگر وہ قیامت کے قائم ہونے کے قائل نہیں تھے۔ (2) وہ بعث بعدالموت کے بھی قائل نہیں تھے۔ یعنی جب انسان مر کر مٹی میں مل کر مٹی بنا جائے تو اس کا دوبارہ جی اٹھنا ان کے خیال کے مطابق ناممکنات سے تھا۔ اور (3) اسی کے نتیجہ میں وہ آخرت کے ثواب و عذاب کے بھی قائل تھے۔ لہذا وہ اپنی دنیوی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
7۔ یہ سارا قول مشرک منکرین قیامت کا نقل ہورہا ہے وقوع قیامت کا تو ان کے زعم میں کوئی امکان ہی نہ تھا۔ اب جب وہ یہ عقیدہ پیغمبر کی زبان سے سنتے، تو پہلے تو اسے ایک عجیب و غریب خبر سمجھ کر آپس میں اس کا تذکرہ، چرچا کرتے، اور پھر قائل کے قول کی توجیہ لامحالہ انہیں دو شقوں سے کرتے کہ قائل یا تو دانستہ ایک بات گڑھ کر بیان کررہا ہے، اور یا نادان فاتر العقل ہے۔ ٹھیک اسی طرح آج بھی ” مستشرقین اسلام “ جب قلم اٹھاتے ہیں تو یہ تو بطور علوم متعارفہ فرض کرلیتے ہیں کہ دعوی رسالت صحیح تو بہرحال ہو نہیں سکتا۔ اب مدعی رسالت یا تو نعوذ باللہ خادع (lmpostor) ہوگا ا اور یا نادان اور خود فریبی میں مبتلا !۔ (آیت)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
آیت نمبر 1 تا 9
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے، تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے سزاوار ہیں جس کی ملکیت میں وہ سب کچھ ہے جو آسمانوں اور زمین میں ہے، اللہ تبارک و تعالیٰ نے (اس کلام) کے ذریعہ اپنی تعریف فرمائی ہے، اور مراد اس کلام سے، اس کلام کے مضمون کے ذریعہ، کہ وہ ثبوت حمد ہے تعریف کرنا ہے، اور حمد اللہ تعالیٰ کے لئے صفات کمالیہ کا بیان کرنا ہے ملک کے اعتبار سے اور تخلیق کے اعتبار سے اور غلام ہونے کے اعتبار سے اور دنیا کے مانند آخرت میں بھی اسی کی حمد ہے، اس کے اولیاء جب جنت میں داخل ہوں گے تو اس کی حمد بیان کریں گے وہ اپنے فعل میں بڑی حکمتوں والا ہے اور…
Read the full tafseer →افتری علی اللہ کذبا ام بہ جنۃ . کیا اس نے اللہ پر دروغ تراشی کی ہے (یعنی قصداً اللہ پر جھوٹ باندھا ہے) یا
اس کو کسی قسم کا جنون ہوا ہے جو اس کے دل میں وہم ڈالتا ہے اور زبان سے (ایسی بات) کہلواتا ہے ؟
چونکہ آیت میں افتراء کے مقابل جنون کا ذکر کیا ہے ‘ اس لئے بعض لوگوں نے صدق و کذب کے درمیان ایک درمیانی واسطہ مانا ہے (جو نہ صدق ہوتا ہے نہ کذب) یعنی ایسی غلط خبر جو بےارادہ کہہ دی جائے۔ لیکن یہ استدلال کمزور ہے کیونکہ افتراء اور کذب باہم مساوی نہیں ہیں (کہ ہر افتراء کذب ہو اور ہر کذب افتراء) بلکہ افتراء اس کذب کو کہتے ہیں جو قصداً ہو ‘ اور کذب کا لفظ عام ہے۔ بالقصد کذب ہو یا بلاقصد ‘ دونوں کذب کی…
Read the full tafseer →محمد نے نعوذ باللہ، اللہ پر جھوٹ باندھا ہے یا ان کو کسی قسم کا جنون ہوگیا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ حقیقت میں جو لوگ بعث بعد الموت پر ایمان نہیں رکھتے وہی آخرت میں سخت عذاب میں اور دنیا میں حق و ہدایت سے دور اور گمراہی میں ہیں۔
Read the full tafseer →اَفْتَرٰى عَلَي اللّٰهِ كَذِبًا اَمْ بِهٖ جِنَّةٌ۔۔ : یعنی اس کا یہ کہنا کہ ریزہ ریزہ کردیے جانے کے بعد تم نئے سرے سے پھر زندہ کیے جاؤ گے، دو حال سے خالی نہیں، یا تو ہوش و حواس کی درستی میں وہ جان بوجھ کر اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھ رہا ہے اور اس کی طرف نسبت کر کے وہ بات کہہ رہا ہے جو اس نے نہیں فرمائی، یا اسے جنون ہے، اس کا دماغ خراب ہے، بےسوچے سمجھے جو جی میں آئے کہہ دیتا ہے۔ [ نَعُوْذُ باللّٰہِ مِنْ ذٰلِکَ ]
بَلِ الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بالْاٰخِرَةِ۔۔ : رسول اللہ ﷺ کی پوری عمر قریش مکہ کے سامنے گزری تھی۔ (دیکھیے یونس : 16) آپ کے متعلق یہ دونوں باتیں اتنی بےکار تھیں کہ ان کی تردید کی…
Read the full tafseer →آیت : افتری علی اللہ کذبا جب ہمزہ استفہام میں داخل ہاہو تو اس نے ہمزہ وصلی سے مستغنی کردیا تو اس کو حذف کردیا گیا۔
ہمزہ استفہام پر فتحہ یہ ہمزہ استفہام اور ہمزہ وصلی کے درمیان فرق کرنے کے لیے ہے۔ سورة مریم میں یہ بحثاطلاع الغیب میں مفصل گزر چکی ہے۔
ام بہٖ جنۃ اس کلام کو مشرکوں کے اس قول کی طرف پھیرا جائے گا جو پہلے گزر چکا ہے مشرکوں نے کہا تھا : کیا اس نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھا ہے یا اس کو جنون کا مرض لاحق ہے۔ افتراء معنی بات کو گھڑنا ہے۔ ام بہ جنۃ یا اس کو جنون ہے وہ ایسی بات کرتا ہے جب کہ اس کو پتہ ہی نہیں۔ پھر ان کا رد کیا اور فرمایا : بل الذین لا یومنوں بالا خرۃ فی العزاب والضلل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
1۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے آیت وہوالحکیم الخبیر کے بارے میں روایت کیا کہ وہ حکیم ہے اپنے کام میں باخبر ہے اپنی مخلوق سے۔
2۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) روایت کیا کہ آیت یعلم مایلج فی الارض (وہ جانتا ہے جو چیز داخل ہوتی ہے زمین میں) یعنی بارش آیت وما یخرج منہا (اور جو چیز نکلتی ہے اس میں سے) یعنی سبزے میں سے آیت وما ینزل من السماء اور جو نازل ہوتا ہے آسمان سے یعنی فرشتے آیت وما یعرج فیہا اور جو اس میں چڑھتے ہیں یعنی فرشتہ۔
3۔ عبدالرزاق وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ رحمۃ الہ علیہ سے روایت کیا کہ آیت قل بل وربی لتاتینکم۔ علم الغیب کیوں نہیں اور میرا رب جو…
Read the full tafseer →اَفْتَرٰى [کیا اس نے گھڑا ] عَلَي اللّٰهِ [اللہ پر ] كَذِبًا [کوئی جھوٹ ] اَمْ بِهٖ [یا اس کے ساتھ ] جِنَّةٌ ۭ [کوئی جنون ہے ] بَلِ الَّذِيْنَ [بلکہ وہ لوگ جو ] لَا يُؤْمِنُوْنَ [ایمان نہیں لاتے ] بِالْاٰخِرَةِ [آخرت پر ] فِي الْعَذَابِ [عذاب میں ] وَالضَّلٰلِ الْبَعِيْدِ [اور دور والی گمراہی میں ہیں ] ۔
آیت 8 ۔ افتری میں ہمزہ استفہام کا ہے اور ہمزہ الوصل لکھنے میں بھی گرگیا ہے، یعنی یہ در اصل ا افتری ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
کافروں کی طرف سے وقوع قیامت کا انکار اور ان کے لیے عذاب کی وعید
جو لوگ قیامت کے منکر تھے وہ رسول اللہ ﷺ کے بارے میں آپس میں کہتے تھے کہ کیا ہم تمہیں ایسا آدمی نہ بتادیں جو تمہیں یہ بتاتا ہے کہ جب تم بالکل ہی چورہ چورہ ریزہ ریزہ ہوجاؤ گے تو پھر نئے طریقے سے پیدا ہوں گے، انہیں نئے طور پر پیدا ہونے سے جو تعجب ہوتا تھا اپنے اس تعجب کو اس طرح ظاہر کیا اور اس میں کچھ استہزاء اور تمسخر کا بھی پہلو ہے۔ چونکہ یہ لوگ رسالت پر ایمان نہیں رکھتے تھے اس لیے انہوں نے وقوع قیامت کی خبر کو دو باتوں میں منحصر کردیا اور کہنے لگے کہ یہ شخص اللہ پر جھوٹ باندھتا ہے یعنی وہ بات کہتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–9
اثبات معاد مقرون بہ قسم برائے تہدید اہل کفر وعناد
قال اللہ تعالی۔ وقال الذین کفروا لا تاتینا الساعۃ۔۔۔ الی۔۔۔ ان فی ذلک لایۃ لکل عبد منیب۔
(ربط) اوپر تحمید اور توحید کا ذکر تھا اب آئندہ آیت میں منکرین حشر کی ایک بیہودہ بات کا ذکر کر کے اس کا رد فرماتے ہیں اور بیہودگی پر تہدید بھی فرماتے ہیں۔ (شیخزادہ ص 79 ج 4)
اور یہ بتلاتے ہیں کہ قیامت ضرور آئے گی اور جو لوگ قیامت کے ساتھ استہزا کرتے ہیں ان کو ان کے اعمال کی ضرور سزا ملے گی چناچہ فرماتے ہیں اور کافر اور مشرک جو امانت کے ثواب اور خیانت کے عقاب کے منکر ہیں اور حیات دنیاوی پر بھروسہ کئے ہوئے ہیں یہ کہتے ہیں کہ ہم پر قیامت نہیں آئے گی ہمیں کسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
8:۔ وقال الذین کفروا الخ : یہ بھی شکوہ ہے۔ کفار تعجب و حیرت کے ساتھ ایک دوسرے سے کہتے ہیں آؤ ہم تمہیں ایک ایسا آدمی دکھائیں جو کہتا ہے جب تم مرنے کے بعد گل سڑ کر اور ذرہ ذرہ ہو کر مٹی میں مل جاؤ گے تو اس کے بعد پھر دوبارہ تمہیں از سر نو پیدا کیا جائے گا۔ افتری علی اللہ الخ : کیا اس شخص نے خدا کے ذمہ جھوٹ لگا دیا ہے کہ وہ انسانوں کو دوبارہ زندہ کرے گا یا (عیاذا باللہ) یہ دیوانہ ہے کہ دیوانوں کی سی باتیں کرتا ہے۔ بل الذین لا یومنون الخ : یہ جواب شکوہ ہے فرمایا کافروں کا خیال و زعم باطل ہے۔ پیغمبر (علیہ السلام) نے نہ خدا پر افترا کیا ہے اور نہ انہیں جنون ہے بلکہ یہ کافر خود انتہائی حماقت اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
سورة سبا کی ابتداء خدا تعالیٰ کی حمد وثناء سے ہوئی۔ دنیا و آخرت میں اسی کے لیے تعریف ہے۔ اللہ تعالیٰ علیم کل ہے اور وہ ذرے ذرے کو جانتا ہے پھر اللہ نے قیامت کے متعلق فرمایا کہ کافر لوگ پختہ قسمیں اٹھا کر کہتے ہیں کہ قیامت نہیں آئے گی مگر اللہ نے اپنے نبی کو مخاطب کرکے فرمایا کہ آپ ان سے کہہ دیں کہ میرے رب کی قسم قیامت ضرور وارد ہوگی۔ خدا تعالیٰ عالم الغیب ہے آسمان و زمین کی ہر چھوٹی بڑی چیز اس کے علم میں ہے اور کوئی ذرہ برابر چیز بھی اس سے مخفی نہیں۔ اس کے علاوہ ہر چیز خدائی رجسٹر میں بھی محفوظ ہے۔ لہذا کسی چیز سے صرف نظر کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ فرمایا قیامت کی آمد اس لیے ضروری ہے تاکہ اہل…
Read the full tafseer →اَفْتَرٰى عَلَي اللہِ كَذِبًا اَمْ بِہٖ جِنَّۃٌ 0 ۭ بَلِ الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَۃِ فِي الْعَذَابِ وَالضَّلٰلِ الْبَعِيْدِ 8
فری
الفَرْيُ : قطع الجلد للخرز والإصلاح، والْإِفْرَاءُ للإفساد، والِافْتِرَاءُ فيهما، وفي الإفساد أكثر، وکذلک استعمل في القرآن في الکذب والشّرک والظّلم . نحو : وَمَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدِ افْتَرى إِثْماً عَظِيماً [ النساء/ 48] ،
(ری ) القری ( ن )
کے معنی چمڑے کو سینے اور درست کرنے کے لئے اسے کاٹنے کے ہیں اور افراء افعال ) کے معنی اسے خراب کرنے کے لئے کاٹنے کے ۔ افتراء ( افتعال کا لفظ صلاح اور فساد دونوں کے لئے آتا ہے اس کا زیادہ تر استعمال افسادی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
وقال الذین کفروا اس جگہ ان اہل علم و ایمان کے برخلاف احمق لوگوں کا قول نقل کرتا ہے کہ منکر یہ کہتے ہیں کہ ایسا شخص بھی دیکھا ہے کہ جو مرنے کے بعد جبکہ جسم کے ریزے ریزے ہوجاویں گے، دوبارہ زندگی ہونے کی خبر دیتا ہے۔ ایسے شخص سے ان کا اشارہ حضرت رسول کریم ﷺ کی طرف تھا، ھل ندلکم کہو تو ہم بتلادیں۔ یہ عرب کے محاورہ میں ایسی بات ہے کہ جس طرح ہماری زبان میں کہتے ہیں، کوئی ایسا بھی ہے ؟ یعنی وہ اس بات کے خبر دینے سے کہ مر کر زندہ ہوں گے، سخت تعجب کرتے ہیں اور رسول کو جھوٹا یا دیوانہ کہتے ہیں۔ افتراء بھی ایک قسم کا جھوٹ ہے، یعنی جان بوجھ کر جھوٹ بولنا اور ایک بات بنالینا، کوئی نئی قسم نہیں جس سے جھوٹ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
وَقَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا ھَلْ نَدُلُّـکُمْ عَلٰی رَجُلٍ یُّنَبِّئُکُمْ اِذَا مُزِّقْـتُمْ کُلَّ مُمَزَّقٍ لا اِنَّـکُمْ لَفِیْ خَلْقٍ جَدِیْدٍ ۔ اَفْتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا اَمْ بِہٖ جِنَّـۃٌ ط بَلِ الَّذِیْنَ
لاَ یُؤمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَۃِ فِی الْعَذَابِ وَالضَّلٰـلِ الْبَعِیْدِ ۔ (السباء : 7، 8)
(اور کہتے ہیں وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا ہے کہ کیا ہم تم کو ایک ایسا آدمی دکھائیں جو تمہیں خبر دیتا ہے کہ جب تم ریزہ ریزہ ہوجاؤ گے اس وقت تم نئے سرے سے پیدا کیے جاؤ گے۔ کیا اس نے اللہ پر جھوٹ باندھا ہے یا اسے کسی قسم کا جنون لاحق ہے بلکہ جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے، عذاب میں اور دور کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
فہم القرآن
ربط کلام : منکرین قیامت کی سب سے بڑی دلیل اور اس کا ردّ ۔
منکرین قیامت ہمیشہ سے یہ دلیل دیتے آئے ہیں کہ جب انسان مر کر مٹی کے ساتھ مٹی ہوجائے گا تو اسے دوبارہ کس طرح زندہ کیا جائے گا۔ نبی آخر الزمان ﷺ کے سامنے یہی دلیل ایک شخص نے دی جس نے اپنے ہاتھ پر ایک مردہ انسان کی بوسیدہ ہڈی رکھ کر اسے مسلتے ہوئے کہا کہ اے محمد ﷺ اس خاک میں کون جان پیدا کرے گا ؟ جس کا تفصیلی جواب سورة یٰس کی آخری پانچ آیات میں دیا گیا ہے۔ لیکن پھر بھی منکرین قیامت لوگوں کو اپنا ہم فکر رکھنے کے لیے کہا کرتے تھے کہ ہم تمہیں ایسا شخص نہ دکھلائیں جو اس بات کا دعویٰ کرتا ہے کہ جب تم مر کر ریزہ ریزہ ہوجاؤ گے تو…
Read the full tafseer →8: اِفْتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا (معلوم نہیں اس شخص نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بہتان باندھا ہے۔ ) کیا وہ اللہ تعالیٰ پر جھوٹا بہتان باندھنے والا ہے۔ اس میں سے جو اس کی طرف منسوب کیا جاتا ہے۔
نحو : ہمزہ استفہام کا ہے اور ہمزہ وصل ضرورت نہ ہونے کی وجہ سے حذف کردیا گیا ہے۔
اَمْ بِہٖ جِنَّۃٌ (یا اس کو کسی طرح کا جنون ہوگیا) وہ جنون اس کو یہ توہمات ڈال کر اس کی زبان پر لاتا ہے۔ بَلِ الَّذِیْنَ لَایُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَۃِ فِی الْعَذَابِ (بلکہ وہ لوگ جو آخرت پر ایمان نہیں لاتے وہ عذاب) وَالضَّلٰلِ الْبَعِیْدِ (اور دور کی گمراہی میں ہیں)
پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ محمد (ﷺ) نہ مفتری ہیں اور نہ…
Read the full tafseer →8، افتری علی اللہ کذبا ام بہ جنۃ، الف استفہام کا۔ وہ آپ کو جھوٹا گمان کرتے ہیں یا ان کے جنون ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی تردید فرماتے ہیں۔ ، بل الذین لا یؤمنون بالا خرۃ فی العذاب والضلال البعید، دنیا میں وہ حق سے بہت دور تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
7‘ 8۔ اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے قیامت کے آنے کا حق ہونا قسم کھا کر فرمایا تھا اور عقلی طور پر منکرین قیامت کو یہ بھی سمجھایا تھا کہ جس طرح دنیا کے پیدا ہونے سے پہلے کچھ بھی نہیں تھا اور اللہ تعالیٰ نے پانی قدرت سے سب کچھ پیدا کردیا جو سب کی آنکھوں کے سامنے ہے اسی طرح دنیا کی نابودی کے بعد قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اپنی قدرت سے سب کچھ پیدا کردے گا ان منکرین حشر کی عقل نے دنیا کے پیدا ہونے سے پہلے کی نابودی اور دنیا کے فنا ہونے کی بعد کی نابودی میں کیا فرق نکالا ہے جس فرق کے سبب سے ان کو حشر کا انکار ہے اور حشر کو یہ لوگ اللہ کی قدرت سے باہر گنتے ہیں اس آیت میں منکرین حشر کو نادانی بیان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–10
آیت 7
(وقال الذین کفروا) یعنی کفار تکیذب اور استہزاء کے طور پر اور دوبارہ زندگی کو نامکن قرار دیتے ہوئے ایک دوسرے سے کہتے ہیں : (آیت) ” کیا ہم تمہاری راہنمائی ایسے شخص کی طرف کریں جو تمہیں یہ خبر پہنچا رہا ہے کہ جب تم بالکل ہی ریزہ ریزہ ہوجاؤ گے تو تم پھر سے ایک نئی پیدائش میں آؤ گے۔ “ ان کی مراد رسول اللہ ﷺ ہیں۔ وہ آپ کے بارے میں کہتے ہیں کہ آپ ایک ایسے شخص ہیں جو ایک انوکھی چیز پیش کر رہے ہیں۔ ان کی نظر میں آپ ان کے لئے تفریح کا ایک ذریعہ ہیں اور ایک عجیب شے ہیں جن کا وہ مذاق اڑاتے ہیں اور تعجب کرتے ہیں کہ آپ کیسے یہ بات کہتے ہیں : ” جب تم بوسیدہ ہو کر ریزہ ریزہ ہوجاؤ گے تمہارا جوڑ جوڑ الگ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
18 منکرین کے تعجب و استہزاء کا جواب : سو اس میں کفار و منکرین کے بعث بعد الموت پر تعجب اور اس کے استہزاء کا ذکر بھی ہے اور اہل بدعت کی ایک تحریف کا جواب بھی۔ سو کفار و منکرین کا کہنا تھا کہ یہ شخص ایسی عجیب بات بتلاتا ہے کہ ہم اس طرح مر مٹ جانے اور ریزہ ریزہ ہوجانے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جائیں گے۔ بھلا ایسا کیونکر ہوسکتا ہے اور یہی اشتباہ واستبعاد جو اس دور کے ان کفار و منکرین کو تھا آج کے بھی بہت سے روشن خیالوں کو ہے۔ سو مادیت میں دنیا بیشک حیرت انگیز حد تک ترقیاں کر جائے مگر ان کی اس قاصر و لا دین ذہنیت کی نور حق و ہدایت تک رسائی ممکن نہیں جب تک کہ یہ لوگ صدق دل سے نور وحی کی طرف رجوع نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–9
ﷲ کی قدرتیں اور کفار کی بےوقوفی اور ضد
تشریح : جیسا کہ پہلے اللہ کی حکمتوں کا ذکر ہوچکا ہے اور ہر مسلمان کا یہ عقیدہ ہے کہ اللہ سب سے بڑا ہے اور واحد ہے اس نے پوری کائنات کو تخلیق کیا تو اس کی ہر چیز کا حساب کتاب اس نے اپنے پاس لوح محفوظ میں محفوظ کر رکھا ہے یعنی پیدا ہونا پھولنا اور پھلنا پھر ختم ہو کر اللہ کی طرف ہی لوٹ جانا ہے کیونکہ اس نے کوئی چیز جاندار ہو یا بےجان بےمقصد پیدا نہیں کی۔ سب کی پیدائش کا ایک مقصد ہے۔ جو بھی اپنے مقصد سے ہٹ کر زندگی گزارے گا وہ ضرور دنیا میں تکلیف اٹھائے گا پھر اس امتحان کی زندگی کے بعد ایک دوسری زندگی آئے گی جو قیامت کے بعد شروع ہوگی اس وقت اس دنیا کے حساب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
سورة السبا
رکوع نمبر 1: آیات 1 تا 9:
اسرار و معارف :
تمام خوبیاں اور سب کمالات اللہ کو سزا وار ہیں کہ جو آسمانوں اور زمینوں کا اور ان میں موجود ہر ذرے کا خالق اور اکیلا مالک ہے اور وہ بہت ہی حکمت والا ہے اور ہر ذرے سے خوب واقف ہے اس جہان میں اور آخرت میں ہر ذرہ اس کی تاثیرات اور نتائج سب کا مالک وہی ہے۔ اللہ کو خوب علم ہے کہ زمین کے ذرات میں کس طرح بارش کا پانی سورج اور چاند کی کرنیں یا مختلف گیسیں داخل ہو کر کیا عمل کرتی ہیں اور پھر وہ ذرات کس طرح پھلوں پھولوں یا غذا میں تبدیل ہو کر نکلتے ہیں اور کون سا ذرہ کس جسم کی تعمیر کے لیے تیار کرکے کس کس طویل راستے سے اس بدن تک پہنچے گا نیز اللہ خوب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
ف 4 یعنی آسمان و زمین کی تخلیق، اللہ تعالیٰ کے کمال قدرت کی نشانی اور اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ دوبارہ زندہ کرنے پر قدرت رکھتا ہے۔ ( کبیر) ۔5 اس میں تہدید ہے کہ یہی چیزیں جن کو تم نفع بخش اور زندگی کا سبب سمجھتے ہو اللہ تعالیٰ اگر چاہے تو انہی چیزوں کو تمہاری ہلاکت کا جواب بنا سکتا ہے۔ ( کبیر) ۔6 کہ جس نے اتنا بڑا پر از حکمت نظام بنایا ہے وہ دوبارہ زندہ بھی کرسکتا ہے۔ ( کبیر) یا مطلب یہ ہے کہ اس کی عنایت و فضل سے ہم بچے ہوئے ہیں ورنہ وہ ایک دم میں ہمیں ہلاک کرسکتا ہے۔ یہ زمین بھی اسی کی ہے اور آسمان بھی اسی کے ہیں، بھاگ کر کہاں جام سکتے ہیں۔ ( وحیدی) اس کے بعد رجوع کرنے والے بندوں میں…
Read the full tafseer →(34:8) افتری اصل میں ا افتری تھا۔ پہلا ہمزہ استفہامیہ ہے دوسرا ہمزہ وصل ہے دو ہمزے جمع ہوئے تو ہمزہ وصل تخفیف کے لئے حذف ہوگیا۔ صیغہ ماضی واحد مذکر غائب ہے افتراء (افتعال) مصدر۔ اس نے جھوٹ باندھا۔ اس نے بہتان تراشا۔ اس کا ترجمہ دو طرح ہوسکتا ہے۔
(1) کیا اس نے اللہ پر جھوٹ باندھا ہے ؟ (2) یا تو اس نے اللہ پر جھوٹ باندھا ہے۔ ام بہ جنۃ یا اسے جنون ہے۔
جنۃ۔ جنون ۔ دیوانگی ۔ سودا۔ جن سے مشتق ہے جس کے معنی کسی چیز کے حواس سے چھپ جانے کے ہیں۔ جن یجن جن (باب نصر) اس نے ڈھانپ لیا۔ اس نے چھپالیا۔ جنۃ (جنت) بھی اسی سے مشتق ہے۔ درختوں والا ہر وہ باغ جس کے درخت زمین کو چھپا لیں جنت کہلاتا ہے۔
بل۔ حرف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
لغات القرآن : آیت نمبر 7 تا 9
ندل : ہم بتائیں گے
ینبی : وہ بتاتا ہے
مزقتم : تم ریزہ ریزہ ہوگئے
جنۃ : جنون۔ دیوانگی
الضلال : گمراہی
نخسف : ہم دھنسا دیں گے
نسقط : ہم گرا دیں گے
کسف : ایک ٹکڑا۔ ایک حصہ
ایۃ : نشانی۔ نشان عبرت
منیب : لوٹنے والا۔ رجوع کرنے والا
تشریح : آیات 7 تا 9
بنیادی طور پر جانوروں اور انسان میں یہ فرق ہے کہ جانور فکر اور تدبر سے محروم ہے جب کہ انسان تفکر اور تدبر کرسکتا ہے ۔ مال و دولت اور دنیاوی اسباب میں کمی اتنی بڑی بد قسمتی اور محرومی نہیں ہے جتنی یہ بات کہ انسان فکر و تدبر اور ہدایت سے محروم ہوجائے۔ جب نبی کریم ﷺ مکہ کے کافروں سے یہ فرماتے تھے کہ ایک دن یہ دنیا اور اس میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ جن لوگوں نے قران کی آیتوں کو جھٹلانے کی کوشش کی اور نبی ﷺ کو شاعر اور جادوگر کہہ کر جھٹلایا ان بدبختوں کے واسطے سختی کا دردناک عذاب ہے اب آگے فرمایا کہ لوح محفوظ میں قیامت کا آناجہاں لکھا ہے اور نیک وبد کی جزاوسزا کا حال لکھا ہے وہاں قیامت کے آنے کا یہ فائدہ بھی لکھا ہے کہ علم الٰہی کے موافق جن لوگوں نے قرآن کی نصیحت سے عقبی کی بہبودی کی سمجھ حاصل کرلی ہے وہ اس قرآن کی نصیحت سے روکنے والوں کا کہنا نہیں مانیں گے جس کا نتیجہ ان کے حق میں یہ ہوگا کہ قیامت کے دن وہ قرآن کی ہدایت اور جزوسزا کی صداقت کو آنکھوں سے دیکھ لیویں گے بعض جنتی اپنے دنیا کے بہکانے والوں کو دوزخ…
Read the full tafseer →[9] یعنی نہ جھوٹ ہے نہ جنون۔ البتہ یہ لوگ عقل و دانش اور صدق وثواب کے راستے سے بھٹک کر بہت دور جا پڑے ہیں اور بےہودہ بکواس کر کے اپنے کو عذاب میں پھنسا رہے ہیں۔ فی الحقیقت یہ بڑا عذاب ہے کہ آدمی کا دماغ اس قدر مختل ہوجائے کہ وہ اللہ کے پیغمبر کو مفتری یا مجنوں کہنے لگے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–8
تابشِ نظر
1: پیغمبر کی نظروں میں اہام اور وحی کی وجہ سے اس درجہ تابش آجاتی ہے ۔ کہ وہ ان واقعات وحقائق کو اس طرح محسوس کرتے ہیں جو آئندہ کئی صدیوں کے بعد آنے والے ہیں جس طرح ہم موجودہ مناظر کو دیکھتے ہیں ۔ وہ ان کے متعلق محکم یقین رکھتے ہیں ۔ کیونکہ ان کے جانے کا ذریعہ کمزور استدلال نہیں ہوتا ۔ جس میں شک وشبہ کو اصلاً دخل نہیں ۔ وہ پیغمبر از بصیرت سے دیکھتے ہیں اور القاء وکشف سے حقائق وواقعات کو جانتے ہیں ان کے زمانے کے لوگ صرف الہام کی عظمت سے آگاہ نہیں ہوتے ۔ بلکہ پرلے درجے کے توگ ماہ نظر بھی ہوتے ہیں ۔ وہ ان کی باتوں کو محض جنون اور کذب سمجھتے ہیں ۔ ان کی نظریں سلیحی ہوتی ہیں ۔ اس لئے وہ…
Read the full tafseer →(8) معلوم نہیں اس شخص نے اللہ پر جھوٹ بہتان باندھا ہے یا اس کو کچھ جنون ہوگیا ہے۔ یہ کوئی بات نہیں بلکہ جو لوگ آخرت کا یقین نہیں رکھتے وہ خطرناک عذاب اور پرلے درجے کی گمراہی میں مبتلا ہیں۔ یعنی یا تو یہ شخص اللہ تعالیٰ پر جھوٹ اختراء کرتا ہے یا کچھ جنون اور دیوانگی میں مبتلا ہے کیونکہ مرنے کے بعد دوبارہ پیدا ہونا تو محال ہے یا یہ جان بوجھ کر جھوٹ بولتا ہے یا دیوانگی کی وجہ سے بلاقصد جھوٹ کا مرتکب ہوتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے جواب میں فرمایا کہ ہمارا پیغمبر نہ تو مفتری ہے نہ مجنوں ہے بلکہ جو آخرت پر یقین نہیں رکھتے وہی لوگ عذاب اور دوردراز کی گمراہی میں مبتلا ہیں۔ کلام ہمیشہ صدق اور کذب میں دائر…
Read the full tafseer →ف 6۔ اس گمراہی کا حالی اثر یہ ہے کہ سچے بھی مفتری اور مجنون نظر آتے ہیں، اور مآلی اثر یہ ہے کہ عذاب بھگتنا پڑے گا۔
Read the full tafseer →یہ کہنے والا خواہ وہ کوئی بھی ہو بہرحالوہ کوئی دیوانہ ہی ہوسکتا ہے
8 ۔ اس طرح وہ تعجب اور حیرانی سے ایک قدم اور آگے بڑھتے اور بڑے ترنگ سے بات کہہ دیتے کہ اگر فی الواقع کوئی ایسا شخص ہے جیسا کہ تم کہہ رہے ہو تو وہ یقینا اللہ تعالیٰ کی ذات پر جھوٹ ہی کہتا ہے یا پھر وہ کوئی دیوانہ ہی ہوگا۔ قیامت کی اطلاع دینے والا کون ہے ؟ نبی اعظم وآخر سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ ہی تو ہیں جن سے بڑھ کر کوئی سچا ماں نے جنا ہی نہیں جن سے زیادہ کوئی اللہ والا ہو ہی نہیں سکتا تو انہوں نے جب ایک قوم کے نظریہ کے خلاف بات کہہ دی حالانکہ وہ بات اپنی جگہ کتنی ہی سچی تھی لیکن سننے والوں نے اس کو برداشت نہ کیا اور ایک نہایت…
Read the full tafseer →They say: أَفْتَرَىٰ عَلَى اللَّـهِ كَذِبًا أَم بِهِ جِنَّةٌ (Has he forged a lie against Allah, or is there a madness in him?"- 34:8). The drive of their remark is that the idea that all totally disintegrated particles of the body will stand reassembled together, turn into the human body once again and be alive as well, is so unreasonable, to start with, that there remains practically no question of entertaining or accepting it. Therefore, this claim of the Holy Prophet ﷺ is either a deliberate attempt to fabricate a lie against Allah Ta’ ala, or the person who says so is insane and no…
Read the full tafseer →10 The chiefs of the Quraish knew full well that it was extremely difficult for the common people to accuse Muhammad (upon wham be Allah' peace) of being a liar, for the whole nation knew that he was a completely truthful person, and no one had ever heard a lie from him all his life. Therefore, they presented their charge against him before the people like this: 'When this person utters an impossible thing like the life-after-death from his mouth, he is either uttering (God forbid) a falsehood deliberately, or he is mad.' But this accusation of madness also was as absurd as of falsehood, for…
Read the full tafseer →