Ayah 34:1الحمد اللہ الذی لہ ما فی السموت وما فی الارض . تمام حمد ہے اس اللہ کیلئے کہ جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے ‘ سب اسی کا ہے۔
یعنی وہی سب کا مالک اور خالق ہے اسی لئے وہی ہر ظاہری ‘ باطنی ‘ جہری اور سّری حمد کا مستحق ہے ‘ دوسرا کوئی حمد کا مستحق نہیں ہے۔ اللہ کے سوا دوسرے کی ستائش مجازاً کی جاتی ہے کیونکہ اس کے ہاتھوں سے بظاہر کچھ نعمتیں دوسروں کو پہنچتی ہیں۔
ولہ الحمد فی الاخرۃ اور آخرت میں (بھی) حمد اسی کیلئے ہے کیونکہ آخرت کی نعمتوں کی عطاء اسی کیلئے مخصوص ہے۔
یہ جملہ پہلے جملہ پر معطوف ہے۔ بظاہر پہلا جملہ مطلق تھا اور یہ جملہ آخرت کے ساتھ مقید ہے (پہلے جملہ میں مطلق حمد اللہ کیلئے ثابت کی گئی تھی اور اس جملہ میں ثبوت حمد صرف آخرت میں اللہ کیلئے کیا گیا ہے) اور مقید کا عطف مطلق پر (بےسود ہوتا ہے اس لئے) ناجائز ہے (مطلق کے اندر مقید کا ہر فرد آجاتا ہے اس لئے مقید کو بیان کرنے کی ضرورت نہیں رہتی) ۔
لیکن حقیقت یہ ہے کہ پہلے جملہ میں مطلق حمد مراد نہیں ہے ‘ بلکہ صرف دنیوی نعمتوں کی عطاء پر حمد مقصود ہے۔ موصول مع صلہ (یعنی الذی اور لہ ما فی السمٰوٰت الخ) اس مفہوم کو ظاہر کر رہا ہے کہ اس دنیا کی موجودات چونکہ اللہ ہی کی ہیں اس لئے یہاں وہی حمد کا مستحق ہے اور چونکہ آخرت کی نعمتیں بھی اسی کی ہیں اس لئے وہاں بھی وہی حمد کا مستحق ہوگا۔
اول جملہ میں لفظ الحمد کے بعد لِلّٰہ کا لفظ ہے کیونکہ مجازی حمد دنیا میں دوسروں کی بھی ہوتی ہے اس لئے یہاں ہر حمد کا حصر اللہ کیلئے نہیں ظاہر کیا اور دوسرے جملہ میں لہٗ کا لفظ اَلْحَمْدُسے پہلے ذکر کیا گیا ہے جو خصوصیت اور حصر کو ظاہر کر رہا ہے کیونکہ آخرت میں ہر نعمت دینے والا اللہ ہی ہوگا ‘ بس ہر حمد کا مستحق وہی ہوگا۔
بعض علماء کے نزدیک حمد آخرت سے مراد ہے اہل جنت کا حمد کرنا۔ اللہ نے اہل جنت کی طرف سے اظہار حمد کا ذکر کیا ہے اور فرمایا ہے : وَقَالُوْا اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ ھَدٰں ناَ لِھٰذَا وَمَا کُنَّا لِنَھْتَدِیَ لَوْلَآ اَنْ ھَدٰں ناَ اللہ ُ ۔ وَقَالُوْا اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ صَدَقَنَا وَعْدَہٗ ۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْٓ اَذْھَبَ عَنَّا الْحَزَنَ ۔
وھو الحکیم . اور وہی حکمت والا ہے کہ اسی نے امور دین کو محکم کیا ہے۔
الخبیر . بڑا باخبر ہے ‘ چیزوں کے ظاہری اور باطنی احوال کو خوب جانتا ہے۔
Ayah 34:2یعلم ما یلج فی الارض . وہ جانتا ہے اس چیز کو زمین کے اندر داخل ہوتی ہے۔ مثلاً بارش کا پانی زمین کے مسامات کے اندر داخل ہوتا ہے ‘ یا مردے یا خزانے (دفینے وغیرہ) ۔
وما یخرج منہا . اور اس چیز کو جو زمین سے نکلتی ہے۔ یعنی سبزہ ‘ مختلف دھاتیں ‘ کنوؤں اور چشموں کا پانی۔ پھر قیامت کے دن مردے بھی زمین سے نکلیں گے۔
وما ینزل من السمآء . اور اس چیز کو جو آسمان سے اترتی ہے۔ جیسے بارش ‘ کڑکا ‘ بجلی ‘ ملائکہ ‘ اللہ کی کتابیں ‘ مقادیرخلق ‘ رزق ‘ طرح طرح کی برکتیں اور بلائیں۔
وما یعرج فیھا . اور اس چیز کو جو آسمان میں چڑھتی ہے۔ جیسے ملائکہ ‘ بندوں کے اعمال اور دعائیں۔
وھو الرحیم . اور وہی بڑا مہربان ہے کہ انسانوں کی ضرورت کی چیزیں نازل فرماتا ہے۔
الغفور . اداء شکر میں بندوں سے جو قصور ہوتا ہے ‘ اس کو معاف کرنے والا ہے۔
Ayah 34:3وقال الذین کفروا لاتاتینا الساعۃ . اور کافروں نے کہا : ہم پر قیامت (کبھی) نہیں آئے گی۔
قل بلی وربی لتاتینکم . آپ کہہ دیجئے : کیوں نہیں ‘ اپنے رب کی قسم ! ضرور ضرور تمہارے لئے قیامت آئے گی۔
علم الغیب . وہ رب جو غیب کو جاننے والا ہے۔
عالم الغیب کے لفظ سے اس طرف اشارہ ہے کہ قیامت کا وجود امور غیبیہ میں سے ہے جس جو جاننے والا سوائے اللہ کے اور کوئی نہیں ‘ لہٰذا اسی کی شہادت قیامت کو ثابت کرنے کیلئے کافی ہے اور غیب کی چیزوں کا اقرار یا انکار کسی کیلئے بغیر اللہ کے بتائے ہوئے جائز نہیں۔
لا یعزب عنہ مثقال ذرۃٍ فی السموت ولا فی الارض اس کے علم سے کوئی چھوٹی چیونٹی کے برابر (چیز)
آسمانوں میں پوشیدہ ہے نہ زمین میں۔ یعنی موجودہ اور گذشتہ اور آئندہ زمانہ کی کوئی چیز اس سے چھپی ہوئی ہے۔ جو لوگ کہتے ہیں کہ آیت میں صرف وہ چیزیں مراد ہیں جو صرف زمانۂ حال میں موجود ہیں (مستقبل معدوم ہے اور ماضی مفقود) یہ مفہوم مقام اور رفتار کلام کے خلاف ہے ‘ کیونکہ اس آیت کا مفہوم تو عالم الغیب کی تاکید و تائید کر رہا ہے اور اللہ کے علمی احاطہ کو ظاہر کر رہا ہے جس سے باہر نہ کوئی گذشتہ چیز ہے نہ آنے والی ‘ عالم الغیب سے تو ہمہ گیر احاطۂ علمی مقصود ہے کیونکہ قیامت آنے کے علم کا اظہار اور اثبات اسی لفظ سے کیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ موجودہ فی الحال ساری اشیاء کا علم تو بعض مخلوق کو بھی ہوتا ہے ‘ سورة انعام کی آیت توفتہ رسلنا کی تشریح میں ہم اس کا بیان کرچکے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا گیا : یا رسول اللہ ﷺ ! دو لشکر لڑتے ہیں اور ایک ہی وقت میں مارے جاتے ہیں ‘ پھر مشرق ‘ مغرب اور اس کے درمیان کچھ لوگ مرتے ہیں ‘ کچھ بچے پیٹ سے گرتے ہیں۔ ملک الموت تو ایک ہے ‘ سب کی روحیں کیسے قبض کرتا ہے ؟ فرمایا : ملک الموت ساری دنیا کو گھیرے ہوئے ہے ‘ جیسے میرے سامنے طشت ہے ‘ اسی طرح ساری دنیا اللہ نے ملک الموت کے سامنے کردی ہے ‘ کیا اس سے کوئی چیز چھپ سکتی ہے ؟ (مفہوم حدیث) ۔
پس اس آیت سے ظاہر ہے کہ تمام زمانے حال ‘ ماضی ‘ مستقبل اور ہر زمانہ کی چیزیں اللہ کے سامنے حاضر ہیں اور وہ خود زمانہ سے ماوراء ہے ‘ اسی طرح ہر مقام اور ہر مقام کی چیزیں اس کے سامنے حاضر ہیں اور وہ خود ہر مکان سے خارج ہے۔ ہر زمان و مکان اسی کی مخلوق ہے اور سب کا حدوث ذاتی ہے۔
فائدہ : بعض اکابر پر کبھی ایسی حالت طاری ہوجاتی ہے کہ وہ زمانہ کی حدود سے خارج ہوجاتے ہیں ‘ ماضی یا مستقبل ان کے سامنے آجاتا ہے۔ اس کا ثبوت اس حدیث سے ہوتا ہے جو شیخین نے صحیحین میں حضرت عبد اللہ بن عباس کی روایت سے بیان کی ہے کہ ایک بار رسول اللہ کے زمانہ میں سورج گرہن ہوا۔ رسول اللہ لوگوں کو ساتھ لے کر نماز کو کھڑے ہوگئے اور ایک طویل قیام کیا (الحدیث) اس حدیث میں آیا ہے کہ لوگوں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! ہم نے دیکھا کہ (نماز میں) اپنی جگہ کھڑے کھڑے آپ نے کسی چیز کو لینے کیلئے ہاتھ بڑھایا ‘ پھر ہم نے دیکھا کہ آپ کچھ ٹھٹکے۔ فرمایا : میں نے جنت دیکھی تھی اور اس سے ایک خوشہ لینے کو ہاتھ بڑھایا تھا۔ اگر میں اس کو لے پاتا تو جب تک دنیا باقی رہتی ‘ تم (یعنی سارے مسلمان) اس کو کھاتے رہتے (اور وہ ختم نہ ہوتا) پھر میں نے دوزخ کو دیکھا ‘ آج کی طرح کبھی میں نے کوئی خوفناک منظر نہیں دیکھا۔ دوزخیوں کی زیادہ تعداد میں نے عورتوں کی دیکھی۔ الحدیث۔
ظاہر ہے کہ دوزخ میں عورتوں کا داخلہ تو قیامت کے دن ہوگا ‘ لیکن رسول اللہ ﷺ نے ان کو دوزخ کے اندر پایا۔
ایک شبہ : جس طرح آدمی خواب میں بعض چیزیں دیکھ لیتا ہے ‘ اسی طرح عالم مثال میں رسول اللہ ﷺ نے جنت اور دوزخ کی تصویر دیکھ لی ہوگی۔
الزالہ : رسول اللہ کا یہ قول کہ اگر میں اس کو لے پاتا تو رہتی دنیا تک تم اس میں سے کھاتے رہتے ‘ بتارہا ہے کہ آپ نے حقیقۃً جنت اور دوزخ کو دیکھا تھا ‘ تصویر نہیں دیکھی تھی۔
مسلم نے حضرت جابر کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : میں نے جنت کو دیکھا ‘ اس کے اندر ابوطلحہ کی بیوی نظر آئی ‘ اور قدموں کی ایک آہٹ میں نے اپنے سامنے سنی ‘ میں نے دیکھا تو وہ بلال تھا۔
امام احمد ‘ ابو داؤد اور ضیاء نے حضرت انس کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : جب میرا رب مجھے اوپر چڑھا کرلے گیا تو میرا گذر ایسے لوگوں کی طرف سے ہوا جن کے ناخن تانبے کے تھے اور وہ اپنے چہروں اور سینوں کو ناخنوں سے کھرونچ رہے تھے۔ میں نے کہا : جبرئیل ! یہ کون لوگ ہیں ؟ جبرئیل نے کہا : یہ وہ لوگ ہیں جو لوگوں کا گوشت کھاتے ہیں (غیبت کرتے ہیں) اور ان کی آبرو ریزی کرتے ہیں۔
حضرت جابر راوی ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا : میرے سامنے دوزخ لائی گئی۔ اس میں بنی اسرائیل کی ایک عورت مجھے دکھائی دی ‘ جس کو ایک بلی کی وجہ سے عذاب دیا جا رہا تھا۔ بلی کو اس نے باندھ رکھا تھا ‘ نہ تو وہ اس کو کھانے کو دیتی تھی نہ چھوڑتی تھی کہ وہ کیڑے مکوڑے کھا سکے ‘ آخر وہ بھوک سے مرگئی۔ اور میں نے عمر بن عامر خزاعی کو دیکھا جو دوزخ میں اپنی انتڑیاں گھسیٹتا پھر رہا تھا۔ یہی شخض تھا جس نے سب سے پہلے سانڈھ چھوڑنے کی رسم نکالی۔ رواہ مسلم۔
ولا اصغر من ذلک ولا اکبر الا فی کتب مبین . اور نہ کوئی چیز اس سے چھوٹی ہے اور نہ اس سے بڑی
ہے ‘ مگر وہ سب کتاب مبین میں موجود ہے۔
اکثر اہل تفسیر کا قول ہے کہ لاَ یَعْزُبُ عَنْہُ سے مراد ہے لا یعزب عن علمہ ‘ یعنی اس کے علم سے غائب نہیں ہے۔ اس لئے اگر عزوب سے ‘ علم سے غائب ہونا مراد ہے ‘ یا کتاب مبین سے علم الٰہی یا لوح محفوظ مراد ہے تو یہ جملہ نفی غیبویت کی تاکید ہوجائے گا ‘ کیونکہ لوح محفوظ بھی اللہ کے علم کا ایک حصہ ہے اور اگر عدم عزوب کا یہ مطلب ہو کہ اللہ کی ذات سے مخفی نہیں ہے تو یہ جملہ سابق جملہ کی تاکید نہ ہوگا بلکہ نیا جملہ ہوگا اور اصغر و اکبر مبتدا ہوگا۔ اس کی تائید اسی قراءت سے ہوتی ہے جس میں لاَ ‘ نفی جنس کا اور اصغر و اکبر (بفتح راء اس کا اسم قرار دیا گیا ہے۔
اصغر اور اکبر کو مرفوع پڑھ کر مثقالُ پر یا مفتوح پڑھ کر ذرۃٍ پر معطوف قرار دینا غلط ہے کیونکہ استثناء متصل اس سے مانع ہے ‘ نہ استثناء منقطع کہا جاسکتا ہے ‘ کیونکہ نفی کے بعد استثناء منقطع اثبات ہوجائے گا۔ اس وقت عبارت اس طرح ہوگی ولکن یعزب فی کتابٍ مُبین اور یہ مطلب غلط ہے۔ بیضاوی نے اس کے جواز کی ایک ضعیف توجیہ یہ کی ہے کہ یعزب کی ضمیر غیب کی طرف راجع ہے اور لوح محفوظ میں جو چیز محفوظ ہے ‘ وہ دائرۂ غیب سے خارج ہے کیونکہ لوح محفوظ کا مطالعہ کرنے والوں کیلئے وہ ظاہر ہے ان سے غائب نہیں ہے۔ یہ توجیہ غلط ہے۔ لوح محفوظ میں اندراج اس بات کا متقضی نہیں ہے کہ مندرج چیز علم خدا سے خارج ہے ‘ اللہ کا علم تو ہمہ گیر ہے۔ اس کے علاوہ یہ بات بھی ہے کہ سورة یونس میں یہ آیت ان الفاظ کے ساتھ آئی ہے : لاَ یَعْزُبُ عَنْ رَّبِّکَ مِنْ مِّثْقَالِ ذَرَّۃٍ فِی الْاَرْضِ وَلا السَّمَآءِ وَلَآ اَصْغَرَ مِنْ ذٰلِکَ وَلْآ اَکْبَرَ الاَّ فیْ کِتٰبٍ مُّبِیْنٍ ۔ اس آیت میں بیضاوی کی مذکورہ توجیہ فاسد ہے۔
بعض اہل علم کا قول ہے کہ یہ مدح بصورت ذم ہے۔ جیسے محاورہ میں کہا جاتا ہے کہ زید میں سوائے اس کے کوئی عیب نہیں کہ وہ عالم ہے۔ اس صورت میں آیت کا مطلب اس طرح ہوگا کہ ذرہ برابر علم خدا سے کوئی چیز غائب نہیں سوائے اس کے کہ کتاب مبین میں اس کا حکم موجود ہے۔ جب کتاب مبین میں اس کا حکم موجود ہے تو علم خدا سے وہ چیز غائب کیسے ہوسکتی ہے ؟
Ayah 34:4لیجزی الذین امنوا وعملوا الصلحت اولئک لھم مغفرۃ ورزق کریم . تاکہ اللہ ان لوگوں
کو جزا دے جو ایمان لائے اور (جنہوں نے) نیک کام کئے ‘ انہی لوگوں کیلئے مغفرت ہے اور عزت کا رزق ہے۔ یعنی حقوق عبدیت کی ادائیگی میں جو کوتاہی ان سے ہوگئی ہوگی (پوری ادائیگی تو ممکن ہی نہیں) اللہ اس کوتاہی کو معاف کر دے گا اور جو نیک اعمال انہوں نے کئے ہیں ‘ ان کے بدلے میں اپنی مہربانی سے جنت کے اندر اچھا رزق عطا فرمائے گا جس کے حاصل کرنے میں نہ تھکنا پڑے گا ‘ نہ کسی کا (سوائے خدا کے) احسان ہوگا۔
Ayah 34:5والذین سعوا فی ایتنا معجزین اولئک لھم عذاب من رجز الیم اور جن لوگوں نے ہماری آیات
کے متعلق (ان کو باطل کرنے کیلئے) کوشش کی (ہم کو) ہرانے کیلئے ‘ ایسے لوگوں کیلئے سختی کا دردناک عذاب ہوگا۔ یعنی آیات خداوندی کو باطل کرنے اور ان کی طرف سے لوگوں کو بےرغبت اور متنفر بنانے کیلئے کوشش کرتے ہیں (مقصد یہ کہ انہوں نے اپنی دوڑ کا میدان اسی بات کو بنا رکھا کہ اللہ کی آیات کی طرف سے لوگوں کو نفرت دلائیں) ہم پر غالب آنے کیلئے (یعنی یہ بات لوگوں کو بتانے کیلئے کہ نہ کوئی قیامت ہوگی ‘ نہ حشر ہوگا اور انہوں نے فرض کرلیا ہے کہ خدا مردوں کو زندہ کرنے کی قدرت نہیں رکھتا ‘ وہ ہم کو عاجز بنا دینا چاہتے ہیں) ایسے لوگوں کیلئے بڑا دکھ دینے والا عذاب ہے۔
قتادہ نے رجز کا ترجمہ سوء العذاب کیا ہے۔ الیم کا ترجمہ ہے دکھ والا ‘ مگر مراد ہے دکھ دینے والا۔
Ayah 34:6ویری الذین اوتوا العلم الذی انزل الیک من ربک ھو الحق ویھدی الی صراط العزیز
الحمید . اور جن لوگوں کو (آسمانی کتابوں کا) علم دیا گیا ہے ‘ وہ اس قرآن کو جو آپ کے رب کی طرف سے آپ کے پاس بھیجا گیا ہے ‘ ایسا سمجھتے ہیں کہ وہی حق ہے اور وہ خدائے غالب و محمود (کی رضا) کا راستہ بتاتا ہے (ترجمہ مولانا اشرف علی (رح) ) ۔
اَلَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ سے مراد ہیں وہ اہل کتاب جو مسلمان ہوگئے تھے۔ جیسے حضرت عبد اللہ بن سلام اور ان کے ساتھی۔
قتادہ نے کہا : صحابہ کرام اور ان کی راہ پر چلنے والے مراد ہیں۔ اس تفسیر پر یہ مطلب ہوگا کہ قیامت کے دن صحابہ کرام اور دوسرے مؤمنین صالحین دیکھ لیں گے کہ قرآن حق ہے ‘ یعنی دلائل کی روشنی میں اب قرآن کو حق جانتے ہیں ‘ قیامت کے دن قرآن کی حقانیت کو آنکھوں سے دیکھ لیں گے۔
اول الذکر پر کتابی علماء کے قول سے جاہلوں کے خلاف استشہاد کیا گیا ہے۔
وَیَھْدِیْ یعنی اللہ ہدایت کرتا یا قرآن ہدایت کرتا ہے۔ اِلٰی صِرَاطٍ یعنی اسلام کی طرف۔
Ayah 34:7وقال الذین کفروا ندلکم علی رجل ینبئکم اذا مزقم کل ممزق انکم لفی خلق جدید
اور کافر (آپس میں) کہتے ہیں : کیا ہم تم کو ایسا آدمی بتائیں جو تم کو یہ (عجیب) خبر دیتا ہے کہ جب تم بالکل ریزہ ریزہ ہوجاؤ گے تو (اس کے بعد قیامت میں) ضرور تم ایک نئے جنم میں آؤ گے۔
قَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا یعنی منکرین قیامت نے آپس میں بطور تعجب کہا۔ رجلٍ سے مراد ہیں رسول اللہ ﷺ ‘ یعنی ایک ایسا آدمی جو تم کو بڑی تعجب آگیں خبر دے رہا ہے۔
مُزِّقْتُمْ کُلَّ مُمَزَّقٍ یعنی جب تم مرجاؤ گے اور تمہارے جسم بالکل ریزہ ریزہ ہوجائیں گے ‘ خاک بن جائیں گے۔ اس مطلب پر کل ممزق مفعول مطلق ہوگا ‘ یا یہ مطلب ہے کہ ہر جگہ تم ریزہ ریزہ کر دئیے جاؤ گے اور سیلاب تم کو ادھر ادھر بہا کرلے جائیں گے اور جگہ جگہ پھینک دیں گے ‘ اس مطلب پر کل ممزق مفعول فیہ ہوگا۔
اِنَّکُمْ لَفِیْ خَلْقٍ یہ مقولہ ہے کیونکہ یُنَبِّئُ کے اندر قول کا معنی موجود ہے۔ رسول اللہ کی ذات گرامی تو قریش میں مشہور تھی ‘ کوئی شخص آپ کی حالت سے ناواقف نہ تھا ‘ اس کے باوجود کافروں نے حضور ﷺ کیلئے لفظ رجلٍ (بلفظ تنکیر غیر معروف) کیا۔ اس سے یہ ظاہر کرنا مقصود ہے کہ یہ شخص غیر معروف ہے ‘ ہم اس سے واقف ہیں۔ اس طرز ادا میں تجاہل بھی ہے اور تحقیر رسول ﷺ کے ارادہ کا اظہار بھی اور مضمون کے بعید از عمل ہونے کی طرف اشارہ بھی۔
Ayah 34:8افتری علی اللہ کذبا ام بہ جنۃ . کیا اس نے اللہ پر دروغ تراشی کی ہے (یعنی قصداً اللہ پر جھوٹ باندھا ہے) یا
اس کو کسی قسم کا جنون ہوا ہے جو اس کے دل میں وہم ڈالتا ہے اور زبان سے (ایسی بات) کہلواتا ہے ؟
چونکہ آیت میں افتراء کے مقابل جنون کا ذکر کیا ہے ‘ اس لئے بعض لوگوں نے صدق و کذب کے درمیان ایک درمیانی واسطہ مانا ہے (جو نہ صدق ہوتا ہے نہ کذب) یعنی ایسی غلط خبر جو بےارادہ کہہ دی جائے۔ لیکن یہ استدلال کمزور ہے کیونکہ افتراء اور کذب باہم مساوی نہیں ہیں (کہ ہر افتراء کذب ہو اور ہر کذب افتراء) بلکہ افتراء اس کذب کو کہتے ہیں جو قصداً ہو ‘ اور کذب کا لفظ عام ہے۔ بالقصد کذب ہو یا بلاقصد ‘ دونوں کذب کی صورتیں ہیں۔ کذب تو ہر اس خبر کو کہتے ہیں جو واقع کے خلاف ہو۔
بل الذین لا یؤمنون بالاخرۃ فی العذاب والضلل البعید . (ا اللہ کے رسول نے نہ افتراء بندی کی نہ
ان کو جنون ہے) بلکہ آخرت پر ایمان نہ رکھنے والے (آخرت میں) عذاب میں مبتلا ہوں گے اور (دنیا میں) دور کی گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں۔ اللہ نے اس آیت میں کافروں کے قول کی تردید کرتے ہوئے ان کے سخت گم کردہ راہ ہونے کی صراحت فرمائی ‘ جس سے رہا ہونے کی امید نہیں کی جاسکتی۔ بعید کو ضلال کی صفت بطور مبالغہ کہا ہے جیسے شعرٌ شاعرٌ۔ ضلال سبب عذاب ہے لیکن عذاب کو ضلال سے پہلے ذکر کرنے سے استحقاق عذاب کو بصورت مبالغہ بیان فرمایا ہے۔
Ayah 34:9افلم یروا الی ما بین ایدیھم وما خلفھم من السمآء والارض ان نشانخسف بھم الارضاو
نقسط علیم سفًا من السمآء . کیا انہوں نے اپنے آگے پیچھے آسمان و زمین کو نہیں دیکھا کہ اگر ہم چاہیں تو ان کو زمین میں دھنسا دیں یا ان پر آسمان کے ٹکڑے گرا دیں ؟
مَا بَیْنَ اَیْدِیْھِمْ وَمَا خَلْفَھُمْ سے مراد ہیں وہ چیزیں جو ہر طرف محیط ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ مشاہدۂ کائنات ‘ صانع مختار کی قدرت کاملہ کو ثابت کر رہا ہے ‘ پھر ایسے قادر و مختار کیلئے دوبارہ زندہ کر کے اٹھانا کس طرح ناممکن ہوسکتا ہے۔ جو شخص بعث و حشر کی خبر دے رہا ہے ‘ اس کے عقلمند اور صادق ہونے کا انکار کس طرح کیا جاسکتا ہے ‘ جبکہ وہ پہلے سے عقلمند اور صادق القول معروف اور مسلّم ہے۔ ایسے عقلمند کو مجنون اور ایسے صادق کو مفتری کہنا کس طرح صحیح ہوسکتا ہے۔
بعض اہل علم کا قول ہے کہ اَلَمْ یَرَوْا الخ ڈرانے اور خوف دلانے کی تمہید ہے۔ مطلب یہ ہے کہ کیا یہ نابینا ہیں ‘ کیا ان کو نظر نہیں آتا کہ آسمان و زمین کے اندر یہ گھرے ہوئے ہیں ؟ جہاں رہیں اور جہاں جائیں ‘ آسمان و زمین سے باہر نہیں نکل سکتے اور اقتدار خداوندی سے خارج نہیں ہوسکتے۔ ان کو ڈرنا چاہئے کہ کہیں زمین میں نہ دھنسا دئیے جائیں ‘ جیسے قارون کو دھنسا دیا ‘ یا آسمان سے کوئی ٹکڑا ان پر نہ گرا دیا جائے ‘ جیسے قوم لوط پر پتھر برسائے گئے ‘ اور یہ سب کچھ پیغمبر کو جھوٹا قرار دینے اور آیات خداوندی کا انکار کرنے کی وجہ سے ہوا۔
ان فی ذلک لایۃ لکل عبد منیب . بلاشہ اس میں (قدرت الٰہیہ کی) پوری دلیل ہے (مگر اس) بندے کیلئے جو (ا اللہ کی طرف) متوجہ بھی ہو۔ یعنی آسمان و زمین جو ان کی نظروں کے سامنے ہیں ‘ اللہ کی قدرت کاملہ ثبوت قیامت اور کافروں کو قیامت کے دن عذاب دئیے جانے کی کھلی دلیل ہیں لیکن یہ واضح دلیل اسی شخص کیلئے ہے جو دل سے اللہ کی طرف متوجہ ہو ‘ کیونکہ وہی غوروفکر سے کام لینے والا (اور نتیجہ تک پہنچنے والا) ہوتا ہے۔
Ayah 34:10ولقد اتینا داود منا فضلا . اور بلاشبہ داؤد کو ہم نے اپنی طرف سے فضیلت عطا کی۔ یعنی بہت سے مؤمن بندوں
پر برتری عطا کی۔ اس مضمون کی تائید اس آیت سے ہوتی ہے ‘ جس میں حضرت سلیمان کے قول کو اللہ نے نقل کیا ہے ‘ حضرت سلیمان نے کہا تھا : اَلْحَمْدُلِلّٰہِ الَّذِیْ فَضَّلَنَا عَلٰی کَثِیْرٍ مِّنْ عِبَادِہِ الْمُؤْمِنِیْنَ ۔
نبوت ‘ کتاب اللہ (زبور) حکومت ‘ خوش آوازی ‘ آپ کے ہاتھ میں (بغیر تپائے) لوہے کا نرم ہوجانا وغیرہ۔ یہ سب چیزیں فضائل داؤد کی مختلف صورتیں تھیں۔
یجبال اوبی معہ . اے پہاڑو ! داؤد کے ساتھ تسبیح پڑھو۔ اِیابٌ کا معنی ہے رجوع کرنا ‘ یعنی جب داؤد تسبیح میں مشغول
ہوں تو تم بھی ان کے ساتھ تسبیح میں مشغول ہو ‘ یا ایابٌ کا معنی ہے پاکی بیان کرنا۔ اَوَّبَ بمعنی سَبَّحَ آتا ہے ‘ اللہ کی پاکی بیان کرنے والا ‘ قتیبی نے کہا : تاویببمعنی تسبیح ‘ تاویب فی السیر سے ماخوذ ہے ‘ تاویب کا معنی ہے دن بھر چلنا ‘ پھر رات کو قیام کرنا۔ اس صورت میں یہ مطلب ہوگا کہ جب دن ہو تو دن بھر تم داؤد کے ساتھ تسبیح میں رواں رہو۔ بعض نے اوّبی کا ترجمہ کیا ہے داؤد کے ساتھ مل کر نوحہ کرو۔
والطیر . مع پرندوں کے۔
بیضاوی نے لکھا ہے کہ اصل کلام اس طرح تھا : وَلَقَدْ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ مِنَّا فَضْلاً وَھِیَ تَاوِیْبُ الْجِبَالِ وَالطَّیْرِ (ہم نے اپنی طرف سے داؤد کو فضیلت دی تھی اور وہ فضیلت یہ تھی کہ پہاڑ اور پرندے اس کے ساتھ تسبیح پڑھتے تھے) عبارت کا طرز اپنی عظمت شان ‘ جلال حکومت اور قوت اقتدار کو ظاہر کرنے کیلئے بدل دیا گیا کہ ہمارے حکم سے بےعقل مخلوق بھی اہل فہم کی طرح ہماری مشیت کے موافق عمل کرتی ہے۔
بغوی نے لکھا ہے : حضرت داؤد جب نوحہ کی آواز بلند کرتے تھے تو پہاڑوں سے آواز کی بازگشت ہوتی تھی ‘ یہ پہاڑوں کی طرف سے نوحہ کا جواب ہوتا تھا اور اوپر سے پرندے اڑتے اڑتے ٹھہر جاتے اور رک جاتے تھے۔
یہ بھی کہا گیا ہے کہ حضرت داؤد پہاڑوں میں گھس کر اللہ کی تسبیح کے ترانے گاتے تھے تو جس طرح آپ تسبیح کرتے تھے ‘ ویسے ہی پہاڑ بھی تسبیح کرتے تھے۔ ایک قول یہ بھی آیا ہے کہ حضرت داؤد کے بدن میں کچھ سستی پیدا ہوجاتی تھی تو ان کو چست بنانے کیلئے اللہ پہاڑوں کی تسبیح کی آواز سنوا دیتا تھا۔
والنا لہ الحدید . اور ہم نے ان کیلئے لوہے کو نرم کردیا تھا۔ لوہا آپ کے ہاتھ میں موم یا گندھے ہوئے آٹے کی طرح
ہو جاتا تھا۔ جس طرح چاہتے ہاتھ سے پکڑ کر اس کو موڑ دیتے تھے ‘ تپانے اور کوٹنے کی ضرورت نہیں ہوتی تھی۔
بغوی نے لکھا ہے : اخبار میں آیا ہے کہ حضرت داؤد جب بنی اسرائیل کے بادشاہ ہوئے تو آپ نے اپنا یہ دستور بنا لیا تھا کہ لوگوں کے حالات معلوم کرنے کیلئے بھیس بدل کر (رات کو) نکلا کرتے تھے اور ایسے لوگوں سے جو آپ کو پہچانتے نہ تھے ‘ مل کر دریافت کرتے تھے کہ داؤد کیسا آدمی ہے ‘ تمہاری اس کے متعلق کیا رائے ہے ؟ یہ تمہارا حاکم کیسا شخص ہے ؟ سب لوگ آپ کی تعریف کرتے تھے اور آپ کے متعلق کلمۂ خیر ہی کہتے تھے۔ ایک روز اللہ نے ایک فرشتہ بہ شکل انسانی بھیجا۔ حضرت داؤد سے اس کی ملاقات ہوئی اور حسب عادت اس سے اپنے متعلق دریافت کیا۔ فرشتے نے کہا : اگر ایک بات نہ ہو تو بادشاہ اچھا آدمی ہے۔ حضرت داؤد یہ سنتے ہی خوفزدہ ہوگئے اور دریافت فرمایا : بندۂ خدا ! وہ کونسی بات ہے ؟ فرشتے نے کہا : وہ خود بھی بیت المال سے کھاتا ہے اور اپنے اہل و عیال کو بھی بیت المال سے لے کر کھلاتا ہے۔ قتیبہ نے کہا : اسی سبب سے حضرت داؤد نے اللہ سے دعا کی کہ میرے لئے رزق کا کوئی ذریعہ مقرر فرما دے تاکہ اس سے میں اپنی بھی روزی کماؤں اور اہل و عیال کو بھی کھلاؤں اور بیت المال کا محتاج نہ رہوں۔ اللہ نے (دعا قبول فرمائی اور) لوہے کو ان کیلئے نرم کردیا اور زرہ بنانا سکھا دی۔ سب سے پہلے آپ نے ہی زرہ بنائی (آپ سے پہلے زرہ کی ایجاد ہی نہیں ہوئی تھی) کہا جاتا ہے کہ آپ ایک زرہ چار ہزار درہم کو فروخت کرتے تھے ‘ جس سے خود بھی کھاتے تھے ‘ گھر والوں کو بھی کھلاتے اور غریبوں ‘ مسکینوں کو خیرات بھی دیتے تھے۔ بعض اقوال میں آیا ہے کہ روزانہ ایک زرہ بنا لیا کرتے تھے ‘ جو چھ ہزار درہم کو فروخت ہوتی تھی ‘ جس سے دو ہزار اپنے اہل و عیال کے صرف میں لاتے تھے اور چار ہزار غریبوں ‘ مسکینوں کو خیرات کردیتے تھے۔
حضرت مقدام بن معدی کرب راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اپنے ہاتھوں کی کمائی سے بہتر کسی نے کوئی کمائی نہیں کھائی ‘ اللہ کے نبی داؤد اپنے ہاتھ کی کمائی کھاتے تھے۔ رواہ البخاری واحمد۔ بغوی کی روایت ان الفاظ کے ساتھ ہے : داؤد نہیں کھاتے تھے ‘ مگر اپنے ہاتھ کی کمائی۔
Ayah 34:11ان اعمل سبغت . (ہم نے ان کو حکم دیا) کہ ایسی کشادہ پوری لمبی زرہیں بناؤ جو زمین میں گھسٹتی چلیں۔
وقدرنی السرد . اور (کڑیوں کے ( جوڑنے میں اندازہ رکھو۔ سرد کھال کو سینا ‘ مجازاً مراد ہے زرہ بننا ‘ یعنی زرہ کی
بناوٹ میں ایک خاص انداز رکھو ‘ کڑیاں اور کیلیں خاص تناسب کے ساتھ بناؤ۔ نہ اتنی پتلی کہ پھٹ جائیں ‘ نہ اتنی موٹی کہ کڑیاں ٹوٹ جائیں۔
واعملوا صالحا . اور (اے داؤد اور داؤد کے گھر والو ! ) نیک عمل کرو۔ یعنی خالص اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے اچھے اعمال کرو۔
انی بما تعلمون بصیر جو کچھ تم کرتے ہو اس کو میں دیکھتا ہوں۔ یعنی تم کو ان اعمال کی جزا دوں گا۔ حضرت ابوہریرہ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ بلاشبہ پاک ہے ‘ پاکیزہ ہی کو پسند کرتا ہے۔ اس نے جو حکم پیغمبروں کو دیا ‘ وہی حکم مؤمنوں کو دیا اور فرمایا : اے پیغمبرو ! پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور نیک کام کرو۔ الحدیث رواہ مسلم۔
Ayah 34:12ولسلیمن الریح . اور ہوا کو ہم نے سلیمان کے تابع بنا دیا۔
غدوھا شھر ورواحھا شھر . صبح سے زوال تک اس کی رفتار ایک ماہ (کی مسافت کے برابر) تھی اور زوال سے
مغرب تک اس کی رفتار ایک ماہ (کی مسافت راہ کے برابر) تھی۔ حسن نے کہا : حضرت سلیمان صبح کو دمشق سے چلتے اور اصطخر میں قیلولہ کرتے تھے۔ ان دونوں مقاموں کے درمیان مسافت تیز سوار کی ایک ماہ کی مسافت کے برابر ہے۔ پھر پچھلے دن میں اصطخر سے چل کر بابل میں رات کو قیام کرتے۔ ان دونوں کی درمیانی مسافت بھی تیز شہسوار کی ایک ماہ کی مسافت کے برابر ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ صبح کا کھانا آپ رَے میں کھاتے اور شام کا کھانا سمرقند میں۔
واسلنا لہ عین القطر اور ان کیلئے تانبہ کا چشمہ ہم نے بہا دیا تھا۔ القطر بمعنی نحاس (تانبہ) سیال تانبہ حضرت سلیمان کیلئے پانی کے چشمہ کی طرح اللہ نے زمین سے نکال دیا تھا ‘ اس لئے اس کو عین القطر فرمایا۔
بغوی نے لکھا ہے کہ اہل تفسیر کا قول ہے کہ حضرت سلیمان کیلئے اللہ نے تابنے کا چشمہ تین روز تک جاری رکھا اور یہ چشمہ یمن میں تھا ‘ جس سے لوگ اس زمانہ میں فائدہ اندوز ہوتے تھے۔
ومن الجن من یعمل بین یدیہ باذنہ ربہ . اور کچھ جن سلیمان کے پیش خدمت بحکم رب کام کرتے تھے۔ اذن
سے مراد ہے حکم ‘ یا ارادہ ‘ یا تابع بنا دینا۔
ومن یزغ منھم عن امرنا نذقہ من عذاب السعیر . اور ان میں سے جو بھی ہمارے حکم سے عدول کرتا تھا
ہم اس کو بھڑکتی آگ کا مزہ چکھاتے تھے۔ عذاب السعیر سے مراد بعض کے نزدیک دوزخ کا عذاب ہے ‘ بعض کے نزدیک اسی زندگی میں سوختہ کردینا۔ میں کہتا ہوں : اگر اذن اور امر سے مراد امر تکلیفی ہو تو عذاب سعیر سے عذاب آخرت مراد لینا مناسب ہے ‘ کیونکہ تمام شرعی احکام کا مقام سزا و جزا آخرت ہے اور اگر اذن سے مراد ارادہ اور حکم کا تابع بنا دینا ہو اور بظاہر ایسا ہی ہے تو عذاب السعیر سے عذاب دنیا مراد لینا مناسب ہے۔
ایک شبہ : اگر جنوں سے کام کرانے کا اللہ کا ارادہ تھا تو ممکن نہ تھا کہ جن سرتابی کرسکتے ‘ ارادۂ الٰہیہ سے مراد کا تخلف نہیں ہوسکتا (یعنی اللہ کا ارادہ ہو اور جو مراد خداوندی ہے ‘ وہ حاصل نہ ہو ‘ ایسا ناممکن ہے) ۔
ازالہ : مِنَ الْجِنِّ میں مِنْ تبعیضیہ ہے اور بعض سے مراد ہیں اکثر۔ مطلب یہ کہ حضرت سلیمان کیلئے اکثر جن کام کرتے تھے ‘ اس لئے ایک فرشتہ کو مسلط کردیا گیا کہ حضرت سلیمان کے حکم سے جو جن سرتابی کرے ‘ فرشتہ اس کو سزا دے۔ اس کا حاصل یہ ہوا کہ جن حضرت سلیمان کے کام کی انجام دہی میں منہمک تھے (اور یہی مراد خداوندی تھی) ۔
یا یوں کہا جائے کہ مَنْ یَّزِغْ کا یہ معنی ہے کہ جو جن حکم سے عدول کرنے کا ارادہ کرتا تھا ‘ فرشتہ اس کو مار کر سیدھا کردیتا تھا (گویا نافرمانی سے مراد ہے نافرمانی کا ارادہ) ۔
Ayah 34:13یعملون لہ ما یشآء من محاریب وتماثیل وجفان کالجواب وقدور رسیت . سلیمان کو جو
بنوانا منظور ہوتا ‘ جنات ان کیلئے وہ بنا دیتے۔ بڑی بڑی عمارتیں اور مورتیں اور لگن (اتنے بڑے بڑے) جیسے حوض اور دیگیں جو (بڑے ہونے کی وجہ سے) ایک ہی جگہ جمی رہتیں۔
محاریب مضبوط محل ‘ اونچی مسجدیں اور اعلیٰ مکانات۔ محراب کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ حرب کا معنی ہے دفع کرنا اور اعلیٰ عمارتوں کی بھی حفاظت کی جاتی ہے اور ہر نقصان رساں چیز کو ان سے دفع کیا جاتا ہے۔
بغوی نے لکھا ہے کہ سب سے پہلے بیت المقدس کی تعمیر حضرت داؤد نے شروع کی تھی ‘ قد آدم تعمیر اٹھائی تھی کہ اللہ کی طرف سے وحی آئی : تمہارے ہاتھ سے اس عمارت کی تکمیل کا فیصلہ میں نے نہیں کیا ہے ‘ بلکہ تمہارے بیٹے کو جس کا نام سلیمان ہوگا ‘ میں بادشاہ بناؤں گا اور اس کے ہاتھ سے اس عمارت کو پورا کراؤں گا۔ حضرت داؤد کی وفات کے بعد جب حضرت سلیمان ان کے جانشین ہوئے تو آپ نے بیت المقدس کی تعمیر مکمل کرنی چاہی۔ چناچہ جنات اور شیاطین کو جمع کر کے ان کی ٹولیاں بنا کر الگ الگ کاموں کی درستی پر مقرر کیا۔ جنات اور شیاطین کو کانوں سے اکھاڑ کر سنگ مرمر سفید کے لانے کا حکم دیا۔
پتھر آگئے تو سنگ مرمر سفید اور دوسری سنگین چٹانوں سے شہر بنانے کا امر دیا۔ شہر کی بارہ فصیلیں بنائیں کیونکہ بنی اسرائیل کے بارہ قبائل تھے ‘ ہر قبیلہ کو ایک فصیل میں رکھا۔ شہر بن چکا تو تعمیر مسجد کا آغاز کیا ‘ جس کی ابتداء اس طرح کی کہ جنات اور شیاطین کے گرہ الگ الگ کر دئیے۔ ایک گروہ کو کانوں سے سونا ‘ چاندی اور یاقوت لانے کا اور سمندر سے چمکدار موتی نکال کر لانے پر مامور کیا ‘ دوسرے گروہ کو جواہر اور دوسرے (قیمتی) پتھر معدنوں سے اکھاڑ کر لانے کا حکم دیا ‘ تیسرے گروہ کو مشک ‘ عنبر اور دوسری خوشبو دار چیزیں لانے پر مقرر کیا۔ آخر یہ سب چیزیں اتنی فراہم ہوگئیں کہ جن کی مقدار اور تعداد اللہ کے سوا کسی کو معلوم نہیں۔ پھر کاریگروں اور صنعت کاروں کو بلوا کر اونچے اونچے پتھر تراشنے اور ان کی تختیاں اور جواہر کو درست کرنے اور موتیوں میں اور یاقوت وغیرہ میں سوراخ کرنے پر مامور کیا۔ مسجد کی تعمیر سفید ‘ زرد اور سبز سنگ مرمر سے کرائی اور ستون بھی اسی کے قائم کئے۔ چھت میں قیمتی جوہر کی تختیاں لگائیں اور چھتوں اور دیواروں کا گار اور پلاسٹر مروارید ‘ یاقوت اور دوسرے جواہر کا لگوایا۔ زمین پر فیروزے کی تختیوں کا فرش کیا۔ اس زمانے میں روئے زمین پر اس سے زیادہ پررونق اور چمکیلی عمارت کوئی نہیں تھی ‘ تاریکی میں وہ چودھویں کے چاند کی طرح چمکتی تھی۔ تعمیر سے فراغت کے بعد حضرت سلیمان نے علماء بنی اسرائیل کو طلب فرما کر بتایا کہ میں نے عمارت خالص اللہ کیلئے بنائی ہے۔ اس میں جو کچھ ہے وہ اللہ کیلئے ہے (کوئی اس کا مالک نہیں) جس روز تعمیر سے فراغت ہوئی ‘ آپ نے اس روز جشن منایا۔ حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
سلیمان نے تعمیر بیت المقدس سے فارغ ہونے کے بعد اپنے رب سے تین چیزوں کی دعا کی ‘ اللہ نے دو چیزیں تو عطا فرما دیں اور تیسری کے متعلق بھی مجھے امید ہے کہ عطا فرما دی ہوگی۔ سلیمان نے درخواست کی تھی کہ اللہ ان کو فیصلہ کرنے کی قوت عطا فرم ادے کہ ان کا فیصلہ اللہ کے فیصلہ کے موافق ہو (یعنی فیصلہ کرنے میں ان سے غلطی نہ ہو) ان نے ان کو یہ چیز عطا فرما دی۔ انہوں نے اپنے رب سے ایسی حکومت مانگی تھی جو ان کے بعد کسی کیلئے سزاوار نہ ہو ‘ اللہ نے یہ چیز بھی ان کو عطا فرما دی۔
سلیمان نے دعا کی تھی کہ اس گھر (بیت المقدس) میں جو شخص آکر دو رکعت نماز ادا کرے ‘ اس کو گناہوں سے ایسا پاک کردیا جائے ‘ جیسا اس دن تھا جب ماں نے اس کو جنم دیا تھا۔ میں امید کرتا ہوں کہ اللہ نے یہ چیز بھی ان کو مرحمت فرما دی ہوگی۔ رواہ البغوی۔ حضرت انس بن مالک کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اپنے گھر کے اندر آدمی کی ایک نماز (کا ثواب) ایک نماز (کا ثواب) ہے اور مسجد قباء کے اندر ایک نماز کا ثواب پچیس نمازوں کے برابر ہے اور مسجد جامع میں ایک نماز کا ثواب پانچ سو نمازوں کا ثواب ہے اور مسجد اقصیٰ میں ایک نماز کا ثواب ایک ہزار نمازوں کے برابر ہے اور میری مسجد میں ایک نماز کا ثواب پچاس ہزار نمازوں کا ثواب ہے اور کعبہ کے اندر ایک نماز کا ثواب ایک لاکھ نمازوں کا ثواب ہے۔ رواہ ابن ماجۃ۔
حضرت ابو سعید خدری راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ سواریاں کس کر نہ جاؤ (یعنی سفر نہ کرو) مگر تین مسجدوں کی طرف : مسجد حرام ‘ مسجد اقصیٰ اور میری اس مسجد کی طرف (متفق علیہ) ۔
مسئلہ : کیا مسجدوں کو سونے چاندی سے آراستہ کرنا جائز ہے ؟ یہ مسئلہ اختلافی ہے ‘ بعض علماء کے نزدیک مکروہ ہے۔ اس میں فضول ‘ مال کی برباد ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے مساجد کو مزین بنانے کی اجازت نہیں دی۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : تم مسجدوں کو ضرور اس طرح آراستہ کرو گے جیسے یہود اور عیسائی کرتے تھے۔ حضور اقدس اللہ ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ مسجدوں کی آرائش علامات قیامت میں سے ہے۔
بعض اہل علم نے کہا : مسجد کو آراستہ کرنا ثواب ہے ‘ اس میں مسجد کی عظمت کا اظہار ہے۔ حضرت سلیمان نے مسجد بیت المقدس کو آراستہ کیا تھا ‘ اس سے تائید ہوتی ہے تزئین مساجد کے قول کی۔
صاحب ہدایہ نے لکھا ہے کہ تزئین مساجد کا جواز اس وقت ہوگا جب کوئی شخص اپنے مال سے کرے۔ متولی کیلئے جائز نہیں کہ سوائے ضروریات تعمیر کے وقف کا روپہ نقاشی وغیرہ میں صرف کرے ‘ اگر ایسا کرے گا تو خود اس کو اپنے پاس سے تاوان ادا کرنا ہوگا۔ ابن ہمام نے لکھا ہے کہ تزئین مساجد کے مقابلہ میں غریبوں کی امداد کرنا بہرحال بلاشبہ بہتر ہے۔
اکثر علماء کے نزدیک میناکاری اور نقاشی مصالحہ کی ہو ‘ یا لکڑی کی اور سنہرے پانی کا استعمال مساجد کیلئے جائز ہے ‘ اس میں کوئی ہرج نہیں۔ کوئی ہرج نہیں کا جملہ اس بات کی طرف اشارہ کر رہا ہے کہ نہ اس کا ثواب ملے گا ‘ نہ گناہ ہوگا۔ کذا فی الہدایۃ۔
ابن ہمام نے لکھا ہے کہ محل کراہت (یعنی مکروہ تحریمی) تو یہ ہے کہ بہت ہی پر تکلف ‘ دقیق نقاشی وغیرہ کی جائے ‘ خصوصاً محراب میں باریک فن کاری سے کام لیا جائے ‘ یا مسجد کی آرائش تو کردی جائے اور (اس میں) نماز نہ پڑھی جائے ‘ یا مسجد کو اس کا حق نہ دیا جائے۔ یعنی مسجد کے اندر شور مچایا جائے ‘ یا دنیا کی باتیں کرنے کیلئے وہاں بیٹھک کی جائے۔ حدیث کا آخری جملہ ہے کہ وقلوبھم خاویۃ عن الایمان اور ان کے دل ایمان سے خالی ہوں گے۔ یہ جملہ مذکورۂ بالا بیان کو ثابت کر رہا ہے۔
میں کہتا ہوں : سلیمان کے قصہ کے مقابلہ میں رسول اللہ ﷺ کی حدیث کا اتباع ضروری ہے ‘ کیونکہ گذشتہ انبیاء کی شریعتیں اسی وقت اتباع کے لائق ہیں جب ہماری شریعت میں ان کے خلاف کوئی حکم نہ آیا ہو۔ اس کے علاوہ حضرت سلیمان کا فعل (یعنی تزئین مسجد) تو ایک حکمت کا حامل تھا ‘ آپ شیاطین اور جنات کو سخت کاموں میں اس لئے مشغول رکھنا چاہتے تھے کہ شیاطین کو لوگوں کو گمراہ کرنے کا موقع نہ ملے (تزئین مسجد اصل مقصود نہ تھا) بغوی نے لکھا ہے : اہل اخبار کا بیان ہے کہ بخت نصر کے حملہ تک حضرت سلیمان کی بنائی ہوئی مسجد اپنی اصل حالت پر باقی رہی۔ جب بخت نصر نے بیت المقدس پر حملہ کیا تو شہر کو تباہ کردیا اور ساری عمارتیں ڈھا دیں ‘ مسجد گرا دی ‘ مسجد کی چھت اور دیواروں میں جو سونا ‘ چاندی ‘ موتی ‘ یاقوت اور جواہر لگے ہوئے تھے ‘ سب اکھاڑ کر اپنے ملک (عراق) کو لے گیا۔
جنات نے حضرت سلیمان کیلئے یمن میں پتھر کے بڑے عجیب قلعے بھی تعمیر کئے تھے۔
تَمَاثِیْلِ یعنی پیتل ‘ تانبے ‘ شیشے اور سنگ مرمر کی مورتیاں۔ کہا گیا ہے کہ وہ درندوں اور پرندوں کی تصویریں بناتے تھے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ ملائکہ ‘ انبیاء اور نیک لوگوں کی تصویریں مساجد میں بناتے تھے تاکہ ان کو دیکھ کر لوگوں میں عبادت کا جذبہ ترقی کرے۔ ان کی شریعت میں تصویر کشی جائز تھی۔
میں کہتا ہوں : شاید تماثیل سے مراد بےجان چیزوں کی تصویریں ہوں کیونکہ انسانی مورتیوں کی تو حضرت سلیمان سے پہلے بھی پوجا کی جاتی تھی ‘ حضرت سلیمان نے اپنے باپ اور قوم سے فرمایا تھا : مَا ھٰذَا التَّمَاثِیْلُ الَّتِیْ اَنْتُمْ لَھَا عَاکِفُوْنَ ۔
صحیحین میں ہے کہ حضرت ابن عباس نے فرمایا : میں نے خود سنا ‘ رسول اللہ ﷺ فرما رہے تھے : ہر مصور دوزخ میں جائے گا۔ جو صورت اس نے بنائی ہوگی ‘ اس میں (قیامت کے دن) جان ڈالی جائے گی اور وہی تصویر اس کو دوزخ میں عذاب دے گی۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : اگر تم کو ایسا کرنا ہی ہے (یعنی تصویر بنانی ہی ہے) تو درختوں کی اور بےجان چیزوں کی تصویریں بنا لو (متفق علیہ) اس حدیث میں صرف اس امت کے مصوروں کی حالت نہیں بیان کی گئی ہے ‘ بلکہ ہر مصور کی حالت کا اظہار کیا گیا ہے اور چونکہ جملہ خبریہ ہے اس لئے منسوخ ہونے کا بھی احتمال نہیں ہے (حکم منسوخ ہوسکتا ہے ‘ خبر منسوخ نہیں ہوتی۔ خبر میں تو ایک واقعہ کا بیان ہوتا ہے ‘ اگر خبر کا بھی منسوخ ہونا ممکن ہو تو تکذیب خبر لازم آئے گی ‘ مترجم) ۔
حضرت ابن عباس کی مرفوع حدیث ہے کہ جو مصور کوئی صورت بنائے گا ‘ اس کو عذاب دیا جائے گا اور اس کو حکم دیا جائے گا کہ اپنی بنائی ہوئی تصویر کے اندر جان بھی ڈال ‘ لیکن وہ (کبھی اس کے اندر) روح نہیں پھونک سکے گا۔ رواہ البخاری۔
حضرت ابوہریرہ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : قیامت کے دن ایک گردن (سب لوگوں سے اونچی) برآمد ہوگی جس کی دو آنکھیں ہوں گی ‘ جو دیکھ رہی ہوں گی اور دو کان ہوں گے ‘ جو سن رہے ہوں گے اور زبان ہوگی ‘ جو بول رہی ہوگی۔ وہ کہے گی : مجھے تین آدمیوں کیلئے مقرر کیا گیا ہے : ہر ظالم کیلئے جو عناد رکھتا ہے ‘ ہر اس شخص کیلئے جو اللہ کے ساتھ دوسرے کو معبود قرار دیتا ہے اور تمام مصوروں کیلئے۔ رواہ الترمذی۔
یہ بھی حضرت ابوہریرہ نے فرمایا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا کہ اللہ فرماتا ہے : اس سے بڑھ کر ظالم (ناحق کوش) کون ہے جو میری تخلیق کی طرح بنانے چلا ہے (اگر ان میں تخلیق کی طاقت ہے) تو ایسے لوگوں کو چاہئے کہ ایک چھوٹی چیونٹی ہی بنا لیں ‘ ایک دانہ یا ایک جو ہی پیدا کرلیں (متفق علیہ) ۔
ان تمام احادیث کی رفتار بتارہی ہے کہ تصویر کشی کی حرمت امت محمدیہ کیلئے ہی مخصوص نہیں ہے۔
ایک شبہ : حضرت عیسیٰ پرندہ کی شکل کی مٹی کی مورتی بنا کر اس میں پھونک مارتے تھے تو وہ زندہ پرندہ بن جاتی تھی اور ایسا بحکم خدا ہوتا تھا۔
جواب : بیشک ایسا ہوتا تھا کہ بحکم خدا حضرت عیسیٰ کی بنائی ہوئی مورتی پرندہ بن جاتی تھی (یہ تو آپ کا معجزہ تھا جو بحکم خدا آپ کے ہاتھ سے سرزد ہوتا تھا ‘ مترجم) صورت بنانا حرام تو ان لوگوں کیلئے ہے ‘ جو صورت میں جان نہیں ڈال سکتے۔ ان کو حکم دیا جائے گا کہ اپنی بنائی ہوئی تصویر میں روح پھونکیں ‘ مگر وہ کبھی نہ پھونک سکیں گے۔
جِفَان ‘ جِفْنَۃٌ کی جمع ہے۔ جفنہ بڑے پیالے کو کہتے ہیں۔
کالجوابیہ جابیۃ کی جمع ہے ‘ جابیۃ بڑے حوض کو کہتے ہیں کذا فی القاموس۔ یہ لفظ جَبَی الخراجَ (خراج وصول کیا) سے مشتق ہے۔ بڑے حوض کو جابیۃ اس لئے کہا جاتا ہے کہ اس میں پانی آکر جمع ہوتا ہے۔ یہ ان صفات میں سے ہے جن کے موصوف کا ذکر نہیں کیا جاتا (یعنی الحوض الجابیۃ نہیں کہا جاتا بلکہ) صفات ہی کو موصوف کے قائم مقام قرار دے لیا جاتا ہے۔ بغوی نے لکھا ہے : ایک پیالہ پر ہزار آدمی بیٹھ کر کھایا کرتے تھے ‘ یعنی پیالہ اتنا بڑا تھا کہ ایک پیالہ کا کھانا ہزار آدمیوں کیلئے کافی ہوتا تھا۔
رَاسِیَاتٍ اپنی جگہ جمی ہوئی ان دیگوں کے پائے لگے ہوئے تھے اور وہ اتنی بڑی تھیں کہ اپنی جگہ سے ہل نہیں سکتی تھیں ‘ نہ ان کو (چولھے سے) اتارا جاسکتا تھا ‘ نہ خالی کیا جاسکتا تھا۔ زینہ لگا کر ان پر چڑھا جاتا تھا۔ یہ دیگیں یمن میں تھیں۔
اعملوا ال داود شکرًا . (ہم نے داؤد ور ان کے گھر والوں سے کہا :) اے داؤد کے خاندان والو ! تم سب شکر (کی
ادائیگی میں نیک کام) کیا کرو۔
شکرًا میں تنوین تقلیل پر دلالت کر رہی ہے (یعنی نعمتوں کا پورا پورا شکریہ ادا نہیں کرسکتے تو نعمتوں سے کم ہی شکریہ ادا کرو ‘ مترجم) کیونکہ اللہ کی نعمتوں سے زیادہ شکریہ ادا کرنا تو انسانی طاقت سے خارج ہے ‘ بلکہ کسی مخلوق کیلئے ممکن ہی نہیں۔ شکرًا یا مفعول لہٗ ہے یعنی فعل مذکور کی علت ہے ‘ آیت کا مطلب اس طرح ہوگا کہ اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے کی غرض سے اللہ کی طاعت کرو ‘ یا مفعول مطلق ہے اور اس کا موصوف محذوف ہے ‘ یا مفعول بہ ہے۔ جعفر بن سلیمان نے کہا : میں نے ثابت سے سنا ہے کہ حضرت داؤد نے اپنے اور اپنے گھر والوں کی عبادت کیلئے رات اور دن کے حصے مقرر کر دئیے تھے ‘ پس دن رات میں کوئی ساعت ایسی نہ ہوتی تھی کہ حضرت داؤد کے گھر کوئی نہ کوئی عبادت میں مشغول نہ ہو۔
وقلیل من عبادی الشکور . اور میرے بندوں میں بڑے شکرگذار کم ہیں۔ یعنی ایسے لوگ کم ہیں جو زبان اور
اعضاء جسم سے اکثر اوقات اداء شکر کرتے ہوں اور ہمیشہ بلاسستی کے شکر میں مشغول رکھتے ہوں۔ یہ مرتبہ حضور دوامی اور فناء قلب کے بعد حاصل ہوتا ہے اور اس دوامی شکر کے بعد بھی اللہ کی نعمتوں کا حق ادا نہیں ہوتا ‘ کیونکہ توفیق شکر بھی عطاء الٰہی سے اور ایک نعمت ہے ‘ پس ہر شکر کا شکر ‘ پھر شکر کے شکر کا شکر ادا کرتے چلے جانا انسانی طاقت سے خارج ہے ‘ اسی لئے کہا گیا ہے کہ شکور وہ شخص ہے جو اداء شکر سے اپنے آپ کو عاجز سمجھتا ہو۔ 1
Ayah 34:14فلما قضینا علیہ الموت . پھر جب ہم نے ان کیلئے موت کا حکم جاری کردیا۔ بغوی نے اس سے لکھا ہے : اہل علم
کا بیان ہے کہ حضرت سلیمان مسجد بیت المقدس کے اندر مہینہ دو مہینہ ‘ سال دو سال یا اس سے کم و بیش مدت تک گوشہ نشین ہوجاتے تھے ‘ وہیں آپ کا کھانا پانی پہنچا دیا جاتا تھا۔ ایک بار حسب معمول بیت المقدس کے اندر تھے کہ آپ کی وفات ہوگئی ‘ جس کے قصہ کی ابتداء اس طرح ہوئی کہ روزانہ صبح کے وقت بیت المقدس کی محراب میں ایک بوٹی نمودار ہوتی تھی ‘ آپ اس سے اس کا نام دریافت کرتے تھے ‘ وہ اپنا نام بتا دیتی تھی ‘ آپ اس سے اس کے خواص دریافت کرتے تھے تو وہ اپنے فائدے بیان کردیتی تھی۔ آپ اس کو کٹوا لیتے تھے ‘ پھر اگر وہ کسی پودے کی شاخ ہوتی تو اس کو (کسی باغ میں) لگوا دیتے تھے اور اگر دوا کی بوٹی ہوتی تو لکھ دیتے تھے۔ ایک روز درخت خروبہ (محراب) اگا۔ حضرت اس نے اس سے دریافت کیا : تو کون ہے ؟ اس نے جواب دیا : خروبہ۔ آپ نے فرمایا : تو کس لئے اگا ہے ؟ ا نے کہا : آپ کی مسجد کو برباد کرنے کیلئے۔ حضرت سلیمان نے فرمایا : یہ بات تو ہوگی نہیں کہ میری زندگی میں اللہ اس مسجد کو برباد کر دے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ (پہلے) میری موت اور (پھر) بیت المقدس کی بربادی تیری وجہ سے ہوگی۔ پھر آپ نے اس کو ایک اچھے باغ میں لگوا دیا اور دعا ی : اے اللہ ! میری موت کو جنات سے پوشیدہ رکھنا تاکہ انسانوں کو معلوم ہوجائے کہ غیب دان جنات نہیں ہوتے۔ جنات آدمیوں سے کہا کرتے تھے کہ ہم غیب کی باتیں جانتے ہیں اور آنے والے دن میں جو کچھ ہوگا ‘ اس سے بھی واقف ہیں۔
اس کے بعد حضرت سلیمان محراب (عبادت خانہ) میں چلے گئے اور لاٹھی پر سہارا لگائے کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے ‘ اسی حالت میں کھڑے کھڑے آپ کی وفات ہوگئی۔ محراب کے اندر آگے پیچھے کچھ روشندان تھے ‘ جن میں سے جنات آپ کو کھڑا دیکھ کر خیال کرتے تھے کہ آپ نماز میں مشغول ہیں ‘ اس لئے جو سخت محنت کا کام آپ کی زندگی میں وہ کرتے تھے ‘ ان میں آپ کی وفات کے بعد بھی سرگرم رہے اور چونکہ آپ کی عادت ہی تھی کہ نماز میں مشغول ہونے کے بعد (ایک مدت تک) باہر نہیں نکلتے تھے ‘ اس لئے آپ کے برآمد نہ ہونے سے جنات کو آپ کی وفات کا کوئی شبہ بھی ہوا۔ اس طرح وفات کے بعد ایک سال گذر گیا اور جنات برابر کام میں مشغول رہے۔ آخر دیمک نے لاٹھی کو کھالیا اور آپ کی میت نیچے گر پڑی اور جنات کو آپ کی وفات کا علم ہوا۔
حضرت ابن عباس نے فرمایا : جنات نے دیمک کا شکریہ ادا کیا کہ اس کی وجہ سے ان کو سخت مشقتوں سے آزادی ملی۔ اب بھی پانی اور مٹی جنات لکڑی کے کھوکھلے حصہ میں (دیمک کیلئے) ڈالتے ہیں۔ ابن ابی حاتم نے ابن یزید کی روایت سے بیان کیا ہے کہ حضرت سلیمان نے ملک الموت سے کہہ دیا تھا کہ جب آپ کو میرے متعلق حکم دیا جائے تو مجھے اطلاع دے دینا۔ ایک روز ملک الموت نے آپ کو اطلاع دی کہ اب مجھے آپ کی بابت حکم دیا گیا ہے کہ آپ کی زندگی کا ذرا سا وقت رہ گیا ہے۔ آپ نے جنات کو طلب فرما کر اپنے گرداگرد اور اوپر ایک شیشہ گھر تعمیر کرالیا ‘ جس کا کوئی دروازہ نہ رکھا۔ پھر اس کے اندر نماز پڑھنے کھڑے ہوگئے اور لاٹھی سے سہارا لگا لیا اور اسی حالت میں ملک الموت نے آپ کی روح قبض کرلی۔ وفات کے بعد بھی آپ یونہی کھڑے رہے ‘ آخر گھن نے لاٹھی کو کھالیا اور آپ گرپڑے۔ اس کے بعد لوگوں نے شیشہ گھر میں ایک دروازہ بنا لیا اور اندر داخل ہوگئے اور یہ جاننے کیلئے کہ آپ کی وفات کو کتنا عرصہ ہوگیا ‘ گھن کو لاٹھی پر اٹھا لیا۔ گھن ایک رات دن لاٹھی کھاتا رہا ‘ اس طرح لوگوں نے اندازہ لگایا تو معلوم ہوا کہ آپ کی وفات کو ایک سال ہوگیا۔
مادلھم علی موتہ الا دآبۃ الارض . تو کسی چیز نے اس کے مرجانے کا پتہ نہ بتایا ‘ مگر گھن کے کیڑے نے۔
مَادَلَّھُمْ یعنی جنات کو یا حضرت سلیمان کے گھر والوں کو آپ کی موت کی اطلاع صرف گھن لگنے کی وجہ سے ہوئی۔
دَآبَّۃُ الْاَرْضِ جس کو عربی میں الارضۃ اور فارسی میں دیوک کہتے ہیں۔ یہ ننھا کیڑا ہوتا ہے جو لکڑی کو کھا جاتا ہے۔ الارض سے مراد نمناک مٹی ہے۔ بعض کا قول ہے کہ الارض اُرْضَتِ الْخشْبَۃُ (لکڑی کھائی گئی) کا مصدر ہے ‘ اس صورت میں الارض دابَّۃٌ کا فعل قرار پائے گا اور اضافت فعل کی طرف ہوجائے گی یعنی لکڑی کھانے کا کیڑا۔ جیسے زمین جوتنے کے بیل (بقر الحرث) لڑائی کا آدمی (رجل الحرب) ۔
تاکل منساتہ . جو کھا رہا تھا سلیمان کی لاٹھی کو۔ نَسَاْتُ الْغَنَمَ میں نے بکریوں کو ڈانٹا اور ہنکایا۔ مِنْسَأتُ اسی محاورہ
سے ماخوذ ہے۔
فلما خرتبینت الجن ان لو کانوا یعلمون الغیب ما لبثوا فی العذاب المھین جب سلیمان گر
پڑے تب جنات کی یہ بات ظاہر ہوگئی کہ اگر وہ غیب داں ہوتے تو (اتنی مدت) اس ذلت کی مصیبت میں نہ رہتے۔ الْغَیْبَ یعنی وہ بات جو ان سے غائب ہو ‘ جیسے حضرت سلیمان کی وفات۔
الْعَذَابِ الْمُھِیْنَ یعنی سخت محنت و مشقت میں اتنی مدت تک نہ پڑے رہتے۔ حضرت سلیمان کی موت کا جنات کو علم نہ ہوسکا ‘ اس لئے حضرت کے حکم کے مطابق کام کرتے رہے۔ مطلب یہ ہے کہ پہلے جنات اپنی غیب دانی کا دعویٰ کر کے لوگوں کو دھوکا دیا کرتے تھے ‘ لیکن جب حضرت سلیمان کی وفات کا جنات کو علم نہ ہوسکا تو لوگوں کیلئے یہ بات واضح ہوگئی کہ جنات غیب داں نہیں ہوتے۔ آیت کا یہ مطلب حضرت ابن مسعود کی قراءت کے مطابق ہے ‘ ابن مسعود کی قراءت میں آیا ہے : تبینت الانس لو کانوا یعلمون (ای الجن) مَا لَبِثُوْا فِی الْعَذَابِ الْمُھِیْنِ ۔ بعض اہل تفسیر نے یہ مطلب بیان کیا ہے کہ حضرت سلیمان کی وفات سے بےعلم رہنے کی وجہ سے جنوں کو معلوم ہوگیا کہ وہ اگر غیب داں ہوتے تو مشقت میں پڑے رہتے۔ یہ مطلب بعید از فہم ہے کیونکہ جنات کو تو پہلے ہی معلوم تھا کہ وہ غیب داں نہیں ہیں ‘ آدمیوں کو دھوکا دینے کیلئے غیب دانی کا دعویٰ کرتے تھے۔
بغوی نے لکھا ہے کہ اہل تاریخ نے بیان کیا ہے کہ حضرت سلیمان کی کل عمر 53 سال ہوئی۔ 13 سال کی عمر میں باپ کے جانشین ہوئے اور چالیس سال حکومت کی۔ چار سال حکومت کو گذرے تھے کہ بیت المقدس کی تعمیر کا آغاز کیا۔ ابن ابی حاتم نے کہا : مجھ سے علی بن رباح نے بیان کیا کہ علی نے کہا : مجھ سے ایک شخص نے کہا کہ فردہ بن سلیک غطفانی نے خدمت گرامی میں حاضر ہو کر عرض کیا : یا نبی اللہ ﷺ ! قوم سبا کو جاہلیت کے زمانہ میں غلبہ حاصل تھا اور مجھے اندیشہ ہے کہ وہ اسلام سے پھرجائیں گے ‘ کیا میں ان سے جہاد کروں ؟ حضور ﷺ نے فرمایا : مجھے ان کے بارے میں کوئی حکم نہیں ملا۔ اس پر آیت ذیل نازل ہوئی۔
Ayah 34:15لقد کان لسبا فی مسکنھم ایۃ (قوم) سبا کیلئے ان کے مقام سکونت میں (ہماری قدرت کاملہ کی) نشانی موجود
تھی (جس کا شکر ادا کرنا ان پر واجب تھا) ۔
بغوی نے بروایت ابو سبرہ نخعی بحوالۂ فردہ بن سلیک غطفی بیان کیا ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! مجھے سبا کے متعلق بتائیے کہ کیا وہ کوئی مرد تھا ‘ یا عورت ‘ یا کسی مقام کا نام تھا ؟ حضور ﷺ نے فرمایا : وہ ایک عربی مرد تھا جس کے دس بیٹے ہوئے ‘ چھ دائیں طرف (یعنی یمن) کو چلے گئے اور چار بائیں طرف (یعنی شام) کو۔ جو چھ یمن کو گئے تھے ‘ ان کے نام یہ تھے : کندہ اشعر ‘ ازد ‘ مدحج ‘ انمار ‘ حِمْیَرْ ۔ ایک شخص نے کہا : انمار کون ؟ فرمایا : جن میں سے خثعم اور بُجَیْلہ ہیں (وہی انمار) ۔ جو چار شام کو گئے تھے ‘ وہ یہ تھے : عاملہ ‘ جذام ‘ لخم ‘ غسّان۔ امام احمد وغیرہ نے حضرت ابن عباس کی روایت سے مرفوعاً اسی طرح بیان کیا ہے : سبا ‘ یشجب کا بیٹا اور یشجب ‘ یعرب کا اور یعرب ‘ قحطان کا۔
جنتن عن یمین و شمال ربکم واشکروا لہ بلدۃ طیبۃ ورب غفور باغ کی دو قطاریں تھیں
(راستے کے) دائیں اور بائیں (ہم نے کہہ دیا تھا کہ) اپنے رب کا عطا کیا ہوا رزق (مفت ‘ بغیر محنت کے) کھاؤ۔ پاکیزہ شہر ہے اور بخشنے والا پروردگار ہے۔
جَنَّتٰنِ سے مراد ہیں باغوں کی دو قطاریں ‘ ایک دائیں طرف اور دوسری بائیں طرف ‘ یعنی شہر کے دائیں بائیں یا یہ مطلب ہے کہ ہر شخص کے دو باغ تھے ‘ ایک مقام سکونت سے دائیں جانب اور دوسرا بائیں جانب۔ (قوم سبا کی تاریخ کے مطابق دائیں بائیں پھل والے درختوں کی قطاریں تھیں اور کسی مسافر کو سرراہ مفت پھل کھانے کی ممانعت نہیں تھی۔ اسی کے موافق ترجمہ کیا گیا ہے ‘ مترجم) ۔
وَاشْکُرُوْا لَہٗ یعنی اللہ کی ان نعمتوں کا شکر ادا کرو۔ مراد یہ ہے کہ اللہ کے احکام کی پابندی کرو۔
کُلُوْا مِنْ رِّزْقِ رَبِّکُمْ مقولۂ نبی تھا ‘ یعنی اللہ کے نبی نے کہا ‘ یا زبان حال ان سے کہہ رہی تھی کہ یہ رزق خداداد کھاؤ اور اللہ کے فرمانبردار رہو۔
بَلْدَۃٌ طَیِّبَۃٌ پاکیزہ شہر ‘ جہاں پھلوں کی کثرت تھی اور زمین زرخیز تھی ‘ شوریلی نہ تھی۔ سدی اور مقاتل نے کہا کہ اگر کوئی عورت سر پر ٹوکرا رکھے باغ کی قطاروں کی طرف سے گذرتی تھی تو خود بخود درختوں سے ٹوٹ کر اتنے پھل گرتے تھے کہ اس کا ٹوکرا بھر جاتا تھا ‘ ہاتھ سے توڑنے کی ضرورت نہیں ہوتی تھی۔ ابن زید نے کہا : ان کے شہر میں نہ مچھر تھے ‘ نہ مکھیاں اور نہ پسو ‘ نہ سانپ۔ اگر کسی شخص کے کپڑوں میں جوئیں ہوتیں اور اس شہر کی طرف سے گذر جاتا تو ہوا کی پاکیزگی کی وجہ سے ساری جوئیں مرجاتی تھیں۔ بلدۃ طیبۃ سے یہی مراد ہے ‘ یعنی وہاں کی ہوا پاکیزہ تھی۔
رَبٌّ غَفُوْرٌ مقاتل نے اس کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ اگر خدا کے عطا کردہ رزق کا تم شکر ادا کرو گے تو اللہ تمہارے گناہ معاف فرما دے گا۔
وہب (بن منبہ) نے بیان کیا کہ اللہ نے قوم سبا کی ہدایت کیلئے تیرہ 13 پیغمبر بھیجے اور ہر پیغمبر نے ان کو اللہ کی نعمتیں یاد دلائیں اور ان نعمتوں کا شکر ادا کرنے کی نصیحت کی اور اللہ کے فرمانبردار ہونے کی دعوت دی ‘ لیکن