32. Surah As-Sajda

السجدةThe Prostration · 30 ayahsآسان قرآن

تعارف

تعارف

تعارف سورة السجدۃ اس سورت کا مرکزی موضوع اسلام کے بنیادی عقائد، یعنی توحید، آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت اور آخرت کا اثبات ہے، نیز جو کفار عرب ان عقائد کی مخالفت کرتے تھے، اس سورت میں ان کے اعتراضات کا جواب دیا گیا ہے، اور ان کا انجام بھی بتایا گیا ہے، چونکہ اس سورت کی آیت نمبر : ١٥، سجدے کی آیت ہے، یعنی جو شخص بھی اس کی تلاوت کرے یا سنے اس پر سجدہ ٔ تلاوت واجب ہے، اس لئے اس کا نام تنزیل السجدہ یا الم سجدہ یا صرف سورة سجدہ رکھا گیا ہے، صحیح بخاری کی ایک حدیث میں ہے کہ حضور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جمعہ کے دن نماز فجر کی پہلی رکعت میں بکثرت یہ سورت پڑھا کرتے تھے، اور مسند احمد (٣: ٣٤) کی ایک حدیث میں ہے کہ آپ رات کو سونے سے پہلے دو سورتوں کی تلاوت ضرور فرماتے تھے، ایک سورة تنزیل السجدہ اور دوسری سورة ملک۔

Ayah 32:1
Ayah 32:2

تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ لَا رَیْبَ فِیْهِ مِنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ Open ayah 32:2 in the Quran reader

رب العالمین کی طرف سے یہ ایک ایسی کتاب اتاری جارہی ہے جس میں کوئی شک کی بات نہیں ہے۔

Ayah 32:3

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ١ۚ بَلْ هُوَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّاۤ اَتٰىهُمْ مِّنْ نَّذِیْرٍ مِّنْ قَبْلِكَ لَعَلَّهُمْ یَهْتَدُوْنَ Open ayah 32:3 in the Quran reader

کیا لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ پیغمبر نے اسے خود گھڑ لیا ہے ؟ نہیں (اے پیغمبر) یہ تو وہ حق ہے جو تمہارے پروردگار کی طرف سے اس لیے آیا ہے کہ تم اس کے ذریعے ان لوگوں کو خبردار کرو جن کے پاس تم سے پہلے کوئی خبردار کرنے والا نہیں آیا، (1) تاکہ وہ صحیح راستے پر آجائیں۔

1: مکہ مکرمہ میں جب سے بت پرستی شروع ہوئی، کوئی نبی نہیں آیا تھا، انفرادی طور پر کچھ ایسے حجرات حق کی تعلیم و تبلیغ کرتے رہے ہیں جو نبی نہیں تھے، لیکن نبی کوئی نہیں آیا تھا۔
Ayah 32:4

اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ١ؕ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا شَفِیْعٍ١ؕ اَفَلَا تَتَذَكَّرُوْنَ Open ayah 32:4 in the Quran reader

اللہ وہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو اور ان کے درمیان ساری چیزوں کو چھ دن میں پیدا کیا، پھر اس نے عرش پر استواء فرمایا۔ (2) اس کے سوا نہ تمہارا کوئی رکھوالا ہے، نہ کوئی سفارشی (3) کیا پھر بھی تم کسی نصیحت پر دھیان نہیں دیتے ؟

2: استواء کے لفظی معنی سیدھا ہونے اور بیٹھنے کے آتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کے عرش پر استواء فرمانے کا صحیح مطلب ہماری فہم اور ادراک سے باہر ہے، اس لئے اس کی تفصیلات میں جانے کی نہ ضرورت ہے نہ اس کا کوئی یقینی نتیجہ نکل سکتا ہے، اتنا ایمان رکھنا کافی ہے کہ جو کچھ قرآن کریم نے فرمایا ہے وہ برحق ہے۔ 3: اہل عرب بتوں کی پوجا اس عقیدے سے کیا کرتے تھے کہ یہ بت اللہ تعالیٰ سے ہماری سفارش کر کے ہماری دنیوی ضروریات پوری کریں گے۔ جیسا کہ سورة یونس : 18 میں اللہ تعالیٰ نے ان کا یہ عقیدہ بیان فرمایا ہے۔
Ayahs 32:5–12

یُدَبِّرُ الْاَمْرَ مِنَ السَّمَآءِ اِلَى الْاَرْضِ ثُمَّ یَعْرُجُ اِلَیْهِ فِیْ یَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهٗۤ اَلْفَ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ Open ayah 32:5 in the Quran reader

وہ آسمان سے لے کر زمین تک ہر کام کا انتظام خود کرتا ہے، پھر وہ کام ایک ایسے دن میں اس کے پاس اوپر پہنچ جاتا ہے جس کی مقدار گنتی کے حساب سے ایک ہزار سال ہوتی ہے۔ (4)

ذٰلِكَ عٰلِمُ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُۙ Open ayah 32:6 in the Quran reader

وہ ہر چھپی اور کھلی چیز کا جاننے والا ہے، جس کا اقتدار بھی کامل ہے، جس کی رحمت بھی کامل۔

الَّذِیْۤ اَحْسَنَ كُلَّ شَیْءٍ خَلَقَهٗ وَ بَدَاَ خَلْقَ الْاِنْسَانِ مِنْ طِیْنٍۚ Open ayah 32:7 in the Quran reader

اس نے جو چیز بھی پیدا کی، اسے خوب بنایا، اور انسان کی تخلیق کی ابتدا گارے سے کی۔

ثُمَّ جَعَلَ نَسْلَهٗ مِنْ سُلٰلَةٍ مِّنْ مَّآءٍ مَّهِیْنٍۚ Open ayah 32:8 in the Quran reader

پھر اس کی نسل ایک نچوڑے ہوئے حقیر پانی سے چلائی۔

ثُمَّ سَوّٰىهُ وَ نَفَخَ فِیْهِ مِنْ رُّوْحِهٖ وَ جَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ الْاَفْئِدَةَ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ Open ayah 32:9 in the Quran reader

پھر اسے ٹھیک ٹھاک کر کے اس میں اپنی روح پھونکی، اور (انسانو) تمہارے لیے کان، آنکھیں اور دل پیدا کیے۔ تم لوگ شکر تھوڑا ہی کرتے ہو۔

وَ قَالُوْۤا ءَاِذَا ضَلَلْنَا فِی الْاَرْضِ ءَاِنَّا لَفِیْ خَلْقٍ جَدِیْدٍ١ؕ۬ بَلْ هُمْ بِلِقَآئِ رَبِّهِمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 32:10 in the Quran reader

اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ : کیا جب ہم زمین میں رل کر کھو جائیں گے، تو کیا اس وقت ہم کسی نئے جنم میں پیدا ہوں گے ؟ بات دراصل یہ ہے کہ یہ لوگ اپنے پروردگار سے جاملنے کا انکار کرتے ہیں۔

قُلْ یَتَوَفّٰىكُمْ مَّلَكُ الْمَوْتِ الَّذِیْ وُكِّلَ بِكُمْ ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ تُرْجَعُوْنَ۠ Open ayah 32:11 in the Quran reader

کہہ دو کہ : تمہیں موت کا وہ فرشتہ پورا پورا وصول کرلے گا جو تم پر مقرر کیا گیا ہے، پھر تمہیں واپس تمہارے پروردگار کے پاس لے جایا جائے گا۔

وَ لَوْ تَرٰۤى اِذِ الْمُجْرِمُوْنَ نَاكِسُوْا رُءُوْسِهِمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؕ رَبَّنَاۤ اَبْصَرْنَا وَ سَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا اِنَّا مُوْقِنُوْنَ Open ayah 32:12 in the Quran reader

اور کاش تم وہ منظر دیکھو جب یہ مجرم لوگ اپنے رب کے سامنے سرجھکائے ہوئے (کھڑے) ہوں گے (کہہ رہے ہوں گے کہ) ہمارے پروردگار ! ہماری آنکھیں اور ہمارے کان کھل گئے، اس لیے ہمیں (دنیا میں) دوبارہ بھیج دیجیے، تاکہ ہم نیک عمل کریں۔ ہمیں اچھی طرح یقین آچکا ہے۔

4: اللہ تعالیٰ کے نزدیک ایک دن کے ایک ہزار سال کے برابر ہونے کا کیا مطلب ہے ؟ اس کی صحیح تشریح تو اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے، اور حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے اسے متشابہات میں بھی شمار کیا ہے، لیکن دوسرے مفسرین کے مطابق اس آیت کی ایک تفسیر تو یہ ہے کہ اس دن سے مراد قیامت کا دن ہے جو ایک ہزار سال کے برابر ہوگا، اور مطلب یہ ہے کہ جتنی مخلوقات کا انتظام اس وقت اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں، وہ سب آخر کار قیامت کے دن ہے اللہ تعالیٰ ہی کی طرف لوٹائے جائیں گے۔ اور دوسری تفسیر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جن امور کا فیصلہ فرماتے ہیں، ان کی تنفیذ اپنے اپنے طے شدہ وقت پر ہوتی ہے، چنانچہ بعض امور کی تنفیذ میں انسانوں کی گنتی کے مطابق ایک ہزار سال بھی لگ جاتے ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ ایک ہزار سال بھی کوئی بڑی مدت نہیں ہے، بلکہ ایک دن کے برابر ہے، چنانچہ جیسا کہ سورة حج : 47 میں فرمایا گیا ہے، کفار کے سامنے جب یہ کہا جاتا تھا کہ ان کے کفر کے نتیجے میں ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے دنیا یا آخرت میں عذاب آئے گا تو وہ اس کا مذاق اڑاتے تھے، اور کہتے تھے کہ اتنے دن گذر گئے، لیکن کوئی عذاب نہیں آیا، اگر واقعی عذاب آنا ہے تو ابھی کیوں نہیں آجاتا ؟ اس کے جواب میں فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو وعدہ کر رکھا ہے وہ تو ضرور پورا ہوگا۔ رہا اس کا وقت، تو وہ اللہ تعالیٰ کی اپنی حکمت کے مطابق متعین ہوگا۔ اور تم جو سمجھ رہے ہو کہ اس کے آنے میں بہت دیر ہوگئی ہے تو در حقیقت تم جس مدت کو ایک ہزار سال سمجھتے ہو، وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک ایک دن کے برابر ہے۔ اس آیت کی کچھ تفصیل انشاء اللہ سورة معارج : 3 میں آئے گی۔
Ayahs 32:13–14

وَ لَوْ شِئْنَا لَاٰتَیْنَا كُلَّ نَفْسٍ هُدٰىهَا وَ لٰكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّیْ لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 32:13 in the Quran reader

اور اگر ہم چاہتے تو ہر شخص کو (پہلے ہی) اس کی ہدایت دے دیتے، لیکن وہ بات جو میری طرف سے کہی گئی تھی، طے ہوچکی ہے کہ : میں جہنم کو جنات اور انسانوں سب سے ضرور بھر دوں گا۔ (5)

فَذُوْقُوْا بِمَا نَسِیْتُمْ لِقَآءَ یَوْمِكُمْ هٰذَا١ۚ اِنَّا نَسِیْنٰكُمْ وَ ذُوْقُوْا عَذَابَ الْخُلْدِ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 32:14 in the Quran reader

اب (جہنم کا) مزہ چکھو کیونکہ تم نے اپنے اس دن کا سامنا کرنے کو بھلا ڈالا تھا۔ ہم نے (بھی) تمہیں بھلا دیا ہے۔ جو کچھ تم کرتے رہے ہو، اس کے بدلے اب ہمیشہ کے عذاب کا مزہ چکھتے رہو۔

5: یعنی اگر اللہ تعالیٰ زبردستی لوگوں کو ہدایت پر لانا چاہتے تو وہ ضرور ایسا کرسکتے تھے، لیکن اس صورت میں وہ آزمائش نہ ہوتی جو انسان کی تخلیق کا اصل مقصد ہے، انسان کی آزمائش تو اسی میں تھی کہ وہ اپنی عقل سے کام لے کر پیغمبروں کی بات پر ایمان لائے، جنت اور جہنم کا آنکھ سے نظارہ کرلینے کے بعد اس پر زبردستی ایمان لانے میں کوئی آزمائش نہیں، اس لئے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میں نے اس آزمائش کی خاطر انسان کو پیدا کرکے ازل ہی میں یہ طے کرلیا تھا کہ جو لوگ عقل سے کام لے کر پیغمبروں کی اطاعت نہیں کریں گے ؛ بلکہ ان کو جھٹلائیں گے، ان سے میں جہنم کو بھردوں گا۔
Ayah 32:15

اِنَّمَا یُؤْمِنُ بِاٰیٰتِنَا الَّذِیْنَ اِذَا ذُكِّرُوْا بِهَا خَرُّوْا سُجَّدًا وَّ سَبَّحُوْا بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَ هُمْ لَا یَسْتَكْبِرُوْنَ۩ Open ayah 32:15 in the Quran reader

ہماری آیتوں پر تو وہ لوگ ایمان لاتے ہیں جن کا حال یہ ہے کہ جب انہیں ان آیتوں کے ذریعے نصیحت کی جاتی ہے تو وہ سجدے میں گرپڑتے ہیں، اور اپنے پروردگار کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرتے ہیں، اور وہ تکبر نہیں کرتے۔ (6)

6: یہ سجدہ کی آیت ہے جس کی تلاوت کرنے یا سننے سے سجدہ تلاوت واجب ہوجاتا ہے۔
Ayah 32:16

تَتَجَافٰى جُنُوْبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَّ طَمَعًا١٘ وَّ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَ Open ayah 32:16 in the Quran reader

ان کے پہلو (رات کے وقت) اپنے بستروں سے جدا ہوتے ہیں (7) وہ اپنے پروردگار کو ڈر اور امید (کے ملے جذبات) کے ساتھ پکار رہے ہوتے ہیں (8) اور ہم نے ان کو جو رزق دیا ہے، وہ اس میں سے (نیکی کے کاموں میں) خرچ کرتے ہیں۔

7: یعنی رات کے وقت وہ نمازیں پڑھتے ہیں۔ اس میں عشاء کی نماز بھی داخل ہے جو فرض ہے اور تہجد کی نماز بھی جو سنت ہے۔ 8: وہ اس بات سے ڈرتے بھی ہیں کہ ان کی عبادت میں جو قصور ہوا ہے، کہیں وہ نامنظور نہ ہوجائے، اور اللہ تعالیٰ کی رحمت سے یہ امید بھی رکھتے ہیں کہ وہ اسے قبول فرما کر اجر وثواب عطا فرمائے۔
Ayahs 32:17–20

فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّاۤ اُخْفِیَ لَهُمْ مِّنْ قُرَّةِ اَعْیُنٍ١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 32:17 in the Quran reader

چنانچہ کسی متنفس کو کچھ پتہ نہیں ہے کہ ایسے لوگوں کے لیے آنکھوں کی ٹھنڈک کا کیا سامان ان کے اعمال کے بدلے میں چھپا کر رکھا گیا ہے۔ (9)

اَفَمَنْ كَانَ مُؤْمِنًا كَمَنْ كَانَ فَاسِقًا١ؔؕ لَا یَسْتَوٗنَؐ Open ayah 32:18 in the Quran reader

بھلا بتاؤ کہ جو شخص مومن ہو، کیا وہ اس شخص کے برابر ہوجائے جو فاسق ہے ؟ (ظاہر ہے کہ) وہ برابر نہیں ہوسکتے۔

اَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَلَهُمْ جَنّٰتُ الْمَاْوٰى١٘ نُزُلًۢا بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 32:19 in the Quran reader

چنانچہ جو لوگ ایمان لائے ہیں، اور انہوں نے نیک عمل کیے ہیں ان کے لیے مستقل قیام کے باغات ہیں جو ان کو پہلی مہمانی ہی کے طور پردے دیے جائیں گے، ان اعمال کے صلے میں جو وہ کیا کرتے تھے۔

وَ اَمَّا الَّذِیْنَ فَسَقُوْا فَمَاْوٰىهُمُ النَّارُ١ؕ كُلَّمَاۤ اَرَادُوْۤا اَنْ یَّخْرُجُوْا مِنْهَاۤ اُعِیْدُوْا فِیْهَا وَ قِیْلَ لَهُمْ ذُوْقُوْا عَذَابَ النَّارِ الَّذِیْ كُنْتُمْ بِهٖ تُكَذِّبُوْنَ Open ayah 32:20 in the Quran reader

رہے وہ لوگ جنہوں نے نافرمانی کی ہے، تو اس کے مستقل قیام کی جگہ جہنم ہے۔ جب بھی وہ اس سے نکلنا چاہیں گے، انہیں وہیں واپس لوٹا دیا جائے گا، اور ان سے کہا جائے گا کہ : آگ کے جس عذاب کو تم جھٹلایا کرتے تھے اس کا مزہ چکھو۔

9: یعنی خزانہ غیب میں ایسے نیک لوگوں کے لیے جو نعمتیں چھپی ہوئی ہیں وہ انسان کے تصور سے بھی بلند ہیں
Ayahs 32:21–22

وَ لَنُذِیْقَنَّهُمْ مِّنَ الْعَذَابِ الْاَدْنٰى دُوْنَ الْعَذَابِ الْاَكْبَرِ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 32:21 in the Quran reader

اور اس بڑے عذاب سے پہلے بھی ہم انہیں کم درجے کے عذاب کا مزہ بھی ضرور چکھائیں گے۔ (10) شاید یہ باز آجائیں۔

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ ذُكِّرَ بِاٰیٰتِ رَبِّهٖ ثُمَّ اَعْرَضَ عَنْهَا١ؕ اِنَّا مِنَ الْمُجْرِمِیْنَ مُنْتَقِمُوْنَ۠ Open ayah 32:22 in the Quran reader

اور اس سے بڑا ظالم کون ہوگا جس کو اپنے پروردگار کی آیتوں کے ذریعے نصیحت کی گئی، تو اس نے ان سے منہ موڑ لیا۔ ہم یقینا ایسے مجرموں سے بدلہ لے کر رہیں گے۔

10: یعنی آخرت کے بڑے عذاب سے پہلے اسی دنیا میں انسان کو چھوٹی چھوٹی مصیبتیں اس لئے پیش آتی ہیں کہ وہ اپنے طرز عمل پر نظر ثانی کرکے اپنے گناہوں سے باز آجائے، سبق یہ دیا گیا ہے کہ دنیا میں پیش آنے والی مصیبتوں کے وقت اللہ تعالیٰ سے رجوع کرکے اپنے گناہوں سے توبہ کرنی چاہیے، اور اپنے طرز عمل کی اصلاح کرنا چاہیے۔
Ayahs 32:23–25

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ فَلَا تَكُنْ فِیْ مِرْیَةٍ مِّنْ لِّقَآئِهٖ وَ جَعَلْنٰهُ هُدًى لِّبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَۚ Open ayah 32:23 in the Quran reader

اور حقیقت یہ ہے کہ ہم نے موسیٰ کو کتاب دی تھی، لہذا (اے پیغمبر) تم اس کے ملنے کے بارے میں کسی شک میں نہ رہو۔ (11) اور ہم نے اس کتاب کو بنو اسرائیل کے لیے ہدایت بنایا تھا۔

وَ جَعَلْنَا مِنْهُمْ اَئِمَّةً یَّهْدُوْنَ بِاَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُوْا١ؕ۫ وَ كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یُوْقِنُوْنَ Open ayah 32:24 in the Quran reader

اور ہم نے ان میں سے کچھ لوگوں کو، جب انہوں نے صبر کیا، ایسے پیشوا بنادیا جو ہمارے حکم سے لوگوں کی رہنمائی کرتے تھے، اور وہ ہماری آیتوں پر یقین رکھتے تھے۔

اِنَّ رَبَّكَ هُوَ یَفْصِلُ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 32:25 in the Quran reader

یقینا تمہارا پروردگار ہی قیامت کے دن ان کے درمیان ان باتوں کا فیصلہ کرے گا جن میں وہ اختلاف کیا کرتے تھے۔

11: اس کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ کو تورات کے ملنے میں کوئی شک نہ کرو، اور یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ کو کتاب دی گئی تھی، اسی طرح آپ کو بھی کتاب دی گئی ہے، لہذا اس قرآن کے منجانب اللہ وصول کرنے میں آپ کوئی شک نہ کریں، اور جب آپ صاحب کتاب رسول ہیں تو ان کافروں کی بنائی ہوئی باتوں سے رنجیدہ نہ ہوں۔ ایک تیسری تفسیر بعض حضرات نے یہ کی ہے کہ اس کے ملنے سے مراد کافروں کو اس عذاب کا ملنا ہے جس کا ذکر پچھلی آیات میں آیا ہے۔
Ayahs 32:26–30

اَوَ لَمْ یَهْدِ لَهُمْ كَمْ اَهْلَكْنَا مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنَ الْقُرُوْنِ یَمْشُوْنَ فِیْ مَسٰكِنِهِمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ١ؕ اَفَلَا یَسْمَعُوْنَ Open ayah 32:26 in the Quran reader

اور کیا ان (کافروں) کو اس بات سے کوئی ہدایت نہیں ملی کہ ان سے پہلے کتنی قوموں کو ہم ہلاک کرچکے ہیں جن کے گھروں میں یہ خود چلتے پھرتے ہیں ؟ (12) یقینا اس میں ان لوگوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں۔ تو کیا یہ لوگ سنتے نہیں ہیں ؟

اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّا نَسُوْقُ الْمَآءَ اِلَى الْاَرْضِ الْجُرُزِ فَنُخْرِجُ بِهٖ زَرْعًا تَاْكُلُ مِنْهُ اَنْعَامُهُمْ وَ اَنْفُسُهُمْ١ؕ اَفَلَا یُبْصِرُوْنَ Open ayah 32:27 in the Quran reader

اور کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم پانی کو کھینچ کر خشک زمین کی طرف لے جاتے ہیں، پھر اس سے وہ کھیتی نکالتے ہیں جس سے ان کے چوپائے بھی کھاتے ہیں، اور وہ خود بھی۔ تو کیا انہیں کچھ سجھائی نہیں دیتا ؟

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْفَتْحُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 32:28 in the Quran reader

اور وہ یہ کہتے ہیں کہ : اگر تم سچے ہو تو یہ فیصلہ کب ہوگا ؟

قُلْ یَوْمَ الْفَتْحِ لَا یَنْفَعُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِیْمَانُهُمْ وَ لَا هُمْ یُنْظَرُوْنَ Open ayah 32:29 in the Quran reader

کہہ دو کہ : جس دن فیصلہ ہوگا اس دن کافروں کو ان کا ایمان لانا کچھ فائدہ نہیں دے گا، اور نہ انہیں کوئی مہلت دی جائے گی۔

فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ وَ انْتَظِرْ اِنَّهُمْ مُّنْتَظِرُوْنَ۠ Open ayah 32:30 in the Quran reader

لہذا (اے پیغمبر) تم ان لوگوں کی پرواہ نہ کرو، اور انتظار کرو۔ یہ بھی انتظار کر رہے ہیں۔

12: مثلاً قوم ثمود کی بستیوں سے عرب کے لوگ بکثرت گذرا کرتے تھے، اور ان کے مکانوں کے کھنڈرات میں چلتے پھرتے بھی نہ تھے۔