33. Surah Al-Ahzaab

الأحزابThe Clans · 73 ayahsآسان قرآن

تعارف

تعارف

تعارف سورة الاحزاب یہ سورت حضور سرور دوعالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مدینہ منورہ ہجرت فرمانے کے بعد چوتھے اور پانچویں سال کے درمیان نازل ہوئی ہے، اس کے پس منظر میں چار واقعات خصوصی اہمیت رکھتے ہیں جن کا حوالہ اس سورت میں آیا ہے، ان چار واقعات کا مختصر تعارف درج ذیل ہے، تفصیلات انشاء اللہ متعلقہ آیتوں کی تشریح میں آگے آئیں گے۔ پہلا واقعہ جنگ احزاب کا ہے، جس کے نام پر اس سورت کا نام رکھا گیا ہے، بدر واحد کی ناکامیوں کے بعد قریش کے لوگوں نے عرب کے دوسرے قبائل کو بھی آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خلاف اکسایا، اور ان کا ایک متحدہ محاذ بناکر مدینہ منورہ پر حملہ کیا، آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت سلمان فارسی (رض) کے مشورے پر مدینہ منورہ کے دفاع کے لئے شہر کے گرد ایک حندق کھودی تاکہ دشمن اسے عبور کرکے شہر تک نہ پہنچ سکے، اسی لئے اس جنگ کو جنگ خندق بھی کہا جاتا ہے، اس جنگ کے اہم واقعات اس سورت میں بیان ہوئے ہیں، اور اس موقع پر مسلمانوں کو جس شدید آزمائش سے گزرنا پڑا، اس کی تفصیل بھی بیان فرمائی گئی ہے۔ دوسرا اہم واقعہ جنگ قریظہ کا ہے، قریظہ یہودیوں کا ایک قبیلہ تھا جو مدینہ منورہ کے مضافات میں آباد تھا، آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہجرت کے بعد ان سے امن کا ایک معاہدہ کیا تھا جس کا ایک حصہ یہ بھی تھا کہ مسلمان اور یہودی ایک دوسرے کے دشمنوں کی مدد نہیں کریں گے، لیکن قریظہ کے یہودیوں نے معاہدے کی دوسری خلاف ورزیوں کے علاوہ جنگ احزاب کے نازک موقع پر خفیہ ساز باز کرکے پیچھے سے مسلمانوں کی پشت میں خنجر گھونپنا چاہا، اس لئے جنگ احزاب سے فراغت کے بعد اللہ تعالیٰ کا حکم ہوا کہ فوراً قریظہ پر حملہ کرکے ان آستین کے سانپوں کا قلع قمع فرمائیں، چنانچہ آپ نے ان کا محاصرہ فرمایا، جس کے نتیجے میں ان کے بہت سے افراد قتل ہوئے اور بہت سے گرفتار، اس واقعے کی بھی تفصیل اس سورت میں آئی ہے۔ تیسرا اہم واقعہ یہ تھا کہ اہل عرب جب کسی کو اپنا منہ بولا بیٹا بنالیتے تو اسے ہر معاملے میں سگے بیٹے کا درجہ دیتے تھے، یہاں تک کہ وہ میراث بھی پاتا تھا، اور اس کے منہ بولے باپ کے لئے جائز نہیں سمجھا جاتا تھا کہ وہ اس کی بیوہ یا مطلقہ بیوی سے نکاح کرے، بلکہ اس کو بدترین معیوب عمل سمجھا جاتا تھا، حالانکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی کوئی ممانعت نہیں تھی، عرب کی یہ جاہلانہ رسمیں دلوں میں ایسا گھر کرگئی تھیں کہ ان کا خاتمہ صرف زبانی نصیحت سے نہیں ہوسکتا تھا، اس لئے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایسی رسموں کا خاتمہ کرنے کے لئے سب سے پہلے خود علی الاعلان ان رسموں کے خلاف عمل فرمایا تاکہ یہ بات واضح ہوجائے کہ اگر اس کام میں ذرا بھی کوئی خرابی ہوتی تو آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے پاس بھی نہ جاتے، اس کی بہت سی مثالیں آپ کی سیرت طیبہ میں موجود ہیں، منہ بولے بیٹے کے بارے میں جو رسم تھی، اس کے سد باب کے لئے بھی اللہ تعالیٰ نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حکم دیا کہ آپ اپنے ایک منہ بولے بیٹے حضرت زید بن حارثہ (رض) کی مطلقہ بیوی حضرت زینب بنت جحش (رض) سے نکاح فرمائیں، واضح رہے کہ حضرت زینب آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی پھوپی کی بیٹی تھیں، اور حضرت زید (رض) سے ان کا نکاح خود آپ نے کروایا تھا، اس لئے اگرچہ اب ان سے نکاح کرنا آپ کے لئے صبر آزما عمل تھا ؛ لیکن آپ نے اللہ تعالیٰ کے حکم اور دینی مصلحت کے آگے سر جھکادیا، اور ان سے نکاح کرلیا، اسی نکاح کے ولیمے میں حجاب (پردے) کے احکام پر مشتمل آیات نازل ہوئیں جو اس سورت کا حصہ ہیں۔ چوتھا واقعہ یہ ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ازواج مطہرات نے اگرچہ ہر طرح کے سرد گرم حالات میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا بھر پور ساتھ دیا، لیکن جب آپ کے پاس مختلف فتوحات کے نتیجے میں مالی طور پر وسعت ہوئی تو انہوں نے اپنے نفقے میں اضافے کا مطالبہ کردیا، یہ مطالبہ عام حالات میں کسی بھی طرح کوئی ناجائز مطالبہ نہیں تھا لیکن پیغمبر اعظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زوجیت کا شرف رکھنے والی ان مقدس خواتین کا مقام بلند اس قسم کے مطالبات سے بالاتر تھا۔ اس لئے اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے ازواج مطہرات کو یہ اختیار دیا ہے کہ اگر وہ دنیا کی زیب وزینت چاہتی ہیں تو آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) انہیں اعزاز و اکرام کے ساتھ علیحدہ کرنے کو تیار ہیں، اور اگر وہ پیغمبر اعظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مشن کی ساتھی ہیں اور آخرت کے انعامات کی طلب گار ہیں تو پھر اس قسم کے مطالبے ان کو زیب نہیں دیتے۔ چونکہ حضرت زینب (رض) سے نکاح کے واقعے پر کفار اور منافقین نے آپ کے خلاف اعتراضات کئے تھے، اس لئے اسی سورت میں حضور سرور عالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا مقام بلند بتایا گیا ہے، اور آپ کی تعظیم و تکریم اور اطاعت کا حکم دے کر یہ واضح فرمایا گیا ہے کہ آپ جیسی عظیم شخصیت پر نادانوں کے یہ اعتراضات آپ کے مقام بلند میں ذرہ برابر کمی نہیں کرسکتے، اس کے علاوہ ازواج مطہرات (رض) کے ساتھ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے طرز عمل اور اس سے متعلق بعض تفصیلات بھی اس سورت میں بیان ہوئی ہیں۔

Ayahs 33:1–3

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اتَّقِ اللّٰهَ وَ لَا تُطِعِ الْكٰفِرِیْنَ وَ الْمُنٰفِقِیْنَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیْمًا حَكِیْمًاۙ Open ayah 33:1 in the Quran reader

اے نبی ! اللہ سے ڈرتے رہو، اور کافروں اور منافقوں کا کہنا مت مانو۔ (1) بیشک اللہ بہت علم والا، بڑا حکمت والا ہے۔

وَّ اتَّبِعْ مَا یُوْحٰۤى اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًاۙ Open ayah 33:2 in the Quran reader

اور تمہارے پروردگار کی طرف سے تم پر جو وحی بھیجی جارہی ہے اس کی پیروی کرو، تم جو کچھ کرتے ہو، اللہ یقینی طور پر اسے پوری طرح باخبر ہے۔

وَّ تَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ وَكِیْلًا Open ayah 33:3 in the Quran reader

اور اللہ پر بھروسہ رکھو اور کام بنانے کے لیے اللہ بالکل کافی ہے۔

1: بعض اوقات کچھ کافر لوگ حضور اقدس ﷺ سے مختلف قسم کی تجویزیں پیش کرتے تھے کہ اگر آپ ہماری فلاں بات مان لیں تو ہم آپ کی بات مان لیں گے، بعض منافقین بھی ان کی تائید کرتے کہ یہ اچھی تجویز ہے، اور اس پر عمل کرنے سے بڑی تعداد میں لوگوں کی حمایت حاصل ہوسکتی ہے، حالانکہ وہ تجویز ایمان کے تقاضوں کے خلاف ہوتی تھی، اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو اطمینان دلایا ہے کہ ایسی تجویزوں پر کان دھرنے کے بجائے اپنے کام میں لگے رہئیے اور اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھئے، وہ خود ہی سارے معاملات ٹھیک کردے گا۔
Ayah 33:4

مَا جَعَلَ اللّٰهُ لِرَجُلٍ مِّنْ قَلْبَیْنِ فِیْ جَوْفِهٖ١ۚ وَ مَا جَعَلَ اَزْوَاجَكُمُ الّٰٓئِیْ تُظٰهِرُوْنَ مِنْهُنَّ اُمَّهٰتِكُمْ١ۚ وَ مَا جَعَلَ اَدْعِیَآءَكُمْ اَبْنَآءَكُمْ١ؕ ذٰلِكُمْ قَوْلُكُمْ بِاَفْوَاهِكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یَقُوْلُ الْحَقَّ وَ هُوَ یَهْدِی السَّبِیْلَ Open ayah 33:4 in the Quran reader

اللہ نے کسی بھی شخص کے سینے میں دو دل پیدا نہیں کیے (2) اور تم اپنی جن بیویوں کو ماں کی پشت سے تشبیہ دیتے ہو ان کو تمہاری ماں نہیں بنایا (3) اور نہ تمہارے منہ بولے بیٹوں کو تمہارا حقیقی بیٹا قرار دیا ہے۔ یہ تو باتیں ہی باتیں ہیں جو تم اپنے منہ سے کہہ دیتے ہو، اور اللہ وہی بات کہتا ہے جو حق ہو، اور وہی صحیح راستہ بتلاتا ہے۔

2: اس معجزانہ جملے کا تعلق پچھلی آیت سے بھی ہے، اور اگلی آیت سے بھی۔ پچھلی آیت سے اس کا تعلق یہ ہے کہ کافر اور منافق لوگ آپ کو یہ تجویز پیش کر رہے ہیں کہ آپ اللہ تعالیٰ کو بھی خوش رکھئے، اور ان کے مطالبات مان کر ان کو بھی خوش کر دیجئے، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے انسان کے سینے میں ایک ہی دل پیدا فرمایا ہے، اور جب وہ اللہ تعالیٰ کا ہو رہے تو پھر اس کی مرضی کے خلاف کسی اور کو خوش رکھنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، یہ ممکن نہیں ہے کہ انسان ایک دل اللہ تعالیٰ کو دیدے، اور دوسرا دل کسی اور کو۔ اور اگلی آیت سے اس کا تعلق یہ ہے کہ اہل عرب میں یہ رسم تھی کہ کوئی شخص اپنی بیوی کو یہ کہہ دیتا تھا کہ : تم میرے لیے ایسی ہو جیسے میری ماں کی پشت اور یہ کہنے کے بعد وہ بیوی کو ماں کی طرح حرام سمجھتا تھا، اسی طرح جب کوئی کسی کو منہ بولا بیٹا بنا لیتا تو اسے اپنا سگا بیٹا ہی سمجھ لیتا تھا، اور اس پر میراث وغیرہ میں بھی ویسے ہی احکام جاری کرتا تھا، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جس طرح ایک انسان کے سینے میں دو دل نہیں ہوسکتے، اسی طرح انسان کی دو مائیں نہیں ہوسکتیں۔ اور نہ دو قسم کے بیٹے ہوسکتے ہیں کہ ایک انسان کی اپنی صلب سے پیدا ہو، اور دوسرا زبانی اعلان سے بیٹا بن جائے۔ 3: اس کو اصطلاح میں ”ظہار“ کہتے ہیں، اور آگے سورة مجادلہ میں اس کی تفصیل آنے والی ہے۔
Ayah 33:5

اُدْعُوْهُمْ لِاٰبَآئِهِمْ هُوَ اَقْسَطُ عِنْدَ اللّٰهِ١ۚ فَاِنْ لَّمْ تَعْلَمُوْۤا اٰبَآءَهُمْ فَاِخْوَانُكُمْ فِی الدِّیْنِ وَ مَوَالِیْكُمْ١ؕ وَ لَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ فِیْمَاۤ اَخْطَاْتُمْ بِهٖ١ۙ وَ لٰكِنْ مَّا تَعَمَّدَتْ قُلُوْبُكُمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 33:5 in the Quran reader

تم ان (منہ بولے بیٹوں) کو ان کے اپنے باپوں کے نام سے پکارا کرو۔ (4) یہی طریقہ اللہ کے نزدیک پورے انصاف کا ہے۔ اور اگر تمہیں ان کے باپ معلوم نہ ہوں تو وہ تمہارے دینی بھائی اور تمہارے دوست ہیں۔ (5) اور تم سے جو غلطی ہوجائے اس کی وجہ سے تم پر کوئی گناہ نہیں ہوگا، البتہ جو بات تم اپنے دلوں سے جان بوجھ کر کرو، (اس پر گناہ ہے) بیشک اللہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔ (6)

4: یعنی اس میں تو کوئی حرج نہیں ہے کہ تم اپنے منہ بولے بیٹے کے ساتھ محبت اور حسن سلوک میں بیٹے جیسا معاملہ کرو ؛ لیکن اس کی ولدیت بتانے کی ضرورت پیش آئے تو اس کو اپنی طرف منسوب کرنے کے بجائے اس کی صحیح ولدیت بتاؤ۔ 5: مطلب یہ ہے کہ اگر منہ بولے بیٹے کی صحیح ولدیت معلوم نہ ہو تب بھی اسے اپنی طرف منسوب کرنے کے بجائے اسے اپنا بھائی یا اپنا ہم قبیلہ دوست کہو۔ 6: بھول چوک میں یا مجازی طور پر منہ بولے بیٹے کو بیٹا کہہ دینے کو اللہ تعالیٰ نے معاف فرمایا ہے، البتہ جب سنجیدگی سے ولدیت بتائی جائے، اس وقت اسے اپنا بیٹا ظاہر کرنا درست نہیں۔
Ayah 33:6

اَلنَّبِیُّ اَوْلٰى بِالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ اَنْفُسِهِمْ وَ اَزْوَاجُهٗۤ اُمَّهٰتُهُمْ١ؕ وَ اُولُوا الْاَرْحَامِ بَعْضُهُمْ اَوْلٰى بِبَعْضٍ فِیْ كِتٰبِ اللّٰهِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُهٰجِرِیْنَ اِلَّاۤ اَنْ تَفْعَلُوْۤا اِلٰۤى اَوْلِیٰٓئِكُمْ مَّعْرُوْفًا١ؕ كَانَ ذٰلِكَ فِی الْكِتٰبِ مَسْطُوْرًا Open ayah 33:6 in the Quran reader

ایمان والوں کے لیے یہ نبی ان کی اپنی جانوں سے بھی زیادہ قریب تر ہیں، اور ان کی بیویاں ان کی مائیں ہیں۔ اس کے باوجود اللہ کی کتاب کے مطابق پیٹ کے رشتہ دارو دوسرے مومنوں اور مہاجرین کے مقابلے میں ایک دوسرے پر (میراث کے معاملے میں) زیادہ حق رکھتے ہیں (7) الا یہ کہ تم اپنے دوستوں (کے حق میں کوئی وصیت کر کے ان) کے ساتھ کوئی نیکی کرلو۔ یہ بات کتاب میں لکھی ہوئی ہے۔

7: یہاں اللہ تعالیٰ نے یہ حقیقت بیان فرمائی ہے کہ اگرچہ حضور نبی کریم ﷺ تمام مسلمانوں کو اپنی جان سے زیادہ عزیز ہیں، اور آپ کی ازواج مطہرات کو سب مسلمان اپنی ماں سمجھتے ہیں، لیکن اس وجہ سے آنحضرت ﷺ اور آپ کی ازواج مطہرات کو میراث کے معاملے میں کسی مسلمان کے اپنے رشتہ داروں پر فوقیت حاصل نہیں ہوئی، چنانچہ جب کسی کا انتقال ہوتا ہے تو اس کی میراث اس کے قریبی رشتہ داروں میں تقسیم ہوتی ہے، آنحضرت ﷺ یا آپ کی ازواج مطہرات کو اس میں سے کوئی حصہ نہیں دیا جاتا، حالانکہ دینی اعتبار سے آپ اور آپ کی ازواج مطہرات دوسرے رشتہ داروں سے زیادہ حق رکھتی ہیں۔ جب آنحضرت ﷺ اور آپ کی ازواج مطہرات کو ان کے دینی رشتے کے باوجود میراث میں شریک کیا گیا تو منہ بولے بیٹے کو محض زبان سے بیٹا کہہ دینے کی بنا پر میراث میں کیسے شریک کیا جاسکتا ہے ؟ البتہ اگر ان کے ساتھ نیکی کا ارادہ ہو تو ان کے لیے اپنے ترکے کے تہائی حصے کی حد تک کوئی وصیت کی جاسکتی ہے۔
Ayah 33:7

وَ اِذْ اَخَذْنَا مِنَ النَّبِیّٖنَ مِیْثَاقَهُمْ وَ مِنْكَ وَ مِنْ نُّوْحٍ وَّ اِبْرٰهِیْمَ وَ مُوْسٰى وَ عِیْسَى ابْنِ مَرْیَمَ١۪ وَ اَخَذْنَا مِنْهُمْ مِّیْثَاقًا غَلِیْظًاۙ Open ayah 33:7 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر) وہ وقت یاد رکھو جب ہم نے تمام نبیوں سے عہد لیا تھا اور تم سے بھی، اور نوح اور ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ ابن مریم سے بھی۔ اور ہم نے ان سے نہایت پختہ عہد لیا تھا۔ (8)

8: پیچھے جو حقیقت بیان فرمائی تھی کہ نبی ہر مومن کے لئے اپنی جان سے بھی زیادہ قربت کا مقام رکھتے ہیں، اس کی وجہ اس آیت میں بیان فرمائی ہے کہ ان کی ذمہ داری بڑی سخت ہے ؛ کیونکہ ان سے بڑا سخت عہد لیا گیا تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے احکام کو ٹھیک ٹھیک لوگوں تک پہنچا کر ان کی ہدایت کا سبب بنیں گے۔
Ayah 33:8

لِّیَسْئَلَ الصّٰدِقِیْنَ عَنْ صِدْقِهِمْ١ۚ وَ اَعَدَّ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابًا اَلِیْمًا۠ Open ayah 33:8 in the Quran reader

تاکہ اللہ سچے لوگوں سے ان کی سچائی کے بارے میں پوچھے (9) اور اس نے کافروں کے لیے تو ایک دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔

9: یہ عہد اس واسطے لیا گیا تھا کہ لوگوں تک اللہ تعالیٰ کا پیغام ٹھیک ٹھیک پہنچ جائے، اور ان پر حجت تمام ہوجائے، اور پھر اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ان سے پوچھ گچھ کرے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں کس قدر سچائی سے کام لیا، اگر انبیاء کرام اپنے عہد کے مطابق اللہ تعالیٰ کا پیغام ان تک ٹھیک ٹھیک نہ پہنچاتے تو ان پر حجت قائم نہ ہوتی، اور نہ اللہ تعالیٰ ان سے باز پرس فرماتا، کیونکہ حجت تمام کئے بغیر کسی سے باز پرس کرنا اس کے انصاف کے خلاف ہے۔
Ayah 33:9

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ اِذْ جَآءَتْكُمْ جُنُوْدٌ فَاَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ رِیْحًا وَّ جُنُوْدًا لَّمْ تَرَوْهَا١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرًاۚ Open ayah 33:9 in the Quran reader

اے ایمان والو ! یاد کرو اللہ نے اس وقت تم پر کیسا انعام کیا جب تم پر بہت سے لشکر چڑھ آئے تھے، پھر ہم نے ان پر ایک آندھی بھی بھیجی، اور ایسے لشکر بھی جو تمہیں نظر نہیں آتے تھے۔ (10) اور تم جو کچھ کر رہے تھے اللہ اس کو دیکھ رہا تھا۔

10: یہاں سے جنگ احزاب کا بیان شروع ہورہا ہے۔ آیت نمبر 27 تک اس جنگ کے مختلف پہلوؤں پر تبصرہ فرمایا گیا ہے۔ اس جنگ کا واقعہ مختصراً یہ ہے کہ بنو نضیر کے یہودیوں کی سازش سے قریش کے بت پرستوں نے یہ طے کیا تھا کہ عرب کے مختلف قبائل کو جمع کر کے مدینہ منورہ پر اکٹھے حملہ کریں۔ چنانچہ قریش کے علاوہ بنو غطفان، بنو اسلم، بنو مرہ، بنو اشجع، بنو کنانہ اور بنو فزارہ نے مل کر ایک زبردست لشکر تیار کیا جس کی تعداد بارہ سے پندرہ ہزار تک بتائی جاتی ہے، اور یہ لشکر جرار مدینہ منورہ کی طرف روانہ ہوا۔ آنحضرت ﷺ کو اس کی اطلاع ہوئی تو آپ نے صحابہ کرام سے مشورہ فرمایا۔ حضرت سلمان فارسی ؓ نے مشورہ دیا کہ مدینہ منورہ کے شمال میں جہاں سے حملہ آور آنے والے ہیں، ایک گہری خندق کھود دی جائے، تاکہ وہ شہر تک نہ پہنچ سکیں۔ چنانچہ تمام صحابہ نے بڑی محنت اٹھا کر صرف چھ دن میں یہ خندق کھودی جو ساڑھے تین میل لمبی اور پانچ گز گہری تھی۔ یہ جنگ پچھلی تمام جنگوں کے مقابلے میں مسلمانوں کے لیے سب سے زیادہ سخت جنگ تھی۔ دشمن کی تعداد ان کے چار گنے سے بھی زائد تھی، اور اس پر طرہ یہ ہوا کہ بنو قریظہ کے یہودی جو مسلمانوں کی بالکل بغل میں بیٹھے تھے، ان کے بارے میں یہ اطلاع مل گئی کہ انہوں نے بھی مسلمانوں سے کیا ہوا عہد توڑ کر دشمن کی مدد کا عہد کرلیا ہے۔ سخت سردی کا موسم تھا، اتنی لمبی خندق کھودنے میں دن رات مصروفیت کی وجہ سے خوراک کا سامان کم پڑگیا تھا۔ پھر جب دشمن نے خندق کے پار پڑاؤ ڈال دیا تو دونوں طرف سے تیروں اور پتھروں کا تبادلہ تقریباً ایک مہینے جاری رہا، اور دن رات پہرہ دینے کی وجہ سے لوگ تھکن سے نڈھال تھے۔ کڑی آزمائش کا یہ زمانہ آخر کار اس طرح ختم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے دشمن کے لشکر پر برفانی ہوا کی ایک سخت آندھی مسلط فرما دی جس سے ان کے خیمے اکھڑ گئے، دیگیں الٹ گئیں، چولہے تباہ ہوگئے، اور سواری کے جانور بدک کر بھاگنے لگے۔ اس موقع پر انہیں محاصرہ ختم کر کے واپس جانا پڑا۔ اس آیت میں اسی آندھی کا ذکر فرمایا گیا ہے، اور اس کے ساتھ ان دیکھے لشکروں کا بھی جن سے مراد فرشتے ہیں جنہوں نے دشمن کو سراسیمہ کر کے بھاگنے پر مجبور کیا۔
Ayahs 33:10–11

اِذْ جَآءُوْكُمْ مِّنْ فَوْقِكُمْ وَ مِنْ اَسْفَلَ مِنْكُمْ وَ اِذْ زَاغَتِ الْاَبْصَارُ وَ بَلَغَتِ الْقُلُوْبُ الْحَنَاجِرَ وَ تَظُنُّوْنَ بِاللّٰهِ الظُّنُوْنَا Open ayah 33:10 in the Quran reader

یاد کرو جب وہ تم پر تمہارے اوپر سے بھی چڑھ آئے تھے اور تمہارے نیچے سے بھی (11) اور جب آنکھیں پتھرا گئی تھیں، اور کلیجے منہ کو آگئے تھے، اور تم اللہ کے بارے میں طرح طرح کی باتیں سوچنے لگے تھے۔ (12)

هُنَالِكَ ابْتُلِیَ الْمُؤْمِنُوْنَ وَ زُلْزِلُوْا زِلْزَالًا شَدِیْدًا Open ayah 33:11 in the Quran reader

اس موقع پر ایمان والوں کی بڑی آزمائش ہوئی اور انہیں ایک سخت بھونچال میں ڈال کر ہلا ڈالا گیا۔

11: اوپر سے مراد تو وہ متحدہ محاذ کا لشکر ہے جو خندق کے پار محاصرہ کئے ہوئے تھے، اور نیچے سے مراد بنو قریظہ ہیں جنہوں نے اندر سے مسلمانوں پر حملہ کرنے کی ٹھان لی تھی۔ 12: سخت آزمائش کی اس گھڑی میں غیر اختیاری طور پر مختلف وسوسے دل میں آیا کرتے ہیں، یہ انہی وسوسوں کا بیان ہے جن سے ایمان پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔
Ayah 33:12

وَ اِذْ یَقُوْلُ الْمُنٰفِقُوْنَ وَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ مَّا وَعَدَنَا اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗۤ اِلَّا غُرُوْرًا Open ayah 33:12 in the Quran reader

اور یاد کرو جب منافقین اور وہ لوگ جن کے دلوں میں روگ ہے، یہ کہہ رہے تھے کہ : اللہ اور اس کے رسول نے ہم سے جو وعدہ کیا ہے وہ دھوکے کے سوا کچھ نہیں (13)

13: مستند روایات میں ہے کہ حضرت سلمان فارسی ؓ جس جگہ خندق کھود رہے تھے وہاں ایک سخت چٹان بیچ میں آگئی جو کسی طرح ٹوٹ نہیں رہی تھی، آنحضرت ﷺ کو اطلاع ہوئی تو آپ بہ نفس نفیس وہاں تشریف لے گئے، اور اپنے دست مبارک میں کدال لے کر یہ آیت پڑھی : وَتَمَّتْ کَلِمَتُ رَبِّکَ صِدْقًا : اور کدال سے چٹان پر ضرب لگائی تو ایک تہائی چٹان ٹوٹ گئی اور اس میں سے ایک روشنی نمودار ہوئی جس میں آپ کو یمن اور کسری کے محلات دکھائے گئے، پھر دوسری ضرب لگاتے وقت آپ نے اسی آیت کو پورا پڑھا وَتَمَّتْ کَلِمَتُ رَبِّکَ صِدْقًا وَعَدْلًا : اس پر چٹان کا ایک حصہ ٹوٹا اور دوبارہ روشنی ظاہر ہوئی جس میں آپ نے روم کے محلات دیکھے، پھر تیسری ضرب پر چٹان پوری ٹوٹ گئی، اس موقع پر آپ نے فرمایا کہ مجھے یمن، ایران اور روم کے محلات دکھاکر یہ بشارت دی گئی ہے کہ یہ سارے ملک میری امت کے ہاتھوں فتح ہوں گے، منافقین نے یہ سنا تو کہا کہ حالت تو یہ ہے کہ خود اپنے شہر کا بچاؤ کرنے میں مشکل پیش آرہی ہے، اور خواب یہ دیکھے جارہے ہیں کہ ایران اور روم ہمارے ہاتھوں فتح ہوں گے، مفسرین نے فرمایا ہے کہ اس آیت میں منافقین کی اس بات کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے۔
Ayah 33:13

وَ اِذْ قَالَتْ طَّآئِفَةٌ مِّنْهُمْ یٰۤاَهْلَ یَثْرِبَ لَا مُقَامَ لَكُمْ فَارْجِعُوْا١ۚ وَ یَسْتَاْذِنُ فَرِیْقٌ مِّنْهُمُ النَّبِیَّ یَقُوْلُوْنَ اِنَّ بُیُوْتَنَا عَوْرَةٌ١ۛؕ وَ مَا هِیَ بِعَوْرَةٍ١ۛۚ اِنْ یُّرِیْدُوْنَ اِلَّا فِرَارًا Open ayah 33:13 in the Quran reader

اور جب انہی میں سے کچھ لوگوں نے کہا تھا کہ : یثرت کے لوگو ! تمہارے لیے یہاں ٹھہرے کا کوئی موقع نہیں ہے، بس واپس لوٹ جاؤ۔ اور انہی میں سے کچھ لوگ نبی سے یہ کہہ کر (گھر جانے کی) اجازت مانگ رہے تھے کہ : ہمارے گھر غیر محفوظ ہیں (14) حالانکہ وہ غیر محفوظ نہیں تھے، بلکہ ان کا مقصد صرف یہ تھا کہ (کسی طرح) بھاگ کھڑے ہوں۔

14: یہ منافقین تھے جو اپنے گھروں کے غیر محفوظ ہونے کا بہانہ کرکے محاذ سے بھاگنا چاہتے تھے
Ayahs 33:14–17

وَ لَوْ دُخِلَتْ عَلَیْهِمْ مِّنْ اَقْطَارِهَا ثُمَّ سُئِلُوا الْفِتْنَةَ لَاٰتَوْهَا وَ مَا تَلَبَّثُوْا بِهَاۤ اِلَّا یَسِیْرًا Open ayah 33:14 in the Quran reader

اور اگر دشمن مدینے میں چاروں طرف سے آگھسے، پھر ان سے فساد میں شامل ہونے کو کہا جائے تو یہ اس میں ضرور شامل ہوجائیں گے، اور (اس وقت) گھروں میں تھوڑے ہی ٹھہریں گے۔ (15)

وَ لَقَدْ كَانُوْا عَاهَدُوا اللّٰهَ مِنْ قَبْلُ لَا یُوَلُّوْنَ الْاَدْبَارَ١ؕ وَ كَانَ عَهْدُ اللّٰهِ مَسْئُوْلًا Open ayah 33:15 in the Quran reader

اور حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے اللہ سے پہلے یہ عہد کر رکھا تھا کہ وہ پیٹھ پھیر کر نہیں جائیں گے۔ اور اللہ سے کیے ہوئے عہد کی باز پرس ضرور ہو کر رہے گی۔

قُلْ لَّنْ یَّنْفَعَكُمُ الْفِرَارُ اِنْ فَرَرْتُمْ مِّنَ الْمَوْتِ اَوِ الْقَتْلِ وَ اِذًا لَّا تُمَتَّعُوْنَ اِلَّا قَلِیْلًا Open ayah 33:16 in the Quran reader

(اے پیغمبر ! ان سے) کہہ دو کہ : اگر تم موت سے یا قتل سے بھاگ بھی جاؤ تو یہ بھاگنا تمہیں کوئی فائدہ نہیں دے گا، اور اس صورت میں تمہیں (زندگی کا) لطف اٹھانے کا جو موقع دیا جائے گا وہ تھوڑا ہی سا ہوگا۔

قُلْ مَنْ ذَا الَّذِیْ یَعْصِمُكُمْ مِّنَ اللّٰهِ اِنْ اَرَادَ بِكُمْ سُوْٓءًا اَوْ اَرَادَ بِكُمْ رَحْمَةً١ؕ وَ لَا یَجِدُوْنَ لَهُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیْرًا Open ayah 33:17 in the Quran reader

کہو کہ : کون ہے جو تمہیں اللہ سے بچا سکے، اگر وہ تمہیں کوئی برائی پہنچانے کا ارادہ کرلے، یا (وہ کون ہے جو اس کی رحمت کو روک سکے) اگر وہ تم پر رحمت کرنے کا ارادہ کرلے ؟ اور اللہ کے سوا ان لوگوں کو نہ کوئی رکھوالا مل سکتا ہے، نہ کوئی مددگار۔

15: یعنی یہ منافق لوگ اس وقت تو یہ بہانہ بنا رہے ہیں کہ ہمارے گھروں کی دیواریں نیچی ہیں، اور وہ غیر محفوظ ہیں، لیکن اگر دشمن مدینہ منورہ میں چاروں طرف سے داخل ہوجائے اور ان سے فرمائش کرے کہ تم بھی مسلمانوں کے خلاف ہمارے ساتھ جنگ میں شامل ہوجاؤ تو دشمن کا پلہ بھاری دیکھ کر یہ ان کے ساتھ جاملیں گے اور اس وقت انہیں اپنے گھروں کے غیر محفوظ ہونے کا خیال نہیں آئے گا۔
Ayah 33:18

قَدْ یَعْلَمُ اللّٰهُ الْمُعَوِّقِیْنَ مِنْكُمْ وَ الْقَآئِلِیْنَ لِاِخْوَانِهِمْ هَلُمَّ اِلَیْنَا١ۚ وَ لَا یَاْتُوْنَ الْبَاْسَ اِلَّا قَلِیْلًاۙ Open ayah 33:18 in the Quran reader

اللہ تم میں سے ان لوگوں کو خوب جانتا ہے جو (جہاد میں) رکاوٹ ڈالتے ہیں اور اپنے بھائیوں سے کہتے ہیں کہ : ہمارے پاس چلے آؤ (16) اور خود لڑائی میں آتے نہیں، اور آتے ہیں تو بہت کم۔

16: یہ ایک منافق کی طرف اشارہ ہے جو اپنے گھر میں کھانے پینے میں مشغول تھا اور اس کا مخلص مسلمان بھائی جو جنگ میں جانے کے لئے تیار تھا، اس سے کہہ رہا تھا کہ اپنے آپ کو مصیبت میں ڈالنے کیوں جارہے ہو ؟ یہاں میرے پاس آؤ اور اطمینان سے میرے ساتھ کھانے میں شریک ہو۔ (ابن جریر طبری)۔
Ayahs 33:19–22

اَشِحَّةً عَلَیْكُمْ١ۖۚ فَاِذَا جَآءَ الْخَوْفُ رَاَیْتَهُمْ یَنْظُرُوْنَ اِلَیْكَ تَدُوْرُ اَعْیُنُهُمْ كَالَّذِیْ یُغْشٰى عَلَیْهِ مِنَ الْمَوْتِ١ۚ فَاِذَا ذَهَبَ الْخَوْفُ سَلَقُوْكُمْ بِاَلْسِنَةٍ حِدَادٍ اَشِحَّةً عَلَى الْخَیْرِ١ؕ اُولٰٓئِكَ لَمْ یُؤْمِنُوْا فَاَحْبَطَ اللّٰهُ اَعْمَالَهُمْ١ؕ وَ كَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرًا Open ayah 33:19 in the Quran reader

(اور وہ بھی) تمہارے ساتھ لالچ رکھتے ہوئے (17) چنانچہ جب خطرے کا موقع آجاتا ہے تو وہ تمہاری طرف چکرائی ہوئی آنکھوں سے اس طرح دیکھتے ہیں جیسے کسی پر موت کی غشی طاری ہورہی ہو۔ پھر جب خطرہ دور ہوجاتا ہے تو تمہارے سامنے مال کی حرص میں تیز تیز زبانیں چلاتے ہیں۔ (18) یہ لوگ ہرگز ایمان نہیں لائے ہیں، اس لیے اللہ نے ان کے اعمال ضائع کردیے ہیں، اور یہ بات اللہ کے لیے بہت آسان ہے۔

یَحْسَبُوْنَ الْاَحْزَابَ لَمْ یَذْهَبُوْا١ۚ وَ اِنْ یَّاْتِ الْاَحْزَابُ یَوَدُّوْا لَوْ اَنَّهُمْ بَادُوْنَ فِی الْاَعْرَابِ یَسْاَلُوْنَ عَنْ اَنْۢبَآئِكُمْ١ؕ وَ لَوْ كَانُوْا فِیْكُمْ مَّا قٰتَلُوْۤا اِلَّا قَلِیْلًا۠ Open ayah 33:20 in the Quran reader

وہ یہ سمجھ رہے ہیں کہ (دشمنوں کے) لشکر ابھی گئے نہیں ہیں۔ اور اگر وہ لشکر (دوبارہ) آجائیں تو ان کی خواہش یہ ہوگی کہ وہ دیہات میں جاکر رہیں (اور وہیں بیٹھے ہوئے) تمہاری خبریں معلوم کرتے رہیں۔ اور اگر تمہارے درمیان رہے بھی تو لڑائی میں تھوڑا ہی حصہ لیں گے۔

لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَنْ كَانَ یَرْجُوا اللّٰهَ وَ الْیَوْمَ الْاٰخِرَ وَ ذَكَرَ اللّٰهَ كَثِیْرًاؕ Open ayah 33:21 in the Quran reader

حقیقت یہ ہے کہ تمہارے لیے رسول اللہ کی ذات میں ایک بہترین نمونہ ہے ہر اس شخص کے لیے جو اللہ سے اور یوم آخرت سے امید رکھتا ہو، اور کثرت سے اللہ کا ذکر کرتا ہو۔

وَ لَمَّا رَاَ الْمُؤْمِنُوْنَ الْاَحْزَابَ١ۙ قَالُوْا هٰذَا مَا وَعَدَنَا اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ وَ صَدَقَ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ١٘ وَ مَا زَادَهُمْ اِلَّاۤ اِیْمَانًا وَّ تَسْلِیْمًاؕ Open ayah 33:22 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان رکھتے ہیں، جب انہوں نے (دشمن کے) لشکروں کو دیکھا تھا تو انہوں نے یہ کہا تھا کہ : یہ وہی بات ہے جس کا وعدہ اللہ اور اس کے رسول نے ہم سے کیا تھا، اور اللہ اور اس کے رسول نے سچ کہا تھا۔ اور اس واقعے نے ان کے ایمان اور تابع داری کے جذبے میں اور اضافہ کردیا تھا۔

17: یعنی اگر نام کرنے کو کچھ دیر کے لیے لڑائی میں حصہ لینے آتے بھی ہیں تو اس لالچ میں آتے ہیں کہ اگر لڑائی میں مسلمانوں کو مال غنیمت ملا تو وہ بھی اپنا حصہ لگائیں۔ 18: یعنی بڑی چرب زبانی سے مال غنیمت کا حصہ مسلمانوں سے مانگتے ہیں
Ayah 33:23

مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاهَدُوا اللّٰهَ عَلَیْهِ١ۚ فَمِنْهُمْ مَّنْ قَضٰى نَحْبَهٗ وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّنْتَظِرُ١ۖ٘ وَ مَا بَدَّلُوْا تَبْدِیْلًاۙ Open ayah 33:23 in the Quran reader

انہی ایمان والوں میں وہ لوگ بھی ہیں جنہوں نے اللہ سے جو عہد کیا تھا اسے سچا کر دکھایا۔ پھر ان میں سے کچھ وہ ہیں جنہوں نے اپنا نذرانہ پورا کردیا، اور کچھ وہ ہیں جو ابھی انتظار میں ہیں۔ (19) اور انہوں نے (اپنے ارادوں میں) ذرا سی بھی تبدیلی نہیں کی۔

19: نذرانہ پورا کرنے سے مراد جہاد میں جام شہادت نوش کرنا ہے اور مطلب یہ ہے کہ جو صحیح معنی میں مومن تھے، انہوں نے اللہ تعالیٰ سے یہ عہد کیا تھا کہ وہ اس کے راستے میں اپنے جان و مال کی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ پھر ان حضرات میں سے کچھ نے تو اپنی جان کا نذرانہ پیش کر کے جام شہادت نوش کرلیا، اور کچھ وہ ہیں جنہوں نے جہاد میں حصہ تو لیا، لیکن شہید نہیں ہوئے، اور ابھی اس انتظار اور اشتیاق میں ہیں کہ کب انہیں بھی اللہ تعالیٰ کے راستے میں جان قربان کرنے کا موقع ملے۔
Ayahs 33:24–25

لِّیَجْزِیَ اللّٰهُ الصّٰدِقِیْنَ بِصِدْقِهِمْ وَ یُعَذِّبَ الْمُنٰفِقِیْنَ اِنْ شَآءَ اَوْ یَتُوْبَ عَلَیْهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًاۚ Open ayah 33:24 in the Quran reader

(یہ واقعہ اس لیے ہوا) تاکہ اللہ سچوں کو ان کی سچائی کا انعام دے، اور منافقوں کو اگر چاہے تو عذاب دے، یا ان کی توبہ قبول کرلے۔ (20) اللہ یقینا بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔

وَ رَدَّ اللّٰهُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِغَیْظِهِمْ لَمْ یَنَالُوْا خَیْرًا١ؕ وَ كَفَى اللّٰهُ الْمُؤْمِنِیْنَ الْقِتَالَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ قَوِیًّا عَزِیْزًاۚ Open ayah 33:25 in the Quran reader

اور جو لوگ کافر تھے، اللہ نے انہیں ان کے سارے غیظ و غضب کے ساتھ اس طرح پسپا کردیا کہ وہ کوئی فائدہ حاصل نہ کرسکے۔ اور مومنوں کی طرف سے لڑائی کے لیے اللہ خود کافی ہوگیا۔ اور اللہ بڑی قوت کا، بڑے اقتدار کا مالک ہے۔

20: یعنی جو منافق سچی توبہ کرلیں ان کی توبہ قبول کرلے۔
Ayah 33:26

وَ اَنْزَلَ الَّذِیْنَ ظَاهَرُوْهُمْ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ مِنْ صَیَاصِیْهِمْ وَ قَذَفَ فِیْ قُلُوْبِهِمُ الرُّعْبَ فَرِیْقًا تَقْتُلُوْنَ وَ تَاْسِرُوْنَ فَرِیْقًاۚ Open ayah 33:26 in the Quran reader

اور جن اہل کتاب نے ان (دشمنوں) کی مدد کی تھی، انہیں اللہ ان کے قلعوں سے نیچے اتار لایا (21) اور ان کے دلوں میں ایسا رعب ڈال دیا کہ (اے مسلمانوں ! ان میں سے کچھ کو تم قتل کر رہے تھے، اور کچھ کو قیدی بنا رہے تھے۔

21: اس سے مراد بنو قریظہ ہیں۔ یہ یہودیوں کا قبیلہ تھا، اور اس نے آنحضرت ﷺ سے معاہدہ کیا ہوا تھا۔ لیکن جنگ احزاب کے موقع پر عہد شکنی کر کے حملہ آوروں سے ساز باز کی، اور مسلمانوں کی پشت سے خنجر گھونپنے کا منصوبہ بنایا۔ اس لیے جنگ احزاب سے فارغ ہوتے ہی اللہ تعالیٰ کے حکم سے آپ نے ان پر حملہ کیا، یہ لوگ اپنے قلعے میں محصور ہوگئے، ایک مہینے تک محاصرہ جاری رہا۔ اور آخر کار یہ اپنے قلعے سے اتر آئے، اور اس بات پر راضی ہوگئے کہ حضرت سعد بن معاذ ؓ ان کے بارے میں جو بھی فیصلہ کریں گے وہ انہیں منظور ہوگا۔ حضرت سعد بن معاذ نے یہ فیصلہ کیا کہ ان کے لڑنے والے مردوں کو قتل کیا جائے، اور عورتوں اور نابالغ بچوں کو قیدی بنایا جائے۔ چنانچہ اسی فیصلہ پر عمل ہوا۔
Ayahs 33:27–28

وَ اَوْرَثَكُمْ اَرْضَهُمْ وَ دِیَارَهُمْ وَ اَمْوَالَهُمْ وَ اَرْضًا لَّمْ تَطَئُوْهَا١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرًا۠ Open ayah 33:27 in the Quran reader

اور اللہ نے تمہیں ان کی زمین کا، ان کے گھروں کا اور ان کی دولت کا وارث بنادیا، اور ایک ایسی زمین کا بھی جس تک ابھی تمہارے قدم نہیں پہنچے (22) اور اللہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے۔

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِكَ اِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا وَ زِیْنَتَهَا فَتَعَالَیْنَ اُمَتِّعْكُنَّ وَ اُسَرِّحْكُنَّ سَرَاحًا جَمِیْلًا Open ayah 33:28 in the Quran reader

اے نبی ! اپنی بیویوں سے کہو کہ : اگر تم دنیوی زندگی اور اس کی زینت چاہتی ہو تو آؤ، میں تمہیں کچھ تحفے دے کر خوبصورتی کے ساتھ رخصت کردوں۔

22: اس زمین سے مراد خیبر ہے۔ خیبر میں یہودی بڑی تعداد میں آباد تھے، اور وہیں سے مسلمانوں کے خلاف سازشیں کرتے رہتے تھے۔ اس موقع پر اس آیت نے مسلمانوں کو یہ خوشخبری دی کہ خیبر بھی کچھ عرصے میں مسلمانوں کے ہاتھوں فتح ہوجائے گا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا اور ہجرت کے ساتویں سال خیبر بھی فتح ہوگیا۔
Ayahs 33:29–31

وَ اِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ الدَّارَ الْاٰخِرَةَ فَاِنَّ اللّٰهَ اَعَدَّ لِلْمُحْسِنٰتِ مِنْكُنَّ اَجْرًا عَظِیْمًا Open ayah 33:29 in the Quran reader

اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول اور عالم آخرت کی طلبگار ہو تو یقین جانو اللہ نے تم میں سے نیک خواتین کے لیے شاندار انعام تیار کر رکھا ہے۔ (23)

یٰنِسَآءَ النَّبِیِّ مَنْ یَّاْتِ مِنْكُنَّ بِفَاحِشَةٍ مُّبَیِّنَةٍ یُّضٰعَفْ لَهَا الْعَذَابُ ضِعْفَیْنِ١ؕ وَ كَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرًا Open ayah 33:30 in the Quran reader

اے نبی کی بیویو ! تم میں سے جو کوئی کسی کھلی بےہودگی کا ارتکاب کرے گی، اس کا عذاب بڑھا کر دو گنا کردیا جائے گا، اور اللہ کے لیے ایسا کرنا بہت آسان ہے۔

وَ مَنْ یَّقْنُتْ مِنْكُنَّ لِلّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ تَعْمَلْ صَالِحًا نُّؤْتِهَاۤ اَجْرَهَا مَرَّتَیْنِ١ۙ وَ اَعْتَدْنَا لَهَا رِزْقًا كَرِیْمًا Open ayah 33:31 in the Quran reader

اور تم میں سے جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کی تابع دار رہے گی اور نیک عمل کرے گی، اسے ہم اس کا ثواب بھی دو گنا دیں گے، اور اس کے لیے ہم نے باعزت رزق تیار کر رکھا ہے۔

23: اس آیت کا پس منظر یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کی ازواج مطہرات یوں تو ہر قسم کے سرد و گرم حالات میں بڑی استقامت سے آپ کا ساتھ دیتی آئی تھیں، لیکن جنگ احزاب اور جنگ بنو قریظہ میں فتوحات کے بعد مسلمانوں کو کچھ مالی خوش حالی حاصل ہوئی تو ان کے دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ جس تنگی ترشی میں وہ اب تک گذارہ کرتی رہی ہیں، اب اس میں کچھ تبدیلی آنی چاہیے، چنانچہ ایک مرتبہ انہوں نے آنحضرت ﷺ سے اس خیال کا ذکر بھی کردیا، اور یہ مثال بھی دی کہ قیصر و کسری کی بیگمات بڑی سج دھج کے ساتھ رہتی ہیں، ان کی خدمت کے لیے کنیزیں موجود ہیں، اب جبکہ مسلمانوں میں خوشحالی آچکی ہے، ہمارے نفقے میں بھی اضافہ ہونا چاہیے۔ اگرچہ ازواج مطہرات کے دل میں مالی وسعت کی خواہش پیدا ہونا کوئی گناہ کی بات نہ تھی، لیکن اول تو پیغمبر اعظم ﷺ کی ازواج ہونے کی حیثیت سے یہ مطالبہ ان کے شایان شان نہیں سمجھا گیا۔ دوسرے شاید بادشاہوں کی بیگمات کی مثال دینے سے آنحضرت ﷺ کو تکلیف پہنچی کہ وہ اپنے آپ کو ان بیگمات پر قیاس کر رہی ہیں۔ اس لے قرآن کریم کی ان آیات نے آنحضرت ﷺ کو ہدایت دی کہ آپ ازواج مطہرات سے یہ بات اچھی طرح صاف کرلیں کہ اگر پیغمبر کے ساتھ رہنا ہے تو اپنے سوچنے کا یہ انداز بدلنا ہوگا، دوسری عورتوں کی طرح ان کا مطمح نظر دنیا کی سج دھج نہیں ہونی چاہیے، بلکہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت اور اس کے نتیجے میں آخرت کی بھلائی ہونی چاہیے۔ اور ساتھ ہی ان پر یہ بات بھی واضح کردی گئی کہ اگر وہ دنیا کی زیب وزینت کو پسند کریں گی تو پیغمبر اعظم ﷺ کی طرف سے ان کو کھلا اختیار ہے کہ وہ آپ سے علیحدگی اختیار کرلیں۔ اس صورت میں بھی آنحضرت ﷺ انہیں کسی تلخی کے ساتھ نہیں، بلکہ سنت کے مطابق جوڑوں وغیرہ کے تحفے دے کر خوش اسلوبی سے رخصت فرمائیں گے۔ چنانچہ ان آیات کے احکام کے مطابق آنحضرت ﷺ نے ازواج مطہرات کو یہ پیشکش فرمائی اور تمام ازواج نے اس کے جواب میں آنحضرت ﷺ کے ساتھ رہنے ہی کو پسند کیا، خواہ اس کے لیے کیسی تنگی ترشی برداشت کرنی پڑے۔
Ayah 33:32

یٰنِسَآءَ النَّبِیِّ لَسْتُنَّ كَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَآءِ اِنِ اتَّقَیْتُنَّ فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَیَطْمَعَ الَّذِیْ فِیْ قَلْبِهٖ مَرَضٌ وَّ قُلْنَ قَوْلًا مَّعْرُوْفًاۚ Open ayah 33:32 in the Quran reader

اے نبی کی بیویو ! اگر تم تقوی اختیار کرو تو تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو۔ (24) لہذا تم نزاکت کے ساتھ بات مت کیا کرو، کبھی کوئی ایسا شخص بیجا لالچ کرنے لگے جس کے دل میں روگ ہوتا ہے، اور بات وہ کہو جو بھلائی والی ہو۔ (25)

24: یعنی ازواج مطہرات کا مقام عام عورتوں سے بلند ہے، اس لیے اگر وہ تقوی اختیار کریں گی تو انہیں ثواب بھی دوگنا ملے گا، اور کوئی گناہ کریں گی تو اس کا عذاب بھی دوگنا ہوگا۔ اس سے معلوم ہوا کہ جس شخص کو پیغمبر کے ساتھ جتنا قرب ہو، اسے اپنے عمل میں اتنا ہی محتاط ہونا چاہیے۔ 25: اس آیت نے خواتین کو غیر محرم مردوں سے بات کرنے کا یہ طریقہ بتایا ہے کہ اس میں جان بوجھ کر نزاکت اور کشش پیدا نہیں کرنی چاہیے، البتہ اپنی بات کسی بد اخلاقی کے بغیر پھیکے انداز میں کہہ دینی چاہیے۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ جب عام گفتگو میں بھی خواتین کو یہ ہدایت کی گئی ہے تو غیر مردوں کے سامنے ترنم کے ساتھ اشعار پڑھنا یا گنگنانا کتنا برا ہوگا۔
Ayahs 33:33–34

وَ قَرْنَ فِیْ بُیُوْتِكُنَّ وَ لَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِیَّةِ الْاُوْلٰى وَ اَقِمْنَ الصَّلٰوةَ وَ اٰتِیْنَ الزَّكٰوةَ وَ اَطِعْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ؕ اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَیْتِ وَ یُطَهِّرَكُمْ تَطْهِیْرًاۚ Open ayah 33:33 in the Quran reader

اور اپنے گھروں میں قرار کے ساتھ رہو (26) اور (غیر مردوں کو) بناؤ سنگھار دکھاتی نہ پھرو، جیسا کہ پہلی بار جاہلیت میں دکھایا جاتا تھا (27) اور نماز قائم کرو، اور زکوٰۃ ادا کرو، اور اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرو۔ اے نبی کے اہل بیت ! (گھر والو) (28) اللہ تو یہ چاہتا ہے کہ تم سے گندگی کو دور رکھے، اور تمہیں ایسی پاکیزگی عطا کرے جو ہر طرح مکمل ہو۔

وَ اذْكُرْنَ مَا یُتْلٰى فِیْ بُیُوْتِكُنَّ مِنْ اٰیٰتِ اللّٰهِ وَ الْحِكْمَةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ لَطِیْفًا خَبِیْرًا۠ Open ayah 33:34 in the Quran reader

اور تمہارے گھروں میں اللہ کی جو آیتیں اور حکمت کی جو باتیں سنائی جاتی ہیں ان کو یاد رکھو۔ یقین جانو اللہ بہت باریک بین اور ہر بات سے باخبر ہے۔

26: اس آیت نے یہ واضح فرمادیا ہے کہ عورت کا اصل مقام اس کا گھر ہے، اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اس کے لئے گھر سے نکلنا جائز نہیں، کیونکہ آنحضرت ﷺ کی احادیث نے واضح فرمادیا ہے کہ حاجت کے وقت عورت پردے کے ساتھ باہر جاسکتی ہے، لیکن اس فقرے نے یہ عظیم اصول بیان فرمایا ہے کہ عورت کا اصل فریضہ گھر اور خاندان کی تعمیر ہے اور ایسی سرگرمیاں جو اس مقصد میں خلل انداز ہوں، اس کے اصل مقصد زندگی کے خلاف ہیں، اور ان سے معاشرے کا توازن بگڑجاتا ہے۔ 27: پہلی جاہلیت سے مراد آنحضرت ﷺ کی بعثت سے پہلے کا زمانہ ہے جس میں عورتیں بےحیائی کے ساتھ بناؤ سنگھار غیر مردوں کو دکھاتی پھرتی تھیں، اور پہلی جاہلیت کے لفظ سے اس طرف بھی اشارہ ہے کہ ایک جاہلیت آخر میں بھی آنے والی ہے، اور کم از کم اس بےحیائی کے معاملے میں یہ جاہلیت ہماری آنکھوں کے سامنے اس طرح آچکی کہ اس نے پہلی جاہلیت کو مات کردیا ہے۔ 28: چونکہ آگے پیچھے سارا ذکر ازواج مطہرات کا چل رہا ہے، اس لئے وہ تو اہل بیت میں براہ راست داخل ہیں، لیکن الفاظ کے عموم میں آنحضرت ﷺ کی صاحبزادیاں اور ان کی اولاد بھی داخل ہیں، چنانچہ صحیح مسلم میں روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ایک مرتبہ حضرت فاطمہ، حضرت علی، حضرت حسن اور حضرت حسین ؓ کو اپنی چادر میں ڈھانپ لیا، اور یہ آیت تلاوت کی، اور بعض روایات میں ہے کہ آپ نے یہ بھی فرمایا کہ : یا اللہ یہ میرے اہل بیت ہیں (ابن جریر) یہاں یہ بھی واضح رہے کہ مکمل پاکیزگی سے مراد یہ نہیں ہے کہ وہ انبیائے کرام کی طرح گناہوں سے معصوم ہوجائیں، بلکہ مطلب یہ ہے کہ وہ اتنے متقی بن جائیں کہ گناہوں کی گندگی ان سے دور ہوجائے۔
Ayah 33:35

اِنَّ الْمُسْلِمِیْنَ وَ الْمُسْلِمٰتِ وَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ وَ الْقٰنِتِیْنَ وَ الْقٰنِتٰتِ وَ الصّٰدِقِیْنَ وَ الصّٰدِقٰتِ وَ الصّٰبِرِیْنَ وَ الصّٰبِرٰتِ وَ الْخٰشِعِیْنَ وَ الْخٰشِعٰتِ وَ الْمُتَصَدِّقِیْنَ وَ الْمُتَصَدِّقٰتِ وَ الصَّآئِمِیْنَ وَ الصّٰٓئِمٰتِ وَ الْحٰفِظِیْنَ فُرُوْجَهُمْ وَ الْحٰفِظٰتِ وَ الذّٰكِرِیْنَ اللّٰهَ كَثِیْرًا وَّ الذّٰكِرٰتِ١ۙ اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ مَّغْفِرَةً وَّ اَجْرًا عَظِیْمًا Open ayah 33:35 in the Quran reader

بیشک فرمانبردار مرد ہوں یا فرمانبردار عورتیں (29) مومن مرد ہوں یا مومن عورتیں، عبادت گزار مرد ہوں یا عبادت گزار عورتیں، سچے مرد ہوں یا سچی عورتیں، صابر مرد ہوں یا صابر عورتیں، دل سے جھکنے والے مرد ہوں یا دل سے جھکنے والی عورتیں (30) صدقہ کرنے والے مرد ہوں یا صدقہ کرنے والی عورتیں، روزہ دار مرد ہوں یا روزہ دار عورتیں، اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے مرد ہوں یا حفاظت کرنے والی عورتیں، اور اللہ کا کثرت سے ذکر کرنے والے مرد ہوں یا ذکر کرنے والی عورتیں، ان سب کے لیے اللہ نے مغفرت اور شاندار اجر تیار کر رکھا ہے۔

29: مسلمانوں کو قرآن کریم میں جب بھی کوئی حکم دیا گیا ہے، یا ان کو کوئی خوشخبری دی گئی ہے، تو عام طور سے مذکر ہی کا صیغہ استعمال ہوا ہے، اگرچہ خواتین بھی اس میں داخل ہیں، (جیسا کہ دنیوی قوانین میں بھی صورت حال یہی ہے) لیکن بعض صحابیات کے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی کہ اللہ تعالیٰ خاص مؤنث کے صیغے کے ساتھ بھی خواتین کے بارے میں کوئی خوشخبری دیں۔ اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی۔ 30: یہ ”خشوع“ کا ترجمہ ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ عبادت کے وقت دل عاجزی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے ساتھ لگا ہوا ہو۔ اس کا بیان سورة مومنون کی دوسری آیت میں گذر چکا ہے۔
Ayah 33:36

وَ مَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّ لَا مُؤْمِنَةٍ اِذَا قَضَى اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗۤ اَمْرًا اَنْ یَّكُوْنَ لَهُمُ الْخِیَرَةُ مِنْ اَمْرِهِمْ١ؕ وَ مَنْ یَّعْصِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًا مُّبِیْنًاؕ Open ayah 33:36 in the Quran reader

اور جب اللہ اور اس کا رسول کسی بات کا حتمی فیصلہ کردیں تو نہ کسی مومن مرد کے لیے یہ گنجائش ہے نہ کسی مومن عورت کے لیے کہ ان کو اپنے معاملے میں کوئی اختیار باقی رہے۔ (31) اور جس کسی نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی، وہ کھلی گمراہی میں پڑگیا۔

31: یہ آیت کریمہ چند ایسے واقعات کے پس منظر میں نازل ہوئی جن میں حضور نبی کریم ﷺ نے اپنے بعض صحابہ کے لیے کسی خاتون سے رشتہ دیا، مگر وہ خاتون یا ان کے رشتہ دار شروع میں اس رشتے پر راضی نہیں ہوئے۔ حافظ ابن کثیر نے یہ واقعات تفصیل سے بیان کیے ہیں، اور ان سب میں مشترک بات یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے جن صحابہ کے نکاح کا پیغام دیا تھا، ان میں کوئی خرابی نہیں تھی، لیکن خاتون یا ان کے گھر والوں نے صرف اپنی خاندانی یا مالی فوقیت کی وجہ سے شروع میں ان کا رشتہ قبول کرنے سے انکار کیا تھا۔ دوسری طرف حضور نبی کریم ﷺ غالباً یہ چاہتے تھے کہ لوگ صرف اپنی خاندانی یا مالی فوقیت کی وجہ سے اچھے رشتوں سے انکار کرنے کا رجحان ختم کریں۔ اگرچہ شریعت نے نکاح میں کفاءت (یعنی میاں بیوی کے ہم پلہ ہونے) کا فی الجملہ اعتبار کیا، لیکن اگر رشتے میں کوئی اور بڑی وجہ ترجیح موجود ہو تو عورت اور اس کے سرپرستوں کو صرف اس بنا پر رشتے سے انکار نہیں کردینا چاہیے کہ وہ خاندانی اعتبار سے عورت کے خاندان کا ہم پلہ نہیں ہے۔ چنانچہ اس آیت کے نازل ہونے کے بعد ان تمام واقعات میں رشتہ منظور کرلیا گیا، اور آنحضرت ﷺ کی تجویز ہی کے مطابق نکاح ہوا۔ ان واقعات میں سب سے اہم واقعہ حضرت زید بن حارثہ ؓ کا واقعہ ہے، جس کا تعلق آنے والی آیات سے بھی ہے۔ یہ شروع میں حضرت خدیجہ ؓ کے غلام تھے، اور انہوں نے آنحضرت ﷺ کو ہبہ کردیا تھا، آپ نے انہیں آزاد کر کے اپنا منہ بولا بیٹا بنا لیا تھا۔ (جس کی تفصیل اگلی آیت کے حاشیہ میں آرہی ہے)۔ چنانچہ آپ نے اپنی پھوپی کی صاحبزادی حضرت زینب بنت جحش ؓ سے ان کے نکاح کا پیغام دیا۔ حضرت زینب اونچے خاندان کی خاتون تھیں، اور اس وقت کسی آزاد کردہ غلام سے شادی کرنا ایسی خاندانی عورت کے لیے معیوب سمجھا جاتا تھا۔ اس لیے انہوں نے شروع میں انکار کیا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی، جس کے بعد انہوں نے یہ رشتہ منظور کرلیا، اور پھر حضرت زید بن حارثہ ؓ سے ان کا نکاح ہوگیا جس کا مہر خود آنحضرت ﷺ نے ادا فرمایا۔ آیت کریمہ اگرچہ ان واقعات کے پس منظر میں نازل ہوئی ہے، لیکن اس کے الفاظ عام ہیں، اور وہ شریعت کا یہ بنیادی اصول واضح کر رہی ہے کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے حکم کے بعد کسی بھی مخلوق کو اپنی رائے چلانے کا اختیار نہیں رہتا۔
Ayahs 33:37–39

وَ اِذْ تَقُوْلُ لِلَّذِیْۤ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیْهِ وَ اَنْعَمْتَ عَلَیْهِ اَمْسِكْ عَلَیْكَ زَوْجَكَ وَ اتَّقِ اللّٰهَ وَ تُخْفِیْ فِیْ نَفْسِكَ مَا اللّٰهُ مُبْدِیْهِ وَ تَخْشَى النَّاسَ١ۚ وَ اللّٰهُ اَحَقُّ اَنْ تَخْشٰىهُ١ؕ فَلَمَّا قَضٰى زَیْدٌ مِّنْهَا وَطَرًا زَوَّجْنٰكَهَا لِكَیْ لَا یَكُوْنَ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ حَرَجٌ فِیْۤ اَزْوَاجِ اَدْعِیَآئِهِمْ اِذَا قَضَوْا مِنْهُنَّ وَطَرًا١ؕ وَ كَانَ اَمْرُ اللّٰهِ مَفْعُوْلًا Open ayah 33:37 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر !) یاد کرو جب تم اس شخص سے جس پر اللہ نے بھی احسان کیا تھا اور تم نے بھی احسان کیا تھا (32) یہ کہہ رہے تھے کہ : اپنی بیوی کو اپنے نکاح میں رہنے دو ، اور اللہ سے ڈرو، (33) اور تم اپنے دل میں وہ بات چھپائے ہوئے تھے جسے اللہ کھول دینے والا تھا (34) اور تم لوگوں سے ڈرتے تھے، حالانکہ اللہ اس بات کا زیادہ حق دار ہے کہ تم اس سے ڈرو۔ پھر جب زید نے اپنی بیوی سے تعلق ختم کرلیا تو ہم نے اس سے تمہارا نکاح کرادیا، تاکہ مسلمانوں کے لیے اپنے منہ بولے بیٹوں کی بیویوں (سے نکاح کرنے) میں اس وقت کوئی تنگی نہ رہے جب انہوں نے اپنی بیویوں سے تعلق ختم کرلیا ہو۔ اور اللہ نے جو حکم دیا تھا اس پر عمل تو ہو کر رہنا ہی تھا۔

مَا كَانَ عَلَى النَّبِیِّ مِنْ حَرَجٍ فِیْمَا فَرَضَ اللّٰهُ لَهٗ١ؕ سُنَّةَ اللّٰهِ فِی الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلُ١ؕ وَ كَانَ اَمْرُ اللّٰهِ قَدَرًا مَّقْدُوْرَا٘ۙ Open ayah 33:38 in the Quran reader

نبی کے لیے اس کام میں اعتراض کی کوئی بات نہیں ہوتی جو اللہ نے اس کے لیے طے کردیا ہو۔ یہی اللہ کی وہ سنت ہے جس پر ان (انبیاء) کے معاملے میں بھی عمل ہوتا آیا ہے جو پہلے گزر چکے ہیں۔ اور اللہ کا فیصلہ نپا تلا مقدر ہوتا ہے۔

اِ۟لَّذِیْنَ یُبَلِّغُوْنَ رِسٰلٰتِ اللّٰهِ وَ یَخْشَوْنَهٗ وَ لَا یَخْشَوْنَ اَحَدًا اِلَّا اللّٰهَ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ حَسِیْبًا Open ayah 33:39 in the Quran reader

پیغمبر وہ لوگ ہیں جو اللہ کے بھیجے ہوئے احکام کو لوگوں تک پہنچاتے ہیں، اور اسی سے ڈرتے ہیں اور اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے۔ اور حساب لینے کے لیے اللہ کو کسی کی ضرورت نہیں۔

32: اس سے مراد حضرت زید بن حارثہ ؓ ہیں۔ ان پر اللہ تعالیٰ کا احسان تو یہ تھا کہ انہیں آنحضرت ﷺ کی خدمت میں پہنچایا، اور اسلام لانے کی توفیق دی، یہاں تک کہ یہ ان چار خوش نصیب صحابہ کرام میں سے ہیں جو سب سے پہلے اسلام لائے۔ اور آنحضرت ﷺ کے ان پر احسان کی تفصیل یہ ہے کہ یہ آٹھ سال کی عمر میں اپنی والدہ کے ساتھ اپنی ننھیال میں گئے تھے، وہاں قبیلہ قین کے لوگوں نے حملہ کر کے انہیں غلام بنایا، اور عکاظ کے میلے میں لے جا کر حضرت حکیم بن حزام کے ہاتھ بیچ دیا، انہوں نے یہ غلام اپنی پھوپی حضرت خدیجۃ الکبری ؓ کو دے دیا۔ اس کے بعد جب حضرت خدیجہ ؓ سے حضور سرور عالم ﷺ کا نکاح ہوا تو حضرت خدیجہ نے انہیں آپ کی خدمت میں پیش کردیا، جبکہ ان کی عمر پندرہ سال تھی۔ کچھ عرصے کے بعد ان کے والد اور چچا کو معلوم ہوا کہ ان کا بچہ مکہ مکرمہ میں ہے تو وہ آنحضرت ﷺ کے پاس آئے، اور عرض کی کہ آپ جو معاوضہ چاہیں، ہم سے لے لیں، اور یہ بچہ ہمارے حوالے کردیں، آپ نے جواب دیا کہ اگر وہ بچہ آپ کے ساتھ جانا چاہے تو میں کسی معاوضے کے بغیر ہی اسے آپ کے حوالے کردوں گا، البتہ اگر وہ نہ جانا چاہے تو میں زبردستی اسے نہیں بھیج سکتا، وہ لوگ یہ سن کر بہت خوش ہوئے، اور حضرت زید ؓ کو بلایا گیا، اور آپ نے انہیں اختیار دیا کہ اگر وہ اپنے والد اور چچا کے ساتھ جانا چاہیں تو جاسکتے ہیں، لیکن حضرت زید نے یہ حیرت انگیز جواب دیا کہ میں حضرت محمد ﷺ کو چھوڑ کر کہیں نہیں جاسکتا۔ ان کے والد اور چچا بڑے حیران ہوئے کہ ان کا بیٹا آزادی پر غلامی کو اور اپنے باپ اور چچا پر ایک بالکل غیر شخص کو ترجیح دے رہا ہے۔ لیکن حضرت زید نے یہ حیرت انگیز جواب دیا کہ میں حضرت محمد ﷺ کو چھوڑ کر کہیں نہیں جاسکتا۔ ان کے والد اور چچا بڑے حیران ہوئے کہ ان کا بیٹا آزادی پر غلامی کو اور اپنے باپ اور چچا پر ایک بالکل غیر شخص کو ترجیح دے رہا ہے، لیکن حضرت زید ؓ نے فرمایا کہ میں نے اپنے اس آقا کا جو طرز عمل دیکھا ہے، اس کے بعد دنیا کے کسی شخص کو میں ان پر ترجیح نہیں دے سکتا۔ (واضح رہے کہ یہ واقعہ اس وقت کا ہے جب آنحضرت ﷺ کو ابھی تک نبوت عطا نہیں ہوئی تھی) اس پر ان کے والد اور چچا بھی مطمئن ہو کر چلے گئے۔ اور آنحضرت ﷺ نے حضرت زید کو فوراً آزاد کردیا، اور حرم مکہ میں جا کر قریش کے لوگوں کے سامنے اعلان فرمادیا کہ آج سے میں نے انہیں اپنا بیٹا بنا لیا ہے۔ اسی بنا پر لوگ انہیں زید بن محمد ﷺ کہا کرتے تھے۔ 33: حضرت زینب ؓ سے حضرت زید کا نکاح ہو تو گیا تھا، لیکن حضرت زید کو یہ شکایت رہتی تھی کہ ان کی اہلیہ کے دل سے اپنی خاندانی فوقیت کا احساس مٹا نہیں، اور شاید اسی کی وجہ سے بعض اوقات وہ حضرت زید کے ساتھ تیز زبانی کا بھی مظاہرہ کرتی ہیں۔ حضرت زید کی یہ شکایت اتنی بڑھی کہ انہوں نے حضرت زینب کو طلاق دینے کے لیے آنحضرت ﷺ سے مشورہ کیا۔ آپ نے ان سے فرمایا کہ اپنی بیوی کو طلاق نہ دو۔ بلکہ اپنے پاس رکھو، اور اللہ سے ڈرو، کیونکہ اللہ تعالیٰ کو طلاق پسند نہیں ہے، اور اللہ تعالیٰ نے بیوی کے جو حقوق رکھے ہیں، انہیں ادا کرو۔ 34: حضور نبی کریم ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے حضرت زید کے مشورہ لینے سے پہلے ہی یہ بتادیا تھا کہ حضرت زید کسی وقت حضرت زینب کو طلاق دے دیں گے، اور اس کے بعد اللہ تعالیٰ کے حکم کے تحت آپ کو ان سے نکاح کرنا ہوگا، تاکہ عرب میں اپنے منہ بولے بیٹے کی بیوی سے نکاح کرنے کو جو معیوب سمجھا جاتا ہے، اس رسم کا عملی طور پر خاتمہ ہو، آنحضرت ﷺ کے لیے یہ بڑی آزمائش تھی، اول تو حضرت زید کا یہ نکاح آپ نے بڑے اصرار سے کرایا تھا، دوسرے ان کے طلاق دینے کے بعد ان سے آپ کا نکاح ہونے سے مخالفین کو باتیں بنانے کا موقع ملے گا کہ انہوں نے اپنی منہ بولی بہو سے نکاح کرلیا۔ لہذا جب حضرت زید نے آپ سے طلاق دینے کے بارے میں مشورہ کیا تو آپ نے یہ سوچا ہوگا کہ جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے حتمی حکم آجائے گا، اس وقت تو سر تسلیم خم کرنا ہی ہوگا، لیکن جب تک حتمی حکم نہیں آتا، اس وقت تک مجھے حضرت زید کو وہی مشورہ دینا چاہیے جو میاں بیوی کے اختلاف کے موقع پر عام طور سے دیا جاتا ہے کہ طلاق سے حتی الامکان بچو، اور اللہ تعالیٰ سے ڈر کر ایک دوسرے کے حقوق ادا کرو۔ چنانچہ آپ نے یہی مشورہ دیا، اور یہ بات ظاہر نہیں فرمائی کہ اللہ تعالیٰ نے یہ فیصلہ کر رکھا ہے کہ کسی وقت حضرت زید اپنی اہلیہ کو طلاق دیں گے، اور پھر وہ آپ کے نکاح میں آئیں گی، اسی بات کو اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں یوں بیان فرمایا ہے کہ : اور تم اپنے دل میں وہ بات چھپائے ہوئے تھے جسے اللہ کھول دینے والا تھا، صحیح روایات کی روشنی میں اس آیت کی یہی تفسیر صحیح ہے۔ بعض دشمنان اسلام نے کچھ واہی تباہی کی روایتوں کی بنا پر اس کا جو مطلب نکالا ہے، وہ سراسر غلط ہے، اور جو انتہائی کمزور روایتیں اس سلسلے میں پیش کی گئی ہیں، وہ قطعی طور پر غیر معقول اور ناقابل توجہ ہیں۔