34. Surah Saba

سبإSheba · 54 ayahsآسان قرآن

تعارف

تعارف

تعارف سورة سبا اس سورت کا بنیادی موضوع اہل مکہ اور دوسرے مشرکین کو اسلام کے بنیادی عقائد کی دعوت دینا ہے، اس سلسلے میں ان کے اعتراضات اور شبہات کا جواب بھی دیا گیا ہے، اور ان کو نافرمانی کے برے انجام سے بھی ڈرایا گیا ہے، اسی مناسبت سے ایک طرف حضرت داؤد اور حضرت سلیمان (علیہما السلام) کی اور دوسری طرف قوم سبا کی عظیم الشان حکومتوں کا ذکر فرمایا گیا ہے، حضرت داؤد اور حضرت سلیمان (علیہما السلام) کو ایسی زبردست سلطنت سے نوازا گیا جس کی کوئی نظیر دنیا کی تاریخ میں نہیں ملتی، لیکن ان برگزیدہ پیغمبروں کو کبھی اس سلطنت پر ذرہ برابر غرور نہیں ہوا، اور وہ اس سلطنت کو اللہ تعالیٰ کا انعام سمجھ کر اللہ تعالیٰ کے حقوق ادا کرتے رہے، اور اپنی حکومت کو نیکی کی ترویج اور بندوں کی فلاح و بہبود کے کاموں میں استعمال کیا، چنانچہ وہ دنیا میں بھی سرخرو رہے، اور آخرت میں بھی اونچا مقام پایا، دوسری طرف قوم سبا کو جو یمن میں آباد تھی، اللہ تعالیٰ نے ہر طرح کی خوشحالی سے نوازا ؛ لیکن انہوں نے ناشکری کی روش اختیار کی، اور کفر وشرک کو فروغ دیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب آیا، اور ان کی خوشحالی ایک قصہ ٔ پارینہ بن کر رہ گئی، ان دونوں واقعات کا ذکر فرما کر سبق یہ دیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی اقتدار حاصل ہو یا دنیوی خوشحالی نصیب ہو تو اس میں مگن ہو کر اللہ تعالیٰ کو بھلا بیٹھنا تباہی کو دعوت دینا ہے، اس سے مشرکین کے ان سرداروں کو متنبہ کیا گیا ہے جو اپنے اقتدار کے گھمنڈ میں مبتلا ہو کر دین حق کے راستے میں روڑے اٹکا رہے تھے۔

Ayah 34:1

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ وَ لَهُ الْحَمْدُ فِی الْاٰخِرَةِ١ؕ وَ هُوَ الْحَكِیْمُ الْخَبِیْرُ Open ayah 34:1 in the Quran reader

تمام تر تعریف اس اللہ کی ہے جس کی صفت یہ ہے کہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے سب اسی کا ہے، اور آخرت میں بھی تعریف اسی کی ہے، اور وہی ہے جو حکمت کا مالک ہے، مکمل طور پر باخبر۔

Ayah 34:2

یَعْلَمُ مَا یَلِجُ فِی الْاَرْضِ وَ مَا یَخْرُجُ مِنْهَا وَ مَا یَنْزِلُ مِنَ السَّمَآءِ وَ مَا یَعْرُجُ فِیْهَا١ؕ وَ هُوَ الرَّحِیْمُ الْغَفُوْرُ Open ayah 34:2 in the Quran reader

وہ ان چیزوں کو بھی جانتا ہے جو زمین کے اندر جاتی ہیں اور ان کو بھی جو اس سے باہر نکلتی ہیں، ان کو بھی جو آسمان سے اترتی ہیں اور ان کو بھی جو اس میں چڑھتی ہیں اور وہی ہے جو بڑا مہربان ہے، بہت بخشنے والا ہے۔

Ayahs 34:3–7

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَا تَاْتِیْنَا السَّاعَةُ١ؕ قُلْ بَلٰى وَ رَبِّیْ لَتَاْتِیَنَّكُمْ١ۙ عٰلِمِ الْغَیْبِ١ۚ لَا یَعْزُبُ عَنْهُ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَ لَا فِی الْاَرْضِ وَ لَاۤ اَصْغَرُ مِنْ ذٰلِكَ وَ لَاۤ اَكْبَرُ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍۗۙ Open ayah 34:3 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے کفر اپنا لیا ہے وہ کہتے ہیں کہ : ہم پر قیامت نہیں آئے گی، کہہ دو : کیوں نہیں آئے گی ؟ میرے عالم الغیب پروردگار کی قسم ! وہ تم پر ضرور آکر رہے گی۔ کوئی ذرہ برابر چیز اس کی نظر سے دور نہیں ہوتی۔ (1) نہ آسمانوں میں، نہ زمین میں اور نہ اس سے چھوٹی کوئی چیز ایسی ہے نہ بڑی جو ایک کھلی کتاب (یعنی لوح محفوظ) میں درج نہ ہو۔

لِّیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِیْمٌ Open ayah 34:4 in the Quran reader

(اور قیامت اس لیے آئے گی) تاکہ جو لوگ ایمان لائے ہیں اور انہوں نے نیک عمل کیے ہیں، اللہ ان کو انعام دے۔ ایسے لوگوں کے لیے مغفرت ہے اور باعزت رزق۔

وَ الَّذِیْنَ سَعَوْ فِیْۤ اٰیٰتِنَا مُعٰجِزِیْنَ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مِّنْ رِّجْزٍ اَلِیْمٌ Open ayah 34:5 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کے بارے میں یہ کوشش کی ہے کہ انہیں ناکام بنائیں، ان کے لیے بلا کا دردناک عذاب ہے۔

وَ یَرَى الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ هُوَ الْحَقَّ١ۙ وَ یَهْدِیْۤ اِلٰى صِرَاطِ الْعَزِیْزِ الْحَمِیْدِ Open ayah 34:6 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر) جن لوگوں کو علم عطا ہوا ہے وہ خوب سمجھتے ہیں کہ تم پر تمہارے رب کی طرف سے جو کچھ نازل کیا گیا ہے وہ حق ہے اور اس (اللہ) کا راستہ دکھاتا ہے جو اقتدار کا مالک بھی ہے، ہر تعریف کا مستحق بھی۔

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا هَلْ نَدُلُّكُمْ عَلٰى رَجُلٍ یُّنَبِّئُكُمْ اِذَا مُزِّقْتُمْ كُلَّ مُمَزَّقٍ١ۙ اِنَّكُمْ لَفِیْ خَلْقٍ جَدِیْدٍۚ Open ayah 34:7 in the Quran reader

اور یہ کافر لوگ (ایک دوسرے سے) کہنے لگے : کیا ہم تمہیں ایک ایسے شخص کا پتہ بتائیں جو تمہیں یہ خبر دیتا ہے کہ جب تم (مر کر) بالکل ریزہ ریزہ ہوچکو گے اس وقت تم ایک نئے جنم میں آؤ گے ؟

1: جو کافر لوگ آخرت کی زندگی کا انکار کرتے تھے، ان کا کہنا یہ تھا کہ انسان کے مٹی میں مل جانے کے بعد اس کو از سرِ نو زندگی دینا کیسے ممکن ہے ؟ ان آیتوں میں جواب یہ دیا جارہا ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کے علم اور قدرت کو انسان پر قیاس کر رہے ہے۔ اللہ تعالیٰ کا علم تو اس کائنات کے ہر چھوٹے سے چھوٹے ذرے کا بھی احاطہ کئے ہوئے ہے، اور جو ذات آسمان و زمین جیسی عظیم الشان مخلوقات کو بالک عدم سے وجود میں لاسکتی ہے، اس کے لئے یہ کیا مشکل ہے کہ مردہ جسم کے ذرات کو دوبارہ اکٹھا کر کے انہیں نئی زندگی عطا کردے ؟ اور آیت نمبر 4 میں آخرت کی زندگی کی عقلی ضرورت بھی بیان فرمائی گئی ہے۔ کہ اگر یہ دنیا ہی سب کچھ ہے، اور کوئی دوسری زندگی آنے والی نہیں ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فرماں برداروں اور نافرمانوں میں کوئی فرق ہی نہیں رکھا، آخرت کی زندگی اس لئے ضروری ہے تاکہ اس میں فرماں براداروں کو ان کی نیکی کا انعام دیا جائے، اور نافرمانوں کو سزا ملے۔
Ayahs 34:8–9

اَفْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَمْ بِهٖ جِنَّةٌ١ؕ بَلِ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ فِی الْعَذَابِ وَ الضَّلٰلِ الْبَعِیْدِ Open ayah 34:8 in the Quran reader

پتہ نہیں اس شخص نے اللہ پر جھوٹ باندھا ہے یا اسے کسی طرح کا جنون لاحق ہے ؟ نہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے وہ خود عذاب میں اور پرلے درجے کی گمراہی میں مبتلا ہیں۔ (2)

اَفَلَمْ یَرَوْا اِلٰى مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اِنْ نَّشَاْ نَخْسِفْ بِهِمُ الْاَرْضَ اَوْ نُسْقِطْ عَلَیْهِمْ كِسَفًا مِّنَ السَّمَآءِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّكُلِّ عَبْدٍ مُّنِیْبٍ۠ Open ayah 34:9 in the Quran reader

بھلا کیا ان لوگوں نے اس آسمان و زمین کو نہیں دیکھا جو ان کے آگے بھی موجود ہیں اور ان کے پیچھے بھی۔ اگر ہم چاہیں تو ان کو زمین میں دھنسا دیں، یا آسمان کے کچھ ٹکڑے ان پر گرا دیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس میں ہر اس بندے کے لیے ایک نشانی ہے جو اللہ کی طرف رجوع کرنے والا ہو۔

2: یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کی مذکورہ بات کا جواب ہے۔ انہوں نے حضور اقدس ﷺ کے بارے میں دو احتمال ذکر کیے تھے۔ ایک یہ کہ (معاذ اللہ) آپ نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھا ہے جو اللہ تعالیٰ کے عذاب کو دعوت دینے مرادف ہے۔ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ آنحضرت ﷺ نے عذاب الٰہی کو دعوت دینے والا کوئی کام نہیں کیا، اس کے برعکس آخرت کے منکرین ضرور عذاب کا کام کر رہے ہیں۔ دوسرا احتمال کافروں نے یہ ذکر کیا تھا کہ (معاذ اللہ) آپ کو جنون لاحق ہوگیا ہے، اور جنون کی حالت میں اگرچہ عذاب نہیں ہوتا، لیکن مجنون راستے سے بھٹکا ہوا ضرور ہوتا ہے۔ اس کے جواب میں فرمایا گیا ہے کہ آپ نہیں، بلکہ منکرین آخرت پرلے درجے کی گمراہی میں مبتلا ہیں۔
Ayah 34:10

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ مِنَّا فَضْلًا١ؕ یٰجِبَالُ اَوِّبِیْ مَعَهٗ وَ الطَّیْرَ١ۚ وَ اَلَنَّا لَهُ الْحَدِیْدَۙ Open ayah 34:10 in the Quran reader

اور واقعہ یہ ہے کہ ہم نے داؤد کو خاص اپنے پاس سے فضل عطا کیا تھا۔ اے پہاڑو ! تم بھی تسبیح میں ان کے ساتھ ہم آواز بن جاؤ، اور اے پرندو ! تم بھی۔ (3) اور ہم نے ان کے لیے لوہے کو نرم کردیا تھا۔

3: حضرت داؤد ؑ خود بھی بہت خوش آواز تھے، اور اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں اور پرندوں کو بھی ان کے لئے مسخر کردیا تھا کہ جب وہ ذکر اور تسبیح میں مشغول ہوں تو پہاڑ اور پرندے بھی ان کے ساتھ تسبیحْ اور ذکر کرنے لگتے تھے، اور ماحول میں ایک پر کیف سماں بندھ جاتا تھا، پہاڑوں اور پرندوں کو ذکر و تسبیح کی صلاحیت عطا ہونا حضرت داؤد ؑ کا خاص معجزہ تھا۔
Ayah 34:11

اَنِ اعْمَلْ سٰبِغٰتٍ وَّ قَدِّرْ فِی السَّرْدِ وَ اعْمَلُوْا صَالِحًا١ؕ اِنِّیْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 34:11 in the Quran reader

کہ پوری پوری زرہیں بناؤ، اور کڑیاں جوڑنے میں توازن سے کام لو (4) اور تم سب لوگ نیک عمل کرو۔ تم جو عمل بھی کرتے ہو میں اسے دیکھ رہا ہوں۔

4: یہ حضرت داؤد ؑ کے ایک اور معجزے کا بیان ہے، اللہ تعالیٰ نے ان کو لوہے کی وہ زرہیں بنانے کی خصوصی مہارت عطا فرمائی تھی، جو اس زمانے میں جنگ کے موقع پر دشمن کے وار سے بچاؤ کے لئے پہنی جاتی تھیں، اس صنعت کے لئے اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد ؑ کو یہ خصوصیت عطا فرمادی تھی کہ لوہا ان کے ہاتھ میں پہنچ کر نرم ہوجاتا تھا، اور وہ اسے جس طرح چاہتے موڑلیتے تھے، اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اس بات کا بھی خاص ذکر فرمایا ہے کہ حضرت داؤد ؑ کو ہدایت دی گئی تھی کہ وہ زرہ اور کڑیوں میں توازن قائم رکھیں، اس میں یہ تعلیم دی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ کو ہر کام اور ہر صنعت میں سلیقے اور توازن کا خیال رکھنا پسند ہے۔
Ayah 34:12

وَ لِسُلَیْمٰنَ الرِّیْحَ غُدُوُّهَا شَهْرٌ وَّ رَوَاحُهَا شَهْرٌ١ۚ وَ اَسَلْنَا لَهٗ عَیْنَ الْقِطْرِ١ؕ وَ مِنَ الْجِنِّ مَنْ یَّعْمَلُ بَیْنَ یَدَیْهِ بِاِذْنِ رَبِّهٖ١ؕ وَ مَنْ یَّزِغْ مِنْهُمْ عَنْ اَمْرِنَا نُذِقْهُ مِنْ عَذَابِ السَّعِیْرِ Open ayah 34:12 in the Quran reader

اور سلیمان کے لیے ہم نے ہوا کو تابع بنادیا تھا۔ اس کا صبح کا سفر بھی ایک مہینے کی مسافت کا ہوتا تھا، اور شام کا سفر بھی ایک مہینے کی مسافت کا (5) اور ہم نے ان کے لیے تانبے کا چشمہ بہا دیا تھا۔ (6) اور جنات میں سے کچھ وہ تھے جو اپنے پروردگار کے حکم سے ان کے آگے کام کرتے تھے (7) اور (ہم نے ان پر یہ بات واضح کردی تھی کہ) ان میں سے کوئی ہمارے حکم سے ہٹ کر ٹیڑھا راستہ اختیار کرے گا، اسے ہم بھڑکتی ہوئی آگ کا مزہ چکھائیں گے۔

5: یہ وہ معجزہ ہے جو حضرت سلیمان ؑ کو عطا ہوا تھا، اللہ تعالیٰ نے ہوا کو ان کا تابع فرمان بنادیا تھا، وہ ہوا کی تیز رفتاری کو استعمال فرما کر دور دراز کا سفر مختصر وقت میں طے کرلیتے تھے، قرآن کریم نے اس معجزے کی تفصیل بیان نہیں فرمائی، لیکن بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے تخت کو ہوا پر اڑنے کی صلاحیت دے دی گئی تھی، چنانچہ جو سفر عام حالات میں ایک مہینے میں طے ہوا کرتا تھا وہ اس طرح صرف صبح یا صرف شام میں طے ہوجایا کرتا تھا۔ 6: یہ ایک اور نعمت کا ذکر ہے جو حضرت سلیمان ؑ کو عطا ہوئی تھی کہ تانبے کا ایک چشمہ ان کی دسترس میں تھا، اور اس میں اللہ تعالیٰ نے تانبے کو سیال بنادیا تھا جس کی وجہ سے تانبے کی مصنوعات آسانی سے بن جاتی تھیں۔ 7: وہ شریر جنات جو کسی کے قابو میں نہیں آتے تھے، اللہ تعالیٰ نے ان کو حضرت سلیمان ؑ کے تابع بنادیا تھا، چنانچہ وہ ان کی مختلف خدمات انجام دیتے تھے جن میں سے کچھ کا ذکر آگے آرہا ہے، یہاں یہ واضح رہے کہ حضرت سلیمان ؑ کے لئے تو جنات کو اللہ تعالیٰ نے خود تابع بنادیا تھا، لیکن آج کل جو لوگ عملیات کے ذریعے جنات کو تابع بنانے کا دعوی کرتے ہیں اگر وہ صحیح ہو اور اس کے لئے کوئی ناجائز طریقہ بھی اختیار نہ کرنا پڑے تو وہ صرف اس صورت میں جائز ہے جب اس کا مقصد شریر جنات کی تکلیف سے بچنا ہو، ورنہ کسی آزاد بےضرر جن کو غلام بنانا جائز نہیں ہے۔
Ayah 34:13

یَعْمَلُوْنَ لَهٗ مَا یَشَآءُ مِنْ مَّحَارِیْبَ وَ تَمَاثِیْلَ وَ جِفَانٍ كَالْجَوَابِ وَ قُدُوْرٍ رّٰسِیٰتٍ١ؕ اِعْمَلُوْۤا اٰلَ دَاوٗدَ شُكْرًا١ؕ وَ قَلِیْلٌ مِّنْ عِبَادِیَ الشَّكُوْرُ Open ayah 34:13 in the Quran reader

وہ جنات سلیمان کے لیے جو وہ چاہتے بنادیا کرتے تھے، اونچی اونچی عمارتیں، تصویریں (8) حوض جیسے بڑے بڑے لگن اور زمین میں جمی ہوئی دیگیں۔ اے داؤد کے خاندان والو ! تم ایسے عمل کیا کرو جن سے شکر ظاہر ہو۔ اور میرے بندوں میں کم لوگ ہیں جو شکر گزار ہوں۔

8: ظاہر یہ ہے کہ تصویریں بےجان چیزوں کی ہوتی تھیں، جیسے درختوں اور عمارتوں وغیرہ کی، اس لئے کہ تورات سے معلوم ہوتا ہے کہ جانداروں کی تصویریں بنانا حضرت سلیمان ؑ کی شریعت میں بھی ناجائز تھا۔ ان عظیم الشان انعامات و احسانات کا شکر ادا کرتے رہو، محض زبان سے نہیں بلکہ عمل سے وہ کام کرو جن سے حق تعالیٰ کی شکر گزاری ٹپکتی ہو۔ بات یہ ہے کہ احسان تو خدا کم و بیش سب پر کرتا ہے لیکن پورے شکر گزار بندے بہت تھوڑے ہیں، جب تھوڑے ہیں تو قدر زیادہ ہوگی۔ لہٰذا کامل شکر گزار بن کر اپنی قدر و منزلت بڑھاؤ۔ یہ خطاب داؤد کے کنبے اور گھرانے کو ہے، کیونکہ علاوہ مستقل احسانات کے داؤد پر احسان من وجہ سب پر احسان۔ کہتے ہیں کہ داؤد ؑ نے تمام گھر والوں پر اوقات تقسیم کردیئے تھے۔ دن رات کے چوبیس گھنٹوں میں کوئی وقت ایسا نہ تھا جب ان کے گھر میں کوئی نہ کوئی شخص عبادت الٰہی میں مشغول نہ رہتا ہو۔
Ayah 34:14

فَلَمَّا قَضَیْنَا عَلَیْهِ الْمَوْتَ مَا دَلَّهُمْ عَلٰى مَوْتِهٖۤ اِلَّا دَآبَّةُ الْاَرْضِ تَاْكُلُ مِنْسَاَتَهٗ١ۚ فَلَمَّا خَرَّ تَبَیَّنَتِ الْجِنُّ اَنْ لَّوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ الْغَیْبَ مَا لَبِثُوْا فِی الْعَذَابِ الْمُهِیْنِؕ Open ayah 34:14 in the Quran reader

پھر جب ہم نے سلیمان کی موت کا فیصلہ کیا تو ان جنات کو ان کی موت کا پتہ کسی اور نے نہیں بلکہ زمین کے کیڑے نے دیا جو ان کے عصا کو کھا رہا تھا۔ (9) چنانچہ جب وہ گرپڑے تو جنات کو معلوم ہوا کہ اگر وہ غیب کا علم جانتے ہوتے تو اس ذلت والی تکلیف میں مبتلا نہ رہتے۔

9: حضرت سلیمان ؑ نے بیت المقدس کی تعمیر پر جنات کو مقرر کیا ہوا تھا یہ جنات طبعی طور پر سرکش تھے اور صرف حضرت سلیمان ؑ کی نگرانی میں کام کرتے تھے، اور اندیشہ تھا کہ حضرت سلیمان ؑ کی وفات کے بعد وہ کام کرنا چھوڑ دیں گے، اس لئے جب ان کی وفات کا وقت قریب آیا تو انہوں نے یہ تدبیر اختیار کی کہ جنات کی نگاہوں کے سامنے ایک عصا کے سہارے اپنی عبادت گاہ میں کھڑے ہوگئے، جو شفاف شیشے کی بنی ہوئی تھی، تاکہ جنات انہیں دیکھتے رہیں، اسی حالت میں ان کی وفات ہوگئی، لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے جسم کو عصا کے سہارے کھڑا رکھا، اور جنات یہ سمجھتے رہے کہ وہ زندہ ہیں، یہاں تک کہ انہوں نے تعمیر کا کام مکمل کرلیا، پھر اللہ تعالیٰ نے اس عصا پر دیمک مسلط فرمادی جس نے عصا کو کھانا شروع کیا، عصا کمزور پڑگیا، اور حضرت سلیمان ؑ کا جسم گرپڑا، اس وقت جنات کو احساس ہوا کہ وہ اپنے آپ کو جو عالم الغیب سمجھتے تھے وہ کتنی غلط بات تھی اگر انہیں غیب کا پتہ ہوتا تو وہ اتنے دن تک غلط فہمی میں مبتلا رہ کر تعمیر کے کام کی تکلیف نہ اٹھاتے۔
Ayahs 34:15–17

لَقَدْ كَانَ لِسَبَاٍ فِیْ مَسْكَنِهِمْ اٰیَةٌ١ۚ جَنَّتٰنِ عَنْ یَّمِیْنٍ وَّ شِمَالٍ١ؕ۬ كُلُوْا مِنْ رِّزْقِ رَبِّكُمْ وَ اشْكُرُوْا لَهٗ١ؕ بَلْدَةٌ طَیِّبَةٌ وَّ رَبٌّ غَفُوْرٌ Open ayah 34:15 in the Quran reader

حقیقت یہ ہے کہ قوم سبا کے لیے خود اس جگہ ایک نشانی موجود تھی جہاں وہ رہا کرتے تھے۔ (10) دائیں اور بائیں دونوں طرف باغوں کے دو سلسلے تھے۔ اپنے پروردگار کا دیا ہوا رزق کھاؤ اور اس کا شکر بجا لاؤ، ایک تو شہر بہترین، دوسرے پروردگار بخشنے والا۔

فَاَعْرَضُوْا فَاَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ سَیْلَ الْعَرِمِ وَ بَدَّلْنٰهُمْ بِجَنَّتَیْهِمْ جَنَّتَیْنِ ذَوَاتَیْ اُكُلٍ خَمْطٍ وَّ اَثْلٍ وَّ شَیْءٍ مِّنْ سِدْرٍ قَلِیْلٍ Open ayah 34:16 in the Quran reader

پھر بھی انہوں نے (ہدایت سے) منہ موڑ لیا، اس لیے ہم نے ان پر بندو الا سیلاب چھوڑ دیا، اور ان کے دونوں طرف کے باغوں کو ایسے دو باغوں میں تبدیل کردیا جو بدمزہ پھلوں، جھاؤ کے درختوں اور تھوڑی سی بیریوں پر مشتمل تھے۔

ذٰلِكَ جَزَیْنٰهُمْ بِمَا كَفَرُوْا١ؕ وَ هَلْ نُجٰزِیْۤ اِلَّا الْكَفُوْرَ Open ayah 34:17 in the Quran reader

یہ سزا ہم نے ان کو اس لیے دی کہ انہوں نے ناشکری کی روش اختیار کی تھی، اور ایسی سزا ہم کسی اور کو نہیں، بڑے بڑے ناشکروں ہی کو دیا کرتے ہیں۔

10: قوم سبا یمن میں آباد تھی اور کسی زمانے میں وہ اپنے تہذیب و تمدن میں ممتاز حیثیت رکھتی تھی، جیسا کہ قرآن کریم نے بتایا ہے، ان کی زمینیں بڑی زرخیز تھیں، ان کی سڑکوں کے دونوں طرف پھل دار باغات کے سلسلے دور تک چلے گئے تھے، خوشحالی بھی میسر تھی، اور سیاسی استحکام بھی ؛ لیکن رفتہ رفتہ یہ لوگ اپنی عیاشیوں میں ایسے مگن ہوئے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے احکام کو بھول بیٹھے اور شرک کو اپنا مذہب بنالیا، اللہ تعالیٰ نے ان کے پاس کئی پیغمبر بھیجے، حافظ ابن کثیر کے بیان کے مطابق ان کے پاس یکے بعد دیگرے تیرہ پیغمبر بھیجے گئے، جنہوں نے اس قوم کو ہر طرح سمجھانے اور راہ راست پر لانے کی کوشش کی، مگر یہ نہ مانے، آخر کار ان پر جو عذاب آیا وہ یہ تھا کہ مآرب کے مقام پر ایک بند تھا جس کے پانی سے ان کی زمینیں سیراب ہوتی تھیں، اللہ تعالیٰ نے وہ بند توڑدیا اور اس طرح پوری بستی کو سیلاب نے گھیر لیا اور سارے باغات تباہ ہوگئے۔
Ayah 34:18

وَ جَعَلْنَا بَیْنَهُمْ وَ بَیْنَ الْقُرَى الَّتِیْ بٰرَكْنَا فِیْهَا قُرًى ظَاهِرَةً وَّ قَدَّرْنَا فِیْهَا السَّیْرَ١ؕ سِیْرُوْا فِیْهَا لَیَالِیَ وَ اَیَّامًا اٰمِنِیْنَ Open ayah 34:18 in the Quran reader

اور ہم نے ان کے اور ان بستیوں کے درمیان جن پر ہم نے برکتیں نازل کی ہیں، (11) ایسی بستیاں بسا رکھی تھیں جو دور سے نظر آتی تھیں، اور ان میں سفر کو نپے تلے مرحلوں میں بانٹ دیا تھا (12) (اور کہا تھا کہ) ان (بستیوں) کے درمیان راتیں ہوں یا دن، امن وامان کے ساتھ سفر کرو۔

11: اس سے مراد شام اور فلسطین کے علاقے ہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان علاقوں کو ظاہری حسن اور شادابی سے بھی نوازا ہے اور انبیاء کرام کی سر زمین ہونے کا بھی شرف عطا فرمایا ہے۔ 12: یہ اللہ تعالیٰ کے ایک اور انعام کا ذکر ہے جو سبا کی قوم پر فرمایا گیا تھا۔ یہ لوگ تجارتی مقاصد کے لیے یمن سے شام کا سفر کیا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی سہولت کے لیے یہ انتظام فرمایا تھا کہ یمن سے لے کر شام تک کے پورے علاقے میں تھوڑے تھوڑے فاصلے پر بستیاں بسائی تھیں جو سفر کے دوران تھوڑے تھوڑے وقفے سے نظر آتی رہتی تھیں۔ اس کا ایک فائدہ تو یہ تھا کہ سفر کو آسان مرحلوں میں تقسیم کیا جاسکتا تھا، اور مسافر جہاں چاہے، کھانے پینے اور سونے کے لیے ٹھہر سکتا تھا۔ اور دوسرا فائدہ یہ تھا کہ اس طرح بستیوں کے تسلسل کی وجہ سے نہ چوری ڈاکے کا خطرہ تھا۔ نہ راستہ بھٹک جانے کا، نہ کھانے پینے کے سامان کے ختم ہوجانے کا۔ لیکن بجائے اس کے کہ یہ لوگ اس نعمت کی قدر پہچان کر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے، انہوں نے الٹا اللہ تعالیٰ سے یہ کہنا شروع کردیا کہ بستیوں کے اس تسلسل کی وجہ سے ہمیں سفر کی مہم جوئی کا مزہ ہی نہیں آتا، اس لیے یہ بستیاں ختم کر کے منزلوں کا فاصلہ بڑھا دیجئے، تاکہ صحراؤں اور جنگلوں میں سفر کرنے کا لطف آئے۔
Ayah 34:19

فَقَالُوْا رَبَّنَا بٰعِدْ بَیْنَ اَسْفَارِنَا وَ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فَجَعَلْنٰهُمْ اَحَادِیْثَ وَ مَزَّقْنٰهُمْ كُلَّ مُمَزَّقٍ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍ Open ayah 34:19 in the Quran reader

اس پر وہ کہنے لگے کہ : ہمارے پروردگار ! ہمارے سفر کی منزلوں کے درمیان دور دور کے فاصلے پیدا کردے، اور یوں انہوں نے اپنی جانوں پر ستم ڈھایا، جس کے نتیجے میں ہم نے انہیں افسانہ ہی افسانہ بنادیا، اور انہیں ٹکڑے ٹکڑے کر کے بالکل تتر بتر کردیا۔ (13) یقینا اس واقعے میں ہر اس شخص کے لیے بڑی نشانیاں ہیں جو صبر و شکر کا خوگر ہو۔

13: یہ اللہ تعالیٰ کے ایک اور انعام کا ذکر ہے جو سبا کی قوم پر فرمایا گیا تھا، یہ لوگ تجارتی مقاصد کے لئے یمن سے شام کا سفر کیا کرتے تھے، اللہ تعالیٰ نے ان کی سہولت کے لئے یہ انتظام فرمایا تھا کہ یمن سے لے کر شام تک کے پورے علاقے میں تھوڑے تھوڑے فاصلے پر بستیاں بسائی تھیں، جو سفر کے دوران تھوڑے تھوڑے وقفے سے نظر آتی رہتی تھیں، اس کا ایک فائدہ تو یہ ہے کہ سفر کو آسان مرحلوں میں تقسیم کیا جاسکتا تھا اور مسافر جہاں چاہے کھانے پینے اور سونے کے لئے ٹھہر سکتا تھا، اور دوسرا فائدہ یہ تھا کہ اس طرح بستیوں کے تسلسل کی وجہ سے نہ چوری ڈاکے کا خطرہ تھا، نہ راستہ بھٹک جانے کا، نہ کھانے پینے کے سامان کے ختم ہوجانے کا ؛ لیکن بجائے اس کے کہ یہ لوگ اس نعمت کی قدر پہچان کر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے، انہوں نے الٹا اللہ تعالیٰ سے یہ کہنا شروع کردیا کہ بستیوں کے اس تسلسل کی وجہ سے ہمیں سفر کی مہم جوئی کا مزہ ہی نہیں آتا، اس لئے یہ بستیاں ختم کرکے منزلوں کا فاصلہ بڑھا دیجئے ؛ تاکہ صحراؤں اور جنگلوں میں سفر کرنے کا لطف آئے۔
Ayah 34:20

وَ لَقَدْ صَدَّقَ عَلَیْهِمْ اِبْلِیْسُ ظَنَّهٗ فَاتَّبَعُوْهُ اِلَّا فَرِیْقًا مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 34:20 in the Quran reader

اور واقعی ان لوگوں کے بارے میں ابلیس نے اپنا خیال درست پایا (14) چنانچہ یہ اسی کے پیچھے چل پڑے، سوائے اس گروہ کے جو مومن تھا۔

14: یعنی ابلیس نے حضرت آدم ؑ کی پیدائش کے وقت جو خیال ظاہر کیا تھا کہ میں آدم ؑ کی اولاد کو بہکاؤں گا، ان سرکش لوگوں کے حق میں وہ واقعی درست نکلا کہ انہوں نے اس کی بات مان لی۔
Ayahs 34:21–22

وَ مَا كَانَ لَهٗ عَلَیْهِمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ اِلَّا لِنَعْلَمَ مَنْ یُّؤْمِنُ بِالْاٰخِرَةِ مِمَّنْ هُوَ مِنْهَا فِیْ شَكٍّ١ؕ وَ رَبُّكَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ حَفِیْظٌ۠ Open ayah 34:21 in the Quran reader

اور ابلیس کو ان پر کوئی تسلط نہیں تھا، البتہ ہم (نے اس کو بہکانے کی صلاحیت اس لیے دی تھی کہ) ہم یہ دیکھنا چاہتے تھے کہ کون ہے جو آخرت پر ایمان لاتا ہے اور کون ہے جو اس کے بارے میں شک میں پڑا ہوا ہے۔ (15) اور تمہارا پروردگار ہر چیز پر نگران ہے۔

قُلِ ادْعُوا الَّذِیْنَ زَعَمْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ۚ لَا یَمْلِكُوْنَ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَ لَا فِی الْاَرْضِ وَ مَا لَهُمْ فِیْهِمَا مِنْ شِرْكٍ وَّ مَا لَهٗ مِنْهُمْ مِّنْ ظَهِیْرٍ Open ayah 34:22 in the Quran reader

(اے پیغمبر ! ان کافروں سے) کہو کہ پکارو ان کو جنہیں تم نے اللہ کے سوا خدا سمجھا ہوا ہے۔ وہ آسمانوں اور زمین میں ذرہ برابر کسی چیز کے مالک نہیں ہیں، نہ ان کو آسمان و زمین کے معاملات میں (اللہ کے ساتھ) کوئی شرکت حاصل ہے، اور نہ ان میں سے کوئی اللہ کا مددگار ہے۔

15: یعنی شیطان کو ہم نے کوئی ایسی طاقت نہیں دی تھی کہ وہ انسانوں پر زبردستی مسلط ہو کر ان کو نافرمانی پر مجبور کردے، البتہ اسے صرف بہکانے کی صلاحیت دی تھی، جس سے دل میں گناہ کی خواہش ضرور پیدا ہوجاتی ہے، مگر کوئی شخص گناہ اور نافرمانی پر مجبور نہیں ہوتا، اور اگر کوئی شخص عقل اور شریعت کے مطالبے پر ڈٹ جائے تو شیطان کچھ بھی نہیں کرسکتا اور یہ صلاحیت بھی اس کو اس لئے دی گئی ہے کہ اس کے ذریعے انسانوں کی آزمائش بھی مقصود تھی کہ کون ہے جو آخرت کی زندگی کو پیش نظر رکھ کر شیطان کی بات رد کردیتا ہے اور کون اسے مان لیتا ہے۔
Ayahs 34:23–32

وَ لَا تَنْفَعُ الشَّفَاعَةُ عِنْدَهٗۤ اِلَّا لِمَنْ اَذِنَ لَهٗ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوْبِهِمْ قَالُوْا مَا ذَا١ۙ قَالَ رَبُّكُمْ١ؕ قَالُوا الْحَقَّ١ۚ وَ هُوَ الْعَلِیُّ الْكَبِیْرُ Open ayah 34:23 in the Quran reader

اور اللہ کے سامنے کوئی سفارش کارآمد نہیں ہے، سوائے اس شخص کے جس کے لیے خود اس نے (سفارش کی) اجازت دے دی ہو، یہاں تک کہ جب ان کے دلوں سے گھبراہٹ دور کردی جاتی ہے تو وہ کہتے ہیں کہ : تمہارے رب نے کیا فرمایا ؟ وہ جواب دیتے ہیں کہ : حق بات ارشاد فرمائی اور وہی ہے جو بڑا عالیشان ہے۔ (16)

قُلْ مَنْ یَّرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ قُلِ اللّٰهُ١ۙ وَ اِنَّاۤ اَوْ اِیَّاكُمْ لَعَلٰى هُدًى اَوْ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 34:24 in the Quran reader

کہو کہ کون ہے جو تمہیں آسمانوں سے اور زمین سے رزق دیتا ہے ؟ کہو : وہ اللہ ہے ! اور ہم ہوں یا تم، یا تو ہدایت پر ہیں یا کھلی گمراہی میں مبتلا ہیں۔

قُلْ لَّا تُسْئَلُوْنَ عَمَّاۤ اَجْرَمْنَا وَ لَا نُسْئَلُ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 34:25 in the Quran reader

کہو کہ : ہم نے جو جرم کیا ہو، اس کے بارے میں تم سے نہیں پوچھا جائے گا، اور تم جو عمل کرتے ہو، اس کے بارے میں ہم سے سوال نہیں ہوگا۔

قُلْ یَجْمَعُ بَیْنَنَا رَبُّنَا ثُمَّ یَفْتَحُ بَیْنَنَا بِالْحَقِّ١ؕ وَ هُوَ الْفَتَّاحُ الْعَلِیْمُ Open ayah 34:26 in the Quran reader

کہو کہ : ہمارا پروردگار ہم سب کو جمع کرے گا، پھر ہمارے درمیان برحق فیصلہ کرے گا، اور وہی ہے جو خوب فیصلے کرنے والا، مکمل علم کا مالک ہے۔

قُلْ اَرُوْنِیَ الَّذِیْنَ اَلْحَقْتُمْ بِهٖ شُرَكَآءَ كَلَّا١ؕ بَلْ هُوَ اللّٰهُ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 34:27 in the Quran reader

کہو کہ : ذرا مجھے دکھاؤ وہ کون ہیں جنہیں تم نے شریک بنا کر اللہ سے جوڑ رکھا ہے۔ ہرگز نہیں ! (اس کا کوئی شریک نہیں ہے) بلکہ وہ اللہ ہے جس کا اقتدار بھی کامل ہے، جس کی حکمت بھی کامل

وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا كَآفَّةً لِّلنَّاسِ بَشِیْرًا وَّ نَذِیْرًا وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 34:28 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر) ہم نے تمہیں سارے ہی انسانوں کے لیے ایسا رسول بنا کر بھیجا ہے جو خوشخبری بھی سنائے اور خبردار بھی کرے، لیکن اکثر لوگ سمجھ نہیں رہے ہیں۔

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 34:29 in the Quran reader

اور (تم سے) کہتے ہیں کہ : اگر تم سچے ہو تو یہ (قیامت کا) وعدہ کب پورا ہوگا ؟

قُلْ لَّكُمْ مِّیْعَادُ یَوْمٍ لَّا تَسْتَاْخِرُوْنَ عَنْهُ سَاعَةً وَّ لَا تَسْتَقْدِمُوْنَ۠ Open ayah 34:30 in the Quran reader

کہہ دو کہ : تمہارے لیے ایک ایسے دن کی میعاد مقرر ہے جس سے تم گھڑی برابر نہ پیچھے ہٹ سکتے ہو نہ آگے جاسکتے ہو۔

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ بِهٰذَا الْقُرْاٰنِ وَ لَا بِالَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْهِ١ؕ وَ لَوْ تَرٰۤى اِذِ الظّٰلِمُوْنَ مَوْقُوْفُوْنَ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ۖۚ یَرْجِعُ بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضِ اِ۟لْقَوْلَ١ۚ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا لِلَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْا لَوْ لَاۤ اَنْتُمْ لَكُنَّا مُؤْمِنِیْنَ Open ayah 34:31 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے کفر اپنا لیا ہے وہ کہتے ہیں کہ : ہم نہ تو اس قرآن پر کبھی ایمان لائیں گے اور نہ ان (آسمانی کتابوں) پر جو اس سے پہلے ہوئی ہیں۔ اور اگر تم اس وقت کا منظر دیکھو جب یہ ظالم لوگ اپنے پروردگار کے سامنے کھڑے کییے جائیں گے تو یہ ایک دوسرے پر بات ڈال رہے ہوں گے۔ جن لوگوں کو (دنیا میں) کمزور سمجھا گیا تھا وہ ان سے کہیں گے جو بڑے بنے ہوئے تھے کہ : اگر تم نہ ہوتے تو ہم ضرور مومن بن جاتے۔

قَالَ الَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْا لِلَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْۤا اَنَحْنُ صَدَدْنٰكُمْ عَنِ الْهُدٰى بَعْدَ اِذْ جَآءَكُمْ بَلْ كُنْتُمْ مُّجْرِمِیْنَ Open ayah 34:32 in the Quran reader

جو بڑے بنے ہوئے تھے ان سے کہیں گے جنہیں کمزور سمجھا گیا تھا کہ : کیا ہم نے تمہیں ہدایت سے روکا تھا جبکہ وہ تمہارے پاس آچکی تھی ؟ اصل بات یہ ہے کہ تم خود مجرم تھے۔

16: آیت نمبر : 22۔ 23 میں مشرکین کے مختلف عقیدوں کی تردید کی گئی ہے، ان میں سے بعض مشرکین تو وہ تھے کہ وہ اپنے تراشے ہوئے بتوں ہی کو اپنا خدا مانتے تھے، اور انہی کے بارے میں یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ وہ براہ راست ہماری حاجتیں پوری کرتے ہیں، ان کی تردید کے لئے آیت 22 میں فرمایا گیا ہے کہ : وہ آسمانوں اور زمین میں ذرہ برابر کسی چیز کے مالک نہیں ہیں، نہ ان کو آسمان و زمین کے معاملات میں (اللہ کے ساتھ) کوئی شرکت حاصل ہے، اور بعض مشرکین کا یہ عقیدہ تھا کہ یہ بت اللہ تعالیٰ کے کاموں میں اس کے مددگار ہیں، ان کی تردید کے لئے اسی آیت میں فرمایا گیا ہے کہ : اور نہ ان میں سے کوئی اللہ کا مددگار ہے، اور بعض مشرکین ان کو خدائی میں اللہ تعالیٰ کا شریک یا مددگار نہیں مانتے تھے ؛ لیکن یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حضور ہماری سفارش کریں گے، ان کی تردید کے لئے آیت 23 میں فرمایا گیا ہے کہ : اور اللہ کے سامنے کوئی سفارش کارآمد نہیں ہے، سوائے اس شخص کے جس کے لئے خود اس نے (سفارش کی) اجازت دے دی ہو، جس کا مطلب یہ ہے کہ تم ان بتوں کے بارے میں یہ سمجھتے ہو کہ ان کو اللہ تعالیٰ کے یہاں تقرب اور مقبولیت حاصل ہے، جس کی وجہ سے ان کو سفارش کرنے کی صلاحیت ہے، کیونکہ جن کو واقعی اللہ تعالیٰ کا تقرب حاصل ہے یعنی فرشتے وہ بھی اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر کسی کی سفارش نہیں کرسکتے، پھر آگے یہ فرمایا گیا ہے کہ ان فرشتوں کا حال تو یہ ہے کہ وہ ہر وقت اللہ تعالیٰ کے رعب سے سہمے رہتے ہیں، یہاں تک کہ جب انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی حکم ملتا ہے یا سفارش کی اجازت ملتی ہے تو وہ رعب کے مارے گھبراہٹ میں مدہوش جیسے ہوجاتے ہیں، پھر جب ان کی گھبراہٹ دور ہوتی ہے تو وہ ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے کیا فرمایا ؟ اس کے بعد اس پر عمل کرتے ہیں، جب ان مقرب فرشتوں کا یہ حال ہے تو یہ تراشے ہوئے بت جنہیں کسی قسم کا تقرب حاصل نہیں وہ کیسے اللہ تعالیٰ سے کسی کی سفارش کرسکتے ہیں ؟
Ayahs 34:33–35

وَ قَالَ الَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا لِلَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْا بَلْ مَكْرُ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ اِذْ تَاْمُرُوْنَنَاۤ اَنْ نَّكْفُرَ بِاللّٰهِ وَ نَجْعَلَ لَهٗۤ اَنْدَادًا١ؕ وَ اَسَرُّوا النَّدَامَةَ لَمَّا رَاَوُا الْعَذَابَ١ؕ وَ جَعَلْنَا الْاَغْلٰلَ فِیْۤ اَعْنَاقِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ هَلْ یُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 34:33 in the Quran reader

اور جنہیں کمزور سمجھا گیا تھا وہ ان سے کہیں گے جو بڑے بنے ہوئے تھے کہ : نہیں، یہ تمہاری رات دن کی مکاری ہی تو تھی (جس نے ہمیں روکا تھا) جب تم ہمیں تاکید کرتے تھے کہ ہم اللہ سے کفر کا معاملہ کریں، اور اس کے ساتھ (دوسروں کو) شریک مانیں۔ اور یہ سب جب عذاب کو دیکھ لیں گے تو اپنا پچھتاوا چھپا رہے ہوں گے۔ (17) اور جن جن لوگوں نے کفر اختیار کیا تھا ہم ان سب کے گلوں میں طوق ڈال دیں گے۔ ان کو کسی اور بات کا نہیں، انہی اعمال کا بدلہ دیا جائے گا جو وہ کیا کرتے تھے۔

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا فِیْ قَرْیَةٍ مِّنْ نَّذِیْرٍ اِلَّا قَالَ مُتْرَفُوْهَاۤ١ۙ اِنَّا بِمَاۤ اُرْسِلْتُمْ بِهٖ كٰفِرُوْنَ Open ayah 34:34 in the Quran reader

اور جس کسی بستی میں ہم نے کوئی خبردار کرنے والا پیغمبر بھیجا، اس کے خوش حال لوگوں نے یہی کہا کہ : جس پیغام کے ساتھ تمہیں بھیجا گیا ہے ہم اس کو ماننے سے انکار کرتے ہیں۔

وَ قَالُوْا نَحْنُ اَكْثَرُ اَمْوَالًا وَّ اَوْلَادًا١ۙ وَّ مَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِیْنَ Open ayah 34:35 in the Quran reader

اور کہا کہ : ہم مال اور اولاد میں تم سے زیادہ ہیں اور ہمیں عذاب ہونے والا نہیں ہے۔

17: یعنی ظاہر میں تو ایک دوسرے کو الزام دے رہے ہوں گے، لیکن دل میں سمجھتے ہوں گے کہ در اصل جرم میں ہم سب شریک ہیں، اس لیے دل ہی دل میں پچھتا رہے ہوں گے۔
Ayahs 34:36–40

قُلْ اِنَّ رَبِّیْ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 34:36 in the Quran reader

کہہ دو کہ : میرا پروردگار ! جس کے لیے چاہتا ہے رزق کی فراوانی کردیتا ہے اور (جس کے لیے چاہتا ہے) تنگی کردیتا ہے، لیکن اکثر لوگ اس بات کو سمجھتے نہیں ہیں۔ (18)

وَ مَاۤ اَمْوَالُكُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُكُمْ بِالَّتِیْ تُقَرِّبُكُمْ عِنْدَنَا زُلْفٰۤى اِلَّا مَنْ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا١٘ فَاُولٰٓئِكَ لَهُمْ جَزَآءُ الضِّعْفِ بِمَا عَمِلُوْا وَ هُمْ فِی الْغُرُفٰتِ اٰمِنُوْنَ Open ayah 34:37 in the Quran reader

اور نہ تمہارے مال تمہیں اللہ کا قرب عطا کرتے ہیں اور نہ تمہاری اولاد۔ ہاں مگر جو ایمان لائے اور نیک عمل کرے تو ایسے لوگوں کو ان کے عمل کا دوہرا ثواب ملے گا، اور وہ (جنت کے) بالاخانوں میں چین کریں گے۔

وَ الَّذِیْنَ یَسْعَوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِنَا مُعٰجِزِیْنَ اُولٰٓئِكَ فِی الْعَذَابِ مُحْضَرُوْنَ Open ayah 34:38 in the Quran reader

اور جو لوگ ہماری آیتوں کے بارے میں یہ کوشش کرتے ہیں کہ ان کو ناکام بنائیں، ان کو عذاب میں دھر لیا جائے گا۔

قُلْ اِنَّ رَبِّیْ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ وَ یَقْدِرُ لَهٗ١ؕ وَ مَاۤ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ شَیْءٍ فَهُوَ یُخْلِفُهٗ١ۚ وَ هُوَ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ Open ayah 34:39 in the Quran reader

کہہ دو کہ : میرا پروردگار اپنے بندوں میں سے جس کے لیے چاہتا ہے رزق کی فراوانی کردیتا ہے، اور (جس کے لیے چاہتا ہے) تنگی کردیتا ہے۔ اور تم جو چیز بھی خرچ کرتے ہو وہ اس کی جگہ اور چیز دے دیتا ہے، اور وہی سب سے بہتر رزق دینے والا ہے۔

وَ یَوْمَ یَحْشُرُهُمْ جَمِیْعًا ثُمَّ یَقُوْلُ لِلْمَلٰٓئِكَةِ اَهٰۤؤُلَآءِ اِیَّاكُمْ كَانُوْا یَعْبُدُوْنَ Open ayah 34:40 in the Quran reader

اور وہ دن نہ بھولو جب اللہ ان سب کو جمع کرے گا، پھر فرشتوں سے کہے گا کہ : کیا یہ لوگ واقعی تمہاری عبادت کیا کرتے تھے ؟

18: اصل بات نہ سمجھنے کی وجہ سے انہیں یہ خیال ہوگیا ہے کہ جب دنیا میں انہیں مال و دولت میسر ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے مقرب بندے ہیں، حالانکہ دنیا میں رزق دینے کا معیار اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ نہیں ہے کہ جو جتنا مقرب ہو، اسے اتنا ہی زیادہ رزق دیا جائے، بلکہ اللہ تعالیٰ اپنی مشیت اور حکمت کے تحت یہاں جس کو چاہتا ہے، رزق زیادہ دیتا ہے، اس کا اللہ تعالیٰ کے تقرب سے کوئی تعلق نہیں ہے۔